Jump to content
URDU FUN CLUB
Geegenious

بچپن سے اب تک

Recommended Posts

بچپن سے اب تک

 1قسط نمبر

دوستوں میں اردو سیکس سٹوریز کا بہت پرانا اور خاموش ریڈر ہوں، اسی اثنا میں سوچا کہ کیوں نہ اپنی زندگی کے کچھ پہلو آپ لوگوں سے شئر کئے جائیں

 

 

میرا نام دانش ہے 33 سال عمر ہے اور اب یورپ میں ہوں اور اچھی کمپنی میں نوکری کرتا ہوں، اب آتے ہیں کہانی کی طرف،

یہ سب 2003 سے شروع ہوا جب میں نویں جماعت کا طالبعلم تھا، ایک پرائیویٹ سکول میں ابو نے میرا داخلہ کروایا، ویسے تو اس عمر میں سیکس سے نا واقف ہونا عام سی ہی بات ہوتی ہے

اور حسب دور میں بھی سیکس سے نا واقف ہی تھا اور دوسرا سکول کا ماحول بھی کافی سخت تھا کیونکہ وہ سکول اس وقت ضلع کا سب سے ٹاپ سکولوں میں جانا جاتا تھا اور پورے ضلع میں اسی سکول میں کوئی نہ کوئی طالبعلم بورڈ میں اول پوزیشن پر رہا کرتا تھا

ہمارے علاقے کے کافی بچے اسی سکول میں زیر تعلیم تھے اور مجھے بھی وہاں داخلہ پڑا کیونکہ پڑھائی میں میرا ذہن بھی بہت چلتا تھا، نئے سکول میں پہلا دن جیسا سب کا گزرتا ہے میرا بھی ویسا ہی گزرا، کوئی خاص بات نہیں ہوئی ، ایک ڈسک پر 3 طالبعلم بیٹھا کرتے تھے چونکہ میں نیا نیا تھا اسی لئے مجھے آگے بٹھایا جاتا تھا، میرے ساتھ دو اور لڑکے بیٹھتے تھے ان میں سے ایک (اجمل) دوسرے شہر کا تھا جو ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا اور دوسرا لڑکا(عمران) ہمارے ہی شہر ملتان کا تھا بس علاقے کا فرق تھا،ہماری آپس میں بات چیت کے علاوہ دوستی بھی گہری ہوتی گئی، اجمل گاؤں کا رہنے والا تھا اسی لئے تھوڑا شرمیلا قسم کا انسان تھا اور پڑھائی درمیانہ تھا جبکہ عمران بہت ہی حرامی ذہن کا مالک تھا اور پڑھائی میں بھی بالکل نالائق تھا، اور ان دونوں کے مقابلے میں میرا پڑھائی میں بہت دماغ چلتا تھا، کلاس میں ڈیسک پر درمیان میں عمران بیٹھتا تھا اور ایک سائیڈ میں اور دوسری سائیڈ اجمل، عمران درمیان مین بیٹھ کر ہم دونوں کو بہت تنگ کیا کرتا تھا اور وہ امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا تو اس کے گھر میں کمپیوٹر بھی تھا اور گیمز وغیرہ کی معلومات اور سیکس کی معلومات بھی بہت تھی اس کو اور کئی بار وہ کہہ چکا تھا اپنے گھر آنے کے لئے لیکن اجمل کو ہاسٹل سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی اور نہ ہی مجھے سکول کے بعد کسی اور جگہ جانے کی اجازت تھی کیونکہ ہمارے گھر کا ماحول بھی بہت ہی سخت اور مذہبی قسم کا تھا، پھر ایسا ہوا کہ سکول کی طرف سے سپورٹس کا دورانیہ شروع ہوا جو 3 دن کے لئے تھا اور میری سپورٹس میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی تو میں پیچھے ہی رہا میری دیکھا دیکھی اجمل اور عمران بھی پیچھے رہے وہ پہلا موقع تھا جب ہمیں عمران کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، سپورٹس کے دنوں میں سکول کے ساتھ ایک گراونڈ تھا تو پورے سکول طالبعلم وہیں چلے جاتے چونکہ ہمارا کیمپس صرف 2 ہی کلاسوں کے طالبعلموں پر مشتمل تھا لیکن سیکشن بندی بہت زیادہ تھی تو کل ملا کر نویں اور دسویں کے طالبعلموں کی تعداد 700 سے 800 ہو گی، اسمبلی کےبعد سب طالبعلم سکول کے پیچھے گراونڈ میں چلے جاتے تھے اور کرکٹ وغیرہ اور دوسرے بہت سے کھیل ہوتے تھے وہ سب مزے کرتے تھے اور ہم تین وہاں بس برائے نام ہی بیٹھ بیٹھ کر ٹائم پاس کرتے تھے، پہلا دن تو گزر گیا لیکن دوسرے دن ہم 2 سے 3 گھنٹے بیٹھ بیٹھ کر تھک گئے تو عمران نے کہا چلو اس کے گھر چلتے ہیں، اجمل اور میں ڈر بھی رہے تھے لیکن دل بھی کر رہا تھا جانے کو اور اوپر سے موسم بھی سردی کا تھا، چونکہ میں پڑھائی میں تھوڑا ذہین بھی تھا اور عمران کے ساتھ رہ رہ کر تھوڑا حرامی پنے میں بھی دماغ چلنے لگا تھا تو میں عمران کو کہا پی ٹی سر کو میں راضی کر کے آتا ہوں اور یہاں سے نکلتے ہیں، عمران اور اجمل پہلے تو اپنے اپنے مشورے دیتے رہے لیکن میں نے ان کی سن لی لیکن کرنی تو اپنی ہی تھی ، سو میں پی ٹی سر کے پاس گیا اور بولا سر مجھے تھوڑا پڑھائی کرنی اور سپورٹس میں ویسے ہی دلچسپی نہیں ہے تو ہمارا پروگرام بنا ہے کہ ہم لوگ( اجمل،عمران اور میں )واپس کلاس میں جا کر  اپنا پرانا سلیبس دوہراتے ہیں، پی ٹی ماسٹر میری طرف دیکھ مسکرائے اور مجھے سر پر پیار دے کر شاباش دی اور کہا کہ بیٹا آپ سکول واپس تو نہیں جا سکتے بہتر ہو گا اگر پڑھنا ہی کرنی ہے تو گھر چلے جائیں، میں نے پی ٹی سر کا شکریہ ادا وہاں سے ہم تینوں پی ٹی سر کی اجازت لے کر نکل گئے اور خوش بھی تھے، لیکن ڈر بھی تھا کہ اگر گھر پتا چل گیا تو مار الگ پڑنی ہے لیکن پھر بھی ہم عمران کے گھر طرف نکل پڑے، عمران بائیک پر سکول آتا تھا اس نے اپنے ساتھ اجمل کو بٹھایا اور میں نے اپنی سائیکل نکالی اور عمران کے پیچھے پیچھے اس کے گھر کی طرف چلتے گئے، 20 منٹ تک ہم اس کے گھر کے باہر تھے، عمران نے اپنے گھر کے گیٹ کے ساتھ لگی بیل کو دبایا تو تھوڑی ہی دیر میں اندر سے نسوانی آواز آئی کون، عمران کے جواب پر گیٹ کے سائیڈ کا چھوٹا دروازہ کھلتا ہوا محسوس ہوا لیکن وہ تھوڑا ہی کھلا ہو گا پھر وہیں رک گیا، عمران بائیک سے اتر کر اندر چلا گیا پھر کچھ باتوں کی آواز آئی پھر خاموشی ہو گئی کچھ ہی پل کے بعد چھوٹا گیٹ بند ہوا اور ساتھ اٹیچ بڑا گیٹ کھل گیا اور عمران نمودار ہوا اور اپنی بائیک اندر لے کر چلا گیا اور ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ہم بھی اپنا اپنا بیک اٹھائے اور میں اپنی سائکل سمیت گیٹ کے اندر داخل ہوا میں نے اپنی سائیکل کو عمران کی بائک کے ساتھ سٹینڈ پر لگایا یہ ایک گیراج تھا اور وہاں گاڑی بھی کھڑی ہوئی تھی اور  میں گیراج میں کھڑا ادھر ادھر گھر کو دیکھنے لگا یہی حال اجمل کا بھی تھا کیونکہ وہ گاؤں کا رہنے والا تھا، بظاہر تو میں بھی شہر کا رہنے والا تھا لیکن مڈل کلاس فیملی سے تھا ابو کی ایک چھوٹی سی دکان تھی مین روڈ پر اور دو بھائی مجھ سے بڑے تھے وہ ابو کے ساتھ دکان پر ابو بھی مدد بھی کرواتے تھے چھوٹا سا گھر تھا ہمارا دو کمروں پر مشتمل اور اپنی زندگی مست گزر رہی تھی، اتنے میں عمران کی اواز سے میں چونکہ جو ہمیں اپنے ڈرائنگ روم کا راستہ دکھا رہا تھا میں اور اجمل گیٹ کے ساتھ ہی ایک روم میں اندر چلے گئے جس کا دروازہ باہر سے بھی تھا لیکن عمران ہمیں اندرونی راستہ سے ڈرائنگ روم لے گیا، اندر بہت اعلی قسم کے صوفے اور افغانی کارپٹ بچھا ہوا تھا  ایک سائیڈ پر کونے میں بہت ہی خوبصورت قسم کی ٹیبل تھی اور بہت ہی خوبصورت طریقے سے اس پر کمپیوٹر کو سجایا ہوا تھا اور ٹیبل کے نیچے میڈیم سائز کے سپیکر بھی رکھے ہوئے تھے جسے بوفر سسٹم کہا جاتا ہے یہ سب دیکھ کر عمران کی امیریت پر رشک ہونے لگا، خیر ہم نے اپنے جوتے اتارے کر سائیڈ میں رکھے اور صوفوں پر بیٹھ گئے،اتنے مین عمران بھی اندر آگیا اور پوچھنے لگا کیسا لگا اس کا گھر ہم دونوں نے یک زبان کہا، بہت ہی اچھا ہے،پھر اس نے بتایا کہ وہ اکلوتا بیٹا ہے اور اس کی دو بہنیں ہیں امی ابو دونوں ڈاکٹر ہیں اور ان کا اپنا کلینک ہے اور بڑی بہن ایک بنک میں منیجر کی پوسٹ پر ہے دوسری بہن ایم بی بی ایس کی پڑھائی کر رہی ہے میڈیکل کالج میں چونکہ اس کی ایوننگ کلاس تھی اسی لئے وہ 1 بجے تک گھر ہوتی ہے پھر کالج چلی جاتی ہے اور شام کو 7 بجے تک آتی ہے، امی ابو اپنے کلینک کو ٹائم دیتے ہیں اسی لئے وہ گھر بس رات میں ہی آتے ہیں اور بڑی بہن شام تک 5 بجے آ جاتی ہے بنک سے، اور سب کے پاس اپنی اپنی گاڑی ہے، خیر گفتگو ختم ہوئی تو روم کا دروازہ کھلا اور ایک ادھیڑ عمر خاتون ایک ٹرے ہاتھ میں لئے اندر داخل ہوئی جس میں چائے کے تین کپ اور کچھ لوازمات تھے وہ رکھ کر چلی گئی تو عمران نے بتایا کہ یہ ماسی ہے ہمارے گھر خانساماں کا کام کرتی ہے اور بہت ہی لذیذ کھانے بھی پکاتی ہے، چائے پیتے پیتے عمران نے کمپیوٹر بھی آن کر دیا اور سامنے ایک کرولنگ چیئر پر بیٹھ گیا اور شرارتی انداز میں پوچھنے لگا کیا دیکھو اور سنو گے، میں نے کہا یار کچھ بھی لگا دے تیرا کمپیوٹر ہے تو ہی جانتا ہے سب اجمل نے بھی میری ہاں میں ہاں ملائی، عمران نے پہلے کچھ گانے سنوائے پھر گیم کھیلنے لگا اور ہم بس دیکھ ہی سکتے تھے سو دیکھتے رہے، اتنے میں دروازہ بجا اور عمران اپنی سیٹ سے اٹھ کر دروازے کی طرف گیا تو باہر پھر وہی نسوانی آواز آئی کچھ باتیں ہوئی پھر عمران واپس آگیا اور بہت ہی خوش لگ رہا تھا، پوچھنے پر پتا چلا کہ اس کی بہن کالج کےلئے نکل گئی ہے اب اس کی بادشاہی ہے گھر میں کوئی بھی نہیں ہے سوائے کام والی ماسی کے اور وہ ہمیں تنگ نہیں کرے گی، اچانک سے عمران نے گیم کو بند کیا اور کمرے کا دروازہ اندر سے لاک کیا اور کھڑکیوں کے پردے وغیرہ سیٹ کر کے واپس سیٹ پر آ کر بیٹھا اور ہمیں بھی نزدیک والے صوفوں پر بیٹھنے کا اشارہ کیا، اس کی بات مان کر ہم بھی اس کے قریبی صوفے پر بیٹھ گئے، عمران نے ہماری طرف ایک شیطانی مسکراہٹ سے دیکھا پھر کمپیوٹر ٹیبل کی دراز سے کچھ سی ڈیز نکالی اور ایک ڈسک کو سی پی یو کی سی ڈی پلئیر میں ڈال دیا اجمل اور میں دونوں اس کی بس حرکتوں کو ہی دیکھ رہے تھے، اتنے میں ایک ویڈیو مانیٹر سکرین پر چلنا شروع ہوئی، فلمیں تو کافی دیکھ رکھی تھیں لیکن اس فلم کا شروع ہونے کا انداز ہی الگ تھا، ٹایٹل میں ہی ایک ننگی لڑکی دکھائی دی اور مجھے مانوں ایک جھٹکا سا لگا اور میرے منہ سے اچانک نکلا ابے یہ کیا، تو عمران بولا بیٹا ٹھنڈ رکھ ابھی بہت کچھ ہے، مووی پلے ہوئی تو سین سامنے تھا تین لڑکے روم میں بیٹھے پڑھائی کر رہے تھے اتنے میں ایک لڑکی اندر آئی جو شاید کسی ایک کی بہن ہوگی ہم تینوں ہی مانیٹر سکرین کی طرف محو تھے اتنے میں ایک لڑکا وہاں سے باتھروم کا پوچھ کر روم سے نکلتا ہے اور وہ لڑکی اس کو بولتی ہے کہ اس کے پیچھے آو وہ بتاتی ہے وہ اس کےپیچھے نکلتا ہے لڑکی اس باتھ روم کا راستہ دکھاتی ہے وہ لڑکا جیسے ہی باتھ روم جا کر دروازہ بند کرنے لگتا ہے تو لڑکی اچانک سے دروازے کے پاس آ کر کچھ کہتی ہے چونکہ وہ انگلش میں بات کر رہے تھے اور عمران نے والیم بھی سلو کیا ہوا تھا تو بس اتنا ہی سمجھا کہ وہ لڑکی اس کو پیشاپ کرتے ہوے دیکھنا چاہتی ہے اور وہ لڑکا کچھ شرماتے ہوئے اپنی پینٹ کی زپ کو کھولتا ہے اور ہولے ہولے اپنا اوزار باہر نکالتا اور لڑکی بے شرم ہو کر اس کا اوزار دیکھنے میں محو ہوتی ہے وہ لڑکا اپنا ہتھیار نکال کر کموڈ کی طرف کر کے پیشاپ کرنے لگتا ہے اتنے میں لڑکی اس کے پاس جا کر نیچے کی طرف بیٹھ جاتی ہے اور اس کے لنڈ کو غور سے دیکھنے لگتی ہے جیسے ہی لڑکا پیشاپ کا آخری قطرہ نکالتا ہے تو لڑکی جھٹ سے اس کا لن پکڑ کے منہ میں ڈال لیتی ہے اور کسی بچے کی طرح لولی پاپ کی طرح اس کے لن کو چوسنے لگتی ہے اور لڑکا بس اپنی آنکھیں بند کئے لن چسوائی کے مزے لے رہا تھا یہ سین دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے میرے پورے جسم میں جان ہی نہ ہو عجیب سی کیفیت اور خوف سا محسوس ہونے لگا دوسری طرف اجمل کا بھی یہی حال تھا لیکن عمران تو ان کاموں کا کھلاڑی تھا اس کی کیا فیلنگز ہیں نہیں معلوم لیکن اس وقت مجھ پر جو گزر رہی تھی کیا بتاوں میرے تو جسم پر چھوٹے چھوٹے دانے بننے لگے مانوں جیسے رونگھٹے کھڑے ہوں، ہوش تب آیا جب دیکھا کہ عمران نے ویڈیو کو روک کر ہماری طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور ہم بس مانیٹر سکرین کی طرف ہی دیکھے جا رہے تھے، تو عمران نے ہمیں ہمارے کندھے پکڑ کر جب زور سے ہلایا تو مکمل ہوش میں آئے، ورنہ ہم کونسی دنیا میں تھے خود کو نہیں معلوم تھا، جب ہوش میں آیا تو میرا گلا خشک تھا جیسے صدیوں سے پانی نہ پیا ہو اور یہی حالت اجمل کی تھی ہم دونوں کو جھٹکا تب لگا جب عمران نے ہمیں ہمارے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا، کیونکہ میرا ہاتھ میری پینٹ کے اندر تھا اور اپنے ہتھیار کو پکڑا ہوا تھا مجھے خیال ہی نہیں رہا کہ کب میں نے زپ کھولی اور کب ہاتھ اندر ڈال کر اپنے لن کو پکڑا، اور یہی سانحہ اجمل کے ساتھ بھی پیش ہوا، عمران ہم دونوں کی حالت دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگا اور ہم دونوں شرمندگی کے منہ نیچے کر کے بیٹھے تھے لیکن ہاتھ ابھی بھی پینٹ کے اندر اوزار کو تھامے تھا، پھر اچانک سے ہوش آیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا اور پینٹ کی زیپ بند کی اور  عمران سے باتھروم کا پوچھا لیکن وہ ہنستے ہی جا رہا تھا اور ہم دونوں کی حالت دیکھ کر محفوظ ہو رہا تھا خیر میں جلدی سے اٹھا اور خود ہی باتھروم تلاش کرنے کی غرض سے نکلنے لگا، ابھی دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ اس کی آواز نے ایک اور جھٹکا دیا جس سے میں بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گیا، میں جیسے ہی دروازے تک پہنچا تو اس کی میرےکانوں میں پڑی (بہن کو بھیجوں باتھروم میں

جاری ہے،،،

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے کسی بھی گروپ یا اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر ثانی سے شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین کر دیا جائے گا ۔ اور دوبارہ ایکٹو بھی نہیں کیا جائے گا ۔ موجودہ اکاؤنٹ کینسل ہونے پر آپ کو نئے اکاؤنٹ سے کسی بھی سیئریل کی نئی اپڈیٹس کے لیئے دوبارہ قسط 01 سے ادائیگی کرنا ہو گی ۔ سابقہ تمام اقساط دوبارہ خریدنے کے بعد ہی نئی اپڈیٹ آپ حاصل کر سکیں گے ۔ اکاؤنٹ بین ہونے سے بچنے کے لیئے فورم رولز کو فالو کریں۔ اور اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ بنائیں ۔ ۔ ایڈمن اردو فن کلب

بچپن سے اب تک،

قسط نمبر 2

دوستوں زندگی کو سمجھنے کے لئے انسان پوری زندگی لگا دیتا ہے لیکن زندگی کی سمجھ پھر بھی نہیں آتی، کیونکہ ایک راستہ بھی تو نہیں ہے زندگی کا مشکل راستے ہیں پھر آسان ہو جاتے ہیں پھر عجیب بھی ہو جاتے ہیں اور پھر کچھ عجیب تر ہو جاتے ہیں، پھر وقت پتا نہیں کب کیسے اور کیوں آپ کو ایسے مشکل امتحان میں ڈال دیتا ہے کہ آپ چاہ کر بھی نہ تو اس وقت کو آگے کر سکتے ہو اور نہ ہی پیچھے، لیکن وقت تو وقت ہوتا ہے اور اپنی مرضی سے گزرتا ہے بھلے ہی آپ گانڈ کا زور بھی لگا لو، جہاں گانڈ پھٹنی ہوتی ہے وہاں پھٹ کر ہی رہتی ہے، جیسے میری پھٹی ہوئی تھی عمران کی بات سن کر ، جی ہاں ہزاروں سوال اور ان کے جواب اپنے دماغ میں خود سے بنا بیٹھا اور اس وقت میرے دماغ پر سے مووی کا سین ایسے اترا جیسے گدھے کے سر سے سینگھ اور جس بات نے گھیرا وہ تھے عمران کے الفاظ (بہن کو بھیجوں) افففف اس کے یہ الفاظ گویا کسی توپ کے گولے کی طرح مجھ پرپڑے اور مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ مجھے وہ توپ کو گولا گھائل کر چکا ہے اوراس گولے کا بوجھ میرے سینے اندر ہے اور کسی بھی لمحے  میری روح پرواز کر جائے گی

میں کہاں جارہا تھا اور کیوں جا رہا تھا سب کچھ بھول گیا بس دماغ میں تھا تو یہی بات ( بہن کو بھیجوں) اور یہی کیفیت اجمل کی تھی وہ جہاں بیٹھا تھا وہیں ساکت ہو گیا اور ہم دونوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر عمران کو دیکھی جا رہے تھے، نہیں معلوم عمران کب کرسی اٹھا نہیں معلوم عمران کب چلتا ہوا میرے پاس آیا اور مجھے کندھے سے ہلاتے ہوئے بلا رہا تھا لیکن میں کہاں تھا کہاں ہوں کیا سوچ رہا ہوں میرا دماغ بند تھا آنکھوں کے سامنے اندھیرا تھا ہوش و ہواس کھو بیٹھا    تھا پھر جب عمران نے جھنجھوڑ کر مجھے ہلایا تو کچھ کچھ ہوش آنے لگا آنکھوں کی بینائی واپس آنے لگی تو دیکھا عمران ویسے ہی مسکراتا ہوا مجھے ہلا رہا تھا، دانش دانش آو تمہیں باتھروم دکھاتا ہوں تب جا کر مجھ میں کچھ جان آئی اور بس میں نے اس کو ایک نظر ہی دیکھا تو اس نے اسی روم کے دروازے کے ساتھ ایک پردے کو ہٹایا تو پردے کے پیچھے دوسرا دروازہ تھا جو باتھروم کا تھا اس نے دروازہ کھولا اور مجھے اشارہ کیا کہ اندر جاو میں بوجھل قدموں سے باتھروم گیا اور دروازہ لاک کر کے کموڈ کی طرف بڑھا اور اسے کرسی سمجھ کر پر بیٹھ گیا اور ٹیک لگا کموڈ کے پیچھے لگی چھوٹی سی ٹینکی پر سر ٹکا کر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا، اور پھر وہی غلبہ طاری ہوگیا،

عمران نے ایسا کیوں کہا،

عمران کو یہ الفاظ اپنی ہی بہن کے بارے میں نہیں کہنے چاہیے تھے اجمل کیا سوچ رہا ہوگا، کیا عمران سے بات کرنی چاہیے اگر کرنی بھی چاہیے تو کیسے کروں کیا پوچھوں کہاں سے شروع کروں اور دماغ ایسے گھوم رہا تھا جیسے آٹا پیسنے والی چکی جو ہاتھ سے چلائی جاتی ہے، اور ہمت تو بچی ہی نہیں جسم میں، کتنی دیر واشروم میں رہا مجھے اندازہ ہی رہا ہوش تب آیا جب واشروم کا دروازہ بج رہا تھا اور میں کس کام کے لئے واشروم میں آیا تھا وہ بھی یاد نہ رہا میں بوجھل قدموں سے اٹھا  واش بیسن سے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ٹھنڈ میں ٹھنڈے پانے چھینٹے پڑنے سے تھوڑا ہوش میں آیا اور  دروازہ کھولا تو سامنے اجمل تھا اس کی بھی کچھ ایسی ہی حالت تھی جیسی میری تھی میں روم میں  آگیا تو دیکھا عمران نہیں تھا شاید اندر چلا گیا ہو گا نہیں معلوم میں وہیں صوفے پر بیٹھ کر نیم لیٹی ہوئی حالت میں آنکھیں بند کر کے پھر سوچنے لگا  اتنے میں کام والی ماسی اندر آئی اور بولی چھوٹے صاحب بلا رہے ہیں کھانا لگ گیا ہے ڈائیننگ ٹیبل پر، میں نے نیم آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا اور کہا اچھا میرا دوست آجائے باتھروم سے نکل کر پھر ہم آتے ہیں، ابھی میری بات ختم ہی ہوئی تھی کہ اجمل بھی باتھروم سے نکل آیا پھر ہم ماسی کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے  ڈراینگ روم سے نکل کر گیراج سے ہوتے ہوئے ایک اور دروازے کی طرف بڑھے وہ بہت بڑا ھال تھا اور بہت ہی بڑی شیشے کی ٹیبل لگی ہوئی تھی اور ٹیبل کے چاروں طرف کرسیاں لگی ہوئی تھی ایک کارنر پر عمران بیٹھا ہوا تھا میں اس کے سامنے والی کرسی پر میں بیٹھ گیا اور میرے ساتھ ہی اجمل بیٹھ گیا ہم تینوں خاموش تھے کہ کیا کہنا ہے اور کیا کہوں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، اور جب نظر عمران کی نظروں سے ملی تو وہ نارمل مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو،پھر آخر عمران نے ہی بات شروع کی اور کھانے کا بتانے بھی لگا اور ہمیں ہماری پلیٹوں میں ڈال کر دینے لگا، وہ اپنی امیریت کے قصے سنانے لگا کہ پہلے وہ کہا رہتے تھے کیا تھے اور اب یہ وہ لیکن میرا دماغ کہیں اور ہی تھا بہت ہی بے دلی کھانا کھایا بس ایک یا دو نوالے اور عمران ہم دونوں کی حالت کو اچھے سے سمجھ چکا تھا لیکن وہ بھی اس پر بات کرنا گوارا نہیں سمجھ رہا تھا جیسے کہ شاید صحیح وقت نہیں تھا یا پھر کوئی اور باتتھی، یا اس کا تجربہ کہہ لو یا نادانی، عمران کیا بتا رہا تھا سب کچھ اوپر سے گزر رہا تھا پھر اچانک میں کھڑا ہوا اور عمران سے معذرت کی اور کہا مجھے گھر جانا ہے کیوں کہ گھر کی طرف سے ڈر بھی محسوس ہوا کہ کافی دیر سے باہر ہوں کہیں ابا سکول ہی نہ پہنچ جائے کہ بچہ گھر نہیں پہنچا، لیکن عمران نے مجھے روکتے ہوئے کہا کہ ابھی ٹائم نہیں ہوا سپورٹس چل رہے ہیں ابھی سب گراونڈ میں ہی ہوں گے کیوں پریشان ہو رہے ہو آرام سے بیٹھ جاو، بات اس کی درست تھی لیکن مجھ سے اب وہاں رکا نہیں جا رہا تھا اور یہی حال اجمل کا تھا، مجھے دیکھ کر اجمل بھی ہوشیار ہو گیا اور کہنے لگا ہاں یار میں بھی ہاسٹل نہ پہنچا تو میری کمپلین ہو جانی ہے اور سکول سے مار لگے گی ہی ساتھ میں گھر والوں سے بھی اچھی خاصی دھلائی ہونی ہے، خیر عمران کو ہار ماننی پڑی اجمل جلدی سے اپنا اور میرا بیگ اٹھا لایا میں نے عمران کو نہ ہی ہاتھ ملایا اور نہ ہی الوداع کہا بس اپنی سائیکل نکالی اور اجمل کو بٹھایا اور وہاں سے نکل گئے، میں تیزی سے سائیکل چلا رہا تھا تو مجھے سانس چڑھنے لگا تو اجمل کی آواز آئی دانش تم پیچھے بیٹھو میں چلاتا ہوں، میں نے بھی یہی مناسب سمجھا اور سائیکل روک کر اترا اور اجمل سیٹ پر بیٹھا ہلکا سا دھکا لگا کر پھر پیچھے بیٹھ گیا اجمل سکون سے سائیکل چلا رہا تھا لیکن مجھے جلدی لگی ہوئی تھی کیوں کہ پہلے اس کو سکول کے ہاسٹل میں چھوڑنا تھا پھر اپنے گھر جانا تھا اور مجھے لگ رہا تھا جیسے بہت ٹائم لگ جائے گا اور ایسا ہی ہوا 30 منٹ لگے سکول پہنچے تو دیکھا گراونڈ میں رونق ویسے ہی لگی ہوئی ہے جیسے چھوڑ کر گئے تھے تو تسلی ہوئی کچھ پھر اجمل بولا کہ چل یار کچھ کھاتے ہیں بھوک لگ رہی ہے عمران کے گھر تو کچھ کھایا بھی نہیں گیا، بات اس کی ٹھیک تھی بھوک تو مجھے بھی لگ رہی تھی، خیر وہی پاس ہی ایک ریڑھی سے چاول لئے اور کھانے لگ گئے، چاول کھا تے کھاتے ذہن میں آیا کیوں نہ اجمل سے بات کی جائے، اور وہ بھی یہی سوچ رہا تھا میرے بات شروع کرنے سے پہلے ہی اجمل بول پڑا،

اجمل: یار عمران نے کیا کر دیا کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا،

میں: ظاہر ہے یار سمجھ تو مجھے بھی نہیں آ رہا کہہ اس نے یہ بات کیوں کہی، 

اجمل: ہو سکتا ہے یار اس کے منہ سے اچانک نکل گیا ہو کیونکہ اس وقت جو مووی ہم دیکھ رہے تھے ہماری بھی کچھ ایسی ہی حالت تھی،

اجمل کی یہ بات سن کر مجھے بھی یہی لگا کہ واقع ہی یہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس مووی میں بھی تین دوست پڑھائی کر رہے ہوتے ہیں اور یہاں ہم بھی تین تھے، مووی میں بھی بہن کمرے میں آتی ہے لیکن یہاں بہن صرف دروازے تک آتی ہے مووی میں بھی لڑکا باتھروم جاتا ہے اور یہاں میں بھی جانے لگتا ہوں تو بس جو کمی تھی وہ عمران نے پوری کی تھی اور کہہ دیا کہ بہن کو بھیجوں،

میں: بات تو تیری ٹھیک ہے شاید اس کے منہ سے نکل گیا ہو گا اسی لئے نارمل رویہ تھا اس کا، پھر اچانک بولا کہ یار پھر بھی بندہ ایسے تو نہیں کہتا اپنی بہن کے بارے میں اجمل تم کہہ سکتے ہو؟

اجمل: پاگل ہو گیا ہے کیا میں تو مر کے بھی نہیں کہہ سکتا، 

 میں: یہی بات اگر میری کوئی بہن ہوتی تو میں اس کو باہر کی ہوا ہی نہ لگنے دیتا، تو اس کے بارے میں یہ الفاظ بولنے سے پہلے میں مر جانا بہتر سمجھوں گا ،

اتنے میں ہمارے چاول ختم ہوئے اور وہاں سے پیدل پیدل گراونڈ کی طرف چلے گئے ابھی گراونڈ سے تھوڑا پیچھے ہی تھے ہماری کلاس کے دو تین لڑکے وہاں سے گزرے اور سلام دعا کر کے آگے نکل گئے، اتنے میں، میں نے اجمل کو بولا اچھا یار میں چلتا ہوں پھر کل ملیں گے اس نے مجھے روکنے کی کوشش کی لیکن میرا اب دل ہی نہیں لگ رہا تھا بس گھر جانا چاہتا تھا خیر اجمل کو الوداع کر کے وہاں سے گھر کی جانب نکلا 15 منٹ میں گھر پہنچا دروازہ بجایا تو امی کی ایک شاگرد نے دروازہ کھولا میں سائیکل سمیت اندر داخل ہوا سلام کیا، اور بیگ اٹھا کر کمرے کی طرف چل دیا، 

ہمارا چھوٹا سا گھر تھا 2 کمرے تھے ایک میں امی ابو سوتے تھے دوسرے میں ہم تین بھائی دونوں کمروں کے آگے برآمدہ تھا اور ایک سائیڈ میں چھوٹا سا کچن، پھر آگے چھوٹا سا صحن تھا جس میں میری سائیکل اور ابو کی بائیک ہی کھڑی ہونے کی جگہ تھی پھر آگے دروازہ تھا اور دروازے کے باتھروم بنا ہوا تھا چھوٹا سا، میری امی ایک درزانی تھی اور محلے کی لڑکیاں امی کے پاس سلائی سیکھنے آتی تھیں اور ایسے ہی سارا دن چھوٹے سے گھر میں رونق لگی رہتی تھی، 

میں جیسے ہی کمرے میں آیا تو میرے پیچھے امی بھی آ گئی اور کہا بیٹا خیر تو ہے سلام کرنے کے بعد میری آواز بھی نہیں سنی طبیعت تو ٹھیک ہے نا تیری اور میرے ماتھے پر سر رکھ کر چیک کرنے لگی کہیں بخار تو نہیں ہوا ، میں نے نہیں امی میں ٹھیک ہوں بس تھک گیا ہوں اب نیند آ رہی ہے، امی نے کھانے کا پوچھا تو بتا دیا کھانا کھا کر آیا ہوں سکول سے ہی، خیر امی واپسباہر چلی گئی اور میں پھر سے اپنی چارپائی پر لیٹ کر وہی خیالات ذہن میں لے کر سوچنے لگا لیکن پتا نہیں کب نیند کی آغوش میں چلا گیا، 
جاری ہے

Share this post


Link to post

،بچپن سے اب تک

 ،3قسط نمبر

شام کو 7 بجے مجھے بڑے بھائی نے اٹھایا کھانا کھانے کے لئے لیکن میرا دل نہیں کر رہا تھا کھانے کو، پھر بھی بے دل ہو کر باہر برآمدے میں آیا پھر باتھ روم کے باہر بنے کھرے کی طرف گیا اور ہاتھ منہ دھوئے تو ٹھنڈ کا احساس ہونے لگا واپس برآمدے میں آیا تو کچن میں گھس گیا اور چولہے کی گرمی لینے لگا امی نے ڈانٹ کر کہا باہر بیٹھو کھانا لگا رہی ہوں، میں چپ چاپ باہر آیا مجھ سے بڑا بھائی نبیل اور نبیل بھائی سے بڑے بھائی سلیم دونوں بیٹھے ہوئے تھے، کالین پر میں بھی ساتھ جا کر بیٹھ گیا اتنے میں کمرے سے ابو بھی باہر نکل آئے اور ساتھ بیٹھ گئے اور مجھ سے میری تعلیم کا پوچھا میں نے تعلیم کا سپورٹس کا دونوں کا بتایا پھر سب نے چپ چاپ کھانا کھایا کھانا کھا کر پھر سے کمرے میں آیا اور اپنی چارپائی پر لیٹ کر رضائی میں گھس کر پھر سے اسی سوچ کی دنیا میں محو ہو گیا رضائی میں منہ چھپا کر آنکھیں بند کر کے عمران کی بات کو سوچتے ہوئے سوال ڈھونڈنے لگا کہ کیسے عمران سے بات کی جائے، لیکن اب مزید اس بات پر سوچنا اچھا نہیں لگ رہا تھا میں نے اپنی سوچ کو تھوڑا پیچھے سے سوچنا شروع کیا جہاں سے وہ لڑکی اپنے بھائی کے دوست کا لوڑا چوس رہی تھی، بس یہ سین جیسے ہی آنکھوں کی پٹری پے چڑھا تو پھر سے وہی کیفیت ہوتی گئی، رونگٹے کھڑے ہونا شروع ہوئے عجیب سی مستی اور الجھن والی کیفیت شروع ہوئی میرا ہاتھ اپنے آپ میری پینٹ کی زیپ کھولنے لگا جیسے ہی زیپ کھلی تو میرا ڈنڈا مجھے سخت قسم کا محسوس ہوا اور پھر اچانک ہی ایسا محسوس ہوا جیسا مجھے پیشاپ آنے لگا ہو جیسے عمران کے گھر ہوا تو میں نے باتھ روم کا پوچھا لیکن جو ہوا اس کے بعد تو پیشاپ ہی نہ آیا لیکن اب پھر سے وہی سین سوچ کر پیشاپ کی حاجت ہونے لگی بڑی مشکل سے اٹھا اور باتھ روم گیا پینٹ ساری اتار کر ہینگر پر ٹانگ دی اور اپنے لن کو دیکھنے لگا جو فل ٹائٹ ہوا آسمان کی طرف سر اٹھا کر سلامی پیش کر رہا تھا میں نے پیشاپ کرنے کی کوشش کی لیکن پیشاپ ہوتا تو آتا نا میں نے پھر سے آنکھیں بند کی اور پھر وہی سین آنکھوں میں لایا اور اپنے لن کو پکڑ لیا اور پوری مٹھی میں دبا لیا جیسے وہ لڑکی مٹھی میں دبا کر آگے پیچھے حرکت دیتی مٹھی کو پھر لنڈ کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چوستی تھی بس میں نے وہی کیا لن کو مٹھی میں پکڑا اور آہستہ آہستہ آگے پیچھے کرنے لگا ابھی 3 سے 4 بار ہی آگے پیچھے کیا تو مجھے لگا اب میرا پیشاپ آنے والا ہے، جسم میں سرسراہٹ دوڑ رہی تھی اور ساتھ ہی کپکپاہٹ بھی ہو رہی تھی رونگٹے کھڑے ہو رہے  تھے ایسا لگا کہ جیسے میرے اندر کچھ حرکت ہو رہی ہے اور ساری حرکت اندرون خانہ سفر کرتے ہوئے میرے لن کی طرف جا رہی ہے اور پھر اچانک سے میرے لنڈ نے جھٹکے لینے شروع کئے 30 سے 40 سیکینڈ تک جھٹکے ہی لیتا رہا اور اس میں سے سفید سفید لیس دار مادہ نکلتا رہا جسے میں پیشاپ ہی سمجھ رہا تھا اور اس مادے کو دیکھ کر عجیب سی حیرانی بھی ہوئی لیکن اس مادے کو دیکھنے کے بعد جو مناظر آنکھوں میں تھے  اور جو مناظر سوچ میں تھے وہ سب غائب ہو گئے تھے اور ایک تیسری کشمکش نے جنم لے لیا تھا کہ اب یہ کیا ہے، خیر اس کے بعد میرا لنڈ ایسے سویا جیسے کبھی جاگا ہی نا ہو، میں نے پھر جلدی سے لنڈ کو دھویا اور پینٹ پہن کر باتھ روم میں پانی بہایا سفید مادے کو فلش کیا اور باہر آگیا سردی نے اپنی لپیٹ میں لیا تو کمرے کی طرف بھاگا، الماری سے اپنی شلوار قمیض نکالی اور باہر کچن میں آ کر جلدی سے چینج کیا اور روم میں جا کر جلدی سے کمبل میں گھس گیا دوسری چارپائیوں پر دیکھا تو دونوں بھائی خراٹے لے رہے تھے، کیونکہ گھر کے قوانین تھوڑے سخت تھے جلدی سونا جلدی اٹھنا ٹائم سے گھر آنا، سورج غروب کے بعد گھر سے باہر نا نکلنا اور نہ ہی کھیل کود کے بعد سورج غروب ہونے تک باہر رہنا، اگر غلطی سے ایسا ہو بھی جاتا تو کپڑے دھونے والے ڈنڈے سےپہلے بھائی دھلائی کرتے تھے بعد میں ابا، اور بھائی تو ویسے ہی یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے،کیوں ایسا کرتے تھے یہ بات بعد میں پتا چلی مجھے، آگے جا کر بتاؤں گا، اس کے بعد نیند نے ایسا گھیرا کہ بس ہوش ہی نہیں رہا،سو تو گیا لیکن آرام پھر بھی نہیں رہا کیوں کہ زندگی اپنا موڑ لے رہی تھی اور میں کس طرف جاتا ہوں یہ تو میں خود بھی نہیں جانتا تھا، خیر  آنکھ لگی تو خواب میں آنکھ کھلی اور کیا دیکھتا ہوں وہی ہم تین دوست پڑھائی کر رہے ہیں، عمران کی بہن کمرے میں آتی ہے، وہ کیسی دکھتی تھی نہیں پتا لیکن وہی کپڑے پہنے ہوتے ہیں جو مووی میں لڑکی نے پہنے ہوتے ہیں میں باتھ روم کا پوچھ کر نکلتا ہوں اور وہ بھی میرے پیچھے آ جاتی ہے اور وہی الفاظ بولتی ہے کہ میں نے تمہارا لن دیکھنا ہے اسی لئے میرے سامنےہی کرو میں بھی پینٹ کی زیپ  کی کھول کر اپنا لن باہر نکالتا ہوں اور عمران کی بہن بیٹھ جاتی اور میرے لن کے چوپے لگانے لگ جاتی ہے میرے ساتھ پھر سے وہی ہوتا ہے وہی کیفیت طاری ہوتی ہے جیسے سب کچھ جسم میں رینگتا ہوا لن کی طرف جا رہا ہے اور عمران کی بہن بس چوپے لگانے میں مشغول ہوتی ہے اچانک سے وہی سفید مادہ نکلتا ہے اور عمران کی بہن اسے بہت ہی مزے سے پی رہی ہے جب سارا مادہ وہ پی جاتی ہے تو قاتلانہ مسکان کے ساتھ باتھ روم سے باہر چلی جاتی ہے اور میں وہیں پسینے میں شرابور کھڑا رہتا ہوں، اتنے میں امی کی آواز سے آنکھ کھلتی ہے پتر سکول نئ جانا کیا، میں نے بھی اسی آواز میں جواب دیا جانا ہے آتا ہوں، جب اٹھنے لگا تو دیکھا میری شلوار میری رانوں سے چپکی ہوئی ہے ہاتھ لگایا تو کچھ گیلا گیلا محسوس ہوا پھر ہاتھ لگایا تو چپچپا لگا کچھ، میں اٹھا باتھ روم کی طرف بھاگا امی کی زوردار آواز سے رکا پتر گرم پانی تو لے جا، میں پھر واپس کچن میں گیا گرم پانی کی دیگچی اٹھائی پھر باتھ روم گیا کپڑے اتارے اور نہایا اور پھر امی کو آواز دی امی میرے کپڑے تھوڑی دیر میں باتھ روم کا دروازہ بجا میں نے دروازہ تھوڑا سا کھولا امی نے کپڑے دئیے میں نے جلدی سے کپڑے پہنے ناشتہ کیا اپنا بیگاٹھایاسائیکل نکالی اور سکول کی طرف منہ کیا، 

جاری ہے

Share this post


Link to post
20 hours ago, ᖱʜᴀᴄᴋᴇʀ said:

Story ka start to kafi acha hy ab dekhty hen agay kia hota hy

Ji shukria, aagy bhi acha hoga or bohat maza aye ga 

Share this post


Link to post
15 hours ago, gull khan said:

Good start keeptup

Thanks for your support

Share this post


Link to post

بچپن سے اب تک،

قسط نمبر 4،

سکول پہنچا تو سکول کے باہر اجمل میرا ہی انتظار کر رہا تھا،

سلام دعا کے بعد گراونڈ کی طرف نکل گئے اپنی سائیکل پارکنگ میں لگائی اور گراونڈ میں ایک سائیڈ پر ہو کر ذرا خشک جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے، کیونکہ سردی بہت تھی اور شبنم کے قطرے گھاس پر صاف دکھائی دے رہے تھے اور ہلکی ہلکی صبح کی دھوپ بھی نکل رہی تھی،

ہم ابھی اپنی ہی باتوں میں مصروف تھے اور گراونڈ میں ہوتے ہوئے میچ کی طرف بھی دیکھنے لگے کیونکہ آج فائنل بھی ہوتا اور کونسے دو سیکشن فائنل کھیلیں گے اس کا فیصلہ بھی ہونا تھا

اتنے میں ہم دونوں کے کندھوں کے پر برابر میں کسی نے ہاتھ مارا اور ہم نے چونک کر پیچھے دیکھا تو عمران تھا اور پھر زبردستی ہم دونوں کے درمیان میں گھس کر بیٹھ گیا،اور پھر سے وہی روٹین اس کی تنگ کرنے کی اور چھیڑ چھاڑ کرنے کی، اس کا نارمل رویہ دیکھ کر ہم بھی نارمل ہو گئے، (باتیں جو نارمل ہوئی انکا ذکر کرنا یہاں ضروری نہیں ہے ہاں جو کام کی باتیں ہوں گی وہ ضرور لکھوں گا،)

خیر ہم پھر سے ویسے ہی 2 دن پہلے والے دوست بن کر اپنے ہنسی مزاق اور شغل میں لگے ہوئے تھے اور 1 دن پہلے کیا ہوا تھا وہ سب بھلا ہی بیٹھے تھے خیر مجھے تو ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا لیکن اب ان کے دل میں کیا ہے نہیں معلوم، عمران کی چھیڑ خانیاں ختم ہوئیں تو ہم نے میچ کی طرف دیہان لگا دیا کچھ دیر خاموشی سے ہم میچ ہی دیکھتے رہے اتنے میں عمران درمیان سے اٹھا اور میرے سیدھے ہاتھ کی طرف کی بیٹھ گیا اور اپنا بیگ کھول کر اس میں سے کچھ نکالنے لگا اور مجھے جلدی سے بولا دانی ( اب سے نک نیم ہی لکھوں گا مجھے سکول میں نک نیم دانی دیا گیا تھا جبکہ عمران کو مانی اور اجمل کا نک نیم نہ بن سکا تو اس کو اسکی کاسٹ سے بلایا جاتا مہر صاحب میں یہاں( مہر )ہی لکھوں گا ) خیر میں نے مانی کی طرف دیکھا تو اس کا 1 ہاتھ اس کے بیگ میں تھا اور مجھے کہا کہ جلدی اپنا بیگ کھولے کچھ دوں گا وہ رکھ لو

میں چپ چاپ اپنا بیگ اٹھایا اور زیپ کھولی تو مانی نے جلدی سے ایک چھوٹی سی کتاب میرے بیگ میں ڈال دی اور کہا کہ جلدی بند کرو بعد میں دیکھ لینا،

مانی نے وہ چھوٹی سی کتاب کو اپنے بیگ سے نکالنے اور میرے بیگ میں ڈالنے تک ایک جھلک بس اس کے فرنٹ کور پر پڑی تو مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیوں کہ اس کے کور پر کچھ ننگی ننگی تصاویر بنی ہوئی تھی اور بس اتنا ہی دیکھ کر مجھے عجیب سی الجھن ہونے لگی اور ڈر بھی لگنے گا جیسے میں نے چوری کر لی ہو اور ابھی پکڑا جاؤنگا پھر ڈر کے ساتھ ساتھ تجسس بھی ہونے لگا  آخر اس میں کیا ہوگا اور مانی نے یہ کس مقصد کے لئے دی ہے مجھے عجیب عجیب سوالات گھر کرنے لگے اور میرے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے، مانی سمجھ گیا تھا، مانی نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور ری لیکس رہنے کا بولا اور پھر سے مہر اور میرے درمیان آ کر بیٹھ گیا، 

پھر میں نے بھی کوشش کی نارمل رہنے کی اور کچھ حد تک کامیاب بھی ہوا لیکن میرا دماغ اسی کتاب پر اٹکا ہوا تھا اور سسپنس بڑھتا جا رہا تھا اور مانی میری اس حالت سے بالکل واقف تھا مانی نے ادھر ادھر دیکھ کر جائزہ لیا کہ جہاں ہم بیٹھے ہیں کیا وہ سیف جگہ ہے یا نہیں، یہاں وہاں نظر دوڑا کر مانی نے مجھے کہا کہ اپنے بیگ سے فزکس کی کتاب نکالے، 

میں نے فزکس کی کتاب نکال کر مانی کو دی اور اس نے فزکس کی کتاب کو درمیان سے کھول دیا کیا صفحہ نمبر کیا تھا نہیں معلوم،

مانی پھر بولا اب وہ چھوٹی کتاب نکال، جیسے ہی مانی نے بولا مجھے پھر سے ڈر لگ گیا کہ یہ سالا گانڈو مروائے گا اور ساتھ میں میری بھی گانڈ پھڑوائے گا، اب مہر بھی ہماری طرف دیکھنے لگا کہ کیا ہو رہا ہے مانی پھر بولا سالے نکال جلدی، میں نے چاروں طرف نظر دہرائی تو دیکھا باقی لڑکے ہم سے 20 سے 25 فیٹ دور ہیں لیکن ڈر پھر بھی لگ رہا تھا اور سٹاف تو بہت ہی دور کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے، خیر تسلی کر کے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور ڈرتے ڈرتے اس چھوٹی سی کتاب کو کھینچ کر بیگ کے منہ تک لایا ہی تھا کہ مانی نے جلدی سے کتاب کھینچ کر فزکس کی کتاب کے درمیان رکھ دی اور فزکس کی کتاب کو بند کر کے واپس مجھے پکڑا دیا اور بولا سب کو یہی لگے گا تو فزکس پڑھ رہا لیکن پڑھنا اندر والی کتاب کو ہے اور اگر کوئی آئے تو کتاب بند کر بیگ میں ڈال دینا، مہر بھی یہ سب دیکھ رہا تھا تو اس نے پوچھ ہی لیا بھائی کیا سین ہے،

مانی: بھائی سیکسی کہانیوں کی کتاب ہے اور فل ماحول ہے،

مہر: سیکسی مطلب کس قسم کہانیاں،

مانی: یار اس کتاب میں یہ سب لکھا ہوگا کہ سیکس کیسے ہوتا ہے اور کس طرح کیا جاتا ہے اور کس مقصد کے لئے ہوتا ہے، پھر مانی نے بھی مہر کو فزکس کی کتاب نکالنے کا کہا مہر نے بھی یہی کیا اور مانی نے اپنے بیگ سے ایک اور کتاب نکالی اور مہر کی کتاب کے اندر ڈال کر اسے واپس کر دی اور بولا اب تم دونوں پڑھو میں نظر رکھتا ہوں کوئی اس طرف آیا تو تمہیں اطلاع کر دوں گا،

مہر اور میں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر مانی کی طرف دیکھا جو اشارے سے کہہ رہا تھا اب جلدی بھی کر لو، 

خیر ایک بار پھر چاروں طرف کا جائزہ لیا اور یہی کام مہر نے بھی کیا پھر ڈرتے ڈرتے کتاب کھولی اور اس کے اس چھوٹی کتاب کو کھولا ابھی اس کا فرنٹ کور کو دیکھ ہی رہا تھا کہ مانی بولا، سالے بعد میں دیکھ لینا تسلی سے ابھی صرف اندر کا معائنہ کر، 

میں نے صفحہ پلٹ دیا پھر عنوان آ گئے اور ابھی وہی دیکھ رہا تھا کہ مانی قریب آیا اور 3 سے 4 صفحات پلٹ دیئے اور کہاں یہاں سے پڑھنا شروع کرو، پھر اس نے مہر کے ساتھ بھی یہی عمل دوہرایا،

خیر میں نے پھر سے ایک بار نظر کو گھما کر جائزہ لیا تو اور پھر کتاب کی طرف دیکھنے لگا آج پہلی بار اپنی فزکس کی کتاب کو دیکھتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا، خیر ڈرتے ڈرتے پڑھنا شروع کیا، اور کہانی کا عنوان بھی کچھ ایسا ہی تھا، (بہن کو نہاتے ہوئے دیکھا) خالی عنوان پڑھ کر ہی میرے ٹٹے شارٹ ہوگئے لیکن ہمت کر کے پھر پڑھنا شروع کیا،

اس کتاب میں سیریل کے ساتھ کہانیاں تھی جس کے عنوان ہی بیان کروں گا کہانیاں لکھوں گا تو میری کاوش بہت لمبی ہو جانی ہے، کہانیوں کے عنوان کچھ اس طرح کے تھے

1 )بہن کو نہاتے ہوئے دیکھا

2) بہن کو پھسایا اور چودا

3) بہن کو میرے دوستوں نے چودا

4) بہن کو دوست نے اور میں نے دوست کی بہن کو چودا

5 ) 3 بہنیں 3 دوست

 ابھی میں نے بس ایک ہی کہانی پڑھی تو میرا لن  کسی سخت ڈنڈے کی مانند کھڑا تھا اور مجھے بھی درد کی شدت ہونے لگی اپنے لن میں میں نے جلدی سے فزکس کی کتاب کو بند کیا اور بیگ میں ڈال دیا اور مجھے سردی میں بھی گرمی کا احساس ہوا میرے ماتھے پر پسینہ صاف دکھائی دے رہا تھا ، مانی میرے سامنے اپنے پنچوں پر بیٹھا اور میرے دونوں گھٹنوں کو پکڑ کر مجھے مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا اور اچانک سے اس نے میرے لن پر زور سے ہاتھ مارا اور کہا سالے اس پین یک کو تو سلا دے 

اس کی اسی حرکت سے میرا لن بھی سوتا چلا گیا،پھر وہ مہر کی طرف گیا، اور مہر صاحب تو کسی اور ہی دنیا میں کھوئے ہوئے تھے لگتا ہے، وہ کہانیاں پڑھنے میں اتنا مگن تھا کہ ہم دونوں کو بھی اس نے نظر انداز کر دیا مانی کے چھیڑنے پر اس کو ہوش آیا اور جلدی جلدی کتاب بند کر کے بیگ میں رکھ کر پاگلوں کی طرح چاروں طرف دیکھنے لگا جیسے کوئی آگیا ہو اور رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہو، مانی اور میں اس کی حالت کو دیکھ کر ہنس ہنس کے دوہرے ہو تے گئے اور مہر بیچارا معصوموں کی طرح دیکھ رہا تھا ہم دونوں ہنستے ہنستے اچانک سے ایسے چپ ہوئے جیسے کسی نے ہماری تار کاٹ دی ہو، کیونکہ جو چیز ہم نے دیکھی اس نے ہماری تار ہی کیا ہمارے ٹٹے بھی شارت کر دئے ، ہنستے ہنستے جیسے ہی ہماری نظر مہر کے لن پر پڑی تو جھٹکا لگنا ہی تھا اس نے اپنی قمیص کا اگلا پلو ہٹایا ہوا تھا اور لن فل آب و تاب کے ساتھ آسمان کی طرف رخ کئے ہوئے تھا اور ہماری ٹٹے شارٹ تب ہوئے جب اس نے اپنا ہاتھ لن سے ہٹایا اور قمیض کا پلو سیٹ کرنے لئے، تو بس اس کی ایک ہی جھلک نے ہمیں بتا دیا کہ وہ لن نہیں لوڑا ہے لوڑا یا یوں کہو گدھے کا لوڑا ہے، مانی اور میں تو حیرت سے گنگ ہو گئے اور ہمیں چپ ایسی لگی جیسے مہر کا لوڑا ہماری گانڈ میں گھس گیا ہو،

جاری ہے

 

Share this post


Link to post

بچپن سے اب تک،

   ،5قسط نمبر

ہماری اس چپ سے مہر بھی شرمندہ ہوا اور پھیکا پھیکا مسکرا کر ہمیں دیکھ رہا تھا پھر جلدی سے اپنا بیگ اٹھا کر اپنی گود میں رکھ کر اپنے للے کو چھپا لیا، جب اس کا للا ہماری نظروں سے اوجھل ہوا تو ہمیں بھی ہوش آیا، پھر مانی ماحول کو سنبھالتے ہوئے بولا اچھا پین یکو لن تے وجے اے سپورٹس، چل دانی پی ٹی سر سے اجازت لے آ پھر میرے گھر چلتے ہیں،میں پہلے تو نہ مانا لیکن اس کے ضد کرنے پر اور بار بار زور دینے پر مجھے جانا پڑا، اور قسمت جیسے ہی پی ٹی سر کے پاس گیا تو وہ پہلے سے ہی سمجھ چکے تھے اور میرے بولنے سے پہلے بولے، دانش بیٹا ابھی چلے جاو آپ لوگ لیکن شام کو 4 بجے تک واپس آجانا فائنل میچ دیکھنے کے لئے، میں نے بس جی سر ہی کہا اور وہاں سے واپس مانی اور مہر کے پاس چلا گیا اور بتا دیا وہ بھی بولے ٹھیک ہے، چلو پھر، پتا نہیں کیوں مانی کے گھر جانے کا دل بھی بہت کر رہا تھا وہاں سے نکلنے لگے تو میں پارکنگ کی طرف جانے لگا کہ اپنی سائیکل نکالوں لیکن مانی نے آواز دے کر روکا اور بولا میر ی بائیک پر چلتے ہیں واپس بھی تو آنا ہے، مہر نے بھی کہا ہاں یہ ٹھیک رہے گا، مانی نے اپنی بائیک نکالی اور مانی کے پیچھے مہر بیٹھا تو مانی جھٹ سے بولا بھائی تو آج میرے پیچھے نہ ہی بیٹھ تو اچھا ہےمہر: کیوں بھائی کیا ہوامانی: سالے کدھے جتنا تیرا للا ہے مجھے تو ڈر ہی لگ گیا ہے دانی تو میرے پیچھے بیٹھ،میں بھی جھٹ سے بولا کیوں بھائی تیری گانڈ آسمان سے اتری ہے کیا جو میں قربانی دوں مہر کی بازو پکڑ کر میں اسے کہا چل بیٹھ جا کچھ نہیں ہوتا خیر مہر مانی کے پیچھے بیٹھا اور میں مہر کے پیچھے بیٹھ گیا، مانی نے بائیک آگے بڑھا دی اور 10 منٹ سے پہلے ہی مانی کے گھر کے باہر تھے، مانی نے بیل دی اور وہی سین ہوا چھوٹا دروازہ کھلا تو مانی اندر گیا اور بڑا گیٹ کھول کر واپس آیا اور بائیک اندر کر دی ہم بھی اس کے پیچھے ہی اندر چلے گئے اپنے جوتے اتارے اور ڈرائنگ روم میں داخل ہو گئے اور صوفوں پر اپنی اپنی تشریف ٹکا کر بیٹھ گئے، آج ہم تھوڑا ری لیکس فیل کر رہے تھے اور دماغ بھی کام کر رہا تھا، اتنے میں مانی بھی آ گیا اور آتے ہی بولا تم لوگ وہ کہانیاں پڑھو میں کچھ لے کر آتا ہوں ہمارا جواب سنے بغیر ہی وہ باہر نکل گیا، اور دروازہ بھی بھی اس کے جانے کے بعد خود ہی بند ہو گیا، میں نے مہر کی طرف دیکھا تو وہ بھی مجھے ہی دیکھ رہا تھا پھر ہم نے ایک دوسرے کو ہلکا سا مسکرا کر دیکھا اور اپنے اپنے بیگ سے وہ اشلیل کتاب نکالی اور پھر جہاں پر چھوڑا تھا وہ صفحہ تلاش کیا اور وہاں سے آگے پڑھنا شروع کر دیا چھوٹی سی کتاب تھی اور اس میں 4 سے 5 صفحات پر مشتمل ایک کہانی تھی، بہن کو نہاتے دیکھا والی تو پڑھ ہی لی تھی پھر دوسرے پڑھنے لگا کہ کیسے بہن کو پھسا کر بھائی نے چودا کہانی ابھی شروع ہی کی تھی دروازہ بجا اور پھر دروازہ کھل گیا اور کام والی ماسی نے انٹری لی ہاتھ میں ٹرے کے ساتھ،اتنی دیر میں ہم اپنی فزکس کی کتاب کو بھی بند کر ہی چکے تھے، ماسی نے  ہمیں سلام بھی کیا اور ٹرے کو ٹیبل پر رکھ دیا اور واپس جانے لگی وہ ابھی دروازے تک ہی پہنچی تھی کہ مہر نے آواز دے اسے پانی بھی لانے کو بھی کہا تو ماسی جی صاحب کہتے ہوئے واپس چلی گئی، میں :مہر صاحب ماسی کو بھی پتا ہے آپ صاحب ہو ،،،،،مہر نے بس مسکرا نے پر ہی اکتفا کیا  پھر میں نے کہا سالے پانی لازمی منگوانا سارا مزا خراب کر دیا اب وہ پھر آئے گی مہر: ٹھنڈ رکھ گانڈو پانی دے کر جائے گی تو پھر آرام سے پڑھ لین گے تیرے لن کو زیادہ ہی آگ لگ گئی ہے، گاوں کے رہنے والے شرمیلے بندے سے ایسے الفاظ کی بالکل بھی مجھے امید نہیں تھی اور میں بس اس کے چہرے کو ہی تکتا رہا، اتنے میں پھر دروازہ بجا اور ایک سریلی مدمست آواز نے ہمیں چونکا دیا، آواز اتنی مست اور سریلی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے دور کہیں سے کوئل کی آواز کے ساتھ دھیمی دھیمی بانسری بجا رہا ہو کوئی، ہم اس آواز کے سحر میں اتنا مست اور محو ہو کر کھو گئے تھے کہ جواب دینا ہی بھول گئے اتنے میں پھر دروازہ بجا اور پھر سے وہی آواز آئی لیکن اس میں تھوڑا سختی تھی اور ہم اپنی دنیا میں واپس آئے جلدی سے اپنی اپنی کتابوں کو بیگ میں ڈالا اور میں نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا ججججججی آاااااا جائیں،اتنے میں دروازہ کھلا اور ایک حسن کی مورت جلوہ نما ہوئی، میں اور مہر صاحب تو بس اس کو دیکھنے کے لئے دروازے کی طرف دیکھا تو بس حسن کی مورت کو دیکھنے میں ہی غرق ہو گئے وہ حسن کی مورت چلتی ہوئی ہوئی اٹھلاتی ہوئی ہمارے سامنے ٹیبل پر پانی کے دو گلاس ایک ٹرے میں سجائے ہوئے رکھ کر ٹیبل کے دوسری طرف پڑے صوفے پر براجمان ہو گئی اور ہم اس کو ویسے ہی تکتے رہے جس طرف سے وہ آئی اور جس طرف وہ گئی بس ہماری نظر اسی پر ہی جمی ہوئی تھی وہ کیا ہی حسن کی مورت تھی، نام عمرانہ، اور مانی سے 4 سال بڑی تھی مطلب 19 سال کی تھی اور قد کے حساب سے ہمارے برابر تھی گورا چہرہ گلابی گال لمبی ناک سنہری آنکھیں، گولڈن بال جو کھلے ہوے تھے اور ہلکے ہلکے گیلے بھی تھے جس سے لگ رہا تھا کہ محترمہ خود غسل کر آئیں ہیں اور ہم پر غسل واجب کروا رہیں ہیں،صراحی دار لمبی گردن اور اس نے لائٹ بلیو جینز کے ساتھ سفید ریشمی کرتا پہنا ہوا تھا جو صرف اس کی رانوں تک ہی آ رہا تھا گردن سے نیچے آو تو سفید ریشمی قمیض کہاں سے شروع ہوتی ہے پتا ہی نہیں چل رہا تھا کیونکہ جسم کے رنگ میں اور قمیض کے رنگ میں انیس بیس کا بھی فرق نہیں تھا، پتا وہاں چلا جب اس کے 34 سائز کے ابھار شروع ہوئے اور دونوں ابھاروں پر قمیض کی جیبیں بنی ہوئی تھی اور ان پر نگ والے بٹن لگے ہوئے تھے وہاں احساس ہوا کہ جسم پر کچھ پہنا ہے ورنہ تو وہ  سب جو دکھ رہا تھا جسم کا حصہ ہی لگ رہا تھا، تھوڑا اور نیچے گیا تو دیکھا کہ پیٹ نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ نظر بھی نہیں آ رہا تھا تھوڑا اور نیچے دیکھا تو اس جل پری کی ایک ٹانگ نے دوسری ٹانگ کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا اور سائیڈ سے اس کی رانوں کے ابھار اس کی جینز میں باہر کی طرف ایسے نکلے ہوئے تھے جیسے سارا گوشت وہیں جمع کیا ہوا ہے، 10 سے 15 سیکنڈز میں اس کا ایکسرا لیا تو ایسا لگا جیسے وقت ہی تھم گیا ہے، ہوش تو تب آیا جب اس کی خوشبو سے بھری کوئیل جیسی سریلی آواز کانوں سے ٹکرائی، ہڑ برا کر ہوش میں آیا تو وہ میرا نام پو چھ رہی تھی،ہکلاتے ہوئے جواب دیا،جججججججیی دادادانش رحیماور سکول میں دانی دانی کہتے ہیں،پھر اس نے مہر صاحب کی طرف دیکھا تو وہ خود ہی بول پڑا لیکن ہکلاتے ہوئے، ججججججی غریب کا نام مہر اجمل سیال ہے لیکن سکول میں مہر صاحب یا بس خالی مہر ہی کہہ دو تو چلے گا،عمرانہ نے ہلکے سی مسکراہٹ کے پھول پھینکے اور بولی میرا نام عمرانہ ہے اور پیار سے عمی کہتے ہیں، تو اپ لوگ عمی آپی کہہ سکتے ہو،اففففف ظالم جب اس نے پیار کا نام لیا تو دل کے تار تار ہو گئے، گلا تو خشک پہلے ہی تھا مزید خشک ہو گیا میں نے دیر نہ کرتے ہوئے پانی کا گلاس اٹھایا اور ایک ہی سانس میں پی گیا عمی آپی میری کنڈیشن دیکھ کر بس اندر ہی اندر چسکے لے رہی تھی میری دیکھا دیکھی مہر صاحب نے بھی اپنا گلاس اٹھایا اور سپیڈو سپیڈ خالی کر دیا، پھر عمی آپی نے ہمارے گھر کے بارے میں پوچھا، میں نے اپنا بتایا اور مہر صاحب نے اپنا بتایا اتنی گفتگو کے بعد تھوڑا بہت تو سنبھل ہی گیا تھا لیکن مہر صاحب نہیں سنبھل پائے کیونکہ گاؤں کا تھا اور شہر کے ماحول سے واقف نہیں تھا،  پھر عمی آپی نے اپنی تعلیم اور کالج کا بتایا اور ہمیں بھی کچھ نصیحتیں جاری رکھیں کہ اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور مانی اندر آیا عمی آپی نے بات کے دوران ہی مانی کو بھی صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا بڑی بہن کا حکم مان کر مانی صاحب نے بھی تشریف کا ٹوکرا رکھا ،عمی آپی کی ہدایات خاموشی سے سنی اتنے میں اس نے ہمیں زیادہ بور نہ کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور مانی کو بولی، مانی میں کالج نکلنے لگی ہوں، پڑھائی ہی کرنی ہے مستی نہیں کرنی ڈانٹنے والے انداز میں انگلی دکھائی اور پھر اپنی مست ابھری ہوئی گانڈ اور سیکسی رانیں اور انکا کا جلوہ دکھا کر دروازے کے وہ ناداں تو چلی گئی لیکن اپنی خوشبو چھوڑ گئی اور ہم دونوں کو اپنا اسیر بنا گئی،
اس کے جاتے ہی مانی بولا پین یکو آپی کے سامنے کتاب کھلی تھی یا بند تھی، 
میں بولا اب ہم اتنے بھی پاگل نہیں ہیں یار ہم، مانی بولا سالوں للے تمہارے کتاب کو ہاتھ لگاتے ہی اٹھ جاتے تمہارا بھی کوئی بھروسہ نہیں، چکو پین یکو چائے پی لو ٹھنڈی ہو رہی ہے، اور واقع ہی چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی اور ایک ہی گھونٹ میں پی کر کپ کو خالی کر کے واپس ٹرے میں رکھ دیا، اب میرا تو دماغ عمی آپی پر ہی اٹک گیا تھا اور ظاہر ہے مہر صاحب کا بھی یہی حال تھا اور رات کو دیکھا ہوا خوب بھی دوبارہ سے آنکھوں میں گھومنے لگا رات کو عمی آپی میرے لن ے چوپے لگا کر مجھے فارغ بھی کر گئی تھی، اور یہ دماغ میں آتے ہی چھوٹے شیر نے سر اٹھانا شروع کر دیا یہ یاد بھی نا رہا کہ  اشلیل کتاب پڑھنی ہے وہ تو جیسے میرے دماغ سے پھررررر ہی ہوگیا تھا، 

،،،جاری ہے   

 

Share this post


Link to post

بہت زبردست تحریر لکھ رہے ہیں آپ

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status