Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

چراغِ دل: پارٹ11

مومنہ: مومنہ آج اپنے روم کی صفائی ستھرائی میں لگی ہوئی تھی۔۔۔اُس نے دیکھا نِدا باہر صحن میں کسی سے فون پر باتیں کر رہی تھی۔۔۔

مومنہ: باہر آئی اور نِدا سے پوچھا کہ کس کی کال آئی تھی؟

نِدا: فرحان بھائی کی کال تھی، وہ آرہا ہے یہاں، کچھ ہی دیر میں پہنچنے والا ہوگا۔۔۔

مومنہ: خیریت سے آرہا ہے؟ اور کب آیا پاکستان وہ؟

نِدا: کچھ دن پہلے ہی آیا تھا، کہہ رہا تھا کہ کچھ ضروری کام ہیں وہ کرنے آیا ہے۔۔

مومنہ: اچھا کیا ضروری کام پڑ گئے۔۔۔

نِدا خاموشی کے عالم میں سوچتے ہوئے، کیونکہ فرحان اُس کا بھائی تھا وہ بھی امریکہ میں ہی رہتا تھا اور پاکستان وہ مومنہ کے لیے ہی آیا تھا۔۔۔ کہ آنٹی کی باتوں باتوں میں اُس نے کہیں مومنہ کی شادی کا احساس محسوس کر لیا تھا اور وہ خود کو مومنہ کے لیے اور مومنہ کو خود کے لیے اہل سمجھ رہا تھا۔۔

بس یہ بات بتاتے ہوئے نِدا کو ہچکچاہٹ سی محسوس ہوئی۔۔۔۔

نِدا: میں اماں جی کے ساتھ مل کر کچھ کچن میں کچھ بنوا لیتی ہوں بول رہا تھا بھوک لگی ہے کھانا کھائے گا۔۔۔

مومنہ: ایک گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے ہاں بہتر ہے بنا لو میں صفائی ستھرائی کر لوں۔۔۔

دونوں اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔۔۔ اور ایک لامتناہی سوچ میں گُم نِدا بھی سوچ رہی کے مومنہ کیسا ری ایکش دے گی اور فرحان کو بھی نہیں بتا سکتی تھی کہ مومنہ آجکل کس دوراہے سے گزر رہی ہے وہ پہلے سے ہی محبت کی آگ میں جل رہی ہے۔۔

مومنہ اس سوچ میں گُم کہ فرحان آخر یہاں کیوں آرہا ہے۔۔ کام تھے تو گھر ہوتے یہاں کیا کام اُسے۔۔۔ اُس کے دل میں ایک کشمکش سی جاری تھی۔۔۔خیر دیکھتے ہیں۔۔۔

کچھ ہی ٹائم کے بعد ایک گاڑی گیٹ کے باہر رُکی ہارن دیا تو نِدا بھاگتے ہوئے گئی۔۔۔

نِدا: دروازہ کھولتی ہے فرحان گاڑی اندر پارک کرتا ہے تو نِدا بھاگ کر بھائی کے گلے لگ جاتی ہے۔۔

اور بھائی کو اندر لے جاتی ہے۔۔ اُدھر مومنہ بھی روم سے باہر آتی ہے اور ملتی ہے فرحان سے۔۔۔

سب باتوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

فرحان: تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو کراچی کیوں نہیں رہی گھر میں اور یہاں ایک ملازمہ کے ساتھ رہ رہی ہو؟ـ

مومنہ: دراصل ہم شور شرابے سے دور وقت گزارنے کے لیے یہاں آگئی

نِدا اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ہاں بھائی۔۔۔۔

نِدا: بھائی آپ کا کیسے آنا ہوا بنا بتائے ٹپک پڑے۔۔۔

فرحان: مومنہ کی طرف دیکھتے ہوئے ہیں کچھ ضروری کام جس کے لیے آیا ہوں۔۔۔ دعا کرو کہ کام ہو جائیں سب۔۔۔

مومنہ: کوئی تاثر دئیے بغیر جی اللہ کرے کہ آپ کے سب کام ہوں جائیں۔۔۔۔۔

فرحان: اونچی اور لمبی آواز سے آمین آمین۔۔۔

پھر سب کھانے کی ٹیبل پر جمع ہوگئے اور خوش گپیوں کے ساتھ کھانا کھایا۔۔۔۔

کچھ دیر گزری بعد نِدا اور مومنہ باہر لان میں گھوم پھر کر باتیں کر رہیں تھی اور فرحان کمرے میں کھڑا کھڑکی کے پاس اُن کو دیکھ رہا تھا۔۔

فرحان کے دل میں مومنہ کے لیے محبت کی چنگاری بھڑک رہی تھی مگر اظہار کا موقع نہیں مل رہا تھا اور اُسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ مومنہ کا کیا جواب ہوگا۔۔۔ وہ مومنہ سے کسی نہ کسی بہانے سے بات کرنے کے بہانے تراش رہا تھا کہ کیسے میں مومنہ کے پاس ہو سکوں۔۔۔

اُس نے سوچا اگر میں نِدا کے ذریعے یہ بات مومنہ کے دل میں ڈالوں تو یہ بہتر رہے گا کہ میں اُس کو چاہتا ہوں اور شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔

ہاں یہ بہتر رہے گا۔۔۔ اس سے اُسے بھی مومنہ کے احساسات کا پتہ چل جائے گا۔۔۔

رات کے ٹائم فرحان نے نِدا کو اپنے پاس بیٹھایا اور کہا کہ مجھے کچھ باتیں کرنی ہیں تم سے۔۔۔ مومنہ روم میں چلی گئی یہ کہتے ہوئے کہ تم بعد میں آجانا۔۔۔

فرحان: نِدا کو پاس بیٹھاتے ہوئے، جیسا کہ تم کو بتا دیا تھا میں نے۔۔۔ مگر اب کُھل کر بتاتا ہوں کہ میں مومنہ کو چاہنے لگا ہوں مگر اُس کو کیسے بتاؤں میری سمجھ میں نہیں آرہا۔۔۔ اب ایک تم ہی ہو جو مومنہ کے بہت قریب ہے تم ہی اب مومنہ تک میری یہ خواہش پہنچا سکتی ہو کہ بھائی تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔

نِدا: سکون سے ساری بات سُنتے ہوئے۔۔۔ ایک پل خاموش رہ کر، اور اگر بھائی مومنہ نے انکار کر دیا تو؟ پھر کیا مومنہ مجھ سے یا آپ سے کُھل کر بات کر پائے گی یا ہماری نظر میں مومنہ کی حیثیت کم نہیں ہو جائے گی اُس کے انکار پر؟

فرحان: جب انکار کا کوئی جواز ہی نہیں ہوگا تو وہ کیسے انکار کرئے گی۔۔۔

نِدا: بیچ کی بات ظاہر نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔ کیونکہ اگر وہ بات کُھل گئی تو فرحان بھی غصے کا اظہار کرے گا اور پھر وہ ہر طرف بات گُھما بھی دے گا آنٹی انکل کا پتہ نہیں پھر کیا ری ایکشن آئے گا۔۔۔۔

نِدا: بھائی مومنہ میری سب سے پیاری سہیلی ہے اور بچپن سے ہی کزن بھی ہیں اور بہنوں کی طرح بھی۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ کسی وجہ سے ہمارے دلوں میں یا ذہن میں کوئی ایسی بات بیٹھ جائے جس سے ہم دور ہوتی جائیں۔۔۔

فرحان: نِدا ایسا کچھ نہیں ہوگا میرا یقین ہے کہ وہ ہاں کر دے گی کیونکہ ہم جانتے بھی ہیں ایک دوسرے کو اور کزنز بھی ہیں۔۔۔

نِدا: ٹھیک ہے کسی مناسب وقت کا انتظار کر کے باتوں باتوں میں ہی بات کروں گی اُس سے۔۔ اور اگر مومنہ نے انکار کیا تو آپ ضد یا اسرار نہیں کریں گے۔۔۔۔

فرحان: ٹھیک ہے نہیں کرونگا ضد۔۔۔۔

نِدا اُٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔۔۔ جہاں مومنہ نِدا کے انتظار میں ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ کہیں نہ کہیں مومنہ کی چَھٹی حِس اُسے کہہ رہی تھی کہ کچھ تو بات ہے شاید اُسی کے بارے میں ہے۔۔ کیونکہ مومنہ فرحان کا اپنی طرف دیکھنا محسوس کر گئی تھی کہ فرحان پہلے سے الگ انداز میں دیکھ رہا تھا اُس کو جس میں محبت کا تاثر نظر آ رہا تھا۔۔۔۔ یہ خیال آتے ہی مومنہ نے دماغ کو جھٹک دیا اور نِدا سے مخاطب ہوئی۔۔۔

مومنہ: خیریت تو ہے بھائی بہن میں کیا راز کی باتیں ہورہی تھی۔۔۔۔

نِدا: مومنہ کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کچھ نہیں یار کیا باتیں ہونی۔ کافی عرصہ بعد جو ملے تو اِدھر اُدھر کی باتیں ہی کرنی تھیں گھر کے احوال سب کا رہن سہن کوئی اچھی یا بُری بات۔۔

مومنہ: اچھا سہی اچھی بات ہے۔۔ ورنہ میں تو سوچ رہی تھی کہیں کوئی پلاننگ تو نہیں ہورہی۔۔۔

نِدا: خاموش رہی اور بولا چلو سوتے ہیں کافی ٹائم ہو چکا ہے۔۔۔۔

مومنہ: نِدا کے چہرے کو دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ کوئی بات تو ہے جو نِدا نے اندر ہی اندر دبا لی ہے۔۔۔ خیر دوست تو میری ہے رہ تو نہیں سکے گی بات کیے بغیر۔۔۔

کچھ دن ایسے ہی گزر گئے نہ نِدا نے مومنہ سے بات کی نہ فرحان کی بات مومنہ سے ہو سکی۔۔۔

ایک دن فرحان نے دونوں سے کہا چلو آج گھومنے چلتے ہیں نِدا نے حامی بھر لی جب نِدا نے حامی بھری تو مومنہ بھی مان گئی۔۔۔

فرحان نے پکنک کی تیاری کی کچھ اور تینوں نکل گئے اُن کا پروگرام تھا کچھ دن باہر رہیں گے وہیں کھائیں پیئے گے مزہ کریں گے۔۔۔ دو مصنوعی ٹینٹ بھی فرحان نے منگوا لیے تھے رہنے کے لیے۔۔۔

تینوں نکل گئے اور ایک خوبصورت مقام پر اپنا ڈھیرہ جما لیا۔۔۔ فرحان کا مقصد تھا کہ اسی بہانے سے اُس کو اور مومنہ کو بات کرنے کا موقع مل جائے گا۔۔۔

رات کا ٹائم تھا مومنہ باہر لکڑیوں سے جلائی آگے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ خوبصورت احساس اُس کے وجود میں خوشی کی لہر پیدا کر رہا تھا اور ٹھنڈی ہوا مومنہ کو جذبات کو سرد کر رہی تھی۔۔۔

مومنہ: مومنہ کو وہ کمرہ یاد آگیا جس میں ولی آگ جلا کر اُس کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ ساری پچھلی یادوں کو یاد کر کے کبھی مسکرا دیتی کبھی اداس ہو جاتی تھی۔۔۔

فرحان: مومنہ کو باہر اکیلے بیٹھا دیکھ کر پاس آگیا۔۔۔

کتنا پیارا موسم ہے نا مومنہ؟

مومنہ: فرحان کی آواز سُن کر یادوں کی دنیا کو سمیٹتی ہوئی۔۔۔ ہاں موسم تو بہت پیارا ہے۔۔۔

فرحان مومنہ کے پاس ہی بیٹھ گیا اور ایک لکڑی کے ساتھ آگ سے کھیلتے ہوئے۔۔۔

فرحان: اور تم کیا کر رہی ہو یہاں بیٹھ کر؟

مومنہ: کچھ نہیں بس اچھا لگ رہا ہے

فرحان: اور نِدا کہاں ہے؟

مومنہ: وہ کافی تھک چکی تھی دن بھر کے سفر اور گھومنے سے تو سو گئی جا کر۔۔۔

فرحان: ہاں یہ بھی صحیع ہے

مومنہ: اچھا میں بھی چلتی ہوں

فرحان: ارے رکو کچھ دیر بیٹھو میرے پاس۔۔۔

مومنہ: فرحان کی طرف دیکھتے ہوئے اُٹھتےاُٹھتے رُک گئی۔۔۔

فرحان: میں نے سُنا ہے کہ تم مستقل پاکستان میں ہی رہنا چاہتی ہو؟

مومنہ: جی خیال تو کچھ ایسا ہی ہے آگے دیکھو موم ڈیڈ کیا کہتے۔۔۔

فرحان: کچھ ہچکچاتے ہوئے، اور شادی کا کیا خیال ہے؟

مومنہ: ابھی تو دور دور تک کوئی خیال نہیں شادی کا۔۔۔

فرحان: اور اگر کوئی لڑکا زندگی میں آگیا تو پھر تو کرو گی؟

مومنہ: میں سمجھی نہیں اس سوال کا مقصد۔۔۔ کوئی لڑکے سے کیا؟

فرحان: اگر کوئی تم کو چاہتا ہو یا کسی کو تم چاہتی ہو؟

مومنہ: مسکراتے ہوئے، ابھی تو ایسا کچھ نہیں،

فرحان: کچھ دیر خاموشی کے بعد،

مومنہ کیا تم احساسات کو سمجھتی ہو؟

مومنہ: ہاں سمجھ آ جاتا ہے

فرحان: تو پھر کیوں نہیں سمجھ پا رہی ہو؟

مومنہ: کیا مطلب تمہارا؟

فرحان: ہچکچاتے ہوئے، مطلب کے میں تم کو پسند کرتا ہوں کیا محسوس نہیں کیا کبھی؟

مومنہ: حیرت سے فرحان کو دیکھتے ہوئے، تم یہ کیا بول رہے ہو ؟

فرحان: جو تم نے سُنا وہی بولا۔۔۔

مومنہ: منہ بگاڑتے ہوئے میں کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا اور نہ محسوس کیا۔۔۔

مومنہ سٹ پٹا سی گئی اور اُٹھ کر چلی گئی۔۔

فرحان:خاموشی سے بیٹھے مومنہ کو جاتے دیکھ رہا تھا۔۔۔

مومنہ ٹینٹ میں جا کر اپنے بستر پر بیٹھتے ہوئے، وہ غُصے میں تھی، فرحان نے ایسا سوچا بھی کیسے؟ میں اب یہاں نہیں رکوں گی صبح ہوتے ہی ہم واپس جائیں گے۔۔۔

جاری ہے

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے کسی بھی گروپ یا اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر ثانی سے شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین کر دیا جائے گا ۔ اور دوبارہ ایکٹو بھی نہیں کیا جائے گا ۔ موجودہ اکاؤنٹ کینسل ہونے پر آپ کو نئے اکاؤنٹ سے کسی بھی سیئریل کی نئی اپڈیٹس کے لیئے دوبارہ قسط 01 سے ادائیگی کرنا ہو گی ۔ سابقہ تمام اقساط دوبارہ خریدنے کے بعد ہی نئی اپڈیٹ آپ حاصل کر سکیں گے ۔ اکاؤنٹ بین ہونے سے بچنے کے لیئے فورم رولز کو فالو کریں۔ اور اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ بنائیں ۔ ۔ ایڈمن اردو فن کلب

چراغِ دل: پارٹ 12

صبح ہوئی تو مومنہ کا موڈ آف آف تھا۔۔۔ نِدا نے نوٹ کیا کہ مومنہ آج چپ چپ ہے اور اُس کے چہرے پر خفگی کے آثار نمایاں نظر آ رہے ہیں۔۔۔

نِدا: مومنہ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ہوا آج تم کو؟ کن خیالوں میں گُم ہو؟

مومنہ: خاموشی کو توڑتے ہوئے، سامان پیک کرو ہم واپس جا رہے ہیں، میرا دل گُھٹ رہا ہے یہاں،

نِدا: کیا ہوا تم کو؟

مومنہ: کچھ نہیں بس واپس گھر چلتے ہیں مجھے بہت عجیب سا لگ رہا ہے۔۔

نِدا: کیسا عجیب؟

مومنہ:مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں دو انجان لوگوں کے ساتھ ہوں۔۔۔

نِدا: یہ کیا بکواس کر رہی ہو؟

مومنہ: نِدا مجھے تم سے تو یہ امید نہیں تھی، تم جانتی تھی ساری بات مگر تم نے مجھ سے شئیر تک نہ کی۔۔۔

نِدا: جب مومنہ نے یہ بات کی تو نِدا کو سمجھ آ گئی کہ ضرور بھائی نے کوئی بات کی ہے۔

میں کیا بات کرتی تم سے یہ کہتی کہ فرحان تم کو چاہتا ہے جب کہ تم پہلے سے ایک محبت کو اپنے دل میں پال رہی ہو۔۔۔

مومنہ: میں ولی سے محبت نہیں کرتی، وہ میرا مُحسن ہے جس نے مجھے دُنیا کے ان اندھیروں سے نکال کر روشنی کا راستہ دکھایا، بس ایک اُنس ہے مجھے ولی سے، اور میں یہ نہیں چاہتی کہ میری راہ میں ابھی کوئی بھی حائل ہو،

نِدا: یعنی تم کہہ رہی ہو ولی سے محبت نہیں تم کو؟ تو پھر فرحان بھائی میں کیا کمی ہے؟

مومنہ: میں نے کب کہا کہ کوئی کمی ہے، مگر مجھے وقت چاہیے ابھی خود کے لیے، میں ابھی اس ڈور میں نہیں بندھنا چاہتی، مجھے ابھی خود اپنا نہیں پتہ کہ میرا کل کیا ہوگا،

نِدا: ٹھیک ہے میں بھائی کو سمجھا دوں گی، اور ہاں آج کے بعد یہ بیگانوں والی بات دوبارہ نہ کرنا نہیں تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا،

مومنہ: نِدا کو گلے سے لگاتے ہوئے سوری یار پتہ نہیں بس عجیب سی کشمکش میں تھی، مجھے نہیں بولنا چاہیے تھا،

نِدا: میں بھی اسی لیے خاموش تھی تم سے بات نہیں کر پارہی تھی،

مومنہ: اچھا ٹھیک ہے چلو واپس چلتے ہیں،

نِدا: ابھی بھی جانا ہے کیا؟

مومنہ: ہاں جانا ضروری ہے مجھے نہیں پتہ کل کیا ہوگا اس لیے بہتر ہے چلے جاتے ہیں،

نِدا: نِدا بھی تسلیم میں سر ہلاتے ہوئے بات ٹھیک ہے تمہاری؟ میں بھائی سے بات کرتی ہوں پھر پیکنگ کرتے ہیں، میں انہیں کہتی ہوں کہ مومنہ کی طبیعت نہیں ٹھیک اس لیے واپس چلتے ہیں بس تم بھی یہی کہنا۔۔۔

مومنہ: ٹھیک ہے

نِدا باہر آئی تو دیکھا فرحان ابھی تک اپنے ٹینٹ سے نہیں نکلا تھا، شاید وہ رات دیر تک جاگتا رہا،

نِدا فرحان کو آواز دیتے ہوئے، بھائی اُٹھیں ہمیں واپس جانا ہے،

فرحان: واپسی کا سُن کر بُڑبُڑایا اور کہا اتنی جلدی؟

نِدا: ہاں، مومنہ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے،

فرحان: مومنہ کی طبیعت کا سُنتے ہی یکدم باہر آ گیا، کیا ہُوا اُسے؟

نِدا: پتہ نہیں بول رہی تھی کی طبیعت ٹھیک نہیں واپس چلتے ہیں،

فرحان: کچھ سوچتے ہوئے، ٹھیک ہے

نِدا: بھائی کوئی بات ہوئی ہے کیا آپ دونوں میں؟

فرحان: تذبذب میں نہیں تو کوئی ایسی بات نہیں ہوئی۔۔

نِدا: اچھا ٹھیک ہے ہم پیکنگ کر لیں پھر چلتے ہیں واپس۔

شام کو سب گھر پہنچ چکے تھے، مومنہ تمام راستے خاموش آئی اور نِدا اور فرحان نے بھی زیادہ بات نہیں کی،

مومنہ کےذہن میں کبھی فرحان کی باتیں گردش کرتیں تو کبھی ولی کی یاد اُس کے دل و دماغ میں چھا جاتی۔۔

وقار: کافی ٹائم کے بعد ولی سے ملنے گاؤں آیا تھا، شام ہونے کو تھی اور ولی بیج بو رہا تھا چھوٹی چھوٹی کیاریوں میں۔۔۔۔

وقار: السلام عليكم ورحمة الله

ولی: وعلیکم السلام ورحمة الله

واہ کیا بات ہے ہمارے دوست کو بھی ہماری یاد آتی ہے کیا؟

وقار: کیا بتاؤں مصروفیات بہت زیادہ بڑھ گئیں ہیں،

ولی: ہاں مصروفیات انسان کو ہر چیز سے دور کر دیتی ہیں۔۔۔ یادوں سے، باتوں سے، یہاں تک کے اپنوں سے بھی،

وقار: بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر سب ضروری ہے۔۔

ولی: ہاں ضرورت ہی تو بن چکی ہے اب،

وقار: کیا لگا رہے ہو؟

ولی: سبزیوں کے بیج بو رہا ہوں،

وقار: ولی تم ہر وقت زمین کے ساتھ ہی لگے رہتے ہو۔۔۔

ولی: مسکراتے ہوئے اس کے برعکس میں زمین میں قدرت کے رنگ دیکھتا ہوں،

ہم اسی میں اُٹھے ہیں اِسی میں سمائیں گے، دیکھو ہم جو بیج بوتے ہیں زمین اُس بیج کو پروان چڑھا کر ہمیں پھل دیتی ہے، درحقیقت پروان چڑھانے والی ذات اللہ کی ہے پھل دینے والا بھی وہی ہے لیکن اُس نے اپنی یہ قدرت زمین کے اندر چُھپا دی۔۔۔

ہم بھی اسی زمین سے نکلے ہیں ایک حکمت کے تخت، مگر ہم چلتے پھرتے اوپر ہیں ہم اپنا بیج اوپر بوتے ہیں اور پھل زمین کے اندر جا کر پاتے ہیں۔۔۔

جیسے ہم زمین میں جو بوتے ہیں وہ اُگتا ہے ایسے ہی ہم زمین کے اوپر جو بوتے ہیں وہ اندر جا کر پا لیتے ہیں،

وقار: تمہاری باتیں بہت گہری ہوتی ہیں

ولی: گہرائی انسان کے اندر موجود ہے بس ہم اُس کو دیکھ نہیں پاتے، کائنات سے بھی بڑے گہرے راز پوشیدہ ہیں انسان کے اندر، بس ظاہری دُنیا نے ظاہری نظاروں نے انسان کو اندھا بنا دیا اور وہ اپنا آپ دیکھ ہی نہیں پاتا،

وقار: یار میں ایک بات پوچھنی تھی؟

ولی: ہاں پوچھو

وقار: تمہارے خواب اتنی حقیقی کیوں ہوتے ہیں،

ولی: اس کا تو مجھے بھی نہیں پتہ، یا پھر کہہ لو یہ ایسا معاملہ ہے جس کا بیان ہی نہیں ہے،

انسان ہر لمحہ کسی نا کسی سوچ کے محور میں گُم رہتا ہے، جیسا کہ ابھی بیج بو رہے تو سوچ بیج کے ساتھ فصل پر بھی ہے، کام کرتے کام کی سوچ، کھانا بناتے کھانے کی اشیاء کی سوچ، یعنی انسان ہر لمحہ لا تعداد سوچوں کے محور میں گُم رہتا ہے، سوائے نیند کے، جب وہ گہری نیند سو جاتا ہے تب وہ ہر سوچ سے آزاد ہوتا ہے، پھر روح آزاد ہوتی ہے انسانی دماغ کی سوچوں سے، پھر وہ اپنے رب کی قدرت میں اپنے تصرف کے مطابق اُڑان بھرتی ہے، ناسوتی روح بُری مجالس میں، بُرے اور ڈراؤنے خوابوں میں، بُرائی کے اور دنیا داری کے لوازمات دیکھتی ہے، ملکوتی روح نعمتوں کو دیکھتی ہے اور مستفید ہوتی ہے۔۔۔ جبروتی روح فرشتوں اور ولیوں کو دیکھتی ہے اور لاہوتی روح انبیاء علیہ السلام اولیا رحمۃ اللّٰہ علیہ کی مجالس کو دیکھتی ہے، پھر وہاں سے زمین ایک گیند کی مانند ہوتی ہے ہر وقت سے آزاد، پھر انسان دیکھتا ہے کبھی اپنا ماضی کبھی مستقبل، کیوں کہ وقت کی قید سے وہ آزاد ہوتا ہے، اکثر ہم اپنا بچپن دیکھ لیتے ہیں جوانی یا بڑھاپا،

اور کچھ خواب حقیقت بن جاتے ہیں اور کچھ نصیحت کچھ تنبہیہ، کچھ آزمائش اور کچھ صرف خیال۔۔

وقار: یہ تو بہت بڑا معمہ ہے خوابوں کا؟

ولی: ہاں سچ کہا بہت بڑا معمہ جس کو سمجھنا سب کے بس کی بات نہیں،

وقار: کیا انسان اس پر لکھ سکتا ہے؟

ولی: نہیں انسان اس پر لکھ نہیں سکتا، کیونکہ مادہ پرست لوگ ہر چیز کی دلیل مانگتے ہیں انہیں شواہد چاہیے ہوتے ہیں، اور خوابوں کا کوئی شاہد نہیں ہوتا سوائے اللہ کے۔۔۔

وقار: ہاں بات تو تمہاری ٹھیک ہے؟

ولی: انسان اپنے ہونے نا ہونے کے گُمان سے نکل جائے تو کائنات کی حقیقت اُس پر آشکار ہو جاتی ہے، بس اِس ہونے کے یقین سے نکلنا مشکل ہوتا ہے،۔

رات آج مومنہ جلدی اپنی کمرے میں سونے کے لیے چلی گئی،

بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھی تھی وہ پُرسکون ہونا چاہتی تھی، اُس نے ولی کو اپنے تصور میں باندھنا شروع کر دیا، اس حدت سے وہ ولی کو تصور میں یاد کر رہی تھی کہ اُس کے دل سے سوزِ محبت کی آتش بھڑکنے لگی اور آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے،

وہ ولی کو کہہ رہی تھی کہ یہ کیا عالم ہے سکون بھی نہیں قرار بھی نہیں دل کرتا ہے ایک کندھا ہو جس پر سر رکھ کر بس روتی رہوں،

مومنہ کے اندر آتشِ عشق کی آگ تیزی سے بھڑکنے لگی اور اُس کا دل زور زور سے اللہ اللہ کرنے لگا، اُسے ایسا لگا رہا تھا جیسے دل آج پھٹ جائے گا، وہ اِسی تصور میں گُم ہوتی گئی ہوتی گئی یہاں تک کے آنسو آنکھوں سے بہہ کر گالوں کو تر کرتے چھال پر گِر رہے تھے۔۔۔ وہ خاموش اندر ہی اندر اترتی گئی جب آنسوؤں کا سیلاب تھم گیا تو اُس کا قلب محوِ خیال ہو چکا تھا وہ تصورات میں ایک وادی میں داخل ہوچکی تھی جہاں نور کی ہلکی ہلکی کرنیں نمودار ہو رہیں تھی مومنہ وہاں ایک چھوٹے سے پتھر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی، ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا اُس کے وجود میں سکون اتار رہی تھی، اسی سکون کے ساتھ مومنہ سوگئی۔۔۔

نِدا باہر بھائی سے باتیں کر رہی تھی،

نِدا: مجھے پتہ ہے کیا بات ہوئی کل رات کو، مومنہ نے مجھے بتا دیا ہے، بھائی مومنہ ابھی شادی کے متعلق نہیں سوچنا چاہتی، اور اُس نے یہ بھی نہیں کہا کہ فرحان اُسے پسند نہیں،

بس اُسے ابھی اس بارے میں نہیں سوچنا،

فرحان:ٹھیک ہے جیسے مومنہ کی مرضی، صبح میں واپس چلا جاؤں گا۔۔۔ جب مومنہ کا دل چاہے گا تب ہی بات ہوگی۔۔۔

نِدا: جی بھائی یہ بہتر ہے۔۔۔

نِدا اُٹھی روم میں آئی دیکھا تو مومنہ دیوار سے ٹیک لگائے ہی سو رہی ہے، مومنہ کے قریب

گئی تو آنکھوں اور گالوں پر آنسوؤں کے سوکھنے کے نشان تھے، اُس کمبل پکڑا اور اُس کے اوپر ڈال کر ساتھ ہی سو گئی۔۔۔

صبح فرحان واپس چلا گیا، مومنہ کو کچھ آرام دہ ماحول نصیب ہوا، ہر گزرتے دن کے ساتھ مومنہ کی اندرونی کیفیت بدلتی جارہی تھی، وہ اب زیادہ تر وقت ذکر میں محو رہ کر گزارتی تھی، بس جب جب نِدا ساتھ ہوتی تھی تب وہ دونوں آپس میں گپ شپ لگاتے تھے اور کچھ نہیں۔۔۔۔

جاری۔۔۔۔

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ 13

فرحان کو گئے ہوئے ایک ماہ گزر چکا تھا، مومنہ اور نِدا وہاں دونوں ملازمہ کے ساتھ رہ رہی تھیں۔۔۔ مومنہ اپنے دل کی ساری کیفیات اب نِدا پر ہی ظاہر کرتی تھی، کیونکہ ولی سے بات کیے بھی اُسے کافی وقت گزر چکا تھا،

مومنہ کے دل میں ولی کے لیے محبت تھی مگر اب وہ آشکار نہیں کر سکتی تھی، وہ نِدا سے بس اتنا کہتی کہ ولی بس میرا مُحسن ہے اور کچھ نہیں،

دوسری طرف ولی دن بھر کھیتوں میں گزار دیتا اور شب میں یادِ خُدا میں گُم رہتا، اُس کا دل بھی تذبذب کا شکار تھا کہ مومنہ نے کبھی اُسے دوبارہ اپنے احوال سے آگاہ نہیں کیا، آیا کیا وہ پہلے کی طرح پھر سے غفلت کا شکار ہوگئی ہے کہ نہیں،

ایک شب ولی اپنی عبادات و ریاضت کے بعد سونے کے لیے لیٹ گیا،

ولی ایک خواب دیکھتا ہے، جس میں وہ ایک جنگل میں ہوتا ہے وہاں بہت سُناٹا ہے، ہلکی ہلکی روشنی کی کرنیں درختوں کی شاخوں سے لڑ جھگڑ کر زمین پر پڑ رہیں تھیں، ولی اُس میں چل رہا ہے ایک طرف،اچانک وہ دیکھتا ہے کہ وہاں ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگائے کوئی بیٹھا ہوا ہے،

ولی اُس طرف جاتا ہے قریب جا کر دیکھتا ہے تو وہ مومنہ ہوتی ہے،

ولی: مومنہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟

مومنہ: اچانک ولی کو دیکھتے ہی اپنی جگہ سے اُٹھنے لگتی ہے

ولی ہاتھ کے اشارے سے کہتا ہے نہیں نہیں بیٹھی رہو۔۔۔

مومنہ: میں اس جنگل کے درختوں کی شاخوں کی طرح خُود میں اُلجھی ہوئی ہوں۔۔۔

ولی: اور یہ اُلجھن کیوں ہے کیسی ہے یہ اُلجھن؟ تم مجھے بتا سکتی تھی، تمہاری اُلجھن دور کر دیتا۔۔۔

مومنہ: کچھ باتیں نہ چاہتے ہوئے بھی دل میں رکھنی پڑھتی ہیں۔۔۔

ولی: یہ بھی بات صحیع ہے۔۔۔ ولی اپنا ہاتھ مومنہ کی طرف بڑھاتے ہوئے۔، چلو اُٹھو ابھی اُلجھی ہوئی گُتھی کو سُلجھا دیتے ہیں

مومنہ: ولی کا بڑھتا ہاتھ دیکھ کر ہاتھ پکڑ کر اُٹھ جاتی ہے

ولی: ولی مومنہ کا ہاتھ پکڑے ایک طرف چلنا شروع کر دیتا ہے، کچھ دور جاتے ہیں تو ایک ندی آتی ہے، ولی مومنہ کو کہتا ہے تم یہی رکو میں ابھی آیا، اور خود ندی میں اُتر جاتا ہے کچھ دیر بعد آتا ہے تو ولی کے ہاتھ میں ایک پھول ہوتا ہے سفید رنگ کا۔۔۔

مومنہ: بڑے اشتیاق سے انتظار کر رہی ہوتی ہے ولی کا۔۔

ولی: پھول مومنہ کی طرف بڑھاتے ہوئے یہ تمہارے لیے ہے اس کو اپنے پاس رکھ لو۔۔

مومنہ: پھول پکڑتے ہوئے۔۔۔ شکریہ

ساتھ ہی ولی کی آنکھ کُھل جاتی ہے اور وہ اُٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتا ہے فجر تک دھیان میں بیٹھا رہتا ہے۔۔۔

مومنہ: فجر کی نماز کے وقت اُٹھی تو اُسے اپنے قریب سے ہلکی ہلکی خُوشبو آتی محسوس ہوئی، اُس نے لائٹ آن کی تو اُس کے تکیے کے پاس ایک سفید رنگ کا پھول پڑا ہوا تھا۔۔۔مومنہ نے پھول پکڑ کر ناک کے قریب کیا تو اُس کی خُوشبو اُس کے پورے وجود میں اُتر گئی۔۔۔وہ حیران کہ یہ پھول آیا کہاں سے۔ مگر اُس کا دل کہہ رہا تھا ضرور ولی نے رکھا ہوگا پہلی بار اتنا خوشبودار پھول دیکھ رہی ہوں۔۔

صبح ہوئی تو مومنہ نے ولی کو کال کی پھول والے ماجرہ کو شئیر کرنے کے لیے۔۔۔۔

ولی: کال اُٹھاتے ہوئے، السلام عليكم ورحمة الله

مومنہ: وعلیکم السلام ورحمة الله

کیسے ہیں آپ؟

ولی: الحمدللہ میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟

مومنہ: جی اللہ کا شکر ہے ٹھیک ہوں۔۔۔

ولی: جی مومنہ سب ٹھیک ہے۔۔۔

مومنہ: ہاں بس ایک بات شئیر کرنی تھی۔۔

ولی: جی کرو

مومنہ: آج میں فجر ٹائم اُٹھی تو میرے قریب خوشبو محسوس ہوئی پھر میں دیکھا تو ایک پھول تھا میرے تکیے کے پاس سفید رنگ کا بہت خُوشبو دار۔۔۔

ولی: مسکراتے ہوئے۔۔۔ اُس کی خوشبو بہت پیاری ہے ایسا ہی ہے نا؟

مومنہ: جی جی

ولی: وہ پھول اپنے پاس رکھو سنبھال کر کسی باکس میں جالی دار ہو تاکہ خوشبو ملتی رہے تم کو کبھی مُرجھائے گا نہیں وہ۔۔۔ اور باکس لاک کر دینا تاکہ کوئی اُٹھائے بھی نہ۔۔۔

مومنہ: ٹھیک ہے۔۔ کیا آپ نے رکھا وہ پھول۔۔۔

ولی: تم کو ہی تو دیا تھا بس مل گیا تم کو۔۔۔

بس اب خیال رکھنا اِس کا یہ ایک راز ہے تمہارے پاس۔۔۔

مومنہ: جی ٹھیک ہے میں سنبھال کر رکھونگی۔۔۔

ولی: کوئی اور بات کرنی ہے یا پوچھنی،

مومنہ: نہیں کوئی خاص بات نہیں ہے۔۔۔

ولی: تو پھر یہ اُلجھایا ہُوا کیوں ہے خُود کو؟

مومنہ: آپ کو کیسے پتہ؟

ولی: جیسے پھول کا پتہ مجھے۔۔۔

مومنہ: پھر تو آپ سے چُھپی ہوئی نہیں ہوگی کوئی بات بھی

ولی: شاید ایسا ہی ہو، اور یہ پھول بھی اُسی اُلجھن کو ختم کرنے کے لیے ملا ہے تم کو۔۔۔

مومنہ: ایک خوشی کی لہر مومنہ کے وجود میں دوڑ گئی، اس کا مطلب آپ میرے دل کے احوال سے واقف ہو۔۔۔

ولی: ہو سکتا ہے واقف ہوں۔۔۔۔ مگر جو محبت تمہارے انتظار میں ہے اُس کے آگے یہ محبت بڑی حقیر سی ہے،

کیا تم اعلی سے ادنٰی کی طرف آنا چاہتی ہو؟

مومنہ: مجھے سمجھ نہیں آرہی کچھ۔۔۔ کہ کیا کروں کیا کہوں۔۔۔

ولی: تم اپنی اصل سے ابھی واقف نہیں ہو جس دن تم واقف ہو جاؤ گی تم باقی سب محبتوں کو خواہشوں کو خیر آباد کہہ دو گی،

مومنہ: تو کیا ہے میری اصلیت پھر،

ولی: بہت جلد آشکار ہو جائے گی تم پر۔۔۔

صبر سے گامزن رہو اس سفر پر۔

مومنہ: جی ٹھیک ہے، کوئی نصیحت میرے لیے

ولی: نماز پابندی سے پڑھو اس خیال کے ساتھ کہ اللہ تم کو دیکھ رہا ہے قرآن کی تلاوت کرو جتنی ہو سکے ذکر اذکار کرو درود پڑھا کرو اور سب سے ضروری اور اہم بات۔۔۔۔ ادب کو مضبوطی سے تھام لو۔۔۔

مومنہ: جی ٹھیک، ذکر کونسا کروں۔۔

ولی: کلمے کا۔۔ ذکر اس طرح سے کرنا ہے کہ زبان سے شروع ہو اور دل میں اُتر جائے تصور دل پر رکھنا ہے پڑھنا زبان سے ہے۔۔۔۔ جب دیکھو کے دل بھی کر رہا ساتھ تو زبان کو روک کر دل پر ہی دھیان باندھ کر رکھنا ہے۔۔۔ اور تصور کرنا ہے کہ تمہارے دل پر اسم اللہ لکھا ہوا ہے۔۔۔

مومنہ: جی ٹھیک ہے،

مومنہ کال بند کرتے ہی پھول کے خیال میں چلی گئی اور اُس کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ ولی نے یہ پھول اُس کو دیا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں نِدا روم میں آتی ہے۔۔۔مومنہ کو دیکھتی ہے ایک پھول ہاتھ میں پکڑے ہوئے اُس کی خوشبو ندا کو دروازے تک آتی ہے۔۔

نِدا: بڑی پیاری خوشبو ہے اور یہ پھول کیسا اور کہاں سے آیا۔۔۔

مومنہ: ولی نے خواب میں دیا تھا اور صبح اُٹھی تو تکیے کے پاس پڑا ہوا تھا۔۔

نِدا: حیرت سے مومنہ کی طرف دیکھتے ہوئے پھول پکڑتی ہے، سچ میں؟

مومنہ: ہاں

نِدا: اس کا کیا مطلب ہوا؟

مومنہ: کہہ رہا تھا کہ اس میں ایک راز ہے وقت آنے پر پتہ چل جائے گا، سنبھال کر رکھ لو اس کو۔۔۔

نِدا: بڑی عجیب بات ہے ویسے۔۔۔

مومنہ نِدا سے پھول پکڑتی ہے اور ایک شو پیس ہوتا ہے شیشے کا اُس میں رکھ دیتی ہے اور اُس کو بند کر کے رکھ دیتی ہے۔۔

کچھ دن گزرے تو نِدا مومنہ سے کہنے لگی مجھے اب واپس کراچی جانا ہے۔۔

مومنہ: نِدا تم یہ کیا بات کر رہی ہو؟

نِدا: امی کی کال آئی تھی وہ بُلا رہی ہیں ۔۔۔ انہوں نے تو تمہارا بھی کہا تھا۔۔ میں کہا پوچھ کر بتاؤنگی۔۔

مومنہ: نہیں یار میں نہیں جا سکتی میرا دل اب یہاں لگ گیا ہے بہت اور مجھے شور و غُل سے اب اُلجھن سی ہوتی ہے۔۔۔ بہتر ہے تم بھی نہ جاؤ، میں آنٹی سے بات کر لوں گی۔۔۔

نِدا: نہیں یار جانا ضروری ہے میں کچھ دن بعد واپس آؤں گی۔۔ تم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی، بس مجبوری ہے جانا پڑے گا۔۔

مومنہ: ٹھیک ہے جیسے تم کو اچھا لگے۔۔۔

دوسرے دن نِدا کراچی چلی جاتی ہے۔۔ اور مومنہ پھر گھر میں تنہا رہ جاتی ہے اور ساتھ بس ایک ملازمہ۔۔

کچھ دن گزر گئے مومنہ ذکر زیادہ کرنے لگ گئی۔۔۔

ایک دن مومنہ اپنے کمرے میں ذکر کر رہی تھی بیٹھ اُسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی کمرے میں موجود ہے، اُس نے لائٹ آن کی تو کوئی نہیں تھا۔

پھر اُس نے لائٹ آف کی اور ذکر کرنے لگ پڑی۔۔۔ پھر اُسے محسوس ہوا کہ کوئی ہے تو وہ لیٹ گئی اور سونے کی کوشش میں لگ گئی۔۔ کچھ ہی دیر میں نیند آگئی۔۔۔

مومنہ خواب دیکھتی ہے کہ وہ ایک کھنڈر میں ہے وہ بہت ہر ڈراؤنا ہے اور خوفناک، اور اُسے محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اُس کے تعاقب میں ہے وہ بار بار پلٹ کر دیکھتی ہے مگر کوئی نہیں ہوتا۔۔۔ پھر اچانک ایک چیز اُس کے آگے گِرتی ہے وہ ڈر جاتی ہے آواز سے ساتھ ہی پیچھے گِرتی ہے وہ پیچھے مُڑ کر دیکھتی ہے تو کچھ نہیں جب آگے دیکھتی ہے تو آگے بھی کچھ نہیں۔۔ مومنہ خوفزدہ ہو جاتی ہے اور اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا دل ڈوب رہا ہے۔۔۔ وہ ڈوب رہی ہے سائے بڑھ رہے ہیں اُس کی سانس رُک رہی ہے۔۔۔

کہ اچانک ایک نُور سا کمرے میں نمودار ہوتا ہے۔۔۔ جس کے نمودار ہوتے ہی تمام سائے ختم ہو جاتے ہیں وہ روشنی موت میں زندگی کی نوید لے کر آتی ہے مومنہ دیکھتی ہے کہ اُس کے ارد گرد نور کا ہالہ بن گیا ہے۔۔۔ اور وہ اُس میں سکون سے کھڑی ہے۔۔۔

ساتھ ہی مومنہ کی آنکھ کُھل جاتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ ولی اُس کے سامنے کھڑا مسکرا رہا ہے۔۔

مومنہ: ولی آپ اور یہاں

ولی: ہاں میں ہی ہوں۔۔۔

مومنہ: آپ کیسے آئے؟ کیا خواب دیکھ رہی ہوں میں

ولی: نہیں حقیقت میں ہو تم۔۔۔ بس تم کو ڈرتے ہوئے پایا تو آگیا پاس۔۔

مومنہ: تو کیا وہ نور کا ہالہ آپ تھے؟

ولی: نہیں میں تو یہاں ہوں، وہ نُور تم میں سے ہی نکلا تھا

مومنہ: وہ کیسے

ولی:وہ کلمے کا نُور تھا جو تم ذکر کرتی ہو۔۔

مومنہ: مگر یہ سب کیا تھا؟

ولی: شیطان انسان کے وجود میں ایسے سرائیت کرتا ہے جیسے خون۔۔۔ اور اب تم ذکر کر رہی ہو ذکر دوام پکڑ کر قلب کو نور کا بنا رہا ہے اور قلب سے خون پورے وجود میں گردش کرتا ہے تو کلمے کا وہ نُور پورے وجود میں گردش کر رہا ہے جس سے شیطان اور نفس کو تکلیف پہنچ رہی تو آگئے تم کو ڈرانے مگر تمہارے نور نے اُن کو بھگا دیا۔۔

مومنہ: کیا سچ میں یہ اندر ہوتے۔۔۔

ولی: کہا تو تھا کہ انسان کے اندر ایک جہان چُھپا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ14

ولی: مومنہ میں تم کو اپنا ایک خواب سُناتا ہوں اس سے تم اور زیادہ ذکر میں محو ہو جاؤ گی۔

مومنہ: جی

ولی: ایک شب میں نے دیکھا کہ قیامت بھرپا ہوچکی ہے، صور کے بعد صور پھونکا جا چکا ہے لوگ میدانِ حشر کی طرف جا رہے ہیں،

میں بھی ہوں اور میرا پورا خاندان بھی ساتھ یے۔۔۔ لوگ رو رہے ہیں اپنے اپنے اعمال کو یاد کر کے اور آنکھون سے آنسو بہا رہے ہیں اور آنسوؤں کے پانی میں ہی ڈوب رہے ہیں۔ کسی کا پانی ٹختوں تک کسی کو گُٹنوں تک کسی کو کمر کسی کو گلے تک اور کوئی اپنے ہی پانی میں مکمل ڈوب رہا ہے۔۔۔

میں دیکھتا ہوں کہ پانی اوپر کو چڑھ رہا ہے اور چلنا بھی محال ہو رہا ہے، کہ اچانک غیب سے ایک نِدا آئی، کیا میں تم کو وہ ذکر نہ بتاؤں جو آج کے دن کے لیے آسانی پیدا کرے۔۔

میں نے کہا جی ضرور۔۔۔۔

آواز آئی۔۔۔ پڑھ " لا الہ الا اللہ"

میں لا الہ الا اللہ پڑھنا شروع کر دیا تو جہاں ہم کھڑے تھے وہ حِصہ پانی کا اوپر کو بلند ہوا، اور ایک کشتی کی شکل اختیار کر گیا اور ہم اوپر اُس کے اور وہ کشتی چلتی ہو میدان حشر میں لے گئی۔۔۔

مومنہ: واہ یعنی آخرت میں بھی کامیابی کا ضامن ہے۔۔

ولی: اثبات میں سَر ہلاتے ہوئے ہاں،

مومنہ: اور کیا میرے خاندان والے بھی،

ولی: اپنا کان میرے قریب کرو

مومنہ: جی

ولی اُس کے کان میں سرگوشی کرتا ہے جس سے مومنہ کا چہرہ کِھل جاتا ہے۔۔۔

ولی: اب تم آرام سے سو جاؤ۔۔۔

مومنہ: اور آپ چلے جائیں گے۔۔۔

ولی: اور بھی بہت سے کام ہیں کرنے والے۔۔۔۔

مومنہ سو جاتی ہے اور ولی اُس کی آنکھوں سے اُوجھل ہو جاتا ہے۔۔۔

اب تو مومنہ کی خوشی اور آسودگی کی بھی انتہا باقی نہ رہی، وہ اب چلتے پھرتے مسکراتی تھی، اور ذکر اذکار میں اُس نے خود کو محو کر لیا تھا۔۔۔ قرآن اُس کے راستے کی روشنی بن گیا اور ذکر اُس کی طاقت، ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ یادِ الہی میں محو ہوتی گئی۔۔۔

نِدا بھی کراچی سے واپس مومنہ کے پاس آ چکی تھی، مومنہ کے احوال دریافت کر رہی تھی۔۔۔ مومنہ نے سب کچھ اُس کو بتا دیا۔۔

نِدا اس بار افسردہ دل کے ساتھ آئی تھی۔۔۔ پتہ نہیں کیا ہوا تھا اُس کو مگر بہت خاموش ہوگئی تھی وہ۔۔

نِدا: مومنہ کی گود میں سَر رکھتے ہوئے مجھے اپنی آغوش میں چُھپا لو مومنہ، اور ساتھ ہی اُس کی آنکھ سے آنسو چھلک پڑے۔۔۔

مومنہ: کیا ہو گیا ہے تم کو؟

نِدا: کچھ نہیں یار بس رونا چاہتی ہوں پُھوٹ پُھوٹ کر۔۔۔

مومنہ: کچھ تو ہوا ہوگا۔

نِدا: میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں، امی کی کال آئی کہ جلدی گھر آؤ تمہارے رشتے کی بات کرنی ہے۔۔ میرے دل کو دھچکا سا لگ گیا، میں فوراً چلی گئی، میں امی کو بتایا کہ میں کسی کو پسند کرتی ہوں اچھا لڑکا ہے ایک بار مل لیں،

مگر انہوں نے سِرے سے ہی انکار کر دیا اور کہا کہ تمہارے بابا اپنے دوست سے اُس کے بیٹے کے ساتھ تمہاری بات کر چکے۔۔۔۔

اب اگر انہیں یہ بات معلوم ہوئی تو جان لے لیں گے ہم دونوں کی۔۔۔

میں امی کو بہت سمجھایا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، میں خود کو تنہا کر لیا سو سو خیال دماغ میں گردش کرنے لگے۔۔۔ کہ گھرچھوڑ دوں، یہ کروں وہ کروں۔۔۔ پھر ایک دن مجھے خواب آیا اور تم میری خواب میں آئی تمہارے ہاتھ میں روشنی کا ایک چراغ تھا تم مجھےکہتی ہو آؤ میرے پاس۔۔۔۔

ساتھ ہی میری آنکھ کُھل گئی اور میں امی سے اجازت لیکر یہاں آ گئی۔۔۔

مومنہ: نِدا کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، کیا وہ لڑکا بھی تمہیں چاہتا ہے؟

نِدا: ہاں بالکل چاہتا ہے۔۔

مومنہ: اللہ بہتر کرے گا اب تم میرے پاس ہی رہو وقت آنے پر میں خود بات کرونگی آنٹی سے۔۔۔

نِدا کو دلی سکون ملا مومنہ کے پاس آ کر،

کچھ دیر بعد مومنہ نے ولی کو کال کی نِدا کے معاملے پر۔۔۔۔

ولی: نے مومنہ سے کہا کہ اُس نے تم کو دیکھا ہے تم روشنی کا چراغ لیے کھڑی ہو، تو اب تم ہی اُس کا راستہ روشن کرو۔۔۔

مومنہ: کیا آپ کچھ نہیں کر سکتے

ولی: مومنہ تسلیم و رضا کیا ہے اختیار ہوتے ہوئے بھی اپنے رب کے فیصلوں پر اپنا سر جُھکا دینا۔۔۔

کربل میں کیا ہوا تھا؟ جب بھی یاد کرتا ہوں خُود کو مالک کا گنہگار سمجھتا ہوں۔ وہ ہے رضا کا مقام اختیار ہوتے ہوئے بھی اپنے اختیار کو استعمال نہیں کیا رب کی رضا کو منظور کیا۔۔۔

اگر اب ہم اُس کی محبت کے علاوہ اُس کے غیر کی محبت طلب کریں تو کیا یہ بے وفائی نہ ہوگی محبوب کے ساتھ،

مومنہ: جی بات تو ٹھیک ہے آپ کی۔۔۔

ولی: اُس نے تمہارے اندر جو دیکھا ہے ٹھیک دیکھا ہے اُس کا راستہ تم سے ہی کُھلے گا۔۔۔

تمہارے سینے میں ایک چراغ روشن ہو چکا ہے اب جو تم سے محبت رکھتا ہے وہ اُس چراغ کی روشنی دیکھ کر تمہارے پاس آ جائے گا اور جو حسد کرنے والا ہو گا وہ پھونکیں مارے گا کہ یہ چراغ بُجھ جائے۔۔۔ مگر تم بے فکر رہنا بس اپنے معاملات اللہ کے سپرد رکھنا اُس کے کسی غیر سے توقع نہ لگانا۔۔

مومنہ: جی ٹھیک ہے۔۔۔۔ شکریہ میں کوشش کروں گی۔۔۔

مومنہ کال بند کر کے واپس نِدا کے پاس چلی جاتی ہے،

نِدا: میں آج سمجھی کی تم کس احساس سے گزر رہی ہو، محبت سچ میں انسان کو کھا جاتی ہے اندر ہی اندر سے،

مومنہ: نِدا کو ہمت دلاتے ہوئے، محبت ہر حال میں محبت ہوتی ہے چاہے وہ مجازی ہو یا حقیقی۔۔۔ کیونکہ یہ جذبہ دل سے اُبھرتا ہے اوع دل سے اُبھرنے والے جذبات میں ملاوٹ نہیں ہوتی، وہ پاک ہوتے ہیں ہر طلب سے اس لیے تو وہ جذبات محبوب کی خوشی چاہتے ہیں،

اور اگر یہی جذبات نفس کے تابع ہو جائیں تو شہوت، ہوس، ضرورت، خواہشات، مطلب جنم لے لیتے ہیں اور پھر محبت ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور ضرورت و شہوت کی ایک عادت بن جاتی ہے،

کتنے ہی محبت کے دعوے دار ہیں جو اپنی نفس کی خواہشات کو پروان چڑھا کر رسوا ہو گئے رسوا کر گئے، پھر جسموں کا کھیل رہ جاتا ہے محبت نہیں رہتی اور وہ بھی آخر کب تک۔۔۔۔۔

نِدا: بڑی خاموشی سے مومنہ کی باتیں سُن رہی تھی، مجھے نہیں پتہ یہ سب کیا ہے بس اتنا پتہ ہے کہ میں بے بس ہو رہی ہوں۔۔۔

اُس شب مومنہ نے اپنے رب کے حضور دعا کی اور اپنے رب سے نِدا کے لیے نِدا کی محبت مانگی اور اپنا حالِ دل اپنے رب کے حضور رکھ کر دعا گو ہوئی۔۔۔

نِدا کو آئے ایک ماہ گزرنے کو تھا کہ اُس کی امی کا فون آیا اُسے، فون سننے کے بعد نِدا بھاگتی ہوئی مومنہ کے پاس آئی اور زور سے گلے سے لگا لیا اُس کو۔۔۔

مومنہ: نِدا کو ایسے خوش اور چِپکے ہوئے دیکھا اپنے ساتھ تو پوچھنے لگی، کیا ہوا میری جان کو؟

نِدا: میرے رب نے میری سُن لی، مجھے نہیں پتہ یہ کب ہوا کیسے ہوا امی نے ابو سے بات کی کہ نِدا کسی لڑکے کو چاہتی ہے تو ابو نے کہا مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا، گھر میری بیٹی نے بسانا ہے میں نے نہیں، اب وہ ملنا چاہتے ہیں اُس لڑکے سے، اب میں شاذین کو ابو سے ملنے کا بولوں گی۔۔۔

مومنہ: یہ تو بہت خوشی کی بات ہے، بالآخر تم کو تمہاری محبت مل جائے گی۔۔۔۔

مومنہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی مگر اندر ایک شعلہ بلند تھا، وہ اندر ہی اندر باتیں کر رہی تھی، یا رب میری محبت کی منزل کیا ہے، کیا میں مل پاؤں گی اپنی محبت سے،

مومنہ جذبات کے بہاؤ میں بہتی گئی، نِدا جا چکی تھی اُٹھ کر مگر مومنہ جذبات کی بہتی ندی میں بہتی گئی بہتی گئی، اُسے نہیں پتہ تھا کہ وہ کس محبت کی طالب تھی، بس وہ محبت محبت کا راگ الاپ رہی تھی،

ایک ایسی محبت جو اُس کے سامنے تھی اور ایک ایسی محبت جس سے وہ انجان تھی۔۔

ولی اُس کو اعلٰی کی طرف بُلا رہا تھا مگر مومنہ کہیں نہ کہیں ولی کے لیے بھی اپنے اندر محبت کی ایک روشنی محسوس کرتی تھی، کیونکہ اُس کے فرحت بخش لمحات وہ ہوتے تھے جس میں ولی بسا ہوا ہوتا تھا۔۔۔

ولی: صبح سورج کی طلوع ہوتی کرنوں کو باغور دیکھ رہا تھا۔۔۔

میرے مالک بیشک تُو ہی ہر تاریکی کو اُجالے میں بدلنے والا ہے ایک نظام کے تحت ہر چیز اپنے اپنے دائرے میں تیر رہی ہے، آہ اے انسان جس کو تیرے رب نے اشرف بنایا ساری مخلوق سے تُو اپنے دائرے کو پھلانگ کر گمراہ ہو رہا ہے، اے ولی تیری ہلاکت ہے اگر تیرے محبوب نے تُجھ سے نظر چُرا لی تو، اپنے وجود کو فنا کر دے اُس کی محبت میں، ایسے فنا ہو جا کہ نہ تُو رہے نہ تیری میں رہے بس وہ ہی وہ ہو بس وہ ہی وہ ہو۔۔۔ بس وہ بس وہ اور کچھ بھی نہیں ہے، جلا خود کو اس سورج کی طرح اور روشن کر جا تاریک دلوں کو، ہر طلب سے بیگانہ ہو جا، ہر چاہ سے جُداگانہ ہو جا،

ہم مست مستئ عشق کے ہمیں دنیا سے ہے کیا

ہم جینا مرنا بھول گئے نہ ہمیں فناء و بقاء

نہ اپنی کچھ خبر ہمیں نہ یار کا ہے پتہ

بستے ہیں اس بستی میں جہاں بندہ نہ خدا

ہم وہم گمان یقین سے کبھی کرتے نہیں نبھاء

ہم وصل حقیقی پاء گئے جو قلب سے ہے وراء

ہم ذات صفات کے منکر "میں" تو" سے رہیں جدا

ہم حد سے نکل خدا کی دیں" ھو " کا ناد بجاء

ہم مجرم وعدہء الست کے ہم قتل کریں خدا

ہم ہوش خرد سے گزر چکے نہ ہمیں جزاء سزا

جاری ہے۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ 15

مومنہ اور نِدا دونوں کراچی آ چکے ہیں، نِدا کی منگنی اُس لڑکے کے ساتھ ہونی تھی جس کو وہ پسند کرتی تھی، اس لیے مومنہ اور نِدا کے ساتھ کراچی آچکی تھی،

امریکہ سے مومنہ کے امی ابو بھی آئے منگنی پر، نِدا کی شاذین سے منگنی ہوگئی دونوں بہت خُوش تھے خاص کر کے نِدا تو بہت خوش تھی،

کچھ دن کراچی رہنے کے بعد مومنہ اپنے امی ابو کے ساتھ گھر آگئے۔۔۔۔

مومنہ حیران تھی کہ جب اُس نے کہا تو کاروبار کی وجہ سے نہیں آئے، اور اب بتایا بھی نہیں اور آگئے۔۔۔

مومنہ: امی ابو سے پوچھتے ہوئے، کیسے دل کیا میرے موم ڈیڈ کا یہاں آنے کا۔۔۔

امی: ہماری بیٹی تو یہاں آکر ہمیں بھول ہی گئی تھی، ہم مصروف ضرور تھے مگر کچھ ٹائم سے تمہاری بہت یاد آ رہی تھی،

بس دل کیا پلاننگ ہی کر رہے تھے کہ نِدا کے رشتے کی بھی اطلاع مل گئی تو سوچا اب تو یہ بھی بہتر ہوگیا۔۔

مومنہ: مجھے خُود بہت خوشی ہوئی آپ دونوں کے آنے سے۔۔

مومنہ کی امی: بس خُوش رہا کر، تو کیا ابھی بھی دل نہیں بھرا یہاں رہنے سے،؟ واپس نہیں چلو گی ہمارے ساتھ؟ اور شادی کا کچھ سوچا ہے کہ نہیں۔۔۔

مومنہ: نہیں امی ابھی تک تو کوئی پلاننگ نہیں یہاں سے جانے کی میں خُوش ہوں یہاں، سارا وقت عبادات ذکر اذکار میں گزر جاتا ہے،

اور شادی کا ابھی مجھ سے نہ ہی پوچھیے تو بہتر ہے،

مومنہ کی امی: اچھا جی جیسے ہماری بیٹی کی مرضی، ہم ایک دو دن رہیں گے پھر چلے جائیں گے۔۔۔ اور ہاں فرحان اچھا لڑکا ہے سوچنا ضرور۔۔۔

مومنہ: کیا آپ کو کوئی بات پتہ چلی ہے؟

مومنہ کی امی: ہاں یہیں آ کر سُنا تھا فرحان کے منہ سے وہ اپنی امی کو بول رہا تھا کہ مجھے مومنہ سے شادی کرنی ہے تو تمہاری آنٹی نے مجھ سے پوچھا،

فی الحال تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا، کہ جب تک مومنہ کی رضا مندی نہیں ہوگی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے،

مومنہ: ایک گہری سانس بھرتے ہوئے میں فرحان سے کہا بھی تھا کہ ابھی میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے، پھر بھی اُس نے یہ بات کی۔۔۔

کچھ دن گزرے تو مومنہ کے امی ابو بھی واپس چلے گئے، اتنے دن مصروفیات کی وجہ سے مومنہ کافی ڈسٹرب ہو چکی تھی عبادات ذکر اذکار لگ بھگ نہ ہونے کے برابر ہوگئے تھے۔۔۔

اب وہ پُرسکون تھی، اُس نے پھر سے سارے گھر کی ترتیب اپنی مرضی سے کی، نِدا سے فون پر بات ہوتی تھی اکثر وہ آنے کا کہتی تھی مگر آتی نہیں تھی۔۔۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ مومنہ کی کیفیات پہلے سے بھی زیادہ بدلنا شروع ہوگئیں۔۔۔ اب اُس کا قلب ہمہ وقت ذکر میں محو رہتا تھا، یہ محویت مومنہ کو بڑا مسرور کن رکھتی تھی، اُس کا دل کرتا تھا کہ آنکھ، کان، اور زبان بند کر کے بس ساری توجہ اپنے دل پر رکھے اور محو رہے اس میں۔۔۔

ایک شب مومنہ ذکر کرنے کے بعد سو گئی، اُس نے ایک خواب دیکھا،

اُس نے دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کے صحن میں کھڑی خانہ کعبہ کو دیکھ رہی ہے، وہ قریب جاتی ہے غلاف کو چھوتی ہے تو اُسے محسوس ہوتا ہے کہ غلاف سے نور کی کرنیں نکل کر اُس کے سینے میں سما رہی ہیں، اُس کا قلب روشن ہونا شروع ہو جاتا ہے، کہ اچانک اُس کا سینہ غلافِ کعبہ کے ساتھ چمٹ جاتا ہے، جیسے لوہا مقناطیس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے ایسے ہی مومنہ غلافِ کعبہ کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور نور اُس کے سینے میں سما رہا ہے، اُس نے دیکھا کہ اُس کا سارا وجود روشن ہو رہا ہے،

اچانک مومنہ کا ہاتھ کوئی پکڑتا ہے اور پیچھے کو کھینچتا ہے، مومنہ پیچھے گِر کر بے ہوش ہو جاتی ہے، اور وہیں گِر جاتی ہے،

مومنہ دیکھتی ہے کہ ہاتھ پکڑ کر کھینچنے والا ولی ہے، اور وہ مومنہ کے گِرنے پر بھی اُسے سنبھالتا ہے،

کچھ دیر بعد مومنہ کو ہوش آتا ہے تو ولی پاس بیٹھا ہوا مسکرا رہا ہوتا ہے،

ولی: اُٹھ گئے ہمارے صاحب

مومنہ: خود کو سمیٹتے ہوئے، کیا ہوا تھا مجھے؟

ولی: کچھ نہیں ہوا تم کو، چلو اُٹھو اور سجدہءِ شکر ادا کرو رب کی بارگاہ میں،

مومنہ وہی سجدہ کرتی ہے اور شکر ادا کرتی ہے، ولی کے ہاتھ میں ایک پیالہ ہوتا ہے، لو اب یہ پی لو یہ زم زم کا پانی ہے فرحت بخشے گا تم کو،

مومنہ: ولی کے ہاتھ سے پیالہ لیتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتی ہے کہ زم زم کا پانی، اور وہ سارا پی جاتی ہےـــ

پانی پیتے ہی مومنہ کے سینے میں سکون بھر جاتا ہے،

ولی: آج سے تم درود و سلام کی کثرت زیادہ کرو گی جب درود پڑھو گی تو جس وقت اسمِ محمدﷺ آئے گا تم اپنے سینے کے وسط میں اسمِ محمد تصور میں لکھو گی،

مومنہ: جی ٹھیک ہے۔۔

ولی: اب کلمے کے ساتھ ساتھ دوسرا ذکر درود کا کروگی تم۔۔۔کلمہ جلالی صفت رکھتا ہے اور درود جمالی۔۔۔

مومنہ: جی بہتر ہے

اس کے ساتھ ہی مومنہ کی آنکھ کُھل جاتی ہے، وہ اُٹھ کر بیٹھ جاتی ہے ایک مُسکراہٹ سی اُس کے چہرے پر ہوتی ہے۔۔۔

دوسرے دن مومنہ ولی کو سارا خواب سُنا دیتی ہے، ولی اُسے وہی کرنے کا کہتا ہے جو اُس نے دیکھا اور سُنا۔۔۔

مومنہ اب درود شریف کا ذکر کثرت سے کرتی تھی، اور ساتھ میں اسمِ محمدﷺ کو تصور میں سینے میں لکھا ہوا محسوس کرتی ہے،

ایک شب مومنہ درود شریف پڑھ رہی ہے تو اُس کو سینے کے وسط میں جیسے ہی حضورﷺ کا نام لیتی تھی ایک ہلکی سی تپش محسوس کرنے لگی، اُسے کچھ عجیب سا لگا مگر وہ ذکر کرتی رہی، جیسے ہی وہ محو ہوئی اُسے صاف اسمِ محمدﷺ لکھا نظر آنے لگا بند آنکھوں سے سینہ میں۔۔۔ وہ ایسے تھا جیسے روشن ہو اور پھر مدھم ہو جائے۔۔۔ جب درود پڑھتے محمدﷺ بولتی تو اسم روشن ہوجاتا پھر بُجھ جاتا۔۔۔

وہ اس معاملے کو سمجھ نا سکی۔۔۔ اُس نے ولی سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرہ ہے۔۔۔ ولی نے کہا کہ ابھی شروعات ہے جب صحیع سے محو ہو جاؤ گی تو جیسے ہی آنکھیں بند کر کے تصور کرو گی تو روشن ہو جائے گا اِسم۔۔۔

مومنہ: مومنہ کو دلی لگاؤ ہوگیا اس عمل سے کیونکہ حضورﷺ کے اسمِ مبارک کا نُور سینے کے اندر روشن ہونا اُس کے لیے معمولی بات نہیں تھی۔۔۔

دو ماہ گزر چکے، ولی اپنی فصل کو سمیٹنے میں لگا ہوا، اور بوائی کا پھل دیکھ کر خوش و خرم لگ رہا،

ولی: کسان اپنی فصل پر محنت کرتا ہے پھل لگتا ہے اور پکنے پر کسان اُسے بھر بھر کر گھر لے جاتا ہے، یہ اُس کی محنت کا صِلہ ہوتا ہے اور یہ دن کسان کے لیے عید سے کم کا نہیں ہوتا۔۔۔

ایک دِن وہ بھی لگے گا جس دن انسانوں کی محنت کا پھل جزا و سزا کی صورت میں ملے گا۔۔۔کوئی جنت میں جائے گا کوئی دوزخ میں کوئی امن میں ہوگا تو کوئی پریشان حال، کچھ لوگ اُس دن آہو و پکار کر رہے ہوں گے اور کچھ تخت نشیں ہوں گے۔۔۔

آج ولی نے سب کو دعوت دی ہوئی تھی۔۔۔ پھر اُس نے ایک بورڈ منگوایا اور چاک۔۔۔

ولی نے بورڈ کے عین اوپر ایک دائرہ بنایا اور اُس پر عرش لکھ دیا پھر اس کے دونوں اطراف کچھ تخت ٹائپ کے نشان بنائے اور لکھا اَمن والے عرش کے عین نیچے ایک دائرہ بنایا اور لکھا روح القدس پھر بائیں طرف ایک دائرہ کھینچا اُس پر لکھا بُرائی کا پلڑا اور ٹھیک اُسی کے برابر دائیں طرف ایک دائرہ بنایا اور لکھا نیکی کا پلڑا، پھر ایک لائن کھینچی دونوں کے درمیان نیچے تک اور لکھا اعراف، پھر دو دائرے دائیں اور بائیں بنائے ایک پر لکھا دایاں اعمال نامہ اور بایاں اعمال نامہ اعراف والی لائن کے ساتھ دائیں طرف ایک چھوٹا دائرہ بنایا اور لکھا حوض، اور ایک دائرہ اعراف کی لائن میں بنایا اور لکھا ذبح ہونا موت کا، پھر بائیں طرف بڑا دائرہ بنایا اور لکھا جہنم اور اُس پر ایک لائن کھینچ کر آدھا دائرہ بنایا اور لکھا پُل صراط ٹھیک اُس کے سامنے دائیں طرف ایک بڑا دائرہ بنایا اور لکھا جنت کی چراگاہ اور دعوت کی جا۔۔ پھر اعراف والی لائن کے نیچے ایک دائرہ بنایا اور لکھا پیٹھ پیچھے کتاب۔۔۔

پھر جنت والے دائرے کے ساتھ دو لائینیں کھینچی اور لکھا پہلی لائن دوسری لائن پھر جہنم والے دائرے کے ساتھ دو لائن کھینچی اور لکھا تیسری لائن چوتھی لائن، پھر سب سے نیچے تین لائنیں کھینچی اور لکھا پانچویں لائن چھٹی لائن ساتویں لائن، اور سب سے لاسٹ میں ولی نے ایک دائرہ بنایا اعراف کے بائیں طرف بائیں اعمال نامے اور جہنم کے دائرے کے درمیاں اعراف کے قریب۔۔۔

سب ولی کو محو ہو کر دیکھ رہے تھے کہ ولی کیا بنا رہا ہے۔۔۔

ولی پھر سب کی طرف متوجہ ہوا اور کہا یہ ہے محشر کا میدان، یہ یہ مقام یہاں یہاں ہوں گیں۔۔۔

اب سب لوگ خُود کو دیکھیں کے وہ کس مقام پر کھڑے ہیں دائیں طرف کے بائیں طرف جہنم میں کے جنت میں یا امن والوں میں یا حوض پر کھڑے پانی پی رہے ہو یا پھر نیچے وہاں کھڑے ہو جنہوں نے اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے کر لیا۔۔ یا پھر پہلی دوسری لائن میں ہو یا تیسری چوتھی میں یا پھر پانچویں چھٹی اور ساتویں میں۔۔۔

آج میں نے سب کے سامنے سب کا آئینہ بنا کر سامنے رکھ دیا ہے، اب تلاش کرو سب اپنے آپ کو کہ کون کس مقام پر کھڑا ہے۔۔۔

سب کے سب خاموش اور غور سے دیکھ رہے بورڈ کو،

اچانک وقار اُٹھا اور بولا کیا میں کچھ پوچھ سکتا ہوں۔۔

ولی: بالکل پوچھو۔۔

وقار: پہلی اور دوسری لائن میں کون لوگ ہوں گے۔۔۔

ولی: اہلِ جنت مومن مرد اور عورتیں نیکو کار پرہیزگار۔۔ بغیر حساب کے جنت جانے والے

وقار: اور تیسری اور چوتھی لائن؟

ولی: گنہگار مسلمان جن کا حساب کتاب ہوگا

وقار: نیچے تین لائینیں

ولی: کفار کی اور اُن کی جنہوں نے اللہ کی کتاب کو پایا مگر اپنے پیٹھ ییچھے کر لیا یعنی اور انکاری ہوئے۔۔۔

وقار: اور یہ اَمن والے کون ہوں گے۔۔۔

ولی: انبیاء علیہ السلام اولیاء رحمۃ اللّٰہ علیہ

وقار: یہ مقامِ محمود بائیں طرف کیوں ہے جب کے ہم نے سُنا ہے کہ یہ بلند مقام پر ہوگا۔۔۔

ولی: مُسکراتے ہوئے۔۔۔ سب نے دیکھا ہوگا کہ میں نے یہ دائرہ بنایا بھی سب سے آخر میں تھا۔۔۔۔ اور بائیں طرف کیوں ہے تو سنیے۔۔۔

ہمارے پیارے آقا حضورﷺ ساری زندگی اپنی اُمت کے لیے دعا گو رہے روتے رہے اتنا روتے تھے کہ اللہ جبرائیل امین کو بھیج دیتےتھے دلاسے کے لیے۔۔۔ میدان حشر میں بھی سرکارﷺ اپنے گنہگار امتیوں کے قریب رہیں گے مقامِ محمود پر۔۔۔ کیونکہ حضورﷺ کی شفاعت درکار ہو گی اس اُمت کے گنہگاروں کو۔۔۔

یہ ہیں ہمارے پیارے محترم نبیﷺ کا مقام۔۔۔ اور اب ہم اپنے آپ کو دیکھ لیں کے ہم کیا کر رہے ہیں۔۔۔ ہمارے اعمال نامے اور کیا ہم سرکارﷺ کا سامنا کر سکیں گے جس وقت وہ ہمیں ہمارے گناہوں کے ساتھ دیکھیں گے۔۔۔

میرا یہ جدول بنا کر دکھانے کا مقصد ہی یہ مقام تھا۔۔۔ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے اور عمل کچھ بھی پلے نہیں ہیں۔۔خُدارا اپنے اعمال کو درست کر لیجیے تاکہ اُس دن ہم شرمندہ نہ ہوں۔۔۔

ولی ہر گزرتے دن کے ساتھ بوجھل ہوتا جا رہا تھا اور ہر کسی سے بات کرتے وہ بس اتنا کہتا تھا وقت تھوڑا رہ گیا ہے وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔۔۔

مومنہ: درودِ پاک کے ساتھ ساتھ اسمِ محمدﷺ کے نور میں بھی محو ہو چکی تھی، اور اُس کے قلب میں اسم اللہ کا نور روشن ہوچکا تھا۔۔۔اُسے ایسے لگتا تھا کہ جیسے اب اُسے زبان سے پڑھنے کی ضرورت نہیں درود بھی خود بخود رواں رہتا اور کلمہ بھی۔۔۔۔۔

ایک روز ولی کا فون آیا مومنہ کو۔۔۔

مومنہ: حیران ہوتے ہوئے کہ پہلی بار ولی نے کال کی ہے۔۔مومنہ نے کال اُٹھائی، السلام عليكم ورحمة الله

ولی: وعلیکم السلام ورحمة الله

مومنہ: آج میں حیران ہوں کہ خوشی مناؤں کے آج آپ نے مجھے کال کی۔۔

ولی: مسکرا دیا اور کہا کہ جو تمہارا دل چاہے۔۔

میں تو اس لیے کال کی کہ پوچھ لوں کہ کچھ اور بھی چاہیے مومنہ کو تو لے لے ہم سے۔ پھر پتہ نہیں کیا سے کیا ہو جائے۔۔۔

مومنہ: ساری مسکراہٹ چہرے سے اترتی ہوئی۔۔۔ کیا مطلب کیا ہو جائے؟

ولی: وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے اور میں چاہتا ہوں تُم پا لو جو پانا ہے۔۔۔۔اس لیے پوچھا جو چاہیے لے لو۔۔

مومنہ: ایک آنسو آنکھ سے نکلتا ہوا، آپ جانے والی بات کیوں کر رہے ہیں؟

ولی: ایک دن سب نے جانا ہے میں نے تم نے سب نے۔۔

مومنہ: یہ بات ہے تو میں ولی سے ولی کو ہی مانگتی ہوں،

ولی: ولی نے تو پہلے سے ہی خود کو تمہیں دے دیا ہے،

مومنہ: مجھے زندگی میں میرے ساتھ چاہیے۔۔۔

ولی: تھوڑی دیر خاموش رہ کر۔۔۔ ولی ایک روشن چراغ کی طرح ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا۔۔۔۔

مومنہ: روتے ہوئے ولی جانے والی باتیں مجھ سے نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ سے پہلے میری زندگی کی اخیر ہو جائے۔۔۔

ولی: نہیں تمہاری زندگی بہت لمبی ہے، تم جیو گی اور مُردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونکو گی۔۔

مومنہ: میں بہت بہت محبت کرتی ہوں آپ سے۔۔۔ آپ میرے محسن میرے سب کچھ ہیں۔۔۔

ولی: جو چراغ تمہارے دل میں جل رہا ہے وہ محبت اعلی ہے میں ادنٰی ہوں۔۔۔۔

مومنہ: رونا شروع کر دیتی ہے اور زارو قطار روئے جاتی ہے،

ولی کال بند کر دیتا ہے۔۔۔۔ اور اللہ کے حضور دعا گو ہو جاتا ہے اے میرے مالک تسکین اتار روتے ہوئے دلوں پر،

جاری ہے۔۔۔۔۔

 

Share this post


Link to post

چراغِ دل: پارٹ 16

لاسٹ پارٹ۔۔۔۔

مومنہ ولی سے بات ہونے کے بعد اپنی سُد بُدھ کھو بیٹھتی ہے اور وہ بس روئے جاتی ہے اتنا روتی ہے کہ اُس کے آنسوں گالوں سے ہوتے دامن پر گِر رہے ہیں۔۔۔

ولی کی دعا قبول ہوتی ہے اور نِدا اچانک آ جاتی ہے مومنہ کے پاس۔۔۔ ملازمہ نِدا کو بتا دیتی ہے کہ پتہ نہیں مومنہ کو کیا ہوگیا ہے روتی جارہی ہے بس۔۔۔۔

نِدا بھاگتی مومنہ کے روم میں جاتی ہے اور مومنہ کو سینے سے لگا لیتی ہے، مومنہ نِدا کو دیکھ کر زور سے سینے ساتھ لگ جاتی ہے اور بچوں کی طرح رونا شروع کر دیتی ہے،

نِدا: مومنہ تُجھے ہوا کیا ہے؟

مومنہ: وہ وہ ولی مجھے چھوڑ کر جا رہا ہے

نِدا: کہاں جا رہا ہے وہ اور کیوں جا رہا ہے؟ اور تم کیوں پریشان ہورہی ہو جب کے تم اُس سے محبت بھی نہیں کرتی ہو،

مومنہ: مجھے پہلے اتنی شدت سے احساس نہیں تھا محبت کا مگر اب جب اُس کے منہ سے سُنا کہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے تو میری جان نکل رہی ہے جیسے میرے پورے وجود میں ولی سرائیت کر چکا ہو۔۔۔

نِدا: مومنہ کو دلاسہ دیتے ہوئے میری بات سُن ابھی اُس نے بس بولا ہے نہ گیا تو نہیں اور کیا پتہ وہ بات کچھ اور ہو۔۔۔ تم ایسے ہی خود کو ہلکان کر رہی ہو،

مومنہ: نہیں ولی ہر بات رازداری میں اشاروں میں کرتا ہے۔۔۔

ورنہ وہ کبھی نہیں کرتا۔۔۔

نِدا کو ٹائم لگتا ہے مگر وہ سنبھال لیتی ہے مومنہ کو اور اُٹھا کر باہر لے آتی ہے۔۔۔

کچھ دن گزر جاتے ہیں مومنہ بالکل چُپ سی ہو جاتی ہے اور یہی دعا کرتی ہے کہ ولی کو کچھ بھی نہ ہو۔۔۔نِدا ہر پل مومنہ کے ساتھ رہتی ہے تاکہ مومنہ کو تنہائی کا احساس نہ ہو،

ولی اپنے دوست وقار کو بُلاتا ہے اور کہتا ہے میری بات غور سے سُنو،

ولی وقار کو اپنی تسبیح اور مصلہ دیتا ہے اور اپنے ہاتھ میں پہنی ہوئی سبز رنگ کی انگوٹھی اور کہتا ہے یہ میری وصیت ہے تم کو کہ میرے جانے کے بعد تم یہ چیزیں مومنہ کو دو گے۔۔۔

وقار: یار تم یہ کیسی بات کر رہے ہو، کچھ نہیں ہوگا تم کو، بالکل ٹھیک ہو تم۔۔۔

ولی: موت کا وقت مقرر ہے وہ نہیں ٹل سکتا نہ وہ دیکھتی ہے کہ جوان ہے کہ بوڑھا، بیمار ہے کہ تندرست بس وہ آ جاتی ہے۔۔۔ اور دعا کرنا کے اللہ مجھے سے راضی ہو جائے، مجھے معاف کر دے ۔۔

وقار: کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور وہ تینوں چیزیں لے لیتا ہے۔۔۔

ولی اُس کو نمبر بھی دے دیتا ہے۔۔ اس پر رابطہ کر لینا۔۔مگر تب جب میں نہ رہوں۔۔

وقار: ولی کے گلے لگتے ہوئے ٹھیک ہے۔۔۔

ولی جلدی جلدی اپنے ذمے لگے کام نمٹا رہا ہے لوگوں کا لین دین پوچھ کر ادا کر رہا ہے ہر ملتے ملاتے سے معافی مانگ رہا ہے۔۔۔

کوئی غم اندر ہی اندر ولی کو کھا رہا ہے ولی کسی پر آشکار نہیں کر رہا کہ اُسے کیا ہوا ہے کیا نہیں،

بس آج اُس نے سب کے حق ادا کیے اور معافی مانگی، گھر والوں کو بُلا کر نصیحت کی۔۔۔

ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے کیا میں کیا آپ لوگ، بس دنیا میں رہتے ہوئے اسی فکر میں رہو کہ اللہ راضی ہو جائے۔۔ کبھی دنیا کے پیچھے نہ بھاگنا وہ ہاتھ نہیں آئے گی۔۔۔ اللہ کو پانے کی طلب رکھنا، ہم سب نے اُسی کی طرف جانا ہے، وہ راضی تو سب راضی۔۔ وہ ناراض ہو گیا تو دنیا کی ساری دولت آپ کو نہیں بچا سکتی۔۔۔ مجھ پر اپنے حق معاف کیجیے گا میں سب پر اپنے حق معاف کرتا ہوں۔۔۔

عشاء کی نماز کے بعد ولی اللہ کی بارگاہ میں حمد و ثنا پیش کرتا ہے اور کہتا ہے اے میرے مالک آج مجھے خُود سے ملا دے، میرا دل تیرے فیراق میں جل رہا ہے یہ دوریاں ختم کر اور مجھے اپنا وصل عطا کر۔۔۔

میں گنہگار بندہ تیرا، تیرا حق ادا نہیں کر سکا اے پرور دگار مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔

یہ شب ولی کی زندگی کی آخری شب تھی۔۔۔ صبح وہ نہیں اُٹھا، ولی مر چکا تھا، سکون کی نیند مسکراتے چہرے کے ساتھ سو رہا تھا۔۔۔

تمام دوست احباب رشتے دار اکٹھے ہوگئے اور تدفین کر دی گئی۔۔۔

مومنہ: آخری شب سو رہی تھی، وہ ایک خواب دیکھتی ہے کہ ایک جماعت ہے بہت نورانی چہرے سفید لباس میں ملبوس اور وہ سب ایک طرف جارہے ہیں مومنہ اُن کے دیکھ رہی ہے جاتے ہوئے پھر دوسری طرف سے ایک شخص ظاہر ہوتا ہے جیسے ہی وہ سارے بزرگ جو جماعت کی شکل میں تھی اُس آتے ہوئے شخص سے ملتے ہیں تو باری باری سب گلے سے ملتے ہیں۔۔۔مومنہ غور سے دیکھتی ہے تو وہ ولی ہوتا ہے، ولی اُن کے ساتھ مل جاتا ہے اور ساتھ ہی چلنا شروع کر دیتا ہے۔۔۔

ولی مسکرا رہا ہے اچانک وہ پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہے جیسے مومنہ کو اُس نے دیکھ لیا ہو اور ہاتھ ہلا کر الوداع کر دیتا ہے مومنہ کو اور آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔۔

مومنہ: کی آنکھ کُھل جاتی ہے اُسے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کیا ماجرہ تھا۔۔ اُس کا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے اور آنکھیں بہنے کو تیار ہیں مگر بہہ نہیں رہیں۔۔ باقی ساری رات مومنہ کے لیے گزارنا مشکل ہو جاتی ہے۔۔ جیسے تیسے کر کے صبح ہوتی ہے مومنہ ولی کو کال ملاتی ہے،

مگر آگے سے کوئی نہیں اُٹھاتا۔۔۔مومنہ کا دل بیٹھ جاتا ہے،

وہ پھر کال ملاتی ہے تو ایک انجان آواز آتی ہے۔۔۔

مومنہ: السلام عليكم ورحمة الله

وعلیکم السلام ورحمة الله

جی فرمائیے۔۔

مومنہ: جی ولی موجود ہے،

آگے سے جواب آتا ہے جی جس ولی کو آپ نے فون کیا ہے گزشتہ شب وہ وفات پا گئے ہیں۔۔۔

مومنہ: بس اتنا سننا تھا کہ اُس کے ہاتھ سے موبائل گِر جاتا ہے، اور وہ وہیں دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بے سُدھ ہو کر پڑی رہتی ہے۔۔نا روئی نا آنکھ سے آنسو بہا، جیسے سارے آنسوں وجود میں ہی کہیں خشک ہوگئے جیسے آواز حلق میں اٹک کر رہ گئی۔۔

پھر پتہ نہیں کیا اُس کو خیال آیا وہ اُٹھی اور بھاگی اُس پھول کر طرف جو اُس نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا، جیسے ہی اُس نے جار کو کھولا تو پھول کی جگہ ایک چراغ روشن تھا جس میں سے ہلکی ہلکی خوشبو آرہی تھی۔۔۔

مومنہ جار کو سامنے رکھ کر بیٹھ گئی اور چراغ کو دیکھتی جارہی ہے۔۔۔۔

پھر اُسے خیال آتا ہے کہ ولی نہ کہا تھا یہ میرا راز ہے تمہارے پاس وقت آنے پر کھل جائے گا۔۔ اور ولی نے کہا تھا کہ میں چراغ بن کر تمہارے ساتھ رہوں گا۔۔۔

مومنہ کے جذبات اُمڈنے شروع ہوگئے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہوگئی،

وہ رو رہی تھی مگر شور نہیں تھا خاموش تھی، بس آنکھیں رواں تھی لب خاموش تھے۔۔۔

یا شاید وہ پہلے سے تیار تھی اس حادثے کے لیے۔۔۔ وہ زیادہ روئی نہیں، اُس نے چراغ کو پکڑا اور کمرے میں ایک ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔

وہ خود کو سنبھال رہی تھی،

اتنے میں نِدا روم میں آئی آگے دیکھا مومنہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی ہے ایک جار زمیں پر کُھلا پڑا ہوا ہے اور کچھ دور ٹیبل پر ایک چراغ روشن ہے۔۔۔

نِدا: مومنہ یہ سب کیا ہے؟ یہ جار وہی نہیں جس میں پھول رکھا تھا؟

مومنہ: چراغ کی طرف دیکھتی ہوئی وہ چراغ وہی پھول ہی تو ہے۔۔۔

نِدا: چراغ کے پاس جا کر یہ کیسا مذاق ہے، یہ کیسے ممکن ہے؟

مومنہ: ولی مر گیا ہے یہی اُس کا راز تھا پھول میں چراغ بن کر میرےپاس روشن رہے گا۔۔

نِدا: مومنہ کے پاس بیٹھتے ہوئے۔۔۔سچ میں؟

مومنہ: ہاں

ندا مومنہ کو سینے سے لگا لیتی ہے اور دلاسہ اور ہمت دیتی ہے۔۔

کچھ دن گزرے تو مومنہ کے نمبر پر ایک کال آئی، یہ وقار تھا۔۔ وقار اپنا تعارف کرواتا ہے تو مومنہ کو یاد آ جاتا ہے،

وقار مومنہ سے کہتا ہے کہ اُس کی کچھ امانتیں ہیں اُس کے پاس جو وہ دینا چاہتا ہے، مومنہ کہتی ہے کس نے دی۔۔ وقار کہتا ہے ولی نے۔۔ تو مومنہ کہتی ہے ٹھیک ہے میں آنا چاہتی ہوں وہاں۔۔۔ولی کی قبر بھی دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ وقار ایڈریس دے دیتا ہے۔۔

دوسرے دن مومنہ اور نِدا طویل سفر طے کر کے پہنچتے ہیں وقار اُن کو سیدھا قبرسان بُلا لیتا ہے۔۔

مومنہ: ولی کی قبر پر جاتی ہے اور قریب جا کر بیٹھ جاتی ہے، گلے شکوے کرتی ہے ولی سے۔۔۔ جی بھر کر روتی ہے، آج نِدا بھی پاس نہیں گئی کہ رو لینے دو آج مومنہ کو۔۔ رو لے گی تو بہتر رہے گا۔۔۔۔

مومنہ کچھ دیر بیٹھی رہتی ہے اور پھر واپس گاڑی کے پاس آکر نِدا سے کہتی ہے کہ چلو چلیں:

وقار: وہ آپ کی جو امانت میرے پاس ہے وہ لیتے جائیے۔۔

مومنہ: کیا ہیں وہ امانتیں؟

وقار: ولی کی تسبیح، ولی کی انگوٹھی، ولی کا مصلہ۔۔

مومنہ: کی آنکھیں نم ہوگئیں اور کہا میں اس قابل نہیں تھی۔۔۔

وقار ولی کی دی ہوئی چیزیں مومنہ کو دیتا ہے،

وقار مومنہ سے کہتا ہے دراصل حقیقت میں آپ ہی مستحق دی ان چیزوں کی۔۔۔

ولی نے اپنے آپ کو آپ کو سونپ دیا اتنی محبت کرتا تھا وہ آپ سے۔۔۔

کہتا تھا مومنہ بہت اچھی لڑکی ہے بیشک اس کی تعلیم اور پرورش باہر ہوئی، لیکن اُس کا دل خالص ہے اُس میں ملاوٹ نہیں ہوسکی،

مومنہ: کیا ولی مجھ سے محبت کرتا تھا؟

وقار: جی ولی کو آپ سے بہت محبت تھی، کہتا تھا میری دعا ہے کہ مومنہ حقیقت کو پا لے کیونکہ مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے مومنہ کی تڑپ دیکھ کر۔۔۔

مومنہ: مگر اُس نے تو کبھی اظہار نہیں کیا تھا۔۔

وقار: اِسی لیےکہ کہیں آپ اپنے اصل سے پیچھے نہ ہٹ جائیں۔۔۔۔

مومنہ وقار کی دی چیزیں لیکر واپس گھر آ جاتی ہے۔۔۔ اب وہ ایک کمرے کا الگ سے اہتمام کرتی ہے، اس میں چراغ رکھ دیتی ہے اور مصلہ انگوٹھی وہ سائز سیٹ کروا کر خود پہن لیتی ہے اور تسبیح اُس کے پاس رہتی ہے ہر پل۔۔۔

عبادت کے لیے وہ اس کمرے کو مُختص کر دیتی ہے۔۔۔جہاں وہ عبادت و ریاضت کرتی اور ولی سے اپنے دل کی باتیں کرتی رہتی۔۔۔

آج ولی کو گئے 3 سال ہوچکے ہیں، مومنہ وہی تنہا زندگی گزار رہی ہے نِدا کی شادی ہو گئی اور فرحان آج بھی مومنہ کے انتظار میں ہے کہ کب وہ شادی کے لیے رضا مند ہوگی۔۔

مومنہ کے مام ڈیڈ بھی اپنی بیٹی کی محبت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاکستان آ چکے ہیں۔۔۔

مومنہ ذکر و فکر میں اکثر محو رہنے لگی تھی۔۔ اُس کے والدین بھی دنیاوی بھاگ دوڑ کو خیر باد کہہ چکے تھے اور باقی ماندہ زندگی عبادت میں گزارنا چاہتے تھے۔۔

ایک شب مومنہ کی خواب میں ولی آیا۔۔

ولی کو دیکھ کر مومنہ بے اختیار ہو گئی اور ولی کے ساتھ لپٹ گئی، ولی نے مومنہ کو سامنے کھڑا کیا اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُس کو مصلے پر بیٹھا دیا۔۔۔ اور خود تھوڑا فاصلے پر بییٹھ گیا۔۔

مومنہ: آپ مجھے چھوڑ کر کیوں گئے۔۔

ولی: میں آنکھوں سے اوجھل ہوا ہوں حقیقت میں تو میں آج بھی روشن ہوں تمہارے دل میں۔۔ تم محسوس نہیں کرتی کیا۔۔

مومنہ: ہاں کرتی ہوں اورڈھیروں باتیں بھی کرتی ہوں پھر،

ولی: مومنہ میرا مقصد تمہارے دل میں محبت کا چراغ روشن کرنا تھا، محبتِ حقیقی کا چراغ، اور دیکھو آج یہ چراغ روشن ہے تو اللہ کی محبت پا چکی ہو، یہی کامیابی ہے باقی سب ناکامیاں ہیں۔۔۔ تم دعا مانگو قبول ہوگی، اللہ نے تمہاری زبان میں برکت اور تاثیر رکھ دی، اب بیٹھ کر لوگوں کے لیے ہدایت اور بخشش مانگا کرو اپنے رب سے،

میں قریب ہی ہوں تمہارے اُس جلتے ہوئے چراغ کی مانند۔۔۔ کہ تمہاری عقیدت ہی چراغ کو روشن رکھے گی۔۔۔

اور میری ایک بات مان لو۔۔۔شادی کر لو۔۔۔ فرحان بہت اچھا لڑکا ہے، اپنی نسل کو آگے بڑھاؤ اللہ برکت عطا کرے گا۔۔۔

مومنہ: کیسے کر سکتی ہوں شادی، ایک محبت کو دل میں چُھپا کر؟

ولی: وہ محبت حقیقت بن چکی، ابھی دنیا کی محبت کو پانا ہے تم نے،۔۔۔

مومنہ اتنے عرصہ کے بعد ولی کو دوبارہ دیکھا خواب میں، اُس نے ولی کا کہا مان لیا اور فرحان سے شادی کے لیے حامی بھر لی،

مومنہ کی ولی کے ساتھ محبت کے دو ہی ہمراز تھے ایک نِدا اور ایک ولی خود۔۔۔ فرحان لا علم تھا اور کبھی کسی نے بتایا بھی نہیں۔۔۔

مومنہ اپنے محبوبِ حقیقی کو پا چکی تھی، اُس کے سینے میں روشن نور ایک چراغ کی مِثل تھا جس سے محبت کی کرنیں نمودار ہوتی تھی کہ کائنات محبت کا محور ہے اور ساری کائنات اُس میں گردش کر رہی ہے۔۔۔۔۔

اختتام پذیر۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر کہ دیوانہ شــــــود با ذکر حق

زیر پالش عرس و کرسی ہر طبق

جو کوئی حق تعالی کے ذکر میں دیوانہ ہو جاتا ہے۔۔۔

تمام طبقات، عرش اور کرسی اس کے قدموں کے نیچے آ جاتے ہیں۔۔۔

پسند کرنے والوں کا شکریہ، اور اگر کسی کو میری لکھی کسی بات سے ایذا پہنچی ہو تو معذرت۔۔۔

اپنے دلوں میں محبت کے عقیدت کے چراغ روشن کریں اور ذکرِ خُدا میں محو ہو جائیں۔۔۔ کہ یہی اصل ہے مل جائے تو اَمن پا جائے۔۔۔۔

جزاک اللہ خیرا۔۔۔

Share this post


Link to post

 

کیا بات ھے اس قسم کی پیج  پر ایسی کھانی سچی ھے یا افسانہ لیکن کمال کر دیا دل کی تاروں کو چھیڑ دیااَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

Share this post


Link to post

اللہ پاک تمام مسلمہ امہ کو اپنی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status