Jump to content
URDU FUN CLUB

Shazia Ali

Active Members
  • Content Count

    239
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    12

Shazia Ali last won the day on June 2

Shazia Ali had the most liked content!

Community Reputation

316

Recent Profile Visitors

3,723 profile views
  1. آپ سب دوستوں کے خوبصورت ، دلچسپ اور شریر تبصروں کو پڑھ کر بے ساختہ کھلکھلا کر ہنس پڑتی ہوں اور پڑھائی کی ساری تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے . لیکن ابھی کورسز جاری ہیں اس لیے پڑھائی بھی . جیسے ہی فارغ ہوئی پڑھائی سے تو خود ہی کچے دھاگے سے بندھی آؤں گی آپ سب دوستوں کو بار بار دینے اپڈیٹ تب تک آپ سب دوست دل پر قابو رکھیں اور ہاتھ میں پکڑے رکھیں اپنا فون اور آپ دوست یہ بھی سوچ لیں کہ ہفتے میں کتنی بار آپ کو دوں گی تو آپ کے دل کو قرار آئیگا کہانیوں کی اپڈیٹ ہی ہی ہی خوش رہیں
  2. جی آپ کا شکوہ سر آنکھوں پر . میں نے اپنی دوسری کہانی میں اپنی غیر حاضری کی وضاحت بھی کی ہے . یہاں بھی کیئے دیتی ہوں . دراصل میں آج کل کچھ کورسز اور امتحانات کی تیاری میں مصروف ہوں . مزید کچھ ہفتے بھی مصروف رہوں گی . امتحانات سے فارغ ہوتے ہی ایک بار پھر سے دونوں کہانیاں بھی آگے بڑھانا شروع کرونگی اور تمام دوستوں کے میسجز کے جوابات بھی دوں گی . سب دوست مل کر ایک بار پھر سے دھمال ڈالیں گے . ہی ہی ہی
  3. آپ تمام دوستوں کی محبّتوں اور خوبصورت تبصروں کی بہت شکر گزار ہوں . میں آج کل کچھ امتحانات دینے میں مصروف ہوں . جس وجہ سے آپ سے باتیں کرنے کا وقت نہیں نکال پاتی . میں تمام دوستوں سے دل کی اتھاہ گہرایوں سے معذرت خواہ ہوں . کچھ ہفتوں کی بات اور ہے اور ہم ایک بار پھر سے گپ شپ بھی لگائیں گے اور میں کوشش کروں گی کہ دونوں کہانیوں کو بھی ایک ساتھ آگے بڑھا سکوں بہت شکریہ آپ سب کی شازی
  4. ہی ہی ہی بہت شرارتی ہیں جی آپ تو چلیں جی ا ب جب کبھی بھی لگا کہ گندی ہو رہی ہے میری . تو آپ کا بتا دونگی . جلدی سے آ کر میری اچھی طرح سے صاف کر دیجیئے گا میری سوچ ہی ہی ہی
  5. ہی ہی ہی بہت شکریہ جی جب آپ اتنی تعریف کرتے ہیں جب بھی میں آپ کو دیتی ہوں اور پھر بار بار مانگتے ہیں کہ آپ دوستوں کو دوں . تو مجھے بھی بہت مزہ آتا ہے اور بہت اچھا لگتا ہے کہ روزانہ ہی آپ دوستوں کو دوں اور دیتی ہی رہوں اپڈیٹ ہی ہی ہی . خوش رہیں جی
  6. بہت شکریہ اویس صاحب !! آپ کی اس کہانی کی اتنے خوبصورت انداز میں تعریف کا بہت شکریہ . آج ہی یہ کہانی اپنے انجام تک پہنچی ہے . اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے گا
  7. اصل کہانی کی آخری اپڈیٹ ہمایہ نام دوبارہ سن کر چونک پڑی ۔۔۔ اسکا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور وہ ہکا بکا نیلو فر کی طرف دیکھنے لگی ۔۔ ڈکٹر ہماء نے خود کو سنبھالتے ہوے نیلو فر کو حوصلہ دیا اور کہا کہ وہ فکر نہ کرے۔ جلد ہی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر ڈکٹر ہماء نے نیلوفر کو کچھ میڈیسنز بھی لکھ کر دیں ۔۔۔ اور نیلوفر اپنے گھر چلی گئی۔۔۔ نیلو فر کے جانے کے بعد ۔۔ ڈکٹر ہماء ان سب باتوں کے بارے میں سوچنے گی۔۔۔ اسے محسوس ہو رہاتھا کہ یہ سب اب کچھ زیادہ ہی ہوتا جارہا ہے۔۔۔ اور بات کافی بڑھتی جارہی ہے۔ اس کا دھیان بار بار پارلر اور سیٹھ وکرم کے آپس میں ممکنہ تعلق کی طرف جارہاتھا۔ وہ اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ آخر اس پارلر کا اور و کرم کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ اچانک اس کے دماغ میں ایک خیال کو ندا۔۔۔ اس نے جو نام و کرم کے گھر کے باہر اس کی تختی پر لکھا دیکھا تھا۔ اور جو نیلو فر نے بھی بتایا تھا۔ وہ اس کے دماغ میں گھومنے لگااور وہ اچانک چونک پڑی۔۔۔ یعنی کہ وی-آئی-پی کا مطلب ۔۔۔ و کرم ۔۔ آئی۔۔ پر ساد۔۔۔۔ ہوا۔۔۔ اوہ - ۔۔۔۔۔ تو VIP ۔۔۔ اس سب کا آپس میں تعلق اب اسکے سامنے واضح ہو چکا تھا ۔۔۔ اس نے اپنافون اٹھایا۔ اور اپنے باس کو فون کر کے ان سے ملنے کا وقت مانگا۔۔ تھوڑی دیر کے بعد ہما اپنے ہاسپٹل کے مالک۔ کمال صاحب کے شاندار ڈرائینگ روم میں بیٹھی ہوئی تھی ۔ چائے پیتے ہوئےڈکٹر ہماء کمال صاحب کو اپنی ہاسپٹل کی کار کردگی کے بارے میں بتارہی تھی۔ کمال صاحب 55 سال کے آدمی تھے۔ جن کا یہ ہاسپٹل تھا۔۔ اچھے بزنس مین تھے۔ کبھی کوئی غلط کام 408 | Page نہیں کیا تھا۔ ڈکٹر ہماء سے بولے کمال۔۔ یہ سب تو ہاسپٹل کے بارے میں ہو گیا۔ اور جو خاص کام میں نے آپ کو کرنے کا کہا تھا اس کے بارے میں کیا پر اگریس ہے ۔ ڈکٹر ہماء ۔۔ ڈکٹر ہماء نے چائے کا ایک گھونٹ بھرا ۔ اور اپنی نظریں جھکاتی ہوئی بولی۔۔ بہت مشکل کام بتایا تھا سر آپ نے مجھے. جس کے لیے میرا سب کچھ داؤ پر لگ گیا ہوا ہے۔ کمال صاحب مسکرائے ۔۔ اور پھر انعام بھی تو آپ کو ایک کروڑ کا دے رہا ہوں نا۔۔ ویسے آپ فکر نہیں کرو ۔۔ آپ کو کچھ نقصان نہیں ہو گا۔ اور کہیں بھی آپ کا نام نہیں آئے گا۔۔ ڈکٹر ہماء کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ مسکرادی۔ پھر کمال صاحب کو ان سب باتوں کے بارے میں بتانے گی ۔۔ جو کہ نیلو فر نے اسکو بتائی تھیں ۔۔ کیونکہ اس سے پہلے کی سب باتیں تو وہ پہلے ہی کمال صاحب کو بتاچکی ہوئی تھی ۔ اور ان کی ہدایات کے مطابق ہی چل رہی تھی ۔۔۔۔ دونوں باتیں کر رہے تھے کہ نو کرنے آکر بتایا کہ ایس پی چیمہ صاحب آئے ہیں۔ کمال نے انکو اندرآنے کو کہا۔ ایس پی کا نام سن کر ہی گھبرا گئی کمال ۔۔ ارے ڈکٹر ہماء ۔ آپ کیوں گھبرارہی ہیں۔ آپ ریلیکس ہوں ۔۔ وہ ایس پی آپ کو کچھ نہیں کہے گا۔۔ 409 | Page اتنے میں پولیس کی وردی میں ملبوس ایک وجیہ نوجوان اندر داخل ہوا۔ پولیس کی وردی میں چیمہ صاحب بہت شاندار لگ رہے تھے۔ ہما اس کی پرسنیلٹی دیکھ کر بہت مرعوب ہو گئی اور اسے دیکھتے ہی رہ گئی ۔۔ اس کا قد بھی لمبا تھا۔۔ رنگ گورا۔ مضبو ط کسرتی جسم اور چہرے پر متانت اور رعب داب ۔۔ ہما اس سے بہت متاثر ہوئی۔۔ کمال۔۔ آئیں۔۔ آئیں چیمہ صاحب ہم اسی کیس کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ آپ کا شک بلکل ٹھیک تھا۔ یہ ڈکٹر ہماء ہیں۔ میرے ہاسپٹل میں ہی جاب کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنی جان پر کھیل کر ان لوگوں کے بارے میں معلومات اکھٹی کی ہیں۔ جو آپ کے بہت کام آئیں گی۔ چیمہ صاحب ۔۔ کمال صاحب یہ سب باتیں تو ہمیں پہلے سے ہی معلوم تھیں کہ یہ ایک بہت ہی منظم ریکٹ ہے جو آپ کے ہاسپٹل کی آڑ میں منشیات اور عورتوں کو بلیک میل کرنے کا کام کر رہا ہے۔ بہت کی شکایات تھیں ہمارے پاس۔۔ اورہم پر بہت زیادہ دباؤ بھی تھا آپ کو گرفتار کرنے کا۔ مگر آپ چونکہ ایک معزز شخصیت ہیں۔ اس لیے میں نے آپ سے تمام صورتحال کو ڈسکس کیا۔ اور جیسے کہ میرا اندازہ تھا۔ آپ کو اس بارے میں کچھ بھی علم نہیں تھا۔ اس لیے ہم نے سب خفیہ تحقیات کیں۔ آپ کی معلومات کی روشنی میں ۔۔ کمال۔۔ مجھے تمام معلومات ڈاکٹر ہی مہیا کرتی رہی ہیں۔ جو جو۔۔ جیسے جیسے انکوملتی رہی ہیں۔ چیمہ صاحب ۔۔ شکر یہ ڈکٹر ہماء ۔۔ آپ کے مہیا کیے گئے فون نمبر ز اور ایڈریسر کے ذریعے بہت سے 410 | Page لوگوں کے بارے میں معلومات ملی ہیں۔ بلکہ انکا پورا گر وہ ہی ٹریس آؤٹ ہو گیا ہے۔ ڈکٹر ہماء ۔ اور اس سب پر فائنل کارروائی کب ہوگی۔ چیمہ ۔۔ آج۔۔ آج کا دن فائنل ہو چکا ہے۔ ان سب کے گرد گھیراتنگ کر دیا گیا ہے۔ آپ کے ہسپتال سے آپکے ڈاکٹر زمان ، نرس زیب اور رشید اس کام میں ملوث ہیں۔ جبکہ و کرم سیٹھ انکا سرغنہ ہے ۔۔ اور یہ لوگ ہاسپٹل میں آنے والی لڑکیوں اور عورتوں کو اپنے چنگل میں پھنسا کر انکی غیر اخلاقی ویڈیوز بنا لیتے ہیں اور پھر انکو بلیک میل کرتے ہیں اور ان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ انکی بات مانتے ہوئے جسم فروشی کا دھندہ کریں ۔۔۔۔ اس ہاسپٹل میں آنے والے لوگ چونکہ سب اچھے گھروں کے ہوتے ہیں تو وہ عورتیں اپنی عزت کو بچانے کے لیے انکی بات مانتی رہتی ہیں۔ اور تو اور یہ لوگ مردوں کو بھی بہلا پھسلا کر اپنے جال میں پھنساتے ہیں ۔۔ اور پھر ان سے پیسے بٹورتے رہتے ہیں ۔۔ اور کافی جوان اور خوبصورت لڑکیوں اور عورتوں کو یہ لوگ گھروں سے بھگا کر دوسرے ملک بھی لے جا چکے ہیں۔ڈکٹر ہماء نے اپنا سر پکڑ لیا۔۔ وہ بھی تو اس جال میں پھنس سکتی تھی ڈکٹر ہماء ۔۔ اف اس قدر گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا تھا ۔۔۔ چیمہ ۔۔ یہی نہیں بلکہ یہ لوگ آپکے ہاسپٹل کی بیسمنٹ کو منشیات رکھنے اور یہاں سے سپلائی کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔ لیکن اب ان کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔۔ آج شام تک یہ سب لوگ گر فتار ہو جائیں گے ۔۔ آپ بے فکر رہیں ۔۔ 411 | Page کمال۔۔۔ لیکن چیمہ صاحب ۔۔ یہ خیال رکھیئے گا کہ گرفتاریاں میرے ہاسپٹل سے نہ ہوں۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا کہ میرے ہاسپٹل کی عزت کا معاملہ ہے نا۔۔ چیمہ ۔۔ جی ۔۔جی ۔۔ بلکل ایسا ہی ہو گا۔ بس ابھی کچھ دیر تک ہمارا آپریشن شروع ہو جائے گا۔ اور سب لوگوں کو ایک ساتھ ہی گرفتار کیا جائے گا۔ کیوں کہ سب کے ایڈریس اور نمبرزسے انکوٹریس کر لیا گیا ہے کمال ۔ بہت اچھے جی اور آپ کا بہت شکریہ ڈکٹر ہماء چیمہ اور کمال صاحب کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔ لیکن پلیز۔۔۔ سر میرا نام نہیں آنا چاہیئے ۔ چیمہ ۔۔ آپ فکر نہ کریں ڈاکٹر صاحب ۔۔ آپ کا نام بلکل نہیں آئے گا اس سب میں ۔۔ یہ میری آپ کو گارنٹی ہے۔ یہ میر اوز ٹینگ کارڈ ہے۔ کبھی بھی آپ کو کوئی پریشانی ہو تو آپ مجھے کال کر سکتی ہیں ۔۔ ایس پی چیمہ نے اسے اپناکارڈ دے دیا۔ کمال۔۔ ہاں ہاں۔۔ بالکل۔۔ ڈکٹر ہماء اب مطمئن ہو گئی ۔ تھوڑی دیر تک کچھ اور باتیں ہوتی ر ہیں اور پھر چیمہ صاحب وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ اور 412 | Page کچھ دیر بعد ڈکٹر ہماء بھی اپنے گھر واپس آگئی۔۔ شام کی بریکنگ نیوز میں ڈا کٹر ہماء نے سنا کہ پورے کا پورا گینگ پکڑا گیا ہے جو کہ عورتوں کو بلیک میل کیا کرتا تھا۔۔ اور منشیات بھی بیچا کرتے تھے۔ انکے قبضے سے بہت ساری لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز ملی ہیں۔۔ جو انہوں نے انکو بلیک میل کرنے کے لیے بنائی ہوئی تھیں ۔۔۔۔ اب اسکو اپنی بھی تھوڑی فکر ہورہی تھی۔ اسکو پتہ تھا کہ زمان اور رشید کے پاس اس کے سیکس کی بہت ساری ویڈیوز موجود ہیں۔ جو کہ اب پولیس کے پاس ہوں گی۔ ڈا کٹر ہماء کو گھبراہٹ ہونے لگی۔ہماء نے اپنا بیگ اٹھایا۔ اور اس میں سے کچھ ڈھونڈنے گی۔ پھر اس کو ایس پی چیمہ صاحب کا وزیٹنگ کارڈ مل گیا۔ ڈا کٹر ہماء نے اس پر درج نمبر ملایا۔ بیل جاتی رہی مگر کال اٹینڈ نہیں ہوئی۔ ہماء نے اپنے نام کے ساتھ ایک پیغام چھوڑ دیا۔ قریب ایک گھنٹے کے بعد ہما کو چیمہ صاحب کی کال آئی۔۔ چیمہ ۔۔ سوری ڈاکٹر صاحبہ ۔ میں اسی کیس کے سلسلے میں مصروف تھا۔ اس لیے بات نہیں کر سکا اس وقت ۔۔بتائیں میں آپکی کیا مدد کر سکتا ہوں ۔ ڈا کٹر ہماء۔ سر۔ و و و و دو ۔۔۔ میں آپ سے ملنا چاہتی تھی۔ کچھ بات کرنا تھی میں نے ضروری۔۔ چیمہ ۔ ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحبہ ۔ اس وقت تو آپ جانتی ہی ہیں میں بہت مصروف ہوں ۔ کل 10 بجے صبح آپ میرے آفس آجائیں ۔ ڈا کٹر ہماءنے اوکے کہہ کر فون بند کر دیا۔ کچھ ہی دیر کے بعد یاسر کا فون آ گیا۔ اس نے بھی ڈاکٹر ہماء کو ڈاکٹر زمان اور ڈاکٹر فرخ کے 413 | Page پکڑے جانے کے بارے میں بتایا۔ توہماء نے اس کو بتایا کہ یہی وجہ تھی کہ وہ ان کے ساتھ تھی۔ اسی مجبوری کی وجہ سے۔ اور اب خدا کا شکر ہے کہ وہ سب پکڑے گئے ہیں ۔۔ یاسر ہنسا۔۔ پر بھابی جی ۔۔ یہ سب کچھ ختم ہونے کے بعد ہمارا چانس ختم نہ کر دینا ۔ ہم تو اب ہمیشہ ہی آپ سے تعلق بنا کے رکھنا چاہتے ہیں۔ ڈا کٹر ہماء ہنستے ہوے بولی ، اچھا جی ۔ منہ دھوکے رکھیں۔ اب آپ کو کچھ نہیں ملنے والا۔ جوبھی ملنا تھا وہ آپ کو مل چکا ۔ اور اب رات گئی ۔ بات گئی۔۔ہا ہا ہا ہا ہا ۔۔۔ یاسر ۔۔ نہیں۔ نہیں ۔۔ بھابی جی ۔۔۔ پلیززززز ایسا ظلم نہیں کریں۔ ہم تو آپکے ساتھ ایسی راتیں بار بار گزارنا چاہتے ہیں ۔۔۔ ڈا کٹر ہماء ایک بار پھر ہنسی اور بولی ۔۔۔ اچھاجی ۔ تو آپ کی وائف کا کیا ہو گا۔۔؟؟؟ یاسر ۔۔ ارے وہ اپنی جگہ ۔ اور آپ کے ساتھ توبس کبھی کبھی موقع ملنا چاہیئے ۔ ڈا کٹر ہماء ۔۔ واہ جی واہ۔۔۔ تو آپ مجھے پارٹ ٹائم استعمال میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے مزے کے لیے۔ وہ کیا کہتے ہیں۔۔ ہاں ۔۔اپنی داشتہ بنا کے ۔۔۔ 414 | Page یاسر ۔۔ توبہ توبہ بھابی جی ۔ آپ کو ہم کیوں اپنی ر کھیل بنانے لگے۔ آپ تو ہمارے دل کی رانی ہیں ۔ ڈا کٹر ہماء۔۔ دل کی یا ۔۔۔۔۔۔ لنڈ کی۔۔ یاسر ۔۔ جس کی بھی آپ بنناچاہیں۔۔۔ تو پھر میں امید رکھوں کہ ہماری ملاقاتیں آنے والے دنوں میں بھی جاری رہیں گی ۔۔۔ ہما۔ چلیں سوچیں گے آپ کے بارے میں بھی کچھ ۔۔۔ اور پھر کچھ دیر تک ایسی ہی بات چیت کے بعد فون بند ہو گیا۔ کچھ دیر کے لیے انور سے بھی بات ہوئی۔ وہ بھی کافی پریشان تھا۔ مگر اس نے ہماء کو اپنے اور زیب کے سیکس کے بارے میں اب بھی کچھ نہیں بتایا۔ مگر زیب تو خود ڈا کٹر ہماء کو سب کچھ بتا چکی تھی۔ اس لیے اسکو پتہ تھاکہ انور کیوں پریشان ہے۔ ڈا کٹر ہماء نے انور سے زیب کے بارے میں کوئی بات نا کرتے ہوے اس کو تسلی دی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اگلی صبح 10 بجے سے پہلے ہی ڈا کٹر ہماء، ایس پی چیمہ کے دفتر کے باہر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔ 10 تک انکی ایک میٹنگ ختم ہوئی تو چیمہ نے اسے اندر بلا لیا۔ ہماء اندر جا کر چیمہ صاحب کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔۔ چیمہ ۔۔ ڈاکٹر صاحبہ پہلے تو یہ بتائیں کہ کیا لیں گی؟چائے یا کافی ۔۔ ڈا کٹر ہماء۔ نہیں نہیں سر۔۔ کچھ نہیں۔ بس چھوٹا سا کام تھا آپ سے۔۔ چیمہ نے پھر بھی کافی کا آرڈر کیا۔ اور بولا۔۔ 415 | Page چیمہ۔ جی ڈاکٹر صاحبہ اب بتائیں آپ کس سلسلے میں مجھےملنا چاہ رہی تھیں ۔۔ ہما۔۔۔ سر ر۔۔ وہ مجھے آپ سے کہنا تھاکہ میرا اس کیس میں نام نہیں آنا چاہیے۔۔۔ چیمہ صاحب مسکرائے ۔۔ ڈاکٹر صاحبہ آپ کیوں فکر کر رہی ہیں۔ یہ تو میں نے آپ سے کل ہی وعدہ کر لیا تھا ۔۔ آپ پریشان نہ ہوں آپ کا نام نہیں آئے گا۔ آپ نے تو ہمارے لیے اتنا بڑا کام کیا ہے۔ ہماری اتنی مدد کی ہے آپ نے۔۔ ڈا کٹر ہماء اب بھی بات کرتے ہوئے تھوڑا ہچکچا سی رہی تھی ۔ اور شرمارہی تھی۔ سر ر ر ر۔۔ وہ میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ۔۔۔۔ دراصل۔۔۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے پہلے سے۔۔ وہ ۔۔۔ ان لوگوں کے پاس میری بھی کچھ ویڈیوز تھیں ۔۔ تو۔۔۔ پلیززززز۔۔۔ وہ سامنے نہیں آنی چاہیں۔ کسی بھی ریکارڈ میں ۔۔ پلیز انکو ضائع کردیں چیمہ صاحب مسکرائے۔ اپنی ریوالونگ چیئر سے ٹیک لگا کر پیچھے کو جاتے ہوئے بولے۔۔۔ ہاں ۔ ڈاکٹر صاحب۔وہ تو میں نے بھی ویڈیوز دیکھی ہیں آپ کی۔۔۔ چیمہ صاحب کی مسکراہٹ بڑی ہی معنی خیز تھی ۔۔۔ لیکن ان ویڈیوز کو دیکھنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں انکو ضائع نہیں کروں گا۔ بلکہ اپنے پاس ہی محفوظ رکھوں گا۔۔ 416 | Page ڈا کٹر ہماءشرمندہ سی ہو گئی اور کھسیاتی ہوئی بولی ۔ نہیں۔ نہیں۔ سر۔۔۔ پلیز۔۔۔آپ بھلا ایسا کیوں کریں گے ۔۔۔ پلیزززز ---- چیمہ ۔۔ اصل بات یہ ہے کہ مجھے ان ویڈیوز نے بہت متاثر کیا ہے ۔۔۔ خاص کر۔۔ آپ کی پرفارمنس نے ۔ اور ان میں تو آپ بناکسی لباس کے ہیں ناں ۔۔۔ سوری اگر آپ کو میری بات بری لگ رہی ہو تو۔۔ ڈا کٹر ہماء۔ سر پلیز ۔۔ وہ ویڈیوز مجھے دے دیں۔ یا ان کو ضائع کر دیں۔ وہ میرے لیے۔ اور میری شادی شدہ اور آئندہ آنے والی زندگی کے لیے بہت ہی خطرناک نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر میرے شوہر نے وہ دیکھ لیں تو۔ پلیزززز --- چیمہ ۔۔ ارے اس بات کے لیے آپ بے فکر رہیں . وہ آپ کے شوہر تک کبھی نہیں پہنچیں گی ۔۔۔ ڈا کٹر ہماء۔ لیکن پلیز سر آپ وہ مجھے دے دیں۔۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ اور ایک اہلکار کافی لے کر اندر آیا۔۔ اور ٹیبل پر رکھ کر واپس چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد چیمہ نے دوبارہ سے بات شروع کیا۔۔ چیمہ صاحب مسکرائے۔ دیکھیں ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ پولیس والے بہت بد نام ہیں کہ وہ کوئی بھی کام بلا معاوضہ نہیں کرتے۔۔۔ تووو ووو۔۔۔۔۔۔۔ آپ سمجھ رہی ہیں ناں میری بات؟ 417|Page ڈا کٹر ہماء تھوڑا زبردستی مسکرائی ۔۔۔ سر۔۔۔ عجیب بات ہے کہ آپ اس طرح کھلم کھلا ر شوت مانگ رہے ہیں۔۔۔ چیمہ ۔۔ہا ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ارے ڈاکٹر صاحبہ آپ چیز بھی تو اتنی قیمتی مانگ رہی ہیں مجھ سے تو اس کی قیمت بھی تو آپ کو ہی ادا کرنی پڑے گی ناں ۔۔۔ ڈاکٹر ہماء مسکرائی۔۔ اچھا جی تو بولیں۔کیا چاہئے آپ کو مجھ سے ، کتنے پیسے؟۔۔۔ چیمہ۔۔ ارے ارے نہیں ڈاکٹر صاحبہ ۔۔ پیسے ویسے کچھ نہیں ۔۔۔ ڈاکٹر ہماء تھوڑا حیرانی سے ۔ تو پھر کیا۔۔۔ چیمہ مسکرایا۔ بس میں ان ویڈیوز میں آپ کی پرفارمنس دوبارہ دیکھناچاہتاہوں ۔۔ اور وہ بھی لائیو۔۔ اور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ اس بار ان ویڈیوز میں ہیرو کا رول بھی میں خود کروں ۔۔ ایس پی چیمہ کی بات سن کر ڈاکٹر ہماء حیران رہ گئی۔ اسے امید نہیں تھی کہ چیمہ صاحب اس کرسی پر بیٹھ کر اس سے ایک ایسی ڈیمانڈ کر دیں گے۔ لیکن اسکو تھوڑی تسلی یہ ہوئی کہ ڈیمانڈ ایسی نہیں تھی جو وہ پوری نہ کر سکے ڈاکٹر ہماء ۔ لیکن ایس پی صاحب ۔۔ یہ تو آپ نے میری مدد کرنے کی بجائے خود انہی لوگوں والا کام 418 | Page شروع نہیں کر دیا میرے ساتھ؟ چیمہ صاحب مسکرائے ۔۔ ارے نہیں جی ۔ ایسی بات نہیں ہے۔ وہ تو بس آپ کو ایسی حالت میں دیکھ کر دل چاہنے لگا ہے۔ لیکن اگر آپ کو منظور نہیں ہے تو ر ہنے دیں۔ ہم کوئی زبردستی نہیں کریں گے ۔۔۔ ہما کے لیے انکار کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ کیوں کہ وہ تو پہلے ہی چیمہ صاحب کی پرسنیلٹی سے کافی متاثر تھی۔ ڈاکٹر ہماء کو سوچ میں پڑ اہوادیکھ کر چیمہ صاحب بولے۔۔ اگر آپ کو ہماری آفر منظور نہ ہو تو وہ باہر کا دروازہ کھلا ہے آپ کے لیے۔ اور اگر منظور ہے تو یہ سامنے اندر کا دروازہ ہے۔ اور ہاں یہ رہیں آپکی ساری ویڈیوز۔۔ یہ لے جائیں ۔ کیونکہ میں زبردستی کا مزہ نہیں لینا چاہتا۔۔ یہ کہہ کر چیمہ نے ایک یو- ایس- بی سامنے ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔ اور ہما کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔ ڈاکٹر ہماء کو بھی چیمہ کی یہ ادا پسند آگئی ۔۔ ہماء مسکرائی ۔۔۔ کچھ دیر بیٹھی رہی۔ پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ یو- ایس- بی ٹیبل سے اٹھائی اور اسے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔۔۔ پھر وہ میز کی دوسری طرف چیمہ کی کرسی کے پاس آئی۔ اور اس کے سر کے بالوں میں 419 | Page ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی ۔۔ ڈاکٹر ہماء ۔ لیکن آپ بھی میرے ساتھ وعدہ کریں کہ یہ سب صرف ایک بار کے لیے ہو گا۔بار بار نہیں۔ ۔۔۔ ٹھیک ہے ناں ؟ چیمہ صاحب نے ہماء کی کمر کے گرد اپنابازو ڈالا۔۔ اور بولا۔۔ او کے- ڈن۔۔۔ ڈن کہتے اور سنتے ہوئے ہما اور چیمہ صاحب ، دونوں کو ہی یقین تھا کہ یہ آخری بار نہیں ہو گا۔ اور ایسے مواقع دوبارہ بھی آئیں گے۔۔۔ چیمہ اٹھ کرڈاکٹر ہماء کو لے کر پچھلے کمرے میں داخل ہو گیا۔ جہاں ایک آرام دہ بیڈ ان دونوں کا منتظر تھا۔۔ 420 | Page اصل کہانی یہاں مکمّل ہوئی
  8. دوستو کہانی اب اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے اور ایک یا دو اقساط میں مکمّل ہونے جا رہی ہے . اسی لیے آج کل میں جلدی جلدی اور لمبی لمبی اپڈیٹس دے رہی ہوں . میرا ارادہ اس کے بعد اپنی اصل کہانی " تشنہ آرزوئیں اور بھٹکتی جوانی" کو آگے بڑھانے کا ہے چونکہ اس کہانی کا سارا پلاٹ میرا ہے کوئی کاپی پیسٹ والی بات نہیں ہے تو اپڈیٹس اتنی تواتر سے اور اتنی تفصیل سے دینا بہت مشکل ہو گا . مزید آپ دوستوں سے یہ بھی رائے لینی ہے کہ کیا ڈاکٹر ہماء والی اصل کہانی کو مکمّل ہونے کے بعد خود سے مزید آگے بڑھاؤں یا پوری توجہ اپنی اصل کہانی کو دوں ؟ آپ کی رائے کی منتظر رہوں گی بہت شکریہ
  9. جی بہت شکریہ کہانی پسند کرنے کا . جی اب شادی کو دو سال ہو چکے ہیں تو اب مجھے طریقہ آ گیا ہے اچھی اور باکمال طریقے سے کیسے دی جاتی ہے جو دوستوں کا دل موہ لے ............ ہی ہی ہی اپڈیٹ
  10. Jutt Sahib, is this hello for me or....? hee hee hee
  11. جی آپ کا اصرار دیکھ کر میں نے آپ کو اپنی ای -میل بتانے کی کوشش کی تھی مگر میری توقعات کے عین مطابق ایسا کرنا فورم کی پالیسی کے خلاف تھا اسی لیے میری وہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی . اب مجھے کچھ اندازہ نہیں کہ کیسے آپ سے رابطہ کر سکتی ہوں
  12. کہانی پسند کرنے اور ہمیشہ اپنے خوبصورت تبصروں سے کہانی کو رنگا رنگ بنانے پر آپ کی بہت مشکور ہوں ارے جناب آپ کی ڈاکٹر شازی دل توڑتی کہاں ہے؟ میں تو یہاں آپ دوستوں کا دل بہلانے آتی ہوں . ہی ہی ہی
  13. تجویز تو بہت اچھی ہے جناب . لیکن کہانی اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے. اب شائد ایسا کرنا میرے لیے ممکن نہ ہو. پھر بھی آپ وقت نکال کر کہانی پڑھ رہے ہیں اور اپنی تجاویز بھی دے رہے ہیں. اس پر آپ کی ممنون ہوں بہت شکریہ
  14. سے ہی نیچے جھک کر اپنے گھٹنوں کے بل ہوگئی۔ راجو کے ہاتھ میں میرے گلے میں ڈالے ہوے پٹے کی رسی تھی وہ آگے آگے چلنے لگا۔۔۔ اور میں ۔۔ کتیا کی طرح ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل راجو کے پیچھے پیچھے چلنے لگی ۔۔۔ میری پینٹی میں سے نکلی ہوئی میری گانڈ پیچھے سےننگی ہو رہی تھی۔۔۔ میرا پورا جسم ہی ننگا تھا۔ میری حالت خراب ہورہی تھی ۔۔۔ میری چھاتی میں ابھی بھی درد ہو رہا تھا۔۔۔ میرے پیچھے چلتے ہوئے مرلی نے میری ننگی گانڈ پر ایک زور دار طمانچہ مارا۔۔۔ اور بولا ۔۔ کتیا کی بچی ۔۔ اس کچھی کو بھی تو اتار۔۔۔سالی ۔۔ پورا جسم توننگا کیاہوا ہے تو اس گانڈ کو اپنے کسی باپ سے چھپا رکھا ہے ۔یہ کہتے ہوئے اس نے میری پینٹی کو بھی دونوں ہاتھوں سے کھینچ کر میری گانڈ سے نیچے کر دیا۔ اور پھر میری ٹانگوں اور پیروں سے نکال کر کہیں پھینک دیا۔ جسے میں نہ دیکھ سکی۔۔ اور دوبارہ سے راجو کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔ کیونکہ اس نے میرے گلے میں بندھی ہوئی پٹے کی رسی کو ایک جھٹکا دیا تھا۔۔۔ اور میں ایک کتیا کی طرح ہی اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگی ۔۔۔ اپنی قسمت کو روتی ہوئی ۔۔۔ جیسے ہی اندر داخل ہونے لگے تو مرلی نے میری ننگی گانڈ پر ایک اور طمانچہ مارا۔۔ اور میں گرتی ہوئی بال بال بچی ۔۔۔ اور میں بنامڑ کر پیچھے اسکی طرف دیکھتے ہوے اندر داخل ہوگئی ۔۔۔ راجو مجھےکھینچتا ہو ا و کرم کے پاس لے گیا۔ جو اسی طرح سے اسی صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔ ننگے ٹھنڈے فرش پر چلتے چلتے میرے نازک گھٹنے اب مجھے درد کرتے ہوئے محسوس ہونے لگے تھے۔۔۔ 387 | Page جیسے ہی و کرم کے پاس پہنچے تو پیچھے سے مرلی نے میری گانڈ پر ایک زور دار لات ماری ۔۔ اور میں وکرم کے قدموں میں جاگری۔۔۔ میں نے جھٹ سے و کرم کے پیر پکڑ لیے۔ اور اس سے معافی مانگنے لگی ۔۔۔ میں ۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں۔ پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔ میں ایسی عورت نہیں ہوں ۔۔ و کرم ۔۔ اوہ۔ ہو۔ کیا ہو گیا۔ کیا بہت مارا ہے ان ظالموں نے تم کو۔ میں نے بےبسی سے ۔۔ اور ڈرتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔ و کرم کی غصے سے بھری ہوئی آواز سنائی دی۔کمینو ۔۔۔ تم کو تمیز نہیں ہے کیا کہ کسی عورت سے کیسے بات کرتے ہیں۔۔۔ اتنی خوبصورت اور ایسے بڑے گھر کی عورت سے ایسا سلوک کرتے ہیں کیا۔۔۔ مرلی کی آواز سنائی دی۔۔۔ سر۔۔ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کہا۔ ہم نے توہاتھ بھی نہیں لگایا ا نکو۔ یہ جھوٹ بول رہی ہیں۔۔ 388 | Page مجھے ایسے لگا کہ مرلی و کرم کی ڈانٹ سے ڈر گیا ہے۔ مجھے تھوڑا حوصلہ ہوا۔ و کرم مجھ سے بولا۔۔ نیلو جی ۔۔ یہ تو کہتے ہیں کہ آپ جھوٹ بول رہی ہو۔ اچھا آپ بتاؤ کہ انہوں نے آپ کو کہاں مارا ہے ۔۔۔ د کھاؤ تو۔۔ پھر میں ان حرامزادوں کی خبر لوں گا۔۔۔ مجھے لگا کہ میری جان اب شائد بچ جائے گی۔ میں نیچے فرش سے اٹھی۔۔ اور اپنی گانڈ گھما کر کر و کرم کی طرف کر دی ۔۔ اور اسے دکھایا۔ یہ دیکھیں یہاں نشان پڑ گیا ہے اسکے مارنے سے ۔۔ و کرم۔۔۔ چچ چچ چچ چچ۔۔۔ کرتے ہوئے میری ننگی گانڈ پر اپناہاتھ پھیرنے لگا۔۔ بہت ہی ظالم ہو تم کمینو ۔ دیکھو پھول سی گانڈ کو کتنی بری طرح سے پیٹا ہے تم نے۔۔۔ میرا سامنے کا جسم ان دونوں کی طرف تھا۔ جو مجھ سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑے تھے۔ اور میرے گلے میں بندھی ہوئی رسی ابھی بھی راجو کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے و کرم سے نظر بچاتے ہوئے ۔۔ اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے ایک ممے کو پکڑا ۔۔ اور زور سے مسل دیا۔ میری ایک زور دار چیخ نکل گئی ۔۔ اور میں اپنی چھاتی پر ہاتھ رکھ کردرد سے جھکتی چلی گی ۔۔۔ 389 | Page و کرم جلدی سے بولا۔۔ کیا ہوا۔۔ کیا ہوا۔۔۔ اب کیوں چیخ رہی ہو۔ میں تو آرام سے ہاتھ پھیر رہا ہوں۔۔ میں بولی۔ نہیں نہیں ۔ یہ اس نے آگے سے دبایا ہے۔۔۔ و کرم ۔۔ کہاں سے ۔۔۔ میں اس کی طرف مڑی۔ اور اپنی چھاتی پر اپناہاتھ رکھ کر اسکے سامنے کی ۔ جن پر دونوں طرف انگلیوں کے نشان پڑے ہوئے تھے ۔۔۔ اور وہ لال سرخ ہورہی تھیں ۔۔۔ وکرم نےمیرے ممے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ تو ایک لمحے کے لیے تومیں غیر ارادی طور پر پیچھے کوہٹی ۔۔ اور جیسے ہی وکرم نے میری آنکھوں میں دیکھا تومیں نے خود سے ہی ۔۔ آہستہ سے اپنی چھاتی آگے کر دی اور اس کےآگے کو بڑھے ہوئے ہاتھ میں دے دی۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ اسکو سہلانے لگا۔۔۔ و کرم ۔ تم ٹھیک کہتی ہوں۔ یہ بلکل جانور ہیں۔ انکو کوئی تمیز نہیں ہے کہ کسی عورت سے کیا سلوک کرتے ہیں ۔ یہ تو اچھی سے اچھی عورت کو چودتے بھی جانوروں کی طرح ہی ہیں ۔ تم میری ایک بات مان لو اگر ان کے ظلم سے بچنا چاہتی ہو تو۔۔۔ 390 | Page میں حیرانی سے و کرم کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔ کیا۔۔۔کونسی بات ۔۔۔ و کرم ۔۔ وہ یہ کہ ۔۔۔ یہ کمینے جیسا کرنے کو کہتے ہیں ناں بس تم ویسے ویسے کرتی جاؤ ۔۔ اور جو یہ چاہتے ہیں وہ سب ان کو کرنے دو۔ ورنہ کہیں ایسانہ ہو کہ تم واپس اپنے شوہر کے پاس ہی نہ جا سکو ۔۔۔ میں آنکھیں پھاڑے حیرانی سے و کرم کو دیکھنے لگی ۔۔۔ اور وہ بے شرمی سے قہقہ لگا کر ہنسنے لگا۔۔۔ اور ٹیبل سے گلاس اٹھا کر اپنے منہ سے لگا لیا۔۔۔ اچانک پیچھے سے کسی نے رسی کو کھینچا۔ اور میں ایک جھٹکے سے پیچھے کو جا گری ۔۔۔ سامنے وہ دونوں اب ہنس رہے تھے اور میں کمر کے بل فرش پر گری پڑی تھی ۔ راجو نے اسی رسی سے مجھے اپنی طرف کھینچا تو میں جلدی سے دوبارہ کتیا بن کر ان کی طرف چلی گئی ۔۔۔ راجو نے مجھے اپنے قریب کر کے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر بری طرح سے میرے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔۔۔ پھر اس نے اپنا منہ پیچھے کر کے میرے منہ پر زور سے تھوک دیا۔۔۔ جو میرے چہرے پر گرا۔۔۔ اور میر اپورا چہرا راجو کے تھوک سے لتھڑ گیا۔ مرلی نے میرے گلے میں پڑے پٹے کو پکڑ کر میرا منہ اپنی طر ف موڑ لیا ۔۔۔ اور اس نے بھی میرے چہرے پر تھوک دیا۔۔ دونوں کا پھینکا ہوا تھوک میرے گالوں سے نیچے بہنے لگا جبکہ ناک پر پھینکی ہوئی تھوک اب بہتی بہتی میرے ہونٹوں تک پہنچ رہی تھی 391 [Page مرلی ۔ بہن چود۔ صاحب سے ہماری شکایت لگاتی ہے ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اس نے میرے گال پر ایک زور دار طمانچہ مارا۔۔۔ میں حیرانی سے اسکو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ بہن کی لوڑی ۔۔ یہ بھی تو بتانا ں کہ تو نے بھی تو مجھے باہر تھپڑ مارا تھا۔۔۔ اب اس کا بدلہ تو تم کو چکانا ہی ہو گا نا۔۔۔ میں سسکی۔ پلیز میری غلطی کی مجھے معافی دے دو۔۔۔ مرلی نے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مجھے نیچے فرش کی طرف دبایا۔ میں نیچے بیٹھ گئی۔۔ مرلی۔ بکواس بند کر اور ہماری پینٹس اتار کر ہمارے لوڑوں سے معافی مانگ ۔۔۔ اگر تو نے میرے لوڑے کو خوش کر دیا تو پھرمیں تجھے چھوڑ دوں گا۔۔۔ اور معاف کر دوں گا۔۔۔ میں حیرت سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس نے مجھے تھپڑ مارنے کے لیے دوبارہ سے ہاتھ اٹھایا۔ تو میں نے جلدی سے اپنا ہاتھ اس کی پینٹ کی بیلٹ کی طرف بڑھادیا۔۔ اور اسکی بیلٹ کھولنے لگی ۔۔۔ وہ مجھے دیکھ کر ہنسا۔ میں نے جلدی سے اسکی پینٹ کھولی۔ اور اسے نیچے اتار دیا۔۔۔ نیچے اس نے انڈر وئیر پہنا ہوا تھا۔۔۔ میں نے اسے بھی نیچےکھینچ کر اتار دیا۔۔۔ اس کالوڑا اب میرے سامنےسپرنگ کی طرح اچھل کر لہرانے لگا۔ کافی موٹا اور لمبا لوڑا تھامر لی کا ۔۔۔ جسکا اگلا حصہ سکن سے ڈھکا ہوا تھا۔ اورکھڑا لوڑا ایک کیلا سا بن رہا تھا۔ مگر پھولا ہوا۔ میں حیرانی 392 | Page سے اسکے لوڑے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ کیونکہ میں نے اس طرح کا لوڑا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔ مرلی نے اپنے لوڑے کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اسے زور سے میرے گال پر مارا۔۔۔ اور بولا ۔۔ کیا دیکھ رہی ہے مادر چود۔۔۔ کیا کبھی کوئی بغیر ختنوں والا لوڑا نہیں دیکھا۔۔۔ نہیں دیکھا تو چل اسے اب منہ میں لے اور چوس کے دیکھ ۔۔ اسے خوش کر دے۔ اگر یہاں سے زندہ واپس جانا چاہتی ہے تو۔۔۔ مرلی اب اپنے لوڑے کی نو کیلی ٹوپی کو میرے ہونٹوں سے ٹکرا رہا تھا۔۔۔ اور ہونٹوں پر پھیر رہا تھا۔۔۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی۔۔۔ اور اپنی مرضی کے خلاف ۔۔ اپنا منہ کھولا۔۔ اور اپنی زبان نکال کر اسکے لوڑے کی ٹوپی پر پھیرنے لگی۔۔۔ اسے چاٹ رہی تھی ۔۔ ٹوپی کے اوپر چڑھی اسکن کو تھوڑا پیچھے کھینچ کر اسکی ٹوپی کو چوسنے کی کوشش کی تو مرلی نے ایک زور دار جھٹکے سے میرا منہ پیچھے کیا اور بولا سکن پیچھے نہ کر بہن چود . ایسے ہی چوس مرلی۔۔ منہ کھول ۔۔۔ میں نے منہ کھول دیا۔۔۔ مرلی نے میرے گال پر ایک طمانچہ مارا۔۔ رنڈی کی اولاد ۔۔ پورا منہ کھول۔۔۔ 393 | Page میں نے اپنا منہ پورا کھول دیا۔ مرلی نے اپنا لوڑا میرے منہ کے اندر داخل کر دیا۔ اور اسے آہستہ آہستہ میرے منہ میں اندر باہر کرنے لگا۔جیسے میرے منہ کو چوت سمجھ کر چود رہا ہو ۔۔ مرلی نے ایک بار اپنالوڑا زور سے میرے حلق کے اندر مارا ۔۔ اور بولا۔۔ نیچے کیا دیکھتی جارہی ہے میرے لوڑے کو۔ ادھر اوپر منہ کر کے میری طرف دیکھے۔ میں نے مرلی کے لوڑے کو چوستے ہوئے اوپر اسکی آنکھوں میں دیکھنا شروع کر دیا۔ اس کی آنکھوں میں ہوس ہی ہو س ناچ رہی تھی ۔۔۔ اور وہ دھیرے دھیرے میرے منہ کے اندر اپنالوڑا اندر باہر کر رہا تھا ۔ میں اس سے اپنی نظریں ہٹانہیں پارہی تھی۔۔ اتنے میں راجو نے میرے گلے کےپٹے کو جھٹک دیا۔۔ بہن چود میری پتلون نہیں اتارے گی کیا۔۔۔ میں بے بسی سے مرلی کی طرف دیکھنے لگی۔ جو اپنا لوڑا میرے منہ میں ڈالے ہوئے تھا۔ اس نے بھی مجھے اس کی پتلون اتارنے کا اشارہ کیا۔۔۔ میں نے مرلی کالوڑا منہ سے نکالے بناہی اپنے ہاتھ راجو کی پینٹ کی طرف بڑھائے اور اس کی پینٹ اتارنے لگی ۔۔۔ بڑی ہی مشکل سے میں اسکی پینٹ اور انڈرویر اتارنے میں کامیاب ہوئی۔۔ جیسے ہی میں نے اسکی پینٹ اتار دی ۔ تو اس کالوڑا ننگا ہو گیا۔ لاشعوری طور پر ہی میری نظر اسکے لوڑے 394 | Page کی طرف گئی۔۔۔ تو مرلی نے میرے گال پر ایک تھپڑ مارا۔۔۔ مرلی۔۔ بہن چود۔ کتی ۔۔۔ رنڈی کی اولاد ۔۔ حرامزادی ۔۔ پوری کی پوری رنڈی ہے تو۔۔ کتنا شوق ہے نا تجھے نئے نئے لوڑے دیکھنے کا۔۔۔ اور پھر کہتی ہے کہ میں شریف عورت ہوں۔۔۔ اس کی اس بات نے میری بہت تذلیل کی ۔۔۔ میرا چہرہ اسکے تھپڑوں اور شرم سے لال ہو گیا۔۔ مرلی ۔ مادر چود ۔ میر الوڑا چوستے ہوئے اپنے ہاتھ سے نہیں چیک کر سکتی کہ کتنا موٹا ہے اس کالن ۔ دیکھ کر کیا تجھے زیادہ سکون ملتا ہے ؟ یا تیری چوت میں آگ لگ جاتی ہے ۔۔۔ چل دوبارہ میرا لن اپنے منہ میں لے اور چوسنا شروع کر ۔۔۔ میں دوبارہ سیدھی ہوئی۔۔ اور پھر سے اسکا لوڑا اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔ اور اسے چوسنے گئی ۔۔ اب مرلی نے اپنے ہاتھ میرے سر پر لے جا کر میرے بکھرے ہوئے بالوں کو اکٹھا کر کے اپنے ہاتھ میں لیا۔ اور میرے سر کو اچھے سے اپنے قابو میں کر لیا۔ راجو نے میرے گلے کےپٹے پر سے رسی کو کھولا ۔۔ اور میرے دونوں ہاتھوں کو پیچھے میری کمر پر لے جا کر دونوں ہاتھ باندھ دیئے۔ میں پوری طرح سے بے بس ہو چکی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اب اس نے اپنے لوڑے کو میرے منہ کے اندردھکیلنا شروع کر دیا۔۔۔ اس کا لوڑا اندر جانے لگا۔ پھر میرے حلق سے ٹکرانے لگا۔۔۔ اب تک میں اسکے لوڑے کو چوس تورہی 395 | Page تھی۔ مگر اسے پوری طرح سے پورے کا پورا اپنے منہ میں نہیں لے پارہی تھی ۔۔ اسکی موٹائی اور لمبائی کی وجہ سے ۔۔۔ مرلی کا لوڑا میرے حلق تک پہنچ گیا۔ مگر وہ کمینہ وہاں بھی نہیں رکا۔۔ اور میرے حلق کے اندر اپنالوڑا اتارنے کی کوشش کرنے لگا۔ میرے اپنے ہی گاڑھے تھوک سے اس کا لوڑا پھسلتا ہوا میرے حلق کے اندر اترنے لگا۔۔۔ مرلی کا لوڑا میرے حلق کے اندر جارہا تھا۔۔۔ اور میری آنکھیں باہر آرہی تھیں۔۔۔ میں نے تھوڑا تھوڑا اپنا سر ہلاتے ہوئے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔۔ کیو نکہ ہاتھ تو میرے پہلے ہی بندھے ہوئے تھے۔ مرلی نے غصے سے میری طرف دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو سکیڑ ا۔ اور اپنے منہ سے تھوک نیچے کو گرانے لگا۔۔۔ اس کے منہ سے گاڑھا گاڑھا تھوک نکل کر آہستہ آہستہ میرے چہرے کی طرف آنے لگا۔۔ اور پھر میرے گالوں اور میرے آنکھوں پر گرنے لگا۔۔۔ کچھ دیر اپنالوڑا میرے حلق کے اندر رکھنے کے بعد مرلی نے لوڑا باہر نکالا۔۔۔ جو کہ میرے اپنے ہی حلق کے گاڑھے تھوک سے لتھڑا ہوا تھا۔ اور اسے میرے چہرے پر پھیرنے لگا۔۔۔ مرلی کے لوڑے پر لگا ہوا میرے حلق کا گاڑھا تھوک میرے چہرے پر لگ رہا تھا۔۔۔ اپنے لوڑے سے ہی وہ اپنے منہ سے گرایا ہوا اپنا تھوک بھی میرے چہرے پر مل رہا تھا۔۔۔ مجھے بے حد ذلیل کر رہے تھے وہ دونوں۔۔۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھ جیسی خوبصورت اور امیر گھرانے کی عورت ۔۔ ایک بڑے بزنس مین کی بیوی کو کوئی نیچ آدمی اس طرح کبھی ذلیل کر سکتا ہے۔ 396 | Page میں اپنے ہی خیالوں میں گم تھی کہ راجو نے میرے سر کے بالوں سے پکڑ کر مجھے اپنی طرف گھسیٹا۔۔۔ اور میرا منہ اپنی طرف کر کے اس نے اپنا لوڑا میرے منہ میں ٹھونس دیا۔۔۔ ہاں ۔۔ٹھونسنے والا ہی حساب تھا اسکا جس طرح سے اس نے طاقت کے ساتھ اپنالوڑا میرے منہ میں ڈالا تھا۔ اور بنا مجھے ایڈ جسٹ ہونے کا موقع دیئے اس نے ایک ہی دھکے میں اپنا پورا لنڈ میرے حلق تک پہنچادیا۔۔۔ میں نے خود کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کی۔ مگر کامیاب کہاں ہو سکتی تھی۔ پھر جیساسخت جسم تھا اس کا میری جیسی نازک عورت کے لیے تو نا ممکن تھا اس سے جان چھڑانا ۔۔۔ میں نے اپنا سر پیچھے کو ہٹاناچاہا تو اس نے مزید اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔ پھر خود کی پوزیشن کو ٹھیک کرتے ہوئے اس نے اپنےلوڑے کو ایک زور دار ٹھوکا دیا۔ اور اسکا لوڑا میرے منہ سے پھسل کر میرے حلق میں چلا گیا۔۔۔ صاف صاف اسکالوڑا مجھے میرے حلق میں اترتا ہوا محسوس ہورہاتھا۔۔ اور اسکے لوڑے کے اوپر بڑھی ہوئی جھانٹوں کے بال میری ناک میں گھستے جا رہے تھے ۔۔ میری آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا۔ آنسو جاری تھے۔ میری سانسیں رک رہی تھیں۔ مگر میری کوئی بھی مدد کرنے والا نہیں تھا۔۔۔ راجو نے اپنے دونوں ہاتھوں میں میرے سر کو پڑا۔۔۔ اور دھکے مارنے لگا۔۔۔ اپنے لوڑے کو میرے حلق کے اندر۔۔ اور منہ میں اندر باہر کرنے لگا۔ میری بری حالت ہورہی تھی۔ قریب پانچ منٹ تک میرے منہ کو چودنے کے بعد اس نے مجھے چھوڑا تو میں نے فرش پر گرگئی۔۔ نیچے گرے گرے ہی میں نے رحم طلب نظروں سے و کرم کی طرف دیکھا تو وہ بڑے ہی آرام سے۔۔۔ اور بڑے ہی مزے سے 397|Page صوفے پر بیٹھا۔۔ شراب پیتا ہوا۔۔۔ اپنے سامنے ہو رہے ہوئے میرے ریپ سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔۔۔ اتنے میں مرلی نے مجھے گھسیٹا اور صو فے تک لے آیا۔۔۔ جہاں وکرم بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ اس نے میرے سر کو صوفے کی سیٹ سے لگایا۔ اور اب میر اسر صوفے کی سیٹ پر تھا۔ پھر مرلی میرے اوپر آیا۔۔۔ اپنے لوڑے کو میرے منہ میں ڈالا ۔۔ اور بڑی ہی بے دردی کے ساتھ ۔۔ پوری قوت کے ساتھ اپنالوڑا میرے منہ میں اندر باہر کرنے لگا۔۔۔ مجھے لگ رہا تھا کہ آج وہ میرے منہ کو چودتے ہوئے ہی میری جان لے لیں گے ۔ مرلی اتنے اندر تک اپنالوڑا میرے حلق میں لے جاتا کہ میر ی سانس رکنے لگتی ۔۔ اور مرلی تب تک اپنا لوڑا باہر نہ نکالتا جب تک کہ میں مرنے والی نہ ہو جاتی۔۔۔ پیچھے سے راجو میری ٹانگوں کے بیچ میں آیا۔۔ اور میری ننگی چوت کو اپنی مٹھی میں لے کر مسلنے لگا۔۔۔ اس نے اپنی انگلی میری چوت میں ڈالی ۔۔ اور اسے اندر باہر کرنے لگا۔ چوت میں انگلی کرنے کا مزہ تو آتا ہے مگر جس انداز میں وہ کر رہا تھا۔ اس سے تو مجھے اور بھی تکلیف ہورہی تھی۔ مگر اسکو کیا احساس ۔ وہ تو بس اپنا کام کر رہا تھا۔۔۔ میرے ہاتھ میری کمر پر بندھے ہوئے تھے۔ میں کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔ ہاتھ اگر کھلے بھی ہوتے تو بھی میں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی۔۔۔ و کرم کی آواز سنائی دی۔۔۔ بس کر دو مرلی۔۔۔ کیا اس بے چاری کی جان لو گے۔۔۔ چلو اب کچھ آگے بھی تو بڑھاؤ سین کو ۔۔ یا اسکے منہ میں ہی لنڈ ڈالے رہنا ہے تم نے ۔۔۔ 398|Page یہ بات سن کر مرلی نے میرے منہ سے اپنالوڑا باہر نکال لیا۔ اور اسکے ساتھ ہی میرے منہ سے بہت سارا تھوک بہہ کر باہر آنے لگا۔ میرے اپنے ہی جسم پر گرنے لگا۔ میرے ننگے مموں اور میرے پیٹ پر گر رہا تھا۔۔۔ اگر تم یا جمشید بھی اس حالت میں دیکھتے تو مجھے پہچان بھی نہ پاتے۔۔۔ مرلی کا لوڑا میرے منہ سے نکلنے کے بعد جیسے میرے جسم میں کچھ جان آئی۔۔ را جواب آگے بڑھا۔۔۔ اور مجھے اٹھا کر صوفے پر بٹھادیا۔ میرے ہاتھ ابھی بھی میری کمر پر بندھے ہوئے تھے۔ میری ٹانگوں کو اوپر اٹھا کر میرے کندھوں کے ساتھ ملانے لگا۔ میں اس کی منت کرنےلگی میں۔۔۔ پلیز میرے ہاتھ تو کھول دو۔ میرے بازو ٹوٹ جائیں گے ۔۔ پلیز ۔۔ پلیز رحم کرو میرے پر۔ راجو نے مرلی کی طرف دیکھا تو اس نے اسے کھولنے کا اشارہ کیا۔۔۔ اور راجو نے میرے بازو کھول دیئے ۔۔ اور دوبارہ مجھے صوفے پر لٹا دیا۔ اور بولا ۔۔ چل اب اپنی ٹانگیں اٹھا۔۔۔ اور اپنی چوت میرے سامنے کر۔۔ اور حرامزادی ۔۔۔ اگر اب تو نے اپنی ٹانگیں نیچے کی تو پھر دیکھنا۔۔۔ 399 |Page میں ڈر گئی۔ اور اپنی رانوں کے نیچے ہاتھ رکھ کر اپنی ٹانگیں اوپر اٹھا لیں ۔۔۔ میر ی چوت اور گانڈر راجو کے سامنے تھیں ۔ وہ اپنالوڑا لہراتاہوامیرے سامنے تھا۔ اس نے اپنے لوڑے کے ٹوپے پر اپنا تھوک لگایا۔ اور تھوک کا ایک بڑا سا گولہ بنا کر میرے دونوں چوتڑ اپنے ہاتھوں سے کھول کر میری گانڈ کے سوراخ پر تھوک دیا . پھر اپنے لنڈ کے ٹوپے کو میری گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا۔۔ میں منمنائی ۔۔ پلیز ۔۔ یہاں نہیں ڈالو۔۔۔ راجو کو ویسے غصہ آگیا۔ اس نے ایک بار پھر زور کا طمانچہ میرے منہ پرمارتے ہوے بولا ۔ بہن چود ، رنڈی -- یہاں تو پیسے دے کر چدوانے آئی ہوئی ہے کیا جو تیری مرضی سے تجھے چودیں۔ جہاں جہاں اور جیسے جیسے ہمارا دل چاہے گا وہاں وہاں ہی اپنالوڑا ڈالیں گے۔۔۔ تو بس چپ کر کے چدوا اگر زندہ واپس جانا چاہتی ہے میں چپ ہوگئی ۔۔۔ راجو نے اپنے لوڑے کا موٹااور پھولا ہوا ٹوپا میری گانڈ کے گلابی ۔۔ تنگ سوراخ پر رکھا۔ اور ایک دھکے سے اپنالوڑا میری گانڈ کے اندر آدھا ڈال دیا۔ میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔ درد کے مارے ۔ مگر ان ظالموں پر بھلا کیا اثر ہونا تھا۔ اس نے میری رانوں کے پچھلے حصے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ۔۔۔ جو اسکے سامنے تھے۔ اور میری رانوں کو اور بھی دباتے ہوئے۔ ایک اور دھکا مارا۔۔ اور اس بار اسکا پورا لوڑامیری گانڈ میں گھس کیا۔۔۔ جڑ تک ۔۔۔ میں بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ مگر وہ ویسے ہی اپنالوڑا میری گانڈ میں ڈالے ہوئے کھڑا تھا۔۔۔ میری رانوں کو چھوڑ کر اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے 400 | Page مموں پر رکھے ۔۔ اور انکو اپنی مٹھیوں میں بھرتے ہوئے میری گانڈ میں اپنے لوڑے کو اندر باہر کرنے لگا۔۔۔ اس کا لوڑا پھسلتا ہوا۔۔۔پھنستا ہو ا۔۔۔ میری گانڈ میں اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔ اور مجھے اپنی گانڈپھٹتی ہوئی محسوس ہورہی تھی ۔۔۔ مگر وہ بے دردی کے ساتھ میری گانڈ مارے جارہا تھا۔ اور دوسری طرف مرلی کھڑا اپنے لوڑے کو مل رہا تھا۔۔۔ کچھ دیر کی چدائی کے بعد راجو نے میری گانڈ سے اپنالنڈ باہر نکال لیا تو مجھے کچھ سکون ملا۔۔۔ مگر کہاں ۔۔ مرلی صوفے پر بیٹھ چکا ہو اتھا۔ اس نے مجھے اپنی طرف بلایا۔ میں دوسری بار کہنے کا انتظار کیے بناہی اسکی طرف بڑھی۔ کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ اگر دیر کرتی تو پھر میرا کیا حشر کرنا تھا۔ میں مرلی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی ۔۔ اس نے مجھے اپنے اوپر آ کر اسکا لوڑا اپنی چوت میں لینے کو کہا۔ میں بس ایک لمحے کے لیے ہی ر کی۔۔۔ اور صوفے پر چڑھ گئی۔۔۔ مرلی کے اوپر ۔۔۔ میں نے خود سے ہی مری کا لوڑا اپنے ہاتھ میں پکڑا۔ اور اپنی چوت کو اس کے اوپرٹکا نے لگی۔ مجھے پتہ تھا کہ اگر میں خود سے سب کچھ کر لوں گی تو یہ مجھے کچھ نہیں کہیں گے ۔ ورنہ میری حالت خراب کر دیں گے۔۔۔ مرلی کا لوڑا اپنی چوت کے سوراخ پر ٹکا کر میں نیچے کوبیٹھنے لگی ۔ مرلی کا موٹا لنڈ آھستہ آھستہ میری چوت میں اترنے لگا۔ مرلی کا موٹا لوڑاپھنستا ہوا میری چوت میں جارہا تھا۔۔۔ میں آہستہ آہستہ نیچے بیٹھ گئی۔۔۔ اور مرلی کا پورا لوڑا میری چوت میں گھس گیا ۔ میں مرلی کی طرف دیکھنے لگی ۔۔ کہ اب تو وہ مجھ سے خوش ہو گا۔ مگر اس 401|Page نے میری چھاتیوں کو اپنی مٹھی میں دبایا اور انھیں نوچتے ہوے بولا۔۔ اب اوپر نیچے اچھل بھی سہی کہ ایسے ہی سارادن میرے لنڈ پر کرتی ہے بیٹھی رہے گی۔۔ میر الوڑا اپنی چوت میں لے کر۔ کیا تیرے باپ کو یا خاوند کو بلائیں اس کام کے لیے میں خاموشی سے اوپرنیچے ہونے لگی۔ اور خود سے ہی اپنی چوت مرلی کے لنڈ سے مردانے لگی۔ میں خود پر بہت شرم محسوس کر رہی تھی ۔۔ کسی کے سامنے یہ سب کچھ کرنے کا میرا پہلا موقع تھا۔ بہت ہی عجیب لگ رہا تھا۔۔۔ اتنے میں راجو میرے پیچھے آیا۔۔۔ اور مجھے آگے کی طرف دھکا دیا۔ مرلی نے میری کمر کے گرد اپنے بازو ڈالے۔۔ اور مجھے اپنے ساتھ چپکا لیا۔۔۔ میں کچھ نہ سمجھ سکی۔۔ اب راجو نے میرے پیچھے آ کر میرے چوتڑوں کو کھولا۔۔ اس سے جو بات میرے ذہن میں آئی اس نے تو میری جان ہی نکال دی ۔۔۔ لیکن جو میراخوف تھا۔۔۔ ویساہی ہوا۔۔۔ راجو نے پیچھے سے میری گانڈ کے سوراخ پر اپنا لوڑا ر کھا۔۔۔ اور اسے آگے کو دھکیلنے لگا ۔ میں چلائی ۔ نہیں۔ نہیں پلیز۔ یہ نہیں کرو۔ میں مر جاؤں گی۔ ایسا میں نے کبھی نہیں کیا۔ مرلی بولا۔ نہیں مروگی تم۔۔ پہلے نہیں کروایا تو آج کروالونا۔۔ اور آئندہ بھی تو تم کو یہی تو سب کچھ کرنا ہے 402 | Page میرے رونے۔۔ میری منتوں ۔۔ میری سسکیوں۔۔ اور میری چیخوں کی پرواہ کیے بغیر ۔ راجو نے اپنا لوڑامیری گانڈ میں پھنسادیا۔۔۔ اسکے لوڑے کی موٹی ٹوپی میری گانڈ میں پھنس چکی تھی۔ میر ا درد کے مارے براحال ہو رہا تھا۔۔۔ آگے چوت میں مرلی کا لوڑا قیامت ڈھا رہا تھا۔ اور گانڈ میں راجو اپنا لوڑا ڈال رہا تھا۔ راجونے کے بنا ہی اپنالوڑا اور اندر دھکیلنا شروع کر دیا۔ اور پھر ایک زور کا دھکا لگا کر اپنا لوڑا پورے کا پورا میری گانڈ میں اتار دیا۔۔۔ اور اسکے ساتھ ہی میری زور دار چیخ کمرے میں گونج گئی۔۔۔ مگر میری چیخوں کو سننے والا کوئی نہیں تھا۔۔۔ اور جو سن رہے تھے۔ وہ تو ان چیخوں کے مزے ہی لے رہے تھے۔۔۔ اب راجو اپنا لوڑا میری گانڈ میں گھساتا تو آگے سے مرلی کا لوڑا میری چوت میں اندر تک جاکرچوٹ لگاتا ۔ اور پیچھے سے راجو کا پورا لوڑا میری گانڈ میں گھس جاتا۔۔۔ میر ابراحال ہو رہا تھا۔ مگر راجو اپنی مستی میں مست ۔ میری کمر کو پکڑ کر دھکے مار رہا تھا۔۔۔ اور کبھی اپنے ہاتھ آگے لے جا کر میری چھاتیوں کو نوچنے لگتا۔۔ کھینچنے لگتا۔۔۔ میں تڑپ رہی تھی۔ مگر بے سود۔۔۔ قریب پندرہ منٹ تک ایک ساتھ میری چوت اور گانڈ کی ٹھکائی کرنے کے بعد ۔۔ راجو نے میری جان چھوڑی۔۔ بلکہ میری گانڈ کی جان چھوڑی ۔۔ اور میں نڈھال ہو کر صوفے پر گر پڑی۔۔۔ مگر مجھے سکون نصیب نہ ہوا۔۔ مرلی اپنی جگہ سے اٹھا۔۔ اور مجھے صوفے پر ہی کتیا کی طرح اپنے گھٹنوں اور ہاتھوں پر کر دیا۔۔ اور خود میرے پیچھے آگیا۔۔۔ میرے دونوں چوتڑوں کو کھول کر چیرا۔۔ اور میری گانڈ کا سوراخ 403 | Page اس کے سامنے آگیا۔ اس نے بھی نیچے جھک کر میری گانڈ کے سوراخ پر تھوکا ۔۔۔ اور پھر اپنے لوڑے کی موٹی ٹوپی کو میری گانڈ کے اب کھلے ہو چکے ہوئے سوراخ پر رکھا۔۔۔ اور ایک ہی جھٹکے میں اسے اندر کر دیا۔۔ میر اسر سامنے جا کر صوفے سے ٹکرایا۔ مگر میں اس کے ہاتھوں سے نہ نکل سکی ۔۔ اب مرلی نے میرے کندھوں کو پکڑا۔۔۔ اور مجھے پیچھے کو کھینچنے لگا۔۔۔ اور خود آگے کو دھکے مارنے لگا۔۔ اس طرح اب میں پوری طرح سے اس کی گرفت میں تھی ۔۔ نکل کر نہیں جاسکتی تھی ۔۔ خود کو چھڑوا بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔ مرلی آگے سے مجھے پیچھے کو کھینچتا ۔۔۔ اور ساتھ ہی خود آگے کو دھکا مار تا۔۔۔ جس سے میری گانڈ کو جیسے چیر تاہو ا۔۔۔ اسکا لوڑا۔ اندر تک اتر جاتا۔۔۔ میں رورہی تھی۔فریاد کر رہی تھی ، سسکیاں بھر رہی تھی۔ مگر کسی پر کچھ بھی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ اور وہ دھنادھن میری گانڈ مار رہا تھا۔۔۔ اتنے میں صوفے کی بیک سے۔۔ میرے سامنے راجو آگیا۔ اور اس نے میرے سر کو بالوں سے پکڑ کر اوپر کو کیا۔۔۔ اور اپنالنڈ میرے منہ میں ڈال دیا۔۔۔ اور میرے منہ کو چودنے لگا۔ اب ایک بار پھر میری ڈبل چدائی ہورہی تھی۔ مگر اس بار ایک لوڑا میری گانڈ میں تھا تو دوسرا میرے منہ میں ۔۔۔ میں بے بسی سے ان کے ہاتھوں چد رہی تھی ۔ آخر مرلی کے لوڑے نے میری گانڈ میں ہی اپنی گرم گرم منی اگل دی۔۔ میری سوجی اور چھلی ہوئی گانڈ پر گرم گرم منی کی دھاریں گرنے سے مجھے تھوڑا سا سکوں مل رہا تھا اسی طرح کوئی دو گھنٹے تک وہ مجھے چودتے رہے۔ مختلف پوزیشن بدل بدل کر۔۔ جی بھر کے انھوں نے مجھے چودا۔ جی بھر کے انھوں نے میری چوت اور گانڈ ماری۔ کبھی میری گانڈ میں انھوں نے پانی نکالا۔۔ 404 | Page اور کبھی میری چوت میں ۔۔۔ آخر میں انھوں نے مجھے نیچے اپنے سامنے بٹھایا۔ اور مجھے اپنے دونوں ہاتھ انکے سامنےپھیلانے کو بولا ۔۔ دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر ۔۔۔ میں نے ویسا ہی کیا۔۔۔ اب دونوں نے اپنے لوڑوں کو میرے ہاتھوں پر ملنا شروع کر دیا۔۔۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں انکے لوڑوں سے منی کی دھاریں ایک بار پھر میرے ہاتھوں کے پیالے میں گرنے لگی۔۔ جمع ہونے لگیں ۔ جب اچھے سے انکے لوڑے خالی ہو گئے تو مرلی بولا۔۔ چل رنڈی اب اسکو چاٹ جا۔۔۔ میں نے حیرانی سے انکی طرف دیکھا۔۔ جب دیر کی تو مرلی نے مجھے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا۔۔ تو میں نے جلدی سے اپنے ہاتھوں پر پڑی ہوئی منی کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ مجھے بہت ہی گند الگ رہاتھا۔۔۔ مگر میں مجبور تھی۔۔ اور پھر ان دونوں کی منی میں پوری چاٹ گی ۔۔ صرف ہاتھ گندے رہ گئے۔ وہ راجو نے میری کلائیوں سے پکڑ کر میرے چہرے پر مل دیئے۔۔۔ اور پھر مجھے چھوڑ دیا۔ مجھ میں اٹھنے کی ہمت بھی نہیں تھی ۔۔۔ ان دونوں نے کپڑے پہن لیے۔۔ اور پھر مجھے بھی انھوں نے ہی کپڑے پہنائے ۔ مگر بنا انڈر گارمنٹس کے۔۔۔ اور بنا مجھے اپنا جسم اور چہرہ دھونے کی اجازت دیئے۔۔۔ تب و کرم نے راجو کو کہا کہ وہ مجھے میرے گھر چھوڑ آئے۔ اور مجھے اگلے حکم کا انتظار کرنے کا بولا۔ مرلی اور راجو مجھے بازوں سے پکڑ کر باہر لائے تو جو گارڈ باہر کھڑا تھا۔ وہ میری حالت دیکھ کر ہنسنے لگا۔۔۔ 405 | Page گارڈ۔ بہت ہی کمینے ہو تم لوگ یار۔ دیکھو کیا حالت کر دی ہے اس معصوم سی لڑکی کی ۔۔۔ راجو بولا۔ یہ مادر چود معصوم نہیں ہے۔ بہت بڑی رنڈی ہے۔۔۔ بہت مزہ دیتی ہے یار۔ گارڈ۔ یار مجھے بھی تو چودنے دیتے نا۔۔۔ اکیلے ہی مزے لے گئے ہو۔۔۔ تھوڑی دیر رک جاؤ میں بھی جلدی سے اپنا پانی نکال لوں۔۔۔ میں چلائی ۔ نہیں نہیں ۔۔ پلیز ۔۔ اب نہیں ۔۔ اب اور نہیں ۔۔ گارڈ میرے مموں کو مسلتے ہوئے بولا۔ تو میرا نمبر کب آئے گا۔ بس تھوڑی سی دیر کی ہی بات ہے۔ میں ۔۔ نہیں پلیز۔۔ آج نہیں۔ پھر کر لینا ۔ ا ب مجھ میں ہمت نہیں ہے۔ میری بات پر وہ تینوں ہنسنے لگے۔۔۔۔ پھر مجھے گاڑی میں بٹھایا۔۔۔ اور میرے گھر کو چل پڑے۔ راستے میں ہوا لگنے سے میرے چہرے پر گری ہوئی منی سوکھ گئی ۔۔ اور میرا چہرا مجھے اکڑ اہوامحسوس ہورہا تھا ۔ گھر لا کر وہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔ اور میں کسی نہ کسی طرح اپنے کمرے میں آگئی ۔۔ یہ تو شکر تھا کہ 406 |Page جمشید 3 دن کے لیے ٹور پر گئے ہوئے تھے دوسرے شہر ۔۔ ورنہ میں اپنی یہ حالت ان کو کیسے دکھا پاتی ۔۔ اور کیسے انکاسامناکرتی۔۔ اور اپنی اس حالت کی وجہ کیا بتاتی ۔۔ اور آج دو دن کے بعد و کرم کا فون آیا ہے اس نے مجھے کہا ہے کہ میں ایک پارلر پر جاؤں ۔۔۔ ہما۔۔ کونسے پارلر پر۔۔ اور کس لیے وہاں جانا ہے۔۔ نیلوفر ۔۔۔ وہ بولا کہ مجھے ان کے لیے وہاں جا کر کام کرنا ہو گا۔۔۔ جب جب وہ کہیں گے ۔ ہماء ۔ لیکن کیا اس نے کوئی ایڈریس یا نام بتایا ہے اس پارلر کا۔۔۔ نیلوفر۔۔ ہاں بتایا ہے۔۔۔ V.I.P Beauty Parlour & Massage Centre 407 |Page
  15. ہی ہی ہی چلیں جی آپ کا تو صاف ہے ناں ؟ میری اگر صاف نہ بھی ہوئی تو کیا ہے ؟ آپ کر دیں گے ناں میری اچھی طرح سے صاف سوچ
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status