Jump to content
URDU FUN CLUB

DR KHAN

Co Administrators
  • Content Count

    9,017
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1,262

DR KHAN last won the day on October 20

DR KHAN had the most liked content!

Community Reputation

18,476

About DR KHAN

  • Rank
    Best Writer

Identity Verification

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

57,442 profile views
  1. ارے جناب کہانی پڑھیے اور پھر جانیے کہ میں نے کس کو ٹارگٹ کیا ہے۔ میرا ٹارگٹ ابھی کسی پہ واضع نہیں۔ ہائی فائی کلاس اور لوئر مڈل کلاس سب کو میں نے موضوع بنایا ہے۔ کہانی کا مقصد ذہن کو کھولنا ہوتا ہے کسی کو نشانہ بنانا نہیں۔
  2. کالج کلز ۔۔۔اردو فن کلب کا نیا سلسلہ وار ناول ہے۔جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہو گا۔جسے 14 اگست 2021 کے موقعہ پر ڈاکٹر فیصل خان کے قلم سے فورم پر پوسٹ کیا جارہا ہے ۔ اس کی پہلی قسط فری سیکشن میں بطور تعارف مکمل کی جائے گی ۔ اور دوسری قسط سے یہ سیئریل ناول پیڈ فائل کے طور پر دستیاب ہو گا۔۔ فری ممبرز کو چونکہ اس سلسلہ تک رسائی حاصل نہیں ہو گی ۔ اسی لیئے اس کے کچھ صفحات بطور تعارف یہاں پوسٹ کیئے جا رہے ہیں۔اپنے کمنٹس سے ہمیں آگاہ کریں کہ آپ کو یہ سلسلہ کیسا لگا۔تمام ممبران کو فورم کی طرف سے جشن آزادی مبارک ہو۔
  3. اس کے بعد دو اقساط شائع ہو چکی ہیں۔ ایڈمن آپ کو طریقہ کار بھیج دیں گے۔
  4. بہت جلد ہی آپ لوگوں کے سامنے کھپرو کی ملکہ کی نئی قسط شائع ہو گی۔ انتظار کیجیے نئی سنسنی خیز قسط کا۔
  5. میں کم و بیش دس سال سے لکھ رہا ہوں اور اب ایسا لگتا ہے کہ لکھنے کا مزید کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں ایک انتہائی مصروف انسان ہوں کیونکہ بےشمار پیشہ ورانہ مصروفیات ہیں مگر ایک سلسلہ اور لکھنے کا جو رشتہ بنا تھا، اس کو قائم رکھنا میں نے خود پہ ازخود فرض کر رکھا تھا۔ ہونے یہ لگا ہے کہ اتنی محنت اور اپنے آرام کے لیے مختص وقت سے گھڑیاں چرا کر جب میں کچھ لکھتا ہوں تو وہ ڈیٹا چوری کر کے دوسرے ممبران کو بیچا جاتا ہے۔ اب تو خود مجھے بھی بیچا جانے لگا کہ میں خرید لوں اگر پڑھنا چاہوں تو۔ ایسی چوری روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ لکھنا ہی بند کر دیا جائے۔ان لوگوں کو جب نیا کچھ ملے گا نہیں تو کہانی آگے کیسے بڑھے گی؟ یوں ایک نہ ایک دن ان کا چرایا ڈیٹا بےسود ہو جائے گا۔ میں اس فورم کے لیے لکھ رہا ہوں اور لکھتا رہوں گا بس شئیر نہیں ہوگا جب تک کہ ہمیں ایس ممبران نہیں مل جاتے تو اردوفن کلب کے سب سے قریبی رفقا ہیں اور وہ ایسے چوری ڈیٹا کی بجائے یہیں پہ کہانیاں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔تمام نیا ڈیٹا انہی سے شئیر کیا جائے گا۔ شکریہ
  6. ارے بھائی اتنا غصہ؟ کیا ہو گیا جناب؟ بات دراصل یہ ہے کہ جناب ایڈمن ان دنوں پردیس کی اپڈیٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کل سے سفر میں ہیں ۔ میں اور وہ بھی فورم کی بجائے واٹس ایپ پہ رابطے میں ہیں۔ تاخیر کے لیے معذرت، پریشان مت ہوئیے، کہانی ملے گی اور اگر نہ ملی تو میں خادم ہوں آپ کا میں آپ کو کہانی دینے کا پابند ہوں۔
  7. کرونا وائرس اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کو عالمی وبا کا درجہ دیا جا چکا ہے۔ کرونا وائرس سے ہزاروں کی تعداد میں اموات ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں بھی کرونا وائرس آ چکا ہے اور بدقسمتی سے ہم اس سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عوام میں سنجیدگی اور شعور کا فقدان ہے۔ یہ تھریڈ اس لیے شروع کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے متعلق معلومات کو یہاں شئیر کیا جائے تاکہ سبھی لوگ اس سے رہنمائی حاصل کر سکیں اور اپنے بچاؤ کی کوشش کریں۔ کرونا وائرس ایک وائرس ہے اور دنیا میں وائرس کی کوئی دوا نہیں ہوتی۔ وائرس کے خلاف جسم میں قدرتی طور پہ قوت مدافعت ہوتی ہے اور جسم خود سے اس سے صحت یاب ہو جاتا ہے۔ وائرس کے خلاف صرف ویکسین تیار ہوتی ہیں جن میں وائرس کمزور،غیر فعال یا مردہ حالت میں ہوتے ہیں۔ ان کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے، یہ جسم کو وائرس کے لیے تیار کرتے ہیں اور بیماری آنے سے قبل ہی جسم کو بیماری کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے پہ مجبور کرتے ہیں۔ چونکہ یہ کمزور،مردہ یا غیر فعال ہوتے ہیں تو بیماری نہیں پیدا کرتے۔ کرونا کا وائرس بھی ایسا ہی ایک وائرس ہے جو کہ کم و بیش ایک سو سال سے پایا جاتا ہے اور ہمیں فلو جیسی علامات سے دوچار کرتا ہے۔ جس سے ہم صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ وائرس بھی باہمی اختلاط سے اپنی ہیت تبدیل کرتے ہیں اور ان کے خلاف موثر پچھلی تمام اینٹی باڈیز غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ جسم میں ان کے خلاف کوئی قوت مدافعت نہیں ہوتی تو جسم صحت یاب نہیں ہو پاتا۔ کرونا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟ خوش قسمتی سے کرونا وائرس ہوا میں نہیں ہوتا،کم ازکم ابھی کی تحقیق سے یہی ثابت ہوا کہ کرونا رابطے سے پھیلتا ہے۔ رابطہ یعنی وائرس جسمانی رابطے سے ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہو، ہاتھ ملانے،چھونے یا بیمار شخص کے لعاب،کھانسی یا چھینک کے چھینٹوں سے یہ ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہو جاتا ہے۔ ایک متاثرہ شخص سے ہاتھ ملانے سے وائرس ایک ہاتھ سے دوسرے تک چلا جاتا ہے۔اگر ہاتھ کو دھو لیا جائے،قبل اس کے ہاتھ کو منہ ،ناک یا آنکھ تک لے جایا گیا ہو تو وائرس کا پھیلاؤ رک جاتا ہے۔ اسی طرح ایک متاثرہ شخص کی کھانسی کو اگر ماسک سے ڈھانپا ہوا ہو تو بھی وائرس منتقل ہونے سے بچ جائے گا۔ یہ کام کیونکہ مشکل ہے کیونکہ متاثرہ شخص کھانس کر یا چھو کر ہر چیز کو وائرس زدہ کر دے گا اور ان چیزوں کو جو جو چھوئے گا وہ بھی اس وائرس کو منتقل کر لے گا۔ اسی لیے سماجی رابطے سے گریز ہی اکلوتا حل ہے۔ جو جو فرد اپنے اندر کرونا والی علامات محسوس کرے وہ خود کو اکیلا کر لے تاکہ اس کی ترسیل کا باعث نہ بنے۔ جب سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگے تو اس کا ٹیسٹ کروائیں۔ ہر انسان دن میں بار بار ہاتھ دھوئیں، ہاتھوں کو بیس سیکنڈ تک ملیں تب پانی بہائیں۔ہاتھوں کو منہ،آنکھ اور ناک سے دور رکھیں۔ سینی ٹائزر کا استعمال کریں۔ اگر دستیاب نہ ہو تو ڈیٹول،صابن،سرکہ اورسپرٹ کو مکس کر کے بنا لیں۔ سینی ٹائرز سے ہر اس سطح کو صاف کریں جہاں آپ کے ہاتھ لگتے ہوں جیسے دروازے کا ہینڈل، گاڑی کا سٹیرنگ،ہینڈل،گئیر اور دیگر ہر وہ جگہ جس پہ ہاتھ لگتے ہیں۔ عمومی طور پہ وائرس کسی سطح پہ زیادہ دیر یعنی چند منٹوں سے گھنٹوں تک ہی زندہ رہ پاتا ہے تو ایسی چیزوں کو بھی سینی ٹائزر سے صاف کریں۔ ہم ایک گنجان آباد ملک کے باشندے ہیں،اس لیے جہاں تک ممکن ہو خود کو اکیلا کر لینے ہی سے بچت ممکن ہے۔باہر سے آتے وقت ہاتھوں کو دھوئیں،جس جس چیز کو چھوا ہے،اس کو سینی ٹائز کریں، جو سامان لائے ہیں، اس کو صاف کریں۔بچوں کو چھونے سے گریز کریں۔بزرگوں سے فاصلہ کریں،ان کو محفوظ رکھیں۔ اجتماعات سے سختی سے گریز کریں۔ اس سلسلے میں کوئی سوال ہو تو یہاں پوچھ سکتے ہیں۔
  8. جمعے کو پردیس کی اپڈیٹ کرنے کے بعد ہم آہستہ آہستہ باقی سلسلوں پہ بھی کام کریں گے۔
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status