Jump to content
URDU FUN CLUB

Geegenious

Basic Cloud
  • Content Count

    76
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    3

Geegenious last won the day on July 28

Geegenious had the most liked content!

Community Reputation

110

2 Followers

About Geegenious

  • Rank
    Geegenious

Identity Verification

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

618 profile views
  1. بھائی جان آپ کہانی کو انجوائے کرو سکول کا کیا کرنا ہے آپ نے
  2. بچپن سے اب تک، قسط نمبر 27، کالی نے فارغ ہوتے ہوئے میرے نچلے ہونٹ کو شدت سے کاٹا تھا جس وجہ سے میرا ہونٹ تھوڑا کٹ گیا تھا اور کالی کے دیکھنے پر پتا چلا اور پھر درد کا احساس بھی ہوا لیکن جب کالی نے اپنے دانتوں میں میرے ہونٹ کو دبایا ہوا تھا تب بس ہلکا سا درد احساس ہوا تھا پھر ختم ہو گیا تھا، اور میرے ہونٹ پر کٹ اتنا گہرا لگا تھا کہ خون بھی بہت نکلا اور میرے ہی ہونٹ سے نکلا خون کالی کے ہونٹ بھی لال سرخ کر گیا، جس وجہ سے ہم دونوں بیک وقت چلائے تھے خووووون، کالی نے میرے ہونٹوں پر خون دیکھا تو اپنی حرکت پر شرمندہ ہوئی اور اپنے چہرے پر احساس ندامت کے تاثرات بھی لے آئی، پھر جلدی سے اپنے ڈوپٹے کے پلو سے میرے ہوںٹوں پر لگے خون کو صاف کرنے لگی لیکن میں کمبخت ابھی بھی اسی کاٹے جانے والے احساس میں ڈوبا ہوا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جب کالی نے اپنے دانت میں میرے ہونٹ کو جکڑا ہوا تھا اس وقت درد کیوں نہیں ہوا اب کیوں ہو رہا ہے اور ابھی بھی ہلکا ہلکا خون نکل کر میرے حلق میں اتر رہا تھا لیکن اس کی پرواہ کسے ہوتی جب ایک ابلا ناری اپنے پلو سے یہ کام سر انجام دے رہی ہو تو، خیر کالی نے میرے ہونٹ سے خون صاف کر تو دیا لیکن لالی ابھی بھی باقی تھی میرے ہونٹوں پر، اور مزا ابھی مزید آنا تھا کیونکہ کالی نے اپنے ڈوپٹے کے پلو کے تھوڑے سے حصے کو اپنے منہ میں لیا اور اپنے تھوک سے گیلا کیا پھر وہی گیلا پلو میرے ہونٹ پر لگایا اور ہونٹون پر لگی لالی کو صاف کرنے لگی، افففف ظالم جنازہ اٹھوائے گی، اتنا پیار اور وہ بھی پہلی بار، زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا میرے ساتھ، ورنہ تو کبھی میری ماں نے بھی اتنا پیار نہیں جتایا، خیر ایموشنل ہو کر رونے ہی نہ لگ جاوں، کالی نے میرے ہونٹ اچھی طرح صاف کر دیئے لیکن کوئی فائدہ نا ہوا کیونکہ میرے منہ میں مجھے اپنے خون کا ذائقہ ابھی بھی محسوس ہو رہا تھا لیکن میں نے زیادہ توجہ نہ دی کیونکہ جب سامنے شوخ حسینہ ہو تو کون پاگل زخموں کو مرحم لگانے بیٹھ جائے، اب میری باری تھی کالی کے ہونٹوں پر لگے اپنے خون کو صاف کرنے کی،میں فورن کھڑا ہوا اور کالی کے ہاتھ کی نازک کلائی کو بڑے ہی آرام سے پکڑا اور اپنی طرف کھینچتا گیا کالی بھی شرماتی ہوئی میرے سینے سے آ لگی اور اپنے چہرے کو میرے سینے میں چھپانے لگی، یار کیا بتاوں دوستوں کالی جیسی لڑکی کی قربت ہو تو بندہ لمحہ لمحہ کو محسوس کر کر کے گزارتا ہے اور یہی حال میرا تھا، اس دن کالی کے ساتھ میراایک ایک سیکیںڈ پر لطف تھا، کالی اپنا چہرہ میرے سینے میں چھپا کر میرے سینے کو اپنی سانسوں سے بھاپ دے رہی تھی اور مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ساری گرمائش میرے دل میں جزب ہو رہی ہے، اور یہ گرمائش مزید ناقابل برداشت ہوتی گئی، اور میں نے کالی کی تھوڑی کو اپنے انگوٹھے اور شہادت والی انگلی سے قابو کر کے کالی کا چہرہ اوپر کیا اور کالی کے ہونٹوں کی لالی جو میرے ہی خون سے اب جم چکی تھی اس پر اپنی زبان پھیر کر کالی کے ہونٹوں کو تر کرتا پھر اپنے ہونٹوں کی مدد سے چوس لیتا یاااااار کیا سواد تھا یار مت پوچھو، آج تو واقع ہی کرم ہو گیا تھا جو کالی کی قربت ملی، کالی کے ہوںٹ چوس چوس کر گیلے کر دیئے اور کالی بھی مزے لے لے کر اپنے ہونٹوں کو میرے سپرد کئے مدہوش تھی، اب میرا برداشت کا مادہ لبریز ہو رہا تھا اور کالی کے ہونٹوں کو چھوڑنے کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا ہونٹوں سے ہونٹ ملائے رکھے اور کالی کے ریشمی ڈوپٹے کو کالی کے کندھے سے سرکانا شروع کر دیا کالی نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میری مدد کی اور ڈوپٹے سے آزادی حاصل کی، ڈوپٹہ ہٹا کر کالی کے نرم ممے کے اوپر اپنی ہتھیلی رکھ دی اور سلو سلو دبانا شروع کر دیا ممے کا دبنا تھا کہ کالی میرے ہونٹوں کو مزید زور سے چوس لیا اور چوستی گئی، اب میرا ایک ہاتھ کالی کے ممے کو دبا رہا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ کالی کی کمر پر تھا اور کمر کو سہلارہا تھا ہم دونوں ہی مدھوش دنیا جہاں سے بے خبر اپنی مستی میں گم طلاطم گم، نا وقت کا احساس نا جگہ کا احساس نا کسی کے آنے کا ڈر، بس ایک دوسرے میں پیوست ہونے کی کوشش میں لگے رہے، اب میں اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتا ہوا نیچے کی طرف بڑھا، مطلب جس ہاتھ سے کالی کا مما دبا رہا تھا اس کو آرام سے ممے سے سرکایا اور کالی کے پیٹ کی طرف روانہ کر دیا پیٹ کو تھوڑا سا سہلا کر پھر مزید نیچے کر دیا اور آگے سے کالی کی چھوٹی سی قمیض کا پلو پکڑ لیا، پھر یہی عمل دوسرے ہاتھ سے بھی دوہرایا میرا جو ہاتھ کالی کی کمر سہلا رہا تھا اس کو نیچے کی طرف بڑھا دیا، مجھے ایسا لگا جیسے میرا ہاتھ ایک گاڑی ہے اور سیدھی سڑک پر گاڑی چل رہی ہے پھر ایک گہری کھائی آ گئی کھائی سے گاڑی نکالی تو افففف یہ کیا اچانک سے پہاڑی آ گئی اووووہ میں مر گیا میرا ایکسیڈنٹ ہوجانا تھا ابھی اگر سٹرینگ پر قابو نا ہوتا، کیا ہی بناوٹ تھی کالی کے چوتڑوں کی یار کیا غضب کے ابھار تھے، میں واقع ہی مرتا مرتا بچا جب میرا ہاتھ کالی کے روئی سے نرم گانڈ کے دونوں ابھاروں کو ٹچ ہوا کوئی مثال ہی نہیں بن رہی یار کہ کیا لکھوں، ابھی میں نے کالی کی گانڈ پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ اچانک سے کالی کا ہاتھ کہیں سے آ ٹپکا اور میرے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی گانڈ سے ہٹا کر اپنی کمر پر رکھ دیا، افففف یار کیا ظلم کر دیا کالی تم نے کیوں کیا ایسا، مجھے لطف اندوز تو ہونے دیتی، اب پھر سے کمر کو سہلاتا ہوا اپنا ہاتھ نیچے لے کر گیا اور تیزی سے کالی کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کالی کی قمیض کا پیچھے سے پلو پکڑ لیا پھر دونوں ہاتھوں کو برابر حرکت دے کر کالی کی قمیض کے دونوں پلووں کو اوپر کرنا شروع کر دیا ابھی کالی کا آگے سے پیٹ ہی ننگا ہوا تھا کہ کالی نے میرے ہونٹوں پر اپنی گرفت ڈھیلی کر دی اور اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر روک دیا میں نے ہلکا سا زور لگایا تو کالی نے بھی ویسا ہی زور لگایا، اب یہاں معاملہ مجھے گڑ بڑ ہوتا نظر آیا کہ کالی اگر چدوانے آئی ہے تو روک کیوں رہی ہے، میں نے پھر زور لگایا تو کالی نے بھی ویسا ہی زور ہی لگایا اور اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں سے بھی الگ کر دیا اور میری آنکھو میں دیکھنے لگی، جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو، کالی بولتی اس سے پہلے میں بول پڑا کیا ہوا سلمہ، کوئی پریشانی ہے؟؟؟؟ کالی نے کوئی جواب تو نہ دیا بس اپنی منڈی نا میں ہلا دی، میں پھر بولا، اگر نہیں دل مانتا تو کوئی بات نہیں اتنا ہی کافی ہے، میرا یہ کہنا تھا کہ کالی پھر سے میرے سینے میں اپنا منہ چھپا لیا اور بالکل ہلکی آواز میں بولی مجھے شرم آتی ہے، اوئے میں مر جاواں تیری ادا پر کالی، تیری شرم ساڈی جان کڈن لگی اے، کالی کا شرمانا مجھ میں احساس محبت پیدا کر گیا اور میں نے بھی کالی زور سے اپنے سینے سے لگا لیا مطلب اپنی دونوں بازووں کے گھیرے میں لے لیا اور کالی نے بھی ایسا ہی کیا، ہم گلے لگے جسم سے جسم ملا کر سکون لے رہے تھے، اب آگے کیا کرنا تھا مجھے تو سمجھ نہیں آرہا تھا، پھر بھی حوصلہ کر کے کالی سے پوچھ ہی لیا، گھر جانا ہے؟؟؟؟؟ میرا یہ پوچھنا تھا کہ کالی نے مجھے اپنی بانہوں میں زور سے بھینچ لیا اور میرے تنے ہوئے لن کو اپنی رانوں میں جکڑ کر دبا دیا مجھے میرا جواب مل گیا تھا، میں نے پھر سے شروع سے شروع کیا پھر سے کالی کا چہرہ اوپر کیا اور گلاب کی پنکھڑیوں کو اپنے ہونٹوں سے چوما اور پھر دوبارہ سے ہمارا کھیل شروع ہو گیا، ہونٹ چوسائی کا، ہونٹ چوستے چوستے میں نے کالی کو آرام سے بیڈ کی طرف کی گھمایا اور پھر کالی کو بیڈ پر لٹانے کے لیئے ہلکا سا کالی کے کندھوں پر پش کیا تو کالی نیچے ہو گئی اور بیڈ پر بیٹھ گئی ہمارے ہونٹ جدا ہوگئے، میں کالی کر برابر میں بیٹھ کر کالی کے چہرے کو اپنی طرف کیا پھر سے ہونٹوں کا ملاپ شروع ہو گیا، پھر اپنا ایک ہاتھ کالی کی گردن کے پیچھے سے گھما کر دوسری سائیڈ سے کندھے پر رکھ دیا اور اپنا ایک ہاتھ کالی کے ممے پر رکھ دیا اور ہلکا ہلکا دبانے لگا اور پھر آرام سے کالی کے ممے پر دباو بڑھاتا گیا اور کندھے والے ہاتھ کو ڈھیلا چھوڑتا گیا میرا ایسا کرنا سفل ہوتا نظر آ رہا تھا کیونکہ کالی بھی نیچے ہوتی چلی گئی اور ہم دونوں ہی اتنا نیچے ہوگئے کے بیڈ پر آرام سے لیٹ گئے، اور اب ہم دونوں آمنے سامنے کروٹ میں لیٹے ہوئے تھے اور ہمارے پیر بیڈ سے تھوڑا اوپر ہوا میں جھول رہے تھے، میں نے کالی کے ہونٹوں کو چھوڑا اور میرا جو ہاتھ کالی کے ممے پر تھا اسے کالی کی بغل میں گھسایا اور اور اپنے ایک پیر کو بیڈ کی نکڑ پر رکھ کر پریس کیا اور پھر سرگوشی میں کالی کو کہا تھوڑا اور اوپر ہو جاو ایسے تھک جاو گی، کالی بیچاری شرماتی ہوئی ہلکا سا مسکائی، جیسے سمجھ گئی ہو کے اب آگے کیا ہونے والا ہے، میرا ہاتھ جو کالی کی بغل میں تھا اسے اوپر کی طرف زور دیا تاکہ کالی آسانی سے اوپر کو ہو جائے اور ایسا ہی کالی تھوڑی کھسک کر اوپر ہوئی تو میں بھی اس کے ساتھ بیڈ پر اوپر کی طرف کھسک آیا اور اب مکمل طور پر ہم دونوں بیڈ پر آ چکے تھے،اب میں نے بغل سے ہاتھ نکال کر کالی کی کمر پر لے گیا اور پھر اپنی طرف پش کر کے کالی کے مموں کو اپنے سینے میں دھنسا دیا اور پھر سے ہونٹوں سے ہونٹوں کا ملن ہو گیا، اور میرا لن کالی کے چڈوں میں گھسنے کی جگہ بنانے لگا لیکن بھلا ہو کالی کا اس نے خود ہی اپنی ٹانگ کو اوپر اٹھا کر میری ران پر دکھ دیا تاکہ میرے لن کو مکمل آزادی ملے، ہاااااااں اب آیا نا سرور، میں جلدی سے اپنا ہاتھ کالی کی کمر سے ہٹا کر کالی کی موٹی ران پر دیا افففف کیا ہی مخملی ران تھی ابھی تو کپڑے بھی نہیں اترے تھے کے مجھے لزت سرور سے میٹھی میٹھی چاشنی مل رہی تھی ،اب میں کالی کی ران پر ہاتھ کو پھیرنے لگا اور اپنے ہاتھ کو ران پر پھیرتے پھرتے کالی کی گانڈ کی طرف لے جانے لگا، اور سوچ بھی رہا تھا کہ اب دوبارا نہ پین یکی کر دے، لیکن نہیں اب کی بار کالی ایسا کرنا تو دور بلکہ جیسے ہی میرا ہاتھ کالی کے ایک چوتڑ پر پہنچا تو کالی نے اپنی گانڈ کو کھسکا کر اپنی پھدی کو میرے لن پر دے مارا افففف کیا ہی نشے کا جھٹکا تھا یار، میں نے پھر سے ایسے ہی دبایا تو کالی نے پھر سے وہی عمل کیا اپنی پھدی کو میرے لن پر دبا دیا، مجھے منزل آسان لگ رہی تھی اب، اور حوصلے بلند و بالاتر ہوتے نظر آ رہے تھے، اب یہی عمل ایک ردھم میں سراپا ہوتا رہا اور میرا لن بھی جھٹکے کھا کھا کر کپڑوں کے اوپر سے ہی کالی کی پھدی کا سرور جزب کر رہا تھا، اب مزید کالی کی گانڈ کے اور میرے ہاتھ کے درمیان بس ایک کپڑے کا فاصلہ تھا لیکن وہ فاصلہ مجھے فاصلہ لگ ہی نہیں رہا تھا، لیکن چسکا تو پھر بھی لینا تھا نا، آخر منزل تک تو پہنچنا تھا، میں نے اب مزید آگے بڑھنا شروع کر دیا پہلے کالی کو اپنے ساتھ زور سے چپکایا پھر ہاتھ کو مزید حرکت دی اور کالی کی ننگی کمر پر رکھا کیونکہ لیٹنے سے قمیض کا پلو ہٹ چکا تھا جو ننگی کمر کے لمس کو محسوس کر کے پتا چلا، کالی اپنی ننگی کمر پر میرا ہاتھ محسوس کیا تو پھر سے اپنی گانڈ کو جھٹکا دیا اور اپنی پھدی کو میرے لن پر دبایا، ننگی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں اپنے ہاتھ کو نیچے کیا اور شرارے کے نیفے میں اپنے ہاتھ کی انگلیاں گھسا دی، کالی کا پھر سے وہی رد عمل میں نے مزید ہاتھ کو کالی کے شرارے میں گھسانا چاہا تو میرے ہاتھ کی انگلیا کالی کی گانڈ کی درمیانی لکیر پر جا لگیں، اففففف ایسا لگا جیسے بجلی کی ننگی تار کو پکڑ لیا ہو، کیونکہ میرے ہاتھ کی درمیانی انگلی ڈائریکٹ کالی کی گانڈ کے سوراخ پر جا لگی میری انگلی کا کالی کی گانڈ کے سوراخ پر ٹچ ہونا تھا کہ کالی نے مجھے زوردار طریقے سے بھینچ لیا اور ایسے تڑپنے لگی جیسے کوئی کرنٹ کھا کر تڑپتا ہے اور کالی کے تڑپنے کی وجہ سے ہی مجھے لگا جیسے میں بجلی کی ننگی تار کو چھیڑ بیٹھا ہوں، میں نے اپنے ہاتھ کی انگلی کو کالی کی گانڈ کے سوراخ سے ہٹایا اور پھر دوبارا سے وہی عمل دھرایا، انگلی کو کالی کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا، اس بار کالی نے مجھے زور بھینچا وہ الگ تھا لیکن میرے ہونٹوں کی مت پھر سے مار دی، میرا نچلا ہونٹ جو پہلے سے زخمی تھا دوبارا سے کالی کی پکڑ میں آگیا، مجھے درد کی ٹیس اٹھی لیکن وہ کوئی معنی نہ رکھنے کے برابر تھی، اب میرا ہاتھ کالی کی گانڈ پر کمال دکھاتا رہا میری انگلی کالی کی گانڈ کے سوراخ کو وقفے وقفے سے سہلاتی رہی اورکالی میرے ہاتھ کے کمال سے مزے لے لے کر مجھے اپنا جوش دکھا رہی تھی، مزید برداشت بھی مشکل پیدا کر رہی تھی کیونکی میرا لن بھی اب مجھے پھٹنے والا محسوس ہو رہا تھا کالی کی پھدی کی گرمائش جزب کر کر کے اپنے جزبات سے بے قابو ہو رہا تھا، اب مزید بے قابو ہونا مناسب نا سمجھا اور اپنے ہاتھ کو کالی کی گاںڈ پر پھیرتا ہوا دوبارا کالی کے شرارے کے نیفے کو پکڑا اور شرارے کو اتارنا شروع کر دیا کالی کا ایک چوتڑ ننگا ہو گیا کالی کا رد عمل دیکھنے کے لیئے اپنے ہاتھ کو روک دیا جب کالی کی طرف سے کوئی ایکشن نا ہوا تو حوصلے بلند ہوئے اور اپنے ہاتھ کو کالی کے ننگے چوتڑ پر پھیرتے ہوئے شرارے کے نیفے کو قابو کیا اور اسی کی سیدھ میں ہاتھ کو نیچے کی طرف بڑھایا اور دوسرے چوتڑ تک پہنچ کر بریک لگائی اور پھر نیفے کو زور دے نیچے سے کالی کا شرارہ اتارنا چاہا، واہ شہزادی لگی ایں کالی، کالی کو محسوس ہو گیا کہ میں کیا کرنا چاہ رہا ہوں تو کالی نے اپنی ران سے میری ران پر زور دیا اور اپنی گانڈ کو اٹھا دیا اور میں نے جلدی سے کالی کی گانڈ کو مکمل ننگا کر دیا، ہونٹوں سے ہونٹ بدستور جڑے ہوئے تھے جس کی وجہ سے گانڈ کا نظارا نا کر سکا چل کوئی نہ کونسا اب دور ہے، نظارا بھی مل جائے گا، کالی کے شرارے کو کھسکایا تو رانوں تک آ کر پھر سے پھس گیا کیونکہ کالی کی ایک ران میری ران کے اوپر تھی، میں نے کالی کی ننگی ران والے حصے کو پکڑا اور اپنی ران سے اٹھا کر سیدھا کیا کالی نے بھی بھرپور ساتھ دیا اپنی ران کو سیدھا کرنے میں، مجھے آسانی ہوئی اور شرارے کو سکون سے گھٹنوں کے پار کر دیا گٹھنوں کے پار ہوا تو باقی کی رہی سہی کسر کالی نے خود ہی پوری کر دی اپنے پیروں سے شرارے کو نکال باہر کیا، کالی اب نیچے سے ننگی تھی یہ دیکھنے کے لئے میں اب بے تاب ہو گیا کالی کی ننگی ران پر اپنے ہاتھ کو چلاتا ہوا گانڈ کی ایک پھاڑی تک لے آیا اور اپنے ہونٹوں کو کالی کے ہونٹوں سے آزاد کرنا چاہا تاکہ کالی کا نچلا حصہ دیکھ سکوں لیکن وہ سمجھداری کر گئی یا شرم سمجھ لو اپنے ہاتھ سے میرے چہرے کو وہیں جام کر دیا تا کہ میں نیچے نا دیکھ سکوں اور میرے ہونٹوں کو بھی اپنے ہونٹوں کی گرفت میں رکھا میں نے پھر چھڑانا چاہا لیکن کالی نے پھر سے وہی عمل دھرایا جب تیسری بار کوشش کی تو کالی نے میرے ہونٹوں کو چھوڑا اور بڑے ہی میٹھے انداز میں التجا کی، پلیز دانش نیچے مت دیکھو نااااااا، آاااائے ہاااااائے، مر جا دانش یہیں پر بلکہ مرتا مرتا بچا دانش، پھر مرتا کیا نا کرتا، بس مسکرا کر کالی کا شرمانا دیکھا اور پھر سے کالی کے شربتی ہونٹوں سے شہد کھینچنے لگا ، اور اپنے ہاتھ سے ہی محسوس کرنے لگا کہ کیسا منظر ہو گا نیچے سے اب جو بھی کرنا تھا میرے ہاتھ نے ہی کرنا تھا، اور پھر اسی کے ذریعے کرنا شروع کر دیا، کالی کی ران کو سہلانا اور گانڈ کی پھاڑیوں کو باری باری دبانا پھر دبوچنا بھی شروع کر دیا اور پھر اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے کالی کی گانڈ کی لکیر کا بھی ناپ تول کرنے لگا اور بڑی انگلی سے گانڈ کے سوراخ کو سہلایا بھی، کالی کی سسکیاں میرے منہ ہی گردش کر رہی تھی اور کالی کا میرے ہونٹوں کو چوسنا بتا رہا تھا کہ کالی اب سرور میں ہے،میں نے اپنے ہاتھ کی بدولت کالی کی نچلے حصے کی دولت کو لوٹ مار کر پھر اپنے ہاتھ کا رخ اپنی شلوار کے ناڑے کی طرف کیا اور ایک ہی جھٹکے سے ناڑا کھول کر اپنے لن کو آزاد کیا اور پھر کالی کی ران کو اٹھا کر اپنی ران پر رکھ کر دوبارہ سے اپنے ہاتھ کو لن پر لے آیا اور لن کو پکڑ کر کالی کی آبشار بہاتی پھدی پر رکھ دیا، ننگا لن ننگی پھدی سے ملا تو دونوں کو شدت سے جھٹکا لگا مجھے تو جھٹکا لگا کیونکہ میرا لن جہاں لگا وہاں آگ نہیں بلکہ پگھلتا لاوا تھا لاوا، کالی کو جھٹکا لگا کیونکہ اس ننگا لن لگا، کالی نے اپنے نچلا ہاتھ گولی کی سپڈ سے سیدھا کیا اور دستی میرے لن کو پکڑا، لن کو پکڑ کر مٹھی میں دبایا اور پھر چھوڑ دیا، افففف ظالم کیوں چھوڑ دیا اتنا نرم ہاتھ نازک ہاتھ لن پکڑ کر سائیڈ ہو گیا، کیوں ہوا، جب کالی نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا تو میں نے اپنے لن کو کالی پھدی کے دہکتے لاوے سے گرم کرنے لگا افففف بڑی گرمی تھی یار، پھدی سے نکلتے پانی میں، میری برداشت اب دم توڑ رہی تھی اورمیں نے آہستہ سے کالی کو بیڈ پر سیدھا کردیا اور خود بھی کالی کے اوپر آ گیا، لیکن مجال ہے اس لڑکی کی جو میرے ہونٹو کو الگ ہونے دے، نا دانش نا سوچی وہ نا ہالی، اے نئی چھڈے گی، کالی بیڈ پر کمر کے بل لیٹ گئ اور اب میں اس کے اوپر تھا میرا لن کالی کی آگ اگلتی ہوئی پھدی پر تھا اور رگڑ کھا رہا تھا کالی بھی اپنی گانڈ کو ہلا ہلا کر میرے لن کواپنی پھدی پر رگڑوا رہی تھی، میں نے اپنا ہاتھ نیچے کر کے اپنی بچی کچی شلوار کو بھی گھٹنوں تک کیا پھر پیروں کی مدد سے نکال باہر کیا اب آرام سے اپنے لن کو کالی کی پھدی سے رگرنے لگا، کالی نے اپنی لاتوں کو پھیلایا ہوا تھا جو سائڈ سے میری لاتوں سے رانوں سے ٹچ ہو رہی تھیں، اب میں نے کالی کی قمیض کو اپنے دونوں ہاتھوں سے چاک والی سائیڈ سے پکڑا اور ہلکا سا اوپر کیا تو قمیض نیچے سے پھسی ہونے کی وجہ سے اوپر نا ہوئی، کالی نے جلدی سے اپنا ایک ہاتھ میرے سینے پر رکھ کر مجھے اوپر کی طرف پش کیا میں نے اپنا سینا تھوڑا سا کمر کو خم دے کر اوپر اٹھایا تو کالی نے میرے ساتھ ہی اپنی کمر کو اٹھایا جس سے مجھے مجھے قمیض اتارنے کا راستہ مل گیا قیمض اوپر ہوئی تو مموں والی جگہ پر آ کر پھس گئی، میں نے مزید زور لگایا تو قمیض نے مموں کی سرحد پار کر لی کالی نے فورن اپنے دونوں ہاتھ میری بازووں سے گزارے اور مجھے کمر سے پکڑ اپنے اوپر گرا لیا، پھر ہلکا سا میرے ہونٹون کو چھوڑا اور بڑی ہی قاتلانہ ادا سے بولی، دانش وعدہ کرو دیکھو گے نہیں، اففففف یار تو مجھے ویسے ہی مار دے ترسا کیوں رہی ہے، یہ میرے دل کی آواز تھی، کہہ نہیں پایا، میں نے کالی کی بادامی آنکھوں میں دیکھا جو شرم اور لجا سے میرے جواب کا انتظار کر رہی تھیں، میں نے معصومیت سے دل ہر پتھر رکھتے ہوئے گردن ہلا کر کہا جو میری جان کا حکم، کالی پھر بولی، وعدہ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ میں نے بھی جواب دے دیا جی سلمہ آغا پکا وعدہ، کالی مسکرائی گالوں پر ڈمپل مزید گہرے ہو گئے، پھر آرام سے بولی اپنی آنکھیں بند کرو، مرتا کیا نا کرتا بند کرنی پڑی آنکھیں، میری بند آنکھیں دیکھ کر کالی بولی تم نے وعدہ کیا ہے اب ابھی آنکھیں مت کھولنا، میں بس گردن ہلائی ہاں میں، کالی پھر بولی اچھا تھوڑا سا اوپر کو ہونا پلیز، میں اپنے دونوں ہاتھ بیڈپر رکھے اور اپنا سینا اوپر کر دیا، مجھے بس ایک سسکی اور پھر کالی جسم کا اوپر والے حصے کی تھوڑی بہت حرکت محسوس ہوئی،پھر دو ہاتھ مجھے میرے سینے پر محسوس ہوئے اور پھر محسوس ہوا جیسے میری قمیض کے بٹن کھل رہے ہوں اور واقع ہی بٹن کھلے تھے،پھر مجھے میری قمیض اوپر اٹھتی محسوس ہوئی اور میرے ننگے پیٹ سے کالی کا ننگا پیٹ ٹچ ہوا اور قمیض میرے بغلوں تک آ کر رک گئ، اتنے میں کالی کی پھر آواز آئی انکھیں بند ہی رکھنا اور اپنی قمیض نکالو میں نے اپنے سینے کا وزن جب کالی کے سینے پر ڈالا تو دو نوک دار تیر میرے سینے میں کھب گئےاور میں نے کرنا کیا تھا وہ بھول ہی گیا ننگے مموں کا میرے سینے میں کھبنا تھا کہ اپنے میں ہوش ہو ہواس کھو گیا، اور شاید کالی کابھی یہی حال تھا،پھر میری بغلوں سے دو ننگی بانہیں کراس ہوکر میری کمر تک پہنچ گئیں اور کمر پر تھوڑا سا زور ہوا اور میں مکمل کالی کے اوپر گرتا چلا گیا، پھر وہی ننگی بازووں نے مجھے گھیرے میں لیا اور میرے کانوں میں سرگوشی ہوئی اب اتار بھی دو نا، یہ سننا تھا کہ مجے ہوشیاری آئی اور میں نے اپنے گلے سے قمیض نکال دی قمیض کا بازووں سے نکلنا تھا کہ کالی کی پھر آواز آئی آنکھیں بند ہی رکھنا پلیز، میں نے سخت لہجے میں بول دیا یار بند ہی ہیں آنکھیں جب وعدہ کیا ہے تو نہیں توڑوں گا یقین بھی رکھو تھوڑا سا، اچھا اچھا کہتے ہوئے کالی نے ایک ہاتھ سے میری گردن کو پکڑ کر اپنے کندھے پر کر دیا اور دوسرے ہاتھ کو بڑھا کر کچھ کھینچنے لگی، اب جس چیز کو کھینچ رہی تھی وہ بھی قریب آ گئی پھر کالی پہلے ایک پیر ہوا میں اٹھا، پھر دوسری طرف سے دوسرا پیرا اٹھا پھر دوسرا ہاتھ بھی اٹھا پھر اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کو تھوڑا اوپر نیچے کیا اور پھر رکھ دیئے، جب دونوں ہاتھ اور پیر نیچے ہوئے تو مجھے محسوس ہوا کہ ہمارے اوپر اب کمبل ہے، واہ شہزادی واہ بہت چالاک نکلی، ابھی یہی سوچ رہا تھا کالی نے اپنی گردن گھمائی اور میری کان کی لو اپنی زبان سے گیلا کیا اور پھر سرگوشی میں بولی کہ اب کھول لو آنکھیں ، میں نے آنکھیں کھول کر اپنا چہرہ اوپر کیا تو پایا ہم دونوں ننگے تو ہیں لیکن پھر بھی چھپے ہوئے ہیں، کالی نے شرارتی سی مسکان دے کر میری آنکھوں دیکھا اور پھر بولی، یقین نا ہوتا تو یہاں تک نا آتی اور اتنا نا کر گزرتی، پھر ہلکا سا مسکرائی اور اپنی گردن اٹھا کر پھر سے میرے ہونٹوں کو چوم کیا، اب واقع ہی بہت ہو گیا تھا میرا لن پھدی سے تال میل کرنے کے لئے بے تاب ہو گیا تھا اور مزید دیر کرنا مناسب نا سمجھا اور کام شروع کرنے کی سوچی، کالی نے پھر میری گردن کو دبوچ لیا تاکہ میں ممے بھی نا دیکھ سکوں لیکن پکڑنے اور دبانے سے نا روکا اور اب سچویشن ایسی تھی کہ ممے دبا بھی نہیں سکتا بس اپنے سینے پر ہی محسوس کر سکتا تھا، خیر اتنا مل رہا تھا غنیمت جانا اور اپنا ایک نیچے کیا اور اپنے لن کو پکڑ کر پھدی کے سوراخ کو ٹٹولنے لگا پھدی پہلے سے ہی گیلی تھی اور میرے لن کا ٹوپا بھی پھدی کے گیلے پانی بھیگ چکا تھا، اب میں اپنے لن کے ٹوپےکو پھدی پر رگڑ رگڑ کر سوراخ کا نشانا لگانے کے کئے اندازے سے تیر چلا رہا تھا، کالی نے ایک ہاتھ میری گردن سے ہٹایا اور نیچے لے گئی میں نے اپنے پیٹ کو اوپر کیا کالی کا ہاتھ میرے لن تک پہنچ گیا اور میرے لن کو پکڑ کر ٹوپے کو پھدی کے نشانے پر سیٹ کیا اور پھر ہونٹوں سے ہونٹ ہٹا کر بولی، آرام سے اندر کرنا،،،،، میں نے کالی کی بات سن کر آرام سے اپنی گانڈ کو زور دیا تو میرا ٹوپا پھدی کے اندر چلا گیا اور کالی چیخ نکل گئی، اور پھر آواز آئی آرام سے دانش درد ہو رہا ہے، میں تو حیران ہی ہوگیا چیخ سن کر، کیونکہ پہلے کوئی بھی خاتون پورا لن لے کر بھی نہیں چیخی یہ کیوں چیخ رہی ہے، کالی درد سے بلبلاتے ہوئے کراہ رہی تھی اور آرام آرام آہستہ آہستہ بڑبڑا رہی تھی، میں اب نوک پے بیٹھا تھا کہ کیا کروں اندر کروں یا نا کروں ، اسی ششو پنج میں تھا، کہ کالی کی پھر آواز آئی اب کرو بھی، میں نے پھر پوچھا آرام سے ؟؟؟؟؟ کالی بولی ہاں ہاں ہاں آرام آرام سے، میں نے لن کو ٹوپے کو تھوڑا سا باہر کھینچا اور پھر پھدی پر زور دیا کالی ایک بار پھر چیخی اور اب کی ذرا زور سے چیخی،لیکن کچھ بولی نہیں، میں پھر رک گیا تھا کیونکہ کالی کے چہرے پر درد صاف دکھائی دے رہا تھا، درد بھری آواز میں کالی کی پھر آواز آئی ڈالو،،،،،، آرام سے پلیز میں نے اپنے لن کو اب کی بار باہر کی طرف نہ کھینچا بلکہ آگے ہی پش کیا اور کالی کی ایک اور چیخ لیکن یہ والی چیخ ہلکی تھی اور آااااااااا اممممممممم کی آواز کے ساتھ مجھے گردن سے جکڑ لیا، میں نے وہیں رکنے کا سوچا کیونکہ رکنا ہی پڑا، میرا لن آگ میں جو جل رہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا آگ کی پکڑ میں ہے مجھے میرے لن کی رگوں کا پھولنا اور سکڑناصاف طور پر محسوس ہو رہا تھا، اور میں مکمل مزے کی شدت میں تھا، میں نے اپنے ہونٹوں کو کالی کے ہونٹوں سے جوڑا کالی ہلکی ہلکی آہ اوہ بھی بند ہو کر اب غووووو غوووو میں بدل گئی اور پھر اپنا ایک ہاتھ کمبل میں گھسا کر اپنے سینے کو تھوڑا سا اوپر اٹھایا اور کالی کے ننگے ممےکوپکڑ لیا افففف کیا ہی مست چیز کا احساس ہوا ننگا مما ہاتھ میں آتے ہی میرے جسم میں مزید بجلیاں دوڑنے لگی 3 منٹ تک میں ایسے ہی رکا رہا بس کسنگ اور مما دبائی کہ رسم چلتی رہی، پھر مجھے محسوس ہوا کہ کالی غووووو غوووووں کی آواز کے ساتھ اپنی گانڈ کو ہلا رہی ہے، اوپر کی طرف اٹھا رہی ہے، کالی کی اس حرکت سے میں نے بھی ہلکا سا اپنے لن کو باہر کھینچا پھر اندر کر دیا کالی غووووں بھی کرتی اور امممممم بھی میں نے پھر سے ویسے ہی کیا کالی کا بھی وہی ریسپانس، میں سمجھ گیا تھا اب درد نہیں ہے میں نے ہلکا ہلکا اپنا چپو چلانا شروع کر دیا اور کالی بھی اپنی گانڈ ہلاتی رہی اور میرے لن کو اپنی پھدی میں جزب کرتی رہی، اب کالی کی غوووووں تو ختم ہوچکی تھی لیکن امممممم ابھی جاری تھی اور امممممم سے میں سمجھ گیا کہ کالی اب مزے میں ہے، میں نے اپنا ہاتھ کالی کے ممے سے ہٹایا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے کالی کے کندھوں کو قابو کیا اور پھر اپنے چپو چلانے کی رفتار تیز کر دی 2 منٹ ہی گزرے تھے کہ کالی کی گانڈ کا ہلنا تیز ہوتا گیا اور پھر یک دم رک کر کالی کی گانڈ کو ہلکے ہلکے جھٹکے لگنے لگے اور کالی کی امممممممم اہہہہہہہہہ امممممم مزید تیز ہو گئی اور مجھے میرے لن پر پہلے سے بھی شدید گرم چیز کا احساس ہوا جس کو سمجھنے میں دیر نا لگی، گرم چیز کا میرے لن پر لگنا تھا کہ میں بھی آپے سے باہر ہو گیا اور تین سے چار زور دار جٹھکے لگائے، اور پھر میرے لن نے بھی اپنے پانی کا فوارا کالی کی پھدی میں انڈیل دیا، اور ہانپتے ہوئے، کالی کے ہونٹوں کو چھوڑ کر زور زور سے سانس لینے لگا جیسے کافی دور سے بھاگ کر آیا ہوں اور اب رک کر اپنی سانسیں بحال کر رہا ہوں، کالی نے ابھی بھی مجھے اپنی بازووں کے حصار میں جکڑا ہوا تھا اور ہمارے جسم ویسے ہی چپکے ہوئے تھے، ہماری سانسیں بحال ہوئی تو میں کالی کے اوپر سے ہٹا اور سائیڈ میں لیٹ گیا لیکن سالی پھر چالاکی کھیل گئی، دستی کمبل کو سیٹ کیا کہ کہیں میں دیکھ نا لوں، میں نے معنی خیز نظروں سے کالی کو دیکھا تو وہ بھی مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی، اس کا مسکرانا اور گالوں پر ڈمپل مجھے پھر پاگل کر گئے اور میں نے کالی کے ساتھ چپکتے ہوئے اس سر کے نیچے اپنا بازو دیا اور پجر اپنے سینے سے لگا لیا، ابھی سینے سے لگایا ہی تھا کہ یک دم دروازہ کھا اور آواز آئی لیلہ، مجنو، بس بھی کر دو اب،،،،، جاری ہے،،،،،
  3. مسلم سکول میں اس وقت تین ٹائم کلاسسز ہوتی تھیں جہاں میں پڑھتا تھا وہاں بس 2 ہی ٹائم پڑھائی ہوتی تھی،
  4. نہیں وہ بھی اسی طرح کا سکول تھا لیکن مسلم نہیں تھا بہتر ہو گا سکول کا نام مینشن نہ ہی کریں
  5. بچپن سے اب تک، قسط نمبر 26، کمرے میں داخل ہوا تو سامنے دیکھا حسن کی پیکر ملکہ حسن پورے علاقے کی شہزادی، جس کو دیکھ کر بوڑھے بھی آہیں بھرتے تھے لیکن سالی قسمت تھی کہ مجھ پر ہی مہربان ہو رہی تھی، جی وہ کچی کلی کوئی اور نہیں بلکہ وہ سلمہ تھی سلمہ عرف کالی جس کو دیکھ کر گورا رنگ بھی کہے کہ یار مجھے کالا کہہ دو اس بیچاری کا کیا قصور ہے، کالی اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جکڑ کر انگلیوں کو مروڑ تروڑ رہی تھی افففف ظالم کیوں ظلم کر رہی ہو اپنی انگلیوں پر کیا ظلم کیا ہے ان انگلیوں نے لیکن وہ بیچاری اپنی پریشانی کے مارے یہ سب کر رہی تھی، کالی اور میری نظریں آپس میں ملی تو ہم ایک دوسرے میں کھو گئے، میں اس کی خوبصورتی اور اس کا قرب پانے کے لئے تب سے پاگل تھا جب سائرہ نے کہا تھا دانی تیار رہنا موٹے کی بہن کی سیل تو ہی کھولے گا، پھر سوچ میں کھو گیا کہ کالی،،،، یہاں کیسے آئی اور کیوں آئی ایسی کیا مجبوری تھی جو یہاں تک آ گئی مطلب تو صاف ظاہر تھا کہ وہ کیا کرنے آئی ہے لیکن مجھے پھر بھی یقین نہیں ہو رہا تھا کہ نوشی نے مجھے سرپرائز میں کالی کا حسن دیا واہ نوشی واہ تم چھا گئی ہو، میں دروازے کو چھوڑ کر آگے بڑھا تو کالی مزید پریشان ہو کر دو قدم پیچھے ہوئی اور ہونٹوں کو ہلاتے ہوئے کچھ کہنے لگی لیکن بیچاری کہہ نا سکی، میرا خود کا دل بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا اور اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز کمرے میں چھائی خاموشی کی وجہ سے صاف صاف سنائی دے رہی تھی مجھے، میں نے آرام سے بنا شور کئے دروازہ بند کیا لیکن مکمل بند نہیں کیا، کیونکہ ڈر مجھے بھی لگ رہا تھا کہ شاید یہ خواب ہے میرا ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کالی اتنی جلدی میرے قریب ہو گی اور پہلی ملاقات میں ہی تنہائی،جگہ موقع،اور وقت کی مکمل آزادی ہو گی، کالی اپنے چہرے پر پریشانی سجائے مجھے دیکھ بھی رہی تھی اور نظریں چرا بھی رہی تجی یہی حال میرا تھا، دیکھ میں بھی رہا تھا اور نظریں چرا بھی رہا تھا، اور سمجھ بھی نہیں آ رہا تھا کیونکہ نوشی جاتے جاتے کہہ گئی تھی کہ آرام سے کرنا نئی ہے، اففففف یہ بات ذہن میں آتے ہی خیال آیا کہ کالی کو ننگا دیکھا دیکھوں گا چوموں کا گلے لگاوں گا پیار کروں گا یہ سوچتے ہی میرا لن جو کچھ دیر پہلے اپنا مال نکال کر سو چکا تھا پھر سے کھڑا ہونے لگا اور اپنا ٹینٹ بنانے لگا، دروازہ بند تھا اور کمرے میں ہلکی روشی تھی لیکن ہلکی روشنی کے باوجود کالے رنگ کے کپڑوں میں کالی کے ہاتھ پیر اور چہرہ اپنی روشی پھیلائے کمرے کو چار چاند لگا رہے تھے، افففف یار میرا کنٹرول میرا دماغ میرے آپے سے باہر ہو رہا تھا، بس ہم خاموشی سے ایک دوسرے کو نظریں چرا چرا کر دیکھ رہے تھے ٹائم کا کچھ نہیں پتا تھا کہ کب سے ہم ایسے ہی دیکھ رہے ہیں بس دیکھ ہی رہے ہیں، میرے رکے ہوئے قدم اٹھے اور میں آگے بڑھا تو مجھے آگے بڑھتا دیکھ کر کالی سائیڈ میں ہوئی لیکن میں بنا کچھ کہے کالی کے دائیں طرف بچھے صوفے پر بیٹھ گیا اور بس اتنا ہی کہا اور وہ بھی ہکلاتے ہوئے، ببببببیٹھ جائیں آپ بھی سلمہ جی، پہلے تو کالی نے مجھے حیران کن نظروں سے دیکھا پھر آرام سے گھوم کر دو قدم پیچھے ہوئی اور بیڈ پر آرام سے اپنی تشریف رکھ کر دونوں پیروں کو نفاست سے ایک دوسرے کے ساتھ ملایا اور اپنے ڈوپٹے کے پلو کر پکڑ اپنی گود میں دونوں ہاتھ رکھ کر مجھے ایک نظر دیکھ کر پھر اپنے ڈوپٹے کے پلو کو ہاتھوں کی انگلیوں سے ٹٹول کر دیکھنے لگی اور میں صوفے پر بیٹھا کالی کی حرکات دیکھ رہا تھا، دوستوں اس وقت مجھے ذرا بھی سمجھ بوجھ نہیں تھی کہ کیا بات کروں اور کہا سے شروع کروں نا ہی کسی کی تعرف کرنا آتی تھی اور نا ہی کوئی جھوٹی تسلی دے کر کسی کو اپنے جال میں پھانسنے کا طریقہ آتا تھا بس سیدھا سادہ انسان تھا جو جیسے کہتا تھا اسی پٹری پر چل پڑتا تھا، اور اس وقت ہم دونوں ہی خاموش تھے، کیا بات کی جائے سمجھ سے باہر تھا، آخر کار خاموشی ٹوٹی اور کالی خود ہی بولی، آپ کو میرا نام کیسے پتا تھا، سب ہی جانتے ہیں اور مجھے بھی معلوم ہی تھا، میں بولا، نہیں پھر بھی سب ہی کالی کہتے ہیں مجھے لیکن آپ نے مجھے میرے اصلی نام سے بلایا مجھے اچھا لگا، کالی نے یہ الفاظ بڑی ہی اپنائیت والے انداز میں کہا، کالی ہمیشہ سے نک چڑی لڑکی رہی ہے کسی سے سیدھے منہ بات نہ کرنے والی ہمیشہ غصے سے بھرے الفاظ ہی سنےتھے کالی کے منہ سے جب بھی سنے، اور جس نے بھی کالی سے بات کرنے کی کوشش کی تب بھی سنے، جب ہم چھوٹے ہوتے تھے علاقے کے بچے وغیرہ سب مل کر کھیلا کرتے تھے کالی بھی ہمارے ساتھ کبھی کبھی کھیل میں شامل ہوتی تھی لیکن جتنا وقت وہ ہمارے ساتھ کھیلتی تھی بس نخرے کر کر کے ہمارا دماغ خراب کر کے ہمیں برا بھلا کہہ کر ہمارا کھیل خراب کر کے واپس چلی جاتی تھی مطلب جب بھی ہمارے ساتھ کھیل میں شامل ہوئی، ہمارے کھیل کو بگاڑنا کالی کا مقصد اول ہوتا تھا اور آج کالی کا نرم مزاج دیکھ کر میں حیران اور پریشان تھا، کالی اور میری عمر میں صرف ایک سال یا کچھ مہینوں کا فرق تھا مطلب عمر میں مجھ سے بڑی تھی اور اس عمر میں بھی کیا ہی جسم پایا تھا تب ہی تو بوڑھے بھی کالی کو دیکھ کر آہیں بھرتے تھے، کالی حسن کا مجسمہ تھی مکمل طور پر، کالی کے گورے گالوں پر ڈمپل پڑتے تھے اور ہونٹوں پر نچلے ہونٹ کے نیچے عین درمیان میں قاتل جان تل تھا جو چہرے کی خوبصورتی کے نکھار میں مزید اضافہ کرتا تھا بڑی بڑی بادامی آنکھیں، اور پلکیں قدرتی طور پر گہری تھیں، لمبا بناوٹی ناک ایک سونے کی نتھلی ناک کو مزید خوبصورت بنا رہی تھی، گلے میں ریشمی ڈوپٹہ پھلیا کر پہنا ہوا تھا جس نے آدھے سر، کندھے اور مموں کے ابھار کو چھپایا ہوا تھا، جرسی یا سویٹر جیسا کچھ نہیں تھا کیونکہ کالی کے اپنے جسم کی گرمی ہی کافی تھی سردی کو روکنے کے لئے، شارٹ ائیر لائن چھوٹی سی قمیض اور پاجامے کی جگہ شرارہ پہنا ہوا تھا جس سے کالی کی گوشت سے بھری بھری رانیں اور پھر کالی کا اپنی رانوں کو جوڑ کر بیٹھنا کسی کو بھی پاگل کرنے کے لئے کافی تھا، اور اب تک میں تو پاگل ہو ہی چکا تھا، خیر کالی کا بات کرنے کا انداز دیکھ کر میں حیران بھی اور اچھا بھی لگ رہا تھا اور اپنی قسمت پر رشک کر رہا تھا، پھر میں نے بھی تھوڑی ہمت کی اور کالی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ جب بھی ہمارے ساتھ کھیلتی تھی ہمیشہ ہمارا کھیل بگاڑ کر بھاگ جاتی تھی غصہ تو بہت آتا تھا لیکن موٹے کی وجہ سے ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے، پھر موٹے کے جانے کے بعد سب آپ کے نام کا نارا لگاتے تھے کالی کرماں والی کالی کرماں والی، کالی میری بات سن کر کھلکھا کر ہنس پڑی اور اس کا ہنسنا تھا کہ میری جان مجھے اپنے پیروں کے انگوٹھوں سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی کیا ہی ظالمانہ انداز تھا ہنسنے کا بھی، ہنسنے کے بعد کالی بولی تو اب تمہارے سامنے ہوں جو کہنا ہے کہہ لو میں برا نہیں مناوں گی کیونکہ میں جانتی ہوں میں کالی ہوں ہی نہیں، بس ایسے ہی سب پیار سے بلاتے ہیں اور مجھے برا بھی نہیں لگتا سکول میں تو سب مجھے میرے نام سے ہی بلاتے ہیں بس گھر میں اور آس پڑوس والے ہی مجھے کالی کہتے ہیں اور مجھے نہیں پرواہ کون کیا کہتا ہے میں جو ہوں وہ میں ہوں، یہ کہہ کر کالی چپ ہوئی، تو پھر میں بولا، جی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ بہت پیاری ہو، پھر اچانک ہی میں نے پوچھ لیا ویسے آپ یہاں کیسے آئی آج، پہلے تو کبھی نہیں دیکھا، کالی میرا یہ سوال سن کر چونک گئی اور پھر میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگی، اوہ شٹ یہ کیا پوچھ لیا سالے دانی، اندر کا حال لازمی کریدنا تھا، جب نوشی نے بتا دیا تھا کہ آرام سے کرنا ہے اس کا مطلب ہے وہ چدوانے ہی آئی ہے یہ لازمی پوچھنا تھا کیا،لیکن اب تو پوچھ بیٹھا تھا اور پریشان بھی ہوگیا کہ سالی کہیں بھاگ ہی نا جائے اور ہاتھ آیا موقع گنوا دوں، کالی میری طرف ہی دیکھ رہی تھی اور شاید میری پرشانی سمجھ بھی گئی تھی، اور مجھے نارمل کرنے کے لئے بولی کچھ نہیں بس ویسے ہی آئی تھی اگر آپ کو برا لگا ہے تو میں واپس چلی جاتی ہوں، نہیں نہیں میں نے کب کہا آپ واپس چلی جائیں قسمت سے تو آج آپ سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ بھی اکیلے میں، یہ کہتے ہوئے میں صوفے سے اٹھا اور کالی کی طرف بڑھنے لگا کالی کی ڈائریکٹ نظر میری قمیض کے بنے ٹینٹ پر گئ تو کالی کی بادامی آنکھیں وہیں اٹک گئیں اور میں ڈرتے ڈرتے کالی کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا، کالی تھوڑا کسمسائی لیکن بیٹھی رہیں کیونکہ اگر نا چدوانا ہوتا تو یہاں تک نا آتی، اور ڈر تو مجھے بھی لگ رہا تھا کالی کا پتا بھی نہیں کہ ارادہ ہی نہ بدل لے اپنا، اب مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کہاں سے شروع کروں کیسے شروع کروں، میرے دماغ کی بتی ایسے بند تھی جیسے جلنے کا نام ہی نا ہو، لیکن میرا لن وہ اپنے مکمل جوش میں تھا میرے ڈر کو بھی مات دے رہا تھا، کالی کے ساتھ بیٹھا تو اس کے جسم سے اٹھتی خوشبو میرے ناک سے ٹکرائی تو مجھے نشہ ہونے سا ہونے لگا اور میں ناک کو سکیڑ کر کالی کی طرف سے آتی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا اور کالی حیرانی سے کبھی مجھے اور کبھی میرے اٹھے ہوئے ابھار کو دیکھ رہی تھی کہ میں کیا کر رہا ہوں مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا میں اپنی گانڈ کو بیڈ پر بیٹھے بیٹھے ہی کھسکا کر کالی کے مزید قریب ہوا تو ہماری رانیں اور گھٹنے آپس میں ٹچ ہو گئے، اففففف یار کیا ہی گرماہٹ تھی کالی نے اپنا منہ نیچے کر لیا اور اپنے ہاتھوں سے اپنے ڈوپٹے کے پلو اپنی ہاتھوں کی انگلیوں میں پھسانےلگی مطلب کالی بھی نروس تھی کیونکہ اس کا بھی پہلا ہی ٹائم تھا،کالی سے برداشت نا ہوا یا جھجک کہہ لو کیونکہ کالی کھسک کر تھوڑا پیچھے ہوئی، کالی کے پیچھے ہوتے ہی میں بھی اسی انداز میں کھسک کر پھر سے کالی کے ساتھ لگ گیا کالی پھر تھوڑا پیچھے ہوئی تو میں بھی پھر اسی کے ساتھ اسی کی طرف کھسک گیا، ایسا کرتے کرتے بیچاری بیڈ کی نکڑ تک پہنچ گئی اگر تھوڑا سا بھی اور کھسکتی تو نیچے گر جاتی یا پھر اسے وہاں اٹھنا پڑتا لیکن کالی نے مزید کوئی حرکت نہیں کی بس وہیں تھم گئی، اور اپنا منہ نیچے کئے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتی تو کبھی میرے ٹینٹ بنے ابھار کو نظریں پھر کر دیکھتی، میں نے اپنی گردن کو تھوڑا سا نیچے کی طرف کر کے کالی کے چہرے کو تکنے کی کوشش کی توایک دم مجھے اتنا شدید قسم کا پیار آیا کہ کیا بتاوں یارو، کالی کے چہرے پر معصومیت ڈر اور پریشانی کے ملے جلے اثرات افففف مجھے پاگل کر گئے اور مجھ سے رہا نا گیا اور میں نے اپنا چہرہ آگے کر کے گالی کے ہونٹوں کو چومنے کی ٹرائی کی لیکن ایسا نا ہو سکا میرا چہرا مزید نیچے نا جھک سکا کالی میرا یہ عمل دیکھتے ہی اپنی بادامی آنکھوں کو بند کر کے بھینچ لیا مطلب وہ بھی چاہتی تھی لیکن کہہ بھی نہی سکتی تھی، اب جب مجھے لگا کی ہونٹوں کو چومنا مشکل ہے تو موقع غنیمت جانتے ہوئے کالی کے گال پر ڈمپل والی جگہ پر اپنے ہونٹوں کو رکھ ایک پاری کر دی اور اپنا چہرہ پیچھے کر لیا، پھر کالی کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا کالی نے ابھی بھی اپنی انکھیں زور لگا کر بھینچی ہوئی تھیں لیکن جب اس کو فیل ہوا کہ میں پیچھے ہو گیا ہوں تو کالی نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر میری آنکھوں دیکھا میں اور بڑی ہی طاو والی نظر سے دیکھا جیسے کہنا چاہ رہی ہو، ( ماما اس تو ہور اگے تیرے پیو نے جانا ہے،) میں کالی کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا سمجھنا چاہ رہا تھا کہ یہ کیا کہنا چاہتی لیکن سمجھ نہیں پا رہا تھا، آنکھوں ہی انکھوں میں تکرار زیادہ ہوئی تو کالی نے ہی آگے بڑھنے کا اشارہ دیا مطلب اپنی آنکھیں پھر سے بند کر دیں اور اپنی تھوڑی کو نکال کر آگے کیا جس کا مطلب میں سمجھ گیا کہ بچی اب ہونٹوں کی تکرار چاہتی ہے بس پھر کیا تھا موقع تھا دستور تھا اجازت بھی مل گئی تھی، میں نے اپنے ہونٹوں کو کالی کے گلاب کی پنکھڑیوں کی طرح سجے ہوئے پتلے پتلے ہونٹوں پر رکھ دیئے، تو کالی نے اپنا منہ ہلکا سا کھوک دیا جس کی وجہ سے کالی کا نچلا ہونٹ میرے ہونٹوں کی پکڑ میں آگیا،اور پھر کالی کے مخملی ہونٹوں کا رس اپنے منہ میں انڈیلنے لگا اور کالی کے ہونٹوں کی مٹھاس میرے جسم کے اندر تک گھومنے لگی اور میری رگ رگ میں سرائیت کرنے لگی، ہوںٹوں میں ہونٹ پھسے ہوئے تھے لیکن کالی نے اپنی آنکھیں بند ہی رکھیں اور میں کھلی آنکھوں سے کالی کو دیکھ بھی رہا تھا اور بدستور کالی کے ہونٹوں کو چوم بھی رہا تھا،کالی کا میرے ہونٹوں کو چومنے کا طریقہ واردات نیا تھا شاید اس کا پہلا ٹائم ہی تھا لیکن زیادہ دیر نہیں لگی اس کو سمجھنے میں بس جیسے تیسے آنکھیں بند رکھ کر وہ اپنا آپ مجھے سونپ رہی تھی اور مجھے مکمل آزادی دے رہی تھی، اگر میں کالی کے نچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لیتا تو کالی میرے اوپر والے ہونٹ کو ویسے ہی قابو کرتی جیسا میں کر رہا تھا، پھر میں کالی کے اوپر والے ہونٹ کو قابو کرتا تو کالی میرے نچلے ہونٹ ہو قابو کرتی مطلب اپنی طرف سے مکمل کوشش کر رہی تھی،اور کوشش میں سفل بھی ہوتی جارہی تھی، ہونٹوں کا جوس پی پی کر اب مجھے کالی کی زبان کی طلب ہونے لگی، آہستہ آہستہ میرے ہاتھوں کی حرکت بھی اپنا کام دکھانے لگی اور میں نے اپنا ایک ہاتھ اوپر کر کے، کالی کے تھوڑی کے نیچے سے پکڑا مطلب میرے ہاتھ کی ہتھیلی کالی کی تھوڑی پر تھی اور چار انگلیاں کالی ایک گال پر اور انگوٹھا کالی کے دوسرے گال پر رکھ کر تھوڑا سا انگلیوں اور انگوٹھے کو پش کیا تو تو کالی کا منہ تھوڑا سا کھل گیا، منہ کھلنے کی دہر تھی تو میں نے جلدی سے اپنی زبان کالی کے منہ میں ڈال کر کالی کی زبان کو اپنی زبان سے جوڑ دیا لیکن شاید کالی کو یہ عمل پسند نا آیا تو اس نے اپنی زبان سے میری زبان کو پش کر کے باہر کر دیا اور اپنا منہ بند کر دیا اب جو پہلے ہونٹوں کی لڑائی جاری تھی وہ بھی رک گئی، اور ہمارے چہرے بھی الگ ہو گئے اور کالی نے آرام سے میرے ہاتھ کو اپنے چہرے سے ہٹایا اور اپنی آنکھیں بند ہی رکھ کر اپنے دل پر ہاتھ رکھے اپنی سانسوں کو بحال کرنے لگی، اور میں کالی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے سوچ میں پڑ گیا کہ میں نے غلطی تو نہیں کر دی یا زیادہ جلدی کر دی، ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ کالی نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا پھر جلدی سے اپنا ہاتھ بالکل اسی پوزیشن میں میری تھوڑی پر رکھا اور اپنی انگلیوں اور انگوٹھے سے زور دے کر میرے منہ کو کھولا اور فٹاک سے اپنی زبان نکال کر مہرے منہ میں ڈال دی، اففففف تیری یہ ادا ظالم مار ڈالا تو نے ہونٹ آپس میں جڑ گئے اور زبانیں آپس میں ٹکرانے لگی اور تھوک کا سیلاب ہم دونوں کے منہ میں تیرے لگا یار کیا ہی سواد تھا مت پوچھو یار لزت سے بھرپور میٹھا میٹھا امرت کالی کے منہ سے میرے منہ میں رواں دواں تھا اور میں مزے سے چوس چوس کر گھونٹ گھونٹ اپنے اندر نگلنے لگا اور ایسے لگ رہا تھا جیسے دنیا کی سب سے مہنگی ترین شراب کے گھونٹ اپنے اندر رہا ہوں، اب پوزیشن یہ تھی کہ کالی بیڈ کے نکڑ پر پھنس کے بیٹھی تھی نیچے سے ہمارے گھٹنے اور رانیں آپس میں ملے ہوئے تھے اور اوپر سے ہمارے کندھے، چہرے پر سجے ہمارے ہونٹ تو ویسے ہی ملے ہوئے تھے، میں نے اپنے ہاتھ کو حرکت دیتے ہوئے کالی کے گٹھنوں پر رکھا اور پھر گٹھنوں کو اندرونی سائیڈ پکڑ کر تھوڑا سا اوپر اٹھایا تو کالی بھی میری اشارا سمجھتے ہوئے اپنے دونوں گھٹنوں کو اٹھا کر اپنی رانوں کو میری رانوں پر رکھ دیا، میں نے جلدی سے اپنا دوسرا کالی کی کمر پے رکھ کر پھر اس کو سرکاتےہوئے کالی کی گانڈ تک لے گیا اور پہلا ہاتھ جو گٹھنوں پر تھا اس کو بھی کالی کی گانڈ تک لے گیا پھر دونوں ہاتھوں کی مدد سے کالی کی نرم نرم گانڈ کو پش کیا اور اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا، نرم نرم گوشت سے بھری ہوئی کالی کی گانڈ میرے رانوں پر تھی اور کالی کے دونوں پیر بیڈ پر آ چکے تھے، کالی کا میری گود میں بیٹھنے سے میرا لن کالی کی گانڈ کے نیچے ہی دب گیا، کالی نے جب میرا لن اپنی گانڈکے نیچے محسوس کیا تو اپنی رانوں کو الگ کر کے تھوڑا سا کھسک کر اپنی گانڈ کو آگے پیچھے اوپر نیچے حرکت دے کر میرے لن کو اپنی رانوں میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی لیکن کپڑوں کی وجہ ٹھیک سے ایڈجسٹ نا ہوا کالی نے پھر کوشش کی لیکن پھر ناکام، اب کی بار کالی نے اپنا ایک بازو میرے کندھے پر رکھ لیا اور اپنا ایک پاوں بیڈ سے ہٹا کر زمین پر رکھا اور اپنے پیر اور میرے کندھے پر رکھے ہاتھ کی مدد سے اپنی گانڈ کو اٹھایا اور دوسرے ہاتھ سے جلدی سے میری قمیض کا پلو ہٹایا اور میرے لن کو پکڑ کر اپنی رانوں کے بیچ میں دے دیا اور پھر آرام سے اپنی گانڈ کو میری رانوں پر ٹکا دیا اور پھر اپنا پیر اٹھا کر واپس بیڈ پر رکھا اور اپنی دونوں رانوں کے درمیان میرے لن کو قابو کر کے بھینچ لیا اففففف کالی کی پھدی کا گرم گرم پانی کا احساس مجھے اپنے لن پر ہونا شروع ہو گیا، اور نیچے سے میرے لن نے بھی جھٹکے کھا کھا کر کالی کی رانوں کے درمیان رگڑنا کھانا شروع کر دیا، کالی کے جسم کی گرمی کو میں اپنے جسم میں اتارنے لگا میرا ایک ہاتھ اب کالی کی کمر پر تھا اور دوسرا ہاتھ کالی کی گول مٹول رانوں پر تھا رانوں کی بناوٹ سے پتا لگ رھا کہ بہت ہی سیکسی اور سیڈول رانیں ہیں جیسے ساری محنت کر کے اپنی رانوں کی ہی مخصوص انداز میں پیروتی رہی ہو، ہمارے ہونٹوں سے ہونٹ جڑے تھے زبانیں آپس میں لڑ رہی تھیں کالی اپنے دونوں بازووں سے میری گردن کا سہارا لئے ہوئے تھی اور میرا ہاتھ کالی کی رانوں کو سہلاتے ہوئے کالی کے مخملی پیٹ کی طرف روانہ ہوا قمیض کے اوپر سے ہی کالی کے پیٹ کو اچھی طرح سے ناپ تول کر اپنے ہاتھ کو تھوڑا اوپر اٹھایا اور کالی کے 34 سائز کے ممے کو بہت ہی احتیاط اور نرم دباو دیتے ہوئے قابو کیا اور ہلکا سا پریس کیا تو کالی نے ہلکی سی اہ کے ساتھ اپنا ایک بازو میری گردن سے ہٹا کر میرے ہاتھ پر رکھ دیا، اب کالی کا مما پھر ممے پر میرا ہاتھ اور میرے ہاتھ پر کالی کا ہاتھ ، کالی کا ہاتھ میرے ہاتھ پر آیا تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میں کس کو پکڑوں کالی کے ہاتھ کو یا ممے کو دونوں ہی کپاس کی طرح نرم نرم تھے، ایک ممے کو ناپ تول کر دوسرے ممے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو کالی نے ویسے ہی اپنے ہاتھ کی حرکت کو میرے ہاتھ کے ساتھ رواں دواں رکھا، دونوں مموں کو اچھی طرح نرم مزاجی سے دبا دبا کر پھر دوبارا سے اپنے ہاتھ کو کالی کے پیٹ پر رکھ دیا پھر سلو سلو پیٹ پر چلانے لگا کالی اب سسکیاں لینے لگی اور سسکیوں کی آواز کالی کے ناک سے سانس لینے کی وجہ سے مجھے محسوس ہو رہی تھی کیونکہ ہمارے ہونٹ آپس میں ملے ہوئے تھے اسی لئے وہ راستہ تو بند تھا سسکیوں کے لئے، کالی اب مکمل مدھوش تھی اور اب جو بھی میں حرکت کرتا کالی نے مکمل ساتھ دینا تھا اور ہوا بھی ایسا ہی میرا جو ہاتھ کالی کے پیٹ پر تھا اسے میں نے رانوں کی طرف سرکا کر کالی کی قمیض کے پلو کے نیچے کیا پھر تھوڑا سا اوپر کھسکا کر کالی کے ننگے پیٹ پر رکھ دیا افففففف کالی اور میں نے دونوں کی برابر سسکاری نکلی میری سسکاری نکلی کیونکہ کالی کے پیٹ کی جلد کو ہاتھ لگتے ہی مجھے مخملی احساس ہوا اور اس کی گرماہٹ سے مجھے کرنٹ لگا اور کرنٹ کی وجی سے میری سسکاری نکلی، اور کالی میرے ہاتھ کو اپنے ننگے پیٹ پر محسوس کرتے ہی جھٹکا کھایا پھر اپنی گانڈ کو ہلکا سا اچھالا پھر اپنی رانوں کو مزید زور دے کر میرے لن کو اپنی رانوں میں بھینچا اور پھر سسکاری لے کر اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ پر رکھ دیا لیکن کالی کا ہاتھ اس کی قمیض کے اوپر سے ہی میرے ہاتھ پر تھا، میں اپنے ہاتھ سے کالی کے پیٹ کو اچھی طرح سے صاف ستھرا کیا کیا اور کالی کے پیٹ کی ناف میں انگلی چلا دی انگلی کا چلنا تھے کالی کی گانڈ میری رانوں پر چلنے لگ گئی آگے پیچھے ہونے لگی، اب کالی کو مزید جوش آنے لگا یہاں میری انگلی کالی کے پیٹ کی ناف میں گول گول گھوم رہی تھی اور وہاں کالی کی گانڈ میرے لن پر گول گول گھومنے لگی میں نے اپنی انگلی کی سپیڈ بڑھائی تو کالی نے بھی اپنی گانڈ کی حرکت کی سپیڈ بڑھا دی میں نے مزید سپیڈ بڑھائی تو کالی نے بھی مزیڈ سپیڈ بڑھا دی، اب میں نے اپنی انگلی کی حرکت کو روک دیا یہ چیک کرنے کے لئے کہ کالی اب کیا اب کیا کرتی ہے لیکن کالی نے اپنی گانڈ کی حرکت کو نا روکا کالی کی حرکت رواں تھی، پھر اچانک سے کالی نے میرے نچلے ہونٹ کو اپنے دانتوں میں پکڑ کر دبا دیا میں بس اہہہہہہ کرتا رہ گیا پھر کالی نے اپنے دونوں بازووں سے میری گردن پر گھیرا تنگ کر دیا نیچے سے اپنی رانوں کو بینچ کر میرے لن کو جکڑ لیا اور پھر یک دم کالی کا جسم تھر تھرانے لگا اور مجھے اپنے لن پر گرم اور گیلا احساس ہونے لگا پھر وہ احساس مزید گرم ہوتا گیا مطلب کالی اپنا پانی خارج کر رہی تھی، کالی کا جب سارا پانی نکلا تو کالی کو ہوش آیا کہ وہ کس حالت میں ہے کالی نے یک دم میرا ہونٹ چھوڑا اور اپنی بازووں کی پکڑ کو ڈھیلا کر دیا اور پھر فورن سے اپنے دونوں پیروں کو زمین پر رکھ اپنی گانڈ کو میرے لن پر رگڑتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے ممے اوپر نیچے کر کے سانس لے رہی تھی اور اور ہانپ رہی تھی، پھر اچانک سے ہماری نظریں ایک دوسرے کے ہونٹوں پر پڑی مجے کالی کے ہونٹوں پر خون نظر آیا اور کالی کو میرے ہونٹوں پر خون نظر آیا یہ دیکھ کر ہم دونوں کے منہ سے برابر نکلا خووووون،،،،،، جاری ہے،،،،،،
  6. ویسے کمال کی پریڈکشن ہے آپ کی
  7. سب دوستوں کے لئے میگا اپڈیٹ کر دی ہے مزے کرو
  8. بچپن سے اب تک، قسط نمبر 25، آج پھر چھٹی کا دن تھا، اور میں جلدی اٹھ کر چارپائی پر لیٹا سوچ رہا تھا آج کونسی خاتون میری پیاس بجھائے گی اور ویسے نمبر کے حساب سے دیکھا جاتا تو پیچھے راشدہ ہی بچی تھی، ایک تو ہمارے نیند سے بیدار ہونے سے پہلے جو ہمارا شیر بیدار ہو جاتا ہے اس کا تو آج تک کوئی حل ہی نہیں نکلا مطلب کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نیند سے جاگیں اور ہمارا لن سوتا رہے، لن صاحب ہی ہوتے ہیں جو ہمیں بھی اٹھاتے ہیں کہ (چل پتر بس کر ہن، بوتا سو لیئا جے)، اور اوپر سے یہ سالی میری خبری بھی نہیں آئی سائرہ، جو مجھے پلان سجھا دیا کرتی تھی خیر اداس منہ بنائے اپنے بستر سے نکلا اپنی چارپائی پر ہی بیٹھا تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور سائرہ کمرے میں داخل ہوئی جھاڑو پکڑے ہوئے، اور میری طرف دیکھے بغیر ہی اپنے کام میں لگ گئی،جھاڑو لگانے لگی، میں بس حیرانی سے ہی سائرہ کو دیکھتا رہا کہ اس سالی کو اب کیا ہو گیاہے یہ کیوں نخرے کر رہی ہے میں ٹکٹکی باندھے بس سائرہ کو دیکھے جا رہا تھا اور وہ سیریس چہرہ لیئے اپنا کام کرنے میں لگی ہوئی تھی آخر مجھ سے برداشت نہ ہوا اور میں اپنی چارپائی سے کھڑا ہو ا اور سائرہ کی طرف بڑھا جو بس 5 سے 7 قدم کی دوری پر ہی تھی، سائرہ نے مجھے اپنے قریب آتا دیکھ کر وہیں بت بن کر کھڑی ہو گئ اور مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگی، میں اب اس کے اتنا قریب ہو گیا کہ ہماری سانسیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں، اور ہم بلا خوف و خطر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بس ساکن ہو کر دیکھ رہے تھے نا ہی سائرہ کوئی حرکت کر رہی تھی نا ہی میں نے کوئی حرکت کی، پھر اچانک ہی سائرہ تھوڑا پیچھے ہوئے اور آہستہ سے بولی دانش اپنے بستر میں جا کر لیٹ جاو، کیوں؟ اپنے کندھے بھی ساتھ ہی اچکائے میں نے اور پوچھا، یار تم جاو تو سہی لیٹو اپنے بستر میں بتاتی ہوں، سائرہ نے جواب دیا، میں سائرہ کی آنکھو میں بغور دیکھتے ہوئے پھر سے اپنی چارپائی پر لیٹ کر بستر میں گھس گیا، اور سوچنے لگا سالی ایسے کیوں کر رہی ہے، سائرہ جھاڑو لگاتے لگاتے جب میری چارپائی کے قریب ہوئی تو میری طرف اپنی گانڈ والی سائیڈ کر دی اور میں نے بنا دیر کئے اپنے ہاتھ کی درمیانی انگلی کو سائرہ کی گانڈکی درمیانی لکیر میں ڈال کر پھراس کی قمیض کوگانڈ کی درمیانی لائن میں پھسا دیا اور انگلی کو باہر کھینچ لیا، سائرہ نے گردن گھما کر مجھے دیکھا لیکن اس کا چہرہ نہیں پڑھ سکا کہ یہ غصے میں یا مدھوشی میں ہے مجھے ایسے دیکھ کر سائرہ پھر کام میں لگ گئی، پھر دوبارہ مجھے شرارت سوجھی اور میں نے سائرہ کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے قمیض کو جو سائرہ کی گانڈ کی لکیر میں پھسی ہوئی تھی جلدی سے گانڈ پر ہاتھ پھیر کر پھر قمیض بھی نکال دی، سائرہ جھاڑو لگاتے ہوئے پھر گردن گھما کر کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھنے لگی، اور پھر ہلکے سے غصے میں بوکی کیا ہے، صبر نہیں ہوتا، پورا ہفتہ غائب رہتے ہو اور چھٹی والے دن تمہیں بس منہ مارنے کے لئے کوئی نہ کوئی چاہیے، آرام سے لیٹے رہو آئی سمجھ ورنہ ابھی شور مچا دوں گی اور تم اگلی بات جانتے ہی ہو، سالی کی آخری بات سن کر میں واقع ہی ڈر گیا تھا کہیں واقع ہی شور نا مچا دے اور اگلی بات سے تو میں اچھی طرح واقف تھا کہ میرے ساتھ ہونا کیا ہے، میں بس چپ چاپ لیٹا سائرہ کو صفائی کرتے دیکھنے لگا اور شدید قسم کس غصہ بھی آ رہا تھا کہ سالی کے نخرے تو دیکھو، میں نے غصے میں رضائی کو منہ پر کیا اور سوچنے لگا کہ عورت ذات کتنی کتی چیز ہے خود ہی ننگی ہو کر لن کو اپنی پھدی ڈال ڈال کر نچوڑ کر رکھ دیتی ہے پھر بعد میں شور کر کے اسی لن کی ماں بہن کر دیتی ہیں، واہ عورت واہ، اور ہمارا معاشرا جس کو کوئی کام ہی نہیں بس اسی کام کے علاوہ، جس عورت کو وہ چودنا چاہتے ہیں اگر وہ ایک بار کہہ دے کہ فلاں بندہ مجھے چھیڑ رہا ہے تو سب سے پہلے وہی بندے آگے آتے ہیں مارنے کے لئے جو اسی عورت کو اپنے بستر میں ننگا دیکھنا چاہتے ہیں پھر موقع پر سب ہی بھائی بن جاتے ہیں اور اگلے بندے کو مار مار کر اسی عورت کے پیر پکڑوا کر معافی منگوائیں گے، پھر بھی بات نہ بنے تو سر منڈوا دیتے ہیں اور پھر بھی بات نا بنے تو منہ کالا کر کے گدھے پر بٹھا کر علاقے کی سیر کرواتے ہیں، مطلب اتنا فالتو ٹائم ہوتا ہے، لیکن مجال ہے جو اس بیچارے کی بات ایک بار تو سن لیں یا چھان بین کر لیں کہ قصور وار کون ہے، کیا پتا یہی بندا جو اب گدھے پر منہ کالا کروائے بیٹھا اسی عورت کا یار ہو اور آج اس عورت نے پھدی دینے سے انکار کیا ہوگا اور تو وہ تھوڑا غصہ ہوا ہوگا لیکن عورت تو عورت ہے ایک ہی آواز سے 10 سے زیادہ منہ بولے بھائی اور اندرون خانہ اسی کو ننگا کرنے کی سوچ رکھنے والوں اکھٹا کر سکتی ہے،،،،، دوستو یہی حال اب مہرا بھی تھا، اب بستر میں لیٹے ہوئے میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ اگر سائرہ شور کر دے گی تو گانڈ بھی پھٹنی ہے اور منہ کالا بھی ہونا ہے، تھوڑی ہی دیر میں جھاڑو کی آواز رک گئی، اور دروازہ کھل کر پھر بند ہونے کی آواز میرے کانوں میں گونجی اور میں دل ہی دل میں سائرہ کو گالیاں دیتے ہوئے چارپائی سے اٹھا، کمرے سے باہر نکلا اور باتھ روم کی کی طرف رخ کیا برآمدے میں خواتین اپنے اپنے کام میں لگی ہوئی تھی میں باتھ روم سے فارغ ہو کر ہاتھ منہ دھو کر واپس کمرے میں آگیا امی نے دیکھ لیا تھا میں جاگ گیا ہوں تو امی نے آواز دے کر کہا کچن میں ناشتہ رکھا ہے اٹھا لو اور کھا لو، واہ اتنی خدمت داری اور وہ بھی میری شاباش دانش صحیح جارہے ہو باپ، دل میں سوچتا ہوا کچن میں چلا گیا اپنا ناشتہ اٹھایا اور واپس کمرے میں آگیا ناشتہ کر رہا تھا کہ امی اندر کمرے میں آ گئی اور بولی ابھی تک ناشتہ نہیں کیا، بس ہو گیا امی ، میں اتنا ہی بولا، جلدی کرو اور پھر آ کر میری بات سنو، امی یہ کہہ کر باہر چلی گئیں لو جی ہن کی پسوڑی پے گئی جے، کہتا ہوا برتن اٹھا کر کچن میں رکھے پھر امی کے پاس پہنچ گیا، حکم کریں سرکار کہہ کر ادب سے سر کو جھکا کر کھڑا ہو گیا، امی نے اوپر سے نیچے تک مجھے دیکھا پھر بولیں، دانش تم دو عورتوں کو بائیک پر بٹھا کر بائیک چلا لو گے، میں بس اتنا ہی بولا، جی،،، امی، دیکھ لو گراو گے تو نہیں، نہیں امی نہیں گراوں گا، پکی بات ہے نا، امی نے کہا میں بولا، جی پکی بات ہے، امی نے نصری آنٹی کی طرف کی دیکھا تو نصری آنٹی کھڑے ہوتے ہوئے اپنے بیگ سے اپنی چادر نکالی اور اوڑھ کر بولی چلو دانش میرے گھر باقی بات بعد میں سمجھاتی ہوں میں چپ چاپ اچھے بچوں کی طرح کی نصری آنٹی کے پیچھے پیچھے جانے لگا، گھر سے باہر نکلے تو نصری آنٹی نے کہا دانش میرے گھر چلنا ہے وہاں سے میرے بیٹے کی بائیک لینا اور پھر راشدہ اور نوشی کو جمعہ بازار لے کر جانا ہے ان کا کچھ کام ہے، میں نے بس جی کہہ کر سر ہلا دیا نصری آنٹی کے گھر پہنچے بیل دینے پر دروازہ کھلا ماسی نے دروازہ کھولا آنٹی اندر چلی گئی آنٹی کے پیچھے میں بھی اندر آگیا اور وہیں گیراج میں ہی کھڑا رہا کچھ ہی دیر میں آنٹی نے مجھے چابی دی بائیک کی میں بائیک کو سٹارٹ کیا لیکن تھوڑی محنت ہوئی کیونکہ کافی دن بند جو رہتی تھی، خیر بائیک سٹارٹ کر کے اسے تھوڑا گرم کیا پھر گھر سے باہر نکل آیا آنٹی بھی باہر آ گئی اور میرے پیچھے بائیک پر بیٹھ گئی، اور ہم گھر کی طرف چل پڑے ، تھوڑا عجیب لگ رہا تھا کیونکہ ایک تو بائیک کا بہت کم چلانا اور پھر کبھی کبھی چلانا تھوڑا بہت ڈگمگانے کے بعد سیٹنگ بن ہی گئی اور اب بائیک میرے کنٹرول میں تھی،اور سونے پہ سہاگا ہوا جب آنٹی کے ممے میری کمر سے لگے تو مزا دوبالا ہوگیا آنٹی نے جان بوجھ کر اپنے مموں کو میری کمر سے رگڑا اور پھر جب تک گھر نہیں آیا تب تک آنٹی نے اپنے ممے میری کمر میں دھنسا کر ہی رکھے اور ہمارے لن میں حرارت برکی شروع ہو گئی، جب گھر کے دروازے پر پہنچ گئے تو آنٹی بائیک سے اترتے ہوئے بولی دانش کیسا لگا ؟؟؟؟ اور پھر میری نیچے کی طرف دیکھنے لگی جہاں میرا لن آب و تاب سے کھڑا تھا، پھر خود ہی جواب بھی بنا لیا ہممممم لگتا ہے مزا آیا ہے تمہیں یہ کہہ کر آنٹی اندر چلی گئی میں بھی بائیک کو دروازے کے باہر ہی کھڑی کر کے لاک کیا پھر اندر آگیا نوشی اور راشدہ پہلے سے ہی ریڈی تھیں ان کو دیکھ کر پھر سے واپس باہر آنا پڑا اور بائیک پر بیٹھ کر خود کو ریڈی کر لیا، اتنے میں نوشی اور راشدہ بھی آ گئیں اور پہلے نوشی میرے کندھے کا سہارا لے کر بائیک پر بیٹھی پھر کھسک کر میرے ساتھ چپک گئی اور راشدہ کے بیٹھنے کے لئے جگہ بنائی پھر راشدہ بھی بیٹھ گئی، نوشی اپنے ممے میری کمر میں دھنساتےہوئے اپنے چہرے کو میرے کندھے پر ٹکا کر میرے کان میں بولی دانش پہلے میرے گھر چلنا، نوشی کی آواز سے مکمل رومانس چھلک رہا تھا کوئی پلان ہی ہوگا میں نے دل میں سوچا، خیر بائیک آ گے بڑھا دی اور سلو سلو نوشی کے گھر کے باہر پہنچ کر بریک لگائی بریک لگی تو نوشی نے اپنے ممے زور سے میری کمر میں دبائے اور تیزی سے ہاتھ کھسکا کر میرے لن پر رکھ کر اسے جلدی سے ٹٹول کر ہلایا پھر ہاتھ ہٹا لیا، افففففف بائیک پر بیٹھے بیٹھے ہی میں ایک دم اچھل کر پھر بیٹھ گیا، راشدہ بائیک سے اتر چکی نوشی بھی جلدی سے میرے لن کو ہوشیاری دے کر اتر گئی، پھر ایک قاتلانہ مسکان کے ساتھ مجھے دیکھ کر اپنے پرس سے چابی نکال کر دروازے کا لاک کھولا اور اندر چلی گئی راشدہ بھی نوشی کے پیچھے اندر چلی گئی، اب تک تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ انہوں نے واقع ہی بازار جانا ہے لیکن جب گیٹ کھلا اور نوشی کی آواز میرے کانوں میں گونجی کے دانش بائیک اندر کر لو، بس یہ سننا تھا کہ ساری فلم سمجھ آ گئی، لے دانی اب چود لے پھدی تیرا کام بن گیا، میں نے جلدی سے بائیک اندر کر دی اور اسٹینڈ پر لگا کر اپنی دونوں لاتوں کو ایک سائیڈ کر کے وہیں بیٹھ گیا ، مجھے راشدہ دکھائی نہیں دے رہی تھی کہ وہ کہا بھاگ گئی، اتنے میں نوشی گیٹ کو لاک کر کے میرے پاس آئی اور بولی کیوں سوہنیو تم نے کیا سمجھا ہمیں ٹائم نہیں دو گے تو بچ جاو گے ہاااااااں، یہ کہہ کر نوشی نے جلدی سے مجھے اپنی طرف کھینچا اور میں بائیک سے اٹھتا ہوا نوشی کے بانہوں میں پہنچ گیا اور پھر جپھی شپھی شروع ہو گئی اور ہونٹوں کی تکرار بھی بڑھ گئی، پھر نوشی اچانک ہی پیچھے ہوئی اور بولی اچھا تم جلدی سے اوپر جاو میرے روم کے ساتھ والے روم میں، راشدہ کے ساتھ مزے کرو تب تک میں گھر کے کچھ کام نمٹا لوں پھر بازار چلیں گے، یہ کہہ کر نوشی نے بنا میری بات سنے مجھے سیڑھیوں کی طرف پش کرتے ہوئے آگے بڑھا دیا اور میں بس نوشی کو دیکھ کر مسکراتا ہوا سیڑھیاں چڑھ گیا، میرا لن ویسے ہی کھڑا ہو چکا تھا اور راشدہ کی پھدی کا سوچ کر مزید آپے سے باہر ہونے لگا، واہ دانی کیا قسمت پائی ہے تینوں بہنوں کو اپنے لن کی سیر کروا رہے ہو، پھر اچانک ہی دماغ میں آیا سالے تو اکیلا تھوڑی ہے تیرے دو بھائیوں کے لن بھی وہ کھا کے ڈکار مار چکی ہیں، مطلب تین عورتیں اور تین کہانیاں اور تین ہی لن، ان تینوں بہنوں پر فٹ ہوتا تھا، میں چھت پر آیا تو نوشی کے بتائے ہوئے کمرے کی طرف چل پڑا دروازے پر پہنچ کر ہلکا سا پش کیا تو دروازہ کھلتا گیا،اندر داخل ہوا تو کمرے کے دونوں اطراف ایک ایک سنگل بیڈ اور سامنے ونڈو کے پاس ایک صوفہ رکھا تھا اور شری مہا جبیں دولت حسن کی پیکر سامنے صوفے پر بیٹھی تھی اور میری طرف دیکھ کر جلدی سے اپنا چہرہ نیچے کر کے اپنے پیروں کو دیکھنے لگی، پہلے کی نسبت اب مجھے بھی تجربہ ہو چکا تھا کہ کہاں سے شروع کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے، راشدہ کا شرمانا دیکھ کر میں آرام سے بولا بس میڈم جی اب شرمانا چھوڑیں اور مزے کا لین دین شروع کرتے ہیں کیا کہتی ہو آپ، ہااااااااا یہ بھی بھلا کوئی بات ہے کرنے کی دانش، راشدہ بولی، کرنے کی بات تو ویسے ہی نہیں بلکہ کر کے دکھانے والی بات ہے میڈم جی، میں ہنستے ہوئے بولا، راشدہ کے چہرے کا رنگ بدلتا صاف دکھائی دے رہا اور آنکھوں میں شہوت کا نشہ بھی اور جہاں تک اندازہ تھا یقینن اس کی پھدی بھی پانی بہا رہی ہو گی،میں آرام سے چلتا ہوا راشدہ کے ساتھ صوفے پر ہی بیٹھ گیااور راشدہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بولا میڈم جی آج آپ خاموش کیوں ہیں ویسے تو آپ کا چہکنا اور شرارتیں ختم ہی نہیں ہوتی، میرے اس سوال پر راشدہ نے میری آنکھوں میں دیکھا پھر بولی کونسی شرارت کی امید کر رہے ہو دانش صاحب، راشدہ ایک چل بلی سی شرارتی لڑکی اس وقت اس کی 21 یا 22 سال عمر ہو گی، قد کے لحاظ سے اس وقت میرے جتنی ہی تھی مطلب 5 فیٹ 6 انچ، گورا رنگ 36 سائز کے ممےاور اور گانڈ کا سائز 38 اففف کمال کی سیکس کی پڑیا تھی اور میرے دونوں بھائیوں سے چدوانے کے بعد اب میرے نیچے آنے کے لئے تیار بیٹھی تھی، ویسے علاقے میں بھی راشدہ کی خوبصورتی کے چرچے بہت تھے لیکن راشدہ شرارتی ہونے کے ساتھ ساتھ منہ پھٹ بھی بہت تھی بے عزتی کرنا اس کے لئے اس کے ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے جیسا تھا اور کوئی اگر اس کے پیچھے آتا یا چھیڑنے کی ٹرائی کرتا تو راشدہ اس کی ماں بہن ایک کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتی تھی، میری قسمت میں آسانی سے آگئی کیونکہ یہ خواتین کا چدائی گروپ پہلے سے ہی چل رہا تھا، نوشی اور آنٹی نصری کا گھر چدائی کا اڈا بنا ہوا تھا تھا فلحال تو مجھے یہی پتا تھا کہ یہ خواتین سوائے نوشی کے ہم تین بھائیوں سے ہی چدوا چکی ہیں، اور کون کون ان کے سمندر میں اپنی کشتی ڈبو چکا ہے مجھے نہیں معلوم تھا اور نہ ہی جاننا چاہتا تھا کیونکہ اپنے کو کیا ہے اپنے کو تو بس پانی نکالنا تھا، خیر راشدہ کا جواب سن کر میں نے اپنا ایک ہاتھ راشدہ کی گردن پر رکھ کر اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے راشدہ کی گال کو سہلاتے ہوئے بولا جناب ہم اس شرارت کی امید کر رہے ہیں کہتے ہوئے اپنے چہرے کو راشدہ کے چہرے کے قریب کرکے راشدہ کے گلابی ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے، راشدہ بھی اسی انتظار میں تھی ہونٹوں کا آپس میں ملنا تھا اور پھر کام شروع، میرا ہاتھ راشدہ کے سر کے پیچھے گردن پر تھا اور راشدہ کا ہاتھ میری گردن کے پیچھے سے مجھے قابو کیا ہوا تھا، اور ہمارے ہونٹ آپس میں گتھم گتھا تھے اور پھر زبانوں کی لڑائی شروع ہوئی اور میرا دوسرا ہاتھ راشدہ کی چادر کے اندر گھستا گیا اور سیدھا راشدہ کے سجے ممے پر رک گیا اور قمیض کے اوپر سے ہی راشدہ کے ممے کو دبانے لگا ، راشدہ کا مما بہت ہی نرم تھا اور میں نے سائز چیک کرنے کے لئے تھوڑا سا زور سے دبایا تو راشدہ کے منہ سے سسسسسسسی کی آواز نکلی جو میرے منہ ہی گم ہوگئی اور پھر راشدہ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھا جس ہاتھ سے میں راشدہ کا مما دبا رہا تھا اور میرے ہاتھ کے زور کو ڈھیلا کرنے کے بعد خود سے اپنے ممے پر رکھ کر ہلکا ہلکا دبایا اور مجھے بھی تلقین کی کہ اسی طرح دبانا اس سے زیادہ زور مت لگانا،راشدہ کا اشارہ پا کر میں نے اسی ردھم سےممے کو دبانا شروع کر دیا اور اوپر سے ہمارے ہونٹوں کی لڑائی جاری تھی ، میرا ہاتھ جو راشدہ کی گردن پر تھا اس کو وہاں سے ہٹا کر میں نے راشدہ کی چادر کو ہٹانا چاہا تو راشدہ نے فورن اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹون سے الگ کیا اور اور کھڑی ہو گئی جس سے میرا ہاتھ ببی راشدہ کے ممے سے دور ہوتا چلا گیا، اور پھر بجلی کی سپیڈ سے تیز سپیڈ میں راشدہ نے اپنی چادر کو اتار پھینکا، پھر جلدی سے اپنی قمیض اتار پھینکی اور پھر اپنی بریزر کے سامنے سے درمیان سے پکڑ کر ایک ہی جھٹکے سے اپنی بریزر کو اتار پھینکا افففففف یہ نظارا تو نیا تھا بھئ جہاں تک مجھے پتا تھا کہ بریزر کے ہک ہوتے ہیں جو کمر طرف ہوتے ہیں اور وہاں سے کھولنا پڑتا ہے لیکن یہ نظارا دیکھ کر ایسے لگا کے راشدہ نے جتنی زور سے اپنا بریزر کھینچا ہے ہک کھولے بغیر ہی، لگ رہا تھا راشدہ کو کتنی شدید پیاس لگی ہے چدائی کی، اففف بریزر کے الگ ہوتے ہی راشدہ کے ممے اچھل کر پہلے ادھر ادھر گھوم کر سیر کر کے واپس اپنی جگہ آ گئے، اور کیا ہی دلکش نظارا تھا راشدہ کے مموں کا ابھی میں راشدہ کے مموں میں ہہ کھویا ہوا تھا کہ راشدہ کی آواز کے ساتھ ہوش میں آیا دانش کیا دیکھ رہے ہو اپنے کپڑے اتارو جلدی سے ٹائم کم ہے، بس پھر تھوڑا سا ہوش میں آکر میں نے اپنے کپڑے اتارنے شروع کر دیئے لیکن بدستور راشدہ کے مموں پر نظریں جمائیں رکھیں، سالی کے ممے تھے ہی اتنے خوبصورت کے نظر ہٹانا تو دور کی بات تھی پلکیں بھی نہیں چھپکا رہا تھا میں تو، بس ایک سیکینڈ کے لئے یہ نظارا اوجھل ہوا جب میں نے اپنی قمیض کو اپنے گلے سے نکالا اس کے بعد پھر میری نظر راشدہ کے مموں پر ٹک گئی،اور مموں کو تاڑتے ہوئے اپنی قمیض نکال کر پھینک دی، اس کے بعد شلوار کا ناڑا کھولا اور شلوا میرے پیروں میں گرتی چلی گئ، راشدہ بھی تب تک اپنی شلوار اتار کر مکمل الف ننگی ہو چکی تھی اور کمرے کی روشنی اور کھڑکی سے آتی دھوپ کی روشنی سے راشدہ کا جسم چھلکارے مار رہا تھا جگ مگ کر رہا تھا واہ کیا خوبصورت اور سیکسی جسم پایا تھا سالی نے محلے کے لونڈے اسی جسم کے پیچھے تو پاگل تھے اور کونسا انہوں نے آم لینے تھے، شلوار کو اپنے پیروں سے نکالتا ہوا راشدہ کی طرف ہاتھ کرتے ہوئے اسے اپنے اوپر کھینچتےہوئے صوفے پر بیٹھ گیا اور راشدہ میرے اوپر بیٹھتی گئ میری رانوں پر اپنی گانڈ کو ٹکایا تو میرا لن سیدھا راشدہ کی گیلی پھدی پر جا لگا اور راشدہ سسسی کرتے ہوئے اپنی پھدی کو میرے لن پر رگڑ دے کر وہیں قابو کر لیا میرے دونوں ہاتھ اپنی گود میں بیٹھی راشدہ کی کمر سے ہوتے ہوئے راشدہ کے 38 سائز کے موٹے موٹے اور ابھرے ہوئے چوتڑوں پر جا پہنچے اففففف کیا نرم اور مکھن کی طرح ملائم چوتڑ اہا ہاہاہاہا مزا ہی آگیا میرے ہاتھ ایک جگہ رک ہی نہیں رہے تھے راشدہ کی گانڈ کی گولائی پر پھسلتے ہی رہے پھسلتے رہے، میرا لن راشدہ کی پھدی پر ٹن ٹن کر کے بج رہا تھا اور میری زبان راشدہ کے مموں پر لگے رسیلے گلابی نپلز کو باری باری تقویت بخش رہی تھی افففف شہد کی مٹھاس نکل رہی تھی راشدہ کے مموں سے اور راشدہ کا ایک ہاتھ میرے کندھے پر تھا اور دوسرے ہاتھ سے اپنا مما پکڑ کر میرے منہ دینے کو کوشش کر رہی تھی جیسےماں اپنے بچے کو اپنا مما پکڑ کر بچے کو دودھ پلانے لے لیے اس کے منہ میں ڈالتی ہے ، راشدہ بھی ویسے ہی کر رہی تھی اور میں بھی کسی بچے کی طرح کبھی راشدہ کے سجے ممے کو چوستا تو کبھی کھبے ممے کو چوستا اور کمرے میں راشدہ کی سسکاریا ایسے گونج رہی تھی جیسے ساری سسکاریاں آج ہی کے دن کے لئے جمع کر رکھی ہوں ، امممممم اہہہہہہہہ اووووووو اییییییییی سسسسسسسییییی اممممممم افففففف اور بھی عجیب عجیب مدھوش کرنے والی آوازیں نکال رہی رھی پھر اچانک سے راشدہ کی برداشت سے کام باہر ہو گیا اور ویسے ہی بیٹھے بیٹھے اپنی گانڈ کو تھوڑا سا کھسکا کر میرے لن پر اپنی پھدی کو دبایا میرے لن کو ٹوپا راشدہ کی پھدی کے ہونٹوں پھس گیا تو راشدہ نے ایک ہی جھٹکے سے پورا لن اپنی گیلی پھدی میں اتار گئ اور منہ سے ایک درد بھری مزے چیخ سسکاری کے ساتھ نکال کر میرے کندھے پر اپنی تھوڑی کو رکھ سکون لینے گی اور مجھے ایسا لگا جیسے میرا جسم آگ کی لپیٹ میں ہے اور میرا لن اسی آگ کی گہرائی میں جہاں انگارے ہوتے ہیں کسی نے پکڑ کر وہاں رکھ دیا ہو، کیونکہ پھدی اندر سے اتنی شدید گرم تھی کہ میرا لن جلنے لگا تھا، ان چار 4 عورتوں کی پھدیوں کی آگ ایک طرف اور اکیلی راشدہ کی پھدی کی آگ ان سب عورتوں کی پھدیوں پر بھاری تھی، اتنی شدید گرم عورت پھر دوبارہ مجھے اپنی زندگی میں کبھی نہیں ملی، آج بھی راشدہ کی پھدی کی گرمی نہیں بھولی مجھے، خیر راشدہ میرے لن پر بیٹھ کر جھولے کھانے لگی اور راشدہ کی گانڈ کا لمس مجھے اپنی رانوں پر محسوس ہو رہا تھا جو میرا مزا دوبالا کر رہا تھا، کیا بتاوں یارو میرے پاس الفاظ ہی نہیں وہ مزا بیان کرنے کا، راشدہ کی گانڈ کا ہلنا رفتار پکڑتا گیا اور راشدہ نے اپنے دونوں بازووں سے میری گردن کو اپنی گرفت میں کیا اور اپنی گانڈ کو میری رانوں پر رگڑ رگڑ کر اپنی رفتار کو بڑھا دیا 3 سے 4 منٹ راشدہ ایک ہی ردھم کے ساتھ میرے لن پر اپنی پھدی کو مارتی رہی مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے راشدہ مجھے چود رہی ہے، راشدہ کے ایک ممے کو اپنے منہ میں لے کر اور اپنے دونوں ہاتھوں سے راشدہ کی گانڈ کو پکڑ کر اپنے لن پر دبا رہا تھا، راشدہ سسکیاں لیتی ہوئی میرے سر کو زور سے اپنے ممےپر دبا کر کانپنے لگی اور پھر شدید گرم گرم لاوا مجھے میرے لن پر محسوس ہونے لگا مطلب راشدہ اپنا پانی نکال چکی تھی، اور پھر ویسے مجھے قابو کئے میرے کندھے پر اپنے تھوڑی کو رکھ کر اپنی تیز سانسوں کو روکنے کی کوشش کرنے لگی، میرا لن ابھی بھی راشدہ کی پھدی میں تھا اور جھٹکے لے رہا تھا لیکن راشدہ کی حرکت رکنے کے بعد میرا مزا کرکرا ہونے لگا، اور راشدہ مجھ سے اپنا آپ چھڑواتے ہوئے وہیں صوفے پر لیٹنے لگی اور پھر مکمل لیٹ گئی جس کی وجہ سے میرا لن بھی راشدہ کی پھدی سے باہر نکل چکا تھا اور میں راشدہ کو دوبارہ گرم کرنے کے لئے اس کے اوپر لیٹ کر اس کے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کرنے لگا تو راشدہ نے مجھے منع کر دیا اور پیچھے پٹنے کا کہا، میرے دل میں آیا کہ سالی کو گالیاں دوں یا پھر دو تین تھپڑ رسید کر دوں لیکن ایسا نا ہو سکا کیونکہ کمرے کا دروازہ کھلا اور نوشی بالکل ننگی حالت میں کمرے میں آگئ اور آتے ہی سنگل بیڈ پر ڈوگی سٹائل میں اپنی پوزیشن بنائی میں بھی لن کی گرمی کا مارا جلدی سے اٹھا اور راشدہ کی پھدی کے پانی سے گیلا لن لے کر نوشی کے پیچھے کھڑا ہوا اور نوشی کی گانڈ کے پہاڑوں کو پکڑ کر نوشی کی پھدی میں اپنا گیلا لن اتارتا چلا گیا اور پھر دے جھٹکے پے جھٹکا، نوشی اپنی چیخیں جاری رکھتے ہوئے مجھے جوش دلانے کے لئے بولی دانش زور سے مارو ہاں ایسے ہی اور زور لگاو اور میں نے بھی گانڈ کا فل زور لگا لگا کر نوشی کی پھدی میں اپنے لن ساتھ ضربیں لگانے لگا اور ساتھ کے ساتھ نوشی کی گانڈ پر زور زور سے تھپڑ بھی لگانے لگا ہم دونوں کا یہ عمل راشدہ صوفے پر لیٹی دیکھ رہی تھی اور میرے پٹاخ پٹاخ کی آواز کے ساتھ نوشی کو لگتے جھٹکے اور گانڈ پر لگتے تھپڑ ثابت کر رہے تھے کہ نوشی ہواوں میں اڑ رہی ہے مزید 5 منٹ تک اسی طرح جھٹکے مارتے ہوئے مجھے لگا اب میں فارغ ہونے والا ہوں، اور ایسا ہی ہوا میرے پورے جسم میں خون کی سرگوشیاں ایک ساتھ مل کر میرے لن کی طرف رخت سفر ہوئی اس سے پہلے کہ میرا پانی نکلتا نوشی کی پھدی نے اپنا لاوا اگل دیا اور اس کی پھدی میں تین یا چار مزید جھٹکوں کے بعد میرے لن نے بھی لاوا نوشی کی پھدی میں ہی انڈیل دیا، مجھے فارغ ہوتا پا کر نوشی سامنے کی طرف بیڈ پر لیٹتی گئی اور میں بھی اسی کے اوپر لیٹتا گیا، ہماری سانسیں بے ترتیب چل رہی تھیں راشدہ ہمیں ہی دیکھے جا رہی تھی ہم ایک دوسرے پر لیٹے ہوئے اپنی سانسوں کو بحال کرنے لگے، 10 منٹ تک ایسے ہی لیٹے رہے پھر راشدہ اٹھی اور اپنے کپڑے پہننے لگی نوشی نے بھی مجھے اپنے اوپر سے اٹھنے کا کہا میں اٹھا تو نوشی بھی باہر نکل گئ اور راشدہ بھی میں وہیں بیڈ پر ننگا لیٹا ہوا تھا، 2 منٹ بعد میں بھی اٹھا اور اپنے کپڑے پہننے لگا اتنے میں نوشی کپڑے پہنے کمرے میں آئی اور مجھے بولی دانش تم میرے روم میں چلے جاو، میں بولا کیوں خیریت، نوی کھلکھلاتے ہوئے بولی تم جاو تو سہی تمہارے لئے سرپرائز ہے اور ہم مطلب میں اور راشدہ بازار جا رہے ہیں جب تک ہم واپس آئیں گے تم یہں رہنا اچھا، اور کہہ کر مجھے لپ کس کر کے باہر جانے لگی اور ہھراچانک سے دروازے میں رک کر مجھے بولی دانش آرام سے کرنا نئی ہے وہ اور پھر باہر نکل گئی، میں سوچ میں پڑ گیا کہ بازار تو میں نے لے کر جانا تھا یہ پھر کیا سین ہے اور سرپرائز کیسا ہے ، ایسے ہی بڑبڑاتا ہوا کمرے سے باہر نکلا اور نوشی کے کمرے کا دروازہ کھولا تو آگے کا منظر دیکھ کر میرے ہوش و ہواس خطا ہوگئے،،،،،،، جاری ہے،،،،،
  9. بچپن سے اب تک، قسط نمبر 24، نوشی کی دی ہوئی پرچی کو میں نے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنے بیگ کی چھوٹی سی جیب میں رکھ وہیں چارپائی پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ سالا مانی بھی خوش قسمت ہے میرے پاس آیا اور 2 پھدیوں کا مزا بھی چھک گیا، خیر جو بھی تھا یہ تو ہونا تھا اور ہو گیا، شام کے 7 بج رہے تھے 8 بجے تک ابو اور بھائی بھی دکان سے آ جاتے تھے دکان بند کر کے، مجھے اب بھوک بھی لگ رہی تھی اور خود سے الجھن سی ہو رہی تھی کیونکہ چدائی بھی کی تھی اور نہایا بھی نہیں تھا اور اس ٹائم نہانا بھی گڑ بڑ کر سکتا تھا، میں کمرے سے باہر نکلا باتھ روم گیا پیشاپ کیا اور اپنے آپ کو صاف کیا پھر لن کو اچھے سے دھویا، اور پھر آ کر برآمدے میں بچھے کالین پر بیٹھ گیا امی نے کچن سے ہی میری طرف دیکھا اور پھر غصے میں بولی، جس ماں کے پاس گیا تھا وہاں سے کھانا کھا کر نہیں آیا، امی کی بات کی سننے کی دیر تھی میرا تو تراہ نکل گیا کہ ہییییییییں یہ کیا، میں تو ڈر گیا کہ لے بھائی دانی تیرا پول کھل گیا امی کے سامنے اب تو پھر سے گیییو،،، میں امی کو دیکھ کر ہکلاتا ہوا بولا، کککککک کونسی ماں؟؟؟ اب کتنی مائیں ہیں تیری اور باپ کون ہے مجھے کیا پتا، امی نے بولا، اور پھر جلدی سے منہ گھما کر چولہے پر رکھی ہانڈی میں چمچ چلانے لگی، دوبارہ بات کرنا تو دور کی بات، امی نے تو گھوم کر بھی نہیں دیکھا مجھے، اور میں وہیں بیٹھا سوچ میں ڈوب گیا کہ امی نے یہ کیا بات کہہ دی، خیر اس بات کی سمجھ تو بعد میں آئی، آگے جا کر خود معلوم ہو جائے گا آپ لوگوں کو بھی، لیکن ابھی جو بات میرے ذہن اور سوچ میں گردش کر رہی تھی وہ تو یہی سمجھ آ رہا تھا کا امی کو پتا چل گیا ہے کہ میں نوشی کے گھر تھا اسی لئے امی نے کہا کہ اپنی ماں کے گھر سے نہیں کھا کر آیا، بسسسسس یہ بات کا دماغ میں گھومنا تھا کی میں خود کو زمین ہوا دھنستا ہوا محسوس کرنے لگا، لے بھئی دانی تیری تو آج پھٹے ہی پھٹے اور میرے جسم کے رونگھٹے کھڑے ہونے لگے سردی میں پسینہ اور بھوک جو لگی تھی وہ بھی ختم ہوتی نظر آئی میں جلدی سے وہاں سے اٹھا اور کمرے کی طرف جانے لگا تو دروازہ بجا اور ابو کی آواز آئی دانششش، کیونکہ ابو جب بھی دروازہ بجاتے تھے تو میرا نام پکارتے تھے بھلا میں گھر نہ بھی ہوں، اس سے گھر والے سمجھ جاتے تھے کہ ابا آ گیا ہے، اور آج تو میں گھر ہی تھا اور ابے کی آواز سن کر میری پھر سے گانڈ پھٹ گئی لے بھئی دانش آج تین ہٹلر تیری جم کر ٹھکائی کریں گے اور ہو سکتا ہے تجھے جان سے ہی مار دیں، کیونکہ مار کھا کھا کر اتنا سمجھ چکا تھا کہ اگر مجھے مار بھی دیا جائے گا تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ مجھے پسند ہی نہیں کرتے تھے یہ میری سوچ تھی، خیر میں اپنی سوچ سے نکل کر دروازہ کھولا ابو بائیک اندر لے آئے لیکن بائیک کا سوئچ آف تھا یا شاید خرابی کی وجی سے بند تھی کیونکہ بھائی نبیل نے بائیک کو پیچھے سے دھکا لگانے والے انداز میں پکڑا ہوا تھا سلیم بھائی ایک کہر آلود نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے اندر داخل ہوئے ابے نے زور سے سلام کیا میں نے جواب دیتے ہوئے دروازہ بند کر کے کنڈی لگائی اور کمرے کی جانب بڑھا تو دونوں بھائیوں کو کمرے میں جاتے دکھ کر وہیں رک گیا اور پھر برآمدے میں بچھے کالین پر بیٹھ گیا اور آنے والے وقت سے ڈرنے لگا ابو اور بھائی لوگ ہاتھ منہ دھو کر کالین پر آ کر بیٹھ گئے امی نے کھانا لگانا شروع کر دیا لیکن اب مجھ سے نظر نہیں ملا رہی تھیں، امی کے اس رویے سے میری مزید گانڈپھٹ رہی تھی، اور میری بھوک بھی چھو منتر ہو گئی تھی خیر جتنا ہو سکا کھایا اور ہاتھ دھو کر کمرے میں جا کر اپنے بستر میں گھس گیا، اور یہ سب سوچ کر اپنے آپ کو مار کھانے کے لئے تیار کر رہا تھا کہ امی ابھی ابو کو بتائے گی، اور پھر اپنی شامت آئے گی، میں نے ڈر کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور مجھے پتا بھی نہیں چلا میں کب سو گیا، اگلے دن صبح اٹھا جلدی سے تیار ہو کر سکول کی طرف نکل گیا ناشہ بھی نہیں کیا، بس گھر سے نکلنے کی جلدی تھی مجھے اور وہی کیا، راستے میں ہلکا پھلکا کچھ کھایا اور سکول پہنچ گیا، اور کلاس میں بھی گم سم رہا جبکہ مانی اور مہر صاحب اپنی مستی میں تھے اور مجھے چھیڑ بھی رہے تھے، لیکن میں چپ رہا اور سوچوں میں گم رہا، خیر مورننگ کلاس ختم ہوئی تو مہر ہاسٹل چلا گیا لیکن مانی وہیں رہا، مانی بڑا چہک رہا تھا کیونکہ نئی پھدیاں مار کر اس کی خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا، مانی نے مجھے چھڑتے ہوئے کہا او پائی تیری بنڈ وچ کیدا للا وڑیا اے سالےآآاااا صبح سے دیکھ رہا ہوں تیری گانڈ پھٹی ہوئی ہے، میں پھر خود کا نارمل کرنے لگا اور کہا کچھ بھی نہیں ہے گانڈو تو بتا ثناء کی پھدی کیسی تھی مزا آیا اس کے ساتھ، ہائےےےےےے مت پوچھ دانی سالی نے بہت مزا کرایا یار، سالی کی گانڈ سیل پیک تھی اس کی گانڈ کی سیل کھول دی مزا آگیا تھا یار، مانی اپنے لن کو مسلتےہوئے بولا، اچھا اچھا شروع سے بتا گانڈو اب میرا لن بھی کھڑا ہونے لگا ہے، میں بولا، تو مانی نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولنا شروع کر دیا، مانی کی زبانی، میں جیسے ہی ثناء کے ساتھ اس کے روم میں آیا تو ثناء نے مجھے بیڈ پر گرا کر جلدی سے کمرے کی کنڈی لگائی پھر میرے لن پر حملہ کر دیا اور بڑے ہی مست انداز میں چوپے لگانے لگی سالی میرے ٹٹوں کو چاٹ رہی تھی تو وقفے قفے سے اپنے دانتوں میں پھسا کر ہلکا ہلکا کاٹ بھی رہی تھی، یار دانی مت پوچھ کتنا مزا آرہا تھا تیرے بھائی کو دل کر رہا تھا سالی ایسے ہی میرے لن کو چاٹتی رہے اور میں سکون سے لیٹا رہوں اور پوری رات گزر جائے، 2 منٹ تک زبردست چوپےلگا کر ثناء کھڑی ہوئی اور اپنے جسم کو کپڑوں سے آزاد کرنے لگی، سفید شلوار قمیض میں ملبوس 24 سالہ قاتل حسینہ، نوٹ، یہاں میں آپکو ثناء کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کر دوں، ثناء گوجرانوالہ سے تعلق رکھتی تھی اور وہ بھی بٹ فیملی سے جو شادی کے بعد ملتان آ گئی،شادی بھی نئی نئی ہوئی تھی مطلب 4 سے 5 مہینے اور یہاں ہمارے ہی علاقے میں ایک پرائیویٹ کلینک میں نرس کی جاب کر رہی تھی شوقیہ طور پر ورنہ خاندانی امیر اور رئیس باپ کی اولاد تھی اور ثناء کا شوہر بھی اچھی جاب کرتا تھا پیسوں کی کمی بالکل نہیں تھیں، اب سے مانی، ثناء اپنے آپ کو سفیدی سے الگ کرنے لگی مطلب اپنی قمیض اتاری تو گورے بدن پر کریم کلکر کے بریزر میں اس کے 34 سائز کے ممے افففف قیامت برپا کر رہے تھے یار، ثناء نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ کو پیچھے لیجا کر اپنی برا کا ہک کھولا اور دونوں ہاتھ اپنے دونوں مموں پر رکھتے ہوئے برا کو کپ سے پکڑ کر اپنی دونوں بازووں سے نکال باہر کیا، افففف کیا ہی غضب ممے تھے یار بالکل گول گول اور بالکل سیدھے سٹریٹ نا ہی مموں میں خم تھا اور نہ ڈھلان تھی اور مزید قیامت تو مموں پر چھوٹے چھوٹے پنک نپل پیدا کر رہے تھے، سفید جسم پر 34 سائز کے گول ابھار پھر گورے گول ابھاروں پر چھوٹے چھوٹے پنک نپل افففف یار کیا مست ممے تھے کھا جانے کا دل کر رہا تھا میں بس بیڈ پر لیٹا اس نظارے کو دیکھ رہا تھا اور میرا لن جھٹکے پے جھٹکا لے رہا تھا، پھر میری نظر مموں سے نیچے پیٹ پر گئی پیٹ ایسا کہ کمر سے لگا ہوا پیٹ سے تھوڑا اوپر اور مموں سے نیچے ثناء کی پسلیوں کی ہڈیا بھی نظر آ رہی تھیں، اور پیٹ کے درمیان میں اس کی ناف کی گہرائی کمرے کی روشنی میں اس کی ناف کی گہرائی بتا رہی تھی کہ وہ کتنی پیاسی اور گرم عورت واقع ہوئی ہے، ابھی میں یہی منظر دیکھ رہا تھا کہ اچانک یہ منظر میری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا، کیونکہ ثناء گھوم چکی تھی اور اپنی 34 سائز کی گانڈ دکھاتےہوئے اپنا پاچامہ اتار چکی تھی اس کی سفید دودھ جیسی گانڈ دیکھ دماغ تو خراب ہوا ہی تھا ساتھ میں لن بھی انگڑائیاں لینے لگااففف کیا ہی مست بے داغ گانڈ تھی یار سالی جس کی بیوی تھی کیا ہی قسمت پائی ہے ثناء کے شوہر نے، اتنے میں ثناء اپنا پاجامہ اتار کر سیدھی ہوئی تو گانڈ کے ابھار آنکھوں سے اوجھل ہوئے اور پھر میری نظر جہاں گئی تو وہاں سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی گولڈن بالوں سے سجی ہوئی ثناء کی پھدی اور پھدی کے دونوں ہونٹ آپس میں ایسے ملے ہوئے تھے جیسے اس پھدی کے اندر کبھی لن گیا ہو یہ تو دور کی بات تھی کبھی کسی نے شاید ہی اس پھدی کو چھوا بھی ہوگا لیکن وہ بعد میں پتا چلا کہ ثناء کے شوہر کا لن تیلی مار ہے، مجھ سے اب برداشت کرنا مشکل ہو گیا اور میں بیڈ سے اٹھ کر ثناء کو پکڑ کر بیڈ پر گرایا اور خود بھی ثناء کے اوپر آ گیا ہمارے ہونٹوں سے ہونٹ ملے اور میرا ایک ہاتھ ثناء کے ممے پر تھا جو ثناء کے ممے کو ہلکا ہلکا دبا رہا تھا کیونکہ مما بہت ہی نرم تھا سخت ہاتھ ایسے مموں کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے، اور میرے ہونٹ ثناء کے مخملی ہونٹوں کا جوس پینئے میں مصروف تھے ہمارا زور دار چمی چٹاکہ جاری تھا اور ہم مدہوش ہو کر ایک دوسرے کے ہونٹ ایسے چوس رہے تھے جیسے ہمیں زندگی مل رہی ہو میں ثناء کے اوپر والے ہونٹ کو چوستا تو ثنا میرے نیچے والے ہونٹ کو قابو کر کے چوس لیتی پھر اپنے دانتوں سے ہلکا قابو کر کے کاٹ لیٹی میرا بھی یہی رد عمل رہا اس کے ہونٹوں کے ساتھ، ہونٹوں کی چمیوں کے ساتھ زبانوں کہ تکرار بھی جاری تھی اور نیچے سے میرا ہاتھ ثناء کے ممے کو سہلاتا پھر اسے دباتا پھر نپل کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے گھماتا سلم اور سمارٹ جسم کی مالکہ نوجوان خوبرو حسینہ کی قربت مجھے پاگل اور وہشی بننے پر مجبور کر رہی تھی لیکن میں وہشی بننا گوارا نہیں کیا کیونکہ ثناء وہ عورت تھی جو وہشی رویے کے قابل ہو بلکہ پیار سے پلکوں پر بٹھانے کے قابل تھی، ہونٹوں سے ہونٹ جدا ہوئے تو میں نے ثناء کی صراحی دار گردن پر زبان پھیرنا شروع کر دی اور پھر ثناء کے کانوں کی لو کو اپنی ہونٹوں میں پھسا کر زبان سے چوسنے لگا تو ثنا کی سسکاریاں میرا جوش بڑھا رہی تھی، باری باری دونوں کانوں کی لو کو چوس چوس کر لال کر کے گردن سے ہوتا ہوا نیچے کی طرف بڑھا اور گول گول پھس پھسی گیند نما مموں کو دیکھ کر مزید جوش آنے لگا جی ہاں ثناء کے ممے ایسے تھے جیسے ہوا والی گیند کو اپنے ہاتھ میں دباو تو اس کی ہوا نکل کر سکڑ جاتی ہے پھر گیند کو چھوڑو تو اس میں ہوا پھر سے بھر جاتی ہے اور پھر سے وہ گیند اپنی اصلی حالت میں آ جاتی ہے ایسے ہی ثناء کے ممے تھے دباو تو اندر دب جاتے پھر چھوڑو تو اپنی جگہ پر واپس آجاتے کیا ہی ظالم قیامت ممے تھے مموں پر گلابی نپل اور اپنی مستی سے کھڑے ہو کر چشم دید نظارہ دے رہے تھے میں نے جلدی سے ایک ممے کو آرام سے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کے ساتھ پریس کیا اور پھر ہلکے ہلکے دبانے لگا، اور دوسرے ممے کی نپل کو اپنی زبان کی نوک سے تراشنے لگا اففف کیا ہی مست میٹھا سواد تھا نپل کا پھر یہی عمل کنورٹ کر کے دوسرے ممے کے ساتھ کیا مطلب جس پر زبان تھی اس کو ہاتھ سے دبایا اور جس کو ہاتھ سے دبا رہا تھا اس کو زبان سے سیراب کیا، اور ثناء کے دونوں ہاتھ میرے سر پر تھے جو میرے بالوں کو سہلانے کے ساتھ ساتھ میرے سر کو اپنے مموں پر دبا بھی رہے تھے اور ساتھ ہی ثناء میٹھی میٹھی سریلی سریلی سسکیاں بھی لے رہی تھی اففففف اہہہہہہ امممممممم اوووووئییییی مموں کے ساتھ پیار بھرا سلوک کر کے مخملی پیٹ کی طرف روانہ ہوا اور پیٹ کو چاٹ چاٹ کر گیلا کر دیا اور ناف میں زبان چلا چلا گھما گھما کر اپنی تھوک سے مکمل بھر دیا اور ثناء بس تڑپ تڑپ کے سسکتی رہی گئی، پھر باری آئی سنہری بالوں سے ڈھکی ہوئی پھدی کی، سنہری بالوں کے نیچے سفید اور سرخ رنگ سے ملاوٹ کئے ہوئے دو ہونٹ اور نوک دار خم کے ساتھ نیچے کی طرف مطلب گانڈ کے سورخ سے تھوڑا سا اوپر جا کر ختم ہو رہے تھے پھدی کے ہونٹوں کے درمیان کا دانہ پہلے تو نظر ہی نہ آیا جب میں نے دونوں پنکھڑیوں کو الگ کیا تو پھر کہیں جا کر چھپا ہوا ایک حساس سا گلابی دانہ نظر آیا جو مکمل ثناء کی پھدی کے پانی سے لت پت ہو چکا تھا، بس پھر کیا تھا موقع محل تھا زبان چلا دی ثناء کی پھدی پر بس ابھی زبان ہی چلائی تھی کہ ثناء نے اپنی دونوں رانوں کے درمیان میرے سر کو قابو کیا اور اوئیییییییی مااااااااں کرتی ہوئی اپنا پانی نکال باہر کیا، ثنا کی چوت سے گاڑھا امرت رس بہہ رہا تھا اور ثناء کی گانڈ اور رانوں کی حرکت سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی زور زور سے ثناء کو جھنجھوڑ رہا ہے کیونکہ اس کا پورا جسم شدید تیزی سے جھٹکے لے لے کر کانپ رہا تھا اور پھدی سے پانی نکل نکل کر اپنا راستہ بنا رہا تھا اور راستے میں جو چیز بھی آ رہی تھی اس کو سیراب کرتا ہوا آگے کی طرف رواں دواں تھا مطلب گانڈ کے سوراخ کو سیراب کرتے ہوئے بیڈ کی چادر میں چھپتا چلا گیا، ثناء کانپ اور ہانپ رہی تھی سانسیں تیز چل رہی تھی، ثناء کی یہ حالت دیکھ کر میں ثناء کے برابر میں لیٹ کر اس کے سر کو اپنے بازو پر رکھا اور گلے سے لگا کمر پر ہاتھ چلانے لگا تاکہ وہ ریلیکس ہو جائے، اور ایسا ہی ہوا وہ کافی حد تک ری لیکس ہو چکی تھی کیونکہ ثناء کا ہاتھ میرے سینے پر چلنے لگا تھا اور پھر سینے سے ہوتا ہوا میرے نیم ڈھیلے لن کو پکڑ کر ہوشیاری دلانے لگا، ثنا کے نرم نرم ہاتھ کا لمس پاتے ہی للے نے سر اٹھا دیا اور مست سی انگڑائیاں لینے لگا ثناء میرے لن سے مزے سے کھیل رہی تھی اور پھر اپنا سر تھوڑا سا اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا اور دیکھتے دیکھتے ہونٹوں سے ہونٹ ملا دیئے، لن کے مساج اور ہونٹوں کی پیاس بجھانے کے بعد ثناء نے میری بازو سے سر اٹھایا اور جلدی سے اپنی لات کو میرے اوپر سے گھماتے ہوے میری دوسر سائڈ رکھ اپنی پھدی کو عین میرے لن کے نشانے پر لے آئی اور ایک ہاتھ سے بیڈ کو سہارا بنایا اور دوسرے ہاتھ سے میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کے سوراخ پر رکھا اور ہلکا سا اپنی گانڈ کو نیچے کی طرف حرکت دے کر میرے لن پر اپنی پھدی کو دبایا تو میرے لن کا ٹوپا ثناء کی پھدی پر ہی جکڑا گیا کیونہ ثناء کی پھدی بہت ہی ٹائیٹ تھی، ثناء اہستہ آہستہ اوہ اہ اوہ اہ کرتے کرتے میرے پورے لن کو اپنی پھدی میں چھپا کر اپنی گانڈ کو میری رانوں پر رکھ بیٹھ گئی اور اپنے دونوں ٹانگوں کو فولڈ کر کے گھٹنوں کو میرے سائیڈو سے چپکا کر آرام سے میرے اوپر جھکی اور ایک ہاتھ سے میری گردن سے پکڑ کر میرے سر کو تھوڑا اوپر کیا پھر مکمل میرے سینے پر لیٹ گئ جس سے ثناء کے پھس پھسے ممے میرے سینے میں گھستے چلے گئے اور پھر باری باری اپنی دونوں بازووں کو میری گردن کے نیچے لیجا کر مجھے گردن سے قابو کیا اور اب مکمل طور پر مجھ سے ایسے چمٹی ہوئی تھی جیسے ہم سوئے ہوئے چھوٹے سے بچے اٹھا کر اپنے سینے سے چمٹا لیتے ہیں اور وہ ہمارے کندھے پر سر کر دونوں بازوں ہماری گردن کی طرف رکھ کر سویا ہوا ہوتا ہے ثناء بھی مجھ سے ایسے ہی چپکی ہوئی تھی لیکن ثناء کا قد بڑا ہونے کی وجہ سے لن اور پھدی کا ملاپ باآسانی سے ہو رہا تھا اب ثناء نے مجھے فل ٹائیٹ پکڑ کے جکڑ لیا اور پھر سلو موشن میں اپنی گانڈ کو ہلکا سا اٹھاتی اور پھر رکھ دیتی اففففف گرم گرم پھدی میں لن اور ثناء کا مجھے جکڑ کر رکھنے سے میرے اندر بجلیاں ہی بجلیاں دوڑ رہی تھیں اور ثناء کے جسم کا لمس اور گرمی میرے جسم کی گرمی سے مل کر کوئی نیا آئیٹم بم بنانے میں لگے تھے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا تھا،کیونکہ ثناء کے جسم کی گرمی مجھے محسوس ہو رہی تھی اور ساتھ میں مجھے اپنے جسم کی گرمی بھی محسوس ہو رہی تھی، ثناء ہلکے ہلکے انداز میں اپنی پھدی کو میرے لن سے سیراب کر رہی تھی اور اپنی گرم گرم سانسوں کو میری گردن پر چھوڑ رہی تھی جس سے مجھے مزید شہوت اور گرمی مل رہی تھی، میرے دونوں ہاتھ ثناء کی کمر پر تھے اور سرکتے ہوئے ثناء کی گانڈ تک پہنچے اور حد رسائی بھی وہیں تک تھی میرے ہاتھوں کی، اور پھر باری باری گانڈ کی پھاڑیوں کا موازنہ بھی جاری رہا اور دبانا بھی جاری رہا اور سہلانابھی جاری رہا ثناء اپنا کام کر رہی تھی میں اپنا، 5 منٹ تک یہی عمل چلتا رہا پھر اچانک ثناء کی سپیڈ میں اضافہ ہوا اور پانچ سے سات مرتبہ ثناء کی گانڈ کا اوپر نیچے ہونا تھا کہ ثناء کی پھدی نے پانی چھوڑ کر میرے لن کو مزید گرم کر دیا اور ثناء ایک بار پھر سے سکون میں آ گئی، اور تیز سانسوں کے ساتھ میرے کان میں بولی تمہارا پانی نہیں نکلا ابھی، میں نے بھی ہلکی سی آواز میں کہا نہیں میری جان، ثناء نے آرام سے اپنے بازوؤں کو میری گردن سے نکالا اور میرے اوپر سے ہٹ کر پھر سے اسی انداز میں لیٹ گئی میری بازو پر سر رکھ کر، میں نے پھر سے ثناء کے ماتھے سے چومنا شروع کیا اور پھر سے ہونٹوں سے ہونٹ مل گئے اور ایک ہاتھ ممے کو دبانے لگا پھر اسی ہاتھ کو سرکا کر نیچے لے گیا اور ثناء کی ران کو پکڑ کر اپنی لاتوں پر رکھا اور ثناء کی خوبصورت اور سیکسی چوتڑ کی ایک پھاڑی کو اپنے ہاتھ سے دبانے لگا اور مسلنے لگا پھر گانڈ کی لکیر میں ہاتھ چلانے لگا اور جیسے ہی میرے ہاتھ کی انگلی ثناء کی گانڈ کے سوراخ کو ٹچ ہوئی تو ثناء تھوڑا اچھل پڑی اور ہونٹوں سے ہونٹ جدا کر کے بولی ہممممم وہاں سے کرنا ہے کیا؟؟؟؟، میں نے بھی ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ہمممممم ہی کہا تو ثناء تھوڑا سا شرما گئی اور پھر بولی یہ میرا پہلی بار ہو گا وہاں سے، میں بولا نو پرابلم آرام سے کروں گا درد کم ہی فیل ہو گا، ثناء نے میرے سینے پر ہلکا سا مکہ مارا اور کہا اچھا جی بڑا تجربہ رکھتے ہیں جناب، میں بھی بولا وہ تو ہے، پھر میں نے ثناء کو کہا کہ مجھے آئل یا لوشن کچھ لیکوئیڈ چیز دو تاکہ آرام سے جائے گا اندر، ثناء بیچاری چپ چاپ اٹھی اور اپنی ڈریسنگ ٹیبل سے سرسوں کا تیل کی بوتل لے آئی اور پھر میرے ساتھ لیٹ گئی لیکن اب کی بار میں نے اسے لیٹنے نہیں دیا بس ڈوگی سٹائل میں رہنے کا بولا جسے وہ مان کر ڈوگی بن گئی میں فورن ثنا کے پیچھے آیا اور مخملی گانڈ کا نظارا کر کے دونوں پھاڑیوں کو الگ گیا تو چھوٹا سا گانڈ کا گلابی سوراخ دیکھ کر پاگل ہو گیا اور پہلی فرصت میں بوتل کا ڈھکن کھول کر آئل کو ثناء کی گانڈ پر بہا دیا پھر انگلی سے ثنا کی گانڈ کو نرم کرنے لگا ثنا کی ہلکی ہلکی سسکیاں نکل رہی تھیں میں سمجھ گیا کہ اب ثناء پھر سے مزے میں ہے سوراخ نرم ہوا تو میں نے ایک انگلی سلو سلو اندر کر دی ہلکی سی آہ کے بعد ثناء سسک گئی لیکن شاید درد زیادہ نہیں ہوا 10 منٹ تک ثناء کی گانڈ کے سوراخ کو نرم کرتا رہا اور اپنی 2 انگلیوں کو اندر تک کر چکا تھا راستہ آسان تھا اب منزل بھی دور نہیں تھی میں نے اپنے لن پر کافی سارا تیل لگاکر اپنے لن کو تیل سے ترم تر کر لیا پھر اپنے لن کی ٹوپی کو ثناء کی گانڈ پر سیٹ کیا اور ہلکا سا دبایا تو میرے لن کا ٹوپا ثناء کی گانڈ کے سوراخ میں پھس گیا اور ثناء نے تکیے پر اپنا منہ چھپا لیا بس غوووون غووووون کی آوازیں آ رہی تھیں مطلب ثناء مکمل تیار تھی پھر میں نے ہلکا سا مزید اپنی گانڈ کے زور کے ساتھ لن کو پش کیا تو تیل کی کثیر مقدار کی وجہ سے لن آسانی سے پھستا پھساتا گانڈ کے سورخ میں اترتا چلا گیا اور 2 منٹ کی محنت کے بعد میرا پورا لن ثناء کی گانڈ میں اتر چکا تھا،اور ثنا کی وہی غوووووں غووووووں کی آوازیں آتی رہی، گانڈ میں لن اتار کر میں تھوڑا رک گیا اور ہاتھ نیچے لیجا کر ثناء کے مموں کو سہلانے لگا اور نپلز کو اپنی انگلیوں سے مسلنے لگا ثناء کی گانڈ بہت ٹائیٹ تھی اور میرا لن بھی جکڑا ہوا پھسا ہوا ثناء کی گانڈ کی گہرائی میں گھسا ہوا اندر کی گہرائی اور گرمائش کی ناپ تول کر رہا تھا ثناء کا درد کم ہو چکا تھا کیونکہ اب وہ کافی ریلیکس ہو چکی تھی، پھر میں نے بھی ہلکا ہلکا حرکات عمل شروع کر دیا اور ثناء کو درد کے ساتھ مزا دونوں مل رہے تھے اور مجھے مزے کے ساتھ گانڈ مل رہی تھی افففف ثناء کی گانڈ کے نرم ابھار میری رانوں سے ٹکرا کر مزید گرمائش دے رہے تھے 5 منٹ تک سلو سلو جھٹکے اور بعد ایک منٹ کے تیز جھٹکے جس نے ثناء کو ہلا کر رکھ دیا اور ثناء کی برداشت سے باہر ہو گیا اور میں بھی اب فارغ ہونے والا تھا میں نے اپنی سپیڈ تیز کر دی ثناء نے اپنا ایک ہاتھ نیچے کر اپنی پھدی کو سہلانا شروع کر دیا اور ایسے ہی گرما گرمی میں میرے لن نے سارا کا سارا پانی ثناء کی گانڈ میں اتار دیا اور ثناء کا ہاتھ بھی رک چکا تھا مطلب ثناء بھی اپنا پانی نکال چکی تھی کمرے میں عجیب سی سمیل پھیلتی چلی گئی، میں نے آرام سے اپنے لن کو نکال کر ثناء کے برابر لیٹ گیا اور ثناء بھی اپنی لاتیں سیدھی کر کے الٹی لیٹ گئ اور آنکھیں بند کر کے مکمل سکون میں تھی، وقت کا اندازہ نہیں ہوا تو میں نے آرام سے ثناء کو آواز دے کر اجازت چاہی تو اس نے بس خالی سر ہلایا کہ کے جاو، جلدی سے کپڑے پہنے کمرے سے باہر آیا تو نوشی گرین کلر کی نائٹی پہنے ھال میں بیٹھی چائے پی رہی تھی مجھے دیکھ کر سمائل کی اور پھر پوچھا ہو گیا، جی سب ہو گیا اب دیر ہو رہی ہے تو جانا ہوگا، نوشی کہتی رہی کہ چائے یا کھانا کچھ کھا کر جاو لیکن مجھے دیر ہو رہی تھی بس نکلنے والی کی وہاں سے پہلے سوچا تیرے پاس جاتا ہوں پھر سوچا نہیں شام ہو رہی ہے سیدھا گھر جاوں پھر گھر ہی چلا گیا کھانا کھا کے سکون سے سو گیا اور بہت ہی مست نیند آئی یار کیا بتاوں دانی، اب سے دانش، مانی اور ثناء کی چدائی سن کر میرا لن بھی ڈنڈا بنا ہوا تھا اور پوری کہانی سنتے سنتے اپنے لن کو مسل مسل کر اس کا بھرتا بنا چکا تھا مانی میری حالت دیکھ کر ہنسنے لگا اور بولا سالے تو نا جاتا تو اور بھی مزا آتا ، ویسے وہ تجھے بہت یاد کر رہی تھی، میں نے اچھا چل چھوڑ وہ کونسابھاگی جا رہی ہے اب تو یہ سمجھ اپنے لن کے نیچے ہی رہے گی تو ٹینش نہ لے اگلے جمعے کو ثناء کی پھدی ہو گی اور اپنا لنڈ پھر ڈزن ڈزن ڈزن مانی اور میں دونوں زور سے کہکا لگا کر ہنسے پھر باہر آ گئے کھانا کھایا، کلاس کا ٹائم بھی ہوگیا اتنے میں پڑھائی کر کے شام کو گھر، گھر پہنچا تو امی کو نارمل دیکھ کر سکون کا سانس لیا چینج وغیرہ کر کے لیٹ گیا ابو اور بھائی لوگ آگئےکھانا وانا کھایا اور پھر سب اپنے اپنے بستر میں گھس گئے، اگلے دن پھر وہی روٹین رہی کلاس میں مانی میری اور مہر صاحب کی شرارتیں جاری رہتی تھیں، مانی اور میں مہر صاحب کے بارے میں سوچتے سوچتے رہ جاتے کہ اگر اس سالے سے کسی لڑکی کو چدوا دیا تو وہ لڑکی پھر ہمیں گھاس نہیں ڈالے گی ہاہاہا مانی بھی یہی کہتا تھا مجھ سے، خیر وہ بعد میں پتا چلا کہ مہر بھی کمینہ ہے اور پہلے سے ہی وارداتیں کر چکا تھا، جاری ہے،،،،،
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status