Jump to content
URDU FUN CLUB

Mrchouhdry

Active Members
  • Content Count

    100
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

74

About Mrchouhdry

  • Rank
    MrChouhdry

Identity Verification

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. ایکشن تو جناب انتہائی خطرناک حد تک ہوگا ۔۔۔بس آپ بھائیوں کی دعائیں چاہیے ۔۔اور جُڑے رہیں کہانی کے ساتھ ۔۔۔۔
  2. Jani....Filhal To Pyar Ka Mamlaa Sirf Laiba K Sath He...or Phir Sana Hero Se 2 sal badi he....Ab dekhna yeh he k Hero kia krta he...Laiba ka Kia Banta he Sana ka Kia hota he in Sab sawalon k Jawabat to Agy chal k hi milen Gy..
  3. UpDate.....No____:06 جیسے ہی میں نے کوٹھری کے دروازے پر قدم رکھا تو اندر کا منظر دیکھتے ہی میرے ہوش اڑ گئے ۔ میں نے دیکھا کے اندر چار لڑکے بالکل ننگے کھڑے ہوئے تھے ۔ اُن میں سےایک لڑکا دوسرے لڑکے کو'' کوڈا کرکے اس کی گانڈمیں'' لنڈ''ڈالے جھٹکے مار رہا تھا ۔ اُسے دیکھنے کے بعد میں نے کوٹھری کے دوسرے کونے کی طرف دیکھا تو وہاں پر لڑکی بالکل ننگی ٹیوب ویل کی موٹر کناروں پر ہاتھ رکھ کے ڈوگی بنی ہوئی تھی۔ اُس کے پیچھے کھڑا میرا دوست شیخ اُس لڑکی کی'' گانڈ''میں'' لنڈ'' ڈالے زورزورسےجھٹکے مار نے مشغول تھا ۔ اور اس لڑکی کے سامنے کی طرف ایک لڑکا اور کھڑا ہُوااس کے منہ میں اپنا''' لنڈ'' ڈالے جھٹکے مار رہا تھا، یا یو یوں کہہ لیں کہ وہ اس کا منہ چود رہا تھا ۔ مجھے لڑکی کا چہرہ ٹھیک سے نظر نہیں آرہا تھا وجہ اُس کے سامنے وہ لڑکا کھڑا تھااور کوٹھری میں اندھیرا بھی کافی حد تک تھا۔ میں دروازے کے باہر سائیڈ میں کھڑا ہو کر وہ سب کچھ دیکھتا رہا تھوڑی دیر بعد لڑکی کے منہ کی طرف سے وہ لڑکا جیسے ہی پیچھے ہٹاتو لڑکی کے چہرے کو دیکھتے ہیں میرے تو ہوش ہی گم ہوگئے۔ میں بہت حیران ہُوااُس سے بھی زیادہ مُجھے غصّہ آرہاتھا اُس لڑکی کو دیکھ کر،۔ مجھے یہ تو نہیں معلوم تھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ''پر اتنا ضرور معلوم تھا کہ یہ سب کُچھ غلط ہی کررہے ہیں،، بُرا کہتے ہیں سب ایسی حرکت کو۔ مجھے اس اسے اس حالت میں دیکھ کر غصہ تو بہت زیادہ آ رہا تھا اور پتہ نہیں کیوں میں بھی کھڑاچُپزچاپ دیکھنے لگاکہ اب یہ لوگ آگے کیا کرتے ہیں۔ اسی طرح میں کافی دیر کھڑا دیکھتا رہا جیسےہی شیخ فارغ ہوا تو اس نے اس لڑکی کی'' گانڈ ''میں سےاپنا ''لنڈ ''نکالا اور سائیڈ پر جا کے دھونے لگا ۔ اتنے میں یہ دیکھ کر باقی دونوں لڑکے آپس میں ایک دوسرے سے الگ ہوئے اورایک نے آکر اُس لڑکی کے منہ میں'' لنڈ'' میں ڈال کر چودنا شروع کردیا اور ایک نے اس کی گانڈ ''میں ڈال کرگِھسّے مارنےشروع کر دیے''۔'' یہ سب دیکھ کر مجھے بھی ہوشیاری آ رہی تھی میرا بھی'' لنڈ ''بڑا ہو رہا تھا اور پورے جسم میں مجھے عجیب سا کھچاؤ محسوس ہو رہا تھا تھوڑی دیر تو میں یونہی دیکھتا رہا پھر جب سب کچھ میری برداشت سے باہر ہوگیا تو میں ایک گرجدار میں دھاڑا ،،یہ کیا بے غیرتی ہو رہی ہے میری آواز سنتے ہی سب ہڑبڑا کر سیدھےہوگئے باہر دروازے کی طرف دیکھنے لگے۔ جیسے ہی میں دروازے سے اندر آیا تو تک شیخ اپنے کپڑے پہن چکا تھا لڑکی اُسی طرح ننگی حالت میں کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی مجھےوہاں دیکھ کر،۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا شیخ نے مجھے کہا تھا''عا دل'' میں وہ،، میں وہ، وہ میں، وہ میں، کرتا ہُوا باہر اوپر کی طرف بھاگ نکلا اُسے دیکھ کر باقی لڑکوں نے بھی باہر کی طرف دوڑ لگا دی ۔اور کے پاس پڑے اپنے کپڑے اٹھا کر بھاگ نکلے۔ میں لڑکی کا ہاتھ پکڑا اور اُس سے پوچھا ،کہ یہ کیا ہو رہا تھا۔۔؟؟؟ لڑکی تو ڈر کے مارے بالکل سفیدہوچُکی تھی۔ خون خشک ہو چکا تھا اُسکا،ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے سکتے کی حالت میں ہے ۔ مجھے دیکھتی جا رہی تھی میں نے اُسے کندھے سے پکڑ کر زورسے جھنجوڑا تو لڑکی روتے ہوئے کہنے لگے عادل میں نہیں آئی تھی اِن کو ساتھ یہ مجھے زبردستی لائے تھے۔ میں کہنے لگااچھا ٹھیک ہے چلو تم اپنے کپڑے پہنو ۔یہ بات نہیں تھی کہ لڑکی کا جسم اچھا نہیں تھا۔ پر اِسے اِس حالت میں دیکھ کر میرا دماغ پرغصّہ سوار تھا اور لڑکی کے جسم کو دیکھنا تو دور کی بات ہے میرے ذہن میں بھی ایسی کوئی بات نہیں آ رہی تھی اس وقت۔ جیسے ہی لڑکی نے کپڑے پہنے تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی جانَب لے آیا ،وہ بُری طرح رونے لگی میرے آگے ہاتھ جوڑ نے لگی کہ عادی،، مُجھے معاف کر دو اگر تم نے یہ بات کسی کو بتا دی تو گاؤں والے مجھے مار ڈالیں گے پلیز میرے بارے میں کسی سے یہ بات مت کرنا۔ میں نے کہا چلو یہاں کوئی دیکھ لے گا یا تماشہ مت بناؤ سکون سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔ تو میں اسے اپنے اوطاق کی طرف لے آیا میں جب اسے اوطاق کی طرف لے آ رہا تھا اُس وقت کے بارے میرے دل میں میرے ذہن میں کوئی بھی برا خیال نہیں تھا مجھے اس کی بات سن کر اس سے ہمدردی ہو رہی تھی۔ مُجھے معلوم تھا کہ اس وقت اوطاق میں کوئی نہیں ہوگا کیوں کہ ڈرائیور تو بابا جان لوگوں کے ساتھ شہر کی طرف جا چکا تھا جیسے ہی ہم لوگوں کمرے میں پہنچے، میں اندر کمرے کی طرف گیا تو وہاں پہنچتے ہی ثناء نے میرے پاؤں پکڑ لئے کہ عادل پلیز کسی کو بتانا مت ورنہ میں برباد ہو جاؤں گی میری بہن کی شادی تک بھی ٹوٹ جائے گی۔ وہ لڑکی اور کوئی نہیں آنٹی فرحین کی چوتھی بیٹی ثناء تھی۔ میں اُسوقت اُس پر بہت ہی زیادہ برہم ہو رہا تھا ۔ میں نے اُسے کہا کہ تم ایسا کیسے کر سکتی ہو مُجھے یہ نہیں معلوم تھا تُم اتنی بے ہودہ حرکت کر سکتی ہو۔ ُاس نے کہا عادل پتہ نہیں کیسے میں اِن جیسے لوگوں کے چُنگل میں پھنس گئی۔ میں اُس سے پوچھا یہ سچ سچ بتاؤ یہ سب کیا ہو رہا تھا اور تم دونوں تو اپنی خالہ کے گھر لاہور گئی ہوئی تھی تو یہاں کیسے۔۔؟؟ ثناء نے جواب دیا کہ میں اور آپی کل رات آئے ۔ ہم لوگوں کو ماموں جان چھوڑ گئے تھے ۔ میں صبح جیسے ہی ٹیوب ویل پر پہنچی تو یہ لوگ آگئے ۔آتے ہی شیخ نے مجھے بلیک میل کرنا شروع کر دیا کہ چلو اندر۔ اِسی طرح یہ پہلے بھی مجھے کئی بار اُس طرح کر چکا ہے۔ تو میں نے چونک کر پوچھا کیا کر چکا ہے ۔۔؟؟ اِن دنوں مجھے ان باتوں کا کوئی علم نہیں تھا ۔ اور تُم اس کے چُنگل میں کیسےپھنس گئی کِس بات پر وہ تمہیں بلیک میل کر رہا تھا۔۔؟؟؟؟؟ تو ثناء نےمجھے کہا کہ کچھ مہینے پہلے میں کھیت جا رہی تھی کہ وہاں مجھے خان بابا نے پکڑ لیا اور وہ میری ساتھ چُماچاٹی کرنے اور زور زبردستی کرنے لگا کےاُن کے اِس طرح زور زبردستی کرنے میں میری شلوار تک پھٹ گئی اُنھوں نے مجھے سامنے سے پکڑا ہوا تھا اور میری پیچھےسےشلوارپھٹ چکی تھی میری گانڈ اور رانیں دِکھ رہی تھی۔ خان بابا کا ایک ہاتھ میرے مموں پر اور دوسرا ہاتھ میرے منہ پر تھا میں اُسے اپنے دونوں ہاتھوں سے منہ پرتھپڑ تک مار رہی تھی خودکوچھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی پر اتنے لحیم شحیم بندے سے میں کیسے خود کو چھڑوا سکتی تھی ۔ اُن کے اِس طرح زور زبردستی کرتے ہی اچانک تمہارے دوستوں کا وہاں سے گزر ہوا وہ لوگ دیکھتے ہی میری طرف آئے خان بابا نے جیسے ہی انہوں کوپاس آتے دیکھا تو وہاں مجُھے اُسی حالت میں چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ شیخ نے مجھے ننگی حالت میں دیکھا ،تو اس نے مجھے کہا کہ میں تمہارے بارے میں سب کو جا کر بتاؤں گا کہ تُم خان بابا سے چدواتی ہو۔ میں رونے لگی اور اُس کےسامنے ہاتھ جوڑنے لگی کہ میرا کوئی قصور نہیں ہے خان بابا میرے ساتھ زبردستی کر رہے تھے پرشیخ نے میری ایک نہ سنی اوراپنے دوستوں سےکہا کہ اُدھر رکو تم لوگ ،،اورآگے پیچھے دیکھتے رہو کہ کوئی اس طرف نہ آئے ۔اگرکوئی اس طرف آنے لگے تو مجھے بتا دینا۔۔ شیخ نے مُجھےپکڑا اور آگے کی طرف جھکا دیا اور بولا کہ اگر کوئی آواز نکالی تو تو اپنی بےعزّتی اور بربادی کی ذمہ دارتُم خود ہوگی ۔ تم میں ڈر کے چُپ چاپ کوڈی ہو گئی ۔اِس سے پہلے کے میں کوئی اور بات کرتی اُس نے اپنا ناڑا کھول کراپنا ''لنڈ'' باہرنکالا اور میری 'گانڈ ''کے کے سوراخ پر رکھ کر ایک زوردار جھٹکا مارااُس جھٹکے میں اس کے ''لنڈ'' کی ٹوپی ہی اندر گئی تھی کہ میری ایک تیز چیخ نکل گئی ،مجھے ایسا لگا کہ کسی نے کوئی جلتی ہوئی راڈ میری'' گانڈ ''میں ڈال دی ہو ۔ میں نے اُس کے آگے سے بھاگنے کی کوشش کی تو اُس نے میرے دونوں ہاتھ پیچھے کر موڑ کر پکڑے اور ایک ہاتھ سے میرا منہ بند کیا اور پھر سے ایک زور سے جھٹکا مارا میں تڑپ کر رہ گئی اور درد سے بَلبلاتی رہی پر اُسے مجھ پر بِلکُل بھی رحم نہ آیا کافی دیر تک وہ اسی طرح بے دردی سے میری ''گانڈ''مارتا رہا ۔ پھر کچھ دیر بعد جیسے ہی اس نے اپنا ''لنڈ'' نکالا تو میں نےدرد سےنِڈھال ہوکے نیچے مٹّی پر گر پڑی ۔ ابھی اُس کے دوست آگے بڑھ ہی رہے تھے کہ ایک نے آ کر کہا اُس طرف سے کچھ لوگ یہاں آ رہے ہیں۔ اوروہ لوگ مجھے وہیں پڑی چھوڑ کر بھاگنے لگے یہ بات سنتے ہی مجھے بھی اپنی عزت کی پڑ گئی کیونکہ یہاں کے اس ماحول میں لڑکی کو زیادہ قصور وار سمجھا جاتا ہے تو میں جیسے کیسے اٹھ کر کھڑی ہوئی تو میری'' گانڈ''میں ٹیسیں سی اٹھنے لگیں ۔ اِتنی زیادہ تکلیف میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی تھی جتنی مجھے آج اٹھانی پڑ رہی تھی جیسے کیسے کرکے میں ٹیوب ویل کے پاس پہنچاور جو کپڑے سوکھنے کے لیے ڈالے ہوئے تھے ان میں سے میں نے ایک شلوار اتاری اور اسے پہن کر اپنی اتری ہوئی شلوار کو سائیڈ پر رکھ کر پتھر اٹھا کے اسے آگ لگا دی۔ میں لڑکھڑاتے لنگڑاتے پہنچ گئی وہ تو خدا کا شکر تھا کہ میں جیسے ہی گھر پہنچی تو دیکھا سب اوپر والے کمرے میں تھے۔ میں جاتے ہیں واش روم میں گھس گئی اور نہانے لگی ایسے نہانے کے بعد میرے جسم میں تھوڑی سی توانائی محسوس ہونے لگی میں نہا کر واپس آئی اور ایسے ہی اپنے کمرے میں جا کے سو گئی ۔ اُس واقعے کے کچھ ہی دن بعد جب میں کھیتوں کی طرف گئی تو اُس کے دوستوں نے مجھے دوبارہ سے پکڑ لیا اور پھرسے شیخ مجھے بلیک میل کرنے لگاکہنے لگا میرے دوستوں کو بھی کرنے دو ورنہ ہم سب مل کے تمہیں پورے گاؤں میں بد نام کر دیں گے تم خود سوچ سکتی ہو کہ تمہارا کیا حشر کریں گے یہ گاؤں والے ۔ میں اتنا ڈر گئی کہ اُن کے سامنے ٹھیک سے مزاحمت بھی نہ کر سکی پھر وہ لوگ جو چاہتے تھے کرتے تھے شیخ نے روز ہی میری'' گانڈ'' مارنی شروع کر دی کبھی کھیتوں میں تو کبھی یہاں کوٹھری میں زیادہ تروہ مجھے ٹیوب ویل والی کوٹھی میں ہی لے جاتے تھے ۔ آج بھی اتمہارے گھر کی طرح آتے ہوئے راستے میں ہی اُنھوں مجھے روک لیا اٹھا کر کوٹھری کی طرف لے گئے ۔ باقی جو سب ہوا وہ تم جانتے ہی ہو ۔میں نے تجسس میں آ کر پوچھا کہ یہ سب ہو کیا رہا تھا مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے میں پہلے بھی ایسا ایک بار دیکھ چکا ہوں۔ یہ سُنتے ہی ثناء نے چونک کر پوچھا کِس کو اور کہاں۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟ تو میں اس کی بات سن کر آئیں بائیں شائیں کرنے لگا میں نے بات بدلنے کے لیے کہا کچھ نہیں بس میں کچھ وقت پہلے شہر گیا تھا وہاں میں نے جیب میں کسی کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔ دوستو: میں جس وقت کی بات کر رہا ہوں اس وقت صرف پجارو جیپ ہی ہوتی تھیں۔ اور وہ بھی بہت مہنگی تھیں کہ بہت بڑے لارڈ لوگ ہی اُسے افورڈ کر سکتے تھے۔ تو ثناء نے بڑی بے باکی سے کہا کہ تم بھی اتنے بُدھّو ہو تمہیں نہیں معلوم اِسے کیا کہتے ہیں اسےچودنا کہتے ہیں ۔ تو میں نے شرم کے مارے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا ہائے ،،گالی دیتی ہوشرم نہیں آتی تمہیں۔۔؟؟؟تو اُس نے کہا نہیں بُدھّو ا سے سچ میں چودنا ہی کہتے ہیں ۔ میں پوچھا کہ ایسا کرنے سے کیا ہوتا ہے۔۔؟؟ اور یہ سب کرتے کیسے ہیں۔۔۔؟؟؟؟؟ ثناء نے مُسکرا کر میری طرف دیکھا اور مجھے کہا تمہیں کیوں جاننا ہے۔۔۔؟؟؟ میں کہا بس ایسے ہی جاننا چاہتا ہوں مجھے کوئی شوق نہیں ہے ،،تمہاری طرح اتنی الٹی سیدھی حرکتیں کرنے کا۔ اس نےکہا جاکر پہلے تم کنڈی لگا کر آؤ،، میں کہا یہاں کون آنے والا ہے ہمارا اوطاق تو ویسے بھی گاؤں کے آخری سرحد پر ہے ۔ دور دور تک بنجر زمین ہے ۔یہاں کس نے آنا ہے۔۔؟؟؟ ثناءنےکہا یہاں کوئی بھی کسی وقت بھی آ سکتا ہے اس لیے پہلے تم کنڈی لگا کر آؤ اور جیسا میں کہتی ہوں ویسے ویسے کرتے جانا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے اور میں بھاگ کر گیا دروازے کو کنڈی لگائی اور واپس آیا تو دیکھا۔ ثناءاپنے کپڑے اُتار کے بالکل "ننگی" ہو چکی تھی اور کھڑی دروازے کی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔ جیسے ہی اندر داخل ہوا تو روشنی میں اس کا جسم دیکھتے ہی وہیں ٹھٹک کر رک گیا۔ میں نے ثناء کی طرف سر سے پیر تک دیکھا ۔ ثناء کا جسم بھی بہت ہی پیارا تھا۔ اِس کے بڑے بڑے 34 سائز کے ممے بلکل تنے کھڑے تھے۔اور اُن پر گلابی کلر کے چھوٹے چھوٹے نپل بہت پیارے لگ رہے تھے۔ اور اِس کے بعدتو اُس کا بلکل ہی سلِم سا پیٹ پتلی سی کمر سامنے سے نظر آتی ہوئی چھوٹی سی چُوت کی چھوٹی سی جِھری۔ اور اس کی سڈول رانیں،پھراُسکے گورے پاؤں پر، سونے پہ سہاگہ یہ کہ گورا سفید رنگ اِس کا مکمل بدن کسی آگ سے کم نہیں تھا۔ اُسے اس حالت میں دیکھ کر تو اسی سال کےبُڈّھے کا بھی لنڈ کھڑا ہو جائے میرا کیا حال ہو رہا تھا یہ میں ہی جانتا ہوں ۔ اُس نے مجھے کہا کہ کیا دیکھ رہے ہو یہاں آؤ تو میں مرتا نہ کیا کرتا ہیپناٹائز کی سی حالت میں اُسکی طرف قدم بڑھانے لگا ۔ اوراُسکے پاس پہنچا ہی تھا کہ ثنا نے مجھے کہا جلدی سے اپنے کپڑے اُتارو ۔اُس کی بات یہ سن کر مجھے بہت شرمندگی محسوس ہو نے لگی ۔ میں نے کہا نہیں تم ایسے ہی بتاؤ اور تم بھی اپنے کپڑے پہن لو مجھے بہت عجیب سا لگ رہا ہےتُمہیں ِاس حالت میں دیکھ کر۔ توثناء میری حالت دیکھ کے مسکرائی شاید وہ میری اِس حالت سے محظوظ ہو رہی تھی۔ پھر اس نے خود ہی میری طرف قدم بڑھائے اور آگے بڑھ کر میرے کُرتے کے بٹن کھولنے لگی بٹن کھول کر میرے بازو اوپرکیئے اورکرتے کو میرے جسم سے الگ کردیا۔ پھر اُس نے میری شلوار کی طرف ہاتھ بڑھایاہی تھا تو میں نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں کہا نہیں یہ نہیں کرنا۔ اس نے کہا کہ یہ بھی کرنا پڑے گا اِسے بھی اتارو ورنہ میں جا رہی ہوں ۔میں نے کہا ٹھیک ہے رُکو میں خود اُتارتا ہوں تم اپنےہاتھ پیچھے کرو ۔ میں شلوار اتاری اوردیکھاتو ثناء دوسری طرف منہ کرکے اپنے دونوں ہاتھ چل پائی پر رکھے ڈوگی سٹائل میں کھڑی تھی ۔ میں اس کی بڑی بڑی ابھری ہوئی گانڈ کو دیکھتا رہ گیا۔ اُس نے آواز دی،، عادل آگے آؤ ۔میں جیسے ہی آگے بڑھا تو اُس نے اپنا ایک ہاتھ پیچھے کرکے اپنی'' گانڈ'' کی ایک سائیڈکو پکڑا اور اسے سائڈوں کی طرف کھولنے لگی۔ اُس کے ایسا کرتے ہی مجھے اس کی گانڈکا گلُابی گُلابی سوراخ نظر آنے لگا۔ پھر اُس نے کہا کہ کب تک ایسے دیکھتے رہو گے۔۔؟؟؟؟ میں آگے بڑھا اس کے قریب آیا تو اس نے کہا کہ اب اپنا ''لنڈ 'اِس سوراخ کے اندر ڈالو ۔اور اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلی سے اپنی'' گانڈ''سوراخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات پھرسے کہنے لگی۔ میں حیران پریشان دیکھتا رہا کہ کیا کروں اس نے دوبارہ کہا کہ جو کہا ہے جلدی کرو کوئی آ نہ جائے ۔ تو میں آگے بڑھا اور اپنے'' لنڈ'' کی ٹوپی اس کے سوراخ پر ٹکائی میرے ٹوپےکواُس کوسوراخ پر لگتے ہی اُس نے اپنا دوسرا ہاتھ واپس چارپائی پر رکھ لیا میں پوچھا اب کیا کروں تو اس نے کہا کہ اب اِسے دھکیل کر اندر کرو۔تو فورن مجھے اوطاق میں دیکھا جانے والا طارق بھائی کا سین یاد آگیا تو میں نے ویسے ہی ایک جھٹکا مار دیا ۔ میرے جھٹکا مارتے ہی ثناء نے زور دار چیخ ماری اور تڑپتے ہوئے آگے ہوکےچارپائی کے اوپر گر پڑی۔ کافی دیر ویسے ہی لیٹی رہی۔ پھر مجھے کہنےلگی تُم تو بالکل ہی پاگل ہو کچھ بھی معلوم نہیں ایک تو تُمہیں ۔ آرام آرام سے ڈالتے ہیں اور دوسرا ڈالنے سے پہلے کوئی چکنی چیز لگائی جاتی ہے۔ پہلے اس پر سرسوں کا تیل لگاؤ۔ میں بھاگ کر تیل اٹھا کر لایااور اسے اپنے'' لنڈ ''پر لگانے لگا ثناء پھر سے کوڈی ہوگئی ۔ اور اپنے سوراخ کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہاں بھی لگاؤ تو میں اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں پر تیل لے کر اُس کی ''گانڈ'' سوراخ کے اوپر لگانے لگا۔ اُس نے کہا بے وقوف اوپر نہیں انگلیوں کو تیل میں ڈبو کر انگلی سوراخ کے اندر ڈال کر تھوڑا سا گھماؤ۔ میں نے اپنی درمیان والی انگلی پر تیل لگایا اور دوسرے ہاتھ سے ثناء کی ''گانڈ'' کا دوسرا حصہ کھولا اور اُس کو سوراخ میں اُنگلی سے تیل لگانے لگا۔ جیسے ہی میں نے انگلی اندر ڈالیں تو اس نے سسسی کرکے آواز نکالی۔، میں پوچھا کیا ہوا۔۔۔۔۔؟؟؟؟ اُس نے کہا کچھ نہیں تم تیل لگاؤ ،،،میں تیل لگایا تو اس نے کہا ٹھیک ہے بس اب بہت لگ گیا ۔ اب اس میں اپنا'' لنڈ'' ڈالو پہلے کی طرح جانور نہ بن جانا آہستہ آہستہ طاقت لگا کے اندر کرنے کی کوشش کرو ۔ میں جیسےہی اندرڈالنے کی کوشش کرتا تو میرا'' لنڈ ''پھسل کر اوپر کی طرف نکل جاتا۔میں تنگ آکر تھوڑا سا جھٹکا مارا اور میرے لنڈ کی ٹوپی اُس کی'' گانڈ'' میں گھُس ہی گئی ۔ اورثناء کےمنہ سے پھر ہلکی سی چیخ نکل گئی اس نے مجھے ہاتھ کے اشارےسے رُکنے کو کہا۔ میں پیچھے ہو کر'' لنڈ'' کو باہر نکالنے ہی لگا تھا کہ اس نے ہاتھ پیچھے کرکے میرے''چوتڑوں''کو پکڑ لیا اور مجھے وہیں رکنے کا کہا۔ میں وہیں رک گیا تھوڑی دیر بعدثناء اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کرکے مجھے ''گانڈ ''سے پکڑا اور اپنی طرف پُش کرنے لگی۔ میں بھی اس آہستہ آگے کی طرف زور لگانے لگا اور میرا آدھا ''لنڈ'' ثناء کی ''گانڈ ''میں میں اُتر چُکا تھا تو ثناء نے مجھے پھر سے رکنے کو کہا اور تھوڑی دیر یوں ہی گزر گئی ۔ اب اس نے مجھے کہا کہ اسی طرح تھوڑا سا آگے پیچھے ہو،، اور اتنا پیچھے ہونا کہ یہ پورا باہر نہ نکل سکے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میں پیچھے ہونے لگا اب میرا ''لنڈ'' ٹوپی تک جیسے ہی پہنچا۔ثناء نےپھرسے مجھے ٹانگوں سے پکڑ کر رکنے کا کہا۔ اُس نے کہا کہ آگے کی طرف آؤ میں نے اپنے'' لنڈ ''کو آگے کی طرف کیا اور پھرسے آدھا اندر چلا گیا ۔ اُس نے کہا پھر سے پیچھے ہو اور پھر سے آگے آؤ.اور اسی طرح آگے پیچھے کرتے رہو۔ پھر میں تقریبا آدھا پونا گھنٹہ اِسی طرح اپنے ''لنڈ'' کو'' ثناء'' کی ''گانڈ ''میں آگے پیچھے کرتا رہا یہاں تک کہ'' ثناء''کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اوراُس نے مجھے کہا کہ باہر نکالو پورا ،اب ۔ میں باہر نکالا تو مجھے حیرانگی سےدیکھنے لگی کہ میں اب تک فری کیوں نہیں ہُوا تھا ۔ اُس نے میرے ''لنڈ ''کو پکڑا اور مجھے کہا کہ تم اس چارپائی پر بیٹھو میں چارپائی پر بیٹھاہی تھا اُس نے کہا تھوڑا سا آگے ہوکہ جیسے ہم چار پائی پر لٹک رہے ہوتے ہیں اس طرح بیٹھو۔ میں بیٹھا تو اس نے میرا'' لنڈ'' پکڑا اور اور اُس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی پھر اپنی زبان باہر نکال کر میرے'' لنڈ ''کی ٹوپی پر پھیرنے لگی مجھے اُس کے اُس طرح کرنے سے بہت ہی زیادہ مزہ آنے لگا۔جو میرےلئے بیان کرنا نا مُمکِن تھا۔ ثناء نے زبان سے میرے'' لنڈ '' کو چاٹنا شروع کر دیا کبھی اوپرکی طرف زبان کولے آتی تو کبھی نیچے۔ کبھی تو اُس کی جڑ تک آکر بالز پر زبان پھیرتی ۔ کبھی میری بالزکو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیتی۔ اُس کے بعد اس نے میرے''لنڈ '' کو آہستہ آہستہ منہ میں لینا شروع کیا پہلے میری ٹوپی کو منہ میں لے کر اس پر زبان پھرتی رہی پھر اس نے اس میرے ''لنڈ ''کوآہستہ آہستہ اپنے منہ میں اُتارنا شروع کردیا تقریبا دو انچ تک اندرلےجانے کے بعد باہر لےآتی پھر واپس لے جاتی اِسی طرح میرے'' لنڈ'' کو کافی دیر تک چُو سا۔ میں اب تک فری نہیں ہُوا تھا اس نے تنگ آکر''لنڈ ''کومنہ سے نکالا اور مجھے کہا کہ تم فارغ نہیں ہو رہے۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟ میں نے کہافارغ ہونا کِسے کہتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ تووہ شرمندہ سی ہو گئی اورکہنے لگی کُچھ نہیں بس تم چھوڑو ۔اوراب کپڑے پہنو اپنے۔بہت دیر ہوچُکی ہے ہمیں کوئی آہی نا جائے۔ اور اپنے کپڑے پہننے لگی کپڑے پہنتے ہی اُس نے میرے گال پر کِس کی اور مجھے کہا کہ میں جا رہی ہوں گھر پر۔ اب یہ بات کسی کوبتانا مت کہ تُم نے کیا ،کیا ہے تم نے کسی کو بتا دیا تو خود بھی مرو گے اور مجھے بھی مروا ؤگے۔ اُسکی یہ بات سُنتے ہی میں نے اثبات میں سرہلادیا۔ اب میں یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ جب سے میرے والد نے آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد واپس گاؤں آ کر گاؤں کے بڑے چودھری کی گدی سنبھالی ہے تب سے اب تک ہمارے بہت سے دشمن بن چکے تھے۔ اُن میں ہمارے سب سے بڑے دشمن کا نام رانا شہباز تھا ۔ جس کے بارے میں آس پاس کے ہر گاؤں اور ہر تعلقے کے تھانوں میں یہی مشہور تھا کہ وہ اِنڈیا کا ایجنٹ ہے۔ کیونکہ اُس وقت اُس کا صرف اتنا ہی کام ہوتا تھا کہ پاکستان بھر میں اُس کہ کارِندےافیم کی سپلائی کرتے تھے اور حشیش گانجا وغیرہ کی کھیتی بھی کرتے تھے ۔ اور اس کے کچھ پالے ہوئے غنڈے ملک میں'' قتل و غارت'' بم دھماکے،، خونریزی ''اور مذہب کے نام پر ''دنگے فساد'' کرانے میں ملوث پائے جاتے تھے ۔ اکثر اوقات ہماری اُس سے کہیں نہ کہیں جھڑپ ہو ہی جاتی تھی ۔ گاؤں کا بڑا چوہدری ہونے کے ناطے میرے والد کے پاس بھی ایک مکمل فورس تھی۔جو کہ نہ ہی کسی سیکیورٹی سے نہ ہی آرمی کےبندے تھے۔ بلکہ وہ میرے والد کے اپنے ہی ٹرینڈ کئے ہوئے چند مخصوص بڑے کسانوں کے بہادُر بیٹے تھے۔ جو اپنے گاؤں کو ہر طرح سے محفوظ رکھنا چاہتے تھے اور اُن میں سے کُچھ ریٹائرڈ فوجی یا اُن کے بیٹے بھی تھے ۔ اِسی صورت حال کو لے کر بابا نے مجھے بچپن سے ہی'' کراٹے'' نشانہ بازی'' اور'' باڈی بلڈنگ'' وغیرہ جیسے مشغلوں میں مصروف رکھا۔ اس کی وجہ سے میں اِس عُمرمیں بھی نِشانےبازی اور مارشل آرٹ میں بھی کافی مُہارت حاصل کر چکا تھا پر بڑوں کے مقابلے، میں ابھی طفل مکتب ہی تھا ۔۔ میں اپنی اطاق سے نِکل کر گھرکی جانِب چل پڑا جیسے ہی میں باہر کی سڑک پر پہنچا توکُچھ جیپیں میرے آس پاس آ کر رُکیں اور ان میں سے کچھ لوگ باہر نکلے۔ جنہوں نے اپنے منہ کو رومال سے باندھا ہوا تھا یعنی کے چھپایا ہوا تھا۔ اُن کے ہاتھوں میں پستولیں تھیں ۔اُنہوں نے جیپوں سے باہر نکلتے ہی مجھے گھیر کر جیپ میں بٹھایااور میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے کہیں دور جانے لگے ۔ اورمیرے ہاتھوں کو پیچھے چھوڑ کر رسی سے باندھ دیا ۔ تقریبا آدھا گھنٹہ جیپ چلنے کے بعد کہیں جا کے رُکی ۔تو مجھے انہوں نے ہاتھوں سے پکڑ کر نیچے اُتارا ،اور لے جا کر ایک اندھیرے کمرے میں بند کر دیا۔ بندکرتے وقت اُس آدمی نے میرے ہاتھوں کی رسّی اور میری آنکھوں کی پٹی کھول کر مجھے کمرے میں دھکیل کے باہر سے دروازہ بند کر دیا۔ مجھے یہاں بند ہوئے ابھی تک قریب ایک گھنٹہ ہی گزرا ہوگا کہ باہر تیز فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں ۔ مُجھے ایسا لگا کہ جیسے دو فوجیں آپس میں لڑ پڑی ہوں گولیوں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ مارٹر گولوں کی آوازیں بھی محسوس ہو رہی تھیں جیسے کوئی ہینڈ گرنیڈ چل رہے ہوں ۔ اُس تھوڑی ہی دیرکے بعد دوڑتے قدموں کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں اور باہر کی طرف کوئی دروازے پر آکے رُکا ۔ جیسے ہی دروازہ کُھلابا ہرسے آنے والے شخص کو میں دیکھتا ہی رہ گیا میں اِس طرح حیرانی سے اُس شخص کو دیکھ رہا تھا، اُس نے اپنی بھاری سی رُعبدار آواز میں مجھ سے مخاطب ہو کر کہا چلو نکلو یہاں سے جلدی ، ورنہ ابھی چاروں طرف سے ہم گھیر لیے جائیں گے ۔میں ڈرتا ڈرتا اُس شخص کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور ساتھ ساتھ میں یہ ہی سوچتا جا رہا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔
  4. Janab Apki Bat Sar Ankhon Par...Magar Ap Thora Sa Wait Kren Jese Hi story me Cractor Apni Jagah le Len Gy To Hum Update ko Barhaa Den Gy..... Comments K Lye Thanks...
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status