Jump to content
URDU FUN CLUB

Diya Mallu

Active Members
  • Content Count

    12
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

1

1 Follower

Identity Verification

  • Gender
    Female

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. تراس یا تشنگی قسط 9 جیسے ہی میں زمین پر گری ۔۔۔۔ مجھے دیکھ کر پہلے تو جیدا ڈر گیا ۔۔۔۔اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے دیکھنے لگا ۔۔ جیسے میں کوئی عجوبہ ہوں ۔۔۔لیکن پھر ۔۔ جیسے ہی اس نے باہر سے اماں کی آواز سُنی وہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ میری طرف بڑھا اور بولا ۔۔۔۔ ما ں۔۔یاویے …ایہہ کی کیتا ای۔۔(یہ کیا …کیا ہے مادر چود) پھر اس نے پھرتی سے وہ چارپائی میرے سامنے رکھی ۔۔۔ اور خود اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اور پھر میری طرف منہ کر کے سرگوشی میں کہنے لگا۔۔۔۔۔ بولیں ناں۔۔۔(بولنا مت) اتنی دیر میں اماں اور وہ مرد کہ ڈر ، خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے میں جس کی آواز نہ پہچان سکی تھی۔۔۔۔۔سٹور روم میں داخل ہو گئے۔۔اور جیدے سے پوچھنے لگے۔۔ کیا ہوا جیدے ؟ تو جیدا مسکرا کر بولا۔۔۔ ۔۔ کچھ نہیں باجی میں چارپائی نکال رہا تھا کہ ۔۔۔۔ وہ اوپر فرینچر کے ساتھ اڑ گئی ۔۔جس کی وجہ سے سارا فرنیچر نیچے زمین پر گر گیا اور رولا ۔۔۔ پیے گیا ۔۔۔۔۔ جیدے کی بات سُن کر آنے والا تو یہ کہہ کر چلا گیا کہ ۔۔ زرا دھیان سے یار ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اماں ۔۔۔ وہیں کھڑیں رہیں اور جب وہ بندہ کمرے سے نکل گیا تو وہ شرارتی موڈ میں جیدے سے کہنے لگیں ۔۔۔۔۔۔ کی گل تیری ٹنگاں اچ سا مُک گیا اے کہ نکی جئی منجھی وی تیرے کولوں نئیں چُکی گئی ۔۔( کیا بات ہے تمھاری ٹانگوں میں جان نہیں رہی ۔کہ چھوٹی سی چارپائی بھی تم سے نہیں اُٹھائی گئی۔۔) اماں کی بات سُن کر جیدا بھی شرارتی موڈ میں بولا ۔ساہ تے مکنا ای سی کہ ۔۔ سارا ساہ تے تہاڈے اندر ڈُل گیا اے۔۔( ۔۔۔ جان تو ختم ہونی ہی تھی کہ ۔۔۔ساری جان تو آپ کی چوت میں بہہ گئی ہے) جیدے کی بات سن کر اماں بڑے زور سے ہنسیں اور کہنے لگیں ۔۔۔ کی فیدہ ۔۔۔ایدی تریہہ تے اجے وی نئیں مُکی ۔۔( کیا فائدہ۔۔ چوت کی پیاس تو ابھی بھی نہیں ختم ہوئی)۔۔ اس سے پلےت کہ جیدا کوئی جواب دیتا ۔۔وہ۔۔۔واپس جا نے کے لیئے مُڑیں اور پھر جاتے جاتے بولیں ۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔ ابھی اور بھی کافی کام پڑے ہیں تو جیدے نے جواب دیا کہ اچھا باجی میں یہ فرنیچر اپنی جگہ رکھ کر آتا ہوں ۔۔۔ اور اس نے اماں کےسامنے فر نیچر اُٹھا یا اور ۔۔۔ اوپر رکھنے لگا۔۔۔۔اماں نے اس ایک نظر دیکھا اور پھر باہر نکل گئیں۔۔۔ اماں کے جانے کہ کچھ دیر بعد ۔۔۔ جیدے نے میرے آگے سے چارپائی ہٹائی اور میری طرف دیکھ کر بولا آ جاؤ خطرہ ٹل گیا ہے ۔۔۔ پھر ہمدردی سے کہنے لگا ۔۔۔۔ لگی تو نہیں ؟ اس کی بات سُن کر میں پھرتی سی اُٹھی اور اپنے آپ کو چیک کیا تو ۔۔۔ خوش قسمتی سے مجھے کوئی زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی۔۔ بس ہاتھوں پر اور کہنی وغیرہ پر کچھ خراشیں آئیں تھیں ۔جو اتنی خاص نہیں تھیں۔۔ میں نے جیدے کا شکریہ ادا کیا اور باہر جانے لگی تو وہ بولا ۔۔ ایک منٹ رُکو ۔اور پھر یہ کہتا ہوا باہر نکل گیا کہ ۔۔ پہلے میں باہر جا کر حالات کا جائزہ لے آؤں ۔۔۔وہ باہر گیا اور ایک چکر لگا کر فوراً ہی ہی واپس آگیا اور آ کر مجھ سے بولا۔۔۔۔۔ باہر کا موسم ٹھیک ہے آپ جا سکتی ہو ۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں باہر نکلی اور چھپتی چھپاتی اپنے کمرے میں آ گئی اور کمرہ بند کر کے اسے لاک کر دیا ۔۔۔ اس کے بعد میں نے جلدی جلدلی اپنے سارے کپڑے اتارے ۔۔۔۔ اور پھر ۔۔۔حسبِ معمول آئینے کے سامنے ننگی کھڑی ہو گئی اور اپنے جسم کا نظارہ لینے لگی ۔۔کچھ دیر تک ایسے ہی میں اپنے جسم کو بھوکی نظروں سے دیکھتی رہی ۔۔ پھر مجھے سٹور روم والا واقعہ یاد آگیا اور میں نے اپنا اس طرح سے جائزہ لیاہ شروع کر دیا کہ کہیں کوئی سیریس چوٹ تو نہیں لگی ؟؟ ۔۔۔۔۔ لیکن اچھی طرح معائینہ کرنے کے بعد مجھے تسلی ہو گئی کہ سوائے چند ایک خراشوں کے اور کوئی خاص ۔معاملہ نہ ہے ۔۔چنانچہ جیسے ہی میں ادھر سے مطئمن ہوئی۔۔۔ مجھے اماں اور جیدے کی چودائی یاد آ گئی۔اور پھرمیری آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح ۔۔ایک ایک کر کے ۔۔۔ ان کی چودائی کے سارے منظر گھومنے لگے۔۔۔ اور یہ سین یاد آتے ہی میں گرم سے گرم تر ہوتی چلی گئی۔اور بڑی بے تابی سے اپنی پھدی پر ہاتھ پھیرنے لگی۔۔اپنی پھدی پر ہاتھ پھیرتے پھیرے ۔۔پھر مجھے جیدے کا کالا اور مضبوط لن یاد آ گیا ۔۔ اس کی لمبائی۔۔۔موٹائی۔۔۔اُف ف ف۔۔۔اُف۔ف۔ یہ سب یاد کر کے میرا بدن ٹوٹنے لگا۔۔اور پھدی اس کا لن مانگنے لگی۔۔۔۔۔۔پھر میں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور ۔پھر ۔اپنے لیفٹ ہاتھ کی دو انگلیوں کو اپنے منہ میں ڈالا ۔۔اور ان کو اپنی اپنے تھوک سے اچھی طرح تر کیا۔۔اور ۔۔ پھر میں اپنے تصور میں جیدے کا لن لے آئی۔۔۔۔ اور پھر میں نے اپنی ان دو انگلیوں کو جیدے کا لن سمجھ لیا ۔۔۔ اور پھر اس لن کو اپنی چوت پر بڑی تیزی کے ساتھ رگڑنے لگی۔۔جیدے کے لن کے تصور کی وجہ سے میں کچھ زیادہ ہی گرم ہو گئی تھی ۔۔ چنانچہ میں نے اپنی چوت کے ساتھ ۔۔۔۔ ایک زور دار ۔۔۔ فنگرنگ کی ۔۔۔۔ اور اس دن جیدے کے لن کے تصور کی وجہ سے میں معمول سے کچھ زیادہ ہی چھوٹی ۔۔۔۔لیکن پھر بھی ۔۔۔ میرا جی نہ بھرا ۔شہوت کے مارے میرا بہت برا حال تھا ۔۔۔ چنانچہ ۔۔ اسی گرمی کے عالم میں نے اپنی گرم گرم ۔۔۔۔ منی سے لتھڑی انگلیوں کو جیدے کا لن سمجھ کر چاٹنا شروع کر دیا ۔اور اپنی دو نوں انگلیوں پر لگی منی چاٹ چاٹ کر صاف کر گئی ۔۔۔۔۔ واؤؤؤؤؤ۔مجھے اپنی چوت سے نکلی ہوئی منی۔۔ کو چاٹ کر بڑا مزہ آیا۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔کیا بتاؤ ں دوستو کہ میری چوت کا ۔۔۔ ٹیسٹ کیسا تھا؟؟ ۔۔مجھے تو بڑا سیکسی لگا ۔۔۔ ۔۔۔۔ اپنے جسم کی گرمی کو نکال کر میں خوب اچھی طرح نہائی اورپھر مہندی کے لیئے خصوصی طور پر سلائے ہوئے کپڑے پہنے اور ہلکہ سا میک اپ کر کے کمرے سے باہر آ گئی۔۔ باہر آ کر میں نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔ تو ہر طرف چہل پہل نظر آئی ۔۔میں مختلف لوگوں سے ہیلو ہائے کرتی ہوئی سیدھی لان کی طرف چلی گئی کہ جہاں فائق بھائی کی منگنی کی تیاریاں بڑے زور و شور چل رہیں تھیں ۔۔ مجھے دیکھتےہی اماں بولا ۔۔۔ کہاں رہ گئی تھی تُو؟؟؟ ۔۔۔ پھر انہوں نے ایک نظر میرے سراپے پر ڈالی اور بولیں ۔۔۔ کہیں نظر نہ لگ جائے ۔۔۔ میری بیٹی بہت پیاری لگ رہی ہے۔۔۔ اماں کی بات سُن کر فیض بھائی کی ساس جو کہ پاس ہی بیٹھیں تھیں کہنے لگیں ۔۔۔ نیلو جی ہما نے پیارا تو لگنا ہی ہے ۔۔۔ کہ یہ بلکل آپ کی کاپی ہے۔۔۔پھر مسکراتے ہوئے بولیں ۔۔۔نیلو جی ۔ جوانی میں آپ بھی تو ایسی ہی تھیں ۔۔۔ ان کی بات سُن کر اماں نے کیٹ واک کی ماڈلز جیسا ایک پوز بنایا۔۔۔۔۔ اور پھر زرا مزاحیہ انداز میں آنٹی سے کہنے لگیں۔۔۔ ابھی بھی میں کسی سے کم ہوں کیا؟؟؟؟۔۔تو آنٹی بھی ہنستے ہوئے بولیں ۔۔ نہیں جی اگر آپ پہلے بمب تھیں تو اب ایٹم بمب ہو۔۔ اور میرے سمیت وہاں پر بیٹھی ساری لیڈیز ہنسے۔ لگیں۔۔۔۔۔ ا س کے بعد میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ان سے کہا اماں ۔۔ وقار انکل اور صدف آنٹی کہیں نظر نہیں آ رہیں۔۔۔میری بات سُن کر اماں ترنت کہنے لگیں۔۔۔۔ بچے انہی لوگوں کا تو انتظار ہو رہا ہے۔۔۔کہ وہ لوگ پہنچیں تو ہم لوگ فنگشن شروع کریں ۔۔۔ پھر اماں نے اپنی کلائی پر باندھی خوب صورت سی گھڑی کی طرف دیکھا اور کہنے لگیں ۔۔۔ ویسے تو۔وہ لوگ کسی بھی وقت یہاں پہنچ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہاں میں اپنے پڑھنے والوں کو صدف آنٹی اور وقار انکل کے بارے میں بتا دوں کہ وقار انکل اور صدف آنٹی نہ صرف یہ کہ ابا کے فرسٹ کزن تھے بلکہ وقار انکل تو ابا کے لنگوٹیئےیار بھی تھے اور یہ دونوں سکول کالج میں اکھٹے ہی پڑھتے رہے ہیں ۔۔ وقار انکل کے دو بچے تھے اور دونوں ہی باہر ہوتے تھے ۔۔ خود وقار انکل اور آنٹی پاکستان میں کم اور باہر زیادہ پائے جاتے تھے۔۔ اس وقت مہندی کی سب تیاری مکمل تھی سامنے سٹیج پر کرسیاں رکھی ہوئیں تھیں ڈیک میں اونچی آواز میں گانے بج رہے تھے۔۔۔ اور چھوٹے چھوٹے بچے ڈانس کر رہے تھے ۔جبکہ کچھ لیڈیز تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کر رہیں تھیں۔۔۔۔ادھر کچھ لڑکیوں ایک الگ ٹولے میں اور ۔۔۔ آنٹیاں الگ ٹولوں کی شکل میں بیٹھیں ہوئیں تھیں ۔۔ مہندی کے فنگشن کے لیئے ہم نے اپنے ۔ لان کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا ۔۔۔ ایک طرف مرد جبکہ دوسری طرف عورتیں بیٹھیں تھیں ۔سارا کام ریڈی تھا بس ۔۔۔ ۔۔ انتظار تھا تو صرف آنٹی اور انکل کا۔۔۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر ۔۔ میں بھی لڑکیوں والے ٹولے میں جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گئی اور ان کے ساتھ گپ شپ کرنے لگی ۔۔۔ دورانِ گفتگو کسی لڑکی نے مجھے بتایا کہ سنا ہے کہ بھا حمید نے ڈانسر لڑکے منگوائے ہیں ۔۔ اس کی بات سُن کر دوسری لڑکی بولی ۔۔۔ تم نے سنا ہے اور میں نے اپنی آنکھوں سے ان ڈانسر لڑکوں کو دیکھا ہے۔۔۔۔۔ ان کی بات سُن کر میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ کہاں ہیں ڈانسر لڑکے ؟ مجھے تو کہیں نطر نہیں آ رہے ۔۔۔تو وہی لڑکی بولی۔۔۔۔بھا حمید کا پروگرام تو یہ تھا کہ وہ ان کو مہندی کے فنگشن میں ڈانس کروائے ۔۔ لیکن سنا ہے کہ تمھارے ابا نے ان کو گھر میں لانے کی اجازت نہ دی ہے۔۔۔ لیکن بھا کے منت ترلوں اور خاص کر آنٹی ( اماں ) کی سفارش کے بعد انکل نے ان کو بڑی مشکل سے گھر کی پچھلی طرف ۔۔ پروگرام کرنے کی اجازت دی ہے۔۔۔ اور بھا نے جلدی جلدی پچھلی گلی میں ٹینٹ لگوا کر ان کے ڈانس کا بندوبست کیا ہے ۔۔ تو اس پر ایک بولی۔۔۔ دیکھنے میں کیسے ہیں یہ ڈانسر لڑکے ؟۔۔۔تو وہ کہنے لگی کہ دیکھنے میں تو یار بلکل لڑکی لگتے ہیں ۔۔ پھر اپنی ایک آنکھ بند کر کے بولی۔۔۔ ویسے ہیں کافی ہاٹ۔۔۔ اور خوب صورت ہیں۔۔۔ پھر کہنے لگی ۔۔۔ اسی لیئے گھر کے بیشتر مرد وہاں پہنچے ہوئے ہیں ۔۔۔ اور میں یہ سُن کر کافی حیران ہوئی کہ اس ہمارے گھر کے بارے میں اس لڑکی کو کس قدر انفارمیشن ہے۔۔۔ اور سوچنے لگی ۔۔۔ کہ میں اس وقت ۔۔۔ فنگرنگ کر رہی تھی کہ جب یہ سارا ۔۔۔۔ ماجرا ۔۔۔ ہو رہا تھا۔۔۔ ڈانسر اور کیوٹ لڑکوں کی بات سُن کر مجھے بھی تجسس ہوا اور میں وہاں سے اُٹھ کر چھت پر چلی گئی۔۔ کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ اگر میں ڈائیریکٹ گلی میں گئی تو سب پہلے تو ابا نے مجھے بُری طرح جھاڑنا ہے ہاں اگر ابا سے بچ گئی تو مجھے گلی میں دیکھ کر۔۔بھا نے بڑے پیار سے مجھے اندر بھیج دینا تھا ہاں اگر ان کے ساتھ فیض بھائی ہوئے تو پھر میری خیر نہیں تھی اس یہ سوچ کر میں گھر کی چھت پر چڑھ گئی اور نیچے گلی میں جھانکنے لگی۔۔۔ ۔۔لیکن وہاں تنبو قناتوں کی وجہ سے مجھے ٹھیک سے نظر نہ آ رہا تھا ۔۔میں نے ۔ کافی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی تو میں نیچے اتر آئی اور پھر مجھے ایک آئیڈیا سوجھا اور میں حمید بھا کے ڈیرے کی طرف چلی گئی اور ایک کونے والی جگہ جہاں پر کافی اندھیرا تھا ۔۔ جا کر کھڑی ہو گئی۔۔ اور دیکھا تو ہمارے گھر کی چار دیواری مرگے قد سے کافی اونچی تھی ۔۔ میں نے پنجے اُٹھا اٹھا کر بھی دیکھا لیکن بے سود۔۔۔ پھر میرے زہن میں ایک خیال آیا اور میں ۔۔۔ بھاگی بھاگی بھا کے کمرے میں گئی وہاں سے ایک سٹول اُٹھا کر لے آئی …اور پھر اس پر کھڑی ہو کر باہر کا نظارہ دیکھنے لگی۔۔ بھا حمید نے چاروں طرف قنات /ٹینٹ لگا کر گلی کی چھوٹی سی جگہ کو گھیر رکھا تھا اور اس تھوڑی سی جگہ پر بھا کے دوستوں کے علاوہ کافی سارے لوگ کرسیوں پر بیٹھے تھے اور سٹیج پر بھا ۔۔۔ اس کا دوست مجیدا اور اس کے ساتھ دو تین اور لوگ بھی سٹیج پر کھڑے تھے اور ان ڈانس کرنے والے لڑکوں پر نوٹ پھینک رہے تھے جبکہ ۔۔۔ دو تین جوان ڈانسر لڑکے جنہوں نے لڑکیوں والے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سلیقے سے میک اپ بھی کیا ہوا تھا ۔۔ اونچی آواز میں لگے انڈین گانوں پر ڈانس کر رہے تھے۔ ۔۔ اور ان کے آس پاس بھا میدا اور اس کے دوست ۔۔۔ ہاتھوں میں نوٹ پکڑے ایک دوسرے کے سر پر رکھتے ہوئے ۔۔ نوٹ وار رہے تھے۔۔ ۔اور ایک موٹا سا زنانہ سا مرد کہ جس نے اپنے منہ میں پان رکھا ہوا تھا اور پان کی پیک اس کی باچھوں سے بہہ رہی تھیں بڑی تیزی سے وہ نوٹ اُٹھا اُٹھا کر ایک تھیلے میں ڈال رہا تھا۔۔۔۔ ایک عجیب سا ہنگامہ برپا تھا ۔۔۔ کیونکہ وہ ڈانسر لڑکے ۔۔ ڈانس کم اور اپنی گانڈیں زیادہ ہلا رہےتھے اور جو شخص بھی زیادہ پیسے پھینک رہا تھا ۔۔ وہ ان کے فرنٹ کے ساتھ اپنی پشت کر کے ۔۔ایک عجیب طریقے سے اپنی گانڈیں ہلا ہلا کر ڈانس کر رہےتھے۔۔۔۔۔ اور چونکہ سب سے زیادہ پیسے بھا اور اس کا دوست مجیدا پھینک رہے تھے اس لیئے دو خوب صورت سے ڈانسر بار بار اپنی بنڈیں۔۔۔ بھا اور مجیدےکے ساتھ لگا رہے تھے ۔۔ ۔۔۔ اور پھر میں نے دیکھا ۔۔۔ کہ بھا اور مجیدے کے لن ۔۔۔۔ آگے سے تنبو بن گئے تھے۔ ۔۔۔ اور ۔۔ان دونوں کے چہرے لال سرخ ہو رہے تھے ۔لیکن اس کے ساتھ ہی بھا کے دوستوں نے ایک چالاکی یہ کی گھی کہ یہ ایک دائرہ سا بنا کر بھا اور مجیدے کے سامنے کھڑے ہو گئے تھے اور تالیاں بجا رہے تھے اور دوسری طرف بھا اور مجیدا گرم ہو کر ۔۔۔۔ اور خود بھی آگے بڑھ بڑھ کر ان لڑکوں کی گانڈ میں اپنے لن رکھ رہے تھے۔۔۔ ادھر وہ ڈانسر لڑکے بھی گرم لگ رہے تھےکیونکہ اب وہ بھی بار بار اپنی بنڈوں کو میدے بھا اور مجیدے بھائی کے لن کے ساتھ ٹچ کر رہے تھے ۔۔۔ پھر میں نے دیکھا کہ مجیدے نے بھا کے کان میں کوئی بات کی ۔تو بھا نے اپنےسر کو زور سے نفی میں ہلا دیا ۔۔۔ اس کے بعد مجیدے بھائی نے ایک بار پھر ۔بھا کے کان میں کوئی بات کی ۔۔۔۔اور ۔اس دفعہ ۔۔ بھا نے ہاں میں اس کا جواب دیا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ پھر مجیدا ۔۔۔ بھا سے الگ ہوا ۔۔۔اور ان ڈانسروں کے گرو کو اشارے سے اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔ اور جب وہ بھائی کے پاس آیا تو مجیدے بھائی نے اس کےکان میں کوئی بات کی ۔۔۔۔ ا س کی بات سُن کر گرو نے سر ہلایا اور ۔۔ جو خوبصورت سا ڈانسر لڑکا جو مجیدے کے ساتھ بار بار اپنی گانڈ کو رگڑ رہا تھا ۔۔۔اسے کچھ اشارہ کیا۔۔۔ تو وہ لڑکا ۔۔۔ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ایک سائیڈ پر ہو گیا ۔۔۔ ۔۔۔ پھر میں نے مجیدے بھائی کی طرف دیکھا تو اس نے اب پیسے پھینکنے بند کر دیئے تھے اور وہ بھی کھستا ہوا ۔۔ پیچھے کی طرف ہٹ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میں ساری بات سمجھ گئی ۔۔ چنانچہ میں ہاتھ میں سٹول لیئے دوڑی دوڑی بھا میدے کے کمرے کی طرف آئی اور ان کے آنے سے پہلے ہی میں ۔۔۔۔۔بھا کے کمرے میں داخل ہوئی اور جلدی سے اندر جا کر ان کی کھڑکی کے دونوں پٹ کھول دیئے اور کھڑکی پر لگے پردے بھی ایک سے ہٹا دیئے ۔۔۔۔۔ کھڑکی پر جالی لگی ہوئی تھی اور مجھے یقین تھا کہ مجیدا بھائی ۔۔۔ ضرور بتی جلا کر اس لڑکے کے ساتھ اپنا کام کرے گا اس لیئے میں نے باقی کے معاملات کو جوں کا توں رکھا اور پھر جس پھرتی سے میں کمرے میں داخل ہوئی تھی اسی پھرتی سے واپس چلی گئی اور وہ سٹول اُٹھا کر بھا میدے کے کمرے کی کھڑکی کے باہر والی طرف چلی گئی۔۔۔ بھا کے کمرے کی یہ کھڑکی دوسری طرف ایک اندھیری سائیڈ پر طرف کھلتی تھی اور اس وقت وہاں پر گھپ اندھیرا تھا ۔۔۔ چنانچہ میں نے کھڑکی کے نیچے کونے میں اپنے سٹول کو رکھا اور پھر اس پر بیھچ کر انتظار کرنے لگی۔۔۔ اس وقت میرے دل کی حالت بڑی عجیب ہو رہی تھی۔اور وہ بڑے زور و شور سے دھڑک رہا تھا اور اس ۔۔ کے ساتھ ساتھ ۔۔ میرے جسم کے سارے مساموں سے پسینہ پانی کی طرح بہہ رہا تھا ۔۔۔۔ اور میں یہ سوچ سوچ کر بڑی جزباتی ہو رہی تھی ۔۔۔ کہ زندگی میں پہلی دفعہ براہِ راست کسی " گے" سیکس کا سین دیکھوں گی ۔۔۔۔ جزبات کی شدت سے میرا چہرہ تمتما رہا تھا اور میں بڑی بے چینی سے بار بار سر اُٹھا اُٹھا کر کھڑکی کی طرف دیکھ رہی تھی کہ کب یہ روشن ہو اور کب میں سٹول پر چڑھ کے اندر کا نظارہ دیکھ سکوں ۔۔۔۔۔ کوئی پانچ چھ منٹ کے وقفے کے بعد اچانک بھا حمید کے کمرے کی بتی جلی۔۔۔۔ اور میرا دل دھک رہ گیا۔۔۔ پھر میں نے کچھ دیر انتظار کیا اور ۔۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ کانپتی ٹانگوں کے ساتھ میں نے سٹول پر ایک پاؤں رکھا ۔۔۔ پھر ادھر ادھر دیکھا ۔۔تو وہاں گھپ اندھرے کے سوا کچھ نہ تھا ۔۔۔ عجیب بات تھی ۔۔۔ کہ بھا کے کمرے کی دوسری طرف سارا گھر بقئہ نور بنا ہوا تھا ۔۔۔۔ اور ۔۔ اسی گھر کی پچھلی سائیڈ پر گھپ اندھیرے کا راج تھا ۔۔۔ ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اپنا دوسرا پاؤں بھی ۔۔۔۔ سٹول پر رکھا ۔۔۔۔اور پنجوں کے بل سٹول پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔ اور اندر کی سُن گُن لینے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔ لیکن وہاں ایسا کچھ سنائی نہ دے رہا تھا۔۔۔ لیکن تجسس کے مارے میرا بہت برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اس لیئے۔۔۔ میں پنجوں کے بل سٹول پر بیٹھی تھی ۔۔۔ اور پھر بڑے ہی چوکنے انداز میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئےآہستہ آہستہ سٹول پر کھڑا ہونا شروع ہو گئی اور پھر کچھ ہی دیر کے بعد میں ۔۔۔ کھڑکی کے انتہائی کونے میں سٹول پر کھڑی تھی۔۔۔۔ اور اس کے بعد میں نے بڑی احتیاط سے اپنا۔۔۔ سر تھوڑا سا آگے کیا ۔۔۔ اور اندر کا منظر دیکھنے لگی۔۔۔۔ اور میں دیکھا کہ بھائی مجید ۔۔۔ کمرے میں بڑی بے چینی سے ٹہل رہا تھا ۔۔۔۔ اور اس کی نظریں دروازے کی طرف لگی ہوئیں تھیں ۔۔اسے کسی طور بھی قرار نہ آ رہا تھا ۔۔ کبھی تو وہ پلنگ پر بیٹھ جاتا ۔۔۔ اور بیٹھے بیٹھے اپنا لن پکڑ کر اسے مسلتا تھا ۔۔۔ اور کبھی کھڑا ہو جاتاتھا ۔۔۔۔ اور دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے ٹہلنے لگتا تھا۔۔۔۔اس کا سارا دھیان اور فوکس ۔۔دروازے کی طرف ۔۔۔۔۔جبکہ میرا سارا دھیان اور فوکس اس کی شلوار میں ابھرے ہوئے ۔۔۔۔ اس کے تمبو کی طرف تھا ۔۔۔ اور میں بھائی مجیدے کے لن کی لمبائی اور موٹائی کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔ ویسے بھی بھائی مجیدے کی شلوار میں بنے تمبو کو دیکھ کر میری چوت گیلی ہو گئی تھی اور ۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی سوچ رہی تھی کہ دیکھو وہ ڈانسر ۔۔۔۔۔۔ بھائی کے لن کے ساتھ کیا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سوچتے ہوئے میں اپنی پھدی کو بھی مسلے جا رہی تھی۔۔ کوئی دو تین منٹ کے بعد ۔۔۔جو کہ بھائ مجیدے اور میرے لیئے ۔۔۔ شاید دو سال کے برابر ہوں گے۔۔۔کے بعد وہ خوب صورت سا لڑکا کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر ۔۔۔ بھائی مجید آگے بڑھااور اسے اپنے گلے سے لگا لیا ۔۔۔بھائی کا لن پہلے ہی کھڑا تھا ۔۔۔ چنانچہ گلے لگانے کے ساتھ ساتھ وہ اس کی ٹانگوں کے بیچ اپنے لن کو بھی رگڑنے لگے۔۔۔۔۔ بھائی کا لن اپنی نرم رانوں میں پا کر وہ لڑکا ۔۔۔ بھی جزباتی ہو گیا اور اس نے بھائی مجیدے کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔اور بولا۔۔۔۔ شلوار اتار کے لن پکڑا ؤ نا۔۔۔۔ اس کی بات سُن کر بھائی مجیدے نے اپنی شلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا پھر اس کا دھیان کمرے کی طرف گیا تو وہ جلدی سے آگےبڑھا اور دروازہ بند کر کے کُنڈی لگا د ی ۔۔جیسے ہی بھائی مجیدا ۔۔۔ واپس مُڑا ۔۔۔ وہ ڈانسر لڑکا بولا ۔۔۔۔۔آپ کپڑے اتارو۔۔ میں ۔۔۔فریش ہو کر ابھی آتا ہوں ۔۔۔اور بھا ئی کو جواب سُنے بغیر وہ ڈانسر لڑکا واش روم میں گھس گیا ۔۔۔۔ اس کے واش روم میں جاتے ہی ۔۔ بھائی مجیدے نے ۔۔ پہلے اپنی قمیض اتاری ۔۔۔۔ اور پھر سلوکا بھی اتار دیا۔۔۔۔۔۔ اور آخر میں اپنی شلوار اتار دی ۔۔۔ جیسے ہی بھائی مجیدے نے اپنی شلوار اتاری۔۔۔ اس کا بڑا سا لن۔۔۔ کپڑوں کی قید سے آذاد ہو کر کھلی فضا میں جھومنے لگا ۔۔۔بھائی مجید چونکہ ایک گورا چٹا بٹ تھا ۔۔۔ اس لیئے اس کا لن بھی سُرخی مائل سفید سا تھا ۔۔۔ اور اس کے لن کے اس پاس ہلکے ہلکے بال تھے میرے خیال میں ایک ہفتے کی شیو جتنے بال ہوں گے۔بھائی کا جھومتا ہوا لن دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا ۔۔ اور میں سوچنے لگی کہ کاش ش شش ش ش۔۔۔۔ادھر ۔۔ مجیدا بھائی اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اسےمسلسل آگے پیچھے کر رہا تھا پھر لن کو ہاتھ میں پکڑے پکڑے بھائی چلتا ہوا واش روم کی طرف آیا اور ۔۔۔ سرگوشی نما آواز میں بولا ۔۔۔ چھیدتی کر ۔۔(جلدی کرو) تو اندر سے اس لڑکے کی لوچ دار آواز سنائی دی ۔۔۔ بس ایک منٹ۔۔۔۔۔ لیکن ایک منٹ سے پہلے ہی وہ لڑکا ۔۔۔ واش روم سے باہر آ گیا ۔ واش روم میں اس نے اپنے منہ پر لگے میک اپ کو صاف کیا تھا ۔۔۔جس سے اس کا صاف اور شفاف چہرہ سامنے آگیا تھا ۔۔ میک اترنے کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ زنانہ خدوخال کا اٹھارہ انیس سال کا ایک بہت ہی پیارا سا لڑکا تھا ۔جس کی چال ڈھال اور ۔۔۔ بات چیت میں زنانہ پن بڑا نمایاں نظر آتا تھا ۔۔ کمرے میں آ کر اس کی پہلی نظر بھائی مجیدے کے لن کی طرف پڑی ۔۔۔۔ اور اس نے بھائی کے لن کی طر ف بڑی ہی ستائیشی نظروں سے دیکھا اور پھر ۔۔۔ وہ آگے بڑھا اور اس نے بھائی مجیدے کے بالوں سے بھرے فراخ سینے پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا ۔۔۔ اور پھر ان کے ساتھ لپٹ گیا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے بھائی کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔۔۔اور پھر اپنا منہ بھائی مجیدے کی طرف کیا اور ۔۔۔۔ اس سے بولا۔۔۔۔ مجھے پیار کرو نا جان۔۔۔ اس کی بات سُن کر بھائی مجیدے نے اپنا منہ نیچے کیا اور پھر اس لڑکے کے گورے گالوں کو چومنے لگا۔۔۔ کچھ دیر تک تو اس لڑکے نے بھائی کو اپنے گال چومنے دیئے پھر اس نے اپنے ہونٹ بھائی کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔ اور ۔۔۔اوہ ۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے دیکھا کہ بھائی مجیدے اور ۔۔۔ اس لڑکے کے ہونٹ آپس میں مل گئے تھے ۔۔۔ اور وہ بڑے ہی شہوت بھرے انداز میں کسنگ کر رہے تھے ۔۔۔۔ان کی کسنگ دیکھ کر میں بڑی حیران ہوئی ۔۔۔ کہ کس طرح دو مرد آپس میں مرد عورت کی طرح کسنگ کر رہے ہیں ۔۔۔ لیکن جیسا بھی تھا ۔۔۔۔۔۔ یقین کریں میرے لیئے وہ منظر بڑا ہی دل کش اور ۔۔۔ مسحور کُن اور ہاٹ تھا ۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد ۔۔۔۔ اس زنانہ سے لڑکے نے اپنا منہ بھا ئی مجیدے کے منہ سے ہٹایا اور ۔۔۔ پھر اس نے اپنی زبان نکال کر بھائی کا فراخ سینہ چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ اس کی زبان کی نمی کی وجہ سے بھائی کا سارا سینہ گیلا ہو نا شروع ہو گیا تھا اور اس کے سینے کے بال اس لڑکے کی زبان کی نمی کی وجہ سے گیلے ہو کر چمک رہے تھے ۔۔ایک طرف تو وہ ڈانسر لڑکا ۔۔۔ اپنی زبان سے بھائی کا سینہ ۔۔۔ خاص کر ان کے نپلز کو مسلسل چاٹ رہا تھا جبکہ طرف وہ اپنے ایک ہاتھ میں بھائی کا لن بھی پکڑے ہوئے تھا اور بڑی آہستگی سے اسے ہلا رہا تھا ۔۔۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد اس کی زبان نے نیچے کا سفر شروع کیا ۔۔۔ اور جیسے جیسے ۔۔اس کی زبان بھائی کے لن کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔ویسے ویسے میری پھدی پانی چھوڑے جا رہی تھی اور میں یہ سوچ سوچ کر ایکسائیٹٹ ہو رہی تھی کہ دیکھوں کہ یہ زنانہ لڑکا بھائی کے لن کو کیسے چوستا ہے۔۔۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد اس لڑکی نما لڑکے کی زبان بھائی کے لن پر پہنچ ہی گئی۔۔۔۔۔۔ یہاں آ کر وہ رُک گیا ۔۔۔۔ اور بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔ بٹ صاحب ۔۔۔۔تہاڈا لن کھتے میری نکی جئی بُنڈ نہ پھاڑ دے۔۔۔ ( بٹ صاحب آپ کا لن کہیں میری چھوٹی سی گانڈ کو نہ پھاڑ دے) ۔۔ اس کی بات سُن کر بھائی زور سے ہنسا اور بولا۔۔۔ توں تے انج گل کر رہیں اے کہ جیوں اج پہلی واری لن ترے اندر جانا اے ( تم تو ایسے بات کر رہے کہ جیسے آج پہلی بار لن لے رہے ہو) بھائی کی بات سُن کر وہ لڑکا تھوڑا سا کھائانا سا ہو گیا ۔۔۔اور پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ بھائی پلنگ پر جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔ اور وہ لڑکا ان کے سامنے فرش پر اکڑوں بیٹھ گیا۔۔۔ اور بھائی کا لن چوسنے لگا۔۔۔۔۔۔میں نے بڑی کوشش کی کہ ۔کسی طرح ۔۔ اس لڑکے کو بھائی کا لن چوستے ہوئے دیکھ سکوں ۔۔۔۔لیکن باوجود کوشش کے بھی میں ایسا نہ کر سکی کیونکہ میری طرف بھائی کی پشت تھی ۔۔۔ جبکہ وہ لڑکا بھا ئی کے سامنے فرش پر اکڑوں بیٹھا ۔۔۔ان کا لن چوس رہا تھا ۔۔۔ یہاں سے مجھے ۔۔ بھائی کی ٹانگوں کے درمیان میں اس لڑکی نما لڑکے کا سر اوپر نیچے ہوتا ہو ا دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔اور کھڑکی کے تاریک گوشے میں کھڑی میں بس اندازے ہی لگا رہی تھی ۔۔ کہ اب اس نے بھائی کے ٹوپے پر زبان پھیری ہو گی ۔۔۔۔ اب اس نے پورا ۔۔لن منہ میں لینے کی کوشش کی ہو گی ۔۔اور اب اس نے بھائی کے بالز کو اپنی زبان سے چاٹا ہو گا۔۔۔ اور اب پھر سے ان نے بھائی کا لن اپنے منہ میں لیا ہو گا۔۔۔ اور اب بھائی کے لن نے مزی چھوڑی ہو گئی۔۔اور میرے ان اندازوں سے ۔میرے سارے جسم میں شہوت بھرتی جا رہی تھی اور اس شہوت اور ۔۔ ۔۔۔ گرمی کے مارے میرا بہت برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔ اور پھر میں اپنی الاسٹک والی شلوار میں ہاتھ ڈالا ۔۔اور اپنی گرم چوت کو مُٹھی لیکر بڑی بے دردی کے ساتھ اس کو مسلنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ...........
  2. تراس یا تشنگی قسط 8 اسی دن رات کا واقعہ ہے کہ ۔۔ ہم سب مہمانوں کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے جبکہ دو کام والیاں اور جیدا ہمیں کھانا وغیرہ دینے کے فراض سر انجام دے رہے تھے ۔۔۔ جب کھانا ختم ہوا ۔۔۔ اور باقی سب تو اُٹھ کر چلے گئے بس ابا ہی رہ گئے جو کہ جیدے کے ساتھ گپیں لگا رہے تھے۔۔۔ اچانک میں کسی کام سے وہاں گئی تو جیدے نے میرا ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔اور ابا کے سامنے کر کے بولا۔۔۔۔ میاں جی ۔۔۔ آپ کی یہ لڑکی تو بلکل اپنی ماں پر گئی ہے اور پھر ابا کے سامنے ہی اس نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ۔۔۔ پھر ہاتھ کو واپسی کے بہانے میرے بریسٹ کے ساتھ پریس کر دیا۔۔۔۔ادھر ابا نے اس کی بات سنی اور بولے ۔۔ ہاں یار ۔تم ٹھیک کہتے ہے ۔۔ ہما بلکل ۔۔۔اپنی ماں کی کاپی ہے ۔۔ جیدا ۔۔۔ جو بڑے طریقے سے میرے پیچھے ہو گیا تھا ۔نے ۔ابا کی ہاں میں ہاں ملائی اور اپنا ہاتھ بڑھا کر واضع طور پر میری گانڈ پر رکھ دیا ۔۔۔ میرے سارے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔۔۔ اور میں نے بھی اپنی گانڈ کو غیر محسوس طریقے سے تھوڑا پیچھے کیا اور اس نے اپنی ایک انگلی میری گانڈ کی دراڑ میں ڈال دی۔۔۔۔۔۔۔ اگلے دن پھر اس نے اس طرح کے ایک دو ہاتھ کیئے اور بہانے سے میرے بریسٹ اور گانڈ دبائی ۔۔۔ لیکن اس کے علاوہ ۔۔۔ اور کچھ کرنے کا اسے موقعہ نہ ملا۔۔۔اسی طرح شام ہونے کو آئی ۔۔۔ اور اماں نے سب لڑکیوں کو بلا کر کہا کہ مہندی کے فنگشن کی تیاری کے لیئے میں نے دو تین بیوٹی پلرز والی خواتین کو بلایا ہے وہ بس آتی ہی ہوں گی۔۔۔ اماں کی بات سُن کر میں چپکے سے وہاں سے نکل آئی اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سیدھی سٹور روم میں پہنچی۔۔۔۔ ہمارے گھر کا سٹور گیلری کے بلکل آخر میں واقعہ تھا ۔۔ اور وہاں پر عام حالات میں بھی کوئی آتا جاتا نہ تھا ۔۔لیکن آج چونکہ خاص موقعہ تھا اس لیئے میں اس وقت اس سٹور میں کھڑی تھی۔۔۔ اماں کی باتیں سُن کر کل ہی میں نے طے کر لیا تھا کہ مجھے کہاں چھپنا ہے ۔۔۔۔ یہ جگہ۔۔۔ ایک کونے میں تھی ۔۔۔ جہاں پر گھر کا ٹوٹا ہوا فرینچر اور ۔۔دیگر ۔۔۔ کاٹھ کباڑ پڑا ہوا تھا۔۔۔۔ میں جلدی سے جلدی سے ایک پیٹی کے اوپر چڑھی اور پھر وہاں سے رینگتی ہوئی۔۔۔ اسی کونے میں چھت کے قریب پہنچ گئی۔اور وہاں پر جا کر ایک پرانے سے صندوق کے اوپر دبک کر بیٹھ گئی اور ۔۔۔ اور اپنے اوپر ۔۔۔ ۔۔۔ایک پرانا سا کپڑا لے لیا ۔ جو کہ میں نے آج صبع اسی کام کے لیئے وہاں پر رکھا تھا ۔۔۔۔ اپنے اوپر۔۔ کپڑا ڈالنے کا یہ فائدہ تھا کہ اگر بھولے سے اماں یا جیدے کی نظر اوپر پڑ بھی جاتی تو ۔۔۔ میں نظر نہ آ سکتی تھی۔۔میں نے جان بوجھ کر ایسی جگہ کا انتخاب کیا تھا کہ جہاں پر ان کی نظر بلکل نہ پڑتی تھی لیکن مجھے وہاں سے نہ صرف یہ کہ سارا نظارہ صاف صاف نظر آ رہا تھا ۔۔۔ بلکہ ان کی آوازیں بھی صاف سنائیں د ینی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔پھر ۔ میں نے خود کو اچھی طرح سے کیمو فلاج کیا اور ان کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔میرے چھپنے کے کوئی پندرہ بیس منٹ ( جو کہ مجھے پندرہ بیس گھنٹے لگے ) اماں اور جیدا سٹور روم میں داخل ہوئے۔۔۔۔اس وقت اماں نے ایک ڈھیلا ڈھالا سا سوٹ پہنا ہوا تھا جو کہ اتنا باریک تھا کہ ۔اس میں سے ان کا گورا جسم صاف نظر آ رہا تھا ۔۔۔ میری طرح اماں کے بریسٹ بھی تنے کھڑے تھے ۔۔۔اور مجھے یقین تھا کہ جب اماں اپنی قمیض اتاریں گئیں تو ان کی نپلز اکڑے ہوئے ہوں گے۔۔۔۔ جبکہ جیدے سائیں نے ۔۔حسبِ سابق خانوں والی دھوتی اور آف وائیٹ قمیض پہنی ہوئی تھی۔۔۔ سٹور میں داخل ہوتے ہی اماں نے سٹور کو اندر سے کُنڈی لگائی اور پھر جیدے سے کہا کہ وہ ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی دروازے کے آگے رکھ دیں۔۔۔ جب جیدا سائیں یہ کر چکا ۔۔۔ تو وہ اماں کے قریب آ گیا اور ہلکی سے سرگوشی میں شرارت سے بولا۔۔۔ ہور کی کراں جناب؟۔۔(اب کیا کروں جناب) تو اماں جو کہ شہوت کے نشے میں ٹُن تھیں ۔۔۔ نے جیدے کی دھوتی کے اوپر ہی سے اس کا لن پکڑا اور بولیں۔۔۔ ہور میری پھدی مار۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی۔۔۔ وہ جیدے سائیں کے ساتھ چمٹ گئیں ۔۔۔ قد میں جیدا اماں سے تھوڑا لمبا تھا ۔۔۔ اس لیئے اماں نے اپنی ایڑیاں اُٹھائیں ۔۔۔اور جیدے کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور ۔۔۔ فضا میں کسنگ کی مخصوص پوچ پوچ کی آوازیں گونجنے لگیں۔۔۔۔ اماں اور جیدا ایک دوسرے کے منہ میں منہ ڈالے کسنگ کے مزے لے رہے تھے اور ادھر یہ نظارہ دیکھ کر میری پھدی گرم ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ پھر میں نے جیدے کی آواز سنی وہ کہہ رہا تھا ۔۔۔ نیلو جی ۔۔۔ آپ کے ہونٹ بڑے نرم ہیں۔۔۔۔ اس کی بات سُن کر اماں ترنت ہی بولیں ۔۔۔ تو چوس نہ ان کو۔۔۔ یہ بات سُن کر جیدے نے پھر سے ۔۔۔اماں کے ہونٹ اپنے منہ میں لیئے اور ان کو چوسنے لگا۔۔۔۔۔ اور میں نے دیکھا تو اس کا ایک ہاتھ ۔۔ اماں کے بریسٹ ٹٹول رہا تھا۔۔۔ ان کو دبا رہا تھا۔۔۔۔ اور میں دیکھا کہ اماں کا ہاتھ بھی جیدے کی دھوتی کے اندر تھا۔۔۔ یقیناً وہ جیدے کا موٹا لن اپنےہاتھ میں پکڑے دبا رہی ہوں گی ۔۔ یہ سوچ کر میری چوت سے پانی کا ایک قطرہ نکلا اور میری شلوار کو گیلا کر گیا۔۔۔۔ اماں اور جیدے کافی دیر تک آپس میں ہونٹوں سے ہونٹ ملائے کھڑے رہے اس دوران اماں جیدے کا لن دباتی رہیں ۔۔۔ اور وہ ۔۔۔ اماں کے موٹے موٹے ممے مسلتا رہا۔۔۔ پھر ۔۔جیدے نے اپنا منہ اماں کے منہ سے ہٹایا اور خود ہی اماں کی قمیض کو اوپر کیا اور پھر برا ۔۔ ہٹا کر اماں کے بڑے بڑے سفید مموں کو ننگا کر دیا ۔۔ اور اپنے ان کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دباتے ہوئے بولا۔۔۔ نیلو۔۔۔ جی۔۔۔۔آپ کے ممے تو ابھی تک ویسے کے ویسے ہیں ۔۔۔ اس عمر میں بھی یہ کیسے سر اُٹھائے کھڑے ہیں۔۔۔ تو اماں کہنے لگی۔۔۔ جیدے باتیں نہ چود ۔۔۔ میرے ممے چوس۔س س س س س س۔۔۔۔۔اور جیدے اپنا سر جھکایا اور اماں کا ایک ممااپنے منہ لیکر اس کو چوسنے لگا۔۔۔ اماں کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔۔۔۔ ہائے ۔ئے ۔۔ ئے۔ ئے ۔۔ اور مستی میں کہنے لگیں ۔۔۔زور دی چوس س سس س ۔۔۔۔۔۔ اور جیدا کافی دیر تک اماں کے مموں کو چوستا رہا۔۔۔۔ پھر ۔۔۔اماں نے خود ہی اس کے سر کو اپنے مموں سے ہٹایا اور بولیں۔۔۔ اب میری پھدی چاٹو۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر اماں نے اپنی شلوار اتاری اور اپنی دونوں ٹانگوں کو کھلا کر کے کھڑی ہو گئیں۔۔۔ یہ دیکھ کر جیدا بھی اکڑوں بیٹھ گیا ۔۔۔ اور اس نے اماں کی پھدی پر منہ رکھا اور پھر ان کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ان کو اپنا اوپری دھڑ تھوڑا پیچھے کرنے کو کہا ۔۔۔۔ جیدے کا اشارہ سمجھ کر اماں نے پیچھے پڑی بڑی پیٹی پر ٹیک لگائی اور اپنا اوپری دھڑ کوتھوڑا ۔۔۔ پیچھے کر لیا۔۔۔ جیدے نے ان کی چوت پر زبان رکھی اور بولا۔۔۔۔۔ نیلو جی۔۔۔ آپ تو بہت خارج ہو رہیں ہیں ۔۔۔۔۔ تو اماں کہنے لگیں۔۔ اتنے دنوں بعد کوئی من پسند لن ملا ہے تم اب کی بات کر رہے ہی ۔۔۔ میری چوت تو کل سے خارج ہو رہی ہے۔۔۔ پھر بولیں ۔۔۔ اپنی ساری جیب (زبان) کو میری پھدی میں گھساؤ۔۔۔ اور غالباً جیدے نے ایسا ہی کیا۔۔۔ کیونکہ۔۔۔ مجھے اماں کی تڑپتی ہوئی آواز سنائی دی تھی۔۔۔آہ ہ ہ ہ ۔۔۔ جیدے میری پھدی چوس نا۔۔۔۔۔اور پھر میرے خیال میں اماں کی چوت شاید پانی چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔۔ کیونکہ اماں اپنا سر ادھر ادھر پٹخ رہی تھیں ۔۔۔اور ساتھ ساتھ ۔۔۔ سرگوشیوں میں ۔۔۔۔ بو ل رہیں تھیں۔۔۔ جیدے میری ۔۔۔۔۔چوت ت ت ت ت ت ت ت۔۔۔۔۔۔۔۔اُف ف ف ف ف ف ف ف ۔۔۔ساری کھا جا۔۔۔۔۔۔جیدے مجھے اور چُھٹا ۔۔۔۔ میں اور۔۔چھوٹنا ۔۔۔آہ ہ ہ ہ۔۔اس کے بعد کچھ دیر مزید جیدے نے اماں کی چوت چوسی ۔۔۔۔ پھر وہ اوپر اُٹھا۔۔۔ اور پلے اس نے اپنی قمیض کو اتارا۔۔۔پھر اس نے اپنی دھوتی اتاری۔۔۔۔اور ۔۔۔ جیسے ہی میری نظریں جیسے سائین کے لن پر پڑیں۔۔۔۔ حیرت کے مارے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔۔ اس کا لن کالا سیاہ ، بہت موٹا اور لمبا تھا ۔۔۔میرے خیال میں گدھے کے لن سے تھوڑا ہی چھوٹا ہو گا ۔۔۔۔ اُف ۔ف۔ف۔ف۔ف جیدے کا لن دیکھ کر میرے منہ میں پانی پھر آیا اور میرا جی چاہا کہ میں ابھی نیچے اتروں جیدے کا لن اپنی گیلی پھدی میں لے لوں ۔۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی جیدا ننگا ہوا ۔۔ تو وہ سیدھا اماں کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔ جیدے کا لن دیکھ کر اماں کی آنکھوں میں چمک آ گئی تھی اور انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کا لن پکڑ لیا۔۔۔ اور بولیں ۔۔ جیدے میں ٹھیک کہتی تھی ۔۔۔۔ تمھارا لن پہلے سے زیادہ بڑا ہو گیا ہے ۔۔۔ پھر ۔۔اماں لن کو غور سے دیکھ کر بولیں۔۔۔ ہوں ں ں ں ں ۔۔۔ اور موٹا بھی پہلے سے زیادہ ہو گیا ہے ۔۔۔ پھراماں نے اپنے نرم ہاتھوں سے جیدے کا لن آگے پیچھے کرنے لگیں۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ اماں کے نرم ہاتھوں کا لمس اپنے لن پر پاتے ہی۔۔۔ مستی کے مارے جیدے کی آنکھیں بند ہو رہیں تھیں۔ اور جیدے کا لن دیکھ دیکھ کر میری پھدی خود بخود بند اور کھل رہی تھی۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے بڑی احتیاط سے اپنی شلوار میں ہاتھ ڈالا اور ایک انگلی اپنی چوت کے اندر ڈالی اور اپنے ۔۔دانے کو مسلنے کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔۔ سامنے کا نظارہ بھی دیکھنے لگی۔۔۔۔ جہاں جیدا اماں سے کہہ رہا تھا ۔۔ نیلو جی ۔۔۔ اب میرے لن کو چوس نا ۔۔ اس کی بات سُن کر اماں نے ایک نظر جیدے کو دیکھا اور بولیں ۔۔۔۔ تم چوسنے کی بات کر رہے ہو ۔۔۔۔ میں تو اس کو کھا جاؤں گی۔۔۔۔ بلا شبہ اماں ایک گرم عورت تھی ۔۔۔ اور اس سے کچھ بعید نہ تھا کہ وہ جیدے کا لن کھا بھی جاتی سو میں اپنی گیلی چوت کے ساتھ اماں کو دیکھنے لگی کہ وہ جیدے کا لن کیسے چوستی ہے؟؟؟ ۔۔ اور میں نے دیکھا کہ سٹور کے فرش پر اماں اکڑوں بیٹھی تھی ۔۔۔۔اور اس کے ہاتھ میں جیدے کا کالا موٹا سا لن تھا اور اما ں بڑی شہوت بھری نظروں سے اس کے لن کو دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کےبعد دھیر ے دھیرے اماں نے اپنا منہ کھولا۔۔۔ اور اپنے ہونٹو ں کو جیدے کے لن کی سمت لانے لگیں۔۔۔۔ پھر ان کے ہونٹ جیدے کے لن کے اور قریب آئے اور ۔۔۔ اس سے پہلے کہ اماں کے ہونٹ ۔۔ جیدے کے لن سے ٹچ ہوتے ۔۔۔ ان سے پہلے ہی اماں نے اپنی لمبی سی زبا ن باہر نکالی اور ۔۔۔ جیدے کا لن کو چاٹنے لگیں۔۔۔۔۔۔اماں کے زبان کا لمس ۔۔۔۔ پاتے ہی۔۔۔۔ جیدے کے منہ سے سسکیوں کا طوفان ۔۔ نکلنے لگا۔۔۔ سس سس۔۔سس۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔ اور وہ بولا۔۔۔ نیلو۔۔۔۔میرے لن کو اپنے منہ میں لو نا۔۔۔ اس کی بات سُن کر اماں نے ایک گول دائیرے کی شکل میں جیدے کے ٹوپے پر اپنی زبان پھیری اور پھر دھیرے دھیرے ۔۔۔ اس کا لن اپنے منہ میں لینے لگیں ۔۔۔۔۔۔۔ اما ں کے لن چوسنے کا یہ دل کش نظارہ دیکھ کر میں تو پاگل ہو گئی ۔۔۔اور ایک بار پھر میرا جی چاہا کہ میں نیچے چھلانگ لگاؤں اور ۔۔اماں سے جیدے کا لن چھین کر اپنے منہ میں ڈال لوں۔۔۔۔۔ پھر بڑی مشکل سے میں نے اپنی اس خواہش پر قابو پایا ۔۔۔۔اور آہستہ آہستہ اپنے دانے کو رگڑتے ہوئے نیچے کا منظر دیکھنے لگی۔۔۔ کافی دیر تک اماں جیدے کا لن اور بالز(ٹٹے) نہ صرف یہ کہ چوستی رہی تھی بلکہ چاٹتی بھی رہی تھی۔۔۔ پھر اماں اُٹھی ۔۔۔اور جیدے کو پرے ہٹا کر اس کی جگہ خود کھڑی ہو گئی اور اپنے گداز جسم کو تھوڑا ڈھیلا چھوڑا ۔۔اور اپنی بڑی سی گانڈ کو تھوڑا پیچھے کی طرف کیا ۔۔۔اور دونوں انگلیوں سے اپنی چوت کے لب کھول دیئے ۔۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔ اماں کی چوت بڑی ہی پُر گوشت اور کافی کھلی تھی۔۔۔۔۔اور اندر سے سُرخ اور چکنی تھی۔۔۔ مجھے اوپر سے بھی ان کی چوت کے لبوں کے اندر پڑا ہوا پانی صاف نظر آ رہا تھا اب میں نے دیکھا تو جیدا اماں کے عین پیچھے آ گیا تھا اور اب اس نے اپنا شاندار لن۔۔۔ اماں کے چوت کے لبوں پر رکھا ۔۔۔ اور ٹوپے کو ان کی چوت کے لبوں پر رگڑنے لگا۔۔۔ کچھ دیر تو اماں نے صبر کیا ۔۔۔ پھر کہنے لگیں ۔۔ جیدے مستی نہ کر ۔۔۔۔ لن کو مر ے اندر ڈال۔۔۔۔۔۔ یہ سُن رک جیدے نے اپنا ٹوپا ۔۔۔اماں کی چوت کے لبوں کے اندر رکھا اور ۔۔ایک ہلکا سا دھکا لگایا ۔۔۔۔ لن پھسل کر اماں کی کھلی چوت میں داخل ہو گیا۔۔۔ اور اماں نے ایک ۔۔ مستی بھری ۔۔۔۔سسکی لیکر کہا ۔۔۔۔۔۔۔ سارا ڈال۔۔۔ اور جیدے نے اگلا گھسا مارا ۔۔۔اور اس کا لن سارے کا سارا ۔۔۔اماں کی چوت میں داخل ہو گیا۔۔۔۔۔ پھر اس نے اماں کو اپنے دونوں ہاتھ پیٹی پر رکھنے کو کہا اور ۔۔۔۔ اور پھر جیدے نے اماں کی چوت کی پٹائی شروع کر دی۔۔۔۔ اس کے ہر گھسے پر۔۔۔۔ اماں ۔۔ کہتی ۔۔۔۔ زور دی جیدے ۔۔۔ زور دی۔۔(جیدے زور سے مار) اور جیدا مزید زور سے گھسہ مارتا ۔۔ اس طرح کوئی 10، 15 منٹ تک جیدا مختلف زاویوں سے اماں کی چوت مارتا رہا۔۔۔۔ادھر شہوت کے مارے میرا برا حال ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اور میں اپنی چوت کے دانے کو رگڑتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔رگڑتی جا رہی تھی۔۔۔۔اور پھر اپنی چوت کو رگڑتے رگڑتے اچانک میری نظر چھت پر گئی تو مجھے ایک۔موٹی تازی۔۔۔ چھپکلی ۔۔۔ نظر آئی۔۔ جو رینگتی ہوئی میری طرف آ رہی تھی ۔۔ چھکلی کو اپنی طرف آتے دیکھ کر میری روح فنا ہو گئی لیکن عین اس وقت میں نے جیدے سائیں کی آواز سُنی وہ گہرے گہرے سانس لے رہا تھا ۔۔۔اور کہہ رہا تھا۔نیلوووووووو۔۔۔۔۔ باجی ی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔ میں چھوٹ رہا ہوں۔۔۔ اور میں اس موٹی ۔۔۔۔چھپکلی کو بھول کر نیچے کی طرف متوجہ ہو گئی جہاں ۔۔۔ جیدے کو چھوٹتا دیکھ کر اماں بھی دھائی دے رہیں تھیں ۔۔ جیدے میری پھدی میں چھوٹنا ۔۔۔ میری پھدی میں ں ں ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے دیکھا کہ اماں کا پورا جسم بڑی زور سے کانپا۔۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی جیدا بولا۔۔۔۔۔۔ نیلو ۔۔۔۔تیری پھدی تنگ ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اُف۔ف۔ف۔ اور پھر میں نے اماں کی آواز سُنی وہ کہہ رہیں تھی۔۔۔شاباش جیدے اور چُھوٹ ۔۔۔۔۔۔تمھارا ۔۔پانی میں اپنی چوت میں محسوس کر رہی ہوں۔۔۔۔۔ اماں کی بات سُن کر جیدا بھی کہنے لگا۔۔ نیلو۔۔ جی نیلو ۔۔۔ میری جان۔۔۔ تمھاری چوت کا پانی میرے لن سے ہوتا ہوا ۔۔۔ باہر نکل رہا ہے ۔۔آآآآ۔۔۔ہ ہ۔۔۔ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔اور اس کےساتھ ہی جیدے نے اماں کی ہپس کو پکڑا ۔۔۔اور گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔۔۔ کچھ دیر بعد۔۔۔۔و ہ ایسے ہی رہا ۔۔۔ پھر اماں نے اسے پیچھے ہٹنے اور اپنی چوت سے لن نکلنے کا کہا ۔۔۔ اماں کی بات سُن کر جیدا نے پیچھے ہٹ کر اماں کی پھدی سے اپنا لن نکلا ۔۔۔ تو میں نے دیکھا کہ جیدے کا لن نیم کھڑا تھا ۔۔اور اس نیم کھڑے لن پر چاروں طرف ۔۔۔۔ منی لگی ہوئی تھی۔۔۔۔ اب اماں بھی سیدھی ہو گئیں تھیں اور انہوں نے جیدے کا لن ۔۔جو کہ منی سے لتھڑا ہوا تھا اپنے ہاتھ میں پکڑا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے تھوڑا سا ہلا کر بولی۔۔۔۔۔۔صواد (مزہ) آگیا جیدے۔۔اور پھر پاس پڑے کپڑے سے جیدے کا لن اچھی طرح صاف کیا اور پھر اسی کپڑے سے اپنی پھدی کو صاف کیا ۔۔۔اور پھر جلدی سے کپڑے پہنے ۔۔ادھر جیدے نے بھی جلدی قمیض پہنی اور دھوتی پہن کر اماں سے بولا ۔۔۔ اب کیا کرنا ہے ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ۔۔ پہلے میں نکلوں گی۔۔۔ تم یہ منجھی (چارپائی) اور تکیئے لیکر کر لان میں آ جانا ۔۔ ان دونوں کی فراغت کے بعد مجھے چھپلیک کی یاد آئی تو میں نے ڈرتے ڈرتے اوپر نگاہ کی تو وہ موٹی چھپکلی سرکتے ہوئے اب ۔۔۔۔ عین میرے سر پر پہنچ چکی تھی۔اور اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے مجھے گھورے جا رہا تھ۔۔ اور اتنے قریب سے چھپکلی کو دیکھ کر مجھے ابکائی سی آ گئی۔۔۔۔ لیکن میں نے بڑی مشکل سے اس کو روکا۔۔۔۔ اور دعا کرنے لگی کہ چھپکلی یہاں سے دفع ہو جائے ۔۔۔ پر۔۔۔۔ وہ نہیں گئی۔۔۔ اور اب وہ تھوڑا اور سرک کر میرے پاس آ گئی تھی۔۔۔ یہ وہی ٹائم تھا۔۔۔ کہ جب جیدے نےدروازے کے آگے پڑی ہوئی چارپائی ہٹائی تھی ۔۔۔۔۔اور اماں دروازے سے باہر جانے لگی تو میں نے ہاتھ بڑھا کر چھکلی کو دور کرنے بڑی کوشش کی لیکن جتنا میں اس کو اپنے دور کرتی۔۔۔ وہ اتنا ہی میرے پاس آتی۔۔۔ میں نے ایک نظر نیچے دیکھا۔۔۔۔ اماں جانے وقت جیدے کے ہونٹؤں کو چوم رہی تھی ۔اماں تو جیدے کے ساتھ کسنک کر رہی تھی اور ادھر ۔ اوپر میری جان کو بنی ہوئی تھی۔۔۔ اور میں دل ہی دل میں کہہ رہی تھی ۔۔۔اماں پھدی مروا لی ہے۔۔۔ پلیززززززززز ۔۔۔اب چلی بھی جاؤ۔۔ ادھر چھپکلی ۔اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے مجھے گھورتی جا رہی تھی۔۔۔اور میری طرف بڑھ رہی تھی اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر ڈر کے مارے میرا پِتہ پانی ہو رہا تھا ۔۔۔ اور نیچے جیدے اماں کا کسی نئے شادی شدہ جوڑے کی طرح بوسہ لمبا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔آخر۔۔۔اماں نے جیدے کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹائے۔۔۔ اور بولی دل تو یہی کر رہا ہے کہ ایک دفعہ پھر تمھارا لن لوں لیکن۔۔۔۔۔ پہلے ہی کافی دیر ہو گئی ہے ۔۔۔اور وہ باہر جانے لگی۔۔۔اماں کو جاتے دیکھ میں نے شکر کیا۔۔لیکن اس کے ساتھ ہی میں نے دیکھا تو ۔۔۔۔ وہ موٹی چھپکلی۔۔۔ میری کپڑے پرچڑھ چکی تھی۔۔۔ ۔۔۔چھکلی کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے چھپکلی سے بچنے کے لیئے میں نے زور سے ہاتھ ہلایا ۔۔اور غلطی سے میرا ہاتھ اتنی زور سے ہل گیا کہ ۔۔ کہ میں اپنا توزن برقرار نہ رکھ سکی اور ۔۔۔میں ۔اس ٹوٹے ہوئے فرینچر سے ہوتی ہوئی۔ایک زور دار آواز سے ۔۔نیچے فرش پر گر گئی۔۔مجھے ۔نیچے گرتے دیکھ کر جیدے کی آنکھیں حیرت کے مارےپھٹنے کے قریب ہو گئیں ۔۔۔اور پھر میں نے باہر سے اماں اور ۔۔کسی دوسرے مرد کی آواز سنی ۔۔ وہ کہہ رہے تھے کیا ہوا ۔؟؟ ۔کیا ہوا۔؟؟؟؟؟؟۔۔ ۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔ اماں کے ساتھ اس مرد کی آواز سنتے ہی ڈر کے مارے میری آنکھیں بند ہونے لگیں۔۔میں نے جیدے کی طرف دیکھا ۔۔۔اور ۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔ جاری ہے ..........
  3. تراس یا تشنگی قسط 7 سویرے جو پھر آنکھ میری کھلی ۔۔۔ تو میں نے دیکھا کہ میں بستر پر ایک عجیب بے ہنگم سے انداز ننگی سوئی ہوئی تھی ۔۔۔ میری چوت اس آس پاس کے ایریا پر ۔۔۔ گاڑھے ہلکے زردی رنگ کا مادہ لگا ہوا تھا اور۔۔ بستر کی چادر میری چوت کا پانی جزب کر کر کے اکڑی ہوئی تھی ۔۔گویاکہ میری صبع کہہ رہی تھی میرے رات کا فسانہ۔۔۔ ۔۔اور رات کے واقعہ کے بعد میں کافی فریش ہو گئی تھی۔۔۔اور میں نےخود کر کافی ہلکہ پھلکا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس کے بعد میں اپنی اُسی پرانی روٹین پر آ گئی اور ہر دوسرے تیسرے دن ۔۔۔ اپنی انگلیوں سے کام چلا کر اپنا گزارہ کرنے لگی۔۔۔ا س دوران کافی لڑکوں نے مجھ پرڈورے ڈالنے کی کوشش کی لیکن میں نے کسی کو کوئی لفٹ نہ دی ۔۔ میں خاموشی سے سکول اور سکول سے گھر آتی تھی ۔۔۔ یوں میرے کیس سے بات نہ کرنے اور نہ ہی کسی کو لفٹ کرانے سے گلی محلے میں میری شہرت ایک شریف لڑکی کی بن گئی ۔۔۔ کالج پہنچنے تک میں اپنے آپ سے بہت زیادہ لزت حاصل کر تی رہی ۔۔اور اب چونکہ میں فُل جوان ہو گئی تھی اس لیئے اب میری چوت انگلیوں کے علاوہ ۔۔۔۔۔ کچھ اور چیز بھی ڈیمانڈ کر نے لگی تھی ۔۔ اور چونکہ میں نے اپنے آپ سے پکا وعدہ کیا ہوا تھا کہ میں باہر کسی بھی لڑکے کو لفٹ نہ دوں گی۔۔اور میں اپنے وعدے پر قائم تھی ۔۔ اس لیئے ۔۔ میں نے کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو سنبھالے رکھا تھا ۔۔۔۔۔ پھر میرے بڑے بھائی فائق کی شادی آ گئی ۔۔۔بھائی کو ایک ملٹی نیشن کمپنی میں ایک بہت اچھی جاب ۔مل گئی تھی۔۔۔ اور وہاں سیٹ ہوتے ہی انہوں نے ابا اماں کو اپنی پسند بتا دی تھی بھائی کی پسند یدہ لڑکی کا نام عطیہ تھا ۔۔عطیہ کی امی اور میری اماں آپس میں دور پار کی کزن بھی تھیں ۔ وہ لوگ بہاولپور رہتے تھے اور بھائی نے اماں کی فیملی کے کسی فنگشن میں عطیہ بھابھی کو دیکھا تھا اور تب سے اس پر لٹو ہو گیا تھا ۔۔۔میرے ولدین نے بھائی کی پسند قبول کر لی اور پھر ۔۔ اماں نے اپنی فیملی کی ۔۔۔ایک دو عورتیں بیچ میں ڈالیں اور ۔۔ ان لوگوں سے عطیہ بھابھی کے رشتے کی بابت پوچھا ۔۔تو ۔۔۔ انہوں نے جھٹ سے ہاں کر دی ۔۔۔ اس کی ایک وجہ ہم لوگوں کا خوشحال ہونا ۔۔۔۔ اور دوسری وجہ۔ ۔۔۔۔ لڑکے کی بہت اچھی جاب ہونا تھی جبکہ تیسری اور سب سے آخری وجہ یہ تھی کہ ۔۔۔ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے ۔۔اور یہ ایک طرح سے ان کے پسند کی شادی تھی۔۔۔۔۔ چنانچہ ادھر سے ہاں ہوتے ہی ۔۔اماں ۔۔ابا۔۔ فیض بھائی کی بیوی ۔۔۔ اورمیں۔۔بہالپور چلے گئے ۔۔۔ اور نہ صرف یہ کہ وہاں جا کر ہم فائق بھیا کی منگی کر آئے بلکہ شادی کی تاریخ بھی پکی کر آئے ۔ بہاولپور سے واپس آتے ہی اماں نے بڑے زور وشور سے فائق بھائی کی شادی کی تیاریاں شروع کر دی تھیں ۔۔۔ چونکہ شادی میں وقت کم تھا ۔۔۔ اس لیئے ہر کام جلدی جلدی ۔۔۔ میں ہو رہا تھا ۔۔۔اور پھر اسی گہما گہمی میں شادی کے دن نزدیک آگئے ۔۔۔ جیسے ہی شادی کے دن قریب آئے اماں نے چھوٹے موٹے کاموں کے لیئے اپنے گاؤں سے دو تین کامے (کام کرنے والے ) منگوا لیئے تھے ۔۔جو دو عورتوں اور ایک مرد پر مشتمل تھا ۔۔۔ عورتیں گھر کے کام کاج اور خاص کر کچن کے کام کے لیئے تھیں اور مرد ۔۔ جس کا پورا نام تو پتہ نہیں کیا تھا پر سب اس کو جیدا سائیں کہہ کر بلاتے تھے۔۔۔ جیدا سائیں اچھے ڈیل ڈول والا ۔۔ پکی عمر کا ۔۔۔۔ مضبوط جسم اور گہری سانولی رنگ والا آد می تھا ۔۔۔ ہمارے گھر ہر غمی خوشی کے موقعہ پر باقی لوگوں کے ساتھ جیدا سائیں ضرور آیا کرتا تھا ۔اس کے علاوہ بھی جیدے سائیں کا جب بھی لاہور آنا ہوتا تھا تو وہ ہمارے گھر آیا کرتا تھا ۔۔بلکہ ہمارے پاس ہی رہا کرتا تھا ۔یہ شخص اماں لوگوں کا خاندانی نوکر تھا اس لیئے اماں اس کا بڑا لحاظ کرتی تھیں اور اپنی ہر غمی خوشی کے موقعہ پر اسے ضرور بلایا کرتی تھیں ۔۔۔۔۔ جیدا اچھا خاصہ سیانہ بیانہ اور عقل والا آدمی تھی اور کسی طرف سے بھی سائیں نہ لگتا تھا ۔۔ ۔۔ مجھے یاد ہے کہ ۔۔ ایک دفعہ میں نے اماں سے ویسے ہی مزاق میں پوچھا تھا کہ اماں یہ جیدا تو اچھا خاصہ عقل مند آدمی ہے ۔۔ پھر اسے سائیں ۔۔سائیں ۔۔کیوں کہتے ہیں تو اماں نے ہنس کر جواب دیا تھا کہ بیٹا۔۔۔ جیدے کو سائیں کا خطاب ۔۔ تمھارے نانا نے دیا تھا ۔۔۔وہ یوں کہ بچپن میں یہ ۔۔۔ بہت سادہ اور موٹی عقل والا بچہ تھا جس کو بڑی مشکل سے کوئی بات سمجھانا پڑتی تھی ۔۔۔ ایک دن تنگ آ کر انہوں نے کہہ دیا تھا کہ ایر جیدے ۔۔تو ۔۔۔تو سائیں لوک ہے ۔۔ بس اسی دن سے سائیں کا یہ دم چھلا اس کے نام کے ساتھ لگ گیا ہے۔ ۔۔۔ یہ سہ پہر کا وقت تھا کہ جب جیدا سائیں گاؤں کی دو عورتوں کو لیکر ہمارے گھر آ گیا ۔۔۔ چائے پانی کے بعد اماں نے عورتوں کو تو مختلف ڈیوٹیوں پر لگا دیا ۔اور حسبِ معمول جیدے کو اپنے پاس بٹھا کر اس سے گاؤں کا حال احوال لینے لگیں ۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت اماں چارپائی پر بیٹھی چاول صاف کر رہیں تھیں اور ان کے سامنے ایک چھوٹی سی "چوکی " پر جیدا بیٹھا ان کو گاؤں کے حالات سنا رہا تھا ۔۔۔ جو کہ اماں بڑے شوق سے نہ صرف سُن رہیں تھیں بلکہ بیچ بیچ میں کرید کرید کر مختلف سوالات بھی پوچھے جا رہیں تھیں کہ فلا ں کے بارے میں بتاؤ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔چونکہ میرے لیئے یہ خاصہ بورنگ سبجیکٹ ہوتا تھا ۔۔ اس لیئے جیسے ہی جیدے سائیں نے گاؤں کی روداد سنانی شروع کر دی تو میں کسی حیلے بہانے سے وہاں سے کھسک آئی ۔۔۔ میری دیکھا دیکھی وہاں پر بیٹھی اور بھی رشتے دار خواتین آہستہ آہستہ وہاں سے کھسکنا شروع ہو گئی ۔۔۔ اور حسبِ معمول آخر میں ۔۔ اماں اور جیدا سائیں ہی رہ گئے ۔۔جو بڑے جوش میں اماں سے گاؤں کے حالات شئیر کر رہا تھا۔۔۔ یہاں میں آپ کو ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ برآمدے میں جس جگہ اماں بیٹھی چاول صاف کر رہیں تھیں وہ جگہ میرے کمرے کی کھڑکی کے عین سامنے تھی ۔۔۔اور پوزیشن یہ تھی کہ میری کھڑکی سے تھوڑی ہی دور چارپائی پر اماں بیٹھی تھیں ۔۔ اوراماں کے عین سامنے جس چوکی پر جیدا سائیں بیٹھا اماں کو گاؤں کے حالات سے آگاہ کر رہا تھا ۔۔۔ وہ جگہ میرے کمرے کی کھڑکی کے بلکل نیچے واقعہ تھی ۔۔۔ جیدے اور اماں سے اُٹھ کر میں سیدھی ڈرائنگ روم چلی گئی تھی جہاں پر فیض بھائی کی بیگم اپنی دوستوں/رشتے داروں کے ساتھ بیٹھی گپیں لگا رہیں تھیں اور ٹاپک یہی شادی کی تیاریاں تھیں ۔۔۔ جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوئی تو بھابھی مجھے دیکھ کر ہنستے ہوئے بولی۔۔۔۔ کیا صورتِحال ہے امی کے پنڈ کی؟؟؟ تو میں نے بھی ہنستے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔ جیدا سائیں ابھی شروع ہی ہوا تھا کہ میں وہاں سے کھسک آئی ہوں ۔۔۔ یہ کہہ کر میں ا ن کے سامنے صوفے پر جا بیٹھی ۔۔۔۔ اور ہم باتیں کرنے لگیں ۔۔ دورانِ گفتگو بھابھی کی ایک دوست نے کہا کہ ۔۔۔ تمہارا شادی کا سوٹ کیسا ہے ؟ تو بھابھی نے اپنے سوٹ کی تفصیل بتانی شروع کر دی اور پھر کپڑوں سے ہوتی ہوئی بات جوتوں کے ٹاپک پر آ گئی۔۔۔ جیسے ہی جوتوں کا ٹاپک شروع ہوا تو ۔۔۔ بھابھی نے میری طرف دیکھا اور بولی۔۔۔ ۔یار جوتی تو ہما لے کر آئی ہے ۔۔۔ ۔۔۔ تھوڑی مہنگی ہے پر۔۔۔۔ کیا یونیک سٹائل ہے اس کا ۔۔۔۔ پھر وہ مجھے سے مخاطب ہو کر کہنے لگیں ۔۔ ہما۔۔ ذرا اپنی مہرون والی جوتی تو لیکر کر آنا جو کل شام تم امی کے ساتھ لبرٹی سے لائی تھی ۔۔۔۔ میں نے بھابھی کی بات سُنی اور جی اچھا کہہ کر اُٹھی اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔سامنے ریک پر وہ مہرون رنگ والی جوتی ڈبے میں پڑی تھی ۔۔۔میں چلتی ہوئی ریک کے پاس پہنچی ۔اور۔۔۔ ۔۔ہاں میں آپ کو یہ بات بتانا تو بھول ہی گئی ہوں کہ میرا جوتیوں والا ریک کھڑکی کے پاس رکھا ہوا تھا ۔۔۔اور دن کے وقت عموماً میں اپنی کھڑکی کے دونوں پٹ کھلے رکھتی تھی ۔۔ اس زمانے میں میری کھڑکی پر باریک سی لوہے کی جالی لگی ہوتی تھی ۔۔۔ اور جیسا کہ آپ کو پتہ ہے کہ اس جالی کا یہ کمال ہے کہاگر کمرہ اندر سے روشن ہو یعنی کہ کمرے کی لائیٹ آن ہو تو باہر والے کو اندر کا سین نظر آتا ہے اور اگر کمرہ روشن نہ ہو تو باہر سے کچھ نظر نہیں نظر آتا ہے۔۔ہاں تو میں آپ کو بتا رہی تھی کہ میں چلتی ہوئی گئی اور ریک سے اپنی جوتی کا ڈبہ اُٹھایا ۔۔۔ اور واپس ہوتے وقت حسبِ عادت ایک نظر باہر ڈالی تو سامنے اماں اور جیدا بیٹھے نظر آئے ۔۔۔ میں نے ایک نظر ان پر ڈالی اور جیسے ہی واپسی کے مُڑی میرے کانوں میں اماں کی ۔۔۔۔کھنکھناتی ہوئی آواز سنائی دی ۔۔۔ وہ جیدے سائیں کی طرف دیکھ کر کہہ رہیں تھیں ۔۔۔۔ ایہہ ۔۔شیطان اجے مریا نئیں؟؟؟۔(یہ شیطان ابھی مرا نہیں )۔ اماں کی بات سُن کر میں تھوڑی حیران ہوئی کہ اماں سائیں سے کس شیطان کے مرنے کی بات کر رہیں ہیں؟ پھر میں محض اپنا تجسس دور کرنے کے لیئے کھڑکی کے اور قریب چلی گئی اور کان لگا کر ۔۔۔۔ اوراماں اور سائیں کے درمیان ہونے والی باتیں سننے لگی۔۔۔ چونکہ میرے کمرے کی لائیٹ ۔۔۔ آف تھی اس لیئے مجھے باہر سے دیکھے جانے کا کوئی ڈر نہ تھا ۔۔۔ اماں کی بات سُن کر سائیں بولا ۔۔۔۔ باجی ۔۔۔ ایہہ شیطان تے مریا ہویا سی ۔۔۔ پر ۔۔۔ تہاڈے سوہنے جئے پٹ ویکھ کے ۔۔۔۔ ایدے کولوں ریا نہیں گیا ۔۔۔( باجی یہ شیطان تو مرا ہوا تھا لیکن آپ کی خوب صورت رانیں دیکھ کر اس سے رہا نہیں گیا ) ۔۔۔ جیدے کی بات سُن کر میں نے ایک دم اماں کی طرف دیکھا تو واقعہ ہی وہ چارپائی پر اس اس زاویہ سے بیٹھی ہوئیں تھیں کہ جس سے ان کی بڑی سی گانڈ اور موٹی موٹی لیکن سیکسی رانیں ۔۔واضع طور نظر آ رہی تھی۔۔میرا خیال ہے کہ اماں کی سیکسی گانڈ دیکھ کر ہی سائیں کا شیطان (لن) کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔اماں اور جیدے کی یہ گفتگو سُن کر میرا رنگ سُرخ ہو گیا ۔۔۔ادھر اماں سائیں کی بات سُن کر کہہ رہیں تھیں۔۔ اب میری رانیں کہاں خوب صورت رہی ہے ۔۔۔ ہاں کسی زمانے میں یہ بڑی بمب ہوتی تھیں ۔۔۔ تو سائیں کہنے لگا ۔۔۔ نیلو باجی ۔۔۔آپ کی رانیں اور۔۔۔گانڈ اب بھی بڑی بمب ہے ۔۔۔دیکھو ۔۔ نا باجی ان پر ایک نظرپڑتے ہی میرا لن کھڑا ہو گیا ہے ۔۔۔۔ چونکہ جیدے سائیں کی میری طرف پشت تھی ۔۔۔ اس لیئے مجھے اس کا لن نظر تو نہیں آ رہا تھا ۔۔ لیکن میں نے اماں کی طرف دیکھا تو ۔ان کا چہرہ سُرخ ہو رہا تھا اور ۔۔۔ ان کی نظریں سائیں کی دو ٹانگوں کے عین بیچ میں گڑھی ہوئیں تھیں ۔۔۔ اور وہ بڑے غور سے جیدے سائیں کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہیں تھیں ۔۔۔ جیدے !! اپنی دھوتی کو تھوڑا اور کھول ۔۔۔ اور اپنا سارا لن میرے سامنے کر ۔۔۔۔ اماں کی بات سُن کر میں نے سائیں کی طرف دیکھا تو چوکی پر بیٹھے بیٹھے وہ اپنی دونوں ٹانگوں کو مزید کھول رہا تھا ۔۔۔ اور پھر شاید اس نے اپنے لن کو پورا ۔۔۔ ننگا کر لیا تھا ۔۔۔ کیونکہ میں نے اماں کی طر ف دیکھا تو وہ جیدے سائیں کی ٹانگوں کے درمیان درمیان دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہیں تھیں ۔۔۔ اور جیدے کا لن دیکھتے ہوئے ان کے گال جوش کی وجہ سے تمتما رہے تھے ۔۔۔اور اماں کی آنکھوں میں سائیں کے لن کے لیئے ۔۔شہوت صاف نظر آرہی تھیں ۔۔ اماں نے کچھ دیر تک جیدے کے لن کو بڑے غور سے دیکھا ۔۔۔ اور پھر ۔۔ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولی ۔۔۔۔ جیدے ایہہ شیطان پہلے توں کُج زیادہ ووڈا تے موٹا نئیں ہو گیا؟ ( جیدے تیرا لن پہلے سے کچھ زیادہ بڑا اور موٹا نہیں ہو گیا ؟) تو میں نے دیکھا کہ اماں کی بات سُن کر جیدے سائیں نے اپنا ایک ہاتھ نیچے کیا اور غالباً اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ہلاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ اے گل نئیں نیلو باجی۔۔ چونکہ ۔ تُسی بڑے عرصے بعد اس شیطان نوں دیکھیا اے ۔۔۔ اس لیئے ایہہ تہانوں وڈا ۔۔وڈا ۔۔ لگ رہیا اے ۔۔( ایسی بات نہیں ہے نیلو باجی ۔۔ چونکہ آپ نے بڑے عرصے بعد میرا لن دیکھا ہے اس لیئے آپ کو کچھ زیادہ بڑا بڑا سا لگ رہا ہے) جیدے کی بات سُن کر اماں بولیں ۔۔۔۔۔تیرا شیطان ویکھ کے میں تے گیلی تے گرم ہو گئیں آں ۔۔۔(جیدے تیرا لن دیکھ کر میری چوت گیلی اور میں گرم ہو گئی ہوں ) پھر میں نے دیکھا کہ جیدے سائیں کا اپنی ٹانگوں میں گیا ہوا ہاتھ ۔۔۔ تیزی سے ہل رہا ہے ۔۔۔۔ میرے خیال میں وہ اماں کو رجھانے کے لیئے ان کے سامنے مُٹھ مار رہا تھا۔۔۔ یا شاید وہ اماں کے سامنے اپنا لن ہلا ہلا کر ۔۔ان کو ترسا رہا تھا ۔۔اور میں نے اماں کی طرف دیکھا تو ان کی نظریں ابھی بھی جیدے کی ٹانگوں کے درمیان اس کے لن پر گڑی تھیں ۔۔اور وہ جیدے کے لن کو دیکھ کر مسلسل اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرے جا رہیں تھیں اور ہوس کے مارے ان کے گال لال ٹماٹر ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔ اور ان کی آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ ان کا بس نہیں لگ رہا ورنہ وہ ابھی جیدے کا لن اپنے اندر لے لیتیں۔۔۔ پھر میں نے جیدے کی ہاتھ کی طرف دیکھا تو وہ اسے ہلاتے ہوئے اماں سے کہہ رہا تھا ۔۔۔نیلو باجی فئیر کی خیال اے اَج ہو نہ جائے ؟ ( نیلو باجی پھر کیا خیال ہے آج فکنک نہ ہو جائے) جیدے کی بات سُن کر امان نے ایک بار پھر اس کے ہلتے ہوئے لن کی طرف دیکھا اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور بولیں ۔۔۔ نہیں آج نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہم یہ کام کل کریں گے ۔۔۔تو جیدا بولا ۔۔ باجی اپنی گانڈ دکھا کر گرم تم آج کیا ہے اور دو گی کل۔۔۔۔ یہ تو ٹھیک بات نہیں ۔۔۔ تو اماں مسکرا کر بولی ۔۔۔ تم کو گرم کرنا کون سا مشکل کام ہے ۔۔۔ پھر وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئیں تمہیں پتہ ہے کہ میرا گھر بہوؤں بیٹوں والا گھر ہے اور اوپر سے کافی مہمان بھی آئے ہوئے ہیں ۔۔اس لیئے آج نہیں ہو سکے گا ۔۔۔ ہاں کل فائق کی مہندی ہے ۔۔۔ اور میں نے دو تین بیوٹی پارلر والیوں کو گھر پر بُلایا ہے تا کہ لڑکیاں تیار کر سکیں ۔۔ اور تم کو پتہ ہے بیوٹی پارلر والیوں جب گھر آئیں گی تو سب لڑکیاں اور عورتیں ان کے ہی آس پاس ہوں گی اور اس دوران میں اور تم سٹو ر میں چیزیں نکلالنے کے بہانے ۔۔اپنا کام کر لیں گے ۔۔۔ اماں کی بات سُن کر جیدا قدرے مایوسی سے بولا ۔۔۔ جیسے تمھاری مرضی ۔۔نیلو۔۔۔۔۔پر کل منکر نہ ہو جانا ۔۔۔تو اماں اس کی بات سُن کر بولی۔۔ فکر نہیں کرو میں ہر گز منکر نہیں ہوں گی ۔۔۔ کیونکہ کافی دنوں سے میں خود بڑی گرم ہو رہی ہوں ۔۔ اور میری پھدی ایک سخت لن مانگ رہی ہے ۔۔تو اماں کی بات سُن کر جیدا کہنے لگا۔۔۔ کیا بات ہے آج کل بھائی جان آپ کی نہیں مار رہے ؟؟ ۔۔۔ تو اماں کہنے لگیں ۔۔۔ وہ تو بس اب مہینے میں ایک آدھ دفعہ ہی مارتا ہے ۔۔ لیکن اب اس کے لن میں وہ تڑ نہیں رہی ۔۔ بلکہ کافی ڈھیلا ہو گیا ہے اور تم کو پتہ ہے کہ میری چوت کو تمھارے جیسا ایک سخت اور اکڑا ہوا لن چاہیئے ۔۔۔ پھر اچانک اماں جیدے سے کہنے لگیں ۔۔۔ لن کو دھوتی میں کر لو ۔۔ اور گاؤں کی باتیں شروع کر دو کہ ایک عورت ہماری طرف آ رہی ہے ۔۔ اماں کی بات سُن کر میں نے بھی سامنے دیکھا تو ۔۔۔ فیض بھائی کی ساس اماں کی طرف آ رہی تھیں۔۔۔ اماں اور جیدے کی باتیں سُن کر ایک بات تو مجھے کنفرم ہو گئی کہ اماں اور جیدے کا بڑا پرانا معاملہ چل رہا تھا۔۔۔ دوسری بات یہ کہ ان کی باتیں سُن سن کر میں بڑی گرم ہو گئ تھی ۔۔۔ اور اسی گرمی کے تحت میں نے اپنی الاسٹک والی شلوار میں اپنا ہاتھ ڈالا اور چوت کو چیک کیا ۔۔ ۔۔۔ تو اماں کی طرح میری چوت بھی کافی گیلی ہو رہی تھی پھر میں نے اپنی پھدی پر ہاتھ رکھا ۔۔۔تو۔۔۔۔تو وہ گرم آگ ہو رہی تھی۔۔۔ اور میں اپنی گرم پھدی پر مساج کرنے لگی۔۔۔ اپنی چوت پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے مجھے جیدے سائیں کا لن یاد آ گیا ۔۔۔ اورمیں سوچنے لگی ۔۔ کہ جس لن کی تعریف اماں جیسی جہاندیدہ اور ۔۔۔۔ میچور خاتون کر رہیں ہیں وہ لن کیسا ہو گا ؟؟؟؟؟۔۔۔۔ اور پھر میرے اندر سے جیدے سائیں کا لن دیکھنے کی خواہش بڑھنے لگی۔۔۔ اور پھر جیدے کا لن دیکھنے کی میری خواہش جب شدید ہو گئی تو میں نے اپنی شلوار سے ہاتھ نکلا اور سوچنے لگی۔۔۔ کہ میں جیدے سائیں کا لن کیسے دیکھوں ؟؟ سوچتے سوچتے ایک آئیڈیا میرے دماغ میں آیا اور میں نے ۔۔۔ جوتی کا ڈبہ اُٹھایا اور بھابھی کی طرف چل پڑی۔۔۔ وہاں جا کر میں نے جوتی کا ڈبہ بھابھی کے حوالے کیا اور خود باہر آ گئی۔۔۔ اور سیدھی اماں کے پیچھے جا کر ۔۔ بیٹھ گئی کہ۔۔۔اور ان کے کندھے دبانے لگی۔۔۔اماں کے ساتھ فیض بھائی کی ساس بیٹھی ہوئیں تھیں اور سامنے جیدا سائیں بیٹھا چائے پی رہا تھا ۔۔۔ میں بظاہر تو اماں کے کندھے دبا رہی تھی لیکن میری نظریں جیدے سائیں کی ٹانگوں کے درمیان تھیں ۔۔۔ گو کہ جیدے سائیں نے اپنے لن کو دھوتی کے اندر کر لیا تھا لیکن ۔۔مجھے ۔۔۔ابھی بھی دھوتی میں سے اس کے لن کا ابھار نظر آ رہا تھا۔۔۔ مجھے اماں کے کندھے دباتے ہوئے دیکھ کر فیض بھائی کی ساس بولی۔۔۔۔ کیا بات ہے پتر اپنی اماں کی بڑی خدمتیں ہو رہیں ہیں ۔۔۔۔ ان کی بات سُن کر میری بجائے اماں ہنس کر بولیں ۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ کیوں میری خدمت کر رہی ہے ۔۔۔ پھر وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولی ۔۔۔ہاں جی میری گڑیا کو کیا چاہیئے۔۔۔۔ ؟؟ میں نے محض جیدے سائیں کے لن کے لیئے اماں کے پاس آئی تھی اور ابھی بھی میری نظریں اس کی دھوتی کے ابھار پر گڑھی ہوئیں تھیں۔۔۔ اماں کی بات سن کر ایک دم چونک گئی اور ۔۔۔ پھر سوچتے ہوئے بولی۔ اماں کل جو لبرٹی میں شاکنک پنک ۔۔۔ جوڑا دیکھا تھا ۔۔۔ لے دو نا۔۔۔ اور پھر جیدے سائیں کے لن کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔ ادھر میری بات سُن کر اماں کہنے لگیں۔۔۔ تم کو اتنے سوٹ جو لے کر دیئے ہیں ۔۔۔ وہ کافی نہیں ہیں کیا۔۔؟ تو میں نے جیدے کے لن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ اماں پلیز !!!! ۔۔۔ تو میری بات سُن کر اماں کہنے لگیں ۔۔۔ ایسے ہی میرے کندھے دباتی رہو میں غور کرتی ہوں ۔۔۔ اور میں اماں کے کندھے دبانے لگی اور ساتھ ساتھ جیدے سائیں کے لن پر نظریں گاڑھے رکھیں۔ مجھے یوں اپنی طرف دیکھ کر اور خاص کر اپنی دھوتی کے ابھار کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر جیدا سائیں کچھ بوکھلا سا گیا ۔۔۔ اور اس نےجلدی سےاپنا لن اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں کیا اور ان کو جوڑ لیا ۔۔۔ اور میری طرف دیکھنے لگا۔۔۔ لیکن اس وقت میں اتنی گرم ہو رہی تھی کہ پھر بھی میں نےاس کی ٹانگون کے بیچ میں دیکھنا جاری رکھا ۔۔۔ جلد ہی جہاندیدہ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ عورتوں کا شکاری ۔۔۔(یہ بات مجھے بعد میں پتہ چلی) جیدا ۔۔۔ میری تکلیف سمجھ گیا ۔۔ اور پھر اس نے ایک نظر میری ماں کی طرف دیکھا جو بڑے زور و شور سے فیض بھائی کی ساس کو شادی کی شاپنگ کے بارے میں بتا رہی تھی۔۔۔ اور بڑے طریقے سے اپنی ٹانگوں کو کھول دیا اور اپنا لن کو میرے سامنے کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُف ۔ف۔ف۔۔ف میں دیکھا تو اس کی دھوتی میں ایک بہت بڑا تنبو سا بنا ہوا تھا ۔۔۔۔ جسے دیکھ کر میں لال ہو گئی اور میری پھدی پہلے سے زیادہ گیلی ہو گئی۔۔۔ جیدے نے اپنے لن کی بس ایک جھلک ہی مجھے دکھائی اور پھر وہ چائے پینے لگا ۔۔۔ اور بڑی خاص نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔۔۔ اس کو یوں اپنی طرف دیکھتے ہوئے میں تھوڑا گھبرا گئی اور میں نے اپنی نظریں نیچی کر لیں ۔۔۔ کچھ دیر بعد جیدا چوکی سے اُٹھا اور اماں کو مخاطب ہو کر بولا ۔۔۔۔ باجی میرے لئے کیا حکم ہے ۔۔۔؟؟ ۔۔۔تو اماں نے اسے ایک چھوٹا سا کام دیا اور بولیں یہ کر کے جلدی کہ تم کو اور بھی کافی کام کہنے ہیں ۔۔۔جیسے ہی جیدا گیا ۔۔۔ میرے لیئے وہاں بیٹھنے کی کشش ختم ہو گئ تھی اس لیئے میں نے اما ں سے پوچھا ۔۔۔ اماں جی مجھے وہ سوٹ لے دو گی ناں؟ تو اماں بولی ۔۔ ایک شرط پر۔۔۔کہ تم مجھے دس منٹ تک اور دباؤ۔۔۔۔۔ جیسے تیسے اماں کو دبا کر میں اُٹھی اور وہاں سے جانے لگی تو آگے سے مجھے جیدا نظر آ گیا ۔۔۔اس نے مجھے دیکھ کر کہا ۔۔ ایک منٹ گڈی۔۔۔۔ اور پھر اماں کے سامنے مجھے کھڑا کر کے بولا۔۔۔ نیلو باجی ۔۔ آپ کی لڑکی بلکل آپ پر گئی ہے۔اور پھر کہنے لگا۔۔۔ جیوندی رہے اور اس کے ساتھ ہی اس نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔اور پھر اپنا ہاتھ میرے سر سے پیچھے لے آیا اور میری گانڈ پر ہاتھ لگا کر اسے تھوڑا سا دبا دیا۔۔۔۔ اور میری طرف دیکھنے لگا ۔۔۔ لیکن میں نےکوئی رسپانس نہ دیا۔۔۔۔۔ اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔
  4. تراس یا تشنگی قسط 6 اگلے دو تین دن تک وہ مسلسل مجھے اپنی بے گناہی کا یقین دلاتا رہا ۔۔۔۔ لیکن میں ٹس سے مس نہ ہوئی تو پھر اچانک ہی ایک دن اس کی ٹون تبدیل ہو گئی اور وہ مجھے دھمکی دیتے ہوئے بولا کہ اس دن جس لڑکے کے ٹٹوں پر تم نے مارا تھا وہ تین دن ہسپتال میں داخل رہا ہے اور اب ٹھیک ہو کر اور مجھ سے تمھارا پتہ مانگ رہا تھا ۔۔ پھر مکاری سے کہنے لگا۔۔۔۔ تم کو معلوم ہے نہ کہ وہ کس قدر خطرناک لڑکا ہے اگر میں نے اس کو تمھارا پتہ دے دیا تو وہ تم کو اُٹھا کر لے جائے گا ۔۔۔ اور پھر جو حشر وہ تمھاے ساتھ کرے گا اس سے تم بخوبی واقف ہو۔۔۔۔۔ اس لیئے تمھارے لیئے بہتری اسی میں ہے کہ تم میرے ساتھ دوبارہ سے دوستی کر لو۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اور پھر وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس کی دھمکی سے میں کافی حد تک خوف ذدہ ہو گئی تھی ۔۔۔۔ لیکن اس کی بلیک ملنگ نے مجھے مزید مشتعل کر دیا تھا ۔۔۔ویسے بھی چونکہ پانی سر سے بڑھ گیا تھا اس لیئے میں نے سمیر کا بندوبست کرنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔ دوستو۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں چار بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں ۔۔۔سب سے بڑے فیض بھائی ہیں لیکن میرے سب سے چھوٹے بھائی جن کا نام حمید ہے ان کے ساتھ میری بڑی بنتی ہے اور حمید بھائی کوئی کام نہیں کرتے بلکہ تھوڑی بہت پہلوانی کا شوق تھا۔۔۔ گھر میں ابا کےبعد میرا سب سے پکا ووٹ حمید بھائی ہی تھے میں کیا سارا محلہ انہیں بھا میدا ۔۔ کہتا تھا ۔۔سمیر کی دھمکی نے مجھے کافی کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔ اس لیئے گھر آ کر بھی میں کافی دیر تک اسی کے بارے میں سوچتی رہی اور پھر میرے زہن میں بھا میدا ۔۔۔ آ گیا ۔۔۔ اور میں اس کی طرف چل پڑی ۔۔ بھا میدے کا کمرہ گھر کے پیچھے کی طرف تھا ۔۔ جہاں پر ایک کمرہ تھا ۔۔۔جسے بھا میدا ۔۔۔۔ اپنا ڈیرہ کہتا تھا ۔۔۔۔ جب میں اس کے کمرے کے قریب پہنچی تو اس وقت وہ کمرے کے باہر ایک بڑے سے ڈول میں چمچ ڈالے کچھ ہلا رہا تھا ۔۔۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے نعرہ لگایا اور خالص لاہوری اور پہلوانی لہجے میں بولا ۔۔ وہ آئی میری پتڑ۔۔۔ پھر کہنے لگا ۔۔۔آجا ۔۔پتڑ۔۔۔میں نے بڑے مزے کی سردائی بنائی ہے تُو بھی پی لے۔۔۔ لیکن میں نے ان کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور ان کے سامنے دھرے مُوڑھے پر بیٹھ گئی۔۔وہ کچھ دیر تک تو مجھے دیکھتے رہے ۔۔۔ پھر انہوں نے ڈول میں چمچ ہلانا بند کیا اور اُٹھ کر میرے پاس کھڑے ہو گئے اور ۔۔ میرے سر پر ہا تھ پھیر کر بولے۔۔ کیا بات ہے میرا پتڑ ۔۔۔ بڑ ی پریشان لگ رہی ہو۔۔۔۔ان کے پیار سے پتہ نہیں کیوں میں بلک پڑی اور سسکیاں لے لے کر رونےلگی۔۔۔مجھے روتا دیکھ کر بھا ایک دم گھبرا گیا اور کہنےلگا۔۔۔ بات تو بتا کیا ہوا۔۔۔۔ تب میں نے۔۔۔ ان سے کہا ۔۔ بھا جی ایک لڑکا ہے جو روز مجھے سکول سے آتے ہوئے تنگ کرتا ہے۔۔۔ اور آج اس نے مجھ سے کہا کہ میں اس سے بات نہیں کروں گی تو وہ مجھے اُٹھا کر لے جائے گا ۔۔۔ میری بات سُن کر بھا میدا ۔۔۔ حیرت سے بولا ۔۔۔۔ یہ کیا کہہ رہی ہو پتڑ ۔۔۔ ایسا کون ہے جو میدے پہلون کی بہن کو اُٹھانے کی بات کر رہا ہے ؟؟؟ ۔۔۔ اسے معلوم نہیں کہ تم کس کی بہن ہو ۔۔تو میں نے کہا ۔۔۔ کہ پتہ نہیں ۔۔۔ اسے معلو م ہے کہ نہیں ۔۔۔ لیکن اس نے میری زندگی عذاب کی ہوئی ہے ۔اور میرا سکول سے آنا حرام کیا ہوا ہے ۔۔میری بات سُن کر بھا نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگا۔۔۔۔ کما ل ہے یہ بات تم نے پہلے کیوں نہیں بتائی۔۔ تو میں نے کہا ۔۔۔ کہ آپ کو فیض بھائی کا پتہ ہی ہے ۔۔۔ وہ پہلے ہی میرے پڑھنے کے سخت خلاف ہے ۔۔اس لیئے ۔۔۔ تو میری بات سمجھ کر وہ کہنے لگا۔۔۔ اوہو ۔۔ جھلیئے ۔۔۔ تم نے فیض کو نہیں مجھے بتانا تھا نا ۔۔۔ پھر بولا ۔۔۔ خیر ۔۔ کوئی بات نہیں ۔۔ میرا پتڑ تم بے فکر ہو کر سکول جاؤ ۔۔ کل کے بعد کوئی لڑکا تو کیا ۔۔ پرندہ بھی تمھاری طرف نہیں دیکھے گا ۔۔۔ پھر اس نے مجھ سے سکول سے واپسی کا ٹائم اور راستہ پوچھا ۔۔۔ میں نے اسے سب بتایا اور جانے لگی تو پھرایک بار پھر میں نے اس سے کہا ۔۔۔ بھا پلیز ۔۔۔ یہ بات فیض بھائی کو نہ بتانا ۔۔۔میری بات سُن کر وہ کہنے لگا۔۔۔۔ بے فکر ہو کے جا ۔۔۔ میرے پتڑ۔۔۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔۔۔ اور پھر میرے سر پر ہاتھ پھیر کر بولا ۔۔۔ اگر ایسی کوئی بات ہو تو پہلے بتا دیا کر۔۔۔ تیرا بھائی ابھی زندہ ہے۔۔۔ اور میں ۔۔۔وہاں سے چلی گئی۔۔۔ اگلے دن چھٹی کے وقت میں نے دیکھا تو بھا اور اس کے دو تین دوست گیٹ کے سامنے کھڑے تھے۔۔۔ لیکن مجھے دیکھ کر بھا نے منہ پھر لیا ۔۔۔۔ بھا کو دیکھ کر میرا دل دھک دھک کر رہا تھا اور سخت ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں میرا راز نہ فاش ہو جائے ۔۔ لیکن اب تیر کمان سےنکل چکا تھا۔۔۔اور میں کچھ بھی نہ کر سکتی تھی ۔۔۔۔ راستے میں دو تین دفعہ نسرین نے مجھ سے اس بارے پوچھا بھی ۔۔۔ لیکن میں اس کو ٹال گئی ۔۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد نسرین کا گھر آ گیا اور وہ ۔۔۔ حسبِ معمول ٹاٹا کر کے اپنے گھر چلی گئی۔۔۔ اس کے جاتے ہی میں بھی اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئی لیکن اب میرے قدم من من بھر کے ہوگئے تھے اور ڈر کے مارے مجھ سے ٹھیک سے چلا بھی نہ جا رہا تھا لیکن کسی نہ کسی طرح میں چلتی رہی ۔۔ نسرین کے گھر سے تھوڑا آگے ہی گئی تھی ۔۔ کہ سمیر ۔۔حسب، معمول ۔۔اچانک ۔ میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔۔آج اس کے ساتھ وہی خبیث شکل والا لڑکا بھی تھا ۔۔۔ اسے دیکھ کر میری تو روح ہی فنا ہو گئی اور بہت زیادہ خوف ذدہ ہو کر اس لڑکے کی طرف پھٹی پھٹی نظروں سے طرف دیکھنے لگی ۔۔۔ تبھی ۔۔ سمیر ۔ دھمکی آمیز لہجے میں بولا ۔۔ یہ کہہ رہا ہے کہ اگر تم ابھی اور اسی وقت ہمارے ساتھ چلو ۔۔۔ تو۔۔۔ یہ تم کو معاف کر سکتا ہے ورنہ ہم مجبوراً تم کو اُٹھا کر لے جائیں گے ۔۔ ۔۔ ۔۔۔ ابھی سمیر نے اتنی ہی بات کی تھی ۔۔۔کہ پیچھے سے بھا نے اس کو گریبان سے پکڑا ۔۔ اور بولا ۔۔۔ کس کو اُٹھا نے کی بات کر رہےہو تم ۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟۔۔ میں ایک دم رُک گئی ۔۔۔ تو بھا نےمجھے کہا ۔۔۔میں اس کو اس کے سورمے کو دیکھ لو ں گا ۔۔۔۔ تو گھر جا ۔۔۔۔ اور ۔۔ بھا کی بات سُن کر میں نے ایک بار بھی مُڑ کر پیچھے نہیں دیکھا اور تیز تیز قدم اُٹھاتی ہو ئی گھر آ گئی۔۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے بعد سمیر اور اس اوباش لڑکے کے ساتھ بھا میدے اور اس کے دوستوں نے کیا سلوک کیا تھا ۔۔ہاں میں نے ان کا انجام جاننے کی کوشش ضرور کی تھی ۔۔۔ اور اس بارے میں میں نے بھا سے بات بھی کی تھی ۔۔ لیکن میری بات سُن کر اس نے صرف اتنا ہی کہا کہ ۔۔۔بے فکر ہو جاؤ پتڑ۔۔آج کے بعد کوئی بھی تم کو نہیں ستائے گا۔۔۔۔۔ ہاں میں یہ ضرور کہوں گی کہ اس دن کے بعد سمیر تو کیا میں نے اس کا سایہ بھی اپنے سکول کے آس پاس نہیں دیکھا ۔۔ اس واقعہ کا مجھ بڑا شدید جزباتی اور نفسیاتی اثر ہوا تھا ۔۔ اور میں اتنا ڈر گئی تھی کہ میں نے قسم ڈال لی تھی کہ آئیندہ میں کسی راہ چلتے ہوئے کسی لڑکے کو کبھی بھی لفٹ نہیں بھی دوں گی۔اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی بات کروں گی ۔۔ اور اس کے بعد میں بڑے آرام سے گھر سے سکول اور سکول سے گھر آتی جاتی تھی۔۔۔ اس حادثے کا مجھ پر دوسرا اثر یہ ہوا تھا کہ کافی عرصہ تک میں سیکس کو بھول ہی گئی تھی ۔۔ اس طرح ۔۔۔کافی عرصہ بیت گیا ۔۔جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ میرے زہن کے پردے سے بھی یہ حادثہ بھی محو ہوتا گیا۔۔۔ ۔۔ اورزندگی اپنےڈگر پہ چلنے لگی ۔۔۔ ایک دن کی بات ہے کہ اس دن میرے پیریڈز ختم ہوئے تھے اور صبع سے ہی مجھے اپنے جسم میں ایک عجیب سی بے چینی نظر آ رہی تھی ۔۔۔ لیکن میں نے اس پر دھیان نہ دیا ۔۔۔اور روز مرہ کے کام کاج کے بعد سو گئی ۔۔۔ رات کا جانے کون سا پہر تھا کہ۔۔۔اچانک میری آنکھ کھل گئی ۔۔۔ دیکھا تو میرا سارا جسم پسینے میں نہایا ہوا تھا۔۔۔۔ اور انگ انگ دُکھ رہا تھا اور ایک عجیب سی بے چینی ۔۔۔اور گرمی نے میرے سارے جسم میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔۔ میں بستر سے اُٹھی اور باہر جا کر فریج سے ٹھنڈے پانی کی پوری بوتل پی۔۔۔ لیکن۔کوئی فائدہ نہ ہوا ۔۔۔ گرمی تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔۔۔۔ میں نے ایک بار پھر فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل لی اور کمرے میں آ گئی ۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے وقت اچانک میری نظریں ۔۔۔ سامنے پڑے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑیں ۔۔۔ اور پھر اچانک۔۔۔ مجھے یاد آ گیا ۔۔۔ کہ یہ اتنی گرمی کیوں آ رہی ہے۔۔ یہ بات یاد آتے ہی میں نے جلدی سے درازے کو لاک کیا پانی کی بوتل تپائی پر رکھی اور کمرے کی لائیٹ آن کر کے ڈریسنگ کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور ۔۔۔ شیشے کی طرف دیکھتے ہوئے دھیرے دھیرے ۔۔۔۔ اپنے کپڑے اتارنے لگی ۔۔۔ سب سے پہلے میں نے اپنی شرٹ اتاری ۔اور اپنے جسم کو دیکھنے لگی۔۔۔۔میرے موٹے موٹے بریسٹ برا سے ڈھکے ہوئے تھے ۔۔۔ اس وقت میں نے سکن کلر کی برا پہنی ہوئی تھی۔۔ اور سکن کلر کی برا سے میرے اکڑے ہوئے نپل صاف نظر آ رہے تھے ۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ یہ ابھی برا پھاڑ کر باہر آ جائیں گے ۔ میں نے برا کے اوپر سے ہی ان کو پکڑا اور ان کو اپنی انگلیوں میں لے کر مسلنے لگی۔۔جس سے میرے جسم میں اور آگ بھڑکنا شروع ہو گئی ۔۔ اور میں نے جلدی سے نپلز کو چھوڑا اور برا بھی اتار دی ۔۔اب میں آئینے کے سامنے ننگے بریسٹ کے ساتھ کھڑی تھی ۔ بڑے دنوں کے بعد میں نے شہوت بھری نظروں کے ساتھ اپنے بریسٹ کو دیکھا ۔میرے بریسٹ پہلے کے مقابلے میں کچھ بڑے ہو گئے تھے ۔۔۔ اور ان کی اُٹھان بھی پہلے کے مقابلے میں کافی زیادہ ہو چکی تھی۔۔ اس پر سونے پہ سہاگہ میرے ۔۔۔ پنک کلر کے نپلز تھے۔ جو میرے اُٹھے ہوئے مموں پر ایک عجیب شان سے اکڑے کھڑے تھے کہ ہم سا ہو تو سامنے آئے ۔۔مجھے اپنے ممے اور نپلز دیکھ کر بڑی ہوشیاری آئی اور میں نےاپنے ایک ممے کو ہاتھ میں پکڑا پھر اپنا سر جھکا یا اور اپنی لمبی سی زبان اپنے منہ سے باہر نکالی اور اپنے نپل کو چاٹنے لگی۔۔۔ اُف۔ف۔ف۔ میرے ایسے کرنے سے نیچے میری چوت میں ہلکی ہلکی آگ لگنا شروع ہو گئی خیر کچھ دیر تک تو میں باری باری اپنے دونوں نپلز کو چاٹتی رہی ۔۔ پھر جب نیچے سے میری پھدی کی فریاد کافی تیز ہو گئی تو میں نے ۔اپنے ممے دبانے اور نپلز چاٹنے بند کر دیئے اور ۔۔۔ ۔۔۔۔پھر میں نے اپنی شلوار اتار کر ایک سائیڈ پر پھینک دی اور ۔۔۔ اب میں ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے کے سامنے الف ننگی کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔ اور میں نے خود کو دیکھا ۔۔تو ۔شہوت کے مارے ۔۔ میرے نپلز ۔۔۔ میری چوت ۔۔چوت کا دانہ ۔۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میری چوت کے پھڑکتے ہوئے ہونٹ ۔۔۔۔۔ اور ۔۔میں ۔۔۔ہم سب ۔۔ایک اَن دیکھی آگ میں جل رہے تھے اور یہ آگ دم بدم بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔۔میرا جسم ٹوٹ رہا تھا ۔ اس سے پہلے کہ یہ آگ مجھے جلا دیتی میں نے ا پنی دو انگلیاں اپنے منہ میں ڈالیں اور ان کو اچھی طرح گیلا کیا پھر۔۔۔ پھر میں نے ڈریسنگ ٹیبل والی چھوٹی سی سٹول نما کرسی کو اپنے نزدیک کیا اور اپنی ایک ٹانگ اس پر رکھ دی اور پھر اپنی چوت کے لبوں کو کھو ل کر بڑے ہی غور سے ان کو دیکھنی لگی۔۔میری چوت سے کافی مقدار میں رس ٹپک رہا تھا ۔۔ جس کی وجہ سے میری چوت کا اندرونی حصہ ۔۔۔ آف وائیٹ پانی سے بھرا ہوا تھا ۔۔ میں نے وہی گیلی انگلیوں کو چوت کے ہونٹوں کے اندر ڈِپ کیا ۔۔اور انگلیوں کو اپنی چوت کے پانی سے اچھی طرح بھگو کر ۔۔۔۔۔۔ اپنے دانے پر رکھا ۔۔۔۔۔ اور ۔انہیں ایک ۔ گول دائرہ سا بنا کر دانے پر آہستہ آہستہ مساج کرنے لگی۔۔۔ دانہ مست تو پہلے ہی تھا ۔۔۔اب ۔۔۔ مزید شہوت میں آ کر ۔۔۔۔ مچلنے لگا۔۔اور مزید پھول گیا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میرے سارے بدن میں ۔۔۔ مزے کی لہریں ۔۔ دوڑنے لگیں ۔۔۔اور ادھر ۔۔ دانے پر مساج کی وجہ سے میری چوت میں چدنے کی خواہش شدید سے شدید تر ہونے لگی۔۔۔۔ اور میری چوت کے ہونٹ بے قرار ہو کر خود بخود ۔۔کُھل بند ہونے لگے ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے دانے پر ہلکا مساج چھوڑا اور ۔۔اور اس پر تیز تیز رگڑائی کرنے لگی۔۔ مین جتنی تیزی سے ۔۔۔دانے کو رگڑتی مجھے اتنا ہی زیادہ مزہ ملتا تھا ۔۔۔ پھر میں نے اس دانے کو کو جو رگڑائی کی وجہ سے کافی سُرخ ہو رہا تھا اور تیزی سے رگڑنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔ تیززززززز۔۔۔ اور۔۔ تیززززززززززززز۔۔۔۔اور اس کے ساتھ اور مجھ پر ایک عجیب سی خماری چھانے لگی اور اس خماری کی وجہ سے خود بخود میری آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔ اور ۔۔پھر میری پھدی میں ایک شدید قسم کی اکڑن پیدا ہو گئی ۔۔میں ۔۔۔ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئی ۔۔تھی ۔۔۔۔ اور پاگلوں کی طرح اپنے دانے کو رگڑے جا رہی تھی ۔۔۔رگڑے ۔۔جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر۔۔ایسا کرتے کرتے میں بے حال سی ہو گئی۔۔۔ اور مجھ میں اپنے دانے پر مزید انگلیاں چلانے کی ہمت نہ رہی ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن پھرررررررر۔۔۔بھی میں نے آخری دفعہ اپنے کانپتے ہاتھوں سے دانے پر ۔۔دونوں انگلیاں پھیریں اور پھر شدتِ جزبات میں آ کر میں نے اپنی پھدی کے نرم گوشت کو اپنی مُٹھی میں پکڑا ۔۔۔اور اسے بُری طرح مسلنے لگی۔۔۔۔پھدی کا نرم گوشت ۔۔ مسلتے مسلتے ۔۔۔ ایک دم سے میری ٹانگیں کانپنا شروع ہو گئیں ۔۔۔ اور ۔۔پھر اچانک میری پھدی سے پانی کا ایک سیلاب نکلا ۔۔اور میری ٹانگوں کے راستے نیچے کی طرف بہنے لگا ۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ چھوٹ رہی تھی۔۔ خود کو چھوٹتا دیکھ کر ۔۔ مجھ میں مزید ہمت نہ رہی اور میں اپنی پھدی ہاتھ رکھے رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بے دم سی ہو کر پلنگ پر گر گئی اور ۔۔۔ لمبے لمبے سانس لینے لگی۔ میری چوت سے نکلنے ولا گرم پ انی نیچے کی طرف بہتا جا رہا تھا ۔۔۔ کیونکہ بہت عرصے بعد میں نے یہ کام کیا تھا ۔۔ اس لیئے میری چوت ۔۔سے نکلنے ولا پانی کم ہونے کا نام ہی نہ لے رہا تھا ۔۔۔۔پھر ۔لمبے لمبے سانس لیتے ہوئےپتہ نہیں کب میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  5. تراس یا تشنگی قسط 5 پلنگ کی طرف بڑھتے ہوئے اس خبیث لڑکے کی گندی نگا ہیں میرے ننگے جسم پر ہی گڑھی ہوئیں تھیں اور وہ مسلسل مجھے ہی گھورے جا رہا تھا ۔۔۔تب اچانک مجھے اپنے ننگے پن کا احساس ہوا ۔۔۔۔چنانچہ اس لڑکے کے پلنگ تک پہنچے سے پہلے ہی میں نے بڑی پھرتی سے شلوار پہن لی اورقمیض کو نیچے کر لیا ۔۔۔۔( کیونکہ سمیر نے قمیض کو اوپر کے میرے بریسٹ چوسے تھے) اور اس کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔ وہ بڑے ڈرامائی ا نداز میں پلنگ کے قریب آ کر رُکا اور پھر اس نے اپنا ایک پاؤں پلنگ کے اوپر رکھا اور اپنا خنجر لہرانے لگا۔۔۔۔ پھر اس نے میری طرف دیکھا اور بڑی ہی حقارت اور تحقیرآمیز لہجے میں مجھ سے مخاطب ہو کر بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔ گشتی کی بچی ۔کپڑے کیوں پہنے ہیں ؟؟۔ چل انہیں ۔ اتار ۔۔۔۔۔۔ اب تمہیں چودنے کی میری باری ہے ۔ ۔۔۔اس کی بات سُن کر میرا تو دماغ ہی اُلٹ گیا ۔۔۔ اس کے باوجود کہ میں ایک ڈرپوک اور بزدل لڑکی تھی ۔۔۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہ تھا کہ میں کوئی گری پڑی ۔۔۔یا سڑک چھاپ لڑکی ہرگز نہ تھی بلکہ میں تو ایک خوشحال گھرانے کی فرد تھی اور اس کے ساتھ چار بھائیوں کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بہن تھی۔جسے اس قسم کے القابات سننے کی عادت نہ تھی ۔ ۔۔۔ اور خاص کر گالی تو میں نے کبھی اپنے باپ کی بھی نہ سُنی تھی۔۔اور دوسری بات یہ کہ گالی سے زیادہ مجھے اس لڑکے کے تحقیر آمیز لہجے نے گرم کر دیا تھا ۔۔۔ اس نے جس لہجے میں مجھ سے بات کی تھی ۔۔اس چیز نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔۔۔۔۔ ۔ اور میں بھول گئی تھی کہ اس وقت میری پوزیشن بڑی ہی کمزور تھی ۔۔۔۔ پھر میں نے اس کی طرف دیکھا اور بڑے غصے سے بولی۔۔ ۔۔۔ زبان سنبھال کر بات کرو ۔۔۔ میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔۔۔میری بات سُن کر وہ کسی پنجابی فلم کے ویلن کی طرح ہنسا ۔۔ ۔اور دانت پیس کر بولا ۔۔۔ ایسی ویسی لڑکی۔۔۔ مادر چود ۔۔۔تو تو جیسے یہاں ۔۔۔عبادت کرنے کے لیئے آئی تھی ۔۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں نے مدد کے لیئے سمیر کی طرف دیکھا ۔۔۔۔تو وہ اس لڑکے کے ساتھ اشارہ بازی کر رہا تھا ۔۔۔۔ اور لمحے کے ہزارویں حصے میں ۔۔۔۔۔ مجھے ساری بات سمجھ آ گئی ۔۔کہ یہ دونوں آپس میں ملے ہوئے تھے اور اب میرے ساتھ ڈرامہ کر کے یہ لڑکا بھی میری لینے کے چکر میں تھا ۔یہ سب جان کر۔۔۔ میرے اندر شہوت کی جگہ ۔۔ سمیر کے لیئے نفرت کی ایک تیز لہر ابھری ۔۔۔ اور اس سے قبل کہ میں سمیر کی طرف سے دئے۔ گئے اتنے بڑے دھوکے سے پھٹ پڑتی ۔۔۔ میں نے بڑی ہی مشکل سے خود پر قابو پایا ۔۔۔اور زہر کے گھونٹ پی کر چپ رہی ۔۔۔۔اور ان پر کچھ ظا ہر نہ ہونے دیا ۔۔۔اور سر جھکا کر بڑے غصے کے علم میں اپنے ہونٹ کاٹنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ اس دوران مجھے اسی خبیث لڑکے کی آواز سنائی دی وہ سمیر سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ اوے حرامی چل دفعہ ہو جا یہاں سے۔۔۔ اس پر سمیر نے تھوڑا سا احتجاج کیا ۔۔لیکن جب اس لڑکے نے اسے خنجر دکھایا تو سمیر نے کپڑے پہنے اور مجھ سے نظریں چُراتا ہوا ۔۔وہاں سے۔ باہر نکل گیا ۔۔۔۔ جیسے ہی سمیر کمرے سےباہر نکلا ۔۔۔وہ لڑکا میری طرف متوجہ ہوا اور اسی تحقیر آمیز لہجے میں بولا ۔۔۔۔چل رنڈی ۔۔کپڑے اتار ۔۔۔ مجھے چودنا ہے تجھے ۔۔۔ اس کی بات سُن کر میرے دماغ میں گرمی سی بھر گئی ۔۔ لیکن میں نے سوائے ۔۔۔ اس کی طرف مجروح سی نظروں کے دیکھنے کے ۔میں نے اور کچھ نہیں کہا کیونکہ مجھے اپنی پوزیشن کا بخوبی پتہ تھا ۔اور میں نے طے کر لیا تھا کہ میں نے جو بھی کرنا ہے حکمت سے کرنا ہے ۔۔۔۔ویسے بھی میں نے جو کرنا تھا اس کے بارے۔۔۔ میں تھوڑی دیر پہلے سارا پلان تیار کر چکی تھی ۔حیرت کی بات تھی کہ عام حالات میں ، میں ایک بے حد بزدل اور ڈرپوک قسم کی لڑکی تھی ۔۔لیکن سمیر کی بے وفائی اور خاص کر اس خبیث لڑکے کے تحقیر آمیز رویے نے میری عزتِ نفس کو بہت زیادہ مجروح کیا تھا۔۔۔۔ اسی لیے موجودہ صورتِ حال میں میرا سارا۔۔۔ ڈر و خوف دور ہو گیا تھااور اب میرے من میں ڈر اور خوف کی جگہ نفرت نے لے لی تھی ۔۔۔ اورمیں خود بھی اپنے اس رویے پر حیران تھی کہ کیا ۔۔۔یہ میں ہی ہوں ؟ ۔۔ ۔۔ جس کے دل سے نہ صرف یہ کہ سارا ڈر کا فور ہو چکا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔بلکہ اس لڑکے کو سبق سکھانے کے لیئے خود بخود ہی میرے زہن نے ایک پلان بھی تیار کر لیا تھا ۔۔۔اور اب اس پلا ن پر عمل کرنے کی باری تھی۔۔۔۔ پھر پلان کے مطابق میں نے اس کی طرف بڑی ہی مجبور نظروں سے دیکھا ۔اور بولی ۔۔۔ پلیزز مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔۔مجھے اپنی طرف ایسی نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ اور شیر ہو گیا اور اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے خنجر کی نوک میرے منہ طرف بڑھائی اور پھر اس نے اپنے خنجر کی نوک میرے گال کے قریب کی اور ( اپنی طرف سے) بڑے ہی خوفناک لیکن اسی تحقیر آمیز لہجے میں بولا ۔۔۔۔ کپڑے اتارتی ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔تو میں نے دل پر جبر کر کے خوفزدہ ہونے کی ایکٹنک کی اور اس سے بولی۔۔۔۔ کک۔۔۔کک ۔کیا کر رہے ہو؟ اسے تو ہٹاؤ ۔۔۔۔ اور اپنا منہ پیچھے کر لیا ۔۔۔تو وہ حرامی کہنے لگا کپڑے اتارتی ہو کہ میں یہ تمھارے اس خو صورت سے گال ۔۔ کو خنجر کی نوک سے خراب کر دوں ۔۔ اس کی بات سُن کر ایک دفعہ پھر میں نے خوفزدہ ہونے کی ایکٹنک کی اور اس سے بولی۔۔۔ میں ایک کپڑے شرط پر اتاروں گی کہ پہلے تم مجھے اپنا ۔۔وہ۔۔۔دکھاؤ۔۔۔۔ میری بات سُن کر وہ بڑی حقارت سے ہنسا اور اپنے خنجر کو چوم کر بولا ۔۔یہ ہوئی ناں بات ۔۔ پھر اس نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا ۔۔ تم ۔ میرا لن کیوں دیکھنا چاہتی ہو گشتی؟ تو میں نے گشتیوں ہی کی طرح اس کو جواب دیا ۔۔۔ کیا پتہ تمھارے دوست کی طرح تمھارا بھی چھوٹا سا ہو۔۔۔۔اور ہاتھ لگاتے ہی ٹھس ہو جائے ؟۔۔۔میری بات سُن کر وہ میرے جھانسے میں آ گیا اور سینہ پھیلا کر بڑی شیخی سے بولا۔۔ سمیر بہن چود تو پکا مُٹھل ہے ۔۔۔ اس لیئے ہمیشہ ہی وہ جلد فارغ ہو جاتا ہے ۔۔۔ اس سے قبل کہ وہ اپنے جملوں پر غور کرتا ۔۔۔ میں نے جلدی سے کہا چل پھر دکھا اپنا۔۔۔۔۔ تو وہ میری طرف دیکھ کر بڑے ہی فاتحانہ ۔۔۔ لیکن تحقیر آمیز لہجے میں بولا۔۔۔رنڈی میں ۔ابھی دکھاتا ہوں کہ اصلی مرد کا لن کیسا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اس نے اپنا خنجر ایک طرف رکھا اور اپنی قمیض کو اوپر کرے اپنی شلوار کا آزار بند کھولنے لگا۔۔۔۔اور پھر اس نے شلوار اتار کر پرے پھینک دی اور اپنا کالا سیاہ مرجھول سا لن جس کے آس پاس کالے رنگ کے بال ہی بال تھے پکڑ کر میری طرف دیکھنے لگا۔اور اسے ہلاتے ہوئے بولا ۔۔ابھی میرا شیر بیٹھا ہے نا اس لیئے تم کو چھوٹا لگ رہا ہو گا ۔۔۔ جب یہ کھڑا ہو گا تو دیکھنا ۔۔۔ اس کے مسلسل ہلانے سے اب اس کا لن نیم کھڑا ہوگیا تھا ۔۔ چنانچہ اب وہ اپنا نیم کھڑا لن مجھے دکھاتے ہوئے بولا ۔۔ ۔۔۔ کیسا لگا۔۔ میرا لن۔۔۔ اس کے لن کی حالت دیکھ کر مجھے تو ابکائی آ رہی تھی لیکن میں نے اس کو رجھانے کی خاطر کہا ۔۔۔ واہ تمھارا ۔۔۔ ناگ تو بڑا زبردست ہے ۔۔میری بات سن کر وہ بڑا خوش ہوا اور فخر سے کہنے لگا۔۔۔ ۔ ابھی تو ٹھیک سے کھڑا نہیں ہوا ۔۔۔ جب یہ پوری طرح سے کھڑا ہو جائے گا نا تو پھر تم اس کی پھنکار دیکھنا اور پھر بولا ۔۔۔ گشتی اب تُو ۔ میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ہلا ۔۔۔۔ اس کی بات سُن کر مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن میں اسے اندر ہی اندر پی گئی اور۔۔پھر اس کا لن ہاتھ میں پکڑنے کے لیئے میں پلنگ سے کھسک کر اس کی طرف آئی اور اسی د وران ایک نظر اپنے ساز و سامان پر ڈالی ۔۔۔۔ میری چادر سامنے تپائی پر پڑی تھی۔۔۔ پھر سکول بیگ کے بارے میں سوچا ۔۔۔تو ۔یاد آیا وہ تو ڈرائینگ روم میں ہی رہ گیا تھا ۔۔ ۔۔۔ پھر میں نے اپنی جوتی کی طرف غور کیا۔۔تو وہ مجھے پلنگ کے پاس ہی پڑی ہوئی ملی۔۔ ۔۔۔اس طرف سے فارغ ہو کر میں پلنگ سے اتری اور ٹانگیں لمکا کر بیٹھ گئی اتنے میں وہ بھی آگے بڑھا اور میرے منہ کے سامنے اپنا لن کر دیا ۔۔۔۔ اس کے لن کے پاس سے ایک عجیب گندی سی بُو آ رہی تھی ۔جسے میں نے بڑی مشکل سے برداشت کیا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کا لن پکڑ لیا ۔۔۔اور اپنے دائیں ہاتھ کے انگھوٹھے سے اس کے لن کے ہیڈ پر مساج کرنے لگی۔۔۔وہ کچھ دیر تو چوکنا ہو کر میری ہر ہر حرکت کو نوٹ کرتا رہا ۔۔۔ لیکن جب میں نے بڑی شرافت سے اس کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا۔۔ اور بڑے پیار سے اس کےہیڈ پر مساج کرنے لگی ۔۔۔تو۔۔۔تو ۔۔ کچھ دیرتک وہ میری طرف دیکھتا رہا ۔۔لیکن پھر اپنے لن پر میرے نرم ہاتھوں کےاور خاص کر اپنے ہیڈ پر ۔مساج سے وہ گرم ہوتا گیا اور اب اس کا لن بھی پوری طرح کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ اور اب میں نے اس کے لن کو پکڑ کر اس کو آگے پیچھے کرنے لگی تھی ۔۔۔ پھر وہ مست ہو گیا اور مستی سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔اسی دوران میں نے غیر محسوس طریقےسے اپنے پاؤں بڑھا کر ان میں اپنی جوتی پہن لی تھی ۔۔ ۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے لن کو بھی بڑے ہی پیار سے سہلاتی جا رہی تھی ۔۔۔اب وہ پوری طرح مست ہو گیا تھا ۔۔اور میرا خیال ہے کہ وہ اب وہ میری طرف سے پوری طرح مطمئن بھی ہو گیا تھا ۔۔۔۔ کیونکہ کچھ ہی دیر کے بعد اس نے اپنے بدن کو ڈھیلا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ اور میرے مساج کو انجوائے کر رہا تھا ۔۔پھر میں نے نظر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو وہ میری ہی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔ مجھے اپنی طرف دیکھتے ہوئے وہ شہوت زدہ لہجے میں بولا۔۔۔تھوڑا منہ میں بھی ڈال نا ۔گشتی۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے جواب دیا کہ پہلے مجھے ہاتھ میں پکڑنے کا تو مزہ لینے دو نا ۔۔۔ اور پھر اس کے ساتھ ہی میں نے اپنی زبان باہر نکالی اور اس کے ہیڈ پر پھیرنے لگی۔۔۔۔ انے لن کے ہیڈ پر میری زبان کا لمس پاتے ہی اس نے ایک گہری سانس لی اور بولا۔۔۔ اُف۔ف۔ف۔ف۔ اور پھر میری زبان کے مزے سے اس کی آنکھیں بند ہوتی چلی گئیں ۔۔۔۔ جب وہ پوری طرح مست ہو گیا ۔۔۔ تو ا چانک میں نےاپنے دائیں سے بائیں ہاتھ میں اس کا لن پکڑلیا اور ۔۔۔دایاں ہاتھ ہاتھ اوپر کیا اور پھر پوری قوت سے اس کے بالز (ٹٹوں ) پر مکا دے مارا۔۔۔۔۔۔۔ جونہی میرا مکا اس کے بالز (ٹٹوں ) پر پڑا ۔۔۔ اس خبیث کے منہ سے ایک خوف ناک چنگھاڑ برآمد ہوئی اور اس کے ساتھ ہی ا س نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے بالز پر رکھے اور ۔۔۔اور اوع۔ع۔ع۔ع۔ کرتے ہوئے نیچے کی طرف جھکنے لگا۔پھر میں نے غصے کی حالت میں اپنی جوتی کی نوک سے اس کے ہاتھوں پر ایک دو تین اور زور دار ککس ماریں جنہیں کھا کر ایک بار پھر اس کے حلق سے ایک غیر انسانی آواز برآمد ہوئی اور وہ ۔۔۔اوع ع۔ع۔ کرتا ہوا ۔۔۔ نیچے فرش پر گر گیا اور لوٹنیاں لینے لگا۔۔۔۔۔جیسے ہی وہ خبیث فرش پر گرا میں نے جلدی سے سائیڈ پر رکھا اس کا خنجر اُٹھایا اور سامنے پڑی تپائی سے اپنی چادرپکڑی اور بھاگ کر سیدھی ڈرائینگ روم میں جا پہنچی جہاں پر میں نے اچھی طرح سے چادر اوڑھی اور اور اپنا بیگ اٹھا کر تقریباً دوڑتی ہوئی مین گیٹ کی طرف بڑھی۔۔۔حیرت ہے کہ مجھے وہاں کہیں بھی ۔۔۔سمیر نظر نہ آیا۔۔گھر کا مین گیٹ کھلا ۔ہوا تھا ۔۔شاید سمیر باہر گیا تھا ۔۔ خیر میں نے تیزی کے ساتھ گیٹ کھولا اور ۔۔۔ باہر گلی میں آکر ۔۔۔تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی مین روڈ کی طرف چلی گئی۔۔۔ مین روڈ پر چلتے ہوئے ابھی مجھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ مجھے اپنی طرف آتا ہوا ایک رکشہ نظر آ گیا ۔۔۔ جسے میں نے ہاتھ دے کر روک لیا اور اس کو سکول کا اڈریس بتا کر اس میں بیٹھ گئی ۔۔ چار منٹ بعد ہی رکشہ میرے سکول کے پاس رُک گیا اور میں نے رکشے والے کو پیسے دیئے اور ایک جگہ کھڑی ہو کر سوچنے لگی کہ اب کیا کروں ؟؟؟۔۔۔ کیونکہ اگر اسی وقت میں گھر جاتی تو مجھ سے سو سوال پوچھے جانے تھے ۔۔۔ اس لیئے میں وہیں بیٹھی رہی ۔۔۔ پر اندر سے مجھے شدید خوف کھائے جا رہا تھا کہ کہیں وہ لوگ میرا پیچھا کرتے ہوئے یہاں تک نہ آ جائیں ۔۔ابھی میں اسی شش و پنج میں تھی کہ سکول کی طرف سے مجھے آدھی چھوٹی ہونے کی گھنٹی کی آواز سنائی دی ۔۔۔ اور پھر ایک خیال کے آتے ہی میں اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئی اور سنسان گلی میں داخل ہو کر میں نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔تو گلی خالی تھی چنانچہ میں جلدی جلدی اپنے جسم سے وہی چادر اتاری اور اسے بیگ میں رکھ دیا ۔۔۔اور سکول کے حلیئے میں آ گئی اور پھر چلتی ہوئی اپنے گھر میں داخل ہو گئی ۔۔۔ مجھے یوں گھر داخل ہوتے دیکھ کر اماں بڑی حیران ہوئی اور میری شکل دیکھ کر بولی ۔۔ کیا ہوا بیٹی ۔۔؟ تو میں نے جواب دیا کہ میرے سر میں شدید درد تھا اس لیئے میں ٹیسٹ دے کر چھٹی لے لی ہے۔۔ ۔۔۔ میری حالت دیکھ کر اماں بولی ۔۔۔۔ ٹیسٹ کو دفعہ کرنا تھا ۔۔ تمھاری طبیعت مجھے صبع سے ہی ٹھیک نہ لگ رہی تھی ۔۔۔ اب تم اپنے کمرے میں جاؤ میں ڈسپرین لے کر آتی ہوں ۔۔ میں سیدھا اپنے کمرے گئی اور بنا لباس تبدیل کیئے بستر پر دراز ہو گئی اور آج کے حادثے کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔ ابھی میں بیڈ پر جا کر لیٹی ہی تھی کہ اماں ڈسپرین لے کر آ گئی ۔۔۔ میں نے بہتیرا منع کیا لیکن انہوں نے مجھے زبردستی ڈسپرین کے ساتھ پینا ڈول بھی پلا دی ۔۔ اور پھر مجھے آرام کا کہہ کر چلی گئیں ۔۔ جیسے ہی اماں کمرے سے نکلیں ۔۔پتہ نہیں کیوں مجھے رونا آ گیا اور میں نے بڑی کوشش کی کہ میں نہ روؤں پر ۔۔۔۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی میں کافی دیر تک سرہانے میں منہ دیئے روتی رہی ۔۔۔اور پھر پتہ نہیں کس وقت میری آنکھ لگ۔۔ گئی ۔۔۔شام کو میری آنکھ کھلی تو اس وقت میں خود کو کافی حد تک پہتر محسوس کر رہی تھی ۔۔۔ پھر مجھے واش روم کی حاجت ہوئی ا ور ۔۔واش روم میں جا کر جیسے ہی میں نے اپنی شلوار اتاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دم سے مجھے ایک ایک کر کے صبع کے سارے سین یاد آ گئے ۔۔۔۔۔ اور میں نے ان پر غور کرنا شروع کر دیا۔۔۔ اس حرامی کو تو میں نے ایسا سبق سکھا یا تھا کہ مجھے امید تھی کہ آئیندہ وہ کسی لڑکی کی عزتِ نفس کو مجروح نہیں کرے گا۔۔۔ اس کے بعد میں نے سمیر کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔۔شکل سے وہ کس قدر معصوم اور بھولا بھالا لگتا تھا اور کردار اس کا کس گھناؤنا تھا ۔۔۔۔ ۔۔پھر میں نے سوچا کہ اس نے ۔۔۔ کس قدر مکاری سے اس نے مجھے اپنے شیشے میں اتارا ۔۔۔ تھا ۔۔یہاں میں اپنے پڑھنے والی کم سن لڑکیوں کو جو کہ سکو ل کالج جاتی ہیں ۔۔۔ ہاتھ جوڑ کا ایک نصیحت کروں گی کہ وہ کبھی بھی کسی اجنبی لڑکے کے ساتھ ڈیٹ پر نہ جائیں ۔۔۔۔۔ کیونکہ ڈیٹ کے ٹائم بظاہر تو ایک ہی لڑکا ہوتا ہے لیکن فکنک ٹائم پتہ نہیں کیسے ایک سے دو اور بعض کیسوں میں تین بھی ہو جاتے ہیں اور ۔۔ ضروری نہیں کہ سب کا معاملہ میرے جیسا ہی ہو ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ پھر اس کے بعد میں نے خود سے وعدہ کیا کہ چاہے کچھ بھی ہو ۔۔۔۔آج کے بعد میں کسی بھی اجنبی لڑکے کو نہ تو لفٹ دوں گی اور نہ ہی اس کے ساتھ کہیں جاؤں گی۔۔۔۔ اور یقین کریں اس کے بعد بھی بہت سے لڑکوں نے مجھ پر بڑی بڑی ٹرائیاں کیں لیکن میں نے کسی کو بھی لفٹ نہیں دی تھی ۔۔۔ اگلے دو تین دن تک میں بیماری کا بہانہ کر کے سکول نہیں گئی اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اندر سے میں کافی ڈری ہوئی تھی۔۔۔۔ خیر ۔۔۔ تین دن کے بعد میں سکول گئی اور ڈرتے ۔۔۔ ڈرتے ہوئے واپس آئی۔۔لیکن کچھ نہ ہوا ۔۔۔ مجھے سمیر کہیں بھی دکھائی نہ دیا۔۔۔۔۔ اور میں مطمئن ہو گئی۔۔۔ پھر اگلے کچھ دنوں تک ایسا ہی چلتا رہا ۔۔۔ یہ اس واقعہ سے کوئی دس پندرہ دن بعد کا قصہ ہے کہ ۔میری طبیعت نارمل ہو گئی تھی اور آہستہ آہستہ وہ خوفناک واقعہ میرے زہن سے اترتا جا رہا تھا۔۔۔ پھر ایک دن کی بات ہے کہ نسرین مجھے ٹاٹا کر کے اپنے گھر داخل ہوئی اور میں دھیرے دھیرے اپنےگھر کی طرف چلنے لگی ۔۔۔ ابھی میں نسرین کے گھر سے تھوڑی ہی دور گئی ہوں گی کہ اچانک۔۔۔ پتہ نہیں کہاں سے سمیر نازل ہو گیا۔۔اسے یوں اپنے پاس دیکھ کر میں نہ صرف میں یہ کہ بھونچکا رہ گئی بلکہ اندر سے سخت ڈر بھی گئی تھی ۔۔لیکن میرے خوف سے بے خبر سمیر میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اسی ٹون میں بولا ہیلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو۔۔ کیسی ہو ہما ۔؟؟۔۔ جب میں نے دیکھا کہ وہ میرے اندر کے خوف سے بے خبر ہے تو میں نے ۔۔۔۔ بڑے غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔اور بولی کیوں تمھیں اس سے کیا ؟؟؟؟؟؟؟ مجھے غصے میں دیکھ کر اس نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اور کہنے لگا۔۔۔ آئی ایم سوری یار۔تم جو سزا دو مجھے منظور ہے پر ۔۔۔ پلیز میری بات تو سنو۔۔۔پھر میرا جواب سنے بغیر ہی وہ کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ وہ وہ۔۔ اس دن صورتِ حال ہی کچھ ایسی بن گئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے بعد اس نے گھڑ کے ایک ایسی جھوٹی کہانی سنائی کہ اگر میں اپنی آنکھوں سے اسے اس لڑکے کے ساتھ ۔۔۔اشارہ بازی کرتے ہوئے نہ دیکھ لیتی تو ۔۔۔۔ فوراً ہی میں نے اس کی گھڑی ہوئی کہانی پر بھروسہ کر لینا تھا ۔۔۔ ۔۔ وہ میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اپنی بکواس کیے جا رہا تھا ۔۔۔لیکن میں چُپ تھی ۔۔۔۔۔اسی اثنا میں ہماری گلی آ گئی ۔۔ اور وہ مجھے ایک بار پھر سوری کہتا ہوا ۔۔۔ چلا گیا۔۔
  6. تراس یا تشنگی قسط4 جیسے ہی ابا کی گاڑی میری نظروں سے اوجھل ہوئی تو خود بخود میری نگاہ اس طرف اُٹھ گئی کہ جہاں میں نے سمیر کو کھڑا ہونے کے لیئے کہا تھا دیکھا تو عین اسی جگہ سمیر رکشہ لیئے کھڑا تھا ۔ جیسے ہی ہماری آنکھیں چار ہوئیں اس نے رکشے کی طرف اشارہ کیا اور ۔خود رکشہ میں بیٹھ گیا ۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔اور چلتے ہوئے رکشہ کے قریب پہنچی اور پھر ایک دم سے رکشے میں بیٹھ گئی ۔۔۔۔ میرے بیٹھتے ہی رکشہ چل پڑا اور کوئی ۔۔۔چار پانچ منٹ کی مسافت کے بعد وہ رکشہ ایک زیرِ تعمیر مکان کے پاس جا کر رُک گیا سمیر نے مجھے نیچے اترنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔چنانچہ رکشہ سے اترنے سے پہلے میں نے اپنے سکول بیگ میں ہاتھ ڈالا اور اس میں سے ایک بڑی سی چادر نکا لی اور رکشے سے نکلنے سےپہلے پہلے میں نے اس چادر سے خود کو اچھی طرح نہ صرف ڈھانپ لیا بلکہ اپنے چہرے کو بھی چھپا لیاتھا ۔یہ سب کرنے کے بعد میں رکشہ سے باہر آ گئی ۔۔ اور سمیر کے پیچھے پیچھے چل پڑی ۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔آنے والے واقعات کا تصور کرتے ہوئے میرا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔اور نیچے میری دو ٹانگوں کے سنگم میں ہل چل مچی ہوئی تھی ۔اور اس سنگم سے رس بھی نکل رہا تھا ۔اس کےساتھ ساتھ مجھ پر بہت زیادہ گھبراہٹ بھی چھائی ہوئی تھی ۔۔ دو تین گلیاں گھومنے بعد کر سمیر تھوڑا رکا اور جب میں اس کے قریب پہنچی تو وہ کہنے لگا ۔۔وہ سامنے سبز گیٹ والا گھر ہے میں جا کر تالا کھولتا ہوں تم بے دھڑک اندر آ جانا ۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں نے ہاں میں سر ہلایا اور وہ میرے آگے تیز تیز چلتا ہوا سبز گیٹ والے مکان کے قریب پہنچ کر اس کا تالا کھولنے لگا ۔۔۔۔۔ سمیر گیٹ کا لاک کھول کر گھر میں داخل ہو گیا جبکہ اس وقت میں اس سے تھوڑے فاصلے پر تھی اور دھیرے دھیرے چلتی ہوئی آ رہی تھی۔۔میرے اندر ایک طوفان مچا ہو ا تھا اور ۔۔میرے جزبات اتھل پتھل ہو رہے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ میرا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔۔۔ ڈر بھی لگ رہا تھا اور ۔۔۔ سمیر سے ملنا کا شوق بھی تھا۔۔۔ میرا ایک دل کہہ رہا تھا کہ یہ میں کیا کر رہی ہوں ؟ اگر کوئی مسلہ بن گیا تو گھر والوں کو کیا منہ دکھاؤں گی؟ لیکن ان سوچوں کے ساتھ ساتھ میرے اندر کی تراس۔۔ میری پیاس ۔۔میری دو ٹانگوں کے بیچ میں لگی ہوئی آگ بار بار مجھے اندر جانے ۔۔۔۔ اور سمیر سے ملنے کو کہہ رہی تھی ۔۔۔ شہوت کے مارے میرا برا حال تھا ۔۔۔ میری چوت سمیر کالن لینے سے پہلے ہی پانی پانی ہو رہی تھی۔دوسری طرف میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا تھا اور میں ۔۔۔۔اور اس طرح میں اپنے آپ سےلڑتی ہوئی سبز گیٹ والے گھر کے پاس پہنچ کر رُک گئی ۔۔۔ اور کن اکھیوں سے آس پاس کا جائزہ لیا ۔۔گلی میں دور دور تک کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ اور میری اندر کی تراس ۔۔۔ میری شہوت میری پیاس ۔۔۔ مجھے اندر داخل ۔ ہونے کا کہہ رہیں تھیں۔۔اور میں اسی شش و پنج میں تھی کہ ۔ ۔۔ اندر سے مجھے سمیر کی آواز سنائی دی ۔وہ کہہ رہا تھا ۔۔ جلدی سے اندر آ جاؤ۔۔۔ اور میں کچھ ہچکچاہٹ کے بعد گیٹ کے اندر داخل ہو گئی۔۔۔ جیسے ہی میں گیٹ کے اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔ سمیر نے آگے بڑھ کر گیٹ کو بند کر لیا اور لاک کرنے کے بعد بولا ۔۔۔ تھینک یو ڈارلنگ اور مجھے اپنے گلے سے لگا لیا ۔۔۔۔ اس وقت میرا وقت شہوت کے مارے برا حال تھا اور میں ہولے ہولے کانپ رہی تھی جبکہ سمیر یہ سمجھا کہ یہ سب ڈر کے مارے ہو رہا ہے۔۔ اس لیئے وہ میرے گال چوم کر بولا ۔۔ڈرو نہیں میری جان ۔۔۔ میں ہوں نا ۔۔۔ کچھ بیھ نہیں ہو گا ۔۔ بس ہم تھوڑا سا پیار کریں گے ۔تھوڑی باتیں کریں گے ۔۔اور ایک بار پھر سے میرا گالوں کو چوم لیا ۔۔ سمیر کی باتیں سُن کر اور اس کے ساتھ گلے ملتے ہی میری ساری سوچیں دور ہو گئیں ۔۔ لیکن پتہ نہیں کیوں ۔۔۔ ایک ا نجانہ سا خوف ۔۔۔ ابھی تک میرے اندر کُنڈلی مارے بیٹاو تھا ۔۔۔ ادھر سمیر نے مجھے تھوڑی دیر کے لیئے گلے سے لگایا اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کر بولا ۔۔۔آؤ چلیں ۔۔۔ اور مجھے لیکر ڈرائینگ روم میں آ گیا ۔ اس ڈرائینگ روم میں وال ٹو وال قالین تھا اور ۔وہ۔ بڑی اچھی طرح سے سجا ہوا تھا ۔۔۔ سمیر نے مجھے ایک طرف صوفے پر بیٹھنے کو کہا اور خود میرے سامنے کھڑا ہو کر بولا ۔۔۔ کیا پیو گی؟ تو میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ کک کچھ نہیں سمیر ۔۔اور پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں مجھے بڑا ڈر لگ رہا ہے۔۔۔تو وہ کہنے لگا ۔میری جان ڈر تم کو اس لیئے لگ رہا ہے کہ تم کو ابھی تک اس باڑھ والے گھر کا واقعہ نہیں بھولا پھر وہ گھٹنوں کے بل میرے سامنے بیٹھ گیا اور بولا ۔۔بے فکر ہو جاؤ میری جان میرے ہوتے ہوئے تم کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ اور پھروہ اٹھا اور یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میں تمھارے لیئے کچھ ٹھنڈا لاتا ہوں ۔۔۔ اور کچھ ہی دیر بعد وہ کوک کی دو بوتلیں لے آیا ۔۔۔۔ ہم نے کوک پی اور وہ مجھ سے کہنا لگا آؤ میں تم کو یہ گھر دکھاتا ہوں۔۔۔۔ اس کی بات سُن رک میں اس کے ساتھ چل پڑی ۔۔ گھر کی گیلری سے ہوتے ہوئے وہ مجھے لیکر ایک کمرے میں چلا گیا اور کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دروازہ بند کر دیا اور بولا ۔۔۔کیا خیال ہے پہلے تھوڑی گپ شپ نہ ہو جائے ؟؟؟؟؟ اور پھر اس نے مجھے اپنے قریب کیا ۔۔۔ اور اپنا جسم میرے جسم کے ساتھ لگا لیا ۔۔۔۔ اور میرے کان میں بولا ۔۔۔۔ ہما تم بہت پیاری ہو ۔۔۔آئی لو یو۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے میری گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور میری گردن کو چومنے لگا۔۔۔ جیسے ہی اس کے ہونٹوں نے میری گردن کی سکن کو چھوا ۔۔۔ میرے سارے جسم میں ایک کرنٹ سی دوڑ گئی ۔۔اور مجھ پر مستی چڑھنے لگی۔۔ میری گردن چومتے چومتے اب اس کے ہونٹ میرے دائیں کان کی لو پر آ گئے تھے اس وقت میں نے اپنے کانوں میں ہرے رنگ کے ٹاپس پہنے ہوئے تھے ۔۔۔سمیر نے اپنے منہ سے زبان نکالی اور وہ زبان میرے ٹاپس پر پھیرنے لگا۔۔پھر وہاں سے ہوتی ہوئی اس کی یہ زبان میرے کان کے پیچھے چلی گئی اور اس نے میرے کان کو چاٹنا شروع کر دیا ۔مجھے اتنا مزہ آیا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی میرے منہ سے ایک لزت بھری سسکی نکل گئی ۔۔آہ۔ہ۔ہ ۔۔ جسے سُن کر سمیر چونک پڑا اور میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔ مزہ آ رہا ہے نا ؟ تو میں نےاس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔اور چپ کھڑی رہی ۔۔ میرا جواب نہ پا کر اس نے اپنی زبان کو دوبارہ وہاں رکھا اور میرے کان پر زبان پھیرتے پھیرتے ۔۔ میرے گالوں پرلے آیا ۔۔۔اور میرے گالوں کو چومنے لگا۔۔۔ سمیر کے نرم ہونٹ جیسے جیسے میرے سُرخ گالوں کو چھو رہے تھے مجھ میں ایک عجیب سی مستی جسے آپ شہوت بھی کہہ سکتے ہو ۔۔چڑھ رہی تھی ۔۔۔ میرے اندر سرائیت کر رہی تھی ۔۔۔اور اس شہوت کی وجہ سے آہستہ آہستہ میرا بدن تپنے لگا تھا ۔۔میری چوت مزید ۔۔گرم ہونے لگی تھی ۔۔۔اور سمیر کے لیئے میری پیاس ۔۔۔میری تراس ۔۔اور۔۔۔۔ بڑھنے لگی تھی۔۔۔۔ گالوں کو چومتے چومتے سمیر اب میرے ہونٹوں کی طرف آ رہا تھا ۔۔۔۔اور جیسے ہی سمیر کے ہونٹ میرے ہونٹوں کے قریب پہنچے ۔۔ میں نے ایک دم اپنا منہ پیچھے کر لیا ۔۔۔۔۔ سمیر نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور ۔۔۔۔ پھر اسے کچھ یاد آ گیا اور بولا۔۔۔۔ ہما ۔یقین کرو تمھارے ملنے کی وجہ سے میں نے کل سے سگریٹ نہیں پیا ۔۔ بلکل ماؤتھ واش بھی کر کے آیا ہوں تاکہ تم کو بُو نہ آئے ۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ میں خوشبودار پان ۔۔ببل اور جانے کیا کیا کھا کے آیا ہوں ۔ اس لیئے ۔ آج آپ کو میرے منہ سے سگریٹ کی بو نہیں آئے گی۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہونٹ مر۔ے ہونٹوں پر رکھ د یئے اور ۔۔ اس کے ہونٹوں کا میرے ہونٹوں پر رکھنے کی دیر تھی کہ میرے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑ گیا۔اور میں اس کے اور قریب ہو گئی ۔ پھر اس نے میرا ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لیا اور اسے چوسنے لگا۔۔ واقعہ ہی سمیر کے منہ سے سگریٹ کی بو نہ آ رہی تھی ۔۔ اس لیئے میں اس کا یہ کس انجوائے کرنے لگی ادھر وہ فُل مستی سے میرے ہونٹوں کو چوسے جا رہا تھا ۔۔ اُف ف ف فف ف۔۔ مجھے بڑا مزہ آ رہا تھا اور میرا دل کر رہا تھا کہ سمیر ایسے ہی میرے ہونٹوں کو چوستا رہے۔۔۔کچھ دیر ہونٹوں کو چوسنے کے بعد ۔۔۔۔ سمیر نے اپنی زبان کو میرے دانتوں پر پھیرا اور اشارے سے مجھے اپنا منہ کھولنے کو کہا۔۔۔۔ اور میں نے جیسے ہی اپنا منہ کھولا اس نے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی ۔۔۔اور پھر میری زبان سے اپنی زبان کو ٹکرانے لگا۔۔۔۔۔ اُف ف اس کے اس زبان کے بوسہ نے میری روح تک کو ہلا دیا اور میں مزے کے سرشار ہونے لگی ۔۔۔ویسے بھی یہ میرے زندگی کا پہلا بوسہ تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے میری زبان کی گرمی اور میرے اندر کا سارا نشہ سمیر کے منہ میں منتقل ہو رہا تھا ۔۔ میری زبان کو چوسنے سے سمیر کو بھی نشہ سا ہو گیا تھا۔۔۔ کیونکہ ۔۔اچانک میں نے اپنی دو رانوں کے بیچ میں سمیر اکا اکڑا ہوا لن محسوس کر لیا تھا ۔۔۔۔ اور میری دو رانوں کے بیچ سمیر کا لن بڑا مست ہو رہا تھا ۔۔۔ اور جیسے جیسے سمیر میری زبان کو چوستا جا رہا تھا ویسے ویسے میں اپنی پھدی کو سمیر کے لن کے قریب کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ اور اس کوشش میں کچھ حد تک کامیاب بھی ہو رہی تھی کہ میری بار بار کی کوششوں کی وجہ سے سمیرا کا لن اب میری پھدی کی دیوار کے ساتھ چپکا ہوا تھا ۔۔ اور میں نیچے سے اپنی پھدی کو اس کے ساتھ رگڑنے کی کوشش کر رہی تھی اور سمیر ہر چیز سے بے یناز میری زبان کو چوسے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔ کافی دیر تک سمیر میری زبان کو چوستا رہا پھر اس نے خود ہی میرے منہ سے اپنی زبان کو باہر نکالا اور میری طرف دیکھ کر بولا۔۔۔ کسنگ کا مزہ آیا ؟ تو میں نے کہا ۔۔۔ مت پوچھ میری جان ۔۔۔۔ تمھارے بوسے نے تو میری جان ہی نکال دی تھی۔۔میری بات سُن کر وہ بولا دیکھتی جاؤ میری جان ۔۔ابھی تو میں نے صرف تمھاری زبان ہی چوسی ہے ۔۔۔ ابھی تو میں نے تمھارے جسم کے انگ انگ کو چومنا ہے اور پھر اس نے میری قمیض کو اوپر کیا اور میرے بریسٹ ننگے کر کے بڑے غور سے ان کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ہما جی دیکھیں آپ کے نپل بڑے اکڑے ہوئے ہیں اور پھر اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں میرے دودھ پکڑ لیئے اور انہیں ہولے ہولے دبانے لگا۔۔۔اور بولا ۔۔ہما جی آپ کے ممے تو بڑے سخت ہیں ۔۔ جیسے جیسے سمیر میرے سخت ممے دباتا جاتا میری چوت سے خود بخود پانی نکلتا جاتا تھا ۔۔۔۔سمیر کے یوں میرے ممے دبانے سے ۔۔۔ میری حالت غیر ہونے لگی ۔۔۔۔ لیکن سمیر ان باتوں سے بے نیاز میرے سخت پتھر ..پستان۔۔ دبائے جا رہا تھا ۔۔ پھر کچھ دیر بعد وہ اپنا سر میرے مموں کی طرف لے گیا اور میرے دائیں نپلز کو اپنے منہ میں لیکر چوسے لگا جبکہ دائیں نپل کو اس نے اپنے دو انگلیوں سے پکڑا اور ان کو مسلنے لگا ۔۔۔۔۔ اس کے دودھ پینے کا اندناز اتنا دلکش تھا کہ بے اخیتار میں نے اپنا وہ دودھ کا برتن اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور اپنا اکڑا ہوا نپل سمیر کے منہ میں دے دیا ۔۔۔۔۔اور۔نشلیے لہجے میں بولی۔۔۔ ۔۔ میرے بریسٹ چوسوووووو۔۔۔۔ ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر سمیر اور بھی مست ہو گیا اور مزید جوش سے میرے مموں کو چوسنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ تک باری باری میرے دونوں بریسٹ کو چوستا رہا ۔اور میں مزے لزت اور ۔۔۔۔ مستی میں آ کر کراہتی رہی ۔۔اور میری لزت بھری کراہیں ۔۔ سُن سُن کر ۔۔۔وہ پاگل ہوا جا رہا تھا ۔۔۔ میرے ممے چوستے چوستے ۔۔۔اس نے مستی میں آ کر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے پلنگ کی طرف لے آیا اور مجھے بستر پر لٹا کر خود میرے اوپر چڑھ گیا۔۔۔۔اور میری دونوں ٹانگیں کھول کر میری پھدی کے لبوں پر اپنا لن فٹ کیا ۔۔۔۔۔ اور جیسے ہی اس کا لن میری پھدی کے لبوں کی عین درمیان سیٹ ہوا ۔۔میں نیچے سے اچھلی اور اس کے لن کو اپنی چوت میں لینے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔یہ دیکھ کر سمیر نے مجھے مموں سے پکڑا اور تیز تیز گھسے مارنے لگا ۔۔۔۔۔۔پھر کچھ دیر بعد اس نے ۔۔ میرےمموے چھوڑے اور میرے منہ پر جھک گیا اور ایک بار پھر مجھ سے کسنگ کرنے لگا ۔۔۔ ادھر شہوت سے میرا برا حال ہو رہا تھا اور میں چاہ رہی تھی کہ وہ اپنا اکڑا ہوا لن میری چوت میں داخل کر دے ۔۔۔ اس لیئے میں نے کچھ دیر تک اسے کسنگ کر نے دی اور صبرسے کام لیا لیکن جب میرا صبر جواب دے گیا تو ۔۔۔ میں نے سمیر سے کہا ۔۔۔ اب بس کرو نا سمیر جان۔۔۔ میرے لہجے کی گرمی سے وہ سمجھ گیا کہ میں کیا چاہتی ہوں ۔۔۔ اس لیئے وہ فوراً مجھ سے اُٹھ گیا اور پھر بستر پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور بولا ۔۔۔ہاں تو ہما جی آپ کیا کہہ رہیں تھیں؟ شرم کے مارے میرا منہ لال ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن میرے نیچے آگ لگی ہوئی تھی اور ۔اس کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ میری پیاس ۔۔۔ سمیر کے لن کے لیئے میری تراس ۔۔۔ دم بدم بڑھتی جا رہی تھی اور میں چاہ رہی تھی کہ سمیر فوراً سے پہلے اپنا اکڑا ہوا ۔۔۔سارا لن ۔۔۔۔جڑ تک میری چوت میں دے دے ۔۔۔۔۔۔۔لیکن شرم کے مارے میں چُپ رہی تو وہ میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔۔ بولو نہ میری جان ۔۔۔ اب میں کیا کروں؟ تو میں نے اٹھلا کر کہا ۔۔۔ جو کرنا ہے جلدی کرو مجھے گھر بھی جانا ہے ۔ ۔ میری بات سُن کر وہ میری دو ٹانگوں کے بیچ والے حصے کے قریب ہو گیا اور میری پھدی پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔۔۔ اُف۔۔۔۔ ہما جی آپ کی تو یہ بہت گرم ہے۔۔ اس کے بعد وہ اپنا ہاتھ میری الاسٹک والی شلوار کے اندر لے گیا اور ۔۔۔ شلوار کے اندر سے ہی میری پھدی پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔پھر اس نے چوت پر ہاتھ پھیرنا بند کیا اور اپنی ایک نگلی کو میری چوت کی لکیر پھر پھیرنا شروع کر دیا ۔۔میری چوت کی نمی سے اس کی انگلی بھر گئی تو اس نے اپنا ہاتھ میری شلوار سے باہر نکالا اور اپنی انگلی میری آنکھوں کے آگے نچا کر بولا۔۔۔ ہوں ں ں ۔۔ہما جی ۔۔۔۔۔ آپ تو کافی گیلی ہو رہیں ہیں ۔۔کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔ اور ۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔اپنے کو لہوں کو تھوڑا سا اوپر کریں اور میں نے ۔۔اس کی بات سمجھ کر ۔ جیسے ہی اپنے ہپس کو بستر سے اوپر اُٹھایا ۔۔۔۔ سمیر نے ہاتھ بڑھا کر میری شلوار اتار دی۔۔۔۔ اور۔پھر۔۔ جیسے ہی اس کی نظریں میری ننگی پھدی پر پڑیں ۔۔۔۔ اس کا رنگ لال ہو گیا ۔۔۔۔ اور وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ہم۔م م م م م۔ہما جی آپ کی چوت۔۔۔ میرا مطلب ہے ۔۔۔آپ کی۔۔۔۔ بڑی شاندار ہے ۔۔۔ پھر اس کی نظر میری چوت کے تھوڑا نیچے کی طرف پڑی تو وہ بولا ۔۔۔ اوہ ۔۔اوہ۔۔۔ ہما۔۔ جی آپ کی چو۔۔ت۔۔۔ ت سے ۔ ۔۔۔کتنا ۔پانی ۔۔۔۔۔ بہہ رہا ہے ۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ تھوڑا پیچھے کی طرف ہوا اور میری دونوں ٹانگوں کے درمیاں بیٹھ گیا اور جیسے ہی اس نے اپنا منہ تھوڑا نیچے کی طر ف کیا تو میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور بولی ۔۔۔۔ یہ ۔۔یہ تم کیا کر رہے ہو سمیر۔؟؟؟؟؟۔۔ تو وہ میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔۔ ہما جی میں آپ کی یہ شاندار ۔۔۔ چوت چاٹنے لگا ہوں ۔۔ سمیر کی بات سُن کر میں حیران رہ گئی اور بولی۔۔۔۔ یہ توبہت گندہ کام ہے ۔۔۔تو وہ کہنے لگا کوئی گندہ کام نہیں ہے ہما جی۔۔۔ آپ بس دیکھتی جاؤ۔۔۔ اگر آپ کو مزہ نہ آیا تو میں ۔۔۔مزید نہیں چاٹوں گا۔۔۔ اور پھر اپنے زبان نکالی اور میری چوت کے لبوں پر رکھ دی ۔۔۔۔اور میری چوت چاٹنے لگا۔۔۔ جیسے ہی سمیر کی زبان نے میری چوت کے لبوں کو چھوا ۔۔۔۔ میرے اندر اور آگ بھڑک اُٹھی اور ۔۔اور میں بستر سے اوپر اُٹھ گئی ۔۔۔ یہ دیکھ کر سمیر نے میری چوت سے سر اُٹھایا اور بولا ۔۔۔ مزہ آ رہا ہے ہے نا ۔۔۔ تو میں نے کہا ۔۔۔ تم اپنا کام جاری رکھو۔۔ اور پھر میں نے سمیر کے سرپر ہاتھ رکھ دیا اور اس کے منہ کو اپنی پھدی کی طرف دبانے لگی ۔۔۔۔اور سمیر بڑے ہی جوش سے میری چوت کو چاٹنے لگا۔پھدی چٹوانے سے اتنا مزہ ملتا ہے میں نے یہ کبھی سوچا بھی نہ تھا ۔۔۔ ۔۔۔ اور میں مزے کی آخری سرحد تک پہنچ گئی تھی ۔۔۔ اور پھر نہ چاہتے ہوئے بھی پتہ نہیں کیسے میرے منہ سے ۔۔۔ یہ الفاظ کیسے نکل گئے ۔۔سمیرررررررررررر ۔۔۔ میری پھدی چاٹ ۔آہ۔ ہ ہ ہ ہ ۔۔دانتوں سے کاٹ میرے دانے کو ۔۔۔۔اور چاٹ میری جان مجھے بڑا مزہ آ رہا ہے ۔۔۔۔۔میرے منہ سے اتنی سیکسی باتیں سُن کر سمیر نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر بڑے ہی جوش سے چوت چاٹنے لگا۔۔اور ساتھ ساتھ ۔ میرے دانے پر ہلکے ہلکے دانت بھی کاٹنے لگا ۔۔۔۔۔سمیر کے اس طرح پھدی چاٹنے کی وجہ سے کچھ ہی دیر بعد ۔۔ میں ماہیء بے آب کی طرح تڑپنے لگی ۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ۔۔۔ میرے اندر سے گرم پانی کا ایک زبردست ریلہ نکلا ۔۔۔اور یہ ریلہ میری چوت سے ہوتا ہوا ۔۔سیدھا ۔سمیر کے منہ کر طرف چلا گیا ۔جہاں سمیر منہ کھولے میری پھدی کو چاٹ رہا تھا ۔۔اور ۔۔میری چوت سے نکلنے والے ۔پانی کے اس گرم ریلے کی وجہ سے سمیر کا سارا منہ بھر گیا ۔۔ ۔۔۔۔ سمیر نے بس ایک نظر اپنا منہ اوپر کیا ۔۔۔ اور پھر زبان نکلا کر میری چوت سے نکلنے ولا پانی چاٹنا شروع ہو گیا ۔۔۔ اور۔۔ بولا۔۔۔۔ تمھاری طرح تمھاری چوت کا پانی بھی بہت ٹیسٹی ہے میری جان۔۔۔۔ اور پھر سے میری چوت پر جھک گیا۔۔۔ اور کافی دیر تک میری چوت کو اندر باہر سے چاٹتا رہا۔۔۔ ۔۔۔۔ پھر اس کے بعد سمیر اوپر اُٹھا اور بنا کوئی بات کیئے اس نے اپنی شلوار اتاری (قمیض وہ پہلے ہی اتار چکا تھا ) اور پلنگ پر گھٹنوں کے بل چلتا ہوا میرے منہ کی طرف آیا ۔۔۔ میں پہلی دفعہ سمیر کے لن کو ننگا دیکھ رہی تھی۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔ اس کے لن کا رنگ ۔۔۔ گورا تھا ۔۔۔ پیچھے سے اس کا لن کافی پتلا ۔۔۔لیکن سائز میں تھوڑا لمبا تھا اور اس پتلی سی ڈنڈی کے آگے اس کے لن کا ہیڈ تھا ۔۔۔۔ جو کافی بڑا اور سائز میں موٹا ۔۔ تھا۔۔۔اور اس کے ۔ لن کے آس پاس کوئی بال نہ تھے اور سمیر کے لن کے نیچے دو بالز تھے جو کافی بڑے تھے۔۔ سمیر کا لن دیکھ کر میری چوت میں ایک عجیب سی کھلبلی مچ گئی اور سمیر کا لن لینے کے لیئے میری چوت خود بخود ۔۔۔کُھل۔۔۔ بند ہونے لگی۔۔۔ادھر سمیر گھٹنوں کے بل چلتا ہوا میرے پاس آیا اور میرے منہ کے آگے اپنا لن لہرانے لگا اور پھر میری طرف دیکھ کر بولا۔۔۔ کیسا ہے میرا لن۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں نے شرم کے مارے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر سمیر نے میرا سر پکڑ ا اور ۔۔۔۔ اپنے کو میرے منہ کے بلکل قریب کر کے بولا ۔۔۔۔ ۔۔ پلیز ززززززززززززززززز۔۔۔ بولو نہ جان۔۔۔ میرا لن تم کو کیسا لگا ہے؟؟؟ ۔۔۔ تو میں نے اس کے لن کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔ ۔۔بہت اچھا ہے ۔۔۔ تو اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولا اس کو اپنے ہاتھ میں پکڑو نا ۔۔۔اور میں نے اس کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اسے دبانے لگی۔۔میرے اس طرح لن دبانے سے وہ ٹھنڈی آہیں بھرنے لگا اور بولا ۔۔ تھوڑی سی مُٹھ مارو نا ۔۔۔ اور میں نے اس کے لن کو دبانا چھوڑا اور اسے آگے پیچھے کرنے لگی۔۔۔۔پھر وہ کھسک کر میرے اور قریب آگیا اور بولا۔۔۔ ہما جی ۔۔بس ایک دفعہ میرے لن کو اپنے منہ میں ڈالو ۔۔۔۔۔ پلیزززززززز ۔۔۔ ۔۔۔ لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ۔۔۔ حالانکہ جی تو میرا بڑا چاہ رہا تھا لیکن پھر بھی ۔۔۔۔۔میرے انکار کا سُن کر اس نے میری کافی منتیں کیں لیکن میرا صاف انکار سُن کر وہ منت بھرے لہجے میں بولا ۔۔ چلو منہ میں نہ سہی ۔۔ اس پر ایک کس ہی کر دو۔پلیزززز۔۔ منہ میں ڈالنے کی نسبت یہ کام مجھے آسان لگا ۔۔۔ اور میں نے منہ اوپر کیا اور اس کے بڑے سے ٹوپے پر ایک کس کر دی۔۔۔اس کا لن بڑا گرم تھا ۔۔اور ۔ جیسے ہی میں نے اس کے ٹوپے پر کس کرنے کے لیئے اپنا منہ آگے کیا اس نے اپنا ٹوپا میرے ہونٹوں پر دبا دیا ۔اور اس طرح اس کا لن کا تھوڑا سا اگلا حصہ میرے منہ میں چلا گیا ۔۔۔۔ ۔۔اُف مجھے بڑا مزہ آیا اور میں نے جوش میں آکر اس کے ٹوپے پر ایک دو اور چمیاں کر دیں اور پھر مزید جوش میں آ گئی اور میں نے سمیر کا لن پکڑ کر تیزی سے اسے آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا۔۔۔ ابھی میں نے دو تین ہی جھٹکے دیئے تھے کہ اچانک سمیر کے منہ سے اوہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔اوہ ۔۔۔۔۔۔ کی آواز نکلی اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے ۔۔ اچانک سمیر کا جسم ایک دم اکڑ گیا ۔۔اور ۔۔۔ ان کے لن سے ایک تیز دھار ۔۔ ۔۔ پچکاری سی نکلی ۔ اور میں جو منہ کھولے سمیر کی مُٹھ مار رہی تھی۔ ۔۔ اور اس کی منی کی پہلی دھار سیدھی میرے منہ کے اندر جا گری۔۔۔ میں نے جلدی سے سمیر کی طرف دیکھ تو اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے اسے تیزی سے کے ساتھ اسے آگے پیچھے کر رہا تھا۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اپنا منہ بند کر لیا اور سمیر کی منی کو اپنے منہ میں ہی رہنے دیا ۔۔۔ سمیر کی منی ۔۔۔گرم ۔۔۔نمکین اور ذائقہ دار تھی۔۔۔۔۔اس لیئے اس میں پورا مزہ لیا ۔۔۔اور پھر اس کی ساری گرم منی کو فوراً ا سے اپنے حلق سے نیچے اتار لیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کے ساتھ ہی بڑے جوش سے سمیر کی مُٹھ مارنے لگی۔۔۔۔ کچھ ہی سکینڈ کے بعد سمیر کے لن سے سارا پانی نکل گیا ۔۔۔۔ اور وہ بڑی شرمندگی سے میری طرف دیکھ کر بولا۔۔۔۔ وہ آئی ایم سوری ہما جی۔۔۔۔ ابھی دوبارہ کھڑا ہو جائے گا۔۔۔۔ اور ۔۔ابھی سمیر یہ بات ہی کر رہا تھا ۔۔کہ اچانک دھڑام سے دروازہ کھلا ۔۔اور ۔بے اختیار میری نظریں ۔۔دروازے کی طرف چلی گئیں اور ۔پھر ۔میرا دل دھک رہ گیا۔۔۔۔ ۔ میں نے دیکھا کہ دروازے سے ایک ۔۔مُشٹنڈی سی شکل والا لڑکا۔ ۔۔ کمرے میں داخل ہو رہا تھا ۔۔ اور اس کے ایک ہاتھ میں خنجر پکڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ اس لڑکے کی شکل دیکھ کر ہی میری ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد سی لہر دوڑ گئی ،۔۔۔ اور ۔میں نیم بے ہوش سی ہو گئی ۔۔ اور میں نے بے اختیار سمیر کی طرف دیکھا تو اس کا بھی رنگ بھی اُڑا ہوا تھا ۔۔پھر اس نے مجھے اور میں نے اسے دیکھا ۔۔اس کی آنکھوں میں بے بسی تھی۔۔۔۔۔پھر میری نگاہ اس گندی شکل والے لڑکے کی طرف گئی وہ خنجر لہراتا ہوا ہماری ہی طرف آ رہا تھا ۔۔ میری تو جیسے روح ہی فنا ہو گئی تھی اور میں سوچ رہی تھی ۔۔۔ کہ اب میں کیا کروں ؟؟۔۔۔ کہ اس وقت میں بھاگ بھی نہ سکتی تھی کیونکہ میں تقریباً ننگی ہی بستر پر لیٹی تھی ۔اور جہاں تک سمیر کا تعلق تھا تو وہ ہونقوں کی طرح کبھی لڑکے کو اور کبھی میری طرف دیکھتا جا رہا تھا ۔۔۔ خنجر دیکھ کر اس کی بھی سیٹی گُم ہو گئی تھی ۔۔لیکن مسلہ میرا تھا کہ ۔۔ نہ میں آگے جوگی تھی نہ پیچھے جوگی ۔۔ اب کیا کروں ۔کہاں ۔۔ جاؤں ؟؟؟۔۔۔۔ کیا کروں ؟؟ ادھر وہ خبیث خنجر لہراتا ہوا ۔۔ ہمارے پلنگ کے قریب آ رہا تھا ۔۔۔۔جیسے جیسے اس کے قدم ہمارے پلنگ کے قریب ہوتے جا رہے تھے ویسے ویسے ۔۔۔میری پریشانی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔ اور میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہی تھی اور وہ ہمارے قریب آ تا جا رہا تھا ۔۔۔ قریب ۔۔اور ۔۔قریب ۔۔۔اسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر میرے ہاتھ پاؤں شل ہو رہے تھے ۔۔ دماغ ماؤف ہو گیا تھا ۔ کچھ سوجھ نہ رہا تھا ۔کہ کیا کروں۔۔۔۔۔اور مجھ پر غشی سی طاری ہو رہی تھی ۔۔۔اور میں اس کی طرف دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔پھر وہ اور آگے بڑھا ۔۔۔پلنگ کے ساتھ اس کا فاصلہ کم ہو تا جا رہا تھا ۔۔۔اور اب وہ پلنگ کے قریب آ گیا تھا ۔۔ ۔۔۔قریب۔۔۔اور۔۔قریب ۔۔۔بہت قریب ۔۔اتنے قریب ۔۔۔۔کہ۔۔۔۔ میں نے اس کی طرف دیکھا ۔ ۔۔۔ اور ۔۔پھررررررررررر۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔جاری ہے ..............
  7. تراس یا تشنگی قسط 3 اور یوں میری اس لڑکے سے کہ جس کا نام سمیر تھا سے دوستی کی ابتدا ہو گئی اور اب تو وہ روز ہی مجھے خط دینے لگا تھا جسے میں گھر آ کر دو تین دفعہ پڑھتی تھی ۔۔اور پھر اسے فلش میں بہا دیتی تھی ۔۔۔پتہ نہیں وہ اتنے رومینٹک الفاظ کہاں سے ڈھونڈ کر لکھتا تھا کہ جن کو پڑھ کر میں گھائل ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔ پہلے پہلے تو اس نے اپنے خطوط میں بڑی ہی رومانوی باتیں لکھی تھیں کہ جن کو پڑھ کر میں سپنوں کی دنیا میں کھو جاتی تھی پھر آہستہ آہستہ اس کے خط کے مندرجات بدلنے لگے ۔۔۔ اور اب وہ اپنے خطوط میں مجھ سے ملنے کا تقاضہ کرنے لگا ۔۔۔گو کہ میرا بھی دل کرتا تھا کہ میں اسے اکیلے میں ملوں لیکن میری پوزیشن ایسی نہ تھی کہ میں اسے مل نہ سکتی تھی ا سی طرح دن گزرتے رہے ۔۔۔ اب میں اس کے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ بھی لگانے لگی تھی اور وہ خاص کر میری خوبصورتی کی بڑی تعریف کرتا تھا اور زبانی بھی ملنے کی درخواست کرتا رہتا تھا ۔اور اس کے ساتھ ساتھ خطوط بھی جاری تھی ۔۔۔ جن میں کہ وہ مجھ سے ملنے کا تقاضہ کرتا تھا ۔۔۔ ۔۔ پھر کچھ عرصہ بعد سمیر کے خطوط کا لہجہ مزید بدل گیا اور اب وہ وہ رومانوں باتوں کے ساتھ ساتھ میرے جسم خاص کر میرے بریسٹ کی بڑی تعریف لکھنا شروع ہو گیا ۔۔۔ جسے پڑھ کر مجھے بہت اچھا لگتا تھا اس کےساتھ ساتھ اب وہ چلتے چلتے مجھے ٹچ بھی کر لیتا تھا مجھے یاد ہے کہ جب پہلی دفعہ اس نے مجھے ٹچ کیا تھا تو میرے سارے بدن میں ایک عجیب سی سنسنی پھیل گئی تھی ۔۔۔ پھر اس کے بعد وہ عموماً مجھے ضرور چھوتا تھا اور اس کا اس طرح سے مجھے چھونا مجھے بہت اچھا لگتا تھا ۔۔ ہمارے سکول سے گھر کے راستے میں اس سنسان گلی کے نکڑ پر ایک ایسا گھر بھی پڑتا تھا کہ جس کے آگے ایک باڑھ سی لگی ہوئی تھی اور اس باڑھ نے اس گھر کو تین طرف سے گھیر رکھا تھا ۔۔۔۔ان کے مین گیٹ سے اندر داخل ہو تو گیٹ کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا لان تھا اور اس لان کے کونے میں درھیک کے دو تین درخت اکھٹے ہی لگے ہوئے تھے جن کی وجہ سے وہاں ایک چھوٹی سے آڑ سی بن گئی تھی ۔۔۔۔ اور ان درختوں سے ہٹ کر یعنی کہ ایک سائیڈ پر اس گھر کا گیٹ تھا ۔۔ اس گھر میں دو ہی لوگ رہتے تھے ایک میاں اور ایک اس کی بیوی اور یہ دونوں ہی خاصے بوڑھے تھے مرد تو کام کے لیئےصبع سویرے ہی گھر سے نکل جاتا تھا ۔۔ جبکہ خاتون گھر میں ہی اکیلی ہی رہتی تھی ان کے بچے وغیرہ اگر تھے بھی تو وہ ان کے ساتھ نہیں رہتے تھے ۔۔۔ یہ باتیں مجھے سمیر نے بتائیں تھیں ہوا یوں کہ سکول سے واپسی پر حسبِ معمول اس نے ملنے کی تکرار کی ۔۔۔ تو میں نے بھی اسے روز والی بات کی کہ تم تو جانتے ہی کہ میرا گھر سے نکلنا کتنا مشکل ہے ۔۔ تب وہ کہنے لگا کہ اچھا ایسا کرو کہ تم مجھ سے یہاں ہی مل لو ۔۔تو میں نے کہا روز تو ملتی ہوں تو وہ بڑے ہی حسرت بھرے لہجے میں بولا ۔۔۔۔ نہیں ایسے نہیں نا میری جان میں تم سے گلے ملنا چاہتا ہوں تمھارے یہ رس بھرے ہونٹ چوسنا چاہتا ہوں اور سب سے بڑی بات یہ کہ میں تمھارے یہ چٹانوں جیسے ۔۔۔ بریسٹ اپنے سینے سے لگانا چاہتا ہوں وہ ظالم باتیں ایسی کررہا تھا کہ میرا دل کر رہا تھا کہ ابھی میں اس کو اپنے سینے سے لگا لوں ۔۔۔ اور نیچے میری دونوں رانوں کے بیچ والا سوراخ بھی اس بات کی تاکید کر رہا تھا ۔۔۔ لیکن میرے لیئے مسلہ یہ تھا کہ میں کسی بھی صورت ایسا نہ کر سکتی تھی اور جب میں نے اس سے یہ بات کی تو وہ کہنے لگا اچھا اگر تم کو میں اس گلی میں ہی ملنے کو کہوں تو۔۔!!! تو میں نے اس کو کہا کہ اس گلی میں تو ہم روزانہ ہی ملتے ہیں تب اس نے اس باڑھ واے گھر کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بتلایا ۔۔۔ اور ساتھ ہی اس کی نشاندہی بھی کی۔۔۔۔ تو میں نے اس کو بولا پہلے میں خود اس بارے میں جان لوں تب ہی کچھ فیصلہ کروں گی ۔۔۔۔ تو وہ بولا جان ۔۔ میں سچ کہہ رہا ہوں اور ویسابھی وہاں ہم نے بس ایک ٹائیٹ سی جھپی ہی تو لگانی ہے ۔۔۔۔ اور اگر ٹائم ہوا تو تھوڑی سی کسنگ کر لیں گے ۔۔۔۔۔ لیکن میں نے اسے بغیر تحقیق کے ملنے سے صاف انکار کر دیا اور بولی جب تک میں خود تسلی نہ کر لوں میں تمھارے ساتھ وہاں نہیں جاؤں گی ۔۔۔ تو وہ مان گیا ۔۔۔ اور بولا ۔۔ لیکن پلیز ۔۔۔اپنی تحقیق جلدی کرنا ۔۔۔ کہ اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ۔۔۔اس کی بات سُن کر میں نے ہان میں سر ہلادیا ۔۔۔۔۔۔ اگلے دو تین دن میں نے بڑے طریقے سے اپنی کلاس فیلوز سے اس جگہ کے بارے میں معلومات لی تو جس طرح سمیر نے اس جگہ کے بارے میں بتلایا تھا وہ جگہ ویسی ہی نکلی ۔۔ اچھی طرح تحقیق کرنے کے بعد میں نے اس جگہ سمیر سے ملنا کا پروگرام بنا لیا۔۔۔۔ اگلے دن جب میں سکول سے نکلی تو گرمی بڑے زور کی پڑ رہی تھی ۔۔۔ اور ویسے بھی گرمیوں کی چھٹیاں ہونے میں ابھی ایک مہینہ باقی تھا ۔۔سمیر کو میں نے ایک دن پہلے ہی اس جگہ ملنے کا گرین سگنل دے دیا تھا۔۔۔۔چنانچہ اس دن پروگرام کے مطابق میں جلدی ہی سکول سے باہر آ گئی اور نسرین کا انتظار کرنے لگی اور ادھر ادھر دیکھا تو تھوڑا آگے مجھے سمیر نطر آ یا اور اس نے اشارے سے بتلایا کہ وہ اسی باڑھ والی جگہ درختوں کے پاس ہی ہو گا میں سیدھی وہاں آ جاؤں ۔میں نے اس کی طرف دیکھا اور سر ہلا دیا میرا اشارہ دیکھ کر وہ واپس مُڑا اور چلا گیا اور اسے جاتے دیکھ کر میرے سارے بدن میں ایک عجیب سی سنسنی پھیل گئی ۔۔۔ کیونکہ یہ میری پہلی ڈیٹ تھی اس لیئے میری ٹانگیں بھی کانپ رہیں تھیں اور دل بھی بہت کر رہا تھا کہ میں جا کر سمیر کے گلے لگ جاؤں اور اپنے بریسٹ اس کے سینے سے چپکا دوں ۔۔۔ نسرین سے الوداع ہو کر چلتے ہوئے میں اسی سنسان گلی میں پہنچی ۔۔ ۔جس کے کونے پر وہ باڑھ والا گھر تھا میں کن اکھویں سے ساری گلی کا جائزہ لیتے لیتے جب اس باڑھ والے گھر کے قریب پہنچی تو شدتِ جزبات سے میرا چہرہ سُرخ ہو رہا تھا اور میری دو رانوں کے بیچ ایک عجیب سی ہل چل مچی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ گیٹ کے قریب پہنچ کر اچانک میرا سکول بیگ زمین پر گر گیا اور یہ میں نے جان بوجھ کر کیا تھا ۔۔چنانچہ میں بیگ اُٹھانے کے لیئے نیچے جھکی اور اسی بہانے میں نے ایک دفعہ پھر سارا گلی پر نظر پر ڈالی تو حسبِ سابق مجھے وہ گلی ویران نظر آئی ۔۔۔۔یہ دیکھ کر میں جلدی سے اُٹھی اور گیٹ جو کہ ہر وقت کھلا ہی رہتا تھا ۔کے اندر داخل ہو گئی سامنے ہی درختوں کے پاس سمیر کھڑا تھا اور مجھے اپنی طرف آنے کا اشارہ کر رہا تھا میں نے سر ہلا یا اور دبے پاؤں ان درختوں کے پاس پہنچ گئی۔۔۔اور پھر ہم دونوں جڑے ہوئے درختوں کے دوسری طرف ہو گئے اب پوزیشن یہ تھی کہ ایک طرف تین چار درخت اکھٹے کھڑے تھے اور ان درختوں کے سامنے گھنی باڑھ تھی ان درختوں اور باڑھ کے درمیان ایک تنگ سی جگہ تھی جہاں اس وقت میں اور سمیر کھڑے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے باڑھ اور درخواں کے ایک سائیڈ پر ایک پتلی سی گلی نما راستہ تھا اور اس راستے سے ہو کر ہم اس جگہ تک پہنچے تھے ۔اس طرح ہمارے تین ا طراف میں قدرتی طور پر ایک محفوظ سی جگہ بن گئی تھی ۔ چوتھی جگہ گو خالی تھی لیکن وہ اتنی تنگ تھی کہ اگر کوئی درختوں کی آڑ میں ہو جائے تو دور سے کچھ نظر نہ آتا تھا ۔۔۔ وہاں پہنچ کر میں نے ایک دفعہ پھر چاروں اطراف کا جائزہ لیا اور پھر مطمئن ہو گئی اور سمیر سے پوچھا کہ اس نے یہ جگہ کیسے ڈھونڈی ۔۔۔ ؟ میری بات سُن کر سمیر نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور محبت بھرے لہجے میں کہنے لگا ۔۔ محبت سب کرواتی ہے میری جان ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا اور اسے اپنے ہوٹوں تک لے گیا ۔۔۔۔ جیسے ہی اس کے ہونٹوں نے میرے ہاتھ کی پشت کو چھوا ۔۔۔۔میرے سارے بدن میں ایک جھرجھری سی پھیلی اور ۔۔۔میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اسے اس طرح جگر پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے دیکھ کر مجھے شرم آ گئی ۔۔۔ اور میں نے اپنا سر جھکا لیا ۔۔۔ میری اس ادا پر سمیر تو مر ہی گیا اور اس نے اپنا ایک ہاتھ میری ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور پھر میرا منہ اوپر کر کے بولا۔۔۔۔ میری طرف دیکھو نا میری جان ۔۔۔ تو میں نے اس کو جواب دیا کہ ۔۔۔۔ مجھے شرم آ رہی ہے تب وہ آگے بڑھا اور اپنا منہ میرے گالوں کے قریب کر کے بولا ۔۔۔۔۔۔ہما جی اگر۔۔۔ اجازت ہو تو میں آپ کے شرم سے لال ہوتے ہوئے گال چوم لوں ۔۔۔ میں کچھ نہ بولی ۔۔۔تو اس نے اس بات کو میری رضامندی سمجھا اور آگے بڑھ کر اس نے میرے گالوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور ان کو چوم لیا ۔۔۔۔۔اپنے گالوں پر اس کے ہونٹوں کا لمس پاتے ہی ۔۔۔ میں ۔۔۔ بے حال ہی گئی لیکن بولی کچھ نہیں ۔۔۔ اور خود کو اس کے حوالے کر دیا ۔ میرے گالوں کو چومتے چومتے ۔۔۔ اچانک ہی سمیر نے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور پھر مجھے اپنے سینے کے ساتھ چپکا کر میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے ۔۔جیسے ہی اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے تو مجھے اس کے منہ سے سگریٹ کی بو کا ایک بھبکا سا آیا ۔۔اور میں نے گھبرا کر اس کو پیچھے کی طرف دھکیل دیا ۔ مجھے یوں پیچھے ہٹانے پر وہ حیران رہ گیا اور بولا ۔۔۔ کیا ہوا ہما جی ۔۔ ہونٹ چوسنے دیں نا ۔۔ تو میں نے اس سے کہا نہیں تم میرے ہونٹوں کی طرف مت آؤ تو وہ بولا کیوں کیا ہوا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو میں نے کہا اس لیئے کہ تمھارے منہ سے سگریٹ کی گندی بُو آ رہی ہے ۔۔۔ ۔۔ میری بات سُن کر وہ بڑا شرمدکہ ہوا اور بولا سوری ہما جی اور ۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ کو سگریٹ کی بو پسند نہیں ہے ۔۔۔اس لیئے اب آپ کی ہونٹوں پر چما نہیں ہو گا لیکن باقی جگہوں پر تو آپ کو پیار کر سکتا ہوں نا؟ ۔۔ ۔۔اور اس کےساتھ ہی اس نے دوبارہ سے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا ۔اور اپنا سارا بدن میرے بدن کے ساتھ جوڑ لیا ۔۔۔۔ سمیر کا بدن میرے بدن کے ساتھ جُڑتے ہی مجھے اپنی رانوں پر کوئی سخت سی چیز محسوس ہوئی ۔۔۔ اور ۔۔اور ۔۔۔۔ اس تصور کے ساتھ ہی کہ میرے رانوں سے سمیر کا لن ٹچ ہو رہا ہے مجھ پر ایک نشہ سا طاری ہو گیا ۔۔۔اور میں اپنی دونوں رانوں کے بیچ سمیر کا لن ۔۔۔ انجوائے کرنے لگی ۔۔ ادھر سمیر نے مجھے درخت کے ساتھ ٹیک لگا نے کو کہا اور پھر خود ہی اس نے نیچے سے میری دونوں ٹانگیں کھول دیں اور پھر شلوار کے اوپر سے ہی میری پھدی پر اپنا لن رگڑنے لگا ۔۔۔ اُف ف ف ف ف ف ۔۔ مجھے اتنا مزہ آیا کہ۔۔۔ اس کے لن کی پہلی ہی رگڑ سے ہی میری پھدی کا جوس نکلنا شروع ہو گیا ۔۔۔۔ لیکن چونکہ اس جگہ بہت خطرہ تھا۔۔اس لیئے میں کھل کر اسکے گھو ں کا لطُف بھی نہ ا ُٹھا سکتی تھی مجھے ہر دم یہی ڈر لگا رہا کہ کہ کہیں کوئی آ ۔۔۔نا جائے ۔۔ اس کے باوجود میں نے کچھ دیر تک سمیر کو گھسے مارنے دئیے اور وہ میری پھدی کے نرم لبوں پر اپنا سخت لن رگڑتا رہا اور پھر میں نے محسوس کیا کہ میری پھدی سے پانی کا ایک ریلہ نکل کر میری ٹانگوں سے نیچے بہہ رہا ہے ۔۔ میں چھوٹ گئی تھی ۔۔ چنانچہ جیسے ہی میں فارغ ہوئی ۔۔ میں نے سمیر کو ایک دم دھکا دیا اور اسے پیچھے دھکیل کر کے بولی ۔۔۔۔ آج کے لیئے بس اتنا ۔۔۔یہ سُن کر وہ میری منتیں کرنے لگا کہ ۔۔۔ ہما پلیز ۔۔۔ بس ایک دو گھسے اور مارنے دو ۔۔۔ ۔۔۔ لیکن میں نے اس کی ایک نہ سنی ۔۔۔ اور جانے لگی تو وہ کہنے لگا ۔۔۔ اچھا جاتے جاتے میرا ایک آخری کام تو کر دو ۔۔۔ تو میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔وہ کیا۔۔۔؟ تو اس نے کہا کہ ۔۔۔بس ایک بار میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اسے تھوڑا سا ہلا دو۔۔ کہ میں آخری منزل پر ہوں ۔۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں لال سُرخ ہو گئی ۔۔ کیونکہ دل تو میرا بھی یہی کر رہا تھا ۔۔ لیکن اوپر اوپر سے ناز نخرے کرنے لگی ۔۔۔آخر بصد منتوں اور ترلوں کے بعد میں نے ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے لن پر رکھ دیا ۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ اس کا لن بہت گرم تھا۔۔۔۔ اس وقت پتلے اور موٹے کا اتنا پتہ نہیں ہوتا تھا اس لیئے مجھ تو سمیر کا لن بہت بڑا لگا ۔۔۔ خیر میں نے بس ایک دفعہ ہی اس کا لن اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور پھر چھو ڑ دیا۔جیسے ہی مین نے اس کا لن چھوڑا اس نے تیزی سے اپنے ہاتھ میں لن پکڑا اور اسے مسلنے لگا ۔۔۔میں نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور بولی۔۔۔۔ کہ پہلے میں جاؤں گی تم بعد میں آنا۔اس نے میری بات سُن کر مجھے جانے کا اشارہ کیا ۔۔اور اپنے لن کو آگے پیچھے کرنے لگا ۔۔میں نے اسے اس کے حال پر چھوڑا ۔اور ادھر ادھر دیکھتی ہوئے وہاں سے باہر نکل گئی۔۔
  8. تراس یا تشنگی قسط 2 ۔ اندر سے میری یونی گلابی رنگ کی تھی اور اس میں سے دودھیا رنگ کا پانی سا نکل رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور میں نے انگلی سے اس پانی کو چیک کیا تو یہ چپ چپا سا تھا اوراس وقت چوت سے یہ پانی رِس رِس کر میری ٹانگوں سے نیچے کی طرف جا رہا تھا اسی اثنا میں ایک بار پھر مجھے اپنی یونی پر خارش محسوس ہوئی تو میں نے اپنی چوت کے اوپر لگے اس سُرخ سے دانے کو مسلنا شروع کر دیا جوں جوں میں اس کو مسلتی جاتی تھی تو ں توں میری چوت سے ِچپ چپے پانی کا رسنا تیز ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔ ۔۔۔اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ اس سرخی مائل دانے کو مسلتے مسلتے میں نڈھال سی ہو گئی اور میرے منہ سے خود بخود لزت آمیز سسکیاں نکلنا شروع ہو گئیں اور اپنی ان لزت بھری سسکیوں کو سُن سُن کر میرے اندر جنسی خواہش جاگنے کا عمل اور بھی تیز ہو تا گیا ۔۔۔ یہاں تک کہ میری سسکیاں اب ہلکی ہلکی چیخوں میں بدل رہیں تھی اور میری انگلیاں تیزی کےساتھ میری چوت کے ساتھ جُڑے دانے کو کھجا رہیں تھیں ۔۔۔۔ جیسے جیسے میری دو انگلیاں میرے چھوٹے سے دانے پر رگڑ کھاتیں اور اسی تیزی سے میری رانیں اس چپ چپے پانی سے بھیگی جا رہیں تھیں ۔ میں ایک انوکھی لزت سے آشنا ہوتی جا رہی تھی ۔ پھر کچھ دیر کے بعد میں نے اس دانے کو مسلنا بند کردیا ۔۔۔۔اور شیشے میں دیکھا تو میرا وہ چھوٹا سا دانہ مسلسل مسلے جانے کی وجہ سے لال سُرخ ہو کر کافی بڑا ہو چکا تھا ۔اور میں نے ایک بار پھر اس دانے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ۔۔۔ اور پھررررررر ۔۔کچھ ہی دیر کے بعد ۔۔۔ میرے بدن کو جھٹکے لگنے شروع ہو گئے اور پھر میں نے دیکھا کہ پتلا پتلا دودھیا سا پانی میری ٹانگوں سے ہوتا ہوا ۔۔۔ نیچے کی جانب بہہ رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی میری آنکھیں بند ہو گئیں اور میں مزے کے سمندر میں غوطے کھانے لگی اور میں بے سدھ ہو کر بیڈ پر گر پڑی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔۔۔ یہ میری زندگی کی پہلی خود لذتی تھی جو میں نے اپنے آپ سے حاصل کی تھی گو کہ اس کام میں مجھے تسلی تو ہر گز نہ ملی تھی لیکن اس عمل سے میں ایک لزت سے بھر پور فعل سے ضرور ۔۔۔۔۔۔۔۔متعارف ہو گئی تھی ۔۔۔۔ ۔ یہ سب کچھ تو میں کر لیا تھا ۔۔۔ لیکن سیکس کے بارے میں میرا تجسس بڑھتا جا رہا تھا میں اس بارے میں جانا چاہتی تھی کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یونی کو کھجانے سے مزہ کیوں ملتا ہے ۔اور چوت سے یہ چپ چپا سا پانی کیوں نکلتا ہے ؟؟؟؟؟؟۔۔وغیرہ وغیرہ اس قسم کے کئی سوالات تھے جو میں جاننا چاہتی تھی لیکن ۔۔۔۔ میں ڈر کی وجہ سے کسی سے بھی بات نہ کر سکتی تھی وجہ ۔۔۔وہی گھر کا سخت اور روایتی سا ماحول کہ جس میں سیکس کو شجرِ ممنوعہ سمجھا جاتا تھا ۔۔۔سیکس کے بارے میں، میں معلومات حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن کسی سے بات کرتے ہوئے ڈرتی تھی اس لیئے میں چاہنے کے باوجود بھی۔۔ میں کسی سے سیکس بارے میں بات نہ کر سکی اور بس یوں ہی اپنی یونی کے دانے کو رگڑ رگڑ کر گزارا کرتی رہی ۔۔۔۔ ۔۔۔ ایک بات کا تو مجھے پتہ چل گیا تھا کہ میری دو ٹانگوں کے درمیان والی جگہ جسے ہم چوت کہتے ہیں ۔گیلی لکڑی کی طرح ہر وقت سُلگتی رہتی تھی۔۔اور ۔۔۔ بہت زیادہ ڈیمانڈنگ تھی اور جب تک میں اس پر لگے دانے کو اچھی طرح سے کھجا نہ لوں یا اس کو کہیں رگڑ نہ لوں میری بے چینی دور نہ ہوتی تھی - اور اتنے زیادہ رگڑنے کے باوجود بھی یہ ہر گز ٹھنڈی نہ ہوتی تھی ۔۔ہاں تھوڑا وقتی سکون ضرور مل جاتا تھا ۔۔ مجھے سکول چھوڑنے کا کام ابا کے ذمہ تھا وہ مجھے اپنے آفس جاتے وقت سکول چھوڑ جاتے تھے جبکہ سکول سے واپسی پر میں اپنی سہیلی نسرین کے ساتھ آتی تھی اس کا گھر ہمارے گھر سے ایک دو گلیاں پہلے آتا تھا جبکہ سکول ہمارے گھر سے پانچ چھ گلیاں دور تھا ۔ میرے لڑکپن کا دور کا قصہ ہے کہ اس وقت میں سویٹ ٹین میں تھی اور میری جوانی کی اُٹھان بڑی زبردست تھی ۔۔۔میری خوبصورتی کی سبھی تعریف کرتے تھے اورایک دن کی بات ہے کہ حسبِ معمول چھٹی کے بعد میں نسرین کے ساتھ خوش گپیاں کرتے ہوئے گھر کی طرف لوٹ رہی تھی کہ اتنے میں .... میں نسرین کا گھر آگیا ۔۔۔اور وہ مجھے بائے بائے کرتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہو گئی ۔۔ اس کے بعد مجھے دو تین گلیاں اور کراس کرنا تھیں تو آگے والی گلی میں میرا گھر تھا ۔۔۔ جیسے ہی نسرین مجھے ٹا ٹا کر کے اپنے گھر میں داخل ہوئی ۔۔ ایک لڑکا تیزی سے آگے بڑھا اور میرے آگے آگے چلنا شروع ہوگیا ۔۔۔اس نے ایک دو دفعہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش بھی کی لیکن میں نے ڈر کے مارے اس کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور چپ چاپ سر جھکا کر چلتی رہی ۔۔۔ پھر اس کے بعد اس لڑکے کا یہ معمول بن گیا تھا کہ جیسے ہی نسرین اپنے گھر میں داخل ہوتی پتہ نہیں وہ لڑکا کہاں سے نازل ہو جاتا اور میرے ساتھ ساتھ چلنے لگتا ۔۔۔ شروع شروع میں تو مجھے بہت الجھن ہوئی لیکن اس کے بعد میں اندر ہی اندر اس کا انتظار کرنی لگی ۔۔۔ لیکن مسلہ یہ تھا کہ اندر سے میں بہت بزدل تھی اور خاص کر میں بھائیوں سے بہت ڈرتی تھی کیونکہ میرے بھائیوں نے مجھے صاف کہہ رکھا تھا کہ اگر انہوں نے میرے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات سُن لی تو وہ نہ صرف یہ کہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے بلکہ مجھے سکول سے بھی اُٹھوا لیں گے ۔۔۔ اور مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا اور میں پڑھنا چاہتی تھی اس لیئے پہلے تو میں اس لڑکے کو اگنور کرتی رہی لیکن وہ تھا بھی ایک ڈھیٹ قسم کا عاشق تھا روز میرے ساتھ ساتھ یا میرے آگے چلتا ۔اور۔ مجھ سے بات کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا لیکن میں ڈر کے مارے اس سے کوئی بات نہ کرتی تھی۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے اپنے بھائیوں کا بھی بہت ڈر تھا ۔۔۔ اس لیئے میں نے نہ تو اس بات کا نسرین اور نہ ہی کسی اور سے ا س لڑکے کا زکر کیا ۔۔۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ میری دوست نسرین پیٹ کی بہت ہلکی ہے ۔۔اور اگر میں اس سے اس لڑکے کا تزکرہ کر دیتی ہوں ۔۔تو اس نے جھٹ سے یہ بات سارے سکول کو بتا دینی تھی ۔۔۔ اور اسی سکول میں فیض بھائی کی سالی بھی پڑھتی تھی اور میں نہیں چاہتی تھی کہ میرا کوئی سکینڈل نکلے اور مجھے سکول سے ہاتھ دھونے پڑیں ۔۔ لیکن تابکہ ۔۔۔۔ بھائیوں کی دھمکیاں اپنی جگہ۔۔۔ لیکن میرے نیچے بھی ایک چیز لگی ہوئی تھی۔۔۔جو بہت پیاسی تھی اور ۔۔۔ ہر وقت مجھے تنگ کرتی رہتی تھی ۔۔ اور خاص کر اس ہینڈ سم لڑکے کو تو دیکھ کر ۔۔۔اب مجھے بھی کچھ کچھ ہونے لگا تھا ۔۔۔اور اس کی تیز نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے ۔۔۔میرے من کی کچی کلی بھی مہکنے لگی تھی اور ۔۔۔ شاید یہ اس کچی کلی کی مجبوری تھی ۔۔ کہ ایک دن میں بھی اس کی طرف دیکھنے لگی ۔وہ ایک گورا چٹا اور کیوٹ سا لڑکا تھا جو ہمارے سکول سے آگے ایک بوائز کالج میں پڑھتا تھا ۔۔قد اور عمر میں مجھ سے کافی بڑا ہو گا ۔۔ اس کی آنکھیں سیاہ اور ناک نقشہ بہت اچھا تھا ۔۔ میں نے اسے دیکھا اور ۔۔من ہی من میں اسے پاس کر دیا۔۔۔۔۔ ۔۔اسی طرح ایک ہفتہ اور گذر گیا۔۔ وہ روزانہ بڑی باقاعدگی سے میرے ساتھ ساتھ یا میرے آگے پیچھے چلتا اور جب میں گھر داخل ہو جاتی تو وہ بھی واپس چلا جاتا تھا۔۔۔ ایک دن جب میں گلی میں اکیلی جا رہی تھی تو اس نے تھوڑی ہمت کی اور بولا ۔۔۔ ہیلو آپ کیسی ہیں ؟ لیکن میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اور چُپ چاپ چلتی رہی ۔۔۔۔ اسی طرح دو تین دن اور گزر گئے ۔۔وہ روز مجھ سے یہی بات کرتا تھا لیکن میں کوئی جواب نہ دیتی تھی ۔ اور ایک دن جب میں اسی گلی داخل ہوئی جو کہ عام طور پر سنسان ہی رہتی تھی ۔۔۔۔تو وہ ایک دم میرے سامنے رُک گیا اور ہاتھ جوڑ کر بولا ۔۔ پلیز میری بات کا جواب تو دو۔۔۔ تو میں نے کہا ہاں بولا کیا بات ہے تو وہ کہنے لگا۔۔۔ شکر ہے آپ بولی تو ۔ورنہ تو میں سمجھا تھا کہ آپ گونگی ہیں ۔۔تب میں نے اس سے کہا تم روز کیوں میرا پیچھا کرتے ہو ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اور چلنے لگی تو وہ بولا ۔۔ میں آپ کی اس بات کا ۔۔۔۔آپ کو کل جواب دوں گا او ر میرے آگے آگے چلنے لگا ۔۔ اگلے دن جب میں اسی سنسان گلی میں داخل ہوئی تو اچانک وہ میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور بولا کل آپ نے پوچھا تھا نہ کہ میں روز آپ کا پیچھا کیوں کرتا ہوں تو میں نے اس کی ساری وجہ اس خط میں لکھ دی ہے پلیز اسے پڑھ لو اور اس کے ساتھ ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر مجھے وہ خط دینا چاہا ۔۔۔ لیکن میں نے اس کو کوئی جواب نہ دیا اور چپ چاپ چلتی رہی ۔۔۔ وہ سارا رستہ میری منتیں کرتا رہا لیکن میں نے اس کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔ اسی طرح تین چار دن اور گذر گئے وہ روز مجھے خط دینے کی کوشش کرتا اور میں اس کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دیتی تھی ۔اصل میں ۔۔ میں اس کا خط لینے سے اس لیئے ڈرتی تھی ۔۔ کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے ۔۔۔۔ اسی طرح کافی دن گزر گئے اور آخر ایک دن مجھے اس پر ترس آ گیا اور میں نے اس سے کہا اس خط میں کیا لکھا ہے تو اس نے بڑے رومینٹک لہجے میں جواب دیا کہ اس خط میں میں نے اپنا حالِ دل لکھا ہے تم پلیز اسے ایک بار پڑھ تو لو۔۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں نے سوچا اس کا خط پڑھ کر دیکھتے ہیں کہ اس میں کیا لکھا ہے اور اس سے وہ خط وصول کر لیا ۔۔۔ جیسے ہی میں نے اس کے ہاتھ سے وہ خط لیا وہ یوں میرا شکریہ ادا کرنے لگا کہ جیسے میں نے اس پر کوئی بہت بڑا احسان کر دیا ہو۔۔۔ خیر میں نے اس سے وہ خط لیا اور سیدھا گھر آ گئی اور اپنے کمرے میں جا کر سب سے پہلے اسے لاک کیا اورپھر دھڑکتے دل کے ساتھ ڈرتے ڈرتے اس کا خط کھولا ۔۔ جیسے ہی میں نے اس کے دیئے ہوئے خط کو کھولا۔۔تو سارا کمرہ ایک بہت ہی عمدہ سے پرفیوم کی خوشبو سے مہک اُٹھا ۔۔جو اس نے سارے خط پر چھڑکا ہوا تھا ۔۔۔۔ اتنی اچھی خوشبو سُونگھ کر میرا موڈ خوش گوار ہو گیا ۔اور نے اسے کھول کر پڑھا ۔۔تو اس نے لکھا تھا ۔۔۔ میری اپنی ۔۔اور بہت پیاری ۔۔ ہما جی (پتہ نہیں اس کو میرے نام کا کیسے پتہ چل گیا تھا ) ۔۔۔۔دل کی گہرائیوں سے آپ کو میرا محبت بھرا سلام قبول ہو ۔۔۔ ۔۔پھر آگے لکھا تھا ۔۔۔۔ سب سے پہلے تو آپ کی اس بات کا بہت بہت ۔۔۔۔ شکریہ کہ آپ نے اپنے نازک ہاتھوں ۔سے میرا خط لیا ۔۔۔اور اس وقت میرا یہ خط آپ کی پیاری پیاری اور سرمگیں آنکھوں کے سامنے ہے ۔۔۔ ہما جی۔۔۔۔ یقین کریں اوپر والے نے آپ کو فرصت میں بیٹھ کر بنایا ہے۔۔۔ اور میں آپ کے اس ملکوتی حُسن کا دیوانہ ہوں ۔۔۔ جب سے میں نے آپ کو دیکھا ہے میں خود کو بھول گیا ہوں ۔۔پتہ نہیں آپ نے مجھ پر کیا جادو کر دیا ہے کہ ۔ سوتے جاگتے اُٹھتے بیٹھے۔ چلتے پھرتے۔۔۔۔بس۔۔ آپ ہی کی موہنی صورت میری آنکھوں کے سامنے گھومتی رہتی ہے۔پھر آگے اس نے ایک مشہور گانے کا یہ شعر لکھا ہوا تھا ۔۔ تم ہی بتاؤ کہ ہم کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاروں طرف دیکھتے ہیں تمھیں۔۔۔۔۔ کلیوں میں تم ہو ۔۔۔۔ بہاروں میں تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس دل کے ہر ایک نظاروں میں تم ۔۔۔۔۔۔۔ ۔پھر لکھا تھا ہما جی ۔پتہ نہیں آپ کی حسین آنکھوں میں کیا جادو ہے کیا کشش ہے کہ میں ہر وقت ان میں ہی گُم رہتا ہوں ۔۔ہما ۔۔جی ۔۔ میں آپ کا بیمارِ محبت ہوں اور شفا صرف اور صرف آپ ہیں۔۔۔ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔ جس دن آپ نظر نہیں آتیں ہیں وہ دن میرا بہت خراب گزرتا ہے ۔اور جس دن آپ نظر آ جاتیں ہیں وہ دن میرے لیئے عید کا دن ہوتا ہے ۔۔۔۔اس طرح کی رومانوی باتوں کے ساتھ ساتھ اس نے اس خط میں اور بھی بہت سارے محبت بھرے شعر لکھے ہوئے تھے جو کہ اس وقت مجھے یاد نہ آ رہے ہیں ہاں ان اشعار کا لبِ لباب یہ تھا کہ وہ مجھ سے بہت حد محبت کرتا تھا ۔۔۔ اور اس کے لیئے میں دنیا کی سب سے حسین لڑکی تھی اور ہاں خط کے سائیڈوں پر بڑے بڑے حاشیئے بھی لگے ہوئے تھے اور ان حاشیوں کے ایک طرف ترتیب کے ساتھ بہت سے سرخ رنگ کے دل بنے ہوئے تھے اور ان دلوں میں تیر کھبے ہوئے تھے ۔۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ تیر کے لگنے کی وجہ سے اس دل سے خون بھی ٹپک رہا تھا ۔۔۔ آخر میں اس نے لکھا تھا صرف اور صرف تمھارا اپنا ۔۔۔۔۔ سمیر۔۔ ۔۔ اس سمیر نامی لڑکے کا وہ خط چار صفحات پر مشتمل تھا ۔اور اس کے ہر صفحے پر محبت بھرے ڈائیلاگ لکھے ہوئے تھے جن کو پڑھ کر میں بڑی متاثر ہوئی تھی ۔۔سمیر کے ہاتھ کا لکھا وہ خط ۔۔۔ میں نے بے شمار دفعہ پڑھا اور جب مجھے وہ خط زبانی یاد ہو گیا تومیں نے اسے پرزہ پرزہ کر کے فلش میں بہا دیا ۔۔۔ اور پھر سارا دن سمیر کے خط کے مندرجات پر غور کرتی رہی کہ آیا واقعہ ہی میں اتنی خوبصورت ہوں یا کہ وہ ایسے ہی بلف مار رہا ہے؟ اس کے ساتھ ہی میں ڈریسنگ کے سامنے سٹول پر بیٹھ گئی اور بڑے غور سے اپنا جائزہ لینے لگی ۔۔۔ اس میں تو کوئی شک نہ تھا کہ میں ایک گوری چٹی۔۔ چمکتے ہوئے رنگ ۔۔۔اور بہت اچھے نین نقش والی لڑکی تھی گو کہ میرے بریسٹ ابھی چھوٹے تھے لیکن اتنے چھوٹے بھی نہ تھے ۔۔۔اور ابھی سے میرے سینے کی اُٹھان ایسی غضب تھی کہ جب میں سینہ تان کر چلتی تھی تو بڑے بڑے لوگوں کے دل ہل جاتے تھے –
  9. تراس یا تشنگی قسط 1 ہیلو دوستو۔۔ کیسے ہیں آپ ۔۔۔ ؟ امید ہے خوش باش اور بھلے چنگے ہوں گے۔۔ دوستو ہندی کا ایک محاورہ ہے ۔۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا ۔۔ بھان متی نے کنبہ جوڑا ۔۔۔ آپ بھی کہیں گے کہ مجھے اس وقت یہ محاورہ کیوں یاد آ گیا ؟ تو اس کی ایک وجہ یہ ہے جی کہ زیرِنظر کہانی بھی اس محاورے کے عین مطابق ڈیزائن ہوئی ہے۔ دوستو ۔ میں اپنی یہ کہانی آپ میں سے کچھ دوستوں کے کہنے پر لکھ رہا ہوں کہ اس قسم کی کہانی لکھنے کے لیئے کچھ دوستوں نے نہ صرف یہ کہ فرمائیش کی تھی۔۔ بلکہ دامے درمے سخنے اس میں حصہ بھی لیا ہے ۔۔۔ کسی نے اس کہانی کا آئیڈیا دیا ہے تو کسی دوسرے نے اس میں پایا جانے والا مصالحہ کی بابت کوئی ٹپ دی ہے یہاں تک کہ اس کہانی کا نام " تراس " بھی ایک قاری نے تجویز کیا ہے ۔۔۔جسے پنجابی میں تریہہ (پیاس ) بھی کہتے ہیں اور اردو میں اس کا مطلب ہے پیاس ۔۔۔ تُشنگی۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔ سوری دوستو تمہید کچھ لمبی ہو گئی ۔۔اب میں کہانی کی طرف آتا ہوں لیکن جاتے جاتے آخر میں ۔۔ میں خاص طور پر اپنی اس نامعلوم قاریہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جس نے کمال جرأت سے کام لیتے ہوئے مجھے اپنی زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات سنائے ۔۔۔۔۔ اور انہی واقعات کو بنیاد بنا کر میں نے اپنی اس کہانی کا تانا بانا جوڑا ہے گو کہ اس میں دوسروں کے سنائے ہوئے قصے بھی شامل ہیں لیکن اس کہانی کا بڑا حصہ اسی قاریہ کے سنائے ہوئے واقعات پر مبنی ہے ۔۔۔ اسی لیئے میں اپنی یہ کہانی ۔۔۔ اسی نامعلوم قاریہ کے نام کر رہا ہوں ۔۔۔دوستو اگر کہانی اچھی لگی تو اس نامعلوم قاریہ کا شکریہ ادا کر دینا ۔۔۔ اور اگر کہانی۔۔۔۔ پڑھ کر مزہ نہ آئے ۔۔تو ۔۔تو ۔۔فٹے منہ میرا ۔۔۔۔ کہ اتنا کچھ سننے کے بعد بھی میں آپ لوگوں کے معیار پر پورا نہ اتر سکا ۔۔۔اب آئیے کہانی کی طرف ۔۔ یہ کہانی اسی نامعلوم قاریہ کی زبانی ہو گی یعنی کہ کلامِ شاعر بزبانِ شاعر۔۔۔۔ ۔ میرا نام ہما نواز ہے اور اس وقت میری عمر 32 سال ہے اور میرا تعلق لاہور کی ایک خوشحال لیکن روایتی قسم کی فیملی سے ہے ۔ میں چار بھائیوں کی اکلوتی اور سب سے چھوٹی بہن ہوں ۔ اکلوتی ہونے کے جہاں پر بہت سے فائدے ہوتے ہیں وہاں ایک نقصان یہ بھی ہے کہ سارے بھائی اپنی اکلوتی بہن پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں اور بے چاری پر بچپن سے ہی بے جا پابندیاں لگا دی جاتی ہیں کہ یہ کرو وہ نہ کرو ۔ فلاں گھر جانا ہے اور فلاں گھر کی لڑکیاں سے بلکل دوستی نہیں کرنی کہ ان کا چال چلن درست نہ ہے (خود اپنے چال چلن پر کبھی توجہ نہیں کرتے )۔۔ کھبی کہتے ہیں کہ ۔۔چلتے ہوئے ادھر ادھر نہیں دیکھنا اور ۔کبھی حکم ہوتا ہے کہیں آتے جاتے ہوئے سر سے دوپٹےکو اترنے نہیں دینا وغیرہ وغیرہ ۔لیکن جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہونے والی بات ہو کر رہتی ہے۔۔ ہونی والی بات سے یہاں میری مراد سیکس ہے ۔۔ یہاں میں آپ کو عجیب بات بتاؤں کہ میں وقت سے بہت پہلے ہی جوان ہو گئی تھی اوربہت شروع میں ہی مجھے سیکس کے بارے میں کچھ نہ کچھ اندازہ ہو گیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ گھر میں ایک تو سب مرد ہی تھے اور جو ایک عورت تھی بھی۔۔۔ وہ میرے سب سے بڑے بھائی فیض کی بیوی تھی جو ظاہر ہے اپنے خاوند کے ساتھ سوتی تھی اس لیئے میرا ان کے ساتھ سونا بہت مشکل تھا ۔۔۔۔ اور مسلہ یہ تھا کہ مجھے اکیلے سوتے ہوئے بہت ڈر لگتا تھا اس لیئے چار و ناچار میرے والدین مجھے اپنے ساتھ سلاتے تھے ۔۔۔ لیکن وہ مجھے اپنے ساتھ پلنگ پر نہیں سلاتے تھے بلکہ انہوں نے میرے سونے کے لیئے ایک چھوٹی سی چارپائی بنوائی ہوئی تھی ۔۔ جہاں پر میں سوتی تھی ۔۔ جبکہ پلنگ پر میرے والدین سوتے تھے ۔۔۔ ۔ہر چند کے میرے والدین مجھے ساتھ سلاتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لیتے ہوں گے لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں وہ بے احتیاطی بھی کر لیتےتھے ۔۔اس سلسلہ میں ایک واقعہ عرض ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو مجھے یاد نہیں کہ اس وقت میری عمر کیا تھی لیکن اس عمرمیں دیکھا گیا ایک ایک سین میرے زہن پر ا یسا نقش ہے کہ آج بھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ سب ابھی بھی میرے سامنے ہو رہا ہو۔یہ نیم سردیوں کے دن تھے مطلب یہ کہ ابھی سردیاں پوری طرح سے آئی نہیں تھیں۔۔ دن کو موسم ٹھیک ، لیکن رات کو بڑی ٹھنڈ ہو جاتی تھی اور آپ ہلکاکمبل یا کھیس لیئے بغیر نہیں سو سکتے تھے یہ انہی راتوں میں سے ایک رات کی بات ہے کہ میں حسبِ معمول ابا اماں کے پلنگ کےساتھ بچھی ایک چھوٹی سی چارپائی پر سوئی ہوئی تھی ۔ رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا کہ اچانک کچھ آوازوں کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی کمرے میں زیرو کا بلب لگا ہوا تھا اور اس زیرو واٹ کے بلب سے ہلکی ہلکی روشنی پھوٹ رہی تھی ۔ ۔ ابھی میں ان آوازوں پر غور ہی کر رہی تھی کہ کمرہ ایک بار پھر ۔۔آہوں اور سسکیوں سے گونج اُٹھا ۔۔۔اس دفعہ ان سسکیوں کی آواز پہلے کی نسبت تھوڑی اونچی تھی ۔۔ اور اسی اثنا میں ایک بار پھر مجھے زنانہ آواز میں ایک تیز سسکی کی آواز سنائی دی ۔ اور میں نے ڈرتے ڈرتے آواز کی سمت دیکھا تو ۔۔وہاں کا منظر دیکھ کر ۔میرا دل دھک رہ گیا۔۔۔کیا دیکھتی ہوں کہ پلنگ پر میری اماں سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور ان کی دونوں ٹانگیں ہوا میں معلق تھیں اور اماں کے عین اوپر میرے ابا چڑھے ہوئے تھے ۔۔۔۔ اور ابا کا نچلا جسم بار بار اماں کے نچلے جسم سے ٹکرا رہاتھا۔۔۔اور جیسے ہی اماں کے جسم کے ساتھ ابا کا جسم ٹکراتا ۔۔۔۔ اماں کے منہ سے ایک کراہ نکل جاتی تھی۔۔ہائے ئے ئے ۔۔ ۔۔۔کراہنے کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ اماں ابا کے ساتھ باتیں بھی کر رہی تھی میں نے کان لگا کر سنا تو وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔ زور دی مار۔۔ (زور سے مارو) ۔۔۔ اماں کی بات سُن کر ابا اور طاقت کے ساتھ اماں کو مارتے تو ۔۔۔اس کے ساتھ ہی اماں کے منہ سے ایک دلکش سی کراہ نکلتی ۔۔ہائے ےےے ے ے۔۔۔اور پھر وہ اسی آواز میں ابا سے دوبارہ کہتی ۔۔۔زور دی مار ۔۔ہور زور دی ۔۔۔۔۔ ۔۔ اور میں اس بات پر حیران تھی کہ ابا اماں کو بار بار کیوں مارتے جا رہے ہیں اور میری ماں کیوں کراہ رہی ہیں کیونکہ ہمارے گھر میں اماں کا خاصہ ہولڈ تھا اور عام حالت میں ابا اماں سے خاصے ڈرتے تھے ۔۔۔ لیکن اس کے باوجود ابا اماں پر چڑھے ان کو ماری جا رہے تھے اور اماں بجائے ان کو منع کرنے کے آگے سے ان کو ہلا شیری دے رہی تھیں کہ وہ ان کو اور ماریں ۔۔۔۔یہ چیز میرے لیئے بڑی حیرانگی کا باعث تھی ۔۔ خیر میں بستر میں دبکی چپ چاپ ابا اماں کی یہ لڑائی دیکھتی رہی جس میں کہ اب شدت آتی جا رہی تھی اور ابا اماں کی فرمائیش پران کو مزید تیزی کے ساتھ دھکے مار رہے تھے ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اماں کے چلانے کی آواز تیز سے تیز تر ہو گئی جسے سُن کر ابا نے تھوڑے کرخت لہجے میں اماں سے کہا ۔۔۔ ہولی رولا ۔۔پا ۔۔۔ کتھے کُڑی نہ اُٹھ جاوے ( آہستہ بولو کہیں لڑکی نہ جاگ جائے) اماں ابا کی بات سُن کربولی۔۔۔ کُڑی نوں گولا مار ۔۔ تو کس کے میری مار۔ اوہ گھوک سُتی پئی اے ( لڑکی کی بات چھوڑو تم مجھے زور کے دھکے مارو کہ لڑکی گہری نیند سوئی ہوئی ہے) اس کے ساتھ ہی مجھے ایسا لگا کہ جیسے کمرے میں طوفان آ گیا ہو ۔۔۔ ان کا پلنگ بری طرح سے ہلنے لگا اور پھر اس کے ساتھ ہی میرے کانوں میں ابا کی کپکپاتی ہوئی آواز سنائی دی ۔۔۔ نیلو۔!!!!!!!!!! میں گیا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی ابا نے ایک بڑی سے چیخ ماری اور وہ اماں کو مزید تیز تیز مارنے لگے اور پھر کچھ ہی دیر بعد وہ انہوں نے اماں کو مارنا بند کر دیا ۔۔۔۔ اور ۔۔اماں کے ساتھ والی جگہ پر لیٹ گئے اور گہرے گہرے سانس لینے لگےوہ اتنے زور زور سے سانس لے رہے تھے کہ ان کے سانویں کی آواز میری چارپائی تک صاف سنائی دے رہی تھی ۔۔۔ میں ابا اماں کا یہ تماشہ دیکھ رہی تھی اور میرا دل دھک دھک کر رہا تھا میری سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟ لیکن فطرتاً چونکہ میں کافی بزدل اور خاموش طبع واقع ہوں اس لیئے صبع اُٹھ کر میں نے اس بات کا کسی سے تزکرہ نہیں کیا ۔۔۔ اور کرتی بھی کس سے؟ گھر میں سب ہی مجھ سے بڑے تھے اور سکول میں کوئی ایسی خاص سہیلی نہ تھی کہ جس سے میں یہ راز شئیر کر سکتی ۔۔۔اس کے بعد میں مجھے ہفتے میں ایک آدھ بار ابا اماں کا یہ ڈرامہ ضرور دیکھنے کو مل جاتا تھا اور پھر آہستہ آہستہ مجھے ان کی اس لڑئی کی بھی کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہو گئی تھی ۔۔۔ پھر جب میں تھوڑی اور بڑی ہوئی تو ابا اماں کی لڑائی ساری کی ساری سمجھ میں آ گئی تھی ۔۔۔اور میں ان کی چودائی کے منظر بڑے شوق سے دیکھنے لگی ۔۔ پھر شاید ان کو کوئی شک ہو گیا یا جانے کیا بات تھی کہ کچھ عرصہ بعد میرے والدین نے مجھے ایک علحٰیدہ کمرہ دے دیا ۔۔ علحٰیدہ کمرہ ملتے ہی میں نے ان کی چودائی کے منظر یاد کر کر کے ترسنہ شروع کر دیا ۔۔ اس دوران مجھے اور تو کچھ نہ سوجھتا بس میں اپنے سینے پر اگنے والے ابھاروں کو ہی دباتی رہتی تھی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میرے سینے کے ابھار بڑھنا شروع ہو گئے اور جب س میرے سینے کی یہ گولائیاں بڑھتے بڑھتے ٹینس کے گیند کے برابر ہوگئیں تو ایک دن میری سب سے بڑی بھابھی جو کہ فیض بھائی کی بیوی اور رشتے میں میری کزن بھی لگتی تھی نے مجھے اپنے پاس بلا یا اور میرے سینے کے ابھاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے ایک چھوٹا سا لیکچر دیا جس کا لُبِ لباب یہ تھا کہ اب میں بڑی ہو رہی ہوں اور میرے سینے پر اگنے والے اس گوشت کو مجھےاچھی طرح سے ڈھانپ کر رکھنا ہے اور آج کے بعد میں نے کسی بھی صورت دوپٹے کو اپنے سینے سے نہیں ہٹانا اور اس ابھرے ہوئے گوشت کو جسے وہ بریسٹ کہہ کر بلا رہی تھی کو ڈھانپنے کے لیئے مجھے ایک کپڑے کی برا بھی دی گئی اور سختی سے تاکید کی کہ آج کے بعد میں نے ہر وقت اپنے بریسٹ پر یہ برا پہننا ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی میرا گھر سے باہر نکلنا بند ہو گیا ورنہ اس سے پہلے میں محلے میں بغیر روک ٹوک پھرا کرتی تھی پھر اس کے بعد جلد ہی مجھے پیریڈز بھی آنا شروع ہو گئے ۔پیریڈز کے آنے کی دیر تھی کہ میرے اندر ایک عجیب سی بے چینی پیدا ہونا شروع ہو گئی اور خاص طور پر میری دونوں ٹانگوں کے بیچ والی جگہ پر مجھے اتنی زیادہ بے چینی ہوتی کہ میں بتا نہیں سکتی ۔۔ پھر ایک د ن کی بات ہے کہ میں پیریڈز کے بعد نہاکر اپنے بالوں میں برش کر رہی تھی کہ اچانک مجھے اپنی دو رانوں کے بیچ کھجلی سی شروع ہو گئی ۔۔ پہلے تو میں نے اس کھجلی کو اگنور کیا پھر جب کھجلی نے شدت اختیار کر لی تو میں نےاس جگہ کو کھجانا شروع کر دیا ۔۔لیکن میری ۔ پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو میں نے ڈریسنگ ٹیبل سے برش اُٹھا کر اس سے اس کو کُھجانا شروع کر دیا ۔۔۔ حیرانگی کی بات ہے کہ میں جتنا اس جگہ کو کھجاتی جاتی تھی مجھے اس کام میں اتنا ہی زیادہ مزہ آتا جا رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی میری اس جگہ پر کہ جسے چوت یا یونی کہتے ہیں پر خارش تیز ہو گئی تھی اور میں اسے اور بھی تیز تیز کھجا نی لگی ۔۔۔۔ اپنی یونی کھجاتے کھجاتے اچانک میری زہن میں ایک آئیڈیا آیا اور میں نےفوراً ہی اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔ ۔۔فیصلہ کرتے ہی میں نے اپنی چوت کو کھجانا بند کیا اور جلدی سے جا کر اپنے دروازے کو جو کہ پہلے ہی بند تھا اس کو لاک کیا ۔۔ اور اس کے بعد میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی اور ۔۔۔ اور پھر میں نے اپنی شلوار اُتار دی اور قمیض کو بھی اتار لیا اور پھر میں نے اپنی دونوں ٹانگیں کھول دیں اور شیشے کے بلکل قریب جا کر کھڑی ہو گئی اور اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ والی جگہ کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔تو دیکھا کہ میری ٹانگوں کے بیچ والی جگہ پر کافی مقدار میں گوشت ابھرا ہوا ہے ۔۔اور اس ابھرے ہوئے گوشت کے درمیان ایک پتلی سی لکیر تھی اور اس لرلک کے اوپر والے حصےپر یہ بھاری گوشت کو ۔۔۔ میں نے ہاتھ لگا کر چیک کیا تو یہ خاصہ نرم اور تسکین بخش تھا ۔۔ اپنے اس تسکین بخش گوشت پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے میں شیشے کے اور قریب ہو گئی اور پاس پڑے سٹول پر ایک پاؤں رکھا اور شیشے میں دیکھنے لگی ۔۔۔۔ سٹول پر ایک پاؤں رکھنے سے میری چوت کی لرپر تھوڑی اور نمایاں ہو گئی ۔۔۔ اور میں نے بڑے غور سے اپنی چوت کو دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔ دیکھا تو اس وقت میری یونی کے نرم گوشت پر سنہرے رنگ کے چھوٹے چھوٹے بال تھے اور ۔۔ میری دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ایریا ۔خاص کر لیکر کے اوپر والا حصہ ۔ پر پنک کلر کا ایک چھوٹا سا دانہ تھا ۔۔۔۔ اور میری چوت کا کہ یہ دانہ ۔ میرے بار بار کھجانے کی وجہ سے اچھا خاصہ سُرخ ہو رہا تھا اب میں نے اپنی دو انگلیوں کی مدد سے اس لر کو تھوڑا اور کھولا تو مجھے اپنی چوت کا اندرونی حصہ نظر آیا ۔۔۔۔
  10. کس سائٹ پہ پڑھیں تھی
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status