Jump to content
URDU FUN CLUB

Suhaial

Active Members
  • Content Count

    6
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

2

Identity Verification

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

345 profile views
  1. UPDATE 1........ دوستو میرا نام سمیر قریشی ہے اور میں ملتان کا رہنے والا ہوں۔۔۔ آج میں اپنی زندگی کے ان لمحات کو آپ کے سامنے رکھنے جا رہا ہوں جو کہ میری زندگی کا حاصل ہیں۔۔۔تو دوستو یہ چند سال پہلے کی بات ہے کہ میرے پاپا کے ماموں جو پنڈی میں رہتے ہیں انہوں نے اپنے بڑے بیٹے جو کے رشتے میں میرے چچا لگتے ہیں ان کی شادی کے دن رکھے اور سب کو شادی کے کارڈز بھیجے ہم لوگوں کو بھی شادی کا کارڈ موصول ہوا اور ہم لوگوں نے شادی میں جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔یہ چچا لوگوں کے گھر کے دوسرے لڑکے کی شادی تھی اور تیاریاں فل زوروں پر تھیں میرے لیے بھی نئے کپڑے لیے گئے اور ساری تیاریاں مکمل ہو گئیں۔مقررہ دن سے 2 دن پہلے ہم لوگ میں پاپا اور ماما بذریعہ بس رات کو پنڈی روانہ ہو گئے۔صبح کے وقت اندازاً 10 بجے ہم لوگ پنڈی چچا کے گھر پہنچ گئے۔سب لوگوں سے ملنے کے بعد میں گھر سے باہر نکل گیا کیونکہ وہاں پہلے میری دوستی صرف چچا کے چھوٹے بھائی آفتاب سے تھی تو باہر اس کو ڈھونڈنے لگا۔جب کافی دیر تک اس کو نا ڈھونڈ پایا تو واپس گھر کیطرف چلا گیا۔گھر کا دروازہ اندر سے بند تھا میں نے بیل بجائی تو کچھ لمحات کے بعد دروازہ کھلا۔۔۔میں اندر داخل ہوا تو سامنے موجود ایک لڑکی نے میرا راستہ روکا اور پوچھا جی آپ کی تعریف۔۔۔؟میں نے اپنا تعارف کروایا تو جھٹ سے اس لڑکی نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور میرے ہاتھ سے ہاتھ ملا کر بولی میرا نام ماہین ہے لیکن سب لوگ مجھے مومو کہہ کر بلاتے ہیں۔۔۔میں گم صُم سا کھڑا رہا کہ پہلی ملاقات میں اتنی بے تکلفی تو اس نے اپنا دوسرا ہاتھ میری آنکھوں کے سامنے ہلاتے ہوئے کہا سمیر صاحب کہاں گم ہو گئے اور اپنا ہاتھ چھڑا کر ہنستی ہوئی اندر چل دی۔۔۔میں اس کی معصوم اور پیاری باتوں میں کھویا رہا یہاں یہ بتاتا چلوں کے میں عمر کے جس حصے میں تھا اس عمر میں ہر لڑکی پری اور مہ جبیں ہی دکھائی دیتی ہے لیکن جس بے تکلفی اور اپنے پن سے اس لڑکی نے اپنا تعارف کروایا تھا میں اس اپنے پن کے سحر میں کھویا سارا دن اس لڑکی کو ہی تاڑتا رہا اور وہ لڑکی بھی کچھ کچھ میری آنکھوں کی تپش کو سمجھنے لگی۔۔۔ (اب میں اس کو مومو ہی کہہ کر پکاروں گا) خیر سارا دن مومو میری آنکھوں کے سامنے آتی جاتی رہی اور میں بھی اس کو ہی دیکھتا اور تلاش کرتا رہا۔اسی طرح رات سر پر آگئی اور مومو غائب ہو گئی اور میں بے چینی سے اس کو ڈھونڈتا رہا کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۔لیکن وہ نہ ملی۔رات کو آفتاب سے بھی ملاقات ہو گئی جو کہ بھائی کی شادی کیوجہ سے سارا دن گھر کے کاموں میں مصروف رہا تھا۔۔۔آفتاب نے مجھے پکڑا اور بولا چل یار سمیر تھوڑا کام ہے بڑی بھابھی کے گھر جانا ہے۔۔۔میں اس کے ساتھ ہو لیا۔اور بائیک پر ہم لوگ اس کی بھابھی کے گھر چل پڑے جو کہ وہاں سے 25 منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہم لوگ ان کے گھر پہنچ گئے۔۔۔وہ لوگ کافی اوپن مانئڈڈ تھے۔۔۔اس لیے ہم سیدھا گھر کے اندر چلے گئے۔۔۔آفتاب کی بھابھی ایک بہت ہی پیاری اور متناسب جسم کی مالک لڑکی تھی۔۔۔ان سے ملاقات ہوئی اور وہ ہمیں اپنے کمرے میں لے گئیں۔۔۔ہم لوگ وہاں صوفے پر بیٹھ گئے دعا سلام کے بعد آفتاب نے کہا کہ بھابھی امی نے کہا ہے کہ آپ نے جو لہنگا برات والے دن پہننا ہے وہ تھوڑی دیر کیلئے دے دیں۔امی کے پاس کچھ خواتین بیٹھی ہیں ان کو دکھانا ہے۔۔۔آفتاب کی بات سن کر بھابھی بولیں۔۔۔آفتاب وہ تو ابھی ٹیلر کے پاس ہی پڑا ہے بلکل تیار ہے بس وہاں سے اٹھانا ہے آج دوپہر ٹیلر کی کال بھی آئی تھی پر میں جا نہیں سکی۔۔۔میرے بھائی بھاگ کر جاؤ اور لے آؤ۔۔۔میں اتنی دیر میں اس کا میچنگ سامان نکال لیتی ہوں۔۔۔ بھابھی کی بات سن کر آفتاب نے میری طرف دیکھا اور بولا چل بھائی اٹھ جا مفت کی بیگار ابھی اور کاٹنی پڑے گی۔۔۔ مگر بھابھی اس کی بات کاٹ کر بولیں۔۔۔تم اکیلے چلے جاؤ نا یہ تو مہمان ہے۔۔پہلی دفعہ آیا ہے کچھ خاطر مدارت تو کرنے دو۔۔۔اور آفتاب دانے پیستا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ایک تو بیچارہ صبح سے گھر کے کاموں میں پھنسا ہوا تھا اوپر سے بھابھی نے بھی اسے آگے بھیج دیا تو وہ تھوڑا چڑ گیا تھا۔۔۔ آفتاب کے جانے کے بعد بھابھی میری طرف متوجہ ہوئیں اور رسمی طور پر میرا نام پوچھا۔۔۔میں نے اپنا نام بتایا تو بھابھی نے مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھا دیا۔اور بولیں میرا نام سدرہ ہے۔۔۔میں نے حیران ہوتے ہوئے مصافحہ کیا۔۔۔بھابھی بھی کافی براڈ مائنڈڈ لگتی تھیں۔۔۔بھابھی نے کسی کو کولڈ ڈرنک لانے کا بولا تھا۔تو ایک بچہ کولڈ ڈرنک والا گلاس ٹرے میں رکھے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔مجھے گلاس دے کر ٹرے ایک سائیڈ پر رکھ کر بچہ چلا گیا۔۔۔اور میں گلاس اٹھا کر کوڈ ڈرنک کے سپ لینے لگا۔۔۔اور سناؤ سمیر پہلے کبھی نہیں دیکھا آپ کو کہاں سے آئے ہو آپ۔۔۔اور میں جو بھابھی کی بولڈنس سے کنفیوز ہو رہا تھا
  2. Dr khan is story ka end kb hu gay please mry first submit ka reply zror dena
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status