Jump to content
URDU FUN CLUB

اتھرابھٹی

Basic Cloud
  • Content Count

    131
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    11

اتھرابھٹی last won the day on July 20

اتھرابھٹی had the most liked content!

Community Reputation

339

Identity Verification

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

4,343 profile views
  1. سب دوستوں کی محبتوں کا شکریہ دعا کریں میں یہ کہانی جلدی سے مکمل کر دوں کیوں کہ میری جاب سعودیہ میں ہو گئی ہے میں جانے سے پہلے پہلے یہ مکمل کرنا چاہتا ہوں اس لیے کئی چیزوں پر توجہ نہیں دے پا رہا۔۔۔ سعودیہ میں سنا ہے یہ فورم وی پی این پر نہیں کھلتا اس لیے میری کوشش ہے جلد از جلد مکمل کر دوں۔۔۔
  2. میں۔۔۔ باجی اب آپ اگر ایسا سمجھ رہی ہیں تو پھر میں کیا کہوں۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ میرا دل کر رہا ہے تم کچھ دن اور یہاں رک جاؤ لیکن تم اس موضوع پر بات نہیں کر رہے تمہیں بس اب جو وقت ملا ہے اس سے فائدہ اٹھانے کی پڑی ہے۔۔۔ میں ۔۔۔ سمیرہ باجی کی بات کاٹتے ہوئے باجی ایسا نہیں ہے کیا آپ کو میرا پیار کرنا اچھا نہیں لگتا ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ لگتا ہے لیکن تم میری بات سمجھ نہیں رہے۔۔۔ میں۔۔۔ باجی آپ بھی نہیں سمجھ رہی میری بات۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ پہلے تو یہ باجی باجی کہنا بند کرو ابھی بھی باجی ہی کہتے رہو گے اب میں باجی نہیں رہی ۔۔۔ ان کا موڈ اچانک آف ہو گیا مجھے آج کی رات موقع ہاتھ سے نکلتا نظر آنے لگا۔۔۔ میں ۔۔۔ باجی اوہ سوری سمیرہ میری بات سنو اور سمجھو میں بھی سب سمجھ رہا ہوں کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔۔ ہاں سمجھاو۔۔۔ بڑے روکھے انداز میں جواب دیا۔۔۔ میں۔۔۔ دیکھیں آپ کیا چاہتی ہیں میں یہاں کچھ دن اور رہوں اور اپ سے پیار کروں۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ ہاں یہ ہی چاہتی ہوں۔۔۔ میں ۔۔۔ میں بھی تو یہ ہی کہہ رہا ہوں وہ بھی دیکھ لیں گے صبح تو ہونے دو ابھی جو پل ملے ہیں ان میں جتنا پیار کر سکتے ہیں وہ تو کریں۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن دن سے میرے جلن ہو رہی ہے اور تمہارے پیار کا مجھے پتہ چل گیا اتنا درد برداشت نہیں ہو گا ۔۔۔ میں۔۔۔ مسکراتے ہوئے بس اتنا ہی میرا پیار برداشت کر پائی ہو۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ نہیں جی ایسی بات نہیں ہے مجھے لگتا ہے کوئی زخم ہو گیا جو اتنی جلن کے ساتھ درد بھی ہو رہا ہے۔۔۔ میں ۔۔۔ لو جی اب کیا میں وہ ہی کروں گا جو آپ کہہ رہی ہیں صرف وہ ہی پیار نہیں ہوتا پیار میں اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔۔ مثلآ کیا کچھ ہوتا ہے پیار میں مجھے بتاؤ ذرہ اور تمہارا پیار میں دیکھ چکی ہوں وحشی ہو جاتے ہو۔۔۔ میں۔۔۔ اچھا جی میں بتاؤں پیار میں کیا کچھ ہوتا ہے ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ شرماتے ہویے نیچے دیکھ کر ہاں بتاؤ۔۔۔ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا بڑے رومانٹک انداز میں جھک کر ان کے ہاتھ کو چوما۔۔۔ پھر ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر پیار سے ہاتھ کو سہلانے لگا ۔۔۔ سمیرہ باجی کی نظریں زمین پر گڑ چکی تھیں ان کا شرمانا میرے لیے حیران کن بات تھی۔۔۔۔ میں نے اٹھ کر ان کو گلے لگا لیا اور زور سے دبانے لیا کچھ دیر ایسے ہی دبائے رکھا مجھے اندر والے دروازے کے پاس آہٹ محسوس ہوئی ۔۔۔ میں نے سمیرہ باجی کے کان میں کہا کوئی ہے دروازے کے پاس ادھر چلی جاو اور دیکھنے کی کوشش کرو۔۔۔ وہ میری بات سن کر فوراً دروزے کے پاس گئی اور درز میں سے باہر دیکھنے لگیں ۔۔۔۔ میں چارپائی پر لیٹ گیا اور سمیرہ باجی کو دیکھنے لگا۔۔۔ سمیرہ باجی نے کچھ دیر بعد آرام سے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی میں بھی کچھ دیر پاسے پھیرتا رہا اور سو گیا۔۔۔۔ صبح اپنے وقت کر آنکھ کھل گئی ضروری حاجات سے فارغ ہو کر جب میں ناشتہ کرنے آیا تو مجھے امی نے کہا بلو میں اور تیری مامی قبرستان جا رہے ہیں ۔۔۔ سمیرہ باجی بولی پھپھو میں بھی چلتی ہوں کافی دن ہو گئے ہیں کھیتون میں نہیں گئی امرود کھانے کو بڑا دل کرتا ہے۔۔۔ میرے ماموں لوگوں نے کھیتوں میں امرود کے پودے لگائے ہوئے تھے اور ان کے امرود بہت میٹھے ہوتے تھے ہم جب بھی جاتے تھے کھاتے تھے۔۔۔ امرود کے علاوہ وہاں لوکاٹ اور آم کے درخت بھی تھے ساتھ جامن کے کئی درخت تھے اچھا خاصہ ماحول بنا ہوا تھا۔۔۔۔ میں ناشتہ کیا سمیرہ باجی بھی جانے کے لیے تیار تھی ہم سب اکٹھے کھیت میں چلے گئے ۔۔۔ قبرستان اور کھیت میں کویی چار پانچ ایکڑ کا فاصلہ تھا بس فرق یہ تھا کہ قبرستان ایک طرف تھا جبکہ جو ماموں کے کھیت تھے وہ دوسری طرف ہم سب جب قبرستان سے دو ایکڑ پیچھے رہ گئے تو سمیرہ باجی نے مامی کو کہا امی آپ لوگ قبرستان ہو لو میں اور بلو امرود توڑ لاتے ہیں۔۔۔ مامی سبز سگنل دیا سمیرہ باجی آگے آگے اپنی موٹی گانڈ مٹکاتی امردوں کی طرف چل دی۔۔۔ میں بھی پیچھے ان کی گانڈ کی اتھل پتھل دیکھتے جا رہا تھا۔۔۔ سمیرہ باجی امرود والے درختوں کے پاس جانے سے پہلے ہی ٹیوب ویل کی ظرف مڑ گئی۔۔۔ میں بھی ان کی تقلید میں چلتا گیا ٹیوب ویل کے پاس جا کر وہ رک گئی اور دائیں بائیں دیکھنے کے بعد اس نے وہاں اپنا دوپٹہ رکھا اور نہانے لگ گئی۔۔۔ مجھے بھی اس نے کہا لیکن میں نے منع کر دیا اس نے بھی اصرار نہ کیا اچھی طرح نہانے کے بعد وہ باہر نکلی۔۔۔ اس کے کپڑے جسم سے چپکے ہوئے تھے اور گانڈ میں کپڑا پھنس رہا تھا ۔۔۔ چپکے کپڑوں میں اس کے ممے بڑے بڑے لگ رہے تھے۔۔۔ میرے لن نے انگڑائی لی میں غور سے اس کے جسم ما ایکسرے کر رہا تھا۔۔۔ وہ باہر نکل کر ایک طرف چل پڑی میں بھی اس کے پیچھے چلتا گیا ۔۔۔ وہ امرود کے درختوں کے پاس سے گزری پھر آموں کو کراس کیا جامن بھی پیچھے چھوڑ دئیے لوکاٹ کے نیچے سے گزر گئی۔۔۔ میں پیچھے ہی۔ چلتا گیا آگے جا کر ایک قدرے اونچی جگہ جو کہ ٹیلا نما تھی اس کر چڑھ گئی وہ جگہ خالا لوگوں کی تھی۔۔۔۔ جس کی دیکھ بھال خالا کا بیٹا کرتا تھا وہ آرمی کے انجنیرنگ ونگ میں تھا اس کو پھولدار پودوں کا شوق تھا ۔۔۔ اس نے وہاں جنگل میں منگل کا کام کر دیا تھا جہاں میں جب آخری بار آیا تھا صرف جھاڑیاں ہوتی تھیں وہاں پھول دار پودے لگے تھے ۔۔۔ ان پودوں پر پھول ہی پھول کھلے ہوئے تھے بڑا رومانٹک سا ماحول تھا ہری بھری گھاس بھی اگی ہوئی تھی۔۔۔ پھولوں والے وہ پودے کافی بڑے بڑے تھے کیاریوں کی صورت میں لگے تھے ان کے درمیان بندہ چھپ جاتا تھا۔۔۔ سمیرہ ان میں سے ایک کیاری میں گھس گئی جو قدرے درمیان میں تھی مجھے بھی وہاں آنے کا اشارہ کیا۔۔۔ میں بھی اس کی دیکھا دیکھی وہاں چلا گیا اس نے ایک پھول دار پودے سے چن کر بڑا سا پھول توڑا اور مجھے دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ بلو یہ لو میری طرف سے قبول فرماؤ۔۔۔ میں۔۔۔ مسکراتے ہوئے پھول پکڑا اور کہا سمیرہ ایک پھول کے ہاتھ سے پھول لیتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ شرماتے ہوئے چل جھوٹا ۔۔۔ میں۔۔۔ باجی دل سے کہہ رہا ہوں میرے امدر اتر کر دیکھو سب بڑا واضح نظر آجائے گا۔۔۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم رہنے دو ۔۔۔ میں۔۔۔ آگے ان کے قریب جاتے ہوئے ایک پھول توڑا اور ان کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔ سمیرہ باجی نے وہ پھول بغیر ہچکچاہٹ کے پکڑ لیا اور بولی شکریہ۔۔۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی میں بھی سمیرہ باجی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔ اس نے کیاری میں باہیں کھول کر گول گول ایک پاؤں پر گھومنا شروع کر دیا ۔۔۔ ایک دو ہی چکروں میں وہ اپنا توازن کھو بیٹھی اور گرنے لگی میں نے آگے بڑھ کر اس کو تھام لیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی کو جب میں نے پکڑا تو میرا ایک ہاتھ اس کے دائیں ممے پر جا لگا میں اس کو کس کر پکڑ لیا دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر ہاتھ۔۔۔ وہ گرنے بچ گئی لیکن میرے کس کر پکڑنے سے اس تھوڑی آہستہ آواز میں آہ کی آواز نکالی ۔۔۔ جیسے ہی وہ سیدھی ہوئی اس نے میرے اس ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا کو اس کےدائیں ممے پر تھا۔۔۔۔ میں تو کچھ جانتا ہی نہیں تھا نا میں جان بوجھ کر مما پکڑا تھا وہ تو بس اس کو گرنے بچانے کے لیے جو چیز ہاتھ آئی پکڑ لی۔۔۔۔ اس نے جب ہاتھ چھڑانے کے لیے ہاتھ مارا تو مجھے تب پتہ چلا میرا ہاتھ غلط جگہ پر ہے۔۔۔ مما چھوڑتے ہوئے میرے چہرے ہر مسکراہٹ آگئی سمیرہ باجی نے مجھے ہلکی سے چپت رسید کی اور شرما گئی۔۔۔ کچھ دیر شرمانے کا سین چلتا رہا میں آگے بڑھا ایک قدرے بڑے درخت کی طرف دیکھ کر سمیرہ باجی کا ہاتھ پکڑا اور اس کو درخت کے پاس لے گیا۔۔۔۔ وہاں کھڑے ہو کر میں ارد گرد دیکھا تو ہمیں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اس کا مطلب تھا ہمیں بھی کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔ اطراف کا اچھی طرح جائزہ لے کر میں نے سمیرہ باجی کو تنے کے ساتھ لگا لیا اور جھک کر ان کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔۔ ہمممم کرتے ہوئے سمیرہ باجی نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا ایک منٹ بعد کی اس نے اپنا منہ مجھ سے الگ کیا اور بولی بلو کوئی آجائے گا۔۔۔ میں نے اس کو اپنی جگہ کیا خود اس کی جگہ ہو کر کہا دائیں بائیں آگے پیچھے نظر دوڑاو ۔۔۔ سمیرہ باجی نے جب دیکھا تو اس کو کچھ بھی نظر نہ آیا ایک وجہ اس کا قد چھوٹا تھا دوسری وجہ وہ درخت کافی پھیلا ہوا تھا اس کی شاخیں تقریباً زمین کو چھو رہی تھیں۔۔۔۔ اپنی تسلی کرنے کے بعد سمیرہ باجی مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی اور کہا بڑے تیز ہو پہلے ہی سب دیکھ چکے ہو۔۔۔ میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اس کی کمر میں ڈال کر اس کو آگے کھینچ لیا اپنے سینے سے لگا کر اس کے کان کی لو کو اپنے ہونٹوں میں لے کر بولا آخر سمیرہ باجی جو میرے ساتھ ہے۔۔۔۔ اس نے اپنے نازک ہاتھوں سے میرے سینے دوہتھڑ مارا اور اپنا سر وہاں ٹکا کر دھیمی آواز میں بولی ۔۔۔ بلو جو ہم میں ہو گیا ہے یا ہو رہا ہے اس کا انجام کیا ہو گا یہ سب غلط ہے نا۔۔۔ میں میری جان انجام کی فکر کیوں کرتی ہو جو پیار کرتے ہیں وہ انجام سے ڈرا نہیں کرتے ۔۔۔ دوسری بات جو ہم میں ہو رہا ہے وہ غلط کیسے ہو سکتا ہے تمہاری خواہشات میری خواہشات ایک جیسی ہیں تمہارے جسم کی ضرورت میں نے پوری کی تم نے میرے جسم کی تو اس میں غلط کیا ہے۔۔۔ سمیرہ باجی نے اپنا سر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا اور بولی تم میری بات سمجھ نہیں رہے یہ سب غلط ہے اگر کسی کو پتہ چل گیا تو۔۔۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ میں ۔۔۔ سمیرہ جی آپ بلا وجہ ڈر رہی ہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا جس کو آپ غلط کہہ رہی ہیں یہ کائنات کی حقیقت ہے کر جسم کی کچھ ضروریات ہوتی ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے کسی کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ بات سادہ سی ہے آپ بلاوجہ پریشان ہو رہی ہو۔۔ سمیرہ غلط تو غلط ہے نا جو مرضی کہہ لو لوگ غلط کہتے ہیں تو ایسے تو نہیں کہتے۔۔۔ میں بجائے بحث میں وقت ضائع کرنے کے عملی طور پر سمجھانے کا فیصلہ کر لیا اس کے لیے میں اپنا ایک ہاتھ نیچے لیجا کر سمیرہ باجی کے پھدی کر قمیض کے نیچے سے گزار کر رکھ دیا۔۔۔۔ اس کی پھدی والی جگہ سے شلوار بھیگ چکی تھی میں نے جیسے ہی ہاتھ رکھا سمیرہ نے اپنی ٹانگیں جوڑ کر میرا ہاتھ دبا لیا اور میرے گرد اپنے ہاتھوں کسنے کے کے لیے ایڑھیوں کے بل ہو کر اپنے باوزو میری گردن کے گرد لپیٹ لیے۔۔۔۔۔ میں نے آہستہ سے کہا سمیرہ جی یہ سب کیسا ہے ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ مجھے نہیں پتہ۔۔۔ میں نے اپنے ہاتھ کی مٹھی میں پھدی کو پکڑ لیا اور پھر پوچھا۔۔۔ میں۔۔۔ اب کیسا لگ رہا ہے۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔۔وہ مستی ڈوبتی ہوئی آواز سے بولی آہ بلو نہ کرو مجھے کچھ ہو رہا ہے۔۔۔ میرا لن بھی تن چکا تھا میں نے دوسرا ہاتھ استعمال کرتے ہوئے ناڑا ڈھیلا کیا اور پھر لن کو نکال کر دوبارہ باندھنے کے لیے دوسرا ہاتھ اس کی پھدی سے ہٹا لیا۔۔۔ سمیرہ باجی کو یہ ناگوار گزرا اس نے میری گردن پر اپنے دانت گاڑھ دئیے ہلکا سا کاٹا۔۔۔ میں تب تک اپنا ناڑا سیٹ کر چکا تھا لن باہر نکال لیا تھا میں نے اپنی جگہ سمیرہ باجی کو کیا اور خود اس کی جگہ آگیا۔۔۔۔ ایک بار پھر دائیں بائیں دیکھ کر تسلی کی کوئی نہیں آ رہا تھا اس کے بعد سمیرہ باجی کے مموں کو ننگا کرنے کے لیے قمیض کو اوپر کیا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے ہممم نا کرو کرتے ہوئے اپنے ممے ننگے کر دئیے ۔۔۔ میں نے ننگے مموں کو ہاتھوں میں لیا اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔ سمیرہ باجی سے پیاسے کی طرح ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا وہ بے صبروں کی ظرح چوس رہی تھی۔۔۔ اس کی جوشیلی حرکات کو دیکھ کر میں نے اس کی شلوار تھوڑی نیچے کی اور جھک کر لن اس کی ٹانگوں کے درمیان گھسا دیا۔۔۔۔ لن سمیرہ باجی کی پھدی کے لبوں میں رگڑ کھاتا ہو آگے گزر گیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے اپنی ٹانگیں ایک ساتھ جوڑ لیں اور میرے اوپر سوار ہونے لگی۔۔۔ میں نے ایک منٹ میں اتنے گھسے مارے کے میرا لن رگڑ کھانے سے درد ہونے لگا۔۔۔ ایک تو سمیرہ باجی کی پھدی پر ہلکے ہلکے بالوں کی رگڑ اور سے خشک لن خشک ٹانگوں میں جا رہا تھا۔۔۔۔ سمیرہ باجی کہنے لگی بلو کچھ کرو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ۔۔۔۔ میں نے اس کو گھما کر اس کے ہاتھ درخت کے تنے پر رکھے اور جھکا لیا سمیرہ باجی کی گاند باہر کو نکلی اس کی پھدی بھی گانڈ کے نیچے سے نظر آنے لگی۔۔۔ میں نے جھک کر لن کو گانڈ کے کے نیچے اس کی پھدی پر رکھا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکی کمر کو کس کر پکڑ لیا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی اتنی اتاولی ہو رہی تھی کہ اس نے مڑ کر میری طرف دیکھ کر کہا بللللو اب کرو بھی۔۔۔ میں نے لن پر دباؤ بڑھا دیا اور لن اندر اترنے لگا جیسے جیسے لن اندر جا رہا تھا ویسے ویسے سمیرہ باجی کی سئییییی کی آواز آ رہی تھی۔۔۔۔ میں لن پر دباؤ بڑھانا جاری رکھ رک کر پیچھے نہ کیا مجھے بھی جلدی تھی اس لیے ایک ہی بار میں اندر کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ جب لن آگے جا کر پھنس گیا تو میں نے تھوڑا سا پیچھے کھینچاپھر تھوڑا سا زور لگا کر گھسا مارا لن مزید اندر ہو گیا ۔۔۔۔ اب آدھے سے زیادہ لن اتر چکا تھا میں اسی کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا کچھ کی دیر میں سارے کا سارا لن اندر اتر چکا تھا۔۔۔۔ میں نے اب اپنی سپیڈ تیز کر لی تھی سمیرہ باجی نے اپنے دوپٹے کا پلو اپنے منہ میں داب لیا تھا ۔۔۔۔ میرے گھسوں میں تیزی آنے لگی سمیرہ باجی کا جسم بھی اب بھرپور ساتھ دے رہا تھا ۔۔۔ میں تھوڑا آگے ہوا سمیرہ باجی کے مموں کو پیچھے سے پکڑ لیا اب میں زیادہ زور سے گھسے مار ے لگا۔۔۔۔ ممے کھینچتے ہوئے لن زیادہ زور سے پھدی کی گہرائی میں جاتا۔۔۔۔ میں گھوڑی کی لگامیں کھینچ کر لن کو گہرائی میں اتار رہا تھا لن کی تھپ تھپ سمیرہ باجی کے چوتڑوں پر ہو رہی تھی۔۔۔۔ افراتفری میں لن گھسانے کی وجہ سے مجھے جلدی ہی لگنے لگا کہ میں فارغ ہونے والا ہوں ۔۔۔۔ میں گھسوں کی مشین چلا دی سمیرہ باجی کا جسم کانپا اور وہ فارغ ہو گئی لن پھدی کے پانی سے بھیگ کر اور روانی سے اندر جانے لگا۔۔۔۔ ایک دم سمیرہ باجی نے جھٹکے سے ایک سائڈ پر ہوتے ہوئے کہا بلو شلوار پہن لو کوئی آ رہا ہے۔۔۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا لیکن مجھے کویی نظر نہ آیا ۔۔۔ میں سوالیہ نظروں سے دیکھا منہ میں قمیض تھی اس لیے بول نہیں سکا ۔۔۔ سمیرہ باجی نے آگے ہو کر خود ہی میرا لن پکڑ کر شلوار کے اندر کیا اور کہا غور سے سنو۔۔۔ میں نے غور کیا تو مجھے زنانہ آوازیں آنے لگیں جیسے عورتیں آپس میں باتیں کرتی ہیں۔۔۔۔ میں نے ناڑا کھول کر شلوار کو ٹھیک کیا لیکن تنا ہوا لن شلوار میں تمبو بنا رہا تھا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے جب شلوار کا تنبو دیکھا تو بولی اس کو تو سیدھا کرو یہ کیا ہے۔۔۔ میری ہنسی چھوٹ گئی میں ہنسے جا رہا تھا سمیرہ باجی نے غصے سے دیکھا لیکن میری ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔ وہ پاؤں ٹپکتی ہوئی وہاں سے باہر نکل گئی میں بھی اپنی ہنسی روک کر باہر نکلا تو دیکھا وہ امرود والے کھیت میں امرود کے ایک پودے کے نیچے کھڑی تھی۔۔۔۔ میں بھاگ کر وہاں گیا اور سیدھا درخت پر چڑھ گیا یہ درخت واحد ایسا تھا جس کے امرود اندر سے گلابی ہوتے تھے اور ہر امرود میٹھا ہوتا تھا۔۔۔۔۔ میں نے درخت پر چڑھ کر امرود توڑ توڑ کر نیچے پھینکے پھر چھلانگ لگانے سے پہلے اس طرف دیکھا جہاں سے ہم آئے تھے تو وہاں امی اور مامی پھول توڑ رہی تھیں۔۔۔۔ مجھے سمیرہ باجی کے کانوں پر رشک ہونے لگا کہ اتنی مستی میں بھی اس کو دور سے آتی آواز سنائی دے گئی تھی۔۔۔ اگر وہ آواز نہ سنتی تو ہم اب امی اور مامی سے جوتے کھا رہے ہوتے۔۔۔ نیچے اتر کر میں نے بھی امرود کھانے شروع کر دئیے پھر وہاں سے ٹیوب ویل پر گیا اور نہایا کھاڈے میں بیڈ کر شلوار میں ہاتھ ڈال کر لن کو اچھی طرح دھویا ۔۔۔ تب تک امی اور امی بھی آگئیں ہم گھر آئے امی نے جلدی سے تیاری پکڑی اور وہاں سے اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔۔۔ رستے میں بس میں بہت رش تھا وہاں ایک لڑکی میری سیٹ کے قریب کھڑی تھی اس کو ایک لڑکا بار بار تنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔ مجھے اچھا نہ لگا میں کھڑا ہو گیا اور اس لڑکی کو امی کے ساتھ ولی یعنی اپنی سیٹ دے دی۔۔۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس لڑکی نے مجھے غصے سے کہا ادھر کو کر کھڑے ہو مجھ پر سوار نہ ہو ۔۔۔ حالانکہ میں سیٹ سے بھی ہٹ کر کھڑا تھا مجھے بڑا غصہ آیا میں نے اس کا بازو پکڑا اور کھڑا کر کے اس کے دو زوردار تھپڑ لگا دئیے۔۔۔۔ خود سیٹ پر بیٹھ گیا معاملہ بگڑ گیا اب وہ لڑکا جو اس کو تنگ کر رہا تھا آگے بڑھ کر مجھ سے لڑنے لگا۔۔۔۔ بڑی مشکل سے معاملہ رفع دفع ہوا اور ہم باقی کے رستے کی پریشانی سے بچتے گھر پہنچ گئے۔۔۔۔ گھر پہنچے ہی تھے کہ ابا جی نے کہا سب لوگوں نے گاؤں جانا ہے تیار ہو جاؤ۔۔۔ میرا دل سونے کو کر رہا تھا ایک تو رات کی تھکاوٹ دوسرا دن میں یہ سفر کیا لیکن ابا جی کو کون انکار کر سکتا تھا۔۔۔۔ گاؤں میں کوئی شادی تھی جس میں جانا ضروری تھا شادی میرے ابا جی کے چاچا کے بیٹے کی تھی۔۔۔۔ کپڑے وغیرہ پہلے ہی باجی نکال چکی تھیں میں نہانے چلا گیا نہا کر تیار ہوئے ابا جی نے گاڑی منگوا لی اور ہم سب گاؤں چلے گئے۔۔۔۔ گاؤں میں ماحول ہی الگ تھا ہر طرف گہما گہمی شادی کے ہنگامے جاری تھے ۔۔۔ ہمیں پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی تھی ہم پہلے اپنے گھر گئے وہاں کچھ دیر آرام کیا پھر شادی والے گھر باقی لوگ چلے گئے ۔۔۔ میں لمبی تان کر سو گیا رات کے کسی پہر ڈھولک کی آواز اور شور شرابے سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔ جیسا کہ سب بھائیوں کو بتایا تھا کہ میرے دادا لوگ تین بھایی تھے اور تینوں کے گھروں میں کوئی دیوار نہیں تھی ۔۔۔۔ ایک ہی صحن تھا جس کی وجہ سے میرے کمرے تک آواز ایسے ہی آرہی تھی جیسے ہمارے صحن میں ڈھولک بج رہی ہو۔۔۔۔ میری آنکھ تو کھل ہی گئی تھی میں بھی اٹھ کر باہر نکل گیا کھیتوں میں پیشاب کرنے چلا گیا۔۔۔۔ گھر کے ساتھ ہی فصلیں تھیں میں پیشاب کر رہا تھا اپنی مستی میں لن سے لمبی لکیر بنانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔ مجھے کہیں سے کھسر پھسر کی آوازیں سنائی دیں میں نے آواز کی ٹوہ لگائی تو وہ قریب سے ہی آرہی تھی۔۔۔ میں دبے پاؤں چلتا ہوا آواز کی سمت بڑھا جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا آواز واضح ہو رہی تھی۔۔۔۔ میں جو سمجھ رہا تھا یہ آواز کھیت سے آرہی ہے ایسا نہیں تھا یہ آواز ہمارے گھر کے پچھلے طرف بنے بھینسوں کے احاطے سے آ رہی تھی۔۔۔ میں نے چھپ کر دیکھا وہاں دو سایے تھے جو دونوں ہی زنانہ تھیں۔۔۔ مجھے باتیں صاف سنائی نہیں دے رہی تھیں میں اور آگے بڑھا ایک کھرلی (بھینسوں کے چارے کے لیے بنائی جاتی ہے) کی اوٹ میں ہو گیا ۔۔۔ اب مجھے صاف سنائی دے رہا تھا دو لڑکیاں تھیں جن ایک تو پکا چھنو تھی دوسری کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی اس کی آواز سے پتہ نہیں چل رہا تھا۔۔۔۔ میرا لن چھنو کے بارے میں سوچ کر ہی تن گیا ایک تو آج صبح لن سے پانی نا نکال سکا کچھ اس لیے بھی لن دہائی دے رہا تھا۔۔۔۔ میں نے ان کی باتوں پر غور کیا تو چھنو کہہ رہی تھی تو اک واری جا ویکھ تے آ کویی ہو تا نیں اوتھے فیر میں آپے جاندی رواں گی۔۔۔ دوسری لڑکی نہ بابا نہ اگر وہ جاگ رہا ہوا تو اس مجھے واری لگا دینی اے جیسے تم کہہ رہی ہو اس کا اتنا بڑا ہے تو میری تاں پاٹ جانی اے میں نہیں جا رہی۔۔۔۔ چھنو تو بھی نری ڈرپوکل ہیں اب وہ ایسے کیسے تیری مار لے گا تونے پہلے کبھی اس سے واری لوائی اے۔۔۔ وہ لڑکی نا جی مینوں کوئی شوق نیں تو لوا اوہدے توں تے اک بات اور تو خود جا کر دیکھ بلو اکیلا ہے یا نہیں یا اس کو جگا کر جہاں بلانا ہے بلا لے مجھے نہ آکھیں اب میں جاندی پئی ہوں۔۔۔ مجھے اب اس لڑکی کی آواز کی سمجھ آئی یہ کومل تھی شازی کی کزن اور فجے کی دوست اب نمبر کا تو مجھے نہیں پتہ کیوں کہ فجے کو کوئی اور کام تو تھا نہیں بس پھدیاں ڈھونڈتا رہتا تھا۔۔۔۔ کومل یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی چھنو اس کو آوازیں ہی دیتی رہ گیی آخر میں ایک انتہائی ضخیم گالی دی۔۔۔ جیسے ہی کومل وہاں سے کھسکی میں بھی کہڑے جھاڑتا ہوا کھڑا ہوا اور آہستہ سے کہا چھنو۔۔۔ چھنو نے ایک دم گھوم کر دیکھا اندھیرا تھا پہچان تو لن آنی تھی بس اندزہ لگانے لگی کون ہے۔۔۔ میں نے پھر آواز دیتے ہوئے کہا چھنو میں بلو۔۔۔ چھنو نے ادھر ادھر دیکھا اور میرے پاس آکر میرا بازو پکڑ کر ایک طرف اس سے بھی اندھیری جگہ لے گئی۔۔۔ میں چھنو کے زور کھنچتا چلا گیا وہ اتنی سخت جان گاؤں کی الہڑ مٹیار سخت جسم مضبوط قد کاٹھ کی مالک تھی۔۔۔ اس کے ہاتھوں کی گرفت کسی طاقتور مرد کہ طرح تھی اس کے کھینچنے سے مجھے اپنی کلائی پر درد ہونے لگی۔۔۔ ایک طرف لیجا کر مجھے کس کر گلے لگا لیا اور میرے گال ہونٹ ٹھوڑی گردن جہاں تک ممکن تھا وہ چومنے لگی۔۔۔ مجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دے رہی تھی کہ میں بھی کچھ کر سکوں ۔۔۔ اس کی کسنگ کی بے ساختگی اس کا جوش اس کے اندر ابلتے جذبات کی ترجمانی کر رہا تھا۔۔۔ یکدم اس نے اس اندھیرے میں ٹٹول کر میرا لن پکڑ لیا اور اپنی زبان میری منہ میں ڈال دی ۔۔۔ میری زندگی میں اب تک ایسا موقع کم کی آیا تھا کہ کسی کی زبان میرے منہ میں گئی ہو یا میری زبان کسی نے چوسی ہو۔۔۔ اپنی زبان میرے منہ میں گھماتے ہوئے اس نے لن پر اپنا ہاتھ گھمانا جاری رکھا لن تو پہلے ہی اپنی اکڑ دکھا رہا تھا ایک تو پھدی کا ترسہ اوپر سےچھنو جیسی پھدی کا چانس ایک ایسی پھدی جس نے لن کو اس نئے مزے سے روشناس کرایا تھا۔۔۔ میں نے بھی اب اس کا ساتھ دینا شروع کر دیا اپنا ہاتھ اس کے مموں کر رکھ دیا اور دبانا شروع دئیے ۔۔۔ زبان چوستے چوستے چھنو نے لن کو چھوڑا اور اپنی ٹانگوں میں لے کر دبانے لگی وہ اپنی دانست میں لن کو پھدی پر رگڑ رہی تھی۔۔۔۔ جب مزہ نہ آیا تو اس نے میرا ناڑا کھولا اور لن نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔ لن پر مساج کرتے کرتے اس نے اپنی شلوار بھی نیچے کر لی اور دیوار کی طرف رخ کرکے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔ میں اب بچہ تو تھا نہیں سب سمجھ گیا اور کے پیچھے جا کر لن کو پھدی کے لبوں پر پھیرنے لگا۔۔۔ وہ تڑپ رہی تھی اس کو لن کی اتنی شدید طلب ہو رہی تھی کہ اس نے میرے ڈالنے کا انتظار نہ کیا خود ہی لن کو پکڑ کر پھدی میں سیٹ کرکے پیچھے گھسا مارا ۔۔۔۔ خشک لن پھنس کر رہ گیا اس نے ایک بار آگے ہو کر پھر گھسا مارا کچھ اور اندر ہو گیا۔۔۔۔ یہاں سے میں نے کمان سنبھال لی اس کی کمر پر دونوں طرف ہاتھ رکھے اور اس کو قابو کرکے گھسا مارا ۔۔۔ لن پہلے کی طرح ہی تھوڑا سا اور اندر گیا اب میں نے جتنا لن اندر گیا تھا اس کو باہر نکالا پھر سے پھدی کے لبوں میں اچھی طرح پھیرا ۔۔۔ پھر دوبارہ پھدی میں پھنسا کر گھسا مارا آدھا لن اندر ہو گیا اس کے بعد آہستہ آہستہ گھسے مارتے میں نے سارا لن اندر اتار دیا۔۔۔۔ جب لن سارا اندر چلا گیا تو چھنو کے منہ سے ایک واضح سسکی سنائی دی جس سے اس کے اندر اٹھتے طوفان کر کچھ مرہم لگنے کا احساس ہوا۔۔۔ کچھ دیر آرام آرام سے گھسے مارنے کے بعد میں نے گھسوں کی سپیڈ بڑھا دی اور لن کو ایک ردھم سے اس کی گانڈ کی پھاڑیوں پر ہاتھ رکھے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔ گھسے پے گھسا مارتا رہا اس میں اتنا مگن ہوا کہ ارد گرد سے بے نیاز ہو گیا ۔۔۔۔ یکدم چھنو نے پیچھے کی طرف گھسے مارنے شروع کردیے وہ زور زور سے پیچھے ہو کر لن کو ہھدی میں لینی لگی۔۔۔۔ میں گھسا مار کر لن کو اندر کرتا ادھر وہ گانڈ پیچھے لا کر لن کو اندر لیتی اس طرح سے لن زیادہ گہرائی میں جا رہا تھا۔۔۔۔ لن کی سپیڈ بڑھتی جا رہی تھی چھنو کا جوش بھی بڑھتا جا رہا تھا اس نے ایک زودار گھسا مار کر اپنی گانڈ میرے اگلے حصے سے چپکا لی ۔۔۔۔ پھدی نے لن کو جکڑا ایک دم اس کا جسم اکڑا اور میرے لن پر اس نے آب پھدی انڈیلنا شروع کر دیا۔۔۔۔ اس کی پھدی نے میرے لن کو اپنے لیسدار پانی سے سیراب کر دیا۔۔۔ جھٹکے رکے تو میں نے دائیں بائیں نظر گھمائی تو مجھے کچھ فاصلے پر ایک سایہ بے چین نظر آیا ۔۔۔۔ میں نے لن چھنو کی پھدی سے نکال کر اس کے اوپر جھکتے ہوئے اس کے کان میں کہا وہ کون ہے۔۔۔ اس نے فوراً گردن گھما کر ادھر دیکھا اور اسی طرح جھکے جھکے اپنی شلوار پہن لی میرا لن بھی ڈھیلا ہوگیا تھا ۔۔۔ پکڑے جانے کا ڈر لن کو سب سے پہلے چھوارا بناتا ہے یہ میں اب تک اچھے سے سمجھ چکا تھا۔۔۔ میں نے اسی سائے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا آزار بند باندھا اور دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ چھنو نے آہستہ آہستہ دیوار کے ساتھ چلتے ہوئے ایک طرف جانا مناسب سمجھا میں اس کی مخالف سمت چلنے لگا۔۔۔ ابھی آدھا کی سفر طے کیا ہو گا کہ ایک آواز نے میرے قدم روک دئیے۔۔۔۔ یہ آواز اسی سائے کی تھی جو چھنو کو بلا رہی تھی زنانہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ شازی کی تھی جو اس کو ڈھونڈتے ہوئے وہاں آئی تھی ہا شاید۔۔۔۔ خیر شازی نے اپنا رخ میری مخالف سمت میں کیا تو میں جھٹ سے باڑے سے نکل گیا۔۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ چھنو بھی اس کی طرف دیکھ رہی ہو گی اس لیے میں باڑے سے نکل کر ایک بڑا سا مٹی کا کنکر جس کو پنجابی میں روڈا کہتے ہیں اٹھایا اور باڑے میں پھینک دیا۔۔۔۔ خود چھپ کر دیکھنے لگا شازی مڑتی ہے یا نہیں شازی آواز سن کر مڑی ادھر میں نے چھنو کو وہاں سے نکل کر بھاگ کر اندر والی طرف جاتے دیکھا۔۔۔۔ ادھر چھنو اندر گئی ادھر میں گھوم کر دوسری طرف سے گھر میں داخل ہوگیا اور سیدھا شادی والے گھر جا پہنچا۔۔۔ وہاں ماحول ہی اور تھا دیدے اور لالٹین کی روشنی میں لڑکیاں ڈانس کر رہی تھیں جن میں تقریباً سب ہی رشتہ دار تھیں۔۔۔ ڈھولکی پر ہماری میراثن میرے بھایی کی معشوق عاصمہ تھی ایک ردھم کے ساتھ بجا رہی تھی جس ردھم سے ڈھولکی بجتی اسی ردھم سے لڑکیوں کے جسم تھرکتے۔۔۔ اس سیکسی ڈانس کو دیکھ کر مجھے اپنے ادھورے مزے ہر غصہ انے لگا۔۔۔ میں لن کو گالیاں دیتے وہاں سے نکل کر فجے کی تلاش میں نکل پڑا بڑی مشکل سے فجا ملا۔۔۔ فجے سے میں نے حال چال پوچھا اس نے کہا موجاں بابا جی موجاں اج کل پھدی تے پھدی ملدی پئی اے۔۔۔ ہن ای اک پھدی مار کے آیا واں تو سنا شام تو پہلے دا آیا ہویا ایں مینوں ملن دا ٹائم نہیں لبھیا سنا کویی ملی یا بس ۔۔۔۔ میں نے اس کو سب سمجھایا کہ کیسے آئے اور تھکاوٹ کی وجہ سے نیند آگئی اور سو گیا بھی سو کر اٹھا ہوں۔۔۔۔ ہم ایسے ہی باتیں کرتے ایک بار اس طرف آگئے جہاں عورتیں اپنی محفل جمائے لگی تھیں۔۔۔ وہاں آئے تو دیکھا کہ بالو کی بہن میرے چاچی کی بیٹی سانولی سلونی سب کزنوں میں یہ سب سے سیکسی جسم کی مالک تھی ۔۔۔ عمر میں مجھ سے پانچ سال بڑھی ہو گی لیکن اس کا سیکسی فگر کر ایک کو مات دیتا تھا۔۔۔ اوپر سے اس کی ڈریسنگ بھی انتہائی شہوت انگیز ہوتی تھی ۔۔۔ اس کا نام فرحی تھا بڑے بڑے غباروں جیسے ممے باہر کو نکلی ہوئی گانڈ پیٹ نہ ہونے کے برابر جس کی وجہ سے اس کا سینہ بہت بڑا محسوس ہوتا تھا۔۔۔۔ سب لڑکیاں تھک چکی تھیں شاید لیکن وہ اکیلی اپنی کمر مٹکاتی ممے ہلاتی اچھل اچھل کر ڈانس کر رہی تھی۔۔۔ اس کے ہلتے ممے پھر جب وہ نیچے جھکتی تو باہر کو ابلتے ہوئے مموں کا نظارہ لن کو سکڑانے کے لیے کافی دیکھا۔۔۔۔ میں فرح کے پرشباب جسم پر آنکھیں سینکنے میں مگن ہو گیا ۔۔۔ لن اس کی پھدی کے تصور میں ٹن ہو گیا اور اپنی ازلی ہٹ دھرمی پر اتر آیا اور شلوار میں تنبو بنا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ میں مگن ہو کر فرحی کا ڈانس دیکھ رہا تھا اس کا تھرکتا جسم میرے لن پر بجلیاں گرا رہا تھا ۔۔۔ اس کے اچھلتے ممے اس کی مٹکتی گانڈ لہراتی کمر اور اس کی بل کھاتی چال کے ساتھ کمر پر بکھرتے بال میرے اندر ابال پیدا کر رہے تھے۔۔۔ میں فرحی کے آتشیں فگر کو دیکھنے میں اس کے ڈانس سٹیپ دیکھنے اس کے باہر کو ابلتے مموں کو دیکھنے میں محو تھا کہ فجے نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا بس کر کہ ہن ایٹھے ای ٹلی ہویا رہنا اے۔۔۔ ایک تعارف اور کرواتا جاؤں فرحی میرے چاچے کی اور فجے کی خالا کی بیٹی تھی اس رشتے سے فجا فرحی کا زیادہ قریبی تھا۔۔۔ لیکن سالا ایک نمبر کا حرامی تھا اس کو پھدی سے غرض تھی چاہے کسی کی بھی مل جائے۔۔۔ میں نے فجے کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں فرح کے کیے ہوس واضح نظر آ رہی تھی۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہم کچھ دیر اور رکتے ایک ہماری بڑی اماں نے ہمیں ڈانٹ کر بھگا دیا اس نے چار پانچ پنجابی کی سٹھنیاں بھی سنا دیں۔۔۔ سٹھنیاں تو پنجابی ثقافت کا حصہ ہیں جو لوگ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں وہ تو سب جانتے ہیں جو بھائی پنجاب سے نہیں ہیں ان کی زبان میں سٹھنیوں کا نام کچھ اور ہوگا لیکن وہ کلچر میں شامل ہوں گی۔۔۔ ہم دم دبا کر بھاگے لیکن دوسری طرف سے ایک اور عورت نے جو رشتے میں ہماری پھپھو لگتی تھی اس نے ہمیں پکڑ لیا اور ہم نے کانوں میں انگلیاں دے کر وہاں سے نکلنے کی کی۔۔۔ اس دوران میری نظر فرحی پر پڑی جو مجھے دیکھ کر ہنس رہی تھی میں نے بھی نظر بھر کر اس کو دیکھا آج شاید اس نے بھی میری نظر کا مفہوم سمجھ لیا تھا اس لیے نظر چرا گئی۔۔۔۔ ہم وہاں سے نکل کر اپنے ایک خفیہ اڈے پر گیے جہاں سب کزن اکٹھے تھے اور وی سی آر لگائے بیٹھے تھے۔۔۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھی رات کے پچھلے پہر بالو نے ایک کزن کو کہا جا باہر ویکھ کر آ سب امن اے۔۔۔۔ میں اس کی بات کا مطلب نہ سمجھا میں نے اس سے پوچھا بھی کیا مطلب ہے لیکن اس نے مجھے چپ کر کہہ کر خاموش کروا دیا۔۔۔ وہ لڑکا باہر سے گھوم کر آیا اور کہا سب اوکے ہے بالو اٹھا اس نے جو فلم چل رہی تھی وہ نکال دی اور باہر والا دروازہ بند کر دیا۔۔۔ پھر فکم کو روائنڈ کیا اور چلا کر پیچھے آ کر بیٹھ گیا۔۔۔ جیسے کی فلم چلی میرا لن پہلے سین پر کی تن گیا اس فلم میں سیکس تھا مطلب وہ سیکسی فلم تھی ۔۔۔ ٹرپل ایکسس بولتے تھے ہم یا اس کو بلیو فلم کہتے تھے اب بھی کئی لوگ بلیو فلم بولتے اور جدت کے ساتھ اس کے کئی نام پڑھ گئے ہیں جیسے ٹوٹا مکھن ملائی یا من و رنجن کا سامان وغیرہ وغیرہ۔۔۔ مجھ سے اب برداشت کرنا مشکل ہو گیا تو فجے سے کہا یار کچھ کر اب تو لن پھٹنے والا ہو گیا ہے۔۔۔ فجا ہنسا اور بولا مٹھ مار لو بالو کی طرح اب اور کیا کر سکتے ہیں۔۔۔ لیکن میری ضد جاری رہی تو فجا بولا چل آ فیر اج تینوں اک ہور جگہ وکھاواں۔۔۔ وہ مجھے لے کر باہر نکلا اور گاوں کی دوسری طرف جہاں دوکان تھی وہاں آگیا میں نے حیرانی سے پوچھا ادھر کہاں۔۔۔ فجے نے کہا صبر کر ہن ٹھنڈ رکھ بس بولیں ناں تینوں پھدی بس ایتھوں ای لبھ سکدی اے۔۔۔ اس نے ایک دروازے پر رک کر کہا چپ کرکے اندر آ جائیں بولنا نیں۔۔۔ اس نے دروازے کو ہلکا سا کھڑکایا وہ گھر نجاں لوہاری کا تھا جس کا شوہر آرمی تھا اور اس کا چکر میرے بھایی کے ساتھ بھی تھا لیکن ایک میرے بھائی سے نہیں تھا کئیوں کے بھائیوں سے اور چاچوں سے بھی تھا۔۔۔ ایک منٹ بعد اندر سے کسی نے دروازہ کھولا فجا بغیر ہچکائے اندر داخل ہو گیا۔۔۔ میں بھی اس کی تقلید میں اندر چلا گیا نجاں تھی یا جو بھی تھا اندھیرے میں لن نظر آنا تھا اس نے دروزاہ بند کیا ۔۔۔ وہ ہمیں لے کر ایک کمرے میں آگئی کمرے میں دیا ہلکی ہلکی روشنی پھیلا رہا تھا وہاں دو چارپائیاں تھیں دونوں خالی تھیں ایک پر فجا بیٹھ گیا میں بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔۔ نجاں نے پوچھا ہاں فجے اہنوں کیویں نال لئی پھرنا ایں آ شہری بچہ اے ایویں مروا نہ دینا۔۔۔ فجا تو بے فکر رہ تے اس کو خوش کر وہ مسکرائی اور بولی میں خوش کروں یا ثوبیہ کو کہوں ۔۔۔۔ فجا تو میرے نال چل اس کے لیے ثوبیہ ٹھیک ہے میں نے فجے سے پوچھا کیا مطلب ۔۔۔ فجے نے نجاں کو اشارہ کیا وہ باہر نکل گئی تو فجے نے مجھے کہا پھدی دیا ہن وی پچھدا پیا ایں کی اے وہاں تو بڑی آگ لگی تھی ۔۔۔ لینی دیا ثوبیہ بڑی پولٹ بچی اے تو خوش ہو جائیں گا اس کی پھدی مار مزہ کر ۔۔۔ میں۔۔۔ سالیاں لن تے دندیاں نا وڈ تجھے پھدی مارنے کا کہا تھا تو نے ماں یوائی نہیں کہ یہاں پھدی مل جائے گی۔۔۔ فجا ہن دس دےا ہے اب وہ ثوبیہ کو بھیجے گی ٹائم ضائع نہ کرنا سیدھا کپڑے اتار کر پھدی مار لینا۔۔۔ فجا اسی وقت باہر نکل گیا اس کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ جہاں کافی بار آچکا ہے اس لیے وہ اس گھر اے اچھے سے واقف تھا۔۔۔ کچھ کی دیر میں ایک چھوٹی عمر کی لڑکی اندر۔ داخل ہوئی گورا رنگ بڑی بڑی آنکھیں ان آنکھوں میں چمک اور مجھے دیکھ کر حیرانی تھی۔۔۔ ایک نظر میں دیکھ کر وہ معصوم بچی کی نظر آئی لیکن جب وہ دروازہ بند کرکے گھومی تو اس کے سینے کا ابھار بتا رہا تھا کہ کلی نہیں ہے بلکہ اب پھول بن چکی ہے۔۔۔ میں اس خوش کی قسمت پر رشک کرنے لگا جس نے اتنی خوبصورت کلی کو پھول بنایا ہوگا۔۔۔ وہ چلتی ہوئی قریب آئی اپنا دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا پھر اپنی قمیض اتارنے لگی قمیض جیسے ہی اتاری اس کا گورا بدن دیوے کی روشنی میں دمکنے لگا۔۔۔ اتنا گورا رنگ اوپر سے بے داغ بدن جس کو دیکھ کر میں بچی سمجھ رہا تھا اس کے ممے ایک بڑے سائز کے کینوں سے بڑے تھے۔۔۔۔ مموں کو لال برا میں قید می سزا دی ہویی تھی اس نے جھک کر شلوار اتاری اور اپنی ٹانگوں سے نکال دیا۔۔۔ اس کے بعد وہ میرے قریب آئی۔۔۔۔۔ اس کا جسم سنگ مر مر کی طرح تراشا ہوا تھا مموں کو لال برا میں قید کیے اپنے خوبصورت ہاتھوں سے اس نے میری قمیض کے بٹن کھولے۔۔۔ بٹن کھول کر اس نے قمیض اتار دی پھر میرا ناڑا کھول کر شلوار اتارنے لگی تو میں نے اس کو کہا چارپائی پر آجاؤ۔۔۔ وہ چارپائی پر میرے ساتھ بیٹھی پھر لیٹ گئی۔۔۔
  3. اپڈیٹ میں جو سمجھ رہا تھا کہ سمیرہ باجی پر نیم بے ہوشی کا دورہ پڑ رہا ہے میری خام خیالی نکلی۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر آنکھیں کھولیں اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہا مجھ سے کون سا بدلا لے رہے ہو۔۔۔۔ میب کچھ نہ سمجھا لن کو آرام سے پیچھے کھینچا اس نے ایک بار پھر آنکھیں بند کر لیں چہرے پر کرب کے آثار تھے جو میری مردانگی کو تسکین دینے کے لیے کافی نہیں تھے۔۔۔۔ لن کو آدھا باہر نکال کر رکا تو اس نے اپنے ہاتھوں سے مجھے پیچھے دیکھیلنا چاہا اگر میں نے اس کی گردن کے نیچے بازو نہ رکھا ہوتا تو یقیناً میں پیچھے گر جاتا ۔۔۔۔ مجھے غصہ آگیا میں نے لن کو زور دار گھسے سے اندر گھسا دیا اس کی پھر آہ نکلی لیکن یہ پہلے والی چیخ کے مقابلے میں کم تھی۔۔۔۔ بس پھر کیا تھا سمیرہ باجی کی گردن کے نیچے ایک بازو رکھ کر اس کو قابو کیا اس کی ایک ٹانگ کو دوسرے بازو سے فل اوپر کیا ایک جتنی اوپر اٹھی تھی وہیں رہنے دی ۔۔۔۔ ایک نان ساپ پمپ ایکشن سٹارٹ کر دیا لن کو اتنی سپیڈ اور غصے کو اندر باہر کرنے لگا کہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں میرا سانس پھولنے لگا لیکن رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔ اب اس کی آہوں میں بھی کمی آگئی تھی شاید سمیرہ باجی نے بھی سمجھوتا کر لیا تھا کہ لن جا تو چکا ہے اب کیا فائدہ مزہ لینا چاہئیے۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور مجھے فل آزادی مل گئی اب لن اور پھدی کا اصل کھیل شروع ہوا ۔۔۔۔ میرے گھسے کا مقابلہ سمیرہ باجی کی پھدی نہ کر سکی اس نے جلد ہی پھڑکنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی کے وہ ہاتھ جو مجھے کچھ دیر پہلے دھیکیل رہے تھے اب میری کمر آ چکے تھے اس نے دوسری ٹانگ اٹھا کر میری گانڈ پر رکھ دی۔۔۔۔۔ مجھے اپنی طرف کھینچنے لگیں میں بھی جوش میں اور زور سے گھسے مارتا جا رہا تھا ۔۔۔ سمیرہ باجی کی آہ آہ آہ بببلللوووو مجھے کچھ ہو رہا ہے نہ کرو بلللوووو آہہہ امییی جیییی میری جان نکل رہی ہے کی آوازیں آنے لگیں تھیں۔۔۔۔ وہ مجھے اپنے اوپر کھینچ رہی تھی نیچے سے اپنی گانڈ بھی ایک ردھم سے اٹھا اٹھا کر لن کو لے رہی تھی۔۔۔۔ یکدم اس نے مجھے اتنے زور سے اپنی طرف کھینچا کہ اس کے ناخن مجھے اپنی کمر پر چبھتے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔۔ اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر میرا اور اپنا سانس ایک کر دیا۔۔۔۔ گانڈ کو زور سے لن پر مارا جسم کٹی ہو مچھلی کی تڑپا پھدی نے لن کو جکڑ لیا لن کو اتنی زور سے اپنے قابو میں کیا کہ لن پھٹنے والا ہو گیا ۔۔۔۔ اس کا پورا جسم اوپر کی طرف اٹھا اور پھدی کے مسام کھلے لن پر پانی کی برسات ہونے لگی۔۔۔۔ سمیرہ باجی کی پھدی نے اپنی زندگی کی پہلی چودائی کی خوشی میں میرے لن کو نہلانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔ قریب ایک منٹ تک اس کا جسم جھٹکے کھاتا رہا اور پھدی کھلتی بند ہوتی رہی جب اس کا جسم ڈھیلا ہوا تو میں نے ایک بار پھر سے لن سے اپنا ایکشن سٹارٹ کیا۔۔۔۔ پھدی کے اندر دھواں دار دھکے مارنے شروع کر دئیے گانڈ اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے لگا سمیرہ باجی بار بار مجھے کہہ رہی تھی بلو بس کرو مجھ سے اور نہیں ہو رہا میری بس ہو گیی ہے۔۔۔۔ لیکن مجھ تو پھدی کی گرمی سوار ہو چکی تھی اتنی ٹائٹ پھدی کبھی کبھی ہاتھ آتی ہے۔۔۔۔ میں کیسے جانے دیتا مسلسل ایک ہی سٹائل میں لگا ہونے کی وجہ سے اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں تھیں اور میں بھی تھک رہا تھا ۔۔۔۔ میں نے لن باہر نکالا اور سمیرہ باجی کو ایک دم پلٹ کر الٹا کر دیا اس کی گانڈ کو اٹھایا اس نے سییی کی اور کہا بلو آرام نال کر لے ہن میں نہیں روکدی۔۔۔۔ اس کی گانڈ اٹھائی ممے اس کے نیچے لگے تھے گانڈ باہر نکل آئی اس کی سفید گانڈ جو گوشت سے بھری ہوئی تھی اس میں سسے موری نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔ میں نے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر گانڈ کے نیچے سے پھدی کے سوراخ پر رکھا اور ایک دم گھسا مارا لیکن اس کی کمر کو پکڑنا نہیں بھولا۔۔۔۔ وہ گرتی گرتی بچی اس کے بعد ایک اور گھسا مارا تو لن سارا اندر چلا گیا پھر تو گانڈ کو پکڑا اور ہو گیا شروع ۔۔۔۔ مجھے چودائی کرتے ہوئے تقریباً بیس منٹ ہو چکے تھے اور اس دوران سمیرہ باجی کی پھدی کا پردہ بکارت بھی پھاڑا تھا ۔۔۔۔ میرا لن بھی اب اپنی گرمی نکالنے کے لیے بے چین ہو رہا تھا اس لیے فل جوش سے گھسے مارنے لگا اس نے بھی گانڈ کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ میرے ہر گھسے سے اس کے چوتڑ تھپ تھپ کی آواز دے رہے تھے جوش میں ایک دو بار میں نے چوتڑوں پر تھپڑ بھی جڑ دیا تھا۔۔۔ آخر وہ لمحہ بھی آگیا جو اس سب سین کا سب سے زیادہ مزیدار ہوتا ہے جب انسان کا دل کرتا ہے لن اس سے بھی آگے کہیں ٹھوک دوں ۔۔۔۔ ادھر میں زور سے گھسے مار رہا تھا دوسری طرف سمیرہ باجی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی اور زور سے بلو اور زور مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔ اس کی ہلا شیری مجھے مزید طیش دلا رہی تھی یکدم سمیرہ باجی کا جسم ایک بار پھر اکڑنے لگا اس نے زور سے اپنی گاند میرے لن پر ماری اور نیچے لیٹتی چلی گئی۔۔۔۔ میں بھی اس کے اوپر لمبا ہوتا گیا اور گھسے مارتا رہا جب مجھے لگا کہ اب لن نے اپنا فوارا چھوڑنا ہے میں لن کو باہر نکالا اور اور سمیرہ باجی کی گاند کی دراڈ میں رکھ کر اوپر لیٹ گیا۔۔۔۔ لن نے اپنی اکلوتی آنکھ کھولی اور گانڈ کی دراڈ میں آنسو بہانے لگا سمیرہ باجی کا بھی جسم کانپ کر ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔۔۔۔ میں کچھ دیر اس کے اوپر لیٹا فارغ ہوتا رہا جب لن نے آخری قطرہ بھی بہا دیا تو سمیرہ باجی کے اوپر سے اتر کر ایک طرف چھت کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا اور سانس بحال کرنے لگا۔۔۔۔ سمیرہ باجی بھی کچھ دیر الٹی لیٹی رہنے کے بعد سیدھی ہوئی ایک سئی کی آواز کے ساتھ انہوں نے اپنی پھدی پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔ پھر ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولیں آہ یہ کیا کر دیا تم نے میری پھاڑ دی ہے اتنا درد تو کبھی زندگی میں نہیں ہوا۔۔۔۔ میں باجی کچھ نہیں ہوتا یہ تو زندگی میں کر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے ایک بار تو کسی نے پھاڑنی کی ہوتی ہے کسی کی جلدی پھٹ جاتی ہے تو کسی کے تھوڑی دیر سے لیکن پھٹنی لازمی ہوتی ہے۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے مجھے گھورتے ہوئے کہا بڑا بے شرم ہے ابھی بھی مجھے باجی کہہ رہے ہو میری جان نکال کر رکھ دی اور کہہ رہا ہے کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ میں باجی آپ کو باجی نہ کہوں تو اور کیا کہوں آپ کو بچپن سے باجی کہتا آرہا ہوں اب عادت ہو گئی ہے۔۔۔۔ سمیرہ باجی ۔۔۔۔باجی کی پھاڑتے ہوتے ہیں اور خون بھی نکالتے ہیں ساتھ میں ںے شرمی والی باتیں بھی کرتے ہیں۔۔۔ میں۔۔۔۔ اس میں بے شرمی والی کونسی بات ہے کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ہر لڑکی کی پھدی میں لن جانا ہے جلد یا بدیر ہر لڑکی یہ مزہ چکھتی ہے۔۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ شرم کرو کتنے گندے ہو تم کتنی بے حیائی کی باتیں کرتے ہو۔۔۔ میں۔۔۔ لو جی اب پھر آپ لیکچر دینے لگ جاؤ ابھی کچھ دیر پہلے ہم کیا کر رہے تھے۔۔۔۔ سمیرہ باجی ۔۔۔۔ چپ اب اگر تم کوئی ایسی ویسی بات کی تو پھر دیکھنا۔۔۔ یہ کہہ کر اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو درد سے کلبلا اٹھی بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھی اور اپنی پھدی پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔۔ نیچے جھک کر سمیرہ باجی نے پھدی دیکھی تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں اس نے کہا بلو یہ کیا اتنا خون نکلا ہوا ہے یہاں سے تم سچ میں پھاڑ دی ہے ۔۔۔۔ میں۔۔۔ باجی کچھ نہیں ہوا یہ ہر لڑکی کے پہلی بار نکلتا ہے اس کے بعد کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے غصے سے کہا تمہیں بڑا پتہ ہے یہ سب تم پہلے بھی یہ سب کرتے ہو۔۔۔ میں ۔۔۔۔نہیں نہیں باجی یہ تو دوستو سے سنا ہے میں آپ کو ایسا ویسا نظر آتا ہوں۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔۔ ایسا ویسا سے کیا مطلب ہے مجھے تم ایسے تیسے جیسے بھی لگتے ہو تم جو نظر آتے ہو وہ ہو نہیں۔۔۔۔ میں نے ایک کپڑا ڈھونڈا اور سمیرہ باجی کی پھدی کو اس سے صاف کیا اور اپنے لن کو بھی صاف کرنے کی کوشش کی جس پر خون جم چکا تھا۔۔۔ کچھ دیر ایسے ہی ہم بیٹھے باتیں کرتے رہے سمیرہ باجی بار بار اپنی پھدی کو ہاتھ لگا کر چیک کر رہی تھی اس نے ابھی تک شلوار نہیں پہنی تھی۔۔۔۔ میں نے اٹھ کر نئے گانوں کا ایک پورا فولڈر ہی پلے کر دیا گانے کافی ہیجان خیز تھے کبھی بکنی میں لڑکی اور لڑکا رومانوی حرکات کرتے تو کبھی لڑکی صرف برا اور پینٹی میں نظر آتی ۔۔۔۔ ایک سین تو انتہا کر گیا جس میں لڑکا اور لڑکی دونوں ایک ہی کمبل میں تھے لڑکی نیچے لیٹی تھی لڑکا اوپر لیٹ کر آگے پیچھے ہل رہا تھا۔۔۔۔ میں نے یہ سین دیکھتے ہوئے سمیرہ باجی کی طرف دیکھا جو یہ سین دیکھنے میں محو تھیں اور ان کا ہاتھ خود بخود ہی پھدی کو سہلا رہا تھا۔۔۔۔ یہ سین بار بار آرہا تھا لڑکی لڑکا کسنگ بھی انتہا کی کر رہے تھے کوئی تین منٹ کے اس گانے میں ایسے کئی سین آئے ایک سین میں لڑکی کی ننگی کمر نظر آ رہی تھی وہ ایک سٹول پر بیٹھی تھی لڑکا اس کی کمر پر کسنگ کرتا ہے ۔۔۔۔ یہ سین دیکھ کر میرے لن کا سین بھی دیکھنے لائق ہو گیا تھا ایک بار پھر تن کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔ سمیرہ باجی پر بھی ایک بار پھر شہوت کا دورہ پڑ چکا تھا میں نےاس کی آنکھوں میں کال ڈورے دیکھ لیے ہم قریب قریب ہی بیٹھے تھے۔۔۔۔ میں ہاتھ بڑھا کر اس کی پھدی پر رکھ دیا اور مسلنے لگا سمیرہ باجی نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ کر رکھ کر دبانے لگی۔۔۔۔ میں نے کچھ دیر ایسے ہی کرنے دیا اس کے بعد بڑے پیار سے ان کا ہاتھ پکڑا اور اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر اپنے لن پر رکھ دیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے ایک دم آنکھیں کھول لیں اور میرے لن کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگیں۔۔۔ ہھر ہکلا کر بولیں بلو اینا وڈااا میری وچ گیا سی اس نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔۔۔۔ میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ایک بار پھر سمیرہ باجی بولی یہ کیسے چلا گیا تھا اپنی پھدی پر ہاتھ لگا کر کہا یہاں تو چھوٹا سا سوراخ ہے۔۔۔۔ اب میں اس کو کیسے سمجھاتا کہ اس سوراخ ہی تو آدھی دنیا پاگل کی ہوئی ہے اس سوراخ بڑے بڑے سورما غرق ہو گئے۔۔۔ میں نے پھر بھی کہا باجی یہ اتنا چھوٹا سا جو نظر آرہا ہے جب اس میں یہ جاتا ہے تو یہ خود بخود ہی کھل جاتا ہے۔۔۔ اس کو سمجھ تو نہ آئی لیکن وہ چپ ہو گیی اور لن کو اوپر نیچے سے دیکھنے لگی۔۔۔۔ میں نے ایک پھر اس کی پھدی کو مسلنا شروع کر دیا اس کی لن پر گرفت سخت ہو گئی وہ مٹھیاں بھرنے لگی۔۔۔۔ میں نے آگے ہو کر اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور پھدی میں انگلی ڈال دی اس کی سئیی کی آواز میرے منہ میں دب گئی اس نے میرے ہونٹوں کو جوش سے چوسنا اور لن کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔۔ پھدی پانی سے بھر چکی تھی میری انگلی گیلی ہو گیی تھی مجھے وہ چدنے کے لیے تیار لگی۔۔۔۔ بہت آرام سے اس کی قمیض اتاری اور اپنی بھی اتار دی مموں کو ننگا کیا سمیرہ باجی کو لٹا لیا اور اس کے اوپر آگیا۔۔۔۔ اوپر آکر لن کو پھدی پر لگا کر رگڑنے لگا اور مموں کو دبانے لگا اپنے ہونٹ اس کی گردن کر رکھے اور زبان گھاتے ہوئے نیچے آنے لگا۔۔۔۔ مموں کے دائیں بائیں زبان گھما کر میں نے نپل منہ میں لے لیا دوسرے ممے کے نپل کو مسلنے لگا۔۔۔۔ میرا لن جو پھدی پر رگڑ کھا رہا تھا سمیرہ باجی اس کو پھدی میں لینے کے لیے تڑپنے لگی۔۔۔ اس نے پھدی کو لن پر مارنا شروع کر دیا میں اس کی تڑپ سمجھ گیا میں نے لن کو پھدی کے لبوں میں گھسایا ہاتھ سے سیٹ کیا ۔۔۔۔ اس کے بعد لن پر دباؤ بڑھانے لگا کچھ کی دیر میں آدھا لن اندر ہو چکا تھا میں اب کبھی ایک مما چوستا تو کبھی دوسرا چوستا۔۔۔۔ لن جتنا اندر تھا اتنے کو ہی رہنے دیا اور اور ہاتھ اور منہ سے مموں سے کھیلنے لگا۔۔۔۔ لیکن سمیرہ باجی سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ بہت گرم ہو چکی تھیں انہوں نے۔ نیچے سے خود ہی ہلنا شروع کر دیا لن تھوڑا سا باہر نکلتا پھر وہ گانڈ اٹھا کر اپنی پھدی میں سما لیتیں۔۔۔۔ سمیرہ باجی کی تڑپ کو دیکھتے ہوئے میں نے لن کو ایک دو باہر کرکے اندر کیا اور ہر بار کچھ زیادہ کر دیتا جب تھوڑا سا رہ گیا تو میں ایک ہی بار میں زوردار گھسا مار کر اندر کر دیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے میرے سر پر ایک ہلکی سی چپت لگائی اور بولی تیرے کولوں آرام نال نہیں ہوندا۔۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا مزا نہیں آرہا تھا سوچا ایک ہی بار میں کر دوں۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ ایک ہی بار میں کر دوں اگلے کا چاہے اندر پاٹ جائے تیرا مزا ہو جائے گا۔۔۔۔ میں نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا اور اہستہ آہستہ گھسے مارنے شروع کر دئیے ۔۔۔ سمیرہ باجی نے اپنے ہاتھ میری کمر پر رکھ لیے اور ٹانگیں جتنی کھول سکتی تھی کھول لیں۔۔۔ کچھ دیر ایسے ہی گھسے مارنے کے بعد میں نے سمیرہ باجی کی ٹانگیں اپنے بازوؤں میں لے کر اس کے سینے سے لگا لیں۔۔۔ اس ظرح سے پھدی میں لن زیادہ گہرائی تک جاتا ہے اس لیے ٹانگیں اس کے سینے سے لگائیں۔۔۔ پھر تو وہ میرے شکنجے میں آگئیں میں نے گھسوں کی برسات شروع کر دی ۔۔۔ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے لگا سمیرہ باجی کی پھدی پہلے بھی دو بار پانی چھوڑ چکی تھی اس لیے کافی پانی تھا جس سے لن کو اندر جانے میں زیادہ دشواری نہیں کو رہی تھی۔۔۔۔ لن پھدی میں جاتا اور میرے ٹٹے شریف اس کی گانڈ اور پھدی کے درمیان والی جگہ پر جا لگتے۔۔۔۔ سمیرہ باجی کی آہ اہ اہ کی آوازیں ابھی سے آنا شروع ہو گئیں تھیں اس کی وجہ لن کا گہرائی میں سٹ مارنا تھا۔۔۔۔ لن جب پھدی میں جاتا تو ٹھپ کی آواز آتی اور ٹٹے جب اس کی موٹی گانڈ کے گوشت سے ٹکراتے تو اس وقت بھی ٹپ ٹلپ کی آواز آتی۔۔۔۔ یہ آوازیں میرے جوش کو بڑھاوا دے رہی تھیں میں اور جوش سے ٹھکائی کرتا ۔۔۔ سمیرہ باجی بھی اسی ظرح آہ آہ اہ ببللللوووو کہتی ۔۔۔ اس کی ٹون ایکدم بدلنے لگی کیونکہ پانچ منٹ ہو چکے تھے اسی ظرح پھدی میں کن گھسائے اور ٹھکائے کرتے۔۔۔۔ اس نے آہہہہہہہہہ آہہہہہہ آئییہییی امممییییی ایسے ہی مارو اور زور سے نارو میری پیاس بجھا دو بلووو تتتتووومممم بہہہیتتت اچچھھھےےے ہو۔۔۔ کہتی ایک دم اس کی پھدی میں لن پھنس گیا پھدی اتنی ٹایٹ ہو گئی کہ مجھ سے گھسا نہ لگا ۔۔۔۔ چند سیکنڈ بعد اس کی پھدی نے میرے لن کو اپنی منی سے نہلا دیا۔۔۔۔ جب وہ فارغ ہو گئی تو میں بیڈ سے نیچے اترا اس کو گھوڑی بنایا اپنا لن ہاتھ میں پکڑا اور اس کی گانڈ کے نیچے سے گزار کر پھدی میں اتار دیا۔۔۔۔ اب نے بغیر ہچکچاہٹ کے سمیرہ باجی کے پھدی میں لن اتار دیا تھا یک ہی جھٹکے میں۔۔۔۔ اس نے صرف سئیی کیا تھا اور پھر اس کی موٹی گانڈ کو دونوں طرف سے تھام کر لن کو ایسا گھسایا کہ سمیرہ باجی کا انجر پنجر ڈھیلا کر دیا۔۔۔۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے بڑھا کر اس کے دونوں ممے پکڑ لیے یعنی گھوڑی کی لگامیں تھام لیں ۔۔۔۔ ہیچھے سے پمپ ایکشن سٹارٹ کر دیا لن اس سٹائل سے ایک خاص رفتار سے اندر باہر ہو رہا تھا ۔۔۔ سمیرہ باجی کے مموں کو تھامے پیچھے سے لن دھسا دھوس گھسا رہا تھا سمیرہ باجی آہ او آہ اہ ہممم کی آوازیں نکال رہی تھی۔۔۔۔ مسلسل گھسے مارنے سے میرے ٹٹے کو اس کے نرم رانوں کے بیچ میں ٹکرا رہے درد ہونے لگ گئے۔۔۔۔ میں نے سمیرہ باجی کو کہا باجی بیڈ سے نیچے اتر آئیں لن پھدی سے نکال لیا۔۔۔۔ اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا میں اس کو پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچ کر بیڈ سے نیچے کیا ۔۔۔ جب وہ بیڈ سے نیچے ہو گییں تو ایک بار پھر ان کو کوڈا کر لیا اب میں میرا لن اوپر ہو رہا تھا اس پوزیشن میں مجھے جھک کر لن گھسانا پڑتا ۔۔۔۔ جب بات نہ بنی تو میں بیڈ پر بیٹھ گیا اور سمیرہ باجی کو اپنی گود میں میری طرف کمر کے بیٹھنے کا کہا وہ مان گئیں۔۔۔۔ گھوم کر میری طرف پیٹھ کی میں نے لن کو پکڑ ان کی پھدی پر ایڈجسٹ کرتے ہوئے نیچے انے کا کہا وہ بہت آرام سے ڈرتے ڈرتے لن کر بیٹھ رہی تھیں جب زیادہ دیر لگی تو میں نے نیچے سے ایک گھسا مار کر سارا کن اندر اتار دیا۔۔۔۔۔ سمیرہ باجی کے منہ سے آہ کی آواز آئی اس کے بعد میں نے ان کی کمر پر دونوں طرف ہاتھ رکھے اور ان کو اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔ سٹارٹ میں مجھے کافی زور لگانا پڑا لیکن جب ان کو سمجھ آگئی تو وہ خود ہی اوپر نیچے ہو کر لن کی سواری کرنے لگیں۔۔۔۔ ان کی سپیڈ بہت آہستہ تھی اس لیے مجھے مزہ نہیں آرہا تھا میں زوردار گھسائی چاہتا تھا جس یہاں گھسوں کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔۔ اس پوزیشن میں دو منٹ میں ہی سمیرہ باجی تھک گئیں وہ آرام سے لن پر بیٹھ گئیں ۔۔۔۔ میں نے ان کو اٹھایا اور بیڈ پر لے گیا ان کو لٹا کر ایک ٹانگ اٹھا کر سیدھی کر کی دوسری کو سیدھا بیڈ پر رہنے دیا ۔۔۔۔۔ پھدی پر لن رکھا اور ایک گھسا مارا آدھا لن اتر گیا دوسرا گھسا مارا تو سارا لن پھدی میں گھس گیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی اپنے چہرے کے تاثرات سے باور کرایا کہ لن نے ان کو بڑی چنگی سٹ ماری ہے۔۔۔۔ اس کے بعد ہوا میرے لوڑے کی سپیڈ کا اصل امتحان شروع میں نے لن کو انے واہ گھسانا شروع کر دیا۔۔۔۔ اس پوزیشن میں پھدی اور ٹائٹ ہو گئی تھی اس لیے لن کو بھی رگڑ زیادہ لگ رہی پھدی کو جو لگ رہی تھی اس کا اظہار سمیرہ باجی کی آہیں دے رہی تھیں۔۔۔۔ میں ایک ٹانگ تھامے لن کو پھدی میں ایسے گھسا رہا تھا جیسے کوئی نلکے کا بور کرتے ہوئے پلی سے پائپ کو اٹھا اٹھا کر مارتے ہیں۔۔۔۔ سمیرہ باجی اتنی زیادہ رگڑ برداشت نہ کر سکیں ان کی پھدی نے لن کو جکڑ کر اپنی بے بسی کا اظہار کر دیا۔۔۔۔ جب پھدی نے اچھے سے لن پر برسات کر دی تو سمیرہ باجی نے اپنی ٹانگ کر ہاتھ رکھ کر کہا بلو اب یہ درد کر رہی ہے ۔۔۔ میری ٹانگوں میں جان نہیں رہی بس کر دو لیکن میں کہاں بس کرنے والا تھا میرے لن کو ایسی پھدی کب نصیب ہو کیا پتہ اس لیے آج ساری کسر نکالنا چاہتا تھا۔۔۔۔ میں نے اس کو ٹانگ کو بھی نیچے رکھ دیا دونوں ٹانگیں بیڈ کر کے میں ٹانگوں کے درمیان آیا ٹانگوں کو اتنا کھولا کہ میں درمیان میں آگیا۔۔۔۔ لن کو پھدی کر رکھ کر اوپر لیٹتے ہوئے لن پھدی میں گھسا دیا۔۔۔۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے پہلی بار اس پھدی میں لن گھسا رہا ہوں ایسا تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا اس ہوزیشن میں بھی لن پھدی میں واڑا جا سکتا ہے۔۔۔۔ تھوڑی مشکل سے لن اندر گیا لیکن پھر بھی سارا نہ گیا جتنا اندر گیا اتنا کی کافی تھا ۔۔۔۔ میں اسی کو اندر باہر ٹھوکنا شروع کر دیا اس پوزیشن میں میں گانڈ کو اگے پیچھے کر گھسانے لگا۔۔۔ اب تو ڈبل مزے ہو گئے تھے سینہ سمیرہ باجی کے مموں پر تھا میرے ہونٹ اس کے منہ کے پاس تھے ۔۔۔ سمیرہ باجی نے کچھ دیر انتظار کیا پھر میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں کے کر چوسنے لگی۔۔۔۔ میں نے ایک ہاتھ ان کے ایک ممے پر رکھا اور دبانے لگا سمیرہ باجی نے جلد ہی سسکیاں بھرنی شروع کر دیں مجھے بھی اب اپنا وقت قریب لگ رہا تھا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے دونوں ٹانگیں اٹھا کر میری کمر کے گرد لپیٹ لیں مجھے کھلا رستہ مل گیا جس کا میں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور لن کو تیزی سے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔ سمیرہ باجی اب جوش سے مجھے چوم رہی تھیں کبھی گال کبھی ہونٹ کبھی گردن پر کس کرتی کبھی کبھی کاٹ بھی لیتی ۔۔۔۔ میں مزے میں ڈوب گیا تھا مجھے کوئی درد نہیں فیل رہا تھا ۔۔۔ ایسے کرتے کرتے میں نے آخری جاندار گھسے مارنے شروع کر دئیے اب اتنی زور سے گھسے ما رہا تھا کہ نیچے بیڈ کی چون چون ہونے لگی تھی۔۔۔۔ میں پسینے سے بھیگ چکا تھا میرے سینا اور سمیرہ باجی کے ممے اب پسینے کی وجہ پچ پچ کر رہے تھے لیکن ایک جنون سوار ہو چکا تھا سمیرہ باجی مجھے ہلا شیری دینے لگیں۔۔۔۔ بلو کر آہ اہ آہ ایسے ہی کر اور زور سے اور آگے کر ایسی سٹ مار کہ اندر پاٹ جائے آہ آہ بلو میں ہواؤں میں اڑ رہی ہوں ۔۔۔۔ میں بھی مزے کی بلندیوں پر تھا میرا لن بھی پھدی کی گہرائیوں میں سیر کر رہا تھا میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ لن اتنا اور ہوتا اور میں سمیرہ باجی کا اندر پاڑ دیتا ۔۔۔۔ اسی جوش سے گھسے مارتے مارتے میں آخری چند گھسے ایسے مارے کہ سمیرہ باجی کے منہ سے آئی امییی جیییی کی آوزیں نکل گییں ۔۔۔ میں ان کے اوپر گرتا چلا گیا لن کو پھدی کی گہرائی میں اتار کر بھی دل نہیں بھر رہا تھا میں ہھر بھی آگے کی طرف اور دھکیل کر لیٹا تھا مزید آگے کرنے کی کوشش میں تھا ۔۔۔۔ اسی زور آزمائی میں میرے لوں کنڈے کھڑے ہوئے اور لن نے پہلی پچکاری ماری میرے جسم ہلکورا کھایا میں مزے میں ڈوبتا چلا گیا۔۔۔۔ دوسری طرف میری گرم منی کی ایک ہی پچکاری نے سمیرہ باجی کی پھدی کو بے ہار ماننے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی کی پھدی نے بھی لن کو ایک بار پھر سے اپنے لیس دار پانی سے نہلانا شروع کر دیا۔۔۔۔ میرا لن بھی آج کچھ زیادہ بپھرا ہوا تھا اس نے بھی کافی ساری منی سمیرہ باجی کی پھدی میں ڈالی۔۔۔۔ لن پھدی کو اپنے پانی سے بھرتا رہا میرا جسم بار بار کانپتا میں مزے کے جھٹکے کھاتا رہا۔۔۔ جب پھدی نے لن منی کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا تو میں سمیرہ باجی کے اوپر ویسے لیٹ گیا ۔۔۔۔ میری آنکھیں ایسے بوجھل ہو گییں جیسے میلوں سفر ظے کر کے آیا ہوں۔۔۔۔ میں نیند کی آغوش میں اتر گیا پتہ نہیں کتنی دیر آنکھ لگی رہی۔۔۔ جب نیند سے جاگا تو دیکھا کہ میں نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سمیرہ باجی میرے سر میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کر رہی ہیں ان کے گیلے بالوں سے پانی کے قطرے میرے چہرے پر گر رہے تھے۔۔۔ دھلا ہوا چہرہ اور پھر پھر چودائی کے بعد نہانے سے کسی عورت کے چہرے پر جو چمک ہوتی ہے اس سے بھرپور وہ بھی اج مجھے خوبصورت ترین لگ رہی تھیں۔۔۔۔ میں کبھی اتنے غور سے ان کو دیکھا ہی نہیں قد چھوٹا تھا لیکن ان کے جسم میں مموں کو چھوڑ کر کوئی کمی نہیں تھی بس ممے ہی چھوٹے ٹھے باقی رنگت بھی شفاف تھی۔۔۔ لمبے بال وہ بھی ابھی جب کھلے دیکھے تو پتہ چلا تھا وہ بھی ان کہ شخصیت کا حصہ تھے۔۔۔ میں خود پر رشک کرنے لگا اور وہ آخری مزے کے لمحات یاد کر کے شرسار ہو گیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے مجھے آنکھیں کھولتے دیکھ کر کہا اٹھ گیا میرا لاڑا ساتھ ہی میری پیشانی پر ایک پیار بھرا بوسہ دیا ۔۔۔۔ پھر مجھے کہا اٹھ کر نہا لو میں دودھ گرم کر لاتی ہوں پی لو جسم کی تھکاوٹ اتر جائے گی۔۔۔ میں ۔۔۔ باجی مجھے کونسی تھکاوٹ ہو گئی۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ میرا شونا کتنا بھولا ہے اتنی محنت کی ہے اور پسینے سے بھیگ کر ایسا سویا تھا کہ کچھ ہوش نہیں تھا ۔۔۔ میں نے اتنی مشکل سے کپڑے پہنائے تم کتنے بھارے ہو یہ تو مجھے آج پتہ چلا اور تمہارا وہ اتنا چھوٹا چوہا بنا ہوا تھا ۔۔۔ میں نے اس کو کافی چھیڑا اور اس کو تھپڑ بھی مارے لیکن جناب تو گھوڑے بیچ کر ایسے سوئے کہ کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔ سمیرہ باجی کی باتیں سن کر مجھے بڑی شرمندگی ہوئی کہ میں اتنا بیہوش ہو کر سو گیا تھا ۔۔۔ اس شرمندگی سے بچنے کے لیے میں اٹھ کر نہانے چلا گیا اور نہاتے ہوئے میرا لوڑا پھر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا میں نے واشروم کا دروازہ کھول کر اپنا سر باہر نکالا اور سمیرہ باجی کو آواز دی ۔۔۔ وہ آواز سن کر صحن میں آئیں اور پوچھا کیا ہوا ۔۔۔ میں۔۔۔ باجی یہ پتہ نہیں کیا ہوا ہے پانی نہیں آ رہا ٹوٹی بند ہو گیی ہے میں نے ابھی نہانا ہے۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔۔ گھماو اس کو کھل جائے گی۔۔۔ میں۔۔۔ باجی میں نے کافی کوشش کی نہیں ہو رہا آپ ایک بار چیک کر لو۔۔۔ سمیرہ باجی نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور ہنستی ہوئی آ گییں میں دروازے کے پیچھے ہوا اور ان کو اندر انے کے لیے رستہ دیا۔۔۔ وہ اندر آئیں اور ٹوٹی کو کھولا تو پانی آنے لگا میں تب تک دروزہ بند کر چکا تھا ۔۔۔ میں اپنا تنا ہوا لن ہاتھ میں پکڑ کر ان کو دکھاتے ہوئے کہا آپ کہہ رہی تھیں کہ یہ چوہا بنا ہوا ہے یہ دیکھو۔۔۔ انہیوں نے پہلے میری طرف دیکھا پھر لن کی طرف اور بولی۔۔۔ سمیرہ باجی ۔۔۔ اوہ تو تم نے مجھے یہ دکھانے کے لیے ٹوٹی خراب ہونے کا بہانہ بنایا ہے۔۔۔ میں ہنسنے لگ گیا اور ان کے قریب ہوا۔۔۔ وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولیں پچھاں رہ میرے کپڑے گیلے ہو جان گے۔۔۔ لیکن میں نے مسکین صورت بنا کر کہا باجی ایک بار ہاتھ میں پکڑ لیں۔۔۔ سمیرہ باجی ۔۔۔ نا کرو ناں اب میں نے نہا لیا کپڑے بھی بدل لیے ہیں۔۔۔ میں۔۔۔ میں کون سا کپڑے خراب کر رہا ہوں صرف اس کو ہاتھ میں پکڑنے کا کہہ رہا ہوں آپ میری خوشی کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتیں۔۔۔ سمیرہ باجی پر میرا اموشنل وار کری گر ثابت ہوا وہ آگے بڑھیں اور اپنا ہاتھ لن کر رکھ دیا۔۔۔ لن کو پکڑ کر بولیں اففف یہ کتنا گرم ہے پہلے تو اتنا گرم نہیں تھا۔۔۔ سمیرہ باجی نے لن کو دبانا شروع کر دیا کچھ دیر دبانے کے بعد لن کو ٹٹول کر کبھی اوپر سے کبھی نیچے چیک کرنے لگی۔۔۔ مجھے ان کے ہاتھ لن دے کر بہت اچھا لگ رہا تھا میرا ایک بار پھر دل کرنے لگا کہ ایک واری اور لگا دوں لیکن سمیرہ باجی نے لن کو چھوڑا اور کہا چلو شاباش اب اچھے بچون کی طرح نہا کر باہر آنا میں دودھ گرم کر رہی ہوں۔۔۔ میں منہ بنا کر کہا باجی کچھ دیر تو کریں ناں۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ نا کچھ دیر کرتے کرتے بہت دیر ہو جائے گی میں ابھی کام بھی کرنے ہیں ۔۔۔ اس نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئ میں بجھے دل کے ساتھ اور اکڑے لن کے ساتھ نہانے لگا۔۔۔۔ نہا کر باہر نکلا میرا ایک سوٹ استری کیا ہوا سمیرہ باجی نے مجھے دیا میں نے اس کے سامنے ہی شلوار اتار دی ۔۔۔ سمیرہ باجی نےاپنی آنکھوں ہر ہاتھ رکھ کر کہا گندہ کتنے بے شرم ہو وہ اپنی آنکھوں کے جھروکوں سے دیکھ بھی رہی تھیں۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں آج لن بار بار کھڑا ہو رہا تھا اب پھر کھڑا ہو چکا تھا میں نے لن کو پکڑ کر مٹھ مارنے کے انداز میں لن پر ہاتھ پھیرہ۔۔۔ سمیرہ باجی نے منہ دوسری طرف کر لیا میں نے کپڑے بدلے سمیرہ باجی نے دودھ دیا میں نے پیا اور بیٹھک میں چلا گیا۔۔۔۔ جا کر سو گیا جب اٹھا تو عصر کا وقت تھا سب لوگ گھر میں تھے میں باہر آیا تو امی برقہ پہن رہی تھیں ۔۔۔ مجھے دیکھ کر بولی تم کہاں تھے میں تمہیں دیکھنے جا رہی تھی چلو تیار ہو جاو ہم نے آج گھر جانا ہے۔۔۔ میں نے جی امی کہا لیکن مامی کی آواز میرے کانوں میں پڑی باجی کل چلے جائیو ہن کی ہو جاو بس رات نو ای گھر پہنچنا فیر کی فیدا ۔۔۔ امی نے کہا نیں بلو کے ابا جی ناراض ہوں گے دو دن ہو گئے ہیں۔۔۔ مامی نے کافی اصرار کیا اور امی کو منا لیا میں نے اس وقت وہاں موجود مائرہ کے چہرے کی طرف دیکھا جو ناگواری سے مامی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جبکہ سمیرہ باجی خوش تھیں اب کر ایک اپنی اپنی جگہ سوچ رہا ہوگا ۔۔۔ خیر میں واشروم سے فارغ ہوا مجھے سمیرہ باجی نے کھانا دیا کھانا کھا کر میں خالا کے گھر چلا گیا ایسے ہی وقت برباد کرتا رہا۔۔۔ وہاں سے گراؤنڈ گیا کرکٹ کھیلی شام کو واپس ماموں کے گھر آیا رات ہوئی میں بیٹھک میں سونے چلا گیا ۔۔۔۔ میرے دونوں کزن آج گھر نہیں تھے ماموں بھی کام کے سلسلے میں کھیتون میں تھے امی اور مامی مائرہ ایک کمرے میں سو گئیں۔۔۔ میں اپنے ٹھکانے یعنی بیٹھک میں سونے چلا گیا ۔۔۔۔ رات دیر تک فلم دیکھتا رہا نیند تو آ نہیں رہی تھی سارا دن سویا جو رہا تھا۔۔۔۔ پچھلی رات کا کوئی پہر تھا جب میں نے سونے کا ارادہ کیا کپیوٹر بند کیا اور کمرے لائٹ آف کی چارپائی پر لیٹنے ہی لگا تھا کہ مجھے اندر والے دروازے پر آہٹ سنائی دی۔۔۔۔ میں نے اپنا وہم سمجھا اور چارپائی پر لیٹ گیا ابھی اپنے آپ کو چارپائی پر ایڈجسٹ ہی کر رہا تھا کہ کوئی میرے ساتھ لیٹ گیا۔۔۔۔ میرا تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ایک تو مجھے میرے کزن نے ڈرایا ہوا تھا کہ یہاں ہوائی چیزیں رہتی ہیں اوپر سے اندھیرے میں کوئی میری ساتھ لیٹ گیا میری حالت پتلی ہو گئی۔۔۔ اس سے پہلے کہ میری حالت مزید خراب ہوتی ساتھ لیٹنے والے نے میرا مطلب لیٹنے والی نے سائیڈ بدلی اور میرے ساتھ اپنے ممے لگا کر اپنا ہاتھ میری دوسری طرف کر دیا۔۔۔ میں ابھی بھی یہ سوچ رہا تھا یہ پکی جننی ہے لے بھئی بلو ہن تاں تو ہیں بچدا۔۔۔ میں اسی سوچ میں بھی مموں کے لمس کو محسوس کر رہا تھا اور مموں کے سائز سے اندازا کر رہا تھا کہ اس کی عمر کتنی ہو گی۔۔۔ یکدم اس نے اپنے ہونٹ میری گال پر رکھ کر کس کیا اور بولی بلو۔۔۔ میرا سارا خوف سارا ڈر ایک سیکنڈ میں اڑن چھو ہو گیا یہ کوئی جننی نہیں تھی بلکہ سارا دن میرے لن کو کھڑا رکھنے والی سمیرہ باجی تھی۔۔۔۔ اس کی آواز سن کر میری سانس بحال ہوئی میں نے نارمل ہوتے ہوئے کہا جی باجی۔۔۔ کل تم چلے جاؤ گے تو میرا دل نہیں لگے گا نہ جاو نا یہاں ہی رہ جاؤ۔۔۔۔ میں نے ان کی طرف منہ کیا اور پوچھا دروزہ بند کیا ہے ۔۔۔ میرا سوال اس کے الفاظ سے میچ نہیں کر رہا تھا کیونکہ میرا لن اس کی آواز سن کر ہی تن گیا تھا۔۔۔ ایک منٹ میں ہی سارا سین دماغ میں گھوم گیا اس کی ٹائٹ پھدی نے لوڑے کو گرما دیا۔۔۔ میں اس کی پیار بھری باتیں نہیں سننا چایتا تھا بلکہ اس کی پیاری پھدی میں لن ٹھوکنا چاہتا تھا۔۔۔ سمیرہ باجی نے کہا ہاں لگا کر ہی آئی ہوں۔۔۔ میں نے اس کے گال کو چوم کر کہا جانا تو پڑے گا مجبوری ہے۔۔۔ سمیرہ باجی نے کہا ایک دن اور رک جاؤ کیا ہو جائے گا۔۔۔ میں ۔۔۔ باجی آپ نے امی کی بات سنی تھی ابا جی ناراض ہوں گے ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن ایک دن سے کیا ہو جائے گا۔۔۔ میں۔۔۔ باجی جانے دیں اس بات کو جو وقت ملا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ بس تمہیں ایک ہی کام آتا ہے اپنا فائدہ ڈھونڈ رہے ہو۔۔۔
  4. آسیہ نے کہا تمہیں سب پتہ چل جائے گا تم اب جاؤ۔۔۔ میں وہاں سے نکلا اور خالا کے گھر جانے کے لیے ان کی گلی میں مڑا تو سامنے ہی آسیہ کے گھر کے پاس مجھے ککا نظر آیا۔۔۔۔ میں نے اس کی باڈی لینگویج پر غور کیا مجھے کچھ مشکوک لگا میں رک کر دیکھنے لگا میں چھپ کر دیوار کے ساتھ ساتھ آگے بڑھا تو مجھے وہاں کوئی اور بھی دروازے میں کھڑا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔ یکدم دروازے میں جو بھی تھا غائب ہو گیا ککا بھی وہاں سے میری طرف آنے لگا میں نارمل انداز میں چلتا ہوا اس کے پاس گیا ۔۔۔ مجھ سے پہلے ہی ککا بول پڑا سناو کیا بنا پھر جلدی آگئے ہو ۔۔۔ میں نے کہا بس یار کچھ بھی نہیں بنا وہ نکل گیی ہاتھ سے جب کہ مجھے پتہ تھا اس نے سارا سین دیکھا ہے ۔۔۔ اس نے بھی کوئی بات نہ کی میں نے بھی وہ مجھے لے کر گھر آگیا گھر آ کر نہائے اور بیثھک میں گھس کر باتیں کرنے لگے۔۔۔۔ میں ایسے ہی باتوں باتوں میں آسیہ کی چھوٹی بہن روحی کا ذکر چھیڑ دیا کیونکہ مجھے اس پر شک تھا کہ روحی کا اور اس کا چکر ہے ۔۔۔ پھر آسیہ کی ذو معنی باتیں بھی میرے دماغ میں تھیں میں نے تو ایسے ہی کہا یار ایک بات بتا وہ جو آسیہ کی چھوٹی بہن تھی روحی وہ کیسی ہے اب اس وقت تو آسیہ سے بھی خوبصورت ہوتی تھی۔۔۔۔ اس کی آواز ہی بدل گئی بولا کون روحی شاید تم آسیہ کی بہن کا ذکر کر رہے ہو ۔۔۔ میں ہاں تمہیں کیا لگا میں کسی اور کا ذکر کر رہا ہوں۔۔۔ اچھا تو تم روحہ کی بات کر رہے ہو یار وہ تو میری جان ہے اس پر بری نظر نہ ڈالنا۔۔۔ میں نے کہا واہ استاد تو کمال نکلا بڑے نے بڑی بہن اور چھوٹے نے چھوٹی کو سیٹ کیا ہوا ہے تمہاری تو موجیں لگی ہیں کیسے ہوا یہ سب مجھے نہیں بتاؤ گے۔۔۔ ککا بولا سب بتاؤں گا لیکن ابھی نہیں پھر بتاوں گا تو سنا کوئی بچی سیٹ ہوئی یا نہیں۔۔۔ میں کہاں یار ہماری ایسی قسمت کہاں ایک سے بڑھ کر ایک پوپٹ بچی تو تمہارے گاؤں میں ہے ہمارے ہاں تو یا تو بہت اونچے سٹیٹس کی ہیں جو مجھے گھاس نہیں ڈالتی یا وہ ہیں جو بالکل ہی نچلے درجے کی ہیں ۔۔۔۔ اب تو وہ بھی گھاس نہیں ڈالتیں جن کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔۔۔ ککا اب اتنی بھی نہ چھوڑ کہ تجھے کبھی کسی نے دی نہیں۔۔۔ میں قسم سے یار کوئی ہاتھ ہی پکڑاتی تو پھدی کہاں دے گی۔۔۔ ککے نے غور سے میری طرف دیکھا اور بولا مجھے نہیں لگتا ایسا ہے۔۔۔۔ میں اب کیسے یقین دلاوں کہ کوئی بھی سیٹ نہیں ہوتی ہم ٹھہرے پینڈو شہر آ پھنسے وہاں کی پوپٹ بچیوں کو ممی ڈیڈی بچے پسند ہیں ۔۔۔ ککا اوہ تو یہ بات ہے اچھا مٹی پا ہو سنا کوئی پسند بھی ہے یا نہیں۔۔۔ میں ۔۔۔ پسند تو ہر لڑکی آ جاتی ہے پر چس تو تب ہے جب نیچے بھی آجائے۔۔۔ میرا لن تو ہر وقت تیار رہتا ہے کیا پتہ کوئی مان ہی جائے لیکن کہاں لگتا ہے بس مٹھ مارنے پر ہی کام چلانا پڑے گا۔۔۔۔ ککے کیا تو ایک بار مجھے کسی کی لے دے گا میں تیرا احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔۔۔ ککا اچھا کرتے ہیں کچھ ابھی سو جاؤ صبح بات کرتے ہیں۔۔۔ وہ پہلو بدل کر سو گیا لیکن مجھے پتہ نہیں نیند نہیں آآئی پہلو بدل بدل کر تھک گیا رات کے پچھلے پہر میری آنکھ لگ گئی۔۔۔ صبح جب اٹھا تو ماموں کھیتوں میں چلے گئے تھے دونوں کزن اور مائرہ سکول چلے گئے تھے جبکہ مامی اور امی بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔۔۔ میں ضروری حاجات سے فارغ ہو کر آیا تو سمیرہ نے مجھے آواز دے کر کہا ادھر ہی آجاو ناشتہ کر لو۔۔۔ میں بارورچی خانے میں چلا گیا اس نے مجھے ناشتہ دیا میں ناشتہ کرنے لگ گیا تو مامی آئی اور کہا سمیرہ میں تے باجی ہمسایوں کے گھر جا رہی ہیں دروازہ بند کر لو اور مجھے تاکید کی کہ گھر میں ہی رہوں۔۔۔ امی کا پوار خاندان اسی گاؤں میں تھا اور سارے رشتہ دار ایک ہی محلے میں رہتے تھے اس لیے امی جب بھی جاتی تھیں سب سے مل کر آتی تھیں۔۔۔ وہ باہر نکل گئیں سمیرہ نے دروازہ بند کر لیا تب تک میں نے ناشتہ کر لیا تھا میں کچن سے اٹھ کر باہر آیا اور بیٹھک کی طرف جانے لگا تو سمیرہ نے آواز دی بلو۔۔۔ سمیرہ ۔۔۔۔ چائے نہیں پینی۔۔۔ میں۔۔۔ نہیں باجی میں چائے نہیں پیتا ہوتا۔۔۔ میری اچھی عادات میں سے یہ بھی ایک عادت تھی کہ چائے نہیں پیتا تھا شاید کچھ لوگوں کو یہ بات عجیب لگے لیکن ہم کزنوں میں سے صرف دو لوگ ایسے تھے جو اس وقت تک چائے نہیں پیتے تھے ایک میں اور دوسرا میری پھپھو کا بیٹا ججی تھا۔۔۔ سمیرہ ۔۔۔ اوہ واہ جی واہ چائے نہیں پیتا اچھا جی اس لیے نہیں پیتے کہ رنگ کالا نہ ہو جائے۔۔۔ میں۔۔۔ باجی ایسی بات نہیں ہے بس کبھی بھی نہیں پی ۔۔۔ سمیرہ۔۔۔ بڑے ذو معنی انداز میں گرم گرم دودھ پیتے ہو۔۔۔ میں۔۔۔ نا سمجھی میں کیا مطلب باجی دودھ تو سب ہی پیتے ہیں۔۔۔ سمیرہ ۔۔۔ کچھ نہیں مجھے پتہ ہے سب پیتے ہیں میں تو ایسے ہی کہہ رہی تھی۔۔۔ اچھا تم اب کہاں جا رہے ہو امی کہہ کر گئی ہیں میرے پاس رہنا ہے۔۔۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔ میں۔۔۔ کہیں بھی نہیں بس بیٹھک میں جا رہا ہوں کپیوٹر پر گیم کھیل لیتا ہوں فارغ وقت گزر جائے گا۔۔۔ سمیرہ۔۔۔گیم کھیل کر وقت کیسے گزرے گا اور بھی طریقے ہیں وقت گزارنے کے ۔۔۔ وہ مسلسل ذو معنی باتیں کر رہی تھی کہا جاتا ہے جتنے چھوٹے قد کے ہوتے ہیں وہ اتنے کی شیطان ہوتے ہیں۔۔۔ پنجابی میں چھوٹے قد والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔۔۔ اے جناں زمین دے اتے اناں ای تھلے اے(یہ جتنا زمین سے باہر ہے اتنا ہی زمین کے اندر ہے) یہ بات سمیرہ کے لیے بالکل ٹھیک بیٹھتی تھی۔۔۔ اس نے دوپٹہ اپنی کمر سے باندھا اس ممے جو بمشکل ٹینس بال جتنے تھے کھلے گلے اور ٹائیٹ قمیض کی وجہ سے اکڑے ہوئے لگ رہے تھے اس کا پیٹ بالکل نہ ہونے کے برابر تھا بڑی گانڈ جس کا نظارہ کل میرا لن چکھ چکا تھا۔۔۔ اس نے جھاڑو اٹھایا اور مجھے کہنے لگی اچھا اس طرح کرتے ہیں تم کپیوٹر پر گیم کھیل لو میں تب تک بیٹھک کی صفائی کر لیتی ہوں۔۔۔ میں۔۔۔ جی اچھا باجی کہہ کر بیٹھک میں چلا گیا اور کپیوٹر آن کر لیا وہ بھی آگئی اس نے ابتدا میں کمرے کے ایک کونے سے صفائی شروع کی میں کپیوٹر میں مگن ہو گیا۔۔۔ وہ رک رک کر مجھ سے باتیں بھی کر رہی تھی جان بوجھ کر کبھ جھک کر صفائی کرتی کبھی بیٹھ کر جب میں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہ دی تو کم از کم مجھے یہ ہی لگا ۔۔۔ وہ صفائی کرتی ہوئی بالکل میرے پاس آگئی اور بولی یہ گیم بھی کوئی گیم ہے بھلا تم گانے لگاؤ ۔۔۔ میں نے کہا گانے کہاں ہیں مجھے نہیں پتہ آپ بتا دو۔۔۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ماؤس پکڑا اور گانے ڈھونڈ کر سیلکٹ کر کے لگا دئیے وہ اس دوران اپنے ممے میری پیٹھ سے چپکا کر کھڑی ہو گئی تھی ۔۔۔۔ مموں کا لمس پا کر میرا لن اکڑ گیا تھا جس کو میں نے اپنی دونوں رانوں کے درمیان دبا لیا تھا۔۔۔ کسی انڈین فلم کا انتہائی بولڈ سین والا گانا تھا جس میں بہت ہی رومانوی مناظر تھے ۔۔۔۔ وہ دیکھ کر میری حالت غیر ہونے لگی اگر میں اس وقت اکیلا ہوتا تو پکی بات تھی میں اس وقت مٹھ مار رہا ہوتا۔۔۔۔ وہ بھی گانے کے ساتھ ساتھ جان بوجھ کر میرے سامنے گھومتے ہوئے اپنی کمر ہلا ہلا کر صفائی کر رہی تھی اور گنگنا بھی رہی تھی۔۔۔۔ ایسے ہی بار وہ اٹھی تو اس کی قمیض گانڈ میں پھنسی ہوئی تھی اس نے منہ دوسری طرف کر کے اپنی گانڈ میری طرف کی اور قمیض کو گانڈ سے نکالا ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر تو میرا لن پھٹنے والا ہو گیا اگر اس وقت سمیرہ کی جگہ کوئی اور ہوتی یا سمیرہ میرے ماموں کی بیٹی نہ ہوتی تو میں اس کی گانڈ میں لن گھسا چکا ہوتا۔۔۔ میں نے برداشت کیا اور اپنی توجہ کپیوٹر سکرین پر مرکوز کر دی۔۔۔ سمیرہ نے ساری بیٹھک کی صفائی کی اور میرے پاس ہی مجھ سے جڑ کر بیٹھ گئی اور گانے سننے لگی اب ایک اور گانا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔ یہ گانا بھی اس گانے کی طرح انتہائی رومان پرور تھا اوپر سے سمیرہ اپنا جسم مجھ سے چپکا کر بیٹھ گئی اس کا جسم بہت زیادہ گرم تھا۔۔۔ ، سمیرہ کے جسم کی گرمی دماغ پر چڑھنے لگی میں نے بھی اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ کر اس کے ساتھ لگا لیا بلکہ اس کی طرف ڈھلک گیا۔۔۔ لن پہلے ہی تن چکا تھا جب جسم کو ڈھیلا چھوڑا تو میری گود میں تنبو بن گیا سمیرہ نے لن کو ایک جھٹکے سے میری گود میں کھڑے ہوتے دیکھا ۔۔۔ اس تیزی سے میری طرف دیکھا لیکن میں یہ ظاہر کر رہا تھا کہ میری ساری توجہ سکرین پر ہے۔۔۔ سمیرہ نے کہا بلو مجھے گانا چینیج کرنا ہے ایک منٹ اس نے اٹھنے کے بہانے میری گود میں اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔ اس نے بہت ہی غیر محسوس انداز میں لن کو پکڑا تھا اور چھوڑ دیا تھا اٹھ کر میری دوسری طرف آئی جھک کر کپیوٹر کا ماوس پکڑا اور گانا بدلنے لگی ۔۔۔ میں کیونکہ کمپیوٹر سے دور ہو کر بیٹھ گیا تھا کمپیوٹر کے قریب جو کرسی رکھی تھی وہ اس جی بیک سائیڈ پر کھڑی ہو کر ماؤس استعمال کر رہی تھی۔۔۔ اس کے پورے جسم میں ایک گانڈ ہی تھی جو متاثر کر رہی تھی وہ بھی شاید یہ بات جانتی تھی اس لیے بار بار گانڈ کے درشن کروا رہی تھی۔۔۔ اب بھی وہ گانڈ کو باہر نکالے جھکی ہوئی تھی میں تو گانڈ کے نظارے میں مگن تھا اس نے گانا بدلا اور پیچھے ہٹتی ہوئی میری گود میں بیٹھ گئی ۔۔۔۔ پھر وہیں بیٹھے بیٹھے میری طرف گھوم کر منہ کر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی آااووو یہ کیا میں سمجھی تم ادھر بیٹھے ہو ۔۔۔۔ لیکن تب تک لن اس کی گانڈ اور چوت کو چھوتے ہوئے ٹانگوں کے بیچ سے آگے نکل چکا تھا ۔۔۔ اس کی گانڈ کی گرمی مجھے اپنی گود میں اور پھدی کی گرمی لن پر محسوس ہوئئ ۔۔۔ اس کے اس طرح بیٹھنے سے میرے ہاتھ خود بخود اس کی کمر کو دونوں طرف سے تھام چکے تھے۔۔۔ وہ اٹھنے لگی تو میں نے دباؤ بڑھا دیا اس نے مجھے گردن گھما کر دیکھتے ہوئے کہا بلو ہممم ابھی حساب برابر نہیں ہوا کیا۔۔۔ میں شرمندہ ہو گیا ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی کر دی لیکن وہ پھر بھی بیٹھی رہی۔۔۔ میرا لن مجھے مجبور کر رہا تھا کہ اس کو کسی موری میں گھساؤں اتنا سب ہونے کے باوجود بھی ہم دونوں میں ابھی جھجھک قائم تھی۔۔۔ میں نے ہمت کرکے نیچے سے تھوڑا سا ہلنے کی کوشش کی اس نے بھی خود جو ایڈجسٹ کیا لن نے شاید اس کی پھد کو ٹچ کیا تھا اس کے منہ سے سئیی کی آواز نکلی۔۔۔ میں اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے پیٹ پر ایسے رکھ دئیے جیسے کسی بچے کو گود میں بٹھا کر رکھتے ہیں۔۔۔ اس نے میرے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور گانڈ کو تھوڑا سا ہلا کر لن کو پھدی سے ٹچ کیا ۔۔۔ اب مجھ سے بالکل بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا میں نے اس کی گردن ہر ناک رکھ دی اور کان کی لو کے نیچے رگڑنے لگا۔۔۔۔ لمبی ناک کی نوک نے اس کے جسم میں جھرجھری پیدا کی اس کا جسم کانپ کر رہ گیا اس نے اپنی پیٹھ میرے سینے سے لگا دی اب لن اس کے چڈوں میں گھسا تھا۔۔۔۔ میں نے نیچے سے آہستہ آہستہ نامعلوم طریقے سے ہلنا شروع کر دیا کچھ دیر ایسا کرنے سے اس کے جسم میں گرمی بڑھ گئی اس کی سانس بھی تیز تیز چلنے لگی۔۔۔ وہ خود کو سنبھال نہ پائی اس نے خود ہی اٹھ کر مجھے کھینچ لیا قد میں وہ میرے سینے تک ہی آتی تھی۔۔۔ مجھے گلے لگا لیا میرا لن اس کے پیٹ میں چبھنے لگا اس کے چھوٹے چھوٹے ممے بھی مجھے اس وقت مزا دے رہے تھے جو سینے سے نیچے کر کے دب گئے تھے۔۔۔ میرے ہاتھ خود بخود اس کی کمر پر چلے گئے وہ اپنی ایڑیاں اٹھا کر پھدی کو لن تک پہنچانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ میں نے خود کو تھوڑا جھکا کر لن کو اس کی پھدی سے لگایا اس نے اپنے چڈوں کو بھینچ کر دبا لیا۔۔۔ لیکن مجھ سے اس ظرح زیادہ دیر کھڑا نہ ہوا گیا میں نے اس کو دھکیل کر دیوار کے ساتھ لگا لیا نیچے ہو کر لن اس کی پھدی پر کپڑوں سمیت ہی لگا کر رگڑنے لگا۔۔۔۔ وہ اپنی ساری طاقت لگا کر مجھے اپنے آپ سے دبا رہی تھی میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دیا اس کے ممے پکے ہوئے امرود کی طرح تھے نرم لیکن چھوٹے میں ان کو دبانے لگا۔۔۔ مموں کو جتنی زور سے دباتا وہ اتنے کی زور سے مجھے اپنے ساتھ دباتی میرا لن بھی اس کی پھدی سے ویسے ہی رگڑ کھاتا۔۔۔ اس نے خود اب پھدی کو لن پر رگڑنا شروع کر دیا مجھے بھی مزہ آنے لگا تھا لیکن کپڑے رکاوٹ بن رہے تھے۔۔۔ میں نے ہاتھ نیچے لیجا کر اپنا ناڑا کھولا لن پیچھے ہو کر لن کو شلوار سے نکال لیا پھر اس کی شلوار کو پکڑ کر نیچے کیا۔۔۔ اپنا ہاتھ اس کی پھدی پر لگایا جو پانی سے سے تر بتر ہو چکی تھی اپنے ہونٹ اس کی گردن کر رکھ دیئیے لن کو ہاتھ سے پکڑ کر اس کی پھدی کے لبوں پر رگڑنے لگا۔۔۔۔ اپنی زبان نکال کر گردن کو چاٹنے لگا ساتھ ساتھ لن کو بھی رگڑ رہا تھا اس کی سانسیں تیز سے تیز ہو رہی تھیں۔۔۔ جسم کپکپا رہا تھا یہ ڈر کی وجہ سے تھا یا وہ مزے سے کانپ رہا تھا لیکن میں فل موڈ بنا چکا تھا کہ لن اس کی پھدی میں گھسا کر ہی رکوں گا۔۔۔۔ مزے میں ڈوبے میں نے لن کی ٹوپی اس کی پھدی کے لبوں سے لگائی انگلی سے پھدی کی موری کو ٹٹولا لن کا ٹوپا موری پر رکھا ۔۔۔۔ تھوڑا اور جھکا گانڈ اپنی گانڈ کو سخت کیا لن ہر دباؤ بڑھایا لیکن لن پھسل کر اوپر نکل گیا ۔۔۔۔ مجھے سمجھ آگئی اس پوزیشن میں لن نہیں گھسے گا اس لیے اس کو لے کر چارپائی پر آیا ۔۔۔ چارپائی پر لٹایا اس نے اپنی قمیض سے پھدی کو ڈھانپ لیا میں لن کو ہاتھ میں پکڑے اس کے اوپر آیا اس کی ٹانگوں کو کھولا اور اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیں۔۔۔۔ لن کو ہاتھ سے پکڑ کر اس کی پھدی پر رکھا لبوں میں گھسایا اس کے اوپر لیٹنے سے پہلے میں نے سوچا کچھ اندر کر لوں ۔۔۔ زور ڈالا تو پھدی نے کھلنے سے انکار کر دیا اس کی پھدی اتنی ٹائیٹ تھی میں نے پھر دباؤ بڑھایا ٹوپی کو ہاتھ کی مدد سے اندر گھسانے لگا لیکن بے سود۔۔۔۔ لن کو پیچھے کیا اپنے ہاتھ کی انگلی کو پھدی میں ڈالا تو انگلی کے جانے سے اس نے سییی کی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔ کچھ دیر انگلی کو اندر گھماتا رہا پھدی کی گرمی کو انگلی پر محسوس کرتا رہا انگلی گرم ہو گئی۔۔۔ انگلی باہر نکالی اس کا پانی لن کی ٹوپی پر لگایا ٹوپی کو تر کیا پھر ٹوپی کو پھدی کے لبوں میں رگڑنے لگا ۔۔۔۔ لن کو نیچے سے اوپر کی طرف جب رگڑتا تو وہ اپنا سر دائیں بائیں مارتی میں ایسا کرنا جاری رکھا وہ نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن لینے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ لن کی ٹوپی اب پھدی کے پانی سے بھیگ چکی تھی میں نے لن کو پھدی کے لبوں میں گھسایا سوراخ کا نشانہ لیا ۔۔۔ اب میں یہ سمجھ چکا تھا ابھی سیل پیک ہے اس لیے اس کے اوپر آکر ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے اس نے صدیوں کے پیاسے کی طرح میرے ہونٹوں کو چومنا شروع دیا میں نے لن پر دباؤ بڑھایا ۔۔۔ ٹوپی اندر اتر گئی اس نے میرےہونٹوں زور سے کاٹ لیا اس کے چہرے کے ایکسپریشن بدل گئے وہاں درد کی لہریں نظر آنے لگیں۔۔۔ میں نے تھوڑا اور دباؤ ڈالا اس نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ لیا مجھے رکنا پڑا لیکن لن ٹوپی سے کچھ زیادہ اندر چلا گیا۔۔۔ میں نے لن کو وہیں روکا اور اس کے مموں کو دبانے کے ساتھ ساتھ ہونٹوں کو چوسنے لگا ۔۔۔ ہونٹ چوسنے سے مجھے نمکیں سا ذائقہ محسوس ہوا جو بعد میں پتہ چلا کہ میرا ہونٹ کٹ گیا تھا۔۔۔۔ کافی دیر ہونٹ چوسنے اور ممے دبانے کے بعد جب اس نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا تو میں نے کہا باجی اب آگے کروں ۔۔۔ اس نے مدہوشی میں ڈوبے ہاں میں سر ہلایا دیا۔۔۔ میں تب تک سمیرہ کو باجی ہی کہتا تھا اس لیے بچپن سے کہنے کی عادت تھی تو اسی عادت کی وجہ سے منہ سے نکل جاتا تھا۔۔۔ اس نے ہاں میں سر ہلایا میں لن پر زور لگایا لن ابھی ایک انچ بھی نہیں گیا تھا کہ سمیرہ نے پھر سے میرے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر مجھے روک دیا اور میری پیٹھ کر اپنے ہاتھوں سے شکنجہ کس لیا۔۔۔ میں نے ایک بار صبر کا مظاہرہ کیا اور ہونٹ چوسنے کے ساتھ ساتھ ممے دبانے لگا لیکن میں اب اس تھوڑے تھوڑے سے کن گھسانے کے عمل سے الجھن کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔ لیکن ایک بات تھی اب جب کبھی مجھے سمیرہ کی پھدی یاد آتی تو یہ کہتے ہوئے ذرہ بھی نہیں ہچکچاتا کہ سمیرہ کی پھدی ٹائٹ پھدی مجھے آج تک نہیں ملی۔۔۔۔ ایک تو اس کی عمر کافی ہو گئی تھی دوسرا اس کے قد کی وجہ سے عجیب بے ڈھنگے جسم کی وجہ سے کویی اس کو گھاس نہیں ڈالتا تھا ۔۔۔۔ زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے اس کی ہھدی بھی زیادہ ٹائٹ ہو چکی تھی لیکن گرم وہ عام لڑکیوں سے زیادہ تھی ۔۔۔۔ میں نے کوئی پانچ منٹ پھر اس کو چوما چاٹا اس نے جب فل موڈ میں گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو اندر لینے کی کوشش شروع کی تب بھی میں نے لن پر دباؤ نہ بڑھایا اب میں اس انتظار میں تھا کہ وہ اپنے آخری لمحات میں داخل ہو تو ایک ہی بار میں سارا لن ٹھوک دوں۔۔۔۔ اس دوران میں نے اس کی قمیض کو اوپر کیا جو اس نے بہت آسانی سے کر دی اس کے چھوٹے چھوٹے ممے جو کسی 14 سال کی لڑکی جتنے تھے ۔۔۔ میں نے اپنے منہ میں بھر کر چوسنے شروع کر دئیے وہ میرا سر پکڑ کر اپنے مموں کر دبانے لگی ۔۔۔ ممے جتنی چھوٹے تھے نپل اس حساب سے بڑے تھے لیکن تھے ایک دم دودھ جیسے سفید گول مٹول ۔۔۔ میں نے اپنی زبان نکال کر اس کے دائیں ممے کے نپل کے گرد پھیرنی شروع کی تو اس کے پھدی میرے لن ہر تڑپنے لگی ۔۔۔ اس کا پورا جسم کانپ اٹھا میں نے اس کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے ذبان کو مسلسل اس کے نپل کے گرد پھیرا شروع کر دیا۔۔۔ اس کا ہاتھ میرے سر کو اپنے مموں پر دبا رہا تھا نیچے سے وہ اپنی گانڈ کو اٹھا کر لن کو اور اندر لینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ میں ہر بار اس کی کوشش کو ناکام کر رہا تھا جب دونوں مموں کے ساتھ اچھا خاصہ انصاف کر لیا تو اپنے ایک ہاتھ کی دو انگلیوں میں ایک ممے کے نپل کو لے کر میں نے اس کے ہونٹ چوسنے شروع کر دئیے کیوں کہ اب مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ آنے والی ہے۔۔۔ میں نے لن کو تھوڑا سا باہر نکالا ٹوپی کو اندر رہنے دیا پھر جتنا پہلے تھا اتنا اندر کیا اسی طرح چار پانچ بار کرنے کے بعد میں نے اپنی کمر کس کی۔۔۔۔ میں نے اس کو ہونٹوں کو مکمل اپنے قبضے میں لے لیا اپنے دونوں بازو اس کی کمرکے نیچے سے گزار کر اس کو پکڑ لیا۔۔۔ جیسے ہی میں نے جھٹکا مارنے کا ارادہ کیا زور دار آواز کے ساتھ بیٹھک کا دروازہ ناک ہوا ۔۔۔۔ دروازے پر دستک سن کر میری بنڈ پھٹ گئی میں نے جلدی سے لن پھدی سے نکالا اور اپنا ناڑا باندھا ۔۔۔ جب ناڑا باندھ کر سیدھا ہوا تو دیکھا سمیرہ غائب تھی وہ شاید اندر بھاگ گئی تھی۔۔۔ اب میں نے اپنا چہرہ صاف کیا میں نے آںکھیں ملنا شروع کر دیں اور اسی طرح دروزے کے پاس گیا اس وقت تک ایک بار اور دروازہ زور سے بجا۔۔۔۔ میں آنکھیں ملتے ہوئے دروازہ کھولا تو سامنے مامی اور امی کھڑی تھیں ۔۔۔ میں نے کسملندی کا ڈرامہ کرتے ہوئے ایک انگڑائی لی اور واپس اندر ہو کر چارپائی کر گرنے کے انداز میں لیٹ گیا۔۔۔ مامی نے کہا میرا ستا پیا سی مجھے پتہ ہوتا میں یہ دروازہ نہ کھڑکاتی۔۔۔ پھر بولی سمیرہ کہاں ہے ۔۔۔ میں پتہ نہیں میں تو یہاں آ کر سو گیا تھا وہ یہاں صفائی کرکے چلی گئی تھی شاد نہا رہی ہو۔۔۔ یہ میں نے جان بوجھ کر اونچی آواز میں کہا کہ اگر سمیرہ یہاں اگر قریب ہی ہے تو سن لے اور واشروم میں گھس جائے۔۔۔۔ مامی نے اچھا کہا اور امی اور وہ اندر چلی گئیں میں بھی اٹھ کر ان کے پیچھے گیا تاکہ اندر کیا سین ہے وہ دیکھ سکوں۔۔۔ اندر جا کر پتہ چلا سمیرہ واشروم میں ہے تو تسلی ہو گئی میں منہ دھویا اور واپس بیٹھک میں آنے کی بجائے امی کو بتا کر کھیتوں میں چلا گیا۔۔۔ وہاں ماموں کے ساتھ ایسے ہی باتیں کرتا رہا ماموں لوگوں کے کھیت میں لوکاٹ ،آم اور امرود کے درخت لگے ہوئے تھے۔۔۔ میں نے لوکاٹ توڑ توڑ کر کھائے ماموں بھی کام سے فارغ ہو گئے پھر میں ان کے ساتھ بیل گاڑی (ریڑھا) پر بیٹھ کر گھر آگیا اصل میں ماموں کام کرتے اور ساتھ ہی بھینسوں کے لیے چارہ بھی کاٹ لیتے تھے اور چارہ گھر لانے کے لیے بیل گاڑی تھی۔۔۔ گھر آتے آتے دوپہر گزر گئی گھر آ کر نہایا کھانا کھانے کے لیے کچن میں گیا تو وہاں مائرہ بھی بیٹھی کھانا کھا رہی تھی ۔۔۔ اس کو دیکھا ایک نظر روٹیاں پکاتی سمیرہ باجی کو دیکھا پھر یہ سوچنے لگا یہ دو بہنوں میں اتنا فرق کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔ کہاں ماموں اور مامی کے قد کہاں مائرہ کی خوبصورتی اور یہ سمیرہ اب ایک بار مجھے خود پر حیرت ہو رہی تھی کہ میں سمیرہ کی پھدی میں لن گھسا رہا تھا۔۔۔۔ لیکن سمیرہ کے چہرے پر مجھے دیکھ کر مسکراہٹ پھیل گئی تھی جب کہ مائرہ مجھے منہ چڑا رہی تھی۔۔۔ کھانا کھا کر میں بیٹھک میں جانے لگا تو مامی نے کہا بلو مائرہ کو کچھ سوال وغیرہ کروا دو یہ کہہ رہی تھی اس کو نہیں آتے اس نے اپنی سہیلی کے پاس پڑھنے جانا ہے۔۔۔ میں کہا اب پتہ نہیں کونسے سمجھنے ہیں مجھے آتے بھی ہیں یا نہیں ۔۔ مامی نے کہا باجی تو کہہ رہی تھی کہ تم سے تمہارے ہمسائیوں کی لڑکی روز پڑھنے آتی ہے تمہیں آتے ہوں گے۔۔۔۔ مامی کے منہ سے ہمسائیوں کی لڑکی کا ذکر ان کر مجھے وہ پرشباب جسم مچلتے ہوئے جذبات وہ آہیں وہ سسکیاں وہ پیار و محبت کے دعوے وہ پر شہوت لمحات وہ خون سے بھری پھدی افففف سب ایک ہی جھٹکے میں یاد آگیا۔۔۔ شانزل یاد ائی تو اس کی کہی گئئ باتیں بھی یاد آگئیں اس کا پیار کا اظہار بھی یاد آیا ۔۔۔ مجھے خود پر گھن آنے لگی کہاں شانزل کا سچا پیار اور کہاں میرے لن کی پیاس ۔۔۔ میں کتنا بے حس ہو گیا تھا مجھے خود بھی نہیں پتہ تھا مجھے کل آنے سے پہلے صبح کے وقت اس سے ہونے والی ملاقات میں اس کی کہی گئی باتیں یاد آنے لگیں۔۔۔ میں چپ سا ہر کر شانزل کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ مامی کی آواز مجھ واپس حال میں لے آئی۔۔۔ مامی بولی بلو کی ہویا ۔۔۔ اسی دوران مائرہ بھی ٹپک پڑی اس نے بھی لقمہ دینا اپنا فرض سمجھا۔۔۔۔ وہ بولی امی آپ بھی کمال کرتی ہیں اس کو کہاں آتے ہوں گے ۔یہ تو شکل سے ہی نالائق لگتا ہے۔۔۔ میں نے کہا تمہاری ظرح نہیں ہوں اس بار بھی اچھے نمبرون سے پاس ہوا ہوں تم اتنے نمبر لے کر دکھانا آئی بڑی افلاطون۔۔۔ مائرہ کونسا کم تھی آ ہو مجھے پتہ ہے کیسے نمبر آئے ہوں گے کسی اور کے پیپر دیکھ کر کرتے رہے ہو گے ۔۔۔ اپنی عادتیں نہ بتاؤ نقلیں لگانا تمہارا کام یے مجھے آج پتہ چلا۔۔۔ اوہ اچھا میں نقلیں لگاتی ہوں تم تو بڑے ذہین ہو تو چلو مجھے پڑھاؤ مجھے ریاضی کے کچھ سوال نہیں آتے وہ سمجھاو۔۔۔ میں بھی ضد میں آگیا ویسے بھی ریاضی میرا پسندیدہ مضمون تھا میں کہا چل آجا تمہیں سمجھاتا ہوں تمہاری استانی بھی ویسے نہیں سمجھا پائے گی۔۔۔ وہ اندر کمرے میں جاتے ہوئے بولی آجا پھر ابھی دودوھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔۔ امی اور مامی ہماری نوک جھونک پر ہنس رہی تھیں۔۔۔ میرے لیے اب انا کا مسئلہ بن گیا تھا میں بھی مائرہ کے پیچھے پیچھے تیز تیز چلتا ہوا اندر داخل ہوا ۔۔۔ جیسے ہی میں اندر داخل ہوا مائرہ سے جا ٹکرایا وہ دروازے کی طرف پیٹھ کر کے جھکے ہوئی کوئی چیرز اٹھا رہی تھی۔۔۔ میں بے دھیانی میں اس کے پیچھے جا لگا مطلب میرا اگلا حصہ یعنی لن اس کی گانڈ سے جا ٹکرایا۔۔۔ اس کی گانڈ کی نرمی ایک لمحے میں مجھے وہ دن یاد آگیا جس دن اس کی گانڈ میں لن ڈالنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔۔۔ وہ ایک دم سیدھی ہوئی اور میری طرف غصے سے گھومی میں اس کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔ اس کےچہرے پر ناگواری کے تاثرات تھے اس نے مجھے کہا کچھ نہیں جا کر بیڈ پر بیٹھی اور کتابیں نکالنے لگی۔۔۔ بیگ سے ریاضی کی کتاب نکالی وہ اس وقت ہشتم کلاس کی طالب علم تھی لیکن لگتی وہ دسویں کی تھی۔۔۔ وقت سے پہلے ہی اس کے ممے بڑے ہو گئے تھے جسامت میں بھی وہ بھاری تھی چہرے کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ جوانی کے سنہری دور میں ہے۔۔۔۔ خیر اس نے الجبرا کا ایک مشکل سوال جو اس کے خیال میں تھا مجھے سمجھانے کو کہا۔۔۔۔ میں ریاضی میں اچھا تھا مجھے وہ سوال دیکھ کر ہنسی آگئی کیونکہ میں اس سے دو سال سینئر تھا میرے لیے وہ سوال مذاق ہی تھا۔۔۔ میں بہت آسانی سے وہ اس کو کروا دیا اس نے اپنے چہرے پر سنجیدگی سجا رکھی تھی۔۔۔ اسی سنجیدہ چہرے کے ساتھ اس نے ایک اور سوال سمجھانے کو کہا جو کہ مجھے ابھی یاد ہے سچ میں مشکل تھا ۔۔۔۔ الجبرا کا عبارتی سوال ہو اور آسان لگے تو اس کا مطلب ہے بندے کو ریاضی سچ میں آتی ہے۔۔۔۔ میں نے عبارت پڑھی اس کو بھی عبارت کا مفہوم سمجھایا سوال کروانا شروع کیا سوال حل کر لیا تو اس نے سوال کا جواب چیک کیا اور قہقے لگا کر ہنسنے لگی۔۔۔۔ ساتھ میری طرف اشارہ کرتی اور ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی میں شرمندہ ہونے لگا میں نے اس سے کتاب پکڑی اور جواب چیک کیا تو میں نے اس کو منہ چڑایا اور کہا آئی وڈی پروفیسر سوال دا جواب تاں ویکھنا نیں آندا تے ہاسے ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ سے کتاب چھین لی پھر سے سوال کا نمبر چیک کیا پھر جواب دیکھا تو شرمندہ ہو گئئ۔۔۔۔ میں نے کہا اور کوئی سوال ہے تو وہ بھی سمجھ لو اس نے کہا بس اور نہیں ہے اس کی ٹون یکدم بدل گئی ۔۔۔۔ وہ سجنیدہ ہو کر بیٹھ گئی اور سوال کرنے لگی میں اس کو سوال کرتے دیکھ کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھانے لگا۔۔۔ اس نے میری آنکھوں کی تپش محسوس کر کی نظریں اٹھا کر مجھے گھورتے ہوئے کہا کیا ہے ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے ناں میں سر ہلایا ۔۔۔ اس نے ایسے ہی غصے سے سر جھٹکا اور پھر کام کرنے لگی۔۔۔۔ میں اپنے کزن کے ساتھ گراؤنڈ کرکٹ کھیلنے چلا گیا وہاں خوب جم کر کرکٹ کھیلی ان کا گراؤنڈ تو بڑا تھا لیکن سامنے کی باونڈری کی لمبائی کم تھی ۔۔۔۔ اس کم لمبائی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مخالف ٹیم کے باؤلروں کی خوب درگت بنائی۔۔۔ میری وہاں واہ واہ ہو گئی جیسے بھی ہو مزہ مجھے بھی بہت آیا جب بندہ اچھا پرفارم کرتا ہے تو اندر کی فیلنگ ہی کمال ہوتی ہیں۔۔۔۔ شام کو گھر آئے کھانا کھایا تو مامی نے اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ لیا اور اپنے بھایی کے گھر دوسرے گاوں چلی گئیں وہاں کوئی شادی کا فنکشن تھا۔۔۔ پیچھے رہ گئے ماموں میں اور سمیرہ ماموں چھت پر سونے چلے گئے میں بیٹھک میں اور امی سمیرہ اور مائرہ ایک کمرے میں سو گئیں۔۔۔۔ رات کا پتہ نہیں کونسا پہر تھا کہ میری آنکھ کھل گئی مجھے پیاس لگی تھی میں اٹھ کر پانی پیسنے صحن میں گیا۔۔۔۔ وہاں مجھے مائرہ بھی پانی پیتی ملی میرے اندر بچپن والا شیطان گھس گیا اس کا منہ دوسری ظرف تھا میں دائیں بائیں دیکھا کسی کو نہ پا کر لن تو پہلے ہی سو کر اٹھنے کی وجہ سے کھڑا تھا۔۔۔۔ لن کی کس کو پرواہ تھی وہ تو ویسے بھی کھڑا ہونے کے لیے تیار رہتا تھا۔۔۔۔ میں نے مائرہ کے پیچھے جا کر اپنا لن اس کے گانڈ سے لگا دیا وہ کرنٹ کھا کر دور ہو گئی۔۔۔ اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے مڑ کر دیکھا اس کا ایک ہاتھ اپنے سینے پر تھا دوسرے ہاتھ میں جو گلاس تھا وہ نیچے گر گیا ۔۔۔۔ یہ تو فرش کچا تھا جس کہ وجہ سے آواز نہ آئی ورنہ اب تک سب لوگ جا چکے ہوتے۔۔۔ اس نے کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھا اور بدتمیز ذرہ بھی تمیز نہیں ہے تم میں گھٹیا انسان ہو یہ کہتی ہوئی وہ اندر چلی گئی۔۔۔۔ میں جو یہ سمجھ رہا تھا کہ اس سے تو بچپن سے ہی گٹی جڑ چکی ہے اس کو پٹانا آسان ہو گا اس سب سوچ کو اس نے ایک ہلے میں بہا کر رکھ دیا۔۔۔۔ میں نے پانی پیا اور واپس بیٹھک میں آ کر لیٹ گیا کافی دیر جاگنے کے بعد نیند آئی ۔۔۔ صبح دیر سے اٹھا وہ بھی سمیرہ نے آ کر جگایا کہا لاٹ صاحب اٹھ جاو اور ناشتہ کر کو میں نے اور کام بھی کرنے ہیں۔۔۔۔ میں اٹھ کر واش روم تازہ دم ہو کر واپس باہر آیا تو سمیرہ کچن میں بیٹھی تھی اس نے مجھے ناشتہ دیا میں ناشتہ کرنے لگا۔۔۔ ناشتہ کرتے کرتے مجھے احساس ہوا کہ گھر میں کچھ زیادہ کی خاموشی ہے میں نے سمیرہ سے پوچھ ہی لیا کہ امی کہاں ہیں۔۔۔ اس نے بتایا کہ وہ ابو یعنی میرے ماموں اور خالا کے ساتھ کسی کام سے گئی ہیں شام تک آئیں گی اور میں نے مائرہ کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ سکول گئی ہے اس کا آج ٹیسٹ تھا۔۔۔۔ میرے ذہن میں کوئی اور بات نہ آئی نہ ہی سمیرہ نے کوئی اور اشارہ دیا ناشتہ کیا اور واپس بیٹھک میں گھس کر کمپیوٹر پر ایک انڈین فلم لگا لی۔۔۔ فلم انڈین اداکار عمران ہاشمی کی تھی جس کے سین دیکھ کر لن تن گیا میرا اندر شہوت جاگ گئئ۔۔۔ میں نے ادھر کا سوچا نہ ادھر کا سوچا اٹھا اور اندر گھر والے حصے میں جا گھسا ادھر ادھر دیکھنے پر سمیرہ مجھے کمرے میں صفائی کرتی ملی۔۔۔۔ میں نے جا کر اس کو پکڑ لیا اپنے گلے لگایا تنا ہوا لن اس کے پیٹ میں جا لگا جھک کر اس کے لبوں پر لب رکھ کر رس کشید کرنے لگا۔۔۔۔ ساتھ ہی خود بخود میرے ہاتھ اس کے مموں پر چلے گئے وہ پسینے میں ڈوبی ہوئی تھی اس کے جسم سے پسینے کی بو آ رہی تھی ۔۔۔ مجھ تو شہوت سوار ہو چکی تھی مجھے وہ بو بھی اچھی لگ رہی تھی میں نے کسی بات کی پرواہ نہ کی مموں کو زور زور دبانے لگا ۔۔۔۔ ہونٹ چومتے چومتے میں اس کی گردن پر آتا گردن کو چومتا پھر ہونٹوں پر ہونٹ لے جاتا ۔۔۔۔ کبھی اس کی گال چومتا کبھی ٹھوڑی پر کس کرتا بے حد جنون میں مبتلا ہو گیا۔۔۔۔ اس کو بیڈ پر گرا لیا اور خود اوپر سوار ہو گیا اپنا ناڑا کھولا اس کی شلوار نیچے کی لن کو پھدی کے لبوں میں پھنسایا تو ٹوپی پر اس کی پھدی کا پانی لگنے سے ٹوپی گیلی ہو گئی۔۔۔۔ لن پر دباؤ بڑھایا ٹوپی اندر اتر گئئ میں نے کچھ توقف کیا پھر اور دباؤ بڑھایا لن کچھ مزید اندر گیا ۔۔۔۔ آج سمیرہ باجی کی پھدی کچھ زیادہ ہی گیلی تھی لن اندر اتر رہا تھا اور وہ روک بھی نہیں رہی تھی۔۔۔۔ میں نے مزید زور لگایا لن کچھ اور آگے چلا گیا یہاں سمیرہ باجی نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ کر مجھے مزید آگے کرنے سے روک دیا۔۔۔۔ میں نے لن کو جتنا اندر ہو چکا تھا اندر باہر کرنا شروع کیا کچھ دیر ایسے ہی کرنے کے بعد جب سمیرہ باجی نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ سے ہٹا کر کمر پر رکھا ۔۔۔۔ میں نے لن کو آرام سے پیچھے کیا پنی گانڈ کو کس کر ایک زوردار گھسا مارا لن آدھے سے زیادہ پھدی میں اتر گیا ۔۔۔۔ لن کیا اترا سمیرہ کی حالت ذبح ہوتی بکری جیسی ہو گئئ اس نے دائیں بائیں سر گھماتے ہوئے چیخ ماری اور رونا شروع کر دیا۔۔۔۔ اس کی حالت دیکھ کر میری حالت پتلی ہونی چاہیے تھی لیکن میں نے لن کو آرام سے پیچھے کھینچا اور پھر ایک زور دار گھسا مار دیا ۔۔۔۔ یہ انسان کی فطرت ہے جب سیکس کر رہا ہوتا ہے اس کو مخالف جنس کو تکلیف دے کر تسکین ملتی ہے مجھ پر بھی اس وقت وہ ہی تسکین کے حصول کی خوہش حاوی ہو چکی تھی۔۔۔ لن تو پتہ نہیں کتنا اندر گیا لیکن سمیرہ باجی کی آنکھیں بند ہونے لگیں وہ نیم بے ہوشی کی کیفیت میں آگئی۔۔۔
  5. اپڈیٹ شانزل کی امی جیسے ہی باہر نکلی شانزل نے نفرت بھری نگاہ مجھ پر ڈالی اور دوسرے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔ میں اپنی نظروں میں گر گیا یہ سوچ کر کہ اس نے میری نظروں کے تعاقب میں دیکھ لیا ہے اسی لیے تو اتنی نفرت سے دیکھ کر گئی ہے۔۔۔۔ میں وہیں بت بن کر بیٹھ گیا اور دماغ میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے۔۔۔ ابھی چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ شانزل کوئی کمرے لا پھینکی یا مجھے لگا بہرحال ایک زوردار آواز آئی۔۔۔۔ میں ہڑابڑا کر اپنی سوچوں سے باہر آیا اور اس آواز کی سمت میں دیکھا۔۔۔۔ شانزل کمر پر دونوں ہاتھ رکھے مجھے غور رہی تھی میرے دیکھنے پر اس نے غصہ بھری نگاہ ڈالی اور پھر نکل گئی۔۔۔ میں پھر سے پریشان ہو گیا کہ یہ کر کیا رہی ہے مجھے گھورتی ہے اور چلی جاتی ہے میں ایک بار اس کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔۔ تذبذب کا شکار ہو گیا کہ آیا اس کو مجھ پر غصہ ہے یا صرف دکھاوا کر رہی ہے کیونکہ اگر اس کو غصہ ہوتا تو وہ پھٹ پڑتی لیکن وہ کویی بات نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔ یکدم وہ کمرے سے نکلی اور باہر صحن میں چلی گئی ایک یا دو سیکنڈ بعد دروازہ زور سے بند ہونے کی آواز آئی ۔۔۔۔ پتہ نہیں وہ کر کیا رہی تھی لیکن جو کر رہی تھی میں الجھن کے ساتھ ساتھ اس کے رویے پر حیران بھی ہو رہا تھا کیونکہ وہ جو کر رہی تھی میری سمجھ سا بالاتر تھا ۔۔۔۔ وہ آگ کے بھبھوکے کے طرح واپس آئی اور آتے ہی میرا گریبان پکڑ لیا میری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔۔ اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسوؤں جے قطرے گرنے لگے میرے لیے یہ ایک نئی بات تھی کیونکہ ابھی کچھ دیر پہلے جس طرح وہ دیکھ رہی تھی اس کے برعکس اس نے رونا شروع کر دیا ۔۔۔۔ گریبان سے پکڑ کر مجھے جھنجھوڑتے ہوئے سسکیوں سے رونے لگی ۔۔۔۔ میں بت بنا کھڑا رہا میرےپلے اس کے رویے کی الف ب بھی نہیں پڑ رہی تھی۔۔۔۔ روتے روتے بولی بلو تم کتنے ظالم ہو کتنے گھٹیا انسان ہو ذرہ بھی پرواہ نہیں ہے کہ کوئی تمہارے لیے کتنا تڑپ رہا ہے۔۔۔۔ ساتھ ہی ہلکے ہلکے تھپڑ مارنے لگی روتے ہوئے مزید بولی بلو مجھ سے اور برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔ مجھے کچھ ہو جائے گا میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی مجھے کوئی کچھ بھی کہے تم جیسے بھی ہو میرے لیے تم ہی ہو بس۔۔۔۔ مجھے کسی کی پرواہ نہیں کسی کی کویی بات نہیں سننی تم بس میرے ہو بلو تمہیں پتہ ہے مجھے کیا ہوا ہے۔۔۔۔ مجھے کویی بخار نہیں ہوا مجھے کچھ بھی نہیں ہے وہ جو شمع ہے ناں وہ کہتی ہے تم اس کی بھی لے چکے ہو تم کسی کی بھی لو کسی سے بات کرو مجھے ناں کویی فرق نہیں پڑتا بس مجھے نہ چھوڑنا بلو میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہوں گی۔۔۔۔ ایک بات پھر وہ زارو قطار رونے لگ گئی میں حیران و پریشاں اس کے اس رویے کر غور کر رہا تھا مجھے تو صرف لن اور پھدی کا چسکا تھا میں کیا جانوں یہ پیار کی بولی کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔ میرے اندر اس وقت بھی شیطان نکارے نار کر کہہ رہا تھا موقع اچھا ہے فائدہ اٹھا لو اس کے جسم کا لمس میرے لن میں کرنٹ دوڑا رہا تھا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی پیش قدمی کرتا وہ مجھ سے الگ ہوئی اپنے ہاتھوں سے رگڑ رگڑ کر آنکھیں صاف کیں اور منہ دوسری طرف کر کے بولی تم ابھی چلے جاؤ ۔۔۔۔ میں نے جب سے وہ آئی تھی یا جب سے میں اس کے گھر آیا تھا اس سے ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا ۔۔۔۔ میں نے مری ہوئی آواز میں کہا شانزل ۔۔۔۔ اتنا ہی بولا تھا کہ وہ ایک دم پلٹی اور میرے سینے سے آ لگی اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی ۔۔۔۔ اس نے مجھے اپنی باہوں میں کس لیا اور بولی بلو ایک بار پھر میرا نام لینا بالکل ویسے ہی پیار سے جیسے ابھی لیا۔۔۔ میں نے پھر سے کہا شانزل ساتھ ہی اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں بھر لیا ۔۔۔۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور کہا جی میری جان میری روح میرے جسم و جاں کے مالک بولو۔۔۔۔ میں۔۔۔ کیا ہوا تمہیں ایسا کیا ہو گیا ہے جو اپنا یہ حال کر لیا یے۔۔۔ شانزل ۔۔۔ وہ جو شمع ہے نہ وہ کہتی ہے تم مجھے دھوکا دے رہے ہو تم مجھے چھوڑ جاؤ گے۔۔۔۔ اس کی آواز اس کا انداز اس کے اندر کی کیفیت بیان کر رہا تھا مجھے وہ ہوش سے بیگانہ لگ رہی تھی ۔۔۔۔ اس کو کوئی ہوش نہیں تھی وہ کیا بول رہی بہت زیادہ ڈپریشن کا شکار لگ رہی تھی۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ وہ جھوٹ بول رہی ہے میں ایسا بھلا کیوں کروں گا ۔۔۔ میں نے یہ الفاظ اس کی کیفیت دیکھتے ہوئے کہے تھے کیوںکہ مجھے لگ رہا تھا کہ میرے اچھے الفاظ ہی اس کو ٹھیک کر سکتے ہیں۔۔۔ شانزل ۔۔۔۔ خوش ہوتے ہوئے اس کا مطلب ہے وہ وہ وہ جو شمع کہہ رہی تھی وہ سب جھوٹ ہے ایسا ہے ناں بولو ناں بلو کہو وہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔ وہ رونے لگ گئی ایک بار پھر سے اس نے میرا گریبان پکڑ لیا۔۔۔ میں اس کی حالت دیکھ کر ڈر گیا اگر اس کو اس حال میں اس کی امی نے دیکھ کیا تو میری خیر نہیں۔۔۔ میں۔۔۔ میں سچ کہہ رہا ہوں ایسا کبھی نہیں ہو گا تم بس اپنا خیال رکھو میں کبھی تمہیں دھوکا نہیں دوں گا۔۔۔۔ یہ الفاظ مجھے دود ہی کھوکھلے لگ رہے تھے کیونکہ اس کی حالت دیکھ کر مجھے اس پر ترس ضرور آ رہا تھا لیکن اس کے لیے دل میں کوئی جذبہ پیدا نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہو گئی میرا منہ چومنے لگی پھر پیچھے ہو کر اداس چہرہ بنا کر کھڑی ہو گئی اور بولی تم مجھے بیوقوف سمجھتے ہو ۔۔۔۔ سر کو ایک جھٹک کر وہ دوبارہ دوسرے کمرے میں چلی گئی واپس آئی اور بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں بولی بلو ایک بات یاد رکھنا کسی کی چاہت کا مذاق نہیں بناتے ۔۔۔۔ میں نے دل سے تمہیں چاہا ہے اور مرتے دم تک چاہتی رہوں گی تم کچھ بھی سوچو کچھ بھی کرو میری چاہت کم نہیں ہو گی آج میں نے تمہاری نظروں میں ہوس دیکھی تو مجھے شمع کی بات سچ لگی ۔۔۔۔ میں یہ نہیں پوچھوں گی کہ تم نے جان بوجھ کر وہ سب کیا یاد انجانے میں لیکن تم نے وہ کیا اس سے انکار نہیں کر سکتے۔۔۔۔ اس وقت اس کا انداز ہی الگ تھا کسی بھی زاویے سے ابنارمل نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔ وہ مزید بولی تم سمجھ رہے ہو گے ابھی یہ کیا کہہ رہی تھی اب بدل گئی اس کا انداز بدل گیا ۔۔۔۔ میں تمہاررے اندر چھپی سچائی نکلوانا چاہ رہی تھی تمہارے کھوکھلے الفاظ نے سب کچھ عیاں کر دیا ہے۔۔۔ وہ کچھ اور بھی کہتی باہر کی گھنٹی بجی اس نے جا کر دروازہ کھولا اس کی امی آئی میں اٹھ کر گھر آگیا۔۔۔۔ گھر آ کر بھی میرے دماغ سے اس کی باتیں نہیں نکلیں یہ سب نکالنے کے لیے مجھے آرام کی ضرورت تھی چنانچہ میں سو گیا۔۔۔۔ سو ہی رہا تھا کہ مجھے امی نے اٹھایا اور کہا بلو اٹھ جا تیرے ماموں لوگوں کے پاس جانا ہے۔۔۔۔ میں نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا کی اے امی سون دیو ۔۔۔ امی نے مجھے کان سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا جلدی اٹھ اور نہا لے کپڑے استری ہو گئے نیں تے چل ۔۔۔۔ میں اٹھا نہایا امی تب تک تیار ہوئی کھڑی تھیں میرے بال شال بنانے تک وہ مکمل طور پر تیار تھیں ۔۔۔ مجھے یہ بھی پوچھنے کا موقع نہ دیا کہ ہوا کیا ہے بس اپنے ساتھ لیا اور چل دیں۔۔۔ باہر سے ہم نے رکشہ لیا اور اڈے سے بس میں سوار ہو کر ہم ماموں لوگوں کے شہر پہنچ گئے وہاں سے پھر رکشہ لیا اور سیدھی ماموں کے گھر جا پہنچے۔۔۔۔ امی نے دھڑا دھڑ زور زور سے دروازہ ناک کیا ایک منٹ میں کوئی پانچ بار دروازے کی شامت آئی ہو گی ایک بار پھر وہ دروازی بجانے لگیں تھیں کہ دروازہ کھل گیا ان کا اٹھتا ہاتھ رک گیا۔۔۔ میں تو دروازہ کھولنے والے کو دیکھ کر مبہوت ہو گیا کیا حسن تھا ابھرتی جوانی بڑی بڑی آنکھیں ان میں چمکتی شناشائی کی لہریں ۔۔۔۔ کھلے لمبے بال موٹے لال لب گلابی رنگت اوپر سے سرخ سوٹ پہنے اپنے بھاری بھاری مموں کو دوپٹے سے چھپانے کی ناکام کوشش کرتے سامنے کھڑی حسن کی مورت ۔۔۔۔ میں تو اس کو پہچان کر بھی پہچان نہ پایا اس نے امی سے پیار لیا امی تیزی سے آگے بڑھ گئی میں بت بنا اس حسن کی دیوی کو دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔۔ اس نے گلا کھنکار کہا بلو کی گل آ اندر نہیں آونا تے میں بوہا بند کر دیواں ۔۔۔۔ اس کی آواز نے میرے کانوں میں رس گھول مجھے یاد آیا یہ تو وہ ہی موٹو سی مائرہ ہے ۔۔۔۔ ہاں جی میرے ماموں کی بیٹی مائرہ جس تھی وہ ہی مائرہ جس کی میں نے زندگی میں پہلی بار لینے کی ناکام کوشش کی تھی ۔۔۔۔ ایک ہی بار میں وہ ساری فلم میرے دماغ میں گھوم گئی۔۔۔۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ وہ بڑی ہو کر اتنی حسین ہو جائے گی تو میں اس کے لیے چکر لگاتا رہتا۔۔۔۔ امی تو سیدھی اندر گئیں پہلی بات میرے لیے حیرانی کی یہ تھی کہ ہم جب بھی وہاں جاتے پہلے خالا کے گھر جاتے تھے اس کے بعد ماموں لوگوں کی طرف چکر لگاتے تھے۔۔۔۔ آج امی سیدھی ماموں کے گھر گئیں اور وہ بھی اتنی جلدی میں میرے لیے حیرانی کی بات تھی ۔۔ امی کے اندر جانے کے بعد مائرہ کے پیچھے میں بھی اندر چل دیا مائرہ مجھے بڑے کمرے میں لے گئی جہاں مامی سے امی مل رہی تھیں۔۔۔ ماموں گھر نہیں تھے بلکہ کوئی بھی گھر نہیں تھا میں مائرہ کی مٹکتی گانڈ دیکھتا ہوا اندر داخل ہوا مامی سے پیار لیا ۔۔۔ مامی نے مائرہ کو پانی لانے کا کہا وہ باہر نکل گئی امی اور مامی ایک دوسرے سے حال چال پوچھنے لگ گئیں۔۔۔ کچھ ہی دیر میں مائرہ شربت بنا کر لے آئی امی نے ایک گلاس پی کر بس کر دی جب کہ میرا دل مائرہ کے ہاتھ سے بار بار پینے کو دل کر رہا تھا۔۔۔۔ میں نے تین گلاس پی لیے جب پھر آگے گلاس کیا تو اپنی ڈانٹ دیا مائرہ کی ہنسی نکل گئی اور مامی نے امی کو منع کیا باجی فیر کی ہویا پی لین دے پیاس لگی ہووو پی لے میرا پت ۔۔۔ لیکن مائرہ کے سامنے بے عزتی مجھے بہت کھلی میں نے کہا نہیں بس مامی مائرہ کو گلاس پکڑا دیا مائرہ نے بھی ایسے ہی ایک دو بار کہا مامی نے بھی لیکن میں نے نہ پیا۔۔۔۔ کچھ دیر امی اور مامی کی باتیں سنتا رہا ہھر بور ہونے لگا مائرہ شاید کھانا وغیرہ بنانے لگ گئی تھی عصر کے بعد کا وقت ہو گیا تھا۔۔۔ میں اٹھ کر باہر آیا لیکن کوئی نہ تھا اس لیے مائرہ کو دیکھنے کے لیے کچن میں جھانکا وہ لکڑیاں جلا رہی تھی۔۔۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا اور پوچھا کچھ چاہئیے اوہ ہاں مجھے یاد آیا اور شربت پینا ہے میں ابھی دیتی ہوں ساتھ ہی مسکرا دی۔۔۔ اٹھنے لگی تو میں شرمندہ ہو کر دائیں بائیں دیکھتے ہوئے وہاں سے کھسک گیا۔۔۔۔ ماموں لوگ جس گھر میں رہتے تھے وہ میرے نانا نے بنوایا تھا پرانی طرز کا گھر تھا سامنے صحن تھا ایک ظرف پہلے چولہا ہوتا تھا پھر اسی جگہ کچن بن گیا اس کے بعد دو کمرے تھے ایک بڑا کمرہ اس میں بھی ایک دروازہ تھا جو ایک چھوٹے کمرے میں کھلتا تھا۔۔۔۔ چھوٹے کمرے میں کا ایک دروازہ صحن میں تھا جبکہ ایک دروازہ پیچھے بنی بیٹھک اور اس کے ساتھ بنے ڈائیننگ روم میں کھلتا تھا اگلے دونوں دروازوں کے برابر پیچھے بیٹھک اور بیٹھک میں ڈائننگ روم طرز کا ایک چھوٹا کمرہ تھا لیکن ان کے درمیان صرف پردہ لگا تھا ۔۔۔۔ میں چھوٹے دروازے سے گزر کر پیچھے بیٹھک میں چلا گیا وہاں کمپیوٹر پڑا تھا میں نے اس کو آن کیا اور اس پر گیم کھیلنے لگ گیا۔۔۔ لیکن مزہ نہ آیا کیونکہ میں نے زیادہ کپیوٹر استعمال نہیں کیا تھا اسی وقت اندر والا دروازہ کھکا وہاں سے ماموں کی بڑی بیٹی جس کا نام سمیرہ تھا وہ عمر میں مجھ سے کافی بڑی تھی لیک قد میں وہ چھوٹی رہ گئی تھی۔۔۔ پتہ نہیں کس پر گئی تھی حالانکہ ماموں اور مامی دونوں کے قد لمبے تھے اور خوبصورت بھی تھی باقی بچے بھی خوبصورت تھے۔۔۔۔ اس نے مجھے بلایا اس کی ایک عادت تھی وہ ایسے ہی گال پر چٹکی کاٹ لیتی تھی بچپن سے کی مجھے اس سے الرجی تھی ۔۔۔ اس دن بھی وہ میرے پاس آئی اس نے میری گال کر چٹکی کاٹنے کی بجائے مجھے اپنے گلے لگایا اور پوچھا کیا حال ہیں۔۔۔ جب اس نے مجھے گلے لگایا تو مجھے احساس ہوا اس کے ممے بہت چھوٹے ہیں جسم بھاری ہے اور ایک اضافی بات جو مجھے پتہ چلی وہ یہ تھی کہ اس کے جسم سے شہوت کی خوشبو آ رہی تھی۔۔۔ مطلب وہ بہت گرم لڑکی تھی اس نے مجھے کس کر گلے لگایا تھا اور اسی طرح ہی میری گال پر چٹکی کاٹی میری جان نکال دی میں نے آج تک اس کو کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔۔ شاید اس لیے نہیں کہا تھا کہ اس وقت بچہ ہوتا تھا لیکن آج میں نے کہا باجی نہ کریں اب میں بچہ نہیں رہا ۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے میری نقل اتارتے ہوئے بولی باجی نہ کرو میں بچہ نہیں رہا اور ہسننے لگی ۔۔۔ پھر بولی اچھا تو اب تم بڑے ہو گئے ہو ذرہ مجھے بھی تو پتہ چلے کتنے بڑے ہو گئے ہو پہلے تو میری گود میں بیٹھ جاتے تھے اب پورے نہیں آو گے یا مجھے اپنی گود میں بٹھا لو گے۔۔۔۔ میں بھی ضد میں آگیا میں نے کہا اب آپ میری گود میں بیٹھ جاو حساب برابر آج کے بعد مجھے یہ بات نہ کہنا ۔۔۔۔ وہ جھٹ سے تیار ہو گئی چلو بٹھاو مجھے اپنی گود میں پتہ چلے گا کتنی دیر بٹھا سکتے ہو کیا اتنی دیر بٹھا لو جتنی دیر میں نے تمہیں بارات کے ساتھ جاتے ہوئے بٹھایا تھا۔۔۔۔ یہ بھی ایک واقعہ تھا ایک دفعہ ہم شادی پر گئے تھے یہ اسی شادی کی بات ہے جس میں مائرہ کے ساتھ میں لکن چھپن کھیلا تھا۔۔۔ سب بچوں کو بارات کے ساتھ جانے کے لیے تیار کرلیا اور سیٹیں کم ہو گئیں تھیں تو بچوں کو بڑوں کی گود میں بٹھا کر لے گئیے تھے۔۔۔ مجھے سمیرہ کی گود ملی تھی بارات کو پہنچنے میں دو گھنٹے لگے تھے اس دوران میں مسلسل سمیرہ کی گود میں بیٹھا رہا تھا اور جان بوجھ کر اس کے مموں سے اپنی کمر رگڑتا رہ تھا ۔۔۔۔ اور تو کچھ نہیں پتہ تھا لیکن مجھے اچھی فیلنگ آ رہی تھیں میں تو بچہ تھا مجھے کیا پتہ تھا لیکن وہ اس وقت بھی جوان تھی سترہ سال کی تو ہو گی اس نے میرے پیٹ پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر میری کمر کو اپنے مموں سے لگا لیا تھا۔۔۔۔ اج جب اس نے گود والی بات کی تو مجھے وہ سب یاد آگیا میں نے بھی کہا ٹھیک ہے بیٹھ جاو وہ تو تیار تھی ۔۔۔ میں چارپائی پر بیٹھ گیا اور اس کو کہا آجاؤ بیٹھ جاو وہ میرے پاس آئی گھوم کر میری گود میں اپنی گانڈ اس طرح سے رکھی کہ لن گانڈ کی دراڑ میں آ گیا۔۔۔۔ وہ بیٹھ کر گاند کو ہلکا ہلکا ہلانے لگی لن نے سر اٹھانا شروع کر دیا اب میں ڈبل مصیبت میں پھنس گیا ایک تو اس کا وزن کافی تھا دوسرا لن کھڑا ہونے لگا ۔۔۔۔ میں ڈر رہا تھا کہ اگر یہ کھڑا ہوگیا تو سمیرہ باجی میرے بارے میں کہا سوچیں گی ۔۔۔ میں نے سانس روکی بہت کوشش کی کہ لن کھڑا نہ ہو لیکن لن کو جب موقع ملے وہ اپنی اوقات دکھا کر رہتا ہے۔۔۔۔ میری لاکھ کوشش کے باوجود وہ کافی حد تک سخت ہوگیا اور گاند کی دونوں پھاڑیوں میں لمبا ہونے لگا ۔۔۔۔ دوسری طرف اب سمیرہ نے بھی ہلنا بند کر دیا تھا اس کے جسم سے اٹھنے والی مہک بہت تیز تھی ایسی مہک میں نے کسی کے بھی جسم سے نہیں سونگی تھی۔۔۔ اس نے کہا بلو اگر میں گر گئی تو ویسے بٹھاو جیسے میں نے بٹھایا تھا۔۔۔ میں۔۔۔ کیسے بٹھایا تھا مجھے یاد نہیں۔۔۔ اس نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور اپنے پیٹ پر رکھ لیے اور کہا ایسے پکڑو ۔۔۔ میرے ہاتھ اس کے پیٹ پر کم مموں کے قریب زیادہ تھے کیونکہ وہ قد میں کافی چھوٹی تھی اس لیے اس کا جسم بھی اسی حساب سے تھا پیٹ اور مموں کے درمیان فاصلہ کم تھا ۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ اس جگہ رکھے تھے جہاں سے پیٹ شروع ہوتا تھا ۔۔۔ اب میرے لیے لن کو روکنا نا ممکن ہو گیا تھا کیونکہ لن تقریبآ فل سخت ہو چکا تھا اور سمیرہ باجی نے اپنی کمر میرے سینے سے لگا دی تھی ۔۔۔ وہ بہت آہستہ آواز میں بولی بلو یہ نیچے کیا چب رہا ہے۔۔۔ میں کہاں کیا چب رہا ہے۔۔۔ سمیرہ ۔۔۔۔ میرے نیچے ۔۔۔ اس کی آواز میں کچھ تھا شاید وہ گرم ہو رہی تھی۔۔۔ میں۔۔۔ کہاں نیچے اور کیا مجھے تو کچھ نہیں پتہ۔۔۔ سمیرہ۔۔۔ بلو اب تم جھوٹ نہ بولو تمہیں سب پتہ ہے کہاں کیا چب رہا ہے۔۔۔ میں۔۔۔ سچ میں نہیں پتہ ۔۔۔ سمیرہ نے ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی اور میرے گال پر اپنا ہاتھ پھیر کر میری گود سے اٹھ گئی۔۔۔۔ جیسے ہی وہ اٹھی میرا گھوڑا بھی اسی کے ساتھ ہی شلوار میں تنبو بنا کر کھڑاہو گیا۔۔۔۔ سمیرہ نے اٹھنے کے بعد میری گود میں دیکھا تو اس کے آنکھوں میں حیرت بپا تھی۔۔۔۔ اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا اور مجھے گہری نظروں سے دیکھتی ہوئی چلی گئی۔۔۔ میں وہیں چارپائی پر لیٹ کر سمیرہ کے رویے کے بارے میں سوچنے لگا سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ۔۔۔۔ میری آنکھ کسی کے زور زور سے کندھا ہلانے سے کھلی ہلانے والا کوئی تھا نہیں بلکہ تھی ۔۔۔۔ مائرہ میرے سرہانے کھڑے میرا کندھا ہلاتے ہوئے کہہ رہی تھی نواب صاحب ایتھے سون آئے او اٹھ جا ہن منجیاں توڑن ڈیا ایں۔۔۔ میں نے نیم وا آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا دھندلا لیکن چمکتا چہرہ نظر آیا ایک لمحے کے لیے تو مجھے لگا میں کسی پرستان میں ہوں اور کوئی پری میرے سرہانے کھڑی ہے۔۔۔۔ لیکن سادی ایڈی قسمت کتھوں اسیں ٹھہرے کھاڈے دے ڈڈو( نالے کے مینڈک)۔۔۔ جب اس نے پھر اپنے لب ہلائے ہن کی آ اٹھ جا کہ پھپھو آپے ای آ کے تینوں روٹی دیاں برکیاں کھواوے۔۔۔۔ مجھے اس بار اس کی آواز سے کم از کم یہ اندازہ ہوا کہ میں اسی جہان میں ہوں۔۔۔۔ میں اپنی آ نکھیں ملیں اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور جان بوجھ کر انگڑائی لی کیونکہ مائرہ میرے بہت قریب تھی میرے انگڑائی لینے سے میرا ہاتھ اس کے سینے سے لگتا ۔۔۔۔۔ لیکن وہ بھی کچھ کم نہ تھی جیسے ہی میں نے انگڑائی لی اپنے اندازے کے مطابق اس کے مموں سے ہاتھ کو ٹچ کرنا چاہا وہ پیچھے ہو گئی۔۔۔۔ جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوئی واہ لاٹ صاحب اب انگڑائیاں لیتے رہیں میں کھانا لگا رہی ہوں اگر لاڈ صاحب کا موڈ ہو تو کھا لیں ۔۔۔۔ وہ چل دی پھر رک کر پلٹی اور بولی اور ہاں پھپھو کہہ رہی تھیں کہ تین چار دن یہاں رہنا ہے کوئی کام ہے ان کو یہاں اس لیے اگر تم جانا چاہو تو کل چلے جانا۔۔۔۔۔ میں صرف اس کی طرف دیکھ رہا تھا وہ پھر بولی ویسے اگر رہنا چاہو تو ۔۔۔۔۔ اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گئی میں نے پوچھا بھی تو ۔۔۔۔۔۔ وہ ہنس کر چل دی لیکن مجھے ایک سسپنس میں ڈال گئی۔۔۔۔ میں اٹھا باہر آیا منہ ہاتھ دھویا تھوڑا تازہ دم ہوا کھانا کھانے کے بعد امی تو ماموں کے ساتھ خالا کے گھر چلی گئیں پیچھے ماموں کے بیٹے بھی آ گئے ۔۔۔۔ ہم نے بیٹھ کر خوب گپ شپ لگائی پہلے ذکر ہو چکا ہے ماموں کے بیٹوں کا ان میں جو میرا ہم عمر کہہ لیں یا دوست کہہ لیں وہ میرے ساتھ بیٹھا رہا دوسرا اٹھ کر باہر نکل گیا ٹائم بھی کافی ہو گیا تھا۔۔۔۔ گاؤں میں پاس کہ گھر ہونے کی وجہ سے ماموں اور امی خالا کے گھر ہی تھے ابھی میرا کزن جس کا نام تو کچھ اور تھا ہم اس کو ککا (بھورا) کہتے تھے۔۔۔۔ وہ میرے ساتھ بیٹھا تھا ایک دم اس نے میرے کان میں کہا آج تمہیں ایک سین دکھاتا ہوں۔۔۔۔ میں نے ناسمجھی میں اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا آ جا باہر چلتے ہیں۔۔۔۔ ہم دونوں باہر نکل گئے ایک دو گلیاں گھوم کر جب ہم آگے جانے لگے تو میں کہا کہاں جا رہے ہیں کیونکہ یہ وہ ہی رستہ تھا جدھر خالا کا گھر تھا۔۔۔۔ ککے نے کہا تھوڑا صبر رکھ ابھی پتہ چل جائے گا ۔۔۔۔ میں پھر اس کے ساتھ چل پڑا کچھ آگے جا کر اس نے میرا بازو پکڑا اور کان میں بولا اب بولنا نہیں بس چپکے چپکے میرے پیچھے آ جا۔۔۔۔ وہ ایک خالی پلاٹ ٹائپ جگہ تھی جس میں لکڑیاں وغیرہ رکھی ہوئیں تھیں اس جگہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں جن ہیں لوگ دن میں بھی وہاں جانے سے ڈرتے تھے۔۔۔۔ جبکہ ککا مجھے رات کے اندھیرے میں وہاں لے کر جا رہا تھا میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں ۔۔۔۔ میں بزدل نہیں تھا لیکن جیسا لوگ کہتے تھے یا جو واقعات اس جگہ کے بارے میں میرےکانوں تک پہنچے تھے وہ بہت خوفناک تھے۔۔۔۔ میں نے بازو چھڑوانے کی بھی کوشش کی لیکن ناکام رہا تھوڑا آگے جا کر لکڑیوں کے ڈھیر کے پاس وہ تک گیا اور مجھے اشارے سے کہا اندر دیکھو۔۔۔۔ میں نے اس کی طرف دیکھ کر ہاتھ سے کہا کیا ہے وہاں ۔۔۔۔۔ اس نے مجھے جواب دینے کی بجائے کھینچ کر میرا منہ اس طرف کر دیا۔۔۔۔ میری نظر لکڑیوں کے درمیان ایک جگہ جا ٹکی وہاں کچھ اس طرح کا سین تھا کہ لڑکیوں کو جوڑ کر ایک قسم کی جھونپڑی بنائی گئی تھی جس کے اندر ہلکی ہلکی روشنی تھی مزے کی بات یہ تھی کہ دور سے وہاں صرف روشنی ہی نظر آتی تھی جس جگہ ہم کھڑے تھے وہاں سے اندر کا سارا ماحول نظر آرہا تھا۔۔۔۔ میں نے وہاں دیکھا کہ ککے کا بڑا بھائی یعنی کہ میرا ماموں زاد جس کو ہم نیلی کہتے تھے یہ اس کی چھیڑ بھی تھی وہ اپنا لن ہاتھ میں پکڑے کسی لڑکی کے منہ میں ڈال رہا تھا لڑکی کا منہ ایک طرف تھا مجھے صاف نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ میں نے پوری توجہ اس طرف کر لی اور آہستہ آہستہ جگہ ڈھونڈتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔۔۔ میں اس حد تک آگے چلا گیا تھا مجھے لن کے چوسنے کی آوازیں بھی آنے لگیں۔۔۔۔ کزن کی آواز بھی مزے بھری نکل رہی تھی لیکن سرگوشی کی صورت میں وہ لڑکی جو بھی تھی اس کے چہرے کی ایک سائیڈ نظر آ رہی تھی جو نظر آ رہی تھی اس سے اس کی خوبصورتی کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔۔۔۔ لن جن ہونٹوں میں جا رہا تھا اور جس مہارت سے چوپے لگا رہی تھی اس کے چدکڑ ہونے کی دلیل تھی ۔۔۔۔ پورا لن منہ کے کر چوس رہی تھی ابھی تک لن باہر نہیں نکالا تھا نیلی کی بھی یہ کوشش تھی کہ منہ کو ہی چودتا رہے وہ اپنی گانڈ کو اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے کے انداز میں لن گھسا رہا تھا۔۔۔۔ کچھ دیر لن چوسائی کا سین چلتا رہا میرا لن بھی تن کر کھڑا ہو گیا پھر اس لڑکی نے لن کو منہ سے نکالا اور ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔ اب میری چونکنے کی باری تھی ہاں جی نیلی کا لن عجیب طرح کا تھا میں نے غور سے دیکھا اس کے لن کی ٹوپی نہیں تھی اس وقت تک تو یہ پتہ تھا کہ لن کی ٹوپی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ یہ سمجھ نہ آئی کہ ٹوپی کی شیپ بنانے کی ذمہ داری نائی کی ہوتی ہے ۔۔۔۔ تو بات کر رہا تھا نیلی کے لن کی جس کی شیپ مختلف تھی یعنی کہ ابھی تک اس نے ختنے نہیں کروائے تھے یہ میرے لیے نئی بات تھی۔۔۔۔۔ اس کالن موٹا تو تھا لیکن لمبائی میں اتنا نہیں تھا میرے لن سےآدھا ہی ہوگا ۔۔۔۔ لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اس نے اس لڑکی کو کچھ کہا وہ لڑکی گھومی اس کا چہرہ میری ظرف ہوا میرے منہ سے نکلا اوہ تیری میں بہن نوں لن ٹھوکاں اوئے ککے آ کی اے سالی حرامزادی اے بھا نیلے نال ۔۔۔ میری آواز اونچی ہو گئی تھی شاید یہ آواز ان تک بھی پہنچ گئی تھی اس لیے تو بھا نیلا مجھے وہاں سے کھسکتا نظر آیا ۔۔۔۔ وہ دوسری طرف سے اپنا ناڑا باندھتے ہوئے نکل گیا میں تیزی سے اڈ لڑکی کے سر پر پہنچ گیا مطلب اس جھونپڑی میں گھس گیا جبکہ ککا میرے پیچھے آنے کی بجایے وہاں ہی کھڑا رہا۔۔۔۔ یہ وہ ہی لڑکی آسیہ تھی جس کے ساتھ بچپن میں ہم کھیلا کرتے تھے خالا لوگوں کے ہمسائے میں رہتی تھی اس وقت بچی تھی ہم بھی تو بچے تھے ۔۔۔۔ اس عمر میں بھی اس نے مجھ پر خط لکھنے کا الزام لگا دیا تھا وہ بات آج بھی مجھے کچوکے لگاتی ہے بس پھر مجھے آج موقع مل گیا تھا اپنی بے عزتی کا بدلا لینے کا۔۔۔۔ میں اس کے پاس جا بیٹھا وہ اپنی شلوار پہن رہی تھی میں نے اس کے ہاتھ سے شلوار پکڑ لی۔۔۔ اس کو کہا اتنی جلدی بھی کیا ہے یاد کرو۔۔۔ ہم بھی رسوا ہوئے تھے تیرے عشق میں جب تم نے مجھ کر الزام لگایا تھا خط لکھنے کا اور آج یہ سب کر رہی ہو وہ بھی ہم سب سے بڑے ہمارے ہی کزن سے۔۔۔۔ اب تو میں سارے گاؤں کو اس جگہ کیا ہوتا ہے بتاوں گا یہ آگ کا کیا سین ہے جو تم یہاں کارنامے کرتی ہو ایک ایک بات پورے مرچ مسالے کے ساتھ لائیو ٹیلیکاسٹ ہو گا۔۔۔۔ میں نے شلوار اپنے قبضے میں کر لی تھی۔۔۔ وہ مسکین صورت بنا کر بولی بلو نا کرو کسی کو بھی نہ بلاو کیا مل جائے گا تمہیں یہ سب کر کے مجھے بدنام کر کے تم خوش ہو جاؤ گے لیکن میری زندگی برباد ہو جائے گی۔۔۔۔ میں یہ سب پہلے سوچنا تھا جب یہاں آئی تھی میں سب کچھ دیکھ رہا تھا کافی دیر سے کس طرح لولی پاپ چوس رہی تھی۔۔۔۔ آسیہ بولی اب نہیں کروں گی ابھی مجھے جانے دو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔ لیکن میرا تو لن اس کے چوسنے کے انداز کو دیکھ کر فل ٹن ہو چکا تھا میں کیسے جانے دیتا اس کو وہ بھی اس کو جس کی پھدی مارنے کا خواہش مند میں تب سے تھا جب سے اس نے مجھ پر الزام لگایا تھا۔۔۔۔ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا یہ نہیں ہو سکتا کچھ تو دینا پڑے گا نہیں تو آبھی تمہاری شلوار لے کر چلا جاتا ہوں۔۔۔۔ اس نے میرے پاؤں پکڑ لیے اور بولی ایسا نہ کرنا پلیز میں تمہارے پاؤں پڑتی ہوں پتہ اس وقت مجھے کیا ہو گیا تھا میں اس کو چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ایسا نہیں کرتا تم مجھے کرنے دو جو نیلا بیچ میں چھوڑ گیا ۔۔۔۔ وہ بولی پلیز نہ کرو ایسا لیکن اس کی آواز میں دم نہیں وہ تقریباً رضا مند تھی۔۔۔ میں نے اٹھتے ہوئے کہا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی میں پھر وہی کرتا ہوں جو کہہ رہا ہوں۔۔۔ وہ جلدی سے بولی اچھا کر لو جو کرنا ہے وہ لیٹ گئی ۔۔۔ میں نے اپنا ناڑا کھولا اور لن کو تولا وہ ابھی کچھ ڈھیلا تھا اس کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلایا کر ٹائٹ کیا اس دوران اس کی پھدی سے قمیض ہٹائی جس کو اس نے ہلکی سے مزاحمت سے چھوڑا دیا تھا۔۔۔۔ لن ٹائٹ ہوا میں نے اس کی ٹانگیں اٹھائیں اور لن کو اس کی پھدی کے لبوں میں پھنسا دیا اور اس کے اوپر لیٹتے ہوئے ایک زور کا جھٹکا مارا لن پھسل کر باہر نکل گیا۔۔۔۔ لیکن اس کے منہ سے ہائے کی آواز نکلی میں نے پھر سے اسی طرح لیٹے لیٹے ہاتھ نیچے لیجا کر لن کو اس کی پھدی میں پھنسایا اس بار تھوڑا سا دباؤ ڈالا لن کی ٹوپی اندر اتر گئی اس کی پھدی گیلی تھی مطلب وہ چدنے کے لیے تیار تھی ایسے ہی ڈرامے کر رہی تھی۔۔۔۔ اب میں نے اس کے منہ کر ہاتھ جمایا اور اچھا خاصا زور لگا کر لن کو مادر گھسا دیا آدھے کے قریب لن اندر چلا گیا اس کی گھٹی گھٹی سی آواز نکلی اس نے اپنا سر دائیں بائیں بھی مارا ۔۔۔۔ لیکن لن جب پھدی میں اتر جائے تو رکتا نہیں اسی کے مصداق میں نے لن کو دو تین جھٹکوں میں جڑ تک اندر اتار دیا۔۔۔۔ آسیہ کٹے ہوئے بکرے کی طرح تڑپنے لگی اس کی وجہ میں سمجھ سکتا تھا شاید اس نے نیلے کے لن کے علاوہ کسی کا لن نہیں لیا تھا اس کا لن ان کٹ تھا یعنی بغیر ختنوں کے اور اتنا بڑا بھی نہیں تھا۔۔۔۔ کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے جھٹکے سٹارٹ کیے شروع میں آہستہ آہستہ کرتا رہا پھر اپنی سپیڈ بڑھانے لگا کیونکہ لن پھدی میں اپنی جگہ بنا چکا تھا ۔۔۔۔ ویسے بھی اب آسیہ نے مچلنا چھوڑ دیا تھا اس لیے بھی اب میں کھل کر گھسے مار سکتا تھا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں آسیہ نے نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا کر لن لینا شروع کر دیا ساتھ ہی اس نے اپنی ٹانگیں میری کمر پر کس لیں ۔۔۔۔ وہ مزے میں ہلنے لگی تھی اس کے ہاتھ جو نیم جان کو کر ایک طرف تھے اب میری کمر پر پھرنے لگے۔۔۔۔ میں نے اس کی ان حرکات کو ہلا شیری سمجھا اور جھٹکوں کی برسات کر دی ۔۔۔ جاندار گھسوں کی وجہ سے وہ جلدی کی اپنے پیک پوائنٹ پر پہنچ گئی اس کی پھدی نے اپنے پانی سے میرے لن کو نہلا دیا ۔۔۔ میں ابھی تک تھکا نہیں تھا اسی سپیڈ سے گھسے مار رہا تھا وہ فارغ ہو کر ایک بار پھر اسی طرح ہو گئی۔۔۔ جب کہ اب میں نے گھسوں کی انتہا کر دی ہر گھسے پر اس کی آہ نکلنے لگی اب اس نے سرگوشی میں کہنا شروع کر دیا بس کر دو پلیز اور کتنا کرو گے۔۔۔۔ لیکن میں ابھی بہت دور تھا اس لیے اس کی بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لگا رہا اس نے اپنی ٹانگیں نیچے کرتے ہوئے کہا اب میری ٹانگیں درد کرنے لگ گیی ہیں ۔۔۔۔ میں نے لن نکالا اس کو الٹا کیا ٹانگوں کو تھوڑا سا کھولا وہ کچھ نہ سمجھ سکی میں نے لن کو ہیچھے سے اس کی پھدی میں گھسا دیا۔۔۔۔ اففففف اس اینگل سے جب لن اندر گیا تو سچ میں پھنس گیا میں نے بھی بے دردی کی انتہا کرتے ہوئے لن کو گھسا دیا۔۔۔۔ ساتھ ہی اس کے اوپر لیٹ کر گھسے مارنے لگا اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو گانڈ کی موری کے پاس سے اس کی پھدی میں اتار رہا تھا میں ٹٹے اس کی نرم نرم رانوں میں لگ رہے تھے۔۔۔۔ اس کا جسم ایک بار پھر اکڑنے لگا لیکن اب مجھے بھی لگنے لگا کہ اب فارغ ہونے والا ہوں ۔۔۔۔ اس کا جسم اکڑا لن کو پھدی نے جکڑ لیا اس کی پھدی اتنی ٹائٹ ہو گئی کہ لن اندر باہر کرنا مشکل ہو گیا مجھے جھٹکے مارنے روکنا پڑے۔۔۔۔ میں اس کے اوپر لیٹ گیا میں مزے کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچ گیا اس کے جسم نے جھٹکا کھایا پھدی نے اپنے مسام کھولے لن پر پانی کا چھڑکاؤ شروع کیا ۔۔۔۔ اتنا گرم پانی تھا کہ مجھ سے برادشت نہ ہوا میرے لن نے بھی اپنا پانی ایک دم پریشر کے ساتھ جھوڑ دیا۔۔۔۔ وہ کچھ دیر ہلکے ہلکے جھٹکے کھاتی رہی میں بھی اس کی پھدی میں فارغ ہوتا رہا جب لن سے منی کا آخری قطرہ بھی اس کی پھدی نے نچوڑ لیا تو میں اس پر سے اترا اور اس کی شلوار سے لن کو صاف کیا اور آزار بند باندھنے لگا ۔۔۔۔ وہ بھی سیدھی ہوئی لیکن آیک آہ کے ساتھ سیدھی ہوئی اور بولی میری جان کڈ دتی تو انسان نہیں لگدا مینوں ۔۔۔۔ میں نے کوئی بھی جواب دینا مناسب نہ سمجھا اس کو اس کی شلوار پکڑا دی ۔۔۔ اس نے غصے سے شلوار پکڑی اور پہننے لگی میں وہاں سے اٹھ کر باہر نکلا تو ککا مجھے کہیں نظر نہ آیا۔۔۔۔ پھر مجھے خیال آیا کہ آسیہ اتنا بڑا رسک اکیلے نہیں لے سکتی کوئی تو اس کے ساتھ آیا ہوگا۔۔۔۔ میں واپس مڑا تو آسیہ اپنے کپڑے درست کرکے باہر نکل رہی تھی اور اس نے وہ آگ بھی بجھا دی تھی جس کی آڑ میں یہ سب ہو رہا تھا۔۔۔۔ میں نے اس کا بازو پکڑا اور اس راز کے بارے میں جاننے کی غرض سے بات شروع کی۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا آسیہ نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور مجھے کھنچتے ہوئے ایک طرف لے گئی۔۔۔۔ ہم ابھی کچھ ہی دور ہوئے تھے ایک آڑ میں گئے تھے کہ وہاں اسی جھونپڑی میں ہمیں دو سائے جاتے نظر آئے ۔۔۔۔ میں نے آسیہ کے کان میں کہا یہ سب کیا سین ہے کون ہے یہ مجھے کچھ سمجھاؤ گی۔۔۔ اس نے کہا ابھی وقت نہیں ہے پھر کسی دن بتاوں گی سب ویسے تو تمہیں بتانا کیا تم سے بات بھی نہیں کرنی چاہئیے ۔۔۔ پھر بھی تمہیں یہاں کا راز بھی بتا دوں گی بلکہ تم مجھ سے کیوں پوچھ رہے کو اپنے کزن سے پوچھ لینا۔۔۔ میں کس سے نیلے سے وہ مجھے بھلا کیوں بتائے گا اس نے ہی تو پہلے والی کہانی سنائی تھی اس جگہ پر جنوں والی بھوتوں والی کئی کہانیاں سنائیں اس نے جو آج میں اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔۔۔ اس نے کہا اس سے کون کہہ رہا ہے اس کے چھوٹے بھائی سے جو تمہارا دوست یے وہ تمہیں سب بتا دے کیونکہ وہ بھی یہ سب جانتا ہے۔۔۔ میں۔۔۔ وہ کیسے جانتا کیا میں جان سکتا ہوں۔۔۔
  6. Update میں اپنا سا منہ لے کر دیکھتا رہ گیا لیکن دل میں اک امید تھی کہ رات کو ضرور ملے گی ۔۔۔ یہ ہی سوچ کر میں گھر آیا کھانا کھایا ابا جی نے مجھ سے رزلٹ کے بارے میں تفصیلاً بات کہ اور احکامات صادر فرمائے کہ کل جا کر کالج کا فارم جمع کروا آؤں۔۔۔ میں حیران ہوا فارم تو ابھی لیا ہی نہیں تو جمع کیا کروانا ہے۔۔۔ اباجی نے مجھے فارم دیا جو وہ آج واپسی پر لے آئے تھے اور مجھے وہ فارم پر کر کے دکھایا ساتھ میں جہاں میرے دستخط کی ضرورت تھی وہ جگہ بھی دکھائی میں نے دستخط کیے اور فارم رکھ لیا۔۔۔۔ اس کے بعد ایسے ہی کتاب اٹھائی اور پڑھنے کی اداکاری کرنے لگا لیکن یہاں بھی ایک بات بتاتا چلوں کتاب تو کھلی ہوتی تھی لیکن اس میں بھی کوئی نا کوئی ناول ہوتا تھا ۔۔۔۔ دیکھنے والے کو کہا پتہ کہ یہ کیا پڑھ رہا ہے بس پڑھتا نظر آتا تھا نیچے چاہے کما سوترا کھولی ہو۔۔۔ ابا جی نے مجھے دیکھا میں پڑھ رہا ہوں وہ مطمئن ہو کر سونے چلے گئے میں اسی طرح پڑھنے میں لگا رہا مجھے بھی ان دنوں دیوتا کا چسکا لگ گیا تھا ایسا منہمک ہوا کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔ اچانک نظر اٹھا کر گھڑی کی طرف دیکھا تو 1 بج رہا تھا میں نے جلدی سے کتاب اوہ سوری ناول بند کیا اور گھر میں نظر دوڑائی سب اوکے دیکھ کر واپس بیٹھک میں آیا اور آہستہ سے باہر کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔ دبے پاؤں چلتے شانزل کی بیٹھک کے دروازے پر گیا اہستہ سے دھکا لگایا دروزہ کھلتا چلا گیا میں ادھر ادھر دیکھ کر اندر گھس گیا۔۔۔۔ اندر داخل ہو کر میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کی مجھے کوئی نظر نہ آیا۔۔۔۔ میں ڈرتے ڈرتے آگے ہوا دو قدم بڑھائے اور صوفے کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ ابھی چند لمحے ہی گذرے تھے کہ مجھے اندر والا درووزہ کھلنے کی آواز آئی آواز بہت ہی ہلکی تھی لیکن میرے لیے کسی ہتھوڑے سے کم نہ تھی۔۔۔ میں وہیں صوفے کے پیچھے ہو کر بیٹھ گیا مجھے سرگوشی میں آواز سنائی دی شانزل میں کہہ رہی ہوں ناں وہ نہیں آئے گا اس کو تم سے کوئی پیار ویار نہیں ہے وہ بہت بڑا ڈرامے باز ہے اس کو تم سے نہیں تمہارے جسم سے لگاؤ ہے۔۔۔ سب لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں شانزل نے جواب دیا تم جو مرضی کہو وہ ایسا نہیں ہے میرا دل کہتا ہے وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے۔۔۔ دوسری لڑکی جو اس سے بات کر رہی تھی وہ اس کی چھوٹی بہن شمع تھی کس کا تعارف میں پہلے کروا چکا ہوں یہ ایسا کیوں کر رہی تھی اس کو میرے خلاف بھڑکا رہی تھی اس کے پیچھے کیا راز ہے یہ جاننے کے لیے مجھے چھپا ہی رہنا مناسب لگا۔۔۔۔ شمع ۔۔۔۔ نی تینوں سمجھ آندی پئی اوہ تیری پھدی مارن واسطے سب کردا پیا سی تو اہنوں پھدی دے دتی ہن تیری پھدی ای مارے گا توں سمجھدی کیوں نہیں۔۔۔ شانزل۔۔۔ تو بکواس نہ کر تیرا جھتا(پھدی) میں اوہدے کولوں پڑوا دیاں گی جے ہن تو اوہدے بارے کوئی گل کیتی تاں۔۔۔ شمع ۔۔۔ پڑوا اپنی پھدی مینوں کی اے مینوں کوئی کوڑ نیں اوس کولوں پھدی مروان دا آئی سمجھ اک ہو گل سن کے میں سوچیا سی تینوں ناں دساں بلو نے میرے تے وی کئی واری ڈورے پائے نے تے ایک واری تاں مینوں چھپی وی پا لئی سی تے اپنا لن میری بنڈ نال لائی رکھیا مینوں تاں اوہ زیر لگدا ہماے بجو جیا نا ہوئے تاں تینوں پتہ نہیں کی نظر آندا اے۔۔۔۔ میرا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا یہ سالی شمع کیا بکواس کر رہی تھی اتنے جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔ میں یہ سوچنے لگا شمع کو شانزل کو بڑھکانے سے کیا ملنے والا ہے وہ ایسا کیوں کر رہی ہے ۔۔۔۔ ابھی شاید شمع اور بھی کچھ کہتی ایک تھپڑ کی آواز آئی تڑاخ پھر دوسرا تراخ میں نے سر نکال کر دیکھا اب آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہو گئیں تھیں۔۔۔ شمع نے اپنے منہ کر ہاتھ رکھا ہوا تھا شانزل نے اس کے بال پکڑ رکھے تھے۔۔۔ شمع غصے سے بولی تم نے مجھے اس گند کے لیے تھپڑ مارا دیکھنا ایک دن وہ تیری پھدی سارے ٹاون کے لڑکوں سے پڑوائے گا پھر تمہیں میری بات سمجھ آئے گی۔۔۔۔ شانزل نے اس کو دھکا دیا اور بیٹھک سے نکال دیا خود بھی اس کے پیچھے گئی اب میرا وہاں رکنا درست تھا یا نہیں مجھے نہیں معلوم تھا میں اسی کشمکش میں تھا کہ جاؤں یا نہ جاؤں شانزل واپس آگیی میں تب تک کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔۔ شانزل نے آتے ہی عجیب بے رکھے پن سے کہا ہاں بولو کیا بات کرنی ہے جلدی بولو بہت ٹائم ہو گیا ہے امی کسی بھی وقت اٹھ سکتی ہیں۔۔۔ میں نے انتہائی دلخراش لہجے میں کہا شانزل تمہیں کیا لگتا ہے میں ایسے ہی بھاگ گیا تھا ۔۔۔ اس نے کہا مجھے نہیں پتہ ۔۔۔ میں تھوڑا آگے ہوا اس کا ہاتھ پکڑا اس کا جسم آگ کی طرح تپ رہا تھا جسم میں لرذش بھی تھی۔۔۔ ایک لمحے کی لیے تو میں ڈر گیا کہ پتہ نہیں یہ کیا ہے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا اور بولا شانزل میں اس دن تمہارے پیار کی شدت سے ڈر گیا تھا ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں کیا جواب دوں تم اس قدر مجھ سے پیار کرتی ہو میں نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔ میں بہت ہی کم ظرف ہوں گا جو اس طرح تمہارے پیار کی لاج نہ رکھ سکوں ۔۔۔ تمہارے پیار کے سامنے میری چاہت ہیچ لگنے لگی تھی اس قدر پیار کرتی ہو اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں ۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے پتہ نہیں مجھے کیا ہوا کہ میری آواز بھرا گئی گلے میں ایسے لگا جیسے کوئی چیز اٹک گئی مجھ سے آگے بولا نہ گیا۔۔۔ شانزل خود آگے بڑھی میرے گلے لگ گئی اس کا جسم اتنا گرم تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا وہ بخار سے تپ رہی تھی ۔۔۔ بس ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اس نے مجھے پیچھے کیا اور کہا بس یا اور بھی کچھ کہنا ہے ۔۔۔۔ میری زبان گنگ ہو گئی کچھ نہ بول پایا وہ گلے بھی لگی اس نے میری بات بھی سنی پھر اب یہ بے اعتنائی کیوں۔۔۔۔ میرے پلے کچھ نہ پڑا اس نے منہ دوسری طرف کیا اور کہا اب جاؤ۔۔۔ میں دل پر پتھر رکھ کر ایک بار پھر بولا شانزل میری بات تو سنو ایسا کیا ہو گیا ہے جو تم اس طرح کر رہی ہو ۔۔۔۔ وہ ایک جھٹکے پلٹی میری پاس آئی بہت ہی ٹھہری ہوئی آواز میں بولی بلو میں نے تمہیں اپنے جسم وجان کا مالک مانا ہے میرے لیے تم تھے تم ہو تم ہی رہو گے ۔۔۔۔ لیکن اب بس اور کچھ نہیں آج کے بعد مجھ سے بات کرنے یا ملنے کی کوئی کوشش نہیں کرنا سمجھ لو کہ شانزل۔۔۔۔ یہ کہہ کر وہ روتے ہوئے اندر کی طرف چلی گئی اور میں بت بنا کھڑا اس کو دیکھتا رہا۔۔۔ کچھ دیر وہاں کھڑا رہا پھر بھاری قدموں کے ساتھ پاوں گھسیٹتا ہوا واپس گھر آگیا ۔۔۔ لیٹ کر یہ سوچتا رہا کہ یہ سب شمع کا کیا دھرا ہے ہو سکتا ہے اس دن بھی اس نے ہی شانزل کو وہ سب کہنے کو کہا ہو اور سونے پے سہاگا میں چپ کر کے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔ لیکن اگر وہ مجھ سے سچ میں اتنا پیار کرتی ہے تو آج اس کو اس طرح ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت کو اج تک کوئی سمجھ نہیں پایا عورت ہو یا لڑکی جب پیار کرتی ہے تو اس شدت سے کہ انسان دنگ رہ جاتی ہے اور جب نفرت کرنے پر آتی ہے تو اس میں بھی ہر حد پار کر جاتی ہے۔۔۔۔ یہ سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی پھر انکھ تب کھلی جب اباجی کی گرجدار آواز گونجی ۔۔۔ میں ہڑابڑا کر اٹھا اور بھاگ کر واش روم گھس گیا ضروری حاجات سے فارغ ہو کر سیر کے لیے نکل گیا کیونکہ اس طرح ہی ابا جی کی ڈانٹ سے بچا جا سکتا تھا۔۔۔ لیکن رات دیر سے سونے اور دماغی کشمکش کی وجہ سے جسم میں کافی سستی چھائی تھی۔۔۔ میں اپنے روز کے رستے سے ہوتا ہوا آنٹی بسمہ کے گھر کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ گیٹ کر بسمہ اپنے تمام تر حسن کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔ مجھے دیکھ کر سمائل پاس کی میں نے نظر گھمائی اور اگے نکل گیا نہرے کے کنارے ننگے پاؤں کچھ دیر چلتا رہا پھر وہاں سے نیچے اتر کر واپس آنے لگا لیکن دماغ ابھی بھی شانزل کی باتوں میں الجھا تھا اس کا رویہ اس میں چھپا درد پیار مجھے الجھا رہا تھا رات سے اب تک جتنا سوچ رہا تھا اتنا ہی الجھتا جا رہا تھا۔۔۔۔ اسی الجھن میں واپس آ رہا تھا کہ مجھے کسی نے شی شی شی کی آواز سے بلایا میرا دھیان کہیں اور تھا رک کر ادھر ادھر دیکھا کسی کو نہ پاکر آگے چلنے لگا ابھی ایک قدم ہی بڑھایا تھا کہ پھر وہی آواز آئی۔۔۔ میں اس بار رک گیا اس وقت میں ٹاؤن میں سیوریج کے اس کوارٹر کے سامنے تھا جہاں دائی اپنی فیملی کے ساتھ رہتی تھی۔۔۔ میں نے اس بار آواز کا درست اندازا لگایا اور آواز کی سمت دیکھا تو سامنے دائی کی بیٹی دروازے میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔۔ میں اپنی سوچوں میں گم تھا اس پر کویی خاص توجہ نہ دی آگے چل پڑا ۔۔۔ ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ میری کمر پر کوئی چیز لگی میری آہ اہ نکل گئی۔۔۔ میرے منہ سے او تیری میں بہن نوں کون ایں نکلا ۔۔۔۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ وہیں کھڑی مجھے بلا رہی تھی۔۔۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا پوری گلی سنسان تھی میں واپس مڑنے ہی لگا تھا کہ سامنے سے گلی میں کوئی آنٹی داخل ہوئی میں نیچے بیٹھ کر ایسے کی تسمے کسنے لگا۔۔۔۔ میں نے ٹراوزر پہنا ہوا تھا لیکن انڈروئیر نہیں پہنا تھا۔۔۔ میں نیچے بیٹھا تسمے کھول کر باندھ رہا تھا مجھے نہیں پتہ کیا ہوا لیکن جب وہ آنٹی پاس سے گزری تو اس نے کہا بدتمیز ۔۔۔ مجھے بڑی تپ چڑھی یہ کہا بات ہوئی میں نے کیا اس کی گاند میں انگلی دے دی جو ایسے ہی گالی دے گئی ہے۔۔۔ میں اس کے جانے کے بعد کھڑا ہوا واپس مڑا مجھے بڑا غصہ آیا تھا سالی گانڈ مٹکاتی مجھے بدتمیز کہہ گئی جب پیچھے مڑا تو وہ اپنی گانڈ سمیت گلی کا موڑ مڑ گئی۔۔۔ میں دائی کی چھوری کی طرف بڑھی گیا جو ایک بار پھر دروازے میں آگئی تھی۔۔۔ میں نے اشارے سے پوچھا ہاں اس نے کہا اشارہ کیا آ جاو آج میدان صاف رج کے پھدی مار میری لن گھسا دے کھل کے وجا دے سارا پانی میری پھدی اچ پا دے۔۔۔۔ میں ایک بار پھر دائیں بائیں دیکھتا ہوا آگے بڑھنے لگا تو سامنے سے وہ آنٹی واپس آ رہی تھی ۔۔۔۔ اب پتہ نہیں اس موٹی گانڈ والی آنٹی کو کیا مسئلہ تھا میرے لن کا پانی نہیں نکلنے دینا چاہتی تھی ادھر کونسا پارک تھا جہاں گانڈ مروا رہی تھی۔۔۔ کوئی ہزار گال ایک منٹ میں نکال لی لیکن صرف اپنے من میں۔۔۔ میں سیدھا اس آنٹی کی طرف بڑھ گیا دائی کی پٹاخہ چھوری اندر کہ کھڑی تھی دروازے کی اوٹ میں وہاں ہی رہی ۔۔۔ میں کچھ آگے گیا ساتھ ہی گلی کا موڑ تھا وہاں گلی کی نکڑ پر رک کر گردن گلی میں نکال کر دیکھنے لگا آنٹی جیسے ہی کچھ آگے گئی۔۔۔ میں سپیڈ لگائی اور کوارٹر میں گھس گیا اتنی تیزی سے گیا تھا کہ سامنے دروازے کی اوٹ میں کھڑی دائی کی کالوزادی سے ٹکرایا اس کو ساتھ لیے نیچے جا گرا۔۔۔ اس کے منہ سے نکلا تیری پھدی پاڑاں آ کی کیتا ای۔۔۔ اس کے منہ سے یہ گالی سن کر میری ہنسی نکل گئی میں نے ہنستے ہوئے کہا آج تومیری پھدی پاڑیں گی ہاہاہا ۔۔۔۔ وہ شرمندہ ہو گئی اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھی اور مجھے اندر لے گئی ایک ایسے کمرے میں جو بیٹھک ٹائپ تھا بلکہ بیٹھک ہی کہہ لیں کیونکہ اس کا ایک دروازہ گلی میں کھلتا تھا۔۔۔ مجھے اندر ایک چارپائی پر بستر پڑے ملے ایک پر صرف چادر بچھی ہویی تھی صاف چادر تھی۔۔۔ اس نے کمرے کا دروازہ بند کیا میری طرف آئی میں نے اس سے نام پوچھا کیونکہ پچھلی بار جب نام پوچھا تھا کتے نے کام خراب کر دیا تھا۔۔۔۔ اس لیے آج پہلے نام ہی پوچھا اس نے اپنا نام پلوشہ بتایا نام بتانے پر میں نے اس کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔۔۔ کیونکہ اس وقت تک میں نے یہ نام صرف پٹھان لڑکیوں کا ہی سنا تھا اور وہ تو پٹھان لڑکی کی پھدی کے بالوں سے کے برابر بھی نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ خیر میں نے پھر بھی اس کی تعریف کی وہ خوش ہو گئی جلدی سے اپنے کپڑے اتارنے لگی اور بولی کریں اب ۔۔۔۔ میں نے ہممم کیا اور اس کے قریب ہو گیا اس نے جلدی سے اپنی قمیض اور شلوار دونوں اتار دیں ۔۔۔۔ میں نے اس کے مموں کو دیکھا سالی نے کیا کمال کے ممے پائے تھے اتنے سخت تھے کہ بغیر برا کے بھی اکڑے رہتے تھے پیٹ بالکل بھی نظر نہیں آ رہا تھا پتلی سی کمر اس کا گھر غضب تھا رنگ بے شک سانولا تھا لیکن جسم میں ایک کمال کی نسوانیت تھی ۔۔۔ ایسی کشش کہ اگر اس کو کسی کے سامنے کھڑا کر دیا جائے تو وہ بھوکے کتے کی طرح اس پر جھپٹ پڑے۔۔۔ میں آگے بڑھا اس کے مموں کو ہاتھوں سے پکڑ دبانے لگا اس نے آنکھیں بند کیں اور میرے ہاتھوں پرہاتھ دیکھ دئیے۔۔۔۔ کچھ دیر ممے دبانے کے بعد میں نے اس اپنا ٹراؤزر نیچے کیا لن باہر نکالا لن کو اس کی ٹانگوں میں گھسایا اور جھک کر ممے چوسنے لگ گیا۔۔۔ اس نے میری گردن پر ایک ہاتھ رکھا دوسرا میرے سر پر پھیرنے لگی میں نپل چسنے لگا اس نے میرا سر مموں پر دبانا شروع کر دیا ۔۔۔۔ میں نے ایک ہاتھ اس کے گانڈ پر رکھا اس کو لن کی طرف دھکیلا وہ پہلی ہی بہت گرم ہو چکی تھی ۔۔۔ اس نے مجھے پیچھے دھکیلا اور چارپائی پر گرا لیا خود اوپر آئی لن کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے ٹانگیں میرے دائیں بائیں رکھیں اور لن کے اوپر سیدھی ہوئی ہاتھ سے لن کو پھدی میں گھسایا۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ نیچے ہونے لگی اس نے کچھ دیر میں آہستہ اہستہ سارا لن اپنی پھدی میں اتار لیا۔۔۔۔ لن جب سارا اندر لے لیا تو وہ کچھ دیر کے لیے بیٹھ گیی اور سانس لینے لگی اس کے بعد وہ میرے سینے پر اپنے سخت اکڑے ممے لگاتے ہوئے لیٹ گئی۔۔۔۔ اس کے لیٹتے ہی میں نے نیچے سے گھسے مارنے شروع کر دئیے میرے ہر گھسے سے اس کے ممے میرے سینے میں دبتے جاتے۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اس نے مجھے انے واہ چومنا شروع کر دیا میرے گال جو کاٹنے لگی۔۔۔ میری گردن پر زور زور سے کس کرنے لگی ساتھ کی اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن پر مارنے لگی اس کی سپیڈ سے لن باہر نکل گیا اس نے ویسے ہی لیٹے لیٹے ہاتھ پیچھے لے جا کر لن کو پھدی ڈالا اور پھر ذور زور سے اوپر نیچے ہونے لگی۔۔۔ چند سیکنڈ میں ہی اس نے میری گردن کے نیچے سے ہاتھ گزارا میرا منہ اپنی سینے میں دبا لیا میں نے نیچے سے زوردار گھسا مارا ۔۔۔۔ اس کا جسم اکڑا لن کو پھدی نے جکڑ لیا اتنی سخت گرفت کہ میرے لن کا منکا ہوتا تو ٹوٹ جاتا لن درد ہونے لگ گیا اس نے سانس روکا مجھے اتنی زور سے دبایا کہ میرا سانس بند ہونے لگا ۔۔۔ پھر ایکدم اس کا جسم کانپا اور پھدی نے آب آب ہونا شروع کر دیا لن کو اپنے گرم پانی سے غسل کروانا شروع کر دیا وہ میرے اوپر ٹھہ سی گئی۔۔۔ اس کا جسم کچھ دیر ہلکے ہلکے جھٹکے کھاتا رہا ہھدی آنسو بہاتی رہی جب اچھی طرح فارغ ہو گیی تو ایک سائیڈ پر گر گئی۔۔۔ لیکن میں اب کہاں اس کی جان چھوڑنے والا تھا وہ تو پتہ نہیں کب سے گرم تھی جو اتنی جلدی فارغ ہو گیی تھی۔۔۔ میں اٹھا اس کی ٹانگیں اٹھائیں اپنے کندھون پر رکھیں اور لن کو نشانہ دیا ٹوپا پھدی کے پانی سے لبریز لبوں میں پھنسایا اور اور اس کی ٹانگوں کو اس کے مموں سے لگاتے ہوئے اس کے اوپر آ گیا اس کے پھدی بھی کافی اوپر اٹھ گئی ۔۔۔ میں نے اپنی گانڈ کو کسا لن کو تیار کیا سانس روکی ایک اور اج تک جتنے بھی گھسے مارے جس کی بھی پھدی میں مارے ان سب سے اپنی دانست میں زیادہ زوردار گھسا مارا ۔۔۔۔ میرا گھسا اتنا زوردار تھا کہ اس کی چیخ نکل گیی کمرا اس جی چیخ سے گونج اٹھا ۔۔۔ میں نے ایک بار پھر لن باہر نکالا ہاتھ سے پھدی پر رکھا اس نے اپنا ہاتھ لن پر رکھا میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے ۔۔۔ اس کا ہاتھ فوراً لن کو چھوڑ کر میری کمر پر آ گیا۔۔ اس کا منہ بند ہو گیا میں نے ہھر اسی سپیڈ سے لن کو گھسایا ۔۔۔ اس بار اس کی چیخ میرے منہ میں ہی دب گئی پھر میں نے ایک دو بار اور ویسے ہی گھسے مارنے کے بعد ایک ردھم سے گھسے مارنے شروع کر دئیے ۔۔۔ اس نے بھی اب میرا ساتھ دینا شروع کر دیا میں مسلسل اس کی پھدی کی گہرائی کو لن اے ناپ رہا تھا وہ بھی اب نیچے سے گانڈ ہلا ہلا کر لن کے لیے رستہ بناے لگی تھی۔۔۔ جلدی ہی اس نے میرے سینے کر ہاتھ رکھ کر مجھے کہا اس طرح درد ہو رہی ہے ثانگیں پیچھے کر لو۔۔۔ میں نے ٹانگیں نیچے کر لیں اور اس نے جتنی کھول سکتی تھی کھول لیں۔۔۔ اب میں زیادہ روانی سے گھسے مارنے لگا وہ ایک بار ہھر اے آہ اہ اہ ہہہہ امی امہییی کرنے لگی۔۔۔ وہ آہ اہ اہ کرنے لگی میری سپیڈ تیز سے تیز ہوتی جارہی تھی ایک ہی پوزیشن میں وہ زیادہ دیر ٹک نہ سکی شاید وہ حد سے زیادہ گرم ہو چکی تھی اس وجہ سے دوسری بار بھی فارغ ہونے لگی۔۔۔ اس بات وہ پہلے سے بھی زیادہ جوش میں تھی اس کی آہ آہ سے کمرہ گونج رہا تھا اس کی مزے سے بھرپور سسکیاں ماحول کو بہت رومانوی بنا رہی تھیں۔۔۔۔ وہ جلد ہی آہہہہہہہ اااننننننججججج اییییییییی کررررررر ہہہہووووررررر زوووررر نال مار پاڑ دے میری پھدی آہہہہہہ میری پھدی دا پھدا بنا دے ۔۔۔ اس نے میری کمر پر اپنی ٹانگیں کس لیں اور زور زور سے کرنے کے لیے کہنے لگی۔۔۔ اس کی ہلہ شیری نے مجھ میں ایک نیا جوش بھر دیا میں نے بھی اپنی آخری حد تک زور لگاتے ہوئے گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔۔ اس کی پھدی لن پر کسنے لگی میرے لن کی شریانیں بھی پھولنے لگیں وہ اب ااافففففففف کے ساتھ مجھے اپنے اوپر گر کر میرا منہ چومنے لگی نیچے میرا لن اس کی پھدی کی کھدائی میں مصروف تھا ۔۔۔۔ میں بھی مزے کی گہرائیوں میں پہنچ گیا ایک طرف اس نے اپنی گانڈ اٹھا کر لن کو اپنی پھدی کی آخری حد تک لینے کی کوشش کی دوسری طرف میں نے لن کو جڑ تک پھدی میں اتارنے کے گھسا مارا۔۔۔۔ اس کا جسم کانپا پھدی نے لن کو جکڑا اس کے دانت میری گردن پر چبے میرے لن نے بھی اپنا پانی پھدی میں گرانا شروع کر دیا ۔۔۔۔ پھدی نے سکڑ کر پانی کی برسات شروع کی لن کو نہلانا شروع کردیا۔۔۔۔ میں بھی نڈھال ہو کر اس کے اوپر گر گیا وہ بھی اپنی سانسیں بحال کرنے لگی۔۔۔۔ میرا پورا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا وہ بھی پسینے میں نہائی ہوئی تھی۔۔۔ کچھ دیر فارغ ہوتے رہے میرے لن سے جب آخری قطرہ بھی اس کی پھدی میں نکل گیا میں نے لن نکالا اور پیچھے ہو گیا۔۔۔ کچھ دیر بعد اپنے کپڑے پہنے اور گلی میں جھانک کر میں باہر نکل گیا۔۔۔ کچھ قدم ہی چلا تھا کہ سامنے سے مجھے وہ ہی آنٹی آتی دکھایی دی جو میرے اس کے گھر جانے سے پہلے ملی تھی۔۔۔ میں جب اس کے پاس سے گزرنے لگا تو اس نے مجھے بڑی گہری نظروں سے دیکھا میں نے فوراً نظریں جھکائیں اور آگے نکل گیا۔۔۔۔ گھر آیا نہایا ناشتہ کیا اور داخلہ فارم اٹھایا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔ ٹاؤن کے ہی ایک لڑکے کو ساتھ لے کر کالج پہنچ گیا وہاں جا کر دیکھا تو ہمارے سکول کے تقریباً سارے ہی لڑکے جو دہم کا امتحان پاس کر چکے تھے وہاں فارم لینے آئے تھے۔۔۔ کوئی ایک آدھ ہی تھا جو فارم جمع کرانے آیا تھا۔۔۔۔ مجھے اس بھیڑ میں شاہ بھی مل گیا میں کافی مشکل سے کالج میں داخل ہونے کے بعد داخلہ آفس تک پہنچ پایا کیونکہ وہاں ہر طرف لڑکے ہی لڑکے تھے ۔۔۔۔ کیونکہ ہمارے شہر کا اکلوتا کالج تھا اس لیے ہر کوئی داخلہ لینے کے لیے آ دھمکا تھا کر ایک کو یہ ہی ڈر تھا کہ کہیں سیٹیں پوری نہ ہو جائیں۔۔۔۔ خیر میں نے شاہ کو آواز دی اس نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا وہ ایک دو لڑکوں کو دھکا دے کر میرے پاس آ پہنچا۔۔۔۔ میں نے اس کو بتایا کہ میں تو فارم جمع کروانے آیا ہوں لیکن اس رش میں مجھے وہ دفتر بھی نہیں مل رہا جہاں فارم جمع ہو گا۔۔۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ بھی فارم جمع کروانے آیا ہے جو اس کے بھایی نے کسی تعلق کی بنا پر کل ہی حاصل کر لیا تھا۔۔۔۔ بس پھر اس نے کہا وہ جانتا ہے دفتر کہاں ہے لیکن اس بھیڑ کو چیر کر جانا ہو گا۔۔۔۔ اس نے کچھ دیر سوچا پھر میرا بازو پکڑ کر ایک طرف لے گیا اور چلتے چلتے اس نے کئی لڑکوں کی گانڈ میں چپا چڑھا دیا۔۔۔۔ چپا چڑھانا پنجابی لوگ تو جانتے ہی ہوں گے انگلی دینا اور ایک ساتھ چاروں انگلیاں کسی کی گانڈ میں چڑھا دینا چپا چڑھانا کہلاتا ہے۔۔۔۔۔ وہ سالا حرامی اپنا حرام پن دکھا رہا تھا مجھے اس بات کا سر لگنے لگا کہ وہ بہن چود اپنے ساتھ مجھے مار پڑوائے گا۔۔۔۔ اس نے یکدم ایک جگہ رک کر کہا رک بہن چود ہن تماشا ویکھ کی ہوندا اے۔۔۔ میں نے اس کو کہا نکل گانڈو کیوں مجھے بھی مروائے گا۔۔۔ اس نے میرا منہ پیچھے کی طرف گھمایا میں جب پیچھے دیکھا تو ماحول ہی الگ تھا ہر کوئی ایک دوسرے سے گتھم گتھا تھا ۔۔۔۔ وہ مییری طرف دیکھ کر مسکرایا اور کہا آجا کاکے فارم جمع کرائیں۔۔۔ کچھ آپس میں لڑ رہے تھے کچھ چھڑوا رہے تھے باقی جو تھے وہ بھاگ بھاگ کر تماشا دیکھنے آ رہے تھے سب لڑکے جو فارم لینے یا جمع کروانے آئے تھے وہ اس طرف جانے لگے۔۔۔۔ ہم دونوں بہت آسانی سے فارم جمع کروا کر واپس آئے تو دیکھا کہ ابھی تک معاملہ گرم تھا۔۔۔۔ باہر آتے ہوئے بھی سالے نے کسی کا پرس مار لیا کالج سے نکل کر مجھے دکھاتے ہوئے کہا آج کاکے آج تیری دعوت کرتا ہوں کیا یاد کرے گا کس سخی سے واسطہ پڑا ہے۔۔۔۔۔ ہم ایک جگہ سے کھانا کھایا کیونکہ وہاں کافی وقت لگ گیا تھا فارم جمع کروانے کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ 15 دن بعد آپ لوگوں کا انٹرویو لیا جائے گا اس کے بعد کالج میں داخلہ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ہو گا۔۔۔۔ ہم ایک دوسرے کو ٹاٹا کرتے اپنے اپنے رستے روانہ ہونے سے پہلے کرکٹ کا میچ لگا چکے تھے جس کے لیے آج شام کو شاہ اپنی ٹیم لے کر ہمارے گراؤنڈ آنے والا تھا۔۔۔۔ میں گھر گیا گھر میں داخل ہونے سے پہلے مجھے شانزل کی امی کی آواز آئی بلو گل سن میری۔۔۔۔۔ میں واپس مڑا اس کے پاس گیا اس نے کہا بلو تھوڑا سا کا ہے بیڈ کو کھینچ کر ایک طرف کرنا ہے تم مدد کر دو ایک سائیڈ سے میں اٹھا لوں گی دوسری سے تم اور شانزل اٹھا لینا۔۔۔۔ میں جی ٹھیک ہے کہتا ہوا ان کے گھر داخل ہو گیا میں ویسے انکار ہی کر دیتااگر وہ شانزل کا نام نہ لیتی ۔۔۔۔ میں نے ان سے یہ بھی پوچھ لیا کہ شانزل سکول نہیں گئی تو اس نے بتایا کہ اس کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ میں نے کہا اچھا زیادہ کریدنا مناسب نہ سمجھا کہیں وہ شک نہ کرنے لگ جائے۔۔۔۔ وہ مجھے اندر کمرے میں لے گئی جہاں وہ کمرے کی ایٹنگ چینج کر رہی تھیں دونوں ماں بیٹی ہی گھر میں تھیں۔۔۔۔ ایک سائیڈ سے اس نے بیڈ کو اٹھایا دوسری سائیڈ سے میں نے اور شانزل نے اٹھایا۔۔۔۔ شانزل کی امی ایک خوبصورت عورت تھیں بھرا بھرا جسم چار بچوں کی ماں ہونے کے باوجود وہ فٹ تھی ۔۔۔۔ میرے سامنے وہ دوپٹے کی پرواہ نہیں کرتی تھی اس وقت بھی اس نے دوپٹہ ایک طرگ رکھا اور بیڈ اٹھانے کے لیے جھک گئی۔۔۔ میں نے اور شانزل نے بھی جھک کر بیڈ اٹھایا جب میں نے شانزل کی امی طرف دیکھا تو ان کے بڑے بڑے دودھ کے تھن باہر نکل رہے تھے۔۔۔۔ قمیض کا گلا کھلا ہونے کی وجہ سے تقریباً سارے کے سارے ممے ہی باہر نکل آئے تھے صرف نپل اندر تھے۔۔۔۔ میرے منہ میں ایسے شاندار ممے دیکھ کر پانی بھر آیا میں ان کو دیکھنے میں کھو گیا اور جب وہ آیک طرف بیڈ کو اٹھائے چلنے لگیں تو میری نظر بھی اس کے مموں کے تعاقب میں گھومنے لگیں۔۔۔۔ میں یہ بھی بھول گیا کہ یہ شانزل کی امی ہے جو میرے ساتھ ہے اور میرے ساتھ ناراض ہے اور ناراضی کی وجہ بھی کچھ ایسی ہی یے شمع نے اس کے ذہن میں میرا امیج ٹھرکی سے بھی آگے کا بنا دیا ہے۔۔۔۔ میں شانزل کی امی کے مموں کو دیکھنے میں کھویا تھا کہ شانزل نے میرےپاوں پر زور سے اپنا پاؤں مارا۔۔۔ میری توجہ وہاں سے ہٹی ساتھ ہی یہ بھی احساس ہوا کہ شانزل نے سب دیکھ لیا اس کے دل میں میرے لیے اور بھی نفرت بھر گئی ہو گی۔۔۔۔ خیر اس کے بعد میں نے دوبارہ اس منظر کو دیکھنے کہ ہمت نہ کی حالانکہ دل بہت چاہ رہا تھا۔۔۔۔ بیڈ کی جگہ بدلنے کے بعد شانزل کی امی نے مجھے کہا بلو تم کچھ دیر یہاں شانزل کے پاس بیٹھ جاؤ میں ابھی آجاوں گی مجھے تھوڑا سا کام ہے ساتھ والی گلی میں۔۔۔۔۔ میں نے کہا جی ٹھیک ہے بیٹھ جاتا ہوں۔۔۔ شانزل نے برا سا منہ بنایا اور باہر نکل گئی اس کی امی نے مجھے ٹی وی لگا کر دیا اور جلدی سے چادر لی اور باہر نکل گئی۔۔۔
  7. New Update ایسے ہی مستی کرتے سکول ختم ہو گیا تھا لیکن اس شاہ کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے ۔۔۔۔ یاروں کا یار تو تھا ہی لیکن یاروں کی سہیلیوں کا بھی یار بن جاتا تھا اس کا معصوم چہرہ دیکھ کر ہر کوئی اس پر یقین کر لیتا تھا اندر سے کتنا کمینہ تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔ ہم وہاں سے باہر نکلے ایک جگہ بیٹھے کچھ کھایا پیا اس سے پوچھا آگے کا کیا پلان ہے میں نے بھی اس کو بتایا کہ میں تو کافی سیلبس پڑھ چکا ہوں اس نے ابھی تک اگلی کلاس کی کوئی کتاب تک نہیں لی تھی۔۔۔۔ کہنے لگا لن تے چڑھ تو انا پڑھ کے کہیڑا بچہ پیدا کر لینا اے۔۔۔۔ میری ہنسی نکل گئی عجیب بندہ تھا سیریس ہوتا تو ایسے کہ جیسے بہت ہی سنجیدہ طبعیت کا مالک ہے ۔۔۔ اکثر عجیب بے تکی باتیں کیا کرتا تھا ہر وقت اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہا ہوتا تھا یہ اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے ہی تھا کہ کچھ نہیں بلکہ آدھا سکول اس کو دو نمبر یعنی کہ گانڈو سمجھتا تھا ۔۔۔۔ وہ اکثر چلتے چلتے اپنی گاند مٹکانے لگ جاتا کبھی جان بوجھ کر خوجہ سراؤں والی حرکات کرتا اس کی چال ڈھال میں زنانہ پن جھلکتا تھا یہ اس کی نیچرل چال تھی ۔۔۔۔ آپ بھائی بھی کہو گے کہ کہا شاہ کا رونا رونے لگ گیا ہوں یہ اس لیے کہ اس شاہ نے مجھے زندگی میں بہت کچھ سکھایا یہ آگے والے واقعات ہی بتائیں گے۔۔۔۔ میں تقریباً سارا دن شاہ کے ساتھ ہی رہا کبھی پارک گئے کبھی لڑکیوں کے سکول کے سامنے ایسے ہی چکر لگائے اور مزے کی بات شاہ نے سکول کو چھٹی ہوئی لڑکیوں کے سکول کو تو ایک لڑکی کو تاڑا اس لڑکی نے بھی اس کو لفٹ کروائی شاہ نے دوبارہ نہیں دیکھا ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد شاہ مجھے لے کر ایک گلی میں گھس گیا اور تیز تیز چلتا ایک گلی سے دوسری گزرتا ہوا پھر آگے جا کر آرام آرام سے چلنے لگا ۔۔۔۔ میں کہا بھوسڑی دیا آ کی کری جان ڈیا ایں ۔۔۔ شاہ۔۔۔ ٹھنڈ رکھ یار اک کڑی اے بہت دن ہو گئے اس کو دیکھا تھا آج نظر آئی یار کیا لڑکی ہے ابھی وہ پیچھے آ رہی ہو گی۔۔۔ میں نے چھٹ پیچھے مڑ کر دیکھا تو تین لڑکیاں آپس میں اٹھکیلیاں کرتی آ رہی تھیں۔۔۔ شاہ نے میرا بازو پکڑ کر کہا سالیا پیچھے نہ دیکھ بس آرام آرام سے چل آگے ہی ایک دوکان تھی شاہ نے دوکان دار کو اونچی آواز میں سلام ٹھوکا۔۔۔ سلام چاچا۔۔۔ دوکاندار۔۔۔ و علیکم السلام شاہ ۔۔۔چاچا آ بھلا پپو پٹواری دا گھار کتھے آ۔۔۔ دوکاندار نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور سوچنے لگا۔۔۔ پھر بولا پت پپو ناں دا بندا میں نہیں سنیا ایس محلے اچ تو پٹواری وی لے آیاں نیں۔۔۔ اک منٹ رک میں فیر سوچ لواں وہ دوکان سے باہر نکلا اور گلی میں نظر دوڑائی اتنی دیر میں وہ لڑکیاں ہمارے پاس آ گئیں ۔۔۔۔ دوکاندار لڑکیوں کو دیکھا پھر شاہ کی طرف مجھے دیکھا اور بولا ہمممم تاں اے گل اے ۔۔۔ پپو پٹواری پچھیا سی نا تو۔۔۔ مجھے چاچے دوکاندار کے تیور بدلتے نظر آئے میں نے شاہ کو کہنی ماری شاہ لڑکیوں کی طرف دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔ اس نے بھی مجھے کہنی ماری اس چاچے نے شاہ کو بازو سے پکڑا اور کہا پت پپو پٹواری دا گھر لبھ گیا اے آ تینوں اوتھے پہنچا آواں۔۔۔ شاہ کے رنگ اڑ گئے میرے تو ویسے ہی ٹٹے شاٹ رہتے تھے ۔۔۔ شاہ کو بازو سے پکڑ کر کھنچتے ہوئے چاچا دوکاندار اونچی آواز میں کسی کو بلانے لگا ۔۔۔۔ شاہ نے زور لگایا لیکن ہم بچے وہ ہٹا کٹا جوان چاچا تھا نہ چھڑوا سکا۔۔۔۔ میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی مجھے وہاں ایک طرف ڈنڈا سا نظر آیا جس سے شاید وہ دوکان کا شٹر اوپر نیچے کرتے تھے ۔۔۔ میں نے وہ اٹھایا اور چاچے دوکاندار کی طرف لہرایا لیکن وہ پکا آدمی تھا ہنسنے لگا مار مار کاکے مار تے سئی اک وار فیر دسنا تینوں۔۔۔۔ میں گلی میں نظر دوڑائی کچھ لوگ آ رہے تھے میں نے بھی کہا لے فیر چاچا تیار ہو جا۔۔۔۔ بازو اوپر اٹھائے اونچی آواز میں بھڑک ماری ہن تو بچ کے وکھائیں چاچا میرے توں۔۔۔۔ چاچا نے شاہ کا بازو چھوڑا اور اپنے سر پر بازو رکھ کر سر چھپا لیا۔۔۔۔ جیسے ہی شاہ آزاد ہوا وہ آگے کی ظرف بھاگا لیکن ادھر سے کچھ لوگ بھاگے آ رہے تھے میں نے بھی ڈنڈا پھینکا اور شاہ کو آواز دے کر کہا اس طرف اس نے میری ظرف دیکھا اور ہم نے سپیڈ لگا دی ۔۔۔۔۔ ہم بھاگتے بھاگتے کافی دور نکل گئے ایک گھر کے باہر پانی کا پائپ پڑا تھا شاید کوئی صفائی کر رہا تھا گلی میں چھڑکاو کرنے کے پائپ رکھا تھا۔۔۔۔ بھاگ بھاگ کر گلا خشک ہو گیا تھا میں رک گیا پائپ کو دیکھا پانی نہیں آ رہا تھا پائپ اپنے منہ کی طرف کر کے دیکھا ایک فطرت ہے انسان کی کہ جب کچھ نظر نہیں آ رہا ہوتا تو قریب سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔ میں پائپ میں پانی دیکھنے کے لیے اس کا رخ اپنے چہرے کی طرف کیا ہی تھا کہ پانی سپیڈ سے آیا اور میرا سارہ چہرہ اور قمیض تک پانی سے بھیگ گئی شاہ بجی نیچے ہو رہا تھا بیٹھنے کے لیے اس پر بھی پانی کے چھنٹے پڑے۔۔۔۔ شاہ زور زور سے ہنسنے لگ گیا میں نے پانی سے منہ دھونا شروع کر دیا اور شاہ پر پانی پھینکنے لگا ۔۔۔۔ ہم ایک دوسرے سے مستیاں کرنے لگے یہ بھی نہیں سوچا کہ کسی کے گھر کے سامنے کھڑے ہیں۔۔۔۔ ایک دم میری کمر پر کوئی چیز آ لگی میرے منہ سے گالی نکلتے نکلتے رہ گئی میں پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک آنٹی کھڑی تھیں جن کے ہاتھ جھاڑو تھا میں نے جیسے ہی ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے ایک بار پھر سے مجھے مارنے کے ہاتھ اوپر اٹھایا ۔۔۔۔ شاہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کھینچا میں توازن نہ رکھ سکا گر گیا آنٹی آگے بڑھی شاہ نے مجھے اسی طرح گھسیٹا اور میری گرتے اٹھتے بھاگ کھڑا ہوا ۔۔۔۔ کچھ آگے جا کر شاہ نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنا شروع کیا تو پھر رکا نہیں ہنستے ہنستے دہرا ہو گیا۔۔۔ ایسے ہی ہنستے رہے وہ اپنے گھر چلا گیا میں اپنے گھر عصر کا وقت تھا میں ڈرتے ڈرتے گھر میں داخل ہوا ۔۔۔ دبے پاؤں واش روم میں گھس گیا ابا جی اندر کمرے میں تھے میں نہایا تازہ دم ہوا رزلٹ کا امی کو بتایا تو امی نے پہلے ہی میرا منہ میٹھا کروا دیا۔۔۔۔ کیونکہ ابا جی اتے ہوئے پتہ کر آئے تھے ماں تھیں بہت خوش تھیں لیکن اباجی کا کہا ردعمل ہو گا میرے لیے یہ ٹینشن ہو رہی تھی کیونکہ انہوں نے مجھے ایک ٹارگث دیا تھا جو میں پورا نہیں کر سکا تھا۔۔۔۔ امی نے میٹھا بنایا تھا کھایا کھانے کی طلب نہیں تھی شاہ کے ساتھ کافی ہلکا پھلکا کھا لیا تھا اس لیے ویسے ہی ٹائم دیکھا تو گراؤنڈ جانے کا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ میں گراونڈ جانے کے لیے بیٹ اٹھا کر نکل گیا گراؤنڈ پہنچا تو کافی لڑکے اکٹھے تھے۔۔۔۔ سب سے پہلے تو رزلٹ کی بات چلی سب ںے اپنا اپنا رزلٹ بتایا مزے کی بات میں جو اپنے نمبروں سے ڈر رہا تھا میرے وہاں موجود سب سے زیادہ تھے۔۔۔ سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور کھیلنے لگ گئے۔۔ وہاں کھیلتے ہوئے میں جب باونڈری ہر فیلڈنگ کر رہا تھا تو تہمینہ گزری اس نے کوئی چیز نیچے گرائی اور میرے پاس بیٹھ گئی چیز اٹھاتے ہوئے بولی کہاں غائب ہو آج کل نظر نہیں آتے کوئی لفٹ نہیں۔۔۔ میں نے منہ پر ہاتھ رکھا اور سامنے دیکھتے ہوا کہا تم بھی لفٹ نہیں کروا رہی ایک کام کہا تھا تمہیں تمہں تو یاد بھی نہیں ہو گا۔۔۔ اس نے کہا کیا کام کہا تھا ۔۔۔ میں نے کہا مجھے پتہ تھا تمہیں یاد نہیں ہوگا۔۔۔ اسی وقت میری طرف گیند آئی اور بھاگ کر گیند پکڑنے چلا گیا جب تھرو کر کے واپس مڑا تو وہ جا رہی تھی ۔۔۔ اس نے جانا اسی طرف تھا جس طرف سے میں آ رہا تھا۔۔۔ میرے پاس سے گذرتے ہوئے بولی اگر ابھی چکر لگا لو تو بات ہو سکتی ہے یا پھر کل اسی ٹائم کر جس ٹائم ہم پہلے ملے تھے ٹائم کم ہوگا لیکن بات ہو سکے گی۔۔۔ اس نے یہ بس چند سیکنڈ میں بول دیا چلتے ہوئے اور اگے نکل گئی میں پھر کھیلنے میں مصروف ہو گیا۔۔۔ اس دن شام کو کھیل کر واپس آنے لگا تو میرا وہی دوست جس امی ڈاکٹر تھیں مجھے کہنے لگا مما پوچھ رہی تھیں کہ تم چیک اپ کروانے نہیں آئے۔۔۔ اس دوست کا بھی تعارف کرواتا جاؤں اس کا نام عثمان تھا بہت پپو ٹائپ کا بچہ تھا خالص ممی ڈیڈی ٹائپ کا تھا دیکھنے میں لڑکیوں جیسا لگتا تھا ۔۔۔ یہ کہنے میں کوئی مذائقہ نہ ہوگا کہ اگر اس کو لڑکیوں کے کپڑے پہنا دئیے جائیں تو وہ لڑکی ہی لگے گا۔۔۔ اور دوسری بات وہ اکلوتا تھا اس کا کوئی بہن بھائی نہیں تھا وہ اور اس کی والدہ اکیلے رہتے تھے۔۔۔ اس نے مجھے مزید کہا کہ مما نے کہا ہے کہ تمہیں ساتھ کے کر آؤں یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا لگ رہا ہے۔۔۔ اس نے کافی زیادہ ڈرا دیا میں اس کی باتوں سے ڈر کر اس کے ساتھ چلا گیا۔۔۔ گھر جاتے ہی اس کی مما نے اس کو کہا کہ آگے ہی لے آو میں کھانا بنا رہی ہوں پھر بات کرتی ہوں۔۔۔۔ میں اس کے ساتھ اندر ان کے ٹی وی لاونج میں جا کر عثمان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔۔ ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ڈاکٹر صاحبہ کھانا بنا کر آئیں ٹیبل پر کھانا لگایا مجھے بھی بلا لیا۔۔۔ ہم نے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اج میں نے آنٹی پر غور کیا وہ بہت دلکش شخصیت کی مالک تھیں ۔۔۔ گورا رنگ سمارٹ جسم اوپر سے ان کی شخصیت سے جھلکتا ان کا پر رعب چہرہ انکھوں پر نظر کا چشمہ سونے پر سہاگے کا کام کر رہا تھا۔۔۔ انہوں نے دوپٹہ لینے کی زحمت نہیں کی تھی کھلی شرٹ پہن رکھی تھی جس میں ان کے دودھ کے جام جب وہ تھوڑاآگے لیچھے ہوتیں تو چھل چھل کر اٹھتے جیسے پانی کی لہروں پر غبارے تیرتے ہیں ۔۔۔۔ ان کو دیکھ کر میرا لوڑا ٹائٹ ہو گیا وہ جھک کر سالن ڈالنے لگیں تو میری نظر سیدھی ان کے مموں پر جا کر ٹک گیی۔۔۔ ان کے غباروں جیسے ممے شرٹ کا گلا پھاڑ کر باہر آنے کو بیتاب تھے۔۔۔۔ میری تیز نظروں کو انہوں نے محسوس کر لیا میری طرف دیکھا آنکھوں میں سختی لائیں میں سہم گیا میں نے نظریں نیچی کر لیں ۔۔۔۔ سر جھکا کر کھانا کھانے لگا اس کے بعد میں نے سر نہ اٹھایا جب کھانا کھا لیا تو آنٹی نے کہا بیٹا کچھ دیر اور انتظار کر لو پھر چیک کرتی ہوں ۔۔۔ میں آنٹی گھر بتا کر نہیں آیا امی پریشان ہوں گی اس لیے ابھی چلتا ہوں۔۔۔ آنٹی نے کہا اس طرح کرو گھر جا کر بتا آو میں تب تک برتن وغیرہ دھو لیتی ہوں بلکہ اس طرح کرو عثمان کو بھی ساتھ لے جاؤ۔۔۔ عثمان تو جیسے حکم کا بندہ تھا بولا ٹھیک ہے مما میں ابھی جاتا ہوں مجھے کہنے لگا چلو آو تمہارے گھر بتا کر آتے ہیں۔۔۔ میں نے دل میں کویی ایک سو دس گالیاں دیں اس کو اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ رستے میں ہی اس کو کہانی فٹ کر کے واپس بھیج دیا اس کو بھیج تو دیا لیکن پھر میرے دل میں آنٹی کے جسم کو دیکھنے کی خواہش نے سر ابھارنا شروع کر دیا۔۔۔۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا عثمان کو تو بشیر کر دیا تھا اب اس نے جا کر رٹے ہوئے ظوطے کی طرح سب کچھ اگل دیا ہوگا۔۔۔ میں گھر گیا امی سے ہلکی پھلکی ڈانٹ کھایی اندر گیا تو باجی کے پاس شانزل اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ موجود تھی۔۔۔۔ میں تو یہ بھول بھی گیا تھا کہ اس نے پڑھنے آنا ہے لیکن وہ وقت کی پابند ہونے کا ثبوت دے رہی تھی۔۔۔ اتنی وقت کی پابند کیوں بنی ہویی تھی وہ میں اچھے سے سمجھتا تھا۔۔۔ دوپٹہ ایک طرف رکھے بال کھولے جھکی کچھ کر رہی تھی۔۔۔ میں کچھ دیر رک کر اس کو دیکھنے میں کھو گیا کھلے لمبے سلکی بالوں کی آوارہ لٹیں اس کے گالوں پر اٹکھیلیاں کر رہی تھیں ۔۔۔ وہ ہر ایک سیکنڈ میں ان کو اپنے چہرے سے ہٹا رہی تھی لیکن شیطان لٹیں پھر آ کر گالوں کو چھونے کی غلطی دہرا رہی تھیں۔۔۔ اس نے شاید میری محویت کو محسوس کر لیا اس لیے جلدی سے سائیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھایا اور اپنے سر کو بھی ڈھانپ لیا ۔۔۔ باجی نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا اس لیے باجی بولی بلو آجا کب سے یہ تمہارا انتظار کر رہی ہے اس کو پڑھا دو۔۔۔ میں دل پر پتھر رکھے اپنے سلگتے جذبات کو دبائے اس کے پاس ایک طرف کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔۔۔ رات ہونے والی باتیں میرے دماغ میں گونجنے لگیں اس کے جذباتی الفاظ میرے اندر چھبھنے لگے۔۔۔ اس نے کےاب نکالی میں نے پڑھانا شروع کر دیا کوئی ایسی ویسی بات نہ کی باجی کچھ دیر بیٹھی رہی پھر وہ اٹھ کر باہر چلی گئی۔۔۔ ہمارے درمیان آج کسی قسم کی بات نہیں ہو رہی تھی بس وہ پڑھ رہی تھی میں پڑھا رہا تھا۔۔۔ لیکن میرا دل کر رہا تھا وہ بات کرے کوئی تو بات کرے لیکن آج اس نے قسم کھا لی تھی کہ ایسی ویسی کویی بات نہیں کرنی۔۔۔۔ جب اس کے کام ہو گئے تو وہ کہنے لگی میرے کام ہو گئے ہیں میں اب جاؤں۔۔۔ میں نے نظر بھر کر اس کو دیکھا اور بولا بس اور کچھ نہیں کہنا آج۔۔۔ وہ بولی نہیں اب جاؤں۔۔۔ میں نے کہا ہوں جاؤ لیکن شاید کچھ بھول رہی ہو۔۔۔ وہ بولی بھول نہیں رہی ہم لڑکیاں جو ہوتی ہیں وہ بھولتی نہیں ہیں بھولنے کہ کوشش کرتی ہوتی ہیں میں بھی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر وہ اٹھی اور جانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ وہ باہر برآمدے میں جا کر امی سے بولی خالا مجھے چھوڑ آئیں میں نے پڑھ لیا ہے۔۔۔ میں نے بھی اس کی آواز سن لی تھی میں باہر نکلا اور گیٹ کی طرف بڑھا تو امی نے آواز دی کدھر چلیا ایں ہں تے آیا سی فیر باہر نکلدا پیا ایں تیرے ابا جی ناراض ہون گے۔۔۔ میں ۔۔۔ امی بس مارکیٹ تک جا رہا ہوں ابھی آ جاوں گا۔۔ امی۔۔۔ اچھا چل فیر شانی نوں وی گھر چھڈ دییں۔۔۔ میں نے بس اتنا کہا جی امی۔۔۔ شانزل تو پہلے ہی تیار کھڑی جانے کے لیے لیکن میرے ساتھ نہیں میں تو ایسے ہی بیچ میں آگیا تھا۔۔۔ میں آگے چلا شانزل بھی چاروناچار میرے پیچھے چل پڑی۔۔۔ میں دروازے سے نکل کر کھڑا ہوا وہ آئی آگے جانے لگی تو میں نے کہا رات کو میں آوں گا دروازہ کھلا رکھنا ۔۔۔ وہ بولی کیوں آو گے ساتھ ہی آہستہ سے آگے چل پڑی۔۔۔ میں نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے کہا تمہاری بات کا جواب دینا ہے جو اسی وقت دے سکتا ہوں جب کھل کر بات ہو سکے یہ کہہ کر میں وہیں رک گیا وہ آگے بڑھی اور اپنے گھر داخل ہو گئی۔۔۔
  8. Update لن شڑپ کر اس کی پھدی میں اتر گیا اس کے بعد میں نے آو دیکھا نہ تاو انے واہ گھسے مارے ۔۔۔۔ ہونٹ چھوڑ دئیے سیدھا کھڑا ہو کر اس کی ٹانگیں اٹھائے گھسے پر گھسا مارتا رہا۔۔۔ لگاتار 5 منٹ ایسے ہی لگا رہا اس دوران بسمہ ایک بار فارغ بھی ہوئی اس کے ممے دائیں بائیں ہل رہے میں نے ان کو منہ میں لیا تو سپیڈ میں فرق آیا اس لیے نکال دئیے۔۔۔۔ ایک بار پھر بسمہ کی سسکیاں نکلنے لگیں میرا بھی قریب آ گیا لیکن میری کمر میں درد ہونے لگی تھی میں نے درد برداشت کرتے ہوئے گھسے مارنے جاری رکھے۔۔۔۔ ویسے ایسے موقع پر درد کی پرواہ کون کرتا ہے میں نے آخری گھسے پوری سپیڈ سے مارے اور لن کو جڑ تک اندر اتار کر اس کے اوپر جھک گیا۔۔۔۔ اس کا بھی جسم اسی وقت اکڑا لن پر پھدی کے مسام کس گئے اور فارغ ہونے لگی۔۔۔۔ میرا سانس کافی پھول گیا تھا اس دوران میں لمبے لمبے سانس لیتا اس کے مموں پر سر رکھے جھکا ہوا تھا لن نے اپنا سارا پانی پھدی میں انڈیل دیا۔۔۔۔ اس کی پھدی بھی شانت ہو گئی تو میں نے اٹھنی کوشش کی تو میری کمر میں درد کی شدید ٹیس اٹھی میرا سر بھی چکرانے لگا۔۔۔۔ میں نے اٹھنے کے لیے اس کے مموں پر ہاتھ رکھا دباؤ ڈالا تو اس کی آہ نکل گئی وہ میری حالت سے بے خبر تھی اس نے مجھے برا بھلا کہنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ جاہل اجڈ انسان یہ کیا طریقہ ہے اپنا سارا وزن مجھ پر ڈال دیا ۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا کتنا دباؤ پڑا اس پر میری طبعیت کافی اوازار تھی سر چکرا رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن اس کی باتیں ہتھوڑے کی طرح دماغ میں لگ رہی تھیں مجھ سے سنا نہ گیا ایک تو طبعیت خراب اوپر سے اس کی باتیں ۔۔۔۔ میں خود کو سنبھال رہا تھا اس نے مجھے اپنے مموں کو سہلاتے ہوئے ا نگریزی میں کوئی گالی دی اور میرے تھپڑ مار دیا ۔۔۔۔ گالی سننا میرے لیے ناقابل برداشت تھا مجھ سے برداشت نہ ہوئی میں نے بھی غصے میں چٹاخ چٹاخ دو تین تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دئیے اور ایک جھٹکے سے باہر نکلا جیسے ہی اپنے کپڑوں کے پاس پہنچا چکر کھا کر گر پڑا۔۔۔۔ لیکن ایک بات میرے حق میں رہی کہ میں گرنے کے باوجود ہوش میں رہا پہلے کی طرح بیہوش نہ ہوا ۔۔۔۔ ابھی سر پر ہاتھ کر اٹھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا بسمہ آگئی اس کے چہرے پر ابھی بھی غصہ تھا ۔۔۔ وہ پھر شروع ہونا چاہتی تھی لیکن اس کی نظر میرے چہرے کر پڑی اس کی گالی جو دینا چاہتی تھی تیرییییہیی منہ میں ہی رہ گئی ۔۔۔۔ اس کو میرے چہرے پر کیا نظر آیا میں نہیں جانتا لیکن ہوش میں تھا اتنا پتہ ہے۔۔۔ وہ آگے بڑھی مجھے سہارا دیا کھڑا کرکے کہا نہا لو تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔ مجھے سہارا دے ٹب کے پاس لے گئی اور ٹب میں لٹا کر خود اپنے ہاتھوں سے مل مل کر نہلایا خود بھی نہائی تب تک میری طبعیت میں کچھ بہتری آ گئی۔۔۔ نہا کر کپڑے پہنے اس دوران اس نے کوئی بات نہیں کی ۔۔۔۔ جیسے ہی ہم باہر نکلے اس نے مجھے بٹھایا اور کہا بھی بیٹھو میں آتی ہوں ۔۔۔ کچھ دیر میں وہ جگ گلاس لائی گلاس میں تازہ جوس تھا مجھے گلاس بھر کر پلایا۔۔۔ میں پی کر واپس کیا اس نے ایک اور گلاس دیا میں نے وہ بھی پی لیا جسم میں کچھ توانائی در آئی۔۔۔ اس نے گلاس کو میز پر رکھا اور گلا کھنکارتے ہوئے بولی پہلے تو سوری مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا تمہاری طبعیت خراب ہے سچ میں دل سے شرمندہ ہوں۔۔۔ میں نے کہا میں اب چلتا ہوں میں اٹھ کھڑا ہوا جب کھڑا ہوا میرا سر ایسے گرم ہوا جیسے کسی نے آگے رکھ دی ہو آنکھوں کے سامنے تارے ٹمٹمانے لگے۔۔۔ خود کو سنبھالا اور چلنے کے لیے پاؤں بڑھائے تو وہ اگے بڑھی میرا بازو تھام لیا۔۔۔ میں نے اس کا بازو جھٹکا اور اس کو ایک سائیڈ پر دھکا دیا وہ گری تو نہ لیکن گرنے والی ہو گئی۔۔۔ وہ سیدھی ہوئی اور پھر شروع ہو گئی تم ایک دم الو کے پٹھے ہو تمیز نام کی چیز ہی نہیں ہے تم میں۔۔۔۔ وہ اور بھی کچھ کہتی رہی میں وہاں سے نکل آیا لیکن میں یہ سوچتا آیا کہ یہ بہت خطرناک بات ہے ۔۔۔۔ میرا دماغ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا بلو معاملہ کافی سیریس ہے ڈاکٹر نے جو کہا تھا وہ نہیں ہے۔۔۔ جیسے تیسے میں مارکیٹ تک آیا وہاں سے پھر جوس پیا کچھ دیر ایسے ہی فضول بیٹھا رہا اور پھر گھر آگیا۔۔۔ گھر آکر بھی میں اسی ٹینشن میں رہا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے ایسے ہی نہیں چکر آجاتے۔۔۔ خیر ایسے سوچتے سوچتے میں سو گیا عصر کے قریب اٹھا کھانا اس وقت کھایا اب طبعیت کافی بہتر تھی۔۔۔ ہلکا پھلکا محسوس ہو رہا تھا میں گراؤنڈ گیا کرکٹ کھیلی کافی پسینہ بہایا جسم کچھ اور کھل گیا آج کافی دن بعد گیا تھا اس لیے تھکاوٹ بھی ہوئی۔۔۔ لیکن ایک بات وہاں میرے لیے فائدہ مند ہوئی وہاں ایک دوست سے ڈسکس کیا اس نے بتایا کہ دماغ کا کوئی مسئلہ ہے تم میرے ساتھ چلو۔۔۔۔ وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا اس کی والدہ ڈاکٹر تھیں ان کو ساری صورتحال بتائی۔۔۔ انہوں نے ساری بات سنی اور ایک سوال کیا ان کی نظریں مجھے اپنے جسم کے آرہار ہوتی محسوس ہوئیں جب پہلی بار یہ ہوا تم اس وقت کیا کر رہے تھے۔۔۔ میں یہ بات سن کر گڑ بڑا گیا اب ان کو کیا بتاتا پھدی مار رہا تھا۔۔۔ میں نے کہا کچھ نہیں گاوں گیا ہوا تھا واپس آیا تو گھر کے دروازے میں گر گیا۔۔۔ ان کے پاس اگلا سوال تیار تھا گاؤں میں کیا تھا میرا مطلب ہے کیا کام کرتے رہے تھے۔۔۔ میں۔۔۔ کام تو کچھ بھی نہیں کیا بس وہاں فوتگی ہو گئی تھی وہاں ہلکا پھلکا کام ہی کیا تھا ۔۔۔ دوسری بار جب ایسا ہوا اس وقت کیا کر رہے تھے ۔۔۔۔ میں پھر گڑبڑا گیا ان کی آنکھیں مسلسل میرے چہرے پر مرکوز تھیں ۔۔۔ جواب سوچ ہی رہا تھا کہ وہ بول پڑیں کوئی محنت والا کام جس میں پسینہ زیادہ آتا ہو خون کی گردش تیز ہو جاتی ہو ایسا کویی کام کرتے ہو۔۔۔ میں ۔۔۔ نہیں سوائے کرکٹ کھیلنے کے کویی ایسا کام نہیں کرتا۔۔۔ اس نے میرے دوست کو کہا پہلی بار تمہارا دوست گھر آیا ہے کچھ کھانے پینے کے لیے لاؤ۔۔۔ وہ جھٹ سے اٹھ گیا جیسے ہی وہ کمرے سے باہر نکلا تو وہ مجھ سے مخاطب ہوئی چلو اب کھل کر بتاؤ کیا کر رہے تھے۔۔۔ میں نے کہا کچھ نہیں جی۔۔۔ اس نے چہرہ نارمل کیا چہرے پر مسکراہٹ لائی اور بولی ڈاکٹر سے کچھ نہیں چھپاتے تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہے۔۔۔ میرے لیے اب بیٹھنا مشکل ہو گیا تھا دوست کی امی کو اپنی ماں جیسی عزت دینے والے ہم پینڈو لوگ ہیں ۔۔۔ جب دوست کی والدہ ایسا سوال کرے تو جواب کیسے دیں۔۔۔ میں نے سر جھکا کر کہا نہیں جی کوئی نہیں ہے لیکن اس سب کا ان باتوں سے کیا لینا دینا۔۔۔ وہ بولی مجھے لگتا ہے اس سب کا تعلق ان باتوں سے ہے۔۔۔ تمہارا چہرا بتا رہا ہے تمہیں بہت کمزور ہے تمہارا چہرہ زرد ہو رہا ہے آنکھیں بھی اندر دھنس گئی ہیں اور یہ ہلکے بھی کمزوری کی علامت ہیں۔۔۔ میں اب کیابتاتا کہ مجھے جہاں پھدی مل جاتی ہے وہاں وجا دیتا ہوں لن کر وقت تیار رہتا ہے ۔۔۔ دوسرا اگر کمزوری ہوتی تو آج جیسے چدائی کی وہ ممکن نہیں تھا میں اس زاوے کو نظر انداز کر دیا۔۔۔ اس نے کہا دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ تمہارے دماغ میں کوئی شریان ڈسٹرب ہو یا کمزور ہو جس کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔۔۔ دوسری بات میرے دماغ میں بیٹھ گئی پہلی بار جب میرے ساتھ ایسا ہوا تھا تب بھی میں کافی گرمی میں پھرتا رہا تھا ۔۔۔۔ آج بھی پسینے میں نہا گیا تھا بہت زیادہ درجہ حرارت بڑھ گیا تھا۔۔۔ اس بات کی سمجھ مجھے ایسے آئی کہ آنٹی ڈاکٹر نے مجھے تفصیل سے سمجھایا کہ اگر کوئی شریان کمزور ہو تو جب بندہ ایسا کام کرے جس میں جسم کا ٹمپریچر بڑھ جائے ایسا ہو جاتا ہے۔۔۔۔ اس کے لیے مجھے اپنے ہسپتال بلایا اور کہا فیس کی کوئی ٹینشن نہیں لینی سب کچھ فری ہوگا تم میرے بیٹے ہی ہو۔۔۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا جوس پیا اور وہاں سے گھر آگیا۔۔۔۔ رات کو شانزل اپنی امی کے ساتھ نازل ہو گئی آتے ہی اس کی امی نے کہا بلو تم نے اس کے بعد شانزل کو پڑھایا نہیں اس لیے اس کی سکول سے شکایت آئی ہے۔۔۔۔ میں اب ان کو کیا بتاتا کہ میں کیا کچھ پڑھا چکا ہوں اور سکھا چکا ہوں ۔۔۔۔ شانزل مجھے دیکھ کر سمائل پاس کر رہی تھی کافی دیر اس کی امی مجھے کہتی رہی اب تم ایک ٹائم بتا دو یہ آجایا کرے گی روز پڑھایا کرنا۔۔۔۔ امی کے کہنے پر میں نے ہامی بھر لی وہ چلی گئیں لیکن جانے سے پہلے شانزل نے سب کی نظربچا کر مجھے اشارہ کیا کہ رات کو آنا۔۔۔۔ میں نے کوئی ریسپانس نہ دیا ۔۔۔۔ رات ہوئی میں بیٹھک میں سونے چلا گیا بھائی ہاشم آج گاؤں ہی تھے انہوں نے ساتھ والے گاؤں میں سکول بنایا تھا اس لیے وہ اب اکثر ہی وہاں رہ جاتے تھے۔۔۔۔ ابا جی صحن میں سوتے تھے میں بیٹھک میں سو گیا رات 1 بجے کا وقت ہوگا کہ مجھے ایسے لگا جیسے کسی نے بیٹھک باہر والے دروازے کو دھکا دیا ہے۔۔۔۔ میں اپنا وہم سمجھ کر اگنور کیا کوئی دو منٹ بعد پھر ویسا ہی ہوا۔۔۔ اس بار مجھے واضح پتہ چلا کہ کسی نے دھکا دیا ہے اور تیز تیز چل کر واپس گیا ہے۔۔۔ میں نے اٹھ کر کھڑکی کھول کر دیکھا باہر کویی نہیں تھا میں کھڑا سوچنے لگا کہ کون ہوگا اس وقت اور ایسا کیوں کر رہا ہے۔۔۔ ابھی میں کھڑکی میں ہی کھڑا تھا کہ مجھے ایک ہیولا سا دروازے کی طرف آتا دیکھائی دیا ۔۔۔ وہ ہیولا مردانہ تو بالکل بھی نہیں تھا بلکہ ایک لڑکی کا تھا میرے ذہن میں چھپاکا ہوا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ دروازے کو دھکا لگتا میں نے دروازہ کھول دیا وہ جو اپنے خیال میں تیزی سے دھکا دینی لگی تھی آگے کو بڑھتی ہوئی اندر آگئی۔۔۔ میں نے جھٹ دروازہ بند کر دیا اور اس کو جپھی ڈال لی۔۔۔ اس نے ہلکی سے سیی کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن میری گرفت سخت تھی کامیاب نہ ہوئی۔۔۔۔ میں نے اس کو اسی طرح پکڑے بیڈ پر لٹا لیا اور اوپر سوار ہوگیا۔۔۔ جب اچھی طرح قابو میں کر لیا تو پوچھا کون ہو اور یہ بار بار دروازے کو دھکا کیوں دے رہی ہو۔۔۔۔ پھولی ہوئی سہمی ہوئی آواز آئی وہ وہہہ شانزززل نے کہا تھا۔۔۔ میں فوراً اس پر سے اٹھنا چاہتا تھا لیکن اس کے جسم کے لمس نے مجھے ٹھرک چھاڑنے ہر مجبور کرنا شروع کیا ۔۔۔ خود پر قابو پایا اور سائیڈ پر ہو گیا وہ تیزی سے اٹھی اور بولی وہ تمہارا انتظار کر رہی ہے ۔۔۔۔ میں نے کہا اچھا جاؤ میں سوچتا ہوں آوں یا نہ آوں۔۔۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور جانے لگی میں اس کے پیچھے پیچھے دروازہ بند کرنے کے لیے گیا۔۔۔ وہ یکدم رکی اور بولی یہاں تم اکیلے ہوتے ہو۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ ہاں اکیلا ہوں آج تو ویسے کبھی کبھی اکیلا ہوتا ہوں لیکن زیادہ تر بھائی ہوتا ہے۔۔۔۔ اس نے ہممم کیا اور چلی گئی۔۔۔ میں سوچنے لگا کیا کروں جاؤں یا نہ جاؤں۔۔۔ یہ تو پتہ چل گیا تھا کہ یہ شانزل کی چھوٹی بہن تھی شمع جس کا ذکر پہلے بھی کیا تھا ۔۔۔۔۔ کچھ دیر سوچتا رہا پھر اٹھا اور شانزل کے گھر چلا گیا۔۔۔۔ شانزل نے دروازہ کھولا ہوا تھا جیسے ہماری بیٹھک تھی ویسے ہی ان کی بیٹھک تھی ساری کالونی کے ہر بلاک کے گھروں کا ڈیزائن ایک جیسا تھا جس بلاک میں ہم رہتے تھے اس کے ہر گھر کی بیٹھک باہر ہی تھی۔۔۔۔ میں اندر داخل ہوا شانزل نے دروازہ بند کیا اور مجھے پیچھے سے جپھی ڈال کر رونے سسکنے گئی ۔۔۔۔ پہلے تو میں ایسے ہی مذاق سمجھا لیکن جب آنسوؤں نے میری کمر کو گیلا کیا تو میں نے اس کے ہاتھوں کو تھام کر گھمایا اور سامنے لے آیا۔۔۔۔ اس کے آنسو ہاتھوں سے پونچھے اور پوچھا کیا ہوا ۔۔۔۔ وہ پھر رونے لگ گئی میں نے بڑی مشکل سے اس کو چپ کروایا ۔۔۔۔ گلے سے لگا کر پیار کیا اس کے آنسو اپنے ہونٹوں سے چنے نمکین پانی سے میرے منہ کا ذائقہ بھی نمکین ہو گیا۔۔۔۔ وہ کچھ ریلیکس ہوئی اس سب میں مجھے آدھا گھنٹہ لگ گیا تھا۔۔۔۔ پھر بولی بلو مجھے چھوڑ تو نہیں دو گے۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ نہیں میری جان ایسا کیوں سوچ رہی ہو ہوا کیا ہے۔۔؟ شانزل۔۔۔ پہلے وعدہ کرو پھر بتاؤں گی۔۔ میں۔۔۔ بھلا اپنوں کو بھی کوئی چھوڑتا ہے۔۔۔اور تم میری ہو بہت خاص میرے دل کے پاس۔۔۔ شانزل۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگتا ہے تم مجھے چھوڑ جاؤ گے۔۔۔ میں۔۔۔ میری شوہنی کبھی نہیں چھوڑوں گا ۔۔ شانزل ۔۔۔۔ تمہیں کیا ہوا ہے اس دن بیہوش بھی ہوئے تھے ۔۔۔ میں ۔۔۔ وہ اس دن کچھ بھی نہیں بس تھکاوٹ کی وجہ سے گر گیا تھا۔۔۔ وہ میرے گلے لگ گئی اور بہت پیار سے میری گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تمہیں نہیں پتہ اس دن میری کیا حالت ہوئی تھی۔۔۔ تم بہت ظالم ہو میری بالکل پرواہ نہیں کتنے دن ہو گئے مجھ سے ملے آج بھی زبردستی بلایا ورنہ تم نے آنا نہیں تھا۔۔۔ میں۔۔۔ نہیں میری جان ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔ اس نے ہاتھ میرے ہونٹوں پر رکھا میرا منہ بند کیا پھر اپنے ہونٹ اپنے ہاتھوں پر رکھ کر چوما۔۔۔۔ اس کے بعد اس نے کہا میرا دل کرتا ہے کہ میں اور تم ہوں اور ایسی جگہ ہو جہاں ہمیں دیکھنے والا کوئی نہ ہو۔۔۔ جی بھر کر پیار کریں اپنی ہی دنیا آباد کریں سارا جہاں اپنا ہو نہ دنیا کا ڈر ہو نہ کسی کی شانزل کی پیار بھری باتیں سن کر اس کے دل اپنے لیے چھپے جذبات کا اظہار سن کر میں اپنے آپ میں شرمندہ ہونے لگا۔۔۔۔ میں کتنا برا ہوں اس کے دل میں میرے کتنے ارمان ہیں وہ مجھے کتنا چاہتی ہے اس کے پیار میں اس کے الفاظ میں تو جو تھا سو تھا لیکن اس کے لہجے میں جو بات تھی اس نے مجھے اندر تک ہلا دیا تھا۔۔۔۔ میں کچھ لمحے گنگ ہو گیا میں جو اس کو دھوکا دے رہا تھا اس کے جذبات کی قدر کہاں کر سکتا تھا میرے اندر تو اک طوفان بدتمیرزی چھپا ہوا تھا جو ہر وقت پھدی کی تلاش میں رہتا تھا ۔۔۔۔۔ میں ٹھہرا لن کا غلام وہ مجھے پیار کی پجارن لگ رہی تھی اس کا لہجہ پیار جی حلاوت لیے ہوئے تھا ۔۔۔ اس نے مجھے اندر تک زخمی کر دیا میرے پاس اس کے الگ دنیا بسانے کے خواب کی تعبیر کے لیے کچھ نہ تھا ۔۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ کسی کا پیار انسان کو بدل کر رکھ دیتا ہے اب دیکھنا یہ تھا کہ اس کے پیار میں کتنی طاقت ہے جو مجھ جیسے دھرتی کے ناسور کو بدل کر رکھ سکے۔۔۔۔ میں اپنے آپ کو آج بھی ایک انتہائی گھٹیا اور گرا ہوا انسان سمجھتا ہوں جو آج تک خود کو بدل نہ سکا۔۔۔۔ مجھے چپ دیکھ کر اس نے پیار کے موتی نچھاور کرتے ہوئے کہا جانو کچھ تو بولو میرا دل ہول رہا ہے ۔۔۔ کیا تمہارے دل میں میرے لیے اتنی بھی جگہ نہیں ہے کہ کم از کم مجھے جھوٹی آس ہی دے سکو۔۔۔ میں اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔۔۔۔ مجھ اور برداشت نہ ہوا میں ایک جھٹکے سے اٹھا شانزل مجھے آوازیں دیتی رہ گئی لیکن میں اس کی بات سنی ان سنی کرتا ان کے گھر سے نکلا اور گلی میں آ گیا۔۔۔ ابھی دو قدم ہی چلا تھا کہ چوکیدار کی سیٹی سنائی دی میں نے ایک دم بھاگ کر بیٹھک کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔۔۔ میں دروازہ بند کرنے کے لیے پیچھے مڑا تو میرے پیچھے شانزل بھی اندر داخل ہو رہی تھی اس نے مجھے دھکیلا اور اندر آ گئی۔۔۔ اس کو دیکھ کر میرے رہے سہے حواس بھی ہوا ہو گئے۔۔۔ میں دروازہ بند کرنا بھول گیا وہیں کھڑا رہا اس نے دروازہ بند کیا اور میرے گلے لگ کر سسک سسک کر رونے لگی۔۔۔ میں جو پہلے ہی اس کی باتیں سن کر پشیمان تھا اب مجھے لگا کہ اس سے بچنا محال ہے ۔۔۔۔ میں نے کچھ دیر اس کو رونے دیا اور آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے لگا میں اس انتظار میں تھا کہ اس کے آنسو تم جائیں گے لیکن اس کی سسکیاں بڑھتی جا رہی تھیں ۔۔۔۔ اس وقت عین ہماری بیٹھک کے سامنے چوکیدار نے سیٹی بجائی وہ ایک دم جھٹکا کھا کر مجھ سے الگ ہوئی جیسے کسی نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہو اور تھر تھر کانپنے لگی۔۔۔۔ مجھے اس وقت کسی اور دنیا کی باسی لگی اجھڑا چہرہ آنسوؤں سے دھلا ہوا بکھرے بال عجیب جنونی حالت تھی۔۔۔ اس کو دیکھ کر مجھے سچ میں اپنی آپ پر شرمندگی محسوس ہونے لگی لیکن کیا کرتا دل میں اس کے لیے وہ جذبات نہیں تھے ۔۔۔ دل تو کسی اور کے لیے دھڑکنے لگا تھا دل میں ایک ماہ رخ نے دیپ جلائے تھے ا سکو دیکھ کر میں یہ سوچنے لگا کیا پیار میں انسان ایسا ہو جاتا ہے کہ اپنی حالت سے ہی بے خبر ارد گرد کی صورتحال سے مبرا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔ اگر اس کی یہ حالت مجھ سے پیار کرنے سے ہوئی ہے تو کیا اس حسن و جمال کی مورت کی میرے پیار میں یہ حالت ہو جائے گی ۔۔۔ میں اس کے چہرے ہر نظریں گاڑے کسی اور کو دیکھ رہا تھا اس کے چہرے کے نقوش میں کسی اور تلاش کر رہا تھا۔۔۔۔ ہائے رے قسمت میرا کہاں جا لگا جس کی جھلک بھی نظر نہ آئی میں کھو گیا۔۔۔ میری یہ حالت کافی دن بعد ہویی تھی ایسا شاید اس لیے ہوا تھا کہ مجھے کسی کے پیار کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔ کسی کے دل ٹوٹنے کے درد سے آشنا ہو رہا تھا اب مستقبل میں کیا ہو گا کیا میں اپنے اس کو پیار کو حاصل کر پاؤں گا جس جس سے ابھی تک اظہار تک نہ کر پایا ۔۔۔ جس کو ایک دو بار کے علاوہ دیکھ تک نہ پایا یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا۔۔۔ میری محویت تب ٹوٹی جب شانزل نے میرا بازو ہلایا میں سر جھٹکا اور بولا ہوں کیا ہوا زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ عورت کر روپ کو پہچاننے کی طاقت رکھتی ہے اس نے بھی شاید میری آنکھوں میں کسی اور کا چہرہ دیکھ لیا تھا۔۔۔۔ اسی لیے تو وہ آنکھوں میں آنسو لیے ایک دم دکھ بھری نظر ڈالتے چلی گئی۔۔۔۔ میں بت بنے کافی دیر وہاں اسی حالت میں کھڑا رہا میری محویت اس وقت ٹوٹی جب مجھ پر روشنی پڑی ۔۔۔۔ چوکیدار ایک بار پھر وہاں سے گزرتے ہوئے آیا تھا اس نے دروازہ کھلا دیکھا تو اندر لائٹ ماری جو مجھ پر پڑی ۔۔۔۔ یہ اچھا ہی ہوا تھا ورنہ شاید میں اور کتنی دیر وہاں ایسے ہی کھڑا رہتا۔۔۔ چوکیداد پٹھان تھا اپنی اردو میں بولا او کوچا یہ اپنا دروازہ کھول کر بھوت بنے کیوں کھڑی ہے کیا کرتی ہے اس ٹیم کوئی جن ون تو نہیں آیا تم پر مجھ کو بتاو میں اس کو فائر ٹھوک دوں گا۔۔۔۔ اس کی اردو سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔ میں نے اس کی زبان سن کر اسی کے انداز میں جواب دیا خانا ام کو گرما لگ رہی تھا اس واسطے ام بوہا کھول کر کھڑی تھی ۔۔۔۔ خان تو میری بات سن کر شاٹ ہو گیا اس نے اپنی رائفل سیدھی کی اور بولا ۔۔۔ تم امارا نقل اتارتی اے ہم تمہارا گانڈ میں گولی مار دے گا کیا بولتی اے مارے تیری گانڈ میں گولی۔۔۔ رائفل دیکھ کر میری تو جان نکلنے والی ہو گئی اوپر سے بندہ پٹھان جو عقل سے بھی پیدل ہوتے ہیں ۔۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا اوہو خان صاحب آپ برا مان گئے میں تو آپ سے شغل کر رہا تھا مجھے خان لوگ بہت پسند ہیں اگر آپ چاہتے ہو کہ میں خان لوگوں کو پسند نہ کروں تو جو آپ کا دل چاہے وہ کرو۔۔۔۔ خان نے اوہ تو ایسا ہے پہلے بتانا تھا نہ چلو اب کھل کر مذاق کرو۔۔۔ میں اب کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا اس لیے کہا خان صاحب ٹائم کیا ہوا ہے۔۔۔ خان نے گھڑی دیکھی اور بولا اوہ تیری ماں نوں دو بج گئے چل کاکی تو دروازہ بند کر تے بھوت بن کر نہ کھڑا ہونا نہیں تو ام کا تو پتہ چل گیا ہوگا ام بات بعد میں کرتی اے گولی پہلے مارتی اے۔۔۔ خان یہ کہہ کر سیٹی بجاتا آگے نکل گیا میں نے بھی دروازہ بند کیا اور سو گیا۔۔۔ اگر پہلے والی حالت ہوتی تو شاید نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہوتی خان کے ساتھ ہونے والی بات نے موڈ بحال کر دیا اس لیے جلد ہی نیند آگئی ۔۔۔۔ صبح اپنے وقت پر اٹھ گیا رات کے جگ راتے کی وجہ سے طبیعیت بوجھل تھی لیکن روٹین کے مطابق سیر کو گیا اس کے بعد گھر آیا ناشتہ کر رہا تھا کہ ابا جی نے کہا کچھ پتہ بھی ہے آج رزلٹ آرہا ہے بس سارا دن آوارگردی کرتے رہنا ہی آتا ہے۔۔۔ میں نے کمال ڈھیٹ بنتے ہوئے کہا جی آپ جانتے ہی ہیں سب اب کیا کہہ سکتا ہوں۔۔۔ ابا جی کو تو چڑھ غصہ گیا انہوں نے تو پھر خوب سنائیں صبح صبح ناشتے میں جب باپ کی ڈانٹ کھا لیں تو پورا دن بندہ تازہ دم رہتا ہے ۔۔۔۔ یہ بات بھی وہ لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جو اس سے گزر چکے ہیں ۔۔۔ باپ کا سایہ جب تک سر پر ہوتا ہے انسان کو دنیا میں کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا باپ کے بعد دنیا میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔۔۔ ابا جی ڈانٹ بھی کھائی ناشتے سے بھی پیٹ بھرا اور اضافی طور بھی ناشتے میں ڈانٹ مل جائے تو کچھ لوگ اس کو اچھا سمجھتے ہیں۔۔۔۔ اباجی ڈانٹ کر ڈیوٹی کے لیے نکل گئے اور میں رزلٹ کا پتہ کرنے۔۔۔ اس وقت نیٹ کا دور دورا نہیں تھا ایک گزٹ بورڈ سے آتا تھا جس میں سے ڈھونڈ کر بتانے کے دکاندار پیسے لیتے تھے۔۔۔۔ خیر میں بھی رزلٹ کا پتہ کرنے کے لیے کئی دکانوں پر گیا لیکن رش ہی رش سکول جانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔ جاتا بھی کیسے سکول کی فیس جو کھائی ہوئی تھی اور سکول میں ریپوٹیشن کچھ اچھی تھی سوائے فیس کھانے کے کوئی شکایت نہیں آتی تھی۔۔۔ متوسط قسم کا طالبعلم ہونا بھی اعزاز سمجھتا تھا لیکن جس طرح کرکٹ کھیلتے پیپر دییے تھے آدھے ادھورے پیپر کیے تھے اس لیے سکول سے رزلٹ پتہ کرنے میں ڈر رہا تھا۔۔۔ جب شہر کی اسی فیصد دوکانوں پر چکر لگا چکا تو میرا ایک کلاس فیلو جس کو ہم شاہ جی کہتے تھے مل گیا۔۔۔ شاہ جی نے کہا وہ سکول سے رزلٹ پتہ کر کے آرہا ہے تیرا بھی پوچھ رہے تھے سر تیرا اچھا رزلٹ ہے تو بھی پتہ کر لو۔۔۔ میں نے کہا یار مجھے ڈر لگ رہا ہے تو بھی چل میرے ساتھ۔۔۔ شاہ جی اوئے گانڈو اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے استاد نے تیری بنڈ نییں مار لینی۔۔۔ میں۔۔۔۔ آہو اوہ تیری بنڈ جو مار لئی ہونی اے اہناں نے وکھا تے صیح بنڈ دے وچ پانی کڈیا یا باہر چھڑکیا۔۔۔۔ شاہ جی۔۔۔ سالے پراں مر پھدی دیا تو وی ہن گلاں کرن لگ گیا ایں پہلے تاں تیرے منہ وچ لن وڑیا رہندہ سی۔۔۔ میں۔۔۔ شاہ یار تو استاد ایں میرا لن منہ اچ لین دا تینوں ویکھ کے سکھیا اے اوہ یاد اے تینوں جدوں تو استاد دا لن چوچن ڈیا سی تے اتوں فوجی صاحب آ گئے تاں فیر میں ای اوہ پہلا بچہ سی جنہے فجی تو بعد تیرے منہ وچ لن ویکھیا سی۔۔۔۔ شاہ غصہ کر گیا اسنے سچ میں مجھے برا بھلا کہا۔۔۔۔ میں ہنسنے لگا اور کہا چل چھڈ یار غلطی ہو جاندی مٹی پا تے آ چلئیے سکول۔۔۔ اسنے مجھے دھکا دیا اور کہا پراں مر بھوسڑی دیا میرے نیڑے ناں آئیں نیں تاں گانڈ میں لوڑا ٹھوک دوں گا۔۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے کے گرد بازو رکھا اور کہا جگر تو جانتا ہے کہ میں مزاق کر رہا ہوں پھر بھی غصہ کر گیا ہے۔۔۔۔ اس نے غور سے میرے چہرے کی طرف دیکھا پھر بولا لگتا نہیں ہے کہ تو یہ سب مذاق میں کر رہا ہے۔۔ میں نے کہا سالیا لگدا اے تو سچی میں چوپے لگاتا تھا ۔۔۔۔ اس نے میرا بازو جھٹکا اور چل نکل ادھر تو میری گانڈ مارنے کے لیے ساتھ لے جانا چاہتا ہے یا رزلٹ پتہ کرنے ۔۔۔۔ میں سمجھ گیا کچھ گڑ بڑ ہے میں نے دفع کر یا میں صرف مذاق کر رہا مجھے ککھ کا بھی شوق نہیں ویسے بھی تیری گانڈ میں اب وہ دم نہیں رہا ۔۔۔۔ اس نے بھی میری بات کو مذاق ہی سمجھا لیکن مشکوک نظروں سے دیکھتا رہا پھر کہا چل آجا چلتے ہیں۔۔۔ ہم ایسے ہنسی مذاق کرتے سکول پہنچ گئے سکول میں داخل ہوتے ہوئے میں نے ایک بار پھر نکر لگا دی شاہ یار سچ بتانا ۔۔۔ شاہ۔۔۔ کیا۔۔؟ کیا وہ استاد بھی آئے ہیں۔۔ نام دانستہ نہیں لے رہا کیونکہ استاد کا شعبہ ایک معتبر شعبہ ہے کچھ کالی بھیڑوں کی وجہ سے سب کو بدنام نہیں کرنا چاہئیے۔۔۔ شاہ نے مجھے غور کر دیکھا اور کہا بس اب تو خود ہی جا میں جا رہا ہوں تو باز نہیں آئے گا۔۔۔ میں نے اس کی منتیں کیں اور اس کو منایا بہت مشکل سے مانا لیکن مان گیا ۔۔۔ میں نے رزلٹ چیک کروایا میں فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوا تھا نمبر بہت اچھے تو نہیں تھے لیکن اچھے تھے اب یہ ٹینشن ہونے لگی کہ ابا جی سے بھی خوب عزت افزائی ہو گی۔۔۔ اب آتا ہوں شاہ کی طرف شاہ ایک پپو قسم کا ممی ڈیڈی ٹائپ کا بچہ تھا جو ہر پینڈو کے لیے کسی سویٹ ڈش سے کم نہیں تھا لیکن تھا بہت تیز کسی کو بھی ہاتھ نہیں لگانے دیتا تھا ۔۔۔۔۔ دوستی ہر ایک سے کر لیتا تھا اس کی وجہ سے کافی لڑکوں میں مارا ماری بھی ہوئی تھی۔۔۔۔ اس بات کا ایک استاد کو پتہ چل گیا وہ ویسے بھی ایک اور بچے کی وجہ سے بدنام ہوا تھا پرنسپل نے اس کو سکول ریپوٹیشن کی وجہ سے فارغ نہیں کیا تھا بس وارن کر کے چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ اس استاد نے ان لڑکوں کی خوب چھترول کی اور ان کو پرنسپل سے بھی ڈانٹ پڑی گھر بھی شکایت گئی۔۔۔ اب آتے ہیں اصل مدے کی طرف فوجی ہمارے سکول میں ایک ریٹائرڈ فوج تھے جو ڈسپلن انچارج اور سکول میں پی ٹی ٹیچر تھے ان کو جب اس واقعہ کا پتہ چلا تو انہوں نے نظر رکھنا شروع کر دی ۔۔۔۔ ایک طرف پی ٹی استاد کی نظر شاہ پر تھی دوسری طرف وہ استاد جو لڑکوں کو مار چکے تھے ان کی نظر بھی شاہ پر تھی۔۔۔۔ انہوں نے شاہ کو کہا ہوا تھا کہ اب اگر کوئی تمہیں تنگ کرے تو مجھے انفارم کرنا۔۔۔ ایک تیسری پارٹی بھی بن چکی تھی وہ لڑکے جن کو مار پڑی تھی اب وہ یکجان ہو گئے تھے شاہ پر اور استاد پر نظر رکھے ہوئے تھے یہ بات شاہ نہیں جانتا تھا نہ وہ استاد کہ ان پر کوئی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔۔۔۔ کافی دن گزر گئے کوئی مسئلہ نہ ہوا ایک دن ایسا ہوا کہ سکول میں ایک نیا سیکشن بنا جس میں بہت بڑے لڑکے شامل کر دئیے گئے وہ سب کے سب ایک نمبر کے لفںٹر تھے شاہ کو بھی اس کی پرسنٹیج کم ہونے کی وجہ سے اس گروپ میں رکھ دیا گیا۔۔۔۔ اب شاہ کا برا دور شروع ہوا ان لڑکوں شاہ کو تنگ کرنا شروع کر دیا وہ تو اتنے اوباش تھے کہ سالے کلاس میں ہی شاہ کی گانڈ مارنے کے پلان بناتے رہتے ایک تو وہ سکول میں سب سے لمبے اور بڑے تھے باقی سکول کے بچوں میں وہ اونٹ نظر آتے تھے دوسرا وہ گاؤں کے لڑاکا تھا ڈرتے کسی سے بھی نہیں تھے ۔۔۔۔ استاد کی مار تو ان کے لیے مذاق تھی ہنسی خوشی مار کھا لیتے لیکن کام پھر بھی نہیں کرتے تھے۔۔۔۔ شاہ کو انہوں نے بہت زچ کیا جب شاہ کی برداشت ختم ہو گئی تو اس نے اس استاد کو شکایت لگا دی ۔۔۔ اب شاہ کی بدقسمتی کہہ لیں یا کچھ بھی اس وقت جب وہ سٹاف روم میں جا رہا تھا اس کا مخالف گروپ اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ میں بھی کسی وجہ سے کلاس سے باہر نکل رہا تھا میں شاہ کو سٹاف روم داخل ہوتے دیکھا ان لڑکوں میں سے ایک کو پی ٹی کے روم کی طرف جاتے دیکھا۔۔۔۔ مجھے کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا ہماری کلاس گیلری کے ایک کونے میں تھی جبکہ سٹاف روم اور پی ٹی صاحب کا روم دوسرے کونے میں ساتھ ساتھ تھا۔۔۔ میں نے سوچا کیوں نہ سٹاف روم جا کر شاہ کو بتادوں ۔۔۔۔ میں ابھی سٹاف روم سے کچھ کی فاصلے ہر تھا کہ پی ٹی صاحب آگ کا گولا بنے اپنے روم سے نکلے اور سٹاف روم میں داخل ہو گئے اور وہ لڑکا بھاگ کر اپنی کلاس کے دروازے پر پہنچ گیا۔۔۔ ادھر میں سٹاف روم کے دروازے کر پہنچا ادھر پی ٹی دھارا یہ سب کیا حرکات ہو رہی ہیں آپ کو پہلے بھی وارننگ دی جا چکی ہے آپ پھر بھی اپنی حرکات سے باز نہیں آ رہے۔۔۔ میں نے آگے ہو کر دیکھا تو شاہ استاد کی کرسی کے پاس کھڑا تھا جبکہ استاد بیٹھے تھے ان کا ہاتھ شاہ کی کمر پر تھا ۔۔۔ لیکن جو پی ٹی کہہ رہا تھا اس بات کا اس ان کی پوزیشن سے کوئی تال میل نہیں تھا۔۔۔ شاہ کے پسینے چھوٹ رہے تھے استاد کو بھی غصہ آگیا دونوں میں کافی تو تو میں میں ہوئی شاہ کو میں نے وہاں سے نکلنے کا اشارہ کیا شاہ ان کی آپس کی لڑائی کا فائدہ اٹھا کر نکل گیا۔۔۔ اصل بات جو تھی وہ یہ تھی شاہ کو کوئی ایسی ویسی عادت نہیں تھی وہ خود ایک بہت بڑی فلم تھی سالا ایک نمبر کا حرامی تھا۔۔۔۔ پرواہ۔۔۔
  9. جناب آپ کی رائے کا شکریہ آپ اچھا تجزیہ کیا کوشش ہو گی آپ کی توقعات پر پورا اتروں اگلی اپڈیٹس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ بالکل ہٹ کر ہو گا جس میں وہ کردار ہوگا جس کا ذکر شروع میں کہیں ہوا تھا مکالمے خود بخود بدل جائیں گے۔۔۔ سچویشن جب بنے گی ہاں آپ کی اس بات سے متفق ہوں کہ مکالموں میں جان ہو تو کہانی میں جان آ جاتی ہے۔۔۔
  10. Update میرے کان کے قریب اپنا منہ لائی اور مستی میں ڈوبے لہجے میں بولی۔۔۔ اب پتہ چلتا ہے تمہاری دوکان کا مال کیسا ہے ۔۔۔۔ اس نے اپنا ایک ہاتھ انڈر وئیر کے اوپر سے ہی لن پر رکھا یکدم اس کو کرنٹ لگا اس نے ہاتھ اوپر کیا اور پیچھے ہو کر میرہ ٹانگوں کے بیچ دیکھنے لگی۔۔۔۔ جلدی سے اس نے انڈروئیر نیچے کر دیا ۔۔۔ اینڈروئیر اترنے کی دیر تھی لن صاحب کو آزادی ملی پھنکارتے ہوئے باہر نکلے۔۔۔ وہ بیٹھ کر انڈروئیر اتار رہی تھی جیسے ہی لن تیزی سے باہر نکلا وہ ایک دم پیچھے کو ہوئی ۔۔۔۔ اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا اوووو مائی ۔۔۔۔۔ اتنا بڑا ۔۔ اس کی آ نکھوں میں چمک تھی اس نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھری میری طرف دیکھا پھر لن کی طرف پھر میری طرف اور لن کو پکڑ لیا۔۔۔۔ دائیں بائیں کر کے تسلی کرنے لگی کہ اصلی ہے ۔۔۔ پھر بولی میں تو سمجھتی تھی کہ ایسے شاندار چھوارے صرف فلموں میں ہی ہوتے ہیں لیکن تمہارا تو کمال ہے۔۔۔ میں نے کہا کہاں چھوٹا سا تو ہے آپ ایسے ہی تعریف کر رہی ہیں۔۔۔ بولی نہیں سچ میں یار میرے ہسبنڈ کا اس سے آدھا بھی نہیں ہے میں نے آج تک ایسا نہیں اور نہ ہی لیا ۔۔۔۔ میرے دل میں ایک خواہش تھی کہ ایسے شاندار گھوڑے کی سواری کروں جو آج پوری ہو جائے گی۔۔۔۔ اس نے میرا جواب سننا تو دور مجھے بولنے کا بھی موقع نہ دیا لن کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔ لن بمشکل دو انچ اس کے منہ میں گیا ہوگا۔۔۔ کیونکہ لن کی لمبائی کے ساتھ ساتھ موٹائی بھی کافی تھی ۔۔۔ اس نے باہر نکال کر میری طرف دیکھا اور بولی یہ تو تھوڑا سا منہ میں گیا میں پورا کے لیتی ہوتی ہوں ۔۔۔۔ میں نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا اب اس نے اپنے ہاتھ سے لن لگی تھوک کو پورے لن پر مسلا اور لن کو گیلا کیا ۔۔۔۔ پھر جتنا منہ میں جاتا اتنا کے کر چوسنے لگی میں بھی منہ چودنے کے انداز میں ہلکے ہلکے گھسے مارنے لگا۔۔۔ ابھی تک اس نے اپنے کپڑے جو کہ وہ چینج کر کے آئی تھی نہیں اتارے تھے۔۔۔ اس نے کوئی 5 منٹ لن چوسا اور تھک کر پیچھے ہو گئی اور میری طرف دیکھنے لگی اس کے منہ سے تھوک نکل کر ٹھوڑی سے ہوتا ہوتا ہوا مموں کی کلیویج میں جا رہا تھا اس نے ہاتھ کی پشت سے منہ صاف کیا ۔۔۔ پھر بولی ابھی نہیں ہوئے ۔۔۔ میں۔۔۔ کیا۔۔؟ وہ شرماتے ہوئے کچھ نہیں۔۔۔ میں نے کہا اب جاؤں حالانکہ میں سب جانتا تھا لیکن اس کے سامنے معصوم بننے کی اداکاری ضروری تھی۔۔۔ اس نے میرے گھوڑے کی طرف دیکھا اور پھر میرے چہرے کی طرف میں ابھی کھڑا تھا اور وہ نیچے میرے لن کے سامنے دو زانو بیٹھی تھی۔۔۔ میں نے اپنے چہرے پر سارے جہاں کی معصومیت طاری کی ہوئی تھی۔۔۔ اس نے کہا جتنے معصوم بن رہے ہو اتنے ہو نہیں۔۔ میں ۔۔۔ کیا مطلب ہے آپ کا اس بات سے۔۔؟ وہ۔۔۔ کچھ نہیں ابھی نہیں رکو ابھی۔۔ اس نے اپنی شرٹ نما قمیض اتار دی اففففف میرا دل کیا چھوڑ دوں ساری اداکاری اور ٹوٹ پڑوں اس پر لیکن پھر سوچا لمبا کھیلنا ہے تو دھیرج رکھ بلو۔۔ اس نے نیچے جو برا پہنی تھی وہ صرف اس کے مموں کے تیسے حصے کو ڈھانپنے میں کامیاب ہو پائی تھی۔۔۔ تھی بھی باریک بلیو رنگ کی ایک باریک سی سڑپ اوپر جا رہی تھی کپ میں کوئی فوم نہیں تھا صرف کپڑے کے تھے جس کی وجہ اس کے مموں کے نپل بڑے واضح ہو رہے تھے۔۔۔ برا کے بارے میں بتاتے ہوئے مجھے اپنے پینڈو ہونے پر افسوس ہو رہا ہے۔۔۔ باریک سڑپ جو پیچھے جا کر آپس میں لے رہے تھے دونوں غباروں کے درمیان والی جگہ نہ ہونے کے برابر تھی آپس میں پھنسے ہوئے مموں کی کلیویج اوپر کو باہر نکلتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے جھک کر اپنی شلوار اتاری اور میری گردن کے گرد اپنی باہیں ڈال لیں لن پھدی سے ٹکرایا کیونکہ اس نے پینٹی وغیرہ کی زحمت نہیں کی تھی۔۔۔ یہ بات بھی مجھے بعد میں پتہ چلی کہ عورتیں عام حالات میں بھی پینٹی پہنتی ہیں جبکہ گاؤں میں تو میں نے ایسا کوئی معاملہ نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ لن اس کی پھدی کے لبوں سے ٹکرایا اس کی پھدی کا پانی لن کی ٹوپی پر لگنے لگا۔۔۔ اس نے میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لیے میری طرف سے کوئی ریسپانس نہیں تھا یہ سب کنٹرول کرنا کتنا مشکل تھا میں ہی جانتا ہوں۔۔۔ کچھ دیر ہونٹ چوسنے کے بعد اس نے سرگوشی میں کہا آج تمہیں مرد بنادیتی ہوں۔۔۔ آو بیڈ پر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور بیڈ کے پاس لے گئی کمر میری طرف کر کے ہاتھ پیچھے کیے اور برا کھولنے لگی جس کی گانٹھ اس کی کندھے کی دونوں ہڈیوں کے درمیان میں بندھی تھی۔۔۔ میری نظر خود بخود اس کی گانڈ پر گئی اففففف بھرےبھرے کولہے الگ الگ پھاڑیوں کی شکل میں مجھے کہہ رہے تھے آو اور اپنا گھوڑا دوڑاو ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں خود پیشی کرتا اس نے گھوم کر میری طرف دیکھا اور بیڈ پر لیٹ گئی اپنی ٹانگیں کھول کر مجھے کہا آجاو۔۔۔ میں بدھو ہونے کی پوری اداکاری کرتے ہوئے اس کی ٹانگوں کے درمیان آیا اور اوپر لیٹ کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔ اس نے کہا ڈالو اب ۔۔۔ میں ۔۔۔ کیا کہاں۔۔۔ اس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور ہاتھ آگے لا کر لن کو پکڑ کر اپنی پھدی پر رکھا مجھے کہا ذور لگاو میں نے تھوڑا سا زور لگایا ٹوپی پھدی کے اندر گئی ۔۔۔۔ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ مزہ آنے والا ہے پھدی ٹائٹ ہے ۔۔۔۔ میں اس کے اوپر لیٹ گیا اس نے اپنی ٹانگیں فل کھول کر اٹھا لیں اور میرے ہونٹ چوسنے لگی وہ فل گرم ہو چکی تھی اس کی گواہی لن پر برسنے والی اس کی پھدی کی گرمی دے رہی تھی۔۔۔۔ میں اس کے کہنے کا انتظار کرنے لگا وہ شاید یہ سمجھ رہی تھی کہ مجھے پتہ چل گیا ہے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔ جب میں نے کچھ نہ کیا تو وہ بولی اب اور آگے کرو ۔۔۔۔ میں نے سر ہلایا اس نے میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے میں نے بھی ہونٹ قابو کیے اور نیچے ایک پاورفل تھکا مارا لن آدھے سے زیادہ پھدی میں گھس گیا ۔۔۔۔ اس کی ہہہممممم کی آواز میرے منہ میں دب گئی۔۔۔۔ میں نے ہونٹ چھوڑے بغیر ایک بار پھر لن کو پیچھے کیا اب اور ایکٹنگ نہیں کر سکتا تھا پن اتر گیا تو باقی کیا بچا ۔۔۔۔ لن کو ٹوپی تک باہر نکالا اور پھر گھسا مارا لن جڑ تک پھدی میں اتر گیا اس کا جسم کانپا لیکن تھوڑا سا ۔۔۔۔ اس کے چہرے سے اندر کی حالت عیاں ہو رہی تھی۔۔۔ اس کے بعد تین بار پھر میں ایسے ہی زوردار گھسا مارا لن اس کی اندر کی دیواروں کو رگڑتا جاتا ۔۔۔۔ جب لن پھدی کے پانی اے تربتر ہو گیا میں نے تواتر گھسے مارنے شروع کر دییے۔۔۔۔ اب ہونٹ چھوڑ دئیے اس کی انکھوں میں شکوے پنہاں تھے لیکن میں لگاتار پھدی کی دھلائی میں مصروف ہو گیا۔۔۔۔۔ ایسے لیٹ کر مزہ نہیں آ رہا تھا اس لیے میں پیچھے ہوا اس کی دونوں ٹانگوں کو ایک ہاتھ میں پکڑا اور زوردار گھسےمارنے لگا 3 سے 4 منٹ میں ہی اس کا جسم کانپنے لگا اس کی آواز آہآہہہہہہ آہہہہہہ یسسسسس فک می ہارڈر یییسساسس یو آر او گڈ ایٹ فکنگ یییسسس فک می لائک داسساااسسسس آہہہہہ ۔۔۔ ایسی آوازوں کے ساتھ ہی اس کی پھدی نے لن پر گرفت سخت کرنی شروع کر دی میں نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور اوپر لیٹ گیا ۔۔۔ ادھر میں اس کے اوپر لیٹا ادھر اس نے میری کمر کے گرد اپنی ٹانگیں کس لیں نیچے سے گانڈ اٹھا کر سارا لن پھدی میں لینے کی کوشش کی میں نے بھی اسی وقت گھسا مارا لن جڑ تک جا ٹکرایا اور اس کی پھدی نے جکڑ لیا ۔۔۔ لن کو جکڑ کر پھدی نے ایک دم چھوڑتے ہوئے مسام کھولے اور پورا لن پھدی لیس دار پانی سے تر ہو گیا۔۔۔۔ گرم گرم احساس میں ڈوبے میں سرشار ہو گیا کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد اپنی پھدی سے پانی نکالنے کے بعد جب وہ مکمل طور پر فارغ ہو گئی تو اس نے ٹانگیں میری کمر سے اتاریں اور ریلیکس ہو گئی۔۔۔۔ اس کی آنکھوں آسودگی سکون سکھ سب نظر آرہا تھا جیسے بہت دنوں کے پیاسے کو پانی میسر آگیا ہو۔۔۔۔ میرا لن تن کر پھدی میں پھڑپھڑا رہا تھا میں لن نکالا پیچھے ہوا اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کو کھڑا کیا وہ ایک ٹرانس میں اٹھتی چلی آئی۔۔۔۔ جیسے ہی اٹھی میں نے اپنے ہاتھ کو اس کی اس کی گردن کے گرد رکھا دوسرے سے اسکے منہ کو تھوڑا اوپر کیا اور اپنے ہونٹ اس کے شربتی ہونٹوں پر رکھ دئیے ۔۔۔۔ ہونٹوں کا رس پینے کے دوران ہی لن کو تھوڑا جھک کر اس کی ٹانگوں میں گھسا دیا ۔۔۔۔ اس نے ٹانگیں کھول کر لن کو اپنی ہھدی تک رسائی دی۔۔۔۔ اب ہونٹ ہونٹوں سے لپٹے ہوئے تھے میں گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے دوسرا ہاتھ کمر پر رکھا اور اس کو ایک طرف دیوار تک کے گیا۔۔۔۔ دیوار کے ساتھ اس کی کمر لگائی اور گردن سے ہاتھ ہٹایا ایک ٹانگ اوپر کی اس نے جھٹ ٹانگ اٹھا کر میری کمر کے پیچھے کے جا کر لگا دی۔۔۔ ہونٹ چوستے چوستے میں نیچے سے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور اس کی پھدی پر سیٹ کیا ۔۔۔۔ لن پھدی کے لبوں میں پھنسا کر اس کی ٹانگ جو اس نے میری کمر پر رکھ کی تھی اس کو ران سے پکڑا لن سلپ ہو کر نیچے نکل گیا ۔۔۔ اپنی گانڈ کو پیچھے کیا لن نے 90 کا زاویہ بنایا اکڑ کر سیدھا ہوا پھدی کے قریب آیا ہونٹوں کو چھوڑا اور لن کو دیکھ کر پھدی کے اندر کیا ۔۔۔۔ پھر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک دم زور سے گھسا مارا شڑپ کی آواز سے لن پھدی کی گہرائی میں اتر گیا۔۔۔۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے دونوں کندھوں پر رکھ خود کو سنبھالا اور آںکھیں بھینچ لیں۔۔۔ پھر شروع ہو چدائی کا دوسرا دور کھڑے ہو کر لن کو پھدی میں اتارنے لگا ۔۔۔۔ اس کے بڑے بڑے تھن میرے سینے سے ٹکرانے لگے۔۔۔ وہ سر کو کبھی جھکاتی کبھی پیچھے دیوار سے لگاتی میں ایک ہاتھ اس کی کمر پر دوسرے سے اس کی ثانگ اٹھائے گھسے مارنے میں مصروف تھا۔۔۔۔ اس کے ممے مجھے بار بار اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے ۔۔۔۔ میں نے اس کی کمر سے ہاتھ ہٹایا اور ایک مما پکڑ لیا اس کا مما اتنا بڑا تھا کہ اس کا تیسرا حصہ کی میرے ہاتھ میں آ پایا۔۔۔۔۔ سخت اکڑا ہوا بڑا سا نپل میں نے انگوٹھا سے نپل کو رگڑنا شروع کر دیا نیچے سے جتنی زور سے اس حالت میں گھسا لگ سکتا تھا لگا رہا تھا لیکن سپیڈ زیادہ نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔ اس کی آہ اہ اہ کی ہلکی ہلکی آواز آ رہی تھی لن کی رگڑ مزا دے رہی تھی۔۔۔ کوئی پانچ منٹ اسی پوزیشن میں چودنے کے بعد میری کمر میں درد ہونے لگی میں نے لن نکالا اس نے لمبا سانس لیا اور نیچے بیٹھ کر لن کو پکڑ لیا۔۔۔۔ لن کو اپنے نرم ہاتھ میں لے کر مٹھ مارنے لگی میں نے اس کے سر ہر ہاتھ رکھ کر اس کا منہ اوپر کیا اور اشارے سے پوچھا کیا ہوا۔۔۔ اس نے نہ میں سر ہلایا اور لن کو اپنے لبوں سے لگا کیا اپنے ہونٹوں ہر کچھ دیر لن پھیرنے کے بعد اس نے لن کو چوما اپنی زبان سے لن پر لگی اپنی منی صاف کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ اففففف یہ منظر دیکھ کر لن اور اکڑنے لگا اس اچھی ظرح لن کو اپنی زبان سے صاف کیا اور پھری میری طرف دیکھا میں نے ایک طرف پڑے صوفے کی طرف دیکھا وہ مسکرائی اور کھڑی ہو گئی۔۔۔۔ میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے دھکیل کر صوفے پر لے گئی مجھے نیچے گرایا اور خود اوپر چڑھ گئی۔۔۔۔ اپنی ٹانگیں دائیں چائیں رکھ کر لن پر سوار ہو گئی ہاتھ سے پکڑ کر لن کو پھدی میں پھنسایا اور نیچے بیٹھنے لگی۔۔۔۔ نیں ٹھہرا اڑیل ٹٹو ایک دم نیچے سے گھسا مارا اور سارا لن پھدی میں وہ نیچے ہو رہی تھی نیچے سے جب گھسا لگا تو لن سارا کا سارا پھدی میں اتر گیا وہ اپنا توازن کھو بیٹھی اور لن پر گر گئی آہہہہہہ کی لمبی آواز کے ساتھ مجھ پر لیٹ گئی۔۔۔۔ اس کے بھاری ممے میرے سینے میں دب گئے میں ہاتھ اس کے دونوں چوتڑوں کر رکھے اور نیچے سے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔ وہ آہ اہ اہ آہ آہ کرتی میرے سینےسے لگی رہی میں نے گھسے مارنے جاری رکھے کچھ ہی دیر میں اس کی آہ اہ اففففف اوئئیییی کی آواز میں ردھم انے لگا ۔۔۔۔ اس نے خود کو سیٹ کیا اور پھدی کو لن سے تھوڑا اوپر کر کیا جس سے میں نیچے سے کس جر گھسے مارنے لگا وہ ہاتھ میرے دائیں بائیں رکھے اپنی گانڈ کو تھوڑا سا اٹھائے لیٹنے والے انداز میں تھی۔۔۔ اس کے ممے عین میرے منہ کے قریب تھے میں اپنا سر تھوڑا اوپر کیا اور ایک ممے کے نپل کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا۔۔۔۔ وہ مسلسل اہہہہہہہہ ییییسسسس جر رہی تھی۔۔۔ اب اس پوزیشن میں دس منٹ ہو چکے تھے میری بھی بس ہو رہی تھی لیکن مموں کا رس پینے کے چکر میں گھسے لگا رہ تھا وہ بھی مزے سے سک سک سک سک سک مائی بوبز بول رہی تھی۔۔۔۔ نیں کبھی ایک ممے کا نپل چوستا کبھی دوسرے کا کبھی کبھی گھسا لگاتے ہوئے دانت لگ جاتا وہ سسسسییی کرتی لیکن مجال کہ اس نے مجھے ایساکرنے سے روکا ہو۔۔۔۔ میں نے اس کو اپنے اوپر سے اتارا اور کھڑا ہو گیا پھر وہ خود ہی اپنے ہاتھ صوفے پر رکھ کر جھک گئی ۔۔۔۔ اس نے گانڈ باہر نکالی بھری بھری گانڈ اس کے نیچے چھپی پھدی کے موٹے موٹے کب باہر نکل رہے تھے۔۔۔۔ میں نے ایسے وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا لن کو پیچھے سے پھدی میں گھسا دیا ہاتھ اس کے چوتڑوں کر رکھے اور اپنی ایک ٹانگ آگے صوفے پر رکھی اور گھسے مارنے لگا۔۔۔۔ ایک منٹ بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کی جی پھدی نے لن کو کسنا شروع کر دیا پھر سخت ہوتی گئی اس کی اواز بھی اونچی ہوتی گئی۔۔۔۔۔ آہہہہہہہہہہ اور تیز ایسے ہییییییی آہہہہ افففففف بہہہہہتتتت مزااااا آ رررہہہہاااا تمہہہےےےے۔۔۔ اور زور سے مارو پھاڑ دوووووو میری چوت ففففکککک مائی پسسسسیییی۔۔۔ یسیسسسسس۔۔۔ اسکی ٹانگیں کانپنے لگیں میں نے سختی سے اسکی گانڈ کو پکڑا ٹھا ٹھا ٹھا جی آواز سے لن پھدی میں اور میرا لن سے اوپر والا حصہ اس کی گانڈ سے ٹکرا رہا تھا ۔۔۔ شہوت انگیز آوازیں نکالتے وہ فارغ ہونے لگی لیکن اب کمان میرے ہاتھ میں اس کی پھدی سخت ہوتی گئی لیکن میں نے رکنے کا نام نہیں لیا وہ اونچی آواز سے آہہہہہہہہہہہ مییییںںںں گگگئیییی کرتی آگے کو صوفے پر گرتی چلی گئی اس کے اوپر ہی میں بھی لن گھسائے گرتا گیا لیکن گھسے نہیں رکے گھپ گھپ ٹھپ ٹھپ کی آوازیں پھدی میں لن جانے اور جسم سے جسم ٹکرانے کی وجہ سے مسلسل آئے جا رہی تھیں۔۔۔۔ وہ فارغ ہوتی رہی میں گھسے مارتا رہا ایک دفعہ لن زیادہ ہی باہر نکل گیا میں کن ڈالنے کے ہیچھے ہوا ہاتھ میں پکڑ لن پھدی کی تازہ منی سے لتھڑا ہوا تھا کمرے میں ہر سو اس کی مہک پھیلی تھی۔۔۔۔ میری نظر گانڈ پر پڑی میں نے لن کو گانڈ کی دراڈ میں رکھا اور اوپر لیٹ گیا اس کی گردن پر کس کرنے لگا اس نے نیچے سے میرے چہرے پر پھیرا ۔۔۔۔لیکن میرا مشن تو کچھ اور تھا ۔۔۔۔ گردن سے بال ہٹائے اس کے جسم سے پسینے کی اٹھنے والی خوشبو نے مجھے پھر سے کاماسوترا کی یاد دلا دی ۔۔۔۔ مچھلی جیسی خوشبو جس عورت یا لڑکی کے جسم سے آتی ہو اس کو چودنا سب سے آسان کام ہوتا وہ بہت زیادہ چودائی کی شوقین ہوتی ہیں۔۔۔۔ میں نے ہاتھ سے لن کو پکڑا ابھی تک پھدی کے پانی سے گیلا تھا گانڈ کی دراڈ میں رکھنے سے دراڈ بھی گیلی ہو چکی تھی ۔۔۔ گیلا لن گیلی پھدی سے نکلا گانڈ کی دراڈ میں جب پھیرا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ محترمہ گانڈ بھی مروا چکی ہیں لیکن جس طرح پھدی کا کھاتہ چوڑا تھا مجھے گانڈ کا بھی کھلا کھاتہ لگ رہا تھا۔۔۔۔ میں نے لن کو گانڈ کے سوراخ پر رکھا ہلکا سا دبایا تو لن کا ٹوپا اندر ہو گیا اس ہلکی سی افففف کی اور تھوڑا اوپر کو اٹھ گئی جس سے گانڈ ٹائٹ ہو گئی اور لن کی ٹوپی بھی باہر نکل گئی۔۔۔۔ اس نے نظریں گردن گھما کر نشیلی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور بولی دل کر رہا ہے تو تھوڑا گیلی کر لو پھر مجھے بھی درد نہیں ہو گا اور تمہیں بھی مزہ آئے گا۔۔۔۔ میں نے ہممم کیا پیچھے ہوا وہ اپنی گانڈ مٹکاتی پھدی کو ہاتھوں کھول کر دیکھتی چلتی ہوئی گئی اور ایک لوشن کی بوتل لے آئی میں وہ پکڑی۔۔۔۔ وہ پھر سے جھک گئی تو میں نے کہا ایسے نہیں ۔۔۔ اس کا نام بسمہ تھا جو میں نے بعد میں پوچھا یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ میں نام جانے بغیر ہی چود دیتا تھا اب سے میں بسمہ ہی لکھوں گا۔۔۔ بسمہ۔۔۔ تو پھر کیسے۔۔؟ میں۔۔۔۔ آپ صوفے ہر چت لیٹ جاؤ میں لوشن لگاتا ہوں ۔۔۔ بسمہ مسکراتی ہوئی صوفے ہر اپنی گانڈ کو اٹھا کر لیٹ گئی۔۔۔ میں نے گانڈ ہر ہاتھ رکھا تو اس نے اپنی گانڈ کو ہلایا اففففف اس کی گانڈ کی پھاڑیوں میں بھونچال آ گیا الگ الگ پھڑ پھڑ کرنے لگیں۔۔۔۔ میں اس کی ٹانگوں پر دونوں طرف پاؤں کرکے بیٹھ گیا لوشن کی بوتل کھول کر اوپر انڈیل دی اور گانڈ کی دراڈ میں انگلی کی مدد سے لگانے لگا ساتھ ساتھ اپنے لن ہر بھی لگایا۔۔۔۔ اس کے بعد گانڈ کی پھاڑیوں کو الگ کر کے سوراخ کو دیکھا جو کسی گہری کھائی میں کھو گیا تھا۔۔۔ سوراخ میں اپنی انگلی سے لوشن کو ڈالا اور انگلی اندر کرکے اچھی ظرح گھمائی جب گانڈ اچھے سے چکنی ہو گیی تو ایک بار پھر سے لن پر لوشن لگایا حقیقت یہ ہے کہ مجھے لن پر لوشن لگانا بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ جب لن کو اچھے سے تر کر لیا تو میں نے لن کو ہاتھ میں پکڑا گانڈ کی دراڈ میں گھسایا گانڈ کا سوراخ ڈھونڈا اور خود بسمہ پر لیٹ گیا۔۔۔۔ لن پر ہلکا سا دباؤ ڈالا تو لن پچک کی آواز سے گانڈ میں گھس گیا میرے لیے اتنا ہی کافی تھا ۔۔۔۔ اس کے بعد میں نے زور کا گھسا مارا لن جتنا جا سکتا تھا اندر گیا اور بسمہ کےمنہ سے آہ آہ اففففف کی آواز آئی ۔۔۔۔ لن دو انچ سے زیادہ باہر تھا کچھ اس کی گانڈ کی پھاڑیوں میں الجھا تھا کچھ ویسے ہی میں اگلا گھسا ایک سیکنڈ کے وقفے سے تھوڑا سے اوپر ہو کر مارا سارا لن یعنی کہ جو گانڈ کی دراڈ میں تھا اس جے علاوہ سارا اندر کر دیا پھر مسلسل گھسے مارنے لگا۔۔۔۔ بسمہ کے منہ سے عجیب آوازیں ا رہی تھیں جیسے وہ کچھ کہنا چاہ رہی ہو لیکن میں مسلسل گانڈ کی دھلائی میں مصروف ہو چکا تھا اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور لن کو پکڑ لیا ۔۔۔۔ مجھے رکنا پڑا میں نے اس کی طرف دیکھا س نے منہ ہیچھے گھمایا اور بولی آرام سے پلیز بہت درد ہو رہی ہے اتنا بڑا کبھی نہیں لیا یہاں ۔۔۔۔ میں ہمم کیا لیکن پھر جب شروع ہوا تو ایک کام کیا اس کے اوپر ہی لیٹا تھا میں نے اپنے ہاتھ نیچے لے جا کر اس ممے پکڑ لیے اور پھر اسی سپیڈ سے شروع ہو گیا۔۔۔ لیکن اس بار تو اس کی باقاعدہ آہ بقا شروع ہو گئی میں پیچھے ہوا لن نکالا اور اس کو گٹھنوں کے بل کیا لن اس کی پھدی پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں اند رکر دیا ۔۔۔۔ اس نے کہا آہ اہ ایسے ہی یہاں کرو زیادہ مزہ اتا ہے میں نے زور دار جھٹکے شروع کر دئیے اتنے دن کی رکی مںی مجھے تنگ کر رہی تھی۔۔۔۔ میں اپنی آخری حد تک زوردار گھسے لگائے وہ آگے کو گرتی میں ہھر اٹھا لیتا اور لگا رہا لیکن لن صاحب آج ضد پر اڑے تھے۔۔۔۔ میں اس کو سیدھا کیا تو اس کے بال بکھرے تھے چہرہ پسینے سے بھرا تھا حالانکہ اے سی چل رہا تھا۔۔۔۔ میں نے ا سکے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا اور اس کی ٹانگیں پکڑ کر اس کو کھینچا اورلٹا لیا خود اس کے اوپر آگیا۔۔۔۔ ایک ہاتھ سے ممے پکڑے اور دبانے لگا اس نے میرے ہونٹوں کو جکڑ لیا کبھی نچلا ہونٹ چوستی کبھی اوپر والا شروع میں نے کیا تھا لیکن اب باگ ڈور اس کے ہاتھ میں تھی۔۔۔۔ لن پھدی پر لگا اس نے ٹانگیں کھول کر میری کمر پر کس لیں لن کو رستہ دیا میں اتنا جھٹکا دیا جتنا اس پوزیشن میں ہو سکتا تھا لن آرام سے اس کی بچہ دانی تک پہنچ گیا۔۔۔۔ اس کے بعد میں نے ہاتھ پیچھے کیے اس کی ٹانگیں کھول کر خود اوپر ہوا اور ٹانگوں کو اس کے سینے سے لگا دیا اور ہو گیا شروع کن پھدی کا مقابلہ اس بار میں اپنی انتہائی سپیڈ پر تھا۔۔۔۔ گپ گپ گہپا گپ گپ گپا کی آواز کے ساتھ لن اس کی پھدی کی گہرائی میں جا رہا تھا مسلسل 5 منث کے بعد اس کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔ میں نے ایک بار ہھر سے پوزیشن بدلی اور اس کو بالکل سیدھا لٹایا اور لن کو پھدی میں گھسا دیا اس طرح لن پھنس کر گیا پھدی کو بھی بہت رگڑ لگی ۔۔۔۔ وہ سسکی اور بولی آہ آہ مزہ آگیا میں نے گھسے مارنے شروع کیے اس کے مموں کو دبانے لگا منہ اس کے لبوں پر رکھا کسنگ بھی کرنے لگا گھسے مارنے سے کسنگ میں مزا نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ گھسوں کی بارش سے میرا لن بھی اب انتہا کو ہہنچ رہا تھا اس کی پھدی بھی ایک بار پھر سے ٹائٹ ہونے لگی۔۔۔۔ اس کی پھدی نے لن ہر اپنے مسام کسنا شروع کیے میرا لن بھی پانی سے بھر گیا۔۔۔ میں نے آخری جاندار گھسے مارے دوسری ظرف اس کا جسم بھی اکڑ گیا میں نے فل زور سے آخری گھسا مارا اس نے گانڈ اٹھا مر لن کو پھدی کی گہرائی میں لیا ۔۔۔۔۔ ایک زاوداد چییخ کے ساتھ اس کا جسم اوپر اٹھا جس سے مجھے بھی جھٹکا لگا اور اس کی پھدی نے لن کر برسات کر دی لن نے بھی پھدی کو پانی سے بھرنا شروع کر دیا۔۔۔۔ کوئی دو منٹ میرا لن اس کی پھدی میں پانی چھوڑتا رہا جب جب پانی کی پچکاری پھدی میں گرتی اس کا جسم جھٹکا کھاتا۔۔۔۔ اس نے میرے ہونٹ چوسنا چومنا جاری رکھا جب اچھی طرح لن نے اپنا آخری قطرہ بھی اس کی پھدی میں بہا دیا تو میں نڈھال ہو کر اس کے اوپر گر گیا ۔۔۔۔ اس وقت اس نے اپنے ہاتھ سے میری کمر سہلانی شروع کر دی اور بولی ایک بات کہوں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ جی کہیں۔۔۔ وہ۔۔۔ زندگی میں کبھی کسی نے اتنی دیر نہیں کیا میں یہ نہیں کہوں گی کہ پہلے کبھی کسی سے نہیں کیا تمہارے انکل کے علاوہ بھی کئی لوگوں سے کروا چکی ہوں تم یہ نہ سمجھنا میں کوئی ایسی ویسی ہوں ۔۔۔ میں۔۔۔ بیچ میں ہی بول پڑا ایسا میں کیوں سوچوں گا ۔۔۔ ویسے بھی انسانی جسم کی بھی ضروریات ہوتی ہیں جب کوئی ایک پوری نہ کرسکے تو کسی اور سے کر لینا میرے خیال میں بالکل بھی غلط نہیں ہے ۔۔۔۔ اس نے ایک زوردار کس کی اور بولی مجھےپہلے ہی شک تھا کہ تم جتنے معصوم دکھ رہے کو اتنے ہو نہیں۔۔۔ اچھا یہ سب چھوڑو آتے ہی پھرتول ڈال دیا ہم نے اور تعارف تو ہو ہی نہیں۔۔۔ میں۔۔۔ میرا نام تو کچھ اور ہے مجھے سب لوگ بلو کہتے ہیں۔۔۔ وہ ہنستے ہوئی بولی بلووووو ہاہاہا کیسا نام ہے۔۔۔ مجھے بہت برا لگا میں نے منہ پھلا کر اس کا اظہار بھی کیا۔۔۔ اس نے بہت لاڈ سے میرے منہ پر پاری کی اور کہا میرے لاڈے نوں برا لگا وا۔ ساتھ ہی میری ناک دبا دی۔۔۔ لیکن میں نے منہ پھلائے رکھا۔۔۔ ہھر اس نے اپنا نام بتایا کہ اس کا نم بسمہ ہے اسکا شوہر ایک بینکر ہے ان کا ایک بیٹا ہے جو کہ مری کے کسی اقامتی سکول میں پڑھتا ہے۔۔۔۔ وہ دن میں گھر میں بالکل اکیلی ہوتی ہے بس ایک نوکرانی تھی جس کی چھٹی کروا دی اس کی یہ بات سن کر مجھے سب سمجھ آ رہی تھی وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے ۔۔۔ میں نے کچھ خاص ریسپانس نہ دیا اس بات کا اس نے مجھے نہانے کا کہا اور خود ہی میرا بازو پکڑ کر کہا نہا لو ۔۔۔ سچ پوچھو تو میرا ابھی اور یہاں رکنے کو دل چاہ رہا تھا ۔۔۔ میں نے ایسے ہی کہہ دیا نہیں گھر جا کر نہاؤ لوں گا بھی چلتا ہوں اس نے کہا اگر وقت کی قلت نہیں ہے تو یہاں نہا لو۔۔۔ میں نے کہا ایسی بات نہیں ہے بس اور رک نہیں سکتا کافی دن بیمار رہا ہوں آج نکلا ہوں اس لیے گھر جانا ضروری ہے۔۔۔ اس نے کہا ٹھیک ہے میں جو سمجھ رہا تھا کہ وہ مجھے مجبور کرے گی پھر ایک راونڈ نہاتے ہوئے لگا لوں گا سب غارت ہوتا نظر آیا۔۔۔ میں کچھ دیر بیٹھا رہا پھر کہا تو میں چلوں اس نے کہا جیسے مرضی ہے۔۔۔ میں مجبور ہو گیا اب ڈھیٹ بننا نہیں آتا تھا اس لیے چپ کر کے اٹھا اور کمرے سے نکل کر جیسے ہی آگے بڑھا وہ بولی ایک منٹ بات تو سنو اتنی کیا جلدی ہے۔۔۔ میں نے اس کی ظرف مڑ کر دیکھا تو وہ بولی پہلی دفعہ آئے ہو میں کچھ پوچھا ہی نہیں کھائے پئیے بغیر ہی جاؤ گے۔۔۔ میں پھر بھی نہ بولا صرف اس کی ظرف دیکھتا رہا۔۔۔ وہ مزید بولی اچھا چلو کھاو نہ کچھ پی تو لو۔۔۔ میں۔۔۔ پتہ تو ہے کہ میں نہایا نہیں ہوں ۔۔۔۔ بسمہ۔۔۔ کہا تو ہے نہا لو ۔۔ میں ۔۔۔۔ جو پہلے ہی یہ چاہتا تھا بولا چلو اگر آپ کہتی ہیں تو ۔۔۔ میں نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا وہ واپس مڑی اور مجھے واش روم کے دروازے پر لے گیی دروازہ کھولا اور کہا نہا لو گے یا ۔۔۔۔ اس کی نظروں میں بہت کچھ تھا ۔۔ میں۔۔۔ مسکرانے لگا۔۔ اندر بڑھا واش روم کو دیکھا جدید طرز کا واشروم اس واشروم جتنے تو ہمارے گھر کے کمرے تھے۔۔۔ ہر چیز موجود تھی باتھ ٹب بھی تھا میں نے ادھر ادھر نظریں گھمائیں۔۔۔ میں ۔۔۔ یہاں کیسے نہاوں سچ میں مجھے اس وقت باتھ ٹب کا نہیں پتہ تھا زندگی میں پہلی بار ایسا جدید طرز کا باتھ روم دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ آگے آئی اس نے ٹب کا پانی چلایا ساتھ ٹب کا شاور دکھایا اور مسکراتے ہوئے بولی میں نہانا ہی سکھا دیتی ہوں ۔۔۔۔ میں شرمیلی مسکراہٹ دی اور منہ نیچے کر لیا ساتھ ہی بولا وہ مجھے شرم آئے گی۔۔۔ بسمہ۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہا ابھی بھی شرماؤ گے ویسے تم بہت اچھے ایکٹر ہو۔۔۔ میں نے اس طرف دیکھتے ہوئے کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔ بسمہ۔۔۔ کچھ نہیں چلو نہا میں نے کپڑے اتارنے شروع کر دئیے شرٹ اتار کر اس جی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔ بسمہ۔۔۔ کیا ہوا اب نہانا نہیں یے کیا۔۔؟ میں۔۔۔ نہانا تو ہے لیکن وہ آپ ۔۔۔۔ میری زومعنی بات سن کر وہ آگے بڑھی اور میرا ٹراوزر اتارنے لگی۔۔۔۔ جیسے ہی میرا ٹراؤزر پاوں میں گرا وہ کھڑی ہو گئی اپنے کپڑے اتارنے لگی ۔۔۔ قمیض اتاری اس کے بڑے بڑے ممے لٹکتے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے آ گئیے۔۔۔۔ پھر اس نے نیچے بیٹھ کر میرا انڈروئیر نیچے کرنے سے پہلے اپنا چہرہ بالکل قریب کر لیا اور اوپر دیکھتے ہوئے بولی تیار ہو ۔۔۔ میں ۔۔۔ ہمممم تیار ہوں۔۔ اس نے انڈروئیر کو ایک جھٹکے سے نیچے کر دیا لن ایک دم اچھل کر جتنی تیزی سے اس نے انڈر وئیر اتار اسی تیزی سے باہر نکلا اور اس کے ناک پر لگا۔۔۔۔ اس نے اپنا منہ کھولا اور لن کو قید کر لیا دوسرے ہاتھ سے انڈر کو پاؤں میں لیجاکر اتار دیا۔۔۔۔ لن کی ٹوپی کر ہلکا ہلکا کاٹنے لگی مجھے درد کے ساتھ ساتھ مزہ بھی آ رہا تھا۔۔۔۔ میں تھوڑا آگے ہو کر لن کو اس کے منہ میں گھسانے لگا۔۔۔ جتنا لن منہ جا سکتا تھا میں اس سے زیادہ گھسانے کی کوشش کر رہا تھا ا س نے لن باہر نکالا اور کھانسنے لگی۔۔۔ دوسری طرف ٹب پانی سے بھر گیا وہ اٹھی گھوم کر ٹب کی طرف گئی جانے سے پہلے اس نے جھک کر میری طرف گاند کر کے ہلائی اور مسکراتی ہوئی چل دی۔۔۔ اس ٹب میں پتہ نہیں کیا کیا لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ اس نے صابن ڈالا اور جھک کر ہاتھ سے ہلانے لگی۔۔۔ وہ جھکی تو اس کی گانڈ دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا میں جھٹ اس کے پاس پہنچ گیا اور لن اس کے چوٹڑوں پر مارنے لگا۔۔۔ بسمہ۔۔۔ اففففف صبر نہیں ہو رہا کیا۔۔ میں۔۔۔ نہیں یہ سین دیکھ کر تو کسی کا بھی صبر ٹوٹ سکتا ہے۔۔۔ میں نے لن اس کے پھدی میں گھسا دیا اور زور سے گھسا مارا اس نے اگر خود نہ سنچھاہوتا تو ٹب جا گرتی۔۔۔۔ اب ہوا دوسرے راؤنڈ کا باقاعدہ آغاز لن گھساتے ہی میں نے گھسوں کی بارش کردی۔۔۔ لگاتار پانچ منٹ اسی پوزیشن میں گھسے مارتا رہا میں تھک گیا تو ایک پاؤں ٹب پر رکھا لیا لیکن گھسے نہ روکے اس دوران اس کی مزے کی سسکیاں نکلنے لگیں ۔۔۔۔ آہ اہ اہ آہ یسسسسس اٹ واز مائی ڈریم ۔۔۔ییسسسس ٹو بی فکڈ لائک دسسسسس فک می ہارڈر ییسسس ۔۔۔ ااہہہہہہہہ ییییااااا آہہ آہہہ چند کی منٹوں میں اس کی پھدی نے پانی چھوڑنا شروع کیا میں نے لن نکال کر اس کی گانڈ میں گھسا دیا وہ فارغ ہورہی تھی ۔۔۔۔ میں نے گانڈ چودنی شروع کر دی فارغ ہو کر وہ اسی ظرح سیدھی ہوگئی لن گانڈ میں مزید پھنس گیا۔۔۔۔ لیکن میں اندھا دھند لگا رہا اس نے ایک ہاتھ پیچھے کر کے میری گردن میں ڈال لیا دوسرے سے اپنے ممے دبانے لگی۔۔۔۔ ٹب میں جھاگ کافی بن چکا تھا میں نے لن نکالا اور اس کو ٹب میں لے گیا۔۔۔۔ خود پہلے نیچے لیٹا ااور اسے اپنے لن کی سواری پر لگا دیا اسنے لن کو پھدی میں لیا اور آہستہ اہستہ اوپر نیچے ہونے لگی۔۔۔ ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں سے میرے کندھوں پر صابن مل رہی تھی اس کی سپیڈ سلو تھی لیکن مزہ اس کی اداؤں میں تھا۔۔۔ میں نے بھی اپنے ہاتھ اس کے مموں پر رکھے اور مموں کو مسلنے لگا۔۔۔ وہ اپنے ہاتھ سے مموں کو بھی صابن لگاتی اور میرے کندھوں اور سینے پر بھی ساتھ ساتھ میری گردن پر بھی صابن کا جھاگ لگا رہی تھی۔۔۔۔ کچھ ایسے کرنے کے بعد وہ میرے اوپر لیٹ گیی اور اپنے ممے میرے سینے سے مسلتے ہوئے لن کو پھدی میں لینے لگی۔۔۔۔ دوہرے وار شروع ہو گئے لن پر پھدی کا وار اور سینے کر اس کے مموں کا حملہ۔۔۔۔ یکدم وہ وخشیانہ انداز میں سانس لینے لگی میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا لال ہو چکی تھیں اس کا سانس پھول رہا تھا لن کر اس کی سپیڈ بھی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ سیدھی ہوئی اس نے لن ہر ذور ذور سے اچھلنا شروع کر دیا لن اس کی پھدی کی گہرائی میں جا رہا تھا پانی کی اچھلنے کی آواذ اور پھدی میں لن کے جانے کا تصور مجھے بھی مزے کی گہرائیوں میں لے گیا۔۔۔ میں نے اس کے اوپر نیچے ہونے ساتھ ساتھ نیچے سے گھسے مارنے شروع کر دئیے ابھی ایک دو گھسے ہی مارے تھے اس کی چوت نے لن کو جکڑ لیا۔۔۔۔ وہ میرے اوپر ڈھ گئی اس کی سے نکلنے والا گرم پانی لن جو نہلانے کے ساتھ ساتھ ٹب کے پانی کو بھی خراب کرنے لگا۔۔۔۔ جب فارغ ہو گئی تو باہر نکلی اور ایک ظرف شییشے کے پیچھے گانڈ لچکاتی چلی گئی۔۔۔ میں بھی اس کے پیچھے چلا گیا وہ کموڈ پر اپنی ٹانگیں کھوکے بیٹھی تھی میرے لیے یہ بھی عجیب بات تھی کہ کموڈ ادھر لگا ہے ٹب ادھر ہے اور نہانے والے حصے جو الگ کرنا چاہیے تھا یہ انہوں نے ٹوائلٹ والا حصہ الگ کر دیا تھا۔۔۔ خیر میں نے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر سختی چیک کی اور اس کی پھدی پر رکھا گردن کو تھانا اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر جمائے اور ایک زوردار گھسا مارا۔۔۔۔
  11. اپڈیٹ وہ بولی ہہہا اے میں لیا سی۔۔ میں۔۔۔ ہمممم وہ لن کو ایک ہاتھ کی مٹھی میں لے کر دوسرے ہاتھ کو اس پر پھیرتے ہوئے بولی۔۔ ایک بات کہوں ۔۔۔ میں ۔۔۔ کہو۔۔ بولی مینوں اوس دن بہت مزہ آیا تھا ساتھ ہی شرمانے لگی۔۔۔ میں نے بیٹھے بیٹھے آگے ہو کر اس کو گلے لگایا جس سے اس کے ایک ہاتھ سے لن نکل گیا۔۔۔ میں نے اس کے ممے پکڑے سہلانے لگا وہ میرے لن کی مٹھ مارنے لگی۔۔۔ کچھ دیر ایسسا کرنے کے بعد میں نے اس کو لٹایا اور لن کو اس کے منہ کے قریب لے آیا ۔۔۔ اس نے ہاتھ کی مدد سے منہ سے تھوک لیا اور لن پر لگایا پھر تھوک لیا لگایا لن کو اچھی طرح سے تر کرنے کے بعد مٹھ مارنے لگی ۔۔۔ میں نے تھوڑا اوپر ہو کر لن اس کے منہ کے بالکل قریب کر دیا۔۔۔ اس نے اشارے سے پوچھا کیا۔۔؟ میں نے لن کی ٹوپی اس کے ہونٹوں سے لگادی ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں چمک آگئی اس نے اپنی زبان نکالی اور لن کی اکلوتی آنکھ پر لگا دی۔۔۔ میرے جسم نے جھرجھری لی لیکن مزہ بھی بہت آیا۔۔۔ پھر اس نے لن سے نکلنے والا تھوڑا بہت پانی زبان سے اچھی طرح چاٹا اور زبان کو ٹوپی پر پھیرنے لگی۔۔۔ میں نے مزے سے آ نکھیں بند کر لیں اور ہاتھ اس کے سخت سانولے مموں پر رکھ دئیے اور ممے دبانے لگا۔۔۔ وہ کچھ دیر ٹوپی سے مستی کرنے کے بعد آگے بڑھی اس نے لن پر جڑ والی سائیڈ سے اوپر تک زبان پھیرنی شروع کر دی ۔۔۔ لن کی ٹوپی کو ہاتھ میں پکڑے وہ زبان کو نیچے سے اوپر تک لاتی اور لن کے رنگ کے اردگرد زبان گھماتی۔۔۔ میں مزے کی انتہا کو پہنچ رہا تھا ایسا مزہ اب تک دو بار ہی لے پایا تھا۔۔۔ اس کی زبان میں جادو تھا اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک اسکا منہ اپنے پانی سے بھر چکا ہوتا۔۔۔ میں نے بھی پیش قدمی کا فیصلہ کیا اس کے مموں پر جھکا لیکن اس نےمجھے پیچھے ہٹایا اور خود بیٹھ گئی مجھے لیٹنے کا کہا میں نے نیچے دیکھا تو گھاس کا بستر بنا ہوا تھا میں بے فکر ہو کر لیٹ گیا۔۔۔ وہ میرے لن پر جھک گئی اور منہ کے اندر ایک سائیڈ سے ٹکرا کر نکالتی لن پھٹنے والا ہو جاتا۔۔۔ کبھی دائیں سائیڈ سے کرتی کبھی بائیں سے کویی چھ سات بار کرنے کے بعد اس نے لن اپنے منہ میں بھر لیا ۔۔۔ جتنا اندر لے سکتی تھی لیا لن اس کے گلے تک گیا اس نے لیا پھر ایک دم باہر نکالا اففففففف یہ چیز میرے اندر آگ لگا گئی۔۔۔ اتنا مزا کہ بیان نہیں کر سکتا ایک بار نہیں اس نے تین چار بار ایسے ہی کیا اس کے منہ سے تھوک باہر ٹپکنے لگا اس کی آنکھوں سے بھی پانی نکل رہا تھا اس نے ہاتھ سے منہ صاف کیا آنکھیں پونجھ لیں۔۔۔ پھر وہ میرے اوپر آ گئی دونوں طرف ٹانگیں رکھیں اور لن کے اوپر آکر لن کو ہاتھ سے پکڑا اور پھدی پر سیٹ کیا۔۔۔ وہ آرام سے اندر لینا چاہتی تھی لیکن مجھ سے اب مزید انتظار نہیں ہو رہا تھا ۔ ۔۔۔ لن نے جب پھدی کو چھویا پھدی کی گرمی کا احساس ہوا میں نیچے سے گھسسا مارا آدھا لن اندر گھس گیا ۔۔۔ میں نے اس کا چہرہ دیکھا اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے ہوئے تھے آنکھیں بند تھیں۔۔۔۔ دوسرے گھسے سے پہلے ہی س نے لن پر دباؤ ڈالا اور خود ہی بیٹھ گئی۔۔۔ جب بیٹھ گئی تو اس نے ہاتھ لگا کر چیک کیا جب اس کو تسلی ہو گئی کہ سارا چلا گیا ہے اس نے آنکھیں کھول لیں۔۔۔۔ اس کی انکھوں میں فخر تھا ساتھ ہی وہ میرے اوپر لیٹ گئی اور اپنی زبان میری گردن پر پھیرنے لگی۔۔۔ لیکن میں نے اس کو نیچے سے گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔ لن پھنس پھنس کر جارہا تھا اس کی پھدی ٹائٹ تھی یا اب ہو گئی تھی لیکن مزہ دے رہی تھی۔۔۔ اس کی زبان مسلسل میری گردن پر چل رہی تھی جس سے میرے پورے جسم میں گدگدی ہو رہی تھی۔۔۔ جتنا تیز وہ زبان چلاتی اتنی تیزی سے میں گھسے مارتا۔۔۔ اس پوزیشن میں گھسا اچھا نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے اس کی کمر کے گرد بازو ڈالے اور اس کو گھما کر اپنے نیچے کر لیا ۔۔۔ اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور اندھا دھند گھسے مارنے لگا۔۔۔ اتنے تیز گھسے مارے کہ میری کمر درد کرنے لگ گئی اس کی بھی پھدی نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔ پھدی گیلی ہونے سے لن شڑپ شڑپ کی آواز سے پھدی میں گھس رہا تھا۔۔۔۔ اس کے ممے بھی ہل رہے تھے لیکن زیادہ سخت ہونے کی وجہ سے لٹک نہیں رہے تھے۔۔۔ میں نے اب اس کی ایک ٹانگ اٹھائی دوسری بالکل سیدھی کی اور گھسے شروع کر دئیے ۔۔۔ کوئی 5 منٹ کی مزید چودائی کے بعد مجھے لگا کہ اب فارغ ہونے والا ہوں تو لن نکال لیا۔۔۔۔ اس کو الٹا ہونے کو کہا تو اس نے کہا جب فارغ ہونے لگو تو مجھے دکھانا ہے ۔۔۔ میں نے ہممم کیا وہ گھوڑی بنی میں لن اس کی گانڈ کے نیچے سے پھدی میں گھسایا اور دھے دھکے پے دھکا شروع کر دیا۔۔۔ اس کی گانڈ کو دونوں سائڈ سے پکڑ گھسے لگانے لگا۔۔۔ آج وہ کویی آواز نہیں نکال رہی تھی۔۔۔ میں اس کے منہ آواز نکلوانےکے چکر میں مسلسل گھسے لگا رہا تھا ۔۔۔ مجھے اپنا ٹائم قریب نظر آیا اس کی پھد ی لن پر سخت ہونے لگی وہ جھٹکے کھا کر فارغ ہونے لگی۔۔۔ میں رک گیا جب وہ فارغ ہو گئی تو میں نے پھر سے سپیڈ پکڑی اور سپیڈی گھسے شروع کر دیے کچھ ہی دیر بعد مجھے خون اپنی ٹانگوں میں جمع ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ میں دو چار جاندار گھسے مارے اور لن باہر نکال کر اس کو سیدھا کیا وہ ایک دم لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مٹھ مارنے لگی۔۔۔۔ ایک دو تین چار اور لن کی آنکھ سے ایک زودار پچکاری نکلی جو سیدھی اس کے منہ پر جاگری ۔۔۔ اس نے جلدی سے لن کا رخ اپنے مموں کی طرف کیا اور باقی کے قطرے اس کے مموں پر گرنے لگے اس نے مٹھ مار مار کر اچھی طرح لن سے آخری قطرہ بھی نچوڑ کر اپنے مموں پر گرایا۔۔۔ اس کے بعد اس نے لن کو اپنے منہ لے کر چوسنا شروع کر دیا میں اس کی حرکات کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا ۔۔۔ وہ اپنے کام میں مگن تھی اس نے ایک بار پھر زبان سے لن کی ٹوپی پر اکلوتی آنکھ پر زبان پھیرنے شروع کر دی اور جو قطرے رہ گئے تھے وہ چوس لیے۔۔۔ لیکن اس کی اس حرکت سے لن پھر سے جوش میں آگیا لیکن مجھے لگنے لگا کہ میں اگر اب کچھ کروں گا تو واپس گھر نہیں جا سکوں گا۔۔۔ پتہ نہیں جیسی کمزور ہو گئی تھی سالی مجھے کہ ایک بار چدائی کے بعد کی جسم میں ایسے لگ رہا تھا جیسے جان ہی نہیں رہی۔۔۔ میں خود پر قابو پایا اس کو کہا کوئی آ نہ جائے اب چلتا ہوں۔۔۔ اس نے لن کی ظرف اشارہ کیا اور بولی یہ تو کچھ اور آکھ رہا اے۔۔ میں نے کہا اس کی سنیں گے تو پھر تم ایک بار نہیں کئی بار کئی لوگوں کو پھدی دو گی اور ہو سکتا ہے مجھے بھی گانڈ مروانی پڑ جائے۔۔۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی اور بولی جا اوئے کوئی حال نیں تیرا وی۔۔۔ مجھے ایک دم خیال آیا کہ اس کا نام تو پوچھا ہی نہیں اور نہ ہی اس نے بتایا۔۔۔ میں اس سے نام پوچھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور ٹراؤزر پکڑا دیا خود تیزی سے اپنے کپڑے پہننے لگی ۔۔۔ میں نے بھی اس کی دیکھا دیکھی ٹراؤزر پہن لیا اس نے تھوڑا سا باہر نکل کر دیکھا ۔۔۔ پھر مجھے جانے کا کہا۔۔۔ میں وہاں سے کھسک کر باہر نکلا اور ایک طرف چل دیا ۔۔۔۔ ابھی چند ہی قدم چلا تھا کہ ایک سائیڈ سے تیزی سے کتا نکلا اور میرے سامنے آ کر گھورنے لگا۔۔۔ کتوں سے مجھے بہت ڈر لگتا تھا میری ہوا کتے کو دیکھ کر ٹائٹ ہو گئی۔۔۔۔ وہ تو بھلا ہو ایک اور کتے کا جو اس پر بھونکا اور پیچھے لگ گیا دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگتے چلے گئیے۔۔۔۔ میں وہاں سے نکل کر گھر آیا نہایا کچھ تازگی آئی ناشتہ کیا اور ٹیوشن پڑھنے چلا گیا ۔۔۔ پھر کئی دن یہ ہی روٹین رہی ٹیوشن گھر گراؤنڈ کچھ نہ ہوا لیکن حقیقت یہ تھی کہ میں ڈر گیا تھا مجھے جو اس چکر آیا پھدی اور پھر دوسرے دن پھدی مارنے سے باز نہ آیا تو وہاں بھی مجھے کمزوری کا احساس ہوا۔۔۔۔۔ اس کے لیے میں نے ایک دوست سے مشورہ بھی کیا لیکن اس نے جو علاج بتایا وہ مہنگا تھا اس لیے بس چپ ہی ریا۔۔۔ اسی طرح پندرہ بیس دن نکل گئے ان دنوں میں نے باقاعدگی سے دودھ پیا اور موقع ملتے ہی دودھ میں شہد ملا کر پی لیتا ۔۔۔ لن بہت تنگ کرنے لگا تھا کچھ سکون نہ تھا جب بھی اکیلا بیٹھتا لن صاحب جھٹکے سے کھڑے ہو جاتے۔۔۔۔ ایک دن جب لن نے زیادہ تنگ کیا تو ٹیوشن سے واپسی پر ایک کوشش کرنے کا سوچا ۔۔۔۔ میں تہمینہ کے چکر میں بلوچ ہاؤس کی طرف جانے کی پلاننگ کرتا ہوا گھر آیا۔۔۔ گھر آ کر کتابیں رکھیں پانی پیا اور باہر نکل گیا۔۔۔ یہاں ایک بات بتاتا چلوں کیونکہ ابھی میٹرک کا رزلٹ نہیں آیا تھا اس لیے میں صبح کے وقت ٹیوشن پڑھنے جاتا تھا۔۔۔۔ گھر سے نکل کر میں بلوچ ہاوس کی طرف چل پڑا مارکیٹ پہلے آتی تھی اس لیے وہاں ہم سب ایک بار حاضری ضرور لگواتے تھے اس لیے میں بھی ایسے ہی مارکیٹ پر رکا وہاں سے کچھ چیونگم لیں منہ میں ڈالیں چیونگم چباتا میں ابھی نکل ہی رہا تھا کہ مجھے آواز آئی بات سنو۔۔۔۔ میں نے آواز کی سمت دیکھا تو ایک نقاب پوش عورت مجھے بلا رہی تھی۔۔۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا جب یقین ہو گیا کہ وہ مجھے ہی بلا رہی تو میں اس کے پاس گیا۔۔۔ میں۔۔۔ جی۔۔ عورت ۔۔۔ یہ مجھے اندر شاپ سے کچھ سامان لا دو۔۔۔ اس نے مجھے لسٹ پکڑائی میں جو کسی کا کام کرنا بھی حرام سمجھتا تھا بلکہ اب بھی سمجھتا ہوں پتہ نہیں کیسے اس کو انکار نہ کر سکا۔۔۔ انکار نہ کر سکنے کی بھی ایک وجہ تھی مجھے یہ آواز سنی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔۔ خیر میں اندر گیا سامان لیا اور باہر آیا تو وہ عورت مجھے ایک طرف جاتی ہوئی نظر آئی ۔۔۔۔ مجھ بڑا غصہ آیا کہ مجھے سامان کا کہہ کر یہ خودکدھر جا رہی ہے کیسی عجیب عورت ہے۔۔۔۔ خیر میں غصے میں اس کے پیچھے چل پڑا وہ آگے آگے چلتی جارہی تھی میں کافی فاصلے پر اس کے پیچھے بھاگنے کے انداز میں جا رہا تھا۔۔۔۔ میں قریب سے قریب ہوتا گیا اور چند فٹ فاصلہ رہ گیا۔۔۔ میں نے ان کو آواز دی بات سنیں۔۔ لیکن اس نے ایسا ردعمل دیا جیسے میں اس سے نہیں کسی اور سے مخاطب ہوں۔۔۔ لیکن میں نے ایک بات نوٹ کی کہ وہ گانڈ کو بہت مٹکا کر چل رہی تھی۔۔۔ میری نظر گانڈ کے نشیب و فراز پر پڑی تو ٹھرک پن جاگ اٹھا۔۔۔۔ میرا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور میں اسی فاصلے سے گانڈ کی مٹک مٹک دیکھتے ہوئے چلنے لگا۔۔۔۔ دوپہر کا وقت سنسان گلی اور اس میں چلتی آگ میرے اندر آگ لگا رہی تھی۔۔۔ میرا لن جو پتہ نہہں کب سے ترس رہا تھا یہ نظارہ دیکھ کر اپنا سر پھڑپھڑانے لگا۔۔۔ بڑی مشکل سے خود کو کسی غلط حرکت سے باز رکھے میں اس کے پیچھے چلتا رہا یکدم وہ چلتا پھرتا نظارہ رک گیا۔۔۔۔ میری نظر گانڈ پر اٹک گئی میں بھی اس کے پاس جا کر رک گیا لیکن میری نظر اببھی بھی گانڈ کی بناوٹ پر تھی۔۔۔ ایک بار پھر مجھے آواز سنائی دی صرف دیکھتے کی رہو گے یا آج بھی بھاگ جاو گے۔۔۔ بس تم ٹھرک ہی جھاڑ سکتے ہو لگتا ہے اندر سے فارغ ہو۔۔۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا بات کو سمجھا تو بہت کچھ سمجھ میں آتا گیا ۔۔۔۔ ہاں جی صیح سمجھے آپ لوگ یہ وہی آنٹی تھی جس نے مجھے بلا یا تھا لیکن میں اس دائی کی لڑکی کی پھدی مار کر سیدھا گھر پہنچ گیا تھا ۔۔ اس کے بعد میں کافی دن اس سے سب سے بچنے کی کوشش کرتا رہا لیکن آج لن نے مجھے مجبور کر دیا۔۔۔۔ اس لیے لن کے لیے پھدی کا شکار ڈھوندنے نکلا تھا۔۔۔ اب یہ بات آنٹی کو تو سمجھا نہیں سکتا تھا نہ یہ کہہ سکتا تھا کہ میں بہت ماہر ہوں ۔۔۔ ا س لیے معصوم بن گیا اور کہا وہ ہہہہہ نا میں ڈر گیا تھا ۔۔۔ وہ عورت بولی چل آجا یہ سامان اندر کمرے میں رکھ دو ۔۔۔ میں ۔۔۔ جی اچھا کہتا اس کے پیچھے چلتا ہو اندر چلا گیا۔۔۔۔ کیا گھر تھا میں نے تو ایسا گھر اپنی زندگی میں بھی نہیں دیکھا تھا کمرے میں لے گئی جو شاید ان کا ڈرائنگ روم تھا ۔۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ٹھنڈک کا حساس ہوا نیچے پاؤں قالین میں دھنس رہے تھے اتنا سافٹ قالین کمرے ایک خوشبو سے بھرا تھا۔۔۔ وہ مجھے کہنے لگی اندر آجاؤ جو میں وہاں پڑے صوفے پر بیٹھنے کی سوچ رہا تھا اس کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔ اس نے مجھے ہاتھ سے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا میں سامان والا شاپر ہاتھ اسی طرح پکڑے آگے جانے لگا ۔۔۔ وہ رک گئی اور بولی بدھو وہ سامان تو رکھ دو۔۔۔ میں نے جلدی سے سامان وہاں ہی رکھ دیا میں صیح معنوں میں کہوں تو پنجابی کا ایک لفظ ہے بوندل جانا جس کا مطلب ہوتا کچھ سمجھ نہ آنا بیوقوفانہ حرکات کرنا۔۔۔ اس وقت میری بھی وہی حالت تھی جیسے اس نے کہا سامان تو رکھ دو بدھو۔۔۔ میں گھر کو اندر سے دیکھ کر ایسا رعب میں آیا کہ بس سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کیا کروں بہت مرعوب ہوگیا تھا۔۔۔ میں سامان کو وہیں رکھ دیا یہ دیکھے بغیر کہ وہاں کیا پڑا ہے ایک دم کڑچ کی آواز آئی اور کوئی چیز ٹوٹ گئی۔۔۔ کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز مجھ پر بم بن کر گری میری ٹانگیں کانپنے لگیں میں کبھی اس کی طرف دیکھتا تو کبھی نیچے جہان سامان رکھا تھا۔۔۔ اصل میں جہاں سامان رکھا تھا وہاں ایک ٹیبل پڑی تھی جس پر گلدان تھا جو ٹوٹل کرسٹل کا تھا اور ٹیبل شیشے کی بنی ہوئی تھی۔۔۔ جب میں سامان والا شاہر رکھا تو وہ اس گلدان سے ٹکرایا اور گلدان ٹھا کی آواز سے ٹیںل پر گرا اور گلدان ٹوٹ گیا۔۔۔ لیکن کمال جاؤں اس عورت کر اس نے بجائے غصہ کرنے کے اپنے ماتھے کر ہاتھ مارا اور بولی اف یار تم بھی نہ ۔۔۔ میں اس گلدان کو اٹھانے کے لیے جھکا تو وہ بولی ایسے کی رہنے دو میں خود کر لوں گی تم آجاو۔۔۔ میں افسردگی سے سر جھکائے اس کے پیچھے چل پڑا وہ ایک کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔ میں بھی اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہو گیا آہ کمال کا کمرہ تھا کیا خوبصورت بستر لگا تھا ۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی جو چیز سب سے پہلے مجھے نظر آئی وہ تھی اس کا خوبصورت بیڈ اور اس پر بچھی شیٹ ایسا آج تک میں نے ڈراموں اور فلموں میں ہی دیکھا تھا۔۔۔ پینڈو ہونے کی وجہ سے میرے لیے یہ اب بہت ہی فلمی سا تھا۔۔۔ میں نے اتنا خوبصورت بیڈ ایسا شاندار کمرا پھر اس کمرے کے دیواروں پر لگی پینٹنگز اور دبیز پردے ایک سائیڈ پر ڈبل سیٹڈ صوفہ پڑا تھا ۔۔۔۔ کمرے کے ایک طرف ایک شیٹ سی لگی تھی جس میں چھوٹا دروازہ لگا تھا یہ میرے لیے بہت حیران کن تھا کہ کمرے میں یہ سب کیا ہے۔۔۔ دوسری طرف ایک انتہائی خوبصورت ڈریسنگ ٹیبل پڑا تھا میں پینڈو جس کو سنگھار دان کا پتہ تھا جو کہ ایک بڑا سا شیشہ ہوتا تھا سب گھر والے اس میں چہرہ دیکھ کر بال بھی بناتے اور عورتیں اپنے منہ پر کوئی کریم وغیرہ لگا لیتیں وہ بھی کبھی کبھار جب کوئی شادی وغیرہ ہوتی۔۔۔ اس وقت کی سادگی آج کے دور کی عورتوں کو کہیں کہ یہ کر لو تو وہ ہمیں احمق سمجھنے لگتی ہیں ۔۔۔ کپڑے رکھنے کے ٹرنک کا پتہ تھا سونے کے لیے چارپائی مل جاتی تھی۔۔۔۔ برتنوں کے لیے گاؤں میں ایک ڈولی ہوتی تھی یہاں آکر کچن میں الماری کا پتہ چلا۔۔۔۔ ایسا بندہ جس نے زندگی میں کبھی بیڈ پر لیٹ کر نہ دیکھا ہو اس کو میٹرس کی نزاکت کا کہاں احساس ہوتا ہے وہ کیا جانے دبیز قالین کی شان اس کو کہاں پتہ ہوگا شاہی بیڈ کیا ہوتا ہے میں اس وقت اس کمرے کی سیٹنگ اور کمرے میں بچھے قالین تو ایک طرف وہاں لگی پینٹنگز بیڈ کی خوبصورتی جو کسی شہنشاہ کا بیڈ لگ رہا تھا کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔ آپ لوگ بھی کہیں گے کہ کہاں بور کر رہا ہوں اب کہانی کی طرف آتے ہیں۔۔۔ میں کمرے کی خوبصورتی میں اس قدر کھو گیا کہ یہ بھول ہی گیا اس وقت کہاں ہوں ۔۔۔۔ میں کمرے کے درمیان میں کھڑا ہونقوں کی طرح کبھی گھوم کر دائیں دیکھتا تو کبھی بائیں۔۔۔ میں ابھی شاید اور بھی کھویا رہتا میرے کانوں میں آواز آئی بس یا ابھی کچھ رہتا ہے جس کو دیکھنا باقی ہے۔۔۔ میں نے چونک کر آواز کی سمت دیکھا پھر دیکھتا ہی رہ گیا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا آنکھیں چندھیا گئیں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی سانس لینا بھول گیا۔۔۔۔ اک پرشباب جسم ایک حسین چہرہ گلبدن نازنین میرے پاس الفاظ نہیں جو اس حسن کی مورت کے لیے استعمال کر سکوں۔۔۔ اس وقت پاکستانی پنجابی فلم انڈسٹری میں سب سے خوبصورت اداکارہ جو مجھے پسند تھی وہ اداکارہ نور تھی۔۔۔۔ اگر اس وقت وہ بھی سامنے ہوتی تو میں اسے گھاس نہ ڈالتا اتنا حسین چہرہ آنکھوں میں کاجل لگائے لبوں پر کپ سٹک سینے دوپٹہ غائب گلے میں نہ تھا۔۔۔ سینہ کے نشیب و فراز ادارہ صائمہ کے جیسے تھے بال لمبے جو اس نے ایک سائڈ پر آگے کو ڈالے ہوئے تھے۔۔۔۔ کھکا گلا جس میں سے جھانکتے اس ابھار اپنی قید سے رہائی کی دوہائی دے رہے تھے۔۔۔ میں بت بنا کھڑا اس حسن کی مورت کو تک رہا تھا میرا گلا خشک ہو گیا تھا دماغ کی نسیں نارمل ہونے لگیں ۔۔۔ میں جو کسی پری کے خیال سے سہم گیا تھا چہرے پر نظر پڑی غور کیا تو سمجھ آئی یہ کوئی پری نہیں لیکن پری پیکر حسینہ ہے۔۔۔۔ میرا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کی خوبصورتی کو اپنے اندر اتار لوں۔۔۔ مجھے کھویا دیکھا کر پھر بولی اب بس بھی کرو یا مجھے نظر لگانی ہے ۔۔۔ میں شرمندہ سا ہو گیا لیکن اس کے حسن کی تعریف نہ کرتا تو رستہ جلدی کیسی کھلتا ۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ تیرے حسن کی تعریف کیا کروں۔۔ تیرے حسن می تعریف کیا کروں۔۔۔ حسن کا شاہکار ہو تم۔۔ تیرا حسن میری جان تیرا حسن میری روح میری آنکھ کا نور ہو تم۔۔۔ تیر ےحسن کی کیا تعریف کروں۔۔۔ تیرے جسم کی خوشبو تیرے بدن کی نازکی گلاب کا پھول ہو تم تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔ تیرا بدن چمکتا موتی تیری آنکھ کی روشنی چاند کا ٹکڑا ہو تم تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔ تیرے لبوں کی لالگی تیرے سینے کی ابھارگی میری روح کی غذا ہو تم تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔۔ تیرے گیسوؤں کی لمبائی تیری گردن کی بنائی دہکتی ہوئی آگ ہو تم تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔۔ مجھے پتہ نہیں کیا ہوا کہ میری زبان سے نکلنے والے یہ الفاظ فل بدیح تھے کیسے نکلے کیوں آئے یاد نہیں یاد تھا تو صرف یہ کہ یہ الفاظ کس کےلیے آئے صرف یہ یاد تھا کس کے لیے ادا ہوئے ۔۔۔۔ میرے منہ سے اور نکلتے چلے جاتے اگر اس ماہ رح ماہ پروین کا مکھن جیسا ملائم ہاتھ میرے منہ پر نہ آتا۔۔۔ اس کے لب ہلے پھول کی پتیوں کی طرح الفاظ نکلے بس کر جاو اتنی تعریف ۔۔۔۔۔۔۔ شاید وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھی میں نے اس کے منہ پر انگلی رکھ دی وہ چپ ہوئی میں نے کہا۔۔۔ آپ کی خوبصورتی کا میں دیوانہ ہو گیا ہوں آپ کا فگر آپ کے لب کیا بتاؤں میری جان نکال رہے ہیں ۔۔۔ لبوں کی نزاکت مجھے چوسنے کی دعوت دے رہے ہیں آپ کے یہ لمبے سیاہ بال کسی حسین پری کو بھی مات دیتے ہیں۔۔۔ میں تو آپ کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا تھا آپ اس جہاں کی تو لگتی ہی نہیں ۔۔ آپ تو پرستان کی پریوں کی سردار لگتی ہیں۔۔۔۔ آپ پر یہ دل فدا ہو گیا عاشق تو پہلے ہی تھا اب پاگل دیوانہ بھی ہو گیا ہے۔۔۔ وہ شرمانے لگی میں نے کچھ مزید پتے پھینکنے کا سوچا اور بولا ۔۔۔ آپ کسی سولہ سال کی کم سن حسینہ سے کسی طور کم نہیں اپ کی خوبصورت آواز ہر سو ترنم پھیلاتی ہے۔۔۔۔ وہ جھکی اور میرا ہاتھ اپنے لبوں سے ہٹایا اور اپنے لب میرے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔ کچھ دیر چوسنے کے بعد پیچھے ہوئی ایسا لگ رہا تھا جیسے کئی میل کا سفر پیدل طے کر کے آیا ہوں۔۔۔۔ اس کا سینہ بھی دھونکنی کی طرح اتھل پتھل ہو رہا ٹھا۔۔۔ میرے لب ہلے۔۔۔ سینہ ان کا کمال ہے ابھار اس کے لاجواب ہیں سینے کے موتی کی قسمت ہائے شباب پر ایک شباب ہے۔۔۔ وہ بے قابو ہونے لگی اس کی بے تابی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں ۔۔۔ اس نے مجھے دھکا دیا بیڈ پر گرایا خود اوپر آئی۔۔۔۔ میرے منہ ہونٹ گال غرض ہر جگہ چومنے لگی۔۔۔ اس کا آدھا جسم میرے اوپر تھا اس کے ممے میرے سینے میں مرہم کا کام کر رہے تھے ۔۔۔ یہ میرے الفاظ کا نتیجہ تھا کہ مجھے کچھ بھی نہ کہنا پڑا اس کو بھی کچھ سوچنے می ضرورت نہ ہوئی سب کچھ شروع ہو گیا اب انتہا کیسے ہونی ہے میں یہ سوچنے لگا۔۔۔۔ اس کے بڑے بڑے ممے مجھے سکون دے رہے تھے مزے ہی مزے کی لہریں نکل دہی تھیں۔۔۔ میں نے ہاتھ نیچے سے نکالا اس کی کمر ہر رکھا اور پھیرنے لگا۔۔۔ وہ دیوانہ وار مجھے چومنے لگی ہونٹوں سے انصاف کرنے کے بعد وہ میری گردن پر ٹوٹ پڑی گردن کو چومنے لگی۔۔۔ کان کی لو کو منہ میں لےکر چوسا ایک کان پھر دوسرے کان کی ۔۔۔ میرا ببر شیر نیچے سے اپنا سر اس کی ٹانگوں سے ٹکرانے لگا۔۔ حالانکہ میں انڈر وئیر بھی پہنا تھا ۔۔۔۔ پھر بھی اس کو بھی لن کی دستک کا پتہ چل چکا تھا ۔۔۔۔ جلدی سے وہ اوپر اٹھی اور میرے کپڑے اتارنے لگی ۔۔۔۔ میں جب انڈر وئیر میں رہ گیا تو اس نے مجھے کہا۔۔۔۔۔
  12. لگتا ہے آپ شدید پیاسے رہے ہیں اس لیے یہ لگ رہا ہے ۔۔۔ جب کسی کا چک پے جاندا اے تاں بس فیر ناں پچھو کتھے کتھے پیندا ۔۔
  13. کہانی اچ بڑے کردار نیں جناں دا ہالے نام ہی سسپنس اچ اے کئی تے اک واری ای آئے نے تے غائب ہو گئے لگدا اے پر اوہنا دا کی کردار اے آ آن والا وقت فیصلہ کرو گا کہ کی ہوندا کون ہوندا اے یا ہوندی اے بڑا آسان اے جناب فرید ٹاؤن ںس شیر تسی لبھ کو۔۔
  14. آپ کی تعریف کا بے حد شکریہ ۔۔ آپ روزانہ کی بنیاد پر اپڈیٹ کا کہا تو میرے بھائی کہانی جب لکھنے بیٹھتے ہیں تو تین گھنٹے میں بامشکل کچھ لکھ پاتے ہیں پھر بندہ قبیل دار بھی ہے بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے تو جو وقت میسر آتا ہے اس میں لکھ لیتا ہوں اور آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں ۔۔
  15. Update میرے لن کا فائر ضائع گیا۔۔۔۔ جب میں نے گھسا مارا اسی وقت صنم یکدم آگے کو ہو گئی اور لن اپنا سا منہ کے کر رہ گیا۔۔۔۔ صنم نے اپنے ممے میرے منہ کے عین اوپر کر لیے اس کے لٹکتے ممے ان پر اس کے نپل پکے انگور کی طرح چمک رہے تھے۔۔۔ میں نے اپنا منہ کھولا اور گردن کو اثھا کر دائیں ممے کا نپل اپنے لبون میں لے کر کھینچا ۔۔۔۔ صنم نے جلدی سے اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر مما پکڑ لیا اور میرے اوپر گرنے والے انداز میں آ گئی جس سے مما میرے منہ کے اوپر آ گیا ۔۔۔۔ نرم وملائم مما مولٹی فوم جیسا تھا اس میں میرا منہ دھنس گیا۔۔۔ وہ ایک بار پھر اوپر ہوئی جس سے اس کا نپل میرے منہ سے نکل گیا ۔۔۔ اس نے اپنی زبان نکالی میری گردن پر پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف جانے لگی۔۔۔ چومتی جاتی زبان پھیرتی جاتی نیچے کی طرف اپنا سفر جاری رکھا ۔۔۔ اب کی بار وہ میرے ساتھ بائیں طرف گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھی ۔۔۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کی گانڈ پر رکھا اور پھیرنے لگا۔۔ اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور پھر زبان کا جادو جگاتے ہوئے ناف تک جا پہنچی۔۔۔ ساتھ ہی اس نے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اچھی طرح اس کی لمبائی موٹائی ماپنے لگی۔۔۔۔ اس کے ممے لہرا رہے تھے اس کی زبان میرے جسم پر چل رہی تھی ۔۔۔ ناف کے اردگر گرد جب اس نے اپنی زبان پھیری میرا جسم کانپ کر رہ گیا ۔۔۔۔ ایسا مزہ میں نے اج تک کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔ اس کا ہاتھ میرے لن پر اوپر نیچے ہو رہا تھا اس کی زبان میری ناف کے کناروں پر چل رہی تھی۔۔۔ یہ حملے میرے لیے جان لیوا تھے اگر میں سانس نہ روکتا تو آج چودنے سے پہلے ہی لں سے فوارا پھوٹ پڑنا تھا۔۔۔۔ بہت مشکل سے خود کو سنبھال رہا تھا اچھی طرح ناف کے اردگرد جی جگہ کو تر کرنے کے بعد اس نے اپنی زبان کو اور نیچے کھسکایا اور لن پر پہنچ گئی۔۔۔۔۔ اب اس نے اپنی گانڈ کا رخ میری طرف کیا اور میرےپیٹ پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔۔۔۔ اپنی زبان لن کی جڑوں میں پھیرنے لگی لن کو ہاتھ سے دائیں بائیں گھماتی جاتی اور زبان سے چاٹتی جاتی۔۔۔۔ دوسرا ہاتھ اس نے میرے ٹٹوں پر رکھ اور گولیوں سے کھیلنے لگی اور گردن گھما کر میری طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔ پھر یکدم اس نے لن کو ایک سائیڈ پر کیا اور گوٹیوں کو منہ میں پھر کیا آہ اہ اففف کیا مزہ تھا ۔۔۔ اس کے ملائم لب اور زبان کا کھردرا پن جب ٹٹوں پر زبان لگی تو میرا ٹٹے سچ میں شاٹ ہو گئے ۔۔۔ آج مجھے اس کہاوت کی سمجھ ائی جس میں کہتے ہیں کہ ٹٹے شاٹ ہوگئے کیسے شاٹ ہوتے وہ مجھے آج حقیقی معنوں میں سمجھ آئی۔۔۔۔ ٹٹوں کو چوپنے لگی لولی پوپ کی طرح جب گول گول منہ کو ٹٹوں کی گولیوں کو گھماتی تو میری منی لن کی طرف جانے کو بے چین ہو جاتی ۔۔۔۔۔ میں خود پر قابو پایا اور سانس روکی اور اس کی گانڈ کی طرف دھیان دیا ۔۔۔۔ گانڈ کی پھاڑیوں کے نیچے اس کی ابھری ہوئی دو موٹی موٹی پتیوں کی صورت میں پھدی نظر ائی۔۔۔۔ اس کی پھدی کو دیکھتے ہی میں اپنا ہاتھ اگے بڑھایا اور پھدی کے لبوں کو کھول کر پھدی کا معائنہ کیا۔۔۔۔ اندر لال گلابی پھول کی طرح کھلتی پھدی دیکھ کر میرے منہ میں پانی آگیا ۔۔۔۔ اپنے ہونٹ پر زبان پھیری اور ہونٹوں کو جو خشک ہو چکے تھے ان کو تر کیا۔۔۔ پھر اپنا منہ گردن کو تھوڑا اٹھا کر اس کی پھدی میں گھسا دیا ۔۔۔۔ پھدی کی مہک میرے اندر اتری تو کچھ سکون ملا ۔۔۔ میں نے منہ پھدی میں گھسا یا اس نے لن کی ٹوپی پر زبان پھیر کر مجھے شاباش دی۔۔۔ بس پھر کھیل شروع ہو گیا میں نے ہونٹوں سے پھدی کے ہونٹوں کو کھینچنا شروع کر دیا اس نے زبان سے لن کی ٹوپی کو چاٹنا۔۔۔۔ وہ لن کو پوری طرح اوپر سے نیچے تک چاٹتی جاتی پھر ٹوپی کو منہ میں لے چوپالگاتی اور دوبارہ زبان اوپر سے نیچے پھیرتی۔۔۔ میں نے بھی اپنی زبان اس کی پھدی میں داخل کر دی زبان کے داخل ہوتے ہی اس نے پھدی کو کس لیا۔۔۔۔ اور لن کو منہ میں بھر لیا اور چوسنے لگی۔۔۔ اب وہ مسلسل لن کو چوسنے لگی جتنا منہ میں جاسکتا تھا لے رہی تھی ۔۔۔۔ اور میں اس کی پھدی کا رس پی رہا تھا اس کی پھدی پھڑپھڑا رہی جو اس کے فک گرم ہونے کی علامت تھی۔۔۔ میں اپنی سپیڈ تیز کر دی اس کی سپیڈ بھی ساتھ ہی تیز ہو گئی ۔۔۔ کوئی 5 منٹ اس طرح 69 کی پوزیشن میں رہنے کے بعد اس کے جسم نے جھٹکے کھائے ۔۔۔۔ اگر میں بر وقت پیچھے نہ ہوتا تو میرا منہ اس کی منی سے بھر جانا تھا۔۔۔ اس نے جوش میں سارا لن منہ میں لے لیا میں نے بھی نیچے سے گھسا مار دیا ۔۔۔۔ لن اس کے گلے تک پہنچ گیا ادھر اس نے پانی چھوڑا ادھر اس کو کھانسی آئی ۔۔۔ جلدی سے لن کو منہ سے نکال کر وہ ایک سائڈ پر گر گئی اور سانس بحال کرنے لگی۔۔۔ میں اس کی طرف منہ کر کے بولا سچ میں صنم تم بہت کمال ہو ۔۔۔۔ وہ اکھڑی سانس اور کھانستے ہوئے بولی ابھی تو بہت کچھ باقی ہے میرے راجہ۔۔۔ میں بھی اب اور دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے اس کی ٹانگیں پکڑیں اور کھول کر ان کے بیچ میں آگیا لن کو پھدی پر سیٹ کیا اور اس کی انکھوں میں دیکھا اس نے ہاں کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ ایک جاندار گھسا مارا لن شڑڑڑپ کی اواز کے ساتھ پھدی کی گہرائی میں اتر گیا۔۔۔۔ اگر وہ اپنے منہ پر ہاتھ نہ رکھتی تو اس کی چیخ بہت دور تک جانی تھی۔۔۔ اس نے منہ سے ہاتھ ہٹایا اور بولی بندیاں تراں نہیں کر سکدا تو ۔۔۔ میں نے اس کی ٹانگوں کو اس کے مموں سے لگایا اور ہونٹ اس کے لبوں پر رکھ پھر لن کو ٹوپی تک باہر نکالا اور اسی رفتار سے اندر گھسا دیا ۔۔۔۔ اس کے بعد تو پھدی پر تابڑ توڑ گھسے مارنے شروع کر دئیے ۔۔۔۔ اس نے اپنے بازوں میری کمر کے گرد لپیٹ لیے اور گھسے برداشت کرنے لگی۔۔۔۔ گھسوں کی رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے میں اس پوزیشن میں جلد ہی تھک گیا۔۔۔ اس لیے میں نے اس کی ٹانگوں کو چھوڑا اور ایک ٹانگ اٹھا لی دوسری کو لمبا کر دیا ۔۔۔ ایک ٹانگ پکڑ کر پھر اے گھسے مارنے لگا اس کے مموں میں بھونچال آگیا وہ اچھل اچھل کر اپنی بے تابی کی دوہائی دے رہے تھے۔۔۔ اس کی درد بھری آہیں ختم ہو گئیں اور اب مزے کی سسکیوں میں بدل گئیں تھیں۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اس نے باقاعدہ مجھے زور سے کرنے کے لیے اکسانا شروع کر دیا۔۔۔ بلوووو آہہہہہہ آہہہہ اففففف او ہوووو رررر زوررررر نااااللللل کر آہ ایتھے مار اہہہ آہہہ ۔۔۔۔ میں میرے منہ سے بھی بے ربط آوازیں نکلنے لگ گئیں۔۔۔ اتنی دیر کی خواری کی وجہ سے اب مجھ سے بھی اور روکا نہ گیا۔۔۔ چند ہی منٹ اور گھسے مارنے کے بعد جیسے ہی اس کی پھدی نے میرے لن پر اپنی گرفت کسی میرے لن میں بھی منی بھرنا شروع ہوگئی۔۔۔ پھدی کے سارے مسام لن کے گرد کس گئے میں نے آخری زوردار گھسے مارے اس کی پھدی نے پانی کی برسات جیسے ہی لن پر کی لن نے بھی پھدی کی گرماہٹ کے سامنے ہتھیار پھینک دئیے اور میں اس کے اوپر گرتا گیا۔۔۔ لن سے پانی کا فوارہ نکل کر اس کی پھدی کو بھرنے لگا۔۔۔ میں اس کے اوپر لیٹا فارغ ہو رہا تھا اس نے مجھے اپنی باہوں میں کسا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ بہت جذبات سے میرے منہ کو چومنے لگی۔۔۔ کبھی آنکھوں کو چومتی کبھی پیشانی کص کبھی گال چومتی کبھی لبوں پر پاری کرتی۔۔۔ جب دو جسموں کی گرمی ایک دوسرے کے اعضائے تناسل میں اتار لی تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ہن بتا تینوں مزہ ایا کہ نہیں ۔۔۔ میں نے ہمممم کیا۔۔۔ اس نے میری پیٹھ پر ہلکا سا تھپڑ مارا اور بولی گونگا ہو گیا ایں منہ اچ زبان ہے نا اس سے بول یہ کیا مج کی طرح ہممم لگا رکھی ہے۔۔۔ میں مسکرایا اور بولا مج نہیں کٹا ہوں تمہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ مج کا لن نہیں ہوتا۔۔۔ اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور بولی گندا کتنی گندی باتیں کرتا ہے۔۔۔ ہم ایک دوسرے سے اٹکھیلیاں کرنے لگے میں نے اس کے ممے دبایا اس نے آںکھیں مٹکائیں اور بیٹھ کر میرا لن پکڑ کر کھینچا جو اب مردہ ہو چکا تھا۔۔۔۔ مردہ سے مراد یہ نہیں کہ ختم ہو چکا تھا بلکہ سو گیا تھا۔۔۔ اس نے لن کو پکڑا اور میری طرف دیکھتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی آہا یہ اتنا سا ہو گیا۔۔۔۔ پھر بولی دیکھا اس کی اکڑ کیسے ختم کی میں نے ۔۔۔۔ میں نے کہا ہاں جی تمہاری پھدی نے بیچارے کا سارا خون نچوڑ لیا۔۔۔ اس نے آںکھیں نکالتے ہوئے کہا تیوں چنگی گل نیں آندی۔۔۔ میں نے کہا پھدی کو پھدی نہ کہوں تو کیا کہوں اب اگر ان کو ان کے ناموں سے نہیں بلائیں گے تو کیا کہیں گے۔۔۔۔ اس نے اپنے کپڑے اٹھائے اور پہننے لگی ۔۔۔ میں نے اس کی دیکھا دیکھی اپنی شلوار اٹھائی اور بیٹھے بیٹھے ٹانگیں سیدھی کیں اور شلوار پہن لی۔۔۔۔ وہ کپڑے پہن کر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی میں تمہیں بہت سیدھا سمجھتی تھی لیکن تم بہت کمینے ہو اتنی گندی باتیں کرتے ہو ۔۔۔ میں نے دانت نکالتے ہوئے کہا شکریہ جو تم نے اتنی تعریف کی۔۔۔ اس نے ایک مکا گھما کر میرے کندھے پر مارا ۔۔۔۔ میں نے ایسا ری ایکشن دیا جیسے بہت درد ہوئی ہو کندھے پر ہاتھ رکھ کر دوہرا ہو گیا۔۔۔ وہ بہت تیز تھی میرے ایک اور مارتے ہوئے بولی زیادہ ڈرامے نہ کر نیہں تاں منہ توڑ دیا گی تیرا۔۔۔ میں سیدھا ہو گیا اور کہا کتنی ظالم ہو یار تم ۔۔ مجھ معصوم پر کتنا ظلم کر رہی ہو۔۔۔ اس نے اوہو کرتے ہوئے کہا معصوم اور تو توبہ توبہ اگر تمہارے جیسے ایک دو اور ہو جائیں ہمارے گاؤں میں تو لڑکیاں تو لڑکیاں عورتیں بھی نہ بچیں سب کی مار لیں۔۔۔ میں نے معصوم منہ بناتے ہوئے کہا توبہ ہے یار کتنے بڑے الزام لگا رہی ہو اب ایسا بھی نہیں ہوں میں۔۔۔ اس نے کہا سب جانتی ہوں تمہارے بارے میں تم کتنے معصوم ہوں اگر ہماری ماؤں کو پتہ چل گیا نہ تمہارا تو جب تم گاؤں آ یا کرو گے تو ہمارے اوپر گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دیا کریں۔۔۔ میں نے کانوں کو ہاتھ لگائے کتنی لمبی لمبی چھوڑتی ہو لیکن دل میں ڈر گیا کہ کیا سچ میں میرا نام ایسا ہو گیا ہے۔۔۔۔ اس نے کہا ابھی تک یہ بات ہم لڑکیوں کے درمیان ہے اس لیے تم بچے ہوئے ہو ورنہ ۔۔۔۔ اس نے ہاتھ لہرایا میرا خون خشک ہو رہا تھا اس کی باتیں سن کر سالی کو پتہ نہیں کیا پتہ تھا۔۔۔ میں نے کہا چل جا یار تیری مار لی تو یہ سمجھنے لگ گئی ہو کہ میں ہر ایک کی مارتا پھر رہا ہوں۔۔۔ تمہاری بھی اس لیے ماری کہ اس دن تم نے میرے ساتھ زیادتی کی تھی ۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے بولی کتنے معصوم بن رہے ہو میرے شاتھ ژیادتی کی شدقے یاواں شوہنے تے کنا معشوم اے ۔۔۔۔ تو کہیڑا اوس دن مزا نیں لیا اور جیسے اس دن میری ہی ماری تھی تم نے مجھے سب پتہ ہے تم کہاں سے آ رہے تھے اور کس کی مار کر آئے تھے۔۔۔۔ میرے پا س کوئی جواب نہیں تھا ابھی میں جواب سوچ ہی رہا تھا کہ کومل کی آواز آئی نییی جلدی آ تیری امی ا گئی اے۔۔۔ صنم نے مجھے کہا تم ادھر ہی بیٹھے رہو جب تک یقین نہ ہو جائے کہ امی چلی گئی ہیں باہر نہ نکلنا۔۔۔ اور وہ اپنے کپڑے درست کرتی چلی گئی میں بیٹھا کچھ دیر اس کی باتوں ہر غور کرتا رہا پھر آہستہ آہستہ بیٹھے بیٹھے دوسری سمت جانے لگا۔۔۔۔ تھوڑا آگے جا کر کھیت سے نکل گیا سامنے کھالا تھا جو خشک تھا میں اس میں اتر گیا ۔۔۔ سب بھائی جانتے ہیں کہ کھالے زمین کے اندر کھیت سے کچھ گہرے ہوتے ہیں اور جو نہری پانی والا ہوتا ہے وہ کچھ زیادہ ہی گہرائی میں ہوتا ہے یہ بھی کافی گہرا تھا کہ اگر میں اس میں اس میں کھڑا ہو کر چلتا تو بھی باہر سے نظر نہیں آ سکتا تھا۔۔۔ میں کھالے میں چلتا ہوا کافی آگے نکل گیا اور اپنا رخ ٹیوب ویل کی طرف کیا اور ٹیوب ویل پر چلا گیا۔۔۔ وہاں جا کر کپڑوں سمیت ہی نہانے لگا نہانے کے بعد وہاں اپنے کزن کے پاس بیٹھ کر کچھ دیر گپ شپ لگائی اور واپس گاؤں کی طرف آنے لگا۔۔۔ رستے میں ہمارے ٹیوب ویل سے تھوڑے فاصلے پر ایک ڈھاری تھی جس کو کچھ لوگ چاہ بھی کہتے ہیں باقی زبانوں میں کچھ اور کہا جاتا ہوگا ۔۔۔ چاہ اصل میں کھوہ کو کہتے ہیں ہمارے گاؤں کے کچھ لوگ اپنے کھیتوں میں ہی گھر بنا کر رہتے تھے اس وقت تو کچھ گھر ہی رہتے تھے اب تو تو تقریبآ آدھے سے زیادہ گاوں باہر نکل گیا ہے۔۔۔ خیر اس کھوہ کے پاس سے گزر کر جب میں اگے گیا تو مجھے ایک کماد کے کھیت میں ہل چل محسوس ہوئی ۔۔۔۔ میں رک گیا کیونکہ گرمی کے موسم میں اکثر سانپ وغیرہ نکل اتے تھے یا کماد کی فصل کو خراب کرنے کے لیے ثور آ جاتے تھے جس کو ہمارے ہاں باہرلا کہتے ہیں ۔۔۔۔ جب غور کیا تو کچھ اور ہی سین محسوس ہوا جیسے کوئی مسلسل ایک ردھم سے ہل رہا ہو۔۔۔ میں نے بلا سوچے سمجھے اندر جانے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔ میں اندر گھس گیا سنبھل سنبھل کر یا یہ کہ لیں پھونک پھونک کر قدم بڑھاتے ہوئے گیا تاکہ میرے اندر آنے کا کسی کو پتہ نہ چلے۔۔۔ ابھی کوئی پانچ قدم ہی اندر گیا تھا کہ مجھے ایک لڑکے کے پیٹھ نظر آئی جو زور زور سے گھسے لگا رہا تھا ۔۔۔۔ تھوڑا جھک کر دیکھا تو نیچے مجھے رنگین کپڑے نظر آئے مطلب کہ بازو تھے جو اگے کو جھک کر نیچے زمین پر لگے ہوئے تھے۔۔۔ لڑکے کو میں نے پہچان لیا تھا میں نے آگے جانے کا فیصلہ کیا ابھی ایک قدم بڑھایا تھا کہ اس لڑکے گردن گھما کر پیچھے دیکھا ۔۔۔ اس نے مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا دونوں کی نظریں ملیں اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اس نے آ نکھوں سے اشارہ کیا آجا۔۔۔۔ میں نے اسی طرح اشارے سے پوچھا کون یے ۔۔ اس نے تھوڑا ایک طرف ہو کر مجھے اس کی گانڈ دکھائی گوری چٹی گانڈ اففف دیکھ کر ہی لن اکڑ گیا۔۔۔ آپ لوگ کیا سمجھ رہے ہیں وہ کون تھا ۔۔۔ ہاں جی وہ میرا کزن میر ایار فجا تھا جو سارا دن بس پھدیوں کے چکر میں ہی رہتا تھا ۔۔۔۔ اس کا لن گوری گانڈ والی لڑکی کی پھدی میں جا رہا تھا سپیڈ سے گھسے مار رہا تھا ۔۔۔ میں ایک قدم اگے بڑھا اس نے مجھے دوسری طرف سے انے کا اشارہ کیا میں اس کے اشارے کی سمت دیکھا تو وہاں رستہ صاف تھا میں ادھر ہوا فجے نے اس لڑکی کے بال پکڑ کر پیچھے کق کھینچ لیے جس سے اس کا دھیان کہیں اور نہ گیا اور میں فجے کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ فجے نے ایک دو زوردار گھسے مار کر میری طرف دیکھا اور نیچے دیکھتے ہوئے اشارہ کیا اتار لے ہن ۔۔۔ میں سمجھ گیا میں ناڑا کھول کر لن نکال لیا فجے نے لن نکالا اور میں اس کی جگہ لن اس کی پھدی پر سیٹ کیا فجے نے بال چھوڑ دئیے۔۔۔۔ وہ پیچھے کھسکا میں نے گھسا مارا لن کی ٹوپی ہی اندر گئی وہ لڑکی تڑپی آہہہ فجے آرام نال ۔۔۔۔ میں نے فجے کی طرف مڑ کر دیکھا وہ میرے کندھے پر منہ کر بولا ہن برداشت کر تینوں میرا پتہ اے ناں ۔۔۔ فجے اگے ہو کر میرا لن دیکھا اور اس کی انکھوں میں حیرت پھیل گئی۔۔۔ لیکن میں اس کی حیرت کو لن کہ ٹوپی پر رکھا اور پھر ایک زوردار گھسنے مارنے سے پہلے اگے جھک کر اس لڑکی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔ پوری طاقت سے گھسا مارا اور لن آدھے سے زیادہ اندر گھس گیا۔۔۔ میرا لن فجے سے بہت بڑا تھا فجے کا لن پتلا سا تھا جبکہ میرا لن اس سے تین گنا موٹا تھا اس لیے اس کی پھدی میں میں پھنس گیا تھا۔۔۔ اس لڑکی کی ٹانگیں کانپنے لگ گئیں اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش کی لیکن میرے ہاتھ کی گرفت نے اس کو یہ موقع نہ دیا۔۔۔ میں ایک بار پھر لن کو ٹوپی تک باہر نکالا اور اپنی گانڈ کی مدد سے ایک جاندار گھسا مارا لن اس کی پھدی کی گہرائی میں اپنی تمام موٹائی اور لمبائی سمیت گھس گیا ۔۔۔ دوسری طرف وہ لڑکی نیچے بیٹھتی گئی میں بھی اس کے اوپر لیٹتا گیا ۔۔۔ پھر بغیر رکے گھسے مارنے لگا بہت تیز تیز گھسے مارنے شروع کر دئیے فجے نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ مجھے آرام سے کرنے کا اشارہ کیا۔۔۔ لیکن میں نے کوئی ردعمل نہ دیا اگر میرا ہاتھ اس لڑکی کے منہ پر نہ ہوتا تو اب تک پورا گاؤں وہاں ا چکا ہوتا جتنا وہ تڑپ رہی تھی مچل رہی تھی۔۔۔ جھکنے سے تو لن کی رگڑ کم لگتی ہے لیکن جس طرح وہ گری ہوئی تھی گانڈ کے نیچے اے جب لن پھدی میں جاتا ہے تو بہت زیادہ رگڑ لگاتا ہے ۔۔۔ ادھر سے تو ان کو بھی بہت رگڑ لگتی ہے جو بہت ذیادہ چدوا چکی ہوں جبکہ مجھے تو یہ اتنی زیادہ چدی ہوئی نہیں لگی تھی۔۔۔ میں نے کوئی دو منٹ مسلسل اسی سپیڈ اے گھسے مارے تھے کہ اس کی جسم کی ہلچل رک گئی میں نے بھی ہاتھ اس کے منہ سے ہٹا دیا ۔۔۔۔ اب لن کو بھی پھدی نے اپنے اندر جگہ دے دی تھی اس لیے قدرے روانی سے جا رہا تھا۔۔۔۔ میں اس کے اوپر لیٹا گھسے لگا رہا تھا اب وہ بھی ساتھ دینے لگی تھی۔۔۔۔ لیکن اس نے ابھی تک میرا چہرہ نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ اس نے مزے سے گانڈ کو پیچھے دھیکیلنا شروع کر دیا۔۔۔ اففف اتنا مزہ کبھی بھی نہیں آیا تھا شاید آج زیادہ مزہ اس لیے آیا تھا کافی عرصہ بعد کوئی ٹائٹ پھدی ملی تھی ۔۔۔ میں نے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے شروع کر دئیے دوسری طرف وہ بھی اپنی گانڈ کو پیچھے دھکیل کر لن کو اندر لے رہی تھی ۔۔۔ مجھے اپنا خون ٹانگوں کی دوڑتا محسوس ہونے لگا اس کی پھدی بھی ٹائٹ ہو گئی لن کو اپنی گرفت لینے لگی ۔۔۔۔ جیسے ہی اس کی پھدی نے پہلا قطرہ بہایا میں لن باہر نکالا اور گانڈ کی دراڈ میں رکھ کر گھسا مارا ۔۔۔۔ اففففف لن پھسل کر اندر گھس گیا اندازے سے گانڈ کے سوراخ کا نشانہ لیا جو کہ سیدھا بیٹھا۔۔۔۔ لن آدھے سے زیادہ گانڈ میں اتر گیا اس کا جسم کانپ کر رہ گیا اس کی چیخ نیچے زمین میں دب گئی۔۔۔۔ کچھ پسینے کی وجہ سے اور کچھ اس کی پھدی کے پانی سے گیلا لن آسانی سے گانڈ میں گھس گیا ۔۔۔۔ اس کی گانڈ بھی مجھے پھدی سے کھلی تھی پتہ نہیں وہ کس سے مرواتی رہی تھی فجا تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔۔۔ جیسے ہی لن آدھے سے زیادہ اندر گیا لن کی اکلوتی آنکھ نے اپنے آنسو بہانا شروع کر دئیے ۔۔۔۔ ادھر لن آنسو بہا رہا تھا ادھر اس کی رونے کی سسکیاں نکل رہی تھیں۔۔۔ لن نے جب اپنا اخری قطرہ بھی بہا دیا تو میں اس پر سے اٹھا اور گانڈ کو دیکھا جو کافی پھولی ہویی تھی اور اس کی موری بھی کھلی تھی۔۔۔ میں پیچھے ہو کر اپنا ناڑا باندھنے لگا وہ بھی سیدھی ہوئی جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی اس کی چیخ نکل گئی ۔۔۔ میں نے پیچھے دیکھا تو فجا غائب تھا میں نے اگے بڑھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور بولا چپ ہو جاؤ کوئی آگیا تو تمہاری بدنامی ہو گی۔۔۔ وہ چپ تو ہو گیی لیکن اس کی آ نکھوں میں غصہ تھا اس نے مجھے اشارے سے دوسری طرف سے نکلنے کا کہا اتنے میں باہر سے آواز آئی کون اے۔۔۔۔ میں آواز سنتے ہی دوسری طرف نکل پڑا اور کماد کے اندر ہی اندر چلتا ہوا بہت اگے نکل گیا ۔۔۔۔ کوئی ایک ایکڑ بعد ایک پگڈنڈی آئی میں اس پر چل پڑا اور گاؤں آگیا۔۔۔ گاؤں آکر میں گھر آیا اور اپنے کپڑے لیے شہر ساتھ والے گاؤں جانے کے لیے ایک کزن سے سائیکل لی اور چلا گیا۔۔۔ وہاں جانے کا ایک مقصد تو یہ تھا کہ اگر اس لڑکی نے میرا نام لے دیا تو میں وہاں سے ہی نکل جاؤں گا دوسرا وہاں حمام تھا اور دھوبی بھی ہوتا تھا وہاں سے کپڑے استری کروا کر پہن سکتا تھا اور نہا بھی سکتا تھا۔۔۔ میں وہاں گیا اور نہا دھو کر نیا سوٹ پہن کر سائیکل پر بیٹھا گھر واپس آگیا۔۔۔ واپس آ کر فجے کو ڈھونڈا لیکن گھر کے قریب قریب وہ نہ تھا۔۔۔ سب کزنوں سے پوچھا اور پھر دوکان کی طرف گیا رستے میں صنم کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھے چھنو اور صنم دونوں ایک ساتھ صنم کے گھر سے نکلتی ملیں ۔۔۔۔ میں نے ایک نظر صنم پر ڈالی اور پھر چھنو پر صنم نے کوئی ردعمل نہ دیا لیکن چھنو مسکرائی ۔۔۔ میں سر جھکا کر آگے نکل گیا دوکان پر مجھے فجا مل گیا ۔۔۔ فجا کا بازو پکڑا اور اس کو کھینچ کر ایک ظرف لے گیا ۔۔۔ فجا پوچھتا رہا کیا ہوا کیوں اس طرح کھینچ رہا ہے۔۔۔ جب سب سے دور ہو گئے تو میں نے کہا گانڈو تو مجھے وہاں چھوڑ کر بھاگ آیا ۔۔۔ وہ بولا فیر کی ہویا تو پھدی مار لئی نا ہن کی پریشانی۔۔۔ میں نے بہن چود وہاں اس نے چیخ مار دی تھی اور باہر کوئی آ گیا تھا۔۔۔ میں بڑی مشکل اے چھپ کر آیا ہوں وہاں سے۔۔۔ تجھے کچھ نہیں پتہ تو ادھر نہیں تھا۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے بولا سالیا تو کی سمجھنا ایں میں ایویں ای وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔ میں تھوڑا دور ہی تھا جب اس نے چیخ ماری تھی اس کی امی آئی تھی باہر اس نے پوچھا تھاکون اے۔۔۔۔ میں اس کی چیخ سن کر بھاگ کر وہاں آگیا تھا اس سے پہلے کہ کوئی اور اندر جاتا میں سب سے پہلے اندر گیا ۔۔۔۔ جب وہاں گیا تو وہاں وہ اکیلی تھی اس نے مجھے گالیاں دیں جو میرے لیے عام بات ہے۔۔۔ لیکن مجھے جب یہ تسلی ہو گئی کہ تو وہاں نہیں ہے تو سب سیٹ ہو گیا ۔۔۔ اس کو باہر لایا اس نے سب کو بتایا کہ سانپ تھا جس سے ڈر کر میں گر گئی تھی کیونکہ اس کے سارے کپڑے گرد آلود ہق چکے تھے۔۔۔ میں سب کچھ سن کر پر سکون ہو گیا اور ہم کچھ دیر وہاں رکے اور واپس گھر آگئیے ۔۔۔ دوسرے دن جب سب گھر والے بھی جانے کو تیار ہو گئے تو ہم سب شہر واپس آ گئے۔۔۔ شہر آ کر بھی مجھے چھنو اور ناہید سے ناملنے کا دکھ رہا ۔۔۔ لیکن خود کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ کوئی نہ تجھے کون سا ان سے پیار ہے ۔۔۔ تجھے تو پھدی سے غرض ہے جو ایک نہیں دو دو مل گئیں ایک دن میں اتنا بہت ہے۔۔۔ گھر پہنچے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ شانی اور اس کی امی دونوں ا گئیں اور اس کی امی میری امی کے پاس بیٹھ کر ہمارے دادا یعنی کہ میرے ابا کے چاچا کی ڈیتھ کا افسوس کرنے لگی۔۔۔ ابا کے چاچا میرے دادا کے بھایی میرے بھی تو دادا ہی لگتے تھے۔۔۔ وہ کافی دہر بیٹھیں گی یہ سوچ کر میں باہر نکل گیا مارکیٹ جا گیا وہاں سب دوستوں نے محفل جمائی ہوئی تھی سب گپ شپ ہنسی مذاق کر رہے تھے۔۔۔۔ میں بھی ان میں شامل ہو گیا ان سب نے مجھ سے افسوس کا اظہار کیا میں ۔۔۔۔ کا حکم مانا کہہ کر افسردگی کا اظہار کیا۔۔۔ وہ سب چپ ہوگئے تھے کچھ دیر بعد سب نارمل ہو گیا۔۔۔ وہاں کوئی ایک گھنٹہ ضائع کرنے کے بعد میں گھر واپس آگیا۔۔۔ گھر آتے ہی میں اندر گھس کر سو گیا۔۔۔ امی نے مجھے اٹھا کر دودھ پلایا میں دودھ پیتے ہی پھر سو گیا۔۔۔ صبح اپنے وقت پر اٹھا تو جسم ٹوٹ رہا تھا پورے جسم میں درد ہو رہی تھی۔۔۔ پھر بھی اٹھنا تو تھا ہی اسلیے اٹھ کر ضروری حاجات سے فارغ ہو کر میں باہر نکل گیا۔۔۔ لیکن پورا جسم درد کی شدت سے کانپنے لگا زیادہ دور نہیں گیا تھا اس لیے واپس اگیا۔۔۔ گھر آتے آتے میری بس ہو گئی جیسے ہی میں گیٹ سے اندر آیا میری آںکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔۔ بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا اور برآمدے تک آیا وہاں چارپائی کے اوپر بیٹھنے کی کوشش میں گر گیا پھر دماغ ماؤف ہوتا چلا گیا ۔۔۔ میرے ہوش سے بیگانہ ہونے کے بعد جو کچھ مجھے بعد میں پتہ چلا وہ بتاتا ہوں۔۔۔ میں چارپائی پر گرتے ہی بے ہوش ہو گیا امی اس وقت کچن سے باہر آ رہیں تھیں اور باجی برآمدے میں ہی بیٹھی تھیں۔۔۔ مجھے گرتا دیکھ کر باجی نے چیخ ماری امی کے ہاتھ میں چائے کے کپ تھے جو ابا جی کو دینے ان کے کمرے میں جا رہیں تھیں۔۔۔ امی نے کپ نیچے گرائے اور بھاگ کر میرے پاس آ گئیں۔۔۔ باجی بھی اٹھ کر میرے پاس آئیں اور میرے ہاتھ پیر مسلنے لگیں منہ پر پانی کے چھینٹے مارے لیکن کچھ فرق نہ پڑا ۔۔۔ امی اور باجی کی آواز سن کر ابا جی اور بھا ہاشم بھی اندر سے نکل آئے۔۔۔ بھاہاشم کو ابا جی نے کہا جاؤ ڈاکٹر کو بلا کر لاؤ۔۔۔ ہمارے ٹاؤن میں ایک ڈاکٹر رہتا تھا جو قریب ہی تھا بھا اس کو بلا لائے۔۔۔ اس نے چیک کیا نبض وغیرہ بھی چیک کیا اور کہا کچھ نہیں ہوا بس ایسے ہی چکر وغیرہ آگیا کوئی مسئلہ تو نہیں ہے پھر بھی چیک کروا لینا ایک بار کچھ ٹیسٹ لکھ کر دئیے کروانے کے لیے اور کہا یہ ابھی ہوش میں آجائے گا۔۔۔ دوسری طرف شانزل کی امی نے ڈاکٹر کو ہمارے گھر سے نکلتے دیکھا تو وہ بھی آگئی۔۔ پیچھے پیچھے شانزل بھی آ دھمکی اسی طرح ایک دو ہمسائیہ عورتیں اور بھی آ گئیں ۔۔۔ امی اور باجی رونے لگ گئیں تھیں جن کی آواز سے وہ لوگ آئے ۔۔۔ خیر کوئی ایک گھنٹے بعد مجھے ہوش آیا تو اپنے اردگرد اتنے لوگوں کو دیکھ کر پریشان ہوگیا۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔۔۔ میرا سر امی کی گود میں تھا اور وہ سر دبا رہی تھیں باجی بھی ساتھ بیٹھی تھیں۔۔ دوسری عورتیں اور شانزل کی امی شانزل ساتھ والی چارپائیوں پر بیٹھی تھیں۔۔۔ میں نے آنکھیں کھولی تو امی نے میرا ماتھا چوما اور شکر ادا کرنے لگیں۔۔ میں نے جلدی سے اٹھنے کی کوشش کی تو پھر سر چکرانے لگا میں لیٹ گیا۔۔۔ اتنی دیر میں بھا ہاشم بھی آگیا اس کے ہاتھ جوس کے پیکٹ تھے اس نے ایک پیکٹ میں سٹرا لگا کر مجھے دیا میں نے تھوڑا سا اٹھ کر جوس پیا ۔۔۔ جوس پینے سے اندر کچھ حرارت سی آگئی میرے دماغ نے کام کرنا شروع کیا ۔۔ اسی وقت اباجی ڈیوٹی پر جانے کے لیے تیار ہو گئے اور بھا ہاشم بھی تیار ہو گئے۔۔۔ بھا ہاشم نے ہمارے ساتھ والے ایک گاؤں میں پرائیویٹ سکول بنایا ہوا تھا جہاں وہ روز شہر سے جاتے تھے۔۔۔ وہ بھی چلے گئے اور اباجی نے جاتے جاتے امی کو تاکید کی کہ مجھے دودھ میں شہد ملا کر پلائیں اور یخنی بھی دن پلائیں خاص تاکید یہ تھی کہ مجھے گھر سے باہر نہ نکلنے دیں۔۔۔ امی نے جھٹ باجی کو دودھ گرم کر کے اس میں شہد ڈال کر لانے کا کہا ۔۔۔ خیر سارا دن اسی طرح لیٹے گزرا مجھے بھی کچھ آرام کرنے موقع مل گیا۔۔۔ میں کافی سوچتا رہا کہ یہ سب کیسے ہوا جب امی نے پوچھا کہ کل تو نے کیا کھایا تھا تو یاد آیا کہ کل دن میں تو کچھ بھی نہیں کھایا تھا بس دو دو پھدیاں ہی ماری تھیں۔۔۔ پھر یہ بھی یاد آیا کہ شہر آ کر بھی کچھ نہیں کھایا رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔۔۔ مجھے سمجھ آ گئی اور امی کو بھی بتا دیا کل صبح کا ناشتہ کیا ہوا تھا ۔۔۔ امی نے کہا بس پھر اسی وجہ سے تمہیں چکر آیا اور تم گر گئے تھے۔۔۔ خیر کسی نہ کسی طرح وہ دن اور رات گزر گئے ۔۔۔ اگلی صبح تروتازہ اٹھا اور باہر نکل گیا سوچا کیوں نہ آج کہیں آنکھ مٹکا کیا جائے صبح صبح ٹاؤن کی عورتیں خوب اپنی گانڈ مٹکاتی پھر رہی ہوتی تھیں ۔۔۔ میں نکل پڑا آج کافی صحت مند محسوس کر رہا تھا اس کہ وجہ ایک دن میں ملنے والی غذا تھی۔۔۔ میں آج جان بوجھ کر مختلف گلیوں میں گھوم کر نہر والی سائیڈ پر گیا رستے میں کئی آنٹیوں کہ مست گانڈ دیکھی ایک دو کے مموں کے نظارے بھی ہوئے ۔۔۔ کچھ گھروں میں عورتیں خود صبح کے وقت گھر کے سامنے لگے پودوں پر پانی سے چھڑکاؤ کرتی تھیں اس وقت ان کے جسم کا انگ انگ چمک رہا ہوتا تھا۔۔۔ کئی تو فرش دھو رہی ہوتی تھیں اس وقت جو ان لٹکتے غبادے منظر پیش کرتے تھے میںرے جیسے کا لوڑا وہ دیکھ کر ہی پھٹنے والا ہو جاتا تھا۔۔۔ ویسا ہی اس دن بھی ہوا میں آخری گلی میں اسی آس پر گیا کہ کوئی ممے کا نظادہ ہی مل جائے میں جانتا تھا کہ اس وقت اس گلی میں اکثر ایک آنٹی گھر کے باہر پائپ پکڑے کھڑی ہوتی ہیں اور وہ بہت ماڈرن لباس پہنتی تھیں۔۔۔ اکثر ہی وہ بغیر دوپٹے کے ہوتی تھیں ان بڑے بڑے ممے کپڑوں کو پھاڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہوتے تھے۔۔۔ میں جب ان کے سامنے پہنچا تو اپنی آنکھیں جھپکانا بھول گیا ۔۔۔ سفید سوٹ پہنے ہوئے تھی وہ اور پانی سے گیلے کپڑے یہاں تک کہ ان کے ممے بھی صاف نظر آ رہے تھے ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ننگی ہیں میں یہ ہی دھوکا کھا گیا تھا اس لیے تو منہ کھولے آنکھیں پھاڑے ان کو مموں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ میں وہیں رک کر دیکھنے لگا میں اتنا کھو گیا تھا کہ مجھے یہ بھی پتہ نہ چلا کہ اس آنٹی نے مجھے آواز بھی دی ہے۔۔۔ خیر مجھے کندھے سے پکڑ کر ہلانے پر ہوش آیا تو میں نظر گھمائی تو وہ حسن وجمال کی پیکر کھلکھلاتے لبوں سے گویا ہوئی۔۔ کیا ہوا اس طرح کیا دیکھ رہے ہو ۔۔ میں اس کی اور مدھرتا میں کھو گیا ۔۔۔ پھر نہ بولا اتنی سریلی آواز لگتا تھا جیسے کوئی کوئل نغمہ کناں ہو جیسے کسی موسیقار نے کوئی تار چھیڑ دیا ہو۔۔۔ وہ پھر مسکراتے ہوئے گویا ہوئیں کیا ہوا ہے لگتا ہے بہت پسند آگئی ہوں۔۔۔ میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا وہاں شرارت نظر آئی۔۔۔ مجھے کندھے سے ہلا کر بولی ابھی جاؤ تمہارے انکل آفس چلے جائیں تم آنا پھر تم سے بات کروں گی ۔۔۔ میں جانے لگا تو اس نے آواز دی اور ہاں تمہیں خوش کر دوں گی۔۔۔ میں کچھ سمجھی اور کچھ ناسمجھی کی حالت میں وہاں سے چل دیا اور نہر کنارے چلنے لگا ۔۔۔ اپنی واک کا کوٹا پورا کرنے کے لیے آگے نکل گیا جہاں اکثر دل پشوری کرنے جاتا تھا شہر کی حدود سے نکل کر ساتھ ساتھ فصلوں میں لگے ٹیوب ویل پر جہاں اکثر و بیشتر عورتیں اور لڑکیاں نہا بھی رہی ہوتی تھیں اور کپڑے بھی دھو رہی ہوتی تھیں ۔۔ وہاں مجھے کچھ خاص نہ ملا تو واپسی کا رستہ ناپا۔۔۔ ابھی میں ٹاؤن کے پاس نہر سے اتر کر نرسری کے پاس ہی پہنچا تھا کہ مجھے آواز سنائی گل سنیں۔۔۔ میں اپنا وہم امجھا اور آگے بڑھ گیا لیکن ابھی ایک قدم ہی چلا تھا کہ پھر آواز آئی تینوں ای آں گل سن ایدھر آ۔۔۔ میں گردن گھما کر آواز کی سمت دیکھا تو مجھے دائی کی بیٹی نظر آئی جس کی ایک بار پھدی بجا چکا تھا نمکین تھی۔۔ رنگ تو سانولا تھا پر جسم کمال تھا اس کو دیکھ کر لن نے انگڑائی لی ۔۔۔ ایک بات ذہن میں آیا اس آنٹی نے بھی بلایا ہے وہاں جانا ہے لیکن لن صاحب بضد تھے نہ کاکا نہ پھدی ملدی پئی اگر نہ بجائی تو بہت برا ہوگا۔۔۔۔ میں لن کا غلام ٹھہرا سو چل دیا جیسے ہی میں مڑا وہ نرسری میں غائب ہو گئی۔۔۔۔ لیکن میں جانتا تھا کہاں ہو گی چنانچہ میں بغیر ڈرے اس کے پیچھے ہی اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ گیا۔۔۔ جیسے ہی اندر اترا دیکھا تو وہ اپنے کپڑے اتار رہی تھی مجھے دیکھ کر سرگوشی میں بولی جلدی کر ٹیم نیں ہیگا۔۔۔ میں نے بھی ٹراوزر نیچے کیا لن پھنکارتے ہوئے باہر نکل آیا اس نے قمیض اور شلوار دونوں اتار دیں ۔۔۔ اس کے مموں کی اکڑں دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا میں آگے بڑا اور اس کے مموں کو پکڑ لیا اور دبانے لگا ۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ جھٹکے اور لن کو دیکھنے لگی پھر اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اسکا معائینہ کیا ۔۔۔ ساتھ ہی آہستہ سے بولی اے وڈا نیں ہو گیا۔۔ میں نئی او ای اے ۔۔۔ وہ بولی نئی اس دن تاں اے ادا ڈا نیں سی ۔۔ میں تینوں ایویں لگدا اے۔۔۔
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status