Jump to content
URDU FUN CLUB

F khan

Active Members
  • Content Count

    54
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

46

3 Followers

Identity Verification

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

2,878 profile views
  1. قسط نمبر32 صباء شاور کے نیچے ننگی کھڑی تھی اور نہا رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کو آتے دیکھ کر صباء نے شاور بند کر دیا۔۔۔ مولوی صاحب:کیا ہوا۔۔۔مجھے بھی نہانے دو نہ اپنےساتھ۔۔۔ صباء آگے بڑھ کر مولوی صاحب کے سینے پرہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔نہیں نہیں مولوی صاحب۔۔۔آپ اپنے گھر پر جا کے نہالیں۔۔۔یہاں سے نہا کر نکلے تو ایسےہی لوگ غلط باتیں سوچیں گے آپ کے بارے میں اورمیں یہ نہیں چاہتی۔۔۔ مولوی صاحب صباء کے اتناکیئر کرنے پر خوش ہوئے اورصباء کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔۔ صباء مولوی صاحب کے پیٹ سے ہی لپٹی ہوئی تھی اور بالکل کسی چھوٹی سی بچی کی طرح ہی لگ رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کے پیٹ پرسے پھسلتا ہوا صباء کا ہاتھ نیچے کو جانے لگااور پِھر صباء نے مولوی صاحب کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔جوکہ آدھا کھڑا ہوا تھا پہلےسے ہی اور صباء کےآہستہ آہستہ سہلانے سے اوربھی اکڑنے لگا۔۔۔ مولوی صاحب :کیا کر رہی ہو۔۔۔نہ کھڑا کرو اسے پِھر سے۔۔۔ صباء :کیوں جی۔۔۔کیوں نہ کھڑا کروں۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :کھڑا ہوگیا تو پِھر سے مجھے تمہارے اندر ڈالنا پڑے گا۔۔۔ صباء ایک ادا سے مولوی صاحب کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔کیوں ڈالے بنا کنٹرول نہیں ہوتا کیا آپ سے۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :نہیں۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔اور پِھر آگے کو جا کر۔۔۔واش بیسن پر اپنے ہاتھ رکھ کر جھک گئی۔۔۔ لیں ڈالیں پِھر۔۔۔ مولوی صاحب مسکرائے۔۔۔اور آگے بڑھ کر اپنا اکڑا ہوالن اپنے ہاتھ میں پکڑا اوراسے صباء کی گوری گوری گانڈ پر رگڑنے لگے۔۔۔تھوڑا سا نیچے کو بینڈ ہو کر۔۔۔اپنا لن صباء کی چوت میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگے۔۔۔صباء نے اپنی دونوں رانوں کو تھوڑا سا اور کھولا اور اپنا ہاتھ نیچے لے جا کرمولوی صاحب کا لن اپنےہاتھ میں پکڑا اور اس کی ٹوپی کو اپنی چوت کے سوراخ پر رگڑنے لگی۔۔۔ صباء :مولوی صاحب یہ راستہ ہےڈالنے کا۔۔۔لگتا ہے اتنے عرصے میں آپ تو ڈالنے کا رستہ ہی بھول گئے ہیں۔۔۔ صباء کی بات سن کر مولوی صاحب ہنسنے لگے۔۔۔کہتی تو تم ٹھیک ہو۔۔۔اب تو سچ میں ہی راستہ ہی بھول گیا ہوں۔۔۔ یہ کہتے ہوئے مولوی صاحب نے صباء کی کمرکو پکڑتے ہوئے دھکا مارا اوران کا لن پھسلتا ہوا صباء کی چوت میں اُتَر گیا۔۔۔آہ۔۔۔ صباء کے منہ سےسسکیاں نکلیں اور اس نے بھی پیچھے کو تھوڑا زور لگانا شروع کر دیا۔۔۔مولوی صاحب کا لن ایک بارپِھر سے صباء کی چوت میں اُتَر چکا تھااور اب مولوی صاحب آگےپیچھے کو ہوتے ہوئے اپنا لن صباء کی چوت میں اندر باہرکر رہے تھے۔۔۔ایک بار پِھر سے صباء مزےمیں کھو گئی تھی۔۔۔صباء کی پوری کوشش تھی کہ وہ جلد سے جلد مولوی صاحب کو فارغ کر دے۔۔۔دونوں کا دوسری بار کاسیکس سیشن بہت زیادہ لمبانہیں چل سکااور کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب کے لن نے اپنی منی دوسری بار صباء کی چوت میں گرا دی۔۔۔مولوی صاحب باتھ روم سےباہر آئے۔۔۔تو صباء بھی ننگی ہی ان کےپیچھے آگئی۔۔۔باہر آ کر ایک ٹاول اٹھا کراپنے جِسَم کے گرد لپیٹااور مولوی صاحب کو دروازے تک چھوڑنے کے لیےساتھ چل پڑی۔۔۔۔دروازے پر پہنچ کر مولوی صاحب نے صباء کو ایک بارپِھر سے اپنی بانہوں میں لیااور اسے چومنے لگے۔۔۔صباء کو پِھر سے مستی سی ہونے لگی۔۔۔مگر کچھ ہی پل میں صباءنے مولوی صاحب کو پیچھےہٹا دیااور بولی۔۔۔ بس بس اب جائیں آپ۔۔۔ مولوی صاحب صباء کا ہاتھ پکڑ کر بولے۔۔۔اچھا رات کو آؤ گی نہ ہسپتال ۔۔۔؟ ؟ صباء شرارت سے مسکرائی۔۔۔جی نہیں۔۔۔مجھے نہیں آنا۔۔۔آنٹی کی طبیعت ٹھیک ہے اب۔۔۔اِس لیے اب میں نہیں آؤ گی۔۔۔ مولوی صاحب نے اس کاہاتھ پکڑے پکڑےگڑگڑانے والے انداز میں کہا۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ضرور آنا۔۔۔ صباء :نہیں جی۔۔۔مجھے پتہ ہے آپ ساری رات مجھے سونے نہیں دیں گے۔۔۔تنگ کرتے رہیں گے مجھے۔۔۔ مولوی صاحب :صباء آجانا نہ۔۔۔دیکھو ایک آدھ دن میں ہوسکتا ہے کہ تمہاری آنٹی کوچھٹی ہو جائے تو پِھر توپروبلم ہو جائے گی نہ تم سےملنے میں۔۔۔ صباء شرارت سے مسکرا کربولی۔۔۔ہاں تو پِھر کیا ہوا۔۔۔مجھ سے ملنا ضروری ہے کیاآپ کا؟ مولوی صاحب صباء کو اپنی بانہوں میں گھسیٹ کر بولے۔۔۔ہاں بہت ضروری ہے۔۔۔ صباء نے مولوی صاحب کو دروازے کی طرف دھکا دیا اور بولی۔۔۔بس ابھی تو جائیں نہ آپ۔ رات کو دیکھوں گی میں۔۔۔ مولوی صاحب نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئےاور صباء دروازہ بند کرکے مسکراتی ہوئی اپنے کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب باہرنکلے تو نیچے سے میجرصاحب سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اُوپر آ رہے تھے۔۔۔میجر نے مولوی صاحب کوصباء کے فلیٹ سے نکلتےہوئے دیکھ لیا تھا۔۔۔مگر وہ مولوی صاحب کوکچھ کہہ نہیں سکتا تھاکیونکہ ان دونوں گھروں کاایک دوسرے کی طرف آناجانا تھا۔۔۔پِھر بھی میجر مولوی صاحب کے پاس جا کر روک گیا۔۔۔ میجر :مولوی صاحب کیا حال چال ہیں۔۔۔کیسی ہے بھابی جی کی طبیعت اب۔۔۔پتہ چلا تھا کہ وہ ہسپتال میں ہیں۔۔۔ مولوی صاحب جو کہ ایک گناہ کر کے آ رہے تھے۔۔۔تو اسی لیے میجر کواچانک سامنے دیکھ کر تھوڑاگھبرا گئے تھے۔۔۔ان کا لہجہ بھی تھوڑا کمزورلگ رہا تھا۔۔۔جو میجر نے بھی محسوس کر لیا تھا۔۔۔ مولوی صاحب :ہاں ٹھیک ہے اب۔۔۔کافی بہتر ہے۔۔۔آپ سناؤ۔۔۔ میجر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔معنی خیز مسکراہٹ۔۔۔جسے دیکھ کر مولوی صاحب کو تھوڑی گھبرا ٹ ہو رہی تھی۔۔۔ میجر صاحب :سنا ہے۔۔۔اشرف کی گھر والی بھی بڑی خدمت کر رہی ہے آپ کی وائف کی ہسپتال میں۔۔۔ مولوی صاحب گھبرا گئے۔۔۔سیدھے آدمی تھے۔۔۔فوراً ہی وضاحت کرنے لگے۔۔۔ ہاں ہاں۔۔۔وہ۔۔۔وہ فرح بیٹی کی دوست ہےنہ تو اِس لیے بہت خیال رکھ رہی ہے۔۔۔ بہت اچھی بیٹی ہے اشرف صاحب کی وائف بھی۔۔۔ میجر :چلیں جی۔۔۔اچھا ہے جلدی سے ان کی طبیعت ٹھیک ہو۔۔۔ یہ کہہ کر میجر صاحب اپنےفلیٹ کی طرف بڑھ گئے اورمولوی صاحب بھی خدا کاشکر ادا کرتے ہوئے اپنے فلیٹ میں آ گئےاور آتے ہی باتھ روم میں گُھس گئے۔۔۔کچھ دیر پہلے تک کہ صباءکے ساتھ گزرے ہوئے لمحوں کو یاد کرتے ہوئے نہانے لگے۔۔۔دِل تو کر رہا تھا کہ دوبارہ سے جا کر صباء کے ننگےجِسَم پر چڑھ جائیں۔۔۔مگر اب انہیں رات تک کاانتظار کرنا تھا۔ دوسری طرف صباء کچن میں اپنے لیے کھانا اور چائےبنا رہی تھی کہ بالکونی کےدروازے پر نوک ہوا۔۔۔صباء نے کچن سے نکل کربالکونی کے دروازے کی طرف دیکھا تو وہاں میجرکھڑا ہوا تھا اس کی بالکونی میں۔۔۔آج۔۔۔پتہ نہیں کیوں۔۔۔لیکن ہوا ضرور ایسا کہ۔۔۔آج پہلی بار صباء۔۔۔یا شاید کافی عرصے کے بعدآج صباء کو میجر کو دیکھ کر خوشی نہیں ہوئی۔۔۔ بلکہ تھوڑا برا ہی لگا تھا۔۔۔شاید وہ ابھی میجر کا سامنانہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔یا شاید ابھی وہ مولوی صاحب کے ساتھ گزرے ہوئےلمحات کو ہی یاد کرتے ہوئےانجوئے کرنا چاہتی تھی۔ مگر اُس کے بس میں تو کچھ نہیں تھا نہ۔۔۔نہ ہی اس کی اپنی مرضی چلنی تھی۔۔۔اسے ایک گھبرا ٹ یہ بھی تھی کہ وہ ابھی بھی صرف وہی ٹاول اپنے جِسَم پرلپیٹے ہوئے تھی اور ابھی تک کچھ بھی نہیں پہنا تھا۔۔۔وہ خاموشی سے بالکونی کےدروازے کی طرف بڑھی اور جا کر دروازہ کھول دیااور اپنے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ سجا کر میجر کوویلکم کہا۔۔۔میجر بھی فوراً ہی اندر آگیا۔۔۔صباء واپس مڑی اور میجرکے آگے آگے چل رہی تھی۔۔۔میجر نے پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر صباء کی گانڈ کوپکڑا اور زور سے دبا دیا۔۔۔ صباء :اوچ کیا کرتے ہو۔۔۔ میجر نے ایک ہی جھٹکے میں صباء کا ٹاول بھی کھینچ لیااور صباء کو بالکل ننگا کر دیا۔۔۔صباء جلدی سے پلٹی۔۔۔ صباء :دو نہ۔۔۔دو ٹاول مجھے۔۔۔کچھ بھی نہیں پہنا ہوا ہےمیں نے۔۔۔ٹاول لینے دو مجھے۔۔ میجر ہنسا اور آگے بڑھ کرصباء کے ننگے ممے کو اپنی مٹھی میں دباتے ہوئے بولا۔۔۔ کمینی۔۔۔اس مولوی کے سامنے ننگی پھرتی رہی ہے اور اب میرےسے تجھے پردہ کرنے کا یاد آگیا ہے۔۔۔سالی۔۔۔رنڈی۔۔۔بھول گئی کہ تو میری رنڈی ہے۔۔۔ صباء چونک بھی گئی اورتھوڑی گھبرا بھی گئی۔۔۔ن ن ن نہیں۔۔۔کب۔۔۔مولوی صاحب کے سامنے کب۔۔۔ صباء پتہ نہیں کیوں ابھی یہ سب کچھ میجرسے چھپانا چاہتی تھی۔۔۔حالانکہ اسی کے کہنے پر اس نے یہ سب کچھ مولوی صاحب کے ساتھ کیا تھا۔۔۔مگر پتہ نہیں ایسی کیا بات تھی مولوی صاحب میں کہ صباء اب اِس بات کو میجرسے شیئر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔شاید وہ مولوی صاحب کی بےعزتی برداشت نہیں کرپا رہی تھی۔۔۔میجر نے صباء کو اپنی بانہوں میں بھرا اور اپنےہونٹ اُس کے ہونٹوں پر رکھ دیےاور اسے چومنے لگا۔۔۔ایک بار پِھر صباء کی سانسوں میں سگریٹ اورشراب کی بدبو بھر گئی۔۔۔اسے تھوڑا عجیب سا لگاکیوں کہ اِس کے مقابلے میں مولوی صاحب کے منہ سےبہت ہی اچھی خوشبو آئی تھی جب وہ اسے چوم رہےتھے۔۔ مگر صباء کے بس میں نہیں تھا میجر کو پیچھے ہٹانا۔۔۔میجر نے اپنے ہونٹ سختی سے صباء کے ہونٹوں پرجمائے اور اُس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔۔۔اس کا ہاتھ نیچے جا کر صباءکی چوت کو سہلانے لگااور جیسے ہی میجر صاحب نے اپنی ایک انگلی صباء کی چوت میں داخل کی تو صباءسب کچھ بھول کر میجرصاحب سے چپک گئی۔۔۔اس سے لپٹ گئی اور اپنی زبان کو میجر کےمنہ کے اندر پُش کرتے ہوئےاپنی چوت کو میجر کے ہاتھ پر گھمانے لگی۔۔۔اس کی انگلی کو اپنی چوت کے اندر ہی رکھتے ہوئے۔۔۔میجر نے اپنے ہونٹ صباء کےہونٹوں پر سے ہٹائے اور اپنی انگلی صباء کی چوت میں اندر باہر کرتے ہوئے بولا۔۔۔ کیوں پِھر میری رنڈی ہوگیامیرا کام جو میں نے کہا تھا۔۔۔؟؟ صباء پِھر تھوڑی سی سنبھلی۔۔۔ک ک ک کون سا کام۔۔۔؟؟ میجر :سالی۔۔۔بھول گئی ہے کیا۔۔۔وہ جو میں نے تجھے مولوی کو پھنسانے کو کہا تھا اپنےشوہر کے بدلے میں۔۔۔ صباء : وہ۔۔۔ہاں وہ کر رہی ہوں ابھی۔۔۔ہوا نہیں ہے پُورا لیکن ابھی۔۔۔ میجر نے ہاتھ پیچھے لے جاکر صباء کے بالوں کو اپنی مٹھی میں لیا اورایک جھٹکے سے اُس کےبالوں کوپیچھے کھینچتے ہوئے اُسکے سر کو پیچھے کھینچا۔۔۔ جھوٹ بول رہی ہے سالی۔۔۔کتیا۔۔۔دھوکا کر رہی ہے میرے ساتھ۔۔۔ صباء گھبرا گئی۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔میں نے کب انکار کیا ہے۔ بتا تو رہی ہوں کہ بس کام پُورا ہونے والا ہے۔۔۔تھوڑی دیر اور ہے۔۔۔ میجر کے غصے سے صباء بری طرح سے ڈر گئی تھی۔۔۔ میجر پِھر غصے سے دھاڑا۔۔۔سالی۔۔۔تیری ماں چود دوں گا اگر تونے میرے ساتھ دو نمبری کرنے کی کوئی کوشش کی تواور تیرے اس گانڈو اشرف کو بھی ٹھوک دوں گا دیکھنا۔۔۔ صباء فوراً ہی میجرسے لپٹنے لگی۔۔۔کیوں پریشان ہو رہے ہو۔۔۔میں نے کہا تو ہے کہ کر دوں گی تمہارا کام۔۔۔وہ بےچارہ بوڑھا مولوی توبس اب پھنسنے کے قریب ہی ہے میرے جال میں۔۔۔ میجر بھی ایک شاطر آدمی تھا۔۔۔اس نے مولوی کو صباء کےدروازے کے باہر گھبرایا ہوا دیکھا تھا اور چند لمحوں کےبعد ہی جب وہ صباء کےپاس آیا تو وہ صرف ٹاول باندھے ہوئے تھی۔۔۔مگر ابھی اس نے خاموشی ہی اختیار کرنا بہتر سمجھااور صباء پر نظر رکھنے کافیصلہ کر لیا۔۔۔کیونکہ وہ تو کسی وقت بھی اس کی بےوفائی کی اسے سزا دے سکتا تھا۔۔۔ صباء بولی۔۔۔چھوڑو اس مولوی صاحب کو اب تم آ ہی گے ہو تو پہلےمیری آگ تو بجھاؤ۔۔۔تم تو نہ ترپاؤ نہ مجھے۔۔۔ صباء نے اپنا ہاتھ نیچے لے جاکر میجر کی پینٹ کی ذپ کھولتے ہوئے کہااور پِھر اپنا ہاتھ اندر ڈال کرمیجر کا لن پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ اسے سہلانے لگی۔۔۔میجر نے بھی خاموشی سےصباء کو نیچے پُش کر دیااور صباء نیچے بیٹھ کرمیجر کا لن اپنے منہ میں لےکر چوسنے لگی۔۔۔کچھ ہی دیر میں میجر صباءکو لیے ہوئے اُس کے بیڈروم میں تھااور پِھر کوئی دو گھنٹے کےبعد میجر جب وہاں سے گیاتو صباء پوری طرح سےسیٹسفائڈ ہو چکی تھی۔۔۔میجر کو بالکونی کے دروازےپر رخصت کرنے کے بعددروازہ بند کرتےہوئے مسکرائی۔۔۔ ویسے اِس کمینے کے جیساکوئی دوسرا ہے نہیں۔۔۔ صباء مسکراتے ہوئے اپنےواش روم میں چلی گئی۔۔۔نہا کر نکلی اور پِھر کچھ دیرکے لیے اپنے بیڈ پر لیٹ کرسو گئی۔۔۔اتنی لمبی اور دو دو مردوں کے ساتھ ہوئی چُودائی اورساری رات جاگنے کی وجہ سے اسے خوب نیند آئی اور آنکھ کھلی تو شام کےسات بج رہے تھے۔۔۔جب وہ اٹھ کر ٹی وی لونج میں آئی تو اشرف بھی بیٹھاہوا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔۔صباء کو آتے ہوئے دیکھ کرگھبرا گیا۔۔۔اسے دیکھتے ہی صباءکو صبح کا واقعہ یاد آ گیا۔۔۔صباء خاموشی کے ساتھ۔۔۔بنا اشرف سے بات کئے کچن میں چلی گئی۔۔۔اندر جاتے ہی اُس کے چہرےپر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔کہ کیسے اشرف اس سے ڈررہا تھا۔۔۔حالانکہ یہ سب اسی کی پلاننگ تھی۔۔۔کچھ ہی دیر میں صباء کھانالے کر واپس آئی اور لا کرٹیبل پر اشرف کے سامنے رکھ دیااور پِھر خاموشی سے دونوں کھانے لگے۔۔۔کافی دیر کی خاموشی کےبعد آخر اشرف ہی بولا۔۔۔ اشرف :آئی ایم سوری صباء۔۔۔ صباء خاموش رہی۔۔۔وہ اشرف کویہی جتانا چاہتی تھی کہ وہ بہت اپ سیٹ ہے اس کی اِس حرکت سے۔۔۔صباء کھانا کھا کر اٹھی اور کچن کی طرف جاتےہوئے بولی۔۔۔ تم جو بھی کرو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر بس آئِنْدَہ اب میرے پاس نہ آنا۔۔۔مجھ سے تم کو کچھ نہیں ملنے والا۔۔۔جو بھی چاہیے ہو تو اسی بانو کے پاس جانا۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں صباء تیارہو کر بیڈروم سے آگئی اور خاموشی سے اشرف کےساتھ ہسپتال کو نکل آئی۔۔۔راستے میں بھی اشرف نےاسے منانے کی پوری کوشش کی مگر اس نے اس کی کسی بھی بات کا ڈھنگ سے جواب نہیں دیااور دونوں ہسپتال پہنچ گئے۔۔۔صباء اور اشرف ہسپتال پہنچے تو مولوی صاحب توپہلے سے ہی اس کا انتظار کررہے تھے۔۔۔صباء کو دیکھتے ہی ان کےچہرے پر خوشی کی لہر دوڑگئی۔۔۔چہرہ تو جیسے کھل ہی اٹھا۔۔۔صباء بھی ان کی خوشی اور چہرے پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ کو دیکھ کر مسکرادی اور ساتھ ہی اُس کے چہرےپر شرم کی لالی دوڑ گئی اور آپ ہی آپ اس کی نظریں جھک گیں۔۔۔فرح نے بھی آگے بڑھ کرصباء کو گلے لگایا اور سلام کیا۔۔۔چہرے پر شرم کی لالی کےساتھ ساتھ صباء کے دِل میں تھوڑی اداسی اور فکر مندی بھی تھی۔۔۔ہاں وہ مولوی صاحب کے لیےفکر مند تھی۔۔۔اسے یہی فکر ہو رہی تھی کہ کیسے وہ یہ سب کچھ جوبھی اُس کے اور مولوی صاحب کے درمیان شروع ہواہے۔۔۔ کیسے وہ اسے میجر کوپتہ لگنے سے بچا سکے۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ میجرمولوی صاحب کو نقصان پہنچائے۔۔۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسےاپنے سہاگ۔۔۔اپنے اشرف کی بھی فکر تھی۔۔۔اسے اس کو بھی بچانا تھا۔۔۔وہ خود کو ایک عجیب سی پریشانی میں گرفتار محسوس کر رہی تھی۔۔۔اسے سمجھ میں نہیں آ رہاتھا کہ وہ کیسے خود کو اِس صورت حال سے نکالےاور اشرف اور اب مولوی صاحب کو بھی میجر کےچنگل سے بچائے۔۔۔ایک بات تو وہ جانتی تھی کہ میجر کو سمجھانا بیکارکا کام ہے۔۔۔کیونکہ وہ کسی طور بھی اس کی بات نہیں مانے گا۔۔۔اِس لیے۔۔۔ایک ہی راستہ تھا کہ وہ میجر کو اِس بات کا یقین دلاتی رہے کہ وہ کام کر رہی ہےاور جلد ہی مولوی صاحب اس کی گرفت میں ہوں گےاور پِھر میجر اپنا کام پُورا کرسکے گا۔۔۔ اشرف بھی مولوی صاحب سے آنٹی کی طبیعت کا پوچھنے لگا۔۔۔کچھ ہی دیر گزری تو اشرف کھڑے کھڑے ہی فیکٹری جانے کے لیے روانہ ہونے لگا۔۔۔مولوی صاحب بولے۔۔۔ اشرف بیٹا تھوڑی سی تکلیف اور دوں گا تم کو اگر ہو سکےتو۔۔۔ اشرف :جی جی مولوی صاحب۔۔۔بتائیں کیا کام ہے۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :بیٹا ایسا کرو کہ فرح بیٹی کو ذرا گھر ڈروپ کرتے جانا۔۔۔آج لیٹ ہو گئی ہے اب اکیلی نہیں جا سکے گی۔۔۔وہاں تو بانو ہوتی ہی ہے اسکے پاس سونے کے لیے۔۔۔اگر دیر نہ ہو رہی ہو تو ذرااسے ڈروپ کرتے جاؤ۔۔۔ اشرف :کیوں نہیں مولوی صاحب۔۔۔اِس میں تکلیف کی کونسی بات ہے۔۔۔میں ابھی چھوڑتا جاؤں گا۔۔۔ مولوی صاحب :بہت بہت شکریہ بیٹا۔۔۔آپ دونوں کے احسانوں کابدلہ تو خدا ہی دے گا آپ لوگوں کو۔۔۔ورنہ میں بوڑھا کیا کر سکتاہوں آپ لوگوں کے لیے۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔ارے انکل آپ کیا اپنے آپ کوبوڑھا کہتے رہتے ہیں۔۔۔کوئی بڈھے نہیں ہو آپ ابھی۔۔۔ صباء کی بات کا اصل مطلب سمجھتے ہوئے مولوی صاحب مسکرانے لگےاور صباء نے بھی ایک خاص انداز میں مولوی صاحب کودیکھ کر اپنی نظریں دوسری طرف کر لیں۔۔۔ مولوی صاحب :فرح بیٹی جلدی کر لو تم بھی۔۔۔پِھر آپ کے اشرف بھائی کودیر ہو جائے گی ڈیوٹی سےورنہ۔۔۔ فرح :جی ابو۔۔۔ فرح نے جلدی سے اپنی چادر اٹھائی اور اپنے جِسَم پر اوڑھ لی۔۔۔اپنا چہرہ بھی چادر میں چُھپا لیا۔۔۔صرف اس کی آنکھیں نظر آرہی تھیں اور گورےگورے ہاتھ۔۔۔چادر نے فرح کا پُوراجِسَم ڈھانپ لیا ہوا تھا۔۔۔مگر پِھر بھی اس کی چادراُس کے خوبصورت ابھاروں کو چھپانے میں ناکام رہ رہی تھی۔۔۔جو کہ چادر اوڑھنے کےباوجود بھی بالکل صاف نظرآ رہے تھے۔۔ اشرف فرح کو لے کر ہسپتال کے کمرے سے نکل پڑا۔۔۔ان دونوں کے جانے کے بعد۔۔۔ صباء بیڈ کی طرف بڑھی اور آنٹی کا حال پوچھنے لگی۔۔۔وہ جاگ رہی تھیں اور بیڈسے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔صباء بھی انہی کے بیڈ پرایک سائیڈ پر بالکل ان کے کاندھے سے لگ کر بیٹھ گئی۔۔۔ایسے کے اس کا منہ اب آنٹی کی طرف ہی تھااور وہ ان سے باتیں کرنے لگی۔۔ صباء :آنٹی کیسی ہیں آپ۔۔۔؟ ؟ آنٹی :بیٹی اب میں ٹھیک ہوں۔۔۔ صباء :سچ میں آنٹی اب آپ کی طبیعت بھی کافی فریش لگ رہی ہے۔۔۔ آنٹی :ہاں۔۔۔ڈاکٹر صاحب بھی بول رہےتھے کہ ایک دو دن تک شایدچھٹی ہو ہی جائے۔۔ صباء :جی۔۔۔بالکل آنٹی۔۔۔پِھر ہم ایک ساتھ گھر جائیں گےاور آپ نے پُورا پُورا ریسٹ کرنا ہے بس۔۔۔گھر کے کام بھی میں ہی کردوں گی آپ کے۔۔۔ آنٹی ہنستے ہوئے۔۔۔ارے بیٹی پہلے ہی تم نے بہت تکلیف سہی ہے ہم سب کےلیے۔۔۔ میں تو تمہارا احسان ہی نہیں اُتار سکتی۔۔۔ صباء :ارے نہیں آنٹی۔۔۔ایسی باتیں کر کے آپ مجھےشرمندہ تو نہ کریں نہ۔۔۔آپ بھی تو اتنا خیال رکھتی ہو نہ ہمارااور انکل بھی تو بہت خیال رکھتے ہیں میرا نہ۔۔۔تو میں نے تھوڑا کام کر دیاتو کیا ہوا۔۔۔ یہ کہتے ہوئے صباء نےشرارت سے مولوی صاحب کی طرف دیکھا تو ان کےچہرے پر پِھر سے مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرتےہوئے مسکرانے لگے۔۔۔صباء اٹھی اور جا کر یخنی جو بنا کر لائی تھی وہ بویل میں ڈال کر لے آئی اور آنٹی کے پاس بیٹھ کر ان کو چمچ سے پلانے لگی۔۔۔مولوی صاحب بھی اٹھ کرصباء کے پیچھے آ گئےاور بولے۔۔۔ ہاں یہ بات تو بالکل سچ ہےکہ صباء بیٹی نے بہت زیادہ ساتھ دیا ہے ہمارا۔۔۔ورنہ فرح بےچاری اکیلی کیاکر سکتی تھی۔۔۔ مولوی صاحب بیڈ کے قریب اِس پوزیشن میں کھڑے تھےکہ وہ صباء کے پیچھے آ گئےہوئے تھےاور آنٹی ان کی حرکتوں کونہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔مولوی صاحب نے آہستہ سےاپنا ہاتھ صباء کی کمر پررکھ دیا۔۔۔صباء کو تو جیسے کرنٹ ساہی لگ گیا ہو۔۔۔وہ تھوڑا سا اچھل پڑی اور پِھر نارمل ہو گئی اور پِھر پیچھے مڑ کرمولوی صاحب کی طرف دیکھتےہوئے مصنوئی ناراضگی سے ان کو نہ کرنے کا اشارہ کیااپنی آنكھوں ہی آنكھوں سے۔۔۔ایک بار تو اس کا ہاتھ ہی کانپ گیا تھا جس سےتھوڑا سا سوپ نیچے بیڈشیٹ پر بھی گر گیا تھا۔۔۔مگر دوسری طرف مولوی صاحب کہاں باز آنے والے تھے۔۔۔یا یوں کہہ لو کہ وہ کیسےخود کو کنٹرول رکھ سکتے تھے۔۔ اپنی پَسَنْدِیدَہ جوانی کواپنے سامنے دیکھ کراور اپنے ہاتھوں کے دسترس میں پا کر۔۔۔بس انہوں نے چند لمحوں کےبعد ہی دوبارہ سے اپنا ہاتھ صباء کی کمر پر رکھ دیااور دوبارہ سے اس کی کمرکو سہلانے لگے۔۔۔مولوی صاحب کا ہاتھ دھیرے دھیرے صباء کی کمرپر سرک رہا تھا۔۔ اِس بات کا وہ پُورا پُوراخیال رکھ رہے تھے کہ اُسکے ہاتھ کی حرکت کو ان کی بِیوِی نہ دیکھ سکے۔ مولوی صاحب :ہاں وہ بھی تو بتاؤ نہ صباءکو جو ڈاکٹر نے کہا ہے۔۔۔ آنٹی :ارے وہ تو یہ ڈاکٹر لوگ ہرمریض کو ہی کہتے رہتے ہیں۔۔۔اب ان کی کہی باتیں سب کچھ ٹھیک تو نہیں ہونےوالی نہ۔۔۔ صباء :بتائیں نہ کیا کہا ہے۔۔۔ مولوی صاحب :ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ ایک تو دوا ٹائم پر لینی ہے۔۔۔کوئی چھٹی نہیں کرنی دوا لینے میں اور دوسرا کوئی بھی ٹینشن نہیں لینی اپنے دماغ پر اوراپنے دِل پر۔۔۔ صباء :جی آنٹی یہ تو بالکل ٹھیک کہا ہے ڈاکٹرز نے۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ گھر جا کربھی آپ کو دوا کھیلانے کی ڈیوٹی مجھے اپنے ذمےہی لینی پڑے گی۔۔۔ مولوی صاحب باتیں کرتےہوئے صباء کی کمر کوہی سہلا رہے تھے۔۔۔ایک آدھ بار صباء نے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر مولوی صاحب کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی مگر۔۔۔مولوی صاحب کہاں ماننےوالے تھے۔۔۔دوبارہ سے اپنا ہاتھ صباء کی کمر پر رکھ لیتے۔۔۔کچھ ہی دیر گزری کے مولوی صاحب نے صباء کی قمیض کو پیچھے سے اس کی گانڈپر سے ہٹایااور اپنا ہاتھ صباء کی قمیض کے نیچے اس کی ننگی کمرپر رکھ دیا۔۔۔صباء تو تڑپنے ہی لگی۔۔۔مولوی صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے آنكھوں ہی آنكھوں میں ان کی منتیں کرتی مگر مولوی صاحب توصرف اور صرف مسکراتے جارہے تھےاور اب تو مولوی صاحب آہستہ آہستہ اپنے لن کو بھی صباء کی کمر پر رگڑ رہے تھے۔۔۔مولوی صاحب تو فل شرارت کے موڈ میں تھے۔۔۔اچانک صباء کو بھی ایک آئیڈیا سوجھا۔۔۔اس نے ہاتھ پیچھے لے جا کرمولوی صاحب کے لن کو اپنےہاتھ میں پکڑا اور اچانک سےہی ان کا لن زور سے دبا دیا۔۔۔مولوی صاحب اِس اچانک کے حملے سے اچھل ہی پڑےاور اچھل کر پیچھے ہوگئےصباء سے۔۔۔صباء پیچھے موڑ کر ان کودیکھتے ہوئے ہنسنے لگی۔۔۔مولوی صاحب بھی ہنسے اوراپنے لن کو سہلاتے ہوئےپیچھے جا کر صوفہ پر بیٹھ گئے۔۔۔صباء اب بھی بار بار ان کوشرارت سے دیکھ رہی تھی اور ہنس رہی تھی۔۔۔آنٹی نے سوپ ختم کر لیا توصباء برتن سمیٹنے لگی اور اتنی دیر میں ہی نرس آگئی۔۔۔آنٹی کو میڈیسن دینے کے لیےاور صباء اُس کے پاس ہی کھڑی ہو گئی۔۔۔جیسے ہی نرس کمرے سےگئی تو صباء بولی۔۔ انکل کھانا ڈالوں آپ کے لیے۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :نہیں رہنے دو ابھی بھوک نہیں ہے۔۔۔ آنٹی :ارے بیٹی دو ڈال کے ان کو۔۔۔سارا سارا دن کچھ نہیں کھاتے۔۔۔یہاں پڑے ہوئے ہیں بس اتنےدن سے میرے پاس۔۔۔دیکھو تو کیا حالت کر لی ہے۔۔۔نہ ٹائم پر کھانے کا ہوش ہےنہ اور کسی چیز کا۔۔۔ذرا بھی اپنا خیال نہیں کررہے۔۔۔ صباء مسکرائی اور مولوی صاحب کی طرف بریانی کی پلیٹ بڑھاتے ہوئےبولی۔۔۔آنٹی آپ فکر نہ کریں اب میں خود ان کا خیال رکھا کروں گی۔۔۔پِھر میں دیکھتی ہوں کیسےیہ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے۔۔۔اپنی صحت کا اور ڈائٹ کاخیال نہیں رکھیں گے تواتنا کام کیسے کریں گے۔۔۔ صباء نے اپنی آنکھیں مٹکا کرمولوی صاحب سے پوچھا۔۔۔ مولوی صاحب ہنسے۔۔۔ارے کام تو میں ابھی بھی بہت کر لیتا ہوں۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ صباء :جی ہاں پتہ ہے مجھے۔۔۔اپنے کام میں بہت ماہر ہیں آپ ابھی بھی۔۔۔ مولوی صاحب کا تو سینہ خوشی سے اور بھی پھول گیااور صباء بھی مسکراتے ہوئےاپنے لیے بھی کھانا ڈال کرایک طرف کرسی پر بیٹھ کرکھانے لگی۔۔۔مگر کھانا کھاتے ہوئے بھی صباء بار بار بڑے ہی پیار سےاپنی نظریں اٹھا کر مولوی صاحب کو دیکھ رہی تھی اور صباء کی ایسی نظروں سے مولوی صاحب کا دِل بےقابو ہوتا جا رہا تھا۔۔۔مگر برداشت کر کے بیٹھےہوئے تھے۔۔۔ ٭٭٭٭٭ اشرف نے فرح کو بائیک پراپنے پیچھے بٹھایا اور گھرکے لیے نکل پڑا۔۔۔راستے میں دونوں ہی آنٹی کی طبیعت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔۔۔اشرف تو تھوڑا اپنی پریشانی میں بھی تھا۔۔۔مگر فرح کافی خوش تھی کیونکہ اب اس کی امی کی طبیعت کافی اچھی ہو چکی ہوئی تھی۔۔۔فرح اشرف کے پیچھے بائیک پر کافی سنبھل کر اور سمٹ کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔وہ نہیں چاہ رہی تھی کہ اسکا جِسَم اشرف کے جِسَم کے ساتھ ٹچ کرے۔۔۔پِھر بھی اسے خود کو سیٹ پر قابو رکھنے کے لیےاپنا ایک ہاتھ اشرف کے کاندھے پر رکھنا پڑا تھا۔۔۔مگر باقی جِسَم اس کا اشرف کے جِسَم کے ہٹ کر تھا۔۔۔مگر پِھر بھی صرف اورصرف سمجھو کہ ایک ہاتھ کی مٹھی کا فاصلہ تھادونوں کے درمیان میں۔۔۔راستے میں ایک دوبار جھٹکے لگے تو فرح کاجِسَم اشرف کے جِسَم سےپریس ہو گیا۔۔۔بات تو ایک روٹین کی ہی ہے۔۔۔مگر ہوتا تو ایسا ہی ہے نہ کہ جب بھی لڑکی کسی کےپیچھے بائیک پر بیٹھے تواس کا جِسَم اگلے بیٹھے ہوئےمرد کے جِسَم سے ٹچ ہو جاناایک لازمی بات ہوتی ہے۔۔۔ایسے ہی تھی تو ایک معمولی بات ہی۔۔۔مگر فرح جیسی کنواری اور ان ٹچ۔۔۔جوان ہوتی ہوئی۔۔۔جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہوئی لڑکی کے لیےایک بڑی بات بھی تھی۔۔۔جس کے جِسَم کو کبھی بھی کسی مرد نے نہ چھوا ہو توایسے کسی دوسرے مرد کےجِسَم سے اس کے جِسَم کاچھو جانا اور اُس کے مموں کا اس کی کمر پریس ہو جانا اُس کے لیے تو بہت بڑی بات تھی نہ۔۔۔جس نے اس کا پُورا جِسَم ہی جنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔ ایک عجیب سی سنسنی سی پھیل گئی تھی اُس کے پورے جِسَم میں کچھ دیر کے لیے۔۔۔ایک عجیب سی مستی سی۔۔۔مگر جلدی ہی خود کو اس نے سنبھال لیا تھا۔۔۔خود کو لعنت کرتے ہوئے کہ۔۔۔تو تو اُس کو بھائی کہتی ہےتو پِھر بھائی کے لیے ایساکیوں سوچ رہی ہو۔۔۔ایسا سوچنا تو غلط ہے نہ۔۔۔مگر جِسَم کی تو اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی نہ۔۔۔وہ تو ابھی بھی کانپ ہی رہا تھا۔۔۔خدا خدا کر کے گھر کےقریب پہنچی تو بات کوبدلنے اور۔۔۔یہ شو کرنے کے لیے کچھ بھی خاص نہیں ہوا فرح بولی۔۔۔ فرح :اشرف بھائی۔۔۔کوئی آئس کریم ہی لے دو۔۔۔آج پہلی بار آپ کے ساتھ آئی ہوں ایسی کنجوسی تو نہیں کرو نہ۔۔۔ اشرف مسکرایااور بولا ہاں ہاں کیوں نہیں ابھی لے دیتا ہوں۔۔۔ اشرف نے فضلو کی دکان کے سامنے اپنی بائیک روک لی اور اُتَر کر فضلو چچا کی دکان میں چلا گیا۔۔۔فضلو چچا بھی مولوی صاحب کی بِیوِی کی طبیعت کا پوچھنے لگےاور دعائیں دینے لگے۔۔۔پِھر اشرف اندر سےدو کورنیٹو آئس کریم لےکر باہر آیااور دونوں فرح کے ہاتھ میں پکڑا دیں۔۔۔فرح نے اشرف کو تھینکس بولا اور سلام کر کے بِلڈنگ میں داخل ہو گئی۔ نیچے گیٹ پر دینو کے پاس ہی اسے بانو مل گئی۔۔۔فرح کو دیکھتے ساتھ ہی فوراً ہی اس کی طرف بڑھی اور بولی۔۔۔ بانو :آگئی آپ فرح بی بی۔۔۔ فرح :ہاں آگئی اور کتنی بار میں نے تم کوکہا ہے کہ مجھے یہ بی بی نہ کہا کرو۔۔۔میں کیا اتنی ہی بوڑھی لگتی ہوں تم کو کہ مجھے تم بی بی بولتی رہتی ہو۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔اچھا جی اچھا۔۔۔سوری فرح جی۔۔۔اب آپ یہ بتاؤ کے بڑی بی بی جی کی طبیعت کیسی ہے ۔۔۔؟؟ فرح خوش ہوتے ہوئے۔۔۔ہاں بانو اب تو بہت اچھی ہےان کی طبیعت۔۔۔بس ایک آدھ دن میں چھٹی بھی ہو جائے گی ان کواور وہ گھر آجائیں گی۔۔۔ بانو :ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔بہت جلد گھر آجائیں گی بی بی جی۔۔۔ دونوں باتیں کرتے ہوئےاوپر چڑھنے لگیں۔۔۔اپنے فلیٹ کی طرف جانےکے لیے۔۔۔ جیسے ہی دونوں فرح کےفلیٹ میں داخل ہونے کے لیےلوک کھولنے لگیں تو میجرکے فلیٹ کا دروازہ کھلااور میجر اپنے فلیٹ سے باہرآیا۔۔۔فرح تو اسے دیکھ کر تھوڑاگھبرا گئی اور خود کو بانو کےپیچھے کر لیا۔۔۔جیسے خود کو بانو کے جِسَم کے پیچھے چُھپا رہی ہو۔۔۔خود کو میجر کی نظروں سے بچانے کے لیے۔۔۔مگر میجر کی نظریں تو اسی پر تھیں۔۔۔بانو نے مسکرا کر میجرکو دیکھا۔۔۔تو میجر بھی ان کی طرف ہی بڑھ آیااور بولا۔۔۔ میجر :کیسی ہو بانواور ہاں فرح تمہاری امی کی طبیعت کیسی ہے اب۔۔۔ فرح جو کہ بِلڈنگ میں آنےکے بعد اُوپر کو چرھتے ہوئےاپنے چہرے پر سے چادر کانقاب ہٹا چکی ہوئی تھی۔۔۔میجر کو سامنے دیکھ کر پِھرسے چادر کا ایک پلو پکڑ کراپنے چہرے کو چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔نقاب کو اپنی ناک تک لاتے ہوئے صرف اپنی خوبصورت آنکھیں ہی میجرکے سامنے رہنے دیں اور تھوڑے گھبراے ہوئےلہجے میں بولی۔۔۔ فرح :جی۔۔۔جی ٹھیک ہے اب امی کی طبیعت۔۔۔ گھر میں میجر کے بارے میں ہوتی رہنے والی بات چیت کی وجہ سے اس کا ذہن بھی میجر کے لیے ویسا ہی سوچتا تھا جیسا کہ سب گھروالے سوچتے تھے۔۔۔وہ بھی میجر کو ایک بہت ہی برا آدمی سمجھتی تھی۔۔۔جس سے ہمیشہ دور رہنے اوربچ کر رہنے کا اُس کے باپ مولوی منصور اور امی نے سکھایا تھا۔۔۔وہ ابھی بھی خوف زدہ نظروں سے میجرکی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔ جس نے ہالف پینٹ اورایک ساندو بنیان پہنی ہوئی تھی۔۔۔جس میں سے اُسکے بازؤں کے بھرپور مسلزبالکل ننگے نظر آ رہے تھے۔۔۔مضبوط بازؤں کے کالے کالےمسلز۔۔۔ پھڑک رہے تھے جیسےاور اُس کے مضبوط اور طاقتور جِسَم کےایسے نظارے کو دیکھ کرفرح اور بھی ڈر رہی تھی۔۔۔اس نے اپنے دونوں ہاتھ بانوکے پیچھے سے اُسکے کاندھے پر رکھ دیے ہوئےتھے۔۔۔اس میں اتنی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ بانو کووہیں چھوڑ کر خود اندر چلی جائےاور جا بھی تو نہیں سکتی تھی نہ۔۔۔کیونکہ چابی پہلے ہی بانو کےہاتھ میں تھی دروازہ کھولنے کے لیےاور بانو۔۔۔بانو کو تو جیسے مزہ آ رہاتھا میجر سے باتیں کرنے میں۔۔۔میجر بات کوآگے بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔ تو کب تک چھٹی ہو جائےگی ان کو ہسپتال سے۔۔۔؟؟؟ فرح پِھر گھبرائی ہوئی آوازمیں :جی وہ ایک دو دن میں ہوجائے گی چھٹی۔۔۔ میجر :اچھا چلو ٹھیک ہے۔۔۔ویسے کوئی کام ہو یا کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھےبتا دینا۔۔۔کچھ چاہیے تو میں لادیتا ہوں نیچے سے۔۔۔فضلو کی دکان تک جا رہاہوں میں۔۔۔ بانو نے مڑ کر فرح کی طرف دیکھا جیسے اس سے پوچھ رہی ہو کہ کچھ چاہیے تو نہیں۔۔۔ فرح :نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔شکریہ۔۔۔کچھ نہیں چاہیے ہے ہمیں۔۔۔ بانو فرح کو دیکھ کر بولی :ارے فرح کیوں ڈر رہی ہومیجر صاحب سے۔۔۔میجر صاحب تو بہت ہی اچھے آدمی ہیں۔۔۔بس ایسےہی لوگوں نے ان کوبدنام کیا ہوا ہے۔۔۔میں تو کہتی ہوں کہ پوری بِلڈنگ میں ان کے جیسامرد کوئی نہیں ہے۔۔۔ بانو نے ایک خاص ادا سےمیجر کی طرف دیکھتےہوئے مسکرا کر کہا تو میجربھی مسکرا دیا۔۔۔ میجر اپنے پیلے دانت نکال کرمسکرایا۔۔۔ ویسے ہمسایہ ہی ہمسائے کےکام آتا ہے نہ۔۔۔چلو کوئی بات نہیں۔۔۔ویسے اگر کچھ بھی چاہیےہو تو ضرور بتانا۔۔۔ یہ کہہ کر میجر نیچےکی سیڑھیوں کی طرف چلاگیااور بانو نے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور دونوں اندر آگیں۔۔۔اندر آئیں تو فرح نے سکون کا سانس لیا۔۔۔ فرح :اف یار۔۔۔یہ میجر تو پیچھے ہی پڑگیاتھا۔۔۔جان ہی نہیں چھوڑ رہا تھا۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔کیوں کیا ہوا۔۔۔اس نے کیا کہہ دیا تھا تم کو۔۔۔؟؟ فرح :ارے یار مجھے تو بڑا ڈر لگتاہے اس غنڈے سے۔۔۔دیکھا نہیں کتنا خوفناک ہےوہ۔۔۔ بانو بولی۔۔۔ارے نہیں فرح۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔اچھا بھلا آدمی ہے۔۔۔ بس بِلڈنگ والوں نے ایسےہی اس کا نام بدنام کیا ہواہے۔۔۔ دونوں کچن میں کھڑی تھیں۔۔۔فرح فریج سے پانی نکالتےہوئے بولی۔۔۔اور تم بڑی تعریفیں کر رہی تھی اس کی۔۔۔کہ بڑا اچھا ہےاور اس جیسا کوئی مردنہیں ہے بِلڈنگ میں۔۔ بانو ہنسی۔۔۔ہی ہی ہی ہی۔۔۔سچ ہی تو کہہ رہی تھی میں۔۔۔بتاؤ تو اُس کے جیسامضبوط اور طاقتور جِسَم ہےکیا کسی کا۔۔۔کتنا تو ہینڈسم ہے۔۔۔ فرح بانو کے بازو پر ایک تھپڑمارتے ہوئے بولی۔۔۔اوئےا وئے۔۔۔بس کر۔۔۔ارادہ کیا ہے تیرا۔۔۔؟؟ بانو ہنسنے لگی۔۔۔ہا ہا ہا ہا۔۔۔میرا کوئی ارادہ نہیں ہے فرح جی۔۔۔ویسے تم کہو تو کرا دوں اس کا بندوبست۔۔۔ فرح :سچ میں تو بڑی ہی کمینی ہےبانو۔۔۔کتنی بار کہا ہے کہ ایسی باتیں نہ کیا کر میرے سے۔۔ پر تجھے تو کوئی شرم ہی نہیں آتی۔۔۔کسی دن ابو نے سن لیا نہ تودیکھنا دونوں کو ہی جان سے مار دیں گے۔۔۔ بانو ہنسی :کن دونوں کو۔۔۔تم کو اور میجر صاحب کوکیا ؟ ؟ ؟ فرح :کمینی ٹھہر جا ذرا۔۔۔تو ایسے باز نہیں آئے گی۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے کچن سےباہر کی طرف بھاگی۔۔۔فرح بھی بانو کی باتوں پرہنسنے لگی اور پِھر پانی پینے کے بعد وہ بھی کچن سے باہر آگئی۔۔۔بانو بیٹھی ہوئی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔۔فرح بھی پاس ہی بیٹھ گئی۔۔۔ بانو :ارے یہ تو یاد ہی نہیں رہاپوچھنا۔۔۔آپ اتنی رات کو آئی کس کےساتھ ہو گھر۔۔۔؟؟ فرح :وہ اشرف بھائی ہیں نہ وہ صباء آپی کو چھوڑنے گئےتھے ہسپتال تو ابو نے مجھےان کے ساتھ ہی بھیج دیا۔۔۔اشرف بھائی ہی چھوڑ کرگئے ہیں مجھے گیٹ پر۔۔۔ بانو :ارے یار یہ کیا تم ہر وقت اشرف بھائی اشرف بھائی لگائے رکھتی ہو۔۔۔اچھا بھلا ہینڈسم آدمی ہے۔۔۔اتنا خوبصورت اور کیوٹ سااور تم اسے بھائی بنائےرکھتی ہو۔۔۔ فرح :تو باز نہیں آئے گی۔۔۔بھائی نہ کہوں تو اور کیاکہوں ان کو۔۔۔؟؟ بانو:ارے پگلی۔۔۔بھائی تو صرف وہی ہوتا ہےجس سے شادی نہ ہو سکےاور ان اشرف صاحب کو توآج بولو تو ابھی تمہاراگھونگھٹ اٹھانے کو تیار ہوجائیں یہ آپ کےاشرف بھائی۔۔۔ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔ فرح بھی بانو کی باتوں کوانجوئے کر رہی تھی۔۔۔پتہ نہیں تو کیا کیا بکواس کرتی رہتی ہے۔۔۔ پاگل ہے تو تو بس۔۔۔تیرے دماغ میں تو بس ہروقت یہی باتیں سوار رہتی ہیں۔۔۔اچھا یاد آیا۔۔۔وہ میں نے ابھی فریج میں کورنیٹو رکھیں ہیں جلدی سے وہ تو اٹھا لا۔۔۔ بانو اٹھ کر گئی اور فریج سے کورنیٹو اٹھا لائی۔۔۔ایک فرح کو دے دی اور دوسری خود لے کر بیٹھ گئی۔۔۔ بانو :اچھا کیا آپ نےجو کورنیٹو لے آئیں۔۔۔بہت دِل کر رہا تھا آئس کریم کھانے کا۔۔۔ فرح کورنیٹو کا ریپیر کھول کر اسے اُوپر سے چاٹنے لگی اور بولی۔۔۔ہاں میرا بھی دِل کر رہا تھاتو میں نے اشرف بھائی کوبولا تو انہوں نے لے کر دی۔۔۔ بانو :پِھر وہی بھائی۔۔۔ویسے بڑے چالاک ہیں آپ کےیہ اشرف بھائی۔۔۔ فرح :کیوں اب کیا ہوا۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔دیکھ نہیں رہی کہ اس نے تم کو کورنیٹو لے کر دی ہےاور کپ والی آئس کریم نہیں۔۔۔ فرح بانو کو گھورتے ہوئےبولی۔۔۔کیوں اِس میں ایسی کونسی بات ہے یار اب۔۔۔ بانو اپنی زبان لمبی نکال کر کورنیٹو کو لک کرتے ہوئےبولی۔۔۔ارے وہ تم کو ٹریننگ دیناچاہتا ہے نہ تیرا اشرف بھائی۔۔۔ فرح حیران ہوتے ہوئے۔۔۔کیسی ٹریننگ۔۔۔؟؟ بانو نے اپنی آئس کریم کواُوپر کو اٹھا کر پکڑا اوراسے چاروں طرف سے اپنی زبان سے لک کرنے لگی اور پِھر اُس کے اُوپر کےحصے کو تھوڑا سا اپنے منہ میں لے کر اپنے سر کو اُوپرنیچے کرتے ہوئے اسےچوس کر بولی۔۔۔ اِس کام کی ٹریننگ تاکہ کل کو آپ کو دکت نہ ہو نہ یہ کرنے میں جب اصلی والی کون آپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔۔۔ فرح بانو کی بات کو سمجھ گئی۔۔۔اپنے پاس صوفہ پر پڑا ہواکشن اٹھا کر بانو کو مارتے ہوئے بولی۔ بڑی ہی کمینی ہے توقسم سے۔۔۔ہر وقت تیرا دماغ یہی باتیں سوچتا رہتا ہے گندی گندی۔۔۔ بانو :ارے ابھی تو تم یہی کہتی ہونہ کے گندی باتیں ہیں۔۔۔جب اصلی میں چوسہ لگاؤگی تب جو مزہ آئے گا نہ پِھریاد کرو گی میری باتیں۔۔۔ فرح :اچھا اچھا۔۔۔جب ہو گا دیکھا جائے گا۔۔۔پر تب بھی تیری طرح نہیں ہو جاؤں گی کہ ہر وقت دماغ ادھر ہی لگائے رکھوں۔۔۔کبھی وہ میجر اور کبھی اشرف بھائی کے بارے میں بولتی رہتی ہو۔۔۔لگتا ہے کہ تمہاری دونوں پرہی نیت خراب ہے۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔میجر کا تو پتہ نہیں۔۔۔پر تمہارے وہ اشرف بھائی پر ضرور خراب ہے میری نیت۔۔۔دیکھتی نہیں ہو کیسا چکنالڑکا ہے۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ فرح ہنستے ہوئے۔۔۔شرم کر بانو شرم۔۔۔ بانو ہنسی اور فرح کو آنکھ مار کر بولی۔۔۔ویسے اگر تمہارا کوئی ارادہ ہے اشرف کے بارے میں تو بتا دو میں پیچھے ہٹ جاتی ہوں۔۔۔ فرح :کمینی۔۔۔وہ شادی شدہ ہےاور آپی کو پتہ چل گیا نہ تیری باتوں کا تو تیراچہرہ نوچ دے گی۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔ارے فرح جی۔۔۔شادی شدہ ہے تو کیا ہوا۔۔۔شادی شدہ آدمی توزیادہ تجربہ کار ہوتا ہے اس کام میں۔۔۔ویسے ایک مشورہ دوں تم کو۔۔۔؟؟ فرح :کچھ بکواس ہی کرے گی۔۔۔پر بول۔۔۔ بانو :میں تو کہتی ہوں کہ لے لومزے اس چکنے سے۔۔۔موقع ملے تو چھوڑنا نہیں قسم سے۔۔ ویسے تو چاہے کچھ کرے نہ کرے پر۔۔۔تیرا وہ اشرف بھائی کبھی تجھے ہاتھ سے نہیں نکلنے دے گا اگر اسے موقع ملا تو۔۔۔ فرح کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔۔وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنےکمرے میں جاتے ہوئے بولی۔۔۔ تجھے تو نہ شرم آنی ہے اورنہ ہی تیری بکواس بند ہونی ہے۔۔۔ اور ہنستے ہوئے اپنے کمرےمیں چلی گئی۔۔۔فرح اپنے کمرے میں چلی گئی اور اپنے کپڑے لے کر باتْھ روم میں آگئی۔۔۔نہانے کے لیے۔۔۔نہاتے ہوئے اسے بانو کی باتیں یاد آنے لگیں۔۔۔وہ مسکرانے لگی۔۔۔پِھر اسے یاد آیا کہ جب اس کا جِسَم اور اُس کے ممےاشرف کے جِسَم سے ٹکراے تھے تو اسے کتنااچھا لگا تھا۔۔۔کیسے کرنٹ سا دوڑ گیا تھااُس کے جِسَم میں۔۔۔شاور کے نیچے کھڑے ہوئےہی اس نے اپنی آنکھیں بندکیں اور اپنے جِسَم کو سہلاتے ہوئے اسی منظرکو یاد کرنے لگی۔۔۔اسے اپنا جِسَم اشرف کی کمرسے ٹچ ہوتا ہوا محسوس ہوااور اسے یہ بھی یاد آیا کہ جب وہ بائیک سے نیچے اتری تھی تو اشرف نے سیدھا اُس کے مموں کی طرف دیکھا تھااور پِھر آئس کریم پکڑاتے ہوئے بھی اسکی نظریں اُس کے مموں پرہی تھیں۔۔۔وہ سوچنے لگی۔۔۔کیا سچ میں اشرف اُس کےمموں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔یہ سوچتے ہوئے اُس کے ہاتھ اپنے مموں پر تھے۔۔۔جن کو وہ آہستہ آہستہ سہلا رہی تھی۔۔۔ آنکھیں بند کئے ہوئے ہی۔۔۔تو کیا سچ میں اگر اشرف کوموقع ملے تو وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔۔۔کیا کرے گا وہ۔۔۔کرے گا کیا آخر۔۔۔جیسے ہی یہ سوچا تو اُسکے پورے جِسَم میں ایک مستی اور کرنٹ کی لہر سےدوڑ گئی اور اچانک ہی ایک جھٹکا سامحسوس ہوا اسے۔۔۔اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان۔۔۔اپنی چوت پر۔۔۔یا شاید چوت کے اندراور اسی جھٹکے کے اثر میں ہی اس کا ایک ہاتھ اُس کےاپنے چکنے جِسَم سے پھسلتاہوا۔۔۔نیچے آ گیا۔۔۔اپنی چوت پراور ایک لمحے کے لیے تو اپنی چوت کو اس نے اپنی مٹھی میں لے لیا۔۔۔جِسَم کانپنے لگا۔۔۔ماتھے پر شکنیں پڑنے لگیں۔۔۔آنکھیں اور بھی زور سے بندہونے لگیں۔۔۔ٹانگوں میں سے جان نکلنےلگی۔۔۔شاور کو چلتا ہوا ہی چھوڑکر نیچے فرش پر بیٹھنے لگی۔۔۔دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔۔۔ہاتھ ابھی بھی اپنی چوت پرہی تھی۔۔۔بالکل کنواری۔۔۔گلابی۔۔۔ان ٹچ چوت پر۔۔۔اب اُس کے اپنے ہاتھ کی ہی ایک انگلی آہستہ آہستہ اپنی چوت کے لبوں کو سہلانے لگی اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔۔آج اس کا یہ کرنے کا پہلاموقع تھا۔۔۔کچھ نہیں پتہ تھا کہ کرنا کیاہے اور کیسے کرنا ہےاور کچھ ایسا کرتے بھی ہیں یا نہیں۔۔۔مگر۔۔۔اس کو گائیڈ کرنے کے لیے۔۔۔نیچر جو تھی۔۔۔خود ہی اس کی انگلی آہستہ آہستہ اپنی چوت کےلبوں کو سہلا رہی تھی۔۔۔اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔۔بہت مزہ آ رہا تھا۔۔۔اپنی چوت کے لبوں پر ہی اُوپر نیچے انگلی پھیرتے ہوئےایک جگہ پر اس کی انگلی ٹکرائی تو اس کا جِسَم جیسے اچھل ہی پڑا۔۔۔کرنٹ سا لگا۔۔۔مگر اچھا بھی بہت لگا۔۔۔اگلے ہی لمحے دوبارہ سےاسی جگہ کو چھیڑنے لگی۔۔۔چوت کے لبوں کے اُوپر کےحصے پر۔۔۔انگلی پھیرنے لگی تو ایک چھوتا سا اُبھار سا محسوس ہونے لگا۔۔۔جیسے۔۔۔جیسے۔۔۔ایک چھوٹا سا دانا سا ہو۔۔۔اسے جیسے ہی ٹچ کرتی تو عجیب سا مزہ آتااور اتنا اچھا لگا کہ اس کی انگلی اب اسی جگہ کو رگڑنے لگی۔۔۔آنكھوں کے سامنے پِھر سے اشرف آ گیا۔۔۔خود کو اس کی بانہوں میں جاتے ہوئے محسوس کرنے لگی۔۔۔اس کا چہرہ اپنے چہرے پرجھکتا ہوا اوراُس کے ہونٹوں کو اپنےہونٹوں کے قریب آتا ہوامحسوس کرنے لگی۔۔۔اشرف کی بانہوں نے اُس کےنازک سے جِسَم کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔۔۔اسے ایک الگ ہی احساس ہورہا تھااور پِھر جیسے ہی اشرف کےہونٹ اُس کے ہونٹوں پر آئےتو اس کی چوت کے اندرجیسے ایک طوفان سا آ گیا۔۔۔پُورا جِسَم ہی کانپ گیااور ہلنے لگا۔۔۔ چوت کےاندر جھٹکے سے لگنے لگے۔۔۔پتہ نہیں کیا ہوا۔۔۔مگر ایسا ضرور لگ رہا تھا کہ جیسے اس کی چوت کے اندرسے کچھ نکل رہا ہو۔۔۔اس کی انگلی کی رگڑ خودسے ہی اور بھی تیز ہو گئی اس چھوٹے سے دانے پراور چند لمحوں کے بعد ہی اس کا جِسَم ڈھیلا ہو گیا۔۔۔اس کی سانسیں تیز تھیں اور وہ خود کو سنبھال رہی تھی۔۔۔یہی سوچتے ہوئے کہ آخر یہ سب کچھ ہوا کیا ہے۔۔۔اچھا ہوا ہے یا برا۔۔۔یہ تو پتہ نہیں۔۔۔مگر یہ ضرور ہے کہ اسےاچھا ضرور لگا ہے۔ جلدی سے فرح نے خودکو سنبھالا اور اٹھ کر نہانےلگی۔۔۔فرح۔۔۔مولوی منصور صاحب کی بیٹی۔۔۔جو صرف انیس بیس سال کی تھی۔۔۔پتلہ سا جِسَم۔۔۔نازک سا۔۔۔انتہائی گورا رنگ۔۔۔بالکل سفید۔۔۔مکھن کی طرح نرم اور چکنا۔۔۔آنکھیں جیسے شہد کا کلر ہو۔۔۔ لمبے لمبے کالے بال۔۔۔بہت ہی معصوم سا اورکیوٹ سا چہرہ تھا۔۔۔گروتھ اُس کے جِسَم کی اچھی ہو رہی تھی۔۔۔سینے پر خوبصورت سےاُبھار تھے۔۔۔جو قریب 34 سائز کے ہو گے۔۔ بنا برا کے بھی بالکل تنےرہتے تھے۔۔۔ذرا سا بھی ڈھیلا پن نہیں تھا دونوں میں۔۔۔پُورا جِسَم ہی سفیداور ملائم تھا۔۔۔مگر مموں کی بات ہی کچھ الگ تھی۔۔۔اپنے چہرے کی طرح خودبھی بہت معصوم تھی۔۔۔دنیا کی اونچ نیچ سے بے خبر۔۔۔کہ کوئی اُس کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔۔۔یا کیا محسوس کرتا ہے۔۔۔لیکن یہ ضرور اس کی ماں اور باپ نے سکھا دیا ہوا تھاکہ جب بھی باہر نکلو تو اپنےجِسَم کو اور چہرےکو ڈھانپ کر نکلنا ہے۔۔۔بانو ان کے گھرکا کام بھی کرتی تھی اور اس کی دوست بھی تھی۔۔۔ہمیشہ ہی اس سے کوئی نہ کوئی الٹی سیدھی بات کرتی رہتی تھی اُس کے امی ابو سے نظر بچا کراور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہوئی۔۔۔فرح کو بھی بانو کی ان باتوں سے مزہ آتا تھا۔۔۔اس کی یہ سیکسی سیکسی باتیں اچھی لگتی تھیں۔۔۔ایک عجیب سی لذت ملتی تھی اسے۔۔۔اسی لیے وہ اسے روکتی بھی رہتی تھی مگر مزے بھی لیتی رہتی تھی اور اِس بات کا بانو کو بھی انداذہ تھا اسی لیے وہ کبھی بھی اُس کے بار بار روکنے پربھی اپنی باتوں سے باز نہیں آتی تھی۔۔۔صباء کے شوہر اشرف کوہمیشہ اس نے بھائی ہی کہاتھا اور بھائی ہی سمجھا تھا۔۔۔مگر آج اس کے جِسَم کےساتھ اس کا جِسَم جب ٹکرایا تھا تو اسے جوعجیب سا مزہ آیا تھا اس نےاس کی سوچ کو بَدَل دیا تھااور پِھر اُوپر سے جلتی پرتیل کا کام بانو کی باتوں نےکیا تھااور اسی وجہ سے اسے پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا۔۔۔لیکن یہ اسے پتہ تھا کہ یہ سب کچھ ہوا اشرف کو یادکر کے ہی ہےاور اب خود سے ہی وہ سوچ رہی تھی کہ کہتی تو بانوبھی ٹھیک ہے کہ اشرف سچ میں بہت خوبصورت اوروہ کیا کہہ رہی تھی۔۔۔ہاں۔۔۔چکنا ہے۔۔۔لکی ہیں ویسے صباء آپی۔۔۔فرح خود سےہی مسکراتے ہوئے نہا رہی تھی اور پِھر وہ نہاکر فارغ ہوگئی اور ٹاول سے اپنا جِسَم صاف کرنے لگی۔۔۔پِھر اس نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر بانوکو آواز دی۔۔۔ فرح :بانو ذرا میرے کپڑے تو نکال کر دینا یار۔۔۔بانو فوراً ٹی وی لونج سےکمرے میں آگئی اور فرح کی کبرڈ کھول کرکھڑی ہو گئی۔۔۔اس میں سے اس نے کافی دیر تک ڈھونڈھنے کے بعد ایک شلوار اور ریڈ کلر کی قمیض نکال لی۔۔۔قمیض اس نے ایسی نکالی تھی جوکہ نیچے شمیض پہنے بنا بالکل بھی نہیں پہنی جا سکتی تھی۔۔۔یعنی اِس قمیض کا لازمی حصہ نیچے کی شمیض تھی ورنہ یہ خود تو ایک بہت ہی باریک کپڑے کی تھی جوکہ کچھ بھی جِسَم نہیں چُھپا سکتی تھی۔۔۔ بانو نے دونوں کپڑے فرح کے حوالے کیے۔۔۔فرح نے قمیض دیکھی توبانو کی شرارت سمجھ گئی۔۔۔ فرح :بانو۔۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔لا باقی کے کپڑے بھی دے نہ اس کے۔۔۔اس کی شمیض۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔ارے فرح یار آجاؤ یہی پہن کر۔۔۔یہاں کون سا کوئی ہے میرے سوا۔۔۔دیکھوں تو سہی کہ کیسےلگتی ہو تم اِس میں۔۔۔ فرح :نہیں پلیز۔۔۔پلیز مجھے شمیض دو اس کے ساتھ کی۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔نہ جی نہ۔۔۔آج تو آپ کو یہی پہن کے آناپڑے گا۔۔۔ فرح ہنستے ہوئے اور ہارمانتے ہوئے۔۔۔اچھا چل میری برا تو دے نہ۔۔۔وہ تو پہننے دو۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔اچھا چل کیا یاد کرو گی تم بھی۔۔۔لا دیتی ہوں۔۔۔ بانو نے فرح کی الماری کےایک حصے سے اُس کے لیےاس کی کلیکشن میں سے ایک سفید کلرکی برا نکال لی اور لا کر فرح کو دے دی۔۔۔فرح نے سفید برا پہنی اوراُوپر سے وہی ٹرانسپیرینٹ قمیض پہن لی۔۔۔نیچے سے شلوار پہن کر خودکو شیشے میں دیکھا تو۔۔۔اس کا پورے کا پُورا جِسَم اس قمیض میں سے جھانک رہا تھااور برا بھی بالکل اوپن ہی دِکھ رہی تھی۔۔۔فرح ہنستے ہوئے باہر آئی۔۔۔اُس کے چہرے پر شرم کی لالی بھی تھی۔۔۔ فرح :بانو تو بہت ہی بدتمیز ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔ارے کیا ہو گیا ہے۔۔۔اتنی تو اچھی لگ رہی ہو آپ اور پِھر یہاں کون سا کوئی تم کو دیکھ رہا ہے۔۔۔ فرح :اچھا چل اب زیادہ باتیں کرنابند کر اور کھانا کھا کر سوتےہیں پِھر صبح اٹھ کر ہسپتال بھی جانا ہے نہ۔۔۔ بانو اور فرح ٹی وی لونج میں ہی کھانا کھانے لگیں۔۔۔آہستہ آہستہ فرح کو اپنے برہنہ پن کا احساس ختم ہورہا تھا۔۔۔بانو بھی زیادہ اسے احساس نہیں دلا رہی تھی کے اس کاجِسَم کس حد تک ننگا ہے۔۔۔کھانا کھانے کے بعد بانو نےبرتن سمیٹے اور پِھر بولی۔۔۔ بانو :فرح آپ ٹی وی دیکھو میں دس منٹ میں نیچے اپنےکمرے سے ہو کر آتی ہوں پِھرسوتے ہیں۔۔۔ فرح :جلدی آنا۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے۔۔۔ بانو دروازے سے باہر جاتےہوئے۔۔۔بس ابھی آئی میں دس منٹ میں۔۔۔ آٹو لوک تھا دروازہ۔۔۔بانو جاتے ہوئے دروازہ لوک کر گئی۔۔۔کھولنا اب اندر سے ہی تھا اور یا پِھر باہر سے چابی سےہی کھل سکتا تھا۔۔۔مگر بانو کے پاس تو چابی نہیں تھی نہ۔۔۔اِس لیے فرح کو انتظار کرناتھا کہ بانو آئے تو وہ دروازہ کھولے اُس کے لیے۔۔۔اِس لیے وہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگی۔۔۔بانو فرح کے پاس سے نکلی اور سیدھی میجر کے فلیٹ پر پہنچی۔۔۔ہلکے سے نوک کرنے پر میجرنے دروازہ کھولا۔۔۔بانو کو دیکھتے ہی اس کاہاتھ پکڑ کے اندر گھسیٹ لیااور لگا اسے چومنےلگا۔۔۔ بانو:بس بس میجر صاحب۔۔۔کسی اور کی لگائی ہوئی آگ میرے ساتھ تو نہ بجھاؤ نہ۔۔۔ میجر ہنستے ہوئے۔۔۔کیا مطلب ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ بانو:میں سب دیکھ رہی تھی کہ کیسے آپ فرح کو دیکھ رہےتھے۔۔۔بھوکی نظروں سے۔۔۔ میجر بانو کے مموں کو دباتےہوئے بولا۔۔۔ارے یار۔۔۔کسی طرح سے آج کی رات اس کنواری کلی کی چوت دلوا دے نہ توجو مانگے گی دوں گا تجھے۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔نہیں ابھی مشکل ہے۔۔۔پر آپ کے لیے تھوڑی مستی کا بندوبست کیا ہے۔۔۔ ارادہ ہے تو بتاؤ۔۔۔ میجر :کیسی مستی۔۔۔جلدی بول نہ۔۔۔ بانو :اچھا تو جا کر ذرا فرح کادروازہ نوک کر۔۔۔پِھر دیکھنا کیا نظارہ ملتا ہےدیکھنے کو۔۔۔ میجر :ارے ٹھیک ٹھیک بتا نہ کیاہو گا۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔یہ نہیں بتاؤں گی میں۔۔۔خود ہی دیکھ لینا جا کر۔۔۔مگر کچھ بھی نہیں کرنا سمجھے۔۔۔ورنہ سارا کام خراب ہو جائےگا دیکھنا۔۔۔ میجر بولا۔۔۔اچھا چل ٹھیک ہے چل۔۔۔ بانو :نہیں۔۔۔میں نہیں جاؤں گی۔۔۔آپ اکیلے ہی جاؤ اور جلدی واپس آنا۔۔۔ بانو میجر کے فلیٹ پر ہی رک گئی اور میجر فرح کے فلیٹ کی طرف بڑھا۔۔۔جو بالکل سامنے ہی تو تھا۔۔۔میجر نے جا کر فرح کےدروازے کو ہلکا سا نوک کیااور انتظار کرنے لگا۔۔۔چند لمحوں میں ہی دروازہ کھلا اور ساتھ ہی میجر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گیں۔۔۔میجر کے سامنے خوبصورت اور جواں فرح۔۔۔ایک بہت ہی باریک قمیض پہنے ہوئے کھڑی تھی۔۔۔جس کے نیچے پہنا ہوا اس کاسفید رنگ کابرابھی بالکل صاف نظرآ رہا تھا۔۔۔برا کے کپس کا کٹاؤ بیچ میں سے سائیڈ کوجا رہا تھا۔۔۔برا کے درمیان میں سے اس کا گورا گورا کلیویج اورمموں کا تھوڑا سا حصہ بھی دِکھ رہا تھا۔۔۔گورا گورا پیٹ اور پُورا جِسَم تو صاف ہی نظر آ رہا تھا۔۔۔میجر تو جیسے آنکھیں جھپکنا ہی بھول گیا۔۔۔دروازہ تو فرح نے بانو کے لیےکھولا تھا۔۔۔مگر اچانک سے اپنے سامنےمیجر کو دیکھ کر وہ گھبراسی گئی۔۔۔سمجھ نہیں آئی کے کیا کرے۔۔۔میجر کی نظریں اپنے جِسَم پر جمی ہوئی محسوس ہوئیں تو فوراً ہی اسےخیال آیا کہ اس نے خود کیاپہنا ہوا ہے۔۔۔یہ خیال آتے ہی اس کی توجیسے جان ہی نکل گئی۔۔۔جھٹ سے دروازہ بند کیااور دروازے سے ٹیک لگا کرکھڑی ہو گئی۔۔۔لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔۔ فرح :اف ف ف۔۔۔ یہ کیا ہو گیا۔۔۔یہ کہاں سے ٹپک پڑااِس وقت اور کمینے نے سب کچھ دیکھ لیا۔۔۔ فرح تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اِس وقت میجر اُس کے فلیٹ پرنوک کر سکتا ہے۔۔۔ کچھ ہی دیر میں دوبارہ نوک ہوا اور ساتھ ہی بانو کی آواز آئی۔۔۔دروازہ کھولو فرح بی بی۔۔۔ فرح نے دروازہ کھولا لیکن اِس بار خود کو دروازے کےپیچھے ہی رکھا۔۔۔بانو اندر داخل ہو گئی۔۔۔جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہواور اسے کسی بات کا نہ پتہ ہو۔۔۔ فرح :کہاں چلی گئی تھی تم بانو۔۔۔ بانو :بتا کہ تو گئی تھی کے نیچےجا رہی ہوں۔۔۔خیر تو ہے نا کوئی مسئلہ ہواہے کیا۔۔۔ فرح خاموش ہوتے ہوئے۔۔۔نہیں کچھ نہیں ہوا۔۔۔چل آ سونے چلتے ہیں۔۔۔ یہ کہہ کر فرح اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھی تو بانوبھی مسکراتے ہوئے اُس کےپیچھے پیچھے چل پڑی۔۔۔اس کی نظر فرح کی بیک پرہی تھی۔۔۔اس کی باریک قمیض میں سے اس کا گورا گورا جِسَم بالکل ننگا نظر آ رہا تھااور کمر پر اس کے سفیدرنگ کی برا کےاسٹراپس اور ہکس بہت ہی سیکسی لگ رہے تھے۔۔۔تھوڑا آگے ہو کر اپنا ہاتھ فرح کی کمر پر رکھااور بولی۔۔۔ بانو :قسم سے بہت ہی سیکسی لگ رہی ہو تم اِس ڈریس میں تو۔۔۔ فرح نے پیچھے مڑ کر اسےگھورااور پِھر مسکرا کر بولی۔۔۔بکواس نہ کر۔۔۔ یہ کہتے ہوئے فرح اپنے بیڈ پرلیٹ گئی۔۔۔بانو بھی اُس کے پاس ہی لیٹ گئی اور اپنا ہاتھ فرح کی قمیض کے اُوپر سے اُس کے پیٹ پررکھتے ہوئے بولی۔۔۔ بانو :کوئی بکواس نہیں کر رہی میں۔۔۔سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔قسم سے اگر کوئی مرد تم کواِس حالت میں دیکھ لے نہ تووہیں اپنی جان دے دے۔۔۔ فرح ہنستے ہوئے :تو پِھر سے شروع ہو گئی ہےنہ۔۔۔ بانو اپنی جگہ سے اٹھتےہوئے بولی۔۔۔اگر یقین نہیں آ رہا تو بلاؤں میں سامنے سے میجر صاحب کو دیکھنا تم کو ایسے دیکھ کر کیسے اس کی جان نکلتی ہے۔۔۔ فرح نے گھبرا کر اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔۔۔چُپ کر کے لیٹ جا نہیں تولگاؤں گی تیرے دو ہاتھ۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے دوبارہ لیٹ گئی۔۔۔فرح نے بھی دوسری طرف اپنا منہ کر لیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔مگر اس کی آنكھوں میں نیند کے بجائے۔۔۔وہی منظر گھوم رہا تھا کہ جب وہ اسی سیکسی ڈریس میں میجر کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔خود کو لعنت کر رہی تھی۔۔۔پتہ نہیں وہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہو گا۔۔۔کتنا برا امپریشن پڑا ہے نہ میرا اس پر۔۔۔کیا سوچے گا کہ میں گھرمیں ایسے کپڑے پہنتی ہوں۔۔۔سب کچھ اِس کمینی بانوکی وجہ سے ہوا ہے جو اس نے میرے جِسَم کو ایسے ننگادیکھ لیا ہے۔۔۔بانو نے اس کی کمر پرپیچھے سے ہاتھ رکھا اور آہستہ آہستہ اسے سہلانے لگی۔۔۔ بانو :فرح جی آپ تھک گئی ہوگی کہو تو تمہارا جِسَم دبا دوں۔۔۔ فرح ہنس پڑی اور اس کی طرف منہ کر کے لیٹتے ہوئےبولی۔۔۔مجھے پتہ ہے کیوں تو میراجِسَم دبانا چاہتی ہے۔۔۔کتنی بار تجھے سمجھایا ہےکہ مجھے ایسی باتوں کاکوئی شوق نہیں ہے جو تو ہر وقت کرنے کا سوچتی رہتی ہے۔۔۔ بانو اپنا ہاتھ فرح کے بازو پررکھتے ہوئے بولی۔۔۔بس کیا کروں۔۔۔تم کو دیکھ کر خود پر کنٹرول ہی نہیں ہوتا۔۔۔پتہ نہیں تیرے وہ اشرف بھائی کیسے خود کوکنٹرول کرتے ہیں۔۔۔ فرح ہنسی۔۔۔تو تو بس اشرف بھائی کےپیچھے ہی پر گئی ہے۔۔۔ بانو :یقین نہیں آ رہا نہ تو کل کوذرا اسی ڈریس میں اُسکے سامنے آ کر تو دیکھو ذراپِھر دیکھتی ہوں کیسے کنوارہ پن بچاتی ہو تم اپنے اسے بھائی کے ہاتھوں۔۔۔ فرح ہنستے اور شرم سے لال ہوتے ہوئے۔۔۔شرم کر شرم۔۔۔ بانو :اچھا چل کل آزما تو سہی اپنے بھائی کو۔۔۔کل صبح کو اسے بلاتے ہیں گھر پر پِھر دیکھتے ہیں کیاکرتا ہے وہ۔۔۔ فرح :کل صبح کیسے۔۔۔وہ تو آپی کو لے کر آتے ہیں ہسپتال سے۔۔۔ بانو نے جب فرح کی تھوڑی سی رضامندی دیکھی توفوراً بولی۔۔۔ایک آئیڈیا ہے میرے دماغ میں کہ اسے کہتے ہیں کہ آکر ناشتہ بھی لے جائے اور تم کو بھی ہسپتال لے جائے گا۔۔۔ فرح :نہیں نہیں۔۔۔ان کو کیسے کہہ سکتے ہیں۔۔۔وہ تو ابھی کام پر ہیں۔۔۔ بانو نے فوراً اپنا موبائل نکالااور بولی میں ابھی کال کردیتی ہوں۔۔۔ فرح حیران ہو کر :تیرے پاس ان کا نمبر ہے کیا۔۔۔؟؟ بانو :ارے فرح یار میں ان کے گھرپر کام کرتی ہوں تو صباءباجی سے لے لیا تھا نہ۔۔۔ فرح :اچھا رک۔۔۔نہ ملانا نمبر۔۔۔ابھی رک۔۔۔ مگر بانو نے کال ملا لی اور چند لمحوں کے بعد ہی اشرف نے فون اٹینڈ کر لیااور بانو کا نمبر دیکھ کر بولا۔۔۔ اشرف :کیا بات ہے بانو اِس وقت کیوں کال کر رہی ہو۔۔۔میں نے روکا بھی تھا کہ اب کوئی رابطہ نہیں کرنا میرےسے پتہ تو ہے تم کو سب۔۔۔ بانو اس کی بات کو نظر اندازکر کے بولی۔۔۔یہ فرح میم صاحب نے آپ سے کچھ بات کرنی تھی لیں کریں ان سے بات۔۔۔ اشرف گھبرا گیا کہ فرح نےاِس وقت کیا کہنا ہے۔۔۔بانو نے موبائل فرح کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔۔۔فرح جو انکار میں سر ہلارہی تھی اب اسے بات کرنی پڑ گئی۔۔۔ فرح :ہیلو۔۔۔ اشرف :ہیلو۔۔۔ہاں بولو۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔؟؟ فرح :غصے سے بانو کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔وہ میں کہہ رہی تھی کہ آپ صبح یہاں گھر آ سکتے ہیں پلیز۔۔۔وہ ناشتہ لے کر جانا ہے ابو کاتو آپی کو لینے کے ساتھ ہی ناشتہ بھی چلا جائے گا اورمیں بھی ساتھ ہسپتال چلی جاؤں گی۔۔۔ اشرف نے چند لمحے کےلیے سوچا۔۔۔اچھا ٹھیک ہے میں آ جاؤں گا۔۔۔ فرح :نہیں اگر کوئی پرابلم ہے توکوئی بات نہیں۔۔۔ اشرف :نہیں نہیں میں آ جاؤں گاصبح ساڑھے آٹھ تک۔۔۔ فرح :او کے۔۔۔پِھر بائے۔۔۔ یہ کہہ کر فرح نے فون بند کردیااور فون بند کرتے ساتھ ہی تکیہ اٹھا کر بانو کو مارنےلگی اور وہ آگے سے ہنستے جارہی تھی۔۔۔ دیکھا نہ میں نے کہا تھا نہ کہ بھاگے چلیں آئیں گیں آپ کے اشرف بھائی۔۔۔ فرح بھی ہنسنے لگی اور پِھر اٹھ کر واش روم میں چلی گئی۔۔۔فرح کے جانے کے بعد بانو نےصباء کو کال ملائی۔۔۔جو کہ ہسپتال میں تھی مولوی صاحب اور آنٹی کےپاس۔۔۔ صباء :ہیلو۔۔۔ہاں بانو بولو کیا بات ہے۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔لگتا ہے میں نے آپ کے مزےکو خراب کر دیاہے۔۔۔ صباء اَٹھ کر تھوڑا سائیڈ پرہوگئی مولوی صاحب سے۔۔۔ کمینی کوئی ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ بانو :تو کیا کام ہوا نہیں ابھی تک مولوی صاحب کا۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔ہاں وه تو ہو گیا ہے پر ابھی تو کچھ نہیں کر رہی تھی نہ۔۔۔ بانو :واہ۔۔۔کیسا رہا پِھر۔۔۔مزا آیا نہ۔۔۔ صباء ہنستے ہوئے۔۔۔بکواس بند کر پِھر بتاؤں گی تم کو جب ملو گی تواور چل اب فون بند کر۔۔۔ بانو :اوکے اوکے۔۔۔آپ اپنے مزے کرو۔۔۔میں سوتی ہوں۔۔۔ صباء نے فون بند کر دیا تومولوی صاحب بولے۔۔۔کس کا فون تھا۔۔۔ صباء :وه بانوکا فون تھا آنٹی کی طبیعت کا پوچھ رہی تھی۔۔۔ مولوی صاحب :اوہ اچھا۔۔۔فرح کے پاس ہی ہو گی نہ۔۔۔ صباء :جی مولوی صاحب۔۔۔ صباء دوبارہ سے آنٹی کےپاس گئی تو اب ان کو نیند آرہی تھی۔۔۔وه ان کے سرہانے بیٹھ کر ان کا سر سہلانے لگی۔۔۔کچھ ہی دیر میں آنٹی کی آنکھ لگ گئی۔۔۔تو صباء نے مولوی صاحب کی طرف دیکھا۔۔۔وه صباء کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔۔۔تو صباء نے شرما کر اپنا سرجھکا دیا۔۔۔ مولوی صاحب صوفہ پر ہی بیٹھے تھے۔۔۔ بولے۔۔۔صباء۔۔۔ صباء نے اپنی نظریں اٹھا کردوبارہ جھکائیں اور بولی :جی۔۔۔ مولوی صاحب نے اپنےبازو پھیلائے اور بولے۔۔۔ادھر تو آؤ۔۔۔ صباء کا چہرہ شرم سے لال ہونے لگا اور شرارت سےمولوی صاحب کو دیکھتےہوئے بولی۔۔۔ نہیں آنا مجھے آپ کے پاس۔۔۔ مولوی صاحب اپنی سیٹ سے اٹھتے ہوئے بولے۔۔۔اچھا تم نے نہیں آنا تو میں خود آ جاتا ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر وه اٹھے اور صباءکی طرف بڑھےاور آگے آ کر اس کا ہاتھ پکڑکر اسے اپنی طرف کھینچنے لگے۔۔۔صباء ہلکی سی مزاحمت کرتے ہوئے بولی۔۔۔ صباء :اچھا اچھا آتی ہوں۔۔۔پہلے لائٹ تو بند کریں۔۔۔ مولوی صاحب نے کمرے کی لائٹ بند کر دی۔۔۔اب صرف باتھ روم کےتھوڑے سے کھلے ہوئےدروازے میں سے ہی اندر کی لائٹ آ رہی تھی۔۔۔جس سے کمرے میں تھوڑی روشنی ہو رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب دوبارہ سے صوفہ پر بیٹھ گئے توصباء اپنا سر جھکائے ہوئےآہستہ آہستہ مولوی صاحب کی طرف بڑھی۔۔۔شرماتی ہوئی۔۔۔لہراتی ہوئی۔۔۔ دھیمے قدموں سے۔۔۔مولوی صاحب پر بجلیاں گراتی ہوئی۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب کےقریب پہنچی تو مولوی صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑکر کھینچا اور اسے اپنی رانوں پر بِٹھا لیا اپنی گودمیں اور صباء بھی جیسے ان کی آغوش میں سما سی گئی۔۔۔اپنا سر مولوی صاحب کے کاندھے پر رکھ کر چُھپالیااور ان کی بانہوں میں سمٹ سی گئی۔۔۔مولوی صاحب جیسی بھرپوراور باروب شخصیت کی بانہوں میں اِس طرح سےسما کر صباء کو بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔۔۔ایک عجیب سا مگر بہت ہی اچھا احساس ہو رہا تھا۔۔۔بہت زیادہ خود کو پروٹیکٹڈمحسوس کر رہی تھی۔ بہت زیادہ محفوظ۔۔۔جیسے اس کو بہت زیادہ سپورٹ مل گئی ہو۔۔۔کسی کی حفاظت میں آگئی ہو۔۔۔شاید یہی ایک احساس تھانہ جو اُس کے دِل میں مولوی صاحب کے لیے محبت کوجگا رہا تھا۔۔۔اسے یہ احساس کبھی بھی اشرف یا میجر کی بانہوں میں محسوس نہیں ہوا تھا۔۔۔مولوی صاحب نے صباء کےچہرے کو اوپر اٹھایا اور اپنےہونٹ اُس کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔۔۔ ان کی بھرپور داڑھی میں چھپے ان کے موٹے موٹے ہونٹ صباءکے پتلے پتلے گلابی ہونٹوں پر آئے تو صباء نے اپنےہونٹوں کو مولوی صاحب کےموٹے ہونٹوں کے سپرد کر دیااور خود کو مولوی صاحب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔۔۔تاکہ جیسے چاہیں مولوی صاحب اُس کے جِسَم کو استعمال کریں۔۔۔اس سے لطف اٹھائیں اور لذت حاصل کریں۔۔۔جو کچھ بھی مولوی صاحب کرتے۔۔۔مزا تو صباء کو بھی آنا ہی تھا نہ۔۔۔ ٭٭٭٭٭ کمرے کی لائٹ بند ہو چکی ہوئی تھی۔۔ مکمل اندھیرا تھااور بیڈ پر فرح اور بانوہی لیٹے ہوئے تھے۔۔۔دونوں ہی خاموش تھیں۔۔۔فرح تو کب کا سونے کا کہہ چکی ہوئی تھی اور اب تو دونوں کو خاموشی سے لیٹے ہوئے بھی کافی دیرہو چکی ہوئی تھی۔۔۔دونوں کو ہی یقین تھا کہ دوسری سو چکی ہوئی ہے۔۔۔مگر فرح اچانک سے ہو جانےوالے تمام واقعات پر غور کررہی تھی۔۔۔اسے سب کچھ عجیب سافیل ہو رہا تھا۔۔۔ایک فلم سی چل رہی تھی اُس کے دماغ میں۔۔۔پہلے اُس کے جِسَم اور مموں کا اشرف کی کمرپر چھو جانااور اس مموں کے چھو جانے کے بعد اُس کے جِسَم کا ری ایکشن۔۔۔ایک عجیب سی کیفیت کاپیدا ہونا۔۔۔ایک عجیب سا احساس جِسَم میں ہونا۔۔۔پِھر بائیک روکنے کے بعداشرف کا اُس کے مموں کی طرف دیکھنا۔ جو کہ پہلی بار ہوا تھا۔۔۔پہلی بار ہی تو تھا۔۔۔آج سے پہلے کبھی بھی اشرف نے اِس طرح سے اُسکے مموں کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔لیکن آج وه اُس کے سینےکے ابھاروں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔اس کی چادر کے نیچے ہی تھے مگر پِھر بھی صاف تودِکھ رہے تھے۔۔۔پِھر بانو کی عجیب و غریب باتیں اور نہاتے ہوئے اُس کے ہاتھ کااپنی ہی چوت کو چھو جانااور اس کا مساج کرتے ہوئےکچھ عجیب سا ہونا۔۔۔کسی چیز کا اُس کے اندر سےنکلنا۔۔۔مگر اس نکلنے کے ساتھ ہی ایک نیا لطف زندگی کا ملنااور پِھر۔۔۔باریک قمیض میں میجرکے سامنے اچانک سے اپنےجِسَم کی نمائش کا ہو جانا۔۔۔سب کچھ تو عجیب ہو رہاتھا آج اور اب سوتے سوتے بانو نےجو اس کی بات اشرف سے کروا دی تھی اور اسےصبح ہی صبح بلوا لیا تھا۔۔۔یہ بھی تو کچھ عجیب ہی ہونے جا رہا تھا نہ۔۔۔پتہ نہیں کیا ہو گا۔۔۔یہ بانو تو مروائے گی مجھےمیرے باپ سے۔۔۔فرح دِل ہی دِل میں مسکرائی۔۔۔مسکراہٹ اُس کے لبوں پر ہی تھی کہ۔۔۔بانو کا ہاتھ اُس کے جِسَم پر آگیا۔۔۔سیدھا اُس کے پیٹ پر۔۔۔نیند میں اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ کہاں کا کہاں ہاتھ جارہا ہے۔۔۔فرح نے سوچااور اس کا ہاتھ ویسے ہی پڑارہنے دیااور خود بھی کوئی حرکت نہیں کی۔۔۔لیکن یہ کیا۔۔۔بانو کا ہاتھ تو آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگا تھا۔۔۔اُس کے پیٹ کو سہلا رہا تھا۔۔۔اِس سے پہلے کے اس کاہاتھ ہٹانے کا سوچتی۔۔۔اُس کے ہاتھ کی حرکت سے فرح کو عجیب سا مزا آیا۔۔۔ہلتا ہوا ہاتھ۔۔۔فرح کے پیٹ کے نچلے حصےکی طرف بڑھنے لگا۔۔۔جیسے ہی بانو کا ہاتھ فرح کی ناف سے نیچے گیا تو اُسکے جِسَم میں ایک بار پِھروہی کیفیت پیدا ہونے لگی۔۔۔جو باتھ روم میں نہاتے وقت پیدا ہوئی تھی۔۔۔ایکدم سے اس کی چوت نےایک جھٹکا سا لیا۔۔۔تھوڑی سی سکڑ کر پِھر سےریلکس ہوگئی۔۔۔لیکن اتنی سی حرکت سے ہی فرح کو ایسا مزا آیا کہ اس نے بانو کا ہاتھ اپنے جِسَم سے ہٹانے سے خود کو روک لیا۔۔۔ دیکھوں تو سہی یہ کیا کرتی ہےاور اس کے چھونے سے ایسامزا کیوں آیا ہے۔۔۔یہ پِھر سے نیچے کیا ہونے لگاہے میرے۔۔۔کیا پِھر سے میرے اندر سےکچھ نکلے گا۔۔۔شاید۔۔۔ دیکھتی ہوں اور دیکھوں تو سہی آخر یہ کرنا کیا چاہتی ہے۔۔۔جو ہر وقت میرے جِسَم کو چھیڑتی رہتی ہے۔۔۔بانو نے اپنا ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے کو سرکایا۔۔۔فرح کی چوت کی طرف اور پِھر بہت ہی ہلکے سے اپناہاتھ فرح کی شلوار کے اُوپرسے ہی اس کی چوت پر رکھ دیا۔۔۔ایک لمحے کے لیے تو فرح کاجِسَم کانپ ہی گیا۔۔۔مگر پِھر بھی اپنی حرکت کوکنٹرول کر گئی فرح۔۔۔بانو نے آہستہ آہستہ فرح کی چوت کو سہلانا شروع کردیا۔۔۔بانو کی انگلی فرح کی چوت کو چھیڑ رہی تھی۔۔۔اسے سہلانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔مگر درمیان میں کپڑا ہونےکی وجہ سے ٹھیک سے وه فرح کی چوت کو محسوس نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔دوسری طرف فرح کو بھی مزا آ رہا تھا۔۔۔اسے بانو کی انگلی۔۔۔پہلی بار کسی دوسری کی انگلی اپنی چوت پرمحسوس کر کے اچھا لگ رہاتھا۔۔۔وہ اِس مزے کو زیادہ دیر تک جاری رکھنا چاہ رہی تھی۔۔۔بانو نے آہستہ سے اپنا ہاتھ فرح کی قمیض کےنیچے سرکایااور اس کا ہاتھ فرح کے ننگےپیٹ پر آ گیا۔۔۔فرح کے تو پیٹ پر ہی گدگدی سی ہونے لگی۔۔۔مگر بانو نے زیادہ دیر کے لیےفرح کو مشکل میں نہیں ڈالااور اپنا ہاتھ فرح کی ایلاسٹک والی شلوار کےایلاسٹک کے اندار گھساناشروع کر دیا۔۔ بہت ہی آہستہ سے بانو کاہاتھ فرح کی شلوار میں سرک گیا۔۔۔ہاتھ اندر لے جاتے ہی بانو کو پہلا احساس یہی ہوا کہ فرح کی چوت پر بہت ہی ہلکےہلکے بال ہیں۔۔۔جیسے کچھ دن سے اس نےاپنے بال صاف نہ کئے ہوں۔۔۔بانو نے فرح کی چوت کےبالوں کو آہستہ آہستہ سہلاتے ہوئے اپنا ہاتھ نیچےکو سرکایا اور اس کی انگلی فرح کی چوت کے لبوں کےقریب پہنچ گئی۔۔۔ ٭٭٭٭٭ مولوی صاحب کی رانوں پربیٹھی ہوئی صباء نے آہستہ آہستہ مولوی صاحب کی کسنگ کا جواب دینا شروع کر دیا۔۔۔جیسے جیسے مولوی صاحب اُس کے ہونٹوں کو چومتے ویسے ویسے صباءبھی مولوی صاحب کےہونٹوں کو چومتی۔۔۔مولوی صاحب نے صباء کےہونٹوں کو باری باری اپنےہونٹوں میں لے کر چوسناشروع کر دیا۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
  2. قسط نمبر31 مولوی صاحب :کیوں۔۔۔کیوں نہیں آؤ گی۔۔۔؟؟؟ صباء : آپ۔۔۔آپ۔۔۔تنگ کرتے ہیں مجھے اِس لیے۔۔۔ صباء نے ایک ادا کے ساتھ کہاتو مولوی صاحب جیسےوہیں لوٹ گئے۔۔۔مولوی صاحب اٹھےاور صباء کی طرف بڑھے۔۔۔صباء کا ہاتھ پکڑااور اسے آہستہ سے کرسی سے اٹھایا۔۔۔تم لیٹ جاؤ آ کر صوفہ پر۔۔۔میں تم کو تنگ نہیں کروں گا۔۔۔ صباء مولوی صاحب کےساتھ صوفہ کی طرف کھینچتے ہوئے بولی۔۔۔نہیں انکل میں نے سو لیا ہے۔۔۔اب آپ آرام کر لو تھوڑا۔۔۔میں سوئی تو آپ پِھر سے۔۔۔ مولوی صاحب :کیا میں پِھر سے۔۔۔؟؟؟ صباء شرما کر صوفہ پربیٹھتی ہوئی۔۔۔کچھ نہیں انکل۔۔۔میرا مطلب تھا کہ میں سوئی تو آپ کو پِھر سے کرسی پربیٹھنا پڑے گا۔۔۔ مولوی صاحب کو تھوڑا شک تو ہو رہا تھا کہ صباء کوشاید پتہ لگ گیا ہے اُس کےچھیڑنے کا۔۔۔ مگر یہ بھی یقین تھا کہ اس نے برا نہیں منایا ہے اِس بات کااور اسی بات سے ان کاحوصلہ بڑھ رہا تھا۔۔۔وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنی چال میں کامیاب ہوتےجا رہے ہیں۔۔۔مولوی صاحب نےاسے صوفہ کے آرم والی سائیڈپر بٹھایااور بولے۔۔۔ ہاں میں بھی آرام کر لیتا ہوں۔۔۔تم لیٹ جاؤ۔۔۔ صباء صوفہ پر بیٹھ گئی تو۔۔۔مولوی صاحب دوسرےکنارے کی طرف صباء سےدور ہٹ کر بیٹھ گئے۔۔۔ مولوی صاحب :ٹانگیں اپنی سیدھی کر لو نہ اور ریلکس ہو کر لیٹ جاؤ۔۔۔ صباء نے آہستہ سے اپنی دونوں ٹانگیں اُوپر کیں اورسائیڈ آرم سے ٹیک لگا لی۔۔۔مگر اپنی ٹانگیں پھیلائی نہیں۔۔۔کیوں کہ آگے تو مولوی صاحب بیٹھے ہوئے تھےاور ٹانگیں پھیلاتی تو صباءکے پیر مولوی صاحب کی گود میں ہی جاتے۔۔۔مگر مولوی صاحب نے صباءکے پیروں کو پکڑا اوراپنی گود میں کھینچ کر اسکی ٹانگوں کو سیدھا کر دیا۔۔۔صباء کی پنڈلیاں مولوی صاحب کی رانوں پر آگئی تھیں اور پیر آگے تھے۔۔۔ صباء :آہستہ سے بولی۔۔۔انکل۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔نہیں چھوئیں نہ میرے پیروں کو۔۔۔ مولوی صاحب نے اپنے ہاتھ صباء کے گورےگورے ملائم چکنے پیروں پررکھے اور ان کو سہلاتے ہوئےبولے۔۔۔ کیوں۔۔۔کیوں نہ چھؤں۔۔۔؟؟؟ صباء تھوڑا سا اپنے پیروں کو چھڑوانے کے اندازمیں ہلا کر بولی۔۔۔انکل اچھا نہیں لگتا نہ۔۔۔ آپ۔۔۔آپ اتنی بڑے ہیں۔۔۔تو میرے پیروں کو چھوتے ہوئے اچھا نہیں لگتا نہ۔۔۔ مولوی صاحب مسکرائے۔۔۔اور صباء کے پیروں کو اپنےہاتھوں میں لے کرسہلاتے ہوئے بولے۔۔۔مگر مجھے تو اچھا لگ رہا ہےصباء بیٹی۔۔۔ صباء شرما دی۔۔۔بہت ضدی ہو آپ بھی نہ۔۔۔ مولوی صاحب نے اب اپناایک ہاتھ صباء کی پنڈلی پررکھ دیا ہوا تھااور اپنے ہاتھ کو آہستہ آہستہ صباء کی پنڈلی پر رگڑ رہےتھے۔۔۔اس کی پنڈلی کو سہلا رہےتھے۔۔۔صباء نے بھی لذت کے مارے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔۔۔ س س س۔۔۔پلیز انکل نہ کریں۔۔۔ مولوی صاحب نے صباء کی سسکیاں سنیں تو مسکرائےاور صباء کے پاجامہ کے اُوپرسے اس کی ٹانگ کو سہلاتے ہوئے بولے۔۔۔ کیسے پہن لیتی ہوتی ہو تم لڑکیاں یہ پاجامے۔۔۔؟؟ صباء مسکرائی :کیوں انکل۔۔۔آپ کو اچھا نہیں لگ رہا کیا۔۔۔؟؟؟ مولوی صاحب اپنا ہاتھ صباء کی ٹانگ پر سہلاتے ہوئے اُوپرکو جاتے ہوئے بولے۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہے۔۔۔ مولوی صاحب کا ہاتھ صباءکی قمیض کے نیچےسے سرکتا ہوا صباء کی رانوں پر پہنچنے لگا تھا۔۔۔مگر صباء نے اپنا ہاتھ بڑھا کرمولوی صاحب کے ہاتھ پررکھ دیا۔۔۔ صباء :نہیں نہیں۔۔۔پلیز انکل۔۔۔آنٹی اٹھ گیں تو کیاسوچیں گی۔۔۔پلیز نہ کریں۔۔۔ مولوی صاحب نے دیکھا کہ صباء کوئی خاص مزاحمت نہیں کر رہی ہے تو وہ خوش ہوگئےاور اٹھ کر بولے۔۔۔ایک منٹ۔۔۔ مولوی صاحب اٹھےاور کرسی کی بیک پر پڑی ہوئی اس کی چادر لا کرصباء کے اُوپر پھیلا دی۔۔ صباء کا پُورا جِسَم ڈھک گیاتھااور اُس کے پیروں تک آ رہی تھی اس کی چادر۔۔۔مولوی صاحب دوبارہ سے بیٹھنے لگے۔۔۔تو صباء بولی۔۔۔ صباء :نہیں انکل یہاں نہیں بیٹھیں پلیز۔۔۔مجھے شرم آتی ہے۔۔۔ مولوی صاحب ہنسے۔۔۔ارے کیا ہے نہ تم کو بھی بیٹی۔۔۔لو میں لائٹ ہی بند کر دیتاہوں۔۔ صباء :ن۔۔۔ن ن ن نہیں انکل۔۔۔ مگر مولوی صاحب نے اسکی بات سنے بنا ہی اٹھ کرکمرے کی آخری لائٹ بھی بند کر دی۔۔۔ اب کمرے میں بالکل اندھیراہو گیا ہوا تھا۔۔۔مولوی صاحب آہستہ آہستہ صوفہ کی طرف بڑھےاور اپنے موبائل کی ہلکی سی روشنی میں صباء کےپیروں کی طرف بیٹھ گئے۔۔۔صباء نے اپنی ٹانگیں سمیٹ لی ہوئی تھیں۔۔۔مولوی صاحب نے نیچے بیٹھ کر دوبارہ سے صباء کی ٹانگیں اپنے اوپر پھیلا لیں۔۔۔ صباء آہستہ سے بولی۔۔۔انکل پلیززز نہیں۔۔۔کریں۔۔۔ مگر مولوی صاحب آہستہ آہستہ صباء کی ٹانگوں کو سہلانے لگے۔۔۔ مولوی صاحب :صباء تم خاموشی سے سوجاؤ۔۔۔دیکھو میں نے اب تو لائٹ بھی بند کر دی ہے صباء اس اندھیرے میں آہستہ سے ہنسی۔۔۔آپ سونے دو گے تو سوسکوں گی نہ۔۔۔ صباء کی خوبصورت ہنسی۔۔۔اس اندھیرے کمرے میں کسی چھوٹی سی گھنٹی کی طرح کھنک گئی تھی اور اس کا بھی مولوی صاحب پر ڈائریکٹ اثرہوا تھا۔۔۔مولوی صاحب اپنا ہاتھ صباءکی ٹانگوں پر سے اس کی رانوں پر لے جاتے ہوئےدھیرے سے بولے۔۔۔ کیوں میں نے کیا کہا ہے تم کو۔۔۔؟؟ صباء پِھر ہنسی۔۔۔لگتا ہے کہ آنٹی کو بھی آپ ایسے ستاتے ہوں گے نہ۔۔۔ مولوی صاحب :ارے ارے یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔۔میں تو تمہاری ٹانگیں سہلارہا ہوں اور دبا رہا ہوں۔۔۔تھک گئی ہو گی نہ تم صبح سے۔۔۔اِس لیے۔۔۔ صباء مولوی صاحب کےہاتھوں کو اپنی رانوں پر اُوپرکی طرف بڑھتا ہوامحسوس کر رہی تھی۔۔ دھیرے سے بولی۔۔۔دیکھو تو آپ کے ہاتھ کہاں تک جا رہے ہیں اور ایسے دباتے ہیں کیا۔؟ مولوی صاحب ہنسے۔۔۔مجھے تو ایسے ہی آتا ہے دبانا۔۔۔ صباء :رہنے دیجئے۔۔۔مجھے نہیں دبوانی اپنی ٹانگیں آپ سے۔۔۔میں تو لگی ہوں سونے۔۔۔ کرتے رہو آپ جو کرنا ہے۔۔۔آپ کو تو لگتا ہے نیند ہی نہیں آ رہی۔۔۔ مولوی صاحب کا ہاتھ آہستہ آہستہ صباءکی رانوں سے سرکتا ہوا اُسکے پیٹ پر آ گیا تھا۔۔۔ ہاں ہاں سو جاؤ تم۔۔۔ صباء اب چُپ کر کے لیٹ گئی۔۔۔جیسے مولوی صاحب کوکھلی چھٹی دے دی تھی۔۔۔سب کچھ کرنے کی۔۔۔سب جگہ پر چھونے کی۔۔۔مولوی صاحب کا ہاتھ صباءکے پیٹ کو چھونے لگا۔۔۔صباء ہولے سے پِھر تڑپی اور بولی۔۔۔ اف ف ف۔۔۔ بہت تنگ کرتے ہیں آپ۔۔۔نہ کریں نہ۔۔۔گدگدی ہوتی ہے مجھے۔۔۔ مولوی صاحب اپنے ہاتھ کوآگے کو لے جاتے ہوئے بولے۔۔۔ ارے میں کہاں کر رہا ہوں گدگدی۔۔۔میں تو بس ہاتھ پھیر رہا ہوں۔۔۔خود ہی تم ہلتی ہو تو گدگدی ہوتی ہے پِھر تم کو۔۔۔ صباء :واہ جی واہ۔۔۔یہ بھی ٹھیک ہے۔۔۔آپ مجھے ایسے چھو رہے ہویہاں وہاں اور میں ہلوں بھی نہیں اور پِھر قصور بھی میرا ہی۔۔۔ مولوی صاحب :ارے کیا ہے۔۔۔کچھ ہوتا ہے کیا تم کو۔۔۔بس چُپ کر کےسوتی رہو تم۔۔ مولوی صاحب نے اپنا ہاتھ صباء کے پیٹ پر تھوڑا اورآگے کو سرکایااور صباء کے مموں کے نیچے کے حصے کو چھونے لگے۔۔۔صباء نے فوراً ہی ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔ یہ آپ کا ہاتھ کچھ زیادہ ہی آگے نہیں جا رہا کیا۔۔۔رک جائیں آپ ورنہ میں ابھی آواز دے رہی ہوں آنٹی کو۔۔۔ مولوی صاحب نے اپنا ہاتھ تھوڑا سا پیچھے کھینچااور بولے کچھ نہیں کر رہا تم کواور اپنی آنٹی کو کیوں جگاتی ہو۔۔۔پتہ بھی ہے کہ انجیکشن دیاہے ان کو۔۔۔ صباء شوخی سے۔۔۔اچھا جی۔۔۔آنٹی کو انجیکشن لگا ہے توآپ کو آزادی مل گئی ہے جوبھی کرتے رہیں۔۔۔ہٹیں بس اب۔۔۔ صباء ہلکی ہلکی مزاحمت کررہی تھی بس۔۔۔بالکل آہستہ سے مولوی صاحب کا ہاتھ اپنے پیٹ پرسے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔مگر۔۔۔ہٹا نہیں پا رہی تھی اور شاید ہٹانا بھی نہیں چاہتی تھی نہ۔۔۔مولوی صاحب نے صباء کےہاتھ کو اپنے دوسرے ہاتھ سے پکڑا اور اپنا ہاتھ آہستہ سے صباء کے دائیں ممے پر رکھ دیا۔۔۔ صباء :س۔۔۔آہ۔۔۔ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔پلیز۔۔۔ مولوی صاحب صباء کے ممےکی گولائی کو اپنے ہاتھ سے ناپتے ہوئے بولے۔۔۔ش ش ش ش۔۔۔شور نہیں۔۔۔کچھ نہیں کر رہا۔۔۔بس دیکھ رہا ہوں ان کو۔۔۔ مولوی صاحب کے بھاری بھرکم ہاتھ میں صباء کےممے ایسے ہی لگ رہےتھے جیسے کے کوئی چھوٹی سی بال ہو بچوں کے کھیلنےوالی اور مولوی صاحب نے آہستہ آہستہ اسے دبانا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب نے اس کے ممے کو دبایا۔۔۔تو صباء کا سینہ اُوپر کو اٹھ گیااور منہ سے ایک تیز سسکی نکل گئی۔۔۔صباء کی ٹانگیں ابھی بھی مولوی صاحب کی گود میں ہی تھیں اور اسے اپنی ٹانگوں کےنیچے مولوی صاحب کا لن کھڑا ہوتا ہوا محسوس ہورہا تھااور یہ چیز۔۔۔مولوی صاحب کے ہاتھوں کےلمس کے ساتھ مل کر اس کی چوت کو گرم کرتے ہوئے۔۔۔اس میں سے رس ٹپکا رہی تھی۔۔۔صباء کی سانسیں بھی تیزہونے لگیں۔۔۔جیسے جیسے مولوی صاحب کے ہاتھ صباء کے مموں کو سہلا رہے تھے۔۔۔صباء کے جِسَم کی گرمی بڑھتی جا رہی تھی اور چوت پانی چھوڑتی جارہی تھی۔۔۔صباء کےمنہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔مولوی صاحب صباء کےمموں کو باری باری اپنی مٹھی میں لے کر آہستہ آہستہ دبا رہے تھے۔۔۔ صباء سسکی۔۔۔مم۔۔۔انکل۔۔۔یہ۔۔۔ٹھیک۔۔۔نہیں۔۔۔ہے۔۔۔انٹی۔۔۔جاگ۔۔۔ جایئں۔۔۔گی۔۔۔ مگر صباء کی ساری فریادبےکار جا رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب اپنی سوچوں میں اپنے منصوبے میں کامیاب ہو چکے ہوئے تھےاور حقیقت میں تو صباءکامیاب ہوئی تھی۔۔۔مولوی صاحب کو پہل کرنےپر مجبور کر کے۔۔۔اچانک ہی دروازے پر دستک ہوگئی۔۔۔صباء اور مولوی صاحب دونوں ہی چونک کر ایک دوسرے سے الگ ہوئےاور صباء فوراً ہی اٹھ کربیٹھ گئی۔۔۔ اپنے کپڑوں کو ٹھیک کرتےہوئےاور مولوی صاحب بھی دِل ہی دِل میں آنے والےکو گالیاں دیتے ہوئے لائٹ جلا کر کمرے کادروازہ کھولنے چلے گئے۔۔۔مولوی صاحب نے دروازہ کھولا تو سامنے نرس کھڑی تھی۔۔۔ہاتھ میں میڈیسن کی ٹرےلیے ہوئے۔۔۔دونوں کو اب احساس ہوا کہ صبح کا وقت ہوگیا تھااور اسی لیے نرس میڈیسن دینے آئی تھی۔۔۔یہ ایک ہی نرس تھی جو ہررات کو ڈیوٹی پر ہوتی تھی اور نائٹ اور مارننگ کی میڈیسن دیتی تھی۔۔ یہ نرس تقریباً بیس بائیس سال کی تھی۔۔۔درمیانی ہائیٹ اور بہت ہی فیر کلر تھا۔۔۔چہرے پر ایک سیکسی پن چھلکتا تھا۔۔۔دیکھنے میں ہی بہت ہوٹ اور سیکسی لگتی تھی۔۔۔ممے بھی اس کی قمیض میں پھنسے ہوئے ہوتے تھےاور خوب ابھرے ہوئےاور ٹائیٹ تھے۔۔۔ نرس اندر داخل ہوئی تو اس نے مولوی صاحب اور صباءکی طرف دیکھا۔۔۔دونوں کے چہروں پر تھوڑی گھبراٹ سی تھی۔۔۔نرس عجیب سی نظروں سےدونوں کو دیکھ رہی تھی۔ مگر اپنے چہرے سے کچھ بھی شو نہیں کر رہی تھی۔۔۔صباء کا چہرہ تھوڑا تھوڑالال ہو رہا تھا۔۔۔ ایسے اچانک کسی کے آجانے سے دونوں ہی تھوڑاگھبرا گئے تھے۔۔۔نرس آنٹی کے بیڈ کے قریب گئی اور انجیکشن بنانے لگی۔۔۔پِھر اس نے صباء کو بلایا۔۔۔جوکہ ابھی بھی صوفہ پر ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ نرس :آپ پلیز ادھر آئیں ذرا۔۔۔ صباء اٹھ کر بیڈ کی دوسری طرف آ گئی اور آنٹی کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔ مولوی صاحب دوسری نرس والی سائیڈ پر ہی کھڑے تھے۔۔۔نرس انجیکشن لگا رہی تھی۔۔ صباء نے مولوی صاحب کےچہرے کو دیکھا تو اسےہنسی آگئی۔۔۔کیونکہ ان کے چہرے پر غصہ تھا۔۔۔صباء شرارت سے مسکراتی ہوئی مولوی صاحب کودیکھتی اور پِھر نظر نرس کی طرف کر لیتی۔۔۔مولوی صاحب چاہتے تھے کہ نرس جلدی سے انجیکشن لگاکر واپس جائے اور وہ دوبارہ سے صباءکو دبوچ لیں۔۔۔مگر صباء کو دوسروں کو ترپانے اور شرمندہ کرنےمیں مزہ آتا تھا نہ۔۔۔اس نے تھوڑی دیر مزید نرس کو وہیں روکنے اور مولوی صاحب کو غصہ دلانے کاارادہ کیااور نرس کے ساتھ باتیں شروع کر دیں۔۔۔ صباء :آپ کی نائٹ شفٹ ہوتی ہےکیا۔۔۔؟ ؟ ؟ نرس مسکرا کر۔۔۔جی ہاں۔۔۔میری نائٹ ڈیوٹی ہی ہوتی ہے۔۔۔ مولوی صاحب غصے سےدونوں کی طرف دیکھ رہےتھےاور صباء اپنی ہی باتوں میں لگی ہوئی تھی نرس کےساتھ۔۔۔ نرس :آپ ان کی کیا لگتی ہیں۔۔۔ صباء :یہ میری آنٹی ہیں اور وہ میرے انکل ہیں۔۔۔اصل میں پڑوسی ہیں ہم توآنٹی کی طبیعت خراب ہوئی تو اسی لیے میں ساتھ آ گئی۔۔۔ پِھر نرس نے میڈیسن کمپلیٹ کیں اور دونوں کی طرف دیکھ کر باہر نکل گئی۔۔۔جیسے ہی نرس کمرے سےنکلی تو۔۔۔مولوی صاحب نے دروازہ بندکیا اور جیسے صباء کی طرف جھپٹے۔۔۔مگر صباء ان کے ہاتھ سےنکل گئی۔۔۔ صباء :نہیں نہیں۔۔۔انکل پلیز۔۔۔دور رہیں آپ۔۔۔پلیز۔۔۔صبح ہو گئی ہے۔۔۔سب اسٹاف بھی اٹھ گیا ہےاور کوئی بھی اندر آ سکتا ہے۔۔۔ مولوی صاحب نے صباء کےہاتھ پکڑ کر کھینچا اپنی طرف۔۔۔ارے کوئی نہیں آ رہا ہے یہاں پر۔۔۔ اِس سے پہلے کہ مولوی صاحب کچھ کر پاتے۔۔۔آنٹی بیڈ پر ہلیں اور آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولنے لگیں اور آواز دی۔۔۔مولوی صاحب نے فوراً سےصباء کو چھوڑ دیااور صباء جلدی سے آنٹی کی طرف بڑھی۔۔۔ جی آنٹی۔۔۔ صباء آنٹی کے پاس ایک سائیڈپر جھکی ہوئی تھی۔۔۔اتنے میں مولوی صاحب بھی ان کے پاس آ گئے۔۔۔ان کا موڈ کافی خراب ہو رہاتھا۔۔۔وہ صباء کے بہت قریب کھڑے تھے۔۔۔ صباء آنٹی سے نظر بچا کرمولوی صاحب کی طرف دیکھتی اور ہلکا سا مسکرادیتی۔۔۔مولوی صاحب نے پیچھےکھڑے کھڑے ہی اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور صباء کی کمرپر رکھ دیا۔۔۔صباء کے جِسَم میں کرنٹ سادوڑ گیااور صباء کا جِسَم کانپ گیا۔۔۔مولوی صاحب صباء کی کمرکو سہلا رہے تھےاور کبھی اس کی براکے ہکس پر ہاتھ پھیرنےلگتےاورآہستہ آہستہ اسے کھینچتے۔۔۔ لیکن سامنے سے دونوں اپنےایکسپریشنز کو کنٹرول کرکے آنٹی سے باتیں کر رہےتھے۔۔۔ آہستہ آہستہ مولوی صاحب کا ہاتھ صباء کی کمر سےنیچے سرکنے لگااور کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب کا ہاتھ صباء کی ابھری ہوئی گول گول گانڈ پر تھا۔۔۔صباء نے مڑ کر مصنوئی غصے سے مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور ان کو رکنے کا اشارہ کیا اپنی آنكھوں سے ہی اور پِھر آنٹی کی طرف اپنی آنکھوں سے اشارہ کیا۔۔۔جیسے مولوی صاحب کو انکی موجودگی کااحساس دلا رہی ہو۔۔۔مگر مولوی صاحب تو بازنہیں آ رہے تھے۔۔۔ان کا ہاتھ صباءکی خوبصورت گانڈ کو سہلارہا تھا۔۔۔صباء بھی اپنی گانڈ کوآہستہ آہستہ گھما رہی تھی۔۔۔ہلا رہی تھی۔۔۔جیسے۔۔۔ مولوی صاحب کا ہاتھ ہٹاناچاہتی ہو اپنی گانڈ پر سے۔۔۔مگر حقیقت میں تو وہ۔۔۔اپنی گانڈ کو مٹکا رہی تھی۔۔۔پوری طرح سے مولوی صاحب کے ہاتھوں کے لمس کا مزہ لینے کے لیے۔۔ کیونکہ اسے پتہ تھا کہ آنٹی کے جاگتے ہوئے مولوی صاحب کچھ اور نہیں کرسکتے اب۔۔۔پِھر صباء مولوی صاحب کی طرف مڑی اور بولی۔۔۔ جائیں جا کر چائے لے آئیں نہ۔۔۔ایسے ہی کھڑے ہیں یہاں پرآپ۔۔۔صبح صبح بہت دِل کر رہا ہےچائے پینے کا میرا۔۔۔ صباء نے ایک خاص ادا اورانداز سے کہا تھا۔۔۔جیسے۔۔۔جیسے وہ مولوی صاحب کی بِیوِی ہو۔۔۔یا جیسے ان کی محبوبہ ہواور صباء خود کو پیش بھی تو ایسے ہی کر رہی تھی نہ مولوی صاحب کے سامنے۔۔۔ آنٹی :ہاں ہاں۔۔۔مولوی صاحب۔۔۔جائیں لے آئیں بیٹی کے لیےچائے۔۔۔ مولوی صاحب نے ایک بار زور سے صباء کی گانڈ کودبایااور پِھر دروازے کی طرف چلے گئے۔ کچھ دیر بعد صباء اورمولوی صاحب نے چائے پی اور پِھر اتنی دیر میں ہی اشرف بھی آ گیا صباء کو لینے کے لیے۔۔۔صباء جاتے ہوئے مولوی صاحب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔جن کے چہرے پر مایوسی تھی۔۔۔مگر صباء شرارت سے مسکرا رہی تھی۔۔۔گھر واپس آ کر صباء اپنے بیڈپر لیٹ گئی۔۔۔کل کےسارے واقعات اسے یاد آنےلگے۔۔۔میجر کے ساتھ جانا۔۔۔روڈ پر بندے کا اسے اپنےساتھ چلنے کو کہنااور پِھر میجر کااپنے آدمیوں کے سامنےاسے چودنااور پِھر جمی کی باتیں اور اُس کے بعد مولوی صاحب کے ساتھ گزری ہوئی رات۔۔۔یہ سب کچھ مل کر صباء کوگرم کرنے لگا۔۔۔اشرف باتھ روم سے نہا کرباہر آیا تو صباء سے بولا۔۔۔ صباء آپ آرام کرو۔۔۔مجھے تھوڑا کام ہے میں باہرجا رہا ہوں۔۔۔گھنٹے تک واپس آؤں گا۔۔ چابی ہے میرے پاس کھول لوں گا دروازہ تم سو جاؤ۔۔۔ صباء نے اسے اوکے کہا اورلیٹ گئی۔۔۔مگر پِھر سے وہی یادیں اس کو تڑپانے لگی۔۔۔رات کو میجر نے اسے چوداتو ضرور تھا مگر اُس کے بعد۔۔۔مولوی صاحب نے پِھر سےاُس کے اندر آگ لگا دی ہوئی تھی اور اب اسے اپنی یہی آگ بجھانی تھی۔۔۔ورنہ اِس چوت کی آگ نے اسے سونے نہیں دینا تھا۔۔۔مگر کیسے۔۔۔میجر تو ابھی تک اپنے اڈےسے ہی واپس نہیں آیا ہوگااور مولوی صاحب کے ساتھ کچھ بھی کرنے کے لیے اسےرات کا انتظار کرنا تھا۔۔۔ جب وہ دوبارہ سے ہسپتال میں جاتی رات رکنے کے لیے۔۔۔دینو۔۔۔صباء کی آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔جب دینو کا نام اُس کے دماغ میں آیا۔۔۔کیونکہ اب وہی ایک بندہ بچاہوا تھا جوکہ اس کی چوت کی پیاس بجھا سکتا تھااور پِھر صباء اپنے بیڈ سےکھڑی ہوگئی۔۔۔دینو کے پاس جانے کے لیے۔۔۔اپنی پیاس بجھانے کے لیے۔۔۔دینو کے موٹے۔۔۔کالے لن سے۔۔۔ صباء نے اپنا موبائل اٹھایااور بانو کو کال کرنے لگی۔۔۔بیل جانے لگی۔۔۔بیل کافی دیر تک ہوتی رہی مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا۔۔۔صباء نے سوچا۔۔۔لگتا ہے کہ کسی کے گھر پرکام میں لگی ہوگی توسائیلنٹ کیا ہوگا موبائل۔۔۔پِھر اس نے دینو کا نمبر ملایا۔۔۔مگر اس کا موبائل آف تھا۔۔۔صباء مسکرا اٹھی۔۔۔اس کی امید کےمطابق دینو اپنا سیل بند کرکے اِس وقت اپنے کمرے میں سو رہا ہوگا۔۔۔ابھی جگاتی ہوں جا کر اسےبھی اور اُس کے موٹے لن کوبھی۔ اسے امید تھی کہ اشرف کےواپس آنے سے پہلے وہ اپنےفلیٹ پر واپس آ جائے گی۔۔۔صباء نے اپنی چادر اپنےجِسَم پر لپیٹی اور اپنےفلیٹ سے نکل کر نیچے اُتَرآئی۔۔۔نیچے پہنچی تو دینو کی سیٹ خالی تھی۔۔۔صباء مسکرائی۔۔۔کہ یقینا اپنے کمرے میں ہوگا۔۔۔سویا ہوا۔۔۔صباء نے ادھر اُدھر دیکھا اورپِھر دینو کے فلیٹ کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اگلے ہی لمحے صباء دینو کے فلیٹ کے دروازے پر کھڑی تھی۔۔۔اتنی بار دینو سے چُدوا چکی ہوئی تھی مگر پِھر بھی۔۔۔ اسے تھوڑی گھبراٹ ہو رہی تھی۔۔۔دِل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی اور سانسوں کی رفتار بھی۔۔۔ہمت کر کے اس نے دروازےکے ہینڈل پر ہاتھ رکھا اورآہستہ سے اسے گھما دیا اور دروازہ کھول کر اندردیکھا۔۔۔اندر آتے ہی اس کی نظرسامنے بیڈ پر پڑی۔۔۔بیڈ پر۔۔۔بانو تھی اور اُس کے ساتھ۔۔۔اشرف تھا۔۔۔دونوں بالکل ننگے تھے۔۔۔اشرف بانو کے اُوپر لیٹا ہواتھااور اس کا لن بانو کی چوت میں تھا۔۔۔بانو نے اپنی دونوں ٹانگیں اس کی کمر کے گرد کسی ہوئی تھیں اور وہ اشرف کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے اُس کے لن کواپنے اندر تک لے جانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔صباء کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔اس نے جلدی سے دروازہ بندکر کے واپس جانے کا ارادہ کیا۔۔۔مگر دروازے کے کھلنے کی آواز پر دونوں چونک پڑےاور مڑ کر دروازے کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔بانو نے تو کیا گھبرانا تھا۔۔۔مگر دروازے کی طرف دیکھتے ساتھ ہی اشرف توجیسے اچھل ہی پڑا جب اسکی نظر دروازے پر کھڑی ہوئی صباء پر پڑی۔۔۔اس کی تو جیسے جان ہی نکل گئی۔۔۔اس کی بھی اور اُس کے لن کی بھی۔۔۔وہ فوراً ہی بانو کے اُوپر سےاَٹھ کھڑا ہوااور پاس پڑا ہوا بانو کا ڈوپٹہ اٹھا کر اپنے ننگے لن کو چھپانے لگا۔۔۔چھپا بھی کس سے رہا تھا۔۔۔اپنی ہی بِیوِی سے۔۔۔صباء کو پتہ تو سب کچھ تھا جو بھی بانو اور اشرف کے درمیان چل رہا تھا مگراب جو صورت حال اچانک سامنے آگئی تھی تواس میں اسی کے مطابق برتاؤ کرنے کے لیے صباء نےاپنے اُوپر غصہ طاری کر لیااور کمرے میں داخل ہو کردروازہ بند کر لیا۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے یہاں پر۔۔۔صباء چلائی۔۔۔ اشرف کے تو چہرے کا ہی رنگ اُڑ چکا ہوا تھا۔۔۔وہ اِس طرح سےرنگے ہاتھوں بلکہ ننگے جسموں پکڑے جانےسے کانپ رہا تھا۔۔۔اسے تو کچھ بھی بولنے کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔ اشرف :ص۔۔۔ب۔۔۔ا۔۔۔و۔۔۔ صباء :بکواس بند کرو اپنی۔۔۔یہی ضروری کام تھا جس کےلیے نکلے تھے گھر سے تم۔۔۔مجھے تو تم پر پہلے سے ہی شک تھا کہ کچھ نہ کچھ ضرور گلچھڑے اڑا رہے ہو تم اور آج اپنی آنكھوں سے بھی دیکھ لیا ہے تم کو۔۔۔صباء اشرف کی طرف بڑھی۔۔۔کب سے چل رہا ہے یہ سب کچھ۔۔۔جواب دو۔۔۔ اشرف پِھر گھبرایا۔۔۔نہیں۔۔۔پلیز۔۔۔مجھے معاف کر دو۔۔۔آئی ایم سوری پلیز۔۔۔ صباء :معاف کر دوں۔۔۔کیوں معاف کر دوں۔۔۔حرکت ایسی کی ہے تم نےکیا جو معاف کرنے والی ہو۔۔۔بولو۔۔۔؟؟ اشرف :پلیز۔۔۔ صباء :اگر مجھے تم ایسے ہی کسی کے ساتھ دیکھ لیتے تو کیامجھے بھی معاف کرتے تم۔۔۔تم۔۔۔تم تو مجھے بھرے بازار میں ننگا کر دیتے۔۔۔سب کے سامنے مجھے ذلیل کرتےاور گھر سے نکال دیتے۔۔۔بولو کرتے نہ ایسا ہی۔۔۔ اشرف نے شرمندگی سے اپناسر جھکا لیا۔۔۔ صباء :اب دیکھنا میں کیا کرتی ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔ اشرف :نہیں۔۔۔پلیز صباء نہیں ایسا مت بولو۔۔۔ صباء :یو شوٹ اپ۔۔۔ یہ کہہ کر صباء کمرے سےنکل گئی اور اوپر اپنے فلیٹ میں واپس آگئی۔۔۔غصہ تو سب اس کا نقلی تھا۔۔۔مگر ایک بات کی وجہ سےاس کا غصہ سچ مچ کا ہو رہاتھا کہ اشرف نے اس کی اپنی چُودائی کا پروگرام خراب کر دیا ہواتھا۔۔۔گئی تو وہ اپنی پیاس بجھانے کے لیے تھی۔۔۔مگر آگے یہ سب کچھ ہو گیااور اسے پِھر سے پیاسا ہی واپس آنا پڑا۔۔۔اپنے فلیٹ میں آ کر صباء نےاپنے کپڑے اتارے اور باتھ روم میں گُھس گئی نہانے کےلیےاور جاتے ہوئے ساتھ میں اپنےبیڈ کی سائیڈ دراز سے اپنی کینڈل بھی نکال کر لے گئی۔۔۔اب تو اپنی چوت کی پیاس بجھانے کا بس ایک ہی راستہ رہ گیا تھا۔۔۔کہ کینڈل سے ہی اپنی چوت کی پیاس بجھاتی۔۔۔اس کا پانی نکالتی اور ٹھنڈی ہو جاتی۔۔۔کوئی ایک گھنٹے تک خود کوٹھنڈا کرنے اور نہانے کے بعد صباء اپنے جِسَم کو ٹاول سےصاف کرتے ہوئے باہر نکلی اور آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔۔۔ اپنے بالوں کو صاف کرتےہوئے اپنے ننگے جِسَم کودیکھنے لگی۔۔۔اپنے خوبصورت مموں اور نیچے بالوں سے بالکل بے نیاز چوت کو دیکھ کرخود پر ہی اسے پیار آنے لگا۔۔۔اپنے ہاتھ سے اپنے مموں کو سہلانے لگی۔۔۔خود کو دیکھتے ہوئے اسےمولوی صاحب کی پیاسی نظریں یاد آئیں۔۔۔کہ کیسے وہ بھوکی اور ننگی نظروں سے اُس کے جِسَم کودیکھ رہے تھےاور پِھر ہنسی آگئی۔۔۔کہ بہت جلد ہی۔۔۔شاید آج رات کو یقیناً۔۔۔وہ مولوی صاحب کے ہتھے چڑھ جائے گی۔۔۔اسے پتہ تھا کہ اب وہ زیادہ دیر کے لیے خود کو مولوی صاحب سے نہیں بچا پائے گی۔۔۔جس قدر مولوی صاحب کواس نے گرم کر دیا تھااور جتنا ان کو اوپن سگنل دے دیا تھا اب ان کا خود کوقابو میں رکھنا نہ ممکن تھا۔۔۔صباء نے ایک اور ٹاول اٹھایااور اپنے بالوں کو اس ٹاول میں لپیٹ کر ٹاول اپنے سرپر لپیٹ لیا۔۔۔اس کا سیکسی جِسَم اب اوربھی سیکسی لگنے لگ گیا تھااِس اسٹائل میں۔۔۔پِھر صباء اپنی الماری کی طرف بڑھی اور کپڑے سیلیکٹ کرنے لگی۔۔۔جب کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا تو اپنی ایک نائٹی نکال لی اور اسے پہننے لگی۔۔۔نائٹی پہن کر دوبارہ سےآئینے کے سامنے آگئی۔۔۔خود کے جِسَم کو اس نائٹی میں دیکھنے لگی۔۔۔نائٹی پنک کلر کی سلکی کپڑے کی تھی۔۔۔ٹرانسپیرینٹ تو نہیں تھی۔۔۔مگر سلیی ویلیس ضرور تھی۔۔۔کاندھوں پرصرف دو پتلے پتلے اسٹراپس تھے۔۔۔جوکہ نیچے اُس کے مموں تک آتے تھےاور تقریباً ہالف مموں کوننگا چھوڑنے کے بعد ہی نائٹی شروع ہوتی تھی۔۔ یعنی اس سے اُوپر صرف اورصرف وہ پتلے اسٹراپس تھےاور صباء کا گورا گورا ننگاجِسَم اور پورے کے پورے بازو بھی ننگے تھے۔۔۔صباء نے اپنی روٹین کےمطابق ہلکا پھلکا سا میک اپ بھی کیا۔۔۔میک اپ کیا کرنا تھا۔۔۔بس اپنے ہونٹوں پر لپسٹک لگائی اور اپنے بیڈروم سے باہر آگئی۔۔۔باہر آ کر صباء کو حیرت ہوئی کے اشرف ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔۔۔صباء مسکرائی۔۔۔لگتا ہے کہ کہیں اور چلا گیاہے۔۔۔شرمندگی کے مارے۔۔۔صباء ہنس پڑی اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔بارہ بج رہے تھے۔۔۔صباء نے جلدی سے ناشتہ بنانا شروع کر دیا۔۔۔اتنے میں بیل بجی۔۔۔صباء نے سوچا یہ کون آ گیاہے اب۔۔۔پِھر خیال آیا کہ اشرف ہی ہوگا اور یا پِھر بانو آئی ہوگی۔۔۔اشرف کی حالت کے مزےلینے کے لیے۔۔۔کہ کیسے چوہا بنا ہوا تھا وہ۔۔۔صباء اسی نائٹی اور سر پربندھے ہوئے ٹاول میں ہی۔۔۔اپنے ہالف ننگے ہوتے ہوئےمموں کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول کر دروازےکے پیچھے کو چُھپ کر باہرجھانکا تو۔۔۔تو اس کا دِل ہی اچھل کرحلق میں آ گیا۔۔۔باہر مولوی صاحب کھڑےتھے۔۔۔مولوی صاحب کو دیکھ کرصباء کو حیرت ہوئی۔۔۔مگر اِس سے پہلے کہ وہ کوئی بات کرتی۔۔۔مولوی صاحب جلدی سےفلیٹ کے اندر داخل ہوگئےاور دروازہ بند کر دیا۔۔۔مولوی صاحب نے صباء کوایسے لباس میں دیکھا تو ان کی آنکھیں تو جیسے پھٹنےکو آگیں۔۔۔اپنی آج تک کی زندگی میں انہوں نے کبھی بھی کسی لڑکی کواور وہ بھی ایسی جوان اورخوبصورت لڑکی کو اِس حالت میں نہیں دیکھا تھا۔۔۔صباء کے گورے گورے بازوپورے ننگے تھےاور اس کا گورا گورا سفیدسینہ بھی ننگا تھا۔۔۔بہت ہی چکنا لگ رہا تھااور اس سے تھوڑا ہی نیچےصباء کے مموں کا اوپری حصہ بھی ننگا نظرآ رہا تھا۔۔۔خوبصورت کلیویج کااسٹارٹ بھی سامنے تھا۔۔۔جو کافی گہرا ہو رہا تھا۔۔۔جیسے ہی صباء نے مولوی صاحب کو اپنا آدھ ننگا جِسَم دیکھتے ہوئے دیکھا تو فوراًسے اپنے ہاتھ اپنے مموں پررکھ لیے اور بولی۔۔۔ صباء :مولوی صاحب آپ۔۔۔یہاں اور اِس وقت ؟ ؟ ؟ مولوی صاحب صباء کی طرف بڑھے۔۔۔ہاں۔۔۔رک نہیں پایا نہ میں۔۔۔ جیسے ہی مولوی صاحب آگےبڑھے تو صباء جلدی سے اپنی جگہ سے حرکت کرتے ہوئےاندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔جیسے کہ مولوی صاحب کےہاتھوں میں سے ہی پھسل گئی ہو۔۔۔صباء تیزی سے اندر کو آگئی اور مولوی صاحب بھی پیچھے پیچھے ہی آ گئے۔۔۔ صباء :ارے مولوی صاحب وہاں آنٹی کے پاس کون ہے۔۔۔آپ ادھر آ گئے ہیں تو۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :وہاں پر اشرف اور فرح ہیں۔۔۔ صباء حیران ہو کر۔۔۔اشرف۔۔۔وہ وہاں کیسے۔۔۔؟ مولوی صاحب :میں نے اسے فون کر کے بلایاتھا کہ کچھ دیر کے لیے یہاں ٹھہر جاؤ۔۔۔تو میں کچھ ضروری کام کرآؤں۔۔۔ صباء ایک ادا اور شرارت سے مسکراتے ہوئے مولوی صاحب کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ ایسا کون سا ضروری کام پڑگیا تھا آپ کو جناب۔۔۔جو وہاں سے ایمرجنسی آناپڑا۔۔۔؟ ؟ ؟ مولوی صاحب :تمہارے پاس آنا تھا نہ مجھےاِس لیے۔۔۔ صباء اپنی آنکھیں مٹکا کربولی۔۔۔لیکن میں نے کب بلایا تھا آپ کو ؟ ؟ مولوی صاحب :مگر مجھے تو ایسا ہی لگا تھانہ جیسے تم بلا رہی ہومجھے۔۔۔ صباء مسکراتے ہوئے :واہ جی واہ بڑی خوش فہمی ہے آپ کو۔۔۔ مولوی صاحب صباء کی طرف بڑھتے ہوئے بولے۔۔۔ہاں ہے تو سہی۔۔۔مگر ایسے ہی تو نہیں ہوئی نہ خوش فہمی۔۔۔ مولوی صاحب نے صباءکے چکنے ننگے بازو کو اپنےہاتھ میں پکڑا۔۔۔مگر اِس سے پہلے کہ مولوی صاحب کی گرفت مضبوط ہوتی صباء کے بازو پر کہ ہلکی سی موومنٹ کے ساتھ ہی صباء کا بازو مولوی صاحب کے مضبوط ہاتھوں سے پھسل گیا۔۔۔صباء خود کو چھڑا کر کچن کی طرف بڑھی۔۔۔ کیا کرتے ہیں آپ بھی نہ۔۔۔ صباء ہنستے ہوئے۔۔۔بھاگ کر کچن میں داخل ہوئی اور مولوی صاحب بھی صباءکے پیچھے پیچھے بڑھے۔۔۔صباء دوبارہ سے چولہے کےپاس کھڑی ہو گئی اور چمچ چلانے لگی کھانےمیں۔۔۔ مولوی صاحب نے پیچھے سےآکر۔۔۔اپنے دونوں ہاتھ صباءکے گورے گورے ننگے کندھوں پر رکھے۔۔۔مم۔۔۔کیا ہی چکنا جِسَم تھا۔۔۔رہ نہ سکے مولوی صاحب۔۔۔ مولوی صاحب :اف بڑی چکنی ہو تم تو۔۔۔ صباء :ہٹیں بھی نہ۔۔۔پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔۔؟؟ صباء کی نائٹی پیچھے سےبھی اتنی ہی گہری تھی جتنی آگے سے تھی اور اس میں سے صباء کی کمر کا اوپری حصہ ننگا ہو رہاتھا۔۔۔مولوی صاحب نے صباء کی کمر کے اوپری ننگے حصے پراپنے ہاتھ رکھے اور آہستہ آہستہ اسے سہلاتے ہوئے بولے۔۔۔ مولوی صاحب :مجھے پیار ہوگیا ہے تم سے۔۔۔ صباء کو ہنسی بھی آئی۔۔۔اپنے سے دگنی سے بھی زیادہ عمر کے اتنے باروب آدمی کوپیار کا اظہار کرتے ہوئے سن کراور اچھا بھی لگا۔۔۔ صباء :واہ جی واہ۔۔۔بس دو راتوں میں ہی پیارہوگیا آپ کو جناب۔۔۔؟ مولوی صاحب :ہاں ایسا ہی سمجھ لو۔۔۔ صباء :مگر اتنے عرصے سے تو آپ کے سامنے تھی۔۔۔تب تو آپ نے آنکھ اٹھا کربھی نہیں دیکھا میرےاِس چکنے جِسَم کو۔۔۔ صباء نے اپنی گردن موڑ کرمولوی صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔مولوی صاحب بالکل صباءکے پیچھے کھڑے تھےاور ان کا موٹا پھولا ہوا پیٹ صباء کی کمر سے ٹکرا رہا تھا۔۔۔جی ہاں۔۔۔ان کی ہائیٹ اتنی تھی کہ صباء کی گانڈ بھی مولوی صاحب کے پیٹ سے نیچےتھی اور ان کا پیٹ صباء کی کمرسے چھو رہا تھااور ہاتھ آہستہ آہستہ صباءکے کندھوں اور بازوں کو سہلا رہے تھے۔۔۔ مولوی صاحب :ہاں تب۔۔۔تب۔۔۔تب تو سب سامنے ہوتے تھےنہ اور تب تک تم نے تمہارا جِسَم دکھایا ہی کب تھا۔۔۔؟؟ صباء :تو اب کون سا دکھا دیا ہےمیں نے اپنا جِسَم آپ کوجناب۔۔۔ مولوی صاحب نے اپنا ہاتھ صباء کی نائٹی کے اسٹراپس پر رکھا اورآہستہ آہستہ اُسکے اسٹراپس کو اُس کےکاندھوں سے نیچےکو کرتے ہوئے بولے۔۔۔ مولوی صاحب :مگر ابھی میں خود تو دیکھ ہی سکتا ہوں نہ۔۔۔ صباء نے ہولے سے اپنے ہاتھ سے مولوی صاحب کے ہاتھ پر چپت ماری اور ان کا ہاتھ اپنے کاندھے سے ہٹا کر بولی۔۔۔ صباء :جی نہیں۔۔۔میں کوئی آپ کو اِجازَت نہیں دے رہی کہ آپ میراجِسَم دیکھو۔۔۔ مولوی صاحب نے اپنے دونوں بازو صباء کی کمر کے گردڈالے اور ہاتھ صباء کے پیٹ پر باندھ لیےاور اسے پیچھےکو کھینچتے ہوئے بولے۔۔۔ مولوی صاحب :ارے کیوں تڑپا رہی ہو ہمیں۔۔۔؟؟ صباء ایک ادا سے مولوی صاحب کی بانہوں میں مچلتے ہوئے بولی۔۔۔تڑپنا نہیں چاہتے تو پِھر آئےکیوں ہیں آپ۔۔۔رہتے نہ وہیں ہسپتال میں ہی۔۔۔ مولوی صاحب صباءکو بھینچتے ہوئے بولے۔۔۔ارے نہیں میرا مطلب تھا کہ اِس عمر میں کیوں تڑپا رہی ہو ہمیں۔۔۔ صباء :کیوں جی۔۔۔عمر کا کیا ہے۔۔۔شوق تو آپ کے سارے ہی جوانوں والے ہی ہیں نہ۔۔ مولوی صاحب نے بھی ہنستےہوئے اپنے ہونٹ صباء کی گردن پر رکھ دیے۔۔۔صباء مولوی صاحب کی بانہوں میں کسمسائی۔۔۔ ارے جانے دیں نہ مجھے۔۔۔کوئی آجائے گا۔۔۔ مولوی صاحب :نہیں۔۔۔اشرف تو جب تک میں نہیں جاؤں گا وہاں سے نہیں نکلےگا۔۔۔ تم فکر نہ کرو۔۔۔ صباء ایک ادا سے مولوی صاحب کو چھیڑتے ہوئے۔۔۔لیکن اگر کوئی اور آ گیا تو ؟ ؟ اور آپ کو میرے ساتھ ایسے مستیاں کرتے ہوئےدیکھ لیا تو ؟ ؟ مولوی صاحب صباء کوپیچھے کو کھینچتے ہوئے۔۔۔ارے نہیں آتا کوئی۔۔۔تم فکر نہ کرو۔۔۔آؤ میرے ساتھ۔۔۔ صباء :مجھے نہیں جانا کہیں بھی آپ کے ساتھ۔۔۔ مولوی صاحب صباء کے سرپر سے اس کاٹاول اتارتے ہوئے بولے۔۔۔کیوں۔۔۔کیوں نہیں جانا میرے ساتھ۔۔۔؟؟ صباء کی پیاری سی ہنسی کچن میں گونجی۔۔۔آپ کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے مجھے۔۔۔ڈر لگ رہا ہے آپ سے مجھےتو آج۔۔۔ مولوی صاحب صباء کے گیلےبالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئےاور ان کی مہک کو سونگھتےہوئے بولے۔۔۔کیوں مجھ سے کس بات کاڈر ۔۔۔؟؟ صباء کسمساتے ہوئے بولی۔۔۔ڈر اِس لیے کہ آج آپ کی نیت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔۔۔ مولوی صاحب اپنے ہونٹوں کو صباء کے گیلے بالوں میں پھیرتے ہوئے بولے۔۔۔کیوں میری نیت کو کیا ہواہے۔۔۔؟؟؟ صباء :آج آپ کی نیت خراب لگ رہی ہے میرے پر۔۔۔ہٹیں بھی نہ۔۔۔کیا کر رہے ہیں بالوں میں۔۔۔؟؟ مولوی صاحب صباء کےبالوں کو اپنے ہاتھوں میں لےکر اپنے چہرے اورداڑھی پر پھیرتے ہوئے بولے۔۔۔تمہارے خوبصورت بالوں کی مہک سونگھ رہا ہوں میری جان۔۔۔ صباء :واہ جی واہ۔۔۔منصور صاحب۔۔۔اتنی جلدی سے ہم آپ کی جان بھی ہوگئے کیا۔۔۔؟ آگے آگے پتہ نہیں کیا کیا بناؤگے آپ ہمیں۔۔۔ مولوی صاحب صباءکو کھینچتے ہوئے۔۔۔تمہیں تو اپنے دِل کی رانی بناؤں گا میری جانم۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔بس بس۔۔۔رہنے بھی دیں۔۔۔بِیوِی ہوں میں آپ کے دوست اشرف کی۔۔۔ مولوی صاحب :بِیوِی ہو تو کیا ہوا۔۔۔اُس کے گھر کی رانی اور میرے دِل کی رانی۔۔۔کیوں ٹھیک ہے نہ۔۔۔ مولوی صاحب نے دوبارہ سےصباء کو پیچھے کھینچا۔۔۔صباء خودکو چھڑواتے ہوئے۔۔۔ کہاں لے جا رہے ہیں آپ۔۔۔ارے رکیں تو سہی۔۔۔چولھا تو بند کرنے دیں۔۔۔ مولوی صاحب نے خود ہی ہاتھ بڑھا کر چولھا بند کر دیااور پِھر صباء کوایک جھٹکے سے اپنی گود میں اٹھا کر کچن سے باہر کی طرف بڑھے۔۔۔صباء کو ایسا لگ رہا تھاجیسے کہ مولوی صاحب نے اس کے جِسَم کو اپنے پیٹ پررکھا ہوا ہو۔۔۔مگر مولوی صاحب تو بڑےہی مزے سے اور بڑے ہی آرام سے صباء کو اٹھائے چلے جارہے تھے۔۔۔ صباء :ارے منصور صاحب گرا نہ دیجئے گا مجھےاور یہ آپ مجھے لے کہاں جارہے ہیں۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :تمہارے بیڈروم میں لے جارہا ہوں تم کو اور کہاں۔۔۔ صباء :نہ جی نہ۔۔۔چھوڑیں مجھے۔۔۔مجھے نہیں جانا آپ کےساتھ بیڈروم میں۔۔۔ مولوی صاحب :کیوں۔۔۔کیوں نہیں جانا میرے ساتھ بیڈروم میں۔۔۔؟ ؟ صباء :کیوں جی۔۔۔میں کیوں جاؤں آپ کے ساتھ بیڈروم میں۔۔۔میرا آپ کے ساتھ بیڈروم میں کیا کام ہے جی۔۔۔؟ ؟ مولوی صاحب :ارے جان۔۔۔چلو تو سہی بیڈروم میں پِھرتم کو کام بھی بتا دوں گا جوکرنا ہے تم کو۔۔۔ صباء ایسے ہی تنگ کر رہی تھی مولوی صاحب کواور انہیں غصہ دلا رہی تھی۔۔۔ صباء :مجھے کیا بتائیں گے آپ۔۔۔بچی نہیں ہوں میں منصورصاحب۔۔۔سب پتہ ہے مجھے آپ کیاکرنا چاہتے ہیں مجھےبیڈروم میں لے جا کر۔۔۔ مولوی صاحب اپنی داڑھی کو صباء کےچہرے پر رگڑتے ہوئے بولے۔۔۔اف ف ف۔۔۔ کتنا اچھا لگتا ہےتمہارے منہ سے منصورصاحب کہنا۔۔۔ صباء مولوی صاحب کی بات پر شرما گئی۔۔۔مولوی صاحب صباء کو لیےہوئے بیڈروم میں داخل ہوئےاور اسے لے جا کر اسی کےبیڈ پر لیٹا دیا۔۔۔اسی بیڈ پر۔۔۔جو صرف صباء اور اشرف کاتھا۔۔۔مگر صباء اسی بیڈ اور اسی کمرے میں پہلے میجرپِھر دینواور اب مولوی صاحب کو لےآئی تھی۔۔۔مگر صباء کے لیے سوچنے کاکوئی ٹائم نہیں تھا ابھی۔۔۔بیڈ پر صباء کو لیٹا کر مولوی صاحب بھی تکیے سے ٹیک لگا کر بالکل صباء کے قریب بیٹھ گئے۔۔۔اس سے جیسے جڑ کراور اپنی کہنی تکیے پر رکھ کر آہستہ آہستہ صباءپر جھکنے لگے۔۔۔صباء کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔ مولوی صاحب کی داڑھی صباء کے چہرےسے ٹکرانے لگی۔۔۔مولوی صاحب کے ہونٹ صباء کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔صباء نے آہستہ سے۔۔۔نہیں منصور صاحب۔۔۔بولا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں۔۔۔مگر اُس کے ہونٹوں پر ایک پیاری سی مسکراہٹ ابھی بھی موجود تھی۔۔۔چند لمحوں کے بعد ہی صباءکو اپنے چہرے اور ہونٹوں پرمولوی صاحب کی داڑھی کےبالوں کا لمس محسوس ہوا۔۔۔مولوی صاحب کے منہ میں ہمیشہ موجود رہنے والی چھوٹی ایلاچی کی پیاری سی خوشبو بھی ان کی سانسوں سے صباء کی ناک تک آ رہی تھی اور وہ بھی تو صباء کومدہوش کر رہی تھی۔۔۔صباء کو یہ خوشبو بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔کہاں میجر اور دینو کے ساتھ ہمیشہ اسے ان کے منہ سےپان ،سگریٹ اور چرس کی بدبوہی سونگھنے کو ملتی تھی اور یہاں اتنی پیاری خوشبواور پِھر میجر اور دینو کےجسموں سے اٹھنے والی بدبوکے برعکس۔۔۔ مولوی صاحب کے جِسَم سے عطر کی انتہائی پیاری خوشبو آ رہی تھی۔۔۔جوکہ کسی بھی پرفیوم سےپیاری تھی۔۔۔اپنے شوہر کے علاوہ دونوں مردوں کےساتھ گزرے ہوئے ٹائم۔۔۔ میں اسے سب سے زیادہ اچھاآج لگ رہا تھا۔۔۔وہ اسے انجوئے کر ہی رہی تھی کہ اگلے ہی لمحے۔۔۔دو بھاری۔۔۔موٹے موٹے ہونٹ۔۔۔صباء کے نازک سے پتلے پتلےہونٹوں پر تھے۔۔۔مولوی صاحب نے آہستہ آہستہ صباء کے ہونٹوں کوچومنا شروع کر دیا۔۔۔صباء تو پہلے ہی گرم تھی۔۔۔اب اور بھی گرم ہونے لگی۔۔۔کچھ ہی دیر میں صباء نےبھی مولوی صاحب کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔۔۔خود بھی مولوی صاحب کےہونٹوں کو چومنے لگی۔۔۔ اپنا ایک بازو اُوپر اٹھایااور اسے مولوی صاحب کی گردن کے پیچھے رکھ دیا۔۔۔جیسے ان کو اپنا سر پیچھےکرنے سے روک رہی ہواور پِھر دونوں نے ایک دوسرے کو چومنا شروع کردیا۔۔۔ صباء محسوس کر رہی تھی کہ مولوی صاحب بس اُسکے ہونٹوں کو چوم رہے تھےاور کچھ بھی نہیں کر رہےتھے۔۔۔شاید پرانے دور کے آدمی تھےنہ۔۔۔اسی لیے کسسنگ کے نئے نئے اور ہوٹ انداز نہیں آتے تھےان کو۔۔۔صباء نے خود سے مولوی صاحب کو گائیڈ کرنے کا ارادہ کیا۔۔۔صباء نے آہستہ سے اپنےہونٹوں کو کھولااور مولوی صاحب کے نچلے ہونٹ کو اپنےہونٹوں میں پکڑ لیااور آہستہ آہستہ اسے چوسنےلگی۔۔۔مولوی صاحب کے نچلے ہونٹ سے نیچے کےداڑھی کے بال بھی صباء کےہونٹوں میں آ رہے تھے۔۔۔مگر اسے کوئی پرواہ نہیں تھی اور نہ ہی اسے برا لگ رہا تھا۔۔۔وہ تو بری طرح سے گرم ہوکر بس۔۔۔اپنے باپ سے بھی بڑی عمرکے مرد کے ہونٹوں کو چوس رہی تھی اور اب آہستہ آہستہ اسی ہونٹ کو اپنی زبان سے چاٹ بھی رہی تھی۔۔۔چوستے ہوئے۔۔۔مولوی صاحب کی زندگی کایہ پہلا موقع تھا۔۔۔جو کوئی لڑکی اور وہ بھی اتنی خوبصورت اور جوان لڑکی۔۔۔اتنے پیار سےاور اتنی مستی سے ان کوچوم رہی تھی۔۔۔نیچے نائٹی میں صباء کی اپنی چوت بھی گیلی ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ مولوی صاحب کے ہونٹوں پراپنی زبان پھیرتے ہوئے۔۔۔صباء نے اپنی زبان کو آہستہ سے مولوی صاحب کے منہ میں ڈال دیااور اندر ڈالے ہی رہی۔۔۔مگر۔۔۔مولوی صاحب نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔صباء تڑپی۔۔۔ہولے سے سسکی۔۔۔چوسیں میری جیب کومنصور صاحب۔۔۔مولوی صاحب تو جو وہ کہےماننے کو تیار تھے۔۔۔فوراً ہی اپنے منہ میں رکھی ہوئی صباء کی زبان کو اپنےہونٹوں میں لیا اوراسے چوسنے لگے۔۔۔جیسے ہی صباء کی میٹھی زبان کو چوسنے لگے تومنصور صاحب کو بھی مزہ آنے لگا۔۔۔مولوی صاحب کے منہ کےاندر بچی ہوئی الاچی۔۔۔کا اچھے سے چبایا ہوا حصہ ابھی بھی ان کے منہ میں ہی تھا۔۔۔صباء نے جیسے ہی اپنی زبان کو مولوی صاحب کے منہ کےاندر گھمانا شروع کیا تو۔۔۔وہ چبی ہوئی الاچی بھی اس کی زبان سے ٹکرانے لگی۔۔۔صباء کو اتنا اچھا لگا کہ اس نے اسے اپنی زبان سے اپنےمنہ کے اندر کھینچ لیا۔۔۔اپنے ہونٹوں کو مولوی صاحب کے ہونٹوں پر سےپیچھے ہٹایااور اپنی زبان باہر نکال کرمولوی صاحب کو دکھائی۔۔۔جس کی نوک پر۔۔۔مولوی صاحب کے منہ میں موجود چبی ہوئی الاچی تھی۔۔۔صباء کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔۔مولوی صاحب بھی حیرت اور خوشی سے صباء کودیکھ رہے تھےاور اگلے ہی لمحے صباء نےوہ الاچی اپنے میں کے اندرلے جا کر چبانی شروع کر دی۔۔۔ مولوی صاحب :ارے۔۔۔یہ تو میری جھوٹی ہے۔۔۔ صباء مسکرا کر۔۔۔تو کیا ہوا۔۔۔میرے ہونٹوں کو بھی آپ جھوٹا کر ہی رہے ہیں نہ۔۔۔ مولوی صاحب کے نورانی اور باروب چہرے پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔۔سرخ رنگ میں رنگی ہوئی داڑھی اور بھاری بھرکم چہرے پرمسکراہٹ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ صباء شرارت سے۔۔۔بس منصور صاحب۔۔۔اب تو جانے دیں نہ مجھے۔۔۔ مولوی صاحب جھٹ سےصباء کے ننگے بازوکو پکڑتے ہوئے بولے۔۔۔ابھی سے کہاں۔۔۔ ابھی تو کچھ کیا بھی نہیں ہے۔۔۔ صباء :کیوں جی۔۔۔اتنا کچھ تو کر لیا ہے۔۔۔اب اور کیا چاہیے۔۔۔ مولوی صاحب:کیوں اب نہیں پتہ کیا چاہیے۔۔۔پہلے تو بڑا بول رہی تھی کہ میں بچی نہیں ہوں مجھےسب پتہ ہے کہ آپ کو کیاچاہیے ہے۔۔۔تو اب دے دو نہ جو میں چاہتا ہوں۔۔۔ صباء مسکراتے ہوئے۔۔۔مولوی صاحب کی داڑھی میں اپنی نازک سی انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔نہ جی نہ۔۔۔منصور صاحب۔۔۔وہ آپ کو نہیں ملنے والا۔۔۔ مولوی صاحب :کیوں جی۔۔۔میں تو لے کر رہوں گا آج سب کچھ۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔اچھا جی۔۔۔بڑا کانفیڈینس ہے آپ کو خودپر۔۔۔؟؟ مولوی صاحب نے آہستہ سےاپنے ہاتھ سے صباء کےننگے کاندھے اور اُس کےسینے کے اوپری حصےکو سہلانا شروع کیا۔۔۔ کانفیڈینس بھی بہت ہےاور پیاسا بھی بہت ہوں۔۔۔ صباء مسکرا کر۔۔۔اچھا جی۔۔۔تو کب سے پیاسے ہیں جناب۔۔۔؟؟ مولوی صاحب اپنا ہاتھ صباءکی نائٹی کے اُوپر سے صباءکے مموں پر رکھ کر بولے۔۔۔اب تو یاد بھی نہیں کہ آخری بار کب اپنی پیاس بجھائی تھی۔۔۔ صباء مولوی صاحب کی داڑھی کو اپنی مٹھی میں آہستہ آہستہ بھینچتےہوئے بولی۔۔۔پر آپ کو کیسے لگا کہ میں آپ کی پیاس بجھا دوں گی۔۔۔؟؟ مولوی صاحب صباء کےمموں کو دباتے ہوئے دوبارہ سے اُس کے ہونٹوں پرجھکے۔۔۔ بس مجھے تو تم سے بجھانی ہے اپنی پیاس۔۔۔ مولوی صاحب نےآہستہ آہستہ صباء کے مموں کو سہلاتے اور دباتے ہوئے اُسکے ہونٹوں کو چومنا شروع کر دیااور اب خود بھی صباء کےہونٹوں کو چوس رہے تھے۔۔۔ان کا ہاتھ آہستہ آہستہ صباءکے مموں کو اس کی نائٹی میں سے باہر نکال رہا تھا۔۔۔نائٹی کو اُس کے مموں پرسے نیچے سرکاتے ہوئے۔۔۔صباء نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب کا بھاری بھرکم ہاتھ صباء کی نازک سے چھوٹےسے مموں پر تھا۔۔۔جوکہ پورے کی پورے ان کی مٹھی میں آگئے تھے۔۔۔مولوی صاحب پیچھےکو ہوئےاور اُس کے دونوں مموں کوباہر نکال کر۔۔۔دیکھنے لگے۔۔۔صباء نے شرما کر آنکھیں بندکر لیں۔۔۔ منصور صاحب۔۔۔پلیز نہیں دیکھیں نہ۔۔۔ مولوی صاحب اپنی موٹی انگلی سے صباء کے گلابی نپلز کو چھیڑتے ہوئے بولے۔۔۔کیوں۔۔۔ کیوں نہ دیکھوں میں۔۔۔ صباء آنکھیں بند کئے ہوئے ہی بولی۔۔۔مجھے شرم آتی ہے آپ سے۔۔۔ مولوی صاحب کی ہنسی صباء کو سنائی دی اور پِھر ان کی داڑھی کے بال اسے اپنی چھاتی اور مموں پر محسوس ہوئے۔۔۔مولوی صاحب نے اُسکے گورے گورے سینے اورمموں کو جگہ جگہ سے چومنا شروع کر دیا۔۔۔صباء کے جِسَم میں ایک لہرسی دوڑ گئی اور اس کا اوپری جِسَم کانپ اٹھا۔۔ س۔۔۔آہ۔۔۔مم۔۔۔ اور ساتھ ہی اس کا سینہ اُوپر کو اَٹھ گیا۔۔۔مولوی صاحب نے مسکرا کرصباء کی بند آنكھوں کی طرف دیکھا اور پِھر اپنی زبان کی نوک کو دھیرےدھیرے صباء کے سینے اورمموں پر چلانے لگے۔۔۔صباء کا جِسَم تڑپنے لگا۔۔۔کانپنے لگا۔۔۔گرم ہونے لگی۔۔۔ چوت تو جیسے پگھلنے لگی۔۔۔اس کا دِل چاہ رہا تھا کہ اپنےنپل کو مولوی صاحب کے منہ میں دے دے۔۔۔ بند آنكھوں کے ساتھ ہی تڑپی۔۔۔منصور صاحب۔۔۔پلیز۔۔۔ مولوی صاحب اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہی درمیان میں بولے۔۔۔کیا ہوا۔۔۔؟؟ صباء سسکی۔۔۔اسے منہ میں لےکر چوسیں نہ پلیز۔۔۔ مولوی صاحب مسکرائے۔۔۔کیوں۔۔۔؟ ؟ صباء تڑپی۔۔۔پلیز منصور صاحب۔۔۔ مولوی صاحب اپنی زبان کوہٹا کر بولے۔۔۔پہلے اپنی آنکھیں کھولو۔۔۔ صباء نے فوراً ہی اپنا سرانکار میں ہلا دیا۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔میں نہیں کھولوں گی آنکھیں۔۔۔ مولوی صاحب صباء کےگلابی نپلز کو اپنی انگلیوں سے چھیڑتے ہوئے بولے۔۔۔تو پِھر میں بھی نہیں چوسوں گا ان کو۔۔۔ ہار مانتے ہوئے۔۔صباء نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے شرم سے سرخ ہوتے ہوئے چہرے کے ساتھ مولوی صاحب کودیکھنے لگی۔۔۔مولوی صاحب کا داڑھی سےبھرا ہوا چہرہ نیچے اُس کےسینے پر جھکا ہوا تھااور پِھر انہوں نے اپنی زبان سے صباء کے نپل کو ٹچ کرناشروع کر دیا۔۔۔آہستہ آہستہ اُس کے نپل کواپنی زبان سے ادھراُدھر گھمانے لگے۔۔۔رگڑنے لگے۔۔۔مسلنے لگے۔۔۔صباء کو اور بھی تڑپانے لگےاور پِھر صباء پرترس کھاتے ہوئے صباء کے گلابی نپل کو اپنے موٹے موٹےہونٹوں میں لیا اور آہستہ آہستہ چوسنے لگے۔۔۔صباء کے منہ سے لذت اورسکون سے بھری ہوئی سسکیاں نکلیں اور اس کا ہاتھ مولوی صاحب کے سر پر آگیا۔۔۔مولوی صاحب کے سر پرابھی ٹوپی تھی۔۔۔صباء نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کی ٹوپی اتاری اوراسے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیااور ان کے لمبے لمبے بالوں میں اپنے ہاتھ رکھ کر ان کےسر کو اپنی چھاتی پر دبا لیا۔۔۔مولوی صاحب بھی صباء کےمموں کو چوس رہے تھےاور پِھر اپنے دانتوں سےآہستہ آہستہ ان کو کانٹے لگے۔۔۔صباء تو جیسے تڑپنے ہی لگی نہ۔۔۔مچلنے ہی لگی۔۔۔اب وہ یہی چاہتی تھی کہ مولوی صاحب کچھ نہ کچھ کریں۔۔۔بلکہ سب کچھ کر دیں۔۔۔مولوی صاحب بھی اب اپناصبر کھوتے جا رہے تھے۔۔۔آہستہ آہستہ سیدھے ہوئےاور صباء کے اُوپر آ گئے۔۔۔ان کا بھاری بھرکم جِسَم اور موٹا پیٹ۔۔۔صباء کے نازک سے جِسَم پرتھا۔۔۔صباء پر چڑھ گئے تھے۔۔۔اسے حاصل کرنے کے لیے۔۔۔اسے چودنے کے لیے۔۔۔اس کے اندر سما جانے کےلیے۔۔۔مگر نیچے پڑی ہوئی۔۔۔نازک سی صباء کی بری حالت تھی۔۔۔اتنا بھاری بھرکم جِسَم۔۔۔اپنے نازک سے وجودپر سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا صباء تڑپی۔۔۔منصور صاحب۔۔۔مر جاؤں گی میں۔۔۔پلیز۔۔۔ منصور صاحب تھوڑا سےاُوپر ہوئےاور صباء نے نیچے اپنی دونوں ٹانگیں پوری پھیلاتے ہوئے مولوی صاحب کے بھاری بھرکم جِسَم کو اپنی ٹانگوں کےدرمیان بیڈ پر جگہ دی اور اس پر سے ان کا بوجھ کچھ کم ہوا۔۔۔مگر اب۔۔۔ایک اور چیز تھی۔۔۔صباء کو بےچین کرنے کے لیے اس کی جان نکالنے کے لیے۔۔۔اسے تڑپانے کے لیے۔۔۔ہاں۔۔۔مولوی صاحب کا موٹا لن ۔۔۔مولوی صاحب صباء کی ٹانگوں کے درمیان میں آ توگئے تھے مگر جتنی ٹانگیں صباء کو کھولنی پڑی تھیں۔۔۔اُس کے بعد مولوی صاحب کالن ۔۔۔اکڑ کر اب صباء کی چوت کوچھو رہا تھا۔۔۔اس کی چوت کو دبا رہا تھا۔۔۔رگڑ رہا تھااور مولوی صاحب بھی توکوئی کوشش نہیں کر رہےتھے نہ اپنے لن کو پیچھےکرنے کی۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب کالن صباء کی گرم اور پیاسی چوت سے چھونے لگا تو۔۔۔صباء بھی بےچین ہونے لگی۔۔۔خود سے ہی اُسکے نچلے جِسَم نے ہلنا شروع کر دیااور خود ہی اپنی چوت کومولوی صاحب کے لن سے رگڑنے لگی۔۔۔مزہ لینے کے لیے۔۔۔اپنی گرمی کو ٹھنڈہ کرنے کےلیے۔۔۔اپنی تڑپ کو مٹانے کے لیے۔۔۔ اپنی پیاس کو بجھانے کےلیے۔۔۔اس کی پیاسی چوت کی پیاس کو یہی پیاسا لن ہی تو بجھا سکتا تھا نہ۔۔۔جو اُس کے باپ سے بھی زیادہ عمر کے آدمی کا تھا۔۔۔مگر پتہ نہیں کیوں صباء کواچھا لگ رہا تھا۔۔۔مولوی صاحب کابھاری بھرکم اور مضبوط جِسَم صباء کو اچھا لگ رہاتھا۔۔۔اسے تسلی تھی کہ یہ بدن۔۔۔اگرچہ۔۔۔ایک بڈھے مولوی کا ہے۔۔۔مگر پِھر بھی اُس کے جِسَم کی طلب کو ضرور پُورا کردے گا۔۔۔ضرور چود دے گا اسے۔۔۔اس کے من کی شانتی تک۔۔۔صباء کے بازو پھیل کر مولوی صاحب کی کمر پر آگئے۔۔۔اس کی کمر کو سہلانے لگے اور مولوی صاحب اپنے لن کو صباء کی چوت پر رگڑتے ہوئے۔۔۔آہستہ آہستہ گھسےمارتے ہوئے۔۔۔صباء کے ہونٹوں کو چوم رہےتھے۔۔۔چوس رہے تھےاور اُس کے مموں کو دبا رہےتھے۔۔۔جوکہ چھوٹے تو نہیں تھے۔۔۔مگر مولوی صاحب کے بھاری اور چوڑے ہاتھوں میں بہت ہی چھوٹے لگ رہے تھے۔۔۔ایسے ہی جیسے کہ کسی نےہاتھوں میں ٹینس بالز پکڑی ہوں۔۔۔صباء کا جِسَم پوری طرح سےجل رہا تھا۔۔۔وہ اب کچھ اور چاہتی تھی۔۔۔ سب کچھ چاہتی تھی۔۔۔وہ چاہتی تھی جو اس کی چوت کو چوم رہا تھا۔۔۔رگڑ رہا تھا۔۔۔جو باہر سے ہی اس کی چوت پر گھسے مار رہا تھا۔۔۔اُس کے گھسوں کو وہ اپنی چوت کے اندر محسوس کرناچاہتی تھی۔۔۔خود ہی آگے بڑھنے کا ارادہ کرتے ہوئے۔۔۔صباء نے اپنا ہاتھ مولوی صاحب کے بھاری بھرکم پیٹ کے نیچے لے جانا شروع کیا۔۔۔دونوں کے جسموں کے درمیان اور جب اپنی کوشش میں کامیاب ہوئی تو پہلے تو آگےہاتھ لے جا کر۔۔۔مولوی صاحب کی شلوار کےاُوپر سے ہی ان کا لن پکڑ لیا۔۔۔اف ف ف۔۔۔ بالکل اکڑا ہوا لن تھا۔ گرمی تو شلوار کے اُوپر سےبھی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔بہت زیادہ موٹا اور لمبا بھی نہیں تھا۔۔۔اسے لگا کہ جیسے بس اشرف کے جیسا ہی ہوگا۔۔۔آہستہ آہستہ اپنی مٹھی میں دبانے لگی اور خود اپنے ہاتھ سے اپنی چوت پر اسے رگڑنے لگی۔۔۔مولوی صاحب کو بھی اپنالن صباء کے نازک ہاتھوں میں محسوس کر کے اچھالگ رہا تھا۔۔۔پِھر صباء نے مولوی صاحب کا لن اپنے ہاتھ سے چھوڑااور ان کی شلوار کے ناڑےکو ڈھونڈنے لگی۔۔۔ادھر اُدھر۔۔۔اُوپر نیچے کوہاتھ چلاتے ہوئے۔۔۔بڑی ہی بےصبری سے ڈھونڈرہی تھی اور پِھر جیسے ہی ناڑے کا ایک سرا ہاتھ میں آیا تو اسےکھینچ دیااور مولوی صاحب کی شلوارکھل گئی۔۔۔فوراً ہی صباء نے اپنا ہاتھ مولوی صاحب کی شلوار کےاندر ڈال دیا۔۔۔اور مولوی صاحب کے ننگےلن کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۔۔مولوی صاحب نے اپنے منہ صباء کے ہونٹوں پر سے ہٹایااور اس کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے بولے۔۔۔ بہت جلدی ہے کیا۔۔۔؟؟ جیسے ہی صباء نے یہ فقرہ سنا تو شرما کر فوراً ہی ان کالن ہاتھ سے چھوڑ کر ان کی شلوار سے باہر کھینچ لیا۔۔۔مولوی صاحب ہنسنے لگےاور بولے۔۔۔ مولوی صاحب :ارے ارے چھوڑ کیوں دیااسے۔۔۔پکڑے رکھو نہ تمہارے ہی لیے تو ہے یہ۔۔۔ صباء شرمندگی سے مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔بہت گندے ہو آپ۔۔۔ہٹو آپ میرے اُوپر سے۔۔۔مجھے نہیں کچھ بھی کرناآپ کے ساتھ اور نہ مجھے آپ کاوہ چاہیے ہے۔۔۔ مولوی صاحب ہنسے۔۔۔تم کو میرا وہ نہیں چاہیے توکیا ہوا مجھے تو تمہاری یہ چاہیے ہے نہ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے مولوی صاحب نے اپنا ہاتھ صباء کی چوت پر رکھ دیا۔۔۔اس کی نائٹی کو اُوپر کھینچ کر۔۔۔اس کی ٹانگوں کو بالکل ننگاکر کے۔۔۔اپنا ہاتھ اس کی ننگی چوت پر رکھ دیا۔۔۔کیونکہ نہا کر صباء نے نائٹی کے نیچے سے کچھ بھی تونہیں پہنا تھا نہ۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب نےصباء کی نازک سی۔۔۔گلابی چوت کو اپنی مٹھی میں لیا تو صباء تو اچھل ہی پڑی۔۔۔تڑپ گئی اور ان کے ہاتھ کے ساتھ ہی اس کی چوت اُوپر کو اٹھتی چلی گئی۔۔۔ صباء تڑپی۔۔۔نہیں کریں نہ پلیز۔۔۔چھوڑ دیں۔۔۔ مولوی صاحب نے صباء کی چوت کو مٹھی میں لیے ہوئےہی۔۔۔اپنی ایک موٹی انگلی کوصباء کی چوت کے اندر ڈال دیااور صباء کی تو جیسے جان ہی نکل گئی ہو۔۔۔اندر سے پوری طرح سے گیلی ہو رہی تھی صباء کی چوت۔۔۔پانی پانی ہو رہی تھی۔۔۔اس کی تڑپ اور پیاس۔۔۔ مولوی صاحب کو صاف پتہ چل رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب تھوڑےسے اونچے ہوئے۔۔ اپنے لن کو خود اپنے ہاتھ میں پکڑااور اسے آگے کو کر کے۔۔۔صباء کی چوت کے سوراخ پر رکھ دیا۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب کےلن کی ٹوپی صباء کی چوت کے سوراخ سے ٹچ ہوئی تو صباء نے لذت کےمارے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔اس کی چوت سے تھوڑاتھوڑا پانی۔۔۔چکنا پانی باہر کو بہتا ہوا۔۔۔مولوی صاحب کے لن کی ٹوپی کو گیلا کر رہا تھا۔۔۔چکنا کر رہا تھااور پِھر جیسے ہی مولوی صاحب نے تھوڑا سا زور لگایاتو ان کا لن پھسل کر صباءکی چوت میں چلا گیا۔۔۔ پتہ نہیں کتنے دن کے پیاسے لن کو آخر آج چوت نصیب ہو ہی گئی تھی۔۔۔وہ بھی ایک جوان اورخوبصورت لڑکی کی چوت۔۔۔ایسے بڈھے اور بڑی عمر کےلن کو۔۔۔تو لن سے صبر پِھر کہاں ہوناتھا۔۔۔برداشت کہاں ہونا تھا۔۔۔جیسے ہی ٹوپی اندر داخل ہوئی تو۔۔۔مولوی صاحب نے ایک ہی گھسے میں پورا لن ہی اندر پیل دیااور صباء کی تو چیخ ہی نکل گئی۔۔۔مولوی صاحب کابھاری بھرکم پیٹ۔۔۔صباء کے پیٹ پر تھا۔۔۔مگر اب اِس سیکس کی ہوس میں۔۔ جِسَم کی گرمی میں اسےکوئی بھی وزن محسوس نہیں ہو رہا تھااور ہوتا بھی تو ایسا ہی ہےنہ۔۔۔ نازک سی عورت سیکس کے دوران بھاری سے بھاری اور موٹے جِسَم والے مرد کابوجھ اپنے نازک سے وجود پربرداشت کر لیتی ہے۔۔۔کیونکہ اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا ہوتا۔۔۔ جب تک کے اس کی چوت آرگزم تک نہ پہنچ جائے۔۔۔اپنا پانی نہ چھوڑ دے۔۔۔یہی حال صباء کا تھا۔۔۔وہ تو بس اب مولوی صاحب سے لپٹی پڑی ہوئی تھی۔۔۔اپنی کھلی ہوئی ٹانگوں کومولوی صاحب کےگرد لپیٹنے کی کوشش کرتی ہوئی۔۔۔تاکہ کہیں مولوی صاحب اسے چھوڑ کر نہ چلے جائیں کہیں۔۔۔مگر مولوی صاحب کا بھی توایسا کوئی ارادہ نہیں تھا نہ۔۔۔وہ بھی آہستہ آہستہ ہل رہےتھے۔۔۔اپنے لن کو صباء کی چوت میں آگے پیچھے کر رہے تھے۔۔ برسوں کے بعد ملی ہوئی اِس نازک سی جواں چوت کابھرپور مزا لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا لن صباء کی چوت میں پَیوسْت تھااور نظریں۔۔۔صباء کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے انہوں نے صباء کے کندھوں کو پکڑااور اسے کندھوں سے نیچےکو کھینچتے ہوئے اپنے لن سے اُوپر کی طرف دھکےمارنے لگے۔۔۔پورے کا پُورا لن ۔۔۔اندر تک صباء کی چوت میں اترا ہوا تھااور کمرے میں صباء کی سسکاریاں گونج رہی تھیں۔۔۔دونوں کی سانسیں تیز تیزچل رہی تھیں۔۔۔دونوں ہی پسینے سے شرابور ہو رہےتھے۔۔۔مولوی صاحب کے جِسَم سےخوشبو سے بھری ہوئی پسینے کی خوشبو آ رہی تھی۔۔۔صباء بھی اپنی چوت کواُوپر کی طرف اچھال رہی تھی اور مولوی صاحب کے گھسوں کی رفتار میں بھی تیزی آتی جا رہی تھی۔۔۔دونوں ہی اپنی اپنی منزل کوپہنچ جانا چاہتے تھے۔۔۔مگر ایک دوسرے کو ساتھ لےکر۔۔۔ایک دوسرے کے پیاس کو بجھانے کا خیال کرتےہوئے۔۔۔کوشش کرتے ہوئے۔۔۔کہ کہیں دوسرا پِھر سےپیاسا نہ رہ جائے۔۔۔صباء کی چوت اندر ہی اندرمولوی صاحب کے لن کوبھینچ رہی تھی۔۔۔دبا رہی تھی۔۔۔ہلتے ہوئے رگڑ رہی تھی اور مولوی صاحب کے منہ سے بھی سسکاریاں سی نکل رہی تھیں اور پِھر پہلے صباء کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔آنکھیں اُوپر کو چڑھ کر بندہوگیں۔۔۔منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔ماتھے پر سو سو بل پڑ گئے۔۔۔جِسَم اکڑ گیا۔۔۔ٹانگیں کھینچ گیں اور چوت نے سکڑتے اور پھیلتے ہوئےپانی چھوڑنا شروع کر دیااور زور زور سے اپنے اندرموجود لن کو دبانے لگی۔۔۔اتنی زور زور کا دباؤ تھا مولوی صاحب کے لن پر کہ۔۔۔مولوی صاحب بھی زیادہ دیرتک خود کو نہ روک سکے۔۔۔ نہ سنبھال سکے۔۔۔اپنے دونوں ہاتھ صباء کی کمر کے نیچے پُش کیےاور اُس کے جِسَم کو اپنی بانہوں میں بھر کر۔۔۔زور زورکے دھکے لگانے شروع کر دیے۔۔۔جیسے آخری دم پر ہوں اور پِھر۔۔۔ان کے بڈھے لن نے صباء کی جواں اور کمسن چوت کےآگے اپنی ہار مان ہی لی اور اپنی منی کا فوارہ صباءکی چوت میں چھوڑ دیا۔۔۔پچکاریوں کی صورت میں منی نکل کر صباء کی چوت کے اندر ہی اندر پتہ نہیں کہاں تک جا رہی تھی۔۔۔صباء کی چوت کے پانی میں مکس ہو رہی تھی۔۔۔مگر صباء کو سیٹسفائی کررہی تھی۔۔۔ہانپتے ہوئے۔۔۔مولوی صاحب۔۔۔ صباء کے جِسَم کے اُوپر ہی گرگئےاور نیچے ان کے صباء کانازک سا جِسَم تھا۔۔۔لمبے لمبے سانس لیتا ہوا۔۔۔آنکھیں بند۔۔۔بازو مولوی صاحب کے گرد۔۔۔چوت مولوی صاحب کے لن کے گرداور دماغ بالکل خالی۔۔۔کمرے میں صرف لمبے لمبےسانسوں کی آوازیں آ رہیں تھیں۔۔۔ایسا لگ رہا تھا۔۔۔جیسے دونوں ہی ہوش کھوچکے ہوں۔۔۔بے ہوش ہو چکے ہوں۔ بے ہوش تو دونوں ہی تھے۔۔۔ساری دنیا کے ہوش سے دور۔۔۔کسی کا ہوش نہیں تھااور نہ ہی کسی کا دوش۔۔۔بس ہوس تھی اور شاید۔۔۔تھوڑا پیار بھی تھا۔۔۔کیونکہ آج تک۔۔۔ اتنے پیار سے صباء کو نہ میجر نے چودا تھااور نہ ہی دینو نے۔۔۔وہ دونوں تو بس وحشی تھے۔۔۔ بھوکے تھے اُس کے جِسَم کے۔۔۔مگر۔۔۔مولوی صاحب نے تو اُس کےدِل کو چھو لیا تھا۔۔ اندر تک ٹھنڈک ڈال دی تھی اُس کے۔۔۔بس یہی باتیں ہی صباء کےدماغ میں گھوم رہی تھیں۔۔۔کہ مولوی صاحب نے پیاس بجھا دی تھی اس کی۔۔۔بجھا دی تھی۔۔۔؟ ؟ ؟یا شاید اور بھی بھڑکا دی تھی۔۔۔صباء دوسری طرف منہ کرکے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد۔۔۔مولوی صاحب نے جب صباءکے ننگے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف موڑا تو۔۔۔صباء نے ایک نظر مولوی صاحب کو دیکھااور پِھر شرما کر اپنا چہرہ مولوی صاحب کے سینے میں چُھپا لیا۔۔۔ صباء :بہت برے ہو آپ۔۔۔ مولوی صاحب اپنی موٹی انگلی۔۔۔صباء کی چھن کے نیچے رکھ کر اُس کے چہرے کو اُوپرکرتے ہوئے بولے۔۔۔ مولوی صاحب :کیوں جی۔۔۔میں نے کیا کیا ہے۔۔۔؟؟ صباء مسکرا کر اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے بولی۔۔۔سب کچھ تو کر لیا ہے۔۔۔پِھر بھی کہتے ہیں کہ کیا کیاہے میں نے۔۔۔ مولوی صاحب کا دِل توجیسے کھلتا جا رہا تھا۔۔۔اتنی عمر میں ایسی خوبصورت۔۔۔جواں اور نازک سی لڑکی کی ادائیں دیکھ کر وہ تو مرنےوالے ہو رہے تھے۔۔۔ مولوی صاحب :ہاں تو کیا تم کو اچھا نہیں لگا جو میں نے کیا ہے۔۔۔؟؟ صباء شرما کر سرخ ہوتےہوئے بولی۔۔۔جائیں ہٹیں۔۔۔مجھے نہیں پتہ۔۔۔ مولوی صاحب صباء کےجِسَم پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔۔۔آہستہ آہستہ ان کا ہاتھ صباءکے مموں پر سے ہوتے ہوئےنیچے کو جانے لگا۔۔۔صباء کی چوت کی طرف۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب نےصباء کی چوت کو چھوا۔۔۔تو ان کے ہاتھ پر صباء کی چوت سے بہتا ہوا۔۔۔گاڑھا پانی لگ گیا۔۔۔جوکہ دونوں کی منی تھی۔۔۔جیسے ہی مولوی سب نےصباء کی چوت کو چھوا تو فوراً ہی صباء نے ہاتھ بڑھا کرمولوی صاحب کا ہاتھ پکڑ کرپیچھے کھینچ لیا۔۔۔ مولوی صاحب :کیا ہوا۔۔۔؟ ؟ ؟ صباء آہستہ سے بولی۔۔۔نہ چھویں نہ وہاں پر۔۔۔آپ کا ہاتھ گندہ ہو جائے گا۔۔۔ مولوی صاحب مسکرا کر۔۔۔اچھا جی۔۔۔؟ ؟ مولوی صاحب کی بات سن کر صباء نے اپنا چہرہ پِھرسے مولوی صاحب کے سینےمیں چُھپا لیا۔۔ مولوی صاحب نے بھی اپناہاتھ صباء کی ننگی کمر پررکھتے ہوئے اسے اپنے سینےکے ساتھ بھینچ لیا پِھر صباء کا چہرہ اُوپر کو کرکے اپنے ہونٹ صباء کےہونٹوں کی طرف بڑھائے۔۔۔صباء نے مولوی صاحب کا داڑھی سے بھرا ہوا چہرہ دیکھا اور ان کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹ آہستہ سے کھول ڈالے۔۔۔مولوی صاحب نے اپنے ہونٹ صباء کے ہونٹوں پر رکھے اور اسے چومنے لگے۔۔۔آہستہ آہستہ صباء کے ایک ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں لیااور اسے چوسنے لگےاور اپنا ہاتھ صباء کے ممے پررکھ کر اسے سہلانے لگے۔۔۔صباء کو اندازہ ہو رہا تھا کہ مولوی صاحب پِھر سے گرم ہو رہے ہیں۔۔۔ان کا لن آہستہ آہستہ پِھرسے کھڑا ہو رہا تھا صباء نے اپنے ہونٹوں کومولوی صاحب کے ہونٹوں سے چھڑوایا اور بولی۔۔۔ ہسپتال نہیں جائیں گے کیا ۔۔۔۔جو پِھر سے شروع ہونے لگےہیں آپ۔۔۔؟ ؟ مولوی صاحب :ارے پہلے اپنی برسوں کی پیاس تو بجھا لوں۔۔۔ صباء :تو کیا برسوں کی پیاس ایک ہی دفعہ میں بجھا لیں گےآپ۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :ہاں تو اور کیا۔۔۔پِھر پتہ نہیں موقع ملے یانہیں۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔موقع تو ابھی بھی نہیں تھا۔۔۔مگر آپ نے بڑی چالاکی سےاپنا راستہ صاف کر ہی لیا نہ۔۔۔ مولوی صاحب ہنسے۔۔۔ارے اور کیا کرتا۔۔۔ساری رات تو تم نے مجھےاتنا ستایا تھا۔۔۔ صباء :اچھا جی۔۔۔ستایا میں نے تھا کہ آپ نے۔۔۔پتہ نہیں کیسے آپ کو میراخیال آ گیا کل رات۔۔۔ویسے آنٹی بہت لکی ہیں۔۔۔ مولوی صاحب :وہ کیسے۔۔۔؟؟ صباء :ارے ان کو آپ جیسا اتنی بہترین شخصیت والا شوہرجو ملا ہے۔۔۔سچی میں تو بہت ہی امپریس ہوں آپ سے۔۔۔کیسے سب بِلڈنگ والے آپ سے ڈرتے ہیں اور آپ کی ریسپیکٹ کرتےہیں۔۔۔ مولوی صاحب مسکرائے۔۔۔ارے وہ تو بس ایسے ہی سب کرتے ہیں۔۔۔ صباء :میں نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی۔۔۔کبھی میں آپ کے ساتھ۔۔۔ مولوی صاحب :میرے ساتھ کیا۔۔۔؟؟ صباء شرما کر۔۔۔کہ میں کبھی آپ کے ساتھ ایسے لیٹی ہوئی ہوں گی۔۔۔ صباء کی بات سن کر مولوی صاحب نے ایک کروٹ لی اوردوبارہ سے صباء کے اُوپر آگئے۔۔۔ اب ان کا پُورا وزن صباء کےنازک جِسَم پر تھا۔۔۔انہوں نے دوبارہ سے صباء کوچومنا شروع کر دیا۔۔۔ صباء زور سے ہلی۔۔۔ارے نیچے اتریں نہ۔۔۔میرا کچومر نکالنا ہے کیا آپ نے۔۔۔اف ف ف۔۔۔ میرا سانس رک گیا۔۔۔اتریں نیچے۔۔۔ مولوی صاحب ہنسنے لگے۔۔۔اور نیچے اترنے کی بجائےاپنا وزن اپنے ہاتھوں اورگھٹنوں پر لے لیا۔۔۔ صباء :اف ف ف ف۔۔۔ شکر ہے اب سانس آیا مجھے۔۔۔پتہ نہیں آنٹی کیسے برداشت کرتی ہوں گی آپ کا وزن۔۔۔ مولوی صاحب ہنسے۔۔۔کوئی بات نہیں تم کو بھی عادت ہو جائے گی آہستہ آہستہ میری جان صباء :واہ جی واہ۔۔۔آپ تو لگتا ہے روز کا ارادہ کیے بیٹھے ہیں۔۔۔ صباء نے مولوی صاحب کےچہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔۔۔ مولوی صاحب :ہاں تو اور کیا صرف ایک دن کے لیے۔۔۔ صباء مسکرائی اور مولوی صاحب کے ہونٹوں کو چوم کر بولی۔۔۔تو میرے اشرف جی کا کیاہوگا جناب۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :میں نے کوئی تم کو اس سےالگ ہونے کو تو نہیں کہا نہ۔۔۔رہو تم اُس کے ساتھ۔۔۔مگر بس کبھی کبھی ہمیں بھی اپنے حسن کاجام پلاتی رہو۔۔۔ صباء شرما گئی۔۔۔کیا سچ میں میں اتنی اچھی لگی ہوں آپ کو۔۔۔؟ ؟ ؟ مولوی صاحب صباء کےگالوں کو چوم کر بولے۔۔۔ہاں تو اور کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔ صباء شرمائی۔۔۔آپ اپنے کپڑے تو اتاریں۔۔۔سب کچھ کر لیا ہے آپ نے بناکپڑے اتارے ہوئے ہی۔۔۔ مولوی صاحب ہنسے۔۔۔ارے بس تمہیں اپنی بانہوں میں لے کر پِھر کسی چیز کاہوش ہی نہیں رہا۔۔۔ مولوی صاحب سیدھے ہو کراپنے گھٹنوں پر بیٹھے اوراپنی کلف لگی ہوئی قمیض کے بٹن کھول کر اسے اتارنے لگے۔۔۔نیچے سے انہوں نےایک بنیان پہنی ہوئی تھی۔۔۔صباء بھی اٹھی اور مولوی صاحب کی بنیان پکڑکر اتارنے لگی۔۔۔مولوی صاحب نے اپنے دونوں بازو اوپر اٹھا دیےاور اگلے ہی لمحے مولوی صاحب کا اوپری جِسَم بالکل ننگا تھا۔۔۔صباء مولوی صاحب کے ننگےجِسَم کو دیکھنے لگی۔۔۔سینہ بالوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔سفید بالوں سے۔۔۔جن میں کہیں کہیں کالے بال بھی تھے۔۔۔مگر بہت ہی کم۔۔۔آخر ان کی عمر بھی تو اتنی زیادہ تھی نہ۔۔۔ صباء کو پِھر بھی ان کاسفید بالوں سے بھرا ہواسینہ اچھا لگا۔۔۔اس نے اپنے نازک سے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اٹھا کر مولوی صاحب کے سینے پر رکھے اوران کے بالوں کو سہلانے لگی۔۔۔ دھیرے دھیرے۔۔۔بہت ہی پیار سے۔۔۔جیسے بہت ہی اچھا لگ رہاہو اسے۔۔۔جیسے بہت ہی مزا آ رہا ہواسے۔۔۔ مولوی صاحب :کیا ہوا۔۔۔اچھے نہیں لگے نہ میرےسینے کے سفید بال۔۔۔ صباء :نہیں نہیں۔۔۔بہت پیارے ہیں۔۔۔مجھے تو سچ میں بہت ہی اچھے لگے ہیں۔۔۔ صباء نے آگے کو ہو کر مولوی صاحب کے سینے کو چوم لیا۔۔۔ان کے سفید بالوں میں اپنے ہونٹ رکھ کر۔۔۔ مولوی صاحب :کیوں بھائی۔۔۔مجھے تو لگ رہا تھا کہ تم کومیرے سفید بال اور میری عمر سے برا لگے گا۔۔۔ صباء :نہیں تو۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔مجھے تو بہت اچھا لگ رہاہے۔۔۔ مولوی صاحب خوش ہو رہےتھے صباء کے ہونٹوں سےاپنی تعریف سن کر۔۔۔صباء نے اٹھ کر مولوی صاحب کو نیچے لیٹایا۔۔۔اور خود ان کے اُوپر آگئی۔۔۔اب صباء نے اپنی نائٹی بھی اُتار دی تھی اور خود بھی بلکل ننگی ہوچکی تھی۔۔۔مولوی صاحب صباءکا گورا گورا چکنا ننگا جِسَم دیکھ کر اپنے منہ کھولے ہوئےتھے۔۔۔ان کی آنکھیں پھٹنے کو ہورہی تھیں۔۔۔مولوی صاحب نے دوبارہ سےصباء کو اپنی بانہوں میں لینے کی کوشش کی توصباء مچل کر ان کی بانہوں سے نکلی اور بولی۔۔۔ صباء :مولوی صاحب دوبارہ سےمزے کرنے کے لیے نہیں اتارےکپڑے میں نے۔۔۔ میں تو اب نہانے جا رہی ہوں۔۔۔آپ بھی نہاؤجا کر۔۔۔ مولوی صاحب بھاگتی ہوئی صباء کا ہاتھ پکڑ کر بولے۔۔۔ارے رکو تو سہی۔۔۔ابھی ایک بار تو اور کرنے دونہ۔۔۔ مگر صباء اپنا ہاتھ چھوڑا کرباتْھ روم میں بھاگ گئی۔۔۔باتھ روم میں جا کر صباء نےکنڈی نہیں لگائی تھی اور یہ تو کھلی دعوت تھی صباء کی مولوی صاحب کو۔۔۔چند لمحوں کے بعد ہی مولوی صاحب بھی باتھ روم میں آ گئے۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
  3. قسط نمبر30 صباء :مجھے بھی ساتھ لے چلو۔۔۔یہاں ساتھ ہی جو پلازہ ہےاس میں مجھے کچھ چیزیں دیکھنی ہیں مجھے وہاں چھوڑ دینا۔۔۔میں پِھر واپس آ جاؤں گی۔۔۔کچھ ہی دیر میں۔۔۔ پِھر اس نے مولوی صاحب کی طرف دیکھااور اپنی چادر ٹھیک کرتےہوئے بولی۔۔۔انکل میں تھوڑی دیر میں واپس آتی ہوں۔۔۔ جیسے مولوی صاحب کودلاسا دے رہی ہو کہ واپس آئے گی ان کے پاس۔۔۔اشرف نے کچھ زیادہ نہیں پوچھا صباء سے اور اسےقریب کے پلازہ میں چھوڑ کرچلا گیا۔۔۔پلازہ پیدل کے فاصلے پر ہی تھا ہسپتال سے۔۔۔پلازہ میں شاپنگ کیا کرنی تھی صباء نے۔۔۔اشرف کے جاتے ہی میجر کوفون کیا۔۔۔اس نے اٹینڈ کیا تو آواز سےصاف پتہ چل رہا تھا کے وہ روڈ پر ہے۔۔۔ صباء نے اسے پلازہ پر آنے کاکہااور فون بند ہوگیا۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں اُسکے سامنے ہی بائیک آ کررکی۔۔۔اس پر میجر ہی تھا۔۔۔ میجر :چل آ بیٹھ۔۔۔ صباء جلدی سے ادھر اُدھردیکھ کر میجر کے پیچھےبیٹھ گئی اور میجر نے اپنی بائیک آگےبڑھا دی۔۔۔میجر کافی تیز بائیک چلا رہاتھا۔۔۔صباء نے اپنا بازو اُس کے گردڈال کے اسے پکڑا ہوا تھا اوراس سے چپکی ہوئی تھی۔۔۔میجر اسے لے کر ادھر اُدھرسڑکوں پر گھماتا رہا۔۔۔ صباء :یہ تم مجھے لے کر جا کہاں رہے ہو۔۔۔؟؟ میجر :تجھے اپنے اڈے پر لے جاؤں گا اور وہاں چودوں گا تجھے۔۔۔ صباء :نہیں نہیں پلیز۔۔۔وہاں نہیں۔۔۔ میجر :تو اور کیا تجھے یہیں سڑک پرہی چود دوں۔۔۔بول۔۔۔؟؟ صباء چُپ کر گئی۔۔۔اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کوئی اسے میجر کے ساتھ جاتا ہوا نہ دیکھ لے۔۔ لیکن ایک بات کی فکر نہیں تھی اسے کہ اشرف دیکھے گاکیونکہ وہ تو اِس وقت اپنی ڈیوٹی پر تھا۔۔۔ایک روڈ سے گزرتے ہوئے اسےکچھ لڑکیاں روڈ کے کنارےادھر اُدھر کھڑی ہوئی نظرآئیں۔۔۔انہوں نے اچھا میک اپ بھی کیا ہوا تھااور ٹھیک ٹھاک ہی لگ رہی تھیں۔۔۔ کسی کے پاس کوئی مردکھڑا بھی تھا اور کچھ اکیلی تھیں۔۔۔صباء نے زیادہ توجہ نہیں دی۔۔۔ میجر نے بائیک ایک جگہ پرروکی۔۔۔ایک اسٹریٹ لائٹ کے نیچےاور اسے اترنے کو کہا۔۔۔ صباء اتری تو میجر بولا۔۔۔ میجر :تو دو منٹ یہاں رک میں وہ سامنے کی پان کے کوکھے سے سگریٹ لے کرآتا ہوں۔۔۔ صباء نے سامنے سڑک کےپاس کچھ ہی فاصلے پر بنےہوئے کھوکھے کو دیکھا اوراپنا سر ہلا دیا۔۔ وہاں پر اور بھی لوگ کھڑےتھےاور اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ اسے ان مردوں کے سامنے نہیں لے جانا چاہتاتھا۔۔۔اِس پر صباء کو تسلی بھی ہوگئی۔۔۔میجرسامنے سڑک کے پار جاکر کھوکھے پر کھڑا ہوگیااور صباء اطمنان سے ادھراُدھر دیکھنے لگی۔۔۔اکیلی۔۔۔تاریک رات میں۔۔۔اس سڑک پر لائٹ کے نیچےصباء۔۔۔ایک گلابی رنگ کاپاجامہ پہنے ہوئےاور اوپر سے چادر لپیٹ کر۔۔۔اپنا چہرہ بھی چُھپا کر روڈکے کنارے کھڑی تھی۔۔۔اس کی صرف آنکھیں ہی نظر آرہیں تھیں۔۔۔صباء اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔اتنے میں ایک کار اُس کےپاس آ کر رکی۔۔۔صباء دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔۔۔کار کی ونڈو میں سے ایک ادھیڑ عمر کے آدمی نے شیشہ نیچے کر کے اسے اُوپر سےنیچے تک دیکھا۔۔۔صباء گھبرا کر میجر کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔جوکہ پان والے کےساتھ گپوں میں مصروف تھا۔۔۔صباء کو دیکھ کر وہ کار والا آدمی بولا۔۔۔ آدمی :اے۔۔۔بول چلے گی کیا۔۔۔؟ اُس کے سوال پر صباء گھبراگئی۔۔۔کہ کیا مطلب ہے اسکے سوال کا۔۔۔وہ یہی کہہ سکی۔۔۔ صباء :ک۔۔۔کہاں۔۔۔؟؟؟ آدمی :جگہ ہے میرے پاس۔۔۔آجا۔۔۔دو گھنٹے کے لیے۔۔۔بالکل محفوظ جگہ ہے۔۔۔ پولیس ولیس کا بھی ڈر نہیں ہے وہاں۔۔۔بول۔۔۔ صباء گھبرا گئی۔۔۔اور سمجھ بھی گئی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔۔۔ آدمی :نئی لگ رہی ہےاِس علاقے میں۔۔۔چل آجا۔۔۔بول کیا لے گی دو گھنٹوں کا۔۔۔ جلدی بول۔۔۔ صباء پریشان ہو کر بولی۔۔۔نہیں نہیں میں نہیں جا رہی۔۔۔کہیں بھی۔۔۔میں وہ نہیں ہوں۔۔۔ آدمی :ارے زیادہ بھاؤ نہ کھا۔۔۔دِکھ رہا ہے مجھے بھی کہ اچھے گھر کی ہے۔۔۔پر اب آ ہی گئی ہےاِس دھندے میں تو کیوں شرما رہی ہے۔۔۔چل آجا۔۔۔پانچ ہزار دوں گا۔۔۔دو گھنٹے کے۔۔۔ صباء کو غصہ بھی آ رہا تھااور ڈر بھی لگ رہا تھا۔۔۔وہ میجر کو آواز دینا چاہتی تھی مگر وہ اپنا مصروف تھا۔۔۔صباء کو ایک خیال آیا۔۔۔ صباء :میں نے کہا ہے نہ کہ میں ویسی نہیں ہوں۔۔۔میرا شوہر وہ سامنے سےسگریٹ لینے گیا ہے۔۔۔ابھی واپس آ رہا ہے۔۔۔ اس آدمی نے مڑ کر پان والی دکان کی طرف دیکھا۔۔۔تو میجر بھی اب مڑ کرواپس آنے کے لیے سڑک کراس کرنے کو تھا۔۔۔ آدمی :بہن چود۔۔۔رنڈی نہیں ہے تو یہاں پر کیاکر رہی ہے۔۔۔گشتی نہ ہو تو۔۔۔ایسے ہی ٹائم برباد کر رہی ہےمیرا۔۔۔ یہ کہہ کر اس کار والے نےاپنی کار آگے بڑھا دی اور دوسری لڑکی کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا۔ صباء نے دیکھا کہ اس لڑکی نے فوراً ہی کار کی کھڑکی میں جھک کر کار والے سےکچھ بات چیت کی اور پِھرجلدی سے گھوم کر اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور کار آگے چلی گئی۔۔۔صباء نے شکر کیا کہ اس کی جان چھوٹی اِس مصیبت سے۔۔۔اتنے میں میجر واپس آیااور ہنس کر بولا۔۔۔ میجر :بہن چود۔۔۔گئی نہیں۔۔۔کسٹمر آیا تھا تیرا تجھے لےکر جانے کے لیے۔۔۔ صباء تھوڑے غصے سے اسےدیکھتے ہوئے بولی۔۔۔مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔۔۔؟؟؟ میجر ہنسا۔۔۔سالی میں نے سوچا تجھےتھوڑا تیرا دھندہ ہی دکھادوں۔۔۔ صباء وہیں کھڑی تھی ابھی۔۔۔ میجر بولا۔۔۔چل اب بیٹھتی ہے کہ میں جاؤں۔۔۔لگتا ہے کہ تجھے کسی کسٹمرکے ساتھ ہی جانا ہے۔۔۔ صباء شرمندہ ہو کر جلدی سے میجر کے پیچھے بیٹھ گئی اور میجر نے اپنی بائیک آگےبڑھا دی۔۔۔ اب میجر نے تنگ گلیوں میں بائیک موڑ دی تھی۔۔۔ میجر صباء کو دوبارہ سےشرمندہ کرتے ہوئے :ویسے کیا بھاؤ دے رہا تھاتیرا ؟ ؟ ؟ صباء بھی سمجھ گئی کہ میجر اسے تنگ کرنے کے موڈمیں ہے۔۔۔ وہ بھی بولی5 : ہزار دے رہا تھا دو گھنٹوں کے۔۔۔تیری طرح نہیں کہ مفت میں ہی چودنے لگتے ہو جب دِل کرتا ہے۔۔۔ میجر ہنستے ہوئے :سالی۔۔۔تو چلی جاتی اُس کے ساتھ اور کما لیتی 5 ہزار۔۔۔ صباء :ہاں چلی جاتی تو اچھا تھا۔۔۔پر پِھر تیرا خیال آ گیا کہ تجھے اپنے اِس لن کو خودسے ٹھنڈا کرنا پڑے گا۔۔۔اپنے ہاتھ سے۔۔۔ یہ کہتے ہوئے صباء نے اپناہاتھ میجر کے لن پر رکھ دیااور اسے زور سے دبایا۔۔۔ میجر :بہن چود۔۔۔رنڈی۔۔۔اتنا ہی شوق ہے نہ تو بتاتجھے سچ میں ہی چکلے پر بیٹھا دیتا ہوں۔۔ روز کے روز نئے گاہک آئیں گے تجھے چودنے کے لیےاور پیسے بھی کمانا۔۔۔ صباء میجر کے لن کو سہلاتے ہوئے بولی۔۔۔پہلے تیرے لن کا مزہ تو لےلوں۔۔۔پِھر کسی اور کا سوچوں گی۔۔۔ میجر ہنسنے لگا اور گلیوں میں گھوماتے گھوماتے وہ اسے ایک بڑے سے گیٹ کے سامنے لے آیا اور دروازہ نوک کیا تو آدمی نے دروازہ کھولا۔۔۔میجر اندر داخل ہوگیا۔۔۔نہ چاہتے ہوئے بھی صباء کومیجر کے پیچھے پیچھے اندرجانا پڑا۔۔۔اندر داخل ہو کر صباء نےدیکھا کہ دروازہ کھولنے والاآدمی ایک۔۔۔نوجوان لڑکا سا تھا25 سال کا ہوگا۔۔۔گورا چٹاتھا۔۔۔لیکن کافی گندی حالت میں تھا۔۔۔گندی سی کالی ساندو ٹائپ کی بنیان پہنی ہوئی تھی اور نیچے ایک گندی سی جینز تھی۔۔۔چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی اور مونچھ تھی۔۔۔جِسَم بھی کافی مضبوط لگ رہا تھا۔۔۔جیسے ایکسرسائز وغیرہ کرتارہتا ہو وہ۔۔۔صباء نے دیکھا کہ وہ اسے ہی غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔میجر نے اسے صباء کودیکھتے ہوئے پکڑا تو بنا کسی شرم کے بولا۔۔۔ بہن چود۔۔۔چودنا ہے کیا اسے۔۔۔جو ایسے دیکھے جا رہا ہےاپنی بہن کو۔۔۔سالا جیسے کوئی بچی نہیں دیکھی ہو کبھی۔۔۔ وہ لڑکا تو شرمندہ ہوا مگرآگے سے اپنے دانت نکال دیے۔۔۔اِس بات سے وہ صباء کو اوربھی برا لگا۔۔۔لیکن میجر کی بات سن کرصباء کو خود شرم آ گئی۔۔۔کہ کیسے اس نے اُسکے چودنے کی بات کی ہےاس لڑکے سے۔۔۔ لڑکا :سوری باس۔۔۔ لڑکے نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔۔۔ میجر :کتی کے بچے۔۔۔کسی کو چھوڑ بھی دیا کر۔۔۔دیکھ بھی رہا ہے کہ یہ باس کا مال ہے پِھر بھی اپنی گندی نظروں سےہی چودے جا رہا ہے سالی کو۔۔۔ صباء تو شرم سے جیسےزمین میں گرتی جا رہی تھی۔۔۔سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے اور کیا کہے۔۔۔بنا کسی شرم کے اور لحاظ کے میجر اس لڑکےکے سامنے صباء کی بے عزتی کیے جا رہا تھا لیکن اس لڑکے کی گندی نظریں ابھی بھی صباء کےجِسَم پر ہی تھیں۔۔۔اوپر تو اس نے ابھی بھی چادر لپیٹ رکھی ہوئی تھی اور چہرہ بھی ننگا نہیں کیاتھا۔۔۔مگر نیچے اس کے پاجامہ میں اس کی ٹانگوں کےسارے نشیب و فراز صاف دِکھ رہے تھےاور وہ لڑکا صباء کی ٹانگوں کو ہی گھور رہا تھا۔۔۔صباء بھی ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔۔۔سامنے ہی ایک کمرا تھا۔۔۔میجر نے اپنا ہاتھ صباء کےپیچھے لے جا کر اس کی گانڈپر رکھا اور اس کی گانڈ کودبا کر اسے آگےکو کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔ چل آ اندر چل۔۔۔یہیں رک گئی ہے تو بھی۔۔۔ میجر نے اتنی زور سے صباءکی گانڈ دبائی کہ صباء کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔۔۔ساتھ ہی اس کی نظر اس لڑکے کی طرف پڑی۔۔۔وہ صباء کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔صباء کو اپنی طرف دیکھتےہوئے دیکھ کر ہنسنے لگا۔۔۔صباء بے حد شرمندہ ہوئی میجر کے اِس طرح سے اس لڑکے کے سامنے ہی اس کی گانڈ دبانے سے۔۔۔مگر پِھر خاموشی سے اندرکمرے میں داخل ہوگئی۔۔۔اندر گئی تو دو اور گندے سےآدمی بیٹھے ہوئے تاش کھیل رہے تھے۔۔۔میجر کو دیکھتے ہی دونوں اَٹھ کر کھڑے ہوگئے۔۔۔کمرا گندا سا تھا۔۔۔ایک طرف ایک بڑاسا صوفہ پڑا تھا اور ایک سائیڈ پر ایک کرسی اور ایک گندی سی بڑی آفس ٹیبل تھی۔۔۔میجر نے اپنا بازو صباءکے کاندھے پر رکھا ہوا تھااور اسے لے کر آگےبڑھا صوفہ کی طرف۔۔۔بہت ہی عجیب سچویشن لگ رہی تھی۔۔۔کہ ایک خوبصورت لڑکی۔۔۔جس نے اپنے جِسَم اور چہرےکو ایک چادر میں چھپایا ہواتھا۔۔۔ایک غنڈے کے ساتھ ایسی گندی سی جگہ پر آئی ہوئی تھی اور اُس کےسارے کارندے اسے دیکھ رہےتھے۔۔۔گندی اور بھوکی نظروں سے۔۔۔میجر نے صباء کو اپنے بازو کے نیچے ہی صوفہ پر بٹھایا اور اسی لڑکے سےبولا۔۔۔ ابے جمی۔۔۔جا جا کر کولڈ ڈرنک لے کے آاور تم دونوں بھی دفعہ ہوجاؤ باہر اب۔۔۔مجھے چودنا ہے اسے یہاں۔۔۔ چادر کے نیچے بھی صباء کاچہرہ شرم سے لال ہوگیااور اس نے اپنی نظریں جھکادیں۔۔۔میجر ہر بات پر بڑی ہی بےشرمی سے صباء کو اپنےآدمیوں کے سامنے ذلیل کر رہاتھا۔۔۔تینوں نے ہنستے ہوئے صباءکی طرف دیکھا اور پِھر باہرنکل گئے۔۔۔جیسے ہی دونوں تنہا ہوئے توصباء تھوڑا غصے سے بولی۔۔۔ صباء :یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔ان کے سامنے ہی ایسی گندی باتیں کر رہے تھے۔۔۔ میجر ہنس کر بولا۔۔۔بہن چود ان کو سب پتہ ہےکہ تجھے یہاں پرمیں تیری چوت مارنے کے لیےہی لایا ہوں۔۔۔تو پِھر ان سے کیسی شرم۔۔۔ صباء :مجھے کچھ نہیں کرنا ان کےسامنے یہاں پر۔۔۔ میجر نے صباء کے چہرے پرسے چادر ہٹائی اور اپنے ہونٹ صباء کےہونٹوں پر رکھتے ہوئے بولا ارے رنڈی زیادہ نخرے نہ کراور سیدھے سے چُدوا لے۔۔۔ صباء اسے نہ روک سکی اور میجر نے صباء کے ہونٹوں کو چومنا اور چوسنا شروع کر دیا۔۔۔صباء کو بھی اس کا ساتھ دینا پڑ رہا تھا۔۔۔کچھ پل کے لیے میجر کوچومنے کے بعد صباء بولی۔۔۔ صباء :مگر پلیز۔۔۔ان کے سامنے نہ کرو نہ کچھ بھی۔۔۔کہیں اور چلتے ہیں۔۔۔تمہارے فلیٹ پر ہی چلتےہیں۔۔۔پِھر مجھے واپس چھوڑ جانا ہسپتال ۔۔۔ میجر نے کوئی جواب دیے بناہی اسے دوبارہ سے اپنی طرف کھینچا اور نیچے گودمیں لیٹا لیااور جھک کر اُس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔اپنا ہاتھ صباء کی قمیض کےاُوپر سے ہی اُس کے مموں پررکھا اور اُس کے مموں کومسلتے ہوئے اُس کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا۔۔۔صباء بھی مست ہونے لگی تھی۔۔۔مگر۔۔۔اتنے میں دروازہ کھلا اورجمی اندر داخل ہوا۔۔۔اُس کے ہاتھوں میں دو کولڈڈرنکس تھیں۔۔۔جیسے ہی صباء نے اسےکمرے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھاتوجلدی سےمیجرکی گودسےنکلی اورسیدھی ہوکراپنانقاب ٹھیک کرنےکی کوشش ۔۔۔ کرنے لگی۔۔۔مگر جمی تو اُس کے چہرےکو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ میجر :ارے رہنے دے اب۔۔۔کیوں اس سے اپنا منہ چھپارہی ہے۔۔۔اِس نے کیا باہر جا کر تیرے شوہر کو بتانا ہے۔۔۔ صباء پر ایک بار پِھر بے عزتی کا اٹیک ہوا۔۔۔جمی نے آگے آکر دونوں کی طرف کولڈ ڈرنکس پیش کیں۔۔۔صباء نے بھی اپنے شرم سےلال ہوتے ہوئے چہرے کےساتھ کولڈ ڈرنک پکڑ لی۔۔۔جمی اب ایک طرف ہو کرکھڑا تھا۔۔۔ میجر :سالےاب جاتا کیوں نہیں ہے۔۔۔اِس رنڈی کا لائیو شو دیکھناہے کیا تجھے۔۔۔چل دفعہ ہو یہاں سے۔۔۔ جمی ہنس پڑا۔۔۔وہ باس میں نے سوچا کہ کسی اور چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے میم صاحب کو۔۔ میجر :دلے کے بچے۔۔۔تیرے لن کی ضرورت ہے اسے۔۔۔دے آگے ہو کر۔۔۔ اس کمینے جمی نے فوراً ہی اپنی جینز کی بیلٹ پر ہاتھ رکھا اور بیلٹ کھولنے لگا۔۔۔ صباء اسے ایسا کرتے ہوئےدیکھ کر گھبرا گئی اور گھبرا کر میجر کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔میجر نے اسے ایسا کرتے ہوئےدیکھا تو زمین سے اپنا جوتااٹھا کر دور سے اسے مارا۔۔۔ حرامی کا پِلّا ہے تو۔۔۔کمینے۔۔۔کیسے فاٹا فٹ تیار ہو گیا ہے۔۔۔دفعہ ہو جا یہاں سے۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔باس میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔۔ میجر :بہن کے لوڑے۔۔۔تیرا تو مذاق ہے اور اگر تیرےاسی مذاق مذاق میں یہ تجھ سے چودوانے کو تیار ہو گئی تو میں یہاں بیٹھ کے مٹھ ماروں گا کیا سالے۔۔۔ صباء میجر کی اتنی گندی بات پر شرم سے لال ہوگئی۔۔۔جب سے میجر اسے وہاں لایاتھا مسلسل اس کو ذلیل کیےجا رہا تھا۔۔۔جیسے اسے صباء کی عزت کی کوئی پرواہ نہ ہو۔۔۔یہ کہہ کر جمی مڑا اورجانے لگا۔۔۔پِھر رک کر بولا۔۔۔ باس ایک بات تو بتا دو۔۔۔یہ وہی لڑکی ہے نہ جو اس دن تیرے ساتھ فون پر بات کر رہی تھی رنڈیوں کی طرح۔۔۔؟ ؟ جمی کی بات سن کر صباء کاچہرہ شرم سے سرخ ہوگیااور سر نیچے جھک گیا۔۔۔اسے امید ہی نہیں تھی میجرسے کہ وہ اس کا پردہ رکھےگااور ہوا بھی ایسا ہی۔۔۔ میجر :ہاں وہی ہے یہ۔۔۔دیکھ لے اسے اچھے سےاور دفعہ ہو اب۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔باس اس دن تو بڑی بنداس بول رہی تھی اور آج اتنی شرما رہی ہے۔۔۔ میجر :کتے۔۔۔شریف گھر کی عورت ہے یہ۔۔۔تیری بہن کی طرح رنڈی نہیں ہے جو ذرا بھی شرم نہیں کرے۔۔۔ جمی ہنسا اور کمرے سےباہر نکلتے ہوئے دروازے پررک کے پِھر بولا۔۔۔باس وہ چاہیے ہے تو لا دوں۔۔۔وہ۔۔۔کیا کہتے ہیں اسے۔۔۔؟؟ میجر :وہ کیا ابے سالے۔۔۔؟؟ جمی :باس وہی۔۔۔جو پلاسٹک نہیں چڑھاتے لن پر چودنے سے پہلے وہ۔۔۔ میجر :بہن چود دفعہ ہو یہاں سے۔۔۔یہ بنا کنڈم کے ہی چودواتی ہے۔۔۔تیری بہن نہیں ہے جوتجھے اس کے پیٹ سے ہونےکی فکر لگی ہوئی ہے۔۔۔ جمی نے ایک نظر صباء پرڈالی اور ہنستا ہوا کمرے سےنکل گیا۔۔۔اُس کے جاتے ہی میجر نے صباء کو اپنی طرف کھینچا۔۔۔صباء اپنا چہرہ میجر کےسینے پر رکھ کر بولی۔۔۔ پلیز۔۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔مجھے یہاں سے لے چلو۔۔۔دیکھو تو کیسے گندی نظروں سے دیکھتے ہیں تیرے بندےمجھےاور تم بھی مجھے ان کے سامنے خوب ذلیل کرنےلگے ہو۔۔ کیسی کیسی باتیں کر رہےتھے تم ان کے سامنے۔۔۔ میجر ہنسنے لگا۔۔۔ارے کوئی کچھ نہیں دیکھےگا۔۔۔تو آ ادھر۔۔۔ٹائم تھوڑا ہے تیرے پاس۔ ورنہ میں تو ساری رات تیری بجانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ صباء کے روکتے روکتے ہی میجر نے صباء کی چادر اُتاردی اور اپنی پینٹ کھول کر اپنالن باہر نکالا اور صباء کاچہرہ پکڑ کر نیچے جھکا دیااور اپنا لن صباء کے منہ میں ڈال دیا۔۔۔صباء کچھ بھی نہ کر سکی۔۔۔اس کا دِل گھبرا رہا تھا۔۔۔مگر میجر کے غصے اورطاقت کے آگے اس کی کہاں کوئی چل سکتی تھی۔۔۔نہ ہی وہ یہاں سے بھاگ کراکیلی جا سکتی تھی۔۔۔ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے صباءنے چُپ کر کے میجر کا لن اپنے منہ میں لیا اور اسےچوسنے لگی۔۔۔اب اُس کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ جلدی سے میجرکو اپنی چوت دے کر وہاں سے نکلے۔۔۔کیونکہ وہ ایسی گندی جگہ پر اور ایسے گندے لوگوں کےدرمیان زیادہ دیر کے لیےنہیں رہ سکتی تھی۔۔۔ صباء نے میجر کا لن اپنےہاتھ میں پکڑا اور اُس کےاُوپر اپنا منہ اُوپر نیچے کرنےلگی۔۔۔کبھی اسے اپنے منہ سےباہر نکالتی اور اسے چاٹنےلگتی۔۔۔کبھی میجر کی ٹٹوں کو ہاتھ نیچے لے جا کر سہلانے لگتی۔۔۔میجر نے صباء کی چادر اُتاردی تھی۔۔۔نیچے اس کی پہنی ہوئی پتلی سی قمیض کو دیکھا توبولا۔۔۔ میجر :بہن چود بڑے سیکسی کپڑےپہنے ہوئے ہیں۔۔۔سالی وہاں ہسپتال میں گئی تھی کہ رنڈی خانے میں۔۔۔ صباء نے میجر کے لن کو اپنےمنہ سے نکال کر اپنی مٹھی میں اُوپر نیچے کرتے ہوئےاس کی ٹوپی کو اپنی زبان سے چاٹا اور میجر کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئےبولی۔۔۔ پتہ ہے۔۔۔وہاں پر مولوی صاحب بھی ہیں۔۔۔ میجر پوری بات کو سمجھ گیا اور ہنس کر بولا۔۔۔تو سالی تو نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔۔۔بہن چود ہسپتال میں ہی شروع ہوگئی ہے کیا۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔بس کام شروع کیا ہے۔۔۔ابھی کچھ کیا نہیں ہے۔۔۔ میجر صباء کی کمر پرہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔سالی۔۔۔رنڈی۔۔۔تجھے ایسے سیکسی حالت میں دیکھ کر اس مولوی کالن تو ویسے ہی پانی چھوڑدے گا۔۔۔ صباء بھی اس کی بات پرہنسنے لگی۔۔۔ میجر :بس اب جلدی سےکام نپٹا مولوی والا جو میں نے کہا ہے تجھے۔۔۔ صباء :جلدی سے مجھ سے نہیں ہوگا۔۔۔ابھی بتا رہی ہوں میں تم کو۔۔۔تھوڑا ٹائم ضرور لگے گا۔۔۔سیدھا سیدھا تو نہیں اب میں انکل کو کہہ سکتی کےمجھے چود دو۔۔۔ میجر :تیرے انکل کی بہن کی چوت۔۔۔سالی۔۔۔اچھا کر جو کرنا ہے۔۔۔پر مجھے میرا کام مکمل چاہیے ہے۔۔۔سمجھی نہ۔۔۔؟؟ صباء میجر کے لن کی ٹوپی کو اپنے دانتوں کے درمیان آہستہ سے دباتے ہوئے بولی۔۔۔پہلے یہ کام تو کر لے جس کےلیے مجھے یہاں لایا ہے۔۔۔ صباء کی بات سن کرمیجر صوفہ سے اٹھا۔۔۔اپنی پینٹ نیچے گرا دی اور صباء کو پکڑ کر کھڑا کیااور اسے لے کر ٹیبل پر آ گیا۔۔۔ٹیبل پر اسے لٹایااور اس کے ٹائیٹ پاجامے کوکھینچ کر اُتار دیااور خود اس کی دونوں ننگی ٹانگوں کے درمیان میں کھڑاہوگیا۔۔۔اپنے موٹے لمبے لن کو پکڑااور اسے صباء کی چکنی چوت پر رگڑنے لگا۔۔۔ میجر :کتیا۔۔۔دیکھ تیری چوت تو پہلے ہی گیلی ہو رہی ہےاور نخرے ایسے کر رہی تھی جیسے کوئی۔۔۔ صباء ہنسی :اب تھوڑے نخرے بھی تو دکھانے ہی ہوتے ہیں نہ۔۔۔ میجر نے اپنے لن کی ٹوپی کو صباء کی چوت پر رگڑااور اسے اندر داخل کر دیا۔۔۔ایک دھکے میں میجر کا آدھالن صباء کی چوت میں چلاگیااور میجر نے اپنے لن کو آگےپیچھے کرتے ہوئے صباء کوچودنا شروع کر دیا۔۔۔صباء ٹیبل پر لیٹی ہوئی تھی اور میجر نیچے کھڑا ہوا تھا۔۔۔اس نے صباء کی ننگی ٹانگوں کو کھول کر اپنے ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا اور دھانہ دھن اپنا لن اس کی چوت میں ڈال کر اندر باہر کرتے ہوئےاس کی چوت چود رہا تھا۔۔۔صباء کے منہ سےبھی سسکاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔اسے بھولتا جا رہا تھا کہ میجر کے بندے کمرے سےباہر ہیں۔۔ وہ بھی بس آنکھیں بند کئےہوئے بس میجر کے لن کےمزے لے رہی تھی۔۔۔اس کی چوت بھی بے حدگرم ہو رہی تھی اور جلد ہی اپنی منزل کو پہنچنے والی تھی۔۔۔صباء کے اوپری جِسَم پر قمیض ابھی بھی موجودتھی۔۔۔میجر نے اُس کے مموں کوننگا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔۔۔اسے تو بس صباء کی چوت مارنی تھی اور اسے وہ ننگا کر کے چودہی رہا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعد صباءکی چوت نے پانی چھوڑ دیااور اپنی ٹانگیں میجر کےگرد دباتے ہوئے میجر کے لن کو اپنی چوت میں دبانے لگی اور اپنی چوت کاپانی چھوڑنے لگی۔۔۔میجر بھی صباء کی اِس ٹائیٹ ہو رہی چوت میں اپنالن آگے پیچھے کر کے مزے لےرہا تھا۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد جب صباءتھوڑا ریلکس ہوئی تو میجرنے اپنا لن صباء کی چوت سے نکالا اور اسے پکڑ کرکھڑا کر دیا پِھر ٹیبل پر اُلٹا لیٹا کرپیچھے کھڑا ہوگیا۔۔۔صباء کو لگا کہ اب میجر اسکی گانڈ میں اپنا لن ڈالے گا۔ مگر میجر نے پیچھے سےاپنا لن دوبارہ صباء کی چوت میں ڈال دیااور صباء کی کمر کو پکڑکے دھکے مارتے ہوئے صباءکی چوت کو چودنے لگا۔۔۔صباء بھی آہستہ آہستہ پیچھے آگے کوہل رہی تھی۔ اسے بھی خوب مزہ آرہا تھا۔۔۔پورے کمرے میں صباءکی سسکاریاں اور میجر کےلن کے صباء کی چوت کےاندر باہر ہونے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔تھوڑی ہی دیر گزری کہ میجر کے لن نے اپنا پانی صباء کی چوت میں نکال دیااور میجر کا پانی نکلتے ساتھ ہی صباء کی چوت نے بھی ایک بار پِھر سے پانی چھوڑدیا۔۔۔میجر نے اپنا لن صباء کی چوت سے نکالا اور صباءوہیں ٹیبل پر الٹی پڑی ہوئی لمبے لمبے سانس لیتےہوئے خود کو سنبھالنے لگی۔۔۔چند لمحوں کے بعد صباء اٹھی اور جھک کر اپنی چوت کودیکھنے لگی۔۔۔اس کی چوت میں سے میجرکی منی نکل کر باہر آرہی تھی۔۔۔صباء ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔۔۔میجر اسے دیکھ کر بولا۔۔۔ٹیبل کی دراز میں پڑا ہے ٹشوکا دبا۔۔۔صباء نے گھوم کر دوسری طرف جا کر دراز میں سےٹشو کا ڈبہ نکالا اور اس میں سے ٹشو لے کر اپنی چوت صاف کرنے لگی۔۔۔ صباء :مجھے واش روم جانا ہے۔۔۔ میجر :باہر ہے واش روم۔۔۔جا چلی جا ایسے ہی۔۔۔ صباء کو اچانک ہی احساس ہوا کہ وہ کس سچویشن میں ہےاور پِھر جلدی سے اس نے اپناپاجامہ اٹھایا اور اسے پہننےلگی۔۔۔صباء نے اپنا پاجامہ پہن لیااور پِھر چادر لینے لگی تومیجر نے فوراً ہی چادر اٹھالی۔۔۔ میجر :پہلے اپنی چوت دھو آ پِھر لےلینا چادر۔۔۔ صباء :نہیں مجھے نہیں دھونی۔۔۔مجھے نہیں جانا واش روم۔۔۔ میجر :بہن چود دھو آ اپنی چوت۔۔۔ورنہ تیرے اِس پنک پاجامےمیں ہی ساری میری منی تیری چوت کے اندر سے نکل آئے گی۔۔۔ صباء کو پتہ تھا کہ میجرٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔میجر بھی اپنی پینٹ پہن چکا تھا۔۔۔وہ باہر کی طرف بڑھا۔۔۔تو صباء کو بھی اُس کےپیچھے ہی آنا پڑا۔۔۔باہر نکلی تو سب سے پہلے وہ میجر کے بندوں کو دیکھنےلگی۔۔۔وہ تینوں ایک طرف بیٹھےہوئے تاش کھیل رہے تھے۔۔۔صباء کی نظر جمی پر پڑی تو وہ صباء کو دیکھ کر مسکرانے لگااور میجر سے نظر بچا کراپنے انگوٹھے اور پہلی انگلی کو ملا کر اور باقی تِین انگلیوں کو پھیلا کرفنٹاسٹک۔۔۔بہت آعلیٰ۔۔۔کا اشارہ کیا۔۔۔تو صباء کا دِل کیا کہ بس کہیں ڈوب ہی مرے وہ شرم سے۔۔۔صباء کو شک تھا کہ ان تینوں نے اسے ضرور دیکھا ہوگا۔۔۔لیکن اب اسے پکا یقین ہوچکا تھا کہ ان تینوں نے اسکی چُودائی کا لائیو سین ضرور دیکھا ہوگا۔۔۔ان جیسے حرامیوں سےایسی شرافت کی امید کیسےکی جا سکتی تھی کہ وہ ایک خوبصورت عورت کو چدتے ہوئے نہ دیکھیں۔۔۔میجر نے ایک طرف بنے ہوئےواش روم کی طرف اشارہ کیا۔۔۔صباء شرمندگی سےسر جھکاتے ہوئے اندر چلی گئی۔۔۔گندا سا باتھ روم تھا۔۔۔بلکہ صرف ایک ٹوائلٹ تھااور ایک ٹوٹی تھی۔۔۔جوکہ شاید نہانے کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی۔۔۔صباء نے مڑ کر دروازہ لوک کرنا چاہا تو اس کی تو کوئی کنڈی ہی نہیں تھی۔۔۔صباء نے باہر دیکھا۔۔۔ٹوائلٹ سیٹ تھوڑی سائیڈ پرتھی اور کر بھی کیا سکتی تھی صباء۔۔۔خاموشی سے اپناپاجامہ نیچے کر کے ٹوائلٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔واک والی ٹوائلٹ سیٹ تھی اور وہیں بیٹھ کر پیشاب کرنے لگی اور پِھر جو گندا سا لوٹا پڑاہوا تھا اس سے پانی ڈال کراپنی چوت کو دھونے لگی۔۔۔اندر انگلی ڈال کر منی نکال رہی تھی۔۔۔اس کا دھیان اپنی چوت کی طرف ہی تھا کہ اچانک ہی دروازہ کھلا اور میجراندر جھانکنے لگااور بولا۔۔۔ ارے رنڈی ابھی فارغ نہیں ہوئی۔۔۔ صباء تو اچھل ہی پڑی۔۔۔میجر کو اِس طرح سے سامنے دیکھ کر۔۔۔میجر اپنے ساتھیوں کے بالکل سامنے واش روم میں جھانک رہا تھا۔۔۔جہاں صباء بیٹھی ہوئی پیشاب کر رہی تھی۔۔۔ صباء بولی۔۔۔پلیز باہر جاؤ۔۔۔وہ سب لوگ بیٹھے ہیں۔۔۔ صباء کی بات سن کر بجائےباہر جانے کے میجر اندر آیااور اپنی پینٹ کی ذپ کھولنے لگااور بولا۔ میجر :ارے کیوں شرماتی ہے ان لوگوں سے۔۔۔اب تو تیرا یہاں آنا جانا رہےگا۔۔۔مجھے بھی زور کا پیشاب آرہا ہے تو اِس لیے آیا ہوں اندراور ان کو تو پتہ ہی ہے یارسب کچھ۔۔۔یہ کہہ کر میجر نے اپنامرجھایا ہوا لن اپنی پینٹ کی ذپ سے باہر نکالا اور اس کا رخ صباء کی چوت سےنیچے ٹوائلٹ پر کر کے اپنےپیشاب کی دھار مارنے لگا۔۔۔صباء ایکدم سے گھبرا گئی۔۔۔ جیسے ہی میجر کے پیشاب کے چھینٹے نیچے سے صباءکی چوت پر پڑے تو وہ فوراًہی اٹھ کھڑی ہوئی اور اپناپاجامہ بھی اونچا کرنے لگی۔۔۔میجر اسے دیکھ کر ہنسنے لگا۔۔۔ صباء :یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔ میجر :میں نے کون سا تیرے منہ پرپیشاب کر دیا ہے سالی جواتنا غصہ دکھا رہی ہے۔۔۔ صباء کا غصہ بھی پیشاب کی جھاگ کی طرح ہی بیٹھ گیا۔۔۔آخر وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔۔۔میجر کے پیشاب کے چھینٹوں سے گیلی ہی چوت کو اپنے پاجامہ میں چُھپا لیا تھا اس نے۔۔۔پیشاب کر کے میجر نے اپنےلن کو ہاتھ میں پکڑ کے ہلایااور اس پر سے پیشاب کےکچھ قطرے سیدھا صباء کےجوتے پر گرےاور پِھر میجر نے ویسے ہی اپنے لن کو اپنی پینٹ کےاندر کر لیا۔۔۔بنا اسے دھوئے یا صاف کیےہوئے۔۔۔ صباء بولی :اسے دھو تو لو۔۔۔ میجر ہنس کر بولا۔۔۔تو صاف کر دے منہ میں لےکر۔۔۔ صباء نے مصنوئی غصے سےمیجر کی طرف دیکھا اورپِھر میجر جیسے ہی باہر نکلاتو صباء کو بھی اُس کے پیچھے پیچھے باہر آنا پڑا۔۔۔باہر نکلے تو وہ تینوں ان کی طرف ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔صباء کا چہرہ شرم سے لال ہو رہا تھا۔۔۔اس نے اپنا چہرہ نیچے جھکالیا۔۔۔پِھر صباء نے ایک طرف پڑی ہوئی اپنی چادر اٹھائی اور اسے اپنے جِسَم پر لپیٹنےلگی۔۔۔چادر لپیٹتے ہوئے بھی ان تینوں کی نظریں صباء کےمموں پر ہی تھیں۔۔۔اگلے ہی لمحے اپنا چہرہ پِھرسے چُھپا لیا۔۔۔ میجر بولا :ہوگئی میری رنڈی تیار۔۔۔دیکھو تو پِھر سے شریف زادی بن گئی ہے نہ سالی۔۔۔ وہ تینوں بھی ہنسنے لگے۔۔۔ صباء آہستہ سے میجر سےبولی۔۔۔چلو اب چلیں۔۔۔ میجر بولا۔۔۔ہاں ہاں جاؤ اب۔۔۔ابے او جمی۔۔۔اٹھ ذرا میم صاحب کو اُدھرہسپتال میں چھوڑ آ۔۔۔میری بائیک لے جا۔۔۔ صباء پریشان ہو کر بولی۔۔۔کیا مطلب۔۔۔تم نہیں جاؤ گے۔۔۔میں نہیں جا رہی اس کے ساتھ۔۔۔ جمی تو فوراً سے کھڑا ہوگیا۔۔۔ میجر بولا۔۔۔میرا من نہیں ہو رہا ہے اب باہر جانے کا۔۔۔تجھے جانا ہے تو چلی جاجمی کے ساتھ ہی۔۔۔نہیں جانا تو اندر آجا۔۔۔صبح لے چلوں گا تجھے۔۔۔ورنہ اکیلی چلی جا۔۔۔ صباء بے بسی سے اس ظالم اور سخت دِل انسان کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔جس کے لیے وہ اپنا سب کچھ لٹا رہی تھی۔۔۔مگر اس کو اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں تھی۔۔۔ میجر پِھر بولا۔۔۔ارے یہ اِس جمی کی فکر نہ کر تو۔۔۔کچھ نہیں کہے گا تجھے۔۔۔ابے جمی اگر تو نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی نہ تو بہن چود تیرا لن کاٹ دوں گا پکڑ کر۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔نہیں نہیں باس کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ میں کتنا شریف ہوں۔۔۔ میجر ہنسا۔۔۔ہاں ہاں سب کو پتہ ہے بہن چود تیری شرافت کا۔۔۔کتی کے بچے لڑکی کودیکھتے ہی لن کھڑا ہو جاتاہے اور بولتا ہے کہ شریف ہوں۔۔۔سالا۔۔۔ میجر نے صباء کی گانڈ پرایک زور کا تھپڑ مارا اور بولا۔۔۔اچھا چل بائے۔۔۔پِھر ملیں گےاور جا کر اس مولوی کا کام کر جلدی سے۔۔۔پھنسا لے اسے اپنے جال میں۔۔۔میں تو کہتا ہوں کہ ہسپتال میں ہی چُدوا لےاس کمینے سے۔۔۔ ایک بار پِھر سے صباءشرمندہ ہو گئی۔۔۔اِس کمینے کو تو کوئی بھی شرم نہیں تھی۔۔۔ہر بات ہی اس کی ان لوگوں کے سامنے کھول کرذلیل کئے جا رہا تھا۔۔۔صباء کا بس نہیں چل رہا تھاکہ کسی طرح وہاں سے غائب ہو جاتی۔۔۔مگر ایسا ہو نہیں سکتا تھانہ۔۔۔اسے یہ سب ذلت اور ان لوگوں کی بھوکی گندی نظروں کو برداشت کرنا ہی تھا۔۔۔میجر واپس اپنے کمرے میں چلا گیا ہوا تھا۔۔۔جمی صباء کی طرف بڑھااور اپنے گندے سے بالوں میں ہیرو کی طرح سےاپنی انگلیاں پھیر کر انہیں سیدھا کرتے ہوئے بولا۔۔۔ چلیں میم صاحب۔۔۔اور صباء بے بسی سے اُس کے پیچھے اس گٹھیا سی بِلڈنگ سے باہر نکل آئی جہاں جمی میجر صاحب کی بائیک اسٹارٹ کر رہا تھا۔۔۔صباء جمی کے پیچھے بیٹھی اور جمی نے بائیک چلا دی۔۔۔چھوٹی چھوٹی گلیوں سےگزرتے ہوئے بار بار بریک مارتاتو صباء کے ممے جمی کی کمر سے ٹکراتےاور صباء کو صاف لگ رہا تھاکہ یہ سب وہ جان بوجھ کہ کر رہا ہے۔۔۔صباء کو غصہ بھی آ رہا تھا۔۔۔ صباء بولی۔۔۔آرام سے چلاؤ۔۔۔ایسے چالاتے ہیں کیا۔۔۔ جمی بولا :میم صاحب مجھے تو ایسےہی آتی ہے۔۔۔صحیح طریقے سے گاڑی توباس ہی چلاتے ہیں بس۔۔۔ہر کسی کو مزہ ہی آجاتا ہےبس۔۔۔ جمی کی بات سن کر صباءشرمندہ ہوگئی۔۔۔کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی کہ اس کا اشارہ کس طرف ہے۔۔۔تھوڑا آگے مین روڈپر چڑھنے لگے تو سامنے دوپولیس والے کھڑے تھے۔۔۔ان کی بائیک کو دیکھ کرانہوں نے دور سے ہی اشارہ کیا۔۔۔تو انہیں دیکھ کر صباء کی تو جیسے جان ہی نکل گئی۔۔۔کہ کیا جواب دے گی پولیس کو کہ اِس گندے کے ساتھ اتنی رات کو وہ کیا کر رہی ہے۔۔۔صباء بری طرح سے گھبرارہی تھی۔۔۔صباء گھبرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔ جمی پ۔۔۔پولیس۔۔۔ جمی ہنسااور بولا۔۔۔ارے میم صاحب جمی کےہوتے ہوئے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ صباء کو جمی کے اِس طرح سے ہیرو بننے پر غصہ آ رہاتھا مگر اُس کے علاوہ اس وقت اس کا کوئی اور سہارااور امید ہی نہیں تھی۔۔۔جمی نے اپنی بائیک پولیس والوں کے پاس جا کر روکی۔۔۔ ایک پولیس والا جمی کوپہچان کر بولا۔۔۔ ابے اِس وقت کہاں جا رہا ہےاور یہ کون ہے بے۔۔۔؟؟؟ جمی :باس۔۔۔یہ میجر صاحب کی گرل فرینڈ ہے۔۔۔انہیں گھر چھوڑنے جا رہاہوں۔۔۔ آپ سناؤ ٹھیک ہو نہ۔۔۔ دوسرا پولیس والا۔۔۔ابے حرامی۔۔۔بڑا زبردست مال لگ رہا ہے۔۔۔جھوٹ تو نہیں بول رہا نہ میجر کا نام لے کر۔۔۔ جمی ہنس کر۔۔۔ارے باس نہیں یقین تو خودکال کر کہ پوچھ لو میجرسے۔۔۔کروں کال۔۔۔ پہلا پولیس والا۔۔۔ابے نہیں نہیں۔۔۔اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ جمی پولیس والے کو آنکھ مار کر بولا۔۔۔باس لگتا ہے کہ اِس پر دِل آگیا ہے تمہارا۔۔۔دِل کر رہا ہے چکھنے کوتو بتاو۔۔۔ پولیس والا :سالے بکواس نہ کر۔۔۔اگر میجر کو پتہ چل گیا نہ۔۔۔تو ہماری ہی پینٹیں اتروا دےگا۔۔۔تو جا جا۔۔۔نکل یہاں سے۔۔۔پتہ نہیں کہاں کہاں سے ایک سے ایک بڑھ کر لڑکی لے آتاہے یہ میجر بھی۔۔۔ جمی بائیک کوسٹارٹ کرتے ہوئے :بس باس اپنی اپنی قسمت ہے نہ اور ہمیں دیکھو بس ان کی چُودائی کے بعد ان کوگھر چھوڑنے کا ہی کام ملتاہے۔۔۔ جمی نے ہنس کر بائیک کوسٹارٹ کیا اور پولیس والوں کو سلام کر کے آگے نکل گیا۔۔۔آخری وقت تک دونوں پولیس والے صباء کو ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔جب وہ وہاں سے نکلے توصباء کی جان میں جان آئی۔۔۔ جمی بولا :کیوں میم صاحب کیسا بچایاتم کو آج۔۔۔دیکھی پِھر جمی کی پاور۔۔۔ صباء کو ہنسی آئی :یہ تو میجر صاحب کے نام سے ہوا ہے تیرا کیا ہے اِس میں۔۔۔مگر یہ میجر کی گرل فرینڈکیوں بولا تم نے مجھے۔۔۔کیا سوچتے ہوں گے وہ میرے بارے میں اور کیا کیا بکواس کر رہے تم میرے بارے میں۔۔۔ جمی ہنسا :تو اور کیا تم کو اپنی گرل فرینڈ بولتا۔۔۔اگر کہیں تم میری گرل فرینڈہوتی نہ تو۔۔۔ صباء :تو۔۔۔تو کیا۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ جمی ہنس کر :تو آج تم کو ان دونوں پولیس والوں نے لے جا کرخوب ٹھوکنا تھا۔۔۔ صباء جمی کی بات پرشرمندہ ہو گئی۔۔۔غصے سے اس کے کاندھے پرہاتھ مارتے ہوئے بولی۔۔۔ شرم نہیں آتی ایسی باتیں کرتے ہو۔۔۔ صباء :لیکن تم یہ بھی تو کہہ سکتے تھے نہ کہ میری بہن ہے یہ۔۔۔ جمی ہنسا :ہا ہا ہا ہا۔۔۔اگر یہ بول دیتا تو بھی انہوں نے تمہاری خوبصورتی کودیکھتے ہی سمجھ جانا تھا کہ میں پکا پکا بہن چود ہوں۔۔۔کیونکہ ایسی خوبصورت بہن ہو تو اسے بھی نہ بخشوں۔۔۔ صباء :کچھ تو شرم کرو۔۔۔ جمی ہنسا :ارے میم صاحب کیسی شرم۔۔۔قسم سے بڑی مست چیز ہوتم اور بڑا مست چدواتی ہو۔۔۔ صباء حیران ہو کر :تو۔۔۔تو کیا تم لوگ باہر سے۔۔۔چُھپ کر۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔ارے ایسی بلو فلم۔۔۔جو لائیو ہو کون نہ دیکھے گا۔۔۔ صباء اریٹیٹ ہو کر۔۔۔بتاؤں گی میں تمہارے باس کو دیکھنا۔۔۔ جمی ہنس کر۔۔۔ارے کوئی فائدہ نہیں بتانے کا اسے۔۔۔اسے سب پتہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہوں گے۔۔۔ صباء کو بہت غصہ بھی آیااور شرمندگی بھی ہوئی۔۔۔صباء شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔۔۔ شرم نہیں آتی کیا تم لوگوں کو ایسے تانک جھانک کرتے ہو۔۔۔ جمی چھیڑتے ہوئے :آپ بولو۔۔۔آپ کو آ رہی تھی کیا شرم اس وقت ؟ ؟آپ کو شرم آرہی ہوتی تو۔۔۔آپ یہاں آتی ہی کیوں باس کے ساتھ۔۔۔؟ ؟ ؟ صباء ہکلاتے ہوئے :و۔۔۔وہ تو تمہارا باس ہی لایا تھامجھے یہاں۔۔۔ جمی :ارے جانے دو میم صاحب وہ اٹھا کر تو نہیں لے آیا نہ آپ کو۔۔۔آخر آئی تو آپ اپنی مرضی سے ہی ہو۔۔۔ورنہ اتنا مست ہو کر نہ چدواتی باس سے۔۔۔ جمی بات کرتے کرتے اب گندے لفظ بھی بول رہا تھا۔۔۔صباء کو بہت ہی برا لگ رہاتھا۔۔۔ لیکن اسی دوران صباء جمی کے کافی قریب ہو چکی ہوئی تھی اور اُس کے ممے جمی کی کمر سے ٹچ ہو رہے تھے۔۔۔جمی نے اپنی کمر کو تھوڑاسا پیچھے کو پُش کر کےرگڑااور بولا۔۔۔ جمی :میم صاحب تھوڑا پیچھے ہوکر بیٹھو۔۔۔پِھر تم کہو گی کہ میں تمہارے ممے ٹچ کر رہا ہوں۔ صباء چونکی اور پیچھےہوگئی۔۔۔ صباء :انتہائی ذلیل اور کمینے ہو تم سب لوگ۔۔۔ جمی زور زور سے ہنسنے لگا۔۔۔صباء بات کو تبدیل کرنے کےلیے بولی۔۔۔یہ پولیس بڑی ڈرتی ہے کیاتمہارے میجر صاحب سے۔۔۔؟؟؟ جمی :جی ہاں میم صاحب۔۔۔بڑی اُوپر تک پہنچ ہے ہمارےباس کی۔۔۔یہ چھوٹے موٹے پولیس والےتو ویسے ہی ڈرتے ہیں ان سے۔۔۔ صباء میجر کی اِس حیثیت سے بھی امپریس ہو رہی تھی۔۔۔اتنے میں دونوں ہسپتال پہنچ گئے اور جمی نے صباء کو وہاں ڈراپ کیا۔۔۔صباء کے بھرپور جِسَم پرایک نظر ڈالی اور بولا۔۔۔ جمی :میم صاحب اب دوبارہ کب آؤ گی اڈے پر۔۔۔؟ ؟ صباء غصے سے بولی :کبھی بھی نہیں۔۔۔ جمی نے ہنستے ہوئے اپنی بائیک اسٹارٹ کی اور واپس مڑگیااور صباء ہسپتال میں داخل ہوگئی۔۔ صباء اپنی چادر میں لپٹی ہوئی ہسپتال میں داخل ہوئی اور پِھر اپنے کمرے میں گئی تو نرس آنٹی کو انجیکشن لگا رہی تھی۔۔۔آنٹی ابھی جاگ رہی تھی۔۔۔صباء سلام کر کے سیدھی باتھ روم میں چلی گئی۔۔۔اندر جا کر صباء نے اپنا میک اپ وغیرہ ٹھیک کیا۔۔۔ہلکا ہلکا فیس پاؤڈر اور لپسٹک لگائی۔۔۔کیونکہ میجر نے سب کچھ خراب کر دیا ہوا تھا اس کا۔۔۔اپنے بال اور میک اپ ٹھیک کر کے صباء باہر نکلی تونرس کمرے سے باہر جا رہی تھی۔۔۔صباء آنٹی کے بیڈ پر ان کےسر کے پاس بیٹھ گئی اوران کا سر سہلانے لگی۔۔۔آنٹی بھی مسکرا کر اسےدیکھ رہی تھیں اور ایسے ہی باتیں کرتے کرتےآنٹی کی آنکھ لگ گئی۔۔۔صباء نے اپنی چادرنہیں اتاری ہوئی تھی اور ویسے ہی بیٹھی تھی۔۔۔کیونکہ وہ خود بھی اپناڈریس اور ایکسپوز ہوتا ہواجِسَم آنٹی کو شو نہیں کرناچاہتی تھی۔۔۔مولوی صاحب نرس کے ساتھ ہی باہر نکل گئے ہوئے تھے۔۔۔کچھ میڈیسن لانے کا بولا تھانرس نے مارننگ کی ڈوز کےلیے۔۔۔جب آنٹی سو گیں تو صباءنے اٹھ کر کھانے کا ڈبہ چیک کیا تو اس میں کھانا ویسےہی پڑا ہوا تھااور مولوی صاحب نے بھی ابھی نہیں کھایا تھا۔۔۔صباء نے سالن والا ڈبہ اٹھایااور کوری ڈور کے اینڈ پر بنےہوئے کچن میں جا کر کھاناگرم کرنے لگی۔۔۔کھانا گرم کر کے واپس کمرےمیں آئی تو مولوی صاحب بھی واپس آ چکے ہوئے تھے۔۔۔اسے دیکھتے ہی بولے۔۔۔ مولوی صاحب :کہاں چلی گئی تھی بیٹی۔۔۔؟ ؟ صباء :انکل وہ کھانا گرم کرنے گئی تھی۔۔۔آئیں اب جلدی سے کھا لیں۔۔۔آنٹی کی بھی آنکھ لگ گئی ہے۔۔۔پِھر نہ کھانا ٹھنڈا ہو جائے۔۔۔ صباء نے صوفہ پر کھانا رکھااور خود بھی بیٹھ گئی۔۔۔مولوی صاحب بھی صوفہ پر بیٹھتے ہوئے بولے۔۔۔ مولوی صاحب :ارے یہ تو تم نے ایسے ہی تکلیف ہی کی ہے دوبارہ گرم کرنے جانے والی۔۔۔ ایسے ہی کھا لیتے اسے۔۔۔ صباء مسکرا کر مولوی صاحب کی طرف دیکھتےہوئے بولی۔۔۔ارے نہیں انکل آپ کو گرم کھانا کھانے کی عادت ہے نہ تو اسی لیے میں نے سوچافوراً سے گرم کر لاؤں اسے۔۔۔ مولوی صاحب بھی صباء کےخیال کرنےپر مسکرائے اور صوفہ پرکھانے کی دوسری سائیڈ پر صباء کے سامنے ہی بیٹھ گے۔۔۔اچانک صباء اٹھی اور اپنی چادر اتارتے ہوئےبولی۔۔۔ صباء :انکل میں ذرا اسے رکھ دوں۔۔۔ صباء نے اپنی چادر اتاری اورالگ پڑی ہوئی کرسی کی بیک پر فولڈ کر کے رکھ دی۔۔۔اُدھر جیسے ہی صباء کےجِسَم سے چادر اتری تومولوی صاحب کا نوالہ ان کےحلق میں ہی جیسے پھنس گیا۔۔۔اس پتلی سی قمیض میں صباء کے جھلکتے ہوئے جِسَم کو دیکھ کر کانپ اٹھےمولوی صاحب اور صباء جب ان کی طرف پیٹھ کر کے چادر فولڈ کررہی تھی تو اس کی کمر پراس کے بلیک کلر کی براکے سٹریپس اور ہکس بالکل صاف مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے تھے۔۔۔مولوی صاحب اپنی نظرہٹاتے اور پِھر سے دیکھنےلگتے۔۔۔صباء چادر رکھ کر واپس آئی اور صوفہ پر چڑھ کر آلتی پالتی لگا کر بیٹھ گئی۔۔۔اب تو جیسے اوربھی قیامت تھی مولوی صاحب کے لیے۔۔۔صباء کی بلیک کلرکی برا آگے سے بھی کپڑے کے نیچے سے نظر آرہی تھی اور نیچے کو جھک کر کھاناکھانے کی وجہ سے صباء کی قمیض کے گلے میں سے اُسکے مموں کی درمیانی لکیربھی دِکھ رہی تھی۔۔۔آلتی پالتی مارنے سے صباءکی قمیض سمٹ گئی ہوئی تھی اس کی گود میں اور اس کی پاجامہ پہنی ہوئی ٹانگیں اور رانیں مولوی صاحب کے سامنے آگئی تھیں۔۔۔مولوی صاحب کے لیے توکھانا کھانا ہی مشکل ہو رہاتھا۔۔۔وہ تو اپنی نظریں اِس نظارے سے ہٹا نہیں پارہے تھے۔۔۔چاہتے ہوئے بھی اپنی نظروں کو صباء کے مموں پر سےپیچھے نہیں کر پا رہے تھے۔۔۔خود پر شرم بھی آ رہی تھی۔۔۔مگر۔۔۔مگر خود پر کنٹرول بھی تونہیں ہو رہا تھا نہ اور صباء۔۔۔صباء تو اِس سب سے انجان۔۔۔بلکہ۔۔۔جانتے ہوئے بھی انجان بنی ہوئی۔۔۔ نیچے دیکھتے ہوئے کھانا کھارہی تھی۔۔۔جیسے اسے کسی بات کا پتہ ہی نہ ہو۔۔۔مگر اسے پُورا پُورا پتہ تھا کہ مولوی صاحب کی نظریں اُس کے جِسَم کے کس کس حصے پر ہیں۔۔۔مگر نہ تو صباء ان کو روکناچاہتی تھی اور نہ ہی ان کا مزہ خراب کرنا چاہتی تھی۔۔۔صباء سب کچھ کر تو خود سے رہی تھی۔۔۔مگر جو کچھ بھی ہو اسےایسا شو کرنا چاہتی تھی جیسے کہ یہ سب مولوی صاحب نے اپنی مرضی سےکیا ہےاور خود انہوں نے صباء کوپھنسایا ہے۔۔۔اسی لیے صباء نے اپنا معصومانہ انداز برقرار رکھاہوا تھا۔۔۔نہ تو مولوی صاحب کو ان کرج کر رہی تھی اور نہ ہی ان کو روک رہی تھی۔۔۔بس سب کچھ نیچرل اندازمیں ہونے دے رہی تھی اور وہ اپنی چال میں کامیاب بھی جا رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کو ذرا بھی شک نہیں ہوا تھا ابھی تک کہ صباء جان بوجھ کر یہ سب کچھ کر رہی ہے۔۔۔وہ تو خود کو ہی قصوروار مان رہے تھے اس سب کا جو وہ کر رہے تھے۔۔۔مگر پِھر بھی خود کو صباءکا خوبصورت جِسَم دیکھنےسے نہیں روک پا رہے تھے۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر صباءاٹھی اور باتھ روم میں ہاتھ دھونے کے لیے چلی گئی اور تب بھی مولوی صاحب کی نظریں صباء کی کمر اوراب اس سے نیچے صباء کی پھولی ہوئی گانڈ پر بھی تھیں صباء باتھ روم میں داخل ہوئی تو خود کی ہنسی پرقابو نہ رکھ سکی اور آئینے میں خود کودیکھتی ہوئی مسکرانے لگی۔۔۔صباء واپس آئی تو بولی۔۔۔ انکل آپ نے تو ٹھیک سےکھانا کھایا ہی نہیں۔۔۔لگتا ہے آپ کو میرے ہاتھ کاپکا ہوا کھانا پسند نہیں آیا۔۔۔ مولوی صاحب تھوڑا گھبراکر۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔بہت اچھا تھا کھانا۔۔۔ صباء صوفہ کے قریب آئی اور جھک کربرتن سمیٹنے لگی اور بولی۔۔۔مجھے پتہ ہے انکل۔۔۔ آپ کو صرف آنٹی کا کھاناہی پسند آتا ہے۔۔۔ نیچے جھکنے سے صباء کی قمیض تھوڑی نیچے کوہوگئی تھی اور اُس کے ممے اور بھی دورتک نظر آنے لگے تھے۔۔۔مولوی صاحب انہی مموں کودیکھتے ہوئے بولے۔۔۔ نہیں نہیں بیٹی۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔تم بھی بہت اچھا کھانا بناتی ہو۔۔۔ یہ کہتے ہوئے مولوی صاحب نے صباء کے کاندھے پر ہاتھ پھیرااور پِھر صوفے سے اٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھے۔۔۔مولوی صاحب جب اٹھے توصباء کو ان کے بھاری بھرکم پیٹ سے نیچے مولوی صاحب کا لمبا سفید کرتاتھوڑا اٹھا ہوا محسوس ہوا۔۔۔صباء جیسی شاطر لڑکی فوراًہی سمجھ گئی کہ اس قمیض کے نیچے کیا ہےایسا جس نے اسے اُوپر اٹھارکھا ہےاور اپنے جِسَم کے نظارےکے کمالات پر خوش ہوگئی اور خود سے سیٹسفائڈ بھی۔۔۔مولوی صاحب باتھ روم سےواپس آئے تو ان کا کرتا بھی اب ٹھیک ہو چکا ہوا تھا۔۔۔وہ کمرے سے باہر کی طرف جانے لگے۔۔۔صباء برتن ٹیبل پر پیک کررہی تھی۔۔۔ کہاں جا رہے ہیں انکل آپ ؟ ؟ مولوی صاحب :کہیں نہیں بس ابھی آیا چائےلے کر۔۔۔ صباء :جی اچھا۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد مولوی صاحب واپس آئے چائےلے کرتو صباء صوفہ کی سائیڈسے آرم سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی اپنی دونوں ٹانگیں صوفہ پر لمبی پھیلاکراور کوئی میگزین دیکھ رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب صباء کےقریب آئے اور چائے کا کپ صباء کی طرف بڑھایا۔۔۔ تو ان کی نظر سیدھی۔۔۔نیچےبیٹھی ہوئی صباء کی قمیض کے گلے میں سے جھانکتے ہوئے کلیویج پرگئی۔۔۔صباء نے نظر اٹھا کر مسکراکر مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور تھینکس بولتے ہوئے چائے کا کپ لے لیا۔۔۔مولوی صاحب بھی اپنی چائے لے کر صوفہ کے دوسرےاینڈ پر پڑی ہوئی کرسی پربیٹھ گئے۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب چیئر پر بیٹھے تو صباءنے احترام میں اپنی پھیلی ہوئی ٹانگیں پیچھے کھینچ لیں۔۔۔لیکن یہ تو جیسے اور بھی ظلم ہی تھا صباء کا۔۔۔ایک معصوم سا ظلم مولوی صاحب پر۔۔۔کیونکہ ٹانگیں پیچھے کھینچ کر بیٹھنے سے۔۔۔مولوی صاحب کی نظرسیدھی صباء کی چوت کی جگہ پر جا رہی تھی۔۔۔صباء کے ٹائیٹ پاجامےکی وجہ سے صباء کی رانیں اور چوت تک پاجامہ چپکاہوا تھااور مولوی صاحب کی نظریں سیدھی صباء کی چوت پرجا رہی تھیں۔۔۔صباء اپنی ہی دھن میں۔۔۔بنا کسی طرف توجہ دیےہوئے۔۔۔ مگر سب کچھ دیکھتے اورجانتے ہوئے۔۔۔اپنا میگزین دیکھ رہی تھی اور مولوی صاحب اپنی چائےپیتے ہوئے صباء کی رانوں کےمیٹنگ پوائنٹ کا جائزہ لےرہے تھے۔۔۔چائے پینے کے بعد کچھ دیرتک تو دونوں ایسے ہی بیٹھےرہےاور پِھر مولوی صاحب بولے۔۔۔ صباء بیٹی سو جاؤ اب تم اگر سونا ہے تو۔۔۔ صباء :جی انکل نیند تو آ رہی ہے۔۔۔مگر آپ سو لیں۔۔۔سارا دن جاگتے ہیں آپ۔۔۔ مولوی صاحب :ارے نہیں بیٹی۔۔۔سو لیتا ہوتا ہوں تھوڑی دیرمیں صبح میں۔۔۔تم لیٹ جاؤ۔۔۔میں لائٹ ہلکی کر دیتا ہوں۔۔۔ مولوی صاحب اٹھے اور جاکر صرف ایک بلب جلتا رہنےدیا اور باقی لائٹس بند کردیں۔۔۔ ابھی بھی کمرے میں بالکل اندھیرا نہیں تھا مگر پِھربھی روشنی پہلے سے توکافی کم ہوگئی ہوئی تھی۔۔۔صباء نےمسکرا کر مولوی صاحب کی طرف دیکھا اورپِھر صوفہ کی سائیڈ آرم پرسر رکھ کر صوفہ پر ہی لمبی ہوگئی اور مولوی صاحب صباء کےپیروں کی طرف کرسی پربیٹھ گئےاور میگزین دیکھتے ہوئےصباء کے جِسَم کا نظارہ کرنےلگے۔۔۔کچھ آدھے گھنٹے کے بعد۔۔۔تقریباً رات کے ایک بجےمولوی صاحب کو تسلی ہوگئی کہ اب تو صباء سو ہی چکی ہوگی۔۔۔لیکن پِھر بھی انہوں نے اسکا نام پکار کر اسے آواز دی۔۔۔مگر ظاہر ہے کے صباء نےکوئی جواب نہیں دینا تھا۔۔۔اِس لیے چُپ رہی۔۔۔مولوی صاحب نے اپنی تسلی کرنے کے بعد آہستہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور صباء کےپیر کو چھوا۔۔۔کل کی رات کی طرح ہی۔۔۔لیکن آج اپنا ہاتھ پیچھےکرنے کی بجائے آہستہ آہستہ صباء کے پیر کو سہلانے لگے۔۔۔صباء کے دِل کی دھڑکنیں بھی تیز ہونے لگیں۔۔۔مولوی صاحب نے اپنی کرسی کی بیک پر رکھی ہوئی صباء کی چادر اٹھائی۔۔۔اسے اپنے ہاتھ میں لے کر اپناچہرہ اس پر رکھ کر اس چادر کوسونگھنے لگے۔۔۔جیسے صباء کے جِسَم کی خوشبو کو سونگھ رہے ہوں اور تھا بھی کچھ ایسا ہی۔۔۔صباء ہلکی سی کھلی ہوئی آنكھوں سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔۔۔آہستہ آہستہ مولوی صاحب اس چادر کو اپنے چہرےاور داڑھی پر پھیرتے ہوئےآنکھیں بند کر کے صباء کےپیر کو سہلا رہے تھے۔۔۔ لیکن صباء کے پیر کو اس کی جگہ سے نہیں ہلا رہے تھے۔۔۔چادر کو سونگھتے ہوئے ان کے لمبے لمبے سانس لینے کی آواز صاف صباء کو سنائی دے رہی تھی اور صباء کے اپنے سانسوں کی رفتار بھی تیز ہو رہی تھی۔۔۔جس سے صباء کے ممے تیزی سے اُوپر نیچے ہو رہے تھے۔۔۔مگر مولوی صاحب تو اپنی ہی مستی میں تھے نہ۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی گزری تومولوی صاحب اپنی جگہ سےاٹھے۔۔۔صباء نے جلدی سے اپنی آنکھیں پوری بند کر لیں اور صرف محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگی کے اب مولوی صاحب کیا کریں گےاور جلدی ہی اسے پتہ چل گیا۔۔۔ جب صباء کو اپنے پیر پر نرم نرم گھنے بالوں کا ٹچ محسوس ہوا۔۔۔اِس سے پہلے کے صباءسمجھنے کے لیے اپنے دماغ پر زور دیتی۔۔۔اسے اپنے گورے گورے پیر پر۔۔۔دو موٹے موٹے ہونٹوں کا ٹچ محسوس ہوا۔۔۔صباء کا تو جیسے جِسَم ہی کانپ اٹھا۔۔۔بڑی ہی مشکل سے خود کو کنٹرول کیا۔۔۔جب اسے احساس ہوا کہ مولوی صاحب تو اُسکے گورے گورے پیر کو چوم رہے تھے۔۔۔پیر کے اوپری حصے کومولوی صاحب چوم رہے تھےاور اُس کے پیر کی انگلیاں ان کی گھنی سرخ داڑھی میں گھستی جارہی تھیں۔۔۔بہت ہی ہلکے ہلکے کس کررہے تھے وہ صباء کے پیر کو۔۔۔اِس بات کا خیال رکھتے ہوئےکہ کہیں صباء کی آنکھ نہ کھل جائے۔۔۔ تھوڑی دیر کے لیے صباء کےپیر کو کس کرنے کے بعدمولوی صاحب اَٹھ کھڑےہوئےاور سوئی ہوئی صباء کےجِسَم کے اوپری حصے کی طرف بڑھے۔۔۔صباء سیدھی لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ مولوی صاحب نے جھک کرصباء کے جِسَم سے اٹھنے والی خوشبوکو سونگھا۔۔۔بہت ہی پیاری اور مست کر دینے والی خوشبو اَٹھ رہی تھی صباء کے جِسَم سے۔۔۔جسے اپنی سانسوں میں بھرنے کے بعد مولوی صاحب کو اور بھی سونگھنے کی طلب ہو رہی تھی۔۔۔لیٹنے سے صباء کا کلیویج اور بھی گہرا اور واضح ہو رہاتھااورخوبصورت گورا گورا سینہ کھلا ہوا ننگا نظر آ رہا تھا۔۔۔مولوی صاحب بڑی ہی ہمت کرتے ہوئے۔۔۔ڈرتے ڈرتے نیچے جھکےاور اپنی ناک صباء کے سینےکے قریب لانے لگے۔۔۔مولوی صاحب اپنی ناک کوصباء کے جِسَم۔۔۔اُس کے سینے سے ٹچ کرنےسے روک رہے تھے۔۔۔بچانا چاہتے تھے۔۔۔مگر اپنی بڑی سی بھری بھری ہوئی سرخ داڑھی کوصباء کے سینے سے ٹچ ہونےسے نہ بچا سکے۔۔۔جیسے ہی وہ صباء کے سینےپر سے اُس کے جِسَم کی خوشبو سونگھ رہے تھے توان کی داڑھی صباء کے سینےکو چوم رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کی گھنی داڑھی کے نرم نرم بالوں کااپنے ننگے سینے پر ٹچ۔۔۔صباء کے سینےپر گدگدی سی کر رہا تھا۔۔۔لیکن ظاہر ہے کہ وہ ہلنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔۔یہ تو شکر ہوا کہ دو چار لمبےلمبے سانس لیتے ہوئے۔۔۔صباء کے ایروٹک پرفیوم کی خوشبو اپنے اندر بھر کےمولوی صاحب تھوڑا پیچھےہوگئے۔۔۔مولوی صاحب اب نیچے۔۔۔صوفے کے قریب۔۔۔صباء کے بالکل قریب۔۔۔بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔اپنے دونوں پیروں پراور صباء کے اُوپر نیچے ہوتےہوئے سینے کے خوبصورت اُبھار۔۔۔بالکل ہی مولوی صاحب کی آنكھوں اور ہونٹوں اورچہرے کے لیول پر تھے۔۔۔مگر وہ چاہ کر بھی ان کوچھو نہیں سکتے تھے۔۔۔صباء کے سینے کےدونوں ابھاروں کی درمیانی گھاٹی۔۔۔گہری۔۔۔تاریک۔۔۔چکنی گھاٹی مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے تھی۔۔۔جس پر ان کی نظریں پھسلتی جا رہی تھیں۔۔۔اندر تک جانے کے لیے۔۔۔بہت اندر تک۔۔۔مگر جا نہیں سکتی تھیں نہ۔۔۔خود پر کنٹرول نہ کر پاتے ہوئے۔۔۔آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ۔۔۔اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ۔۔۔صباء کے مموں کی طرف بڑھائےاور بہت ہی ہلکے سے۔۔۔بہت ہی ہولے سے۔۔۔صباء کے مموں کو ٹچ کیا۔۔ مگر صرف اور صرف ایک لمحے کے لیےاور فوراً سے ہی اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔۔۔جیسے کوئی کرنٹ لگ گیا ہوان کو صباء کے مموں کو چھونے سے۔۔۔کرنٹ ہی تو تھا صباء کےمموں میں۔ ایک ایسا کرنٹ جوکہ چھونے پر ہاتھوں کو دورجھٹک دیتا تھااور ہاتھ پیچھے کرو تو وہی کرنٹ ہاتھوں کو دوبارہ اپنی طرف کھینچنے لگتا تھا۔۔۔چند لمحوں کے بعد۔۔۔دوبارہ سے ہمت کر کے مولوی صاحب نے ایک بار پِھر صباءکے خوبصورت۔۔۔اُوپر نیچے ہوتے ہوئے۔۔۔سینے کے ابھاروں کے اُوپراپنا ہاتھ رکھ دیااور اِس بار تو انہوں نے فوراًسے اپنے ہاتھ کوپیچھے کھینچنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔۔۔اپنے بھاری بھرکم ہاتھ کوصباء کے سڈول اور بہت ہی مناسب سائز کے ایک ممے پررکھا رہنے دیا۔۔۔صباء بےچین ہونے لگی۔۔۔اُس کے دِل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔۔۔اس سے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔مولوی صاحب کے بھاری بھرکم ہاتھ کا بوجھ وہ اپنےدائیں ممے پر محسوس کررہی تھی۔۔۔بھاری ہاتھ کا گرم گرم لمس اسے اپنے کالے برا میں سےگزرتا ہوا نیچے اپنے ممے کی جلد پر محسوس ہو رہا تھا۔۔۔بہت ہی دھیرے سے۔۔۔بالکل ساکت۔۔۔رکھے ہوئے ہاتھ میں۔۔۔آہستہ آہستہ جان پڑنے لگی مولوی صاحب کے ہاتھ کی انگلیاں بند ہونے لگیں۔۔۔بہت ہی دھیرے دھیرے۔۔۔ بالکل بھی محسوس نہ ہونےوالے انداز میں اور پِھر صباء کے ممے کومولوی صاحب نے اپنی گرفت میں لے لیا۔۔۔لیکن اسے نہ تو دبایااور نہ ہی نوچا۔۔۔بس صباء کے خوبصورت ممےکا لمس اپنی مٹھی میں محسوس کرنے لگے۔۔۔ان کا ہاتھ صباء کی برا کےکپ کی نظر آ رہی ہوئی لائن پر رینگنے لگا۔۔۔بہت ہی دھیرے دھیرے۔۔۔صباء بہت ہی مشکل سےاپنی سانسوں کو کنٹرول کرپا رہی تھی۔۔۔مگر دِل کی دھڑکن کو کیسےکنٹرول کر پاتی۔۔۔مگر اپنے چہرے کے ایکسپریشنز کو بالکل نارمل رکھا ہوا تھا۔۔۔جیسے سچ میں ہی وہ سورہی ہواور مولوی صاحب صرف خود کو ہی گلٹی محسوس کر رہے تھے جوکہ اپنی بیٹی کی عمر کی اس سوئی ہوئی خوبصورت لڑکی کے مموں کو چھو رہے تھے۔۔۔مگر اِس وقت ان کو کسی بھی غلط اور صحیح کاکوئی احساس نہیں تھا۔۔۔یا پِھر وہ کچھ اور سوچنانہیں چاہتے تھے۔۔۔صباء کو کچھ بھی تو نظرنہیں آ رہا تھا نہ۔۔۔صرف وہ محسوس کر پا رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کو اپنے قریب ہی بیٹھے ہوئےاور ان کے ہاتھ کو اپنےبریسٹ پراور پِھر کچھ دیر میں ان کاہاتھ صباء کے ممے پر سے ہٹ گیااور صباء نے سکون کا سانس لیا۔۔۔بالکل سوئی ہوئی کیفیت میں ہی تھوڑے لمبےسانس لینے کی کوشش کرنےلگی اور ایسے ہی لمبے سانس لیتے ہوئے۔۔۔صباء کو اپنی ناک میں ایلاچی کی خوشبو آنےلگی۔۔۔صباء کو حیرت ہوئی کہ اچانک ہی اِس نارمل سی ہوامیں۔۔۔جہاں وہ سانس لے رہی تھی۔۔۔یہ الاچی کی خوشبو کہاں سے آگئی اور اگلے ہی لمحے۔۔۔جب اسے کچھ یاد آیا تو اسکا تو جیسے سانس رکنے لگا۔۔۔اسے یاد آیا کہ ہروقت الاچی منہ میں رکھ کر چبانے کی عادت ہے مولوی صاحب کو۔۔۔صباء سوچنے لگی۔۔۔تو کیا۔۔۔تو کیا۔۔۔مولوی صاحب اپنے ہونٹوں کو۔۔۔اپنے منہ کو۔۔۔اُس کے منہ کے پاس لا رہےہیں۔۔۔صباء کو یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔یا پِھر وہ یقین کرنا نہیں چاہ رہی تھی۔۔۔مگر۔۔۔حقیقت تو وہی تھی نہ۔۔۔جو ہو رہا تھا۔۔۔یعنی سچ میں ہی مولوی صاحب بہت ہی آہستہ سےاپنے منہ کو صباء کے منہ کےپاس لے آئے تھے۔۔۔اپنے موٹے موٹے لبوں سےصباء کے پتلے پتلے ہونٹوں کو چومنے کے لیے۔۔۔مولوی صاحب کے منہ سےآتی ہوئی الاچی کی خوشبو۔۔۔صباء کی سانسوں میں جارہی تھی اور اسے بےچین کرنے لگی تھی۔۔۔لیکن اِس سے پہلے کے مولوی صاحب کے ہونٹ صباء کےہونٹوں سے ٹکراتے۔۔۔مولوی صاحب کی گھنی داڑھی کے بال۔۔۔نرم نرم بال۔۔۔صباء کو اپنے چہرےپر ٹکراتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔۔۔ایک عجیب سا احساس تھا۔۔۔کچھ الگ سا ہی۔۔۔آج تک کبھی بھی اس نےکسی کی داڑھی کے بالوں کواپنےگالوں اور چہرے پرمحسوس نہیں کیا تھااور آج تک کبھی بھی کسی داڑھی والے بندے نےاسے کس بھی تو نہیں کیاتھا نہ جو وہ کسی کے داڑھی کے بالوں کا ٹچ محسوس کر پائی ہوتی اور چند ہی لمحوں کے بعد۔۔۔دو بھاری۔۔۔موٹے موٹے ہونٹ۔۔۔صباء کو اپنے پتلے پتلے گلابی ہونٹوں پرمحسوس ہوئے۔۔۔گرم گرم۔۔۔تپتے ہوئے ہونٹ اور ان ہونٹوں نے صباء کےہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔بس ایک لمحے کے لیےاور پِھر جلدی سے پیچھےہوگئے۔۔۔ جیسے کہ ان ہونٹوں نے اپنی مراد پا لی ہو۔۔۔جیسے کہ ان ہونٹوں نے ایک ہی لمحے میں کوئی امرت پی لیا ہواور دوسری طرف۔۔۔کچھ امرت صباء نے بھی بہادیا تھا۔۔۔چند بوندیں۔۔۔امرت کی نکل آئی تھیں۔۔۔ٹپک گیں تھیں۔۔۔اس کی ٹانگوں کے درمیان۔ اس کی پیاری سی چوت سےاور وہ امرت کی چند بوندیں۔۔۔نکل کر صباء کے پاجامہ کے کپڑے میں ہی جذب ہوگئی تھیں۔۔۔مگر ساتھ ہی اس کا جِسَم بھی تو کانپ گیا تھااور اب برداشت نہ کر پائی اسی طرح رہنا تو ہلی۔۔۔اپنی دونوں ٹانگوں کو دبایا۔۔۔بلکہ دونوں رانوں سے اپنی چوت کو دبایااور پِھر کروٹ لے لی۔۔۔صوفہ کی بیک کی طرف اور اپنی بیک۔۔۔ مولوی صاحب کی طرف کرتے ہوئے۔۔۔ایسی پوزیشن میں تھی کہ اس کی گانڈ بھی پیچھے کو مولوی صاحب کی طرف نکل آئی تھی۔۔۔ایک نئی دعوت اور ایک نیا چیلنج مولوی صاحب کو دیتے ہوئے۔۔۔کہ آؤ۔۔۔اگر ہمت ہے تو آؤاور اسے بھی چھو کر دیکھوکہ کیسا مال ہے یہ اور کتنی خوبصورت ہے یہ اور مولوی صاحب کی نظریں بھی تو وہیں پر تھیں نہ۔۔۔صباء کی خوبصورت کمر اورگانڈ پر۔۔۔صباء تو اپنا منہ صوفہ کی بیک کی طرف کر کے لیٹ چکی ہوئی تھی۔۔۔اپنے سرخ ہوتے ہوئے چہرےاور پھولتی ہوئی سانسوں اور چہرے کے ایکسپریشنز کو چھپانے کے لیے۔۔۔مگر۔۔۔مولوی صاحب کے لیے تو ایک اور امتحان تھا نہ۔۔۔کیونکہ پتلی سی گلابی قمیض میں چھپا ہوا جِسَم۔۔۔جس میں سے صباء کی کمرکی گوری گوری رنگت جھلک رہی تھی اور جس میں سے صباء کی پہنی ہوئی بلیک براکی سٹریپس اور ہکس صاف دِکھ رہے تھے۔۔۔وہ کمر اپنے تمام جوبن اور نظاروں کے ساتھ مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے تھی اور مولوی صاحب کو اوربھی بےچین کر رہی تھی۔۔۔اگر صرف یہی کچھ ہوتا توبھی شاید مولوی صاحب خود پر کنٹرول کر لیتے۔۔۔مگر۔۔۔ایک اور قیامت بھی تو سامنے تھی نہ۔۔۔ہاں۔۔۔صباء کی ابھری ہوئی اورمولوی صاحب کی طرف نکلی ہوئی گانڈ۔۔۔جس پر ہلکی سی قمیض کاپچھلا حصہ پڑا ہوا تھا۔۔۔آخر مولوی صاحب کے صبرکا بندھن ٹوٹااور ان کا بھاری ہاتھ آگے بڑھااور سوئی ہوئی صباء کی کمرپر آیا۔۔۔جوکہ ننگی جیسی ہی توتھی۔۔۔اس پتلی سی قمیض میں سے۔۔۔مولوی صاحب کے ہاتھوں کی گرمی بنا کسی رکاوٹ کےصباء کو اپنے جِسَم پرمحسوس ہو رہی تھی۔۔۔ایک بار اس کا دِل کانپ اٹھا۔۔۔جِسَم کو تو کسی نہ کسی طور اس نے کنٹرول کر ہی لیاتھا ہلنے سے۔۔۔مگر مولوی صاحب کا ہاتھ توان کے کنٹرول میں نہیں تھا نہ اب۔۔۔آہستہ آہستہ صباء کی نرم ملائم کمر پر سرکنے۔۔۔دھیرے دھیرے صباء کی کمرکو سہلانے لگا۔۔۔کبھی اُوپر کی طرف جاتااور کبھی نیچے کو آتا۔۔۔قمیض کے اوپری حصے پر۔۔۔ گردن کے پاس بھی گلا تھوڑالوز تھااور صباء کی کمرکا اوپری حصہ۔۔۔بالکل گردن کے پاس سے ننگاہو رہا تھا۔۔۔بہت ہی آہستہ سے مولوی صاحب نے صباء کے بالوں کوپیچھے ہٹایااور پِھر صباءکے گورے گورے جِسَم کا ایک حصہ۔۔۔پہلی بار۔۔۔مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے ننگا تھا۔۔۔ہل ہی تو گئے تھے مولوی صاحب۔۔۔آہستہ سے جب صباء کی کمرکے ننگے حصے کو چھوا تو۔۔۔کرنٹ کی لہر صباء کے پورےجِسَم میں پھیل گئی۔۔۔جو سیدھی جا کر اس کی چوت پر ختم ہوئی۔۔۔لیکن اس کرنٹ کی لہر نےصباء کی چوت سے پانی کی چند بوندیں اور بھی تپکا ہی دیں۔۔۔مولوی صاحب اپنے ہاتھوں کی موٹی موٹی انگلیوں کےساتھ آہستہ آہستہ صباء کی ننگی جلد کو سہلانے لگے۔۔۔ان کا موٹا موٹا۔۔۔انگوٹھا۔۔۔آہستہ آہستہ صباء کی گردن کو سہلا رہا تھا۔۔۔پِھر دوبارہ سے ان کا ہاتھ نیچے کو جانے لگا۔۔۔نیچے۔۔۔بالکل نیچے۔۔۔کمر سے نیچےاور پِھر اُوپر کو۔۔۔لیکن اِس بار جِسَ
  4. قسط نمبر30 صباء :مجھے بھی ساتھ لے چلو۔۔۔یہاں ساتھ ہی جو پلازہ ہےاس میں مجھے کچھ چیزیں دیکھنی ہیں مجھے وہاں چھوڑ دینا۔۔۔میں پِھر واپس آ جاؤں گی۔۔۔کچھ ہی دیر میں۔۔۔ پِھر اس نے مولوی صاحب کی طرف دیکھااور اپنی چادر ٹھیک کرتےہوئے بولی۔۔۔انکل میں تھوڑی دیر میں واپس آتی ہوں۔۔۔ جیسے مولوی صاحب کودلاسا دے رہی ہو کہ واپس آئے گی ان کے پاس۔۔۔اشرف نے کچھ زیادہ نہیں پوچھا صباء سے اور اسےقریب کے پلازہ میں چھوڑ کرچلا گیا۔۔۔پلازہ پیدل کے فاصلے پر ہی تھا ہسپتال سے۔۔۔پلازہ میں شاپنگ کیا کرنی تھی صباء نے۔۔۔اشرف کے جاتے ہی میجر کوفون کیا۔۔۔اس نے اٹینڈ کیا تو آواز سےصاف پتہ چل رہا تھا کے وہ روڈ پر ہے۔۔۔ صباء نے اسے پلازہ پر آنے کاکہااور فون بند ہوگیا۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں اُسکے سامنے ہی بائیک آ کررکی۔۔۔اس پر میجر ہی تھا۔۔۔ میجر :چل آ بیٹھ۔۔۔ صباء جلدی سے ادھر اُدھردیکھ کر میجر کے پیچھےبیٹھ گئی اور میجر نے اپنی بائیک آگےبڑھا دی۔۔۔میجر کافی تیز بائیک چلا رہاتھا۔۔۔صباء نے اپنا بازو اُس کے گردڈال کے اسے پکڑا ہوا تھا اوراس سے چپکی ہوئی تھی۔۔۔میجر اسے لے کر ادھر اُدھرسڑکوں پر گھماتا رہا۔۔۔ صباء :یہ تم مجھے لے کر جا کہاں رہے ہو۔۔۔؟؟ میجر :تجھے اپنے اڈے پر لے جاؤں گا اور وہاں چودوں گا تجھے۔۔۔ صباء :نہیں نہیں پلیز۔۔۔وہاں نہیں۔۔۔ میجر :تو اور کیا تجھے یہیں سڑک پرہی چود دوں۔۔۔بول۔۔۔؟؟ صباء چُپ کر گئی۔۔۔اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کوئی اسے میجر کے ساتھ جاتا ہوا نہ دیکھ لے۔۔ لیکن ایک بات کی فکر نہیں تھی اسے کہ اشرف دیکھے گاکیونکہ وہ تو اِس وقت اپنی ڈیوٹی پر تھا۔۔۔ایک روڈ سے گزرتے ہوئے اسےکچھ لڑکیاں روڈ کے کنارےادھر اُدھر کھڑی ہوئی نظرآئیں۔۔۔انہوں نے اچھا میک اپ بھی کیا ہوا تھااور ٹھیک ٹھاک ہی لگ رہی تھیں۔۔۔ کسی کے پاس کوئی مردکھڑا بھی تھا اور کچھ اکیلی تھیں۔۔۔صباء نے زیادہ توجہ نہیں دی۔۔۔ میجر نے بائیک ایک جگہ پرروکی۔۔۔ایک اسٹریٹ لائٹ کے نیچےاور اسے اترنے کو کہا۔۔۔ صباء اتری تو میجر بولا۔۔۔ میجر :تو دو منٹ یہاں رک میں وہ سامنے کی پان کے کوکھے سے سگریٹ لے کرآتا ہوں۔۔۔ صباء نے سامنے سڑک کےپاس کچھ ہی فاصلے پر بنےہوئے کھوکھے کو دیکھا اوراپنا سر ہلا دیا۔۔ وہاں پر اور بھی لوگ کھڑےتھےاور اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ اسے ان مردوں کے سامنے نہیں لے جانا چاہتاتھا۔۔۔اِس پر صباء کو تسلی بھی ہوگئی۔۔۔میجرسامنے سڑک کے پار جاکر کھوکھے پر کھڑا ہوگیااور صباء اطمنان سے ادھراُدھر دیکھنے لگی۔۔۔اکیلی۔۔۔تاریک رات میں۔۔۔اس سڑک پر لائٹ کے نیچےصباء۔۔۔ایک گلابی رنگ کاپاجامہ پہنے ہوئےاور اوپر سے چادر لپیٹ کر۔۔۔اپنا چہرہ بھی چُھپا کر روڈکے کنارے کھڑی تھی۔۔۔اس کی صرف آنکھیں ہی نظر آرہیں تھیں۔۔۔صباء اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔اتنے میں ایک کار اُس کےپاس آ کر رکی۔۔۔صباء دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔۔۔کار کی ونڈو میں سے ایک ادھیڑ عمر کے آدمی نے شیشہ نیچے کر کے اسے اُوپر سےنیچے تک دیکھا۔۔۔صباء گھبرا کر میجر کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔جوکہ پان والے کےساتھ گپوں میں مصروف تھا۔۔۔صباء کو دیکھ کر وہ کار والا آدمی بولا۔۔۔ آدمی :اے۔۔۔بول چلے گی کیا۔۔۔؟ اُس کے سوال پر صباء گھبراگئی۔۔۔کہ کیا مطلب ہے اسکے سوال کا۔۔۔وہ یہی کہہ سکی۔۔۔ صباء :ک۔۔۔کہاں۔۔۔؟؟؟ آدمی :جگہ ہے میرے پاس۔۔۔آجا۔۔۔دو گھنٹے کے لیے۔۔۔بالکل محفوظ جگہ ہے۔۔۔ پولیس ولیس کا بھی ڈر نہیں ہے وہاں۔۔۔بول۔۔۔ صباء گھبرا گئی۔۔۔اور سمجھ بھی گئی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔۔۔ آدمی :نئی لگ رہی ہےاِس علاقے میں۔۔۔چل آجا۔۔۔بول کیا لے گی دو گھنٹوں کا۔۔۔ جلدی بول۔۔۔ صباء پریشان ہو کر بولی۔۔۔نہیں نہیں میں نہیں جا رہی۔۔۔کہیں بھی۔۔۔میں وہ نہیں ہوں۔۔۔ آدمی :ارے زیادہ بھاؤ نہ کھا۔۔۔دِکھ رہا ہے مجھے بھی کہ اچھے گھر کی ہے۔۔۔پر اب آ ہی گئی ہےاِس دھندے میں تو کیوں شرما رہی ہے۔۔۔چل آجا۔۔۔پانچ ہزار دوں گا۔۔۔دو گھنٹے کے۔۔۔ صباء کو غصہ بھی آ رہا تھااور ڈر بھی لگ رہا تھا۔۔۔وہ میجر کو آواز دینا چاہتی تھی مگر وہ اپنا مصروف تھا۔۔۔صباء کو ایک خیال آیا۔۔۔ صباء :میں نے کہا ہے نہ کہ میں ویسی نہیں ہوں۔۔۔میرا شوہر وہ سامنے سےسگریٹ لینے گیا ہے۔۔۔ابھی واپس آ رہا ہے۔۔۔ اس آدمی نے مڑ کر پان والی دکان کی طرف دیکھا۔۔۔تو میجر بھی اب مڑ کرواپس آنے کے لیے سڑک کراس کرنے کو تھا۔۔۔ آدمی :بہن چود۔۔۔رنڈی نہیں ہے تو یہاں پر کیاکر رہی ہے۔۔۔گشتی نہ ہو تو۔۔۔ایسے ہی ٹائم برباد کر رہی ہےمیرا۔۔۔ یہ کہہ کر اس کار والے نےاپنی کار آگے بڑھا دی اور دوسری لڑکی کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا۔ صباء نے دیکھا کہ اس لڑکی نے فوراً ہی کار کی کھڑکی میں جھک کر کار والے سےکچھ بات چیت کی اور پِھرجلدی سے گھوم کر اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور کار آگے چلی گئی۔۔۔صباء نے شکر کیا کہ اس کی جان چھوٹی اِس مصیبت سے۔۔۔اتنے میں میجر واپس آیااور ہنس کر بولا۔۔۔ میجر :بہن چود۔۔۔گئی نہیں۔۔۔کسٹمر آیا تھا تیرا تجھے لےکر جانے کے لیے۔۔۔ صباء تھوڑے غصے سے اسےدیکھتے ہوئے بولی۔۔۔مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔۔۔؟؟؟ میجر ہنسا۔۔۔سالی میں نے سوچا تجھےتھوڑا تیرا دھندہ ہی دکھادوں۔۔۔ صباء وہیں کھڑی تھی ابھی۔۔۔ میجر بولا۔۔۔چل اب بیٹھتی ہے کہ میں جاؤں۔۔۔لگتا ہے کہ تجھے کسی کسٹمرکے ساتھ ہی جانا ہے۔۔۔ صباء شرمندہ ہو کر جلدی سے میجر کے پیچھے بیٹھ گئی اور میجر نے اپنی بائیک آگےبڑھا دی۔۔۔ اب میجر نے تنگ گلیوں میں بائیک موڑ دی تھی۔۔۔ میجر صباء کو دوبارہ سےشرمندہ کرتے ہوئے :ویسے کیا بھاؤ دے رہا تھاتیرا ؟ ؟ ؟ صباء بھی سمجھ گئی کہ میجر اسے تنگ کرنے کے موڈمیں ہے۔۔۔ وہ بھی بولی5 : ہزار دے رہا تھا دو گھنٹوں کے۔۔۔تیری طرح نہیں کہ مفت میں ہی چودنے لگتے ہو جب دِل کرتا ہے۔۔۔ میجر ہنستے ہوئے :سالی۔۔۔تو چلی جاتی اُس کے ساتھ اور کما لیتی 5 ہزار۔۔۔ صباء :ہاں چلی جاتی تو اچھا تھا۔۔۔پر پِھر تیرا خیال آ گیا کہ تجھے اپنے اِس لن کو خودسے ٹھنڈا کرنا پڑے گا۔۔۔اپنے ہاتھ سے۔۔۔ یہ کہتے ہوئے صباء نے اپناہاتھ میجر کے لن پر رکھ دیااور اسے زور سے دبایا۔۔۔ میجر :بہن چود۔۔۔رنڈی۔۔۔اتنا ہی شوق ہے نہ تو بتاتجھے سچ میں ہی چکلے پر بیٹھا دیتا ہوں۔۔ روز کے روز نئے گاہک آئیں گے تجھے چودنے کے لیےاور پیسے بھی کمانا۔۔۔ صباء میجر کے لن کو سہلاتے ہوئے بولی۔۔۔پہلے تیرے لن کا مزہ تو لےلوں۔۔۔پِھر کسی اور کا سوچوں گی۔۔۔ میجر ہنسنے لگا اور گلیوں میں گھوماتے گھوماتے وہ اسے ایک بڑے سے گیٹ کے سامنے لے آیا اور دروازہ نوک کیا تو آدمی نے دروازہ کھولا۔۔۔میجر اندر داخل ہوگیا۔۔۔نہ چاہتے ہوئے بھی صباء کومیجر کے پیچھے پیچھے اندرجانا پڑا۔۔۔اندر داخل ہو کر صباء نےدیکھا کہ دروازہ کھولنے والاآدمی ایک۔۔۔نوجوان لڑکا سا تھا25 سال کا ہوگا۔۔۔گورا چٹاتھا۔۔۔لیکن کافی گندی حالت میں تھا۔۔۔گندی سی کالی ساندو ٹائپ کی بنیان پہنی ہوئی تھی اور نیچے ایک گندی سی جینز تھی۔۔۔چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی اور مونچھ تھی۔۔۔جِسَم بھی کافی مضبوط لگ رہا تھا۔۔۔جیسے ایکسرسائز وغیرہ کرتارہتا ہو وہ۔۔۔صباء نے دیکھا کہ وہ اسے ہی غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔میجر نے اسے صباء کودیکھتے ہوئے پکڑا تو بنا کسی شرم کے بولا۔۔۔ بہن چود۔۔۔چودنا ہے کیا اسے۔۔۔جو ایسے دیکھے جا رہا ہےاپنی بہن کو۔۔۔سالا جیسے کوئی بچی نہیں دیکھی ہو کبھی۔۔۔ وہ لڑکا تو شرمندہ ہوا مگرآگے سے اپنے دانت نکال دیے۔۔۔اِس بات سے وہ صباء کو اوربھی برا لگا۔۔۔لیکن میجر کی بات سن کرصباء کو خود شرم آ گئی۔۔۔کہ کیسے اس نے اُسکے چودنے کی بات کی ہےاس لڑکے سے۔۔۔ لڑکا :سوری باس۔۔۔ لڑکے نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔۔۔ میجر :کتی کے بچے۔۔۔کسی کو چھوڑ بھی دیا کر۔۔۔دیکھ بھی رہا ہے کہ یہ باس کا مال ہے پِھر بھی اپنی گندی نظروں سےہی چودے جا رہا ہے سالی کو۔۔۔ صباء تو شرم سے جیسےزمین میں گرتی جا رہی تھی۔۔۔سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے اور کیا کہے۔۔۔بنا کسی شرم کے اور لحاظ کے میجر اس لڑکےکے سامنے صباء کی بے عزتی کیے جا رہا تھا لیکن اس لڑکے کی گندی نظریں ابھی بھی صباء کےجِسَم پر ہی تھیں۔۔۔اوپر تو اس نے ابھی بھی چادر لپیٹ رکھی ہوئی تھی اور چہرہ بھی ننگا نہیں کیاتھا۔۔۔مگر نیچے اس کے پاجامہ میں اس کی ٹانگوں کےسارے نشیب و فراز صاف دِکھ رہے تھےاور وہ لڑکا صباء کی ٹانگوں کو ہی گھور رہا تھا۔۔۔صباء بھی ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔۔۔سامنے ہی ایک کمرا تھا۔۔۔میجر نے اپنا ہاتھ صباء کےپیچھے لے جا کر اس کی گانڈپر رکھا اور اس کی گانڈ کودبا کر اسے آگےکو کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔ چل آ اندر چل۔۔۔یہیں رک گئی ہے تو بھی۔۔۔ میجر نے اتنی زور سے صباءکی گانڈ دبائی کہ صباء کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔۔۔ساتھ ہی اس کی نظر اس لڑکے کی طرف پڑی۔۔۔وہ صباء کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔صباء کو اپنی طرف دیکھتےہوئے دیکھ کر ہنسنے لگا۔۔۔صباء بے حد شرمندہ ہوئی میجر کے اِس طرح سے اس لڑکے کے سامنے ہی اس کی گانڈ دبانے سے۔۔۔مگر پِھر خاموشی سے اندرکمرے میں داخل ہوگئی۔۔۔اندر گئی تو دو اور گندے سےآدمی بیٹھے ہوئے تاش کھیل رہے تھے۔۔۔میجر کو دیکھتے ہی دونوں اَٹھ کر کھڑے ہوگئے۔۔۔کمرا گندا سا تھا۔۔۔ایک طرف ایک بڑاسا صوفہ پڑا تھا اور ایک سائیڈ پر ایک کرسی اور ایک گندی سی بڑی آفس ٹیبل تھی۔۔۔میجر نے اپنا بازو صباءکے کاندھے پر رکھا ہوا تھااور اسے لے کر آگےبڑھا صوفہ کی طرف۔۔۔بہت ہی عجیب سچویشن لگ رہی تھی۔۔۔کہ ایک خوبصورت لڑکی۔۔۔جس نے اپنے جِسَم اور چہرےکو ایک چادر میں چھپایا ہواتھا۔۔۔ایک غنڈے کے ساتھ ایسی گندی سی جگہ پر آئی ہوئی تھی اور اُس کےسارے کارندے اسے دیکھ رہےتھے۔۔۔گندی اور بھوکی نظروں سے۔۔۔میجر نے صباء کو اپنے بازو کے نیچے ہی صوفہ پر بٹھایا اور اسی لڑکے سےبولا۔۔۔ ابے جمی۔۔۔جا جا کر کولڈ ڈرنک لے کے آاور تم دونوں بھی دفعہ ہوجاؤ باہر اب۔۔۔مجھے چودنا ہے اسے یہاں۔۔۔ چادر کے نیچے بھی صباء کاچہرہ شرم سے لال ہوگیااور اس نے اپنی نظریں جھکادیں۔۔۔میجر ہر بات پر بڑی ہی بےشرمی سے صباء کو اپنےآدمیوں کے سامنے ذلیل کر رہاتھا۔۔۔تینوں نے ہنستے ہوئے صباءکی طرف دیکھا اور پِھر باہرنکل گئے۔۔۔جیسے ہی دونوں تنہا ہوئے توصباء تھوڑا غصے سے بولی۔۔۔ صباء :یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔ان کے سامنے ہی ایسی گندی باتیں کر رہے تھے۔۔۔ میجر ہنس کر بولا۔۔۔بہن چود ان کو سب پتہ ہےکہ تجھے یہاں پرمیں تیری چوت مارنے کے لیےہی لایا ہوں۔۔۔تو پِھر ان سے کیسی شرم۔۔۔ صباء :مجھے کچھ نہیں کرنا ان کےسامنے یہاں پر۔۔۔ میجر نے صباء کے چہرے پرسے چادر ہٹائی اور اپنے ہونٹ صباء کےہونٹوں پر رکھتے ہوئے بولا ارے رنڈی زیادہ نخرے نہ کراور سیدھے سے چُدوا لے۔۔۔ صباء اسے نہ روک سکی اور میجر نے صباء کے ہونٹوں کو چومنا اور چوسنا شروع کر دیا۔۔۔صباء کو بھی اس کا ساتھ دینا پڑ رہا تھا۔۔۔کچھ پل کے لیے میجر کوچومنے کے بعد صباء بولی۔۔۔ صباء :مگر پلیز۔۔۔ان کے سامنے نہ کرو نہ کچھ بھی۔۔۔کہیں اور چلتے ہیں۔۔۔تمہارے فلیٹ پر ہی چلتےہیں۔۔۔پِھر مجھے واپس چھوڑ جانا ہسپتال ۔۔۔ میجر نے کوئی جواب دیے بناہی اسے دوبارہ سے اپنی طرف کھینچا اور نیچے گودمیں لیٹا لیااور جھک کر اُس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔اپنا ہاتھ صباء کی قمیض کےاُوپر سے ہی اُس کے مموں پررکھا اور اُس کے مموں کومسلتے ہوئے اُس کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا۔۔۔صباء بھی مست ہونے لگی تھی۔۔۔مگر۔۔۔اتنے میں دروازہ کھلا اورجمی اندر داخل ہوا۔۔۔اُس کے ہاتھوں میں دو کولڈڈرنکس تھیں۔۔۔جیسے ہی صباء نے اسےکمرے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھاتوجلدی سےمیجرکی گودسےنکلی اورسیدھی ہوکراپنانقاب ٹھیک کرنےکی کوشش ۔۔۔ کرنے لگی۔۔۔مگر جمی تو اُس کے چہرےکو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ میجر :ارے رہنے دے اب۔۔۔کیوں اس سے اپنا منہ چھپارہی ہے۔۔۔اِس نے کیا باہر جا کر تیرے شوہر کو بتانا ہے۔۔۔ صباء پر ایک بار پِھر بے عزتی کا اٹیک ہوا۔۔۔جمی نے آگے آکر دونوں کی طرف کولڈ ڈرنکس پیش کیں۔۔۔صباء نے بھی اپنے شرم سےلال ہوتے ہوئے چہرے کےساتھ کولڈ ڈرنک پکڑ لی۔۔۔جمی اب ایک طرف ہو کرکھڑا تھا۔۔۔ میجر :سالےاب جاتا کیوں نہیں ہے۔۔۔اِس رنڈی کا لائیو شو دیکھناہے کیا تجھے۔۔۔چل دفعہ ہو یہاں سے۔۔۔ جمی ہنس پڑا۔۔۔وہ باس میں نے سوچا کہ کسی اور چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے میم صاحب کو۔۔ میجر :دلے کے بچے۔۔۔تیرے لن کی ضرورت ہے اسے۔۔۔دے آگے ہو کر۔۔۔ اس کمینے جمی نے فوراً ہی اپنی جینز کی بیلٹ پر ہاتھ رکھا اور بیلٹ کھولنے لگا۔۔۔ صباء اسے ایسا کرتے ہوئےدیکھ کر گھبرا گئی اور گھبرا کر میجر کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔میجر نے اسے ایسا کرتے ہوئےدیکھا تو زمین سے اپنا جوتااٹھا کر دور سے اسے مارا۔۔۔ حرامی کا پِلّا ہے تو۔۔۔کمینے۔۔۔کیسے فاٹا فٹ تیار ہو گیا ہے۔۔۔دفعہ ہو جا یہاں سے۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔باس میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔۔ میجر :بہن کے لوڑے۔۔۔تیرا تو مذاق ہے اور اگر تیرےاسی مذاق مذاق میں یہ تجھ سے چودوانے کو تیار ہو گئی تو میں یہاں بیٹھ کے مٹھ ماروں گا کیا سالے۔۔۔ صباء میجر کی اتنی گندی بات پر شرم سے لال ہوگئی۔۔۔جب سے میجر اسے وہاں لایاتھا مسلسل اس کو ذلیل کیےجا رہا تھا۔۔۔جیسے اسے صباء کی عزت کی کوئی پرواہ نہ ہو۔۔۔یہ کہہ کر جمی مڑا اورجانے لگا۔۔۔پِھر رک کر بولا۔۔۔ باس ایک بات تو بتا دو۔۔۔یہ وہی لڑکی ہے نہ جو اس دن تیرے ساتھ فون پر بات کر رہی تھی رنڈیوں کی طرح۔۔۔؟ ؟ جمی کی بات سن کر صباء کاچہرہ شرم سے سرخ ہوگیااور سر نیچے جھک گیا۔۔۔اسے امید ہی نہیں تھی میجرسے کہ وہ اس کا پردہ رکھےگااور ہوا بھی ایسا ہی۔۔۔ میجر :ہاں وہی ہے یہ۔۔۔دیکھ لے اسے اچھے سےاور دفعہ ہو اب۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔باس اس دن تو بڑی بنداس بول رہی تھی اور آج اتنی شرما رہی ہے۔۔۔ میجر :کتے۔۔۔شریف گھر کی عورت ہے یہ۔۔۔تیری بہن کی طرح رنڈی نہیں ہے جو ذرا بھی شرم نہیں کرے۔۔۔ جمی ہنسا اور کمرے سےباہر نکلتے ہوئے دروازے پررک کے پِھر بولا۔۔۔باس وہ چاہیے ہے تو لا دوں۔۔۔وہ۔۔۔کیا کہتے ہیں اسے۔۔۔؟؟ میجر :وہ کیا ابے سالے۔۔۔؟؟ جمی :باس وہی۔۔۔جو پلاسٹک نہیں چڑھاتے لن پر چودنے سے پہلے وہ۔۔۔ میجر :بہن چود دفعہ ہو یہاں سے۔۔۔یہ بنا کنڈم کے ہی چودواتی ہے۔۔۔تیری بہن نہیں ہے جوتجھے اس کے پیٹ سے ہونےکی فکر لگی ہوئی ہے۔۔۔ جمی نے ایک نظر صباء پرڈالی اور ہنستا ہوا کمرے سےنکل گیا۔۔۔اُس کے جاتے ہی میجر نے صباء کو اپنی طرف کھینچا۔۔۔صباء اپنا چہرہ میجر کےسینے پر رکھ کر بولی۔۔۔ پلیز۔۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔مجھے یہاں سے لے چلو۔۔۔دیکھو تو کیسے گندی نظروں سے دیکھتے ہیں تیرے بندےمجھےاور تم بھی مجھے ان کے سامنے خوب ذلیل کرنےلگے ہو۔۔ کیسی کیسی باتیں کر رہےتھے تم ان کے سامنے۔۔۔ میجر ہنسنے لگا۔۔۔ارے کوئی کچھ نہیں دیکھےگا۔۔۔تو آ ادھر۔۔۔ٹائم تھوڑا ہے تیرے پاس۔ ورنہ میں تو ساری رات تیری بجانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ صباء کے روکتے روکتے ہی میجر نے صباء کی چادر اُتاردی اور اپنی پینٹ کھول کر اپنالن باہر نکالا اور صباء کاچہرہ پکڑ کر نیچے جھکا دیااور اپنا لن صباء کے منہ میں ڈال دیا۔۔۔صباء کچھ بھی نہ کر سکی۔۔۔اس کا دِل گھبرا رہا تھا۔۔۔مگر میجر کے غصے اورطاقت کے آگے اس کی کہاں کوئی چل سکتی تھی۔۔۔نہ ہی وہ یہاں سے بھاگ کراکیلی جا سکتی تھی۔۔۔ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے صباءنے چُپ کر کے میجر کا لن اپنے منہ میں لیا اور اسےچوسنے لگی۔۔۔اب اُس کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ جلدی سے میجرکو اپنی چوت دے کر وہاں سے نکلے۔۔۔کیونکہ وہ ایسی گندی جگہ پر اور ایسے گندے لوگوں کےدرمیان زیادہ دیر کے لیےنہیں رہ سکتی تھی۔۔۔ صباء نے میجر کا لن اپنےہاتھ میں پکڑا اور اُس کےاُوپر اپنا منہ اُوپر نیچے کرنےلگی۔۔۔کبھی اسے اپنے منہ سےباہر نکالتی اور اسے چاٹنےلگتی۔۔۔کبھی میجر کی ٹٹوں کو ہاتھ نیچے لے جا کر سہلانے لگتی۔۔۔میجر نے صباء کی چادر اُتاردی تھی۔۔۔نیچے اس کی پہنی ہوئی پتلی سی قمیض کو دیکھا توبولا۔۔۔ میجر :بہن چود بڑے سیکسی کپڑےپہنے ہوئے ہیں۔۔۔سالی وہاں ہسپتال میں گئی تھی کہ رنڈی خانے میں۔۔۔ صباء نے میجر کے لن کو اپنےمنہ سے نکال کر اپنی مٹھی میں اُوپر نیچے کرتے ہوئےاس کی ٹوپی کو اپنی زبان سے چاٹا اور میجر کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئےبولی۔۔۔ پتہ ہے۔۔۔وہاں پر مولوی صاحب بھی ہیں۔۔۔ میجر پوری بات کو سمجھ گیا اور ہنس کر بولا۔۔۔تو سالی تو نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔۔۔بہن چود ہسپتال میں ہی شروع ہوگئی ہے کیا۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔بس کام شروع کیا ہے۔۔۔ابھی کچھ کیا نہیں ہے۔۔۔ میجر صباء کی کمر پرہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔سالی۔۔۔رنڈی۔۔۔تجھے ایسے سیکسی حالت میں دیکھ کر اس مولوی کالن تو ویسے ہی پانی چھوڑدے گا۔۔۔ صباء بھی اس کی بات پرہنسنے لگی۔۔۔ میجر :بس اب جلدی سےکام نپٹا مولوی والا جو میں نے کہا ہے تجھے۔۔۔ صباء :جلدی سے مجھ سے نہیں ہوگا۔۔۔ابھی بتا رہی ہوں میں تم کو۔۔۔تھوڑا ٹائم ضرور لگے گا۔۔۔سیدھا سیدھا تو نہیں اب میں انکل کو کہہ سکتی کےمجھے چود دو۔۔۔ میجر :تیرے انکل کی بہن کی چوت۔۔۔سالی۔۔۔اچھا کر جو کرنا ہے۔۔۔پر مجھے میرا کام مکمل چاہیے ہے۔۔۔سمجھی نہ۔۔۔؟؟ صباء میجر کے لن کی ٹوپی کو اپنے دانتوں کے درمیان آہستہ سے دباتے ہوئے بولی۔۔۔پہلے یہ کام تو کر لے جس کےلیے مجھے یہاں لایا ہے۔۔۔ صباء کی بات سن کرمیجر صوفہ سے اٹھا۔۔۔اپنی پینٹ نیچے گرا دی اور صباء کو پکڑ کر کھڑا کیااور اسے لے کر ٹیبل پر آ گیا۔۔۔ٹیبل پر اسے لٹایااور اس کے ٹائیٹ پاجامے کوکھینچ کر اُتار دیااور خود اس کی دونوں ننگی ٹانگوں کے درمیان میں کھڑاہوگیا۔۔۔اپنے موٹے لمبے لن کو پکڑااور اسے صباء کی چکنی چوت پر رگڑنے لگا۔۔۔ میجر :کتیا۔۔۔دیکھ تیری چوت تو پہلے ہی گیلی ہو رہی ہےاور نخرے ایسے کر رہی تھی جیسے کوئی۔۔۔ صباء ہنسی :اب تھوڑے نخرے بھی تو دکھانے ہی ہوتے ہیں نہ۔۔۔ میجر نے اپنے لن کی ٹوپی کو صباء کی چوت پر رگڑااور اسے اندر داخل کر دیا۔۔۔ایک دھکے میں میجر کا آدھالن صباء کی چوت میں چلاگیااور میجر نے اپنے لن کو آگےپیچھے کرتے ہوئے صباء کوچودنا شروع کر دیا۔۔۔صباء ٹیبل پر لیٹی ہوئی تھی اور میجر نیچے کھڑا ہوا تھا۔۔۔اس نے صباء کی ننگی ٹانگوں کو کھول کر اپنے ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا اور دھانہ دھن اپنا لن اس کی چوت میں ڈال کر اندر باہر کرتے ہوئےاس کی چوت چود رہا تھا۔۔۔صباء کے منہ سےبھی سسکاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔اسے بھولتا جا رہا تھا کہ میجر کے بندے کمرے سےباہر ہیں۔۔ وہ بھی بس آنکھیں بند کئےہوئے بس میجر کے لن کےمزے لے رہی تھی۔۔۔اس کی چوت بھی بے حدگرم ہو رہی تھی اور جلد ہی اپنی منزل کو پہنچنے والی تھی۔۔۔صباء کے اوپری جِسَم پر قمیض ابھی بھی موجودتھی۔۔۔میجر نے اُس کے مموں کوننگا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔۔۔اسے تو بس صباء کی چوت مارنی تھی اور اسے وہ ننگا کر کے چودہی رہا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعد صباءکی چوت نے پانی چھوڑ دیااور اپنی ٹانگیں میجر کےگرد دباتے ہوئے میجر کے لن کو اپنی چوت میں دبانے لگی اور اپنی چوت کاپانی چھوڑنے لگی۔۔۔میجر بھی صباء کی اِس ٹائیٹ ہو رہی چوت میں اپنالن آگے پیچھے کر کے مزے لےرہا تھا۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد جب صباءتھوڑا ریلکس ہوئی تو میجرنے اپنا لن صباء کی چوت سے نکالا اور اسے پکڑ کرکھڑا کر دیا پِھر ٹیبل پر اُلٹا لیٹا کرپیچھے کھڑا ہوگیا۔۔۔صباء کو لگا کہ اب میجر اسکی گانڈ میں اپنا لن ڈالے گا۔ مگر میجر نے پیچھے سےاپنا لن دوبارہ صباء کی چوت میں ڈال دیااور صباء کی کمر کو پکڑکے دھکے مارتے ہوئے صباءکی چوت کو چودنے لگا۔۔۔صباء بھی آہستہ آہستہ پیچھے آگے کوہل رہی تھی۔ اسے بھی خوب مزہ آرہا تھا۔۔۔پورے کمرے میں صباءکی سسکاریاں اور میجر کےلن کے صباء کی چوت کےاندر باہر ہونے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔تھوڑی ہی دیر گزری کہ میجر کے لن نے اپنا پانی صباء کی چوت میں نکال دیااور میجر کا پانی نکلتے ساتھ ہی صباء کی چوت نے بھی ایک بار پِھر سے پانی چھوڑدیا۔۔۔میجر نے اپنا لن صباء کی چوت سے نکالا اور صباءوہیں ٹیبل پر الٹی پڑی ہوئی لمبے لمبے سانس لیتےہوئے خود کو سنبھالنے لگی۔۔۔چند لمحوں کے بعد صباء اٹھی اور جھک کر اپنی چوت کودیکھنے لگی۔۔۔اس کی چوت میں سے میجرکی منی نکل کر باہر آرہی تھی۔۔۔صباء ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔۔۔میجر اسے دیکھ کر بولا۔۔۔ٹیبل کی دراز میں پڑا ہے ٹشوکا دبا۔۔۔صباء نے گھوم کر دوسری طرف جا کر دراز میں سےٹشو کا ڈبہ نکالا اور اس میں سے ٹشو لے کر اپنی چوت صاف کرنے لگی۔۔۔ صباء :مجھے واش روم جانا ہے۔۔۔ میجر :باہر ہے واش روم۔۔۔جا چلی جا ایسے ہی۔۔۔ صباء کو اچانک ہی احساس ہوا کہ وہ کس سچویشن میں ہےاور پِھر جلدی سے اس نے اپناپاجامہ اٹھایا اور اسے پہننےلگی۔۔۔صباء نے اپنا پاجامہ پہن لیااور پِھر چادر لینے لگی تومیجر نے فوراً ہی چادر اٹھالی۔۔۔ میجر :پہلے اپنی چوت دھو آ پِھر لےلینا چادر۔۔۔ صباء :نہیں مجھے نہیں دھونی۔۔۔مجھے نہیں جانا واش روم۔۔۔ میجر :بہن چود دھو آ اپنی چوت۔۔۔ورنہ تیرے اِس پنک پاجامےمیں ہی ساری میری منی تیری چوت کے اندر سے نکل آئے گی۔۔۔ صباء کو پتہ تھا کہ میجرٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔میجر بھی اپنی پینٹ پہن چکا تھا۔۔۔وہ باہر کی طرف بڑھا۔۔۔تو صباء کو بھی اُس کےپیچھے ہی آنا پڑا۔۔۔باہر نکلی تو سب سے پہلے وہ میجر کے بندوں کو دیکھنےلگی۔۔۔وہ تینوں ایک طرف بیٹھےہوئے تاش کھیل رہے تھے۔۔۔صباء کی نظر جمی پر پڑی تو وہ صباء کو دیکھ کر مسکرانے لگااور میجر سے نظر بچا کراپنے انگوٹھے اور پہلی انگلی کو ملا کر اور باقی تِین انگلیوں کو پھیلا کرفنٹاسٹک۔۔۔بہت آعلیٰ۔۔۔کا اشارہ کیا۔۔۔تو صباء کا دِل کیا کہ بس کہیں ڈوب ہی مرے وہ شرم سے۔۔۔صباء کو شک تھا کہ ان تینوں نے اسے ضرور دیکھا ہوگا۔۔۔لیکن اب اسے پکا یقین ہوچکا تھا کہ ان تینوں نے اسکی چُودائی کا لائیو سین ضرور دیکھا ہوگا۔۔۔ان جیسے حرامیوں سےایسی شرافت کی امید کیسےکی جا سکتی تھی کہ وہ ایک خوبصورت عورت کو چدتے ہوئے نہ دیکھیں۔۔۔میجر نے ایک طرف بنے ہوئےواش روم کی طرف اشارہ کیا۔۔۔صباء شرمندگی سےسر جھکاتے ہوئے اندر چلی گئی۔۔۔گندا سا باتھ روم تھا۔۔۔بلکہ صرف ایک ٹوائلٹ تھااور ایک ٹوٹی تھی۔۔۔جوکہ شاید نہانے کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی۔۔۔صباء نے مڑ کر دروازہ لوک کرنا چاہا تو اس کی تو کوئی کنڈی ہی نہیں تھی۔۔۔صباء نے باہر دیکھا۔۔۔ٹوائلٹ سیٹ تھوڑی سائیڈ پرتھی اور کر بھی کیا سکتی تھی صباء۔۔۔خاموشی سے اپناپاجامہ نیچے کر کے ٹوائلٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔واک والی ٹوائلٹ سیٹ تھی اور وہیں بیٹھ کر پیشاب کرنے لگی اور پِھر جو گندا سا لوٹا پڑاہوا تھا اس سے پانی ڈال کراپنی چوت کو دھونے لگی۔۔۔اندر انگلی ڈال کر منی نکال رہی تھی۔۔۔اس کا دھیان اپنی چوت کی طرف ہی تھا کہ اچانک ہی دروازہ کھلا اور میجراندر جھانکنے لگااور بولا۔۔۔ ارے رنڈی ابھی فارغ نہیں ہوئی۔۔۔ صباء تو اچھل ہی پڑی۔۔۔میجر کو اِس طرح سے سامنے دیکھ کر۔۔۔میجر اپنے ساتھیوں کے بالکل سامنے واش روم میں جھانک رہا تھا۔۔۔جہاں صباء بیٹھی ہوئی پیشاب کر رہی تھی۔۔۔ صباء بولی۔۔۔پلیز باہر جاؤ۔۔۔وہ سب لوگ بیٹھے ہیں۔۔۔ صباء کی بات سن کر بجائےباہر جانے کے میجر اندر آیااور اپنی پینٹ کی ذپ کھولنے لگااور بولا۔ میجر :ارے کیوں شرماتی ہے ان لوگوں سے۔۔۔اب تو تیرا یہاں آنا جانا رہےگا۔۔۔مجھے بھی زور کا پیشاب آرہا ہے تو اِس لیے آیا ہوں اندراور ان کو تو پتہ ہی ہے یارسب کچھ۔۔۔یہ کہہ کر میجر نے اپنامرجھایا ہوا لن اپنی پینٹ کی ذپ سے باہر نکالا اور اس کا رخ صباء کی چوت سےنیچے ٹوائلٹ پر کر کے اپنےپیشاب کی دھار مارنے لگا۔۔۔صباء ایکدم سے گھبرا گئی۔۔۔ جیسے ہی میجر کے پیشاب کے چھینٹے نیچے سے صباءکی چوت پر پڑے تو وہ فوراًہی اٹھ کھڑی ہوئی اور اپناپاجامہ بھی اونچا کرنے لگی۔۔۔میجر اسے دیکھ کر ہنسنے لگا۔۔۔ صباء :یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔ میجر :میں نے کون سا تیرے منہ پرپیشاب کر دیا ہے سالی جواتنا غصہ دکھا رہی ہے۔۔۔ صباء کا غصہ بھی پیشاب کی جھاگ کی طرح ہی بیٹھ گیا۔۔۔آخر وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔۔۔میجر کے پیشاب کے چھینٹوں سے گیلی ہی چوت کو اپنے پاجامہ میں چُھپا لیا تھا اس نے۔۔۔پیشاب کر کے میجر نے اپنےلن کو ہاتھ میں پکڑ کے ہلایااور اس پر سے پیشاب کےکچھ قطرے سیدھا صباء کےجوتے پر گرےاور پِھر میجر نے ویسے ہی اپنے لن کو اپنی پینٹ کےاندر کر لیا۔۔۔بنا اسے دھوئے یا صاف کیےہوئے۔۔۔ صباء بولی :اسے دھو تو لو۔۔۔ میجر ہنس کر بولا۔۔۔تو صاف کر دے منہ میں لےکر۔۔۔ صباء نے مصنوئی غصے سےمیجر کی طرف دیکھا اورپِھر میجر جیسے ہی باہر نکلاتو صباء کو بھی اُس کے پیچھے پیچھے باہر آنا پڑا۔۔۔باہر نکلے تو وہ تینوں ان کی طرف ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔صباء کا چہرہ شرم سے لال ہو رہا تھا۔۔۔اس نے اپنا چہرہ نیچے جھکالیا۔۔۔پِھر صباء نے ایک طرف پڑی ہوئی اپنی چادر اٹھائی اور اسے اپنے جِسَم پر لپیٹنےلگی۔۔۔چادر لپیٹتے ہوئے بھی ان تینوں کی نظریں صباء کےمموں پر ہی تھیں۔۔۔اگلے ہی لمحے اپنا چہرہ پِھرسے چُھپا لیا۔۔۔ میجر بولا :ہوگئی میری رنڈی تیار۔۔۔دیکھو تو پِھر سے شریف زادی بن گئی ہے نہ سالی۔۔۔ وہ تینوں بھی ہنسنے لگے۔۔۔ صباء آہستہ سے میجر سےبولی۔۔۔چلو اب چلیں۔۔۔ میجر بولا۔۔۔ہاں ہاں جاؤ اب۔۔۔ابے او جمی۔۔۔اٹھ ذرا میم صاحب کو اُدھرہسپتال میں چھوڑ آ۔۔۔میری بائیک لے جا۔۔۔ صباء پریشان ہو کر بولی۔۔۔کیا مطلب۔۔۔تم نہیں جاؤ گے۔۔۔میں نہیں جا رہی اس کے ساتھ۔۔۔ جمی تو فوراً سے کھڑا ہوگیا۔۔۔ میجر بولا۔۔۔میرا من نہیں ہو رہا ہے اب باہر جانے کا۔۔۔تجھے جانا ہے تو چلی جاجمی کے ساتھ ہی۔۔۔نہیں جانا تو اندر آجا۔۔۔صبح لے چلوں گا تجھے۔۔۔ورنہ اکیلی چلی جا۔۔۔ صباء بے بسی سے اس ظالم اور سخت دِل انسان کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔جس کے لیے وہ اپنا سب کچھ لٹا رہی تھی۔۔۔مگر اس کو اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں تھی۔۔۔ میجر پِھر بولا۔۔۔ارے یہ اِس جمی کی فکر نہ کر تو۔۔۔کچھ نہیں کہے گا تجھے۔۔۔ابے جمی اگر تو نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی نہ تو بہن چود تیرا لن کاٹ دوں گا پکڑ کر۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔نہیں نہیں باس کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ میں کتنا شریف ہوں۔۔۔ میجر ہنسا۔۔۔ہاں ہاں سب کو پتہ ہے بہن چود تیری شرافت کا۔۔۔کتی کے بچے لڑکی کودیکھتے ہی لن کھڑا ہو جاتاہے اور بولتا ہے کہ شریف ہوں۔۔۔سالا۔۔۔ میجر نے صباء کی گانڈ پرایک زور کا تھپڑ مارا اور بولا۔۔۔اچھا چل بائے۔۔۔پِھر ملیں گےاور جا کر اس مولوی کا کام کر جلدی سے۔۔۔پھنسا لے اسے اپنے جال میں۔۔۔میں تو کہتا ہوں کہ ہسپتال میں ہی چُدوا لےاس کمینے سے۔۔۔ ایک بار پِھر سے صباءشرمندہ ہو گئی۔۔۔اِس کمینے کو تو کوئی بھی شرم نہیں تھی۔۔۔ہر بات ہی اس کی ان لوگوں کے سامنے کھول کرذلیل کئے جا رہا تھا۔۔۔صباء کا بس نہیں چل رہا تھاکہ کسی طرح وہاں سے غائب ہو جاتی۔۔۔مگر ایسا ہو نہیں سکتا تھانہ۔۔۔اسے یہ سب ذلت اور ان لوگوں کی بھوکی گندی نظروں کو برداشت کرنا ہی تھا۔۔۔میجر واپس اپنے کمرے میں چلا گیا ہوا تھا۔۔۔جمی صباء کی طرف بڑھااور اپنے گندے سے بالوں میں ہیرو کی طرح سےاپنی انگلیاں پھیر کر انہیں سیدھا کرتے ہوئے بولا۔۔۔ چلیں میم صاحب۔۔۔اور صباء بے بسی سے اُس کے پیچھے اس گٹھیا سی بِلڈنگ سے باہر نکل آئی جہاں جمی میجر صاحب کی بائیک اسٹارٹ کر رہا تھا۔۔۔صباء جمی کے پیچھے بیٹھی اور جمی نے بائیک چلا دی۔۔۔چھوٹی چھوٹی گلیوں سےگزرتے ہوئے بار بار بریک مارتاتو صباء کے ممے جمی کی کمر سے ٹکراتےاور صباء کو صاف لگ رہا تھاکہ یہ سب وہ جان بوجھ کہ کر رہا ہے۔۔۔صباء کو غصہ بھی آ رہا تھا۔۔۔ صباء بولی۔۔۔آرام سے چلاؤ۔۔۔ایسے چالاتے ہیں کیا۔۔۔ جمی بولا :میم صاحب مجھے تو ایسےہی آتی ہے۔۔۔صحیح طریقے سے گاڑی توباس ہی چلاتے ہیں بس۔۔۔ہر کسی کو مزہ ہی آجاتا ہےبس۔۔۔ جمی کی بات سن کر صباءشرمندہ ہوگئی۔۔۔کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی کہ اس کا اشارہ کس طرف ہے۔۔۔تھوڑا آگے مین روڈپر چڑھنے لگے تو سامنے دوپولیس والے کھڑے تھے۔۔۔ان کی بائیک کو دیکھ کرانہوں نے دور سے ہی اشارہ کیا۔۔۔تو انہیں دیکھ کر صباء کی تو جیسے جان ہی نکل گئی۔۔۔کہ کیا جواب دے گی پولیس کو کہ اِس گندے کے ساتھ اتنی رات کو وہ کیا کر رہی ہے۔۔۔صباء بری طرح سے گھبرارہی تھی۔۔۔صباء گھبرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔ جمی پ۔۔۔پولیس۔۔۔ جمی ہنسااور بولا۔۔۔ارے میم صاحب جمی کےہوتے ہوئے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ صباء کو جمی کے اِس طرح سے ہیرو بننے پر غصہ آ رہاتھا مگر اُس کے علاوہ اس وقت اس کا کوئی اور سہارااور امید ہی نہیں تھی۔۔۔جمی نے اپنی بائیک پولیس والوں کے پاس جا کر روکی۔۔۔ ایک پولیس والا جمی کوپہچان کر بولا۔۔۔ ابے اِس وقت کہاں جا رہا ہےاور یہ کون ہے بے۔۔۔؟؟؟ جمی :باس۔۔۔یہ میجر صاحب کی گرل فرینڈ ہے۔۔۔انہیں گھر چھوڑنے جا رہاہوں۔۔۔ آپ سناؤ ٹھیک ہو نہ۔۔۔ دوسرا پولیس والا۔۔۔ابے حرامی۔۔۔بڑا زبردست مال لگ رہا ہے۔۔۔جھوٹ تو نہیں بول رہا نہ میجر کا نام لے کر۔۔۔ جمی ہنس کر۔۔۔ارے باس نہیں یقین تو خودکال کر کہ پوچھ لو میجرسے۔۔۔کروں کال۔۔۔ پہلا پولیس والا۔۔۔ابے نہیں نہیں۔۔۔اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ جمی پولیس والے کو آنکھ مار کر بولا۔۔۔باس لگتا ہے کہ اِس پر دِل آگیا ہے تمہارا۔۔۔دِل کر رہا ہے چکھنے کوتو بتاو۔۔۔ پولیس والا :سالے بکواس نہ کر۔۔۔اگر میجر کو پتہ چل گیا نہ۔۔۔تو ہماری ہی پینٹیں اتروا دےگا۔۔۔تو جا جا۔۔۔نکل یہاں سے۔۔۔پتہ نہیں کہاں کہاں سے ایک سے ایک بڑھ کر لڑکی لے آتاہے یہ میجر بھی۔۔۔ جمی بائیک کوسٹارٹ کرتے ہوئے :بس باس اپنی اپنی قسمت ہے نہ اور ہمیں دیکھو بس ان کی چُودائی کے بعد ان کوگھر چھوڑنے کا ہی کام ملتاہے۔۔۔ جمی نے ہنس کر بائیک کوسٹارٹ کیا اور پولیس والوں کو سلام کر کے آگے نکل گیا۔۔۔آخری وقت تک دونوں پولیس والے صباء کو ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔جب وہ وہاں سے نکلے توصباء کی جان میں جان آئی۔۔۔ جمی بولا :کیوں میم صاحب کیسا بچایاتم کو آج۔۔۔دیکھی پِھر جمی کی پاور۔۔۔ صباء کو ہنسی آئی :یہ تو میجر صاحب کے نام سے ہوا ہے تیرا کیا ہے اِس میں۔۔۔مگر یہ میجر کی گرل فرینڈکیوں بولا تم نے مجھے۔۔۔کیا سوچتے ہوں گے وہ میرے بارے میں اور کیا کیا بکواس کر رہے تم میرے بارے میں۔۔۔ جمی ہنسا :تو اور کیا تم کو اپنی گرل فرینڈ بولتا۔۔۔اگر کہیں تم میری گرل فرینڈہوتی نہ تو۔۔۔ صباء :تو۔۔۔تو کیا۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ جمی ہنس کر :تو آج تم کو ان دونوں پولیس والوں نے لے جا کرخوب ٹھوکنا تھا۔۔۔ صباء جمی کی بات پرشرمندہ ہو گئی۔۔۔غصے سے اس کے کاندھے پرہاتھ مارتے ہوئے بولی۔۔۔ شرم نہیں آتی ایسی باتیں کرتے ہو۔۔۔ صباء :لیکن تم یہ بھی تو کہہ سکتے تھے نہ کہ میری بہن ہے یہ۔۔۔ جمی ہنسا :ہا ہا ہا ہا۔۔۔اگر یہ بول دیتا تو بھی انہوں نے تمہاری خوبصورتی کودیکھتے ہی سمجھ جانا تھا کہ میں پکا پکا بہن چود ہوں۔۔۔کیونکہ ایسی خوبصورت بہن ہو تو اسے بھی نہ بخشوں۔۔۔ صباء :کچھ تو شرم کرو۔۔۔ جمی ہنسا :ارے میم صاحب کیسی شرم۔۔۔قسم سے بڑی مست چیز ہوتم اور بڑا مست چدواتی ہو۔۔۔ صباء حیران ہو کر :تو۔۔۔تو کیا تم لوگ باہر سے۔۔۔چُھپ کر۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔ارے ایسی بلو فلم۔۔۔جو لائیو ہو کون نہ دیکھے گا۔۔۔ صباء اریٹیٹ ہو کر۔۔۔بتاؤں گی میں تمہارے باس کو دیکھنا۔۔۔ جمی ہنس کر۔۔۔ارے کوئی فائدہ نہیں بتانے کا اسے۔۔۔اسے سب پتہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہوں گے۔۔۔ صباء کو بہت غصہ بھی آیااور شرمندگی بھی ہوئی۔۔۔صباء شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔۔۔ شرم نہیں آتی کیا تم لوگوں کو ایسے تانک جھانک کرتے ہو۔۔۔ جمی چھیڑتے ہوئے :آپ بولو۔۔۔آپ کو آ رہی تھی کیا شرم اس وقت ؟ ؟آپ کو شرم آرہی ہوتی تو۔۔۔آپ یہاں آتی ہی کیوں باس کے ساتھ۔۔۔؟ ؟ ؟ صباء ہکلاتے ہوئے :و۔۔۔وہ تو تمہارا باس ہی لایا تھامجھے یہاں۔۔۔ جمی :ارے جانے دو میم صاحب وہ اٹھا کر تو نہیں لے آیا نہ آپ کو۔۔۔آخر آئی تو آپ اپنی مرضی سے ہی ہو۔۔۔ورنہ اتنا مست ہو کر نہ چدواتی باس سے۔۔۔ جمی بات کرتے کرتے اب گندے لفظ بھی بول رہا تھا۔۔۔صباء کو بہت ہی برا لگ رہاتھا۔۔۔ لیکن اسی دوران صباء جمی کے کافی قریب ہو چکی ہوئی تھی اور اُس کے ممے جمی کی کمر سے ٹچ ہو رہے تھے۔۔۔جمی نے اپنی کمر کو تھوڑاسا پیچھے کو پُش کر کےرگڑااور بولا۔۔۔ جمی :میم صاحب تھوڑا پیچھے ہوکر بیٹھو۔۔۔پِھر تم کہو گی کہ میں تمہارے ممے ٹچ کر رہا ہوں۔ صباء چونکی اور پیچھےہوگئی۔۔۔ صباء :انتہائی ذلیل اور کمینے ہو تم سب لوگ۔۔۔ جمی زور زور سے ہنسنے لگا۔۔۔صباء بات کو تبدیل کرنے کےلیے بولی۔۔۔یہ پولیس بڑی ڈرتی ہے کیاتمہارے میجر صاحب سے۔۔۔؟؟؟ جمی :جی ہاں میم صاحب۔۔۔بڑی اُوپر تک پہنچ ہے ہمارےباس کی۔۔۔یہ چھوٹے موٹے پولیس والےتو ویسے ہی ڈرتے ہیں ان سے۔۔۔ صباء میجر کی اِس حیثیت سے بھی امپریس ہو رہی تھی۔۔۔اتنے میں دونوں ہسپتال پہنچ گئے اور جمی نے صباء کو وہاں ڈراپ کیا۔۔۔صباء کے بھرپور جِسَم پرایک نظر ڈالی اور بولا۔۔۔ جمی :میم صاحب اب دوبارہ کب آؤ گی اڈے پر۔۔۔؟ ؟ صباء غصے سے بولی :کبھی بھی نہیں۔۔۔ جمی نے ہنستے ہوئے اپنی بائیک اسٹارٹ کی اور واپس مڑگیااور صباء ہسپتال میں داخل ہوگئی۔۔ صباء اپنی چادر میں لپٹی ہوئی ہسپتال میں داخل ہوئی اور پِھر اپنے کمرے میں گئی تو نرس آنٹی کو انجیکشن لگا رہی تھی۔۔۔آنٹی ابھی جاگ رہی تھی۔۔۔صباء سلام کر کے سیدھی باتھ روم میں چلی گئی۔۔۔اندر جا کر صباء نے اپنا میک اپ وغیرہ ٹھیک کیا۔۔۔ہلکا ہلکا فیس پاؤڈر اور لپسٹک لگائی۔۔۔کیونکہ میجر نے سب کچھ خراب کر دیا ہوا تھا اس کا۔۔۔اپنے بال اور میک اپ ٹھیک کر کے صباء باہر نکلی تونرس کمرے سے باہر جا رہی تھی۔۔۔صباء آنٹی کے بیڈ پر ان کےسر کے پاس بیٹھ گئی اوران کا سر سہلانے لگی۔۔۔آنٹی بھی مسکرا کر اسےدیکھ رہی تھیں اور ایسے ہی باتیں کرتے کرتےآنٹی کی آنکھ لگ گئی۔۔۔صباء نے اپنی چادرنہیں اتاری ہوئی تھی اور ویسے ہی بیٹھی تھی۔۔۔کیونکہ وہ خود بھی اپناڈریس اور ایکسپوز ہوتا ہواجِسَم آنٹی کو شو نہیں کرناچاہتی تھی۔۔۔مولوی صاحب نرس کے ساتھ ہی باہر نکل گئے ہوئے تھے۔۔۔کچھ میڈیسن لانے کا بولا تھانرس نے مارننگ کی ڈوز کےلیے۔۔۔جب آنٹی سو گیں تو صباءنے اٹھ کر کھانے کا ڈبہ چیک کیا تو اس میں کھانا ویسےہی پڑا ہوا تھااور مولوی صاحب نے بھی ابھی نہیں کھایا تھا۔۔۔صباء نے سالن والا ڈبہ اٹھایااور کوری ڈور کے اینڈ پر بنےہوئے کچن میں جا کر کھاناگرم کرنے لگی۔۔۔کھانا گرم کر کے واپس کمرےمیں آئی تو مولوی صاحب بھی واپس آ چکے ہوئے تھے۔۔۔اسے دیکھتے ہی بولے۔۔۔ مولوی صاحب :کہاں چلی گئی تھی بیٹی۔۔۔؟ ؟ صباء :انکل وہ کھانا گرم کرنے گئی تھی۔۔۔آئیں اب جلدی سے کھا لیں۔۔۔آنٹی کی بھی آنکھ لگ گئی ہے۔۔۔پِھر نہ کھانا ٹھنڈا ہو جائے۔۔۔ صباء نے صوفہ پر کھانا رکھااور خود بھی بیٹھ گئی۔۔۔مولوی صاحب بھی صوفہ پر بیٹھتے ہوئے بولے۔۔۔ مولوی صاحب :ارے یہ تو تم نے ایسے ہی تکلیف ہی کی ہے دوبارہ گرم کرنے جانے والی۔۔۔ ایسے ہی کھا لیتے اسے۔۔۔ صباء مسکرا کر مولوی صاحب کی طرف دیکھتےہوئے بولی۔۔۔ارے نہیں انکل آپ کو گرم کھانا کھانے کی عادت ہے نہ تو اسی لیے میں نے سوچافوراً سے گرم کر لاؤں اسے۔۔۔ مولوی صاحب بھی صباء کےخیال کرنےپر مسکرائے اور صوفہ پرکھانے کی دوسری سائیڈ پر صباء کے سامنے ہی بیٹھ گے۔۔۔اچانک صباء اٹھی اور اپنی چادر اتارتے ہوئےبولی۔۔۔ صباء :انکل میں ذرا اسے رکھ دوں۔۔۔ صباء نے اپنی چادر اتاری اورالگ پڑی ہوئی کرسی کی بیک پر فولڈ کر کے رکھ دی۔۔۔اُدھر جیسے ہی صباء کےجِسَم سے چادر اتری تومولوی صاحب کا نوالہ ان کےحلق میں ہی جیسے پھنس گیا۔۔۔اس پتلی سی قمیض میں صباء کے جھلکتے ہوئے جِسَم کو دیکھ کر کانپ اٹھےمولوی صاحب اور صباء جب ان کی طرف پیٹھ کر کے چادر فولڈ کررہی تھی تو اس کی کمر پراس کے بلیک کلر کی براکے سٹریپس اور ہکس بالکل صاف مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے تھے۔۔۔مولوی صاحب اپنی نظرہٹاتے اور پِھر سے دیکھنےلگتے۔۔۔صباء چادر رکھ کر واپس آئی اور صوفہ پر چڑھ کر آلتی پالتی لگا کر بیٹھ گئی۔۔۔اب تو جیسے اوربھی قیامت تھی مولوی صاحب کے لیے۔۔۔صباء کی بلیک کلرکی برا آگے سے بھی کپڑے کے نیچے سے نظر آرہی تھی اور نیچے کو جھک کر کھاناکھانے کی وجہ سے صباء کی قمیض کے گلے میں سے اُسکے مموں کی درمیانی لکیربھی دِکھ رہی تھی۔۔۔آلتی پالتی مارنے سے صباءکی قمیض سمٹ گئی ہوئی تھی اس کی گود میں اور اس کی پاجامہ پہنی ہوئی ٹانگیں اور رانیں مولوی صاحب کے سامنے آگئی تھیں۔۔۔مولوی صاحب کے لیے توکھانا کھانا ہی مشکل ہو رہاتھا۔۔۔وہ تو اپنی نظریں اِس نظارے سے ہٹا نہیں پارہے تھے۔۔۔چاہتے ہوئے بھی اپنی نظروں کو صباء کے مموں پر سےپیچھے نہیں کر پا رہے تھے۔۔۔خود پر شرم بھی آ رہی تھی۔۔۔مگر۔۔۔مگر خود پر کنٹرول بھی تونہیں ہو رہا تھا نہ اور صباء۔۔۔صباء تو اِس سب سے انجان۔۔۔بلکہ۔۔۔جانتے ہوئے بھی انجان بنی ہوئی۔۔۔ نیچے دیکھتے ہوئے کھانا کھارہی تھی۔۔۔جیسے اسے کسی بات کا پتہ ہی نہ ہو۔۔۔مگر اسے پُورا پُورا پتہ تھا کہ مولوی صاحب کی نظریں اُس کے جِسَم کے کس کس حصے پر ہیں۔۔۔مگر نہ تو صباء ان کو روکناچاہتی تھی اور نہ ہی ان کا مزہ خراب کرنا چاہتی تھی۔۔۔صباء سب کچھ کر تو خود سے رہی تھی۔۔۔مگر جو کچھ بھی ہو اسےایسا شو کرنا چاہتی تھی جیسے کہ یہ سب مولوی صاحب نے اپنی مرضی سےکیا ہےاور خود انہوں نے صباء کوپھنسایا ہے۔۔۔اسی لیے صباء نے اپنا معصومانہ انداز برقرار رکھاہوا تھا۔۔۔نہ تو مولوی صاحب کو ان کرج کر رہی تھی اور نہ ہی ان کو روک رہی تھی۔۔۔بس سب کچھ نیچرل اندازمیں ہونے دے رہی تھی اور وہ اپنی چال میں کامیاب بھی جا رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کو ذرا بھی شک نہیں ہوا تھا ابھی تک کہ صباء جان بوجھ کر یہ سب کچھ کر رہی ہے۔۔۔وہ تو خود کو ہی قصوروار مان رہے تھے اس سب کا جو وہ کر رہے تھے۔۔۔مگر پِھر بھی خود کو صباءکا خوبصورت جِسَم دیکھنےسے نہیں روک پا رہے تھے۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر صباءاٹھی اور باتھ روم میں ہاتھ دھونے کے لیے چلی گئی اور تب بھی مولوی صاحب کی نظریں صباء کی کمر اوراب اس سے نیچے صباء کی پھولی ہوئی گانڈ پر بھی تھیں صباء باتھ روم میں داخل ہوئی تو خود کی ہنسی پرقابو نہ رکھ سکی اور آئینے میں خود کودیکھتی ہوئی مسکرانے لگی۔۔۔صباء واپس آئی تو بولی۔۔۔ انکل آپ نے تو ٹھیک سےکھانا کھایا ہی نہیں۔۔۔لگتا ہے آپ کو میرے ہاتھ کاپکا ہوا کھانا پسند نہیں آیا۔۔۔ مولوی صاحب تھوڑا گھبراکر۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔بہت اچھا تھا کھانا۔۔۔ صباء صوفہ کے قریب آئی اور جھک کربرتن سمیٹنے لگی اور بولی۔۔۔مجھے پتہ ہے انکل۔۔۔ آپ کو صرف آنٹی کا کھاناہی پسند آتا ہے۔۔۔ نیچے جھکنے سے صباء کی قمیض تھوڑی نیچے کوہوگئی تھی اور اُس کے ممے اور بھی دورتک نظر آنے لگے تھے۔۔۔مولوی صاحب انہی مموں کودیکھتے ہوئے بولے۔۔۔ نہیں نہیں بیٹی۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔تم بھی بہت اچھا کھانا بناتی ہو۔۔۔ یہ کہتے ہوئے مولوی صاحب نے صباء کے کاندھے پر ہاتھ پھیرااور پِھر صوفے سے اٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھے۔۔۔مولوی صاحب جب اٹھے توصباء کو ان کے بھاری بھرکم پیٹ سے نیچے مولوی صاحب کا لمبا سفید کرتاتھوڑا اٹھا ہوا محسوس ہوا۔۔۔صباء جیسی شاطر لڑکی فوراًہی سمجھ گئی کہ اس قمیض کے نیچے کیا ہےایسا جس نے اسے اُوپر اٹھارکھا ہےاور اپنے جِسَم کے نظارےکے کمالات پر خوش ہوگئی اور خود سے سیٹسفائڈ بھی۔۔۔مولوی صاحب باتھ روم سےواپس آئے تو ان کا کرتا بھی اب ٹھیک ہو چکا ہوا تھا۔۔۔وہ کمرے سے باہر کی طرف جانے لگے۔۔۔صباء برتن ٹیبل پر پیک کررہی تھی۔۔۔ کہاں جا رہے ہیں انکل آپ ؟ ؟ مولوی صاحب :کہیں نہیں بس ابھی آیا چائےلے کر۔۔۔ صباء :جی اچھا۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد مولوی صاحب واپس آئے چائےلے کرتو صباء صوفہ کی سائیڈسے آرم سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی اپنی دونوں ٹانگیں صوفہ پر لمبی پھیلاکراور کوئی میگزین دیکھ رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب صباء کےقریب آئے اور چائے کا کپ صباء کی طرف بڑھایا۔۔۔ تو ان کی نظر سیدھی۔۔۔نیچےبیٹھی ہوئی صباء کی قمیض کے گلے میں سے جھانکتے ہوئے کلیویج پرگئی۔۔۔صباء نے نظر اٹھا کر مسکراکر مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور تھینکس بولتے ہوئے چائے کا کپ لے لیا۔۔۔مولوی صاحب بھی اپنی چائے لے کر صوفہ کے دوسرےاینڈ پر پڑی ہوئی کرسی پربیٹھ گئے۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب چیئر پر بیٹھے تو صباءنے احترام میں اپنی پھیلی ہوئی ٹانگیں پیچھے کھینچ لیں۔۔۔لیکن یہ تو جیسے اور بھی ظلم ہی تھا صباء کا۔۔۔ایک معصوم سا ظلم مولوی صاحب پر۔۔۔کیونکہ ٹانگیں پیچھے کھینچ کر بیٹھنے سے۔۔۔مولوی صاحب کی نظرسیدھی صباء کی چوت کی جگہ پر جا رہی تھی۔۔۔صباء کے ٹائیٹ پاجامےکی وجہ سے صباء کی رانیں اور چوت تک پاجامہ چپکاہوا تھااور مولوی صاحب کی نظریں سیدھی صباء کی چوت پرجا رہی تھیں۔۔۔صباء اپنی ہی دھن میں۔۔۔بنا کسی طرف توجہ دیےہوئے۔۔۔ مگر سب کچھ دیکھتے اورجانتے ہوئے۔۔۔اپنا میگزین دیکھ رہی تھی اور مولوی صاحب اپنی چائےپیتے ہوئے صباء کی رانوں کےمیٹنگ پوائنٹ کا جائزہ لےرہے تھے۔۔۔چائے پینے کے بعد کچھ دیرتک تو دونوں ایسے ہی بیٹھےرہےاور پِھر مولوی صاحب بولے۔۔۔ صباء بیٹی سو جاؤ اب تم اگر سونا ہے تو۔۔۔ صباء :جی انکل نیند تو آ رہی ہے۔۔۔مگر آپ سو لیں۔۔۔سارا دن جاگتے ہیں آپ۔۔۔ مولوی صاحب :ارے نہیں بیٹی۔۔۔سو لیتا ہوتا ہوں تھوڑی دیرمیں صبح میں۔۔۔تم لیٹ جاؤ۔۔۔میں لائٹ ہلکی کر دیتا ہوں۔۔۔ مولوی صاحب اٹھے اور جاکر صرف ایک بلب جلتا رہنےدیا اور باقی لائٹس بند کردیں۔۔۔ ابھی بھی کمرے میں بالکل اندھیرا نہیں تھا مگر پِھربھی روشنی پہلے سے توکافی کم ہوگئی ہوئی تھی۔۔۔صباء نےمسکرا کر مولوی صاحب کی طرف دیکھا اورپِھر صوفہ کی سائیڈ آرم پرسر رکھ کر صوفہ پر ہی لمبی ہوگئی اور مولوی صاحب صباء کےپیروں کی طرف کرسی پربیٹھ گئےاور میگزین دیکھتے ہوئےصباء کے جِسَم کا نظارہ کرنےلگے۔۔۔کچھ آدھے گھنٹے کے بعد۔۔۔تقریباً رات کے ایک بجےمولوی صاحب کو تسلی ہوگئی کہ اب تو صباء سو ہی چکی ہوگی۔۔۔لیکن پِھر بھی انہوں نے اسکا نام پکار کر اسے آواز دی۔۔۔مگر ظاہر ہے کے صباء نےکوئی جواب نہیں دینا تھا۔۔۔اِس لیے چُپ رہی۔۔۔مولوی صاحب نے اپنی تسلی کرنے کے بعد آہستہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور صباء کےپیر کو چھوا۔۔۔کل کی رات کی طرح ہی۔۔۔لیکن آج اپنا ہاتھ پیچھےکرنے کی بجائے آہستہ آہستہ صباء کے پیر کو سہلانے لگے۔۔۔صباء کے دِل کی دھڑکنیں بھی تیز ہونے لگیں۔۔۔مولوی صاحب نے اپنی کرسی کی بیک پر رکھی ہوئی صباء کی چادر اٹھائی۔۔۔اسے اپنے ہاتھ میں لے کر اپناچہرہ اس پر رکھ کر اس چادر کوسونگھنے لگے۔۔۔جیسے صباء کے جِسَم کی خوشبو کو سونگھ رہے ہوں اور تھا بھی کچھ ایسا ہی۔۔۔صباء ہلکی سی کھلی ہوئی آنكھوں سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔۔۔آہستہ آہستہ مولوی صاحب اس چادر کو اپنے چہرےاور داڑھی پر پھیرتے ہوئےآنکھیں بند کر کے صباء کےپیر کو سہلا رہے تھے۔۔۔ لیکن صباء کے پیر کو اس کی جگہ سے نہیں ہلا رہے تھے۔۔۔چادر کو سونگھتے ہوئے ان کے لمبے لمبے سانس لینے کی آواز صاف صباء کو سنائی دے رہی تھی اور صباء کے اپنے سانسوں کی رفتار بھی تیز ہو رہی تھی۔۔۔جس سے صباء کے ممے تیزی سے اُوپر نیچے ہو رہے تھے۔۔۔مگر مولوی صاحب تو اپنی ہی مستی میں تھے نہ۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی گزری تومولوی صاحب اپنی جگہ سےاٹھے۔۔۔صباء نے جلدی سے اپنی آنکھیں پوری بند کر لیں اور صرف محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگی کے اب مولوی صاحب کیا کریں گےاور جلدی ہی اسے پتہ چل گیا۔۔۔ جب صباء کو اپنے پیر پر نرم نرم گھنے بالوں کا ٹچ محسوس ہوا۔۔۔اِس سے پہلے کے صباءسمجھنے کے لیے اپنے دماغ پر زور دیتی۔۔۔اسے اپنے گورے گورے پیر پر۔۔۔دو موٹے موٹے ہونٹوں کا ٹچ محسوس ہوا۔۔۔صباء کا تو جیسے جِسَم ہی کانپ اٹھا۔۔۔بڑی ہی مشکل سے خود کو کنٹرول کیا۔۔۔جب اسے احساس ہوا کہ مولوی صاحب تو اُسکے گورے گورے پیر کو چوم رہے تھے۔۔۔پیر کے اوپری حصے کومولوی صاحب چوم رہے تھےاور اُس کے پیر کی انگلیاں ان کی گھنی سرخ داڑھی میں گھستی جارہی تھیں۔۔۔بہت ہی ہلکے ہلکے کس کررہے تھے وہ صباء کے پیر کو۔۔۔اِس بات کا خیال رکھتے ہوئےکہ کہیں صباء کی آنکھ نہ کھل جائے۔۔۔ تھوڑی دیر کے لیے صباء کےپیر کو کس کرنے کے بعدمولوی صاحب اَٹھ کھڑےہوئےاور سوئی ہوئی صباء کےجِسَم کے اوپری حصے کی طرف بڑھے۔۔۔صباء سیدھی لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ مولوی صاحب نے جھک کرصباء کے جِسَم سے اٹھنے والی خوشبوکو سونگھا۔۔۔بہت ہی پیاری اور مست کر دینے والی خوشبو اَٹھ رہی تھی صباء کے جِسَم سے۔۔۔جسے اپنی سانسوں میں بھرنے کے بعد مولوی صاحب کو اور بھی سونگھنے کی طلب ہو رہی تھی۔۔۔لیٹنے سے صباء کا کلیویج اور بھی گہرا اور واضح ہو رہاتھااورخوبصورت گورا گورا سینہ کھلا ہوا ننگا نظر آ رہا تھا۔۔۔مولوی صاحب بڑی ہی ہمت کرتے ہوئے۔۔۔ڈرتے ڈرتے نیچے جھکےاور اپنی ناک صباء کے سینےکے قریب لانے لگے۔۔۔مولوی صاحب اپنی ناک کوصباء کے جِسَم۔۔۔اُس کے سینے سے ٹچ کرنےسے روک رہے تھے۔۔۔بچانا چاہتے تھے۔۔۔مگر اپنی بڑی سی بھری بھری ہوئی سرخ داڑھی کوصباء کے سینے سے ٹچ ہونےسے نہ بچا سکے۔۔۔جیسے ہی وہ صباء کے سینےپر سے اُس کے جِسَم کی خوشبو سونگھ رہے تھے توان کی داڑھی صباء کے سینےکو چوم رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کی گھنی داڑھی کے نرم نرم بالوں کااپنے ننگے سینے پر ٹچ۔۔۔صباء کے سینےپر گدگدی سی کر رہا تھا۔۔۔لیکن ظاہر ہے کہ وہ ہلنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔۔یہ تو شکر ہوا کہ دو چار لمبےلمبے سانس لیتے ہوئے۔۔۔صباء کے ایروٹک پرفیوم کی خوشبو اپنے اندر بھر کےمولوی صاحب تھوڑا پیچھےہوگئے۔۔۔مولوی صاحب اب نیچے۔۔۔صوفے کے قریب۔۔۔صباء کے بالکل قریب۔۔۔بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔اپنے دونوں پیروں پراور صباء کے اُوپر نیچے ہوتےہوئے سینے کے خوبصورت اُبھار۔۔۔بالکل ہی مولوی صاحب کی آنكھوں اور ہونٹوں اورچہرے کے لیول پر تھے۔۔۔مگر وہ چاہ کر بھی ان کوچھو نہیں سکتے تھے۔۔۔صباء کے سینے کےدونوں ابھاروں کی درمیانی گھاٹی۔۔۔گہری۔۔۔تاریک۔۔۔چکنی گھاٹی مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے تھی۔۔۔جس پر ان کی نظریں پھسلتی جا رہی تھیں۔۔۔اندر تک جانے کے لیے۔۔۔بہت اندر تک۔۔۔مگر جا نہیں سکتی تھیں نہ۔۔۔خود پر کنٹرول نہ کر پاتے ہوئے۔۔۔آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ۔۔۔اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ۔۔۔صباء کے مموں کی طرف بڑھائےاور بہت ہی ہلکے سے۔۔۔بہت ہی ہولے سے۔۔۔صباء کے مموں کو ٹچ کیا۔۔ مگر صرف اور صرف ایک لمحے کے لیےاور فوراً سے ہی اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔۔۔جیسے کوئی کرنٹ لگ گیا ہوان کو صباء کے مموں کو چھونے سے۔۔۔کرنٹ ہی تو تھا صباء کےمموں میں۔ ایک ایسا کرنٹ جوکہ چھونے پر ہاتھوں کو دورجھٹک دیتا تھااور ہاتھ پیچھے کرو تو وہی کرنٹ ہاتھوں کو دوبارہ اپنی طرف کھینچنے لگتا تھا۔۔۔چند لمحوں کے بعد۔۔۔دوبارہ سے ہمت کر کے مولوی صاحب نے ایک بار پِھر صباءکے خوبصورت۔۔۔اُوپر نیچے ہوتے ہوئے۔۔۔سینے کے ابھاروں کے اُوپراپنا ہاتھ رکھ دیااور اِس بار تو انہوں نے فوراًسے اپنے ہاتھ کوپیچھے کھینچنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔۔۔اپنے بھاری بھرکم ہاتھ کوصباء کے سڈول اور بہت ہی مناسب سائز کے ایک ممے پررکھا رہنے دیا۔۔۔صباء بےچین ہونے لگی۔۔۔اُس کے دِل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔۔۔اس سے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔مولوی صاحب کے بھاری بھرکم ہاتھ کا بوجھ وہ اپنےدائیں ممے پر محسوس کررہی تھی۔۔۔بھاری ہاتھ کا گرم گرم لمس اسے اپنے کالے برا میں سےگزرتا ہوا نیچے اپنے ممے کی جلد پر محسوس ہو رہا تھا۔۔۔بہت ہی دھیرے سے۔۔۔بالکل ساکت۔۔۔رکھے ہوئے ہاتھ میں۔۔۔آہستہ آہستہ جان پڑنے لگی مولوی صاحب کے ہاتھ کی انگلیاں بند ہونے لگیں۔۔۔بہت ہی دھیرے دھیرے۔۔۔ بالکل بھی محسوس نہ ہونےوالے انداز میں اور پِھر صباء کے ممے کومولوی صاحب نے اپنی گرفت میں لے لیا۔۔۔لیکن اسے نہ تو دبایااور نہ ہی نوچا۔۔۔بس صباء کے خوبصورت ممےکا لمس اپنی مٹھی میں محسوس کرنے لگے۔۔۔ان کا ہاتھ صباء کی برا کےکپ کی نظر آ رہی ہوئی لائن پر رینگنے لگا۔۔۔بہت ہی دھیرے دھیرے۔۔۔صباء بہت ہی مشکل سےاپنی سانسوں کو کنٹرول کرپا رہی تھی۔۔۔مگر دِل کی دھڑکن کو کیسےکنٹرول کر پاتی۔۔۔مگر اپنے چہرے کے ایکسپریشنز کو بالکل نارمل رکھا ہوا تھا۔۔۔جیسے سچ میں ہی وہ سورہی ہواور مولوی صاحب صرف خود کو ہی گلٹی محسوس کر رہے تھے جوکہ اپنی بیٹی کی عمر کی اس سوئی ہوئی خوبصورت لڑکی کے مموں کو چھو رہے تھے۔۔۔مگر اِس وقت ان کو کسی بھی غلط اور صحیح کاکوئی احساس نہیں تھا۔۔۔یا پِھر وہ کچھ اور سوچنانہیں چاہتے تھے۔۔۔صباء کو کچھ بھی تو نظرنہیں آ رہا تھا نہ۔۔۔صرف وہ محسوس کر پا رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کو اپنے قریب ہی بیٹھے ہوئےاور ان کے ہاتھ کو اپنےبریسٹ پراور پِھر کچھ دیر میں ان کاہاتھ صباء کے ممے پر سے ہٹ گیااور صباء نے سکون کا سانس لیا۔۔۔بالکل سوئی ہوئی کیفیت میں ہی تھوڑے لمبےسانس لینے کی کوشش کرنےلگی اور ایسے ہی لمبے سانس لیتے ہوئے۔۔۔صباء کو اپنی ناک میں ایلاچی کی خوشبو آنےلگی۔۔۔صباء کو حیرت ہوئی کہ اچانک ہی اِس نارمل سی ہوامیں۔۔۔جہاں وہ سانس لے رہی تھی۔۔۔یہ الاچی کی خوشبو کہاں سے آگئی اور اگلے ہی لمحے۔۔۔جب اسے کچھ یاد آیا تو اسکا تو جیسے سانس رکنے لگا۔۔۔اسے یاد آیا کہ ہروقت الاچی منہ میں رکھ کر چبانے کی عادت ہے مولوی صاحب کو۔۔۔صباء سوچنے لگی۔۔۔تو کیا۔۔۔تو کیا۔۔۔مولوی صاحب اپنے ہونٹوں کو۔۔۔اپنے منہ کو۔۔۔اُس کے منہ کے پاس لا رہےہیں۔۔۔صباء کو یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔یا پِھر وہ یقین کرنا نہیں چاہ رہی تھی۔۔۔مگر۔۔۔حقیقت تو وہی تھی نہ۔۔۔جو ہو رہا تھا۔۔۔یعنی سچ میں ہی مولوی صاحب بہت ہی آہستہ سےاپنے منہ کو صباء کے منہ کےپاس لے آئے تھے۔۔۔اپنے موٹے موٹے لبوں سےصباء کے پتلے پتلے ہونٹوں کو چومنے کے لیے۔۔۔مولوی صاحب کے منہ سےآتی ہوئی الاچی کی خوشبو۔۔۔صباء کی سانسوں میں جارہی تھی اور اسے بےچین کرنے لگی تھی۔۔۔لیکن اِس سے پہلے کے مولوی صاحب کے ہونٹ صباء کےہونٹوں سے ٹکراتے۔۔۔مولوی صاحب کی گھنی داڑھی کے بال۔۔۔نرم نرم بال۔۔۔صباء کو اپنے چہرےپر ٹکراتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔۔۔ایک عجیب سا احساس تھا۔۔۔کچھ الگ سا ہی۔۔۔آج تک کبھی بھی اس نےکسی کی داڑھی کے بالوں کواپنےگالوں اور چہرے پرمحسوس نہیں کیا تھااور آج تک کبھی بھی کسی داڑھی والے بندے نےاسے کس بھی تو نہیں کیاتھا نہ جو وہ کسی کے داڑھی کے بالوں کا ٹچ محسوس کر پائی ہوتی اور چند ہی لمحوں کے بعد۔۔۔دو بھاری۔۔۔موٹے موٹے ہونٹ۔۔۔صباء کو اپنے پتلے پتلے گلابی ہونٹوں پرمحسوس ہوئے۔۔۔گرم گرم۔۔۔تپتے ہوئے ہونٹ اور ان ہونٹوں نے صباء کےہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔بس ایک لمحے کے لیےاور پِھر جلدی سے پیچھےہوگئے۔۔۔ جیسے کہ ان ہونٹوں نے اپنی مراد پا لی ہو۔۔۔جیسے کہ ان ہونٹوں نے ایک ہی لمحے میں کوئی امرت پی لیا ہواور دوسری طرف۔۔۔کچھ امرت صباء نے بھی بہادیا تھا۔۔۔چند بوندیں۔۔۔امرت کی نکل آئی تھیں۔۔۔ٹپک گیں تھیں۔۔۔اس کی ٹانگوں کے درمیان۔ اس کی پیاری سی چوت سےاور وہ امرت کی چند بوندیں۔۔۔نکل کر صباء کے پاجامہ کے کپڑے میں ہی جذب ہوگئی تھیں۔۔۔مگر ساتھ ہی اس کا جِسَم بھی تو کانپ گیا تھااور اب برداشت نہ کر پائی اسی طرح رہنا تو ہلی۔۔۔اپنی دونوں ٹانگوں کو دبایا۔۔۔بلکہ دونوں رانوں سے اپنی چوت کو دبایااور پِھر کروٹ لے لی۔۔۔صوفہ کی بیک کی طرف اور اپنی بیک۔۔۔ مولوی صاحب کی طرف کرتے ہوئے۔۔۔ایسی پوزیشن میں تھی کہ اس کی گانڈ بھی پیچھے کو مولوی صاحب کی طرف نکل آئی تھی۔۔۔ایک نئی دعوت اور ایک نیا چیلنج مولوی صاحب کو دیتے ہوئے۔۔۔کہ آؤ۔۔۔اگر ہمت ہے تو آؤاور اسے بھی چھو کر دیکھوکہ کیسا مال ہے یہ اور کتنی خوبصورت ہے یہ اور مولوی صاحب کی نظریں بھی تو وہیں پر تھیں نہ۔۔۔صباء کی خوبصورت کمر اورگانڈ پر۔۔۔صباء تو اپنا منہ صوفہ کی بیک کی طرف کر کے لیٹ چکی ہوئی تھی۔۔۔اپنے سرخ ہوتے ہوئے چہرےاور پھولتی ہوئی سانسوں اور چہرے کے ایکسپریشنز کو چھپانے کے لیے۔۔۔مگر۔۔۔مولوی صاحب کے لیے تو ایک اور امتحان تھا نہ۔۔۔کیونکہ پتلی سی گلابی قمیض میں چھپا ہوا جِسَم۔۔۔جس میں سے صباء کی کمرکی گوری گوری رنگت جھلک رہی تھی اور جس میں سے صباء کی پہنی ہوئی بلیک براکی سٹریپس اور ہکس صاف دِکھ رہے تھے۔۔۔وہ کمر اپنے تمام جوبن اور نظاروں کے ساتھ مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے تھی اور مولوی صاحب کو اوربھی بےچین کر رہی تھی۔۔۔اگر صرف یہی کچھ ہوتا توبھی شاید مولوی صاحب خود پر کنٹرول کر لیتے۔۔۔مگر۔۔۔ایک اور قیامت بھی تو سامنے تھی نہ۔۔۔ہاں۔۔۔صباء کی ابھری ہوئی اورمولوی صاحب کی طرف نکلی ہوئی گانڈ۔۔۔جس پر ہلکی سی قمیض کاپچھلا حصہ پڑا ہوا تھا۔۔۔آخر مولوی صاحب کے صبرکا بندھن ٹوٹااور ان کا بھاری ہاتھ آگے بڑھااور سوئی ہوئی صباء کی کمرپر آیا۔۔۔جوکہ ننگی جیسی ہی توتھی۔۔۔اس پتلی سی قمیض میں سے۔۔۔مولوی صاحب کے ہاتھوں کی گرمی بنا کسی رکاوٹ کےصباء کو اپنے جِسَم پرمحسوس ہو رہی تھی۔۔۔ایک بار اس کا دِل کانپ اٹھا۔۔۔جِسَم کو تو کسی نہ کسی طور اس نے کنٹرول کر ہی لیاتھا ہلنے سے۔۔۔مگر مولوی صاحب کا ہاتھ توان کے کنٹرول میں نہیں تھا نہ اب۔۔۔آہستہ آہستہ صباء کی نرم ملائم کمر پر سرکنے۔۔۔دھیرے دھیرے صباء کی کمرکو سہلانے لگا۔۔۔کبھی اُوپر کی طرف جاتااور کبھی نیچے کو آتا۔۔۔قمیض کے اوپری حصے پر۔۔۔ گردن کے پاس بھی گلا تھوڑالوز تھااور صباء کی کمرکا اوپری حصہ۔۔۔بالکل گردن کے پاس سے ننگاہو رہا تھا۔۔۔بہت ہی آہستہ سے مولوی صاحب نے صباء کے بالوں کوپیچھے ہٹایااور پِھر صباءکے گورے گورے جِسَم کا ایک حصہ۔۔۔پہلی بار۔۔۔مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے ننگا تھا۔۔۔ہل ہی تو گئے تھے مولوی صاحب۔۔۔آہستہ سے جب صباء کی کمرکے ننگے حصے کو چھوا تو۔۔۔کرنٹ کی لہر صباء کے پورےجِسَم میں پھیل گئی۔۔۔جو سیدھی جا کر اس کی چوت پر ختم ہوئی۔۔۔لیکن اس کرنٹ کی لہر نےصباء کی چوت سے پانی کی چند بوندیں اور بھی تپکا ہی دیں۔۔۔مولوی صاحب اپنے ہاتھوں کی موٹی موٹی انگلیوں کےساتھ آہستہ آہستہ صباء کی ننگی جلد کو سہلانے لگے۔۔۔ان کا موٹا موٹا۔۔۔انگوٹھا۔۔۔آہستہ آہستہ صباء کی گردن کو سہلا رہا تھا۔۔۔پِھر دوبارہ سے ان کا ہاتھ نیچے کو جانے لگا۔۔۔نیچے۔۔۔بالکل نیچے۔۔۔کمر سے نیچےاور پِھر اُوپر کو۔۔۔لیکن اِس بار جِسَم پر اُوپرکی طرف نہیں تھا۔۔۔بلکہ تھوڑی اونچائی کی طرف چڑھ رہا تھا۔۔۔صباء کی گانڈ کے ابھار پر۔۔۔صباء کی نرم نرم گانڈکو سہلایا اور اسے اپنے ہاتھ میں تھاما تو ایک اور ہی لطف اور مزہ آیا مولوی صاحب کو۔۔۔دِل کر رہا تھا کہ بس صباءکی گانڈ کو ہی سہلاتے رہیں۔۔۔مولوی صاحب کا ہاتھ صباءکی قمیض کے اُوپر سے ہی اس کی قمیض کو ساتھ لےکر ہی صباء کی گانڈ پرپھسل رہا تھا۔۔۔جوکہ قمیض کے نیچے اب صرف پاجامہ میں تھی۔۔۔مولوی صاحب کا دِل چاہنےلگا کہ وہ صباء کی قمیض کوہٹا کر۔۔۔صباء کے ٹائیٹ پاجامے میں پھنسی ہوئی اس کی گانڈ کودیکھے۔۔۔جب خود پر کنٹرول نہ کرسکے تو آہستہ آہستہ صباءکی قمیض کو اس کی گانڈپر سے ہٹا دیا۔۔۔گلابی ٹائیٹ پاجامے میں چھپی ہوئی بلکہ پھنسی ہوئی خوبصورت گانڈ کےدونوں ابھار مولوی صاحب کے سامنے تھے۔۔ کچھ دیر کے لیے صباء کی گانڈ کو دیکھنے کے بعد۔۔۔مولوی صاحب نےاپنے کانپتے ہوئے ہاتھ کو آگےبڑھایا اور صباء کی گانڈ پررکھ دیا۔۔۔آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ کوصباء کی ابھری ہوئی ملائم گانڈ کے اُوپر پھیرنے لگے۔۔۔صباء کی گانڈ کو سہلانے لگے۔۔۔صباء کے لیے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔بے چینی ہو رہی تھی۔۔۔دِل کی دھڑکن اور سانسیں خود کے کنٹرول سے باہر ہورہی تھیں۔۔۔دھیرے دھیرے مولوی صاحب کا ہاتھ نیچے کوجانے لگا۔۔۔گانڈ کے دونوں ابھاروں کےدرمیان۔۔۔جہاں پر صباء کی پیاری سی چوت تھی۔۔۔دونوں رانوں کے درمیان میں چھپی ہوئی۔۔۔اپنی ایک انگلی کو آگے بڑھایااور باقی کے ہاتھ کو صباءکی گانڈ کے دونوں حصوں پررہنے دیااور اپنی بیچ کی انگلی سےآہستہ آہستہ صباء کی چوتکو سہلانے لگے جیسے ہی مولوی سب کی انگلی صباء کی چوت سے ٹکرائی تو۔۔۔جیسے دونوں کے جسموں میں ہی کرنٹ سا پیدا ہوا۔۔۔دونوں ہی تڑپ اٹھے۔۔۔صباء کے جِسَم نےبھی تھوڑا ساجھٹکا کھایااور اس کی چوت سےپانی بہنے لگا۔۔۔مولوی صاحب نے آہستہ آہستہ صباء کی چوت کواپنی انگلی سے سہلانا شروع کر دیا۔۔۔ان کو بھی اچھا لگ رہا تھا۔۔۔اپنی بیٹی جتنی عمر کی لڑکی کی چوت کو سہلاتے ہوئے۔۔۔اس وقت ان کے اندر کوئی بھی گلٹ یا شرمندگی نہیں تھی۔۔۔صباء کی چوت پرانگلی پھیرتے ہوئے جھکےاور صباء کی گانڈ کو چوم لیا۔۔۔ایک بار۔۔۔دو باراور پِھر کئی بار صباء کی گانڈ پر ادھر اُدھر کس کیااور اپنے ہونٹوں سے اس کی گانڈ کو سہلایا۔۔۔صباء کے لیے بھی اب برداشت کرنا مشکل ہو رہاتھا۔۔۔آخر وہ تھوڑا ہلی۔۔۔تو مولوی صاحب بھی تھوڑاڈر سے گئےاور فوراً ہی پیچھے کو ہوگئے۔۔۔صباء نے خود پر کنٹرول کرتےہوئے۔۔۔ سیدھی ہو کر اپنی آنکھیں کھول دیں اور اپنے دونوں بازو اُوپر کواٹھا کر ایک لمبی انگڑائی لی۔۔۔ جس سے صباء کے دونوں ممے اس کی قمیض میں اوربھی تن سے گئے۔۔۔اپنی آنکھیں کھولیں تومولوی صاحب سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔۔۔جیسے ہی صباء کی نظر ان پر پڑی تو صباء کے ہاتھ فضامیں ہی ٹھہر گئے۔۔۔چند لمحوں کے لیے صباء نےان کو اپنے مموں کا نظارہ کرنے دیااور پِھر اپنے بازو نیچے کو کرکے تھوڑی سی شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ مولوی صاحب کو دیکھنے لگی اور اپنا سر جھکا لیا۔۔۔ مولوی صاحب:اَٹھ گئی بیٹی۔۔۔ صباء نے آہستہ سے اپنی نظریں اٹھا کر مولوی صاحب کی طرف دیکھا۔۔۔ جی انکل۔۔۔میری تو آنکھ ہی لگ گئی تھی۔۔۔ مولوی سب اٹھے اور صباءکے قریب آ کر بیٹھ گئے۔۔۔اپنے بازو کو صوفہ کی بیک پر سے پھیلایا اور صباءکے کاندھے پر رکھا اور بولے۔۔۔ ہاں سوگئی ہوئی تھی تم۔۔۔کوئی بات نہیں اچھا ہے نہ تھوڑی نیند پوری ہوگئی تمہاری۔۔۔ مولوی صاحب صباء سے بات کرتے ہوئے اُس کے کاندھے کو سہلا رہے تھے۔۔۔آہستہ آہستہ۔۔۔کاندھے اور شولڈر کو۔۔۔صباء کو بھی تھوڑاڈسکمفرٹ فیل ہو رہا تھا اورمزہ بھی آ رہا تھا۔۔۔مگر وہ مولوی صاحب کو احساس دلوانا چاہتی تھی کہ اسے کوئی اعتراض نہیں ہے جیسے۔۔۔لیکن یہ بھی کہ سب اس کی مرضی سے ہو بھی نہیں رہاہے۔۔۔ صباء :انکل آپ تو جاگ ہی رہے تھےنہ۔۔۔ مولوی صاحب تھوڑاسا گھبرائے۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔میری بھی آنکھ لگ گئی تھی شاید۔۔۔ صباء :اچھا۔۔۔مجھے لگا کہ جیسے۔۔۔آپ۔۔۔ صباء نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔۔۔مولوی صاحب صباء کیطرف دیکھتے ہوئے بولے۔۔ ہاں ہاں بولو۔۔۔کیا لگا تھا تم کو۔۔۔ یہ کہتے ہوئے مولوی صاحب نے صباء کو تھوڑا سا اپنی طرف کھینچا۔۔۔صباء نے خود کو مولوی صاحب کے سینے کے بالکل ساتھ۔۔۔ان کے بازوں کے نیچےایڈجسٹ کیا۔۔۔اپنا چہرہ تھوڑا اوپر کواٹھایا اور مولوی صاحب کےچہرے کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔مولوی صاحب تھوڑاسا مسکرائے۔۔۔ کیا دیکھ رہی ہو بیٹی ایسے۔۔۔؟؟؟ صباء دھیرے سے مسکرائی۔۔۔انکل آپ سے ڈر لگتا ہے نہ مجھے۔۔۔تو اِس لیے کچھ بھی نہیں کہہ سکتی نہ۔۔۔ مولوی صاحب ہنسے۔۔۔ارے ڈرنے کی کیا بات ہے۔۔۔تم میری بیٹی ہو نہ اور پِھر یہاں پر کون ساکوئی ہے۔۔۔ڈرو نہیں کھل کر کہو جوکہنا ہے۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔مگر۔۔۔سب لوگ آپ سے بہت ڈرتےہیں نہ۔۔۔بہت روب ہےنہ آپ کا سب پر۔۔۔ مولوی صاحب صباء کے بازوکو سہلاتے ہوئے بولے۔۔۔ارے وہ سب تو دوسروں کےلیے ہے۔۔۔تم کیوں ڈرتی ہو۔۔۔ صباء نے ڈرتے ڈرتے اپنا ہاتھ اٹھایااور مولوی صاحب کی داڑھی میں اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ صباء :انکل آپ کی یہ داڑھی کتنی خوبصورت ہے۔۔۔کتنے ملائم ہیں نہ اس کےبال تو۔۔۔ مولوی صاحب تو جیسےخوشی سے اچھل ہی پڑےہوں۔۔۔اچھا۔۔۔؟ ؟مگر تمہاری آنٹی تو کہتی ہوتی ہیں کے ان کو داڑھی سے الجھن ہوتی ہے میری۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔اور ابھی بھی اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مولوی صاحب کی داڑھی میں پھیرتے ہوئےاور ان کے چہرے کو بھی چھوتے ہوئے بولی۔۔۔ نہیں نہیں انکل سچ میں بہت پیاری ہے یہ۔۔۔آپ آنٹی کے ساتھ کوئی شرارت کرتے ہوں گے نہ تب ہی تو وہ کہتی ہوں گی نہ۔۔۔ مولوی صاحب مسکرائےاور صباء کے شولڈر پر اپناپریشر بڑھا کر اسے اور بھی اپنی طرف کھینچ کر اپنےجِسَم سے لگاتے ہوئے بولے۔۔۔ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔لیکن جب میں ان کے چہرےکے پاس اپنا چہرہ لاتا ہوں نہ تو کہتی ہیں۔۔۔ صباء بڑی ہی معصومیت سے۔۔۔وہ کیوں انکل۔۔۔اس سے کیا ہوتا ہے۔۔۔ مولوی صاحب مسکرائےاور نیچے کو صباء کے چہرےپر جھکتے ہوئے بولے۔۔۔ بتاتا ہوں کیسے۔۔۔ اور اپنے چہرے کو نیچے لا کراپنے ہونٹوں کو صباء کےچہرے سے چھوا اوراپنی داڑھی کو صباء کے گالوں پر رگڑا اور بولےایسے۔۔۔ صباء بھی ہنسی۔۔۔ہاں انکل۔۔۔کچھ تو ہوتا ہے تھوڑا سا۔۔۔پر اتنا بھی نہیں ہے نہ۔۔۔ مولوی صاحب تو اب جیسےبچوں کی طرح سے شرارت کرنے لگے تھے۔۔۔اپنی داڑھی کو زبردستی صباء کے چہرےپر پھیرتے ہوئے ہنسنے لگے۔۔۔ ہاں ہاں بولو کیا ہوتا ہے۔۔۔اب برا لگ رہا ہے نہ۔۔۔ صباء بھی ہنسنے لگی۔۔۔زور زور سےاور خود کو چھڑا رہی تھی۔۔۔مگر۔۔۔خود کو 55 سال کی عمر کےصحت مند مولوی صاحب کےہاتھوں سے نہیں چھڑا پا رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب نے تھوڑا ساجھٹکا دیا اور صباء کے سرکو اپنی گود میں گرا لیااور اُس کے چہرے پر جھک گئے۔۔۔ مولوی صاحب کی داڑھی۔۔۔صباء کے چہرے ،آنكھوں اور ہونٹوں پر سرک رہی تھی۔۔۔ مگر ابھی تک انہوں نے اپنے ہونٹوں کوصباء کے چہرے کے ساتھ ٹچ ہونے نہیں دیا تھا۔۔۔ صباء نے اپنے چہرے کومولوی صاحب کے چہرے سےپیچھے کرنا چاہا۔۔۔خود کو آزاد کرنا چاہا۔۔۔مگر مولوی صاحب نے پِھرسے اسے اپنے جِسَم سے بھینچااور صباء کے ممے بھی مولوی صاحب کے سینے سےچپک گئے۔۔۔ اور بولے۔۔۔ارے لیٹی رہو نہ بیٹی ایسےہی۔۔۔ صباء ;نہیں انکل۔۔۔اچھا نہیں لگتا نہ ایسے۔۔۔ مولوی صاحب :کیا اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔بیٹی ہو نہ تم میری تو لیٹ ہی سکتی ہو ایسے بھی تو۔۔۔ صباء تھوڑا سا ہلی۔۔۔و۔۔۔وہ آنٹی۔۔۔ مولوی صاحب نے بیڈ پرسوئی ہوئی اپنی وائف کی طرف دیکھا اور بولے۔۔۔ نہیں وہ تو سو رہی ہے۔۔۔اس کی فکر نہ کرو۔۔۔تم ریلکس ہو کر بیٹھو۔۔۔ صباء تھوڑا سا ہلی اور خود کو تھوڑا اور مولوی صاحب سے چپکا کر بولی۔۔۔ مگر۔۔۔مگر انکل۔۔۔اگر آنٹی کی آنکھ کھل گئی تو۔۔۔تو۔۔۔اچھا نہیں لگے گا نہ کہ میں ایسے لیٹی ہوں تو۔۔۔پتہ نہیں کیا سوچیں گی پِھر۔۔۔ یہ کہہ کر صباء ایک دفعہ اپنے ممے کو مولوی صاحب کے سینے سے رگڑ کر صوفہ پر سے اٹھ گئی اور واش روم میں چلی گئی۔۔۔باتھ روم میں جا کر صباء نےخود کو بحال کیا۔۔۔اپنی سانسوں کو کنٹرول کیا۔۔۔اپنے بال ٹھیک کئےاور دوبارہ سے باہر آئی۔۔۔تو مولوی صاحب وہیں صوفہ پر بیٹھے ہوئےتھے۔۔۔صباء مولوی صاحب کودیکھ کر شرما گئی اور جا کر الگ پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔مولوی صاحب صباء کو ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔اپنی نشیلی نظروں کے ساتھ اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئےاور صباء اپنا چہرہ نیچےجھکائے ہوئے تھی۔۔۔مولوی صاحب کو اندازہ ہورہا تھا کہ بلبل ان کے جال میں پھنس رہی ہے۔۔۔مولوی صاحب صباء کی طرف دیکھتے ہوئے سرگوشی میں بولے۔۔۔ صباء بیٹی۔۔۔ صباء نے اپنے سرخ ہوتے ہوئےچہرے کو اٹھایا اور مولوی صاحب کی طرف دیکھ کربولی۔۔۔ جی۔۔۔انکل۔۔۔ مولوی صاحب :ادھر آجاؤ۔۔۔ صباء نے شرما کر اپنا سرانکار میں ہلا دیا۔۔۔میں نہیں آؤں گی۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
  5. قسط نمبر30 صباء :مجھے بھی ساتھ لے چلو۔۔۔یہاں ساتھ ہی جو پلازہ ہےاس میں مجھے کچھ چیزیں دیکھنی ہیں مجھے وہاں چھوڑ دینا۔۔۔میں پِھر واپس آ جاؤں گی۔۔۔کچھ ہی دیر میں۔۔۔ پِھر اس نے مولوی صاحب کی طرف دیکھااور اپنی چادر ٹھیک کرتےہوئے بولی۔۔۔انکل میں تھوڑی دیر میں واپس آتی ہوں۔۔۔ جیسے مولوی صاحب کودلاسا دے رہی ہو کہ واپس آئے گی ان کے پاس۔۔۔اشرف نے کچھ زیادہ نہیں پوچھا صباء سے اور اسےقریب کے پلازہ میں چھوڑ کرچلا گیا۔۔۔پلازہ پیدل کے فاصلے پر ہی تھا ہسپتال سے۔۔۔پلازہ میں شاپنگ کیا کرنی تھی صباء نے۔۔۔اشرف کے جاتے ہی میجر کوفون کیا۔۔۔اس نے اٹینڈ کیا تو آواز سےصاف پتہ چل رہا تھا کے وہ روڈ پر ہے۔۔۔ صباء نے اسے پلازہ پر آنے کاکہااور فون بند ہوگیا۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں اُسکے سامنے ہی بائیک آ کررکی۔۔۔اس پر میجر ہی تھا۔۔۔ میجر :چل آ بیٹھ۔۔۔ صباء جلدی سے ادھر اُدھردیکھ کر میجر کے پیچھےبیٹھ گئی اور میجر نے اپنی بائیک آگےبڑھا دی۔۔۔میجر کافی تیز بائیک چلا رہاتھا۔۔۔صباء نے اپنا بازو اُس کے گردڈال کے اسے پکڑا ہوا تھا اوراس سے چپکی ہوئی تھی۔۔۔میجر اسے لے کر ادھر اُدھرسڑکوں پر گھماتا رہا۔۔۔ صباء :یہ تم مجھے لے کر جا کہاں رہے ہو۔۔۔؟؟ میجر :تجھے اپنے اڈے پر لے جاؤں گا اور وہاں چودوں گا تجھے۔۔۔ صباء :نہیں نہیں پلیز۔۔۔وہاں نہیں۔۔۔ میجر :تو اور کیا تجھے یہیں سڑک پرہی چود دوں۔۔۔بول۔۔۔؟؟ صباء چُپ کر گئی۔۔۔اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کوئی اسے میجر کے ساتھ جاتا ہوا نہ دیکھ لے۔۔ لیکن ایک بات کی فکر نہیں تھی اسے کہ اشرف دیکھے گاکیونکہ وہ تو اِس وقت اپنی ڈیوٹی پر تھا۔۔۔ایک روڈ سے گزرتے ہوئے اسےکچھ لڑکیاں روڈ کے کنارےادھر اُدھر کھڑی ہوئی نظرآئیں۔۔۔انہوں نے اچھا میک اپ بھی کیا ہوا تھااور ٹھیک ٹھاک ہی لگ رہی تھیں۔۔۔ کسی کے پاس کوئی مردکھڑا بھی تھا اور کچھ اکیلی تھیں۔۔۔صباء نے زیادہ توجہ نہیں دی۔۔۔ میجر نے بائیک ایک جگہ پرروکی۔۔۔ایک اسٹریٹ لائٹ کے نیچےاور اسے اترنے کو کہا۔۔۔ صباء اتری تو میجر بولا۔۔۔ میجر :تو دو منٹ یہاں رک میں وہ سامنے کی پان کے کوکھے سے سگریٹ لے کرآتا ہوں۔۔۔ صباء نے سامنے سڑک کےپاس کچھ ہی فاصلے پر بنےہوئے کھوکھے کو دیکھا اوراپنا سر ہلا دیا۔۔ وہاں پر اور بھی لوگ کھڑےتھےاور اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ اسے ان مردوں کے سامنے نہیں لے جانا چاہتاتھا۔۔۔اِس پر صباء کو تسلی بھی ہوگئی۔۔۔میجرسامنے سڑک کے پار جاکر کھوکھے پر کھڑا ہوگیااور صباء اطمنان سے ادھراُدھر دیکھنے لگی۔۔۔اکیلی۔۔۔تاریک رات میں۔۔۔اس سڑک پر لائٹ کے نیچےصباء۔۔۔ایک گلابی رنگ کاپاجامہ پہنے ہوئےاور اوپر سے چادر لپیٹ کر۔۔۔اپنا چہرہ بھی چُھپا کر روڈکے کنارے کھڑی تھی۔۔۔اس کی صرف آنکھیں ہی نظر آرہیں تھیں۔۔۔صباء اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔اتنے میں ایک کار اُس کےپاس آ کر رکی۔۔۔صباء دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔۔۔کار کی ونڈو میں سے ایک ادھیڑ عمر کے آدمی نے شیشہ نیچے کر کے اسے اُوپر سےنیچے تک دیکھا۔۔۔صباء گھبرا کر میجر کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔جوکہ پان والے کےساتھ گپوں میں مصروف تھا۔۔۔صباء کو دیکھ کر وہ کار والا آدمی بولا۔۔۔ آدمی :اے۔۔۔بول چلے گی کیا۔۔۔؟ اُس کے سوال پر صباء گھبراگئی۔۔۔کہ کیا مطلب ہے اسکے سوال کا۔۔۔وہ یہی کہہ سکی۔۔۔ صباء :ک۔۔۔کہاں۔۔۔؟؟؟ آدمی :جگہ ہے میرے پاس۔۔۔آجا۔۔۔دو گھنٹے کے لیے۔۔۔بالکل محفوظ جگہ ہے۔۔۔ پولیس ولیس کا بھی ڈر نہیں ہے وہاں۔۔۔بول۔۔۔ صباء گھبرا گئی۔۔۔اور سمجھ بھی گئی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔۔۔ آدمی :نئی لگ رہی ہےاِس علاقے میں۔۔۔چل آجا۔۔۔بول کیا لے گی دو گھنٹوں کا۔۔۔ جلدی بول۔۔۔ صباء پریشان ہو کر بولی۔۔۔نہیں نہیں میں نہیں جا رہی۔۔۔کہیں بھی۔۔۔میں وہ نہیں ہوں۔۔۔ آدمی :ارے زیادہ بھاؤ نہ کھا۔۔۔دِکھ رہا ہے مجھے بھی کہ اچھے گھر کی ہے۔۔۔پر اب آ ہی گئی ہےاِس دھندے میں تو کیوں شرما رہی ہے۔۔۔چل آجا۔۔۔پانچ ہزار دوں گا۔۔۔دو گھنٹے کے۔۔۔ صباء کو غصہ بھی آ رہا تھااور ڈر بھی لگ رہا تھا۔۔۔وہ میجر کو آواز دینا چاہتی تھی مگر وہ اپنا مصروف تھا۔۔۔صباء کو ایک خیال آیا۔۔۔ صباء :میں نے کہا ہے نہ کہ میں ویسی نہیں ہوں۔۔۔میرا شوہر وہ سامنے سےسگریٹ لینے گیا ہے۔۔۔ابھی واپس آ رہا ہے۔۔۔ اس آدمی نے مڑ کر پان والی دکان کی طرف دیکھا۔۔۔تو میجر بھی اب مڑ کرواپس آنے کے لیے سڑک کراس کرنے کو تھا۔۔۔ آدمی :بہن چود۔۔۔رنڈی نہیں ہے تو یہاں پر کیاکر رہی ہے۔۔۔گشتی نہ ہو تو۔۔۔ایسے ہی ٹائم برباد کر رہی ہےمیرا۔۔۔ یہ کہہ کر اس کار والے نےاپنی کار آگے بڑھا دی اور دوسری لڑکی کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا۔ صباء نے دیکھا کہ اس لڑکی نے فوراً ہی کار کی کھڑکی میں جھک کر کار والے سےکچھ بات چیت کی اور پِھرجلدی سے گھوم کر اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور کار آگے چلی گئی۔۔۔صباء نے شکر کیا کہ اس کی جان چھوٹی اِس مصیبت سے۔۔۔اتنے میں میجر واپس آیااور ہنس کر بولا۔۔۔ میجر :بہن چود۔۔۔گئی نہیں۔۔۔کسٹمر آیا تھا تیرا تجھے لےکر جانے کے لیے۔۔۔ صباء تھوڑے غصے سے اسےدیکھتے ہوئے بولی۔۔۔مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔۔۔؟؟؟ میجر ہنسا۔۔۔سالی میں نے سوچا تجھےتھوڑا تیرا دھندہ ہی دکھادوں۔۔۔ صباء وہیں کھڑی تھی ابھی۔۔۔ میجر بولا۔۔۔چل اب بیٹھتی ہے کہ میں جاؤں۔۔۔لگتا ہے کہ تجھے کسی کسٹمرکے ساتھ ہی جانا ہے۔۔۔ صباء شرمندہ ہو کر جلدی سے میجر کے پیچھے بیٹھ گئی اور میجر نے اپنی بائیک آگےبڑھا دی۔۔۔ اب میجر نے تنگ گلیوں میں بائیک موڑ دی تھی۔۔۔ میجر صباء کو دوبارہ سےشرمندہ کرتے ہوئے :ویسے کیا بھاؤ دے رہا تھاتیرا ؟ ؟ ؟ صباء بھی سمجھ گئی کہ میجر اسے تنگ کرنے کے موڈمیں ہے۔۔۔ وہ بھی بولی5 : ہزار دے رہا تھا دو گھنٹوں کے۔۔۔تیری طرح نہیں کہ مفت میں ہی چودنے لگتے ہو جب دِل کرتا ہے۔۔۔ میجر ہنستے ہوئے :سالی۔۔۔تو چلی جاتی اُس کے ساتھ اور کما لیتی 5 ہزار۔۔۔ صباء :ہاں چلی جاتی تو اچھا تھا۔۔۔پر پِھر تیرا خیال آ گیا کہ تجھے اپنے اِس لن کو خودسے ٹھنڈا کرنا پڑے گا۔۔۔اپنے ہاتھ سے۔۔۔ یہ کہتے ہوئے صباء نے اپناہاتھ میجر کے لن پر رکھ دیااور اسے زور سے دبایا۔۔۔ میجر :بہن چود۔۔۔رنڈی۔۔۔اتنا ہی شوق ہے نہ تو بتاتجھے سچ میں ہی چکلے پر بیٹھا دیتا ہوں۔۔ روز کے روز نئے گاہک آئیں گے تجھے چودنے کے لیےاور پیسے بھی کمانا۔۔۔ صباء میجر کے لن کو سہلاتے ہوئے بولی۔۔۔پہلے تیرے لن کا مزہ تو لےلوں۔۔۔پِھر کسی اور کا سوچوں گی۔۔۔ میجر ہنسنے لگا اور گلیوں میں گھوماتے گھوماتے وہ اسے ایک بڑے سے گیٹ کے سامنے لے آیا اور دروازہ نوک کیا تو آدمی نے دروازہ کھولا۔۔۔میجر اندر داخل ہوگیا۔۔۔نہ چاہتے ہوئے بھی صباء کومیجر کے پیچھے پیچھے اندرجانا پڑا۔۔۔اندر داخل ہو کر صباء نےدیکھا کہ دروازہ کھولنے والاآدمی ایک۔۔۔نوجوان لڑکا سا تھا25 سال کا ہوگا۔۔۔گورا چٹاتھا۔۔۔لیکن کافی گندی حالت میں تھا۔۔۔گندی سی کالی ساندو ٹائپ کی بنیان پہنی ہوئی تھی اور نیچے ایک گندی سی جینز تھی۔۔۔چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی اور مونچھ تھی۔۔۔جِسَم بھی کافی مضبوط لگ رہا تھا۔۔۔جیسے ایکسرسائز وغیرہ کرتارہتا ہو وہ۔۔۔صباء نے دیکھا کہ وہ اسے ہی غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔میجر نے اسے صباء کودیکھتے ہوئے پکڑا تو بنا کسی شرم کے بولا۔۔۔ بہن چود۔۔۔چودنا ہے کیا اسے۔۔۔جو ایسے دیکھے جا رہا ہےاپنی بہن کو۔۔۔سالا جیسے کوئی بچی نہیں دیکھی ہو کبھی۔۔۔ وہ لڑکا تو شرمندہ ہوا مگرآگے سے اپنے دانت نکال دیے۔۔۔اِس بات سے وہ صباء کو اوربھی برا لگا۔۔۔لیکن میجر کی بات سن کرصباء کو خود شرم آ گئی۔۔۔کہ کیسے اس نے اُسکے چودنے کی بات کی ہےاس لڑکے سے۔۔۔ لڑکا :سوری باس۔۔۔ لڑکے نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔۔۔ میجر :کتی کے بچے۔۔۔کسی کو چھوڑ بھی دیا کر۔۔۔دیکھ بھی رہا ہے کہ یہ باس کا مال ہے پِھر بھی اپنی گندی نظروں سےہی چودے جا رہا ہے سالی کو۔۔۔ صباء تو شرم سے جیسےزمین میں گرتی جا رہی تھی۔۔۔سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے اور کیا کہے۔۔۔بنا کسی شرم کے اور لحاظ کے میجر اس لڑکےکے سامنے صباء کی بے عزتی کیے جا رہا تھا لیکن اس لڑکے کی گندی نظریں ابھی بھی صباء کےجِسَم پر ہی تھیں۔۔۔اوپر تو اس نے ابھی بھی چادر لپیٹ رکھی ہوئی تھی اور چہرہ بھی ننگا نہیں کیاتھا۔۔۔مگر نیچے اس کے پاجامہ میں اس کی ٹانگوں کےسارے نشیب و فراز صاف دِکھ رہے تھےاور وہ لڑکا صباء کی ٹانگوں کو ہی گھور رہا تھا۔۔۔صباء بھی ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔۔۔سامنے ہی ایک کمرا تھا۔۔۔میجر نے اپنا ہاتھ صباء کےپیچھے لے جا کر اس کی گانڈپر رکھا اور اس کی گانڈ کودبا کر اسے آگےکو کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔ چل آ اندر چل۔۔۔یہیں رک گئی ہے تو بھی۔۔۔ میجر نے اتنی زور سے صباءکی گانڈ دبائی کہ صباء کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔۔۔ساتھ ہی اس کی نظر اس لڑکے کی طرف پڑی۔۔۔وہ صباء کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔صباء کو اپنی طرف دیکھتےہوئے دیکھ کر ہنسنے لگا۔۔۔صباء بے حد شرمندہ ہوئی میجر کے اِس طرح سے اس لڑکے کے سامنے ہی اس کی گانڈ دبانے سے۔۔۔مگر پِھر خاموشی سے اندرکمرے میں داخل ہوگئی۔۔۔اندر گئی تو دو اور گندے سےآدمی بیٹھے ہوئے تاش کھیل رہے تھے۔۔۔میجر کو دیکھتے ہی دونوں اَٹھ کر کھڑے ہوگئے۔۔۔کمرا گندا سا تھا۔۔۔ایک طرف ایک بڑاسا صوفہ پڑا تھا اور ایک سائیڈ پر ایک کرسی اور ایک گندی سی بڑی آفس ٹیبل تھی۔۔۔میجر نے اپنا بازو صباءکے کاندھے پر رکھا ہوا تھااور اسے لے کر آگےبڑھا صوفہ کی طرف۔۔۔بہت ہی عجیب سچویشن لگ رہی تھی۔۔۔کہ ایک خوبصورت لڑکی۔۔۔جس نے اپنے جِسَم اور چہرےکو ایک چادر میں چھپایا ہواتھا۔۔۔ایک غنڈے کے ساتھ ایسی گندی سی جگہ پر آئی ہوئی تھی اور اُس کےسارے کارندے اسے دیکھ رہےتھے۔۔۔گندی اور بھوکی نظروں سے۔۔۔میجر نے صباء کو اپنے بازو کے نیچے ہی صوفہ پر بٹھایا اور اسی لڑکے سےبولا۔۔۔ ابے جمی۔۔۔جا جا کر کولڈ ڈرنک لے کے آاور تم دونوں بھی دفعہ ہوجاؤ باہر اب۔۔۔مجھے چودنا ہے اسے یہاں۔۔۔ چادر کے نیچے بھی صباء کاچہرہ شرم سے لال ہوگیااور اس نے اپنی نظریں جھکادیں۔۔۔میجر ہر بات پر بڑی ہی بےشرمی سے صباء کو اپنےآدمیوں کے سامنے ذلیل کر رہاتھا۔۔۔تینوں نے ہنستے ہوئے صباءکی طرف دیکھا اور پِھر باہرنکل گئے۔۔۔جیسے ہی دونوں تنہا ہوئے توصباء تھوڑا غصے سے بولی۔۔۔ صباء :یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔ان کے سامنے ہی ایسی گندی باتیں کر رہے تھے۔۔۔ میجر ہنس کر بولا۔۔۔بہن چود ان کو سب پتہ ہےکہ تجھے یہاں پرمیں تیری چوت مارنے کے لیےہی لایا ہوں۔۔۔تو پِھر ان سے کیسی شرم۔۔۔ صباء :مجھے کچھ نہیں کرنا ان کےسامنے یہاں پر۔۔۔ میجر نے صباء کے چہرے پرسے چادر ہٹائی اور اپنے ہونٹ صباء کےہونٹوں پر رکھتے ہوئے بولا ارے رنڈی زیادہ نخرے نہ کراور سیدھے سے چُدوا لے۔۔۔ صباء اسے نہ روک سکی اور میجر نے صباء کے ہونٹوں کو چومنا اور چوسنا شروع کر دیا۔۔۔صباء کو بھی اس کا ساتھ دینا پڑ رہا تھا۔۔۔کچھ پل کے لیے میجر کوچومنے کے بعد صباء بولی۔۔۔ صباء :مگر پلیز۔۔۔ان کے سامنے نہ کرو نہ کچھ بھی۔۔۔کہیں اور چلتے ہیں۔۔۔تمہارے فلیٹ پر ہی چلتےہیں۔۔۔پِھر مجھے واپس چھوڑ جانا ہسپتال ۔۔۔ میجر نے کوئی جواب دیے بناہی اسے دوبارہ سے اپنی طرف کھینچا اور نیچے گودمیں لیٹا لیااور جھک کر اُس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔اپنا ہاتھ صباء کی قمیض کےاُوپر سے ہی اُس کے مموں پررکھا اور اُس کے مموں کومسلتے ہوئے اُس کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا۔۔۔صباء بھی مست ہونے لگی تھی۔۔۔مگر۔۔۔اتنے میں دروازہ کھلا اورجمی اندر داخل ہوا۔۔۔اُس کے ہاتھوں میں دو کولڈڈرنکس تھیں۔۔۔جیسے ہی صباء نے اسےکمرے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھاتوجلدی سےمیجرکی گودسےنکلی اورسیدھی ہوکراپنانقاب ٹھیک کرنےکی کوشش ۔۔۔ کرنے لگی۔۔۔مگر جمی تو اُس کے چہرےکو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ میجر :ارے رہنے دے اب۔۔۔کیوں اس سے اپنا منہ چھپارہی ہے۔۔۔اِس نے کیا باہر جا کر تیرے شوہر کو بتانا ہے۔۔۔ صباء پر ایک بار پِھر بے عزتی کا اٹیک ہوا۔۔۔جمی نے آگے آکر دونوں کی طرف کولڈ ڈرنکس پیش کیں۔۔۔صباء نے بھی اپنے شرم سےلال ہوتے ہوئے چہرے کےساتھ کولڈ ڈرنک پکڑ لی۔۔۔جمی اب ایک طرف ہو کرکھڑا تھا۔۔۔ میجر :سالےاب جاتا کیوں نہیں ہے۔۔۔اِس رنڈی کا لائیو شو دیکھناہے کیا تجھے۔۔۔چل دفعہ ہو یہاں سے۔۔۔ جمی ہنس پڑا۔۔۔وہ باس میں نے سوچا کہ کسی اور چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے میم صاحب کو۔۔ میجر :دلے کے بچے۔۔۔تیرے لن کی ضرورت ہے اسے۔۔۔دے آگے ہو کر۔۔۔ اس کمینے جمی نے فوراً ہی اپنی جینز کی بیلٹ پر ہاتھ رکھا اور بیلٹ کھولنے لگا۔۔۔ صباء اسے ایسا کرتے ہوئےدیکھ کر گھبرا گئی اور گھبرا کر میجر کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔میجر نے اسے ایسا کرتے ہوئےدیکھا تو زمین سے اپنا جوتااٹھا کر دور سے اسے مارا۔۔۔ حرامی کا پِلّا ہے تو۔۔۔کمینے۔۔۔کیسے فاٹا فٹ تیار ہو گیا ہے۔۔۔دفعہ ہو جا یہاں سے۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔باس میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔۔ میجر :بہن کے لوڑے۔۔۔تیرا تو مذاق ہے اور اگر تیرےاسی مذاق مذاق میں یہ تجھ سے چودوانے کو تیار ہو گئی تو میں یہاں بیٹھ کے مٹھ ماروں گا کیا سالے۔۔۔ صباء میجر کی اتنی گندی بات پر شرم سے لال ہوگئی۔۔۔جب سے میجر اسے وہاں لایاتھا مسلسل اس کو ذلیل کیےجا رہا تھا۔۔۔جیسے اسے صباء کی عزت کی کوئی پرواہ نہ ہو۔۔۔یہ کہہ کر جمی مڑا اورجانے لگا۔۔۔پِھر رک کر بولا۔۔۔ باس ایک بات تو بتا دو۔۔۔یہ وہی لڑکی ہے نہ جو اس دن تیرے ساتھ فون پر بات کر رہی تھی رنڈیوں کی طرح۔۔۔؟ ؟ جمی کی بات سن کر صباء کاچہرہ شرم سے سرخ ہوگیااور سر نیچے جھک گیا۔۔۔اسے امید ہی نہیں تھی میجرسے کہ وہ اس کا پردہ رکھےگااور ہوا بھی ایسا ہی۔۔۔ میجر :ہاں وہی ہے یہ۔۔۔دیکھ لے اسے اچھے سےاور دفعہ ہو اب۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔باس اس دن تو بڑی بنداس بول رہی تھی اور آج اتنی شرما رہی ہے۔۔۔ میجر :کتے۔۔۔شریف گھر کی عورت ہے یہ۔۔۔تیری بہن کی طرح رنڈی نہیں ہے جو ذرا بھی شرم نہیں کرے۔۔۔ جمی ہنسا اور کمرے سےباہر نکلتے ہوئے دروازے پررک کے پِھر بولا۔۔۔باس وہ چاہیے ہے تو لا دوں۔۔۔وہ۔۔۔کیا کہتے ہیں اسے۔۔۔؟؟ میجر :وہ کیا ابے سالے۔۔۔؟؟ جمی :باس وہی۔۔۔جو پلاسٹک نہیں چڑھاتے لن پر چودنے سے پہلے وہ۔۔۔ میجر :بہن چود دفعہ ہو یہاں سے۔۔۔یہ بنا کنڈم کے ہی چودواتی ہے۔۔۔تیری بہن نہیں ہے جوتجھے اس کے پیٹ سے ہونےکی فکر لگی ہوئی ہے۔۔۔ جمی نے ایک نظر صباء پرڈالی اور ہنستا ہوا کمرے سےنکل گیا۔۔۔اُس کے جاتے ہی میجر نے صباء کو اپنی طرف کھینچا۔۔۔صباء اپنا چہرہ میجر کےسینے پر رکھ کر بولی۔۔۔ پلیز۔۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔مجھے یہاں سے لے چلو۔۔۔دیکھو تو کیسے گندی نظروں سے دیکھتے ہیں تیرے بندےمجھےاور تم بھی مجھے ان کے سامنے خوب ذلیل کرنےلگے ہو۔۔ کیسی کیسی باتیں کر رہےتھے تم ان کے سامنے۔۔۔ میجر ہنسنے لگا۔۔۔ارے کوئی کچھ نہیں دیکھےگا۔۔۔تو آ ادھر۔۔۔ٹائم تھوڑا ہے تیرے پاس۔ ورنہ میں تو ساری رات تیری بجانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ صباء کے روکتے روکتے ہی میجر نے صباء کی چادر اُتاردی اور اپنی پینٹ کھول کر اپنالن باہر نکالا اور صباء کاچہرہ پکڑ کر نیچے جھکا دیااور اپنا لن صباء کے منہ میں ڈال دیا۔۔۔صباء کچھ بھی نہ کر سکی۔۔۔اس کا دِل گھبرا رہا تھا۔۔۔مگر میجر کے غصے اورطاقت کے آگے اس کی کہاں کوئی چل سکتی تھی۔۔۔نہ ہی وہ یہاں سے بھاگ کراکیلی جا سکتی تھی۔۔۔ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے صباءنے چُپ کر کے میجر کا لن اپنے منہ میں لیا اور اسےچوسنے لگی۔۔۔اب اُس کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ جلدی سے میجرکو اپنی چوت دے کر وہاں سے نکلے۔۔۔کیونکہ وہ ایسی گندی جگہ پر اور ایسے گندے لوگوں کےدرمیان زیادہ دیر کے لیےنہیں رہ سکتی تھی۔۔۔ صباء نے میجر کا لن اپنےہاتھ میں پکڑا اور اُس کےاُوپر اپنا منہ اُوپر نیچے کرنےلگی۔۔۔کبھی اسے اپنے منہ سےباہر نکالتی اور اسے چاٹنےلگتی۔۔۔کبھی میجر کی ٹٹوں کو ہاتھ نیچے لے جا کر سہلانے لگتی۔۔۔میجر نے صباء کی چادر اُتاردی تھی۔۔۔نیچے اس کی پہنی ہوئی پتلی سی قمیض کو دیکھا توبولا۔۔۔ میجر :بہن چود بڑے سیکسی کپڑےپہنے ہوئے ہیں۔۔۔سالی وہاں ہسپتال میں گئی تھی کہ رنڈی خانے میں۔۔۔ صباء نے میجر کے لن کو اپنےمنہ سے نکال کر اپنی مٹھی میں اُوپر نیچے کرتے ہوئےاس کی ٹوپی کو اپنی زبان سے چاٹا اور میجر کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئےبولی۔۔۔ پتہ ہے۔۔۔وہاں پر مولوی صاحب بھی ہیں۔۔۔ میجر پوری بات کو سمجھ گیا اور ہنس کر بولا۔۔۔تو سالی تو نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔۔۔بہن چود ہسپتال میں ہی شروع ہوگئی ہے کیا۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔بس کام شروع کیا ہے۔۔۔ابھی کچھ کیا نہیں ہے۔۔۔ میجر صباء کی کمر پرہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔سالی۔۔۔رنڈی۔۔۔تجھے ایسے سیکسی حالت میں دیکھ کر اس مولوی کالن تو ویسے ہی پانی چھوڑدے گا۔۔۔ صباء بھی اس کی بات پرہنسنے لگی۔۔۔ میجر :بس اب جلدی سےکام نپٹا مولوی والا جو میں نے کہا ہے تجھے۔۔۔ صباء :جلدی سے مجھ سے نہیں ہوگا۔۔۔ابھی بتا رہی ہوں میں تم کو۔۔۔تھوڑا ٹائم ضرور لگے گا۔۔۔سیدھا سیدھا تو نہیں اب میں انکل کو کہہ سکتی کےمجھے چود دو۔۔۔ میجر :تیرے انکل کی بہن کی چوت۔۔۔سالی۔۔۔اچھا کر جو کرنا ہے۔۔۔پر مجھے میرا کام مکمل چاہیے ہے۔۔۔سمجھی نہ۔۔۔؟؟ صباء میجر کے لن کی ٹوپی کو اپنے دانتوں کے درمیان آہستہ سے دباتے ہوئے بولی۔۔۔پہلے یہ کام تو کر لے جس کےلیے مجھے یہاں لایا ہے۔۔۔ صباء کی بات سن کرمیجر صوفہ سے اٹھا۔۔۔اپنی پینٹ نیچے گرا دی اور صباء کو پکڑ کر کھڑا کیااور اسے لے کر ٹیبل پر آ گیا۔۔۔ٹیبل پر اسے لٹایااور اس کے ٹائیٹ پاجامے کوکھینچ کر اُتار دیااور خود اس کی دونوں ننگی ٹانگوں کے درمیان میں کھڑاہوگیا۔۔۔اپنے موٹے لمبے لن کو پکڑااور اسے صباء کی چکنی چوت پر رگڑنے لگا۔۔۔ میجر :کتیا۔۔۔دیکھ تیری چوت تو پہلے ہی گیلی ہو رہی ہےاور نخرے ایسے کر رہی تھی جیسے کوئی۔۔۔ صباء ہنسی :اب تھوڑے نخرے بھی تو دکھانے ہی ہوتے ہیں نہ۔۔۔ میجر نے اپنے لن کی ٹوپی کو صباء کی چوت پر رگڑااور اسے اندر داخل کر دیا۔۔۔ایک دھکے میں میجر کا آدھالن صباء کی چوت میں چلاگیااور میجر نے اپنے لن کو آگےپیچھے کرتے ہوئے صباء کوچودنا شروع کر دیا۔۔۔صباء ٹیبل پر لیٹی ہوئی تھی اور میجر نیچے کھڑا ہوا تھا۔۔۔اس نے صباء کی ننگی ٹانگوں کو کھول کر اپنے ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا اور دھانہ دھن اپنا لن اس کی چوت میں ڈال کر اندر باہر کرتے ہوئےاس کی چوت چود رہا تھا۔۔۔صباء کے منہ سےبھی سسکاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔اسے بھولتا جا رہا تھا کہ میجر کے بندے کمرے سےباہر ہیں۔۔ وہ بھی بس آنکھیں بند کئےہوئے بس میجر کے لن کےمزے لے رہی تھی۔۔۔اس کی چوت بھی بے حدگرم ہو رہی تھی اور جلد ہی اپنی منزل کو پہنچنے والی تھی۔۔۔صباء کے اوپری جِسَم پر قمیض ابھی بھی موجودتھی۔۔۔میجر نے اُس کے مموں کوننگا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔۔۔اسے تو بس صباء کی چوت مارنی تھی اور اسے وہ ننگا کر کے چودہی رہا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعد صباءکی چوت نے پانی چھوڑ دیااور اپنی ٹانگیں میجر کےگرد دباتے ہوئے میجر کے لن کو اپنی چوت میں دبانے لگی اور اپنی چوت کاپانی چھوڑنے لگی۔۔۔میجر بھی صباء کی اِس ٹائیٹ ہو رہی چوت میں اپنالن آگے پیچھے کر کے مزے لےرہا تھا۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد جب صباءتھوڑا ریلکس ہوئی تو میجرنے اپنا لن صباء کی چوت سے نکالا اور اسے پکڑ کرکھڑا کر دیا پِھر ٹیبل پر اُلٹا لیٹا کرپیچھے کھڑا ہوگیا۔۔۔صباء کو لگا کہ اب میجر اسکی گانڈ میں اپنا لن ڈالے گا۔ مگر میجر نے پیچھے سےاپنا لن دوبارہ صباء کی چوت میں ڈال دیااور صباء کی کمر کو پکڑکے دھکے مارتے ہوئے صباءکی چوت کو چودنے لگا۔۔۔صباء بھی آہستہ آہستہ پیچھے آگے کوہل رہی تھی۔ اسے بھی خوب مزہ آرہا تھا۔۔۔پورے کمرے میں صباءکی سسکاریاں اور میجر کےلن کے صباء کی چوت کےاندر باہر ہونے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔تھوڑی ہی دیر گزری کہ میجر کے لن نے اپنا پانی صباء کی چوت میں نکال دیااور میجر کا پانی نکلتے ساتھ ہی صباء کی چوت نے بھی ایک بار پِھر سے پانی چھوڑدیا۔۔۔میجر نے اپنا لن صباء کی چوت سے نکالا اور صباءوہیں ٹیبل پر الٹی پڑی ہوئی لمبے لمبے سانس لیتےہوئے خود کو سنبھالنے لگی۔۔۔چند لمحوں کے بعد صباء اٹھی اور جھک کر اپنی چوت کودیکھنے لگی۔۔۔اس کی چوت میں سے میجرکی منی نکل کر باہر آرہی تھی۔۔۔صباء ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔۔۔میجر اسے دیکھ کر بولا۔۔۔ٹیبل کی دراز میں پڑا ہے ٹشوکا دبا۔۔۔صباء نے گھوم کر دوسری طرف جا کر دراز میں سےٹشو کا ڈبہ نکالا اور اس میں سے ٹشو لے کر اپنی چوت صاف کرنے لگی۔۔۔ صباء :مجھے واش روم جانا ہے۔۔۔ میجر :باہر ہے واش روم۔۔۔جا چلی جا ایسے ہی۔۔۔ صباء کو اچانک ہی احساس ہوا کہ وہ کس سچویشن میں ہےاور پِھر جلدی سے اس نے اپناپاجامہ اٹھایا اور اسے پہننےلگی۔۔۔صباء نے اپنا پاجامہ پہن لیااور پِھر چادر لینے لگی تومیجر نے فوراً ہی چادر اٹھالی۔۔۔ میجر :پہلے اپنی چوت دھو آ پِھر لےلینا چادر۔۔۔ صباء :نہیں مجھے نہیں دھونی۔۔۔مجھے نہیں جانا واش روم۔۔۔ میجر :بہن چود دھو آ اپنی چوت۔۔۔ورنہ تیرے اِس پنک پاجامےمیں ہی ساری میری منی تیری چوت کے اندر سے نکل آئے گی۔۔۔ صباء کو پتہ تھا کہ میجرٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔میجر بھی اپنی پینٹ پہن چکا تھا۔۔۔وہ باہر کی طرف بڑھا۔۔۔تو صباء کو بھی اُس کےپیچھے ہی آنا پڑا۔۔۔باہر نکلی تو سب سے پہلے وہ میجر کے بندوں کو دیکھنےلگی۔۔۔وہ تینوں ایک طرف بیٹھےہوئے تاش کھیل رہے تھے۔۔۔صباء کی نظر جمی پر پڑی تو وہ صباء کو دیکھ کر مسکرانے لگااور میجر سے نظر بچا کراپنے انگوٹھے اور پہلی انگلی کو ملا کر اور باقی تِین انگلیوں کو پھیلا کرفنٹاسٹک۔۔۔بہت آعلیٰ۔۔۔کا اشارہ کیا۔۔۔تو صباء کا دِل کیا کہ بس کہیں ڈوب ہی مرے وہ شرم سے۔۔۔صباء کو شک تھا کہ ان تینوں نے اسے ضرور دیکھا ہوگا۔۔۔لیکن اب اسے پکا یقین ہوچکا تھا کہ ان تینوں نے اسکی چُودائی کا لائیو سین ضرور دیکھا ہوگا۔۔۔ان جیسے حرامیوں سےایسی شرافت کی امید کیسےکی جا سکتی تھی کہ وہ ایک خوبصورت عورت کو چدتے ہوئے نہ دیکھیں۔۔۔میجر نے ایک طرف بنے ہوئےواش روم کی طرف اشارہ کیا۔۔۔صباء شرمندگی سےسر جھکاتے ہوئے اندر چلی گئی۔۔۔گندا سا باتھ روم تھا۔۔۔بلکہ صرف ایک ٹوائلٹ تھااور ایک ٹوٹی تھی۔۔۔جوکہ شاید نہانے کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی۔۔۔صباء نے مڑ کر دروازہ لوک کرنا چاہا تو اس کی تو کوئی کنڈی ہی نہیں تھی۔۔۔صباء نے باہر دیکھا۔۔۔ٹوائلٹ سیٹ تھوڑی سائیڈ پرتھی اور کر بھی کیا سکتی تھی صباء۔۔۔خاموشی سے اپناپاجامہ نیچے کر کے ٹوائلٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔واک والی ٹوائلٹ سیٹ تھی اور وہیں بیٹھ کر پیشاب کرنے لگی اور پِھر جو گندا سا لوٹا پڑاہوا تھا اس سے پانی ڈال کراپنی چوت کو دھونے لگی۔۔۔اندر انگلی ڈال کر منی نکال رہی تھی۔۔۔اس کا دھیان اپنی چوت کی طرف ہی تھا کہ اچانک ہی دروازہ کھلا اور میجراندر جھانکنے لگااور بولا۔۔۔ ارے رنڈی ابھی فارغ نہیں ہوئی۔۔۔ صباء تو اچھل ہی پڑی۔۔۔میجر کو اِس طرح سے سامنے دیکھ کر۔۔۔میجر اپنے ساتھیوں کے بالکل سامنے واش روم میں جھانک رہا تھا۔۔۔جہاں صباء بیٹھی ہوئی پیشاب کر رہی تھی۔۔۔ صباء بولی۔۔۔پلیز باہر جاؤ۔۔۔وہ سب لوگ بیٹھے ہیں۔۔۔ صباء کی بات سن کر بجائےباہر جانے کے میجر اندر آیااور اپنی پینٹ کی ذپ کھولنے لگااور بولا۔ میجر :ارے کیوں شرماتی ہے ان لوگوں سے۔۔۔اب تو تیرا یہاں آنا جانا رہےگا۔۔۔مجھے بھی زور کا پیشاب آرہا ہے تو اِس لیے آیا ہوں اندراور ان کو تو پتہ ہی ہے یارسب کچھ۔۔۔یہ کہہ کر میجر نے اپنامرجھایا ہوا لن اپنی پینٹ کی ذپ سے باہر نکالا اور اس کا رخ صباء کی چوت سےنیچے ٹوائلٹ پر کر کے اپنےپیشاب کی دھار مارنے لگا۔۔۔صباء ایکدم سے گھبرا گئی۔۔۔ جیسے ہی میجر کے پیشاب کے چھینٹے نیچے سے صباءکی چوت پر پڑے تو وہ فوراًہی اٹھ کھڑی ہوئی اور اپناپاجامہ بھی اونچا کرنے لگی۔۔۔میجر اسے دیکھ کر ہنسنے لگا۔۔۔ صباء :یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔ میجر :میں نے کون سا تیرے منہ پرپیشاب کر دیا ہے سالی جواتنا غصہ دکھا رہی ہے۔۔۔ صباء کا غصہ بھی پیشاب کی جھاگ کی طرح ہی بیٹھ گیا۔۔۔آخر وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔۔۔میجر کے پیشاب کے چھینٹوں سے گیلی ہی چوت کو اپنے پاجامہ میں چُھپا لیا تھا اس نے۔۔۔پیشاب کر کے میجر نے اپنےلن کو ہاتھ میں پکڑ کے ہلایااور اس پر سے پیشاب کےکچھ قطرے سیدھا صباء کےجوتے پر گرےاور پِھر میجر نے ویسے ہی اپنے لن کو اپنی پینٹ کےاندر کر لیا۔۔۔بنا اسے دھوئے یا صاف کیےہوئے۔۔۔ صباء بولی :اسے دھو تو لو۔۔۔ میجر ہنس کر بولا۔۔۔تو صاف کر دے منہ میں لےکر۔۔۔ صباء نے مصنوئی غصے سےمیجر کی طرف دیکھا اورپِھر میجر جیسے ہی باہر نکلاتو صباء کو بھی اُس کے پیچھے پیچھے باہر آنا پڑا۔۔۔باہر نکلے تو وہ تینوں ان کی طرف ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔صباء کا چہرہ شرم سے لال ہو رہا تھا۔۔۔اس نے اپنا چہرہ نیچے جھکالیا۔۔۔پِھر صباء نے ایک طرف پڑی ہوئی اپنی چادر اٹھائی اور اسے اپنے جِسَم پر لپیٹنےلگی۔۔۔چادر لپیٹتے ہوئے بھی ان تینوں کی نظریں صباء کےمموں پر ہی تھیں۔۔۔اگلے ہی لمحے اپنا چہرہ پِھرسے چُھپا لیا۔۔۔ میجر بولا :ہوگئی میری رنڈی تیار۔۔۔دیکھو تو پِھر سے شریف زادی بن گئی ہے نہ سالی۔۔۔ وہ تینوں بھی ہنسنے لگے۔۔۔ صباء آہستہ سے میجر سےبولی۔۔۔چلو اب چلیں۔۔۔ میجر بولا۔۔۔ہاں ہاں جاؤ اب۔۔۔ابے او جمی۔۔۔اٹھ ذرا میم صاحب کو اُدھرہسپتال میں چھوڑ آ۔۔۔میری بائیک لے جا۔۔۔ صباء پریشان ہو کر بولی۔۔۔کیا مطلب۔۔۔تم نہیں جاؤ گے۔۔۔میں نہیں جا رہی اس کے ساتھ۔۔۔ جمی تو فوراً سے کھڑا ہوگیا۔۔۔ میجر بولا۔۔۔میرا من نہیں ہو رہا ہے اب باہر جانے کا۔۔۔تجھے جانا ہے تو چلی جاجمی کے ساتھ ہی۔۔۔نہیں جانا تو اندر آجا۔۔۔صبح لے چلوں گا تجھے۔۔۔ورنہ اکیلی چلی جا۔۔۔ صباء بے بسی سے اس ظالم اور سخت دِل انسان کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔جس کے لیے وہ اپنا سب کچھ لٹا رہی تھی۔۔۔مگر اس کو اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں تھی۔۔۔ میجر پِھر بولا۔۔۔ارے یہ اِس جمی کی فکر نہ کر تو۔۔۔کچھ نہیں کہے گا تجھے۔۔۔ابے جمی اگر تو نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی نہ تو بہن چود تیرا لن کاٹ دوں گا پکڑ کر۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔نہیں نہیں باس کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ میں کتنا شریف ہوں۔۔۔ میجر ہنسا۔۔۔ہاں ہاں سب کو پتہ ہے بہن چود تیری شرافت کا۔۔۔کتی کے بچے لڑکی کودیکھتے ہی لن کھڑا ہو جاتاہے اور بولتا ہے کہ شریف ہوں۔۔۔سالا۔۔۔ میجر نے صباء کی گانڈ پرایک زور کا تھپڑ مارا اور بولا۔۔۔اچھا چل بائے۔۔۔پِھر ملیں گےاور جا کر اس مولوی کا کام کر جلدی سے۔۔۔پھنسا لے اسے اپنے جال میں۔۔۔میں تو کہتا ہوں کہ ہسپتال میں ہی چُدوا لےاس کمینے سے۔۔۔ ایک بار پِھر سے صباءشرمندہ ہو گئی۔۔۔اِس کمینے کو تو کوئی بھی شرم نہیں تھی۔۔۔ہر بات ہی اس کی ان لوگوں کے سامنے کھول کرذلیل کئے جا رہا تھا۔۔۔صباء کا بس نہیں چل رہا تھاکہ کسی طرح وہاں سے غائب ہو جاتی۔۔۔مگر ایسا ہو نہیں سکتا تھانہ۔۔۔اسے یہ سب ذلت اور ان لوگوں کی بھوکی گندی نظروں کو برداشت کرنا ہی تھا۔۔۔میجر واپس اپنے کمرے میں چلا گیا ہوا تھا۔۔۔جمی صباء کی طرف بڑھااور اپنے گندے سے بالوں میں ہیرو کی طرح سےاپنی انگلیاں پھیر کر انہیں سیدھا کرتے ہوئے بولا۔۔۔ چلیں میم صاحب۔۔۔اور صباء بے بسی سے اُس کے پیچھے اس گٹھیا سی بِلڈنگ سے باہر نکل آئی جہاں جمی میجر صاحب کی بائیک اسٹارٹ کر رہا تھا۔۔۔صباء جمی کے پیچھے بیٹھی اور جمی نے بائیک چلا دی۔۔۔چھوٹی چھوٹی گلیوں سےگزرتے ہوئے بار بار بریک مارتاتو صباء کے ممے جمی کی کمر سے ٹکراتےاور صباء کو صاف لگ رہا تھاکہ یہ سب وہ جان بوجھ کہ کر رہا ہے۔۔۔صباء کو غصہ بھی آ رہا تھا۔۔۔ صباء بولی۔۔۔آرام سے چلاؤ۔۔۔ایسے چالاتے ہیں کیا۔۔۔ جمی بولا :میم صاحب مجھے تو ایسےہی آتی ہے۔۔۔صحیح طریقے سے گاڑی توباس ہی چلاتے ہیں بس۔۔۔ہر کسی کو مزہ ہی آجاتا ہےبس۔۔۔ جمی کی بات سن کر صباءشرمندہ ہوگئی۔۔۔کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی کہ اس کا اشارہ کس طرف ہے۔۔۔تھوڑا آگے مین روڈپر چڑھنے لگے تو سامنے دوپولیس والے کھڑے تھے۔۔۔ان کی بائیک کو دیکھ کرانہوں نے دور سے ہی اشارہ کیا۔۔۔تو انہیں دیکھ کر صباء کی تو جیسے جان ہی نکل گئی۔۔۔کہ کیا جواب دے گی پولیس کو کہ اِس گندے کے ساتھ اتنی رات کو وہ کیا کر رہی ہے۔۔۔صباء بری طرح سے گھبرارہی تھی۔۔۔صباء گھبرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔ جمی پ۔۔۔پولیس۔۔۔ جمی ہنسااور بولا۔۔۔ارے میم صاحب جمی کےہوتے ہوئے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ صباء کو جمی کے اِس طرح سے ہیرو بننے پر غصہ آ رہاتھا مگر اُس کے علاوہ اس وقت اس کا کوئی اور سہارااور امید ہی نہیں تھی۔۔۔جمی نے اپنی بائیک پولیس والوں کے پاس جا کر روکی۔۔۔ ایک پولیس والا جمی کوپہچان کر بولا۔۔۔ ابے اِس وقت کہاں جا رہا ہےاور یہ کون ہے بے۔۔۔؟؟؟ جمی :باس۔۔۔یہ میجر صاحب کی گرل فرینڈ ہے۔۔۔انہیں گھر چھوڑنے جا رہاہوں۔۔۔ آپ سناؤ ٹھیک ہو نہ۔۔۔ دوسرا پولیس والا۔۔۔ابے حرامی۔۔۔بڑا زبردست مال لگ رہا ہے۔۔۔جھوٹ تو نہیں بول رہا نہ میجر کا نام لے کر۔۔۔ جمی ہنس کر۔۔۔ارے باس نہیں یقین تو خودکال کر کہ پوچھ لو میجرسے۔۔۔کروں کال۔۔۔ پہلا پولیس والا۔۔۔ابے نہیں نہیں۔۔۔اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ جمی پولیس والے کو آنکھ مار کر بولا۔۔۔باس لگتا ہے کہ اِس پر دِل آگیا ہے تمہارا۔۔۔دِل کر رہا ہے چکھنے کوتو بتاو۔۔۔ پولیس والا :سالے بکواس نہ کر۔۔۔اگر میجر کو پتہ چل گیا نہ۔۔۔تو ہماری ہی پینٹیں اتروا دےگا۔۔۔تو جا جا۔۔۔نکل یہاں سے۔۔۔پتہ نہیں کہاں کہاں سے ایک سے ایک بڑھ کر لڑکی لے آتاہے یہ میجر بھی۔۔۔ جمی بائیک کوسٹارٹ کرتے ہوئے :بس باس اپنی اپنی قسمت ہے نہ اور ہمیں دیکھو بس ان کی چُودائی کے بعد ان کوگھر چھوڑنے کا ہی کام ملتاہے۔۔۔ جمی نے ہنس کر بائیک کوسٹارٹ کیا اور پولیس والوں کو سلام کر کے آگے نکل گیا۔۔۔آخری وقت تک دونوں پولیس والے صباء کو ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔جب وہ وہاں سے نکلے توصباء کی جان میں جان آئی۔۔۔ جمی بولا :کیوں میم صاحب کیسا بچایاتم کو آج۔۔۔دیکھی پِھر جمی کی پاور۔۔۔ صباء کو ہنسی آئی :یہ تو میجر صاحب کے نام سے ہوا ہے تیرا کیا ہے اِس میں۔۔۔مگر یہ میجر کی گرل فرینڈکیوں بولا تم نے مجھے۔۔۔کیا سوچتے ہوں گے وہ میرے بارے میں اور کیا کیا بکواس کر رہے تم میرے بارے میں۔۔۔ جمی ہنسا :تو اور کیا تم کو اپنی گرل فرینڈ بولتا۔۔۔اگر کہیں تم میری گرل فرینڈہوتی نہ تو۔۔۔ صباء :تو۔۔۔تو کیا۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ جمی ہنس کر :تو آج تم کو ان دونوں پولیس والوں نے لے جا کرخوب ٹھوکنا تھا۔۔۔ صباء جمی کی بات پرشرمندہ ہو گئی۔۔۔غصے سے اس کے کاندھے پرہاتھ مارتے ہوئے بولی۔۔۔ شرم نہیں آتی ایسی باتیں کرتے ہو۔۔۔ صباء :لیکن تم یہ بھی تو کہہ سکتے تھے نہ کہ میری بہن ہے یہ۔۔۔ جمی ہنسا :ہا ہا ہا ہا۔۔۔اگر یہ بول دیتا تو بھی انہوں نے تمہاری خوبصورتی کودیکھتے ہی سمجھ جانا تھا کہ میں پکا پکا بہن چود ہوں۔۔۔کیونکہ ایسی خوبصورت بہن ہو تو اسے بھی نہ بخشوں۔۔۔ صباء :کچھ تو شرم کرو۔۔۔ جمی ہنسا :ارے میم صاحب کیسی شرم۔۔۔قسم سے بڑی مست چیز ہوتم اور بڑا مست چدواتی ہو۔۔۔ صباء حیران ہو کر :تو۔۔۔تو کیا تم لوگ باہر سے۔۔۔چُھپ کر۔۔۔ جمی ہنسا۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔ارے ایسی بلو فلم۔۔۔جو لائیو ہو کون نہ دیکھے گا۔۔۔ صباء اریٹیٹ ہو کر۔۔۔بتاؤں گی میں تمہارے باس کو دیکھنا۔۔۔ جمی ہنس کر۔۔۔ارے کوئی فائدہ نہیں بتانے کا اسے۔۔۔اسے سب پتہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہوں گے۔۔۔ صباء کو بہت غصہ بھی آیااور شرمندگی بھی ہوئی۔۔۔صباء شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔۔۔ شرم نہیں آتی کیا تم لوگوں کو ایسے تانک جھانک کرتے ہو۔۔۔ جمی چھیڑتے ہوئے :آپ بولو۔۔۔آپ کو آ رہی تھی کیا شرم اس وقت ؟ ؟آپ کو شرم آرہی ہوتی تو۔۔۔آپ یہاں آتی ہی کیوں باس کے ساتھ۔۔۔؟ ؟ ؟ صباء ہکلاتے ہوئے :و۔۔۔وہ تو تمہارا باس ہی لایا تھامجھے یہاں۔۔۔ جمی :ارے جانے دو میم صاحب وہ اٹھا کر تو نہیں لے آیا نہ آپ کو۔۔۔آخر آئی تو آپ اپنی مرضی سے ہی ہو۔۔۔ورنہ اتنا مست ہو کر نہ چدواتی باس سے۔۔۔ جمی بات کرتے کرتے اب گندے لفظ بھی بول رہا تھا۔۔۔صباء کو بہت ہی برا لگ رہاتھا۔۔۔ لیکن اسی دوران صباء جمی کے کافی قریب ہو چکی ہوئی تھی اور اُس کے ممے جمی کی کمر سے ٹچ ہو رہے تھے۔۔۔جمی نے اپنی کمر کو تھوڑاسا پیچھے کو پُش کر کےرگڑااور بولا۔۔۔ جمی :میم صاحب تھوڑا پیچھے ہوکر بیٹھو۔۔۔پِھر تم کہو گی کہ میں تمہارے ممے ٹچ کر رہا ہوں۔ صباء چونکی اور پیچھےہوگئی۔۔۔ صباء :انتہائی ذلیل اور کمینے ہو تم سب لوگ۔۔۔ جمی زور زور سے ہنسنے لگا۔۔۔صباء بات کو تبدیل کرنے کےلیے بولی۔۔۔یہ پولیس بڑی ڈرتی ہے کیاتمہارے میجر صاحب سے۔۔۔؟؟؟ جمی :جی ہاں میم صاحب۔۔۔بڑی اُوپر تک پہنچ ہے ہمارےباس کی۔۔۔یہ چھوٹے موٹے پولیس والےتو ویسے ہی ڈرتے ہیں ان سے۔۔۔ صباء میجر کی اِس حیثیت سے بھی امپریس ہو رہی تھی۔۔۔اتنے میں دونوں ہسپتال پہنچ گئے اور جمی نے صباء کو وہاں ڈراپ کیا۔۔۔صباء کے بھرپور جِسَم پرایک نظر ڈالی اور بولا۔۔۔ جمی :میم صاحب اب دوبارہ کب آؤ گی اڈے پر۔۔۔؟ ؟ صباء غصے سے بولی :کبھی بھی نہیں۔۔۔ جمی نے ہنستے ہوئے اپنی بائیک اسٹارٹ کی اور واپس مڑگیااور صباء ہسپتال میں داخل ہوگئی۔۔ صباء اپنی چادر میں لپٹی ہوئی ہسپتال میں داخل ہوئی اور پِھر اپنے کمرے میں گئی تو نرس آنٹی کو انجیکشن لگا رہی تھی۔۔۔آنٹی ابھی جاگ رہی تھی۔۔۔صباء سلام کر کے سیدھی باتھ روم میں چلی گئی۔۔۔اندر جا کر صباء نے اپنا میک اپ وغیرہ ٹھیک کیا۔۔۔ہلکا ہلکا فیس پاؤڈر اور لپسٹک لگائی۔۔۔کیونکہ میجر نے سب کچھ خراب کر دیا ہوا تھا اس کا۔۔۔اپنے بال اور میک اپ ٹھیک کر کے صباء باہر نکلی تونرس کمرے سے باہر جا رہی تھی۔۔۔صباء آنٹی کے بیڈ پر ان کےسر کے پاس بیٹھ گئی اوران کا سر سہلانے لگی۔۔۔آنٹی بھی مسکرا کر اسےدیکھ رہی تھیں اور ایسے ہی باتیں کرتے کرتےآنٹی کی آنکھ لگ گئی۔۔۔صباء نے اپنی چادرنہیں اتاری ہوئی تھی اور ویسے ہی بیٹھی تھی۔۔۔کیونکہ وہ خود بھی اپناڈریس اور ایکسپوز ہوتا ہواجِسَم آنٹی کو شو نہیں کرناچاہتی تھی۔۔۔مولوی صاحب نرس کے ساتھ ہی باہر نکل گئے ہوئے تھے۔۔۔کچھ میڈیسن لانے کا بولا تھانرس نے مارننگ کی ڈوز کےلیے۔۔۔جب آنٹی سو گیں تو صباءنے اٹھ کر کھانے کا ڈبہ چیک کیا تو اس میں کھانا ویسےہی پڑا ہوا تھااور مولوی صاحب نے بھی ابھی نہیں کھایا تھا۔۔۔صباء نے سالن والا ڈبہ اٹھایااور کوری ڈور کے اینڈ پر بنےہوئے کچن میں جا کر کھاناگرم کرنے لگی۔۔۔کھانا گرم کر کے واپس کمرےمیں آئی تو مولوی صاحب بھی واپس آ چکے ہوئے تھے۔۔۔اسے دیکھتے ہی بولے۔۔۔ مولوی صاحب :کہاں چلی گئی تھی بیٹی۔۔۔؟ ؟ صباء :انکل وہ کھانا گرم کرنے گئی تھی۔۔۔آئیں اب جلدی سے کھا لیں۔۔۔آنٹی کی بھی آنکھ لگ گئی ہے۔۔۔پِھر نہ کھانا ٹھنڈا ہو جائے۔۔۔ صباء نے صوفہ پر کھانا رکھااور خود بھی بیٹھ گئی۔۔۔مولوی صاحب بھی صوفہ پر بیٹھتے ہوئے بولے۔۔۔ مولوی صاحب :ارے یہ تو تم نے ایسے ہی تکلیف ہی کی ہے دوبارہ گرم کرنے جانے والی۔۔۔ ایسے ہی کھا لیتے اسے۔۔۔ صباء مسکرا کر مولوی صاحب کی طرف دیکھتےہوئے بولی۔۔۔ارے نہیں انکل آپ کو گرم کھانا کھانے کی عادت ہے نہ تو اسی لیے میں نے سوچافوراً سے گرم کر لاؤں اسے۔۔۔ مولوی صاحب بھی صباء کےخیال کرنےپر مسکرائے اور صوفہ پرکھانے کی دوسری سائیڈ پر صباء کے سامنے ہی بیٹھ گے۔۔۔اچانک صباء اٹھی اور اپنی چادر اتارتے ہوئےبولی۔۔۔ صباء :انکل میں ذرا اسے رکھ دوں۔۔۔ صباء نے اپنی چادر اتاری اورالگ پڑی ہوئی کرسی کی بیک پر فولڈ کر کے رکھ دی۔۔۔اُدھر جیسے ہی صباء کےجِسَم سے چادر اتری تومولوی صاحب کا نوالہ ان کےحلق میں ہی جیسے پھنس گیا۔۔۔اس پتلی سی قمیض میں صباء کے جھلکتے ہوئے جِسَم کو دیکھ کر کانپ اٹھےمولوی صاحب اور صباء جب ان کی طرف پیٹھ کر کے چادر فولڈ کررہی تھی تو اس کی کمر پراس کے بلیک کلر کی براکے سٹریپس اور ہکس بالکل صاف مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے تھے۔۔۔مولوی صاحب اپنی نظرہٹاتے اور پِھر سے دیکھنےلگتے۔۔۔صباء چادر رکھ کر واپس آئی اور صوفہ پر چڑھ کر آلتی پالتی لگا کر بیٹھ گئی۔۔۔اب تو جیسے اوربھی قیامت تھی مولوی صاحب کے لیے۔۔۔صباء کی بلیک کلرکی برا آگے سے بھی کپڑے کے نیچے سے نظر آرہی تھی اور نیچے کو جھک کر کھاناکھانے کی وجہ سے صباء کی قمیض کے گلے میں سے اُسکے مموں کی درمیانی لکیربھی دِکھ رہی تھی۔۔۔آلتی پالتی مارنے سے صباءکی قمیض سمٹ گئی ہوئی تھی اس کی گود میں اور اس کی پاجامہ پہنی ہوئی ٹانگیں اور رانیں مولوی صاحب کے سامنے آگئی تھیں۔۔۔مولوی صاحب کے لیے توکھانا کھانا ہی مشکل ہو رہاتھا۔۔۔وہ تو اپنی نظریں اِس نظارے سے ہٹا نہیں پارہے تھے۔۔۔چاہتے ہوئے بھی اپنی نظروں کو صباء کے مموں پر سےپیچھے نہیں کر پا رہے تھے۔۔۔خود پر شرم بھی آ رہی تھی۔۔۔مگر۔۔۔مگر خود پر کنٹرول بھی تونہیں ہو رہا تھا نہ اور صباء۔۔۔صباء تو اِس سب سے انجان۔۔۔بلکہ۔۔۔جانتے ہوئے بھی انجان بنی ہوئی۔۔۔ نیچے دیکھتے ہوئے کھانا کھارہی تھی۔۔۔جیسے اسے کسی بات کا پتہ ہی نہ ہو۔۔۔مگر اسے پُورا پُورا پتہ تھا کہ مولوی صاحب کی نظریں اُس کے جِسَم کے کس کس حصے پر ہیں۔۔۔مگر نہ تو صباء ان کو روکناچاہتی تھی اور نہ ہی ان کا مزہ خراب کرنا چاہتی تھی۔۔۔صباء سب کچھ کر تو خود سے رہی تھی۔۔۔مگر جو کچھ بھی ہو اسےایسا شو کرنا چاہتی تھی جیسے کہ یہ سب مولوی صاحب نے اپنی مرضی سےکیا ہےاور خود انہوں نے صباء کوپھنسایا ہے۔۔۔اسی لیے صباء نے اپنا معصومانہ انداز برقرار رکھاہوا تھا۔۔۔نہ تو مولوی صاحب کو ان کرج کر رہی تھی اور نہ ہی ان کو روک رہی تھی۔۔۔بس سب کچھ نیچرل اندازمیں ہونے دے رہی تھی اور وہ اپنی چال میں کامیاب بھی جا رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کو ذرا بھی شک نہیں ہوا تھا ابھی تک کہ صباء جان بوجھ کر یہ سب کچھ کر رہی ہے۔۔۔وہ تو خود کو ہی قصوروار مان رہے تھے اس سب کا جو وہ کر رہے تھے۔۔۔مگر پِھر بھی خود کو صباءکا خوبصورت جِسَم دیکھنےسے نہیں روک پا رہے تھے۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر صباءاٹھی اور باتھ روم میں ہاتھ دھونے کے لیے چلی گئی اور تب بھی مولوی صاحب کی نظریں صباء کی کمر اوراب اس سے نیچے صباء کی پھولی ہوئی گانڈ پر بھی تھیں صباء باتھ روم میں داخل ہوئی تو خود کی ہنسی پرقابو نہ رکھ سکی اور آئینے میں خود کودیکھتی ہوئی مسکرانے لگی۔۔۔صباء واپس آئی تو بولی۔۔۔ انکل آپ نے تو ٹھیک سےکھانا کھایا ہی نہیں۔۔۔لگتا ہے آپ کو میرے ہاتھ کاپکا ہوا کھانا پسند نہیں آیا۔۔۔ مولوی صاحب تھوڑا گھبراکر۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔بہت اچھا تھا کھانا۔۔۔ صباء صوفہ کے قریب آئی اور جھک کربرتن سمیٹنے لگی اور بولی۔۔۔مجھے پتہ ہے انکل۔۔۔ آپ کو صرف آنٹی کا کھاناہی پسند آتا ہے۔۔۔ نیچے جھکنے سے صباء کی قمیض تھوڑی نیچے کوہوگئی تھی اور اُس کے ممے اور بھی دورتک نظر آنے لگے تھے۔۔۔مولوی صاحب انہی مموں کودیکھتے ہوئے بولے۔۔۔ نہیں نہیں بیٹی۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔تم بھی بہت اچھا کھانا بناتی ہو۔۔۔ یہ کہتے ہوئے مولوی صاحب نے صباء کے کاندھے پر ہاتھ پھیرااور پِھر صوفے سے اٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھے۔۔۔مولوی صاحب جب اٹھے توصباء کو ان کے بھاری بھرکم پیٹ سے نیچے مولوی صاحب کا لمبا سفید کرتاتھوڑا اٹھا ہوا محسوس ہوا۔۔۔صباء جیسی شاطر لڑکی فوراًہی سمجھ گئی کہ اس قمیض کے نیچے کیا ہےایسا جس نے اسے اُوپر اٹھارکھا ہےاور اپنے جِسَم کے نظارےکے کمالات پر خوش ہوگئی اور خود سے سیٹسفائڈ بھی۔۔۔مولوی صاحب باتھ روم سےواپس آئے تو ان کا کرتا بھی اب ٹھیک ہو چکا ہوا تھا۔۔۔وہ کمرے سے باہر کی طرف جانے لگے۔۔۔صباء برتن ٹیبل پر پیک کررہی تھی۔۔۔ کہاں جا رہے ہیں انکل آپ ؟ ؟ مولوی صاحب :کہیں نہیں بس ابھی آیا چائےلے کر۔۔۔ صباء :جی اچھا۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد مولوی صاحب واپس آئے چائےلے کرتو صباء صوفہ کی سائیڈسے آرم سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی اپنی دونوں ٹانگیں صوفہ پر لمبی پھیلاکراور کوئی میگزین دیکھ رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب صباء کےقریب آئے اور چائے کا کپ صباء کی طرف بڑھایا۔۔۔ تو ان کی نظر سیدھی۔۔۔نیچےبیٹھی ہوئی صباء کی قمیض کے گلے میں سے جھانکتے ہوئے کلیویج پرگئی۔۔۔صباء نے نظر اٹھا کر مسکراکر مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور تھینکس بولتے ہوئے چائے کا کپ لے لیا۔۔۔مولوی صاحب بھی اپنی چائے لے کر صوفہ کے دوسرےاینڈ پر پڑی ہوئی کرسی پربیٹھ گئے۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب چیئر پر بیٹھے تو صباءنے احترام میں اپنی پھیلی ہوئی ٹانگیں پیچھے کھینچ لیں۔۔۔لیکن یہ تو جیسے اور بھی ظلم ہی تھا صباء کا۔۔۔ایک معصوم سا ظلم مولوی صاحب پر۔۔۔کیونکہ ٹانگیں پیچھے کھینچ کر بیٹھنے سے۔۔۔مولوی صاحب کی نظرسیدھی صباء کی چوت کی جگہ پر جا رہی تھی۔۔۔صباء کے ٹائیٹ پاجامےکی وجہ سے صباء کی رانیں اور چوت تک پاجامہ چپکاہوا تھااور مولوی صاحب کی نظریں سیدھی صباء کی چوت پرجا رہی تھیں۔۔۔صباء اپنی ہی دھن میں۔۔۔بنا کسی طرف توجہ دیےہوئے۔۔۔ مگر سب کچھ دیکھتے اورجانتے ہوئے۔۔۔اپنا میگزین دیکھ رہی تھی اور مولوی صاحب اپنی چائےپیتے ہوئے صباء کی رانوں کےمیٹنگ پوائنٹ کا جائزہ لےرہے تھے۔۔۔چائے پینے کے بعد کچھ دیرتک تو دونوں ایسے ہی بیٹھےرہےاور پِھر مولوی صاحب بولے۔۔۔ صباء بیٹی سو جاؤ اب تم اگر سونا ہے تو۔۔۔ صباء :جی انکل نیند تو آ رہی ہے۔۔۔مگر آپ سو لیں۔۔۔سارا دن جاگتے ہیں آپ۔۔۔ مولوی صاحب :ارے نہیں بیٹی۔۔۔سو لیتا ہوتا ہوں تھوڑی دیرمیں صبح میں۔۔۔تم لیٹ جاؤ۔۔۔میں لائٹ ہلکی کر دیتا ہوں۔۔۔ مولوی صاحب اٹھے اور جاکر صرف ایک بلب جلتا رہنےدیا اور باقی لائٹس بند کردیں۔۔۔ ابھی بھی کمرے میں بالکل اندھیرا نہیں تھا مگر پِھربھی روشنی پہلے سے توکافی کم ہوگئی ہوئی تھی۔۔۔صباء نےمسکرا کر مولوی صاحب کی طرف دیکھا اورپِھر صوفہ کی سائیڈ آرم پرسر رکھ کر صوفہ پر ہی لمبی ہوگئی اور مولوی صاحب صباء کےپیروں کی طرف کرسی پربیٹھ گئےاور میگزین دیکھتے ہوئےصباء کے جِسَم کا نظارہ کرنےلگے۔۔۔کچھ آدھے گھنٹے کے بعد۔۔۔تقریباً رات کے ایک بجےمولوی صاحب کو تسلی ہوگئی کہ اب تو صباء سو ہی چکی ہوگی۔۔۔لیکن پِھر بھی انہوں نے اسکا نام پکار کر اسے آواز دی۔۔۔مگر ظاہر ہے کے صباء نےکوئی جواب نہیں دینا تھا۔۔۔اِس لیے چُپ رہی۔۔۔مولوی صاحب نے اپنی تسلی کرنے کے بعد آہستہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور صباء کےپیر کو چھوا۔۔۔کل کی رات کی طرح ہی۔۔۔لیکن آج اپنا ہاتھ پیچھےکرنے کی بجائے آہستہ آہستہ صباء کے پیر کو سہلانے لگے۔۔۔صباء کے دِل کی دھڑکنیں بھی تیز ہونے لگیں۔۔۔مولوی صاحب نے اپنی کرسی کی بیک پر رکھی ہوئی صباء کی چادر اٹھائی۔۔۔اسے اپنے ہاتھ میں لے کر اپناچہرہ اس پر رکھ کر اس چادر کوسونگھنے لگے۔۔۔جیسے صباء کے جِسَم کی خوشبو کو سونگھ رہے ہوں اور تھا بھی کچھ ایسا ہی۔۔۔صباء ہلکی سی کھلی ہوئی آنكھوں سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔۔۔آہستہ آہستہ مولوی صاحب اس چادر کو اپنے چہرےاور داڑھی پر پھیرتے ہوئےآنکھیں بند کر کے صباء کےپیر کو سہلا رہے تھے۔۔۔ لیکن صباء کے پیر کو اس کی جگہ سے نہیں ہلا رہے تھے۔۔۔چادر کو سونگھتے ہوئے ان کے لمبے لمبے سانس لینے کی آواز صاف صباء کو سنائی دے رہی تھی اور صباء کے اپنے سانسوں کی رفتار بھی تیز ہو رہی تھی۔۔۔جس سے صباء کے ممے تیزی سے اُوپر نیچے ہو رہے تھے۔۔۔مگر مولوی صاحب تو اپنی ہی مستی میں تھے نہ۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی گزری تومولوی صاحب اپنی جگہ سےاٹھے۔۔۔صباء نے جلدی سے اپنی آنکھیں پوری بند کر لیں اور صرف محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگی کے اب مولوی صاحب کیا کریں گےاور جلدی ہی اسے پتہ چل گیا۔۔۔ جب صباء کو اپنے پیر پر نرم نرم گھنے بالوں کا ٹچ محسوس ہوا۔۔۔اِس سے پہلے کے صباءسمجھنے کے لیے اپنے دماغ پر زور دیتی۔۔۔اسے اپنے گورے گورے پیر پر۔۔۔دو موٹے موٹے ہونٹوں کا ٹچ محسوس ہوا۔۔۔صباء کا تو جیسے جِسَم ہی کانپ اٹھا۔۔۔بڑی ہی مشکل سے خود کو کنٹرول کیا۔۔۔جب اسے احساس ہوا کہ مولوی صاحب تو اُسکے گورے گورے پیر کو چوم رہے تھے۔۔۔پیر کے اوپری حصے کومولوی صاحب چوم رہے تھےاور اُس کے پیر کی انگلیاں ان کی گھنی سرخ داڑھی میں گھستی جارہی تھیں۔۔۔بہت ہی ہلکے ہلکے کس کررہے تھے وہ صباء کے پیر کو۔۔۔اِس بات کا خیال رکھتے ہوئےکہ کہیں صباء کی آنکھ نہ کھل جائے۔۔۔ تھوڑی دیر کے لیے صباء کےپیر کو کس کرنے کے بعدمولوی صاحب اَٹھ کھڑےہوئےاور سوئی ہوئی صباء کےجِسَم کے اوپری حصے کی طرف بڑھے۔۔۔صباء سیدھی لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ مولوی صاحب نے جھک کرصباء کے جِسَم سے اٹھنے والی خوشبوکو سونگھا۔۔۔بہت ہی پیاری اور مست کر دینے والی خوشبو اَٹھ رہی تھی صباء کے جِسَم سے۔۔۔جسے اپنی سانسوں میں بھرنے کے بعد مولوی صاحب کو اور بھی سونگھنے کی طلب ہو رہی تھی۔۔۔لیٹنے سے صباء کا کلیویج اور بھی گہرا اور واضح ہو رہاتھااورخوبصورت گورا گورا سینہ کھلا ہوا ننگا نظر آ رہا تھا۔۔۔مولوی صاحب بڑی ہی ہمت کرتے ہوئے۔۔۔ڈرتے ڈرتے نیچے جھکےاور اپنی ناک صباء کے سینےکے قریب لانے لگے۔۔۔مولوی صاحب اپنی ناک کوصباء کے جِسَم۔۔۔اُس کے سینے سے ٹچ کرنےسے روک رہے تھے۔۔۔بچانا چاہتے تھے۔۔۔مگر اپنی بڑی سی بھری بھری ہوئی سرخ داڑھی کوصباء کے سینے سے ٹچ ہونےسے نہ بچا سکے۔۔۔جیسے ہی وہ صباء کے سینےپر سے اُس کے جِسَم کی خوشبو سونگھ رہے تھے توان کی داڑھی صباء کے سینےکو چوم رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کی گھنی داڑھی کے نرم نرم بالوں کااپنے ننگے سینے پر ٹچ۔۔۔صباء کے سینےپر گدگدی سی کر رہا تھا۔۔۔لیکن ظاہر ہے کہ وہ ہلنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔۔یہ تو شکر ہوا کہ دو چار لمبےلمبے سانس لیتے ہوئے۔۔۔صباء کے ایروٹک پرفیوم کی خوشبو اپنے اندر بھر کےمولوی صاحب تھوڑا پیچھےہوگئے۔۔۔مولوی صاحب اب نیچے۔۔۔صوفے کے قریب۔۔۔صباء کے بالکل قریب۔۔۔بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔اپنے دونوں پیروں پراور صباء کے اُوپر نیچے ہوتےہوئے سینے کے خوبصورت اُبھار۔۔۔بالکل ہی مولوی صاحب کی آنكھوں اور ہونٹوں اورچہرے کے لیول پر تھے۔۔۔مگر وہ چاہ کر بھی ان کوچھو نہیں سکتے تھے۔۔۔صباء کے سینے کےدونوں ابھاروں کی درمیانی گھاٹی۔۔۔گہری۔۔۔تاریک۔۔۔چکنی گھاٹی مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے تھی۔۔۔جس پر ان کی نظریں پھسلتی جا رہی تھیں۔۔۔اندر تک جانے کے لیے۔۔۔بہت اندر تک۔۔۔مگر جا نہیں سکتی تھیں نہ۔۔۔خود پر کنٹرول نہ کر پاتے ہوئے۔۔۔آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ۔۔۔اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ۔۔۔صباء کے مموں کی طرف بڑھائےاور بہت ہی ہلکے سے۔۔۔بہت ہی ہولے سے۔۔۔صباء کے مموں کو ٹچ کیا۔۔ مگر صرف اور صرف ایک لمحے کے لیےاور فوراً سے ہی اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔۔۔جیسے کوئی کرنٹ لگ گیا ہوان کو صباء کے مموں کو چھونے سے۔۔۔کرنٹ ہی تو تھا صباء کےمموں میں۔ ایک ایسا کرنٹ جوکہ چھونے پر ہاتھوں کو دورجھٹک دیتا تھااور ہاتھ پیچھے کرو تو وہی کرنٹ ہاتھوں کو دوبارہ اپنی طرف کھینچنے لگتا تھا۔۔۔چند لمحوں کے بعد۔۔۔دوبارہ سے ہمت کر کے مولوی صاحب نے ایک بار پِھر صباءکے خوبصورت۔۔۔اُوپر نیچے ہوتے ہوئے۔۔۔سینے کے ابھاروں کے اُوپراپنا ہاتھ رکھ دیااور اِس بار تو انہوں نے فوراًسے اپنے ہاتھ کوپیچھے کھینچنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔۔۔اپنے بھاری بھرکم ہاتھ کوصباء کے سڈول اور بہت ہی مناسب سائز کے ایک ممے پررکھا رہنے دیا۔۔۔صباء بےچین ہونے لگی۔۔۔اُس کے دِل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔۔۔اس سے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔مولوی صاحب کے بھاری بھرکم ہاتھ کا بوجھ وہ اپنےدائیں ممے پر محسوس کررہی تھی۔۔۔بھاری ہاتھ کا گرم گرم لمس اسے اپنے کالے برا میں سےگزرتا ہوا نیچے اپنے ممے کی جلد پر محسوس ہو رہا تھا۔۔۔بہت ہی دھیرے سے۔۔۔بالکل ساکت۔۔۔رکھے ہوئے ہاتھ میں۔۔۔آہستہ آہستہ جان پڑنے لگی مولوی صاحب کے ہاتھ کی انگلیاں بند ہونے لگیں۔۔۔بہت ہی دھیرے دھیرے۔۔۔ بالکل بھی محسوس نہ ہونےوالے انداز میں اور پِھر صباء کے ممے کومولوی صاحب نے اپنی گرفت میں لے لیا۔۔۔لیکن اسے نہ تو دبایااور نہ ہی نوچا۔۔۔بس صباء کے خوبصورت ممےکا لمس اپنی مٹھی میں محسوس کرنے لگے۔۔۔ان کا ہاتھ صباء کی برا کےکپ کی نظر آ رہی ہوئی لائن پر رینگنے لگا۔۔۔بہت ہی دھیرے دھیرے۔۔۔صباء بہت ہی مشکل سےاپنی سانسوں کو کنٹرول کرپا رہی تھی۔۔۔مگر دِل کی دھڑکن کو کیسےکنٹرول کر پاتی۔۔۔مگر اپنے چہرے کے ایکسپریشنز کو بالکل نارمل رکھا ہوا تھا۔۔۔جیسے سچ میں ہی وہ سورہی ہواور مولوی صاحب صرف خود کو ہی گلٹی محسوس کر رہے تھے جوکہ اپنی بیٹی کی عمر کی اس سوئی ہوئی خوبصورت لڑکی کے مموں کو چھو رہے تھے۔۔۔مگر اِس وقت ان کو کسی بھی غلط اور صحیح کاکوئی احساس نہیں تھا۔۔۔یا پِھر وہ کچھ اور سوچنانہیں چاہتے تھے۔۔۔صباء کو کچھ بھی تو نظرنہیں آ رہا تھا نہ۔۔۔صرف وہ محسوس کر پا رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کو اپنے قریب ہی بیٹھے ہوئےاور ان کے ہاتھ کو اپنےبریسٹ پراور پِھر کچھ دیر میں ان کاہاتھ صباء کے ممے پر سے ہٹ گیااور صباء نے سکون کا سانس لیا۔۔۔بالکل سوئی ہوئی کیفیت میں ہی تھوڑے لمبےسانس لینے کی کوشش کرنےلگی اور ایسے ہی لمبے سانس لیتے ہوئے۔۔۔صباء کو اپنی ناک میں ایلاچی کی خوشبو آنےلگی۔۔۔صباء کو حیرت ہوئی کہ اچانک ہی اِس نارمل سی ہوامیں۔۔۔جہاں وہ سانس لے رہی تھی۔۔۔یہ الاچی کی خوشبو کہاں سے آگئی اور اگلے ہی لمحے۔۔۔جب اسے کچھ یاد آیا تو اسکا تو جیسے سانس رکنے لگا۔۔۔اسے یاد آیا کہ ہروقت الاچی منہ میں رکھ کر چبانے کی عادت ہے مولوی صاحب کو۔۔۔صباء سوچنے لگی۔۔۔تو کیا۔۔۔تو کیا۔۔۔مولوی صاحب اپنے ہونٹوں کو۔۔۔اپنے منہ کو۔۔۔اُس کے منہ کے پاس لا رہےہیں۔۔۔صباء کو یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔یا پِھر وہ یقین کرنا نہیں چاہ رہی تھی۔۔۔مگر۔۔۔حقیقت تو وہی تھی نہ۔۔۔جو ہو رہا تھا۔۔۔یعنی سچ میں ہی مولوی صاحب بہت ہی آہستہ سےاپنے منہ کو صباء کے منہ کےپاس لے آئے تھے۔۔۔اپنے موٹے موٹے لبوں سےصباء کے پتلے پتلے ہونٹوں کو چومنے کے لیے۔۔۔مولوی صاحب کے منہ سےآتی ہوئی الاچی کی خوشبو۔۔۔صباء کی سانسوں میں جارہی تھی اور اسے بےچین کرنے لگی تھی۔۔۔لیکن اِس سے پہلے کے مولوی صاحب کے ہونٹ صباء کےہونٹوں سے ٹکراتے۔۔۔مولوی صاحب کی گھنی داڑھی کے بال۔۔۔نرم نرم بال۔۔۔صباء کو اپنے چہرےپر ٹکراتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔۔۔ایک عجیب سا احساس تھا۔۔۔کچھ الگ سا ہی۔۔۔آج تک کبھی بھی اس نےکسی کی داڑھی کے بالوں کواپنےگالوں اور چہرے پرمحسوس نہیں کیا تھااور آج تک کبھی بھی کسی داڑھی والے بندے نےاسے کس بھی تو نہیں کیاتھا نہ جو وہ کسی کے داڑھی کے بالوں کا ٹچ محسوس کر پائی ہوتی اور چند ہی لمحوں کے بعد۔۔۔دو بھاری۔۔۔موٹے موٹے ہونٹ۔۔۔صباء کو اپنے پتلے پتلے گلابی ہونٹوں پرمحسوس ہوئے۔۔۔گرم گرم۔۔۔تپتے ہوئے ہونٹ اور ان ہونٹوں نے صباء کےہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔بس ایک لمحے کے لیےاور پِھر جلدی سے پیچھےہوگئے۔۔۔ جیسے کہ ان ہونٹوں نے اپنی مراد پا لی ہو۔۔۔جیسے کہ ان ہونٹوں نے ایک ہی لمحے میں کوئی امرت پی لیا ہواور دوسری طرف۔۔۔کچھ امرت صباء نے بھی بہادیا تھا۔۔۔چند بوندیں۔۔۔امرت کی نکل آئی تھیں۔۔۔ٹپک گیں تھیں۔۔۔اس کی ٹانگوں کے درمیان۔ اس کی پیاری سی چوت سےاور وہ امرت کی چند بوندیں۔۔۔نکل کر صباء کے پاجامہ کے کپڑے میں ہی جذب ہوگئی تھیں۔۔۔مگر ساتھ ہی اس کا جِسَم بھی تو کانپ گیا تھااور اب برداشت نہ کر پائی اسی طرح رہنا تو ہلی۔۔۔اپنی دونوں ٹانگوں کو دبایا۔۔۔بلکہ دونوں رانوں سے اپنی چوت کو دبایااور پِھر کروٹ لے لی۔۔۔صوفہ کی بیک کی طرف اور اپنی بیک۔۔۔ مولوی صاحب کی طرف کرتے ہوئے۔۔۔ایسی پوزیشن میں تھی کہ اس کی گانڈ بھی پیچھے کو مولوی صاحب کی طرف نکل آئی تھی۔۔۔ایک نئی دعوت اور ایک نیا چیلنج مولوی صاحب کو دیتے ہوئے۔۔۔کہ آؤ۔۔۔اگر ہمت ہے تو آؤاور اسے بھی چھو کر دیکھوکہ کیسا مال ہے یہ اور کتنی خوبصورت ہے یہ اور مولوی صاحب کی نظریں بھی تو وہیں پر تھیں نہ۔۔۔صباء کی خوبصورت کمر اورگانڈ پر۔۔۔صباء تو اپنا منہ صوفہ کی بیک کی طرف کر کے لیٹ چکی ہوئی تھی۔۔۔اپنے سرخ ہوتے ہوئے چہرےاور پھولتی ہوئی سانسوں اور چہرے کے ایکسپریشنز کو چھپانے کے لیے۔۔۔مگر۔۔۔مولوی صاحب کے لیے تو ایک اور امتحان تھا نہ۔۔۔کیونکہ پتلی سی گلابی قمیض میں چھپا ہوا جِسَم۔۔۔جس میں سے صباء کی کمرکی گوری گوری رنگت جھلک رہی تھی اور جس میں سے صباء کی پہنی ہوئی بلیک براکی سٹریپس اور ہکس صاف دِکھ رہے تھے۔۔۔وہ کمر اپنے تمام جوبن اور نظاروں کے ساتھ مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے تھی اور مولوی صاحب کو اوربھی بےچین کر رہی تھی۔۔۔اگر صرف یہی کچھ ہوتا توبھی شاید مولوی صاحب خود پر کنٹرول کر لیتے۔۔۔مگر۔۔۔ایک اور قیامت بھی تو سامنے تھی نہ۔۔۔ہاں۔۔۔صباء کی ابھری ہوئی اورمولوی صاحب کی طرف نکلی ہوئی گانڈ۔۔۔جس پر ہلکی سی قمیض کاپچھلا حصہ پڑا ہوا تھا۔۔۔آخر مولوی صاحب کے صبرکا بندھن ٹوٹااور ان کا بھاری ہاتھ آگے بڑھااور سوئی ہوئی صباء کی کمرپر آیا۔۔۔جوکہ ننگی جیسی ہی توتھی۔۔۔اس پتلی سی قمیض میں سے۔۔۔مولوی صاحب کے ہاتھوں کی گرمی بنا کسی رکاوٹ کےصباء کو اپنے جِسَم پرمحسوس ہو رہی تھی۔۔۔ایک بار اس کا دِل کانپ اٹھا۔۔۔جِسَم کو تو کسی نہ کسی طور اس نے کنٹرول کر ہی لیاتھا ہلنے سے۔۔۔مگر مولوی صاحب کا ہاتھ توان کے کنٹرول میں نہیں تھا نہ اب۔۔۔آہستہ آہستہ صباء کی نرم ملائم کمر پر سرکنے۔۔۔دھیرے دھیرے صباء کی کمرکو سہلانے لگا۔۔۔کبھی اُوپر کی طرف جاتااور کبھی نیچے کو آتا۔۔۔قمیض کے اوپری حصے پر۔۔۔ گردن کے پاس بھی گلا تھوڑالوز تھااور صباء کی کمرکا اوپری حصہ۔۔۔بالکل گردن کے پاس سے ننگاہو رہا تھا۔۔۔بہت ہی آہستہ سے مولوی صاحب نے صباء کے بالوں کوپیچھے ہٹایااور پِھر صباءکے گورے گورے جِسَم کا ایک حصہ۔۔۔پہلی بار۔۔۔مولوی صاحب کی آنكھوں کے سامنے ننگا تھا۔۔۔ہل ہی تو گئے تھے مولوی صاحب۔۔۔آہستہ سے جب صباء کی کمرکے ننگے حصے کو چھوا تو۔۔۔کرنٹ کی لہر صباء کے پورےجِسَم میں پھیل گئی۔۔۔جو سیدھی جا کر اس کی چوت پر ختم ہوئی۔۔۔لیکن اس کرنٹ کی لہر نےصباء کی چوت سے پانی کی چند بوندیں اور بھی تپکا ہی دیں۔۔۔مولوی صاحب اپنے ہاتھوں کی موٹی موٹی انگلیوں کےساتھ آہستہ آہستہ صباء کی ننگی جلد کو سہلانے لگے۔۔۔ان کا موٹا موٹا۔۔۔انگوٹھا۔۔۔آہستہ آہستہ صباء کی گردن کو سہلا رہا تھا۔۔۔پِھر دوبارہ سے ان کا ہاتھ نیچے کو جانے لگا۔۔۔نیچے۔۔۔بالکل نیچے۔۔۔کمر سے نیچےاور پِھر اُوپر کو۔۔۔لیکن اِس بار جِسَم پر اُوپرکی طرف نہیں تھا۔۔۔بلکہ تھوڑی اونچائی کی طرف چڑھ رہا تھا۔۔۔صباء کی گانڈ کے ابھار پر۔۔۔صباء کی نرم نرم گانڈکو سہلایا اور اسے اپنے ہاتھ میں تھاما تو ایک اور ہی لطف اور مزہ آیا مولوی صاحب کو۔۔۔دِل کر رہا تھا کہ بس صباءکی گانڈ کو ہی سہلاتے رہیں۔۔۔مولوی صاحب کا ہاتھ صباءکی قمیض کے اُوپر سے ہی اس کی قمیض کو ساتھ لےکر ہی صباء کی گانڈ پرپھسل رہا تھا۔۔۔جوکہ قمیض کے نیچے اب صرف پاجامہ میں تھی۔۔۔مولوی صاحب کا دِل چاہنےلگا کہ وہ صباء کی قمیض کوہٹا کر۔۔۔صباء کے ٹائیٹ پاجامے میں پھنسی ہوئی اس کی گانڈ کودیکھے۔۔۔جب خود پر کنٹرول نہ کرسکے تو آہستہ آہستہ صباءکی قمیض کو اس کی گانڈپر سے ہٹا دیا۔۔۔گلابی ٹائیٹ پاجامے میں چھپی ہوئی بلکہ پھنسی ہوئی خوبصورت گانڈ کےدونوں ابھار مولوی صاحب کے سامنے تھے۔۔ کچھ دیر کے لیے صباء کی گانڈ کو دیکھنے کے بعد۔۔۔مولوی صاحب نےاپنے کانپتے ہوئے ہاتھ کو آگےبڑھایا اور صباء کی گانڈ پررکھ دیا۔۔۔آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ کوصباء کی ابھری ہوئی ملائم گانڈ کے اُوپر پھیرنے لگے۔۔۔صباء کی گانڈ کو سہلانے لگے۔۔۔صباء کے لیے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔بے چینی ہو رہی تھی۔۔۔دِل کی دھڑکن اور سانسیں خود کے کنٹرول سے باہر ہورہی تھیں۔۔۔دھیرے دھیرے مولوی صاحب کا ہاتھ نیچے کوجانے لگا۔۔۔گانڈ کے دونوں ابھاروں کےدرمیان۔۔۔جہاں پر صباء کی پیاری سی چوت تھی۔۔۔دونوں رانوں کے درمیان میں چھپی ہوئی۔۔۔اپنی ایک انگلی کو آگے بڑھایااور باقی کے ہاتھ کو صباءکی گانڈ کے دونوں حصوں پررہنے دیااور اپنی بیچ کی انگلی سےآہستہ آہستہ صباء کی چوتکو سہلانے لگے جیسے ہی مولوی سب کی انگلی صباء کی چوت سے ٹکرائی تو۔۔۔جیسے دونوں کے جسموں میں ہی کرنٹ سا پیدا ہوا۔۔۔دونوں ہی تڑپ اٹھے۔۔۔صباء کے جِسَم نےبھی تھوڑا ساجھٹکا کھایااور اس کی چوت سےپانی بہنے لگا۔۔۔مولوی صاحب نے آہستہ آہستہ صباء کی چوت کواپنی انگلی سے سہلانا شروع کر دیا۔۔۔ان کو بھی اچھا لگ رہا تھا۔۔۔اپنی بیٹی جتنی عمر کی لڑکی کی چوت کو سہلاتے ہوئے۔۔۔اس وقت ان کے اندر کوئی بھی گلٹ یا شرمندگی نہیں تھی۔۔۔صباء کی چوت پرانگلی پھیرتے ہوئے جھکےاور صباء کی گانڈ کو چوم لیا۔۔۔ایک بار۔۔۔دو باراور پِھر کئی بار صباء کی گانڈ پر ادھر اُدھر کس کیااور اپنے ہونٹوں سے اس کی گانڈ کو سہلایا۔۔۔صباء کے لیے بھی اب برداشت کرنا مشکل ہو رہاتھا۔۔۔آخر وہ تھوڑا ہلی۔۔۔تو مولوی صاحب بھی تھوڑاڈر سے گئےاور فوراً ہی پیچھے کو ہوگئے۔۔۔صباء نے خود پر کنٹرول کرتےہوئے۔۔۔ سیدھی ہو کر اپنی آنکھیں کھول دیں اور اپنے دونوں بازو اُوپر کواٹھا کر ایک لمبی انگڑائی لی۔۔۔ جس سے صباء کے دونوں ممے اس کی قمیض میں اوربھی تن سے گئے۔۔۔اپنی آنکھیں کھولیں تومولوی صاحب سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔۔۔جیسے ہی صباء کی نظر ان پر پڑی تو صباء کے ہاتھ فضامیں ہی ٹھہر گئے۔۔۔چند لمحوں کے لیے صباء نےان کو اپنے مموں کا نظارہ کرنے دیااور پِھر اپنے بازو نیچے کو کرکے تھوڑی سی شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ مولوی صاحب کو دیکھنے لگی اور اپنا سر جھکا لیا۔۔۔ مولوی صاحب:اَٹھ گئی بیٹی۔۔۔ صباء نے آہستہ سے اپنی نظریں اٹھا کر مولوی صاحب کی طرف دیکھا۔۔۔ جی انکل۔۔۔میری تو آنکھ ہی لگ گئی تھی۔۔۔ مولوی سب اٹھے اور صباءکے قریب آ کر بیٹھ گئے۔۔۔اپنے بازو کو صوفہ کی بیک پر سے پھیلایا اور صباءکے کاندھے پر رکھا اور بولے۔۔۔ ہاں سوگئی ہوئی تھی تم۔۔۔کوئی بات نہیں اچھا ہے نہ تھوڑی نیند پوری ہوگئی تمہاری۔۔۔ مولوی صاحب صباء سے بات کرتے ہوئے اُس کے کاندھے کو سہلا رہے تھے۔۔۔آہستہ آہستہ۔۔۔کاندھے اور شولڈر کو۔۔۔صباء کو بھی تھوڑاڈسکمفرٹ فیل ہو رہا تھا اورمزہ بھی آ رہا تھا۔۔۔مگر وہ مولوی صاحب کو احساس دلوانا چاہتی تھی کہ اسے کوئی اعتراض نہیں ہے جیسے۔۔۔لیکن یہ بھی کہ سب اس کی مرضی سے ہو بھی نہیں رہاہے۔۔۔ صباء :انکل آپ تو جاگ ہی رہے تھےنہ۔۔۔ مولوی صاحب تھوڑاسا گھبرائے۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔میری بھی آنکھ لگ گئی تھی شاید۔۔۔ صباء :اچھا۔۔۔مجھے لگا کہ جیسے۔۔۔آپ۔۔۔ صباء نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔۔۔مولوی صاحب صباء کیطرف دیکھتے ہوئے بولے۔۔ ہاں ہاں بولو۔۔۔کیا لگا تھا تم کو۔۔۔ یہ کہتے ہوئے مولوی صاحب نے صباء کو تھوڑا سا اپنی طرف کھینچا۔۔۔صباء نے خود کو مولوی صاحب کے سینے کے بالکل ساتھ۔۔۔ان کے بازوں کے نیچےایڈجسٹ کیا۔۔۔اپنا چہرہ تھوڑا اوپر کواٹھایا اور مولوی صاحب کےچہرے کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔مولوی صاحب تھوڑاسا مسکرائے۔۔۔ کیا دیکھ رہی ہو بیٹی ایسے۔۔۔؟؟؟ صباء دھیرے سے مسکرائی۔۔۔انکل آپ سے ڈر لگتا ہے نہ مجھے۔۔۔تو اِس لیے کچھ بھی نہیں کہہ سکتی نہ۔۔۔ مولوی صاحب ہنسے۔۔۔ارے ڈرنے کی کیا بات ہے۔۔۔تم میری بیٹی ہو نہ اور پِھر یہاں پر کون ساکوئی ہے۔۔۔ڈرو نہیں کھل کر کہو جوکہنا ہے۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔مگر۔۔۔سب لوگ آپ سے بہت ڈرتےہیں نہ۔۔۔بہت روب ہےنہ آپ کا سب پر۔۔۔ مولوی صاحب صباء کے بازوکو سہلاتے ہوئے بولے۔۔۔ارے وہ سب تو دوسروں کےلیے ہے۔۔۔تم کیوں ڈرتی ہو۔۔۔ صباء نے ڈرتے ڈرتے اپنا ہاتھ اٹھایااور مولوی صاحب کی داڑھی میں اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ صباء :انکل آپ کی یہ داڑھی کتنی خوبصورت ہے۔۔۔کتنے ملائم ہیں نہ اس کےبال تو۔۔۔ مولوی صاحب تو جیسےخوشی سے اچھل ہی پڑےہوں۔۔۔اچھا۔۔۔؟ ؟مگر تمہاری آنٹی تو کہتی ہوتی ہیں کے ان کو داڑھی سے الجھن ہوتی ہے میری۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔اور ابھی بھی اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مولوی صاحب کی داڑھی میں پھیرتے ہوئےاور ان کے چہرے کو بھی چھوتے ہوئے بولی۔۔۔ نہیں نہیں انکل سچ میں بہت پیاری ہے یہ۔۔۔آپ آنٹی کے ساتھ کوئی شرارت کرتے ہوں گے نہ تب ہی تو وہ کہتی ہوں گی نہ۔۔۔ مولوی صاحب مسکرائےاور صباء کے شولڈر پر اپناپریشر بڑھا کر اسے اور بھی اپنی طرف کھینچ کر اپنےجِسَم سے لگاتے ہوئے بولے۔۔۔ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔لیکن جب میں ان کے چہرےکے پاس اپنا چہرہ لاتا ہوں نہ تو کہتی ہیں۔۔۔ صباء بڑی ہی معصومیت سے۔۔۔وہ کیوں انکل۔۔۔اس سے کیا ہوتا ہے۔۔۔ مولوی صاحب مسکرائےاور نیچے کو صباء کے چہرےپر جھکتے ہوئے بولے۔۔۔ بتاتا ہوں کیسے۔۔۔ اور اپنے چہرے کو نیچے لا کراپنے ہونٹوں کو صباء کےچہرے سے چھوا اوراپنی داڑھی کو صباء کے گالوں پر رگڑا اور بولےایسے۔۔۔ صباء بھی ہنسی۔۔۔ہاں انکل۔۔۔کچھ تو ہوتا ہے تھوڑا سا۔۔۔پر اتنا بھی نہیں ہے نہ۔۔۔ مولوی صاحب تو اب جیسےبچوں کی طرح سے شرارت کرنے لگے تھے۔۔۔اپنی داڑھی کو زبردستی صباء کے چہرےپر پھیرتے ہوئے ہنسنے لگے۔۔۔ ہاں ہاں بولو کیا ہوتا ہے۔۔۔اب برا لگ رہا ہے نہ۔۔۔ صباء بھی ہنسنے لگی۔۔۔زور زور سےاور خود کو چھڑا رہی تھی۔۔۔مگر۔۔۔خود کو 55 سال کی عمر کےصحت مند مولوی صاحب کےہاتھوں سے نہیں چھڑا پا رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب نے تھوڑا ساجھٹکا دیا اور صباء کے سرکو اپنی گود میں گرا لیااور اُس کے چہرے پر جھک گئے۔۔۔ مولوی صاحب کی داڑھی۔۔۔صباء کے چہرے ،آنكھوں اور ہونٹوں پر سرک رہی تھی۔۔۔ مگر ابھی تک انہوں نے اپنے ہونٹوں کوصباء کے چہرے کے ساتھ ٹچ ہونے نہیں دیا تھا۔۔۔ صباء نے اپنے چہرے کومولوی صاحب کے چہرے سےپیچھے کرنا چاہا۔۔۔خود کو آزاد کرنا چاہا۔۔۔مگر مولوی صاحب نے پِھرسے اسے اپنے جِسَم سے بھینچااور صباء کے ممے بھی مولوی صاحب کے سینے سےچپک گئے۔۔۔ اور بولے۔۔۔ارے لیٹی رہو نہ بیٹی ایسےہی۔۔۔ صباء ;نہیں انکل۔۔۔اچھا نہیں لگتا نہ ایسے۔۔۔ مولوی صاحب :کیا اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔بیٹی ہو نہ تم میری تو لیٹ ہی سکتی ہو ایسے بھی تو۔۔۔ صباء تھوڑا سا ہلی۔۔۔و۔۔۔وہ آنٹی۔۔۔ مولوی صاحب نے بیڈ پرسوئی ہوئی اپنی وائف کی طرف دیکھا اور بولے۔۔۔ نہیں وہ تو سو رہی ہے۔۔۔اس کی فکر نہ کرو۔۔۔تم ریلکس ہو کر بیٹھو۔۔۔ صباء تھوڑا سا ہلی اور خود کو تھوڑا اور مولوی صاحب سے چپکا کر بولی۔۔۔ مگر۔۔۔مگر انکل۔۔۔اگر آنٹی کی آنکھ کھل گئی تو۔۔۔تو۔۔۔اچھا نہیں لگے گا نہ کہ میں ایسے لیٹی ہوں تو۔۔۔پتہ نہیں کیا سوچیں گی پِھر۔۔۔ یہ کہہ کر صباء ایک دفعہ اپنے ممے کو مولوی صاحب کے سینے سے رگڑ کر صوفہ پر سے اٹھ گئی اور واش روم میں چلی گئی۔۔۔باتھ روم میں جا کر صباء نےخود کو بحال کیا۔۔۔اپنی سانسوں کو کنٹرول کیا۔۔۔اپنے بال ٹھیک کئےاور دوبارہ سے باہر آئی۔۔۔تو مولوی صاحب وہیں صوفہ پر بیٹھے ہوئےتھے۔۔۔صباء مولوی صاحب کودیکھ کر شرما گئی اور جا کر الگ پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔مولوی صاحب صباء کو ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔اپنی نشیلی نظروں کے ساتھ اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئےاور صباء اپنا چہرہ نیچےجھکائے ہوئے تھی۔۔۔مولوی صاحب کو اندازہ ہورہا تھا کہ بلبل ان کے جال میں پھنس رہی ہے۔۔۔مولوی صاحب صباء کی طرف دیکھتے ہوئے سرگوشی میں بولے۔۔۔ صباء بیٹی۔۔۔ صباء نے اپنے سرخ ہوتے ہوئےچہرے کو اٹھایا اور مولوی صاحب کی طرف دیکھ کربولی۔۔۔ جی۔۔۔انکل۔۔۔ مولوی صاحب :ادھر آجاؤ۔۔۔ صباء نے شرما کر اپنا سرانکار میں ہلا دیا۔۔۔میں نہیں آؤں گی۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
  6. قسط نمبر29 میجر کی بات پر صباء زورزور سے ہنسنے لگی۔۔۔واہ جی واہ۔۔۔تیری مرضی آئے تو تو جس سے مرضی چودائے مجھ کو۔۔۔پر میں اپنی مرضی سے نہیں چُدوا سکتی۔۔۔اچھا چل ابھی تو ڈال نہ اپنالن۔۔۔میجر نے اپنے موٹے لن کی ٹوپی کو صباء کی گانڈ پررکھااور اپنا پریشر بڑھانے لگا۔۔ صباء کو تھوڑا درد ہوا۔۔۔لیکن اگلے ہی لمحے میجر کےزور لگانے سے اُس کے لن کی ٹوپی صباء کی گانڈ میں داخل ہوگئی۔۔۔صباء کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی۔۔۔میجر نے وہیں پر اپنا لن روکااور پِھر کچھ ہی دیر کے بعداپنے لن کو آہستہ آہستہ آگےکو پُش کرنے لگا۔۔۔صباء نے گانڈ کے دردکے مارے اپنی آنکھیں بند کرلیں تھیں۔۔۔اس کی مٹھیاں بیڈ شیٹ کوبھینچ رہی تھیں۔ دانت آپس میں جڑے ہوئےتھےاور چہرے پر تکلیف کے آثارتھے۔۔۔آدھا لن صباء کی گانڈمیں اتارنے کے بعد میجرنے آہستہ آہستہ اتنے ہی لن کو صباء کی گانڈ میں اندرباہر کرنا شروع کر دیااور آدھے لن کے ساتھ ہی صباء کی گانڈ مارنے لگا۔۔۔صباء کو بھی آہستہ آہستہ تکلیف کا احساس کم ہونےلگااور وہ میجر کے لن کو اپنی گانڈ میں برداشت کرنے لگی۔۔۔اپنی گانڈ کے مسلز کو جس حد تک ہو سکتا تھا ریلکس کرتی ہوئی میجر کے لن کواندر آنے کی دعوت دے رہی تھی۔۔۔میجر بھی اپنے لن کو صباءکی گانڈ میں اندر باہر کرتےہوئے آہستہ آہستہ زیادہ سےزیادہ اندر کرتا جا رہا تھا۔۔۔اس کی خواہش تھی کہ اپناپُورا لن صباء کی تنگ گانڈمیں اُتار دے۔۔۔آخر جب زیادہ دیر تک میجرسے صبر نہ ہوسکا تو اس نےایک زور کا دھکا مارا اور اپناپُورا لن صباء کی گانڈ میں اُتار دیا۔۔۔صباء کی ایک تیز چیخ نکل گئی۔۔۔لیکن میجر نے اپنا لن اسکی گانڈ سے نہیں نکالا۔۔۔صباء چیخی۔۔۔نکالو اوئی مار دیا۔۔۔لیکن میجر نے تو جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔۔۔بس۔۔۔اپنا لن۔۔۔پورے کا پُورا لن۔۔۔صباء کی گانڈ میں پھنسا کرکھڑا رہا۔۔۔ صباء کی آنكھوں سے پانی نکلنے لگا۔۔۔وہ آگے کو ہونا چاہتی تھی۔۔۔لیکن میجر نے اُس کے دونوں کندھوں کو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیا ہوا تھا۔۔۔تاکہ وہ آگے کو نہ نکل سکے۔۔۔ کچھ دیر کے بعد میجر نےاپنا لن پیچھے کو کھینچا۔۔۔صباء نے شکر کیا کہ شایداسے تھوڑا ترس آ گیا ہے۔۔۔لیکن اگلے ہی لمحے ایک ہی دھکے میں اس کا پُورا لن پِھر سے اس کی گانڈ میں تھااور پِھر تو جیسے میجرشروع ہی ہوگیا ہو۔۔۔اپنا لن پُورا صباء کی گانڈمیں اندر باہر کرنے لگااور صباء کے منہ سے چیخیں نکل رہی تھیں۔۔۔لیکن میجر کو تو جیسےکوئی فکر نہیں تھی۔۔۔ میجر :چیخ چیخ بہن چود۔۔۔رنڈی جتنا چیخ سکتی ہےچیخ۔۔۔بلا لے پوری بِلڈنگ والوں کو۔۔۔ تاکہ ان کو پتہ چلے کے توکتنی شریف زادی ہے۔۔۔میرا کیا کر لیں گے بہن چود۔۔۔چلا۔۔۔ صباء کو یہ بات سمجھ آئی تو۔۔۔وہ خاموش ہوگئی۔۔۔لیکن ابھی بھی آہستہ آہستہ سسک رہی تھی۔۔۔بِلک رہی تھی۔۔۔تڑپ رہی تھی۔۔۔گانڈ کی جلن۔۔۔گانڈ کا درد بھی آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہاتھا۔۔۔لیکن میجر کی گانڈ مارنےکی رفتار تو تیز ہی ہوتی جارہی تھی نہ۔۔۔ اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر میجرنے اپنی ایک انگلی صباء کی چوت میں بھی ڈال دی اور اس کی گانڈکو چودنے لگا۔۔۔صباء اب برداشت کر رہی تھی۔۔۔اس کی گانڈ کا سوراخ پوری طرح سے اسٹریچ ہو چکا ہواتھااور اب لن کی رگڑ کم ہوگئی ہوئی تھی۔۔۔وہ اسے برداشت کر پا رہی تھی آہستہ آہستہ صباء کو بھی مزہ آنے لگا۔۔۔اس کے منہ سے تکلیف کےبجائے۔۔۔اب ہلکی ہلکی سسکاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔میجر کو بھی اب زیادہ مزہ آرہا تھا۔۔۔وہ بھی آب جھڑنے کے قریب ہو رہا تھا۔۔۔اس کا پانی بھی نکلنے والاہو رہا تھا۔۔۔کچھ دیر اور صباء کی گانڈ چودنے کے بعد میجر نےاپنا لن اس کی گانڈ سے نکال لیا اور اسے دھکا دےکر سیدھا کیا۔۔۔صباء بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔نیچے کو ٹانگیں کر کےاور فوراً ہی میجر کا لن اپنےمنہ میں لے کر چوسنے لگی اور ہاتھ سے اسے سہلانے لگی اپنی مٹھی میں لے کر۔۔۔میجر کے لن کی ٹوپی کواپنے ہونٹوں کے درمیان لے کرسک کرتے ہوئے اس نے نیچےسے لن کو رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔چند لمحوں کے بعد میجر نےاُس کے ہاتھ سے لن پکڑا اوراسے تیزی سے مسلنے لگااور پِھر اُس کے لن سے سفیدسفید گاڑھی منی نکل کرصباء کے چہرے پر گرنے لگی۔۔۔صباء نے بھی فوراً ہی اپنامنہ کھول دیااور میجر کے لن کی ٹوپی کواپنے منہ میں لے لیااور اس کی منی کو اپنے منہ میں لینے لگی۔۔۔میجر کے لن کی ٹوپی کوسک کرتے ہوئے اس کی منی کو چوس رہی تھی اور ساتھ میں اُس کے سوراخ پر اپنی زبان بھی پھیر رہی تھی۔۔۔اچھے سے چوس کر میجر کالن اپنے منہ سے نکالااور میجر کی طرف مسکرا کردیکھتے ہوئے۔۔۔اُس کے اوپر ایک کس کیااور پِھر لن کی ٹوپی کےسوراخ میں اپنی زبان گھسانے کی کوشش کی۔۔۔میجر نے اُس کے ہاتھوں سےاپنا لن چھڑوایا۔۔۔ میجر :بہن چود۔۔۔چل چھوڑ بھی دے۔۔۔اب کیا کھائے گی اس کو۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔دِل تو یہی کرتا ہے کہ ایک ہی بار کھا جاؤں تیرا لن ۔۔۔مگر کیا کروں مجھے تیرا لن ایک ہی بار نہیں بلکہ بار بارچاہیے ہے۔۔۔ میجر بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔صباء نے فوراً ہی شراب کی بوتل اٹھا کر اس کی طرف بڑھا دی اور پِھر صوفہ پر سے کھانےکا پیکٹ بھی اٹھا لائی اور بیڈ پر بیٹھ کر۔۔۔روسٹ مرغ کے پیسز میجرکو دینے لگی اور میجر نے کھانا شروع کردیا۔۔۔میجر کھانا کھاتے ہوئے بولا۔۔۔ میجر :سالی۔۔۔آج میرا موڈ بہت خراب تھا۔۔۔لیکن تو نے پِھر بھی مجھےرام کر ہی لیا۔۔۔ صباء ہنس پڑی۔۔۔آخر اپنی چوت کی آگ جو بجھانی تھی۔۔۔تو اتنی آسانی سے کیسےجانے دیتی تم کو۔۔۔ میجر :چُدوا تو لی ہے تو نے اپنی چوت۔۔۔لیکن اپنا وعدہ بھی یاد ہے یا۔۔۔چُودائی کے نشے میں اسےبھی بھول گئی ہے۔۔۔؟؟؟ صباء نے میجر کی طرف دیکھا اور بولی۔۔۔کون سا وعدہ۔۔۔؟؟؟ میجر ;وہی رنڈی بننے کا۔۔۔ صباء ہنس پڑی۔۔۔تم بھی نہ بس۔۔۔ میجر :سالی ہنس نہ۔۔۔جواب دے۔۔۔کرے گی کہ نہیں جو میں کہوں گا۔۔۔؟؟ صباء نے میجر کی طرف دیکھا تو وہ سنجیدہ لگ رہاتھا۔۔۔وہ بولی۔۔۔کیا کرنا ہے مجھے۔۔۔بول کس سے چودوانا ہےمجھے تو نے۔۔۔؟؟ میجر مسکرایا۔۔۔تو نے کہا تھا نہ کہ چودوائے گی تو مولوی سے۔۔۔؟؟ تو بول کب چُدوا رہی ہے اس سے۔۔۔؟؟؟ صباء :یہ تم ہر وقت مجھے مولوی صاحب کا نام لے کرکیوں چھیڑتے رہتے ہو۔۔۔کیوں ایسا مذاق کرتے رہتےہو میرے ساتھ۔۔۔ میجر بولا۔۔۔مذاق نہیں کر رہا۔۔۔تجھے سچ میں اس مولوی سے چودوانا ہے۔۔۔ صباء تھوڑی پریشان ہو کربولی۔۔۔مگر کیوں۔۔۔آخر کیوں ایسا چاہتے ہو تم ۔۔۔؟ ؟ ؟ میجر :اس کمینے نے جو میری بےعزتی کی ہے نہ میں اسے اس کا مزہ چَکھانا چاہتا ہوں۔۔۔ صباء :کیا مطلب۔۔۔؟ ؟میں سمجھی نہیں۔۔۔ میجر مکروہ قسم کی مسکراہٹ اپنے چہرے پر لاتاہوا شراب کی بوتل سے ایک گھونٹ لے کر بولا۔۔۔ تجھے وہ بڑا بیٹی بیٹی بولتاہے نہ۔۔۔تو تو اس سے چودوائے گی اور پِھر میں اسے بتاؤں گا کہ شرافت کیا ہوتی ہے۔۔۔بہن چود کو ننگا کر دوں گاپوری بِلڈنگ کے آگے۔۔۔پِھر دیکھنا کیسے اس کی عزت کا جنازہ نکلتا ہے۔۔۔اس مولوی کا منہ کالا کروا کہ یہاں سے نہ نکلوایا تو میرا نام نہیں۔۔۔ شراب میجر کے ہونٹوں کی سائیڈز سے باہر کو بہہ رہی تھی۔۔۔اُس کے چہرے پر غصے اور نفرت کے آثار تھے۔۔۔غصے سے وہ پھنکار رہا تھا۔۔۔ایکدم سے اس کی حالت پِھرسے بَدَل گئی تھی۔۔۔جیسے وہ پہلے تھا ویسے ہی ہوگیا تھا۔۔۔اس کی یہ حالت دیکھ کرصباء بھی ڈر گئی تھی سہمی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔لیکن۔۔۔آخر میں ہی کیوں۔۔۔وہ یہ کام تو بانو بھی تو کرسکتی ہے نہ۔۔۔میجر نے غصے سے صباء کےسہمے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا۔۔۔مجھے سبق پڑھانے کی کوشش نہ کر۔۔۔مجھے پتہ ہے کہ بانو بھی کرسکتی ہے۔۔۔لیکن تجھے بھی تو سزا دینی ہے نہ۔۔۔اِس لیے تجھے ہی کرنا پڑےگا۔۔۔ صباء حیران ہو کر۔۔۔مجھے کس بات کی سزا۔۔۔میں نے کیا کیا ہے۔۔۔ میجر گھناؤنے انداز سےہنسا۔۔۔کیوں تو نے نہیں کیا مگرتیرے شوہر نے تو کیا ہے نہ قصوراور اس کی قیمت تجھے چکانی پڑے گی۔۔۔بول۔۔۔کیا کہتی ہے۔۔۔کرے گی جو میں کہتا ہوں۔۔ یا کہ میں اپنا بدلہ خود ہی لے لوں اشرف سے بھی۔۔۔پِھر نہ کہنا مجھے۔۔۔اب یہ تجھے فیصلہ کرنا ہےکہ تجھے کس کو بچانا ہے۔۔۔اپنے شوہر کی عزت کو یااپنی چوت کو۔۔۔ صباء خاموش ہو کر اپنا سرجھکا کر بیٹھ گئی۔۔۔اُس کے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہورہے تھے۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔ میجر پِھر ہنس کر بولا۔۔۔سوچ سوچ اور یہ بھی سوچ کہ اس وقت کیسا منظر ہوگا جب تجھے اور تیرے شوہر کا منہ کالا کر کہ یہاں سے نکالاجائے گا۔۔۔ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔جلدی بول۔۔۔زیادہ ٹائم نہیں ہے میرےپاس۔۔۔مجھے کچھ اور بھی سوچناہے۔۔۔ان دونوں کا بندوبست کرنے کے لیے۔۔۔ جو کچھ بھی میجر کہہ رہاتھا۔۔۔صباء ان سب باتوں کو اچھےسے سمجھ گئی تھی۔۔۔یہ تو اسے پتہ تھا کہ اس جیسا کرمنل آدمی۔۔۔کبھی بھی مولوی صاحب اوراشرف کو اپنی بےعزتی کابدلہ لیے بنا نہیں چھوڑے گا۔۔۔وہ اپنی کہی ہوئی بات پوری کر کے ہی رہے گا۔۔۔اسے اشرف پر غصہ بھی آ رہاتھا کہ کیسے اس نے اسےاتنی بڑی مصیبت میں پھنسادیا ہے۔۔۔مگر وہ اشرف کو ایسے اکیلاچھوڑ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔اب اُس کے پاس صرف ایک اوپشن تھی اور وہ یہ کہ وہ چاہتی تو اپنے شوہر کی عزت بچا سکتی تھی۔۔۔کیونکہ اسے اسی کے ساتھ ہی تو رہنا تھااور اگر یہاں سے جاتی تو پتہ نہیں کہاں گھر ملتا۔۔۔یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وہ یہ بِلڈنگ ہی چھوڑ جاتی۔۔۔لیکن میجرجیسا بدمعاش آدمی ان کوکہیں بھی سکون سے نہیں رہنے دیتا۔۔۔وہ ان کو ضرور ڈھونڈ نکالتااور تب ان کا وہ جو حشرکرتا وہ۔۔۔وہ تو صباء سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور نہ ہی سوچنا چاہتی تھی۔۔۔اِس لیے اس نے وہاں سےخاموشی سے بھاگنے کا ارادہ تو دماغ سے ہی نکال دیا تھااور رہا اشرف سے بات کرنےکی بات۔۔۔وہ ایک اوپشن تھا۔۔۔کہ وہ اسے منا کر لاتی اور وہ میجر سے معافی مانگ لیتااور میجر کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا۔۔۔یہ بات سوچ کر امید کی ایک کرن جاگی صباء کے دِل میں۔۔۔اس نے یہ بات میجر سےکرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ صباء :اور۔۔۔اگر میں اشرف سے کہوں کہ وہ تم سے آ کر معافی مانگ لے تو۔۔۔تو کیا اسے معاف کر دو گےنہ تم۔۔۔؟؟؟ میجر غصے سے۔۔۔معافی۔۔۔معافی۔۔۔معافی مانگنے سے میری وہ ذلت ختم ہو جائے گی کیا جو ان دونوں نے میری پوری بِلڈنگ کے لوگوں کے سامنے کروائی ہے۔۔۔معافی اِس بات کی کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔بس اس کی قیمت ہے۔۔۔جو یا تو تم کو ادا کرنی ہےاور یا پِھر تیرے شوہر کو۔۔۔ صباء کی آخری امید بھی ختم ہوگئی۔۔۔صرف اور صرف وہ اپنے شوہر کی عزت کو بچاسکتی تھی۔۔۔ایسا بھی نہیں تھا کہ اس کاانکار مولوی صاحب کو بچالیتا۔۔۔کیونکہ اس کو چھوڑنے کی تو میجر نے کوئی بات ہی نہیں کی تھی نہ۔۔۔لیکن۔۔۔لیکن۔۔۔مولوی صاحب کے ساتھ۔۔۔نہیں۔۔۔نا ممکن ہے۔۔۔وہ تو میرے انکل ہیں نہ۔۔۔کیسے۔۔۔کیسے۔۔۔کیسے ان کے ساتھ۔۔۔پِھر ایک اور خیال اُس کےدماغ میں آیا۔۔۔وہ فوراً بولی۔۔۔ صباء :لیکن اگر میں مان بھی جاؤں۔۔۔تو میرا شوہر تو بچ جائے گا۔۔۔لیکن مولوی صاحب کے ساتھ تو میں ہی بدنام ہوں گی نہ۔۔۔پِھر مجھے کیا فائدہ ہوا اِس بات کا۔۔۔ میجر ہنسا :بہن چود فائدہ تجھے یہ ہوگاکہ تیری چوت کو ایک اور لن مل جائے گا۔۔۔کتے کی بچی۔۔۔دلی۔۔۔مجھے سے فائدے کی باتیں کرتی ہے۔۔۔ویسے تو بے فکر رہ۔۔۔تجھے کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔تیرا نام نہیں آئے گا۔۔۔یہ تیرے سے وعدہ ہے میرا۔۔۔تو یہ بول کہ کرے گی کہ نہیں اس مولوی سے۔۔۔؟؟؟ صباء نے خاموشی سے اپناسر جھکا لیا۔۔۔اسے یہ سوچ کر ہی خوف آرہا تھا کہ وہ مولوی صاحب کے ساتھ۔۔۔ صباء :لیکن۔۔۔میں کیسے ان سے بات کرسکتی ہوں ایسی۔۔۔وہ تو مجھے اپنی بیٹی سمجھتے ہیں۔۔۔ وہ تو کبھی بھی ایسا نہیں کریں گے۔۔۔ میجر :بہن چود۔۔۔رنڈی۔۔۔تیرا یہ جِسَم کب کام آئے گااور ویسے بھی تو میرا کوئی کام نہیں کر رہی جو میں تجھے سمجھاؤں اور طریقےبتاوں اور نہ ہی تو ایسی کوئی دودھ پیتی بچی ہے کہ تجھے یہی نہ پتہ ہو کہ کسی مردکو کیسا پٹانا ہے۔۔۔یہ تیرا کام ہے تو خود سوچ اور کر۔۔۔بول اب فائنل کے کرے گی کہ نہیں۔۔۔؟؟؟ صباء نے ہر پہلو پر سوچ لیاتھا۔۔۔لیکن اسے کوئی بھی بچنے کی صورت نظرنہیں آ رہی تھی۔۔ آخر اس نے سر جھکاتے ہوئےاپنا سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔صباء کا اقرار دیکھ کر میجرنے خوش ہو کر صباء کا ایک ہاتھ پکڑا اورایک جھٹکے سے اسے اپنےسینے پر کھینچ لیااور اُس کے ہونٹوں کو چوم کر بولا۔۔۔ یہ ہوئی نہ بات۔۔۔سالی مجھے پتہ تھا کہ تو نیالن اپنی چوت میں لینے کاچانس نہیں جانے دے گی۔۔۔ صباء میجر کی بات پر شرماگئی اور اُس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔میجر اس کے گالوں کو چوم کربولا۔۔۔ بس اب تو نے نہ تو اشرف سے اِس موضوع پر کوئی بات کرنی ہے اور نہ ہی اسےکچھ بتانا ہے۔۔۔نہ ہی تجھے اب اشرف کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔تو تو بس اب مولوی کے لن کے بارے میں سوچ۔۔۔ صباء نے شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے نازک ہاتھ کا ہلکا سا مکا میجر کےمضبوط چوڑے سینے پر مارااور اپنا گال اُس کے سینے پررکھ کر بولی۔۔۔بہت ہی کمینے ہو تم۔۔۔ میجر اپنا ہاتھ اپنے اوپر لیٹی ہوئی صباء کی گانڈ پرلے جاتے ہوئے بولا۔۔۔سالی مولوی کے لن کا سوچ کر چوت تو گیلی ہو رہی ہوگی تیری۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔مجھے نہیں لینا تیرے سواکسی کا بھی۔۔۔ میجر صباء کی ننگی گانڈکو سہلاتا ہوا بولا۔۔۔ارے تو میری رکھیل ہے نہ تواِس لیے تجھے میرا اتنا کام تو کرنا ہی پڑے گا نہ۔۔۔ صباء مصنوئی غصے سےبولی۔۔۔اب یہ کام کہہ دیا تو آگے آگےپتہ نہیں کیا کیا کروائے گا تومجھ سے۔۔۔میں تیری رکھیل ہوں۔۔۔تیرے غنڈوں والے گروپ میں نہیں ہوں کہ تیرے کام کرتی پھروں۔۔۔ میجر ہنسنے لگا۔۔۔وہ تو تجھے کرنا ہی پڑے گامیری رنڈی۔۔۔جو بھی میں کہوں گا تجھے۔۔۔چل پہلے اِس وقت تو میرالن چوس پِھر تیری چوت ایک بار پِھر سے چودتا ہوں۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔اور میجر کے اُوپر سے نیچےکو سرکتی ہوئی میجر کےلن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ ایک بار پِھر سے میجر کے لن کا سواد لینے کے لیےاور اپنی اِس رنگین رات کواور بھی رنگین کرنے کے لیے۔۔۔میجر کا لن تو جیسے پہلےسے ہی تیار تھا صباء کی چوت میں جانے کے لیے۔۔ صباء نے جیسے ہی اُس کےلن کو ہاتھ لگایا تووہ اکڑنے لگا۔۔۔لہرانے لگا۔۔۔صباء نے لن کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور پِھر جھک کراسے چومنے لگی۔۔۔اُس کے اوپری حصےکو چوسنے لگی۔۔۔ میجر ہنس کر بولا۔۔۔پیاس لگی ہے تو تجھے پِھرسے تھوڑا سا پانی پیلاؤں اپنے لن کا۔۔۔ اپنے منہ کے اندر میجر کےپیشاب کرنے والی بات کو یادکر کے صباء کو ہنسی آ گئی۔۔۔میجر کے اکڑے ہوئے لن کوایک ہلکا سا تھپڑ مار کے اسےمزید لہراتے ہوئے بولی۔۔۔پتہ نہیں کیا کیا تمہارےدماغ میں آتا رہتا ہے۔۔۔شیطان بیٹھا ہے کوئی تیرےدماغ میں شیطان۔۔۔اب ویسے کیا نہ تو میں تیرایہ لن ہی کاٹ دوں گی دیکھنا۔۔۔ صباء کی بات سن کر میجربھی ہنسنے لگا۔۔۔اچھا یہ بتا۔۔۔کاٹ کر اسے اپنی چوت میں لے گی کہ گانڈ میں۔۔۔؟ صباء مسکرا کر ہنسی۔۔۔اور اسی منہ میں لےکر چوسنے لگی۔۔۔کبھی اُس کے اُوپر اپنی زبان پھیرتی اور کبھی میجرکی بالز کو چاٹنے لگتی۔۔۔دھیرے دھیرے میجر کا لن بھی گیلا ہوگیا اچھی طرح صباء کے تھوک سے۔۔۔اب صباء اٹھی اور میجر کی ٹانگوں کے اُوپر آ گئی۔۔۔اپنی چوت کو بالکل میجر کےلن کے اُوپر لے آئی اور پِھر نیچے کو بیٹھنےلگی۔۔۔اپنے ہی ہاتھ سے میجر کے لن کو پکڑ کے اپنی چوت پر ٹکانے لگی۔۔۔لیکن اسے ابھی مشکل ہورہی تھی اور میجر اپنے دونوں ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھے صباءکو دیکھ رہا تھا۔۔۔میجر کی طرف دیکھ کرصباء بولی۔۔۔ ذرا ہاتھ سے پکڑ نہیں سکتاکیا اپنا لن۔۔۔میں کوئی اکیلی تو مزےنہیں لے رہی نہ۔۔۔ میجر زور سے ہنسا۔۔۔ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔بہن چود۔۔۔رنڈی۔۔۔آئی تو تو ہی ہے نے میرےفلیٹ پر چودوانے۔۔۔تو پِھر خود سے ہی پکڑ کر لےاپنی چوت میں۔۔۔میں کیوں مدد کروں تیری؟ صباء ہنسی اور میجر کے لن کی ٹوپی کو اپنی چوت کےسوراخ پر ٹکا کر بولی۔۔۔بڑا ہی کمینہ ہے تو۔۔۔قسم سے۔۔۔ جیسے ہی میجر کے لن کی صرف ٹوپی صباء کی چوت کے اندر داخل ہوئی تو اچانک سے میجر نے صباء کے دونوں بازو پکڑ کے اسےایک جھٹکے سےنیچے کھینچااور پوری طاقت سے میجر کالن صباء کی چوت میں دہنس گیااور صباء چیخ پڑی۔۔۔ میجر ہنس کر بولا۔۔۔کتے کا لن لینی۔۔۔اگر میں ایسا کمینہ نہ ہوتا توتو کہاں میرے ہاتھے چڑھتی سالی۔۔۔ایک ہے تو سہی تیرےشریف مادہو لال۔۔۔شوہر۔۔۔اس سے کہاں تیری چوت کی تسلی ہوتی ہے۔۔۔تجھے تو چاہئے موٹے موٹےلن۔۔۔جیسے میرا ہے۔۔۔اور ہاں۔۔۔ تیرے اس مولوی انکل کا لن بھی موٹا ہی ہوگا۔۔۔سالے کے پیٹ کی طرح ہی۔۔۔کیسے توند نکلی ہوئی ہےموٹی نہیں۔۔۔ میجر کی بات پر صباء بھی ہنسنے لگی۔۔۔مولوی صاحب کے پیٹ کے بارے میں سوچ کر۔۔۔ میجر نے صباء کو نیچےجھکا لیااور پیچھے سے صباء اپنی چوت کو آہستہ آہستہ اوپرنیچے کرتے ہوئے اپنی چوت چودوانے لگی۔۔۔ میجر :بہن چود سوچ تو سہی۔۔۔جب وہ موٹا مولوی تیرےاوپر چڑھ کر چودے گا تجھےتو تجھے کتنا مزا آئے گا۔۔۔ اپنی چوت میں لیے ہوئے لن اور میجر کی باتوں کی وجہ سے صباء بھی مزے میں آرہی تھی۔۔۔ دوبارہ سے گرم ہو رہی تھی۔۔۔شرمیلی سی مسکراہٹ کےساتھ بولی۔۔۔ صباء :تیرا کام کرتے کرتے چاہے میں مر ہی جاؤں۔۔۔ان کے نیچے آ کر۔۔۔ میجر بھی زور زور سےہنسنے لگا۔۔۔ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔سالی اگر ایسا ہوگیا نہ تو وہ مولوی تو سیدھاسیدھا پھانسی ہی چڑھے گا۔۔۔کہ ایک نازک سے لڑکی کی عزت لوٹتے ہوئےاس بےچاری کی جان ہی لےلی۔۔۔ صباء مسکراتے ہوئے۔۔۔اور وہ بےچاری نازک سی لڑکی میں ہی ہوں گی۔۔۔ہے نہ۔۔۔ میجر :بہن چود لیکن کسی کو کیاپتہ کہ یہ معصوم سی بےچاری لڑکی کتنی بڑی رنڈی ہے۔۔۔ صباء میجر کی چھاتی پرایک مکا مار کر بولی۔۔۔تو اِس معصوم بچی کو رنڈی بنایا کس نے ہے۔۔۔تو نے ہی نہ۔۔۔ میجر ہنسنے لگا۔۔۔ارے ابھی تجھے رنڈی کہاں بنایا ہے۔۔۔ابھی تو تو صرف اور صرف میری رکھیل ہے کسی اور کی نہیں۔۔۔رنڈی تو میں بناؤں گا اس مولوی کی بیٹی کو۔۔۔پِھر دیکھنا کیسے ہر طرح سے اس کی عزت کی واٹ لگتی ہے۔۔۔ صباء کی آنكھوں کے سامنے فرح کا معصوم ساچہرہ گھوم گیا۔۔۔اسے عجیب بھی لگااور تھوڑا غلط بھی کہ فرح جیسی معصوم لڑکی کوایسے کاموں میں پھنسایاجائے۔۔۔لیکن وہ میجر کو نہیں روک سکتی تھی۔۔۔اس نے اِس موضوع پر زیادہ بات نہ کرنے کا فیصلہ کیااور میجر کے گلے میں بانہیں ڈال کر اپنی چوت چودوانے لگی۔۔۔صباء کی چکنی چوت آہستہ آہستہ پانی چھوڑ رہی تھی گیلی ہو رہی تھی۔۔۔میجر نے بھی اپنے دونوں ہاتھ صباء کی گانڈ پر رکھےہوئے تھےاور اپنا لن اُوپرکو اچھالتے ہوئے صباء کونیچے سے چود رہا تھا۔۔۔صباء کی چوت پانی چھوڑنے کے قریب ہو رہی تھی۔۔۔اُس کے ہلنے کی رفتار تیزہوتی جا رہی تھی۔۔۔تیزی کے ساتھ آگے پیچھے کوہو رہی تھی اور میجر کا لن پُورا اپنی چوت میں لیتی اور اسےباہر نکالتی ٹوپی تک۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں صباء کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔وہ آنکھیں بند کر کے میجرکے ساتھ لپٹ گئی اور اُس کے لن ،اُس کے بالز اور لن کے اُوپرکے حصے کو اپنی چوت کےپانی سے بھگونے لگی۔۔۔میجر کے سینے پر پڑی ہوئی صباء لمبے لمبے سانس لے رہی تھی اور آہستہ آہستہ میجر کےسینے کو چوم رہی تھی۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد میجربھی جھڑنے کے قریب ہو گیا۔۔۔اس نے بھی اپنے لن کو پُورااوپر کو دھکا لگا کر صباء کی چوت میں ڈال دیا اور اُسکے اندر اپنا پانی چھوڑنے لگا۔۔۔ صباء کو اپنی بانہوں میں دباتے ہوئے۔۔۔دونوں کے جِسَم ایک دوسرےمیں دھنسے ہوئے تھے۔۔۔جڑے ہوئے تھے۔۔۔کافی دیر تک دونوں ایسےہی لیٹے رہے۔۔۔میجر کا لن صباء کی چوت سے باہر نکل آیااور پِھر اس کی چوت سےمیجر کی منی بھی بہہ کرباہر آنے لگی۔۔۔ جوکہ میجر کے لن اور اسکی بالز اور لن کے اُوپر کےبالوں پر گرنے لگی۔۔۔کچھ دیر کے بعد صباء بھی پیچھے ہو کر میجر کے ساتھ لیٹ گئی۔۔۔میجر نے صباء کی طرف دیکھا تو وہ بھی مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔میجر نے صباء کے سر کےنیچے ہاتھ رکھا اور اسے اپنےاوپر گھسیٹ لیا۔۔۔ اپنے لن کی طرف۔۔۔اور بولا۔۔۔ میجر :سالی جو گند ڈالا ہے وہ چاٹ اب۔۔۔ صباء نے اپنی اور میجر کی منی کو میجر کے لن پر لگاہوا دیکھااور مسکرا کر میجر کی طرف دیکھااور پِھر اپنا منہ نیچے کر کےمیجر کا لن۔۔۔مرجھایا ہوا لن اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی اور چاٹنے لگی۔۔۔ساری رات ایسےہی مستیاں کرتے۔۔۔چُودائی کرتے۔۔۔چوسائی کرتے گزری اور صبح کے قریب صباء کومیجر بولا۔۔۔ میجر :چل جا سالی۔۔۔اب اپنے فلیٹ پر جا۔۔۔مجھے تھوڑا آرام بھی کر لینے دے۔۔۔بہن چود۔۔۔ساری رات چُدوا چُدوا کرمیرا لن دکھا دیا ہے تیری چوت نے۔۔۔ صباء میجر کی بات پر ہنسی۔۔۔اور جو تیرے لن نے میری گانڈ سوجا دی ہے وہ۔۔۔پتہ ہے چلا بھی نہیں جا رہاٹھیک سے۔۔۔ میجر ہنسنے لگا۔۔۔صباء نے اپنا نائٹ گاؤں پہنااور برا اور پینٹی ہاتھ میں پکڑ لی اور کمرے سے باہر کی طرف نکلی تو پیچھے سےمیجر کی آواز آئی۔۔۔ میجر :جو کہا ہے نہ۔۔۔اسے بھول نہ جانااور جتنا جلدی ہو اپنا کام شروع کر دے۔۔۔ صباء نے میجر کو دیکھ کرہاں میں سر ہلایااور پِھر باہر کو نکل گئی اور جس راستے سے رات کوآئی تھی اسی راستے سےاپنے فلیٹ پر آ کر۔۔۔اپنے کپڑے پہنے اور نڈھال ہوکر بیڈ پر لیٹ کر سو گئی۔۔۔جب اشرف گھر پہنچا توصباء سوئی ہوئی تھی۔۔۔اشرف نے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھااور خود ہی اپنا چائے ناشتہ کر لیااور بیڈروم کا دروازہ بند ہی رہنے دیا۔۔۔سونا تو وہ بھی چاہ رہا تھالیکن اسے انتظار تھا بانو کےآنے کا۔۔۔کیونکہ اُس کے آنے کا ٹائم بھی ہو رہا تھا۔۔۔ اسی لیے وہ لو والیوم میں ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔نظریں تو ٹی وی پر تھیں۔۔۔لیکن آنکھیں اس کی بانوکو چودنے کے سپنے ہی دیکھ رہی تھیں۔۔۔کچھ دیر میں دروازے پرہلکی سی نوک ہوئی۔۔۔اپنی جگہ سے اچھل کراشرف دروازے کی طرف بڑھااور جا کر۔۔۔دروازہ کھولا تو سامنے بانوہی کھڑی ہوئی ایک ادا کےساتھ مسکرا رہی تھی۔۔۔اشرف نے بھی مسکرا کر اسے دیکھااور اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔۔۔جیسے ہی اشرف دروازہ بندکر کے مڑا تو بانو فوراً ہی اس سے لپٹ گئی۔۔۔ایک لمحے کے لیے تو اشرف گھبرا ہی گیا۔۔۔ اشرف :بانو۔۔۔بانو۔۔۔رکو تو سہی۔۔۔صباء اندر ہی سو رہی ہے۔۔۔اگر وہ اٹھ گئی نہ تو پروبلم ہو جائے گی۔۔۔ بانو اشرف کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے بولی۔۔۔ارے صاحب کیوں ڈرتے ہواتنا صباء میم صاحب سے۔۔۔سو ہی رہی ہے نہ کون ساجاگ رہی ہے۔۔۔جو میں ان کے سامنے لپٹی ہوں آپ کے ساتھ اور پِھر آپ کا یہ بھی تودیکھو نہ کتنا اکڑا ہوا ہے۔۔۔ یہ کہہ کر بانو نے اشرف کے پاجامہ کے اوپر سے ہی اس کا لن پکڑ لیا۔۔۔اشرف فوراً ہی ہاتھ نیچے لےجا کر اپنا لن اُس کے ہاتھ سے چھڑوانے لگا۔۔۔بانو اشرف کو اُس کے لن سےپکڑ کے ہی اندر کھینچتے ہوئے بولی۔۔۔ ارے اندر تو آؤ نہ صاحب ۔۔۔ اور بےچارہ اشرف اُس کےپیچھے پیچھے کھینچتا چلاآیا اندر۔۔۔سیٹنگ روم آ کر بانو دوبارہ سے اشرف کے ساتھ لپٹ گئی۔۔۔اپنے اکڑے ہوئے ممے اشرف کے سینے سے لگا دیےاور اپنے ہونٹوں کو اشرف کےہونٹوں پر ٹکا دیااور اسے چومنے لگی۔۔۔جتنا بھی ڈر تھا صباء کااور جتنا بھی گھبرا رہا تھااشرف لیکن۔۔۔اس کا لن تو بالکل سیدھاکھڑا ہو رہا تھا نہ اور دِل بھی بانو کے ساتھ مستیاں کرنے کو چاہ رہا تھا۔۔۔خود کو سمجھایا کہ تھوڑاسا مزہ لے لینے میں کوئی برانہیں ہے۔۔۔اتنی دیر میں تو صباءنہیں اٹھنے والی اور میں نے کون سا اسےچودنا ہے جو ہمیں ٹائم لگےگا۔۔۔آخر اس نے بھی اپنے بازوبانو کے پیچھے کمر میں ڈالےاور اسے اپنے سینے سے جکڑ کر بولا۔۔۔ اشرف :بانو تو بہت ہی مست ہے۔۔۔تیرے سامنے خود کو کنٹرول کرنا بڑا مشکل ہے۔۔۔ بانو بھی اشرف کے لن کومسلتے ہوئے بولی۔۔۔تو صاحب بول کون رہا ہےآپ کو کنٹرول کرنے کو۔۔۔میں سامنے ہوں آپ کے ہوجاؤ شروع۔۔۔ اشرف بانو کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے بولا۔۔۔مگر صباء اندر سو رہی ہے نہ یار۔۔۔ بانو اشرف کی بانہوں سےنکلی۔۔۔اور بولی۔۔۔رکو آپ میں ابھی دیکھ کرآتی ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر بانو صباء کےکمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔اندر گئی تو صباء بے حال ہوکر سو رہی تھی۔ بانو نے اُس کے چہرے کودیکھا تو سکون ہی سکون تھا اُس کے چہرے پر۔۔۔بانو مسکرانے لگی۔۔۔لگتا ہے تسلی سے چُدوا کرآئی ہے میجر سے۔۔۔بانو نے آگے بڑھ کر صباءکے گالوں کو کس کیااور اُس کے مموں کوآہستہ آہستہ دبایا تو صباءکی آنکھ کھل گئی۔۔۔آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں اور جیسےہی بانو کو اپنے اُوپرجھکتے ہوئے دیکھا تو اُسکے بازؤں سے پکڑ کرایک جھٹکے سے اسے اپنےاوپر کھینچ لیااور فوراً ہی اپنے ہونٹ بانوکے ہونٹوں پر رکھ دیے۔۔۔ صباء :اف ف ف۔۔۔بانو۔۔۔ بانو بھی صباء کے ہونٹوں کوچومتے ہوئے بولی۔۔۔میم صاحب لگتا ہے کہ بڑےمزے سے چُدوا کر آئی ہواپنی چوت میجر صاحب سے۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔ہاں۔۔۔چوت بھی اور گانڈ بھی۔۔۔بہت ہی مزہ آیا۔۔۔کیسے بتاؤں تم کو یار۔ صباء نے اپنا ہاتھ بانو کی بیک سے اُس کے پاجامے کےاندر گھسانے کی کوشش کی۔۔۔لیکن بانو اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔ بانو :نہیں نہیں میم صاحب۔۔۔ابھی نہیں۔۔۔ابھی مجھے جانے دواور آپ یہیں اندر سوئی ہوئی رہنا۔۔۔باہر نہیں آنا آپ۔۔۔ صباء : کیوں۔۔۔کیا ہوااور وہ اشرف کہاں ہے۔۔۔؟؟ بانو نے جھک کر صباء کےہونٹوں کو چوما اور بولی۔۔۔ارے ان کے پاس ہی تو جارہی ہوں۔۔۔ تھوڑی مستی کرنے کے لیے۔۔۔بس آپ اندر سے ہی دیکھنا۔۔۔گئی تو میں میجر صاحب کی طرف تھی۔۔۔لیکن وہ تو ابھی تک ہی سورہے ہیں آپ کی طرح ہی۔۔۔اتنا تھکا دیا ہے آپ نے ان کو۔۔۔اِس لیے ابھی تھوڑی مستی اشرف صاحب سے کر لینے دونہ۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔اچھا ۔۔اچھا۔۔۔جا۔۔۔نہیں آؤں گی میں باہر۔۔۔اسے کہنا کہ سو ہی رہی ہوں ابھی میں۔۔۔پر دیکھوں گی ضرور میں تم کو۔۔۔ بانو دروازے کی طرف بڑھتی ہوئی بولی۔۔۔ہاں ہاں دیکھ لینامجھے چدتے ہوئےاپنے شوہر سے آپ۔۔۔ یہ کہہ کر بانو بیڈروم سےباہر نکل گئی۔۔۔لیکن دروازہ بالکل بند نہیں کیا بلکہ بالکل تھوڑا سا کھلا رہنے دیا۔۔۔بانو باہر آئی تواشرف صوفہ پر ہی بیٹھا ہواتھا۔۔۔بانو مسکرا کر اس کی طرف بڑھی اور سیدھی جا کر اس کی گود میں بیٹھ گئی اور اپنی بانہیں اُس کے گلےمیں ڈال کر اسے چومتے ہوئےبولی۔۔۔ لو صاحب جی۔۔۔اب جی بھر کہ کر لو جو کرناہے آپ نے۔۔۔بنا کسی ڈر کے۔۔۔میم صاحب تو ابھی تک سورہی ہیں۔۔۔ اشرف اپنے بازو بانو کی کمرکے گرد کستے ہوئے بولا۔۔۔لیکن اگر وہ اٹھ گئی تو۔۔۔؟؟؟ بانو:کیوں صاحب جی۔۔۔آپ کا کیا پُورا چُودائی کااِرادَہ ہے۔۔۔جو دیر لگ جائے گی۔۔۔؟؟ اشرف ہنسنے لگا۔۔۔اور بانو کی قمیض کو تھوڑانیچے کو کھینچتے ہوئے۔۔۔جھک کر اپنے ہونٹ بانو کےکلیویج پر رکھ دیےاور اسے چاٹ بھی لیا۔۔۔بانو نے بھی اشرف کا سراپنے سینے پر دبا لیا اور اشرف کے بالوں میں آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرنے لگی۔۔۔کچھ ہی لمحوں میں بانوپھسل کر اشرف کی بانہوں سے نکلی اور صوفے سے نیچے بیٹھ گئی اشرف کے گھٹنوں میں اور جلدی سے اشرف کا لن اُس کے پاجامے سے باہر نکال لیا۔۔۔وہ بالکل سیدھا کھڑا ہو چکاہوا تھا۔۔۔بانو نے اُس کے لن کو ہاتھ میں لیا اور بولی۔۔۔ بانو :صاحب جی۔۔۔آپ کا لن تو ہر وقت تیار رہتاہے۔۔۔کیسے صبر کر کے بیٹھےہوئے تھے ابھی تک آپ۔۔۔جا کر میم صاحب پر چڑھ کیوں نہیں گئے۔۔۔ان کو چودنے کے لیے۔۔۔ اشرف بانو کا منہ اپنے لن پرکھینچتا ہوا بولا۔۔۔نہیں وہ سو رہی تھی نہ اور یہ تو تیرے آنے کے بعدکھڑا ہوا ہے تیرے لیے۔۔۔ بانو نے مسکرا کر۔۔۔اشرف کا لن اپنے منہ میں لیااور اسے چوسنے لگی۔۔۔آہستہ آہستہ اپنی زبان اُسکے لن پر نیچے سے اُوپرتک پھیرتی اور پِھر اسے منہ میں لے لیتی۔۔۔کچھ ہی دیر تک اشرف نےاپنا لن بانو سے چسوایااور پِھر صوفہ سے اٹھ کرکھڑا ہوگیا۔۔۔بانو کو صوفہ پر ہی جھکا کرگھوڑی کی طرح کھڑا کیا۔۔۔اُس کے پیچھے آ کر۔۔۔اس کا پجامہ نیچے کھینچ دیااور اپنا لن پیچھے سے اسکی چوت پر رگڑنے لگا۔۔۔بانو کی چوت تو پہلے ہی گیلی ہو رہی تھی۔۔۔اشرف نے اپنا لن بانو کی چوت کے سوراخ پر رکھا اوراسے اندر داخل کر دیا۔۔۔بانو بھی پیچھے کو زور لگا کر اشرف کا پُورا لن اپنی چوت میں لے رہی تھی۔۔۔ساتھ ہی اشرف نے بانو کوچودنا شروع کر دیا۔۔۔بیڈروم کے دروازے سے صباءبھی جھانکتے ہوئے ان دونوں کو چُودائی کرتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔اسے حیرت ہو رہی تھی کہ اشرف کا لن اتنی جلدی سےکھڑا ہوگیا ہوا ہےاور وہ اسی طرح سے بانو کوچود رہا تھا جیسے کچھ عرصہ پہلے تک اسے چوداکرتا تھا۔۔۔بانو اور اشرف کی چُودائی دیکھ کر صباء کی چوت بھی گیلی ہونے لگی تھی۔۔۔پِھر سے اس کی چوت کی پیاس بڑھنے لگی تھی۔۔۔خود پر کنٹرول نہ رکھ سکی اور اس کا ہاتھ اپنی چوت کی طرف چلا گیا۔۔۔اپنے پاجامے کے اندراور پِھر اپنی چوت کو آہستہ آہستہ سہلانے لگی۔۔۔اپنی ایک انگلی اپنی چوت کے اندر ڈال کر اسے اندر باہرکرتے ہوئے۔۔۔بانو کی چُودائی دیکھنے لگی۔۔۔ سیٹنگ روم میں اشرف بانوکی کمر کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے دھانہ دھن دھکے مارتے ہوئے بانوکی چوت چود رہا تھا۔۔۔کچھ ہی دھکوں میں بانو کی گرم چوت نے پانی چھوڑناشروع کر دیااور اس کی چوت اشرف کےلن کو دبانے لگی۔۔۔وہ چاہتی تھی کہ جلدی سےاشرف بھی فارغ ہو جائےاور اشرف خود بھی تو یہی چاہتا تھا نہ۔۔۔چند اور دھکوں کے بعداشرف نے اپنا لن پورے کاپُورا بانو کی چوت میں ڈالااور اپنا پانی بانو کی چوت کے اندر ہی چھوڑ دیااور بانو کے اوپر ہی اس کی کمر سے لپٹ گیا۔۔۔ بانو بولی۔۔۔صاحب جی۔۔۔ہٹو اب اور کپڑے ٹھیک کرنے دو۔۔۔ اشرف کو بھی فوراً ہی خیال آ گیا۔۔۔جلدی سے اپنا لن باہر نکالااور اپنا پجامہ ٹھیک کرنے لگا اور بانو نے بھی اپنے کپڑےٹھیک کر لیےاور کچھ ہی لمحوں میں دونوں ایسے ہوگئے تھے کہ جیسے وہاں ان کے درمیان کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔۔۔لیکن جو کچھ ہوا تھا وہ سب صباء دیکھ کر اب دوبارہ سے بیڈ پر جا کر لیٹ چکی تھی۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں اشرف بیڈروم میں آیا تو صباء دوبارہ سے سوتی ہوئی بن گئی۔۔۔اشرف نے چپکے سے باتھ روم میں جا کر اپنا لن دھویا اورپِھر واپس آ کر صباءکو جگانے لگا کہ بانو آ گئی ہے۔۔۔صباء بھی اپنی آنکھیں ملتی ہوئی اور انگڑائی لیتے ہوئے اٹھ گئی۔۔۔اشرف صباء کو جگا کربیڈروم سے اور پِھر فلیٹ سے ہی باہر نکل گیا تھوڑی دیر کے لیے۔۔۔بانو بیڈروم میں داخل ہوئی۔۔۔تو صباء بیڈ پر ہی لیٹی ہوئی تھی۔۔۔دونوں ایک دوسری کو دیکھ کر مسکرانے لگیں۔۔۔ صباء :ہوگئی تیری چوت کی آگ ٹھنڈی۔۔۔ بانو مسکرائی۔۔۔اور ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔لگتا ہے بہت اچھے سے چوداہے تجھے اشرف نے۔۔۔؟؟ بانو نے جلدی سے اپنا پجامہ نیچے اُتار دیا۔۔۔پیروں سے نکال کر آگے ہو کراپنی چوت صباء کے چہرےکے اُوپر کر دی۔۔۔ لو دیکھ لو۔۔۔کیسے چودا ہے آپ کے شوہر نے۔۔۔دیکھو ذرا آپ شوہر کے لن کی منی ابھی بھی نکل رہی ہے میری چوت سے۔۔۔ بانو کی چوت بالکل صباء کےمنہ پر تھی۔۔۔بانو کے چوت کےدونوں کالے لپس تھوڑےکھلے ہوئے تھےاور درمیان سے اشرف کی منی باہر کو بہہ رہی تھی۔۔۔صباء سے بھی نہیں رہا گیاتو اپنے سر کو تھوڑا اوپر کرکے اپنی زبان کے ساتھ اسےایک بار چاٹ لیااور اپنے شوہر کی منی کو بھی ٹیسٹ کرنے لگی۔۔۔صباء کی زبان لگنے سے بانوبھی کانپ اٹھی تھی۔۔۔تھوڑی ہی دیر صباء نے بانوکی چوت کو چاٹااور اس کی اپنی چوت بھی گیلی ہونے لگی۔۔۔جسے بانو نے اپنا ہاتھ بڑھاکر سہلانا شروع کیا تو صباءجلدی سے اسے ہٹا کر اٹھ گئی اور بولی۔۔۔ صباء :نہیں نہیں۔۔۔ابھی کچھ نہیں کرنا۔۔۔ایسے کام بڑھ جائے گا۔۔۔ دونوں ہنس پڑیں اور پِھر صباء باتھ روم میں چلی گئی۔۔۔باتھ روم سے واپس آئی توبانو نے دو کپ چائےکے بنائےہوئے تھے۔۔۔دونوں سیٹنگ روم میں بیٹھ کر چائے پینے لگیں اور تب ہی صباء نے میجر کی کہی ہوئی بات کو بانو کےساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔۔۔ایک سہیلی اور دوست کی طرح۔۔۔ صباء :بانو تیرے سے ایک بات کرنی ہے۔۔۔ بانو :جی ۔۔جی۔۔۔میم صاحب بولو۔۔۔ صباء :یار میں بڑی بری طرح سےپھنس چکی ہوں۔۔۔ بانو :ہے۔۔۔ہے۔۔۔کیا ہو گیا۔۔۔خدا خیر کرے۔۔۔ تب صباء نے پوری بات بانوکو بتائی۔۔۔ صباء :یار تم کو تو پتہ ہے کہ جب سے ہم آئے ہیں۔۔۔تو اشرف کا اور میجرصاحب کا آپس میں جھگڑاہوتا رہا ہے۔۔۔لیکن اُس کے بعد جو بھی ہوا۔۔۔کہ میں بس میجر صاحب کےساتھ سیٹ ہوگئی۔۔۔مجھے تو ان سے کوئی تکلیف نہیں ہے اب۔۔۔لیکن اشرف نے مولوی صاحب کے ساتھ مل کربِلڈنگ والوں کی میٹنگ بلوائی تھی اور اس میں کل میجر صاحب کو بہت زیادہ بے عزت کیا تھااور شاید ان کوفلیٹ چھوڑنے کی دھمکی بھی دی تھی۔۔۔جس پر وہ مولوی صاحب اور اشرف سے بہت غصہ ہیں۔۔۔ بانو :اوہ۔۔۔ہو۔۔۔یہ تو بہت برا ہوا۔۔۔غصہ تو ان کو آنا ہی ہے اِس بات پر۔۔۔ صباء :اصل پروبلم یہ ہوئی ہے کہ میجر صاحب اپنا انتقام اوربدلہ لینا بھی میرے ذریعےچاہتے ہیں۔۔۔ بانو :وہ کیسے۔۔۔میں سمجھی نہیں۔۔۔ صباء :وہ کہتے ہیں کہ میں ان دونوں کو ہی خوب ذلیل کروں گااور اگر میں اشرف کو بچاناچاہتی ہوں تو بچا سکتی ہوں لیکن اُس کے لیے مجھےان کا ایک کام کرنا پڑے گا۔۔۔ بانو:یہ تو اچھی بات ہوئی کہ میجر صاحب نے خود ہی راستہ بتا دیا ہے۔۔۔اب تو آپ اشرف سب کو بچاسکتی ہو نہ۔۔۔پِھر کیا پروبلم ہے میم صاحب۔۔۔ صباء :پتہ ہےاشرف کو بچانے کے لیےانہوں نے کیا شرط رکھی ہے۔۔۔ بانو :کیا میم صاحب۔۔۔ صباء :اشرف کو بچانے کے لیےمجھے مولوی صاحب کواپنے جِسَم کے جال میں پھنسانا ہوگا۔۔۔ ان کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنا ہوں گا۔۔۔پِھر میرے ذریعے وہ مولوی صاحب کو بلیک میل کریں گے اور ان کو بے عزت کریں گے۔۔۔پِھر انکا بدلہ پُورا ہو گا۔۔۔ بانو :اف ف ف نہیں۔۔۔مگر ایسے تو آپ خود بےعزت ہو جاؤ گی۔۔۔آپ کا نام بھی آجائے گامولوی صاحب کے ساتھ۔۔۔ صباءمگر اس کے لیے انہوں نےوعدہ کیا ہے کہ وہ میرا نام نہیں آنے دیں گےاور مجھے بلکل بچا لیں گے۔۔۔ بانو :میم صاحب ہے تو بڑی مشکل بات۔۔۔مگر اب آپ نے کیا سوچا ہے۔۔۔؟؟ صباء :تو بتا میرے پاس کوئی اورراستہ ہے کیا۔۔۔میجر صاحب کی بات ماننےکے سوا۔۔۔ہم یہاں سے بھاگ بھی جائیں تو بھی وہ ہم کو ڈھونڈ لے گااور ہماری زندگی اجیرن کردے گا۔۔۔ بانو :جی میم صاحب۔۔۔بالکل ٹھیک کہا ہے آپ نے۔۔۔تو پِھر اب۔۔۔ صباء :تو پِھر اب تو بتا مجھے کہ کیسے کروں میں سب۔۔۔ بانو :تو کیا۔۔۔تو کیا۔۔۔آپ نے مولوی صاحب کےساتھ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔۔۔ پکا۔۔۔؟؟؟ صباء نے اپنا سر جھکا دیا۔۔۔اور کیا کروں اب میں۔۔۔ بانو :ٹھیک ہے میم صاحب۔۔۔آپ شروع کرو۔۔۔اپنے اشرف صاحب کو بچانے کے لیے مجھ سےبھی جو ہوا میں ضرور کروں گی۔۔۔جو بھی میری مدد چاہیے ہوآپ مجھے بتانا۔۔۔میں آپ کے ساتھ ہوں۔۔۔ویسے ایک بات بتاؤں آپ کو۔۔۔؟ صباء :ہاں بول۔۔۔ بانو مسکرائی۔۔۔میم صاحب ویسے آپ کے لیےیہ کام کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے۔۔۔آپ بڑے آرام سے پھنسا سکتی ہو مولوی صاحب کو۔۔۔ صباء بھی مسکرائی۔۔۔اچھا۔۔۔وہ کیسے۔۔۔؟؟ بانو ہنسی۔۔۔مولوی صاحب کی نظریں ہیں بڑی رنگین۔۔۔آپ کے حسن کے جال میں جلدی ہی آ جائیں گے۔۔۔ صباء بھی بانو کے ساتھ ہنس پڑی۔۔۔تھوڑی دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد بانو چلی گئی اشرف واپس آیا تو اُس کےساتھ صباء نے بات کی۔۔۔ صباء :اشرف تم کو میجر صاحب کے خلاف بات کرنے کی کیاضرورت تھی۔۔۔میٹنگ میں۔۔ اشرف ایک لمحے کےلیے چونکا۔۔۔تم کو کیسے پتہ چلا۔۔۔ صباء :منصور صاحب آئے تھے انہوں نے بتایا تھا۔۔۔ صباء کو خود ہی احساس ہواکہ آج اس نے منصور انکل نہیں بلکہ منصور صاحب بولاہے۔۔۔وہ خود ہی مسکرا دی۔۔۔ اشرف :ہاں وہ اتنا تو جھگڑا کرتا رہاہے تو اسی لیے تو پِھر منصورصاحب نے میٹنگ بلائی تھی۔۔ صباء :لیکن تم کو ان سےدشمنی بڑھانے کی کیاضرورت تھی۔۔۔پتہ تو ہے کہ کتنا گندہ آدمی ہے وہ۔۔۔اگر کوئی نقصان پہنچایا اس نے ہمیں تو۔۔۔؟ ؟ ؟ اشرف :نہیں نہیں۔۔۔فکر نہ کرو ایسا کچھ نہیں ہو گا۔۔۔ایسی ہمت نہیں کرے گا وہ۔۔۔ صباء دِل ہی دِل میں۔۔۔تم کو کیا پتہ وہ کتنی ہمت کر سکتا ہے۔۔۔یہ تو اب میں ہی تم کو بچاسکتی ہوں اور بچاتی آ بھی رہی ہوں۔۔۔ورنہ پتہ نہیں وہ کیا کرتااور ابھی یہ بھی نہیں پتہ کہ اس نے مولوی صاحب کےساتھ کیا کرنا ہے۔۔۔لیکن پہلے تو مجھے کرنا ہےنہ سب کچھ منصور انکل کےساتھ۔۔۔مگر کیسے۔۔۔کیسے۔۔۔کیسے۔۔۔یہی صباء سوچ رہی تھی اور کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا اس کی۔۔۔کہ کیسے اپنا کام شروع کرے۔۔۔اپنے شوہر۔۔۔اپنے گھر۔۔۔اپنی اور اشرف کی عزت کو بچانے کا کام۔۔۔میجر کو خوش کرنے۔۔۔اس پر اپنی وفاداری ثابت کرنے کا کام اور مولوی منصور صاحب کواپنے حسن کے جال میں پھنسانے کا کام۔۔۔اسی شام کچھ اور غلط ہوگیا۔۔۔یا شاید۔۔۔صباء کے لیے آسانی پیداہوگئی۔۔۔یا مصیبت۔۔۔ بہرحال۔۔۔اس شام اچانک سے ہی مولوی صاحب کی وائف کودِل کا شدید دورا پڑا۔۔۔ دوبارہ سے اٹیک ہوگیا۔۔۔اس وقت مولوی صاحب بھی گھر پر ہی تھےاور فرح بھی۔۔۔ جلدی سے مولوی صاحب نے اشرف کو ساتھ لیا اوردونوں نے مولوی صاحب کی وائف کو ہسپتال پہنچایا دیا۔۔۔دونوں وہیں پر تھے۔۔۔ہسپتال میں جلدی جلدی ایمرجنسی میڈیسن دی گئیں اور کافی دیر کے بعد ان کی حالت کچھ بہتر ہوئی۔۔۔تب مولوی صاحب وہیں رکے اور اشرف کو گھربھیج دیا۔۔۔پیچھے فرح صباء کے فلیٹ پر ہی تھی اور بانو بھی پاس ہی تھی۔۔۔ تینوں ہی کافی پریشان تھیں۔۔۔لیکن پِھر بھی دونوں فرح کوحوصلہ دے رہی تھیں۔۔۔ جوکہ روتی جا رہی تھی۔۔۔اشرف گھر آیا تو سب فوراًہی اس کی طرف لپکیں اورسب نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی اشرف پراور اشرف نے سب کو آنٹی کی طبیعت کا بتایااور فرح اور صباء کو اپنےساتھ ہسپتال چلنے کو کہا۔۔۔دونوں ہی جلدی جلدی تیارہونے لگیں اور پِھر کچھ ہی دیر کے بعدتینوں دوبارہ سے ہسپتال میں تھے۔۔۔ہسپتال جاتے ہی فرح اپنی امی سے لپٹ گئی اور زورزور سے رونے لگی۔۔۔اس کی حالت کو دیکھ کرصباء کی آنكھوں میں بھی آنسوں آگئے۔۔۔آہستہ آہستہ سب کی حالت ٹھیک ہوئی۔۔۔اشرف کے اب آفس جانے کاٹائم ہو رہا تھا۔۔۔تو مولوی صاحب بولے۔۔۔ مولوی صاحب۔۔۔اشرف بیٹا اب تمہاری آنٹی کی طبیعت کافی بہتر ہے تم اپنے کام پر چلے جاؤ اشرف :نہیں نہیں انکل آج میں چھٹی کر لیتا ہوں۔۔۔ مولوی صاحب :ارے نہیں بیٹا۔۔۔کوئی ایسی ضرورت نہیں ہے۔۔۔تم جاؤاور صباء بیٹی کو بھی گھرپر چھوڑ جاؤ۔۔۔ اشرف :اچھا ٹھیک ہے انکل۔۔۔لیکن پِھر صباء کو میں یہیں ہسپتال ہی رہنے دیتا ہوں۔۔۔ گھر پر بھی تو اس نے اکیلی ہی ہونا ہے نہ رات کو تو یہاں پر آنٹی کے پاس ہی رہ جائےگی۔۔۔ صباء پہلے تو حیران ہوئی۔۔۔لیکن پِھر اسے یہی ٹھیک لگاکیونکہ آنٹی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔۔۔بےہوشی سی طاری تھی ان پر۔۔۔اس نے بھی حامی بھر لی۔۔۔مولوی صاحب بولے ٹھیک ہےبیٹا جیسے آپ لوگوں کی مرضی۔۔۔اشرف پِھر وہیں سے سیدھااپنی فیکٹری چلا گیا۔۔۔ رات کو تقریباً دس بجے صباءبولی۔۔۔انکل آپ لوگ بھی چاہو توگھر چلے جاؤ۔۔۔ میں یہاں ہوں نہ۔۔۔ایسے آپ لوگ بھی ریسٹ کرلو گے اور پِھر کل پُورا دن آپ لوگوں کو ہی تو رہنا ہے یہاں آنٹی کے پاس۔۔۔چیک اپ وغیرہ کے لیے۔۔۔ مولوی صاحب کو بات سمجھ میں آئی۔۔۔وہ بولے ہاں بات تو تمہاری ٹھیک ہے بیٹی لیکن پِھر تم اکیلی کیسے رہو گی۔۔۔ صباء :ارے انکل آپ فکر نہ کریں۔۔۔ابھی کچھ دیر میں آنٹی کوروم میں شفٹ کر دینا ہے انہوں نے تو پِھر میں وہیں کمرے میں ہی ہوں گی نہ۔۔۔آپ فکر نہ کریں اور فرح کوگھر لے جائیں۔۔۔ کچھ دیر کے بعد دونوں باپ بیٹی۔۔۔مولوی صاحب اور فرح گھرچلے گئے۔۔۔لیکن کوئی ایک گھنٹے کےبعد ہی مولوی صاحب دوبارہ واپس آ گئے۔۔۔صباء ان کو دیکھ کر حیران ہوئی۔ صباء :انکل آپ پِھر واپس آگئے ہو۔۔۔ مولوی صاحب :مسکرا کر۔۔۔ارے بیٹی۔۔۔فرح نے یہ كھانا بھیجا ہے کہ آپی کو دو جا کر وہ بھوکی ہیں۔۔۔تو مجھے دوبارہ سے آنا پڑا۔۔۔ ان کے آنے کے بعد۔۔۔کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب کی وائف کو روم میں شفٹ کر دیا گیا۔۔۔وہیں پر سامان وغیرہ بھی رکھ لیا۔۔۔اب کمرے میں صرف مولوی صاحب،ان کی بِیوِی ،اور صباء تھے۔۔۔مولوی صاحب کی وائف کوتو نیند کی دوا دی ہوئی تھی اور دونوں وہیں قریب ہی ایک صوفہ پر بیٹھے تھے۔۔۔صباء کھانا کھانے لگی۔۔۔کھانا کھاتے کھاتے ہی اسے خیال آیا کہ وہ اِس وقت مولوی صاحب کے ساتھ کمرے میں اکیلی ہے۔۔۔اکیلے ہی ہونے والی بات تھی نہ کیونکہ آنٹی تو سو رہی تھیں۔۔۔اِس خیال کے ساتھ ہی صباءکو عجیب سا احساس ہونےلگا۔۔۔اُس کے دِل کی دھڑکن تیزہونے لگی۔۔۔تھوڑی گھبرا ٹ بھی ہونے لگی۔۔۔اگرچہ ابھی تک مولوی صاحب نے کچھ بھی ایساویسا نہیں کہا تھا اسے لیکن پِھر بھی صباء ان کی موجودگی میں گھبرارہی تھی۔۔۔صباء نے كھانا کھاتے ہوئےچوری سے مولوی صاحب کی طرف دیکھا تو وہ اپنی بِیوِی کی طرف ہی متوجہ تھے۔۔۔صباء اب سوچنے لگی کہ جو بھی پہلے میں نے محسوس کیا تھا یا مولوی صاحب کے بارے میں سوچا تھا وہ توغلط ہی لگتا ہے۔۔ کیونکہ مولوی صاحب توکبھی بھی اس کی طرف سیکس کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔۔۔لیکن اگر انہوں نے ایسا نہ کیاتو پِھر تو میں خود کو بھی میجر سے نہیں بچا سکوں گی۔۔۔آج موقع اچھا ہے کیوں نہ میں تھوڑا سااندازہ لگانے کی کوشش کروں کہ مولوی صاحب کیاریسپونس دے سکتے ہیں مجھے۔۔۔آج یا آگے چل کر۔۔۔کھانے کے بعد قریب 12 بجےرات۔۔۔مولوی صاحب باہر نکلے کچھ ادھر اُدھر گھومنے کے لیے۔۔۔اب صباء نے خود کا حلیہ تھوڑا بدلنے کا سوچا۔۔۔اس نے پہلے جو چادر اپنےاوپر لپیٹ رکھی تھی اسےاُتار کے رکھ دیا ایک طرف اور اپنے دوپٹے کو فولڈ کرکے پٹی کی شکل میں اپنےگلے میں ڈال لیا۔۔۔اپنے ہینڈ بیگ میں سے ہیربرش نکال کر اپنے بال ٹھیک کیے۔۔۔ہلکا سا فیس پاؤڈر اور ہلکی ہلکی لپسٹک اپنے گلابی ہونٹوں پر لگائی۔۔۔اب صباء کا چہرہ کافی فریش لگ رہا تھا۔۔۔اتنے لائٹ سے میک اپ میں اس کی نیچرل بیوٹی مزیدنکھر کر سامنے آگئی تھی اور بہت ہی پیاری اوراٹریکٹِو لگ رہی تھی۔۔ اپنی عادت اور ڈیلی روٹین کے مطابق اس کی قمیض کافی ٹائیٹ تھی۔۔۔جس میں اُس کے خوبصورت ممے بالکل پھنسے ہوئے اوربہت ہی ابھرے ہوئے لگ رہےتھے۔۔۔اِس قمیض کا گلا تو بہت زیادہ ڈیپ نہیں تھا۔۔۔لیکن پِھر بھی اِس ڈریس میں بھی وہ کافی ہوٹ لگ رہی تھی۔۔۔یہ سب کرتے ہوئے اُس کےہاتھ پیر کانپ رہے تھے۔۔۔کہ وہ کیا کرنے جا رہی ہے۔۔۔لیکن پِھر بھی وہ اپنے شوہراور اپنی عزت کے لیے۔۔۔اپنے انکل۔۔۔مولوی انکل۔۔۔بےچارے مولوی صاحب کو پھنسانے جا رہی تھی۔۔۔آخر میرے پاس کوئی اور راستہ بھی تو نہیں ہے نہ۔۔۔صباء نے خود کو سمجھایا۔۔۔جب مولوی صاحب واپسی آئے تو ان کے ہاتھوں میں چائے کے دو کپ تھے۔۔۔انہوں نے صباء کا بدلہ ہواحلیہ دیکھا تو وہ تھوڑا حیران ہوگئے۔۔۔لیکن ان کو صباء کا یہ بدلہ ہوا روپ اچھا بھی لگا تھا۔۔۔چائے کا ایک کپ انہوں نےصباء کی طرف بڑھایا۔۔۔صباء نے بھی مسکرا کر چائےلے لی۔۔۔چائے لیتے ہوئے صباء کا ہاتھ مولوی صاحب کے ہاتھوں سے ٹچ ہوا۔۔۔دونوں صوفہ پر بیٹھ کرچائے پینے لگے۔۔۔مولوی صاحب بار بار صباءکی طرف ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔صباء کو اپنے حسن کا تیرٹھیک نشانے پر لگتا ہوامحسوس کر کے اچھا لگا۔۔۔بھاری بھرکم جِسَم اور اس سے بھی بھاری بھرکم پرسنیلیٹی والے مولوی منصور صاحب۔۔۔کے ساتھ ایک کمرے میں ایسے تنہاہ ایک ہی صوفہ پربیٹھ کر صباء کو تھوڑی گھبرا ہٹ بھی ہو رہی تھی۔۔۔اپنے روایتی سفید کرتا اور شلوار میں ملبوس تھے۔۔۔ان کی سرخ رنگ کی مہندی میں رنگی ہوئی داڑھی اور بھاری چہرہ۔۔۔اس سے بھی بھاری پیٹ۔۔۔موٹے موٹے ہاتھ۔۔۔سب کچھ ہی تو صباءکے سامنے تھا۔۔۔ہمیشہ کی طرح اور ہر ایک کی طرح صباء پربھی مولوی صاحب کی پرسنیلیٹی اور روب داب کااثر پڑ رہا تھا۔۔۔گھبرا ہٹ کی وجہ سے اُس کےدِل کی دھڑکن اور سانسیں تیز ہو رہی تھیں اور دوسری طرف مولوی صاحب کی نظریں۔۔۔پیاسی نظریں۔۔۔صباء کے چہرے اور جِسَم پرپھسل رہی تھیں۔۔۔صباء بھی اب جان بوجھ کربہت ہی لا پروائی سے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔اس نے اپنے مموں کو دیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعد اپنی دونوں ٹانگیں بھی صوفہ پرفولڈ کر کے رکھ لیں۔۔۔اُس کے اِس طرح بیٹھنے سےصباء کی گانڈ بھی اُسکے پاجامے میں ٹائیٹ ہو کرنظر آنے لگی۔۔۔جوکہ مولوی صاحب کی طرف تھی اور مولوی صاحب بھی اِس مفت کی دعوت کو نظر اندازنہ کر سکے۔۔۔چوری چوری اُدھر ہی دیکھنے لگے۔۔۔کچھ دیر کے بعد خود ہی بولے۔۔۔ مولوی صاحب :صباء بیٹی تم سیدھی ہوکر صوفہ پر ہی لیٹ جاؤ۔۔۔تھوڑا ریسٹ کر لو۔۔۔ تھک گئی ہوگی۔۔۔ صباء بولی۔۔۔نہیں نہیں انکل ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔ مولوی صاحب اپنی جگہ سےاٹھے اور صباء کے کندھوں پرہاتھ پھیر کر بولے۔۔۔نہیں نہیں بیٹی تم لیٹ جاؤاور ریسٹ کر لو۔۔۔میں ادھر کرسی پر بیٹھ جاتاہوں۔۔۔ مولوی صاحب اٹھے اوردوسری طرف پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئےاور دِل ہی دِل میں مسکراتے ہوئےصباء صوفہ پر اپنی ٹانگیں پھیلا کر لیٹ گئی۔۔۔اُس کے لیٹنے کی پوزیشن ایسی تھی کہ اُس کے پیرمولوی صاحب کی طرف ہی جا رہے تھے۔۔۔جہاں وہ کرسی پر بیٹھےہوئے تھےاور صوفہ کی لمبائی زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے صباء کےپیر صوفہ کی سائیڈ سےنیچے ہی تھے۔۔۔اصل میں یہ صوفہ ایک کووچ کی طرح ہی بناہوا تھا جس کی ایک طرف بازو تھے جہاں پر کوئی بھی سر رکھ کر لیٹ سکتا تھا اوردوسری طرف کا بازو نہیں تھا۔۔۔اِس طرح سے لیٹنے پر۔۔۔صباء کے گورے گورے پاؤں مولوی صاحب کے بالکل قریب ہو رہے تھےاور مولوی صاحب کی نظریں بھی ان پر ہی جا رہی تھیں۔۔۔پیروں سے ان کی نظریں اُوپرکو جاتیں۔۔۔صباء کی سڈول رانوں ،اور سمارٹ پیٹ ،اور پِھر ابھرے ہوئے مموں پرسے ہوتی ہوئی اُس کےچہرے کی طرف گیں۔۔۔صباء نے بھی مولوی صاحب کو پُورا موقع دینے کے لیےاپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔اِس طرح لیٹ کر بھی اس نےاپنے جِسَم کو اور اپنے مموں کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔اندر سے اس کی خود کی دھڑکن بہت تیز ہو رہی تھی۔۔۔کچھ ایسی ہی صورت حال تھی کہ دونوں ہی شکاری بھی تھے اوردونوں ہی شکار بھی۔۔۔دونوں ہی ایک دوسرےکو پھنسانے کے چکر میں تھے۔۔۔لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ دوسرے کے دماغ میں بھی ایسا ہی کچھ چل رہا ہے۔۔۔صباء کو آنکھیں بند کرکے لیٹے ہوئے تھوڑی دیر گزرگئی اور اسے ایسا لگنے لگا کہ اس کی ساری پلاننگ خراب ہو رہی ہے۔۔۔ کیونکہ مولوی صاحب کسی بھی قسم کی کوئی موومنٹ نہیں کر رہے تھے۔۔۔لیکن اسی وقت ہی اسے اپنےپیروں پر کسی کے چھونے کااحساس ہوا۔۔۔صرف ایک لمحے کے لیےجیسے۔۔۔ صباء کا جِسَم تو کانپنے لگاتھا۔۔۔لیکن بہت ہی مشکل سےاور پوری ٹائمنگ کے ساتھ اپنے جِسَم کو کنٹرول کیااور خود کو ساکت ہی رکھا۔۔۔لیکن وہ ٹچ ،وہ احساس صرف ایک لمحےکے لیے تھا۔۔۔کچھ دیر کے بعد دوبارہ سےکسی نے اُس کے پیرکو چھوااور یہ مولوی صاحب کے سوا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتاتھا۔۔۔جوکہ اُس کے پیروں کےقریب ہی بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔اِس بار مولوی صاحب کاہاتھ صباء کے گورےگورے پیر پر ٹک گیا۔۔۔آہستہ آہستہ اسے سہلانے لگا۔۔۔صباء کے پیر کے چکنے پن ،اور اس کی ملائمیت کومحسوس کرنے لگا۔۔۔لیکن اِس بار بھی جلد ہی اُس کے پیر کو انہوں نےچھوڑ دیا۔۔۔صباء کے دِل کی دھڑکن تیزہونے لگی تھی۔۔۔اس کی گھبرا ٹ میں اضافہ ہونے لگا تھا۔۔۔چند لمحوں کے بعد ہی دوبارہ سے صباء کا پیرمولوی صاحب کے ہاتھوں میں تھااور اِس بار انہوں نے صباء کےپیر کو چھوڑنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔۔۔شاید ان کو یقین ہو چکا تھاکہ وہ سو رہی ہے۔۔۔اب آہستہ آہستہ صباء کے پیرکو سہلاتے ہوئے اُسکے چکنے پن کو محسوس کرنے لگے۔۔۔کبھی ہاتھ نیچےسے سہلانے لگتا اور کبھی اُوپر کے حصے کو۔۔۔مولوی صاحب کا ہاتھ آہستہ آہستہ پیر سے اُوپرکو سرکنے لگا۔۔۔صباء کی چکنی ٹانگ پر آتاہوا۔۔۔اب اس کی گوری گوری پندلیوں کو سہلانے لگا۔۔۔ پہلے تو اُس کے پاجامے کےاُوپر سے ہی سہلاتا رہااور پِھر انہوں نے آہستہ سےصباءکے پاجامے کے پائینچے کواوپر کی طرف سرکایااور صباء کی گوری گوری پنڈلی ننگی ہوگئی۔۔۔صباء کی ہمت جواب دینے لگی تھی۔۔۔مولوی صاحب کا بھاری بھرکم ہاتھ صباء کی ننگی پنڈلی کو سہلانے لگا۔۔۔مولوی صاحب کے ٹچ سےصباء کی چوت کے اندر بھی ایک عجیب سی گرمی پیداہونے لگی۔۔۔تھوڑا تھوڑا گیلا پن محسوس ہونے لگا۔۔۔وہ چاہ کر بھی اسے کنٹرول نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔اُدھر مولوی صاحب کا دِل بھی ڈر رہا تھا کہ اگر صباءجاگ گئی تو کیا ہو گا۔۔۔ مگر۔۔۔وہ اپنے ہاتھ کو صباء کی ننگی پنڈلی سے نہیں ہٹا پارہے تھے۔۔۔صباء کی ننگی پنڈلی کو چھونے اور اُسکے چکنے پن کو محسوس کرنے سے ہی اُس کے اندر کی دبی ہوئی آگ پِھر سے بھڑکنےلگی تھی۔۔۔ان کی شلوار میں ان کالن اکڑنے لگا تھا۔۔۔وہ خود بھی بے قوبو ہونے لگے تھے۔۔۔دِل تو یہ چاہ رہا تھا کہ ابھی اِس خوبصورت لڑکی کے اُوپرچڑھ جائیں اور اپنا اکڑا ہوا پیاسا لن اسکی چوت کے اندر ڈال کراسے چودنے شروع کر دیں۔۔۔مگر وہ ایسا نہیں کر سکتےتھے۔۔۔وہ ان کے پڑوسی کی بِیوِی تھی اور ان کی بیٹی کی عمر کی تھی اور اس نے ان کی فیملی کابہت ساتھ دیا تھا۔۔۔تو اب وہ کیسے اِس لڑکی کےساتھ کوئی غلط حرکت کرسکتے تھے۔۔ آخر مولوی منصور صاحب پربھی اپنی غلطی کا اثر ہوگیااور انہوں نے اپنا ہاتھ پیچھےکھینچ لیااور کرسی پر ہی سونے کی کوشش کرنے لگے۔۔۔لیکن خود کے ہاتھوں کوصباء کے پیروں سے دور کر لینے کے باوجود بھی اپنی نظروں کو صباء کے جِسَم پرسے نہیں ہٹا پا رہے تھے۔۔۔آخر ایسے ہی کبھی آنکھیں بند کرتے اور کبھی صباء کودیکھتے ہوئے صبح کی نماز کا وقت ہوگیا۔۔۔مولوی صاحب نے صباءکو جگانے کا ارادہ کیا۔۔۔اٹھ کر صباء کے قریب گئے۔۔۔انہوں نے اپنا ہاتھ صباءکے کاندھے کی طرف بڑھایا۔۔۔لیکن پتہ نہیں کیسے وہ اپنےہاتھ کو صباء کے چہرے کی طرف بڑھانے سے نہ روک سکےاور خود ہی اپنا ہاتھ بڑھا کرصباء کے گورے گورے گال کو چھو لیا۔۔۔صباء اس وقت گہری نیندمیں تھی۔۔۔آہستہ آہستہ مولوی صاحب کا بھاری ہاتھ صباء کے گال کو سہلاتا رہا۔۔۔دِل تو کر رہا تھا ان کا کہ آگےبڑھ کر صباء کے حَسِین چہرے کو چوم لیں لیکن۔۔۔نہ تو ہمت ہوئی اور نہ ایسا کر سکےاور پِھر اسے جگائے بغیر ہی کمرے سے باہر نکل گئے۔۔۔کچھ دیر گزری تو دروازے پرنوک ہوئی اور صباء نے اٹھ کر ادھر اُدھر دیکھا لیکن موولوی صاحب اسےنظر نہیں آئے۔۔۔جلدی سے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے نرس کھڑی تھی۔۔۔صباء نے اسے اندر آنے کاراستہ دیااور پِھر نرس موولوی صاحب کی وائف کو انجیکشن دینےلگی اور صباء اُس کے قریب ہی کھڑی تھی۔۔۔ صباء :سسٹر۔۔۔اب آنٹی کی طبیعت کیسی ہے۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ نرس :کچھ زیادہ بہتر نہیں ہےابھی۔۔۔لیکن آپ فکر نہ کریں اور دعاکریں۔۔۔ صباء کو تھوڑی پریشانی ہوئی۔۔۔ابھی نرس میڈیسن وغیرہ دے ہی رہی تھی کے موولوی صاحب بھی آگئے۔۔۔ان کے ہاتھوں میں چائےکا تھرموس تھا جسے انہوں نے ٹیبل پر رکھااور وہ بھی صباء کے قریب ہی کھڑے ہوگئے۔۔۔اُس کے پیچھے۔۔۔صباء نے ان کو سلام کیا۔۔۔مولوی صاحب بالکل صباءکے پیچھے کھڑے تھے۔۔۔ان کی بھاری تووند صباء کی کمر پر ٹچ ہو رہی تھی۔۔۔چھوٹی سی صباء کا جِسَم بہت ہی چھوٹا سا لگ رہاتھا مولوی صاحب کے بھاری بھرکم جِسَم کے آگے۔۔۔صباء کا سربامشکل مولوی صاحب کے کاندھے تک پہنچ رہا تھا۔۔۔ بلکہ دونوں ہی۔۔۔صباء اور نرس۔۔۔مولوی صاحب کے بھاری اور چوڑے جِسَم کے سامنے بالکل بچیوں کی طرح ہی لگ رہی تھیں۔۔۔ایسا سمجھ لو کہ دونوں اگربرابر میں کھڑی ہو جائیں توبھی مولوی صاحب کا چوڑا جِسَم ان کو کوور کرسکتا تھا۔۔۔اپنی کمر پر مولوی صاحب کے پیٹ کے چھونے سے صباءکو عجیب سا احساس ہو رہاتھا۔۔۔لیکن وہ خاموش کھڑی تھی۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں نرس انجیکشن دے کر چلی گئی۔۔۔تو مولوی صاحب نے دروازہ بند کر دیا۔۔۔ صباء کا دِل زور زور سےدھڑک رہا تھا۔۔۔جب مولوی صاحب دروازہ بند کر کے واپس آ رہے تھے توصباء کو ایسا لگنے لگا جیسےکہ وہ ایک بیڈروم میں مولوی صاحب کے ساتھبالکل تنہا ہواور مولوی صاحب دروازہ بندکر کے اس کی طرف آ رہےہوں۔۔۔اسے اپنی بانہوں میں بھرنےکے لیے۔۔۔لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں تھا۔۔۔نہ تو وہ دونوں اس کمرےمیں اکیلے تھےاور نہ ہی مولوی صاحب کاکوئی ایسا ارادہ تھا صباء کواپنی بانہوں میں بھرنے کا۔۔۔جب مولوی صاحب صوفے پر بیٹھ گئے تو صباءبھی اپنی پھولی ہوئی سانسوں پر کنٹرول کرنے لگی۔۔ مولوی صاحب :صباء بیٹی تھرموس میں چائے لایا ہوں۔۔۔وہ کپوں میں ڈال لو اورمجھے بھی دو صباء اپنے خیالوں سے باہرآئی۔۔۔ٹیبل سے کپ اٹھائے اورجلدی سے دھونے کے لیے باتھ روم میں چلی گئی۔۔۔بیسن پر کپ دھوتے ہوئےآئینے پر نظر پڑی تو اپنےچہرے پر گھبرا ٹ اسے صاف نظر آ رہی تھی۔۔۔خود کو دیکھتے ہوئے اسےاحساس ہوا کہ اس نے اپنا ڈوپٹہ بھی نہیں لیا ہوا ہے۔۔۔جب نرس آئی تھی تو اس نےایسے ہی دروازہ کھول دیاتھا اور نرس کی وجہ سےاس نے ڈوپٹہ اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی اور اب جب کہ وہ مولوی صاحب کے ساتھ اکیلی تھی تو ایسے بنا دوپٹے کے ان کے سامنے رہنا اسے عجیب لگ رہا تھا۔۔۔لیکن پِھر اس نے ایسے ہی رہنے دینے کا ارادہ کیا۔۔۔تاکہ کچھ اور حوصلہ مل سکے مولوی صاحب کواور پِھر وہ کپ دھو کر باہرآگئی۔۔۔چائے ڈالی اور پِھر کپ مولوی صاحب کی طرف بڑھایا۔۔۔مولوی صاحب نے بنا دوپٹے آرہی صباء کے مموں کو دیکھااور کپ لے لیا۔۔۔صباء کو ان کی نظریں صاف طور پر اپنے مموں پرمحسوس ہو رہی تھیں۔۔۔لیکن وہ اسے اگنور کر گئی اور اپنا کپ بھی لے کر صوفہ پر ہی مولوی صاحب سےکچھ فاصلے پر بیٹھ کر اپنی چائے پینے لگی۔۔۔چائے پیتے ہوئے بھی مولوی صاحب کی نظریں صباء کےجِسَم کو ہی چوری چوری دیکھ رہی تھیں۔۔۔اسی طرح 8 بج گئے تواشرف آگیااور پِھر صباء اشرف کے ساتھ گھر واپس جانے لگی۔۔۔ صباء :اچھا انکل جی میں اب چلتی ہوں۔۔۔شام کو دوبارہ آ جاؤں گی۔۔۔ صباء نے مولوی صاحب کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ ان کی آنکھیں کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔کیا وہ اُس کے جانے سےتھوڑا پریشان یا اداس تونہیں ہیں اور صباء کو لگا کے کچھ کچھ ایسا ہی تھا۔۔۔مولوی صاحب بولے۔۔۔ہاں ہاں بیٹی جاؤ تم گھر۔۔۔ ابھی فرح بیٹی بھی آتی ہوگی۔۔۔تم آرام کرو جا کر۔۔۔شام کو آجانا فریش ہو کر۔۔۔پہلے ہی تمہارا بہت احسان ہے کہ ساری رات تم ہم لوگوں کے لیے پریشان رہی ہواور بے آرام بھی۔۔۔یہ کہتے ہوئے مولوی صاحب نے اپنے ہاتھ صباءکے کاندھے پر رکھا اور اُس کے کاندھے کو سہلانے لگے۔۔۔پِھر جب اشرف اور صباءدروازے کی طرف برھے تومولوی صاحب نے اپنا ہاتھ صباء کی کمر پر بالکل اس کی برا کی بیلٹ اور ہک پررکھ دیا۔۔۔صباء کے جِسَم میں چینٹیاں سی رینگ گیں۔۔۔مولوی صاحب کے بھاری ہاتھ اس کی کمر پر محسوس ہورہے تھے اور مولوی صاحب صباء کی برا سٹریپس اور ہکس کومحسوس کر رہے تھے۔۔۔تب ہی اشرف اور صباءہسپتال کے کمرے سے باہرآگےاور پِھر اپنے فلیٹ میں واپس۔۔۔پُورا دن تو صباء نے ریسٹ کیا۔۔۔شام کو اٹھ کر اس نے کھانابنایا۔۔۔اپنے اور اشرف کے لیے بھی اور ہسپتال میں لے کے جانےکے لیے بھی۔۔۔میجر کا خیال تو آیا۔۔۔لیکن اشرف کے ہوتے ہوئےمیجر کے پاس جانا تو ممکن نہیں تھا۔۔۔بانو بھی اُس کے سوتے میں ہی آئی تھی اور شاید اپنی مستیاں بھی کر کے گئی تھی۔۔۔لیکن اِس بات کا صباء کوپتہ نہیں چل سکا تھا کیونکہ اس سے اس کی ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔۔۔کھانا تیار کرنے کے بعد صباءنے اشرف کو کھانا دیا اور خود تیار ہونے کے لیےکمرے میں چلی گئی۔۔۔کیونکہ اس کا پروگرام اشرف کے ساتھ ہی نکلنے کا تھا۔۔۔اپنے کمرے میں آئی تو اسےمولوی صاحب کی بات یادآئی کے شام کو فریش ہو کرآجانا۔۔۔صباء نے دِل میں سوچا۔۔۔مولوی صاحب فریش تو آج میں ایسی ہو کر آؤں گی کےآپ بھی دیکھ کر فریش ہوجاؤ گے۔۔۔صباء اپنے وارڈروب سے اپنےلیے کپڑے سیلیکٹ کرنے لگی۔۔۔اس کی نظر ایک پنک کلر کےسوٹ پر پڑی۔۔۔گرمی کے موسم کے مطابق یہ بالکل لائٹ سا۔۔۔پنک کلر کا سوٹ تھا۔۔۔پلین تھا۔۔۔صرف قمیض کے نچلے حصے پر پھول بنےہوئے تھے۔۔۔گرمی کے سیزن کے لیے بنایاتھا تو گلا بھی ذرا ڈیپ ہی تھا۔۔۔اتنا ہی ڈیپ تھا کہ اِس میں بنا جھکے بھی کلیویج کا اوپری حصہ۔۔۔یعنی لکیر کا آغاز نظر آجاتاتھااور سینہ بھی کافی کھلا ہوانظر آتا تھا۔۔۔جیسے فرنٹ سائیڈ سے کھلاتھا گلا اسی طرح سے بیک پربھی ڈیپ تھااور کافی کھلا اور ڈیپ تھا۔۔۔جس سے کمر کا اوپری حصہ ننگا ہی رہ جاتا تھا۔۔۔قمیض کا کپڑا کافی پتلہ تھااور جو بھی نیچے پہنو صاف نظر آتا تھا۔۔۔سوٹ نکال کر صباء اسےدیکھ کر مسکرانے لگی اور پِھر۔۔۔ایک اور شرارت سوجی تواس نے اُس کے نیچے پہن نےکے لیے اسکن کلرکی برا کی بجائے بلیک کلر کی برا نکال لی۔۔۔صباء نے جلدی سے اپنے کپڑے اتارے۔۔۔اپنی بغلوں اور مموں اورسینے پر پرفیوم اسپرے کیااور اپنے گورے گورے مموں پر بلیک کلر کی برا پہن لی۔۔۔یہ برا بھی تھوڑی اسٹائلش تھی جس میں اُس کے ہالف ممے ہی کوور ہو رہے تھےاور ٹائیٹ اتنی تھی کہ بہت ہی گہرا اور ٹائیٹ سا کلیویج بن رہا تھا۔۔۔اوپر سے صباء نے قمیض پہنی اور خود کو آئینے میں دیکھنے لگی۔۔۔خود کا عکس دیکھ کر خود ہی ہنس پڑی۔۔۔پتلی سی قمیض کے نیچےسے اس کی بلیک کلرکی برا بالکل صاف نظرآ رہی تھی برا کی سٹریپس کے ہکس بھی شولڈر کے قریب بالکل صاف دِکھ رہے تھے۔۔۔آئینے کے سامنے گھوم کرپیچھے مڑ کر آئینے میں دیکھا تو کمر شولڈرز سےنیچے جاتے ہوئے کالی رنگ کے برا کے سٹریپس اور پِھرنیچے برا کی بیلٹ اور ہک بھی بالکل صاف دِکھ رہا تھا۔۔۔یہ تو تھی براکی بات۔۔۔جب برا اتنی دِکھ رہی تھی تو پِھر جِسَم بھی تو دیکھناہی تھا نہ۔۔۔پتلی قمیض کے نیچے سےاس کا گورا گورا جِسَم بھی جھلک رہا تھا۔۔۔صاف نظر آ رہا تھا کہ جِسَم کی رنگت دِکھ رہی ہےاور سامنے سے بلیک برا میں سے نکلتے ہوئے ممے بھی نظرآ رہے تھے۔۔۔نیچے اس نے پاجامے کی جگہ پر پنک کلر کی ہی تیگھتس پہن لیں۔۔۔جوکہ ظاہر ہے کے اُس کے نچلے جِسَم ، ٹانگوں اورتھیگس سے چپک کر رہ گئی تھی اور اُس کے جِسَم کے نچلے حصے کے سارے پیچ و خم صاف نظر آ رہےتھے۔۔۔اب صباء نے ہلکا پھلکا میک اپ کیااور لپ گلو بھی لگا لی۔۔۔جس سے ہونٹوں سے ایسی چمک پڑ رہی جس سے ہونٹ بہت ہی سیکسی اور پیاسے لگ رہے تھے۔۔ فائنل ٹچز دے کر صباء نےایک چادر اپنے جِسَم کےاُوپر اوڑھی اور اپنا ہینڈ بیگ لے کر کمرے سے باہر آگئی۔۔۔اشرف بھی تیار ہی تھا اورکچھ ہی دیر میں دونوں کھانا پیک کر کے ہسپتال کی طرف نکل گئے۔۔۔ہسپتال پہنچ کر جب صباءکمرے میں داخل ہوئی تواس نے چادر سے نقاب کیا ہواتھااور اس کی صرف آنکھیں ہی باہر نظر آ رہی تھیں۔۔۔اس نے بنا اپنا چہرہ کھولےہوئے۔۔۔اپنی قاتل نگاہوں سے مولوی صاحب کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے بڑےہی نشیلے انداز میں سلام کیاتو اسے صاف لگا کہ مولوی صاحب اس کی آنكھوں کی خوبصورتی سے کانپ ہی گئےہیں۔۔۔صباء اندر ہی اندر مسکرا دی اور پِھر آہستہ آہستہ اپنے چہرے پر سے نقاب ہٹا لیا۔۔۔لیکن چادر اپنے جِسَم سے الگ نہیں کی اور پِھر مسکرا کر مولوی صاحب کی طرف دیکھا توان کی تو جیسے سانس ہی رکنے لگی ہو۔۔۔صباء جا کر آنٹی کے پاس بیٹھ گئی اور ان کی طبیعت پوچھنےلگی اور اشرف مولوی صاحب کےپاس صوفہ پر بیٹھ گیا۔۔۔اسی صوفہ پر جس پر رات کو صباء مولوی صاحب کے سامنے لیٹی ہوئی تھی اور شاید آج بھی لیٹنا تھا صباء ابھی آنٹی کے پاس بیٹھی ہوئی باتیں ہی کر رہی تھی کے اس کا فون بج اٹھا۔۔۔صباء نے اپنا موبائل دیکھا تویہ میجر کی کال تھی۔۔۔صباء گھبرا گئی۔۔۔کہ ایسے سب کے سامنے میجر کی کال کیسے اٹینڈ کرے گی۔۔۔اس نے فون کو سائیلنٹ پرکیا اور اٹھ کر خاموشی سےکمرے سے باہر ہسپتال کے برآمدے میں نکل آئی۔۔۔اشرف نے صرف ایک نظر اسکی طرف دیکھا لیکن کوئی اعتراض نہیں کیا۔۔۔صباء نے باہر آ کر فون اٹینڈکیا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی۔۔۔ میجر :بہن چود کہاں گم ہوگئی ہوئی ہے۔۔۔بھاگ تو نہیں گئی اپنے اس گانڈو کو لے کر۔۔۔ صباء ہنس پڑی۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔کہیں نہیں بھاگی۔۔۔یہیں ہوں۔۔۔ میجر :حرام زادی۔۔۔اگر کہیں بھاگ کہ گئی نہ اپنی جان بچانے کے لیے تودیکھنا تم دونوں کو قبروں میں سے بھی نکال لوں گا۔۔۔کتیا۔۔۔ صباء :ارے نہیں یار۔۔۔کہا تو ہے میں نے کہ کہیں نہیں گئی ہوں میں۔۔۔ میجر :تو پِھر رنڈی اور کہاں ہے تو۔۔۔تیرے گھر کی لائٹ رات بھی بند تھی اور آج بھی بند ہے۔۔۔کس یار کے پاس ہے اپنے۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔رنڈی ہوں نہ تو پِھر اِس وقت دھندھے پر ہی ہوں گی نہ۔۔۔کہ نہیں۔۔۔ میجر :گشتی کی بچی۔۔۔سیدھا سیدھا بول کہاں ہے۔۔۔میرا لن ٹنٹنا رہا ہے۔۔۔تیری چوت میں ڈالنا ہے اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے۔۔۔ صباء خوش ہوگئی کہ میجرکو اس کی یاد تو آئی۔۔۔ بولی۔۔۔اپنے کام کے علاوہ بھی یادکر لیا کر کبھی مجھے۔۔۔ میجر :بہن کی لوڑی۔۔۔اصل بات نہیں بتا رہی کہ کہاں ہے اِس وقت۔۔۔؟؟ صباء بولی۔۔۔تم کو نہیں پتہ کے مولوی صاحب کی بِیوِی کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور ان کو ہسپتال میں داخل کروایا ہواہے تو یہاں پر آنٹی کے پاس ہوں ابھی اور کل رات کو بھی یہیں تھی میں۔۔۔ میجر :اوہ۔۔۔بہن چود۔۔۔تجھے اس مولوی کالن لینے کو کہا تھا اور تو اسکی بِیوِی کی خدمتیں کر رہی ہے۔۔۔میں ابھی وہاں آ رہا ہوں۔۔۔تجھے چودنے کے لیے۔۔۔جلدی سے باہر آ جا ہسپتال سےاور مجھے کوئی بکواس نہیں سننی تیرے سے۔۔۔سمجھی۔۔۔ ورنہ دیکھ لینا۔۔۔تجھے ہسپتال کے اسی کمرےمیں آ کر چود دوں گا سالی۔۔۔ صباء ہیلو۔۔۔ہیلو کرتی رہی۔۔۔لیکن دوسری طرف سے فون کٹ چکا تھا۔۔۔صباء پریشان ہوگئی۔۔۔اسے پتہ تھا کہ میجر نے جوکہا ہے اس پر ضرور عمل کرے گااور اس کا کوئی بھی بہانہ نہیں سنے گا۔۔۔دِل تو اس کا مچلنے لگا تھامیجر سے چودوانے کے خیال سے لیکن یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر وہ کرے توکیا کرے۔۔۔ہسپتال سے باہر جانا اُس کےلیے بہت مشکل تھا۔۔۔آخر اُس کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا۔۔۔صباء واپس روم میں گئی۔۔۔تو اشرف اٹھ کر کھڑا ہو گیاتھا اپنی ڈیوٹی پر جانے کےلیے۔۔۔صباء اشرف سے بولی۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
  7. قسط نمبر28 بانو کی ٹائیٹ گانڈ کے پریشرنے اشرف کے لن کو دباناشروع کر دیا۔۔۔اشرف کو بھی بے حد مزہ آرہا تھا۔۔۔اسے تو لگ رہا تھا کہ جیسےابھی کہ ابھی اس کا لن پگھل جائے گا۔۔۔لیکن پِھر فوراً ہی اس نے اپنالن بانو کی گانڈ سے کھینچ کے باہر نکال لیا۔۔۔ بانو :کیا ہوا صاحب جی۔۔۔؟؟؟ اشرف :اف ف ف ف۔۔۔بانو تیری گانڈ تو بہت ہی گرم اور ٹائیٹ ہے۔۔۔میرے لن کو تو بالکل ہی نچوڑ لینے لگی تھی۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔اچھا صاحب اب نہیں دباؤں گی۔۔۔ڈالو آپ۔۔۔ اشرف بھی مسکرایااور اپنے ہاتھ پے تھوک لگا کہ اپنے لن پر لگایااور دوبارہ سے اپنا لن صباءکی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا۔۔۔ایک بار پِھر سے لن پھسل کربانو کی گانڈ میں گیااور اِس بار بانو نے اپنی گانڈکے مسلز کو تھوڑا ریلکس کردیا۔۔۔اشرف کا لن آہستہ آہستہ پُورا بانو کی گانڈمیں اترنے لگا۔۔۔دھیرے دھیرے اشرف نے آگےپیچھے ہوتے ہوئے اپنا لن بانوکی گانڈ میں اندر باہر کرناشروع کر دیا۔۔۔اشرف کو بھی مزہ آ رہا تھا اور بانو بھی ایک نیا لن اپنی گانڈ میں لے کر لذت سے پاگل ہو رہی تھی۔۔۔ ٭٭٭٭٭ پہلے بھی تو اِس وحشی موٹے سانڈ کو جھیل ہی چکی تھی۔۔۔اسی لیے کچھ ہی دیر میں صباء دوبارہ سے اس موٹےلن کا ظلم برداشت کرنے کےقابل ہوگئی اور آہستہ آہستہ اس کاساتھ دینے لگی۔۔۔اس کی سُوکھ جانے والی چوت دوبارہ سے گیلی ہونےلگی۔۔۔پانی چھوڑنے لگی۔۔۔ اندر سے چکنی ہو کر دینو کےلن کو آسانی سے اپنے آنےجانے کا راستہ دینے لگی۔۔۔ صباء :آہ۔۔۔دینو نکالو اسے رکو نیچےلیٹ جاؤ رکو تو سہی پلیز۔۔۔ دینو نے ایک لمحہ رک کرصباء کی طرف دیکھااور پِھر اپنا لن صباء کی چوت سے باہر نکال لیا۔۔۔ پچک کی آواز کےساتھ دینو کا موٹا لن صباءکی نازک سی چھوٹی سی چوت سے باہر نکلااور پِھر دینو کھڑا ہو کرصباء کو دیکھنے لگا۔۔۔صباء نے تھوڑی ناراضگی اور تھوڑی سمائل کےساتھ دینو کی طرف دیکھااور پِھر اس کا ہاتھ پکڑکر کھینچا اور اپنے ساتھ بیڈپر لیٹا دیا۔۔۔دو ننگے جِسَم برابر میں بسترپر لیٹے ہوئے تھے۔۔۔ایک چھوٹا سا۔۔۔نازک سا۔۔۔گورا گورا۔۔۔چکنا۔۔۔ ملائم جِسَم۔۔۔اور دوسرا۔۔۔کالا کلوٹا۔۔۔موٹا۔۔۔سانڈ کی طرح کھردرااور بھاری بھرکم جِسَم۔۔۔صباء آہستہ سے اٹھی۔۔۔اپنی کہنی کے بل اور دینو کے چہرے پر جھک کر اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ صباء :تم سے تھوڑا بھی کنٹرول نہیں ہوتا کیا۔۔۔کتنے پاگل بن جاتے ہو تم۔۔۔جانور کہیں کے۔۔۔ دینو اپنے پیلے دانت نکال کرہنسنے لگا۔۔۔سالی تجھے دیکھ کر کنٹرول کہاں ہوتا ہے۔۔۔ہر وقت تو تجھے یاد کر کرکے گرم ہوتا رہتا ہوں۔۔۔تو جب پِھر ملتی ہے تو توپاگل ہی کر دیتی ہے۔۔۔ صباء دینو کے دانتوں کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔کبھی دانت بھی صاف کر لیاکرو۔۔۔دیکھو تو کیسے پیلے ہو رہےہیں۔۔۔ دینو :تم کو یہ بھی گندے لگ رہےہیں کیا۔۔۔جیسے میرے منہ کی بدبوگندی لگ رہی تھی۔۔ صباء ہنسی۔۔۔اب پِھر وہی حرکت کرو گےتم اگر میں نے ہاں کہا تو۔۔۔ دینو ہنسا۔۔۔تو پِھر بتا دے نہ کیسے لگتےہیں میرے دانت تجھے۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔بہت اچھے ہیں جناب۔۔۔نہ کیا کرو صاف۔۔۔ دینو بھی صباءکو چھیڑتے ہوئے بولا۔۔۔مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ تم کو اچھے لگ رہے ہیں میرے دانت۔۔۔؟؟؟ صباء ہنسی۔۔۔بڑے کمینے ہو تم۔۔۔ یہ کہہ کر صباء جھکی اوراپنی زبان کی نوک اپنے منہ سے باہر نکالی اور اسے دینو کے منہ کے قریب لا کر۔۔۔زبان کو دینو کے دانتوں پررکھ دیا۔۔۔آہستہ آہستہ اپنی زبان دینو کے دانتوں پر پھیرنے لگی۔۔۔دینو نے بھی اپنے اُوپر نیچےکے دانتوں کو جوڑ کے صباءکے سامنے کر دیا۔۔۔اب صباء کی زبان کبھی دینو کے اُوپر کےدانتوں پر پھسلتی اور کبھی نیچے کے دانتوں پر۔۔۔کبھی وہ اپنی زبان کودانتوں سے اُوپر۔۔۔دینو کے موٹے کالے ہونٹوں کے نچلے حصے پر لے جاتی اور دور تک چاٹ لیتی۔۔۔دونوں کے منہ آپس میں جڑے ہوئے تھےاور جب پیچھے تک اپنی زبان لے کے جانے کی کوشش کرتی تو صباء کو خود بھی بہت ہی عجیب لگتا۔۔۔ دینو کے دانت ابھی بھی جڑے ہوئے تھے۔۔۔صباء نے ایک لمحے کے لیےاپنا منہ تھوڑا سا پیچھے کیااور پِھر اپنے منہ میں تھوک اکھٹا کر کے اُس کےدانتوں کے اُوپر گرا دیا۔۔۔دینو نے بھی اسےاندر لینے کی کوئی کوشش نہیں کی۔۔۔ساتھ ہی صباء نے اپنی زبان دوبارہ سے دینو کے دانتوں پر گرائے ہوئے اپنے تھوک پرپھیرنی شروع کر دی۔۔۔دینو نے اب اپنے دانتوں کوکھولا اور صباء کی زبان کواپنی گرفت میں لے لیا اورہونٹوں سے چوسنے لگا۔۔۔اس کا ہاتھ صباء کی ننگی کمر پر سرک رہا تھا۔۔۔اتنی چکنی کمر تھی کہ دینو کا کھردرا ہاتھ بھی بنا کسی رکاوٹ کے پھسلتاہی جا رہا تھا۔۔۔صباء نے کچھ دیر کے بعد اپنامنہ ہٹایا۔۔۔اور بولی۔۔۔ اب آیا یقین۔۔۔؟؟؟ دینو ہنستے ہوئے بولا۔۔۔کمال کی چیز ہو تم بھی۔۔۔ صباء اب نیچے کو جانے لگی۔۔۔اُس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔۔۔پِھر جھک کر اُس کےموٹے کالے پیٹ کو چُوما۔۔۔پیٹ کے نچلے حصےمیں دینو کی بہت ہی کھلی اور گہری ناف تھی۔۔۔صباء نے اپنی انگلی اس میں ڈالی اور گھمانے لگی۔۔۔مسکرا کر دینو کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔پِھر نیچے جھک کر اپنی زبان اس میں ڈال کر نیچے تک لےجا کر گھمانے اور اسے اندرسے چاٹنے لگی۔۔۔اپنے ہونٹوں سے تھوڑا ساتھوک گرایا۔۔۔اس کی ناف میں اور جیسےوہ بالکل بھر ہی گئی تھی صباء کے تھوک سے۔۔۔پہلے تو اپنی زُبان کو اس میں گھمایااور پِھر اپنے ہونٹ اُس کے اوپر جما کر۔۔۔سک کرتے ہو اپنا تھوک واپس کھینچ لیا۔۔۔دینو کی ناف سے نیچے اُسکے کالے کالے موٹے بالوں کاگچھا تھا۔۔۔پتہ نہیں کتنے عرصے سےصاف نہیں کیے تھے۔۔۔وہاں سے بھی اسمیل آ رہی تھی۔۔۔صباء نے اپنے ہونٹ اور ناک وہاں رکھی اور تھوڑی دیرادھر اُدھر گھماتے ہوئے ان بالوں میں ہونٹ سرکادیےاور پِھر دینو کے لن کی طرف آ گئی۔۔۔ دینو کا موٹا کالا لن۔۔۔لہرا رہا تھا۔۔۔اکڑا ہوا تھا۔۔۔اُس کے اُوپر سفید سفید پانی جما ہوا تھا۔ جوکہ صباء کی اپنی چوت سے نکل کر اُس کے لن پر لگاتھا۔۔۔صباء نے ہاتھ بڑھا کر دینو کالن اپنے نازک سے گورے ہاتھ کی مٹھی میں لے لیا۔۔۔اب صباء نے جھک کر دینو کے لن کی ٹوپی کوچاٹنا شروع کر دیااور اسے اپنے ہونٹوں کےدرمیان لے کر چوسنے لگی۔۔۔چُوستے ہوئے اُس کے اُوپرزبان پھیرنے لگی اور پِھر آہستہ آہستہ اسےاپنے منہ کے اندر لے جانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔موٹے لن کو اپنے منہ میں لےجانے کے لیے پُورا منہ کھولناپڑ رہا تھا لیکن صباء کر رہی تھی۔۔۔صباء کی نظر دینو کے لن سے نیچے پڑی تو۔۔۔نیچے دینو کے موٹے موٹے کالے بالز تھے۔۔۔موٹی موٹی گولیاں۔۔۔جن پر بال ہی بال تھے۔۔۔کالے موٹے موٹے موٹے۔۔۔لمبے بال۔۔۔جن پر سفید سفید میل جمی ہوئی تھی۔۔۔پوری طرح سے ڈھکا ہواتھا دینو کی گولیوں کو۔۔۔ صباء :دینو یہ جنگل تو کبھی صاف کر لیا کرو۔۔۔ دینو ہنسا۔۔۔تو کر دو تم خود ہی۔۔۔ صباء :کر تو دوں گی۔۔۔لیکن پِھر میں اپنی ہیرریموونگ کریم سےہی کروں گی۔۔۔ دینو ہنسا۔۔۔ٹھیک ہے اسی سے کر دینا۔۔۔پِھر میرا لن بھی تیری چوت کی طرح ہی چکنا ہو جائے گا۔۔۔پِھر تو تجھے اور بھی مزہ آئے گا نہ اپنی چوت میں لینے میں۔۔۔ صباء اسے گھور کر بولی۔۔۔میں نے کب بولا ہے کہ ایسےمجھے مزہ نہیں آتا تیرا لن اپنی چوت میں لینے سے۔۔۔ دینو :تو پِھر چاٹ نا نیچےسے میرے ٹٹوں کو بھی سالی۔۔۔ صباء کو پِھر سے برا تو لگالیکن اس نے اپنے ہونٹ نیچےرکھے۔۔۔دینو کے بالز پر اور ان کو چومنے لگی۔۔۔بالوں میں چھپے ہوئے دینو کے بالزکو چومنے کے بعد صباء نےاپنی زبان ان پر پھیرنی شروع کر دی اور پِھر اپنی زبان سے ان کوچاٹنا شروع کر دیا۔۔۔عجیب ہی اسمیل تھی اسکی بالز سے جو آ رہی تھی۔۔۔صباء نے ہمت کر کے اپنا منہ پُورا کھولااور اس کی ایک بال کو اپنےمنہ میں کھینچ لیا۔۔۔ دینو تڑپا۔۔۔آہ سالی کیا کھائے گی میرےٹٹوں کو۔۔۔ صباء اس کی ایک بال کواپنے منہ میں ہی لےکر چوسے جا رہی تھی اور ساتھ ہی چاٹ رہی تھی پُورا تو اندر لینے میں کامیاب نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ اتنے بڑے تو تھے اُس کے ٹٹے۔۔۔ دینو :اف ف ف ف۔۔۔کیا چیز ہے تو۔۔۔سالی۔۔۔ تھوڑی دیر تک دینو کالن چوسنے کے بعد۔۔۔صباء نے اس کی ٹوپی پراپنے منہ سے کافی سارا تھوک گرایااور پِھر دینو کے اُوپر چڑھ گئی۔۔۔اپنے ہاتھ سے دینو کا لن پکڑکر سیدھا کیااور پِھر اپنی چوت کا سوراخ اس کے لن پر ٹکا دیا۔۔۔آہستہ آہستہ نیچے کو بیٹھنےلگی۔۔۔دینو کے لن کی ٹوپی سرکتی ہوئی۔۔۔پھسلتی ہوئی۔۔۔صباء کی چوت میں چلی گئی۔۔۔ساتھ ہی ایک کراہ سی نکلی صباء کے منہ سے۔۔۔لیکن بہت زیادہ اونچی نہیں۔۔۔صباء رکی نہیں اور آہستہ آہستہ نیچے کو بیٹھنے لگی۔۔۔تھوڑا اُوپر کو اٹھتی اور پِھرنیچے کو بیٹھتی۔۔۔ایسے آہستہ آہستہ اوپر نیچےہونے سے۔۔۔دینو کا لن صباء کی چوت میں اترنے لگا۔۔۔صباء کو بھی اپنی چوت میں پھنستے ہوئے لن کے اندرباہر ہونے سے لطف آ رہا تھا۔۔۔بہت ہی مزہ آرہا تھا۔۔۔اس نے اپنے دونوں ہاتھ دینو کے چوڑے۔۔۔موٹے سینے پر رکھے اور اپنی گانڈ کو آہستہ آہستہ اُوپرنیچے کرتے ہوئے دینو کا لن اپنی چوت میں اندرباہر لینے لگی۔۔۔کچھ ہی دیر میں صباء اپنی نازک سی چوت میں دینو کاپُورا لن لینے میں کامیاب ہوگئی۔۔۔جب پوری نیچے بیٹھی۔۔۔دینو کی موٹی رانوں پر تو۔۔۔دینو کا پورے کا پُورا موٹاکالا لن اس کی چوت میں اُتَرچکا تھا۔۔۔ایک لمحے کو تو صباء کو تھوڑا درد ہوا۔۔۔لیکن وہ برداشت کر گئی اور پِھر سے آہستہ آہستہ اوپرنیچے ہونے لگی۔۔۔ دینو کا لن اپنی چوت میں اندر باہر لیتے ہوئے۔۔۔ ٭٭٭٭٭ بانو کی ٹائیٹ گانڈ میں اپنالن پھنسائے ہوئے اشرف ابھی تک اپنی پہلی گانڈ کا مزہ لےرہا تھا۔۔ لیکن اِس ٹائیٹ سوراخ میں وہ کیسے کافی دیر تک اپنالن جھڑنے سے روک سکتا تھا۔۔۔وقت کے ساتھ ساتھ اُس کےدھکوں کی رفتار تیز ہوتی جارہی تھی اور ساتھ میں بانو کی چیخیں بھی تیز ہو رہی تھیں۔۔۔وہ بار بار اسے آہستہ چودنے کو بولتی۔۔۔لیکن اشرف کہاں سننے والا تھا اتنے دنوں کے بعد تو اسے آج اپنی مرضی کرنے کا موقع ملا تھا۔۔۔اب وہ کیسے باز آتا۔۔۔ اس نے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے۔۔۔بانو کے دونوں کندھوں کواپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیا اور دھانہ دھن اپنا لن بانوکی گانڈ میں اندرباہر پھیرنے لگا۔۔۔ بانو چیخی۔۔۔آہ صاحب جی آہستہ۔۔۔ پھاڑوگے کیا میری گانڈ۔۔۔؟؟ اشرف ہنسا۔۔۔تیری گانڈ میں مزہ ہی اتنا آرہا ہے کیا کروں۔۔۔ اور پِھر اشرف نے بانو کےکندھوں کو پکڑے ہوئے ہی ایک زور کا جھٹکا مارا اوراپنا لن جڑ تک اس کی گانڈمیں اُتار کر وہیں رک گیا۔۔۔بہت اندر تک اُتَر چکا تھا لن اور ساتھ ہی اشرف کے لن نے منی نکالنا شروع کر دی۔۔۔اشرف کے لن سے منی کی دھار نکل کر اندر تک جانے لگی اور اشرف۔۔۔لذت آمیز آوازوں کے ساتھ فارغ ہوگیا۔۔۔بنا اپنا لن بانو کی گانڈسے نکالے اس کی کمر پر ہی گر گیا۔۔۔بانو بھی نیچے کو لیٹ گئی اور اشرف اُس کے اُوپر تھا۔۔۔اس کا لن ابھی بھی بانو کی گانڈ کے اندر تھا۔۔۔بانو بھی آہستہ آہستہ اپنی گانڈ کو سکیرتے ہوئے اشرف کے لن کو جیسے اپنی گانڈسے ہی چوس رہی تھی۔۔۔اس کی منی کا آخری قطرہ تک نکال لینا چاہتی تھی اور اشرف نڈھال ہو کر بانوکے اُوپر لیٹا ہوا تھا۔۔۔لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے ۔ بانو بھی ہانپتے ہوئے بولی۔۔۔ صاحب اب صباء میم صاحب کی گانڈ کا مزہ ضرور لینا۔۔۔ اشرف بھی اپنے ہی خیالوں میں بول گیا۔۔۔پتہ نہیں لینے دے گی بھی کہ نہیں۔۔۔پر تو تو اپنی گانڈ دیتی ہی رہے گی نہ مجھے۔۔۔ بانو اشرف کی بات پر مسکرا دی۔۔۔اشرف جیسے خوبصورت مردکو کیسے وہ انکار کر سکتی تھی کبھی۔۔۔ ٭٭٭٭٭ دینو کے اوپر چڑھ کر چودواتے ہوئے۔۔۔صباء کی چوت دو بار پانی چھوڑ چکی تھی اور اب لگ رہا تھا کہ دینو کالن بھی فارغ ہونے کے قریب ہی ہے۔۔۔دینو نے صباء کو اپنے اُوپرسے اٹھایااور اسے بیڈ پر لیٹا دیااور خود اس کی سائیڈ پر اپنالن ہاتھ میں پکڑکر مسلنے لگا۔۔۔اس کا موٹا لن صباء کےچہرے کے بالکل قریب تھا۔۔۔صباء سمجھ رہی تھی کے دینو کیا چاہتا ہے۔۔۔ وہ آج بھی اپنی منی صباءکے منہ میں ڈالنا چاہتا تھا۔۔۔صباء نے ایک دو بار اُس کےلن کو اپنی زبان سے چاٹابھی اور پِھر کچھ ہی دیر کےبعد دینو کے کالے لن سےگاڑھی سفید منی۔۔۔نکل کر صباء کے گال پر گرنے لگی۔۔۔دینو نے اپنے لن کو صباء کےمنہ میں لے جانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔۔۔وہ ساری منی صباء کےچہرے پر ہی گرانا چاہتا تھاشاید۔۔۔لیکن چند لمحوں کے بعد ہی صباء نے اس کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اپنے منہ میں لےلیا۔۔۔اسے چوسنے لگی۔۔۔کچھ منی نکل کر صباء کےمنہ میں گرنے لگی اور صباء کے سک کرنے سےلن کے اندر سے بھی منی چوسی گئی۔۔۔اب صباء نے دینو کا لن اپنےمنہ سے نکالااور اُس کے سوراخ پر اپنی زبان پھیرتے ہوئے دینو کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ صباء :کیوں پِھر دینو جی۔۔۔آیا مزہ۔۔۔؟؟ دینو بولا۔۔۔بہت مزہ آیا ہے۔۔۔بہت زیادہ۔۔۔ پِھر دینو نے اپنی موٹی انگلی سے صباء کی گال پر لگی ہوئی منی کو پُش کرتے ہوئے صباء کے ہونٹوں کی طرف بڑھایا۔۔۔صباء نے مسکرا کر دینو کودیکھا اور اور اس کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے اپنا منہ کھول دیا۔۔۔دینو اپنی منی کو اپنی انگلی سے صباء کے منہ میں ڈالنے لگا۔۔۔کچھ ہی دیر میں دینو بولا۔۔۔ چل اب تیری گانڈ ماروں گامیں۔۔۔ دینو کا موٹا لن اپنی گانڈمیں جانے کے خیال سے ہی صباء کی گانڈ پھٹنے لگی۔۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔۔ صباء :نہیں نہیں۔۔۔دینو آج نہیں۔۔۔پِھر کبھی۔۔۔اب اشرف بھی آنے والا ہوگا۔۔۔ اشرف کا سنتے ہی دینو کووقت کا احساس ہوا۔۔۔تو وہ بھی فوراً ہی کپڑےپہننے لگا۔۔۔صباء اپنے کپڑے پہننے لگی تو۔۔۔دینو بولا۔۔۔ دینو :رک جا نہ۔۔۔مجھے گیٹ تک چھوڑنے چل نہ ننگی ہی۔۔۔پِھر آ کر پہن لینا کپڑے۔۔۔ صباء دینو کی فرمائش پرہنس پڑی۔۔۔ابھی تیرا دِل نہیں بھرامجھے ننگا دیکھنے سے۔۔۔؟؟ پِھر دینو کو ننگے ہی جا کرصباء نے گیٹ پر چھوڑااور واپس آ کر جلدی سےاپنے کپڑے پہننے لگی۔۔۔دینو جب صباء کے فلیٹ والے فلور کی سیڑھیاں اُتَر کرجب اس سے نیچے کی سیڑھیاں اُتَررہا تھا تو اسےاشرف سیڑھیاں اُوپر چڑھتا ہوملا۔۔۔دونوں ہی ایک دوسرے کودیکھ کر اچانک ہی ساکت ہوگئے۔۔۔گھبرا گئے۔۔۔جیسے ان کی چوری پکڑی گئی ہو۔۔۔لیکن یہ ایسی کیفیت تھی کہ دونوں ہی خود کو چورسمجھ رہے تھے۔۔۔لیکن کسی کو بھی دوسرےپر شک نہیں تھا۔۔۔دینو دِل ہی دِل میں۔۔۔اف ف ف ف۔۔۔ یار بڑا بچا ہوں یار۔۔۔ابھی سالی کی گانڈ مارنے لگ جاتا تو اِس نے آ کر میری گانڈ ہی مار دینی تھی۔۔۔اپنی بِیوِی کو چودتے ہوئے دیکھ کر۔۔۔اشرف بھی یہی سوچ رہا تھاکہ۔۔۔اگر میں ابھی نہ نکلتا تواسے پتہ چل جاتا۔۔۔کہ میں اس کی بِیوِی کوچود کے آ رہا ہوں۔۔۔دونوں کے دِل میں ایک ہی چور تھا کہ وہ دوسرے کی بِیوِی کو چود کر آ رہا ہے اس کی غیر موجودگی میں۔۔۔لیکن دونوں میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دوسرا بھی اِس ٹائم میں اسی کے گھر پراسی کی بِیوِی کو چود رہا تھا۔۔۔آخر دینو ہی بولا۔۔۔ دینو :سلام صاحب۔۔۔ اشرف :ہاں دینو کیسے ہو۔۔۔ اس کا لہجہ ابھی بھی شرمندہ شرمندہ تھا۔۔۔ دینو بھی گھبرائی ہوئی آوازمیں۔۔۔ٹھیک ہوں صاحب۔۔۔ پِھر خود ہی ایکسپلین کرنےلگا۔۔۔وہ صاحب میں۔۔۔اُوپر مولوی صاحب کے گھرکچھ سامان دینے گیا ہوا تھا۔۔۔باہر سے منگوایا تھا نہ انہوں نے۔۔۔ابھی آیا ہوں۔۔۔ اشرف بھی شرمندہ سا بولا۔۔۔اچھا اچھا۔۔۔بس میں بھی تھوڑی دیر کےلیے باہر نکلا ہوا تھا ایک کام یاد آ گیا تھا سوچاپہلے وہ کر لوں پِھر ہی ریسٹ کروں گا۔۔۔ دونوں ہی اپنی طرف سےایک دوسرے کو مطمئن کرنےکی کوشش میں تھے اور یہ یقین دلانا چاہتے تھے کہ دونوں ہی اِس ٹائم میں بِلڈنگ سے باہر تھے۔۔۔آخر دینو نے ہی دوبارہ سےسلام کیا اور جلدی سے سیڑھیوں سے نیچے اُتَرگیا۔۔۔دونوں ہی بے وقوف دِل ہی دِل میں شکر کر رہے تھے کہ دوسرے کو اصلی بات کا پتہ نہیں چلا۔۔۔لیکن اصل بات کا تو بس دونوں کی بیویوں کو ہی پتہ تھا نہ۔۔۔جو ایک دوسرےکے شوہروں کے لن کا مزہ لےکر اب اپنے آپ کو ٹھیک ٹھاک کر رہی تھیں اپنے اپنےفلیٹ میں۔۔۔شام میں ابھی کوئی ایک گھنٹہ پڑا ہوا تھا اشرف کےڈیوٹی پر جانے میں تو اسےایک کال آئی۔۔۔کال اٹینڈ کرنے کے بعد اشرف جلدی سے تیار ہونے لگا۔۔۔صباء نے پوچھا۔۔۔ صباء :کیا ہوا۔۔۔کہاں جا رہے ہو اتنی جلدی۔۔۔کس کی کال تھی۔۔۔؟؟؟ اشرف :کہیں نہیں۔۔۔وہ بلڈنگ والوں کی میٹنگ ہے کوئی بِلڈنگ کے مالک نے بلوایا ہے سب کو۔۔۔ہوگی کوئی بات۔۔۔وہیں جانا ہے۔۔۔ صباء :اور کھانا۔۔۔؟ ؟ اشرف :وہ میں آ کر کھا لوں گا ابھی وہاں سے۔۔۔ یہ کہہ کر اشرف فلیٹ سےنکل گیا۔۔۔صباء بھی اپنے کام مکمل کرنے کے لیے کچن میں آ گئی۔ بِلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر ہی ایک میٹنگ ہال بنا ہوا تھا۔۔۔یا کہہ لو کہ ایک آفس ٹائپ جگہ تھی مالک کے بیٹھنے کےلیے۔۔۔وہیں پر سب کو میٹنگ کےلیے بلایا جاتا تھا۔۔۔اشرف جب وہاں داخل ہوا توبِلڈنگ کے کافی لوگ موجودتھے۔۔۔سب سے ملا۔۔۔تو اس کی نظر ایک طرف ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے میجر صاحب پر بھی پڑی۔۔۔اس کو اچانک سے اتنے دن کے بعد دیکھ کر اشرف کوحیرت ہوئی۔۔۔بِلڈنگ مالک کے پاس ہی ایک کرسی پر مولوی منصور صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھےاپنے پورے روب داب اور اپنےمتاثر کن حلیے کے ساتھ۔۔۔ہر کوئی ان سے بہت ہی احترام کے ساتھ بات کررہا تھا۔۔۔مولوی صاحب نے اشرف کوبھی اپنے پاس ہی ایک کرسی پر بلا لیا۔۔۔تب ہی بِلڈنگ مالک نے بات شروع کی۔۔۔ بِلڈنگ مالک ۔:دوستو۔۔۔آپ لوگوں کو اس ٹائم زحمت دی اِس کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔۔۔لیکن یہ آج کی میٹنگ ہمارےسب سے محترم بزرگ۔۔۔مولوی منصور صاحب اورہمارے دوست اشرف صاحب کی درخواست پر بلائی گئی ہے۔۔۔اب میں اپنے محترم مولوی صاحب سے گزارش کروں گاکہ وہ اپنی بات کو سب کے سامنے بیان کریں۔۔۔ سب خاموشی سے بِلڈنگ مالک کی بات سن رہے تھے۔۔۔اب سب لوگ ہی مولوی صاحب کی طرف دیکھنےلگے۔۔۔اشرف نے محسوس کیا کہ میجر عجیب سی نظروں سےاس کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ مولوی صاحب اپنی بھاری بھرکم اور رووب دار آوازمیں بولے:دوستو اور بھائیو۔۔۔اسلام علیکم۔۔۔میں نے ہماری بِلڈنگ کےمالک صاحب کو ایک مسئلہ بیان کیا تھا۔۔۔وہ میں آپ لوگوں کے علم میں بھی لانا چاہتا ہوں۔۔۔امید ہے کے کافی لوگوں کےعلم میں یہ بات پہلے سے ہی ہوگی۔۔۔مسئلہ تو کچھ ایسا خاص نہیں ہے۔۔۔لیکن اگر سمجھا جائے توبہت بڑی بات ہے۔۔۔ہم سب لوگ یہاں پر ایک ہی خاندان کی طرح مل جل کررہ رہے ہیں۔۔۔سب ہی ایک دوسرے کی مددکرتے ہیں اور ایک دوسرے کا بہت ہی خیال رکھتے ہیں۔۔۔یہ اتنی اچھی جگہ جو دی ہوئی ہے یہ ہمارے بِلڈنگ مالک صاحب کی مہربانی ہےکہ اتنا اچھا ماحول دیا ہواہے۔۔۔اب ہم سب کا بھی فرض ہےکہ ان کی عزت کا خیال رکھیں۔۔۔جیسا کہ آپ سب کو پتہ ہےکہ ہماری بِلڈنگ میں پچھلےدنوں دو بار پولیس بھی آئی اور سب جانتے ہیں کہ یہ کتنی شرمندگی کی بات ہےاور آپ لوگوں کو یہ بھی پتہ ہے کہ کیوں آئی پولیس۔۔۔اِس میں کچھ چھپانے کی بات نہیں ہے۔۔۔یہ ہمارے میجر صاحب کا پوچھنے آئے تھے۔۔۔میجر اِس اچانک کی بات پرچونک پڑااور پہلے تو اپنی نظر اٹھا کرمولوی صاحب کی طرف دیکھااور ان کے روب اور پورےکانفیڈینس سے بھری ہوئی نظر کو دیکھ کر اپنی نظریں جھکا لیں۔۔۔ مولوی صاحب دوبارہ شروع ہوئے۔۔۔یہ اچھی بات نہیں ہے۔۔۔اِس بات سے یہ انداذہ ہوتا ہےکہ میجر صاحب کا کاروبار کچھ اچھا کام نہیں ہےاور ایسی چیزیں ہم سب کےلیے شرمندگی اور پریشانی کاباعث ہیں۔۔۔دوسری کچھ شکایت ہمارےاشرف بیٹے کو بھی تھیں۔ جن کے ساتھ میجر صاحب کافی بدتمیزی بھی کرتے ہیں اور کافی بار ان کو اور ان کی انتہائی شریف اورمعصوم بِیوِی کو پریشان بھی کیا۔۔۔میرے سمجھانے کے باوجودبھی ان کا برتاؤ کچھ بہترنہیں ہوا۔۔۔تو آج سب لوگوں کو اسی لیے بلایا گیا ہے کہ میجرصاحب کو ایک وارننگ دی جائے کہ وہ اپنا سب کچھ درست کریں۔۔۔ورنہ ہم سب کی گزارش ہوگی بِلڈنگ مالک صاحب سے کہ وہ ان سے اپنا فلیٹ خالی کروائیں۔۔۔لیکن ہمارے خیال میں ان کوایک موقع ضرور دینا چاہیے۔۔۔ میجر صاحب کا چہرہ شرمندگی اور غصے سے لال سرخ ہو رہا تھا۔۔۔آج تک کبھی بھی اس کی اتنی بے عزتی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ایسے سب لوگوں کے سامنےبیٹھا کر اس کی جس طرح سے درگت بنائی گئی تھی اس سے وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا تھا۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اشرف اور مولوی صاحب کو وہیں قتل کر دیتا۔۔۔اندر ہی اندر دل سے مولوی صاحب اور اشرف کو گالیاں دے رہا تھا۔۔۔دِل چاہا اس کا کہ ابھی سب کے سامنے اشرف کا پول کھول دے کہ کیسے اس کی اپنی شریف اور معصوم بِیوِی رنڈیوں کی طرح اس سے چودواتی ہے خود آ کر۔۔۔یہ سوچ کر میجر نے منہ کھولنا چاہا یہ بات سب کے سامنے کہنے کے لیے۔۔۔لیکن پِھر خود ہی کچھ اورسوچ کر چُپ کر گیا۔۔۔اگر میں نے یہ بات کہ دی توپِھر تو فوراً ہی مجھے یہاں سے نکال باہر کیا جائے گا۔۔۔لیکن ابھی مجھے یہیں رہناہےاور اس کے لیے فی الحال چُپ رہنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔۔۔ایک اور آدمی بولا۔۔۔مولوی صاحب آپ ہمارےبزرگ اور قابل احترام ہیں۔۔۔سو جیسا آپ کہتے ہیں ہمیں منظور ہے۔۔۔ہم کوئی اور بات نہیں کریں گے۔۔۔باقی لوگوں نے بھی اس آدمی کی حمایت کر دی اور بِلڈنگ مالک نے تھوڑی سی وارننگ دی میجر صاحب کو۔۔۔ بِلڈنگ مالک۔۔۔:میجر صاحب امید ہے کہ آپ سب باتوں پر غور کریں گےاور ہمیں کسی مزید کاروائی پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔۔۔میجر کو بھی آخر اب بولناہی پڑا۔۔۔ جی ویسے ایسی کوئی بات تھی نہیں۔۔۔لیکن پِھر بھی میں مزیدمحتاط رہوں گا۔۔۔کہ کسی کو بھی کوئی شکایت کا موقع نہ ملے۔۔۔ کچھ ہی دیر کے بعد چائےپیش کی گئی اور پِھر سب لوگ چلے گئے۔۔۔اشرف نے نیچے سے ہی فون کر دیا صباء کو۔۔۔کہ وہ سیدھا ڈیوٹی پر جا رہاہے اب کھانے کا ٹائم نہیں بچا۔۔۔اس نے کچھ بھی میٹنگ کے بارے میں صباء کو نہیں بتایا۔۔۔مولوی صاحب اور میجرصاحب آگے پیچھے ہی اُوپر چڑھے۔۔۔میجر اپنے فلیٹ کالوک کھولنے لگا اور مولوی صاحب نے صباء کے دروازےپر دستک دے دی۔۔۔اپنے فلیٹ میں داخل ہوتےہوئے میجر نے ایک خونی نظر مولوی صاحب پر ڈالی۔۔۔لیکن آگے سے مولوی صاحب کا چہرہ بھی بالکل سپاٹ تھا۔۔۔ کوئی ایکسپریشن نہیں تھےسوائے فل کانفیڈینس اوراپنے روب کے۔۔۔میجر اندر چلا گیا۔۔۔ صباء نے دروازہ کھولاتو سامنے مولوی صاحب کودیکھ کر فوراً ہی اپنا دوپٹہ درست کرنے لگی۔۔ لیکن اتنی دیر میں ہی۔۔۔مولوی صاحب کو صباء کےمموں کے درشن ہو گئے۔۔۔دِل ہی دِل میں سوچنے لگےکہ چلو آنے کا مقصد تو پُوراہوا۔۔۔صباء نے مولوی صاحب کوسلام کیا۔۔۔ صباء :سلام انکل۔۔۔خیریت تو ہے نہ۔۔۔آنٹی تو ٹھیک ہیں نہ۔۔۔؟؟ مولوی صاحب مسکرائے۔۔۔صباء کے سر پر ہاتھ پھیرااور بولے۔۔۔ ہاں بیٹی سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔۔۔بس تم کو ایک بات بتانی تھی۔۔۔ صباء ان کو راستہ دیتےہوئے۔۔۔آئیے نہ آپ اندر آئیں نہ۔۔۔ مولوی صاحب نے اپنا ہاتھ صباء کے کاندھے پر رکھا اوراسے تھپتھپا کر بولے۔۔۔نہیں میں گھر جاتا ہوں بس۔۔۔تم کو یہ بتانا تھا کہ آج یہ میجر آ گیا ہےاور آتے ہی اس کی سب کے سامنے میں نے کلاس لی ہے۔۔۔اگر انسان ہوا تو اب کبھی بھی تمہارے اور اشرف کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔۔۔ صباء نے صرف ان کی بات کاپہلا حصہ ہی غور سے سنااور اس کا دِل خوشی سےبھر گیا۔۔۔کہ میجر واپس آ گیا ہے۔۔۔میجر گھر آیا ہے۔۔۔اور باقی باتوں کو اس نےاتنی اہمیت نہیں دی۔۔ صباء :کیا کہا آپ نے میجر صاحب کو۔۔۔؟ ؟ ابھی بھی صباء کے دِل اوراس کی زبان پر میجر کےلیے احترام اور اس کی ڈومینیشن برقرار تھی مولوی صاحب:بس اسے سمجھایا ہے کہ یہاں شریفوں کی طرح رہےاور اپنے غلط کام بند کر دے۔۔۔یا پِھر فلیٹ چھوڑ دے۔۔۔ صباء کو یہ باتیں بری لگیں۔۔۔کیا ضرورت تھی انکل۔۔۔اب تو وہ کافی ٹھیک ہوچکےہیں۔۔۔ ایسے ہی بس ان کو تنگ کرنےوالی بات ہی ہے۔۔۔ مولوی صاحب :نہیں بیٹی۔۔۔اب اس کو وارننگ دی ہے نہ تو وہ ٹھیک رہے گا اب۔۔۔اچھا میں اب چلتا ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر مولوی صاحب اپنےفلیٹ میں جانے کے لیے مڑگئےاور صباء ایک نظر میجر کے فلیٹ کے دروازے پر ڈال کرواپس اندر آ گئی۔۔۔خوشی سے۔۔۔جھومتی ہوئی۔۔۔کانپتی ہوئی۔۔۔لہراتی ہوئی۔۔۔اپنے چہرے پر مسکراہٹ پھیلائے ہوئے۔۔۔ہنستے ہوئے۔۔۔ کھلکھلاتے ہوئے۔۔۔بس نہیں چل رہا تھا کہ فوراًہی اُڑ کر میجر کے فلیٹ میں چلی جاتی۔۔۔ بلکہ میجر کی بانہوں میں چلی جاتی۔۔۔لیکن ابھی تو اُس کے پاس پوری رات باقی تھی۔۔۔ پورے 12 گھنٹے باقی تھے۔۔۔اشرف کی واپسی میں اور وہ اپنا ہر ہر لمحہ۔۔۔اپنا ہر ہر پل۔۔۔ صرف اور صرف میجر کےپاس گزارنا چاہتی تھی۔۔۔جلدی سے اپنے کمرے میں گئی۔۔۔ اپنے سارے کپڑے اُتار کرپھینکے۔۔۔بالکل ننگی ہو کر اپنے باتھ روم میں گُھس گئی۔۔۔ جلدی سے ہیر ریموونگ کریم نکالی اور اسے اپنی بغلوں ،اور چوت کے بالوں پر لگایا۔۔۔کچھ ٹائم تو دینا ہی تھا نہ ہیر ریموونگ کریم کو۔۔۔اسی ٹائم میں وہ باتھ روم سے باہر نکل آئی۔۔۔ اُس کے تو پیر ہی زمین پرنہیں ٹک رہے تھے۔۔۔فوراً ہی اپنی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوگئی۔۔۔اپنے خوبصورت ننگے جِسَم کو دیکھنے لگی۔۔۔اسے محسوس ہوا کہ اُس کےخوبصورت سفید مموں کےنپلز بالکل سیدھے اکڑے ہوئے تھے۔۔۔شاید میجر کے واپس آ جانےکے خیال سے ہی۔۔۔صباء نے مسکرا کر اپنےگلابی نپلز کو اپنی انگلیوں کے بیچ میں لیا اور ان کو ہولے سے مسل دیا۔۔۔آہ خود ہی ایک سسکاری سی نکل گئی اُس کے منہ سےاور خود ہی ہنس پڑی۔۔۔پِھر اسے خیال آیاکچھ پکانے کا میجر کے لیے۔۔۔اسے یاد آیا کہ چکن پیسز کومصالحہ لگا کر رکھا ہوا ہے۔۔۔ننگی ہی دوڑی کچن کی طرف۔۔۔جلدی سے پین میں آئل ڈالااور چکن کے پیسز اس میں ڈال کے تلنے کے لیے رکھ دیےہلکی آنْچ پر۔۔۔پِھر ایک نظر نیچے اپنی چوت کے بالوں پر لگی ہوئی کریم کی طرف ڈالی اورواپس بھاگی باتھ روم میں۔۔۔جلدی سے کریم اتاری۔۔۔نیچے سے انتہائی ملائم ،چکنی۔۔۔گوری۔۔۔چوت نکل آئی۔۔۔جس پر ایک بھی بال نہیں تھا۔۔۔جیسے کے کبھی وہاں پرکوئی بال اگا ہی نہ ہو۔۔۔ایسے ہی اپنی بغلوں کو بھی صاف کیااور جلدی سے نہانے لگی۔۔۔اچھے سے خوشبودار شیمپوسے اپنے بال دھوئے۔ سوپ مل مل کے اپناجِسَم دھویا۔۔۔اچھے سے رگڑ کراور پِھر نہا کر ٹاول سےجِسَم پونچھتے ہوئے باہر آئی۔۔۔کچن میں جا کر چکن کو اُلٹا۔۔۔فرائی ہونے کے قریب ہی تھا۔۔۔پِھر واپس کمرے میں آ گئی۔۔۔اپنا فیوریٹ پرفیوم اٹھایا۔۔۔اپنے پورے ننگے جِسَم پراسپرے کرنے لگی۔۔۔کوشش تو اس کی تھی کہ جِسَم کے ہر ایک انگ پرپرفیوم چھڑک دے۔۔۔بغلوں میں۔۔۔سینے پر۔۔۔مموں پر۔۔۔گلے میں۔۔۔پیٹ پر۔۔۔چوت پر۔۔۔اپنی رانوں اور چوت کے ملن پر۔۔۔پتہ نہیں کتنا جوش وخروش تھا صباء میں میجرسے ملنے کا۔۔۔دوبارہ سے کچن میں گئی اور فرائی ہو چکا ہوا چکن اُتَار کر رکھ دیا اور کمرےمیں آ کر تیار ہونے لگی۔۔۔اپنی ایک خوبصورت سی کالی برا اور پینٹی نکالی۔۔۔دونوں ہی ٹرانسپیرینٹ تھے۔۔۔پہنی تو ٹرانسپیرینٹ برا کےنیچے سے اُس کے گورےگورے ممے نظر آ رہے تھے۔۔۔گلابی نپل صاف اکڑے ہوئے دِکھ رہے تھے۔۔۔پینٹی پہنی تو وہ بھی ٹرانسپیرینٹ ہی تھی۔۔۔چوت کے اُوپرکا گورا گورا بالوں سے پاک چکنا حصہ بالکل صاف دِکھ رہا تھا۔۔۔خود کو اس ٹرانسپیرینٹ برا اور پینٹی میں آئینےکے سامنے دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔خود سے ہی بولی۔۔۔ میجر جی۔۔۔آج تو آپ گئے کام سے۔۔۔پِھر خود ہی ہنسنے لگی۔۔۔اب اپنے پہننے کے لیے کپڑےسلیکٹ کرنے لگی۔۔۔کیا پہنوں آج ایسا جو کہ میجر صاحب کے ہوش ہی اڑادے۔۔ سب کپڑے دیکھ رہی تھی۔۔۔نکال رہی تھی اور واپس رکھ رہی تھی۔۔۔کچھ بھی تو پسند نہیں آ رہاتھا اسے۔۔۔پِھر ایک خیال اُس کے ذہن میں کودا۔۔۔کیوں نہ صرف اپنی اسی پینٹی اور برا میں ہی چلی جاؤں میجر کے سامنے۔۔۔خوش ہو جائے گا۔۔۔اپنی رنڈی کو ایسے دیکھ کر۔۔۔یہ سوچ کر صباء مسکرا دی اور کپڑوں کی الماری بند کرکے آئینے کے سامنے آگئی۔ جلدی جلدی اپنا میک اپ کرنے لگی۔۔۔پیاری سی لپ گلو لگائی۔۔۔جو کے تیز سرخ رنگ کی تھی۔۔۔ہونٹ اُس کے لال ہوکر چمکنے لگے۔۔۔لیکن ذرا بھی اوور نہیں لگ رہے تھے۔۔۔ گالوں پر اچھا سا بیس لگایا۔۔۔اوپر سے فیس پاؤڈر۔۔۔آنكھوں میں کاجل لگایااور آنكھوں کے اوپر ہلکا ہلکاآئی شیڈ لگا لیا۔۔۔بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔صباء کا جِسَم اور اس کا حسن دمک اٹھا تھا۔۔۔چمک اٹھا تھا۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسےکے پرستان سے کوئی پری ہی اُتَر آئی ہو زمین پر۔۔۔میجر کے لیے۔۔۔صباء بہت ہی خوش تھی۔۔۔دِل سے سج رہی تھی میجر کے لیے۔۔۔سب تیاری مکمل کر کے باہر آگئی۔۔۔کچن میں آ کر كھانا پیک کیا۔۔۔سیٹنگ روم کی لائٹس اوف کر کے۔۔۔دھڑکتے دِل کے ساتھ بالکونی میں قدم رکھا۔۔۔صرف برا اور پینٹی پہنے ہوئے۔۔۔پہلی بار ایسے اِس طرح بالکونی میں آئی تھی۔۔۔ڈر بھی لگ رہا تھا۔۔ کہ کوئی دیکھ نہ لے۔۔۔لیکن جسے دکھانا تھا اُس کےلیے سب کچھ قبول تھا۔۔۔یہ شکر ہے کے پُورا اندھیراچھا چکا ہوا تھا۔۔۔کوئی دیکھنے والا نہیں تھا۔۔۔پِھر بھی ہمت نہ ہوئی۔۔۔واپس اندر گئی تیزی سے اورایک نائٹ گاؤن اٹھا کر اپنےننگے جِسَم پر پہن لیااور واپس آ کر درمیانی دیوارکے اُوپر سے میجر کی بالکونی کے دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔اندر لائٹ جل رہی تھی کنفرم ہوگیا کہ اندر ہی تھامیجر۔۔۔کھانے کا پیکٹ دیوار پر رکھااور اسی ننگی حالت میں کرسی پر چڑھ کردیوار پھلانگ گئی۔۔۔صرف پینٹی پہنے ہونے کی وجہ سے اور بھی آسانی تھی اُس کے اوپر چڑھنے میں۔۔۔دوسری طرف میجر کی بالکونی میں اُتَر گئی۔۔۔ہلکی ہلکی چل رہی ٹھنڈی ہوا اُس کے جِسَم کے رونگٹے کھڑے کر رہی تھی۔۔۔دِل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔۔ سانسیں پھول رہی تھی۔۔۔میجر کا سامنا کرنے کے خیال سے ہی اور پِھر ایک ہاتھ میں کھانے کا پیکٹ پکڑے ہوئے۔۔۔صباء نے بالکونی کے دروازےپر ہاتھ رکھا اورہینڈل گھما دیا۔۔۔ بھری محفل میں۔۔۔سب بِلڈنگ والوں کے سامنے۔۔۔اتنی بری طرح سے بے عزت ہونے کے بعد۔۔۔میجر واپس اپنے فلیٹ میں آنے کے بعد انتہائی غصے میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔وہ ان ساری باتوں پر غور کررہا تھا۔۔۔ہر ایک غنڈے اور غلط آدمی کی طرح ہی۔۔۔اسے اب بھی اپنے میں کوئی غلطی اور برائی نہیں دِکھ رہی تھی۔۔۔غصہ آ رہا تھا تو صرف مولوی صاحب اور اشرف پر۔۔۔کہ کیسے۔۔۔کیسے آخر۔۔۔انہوں نے ہمت کی سب بِلڈنگ والوں کو میرےخلاف بھڑکانے کی۔۔۔کبھی اس کا دِل کرتا کےسیدھا ہی۔۔۔دونوں کو قتل کروا دے۔۔۔اپنے آدمیوں سے۔۔۔لیکن پِھر اسے خیال آتا کہ نہیں یہ تو سیدھی سیدھی اسی پر بات آئے گی۔۔۔وہ پتہ نہیں کیا کیا سوچ رہاتھا۔۔۔اپنے فلیٹ میں واپس آنے سے پہلے۔۔۔سوچ کر بیٹھا ہوا تھا کہ جاتے ہی پہلی رات ہی صباءکے خوبصورت جِسَم کےمزے لوٹے گااور رنڈی کی بانہوں میں رات گزارے گا۔۔۔لیکن آتے ساتھ ہی اس کاسارا موڈ خراب کر دیا گیاتھا۔۔۔اسی لیے ابھی تک وہ اپنی رکھیل کو ملنے بھی نہیں گیاتھا۔۔۔یہ تو اسے پتہ ہی تھا کہ صباء کو اس کی واپسی کی خبر ہو چکی ہونی ہےاور وہ لازمی اُس کے پاس آئے گی۔۔۔ اتنا تو اسے اپنی طاقت پربھروسہ ہی تھا کہ اس کاپھنسایا ہوا شکار اتنی آسانی سے اُس کے ہاتھوں سے نہیں نکل سکتا۔۔۔اِس وقت بھی وہ اپنےبیڈروم میں بیڈ پرٹانگیں پھیلائے بیٹھا ہوا۔۔۔ شراب کی بوتل ہاتھ میں پکڑے ہوئے۔۔۔اُس کے گھونٹ لے رہا تھا۔۔۔اپنے غصے کو ٹھنڈا کرنے کےلیےاور کچھ سوچنے کے لیے۔۔۔ابھی تک اس نے گھر آ کر نہ تو اپنے کپڑے تبدیل کیے تھےاور نہ ہی اپنے بوٹ تک اتارے تھے۔۔۔سوائے پینے کے اس کا کسی کام کو دِل نہیں کر رہا تھا۔۔۔اس وقت بھی وہ نشے میں ڈوبتا جا رہا تھا جب اسےاپنی بالکونی میں کسی کے کودنے کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔بنا اٹھ کر دیکھےاور بنا کسی اور کا سوچے۔۔۔اسے پُورا یقین تھا کہ یہ صباء ہی تھی۔۔۔جوکہ اپنے دِل کے ہاتھوں اور یا پِھر اپنی چوت کی پیاس کے ہاتھوں۔۔۔مجبور ہو کر خود ہی اُس کےپاس چلی آئی تھی۔۔۔اس کا انتظار کر کہ۔۔۔لیکن اُس کے آنے سے بھی میجر کو اب کوئی خوشی نہیں ہو رہی تھی۔۔۔بلکہ سچ مانو تو۔۔۔شراب پینے کے علاوہ اس کاکچھ بھی کرنے کو دِل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔صرف اور صرف اپنی بےعزتی اور تذلیل کی وجہ سے۔۔۔اس نے سوچ لیا کہ جیسے ہی صباء آتی ہے تو اسے واپس بھیج دے گا۔۔۔کہہ دے گا کہ اب اس کا موڈنہیں ہے اُس کے ساتھ کچھ بھی کرنے کا۔۔۔چلی جائے واپس وہ اور چدوائے جا کر اپنے اسی گانڈو شوہر سے۔۔۔بہن چود گاندؤ سالا۔۔۔سالا میرے خلاف بولنے لگاہے۔۔۔غصے اور نفرت سے میجر کےمنہ سے اشرف کے لیے ایک گالی نکل گئی۔۔۔میجر کی بالکونی کا دروازہ کھول کر صباءاپنے دھڑکتے ہوئے دِل کےساتھ فلیٹ میں داخل ہوئی۔۔۔سیٹنگ روم بالکل خالی تھا۔۔۔صباء نے میجر کے بیڈروم کی طرف دیکھا۔۔۔ دروازہ تھوڑا کھلا ہوا تھا اوراندر سے کمرے میں جلتی ہوئی لائٹ بھی نظر آ رہی تھی۔۔۔لائٹ جلتی ہوئی دیکھ کرصباء کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔وہ تیز ہوتی ہوئی دھڑکن کے ساتھ بیڈروم کے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔پاس جا کے دروازہ کھولا اوراندر داخل ہوگئی۔۔۔لیکن دروازے کے پاس ہی کھڑی ہوگئی۔۔۔اندر جاتے ہی اس کی نظرمیجر پر پڑی۔۔۔جو بیڈ کی بیک سے ٹیک لگائے ہوئے۔۔۔ہاتھ میں شراب کی بوتل پکڑے ہوئے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔صباء اپنے ہونٹوں پرایک قاتلانہ مسکان سجائےہوئے میجر کی طرف دیکھنے لگی اتنے دنوں کے بعد میجر کودیکھ کر صباء کی حالت ہی خراب ہو رہی تھی۔۔۔چوت خود سے ہی گیلی ہونےلگی تھی اور پینٹی بھی۔۔۔میجر نے وہیں بیٹھے بیٹھے۔۔۔بنا ہلے جلے۔۔۔بنا کوئی بات کئے۔۔۔بس اپنی نظریں۔۔۔شرابی نظریں۔۔۔صباء پر جما دیں۔۔۔جیسے پتہ نہیں کچھ سوچ رہا ہو۔۔۔صباء نے جب میجر کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پایا تواُس کے چہرے کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہوگئی۔۔۔میجر کی لال ہوتی ہوئی آنكھوں میں اپنی آنکھیں ڈال کر صباء نے کھانے کا پیک پاس کے صوفہ پر رکھااور اپنے گاؤن کی بیلٹ کھولنے لگی۔۔۔منہ اس کا اپنا بھی خشک ہورہا تھا۔۔۔ایکسائٹمنٹ سے۔۔۔اپنے اندر کی گرمی سےاور پِھر صباء نے اپنے جِسَم پر پہنا ہوئے گاؤن کی بیلٹ کھول کر اُس کے دونوں حصوں کو کھولااور اپنا گورا گورا جِسَم میجرکی آنكھوں کے سامنے کر دیا۔۔۔جوکہ صرف برا اور پینٹی میں تھا۔۔۔آہستہ سے اپنے گاؤن کو اپنےکندھوں سے پیچھےکو سرکایااور اس کا گاؤن اُس کےملائم۔۔۔چکنے بدن سے پھسلتا ہوا اُس کے جِسَم سے الگ ہو کرنیچے گر گیا۔۔۔اپنے حَسِین جِسَم کو میجرکی نظروں کے سامنے ننگا کرتے ہوئے۔۔۔اب صباء میجرکے سامنے اپنی ٹرانسپیرینٹ برا اورپینٹی میں کھڑی تھی اور اپنے دونوں ہاتھوں کواپنی کمر پر رکھ کر ایک اداسے میجر کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔جیسے وہ اپنی بےباقی اور اپنے جِسَم کی خوبصورتی کی تعریف کی منتظر ہو میجر سے۔۔۔آخر میجر بول ہی پڑا۔۔۔بولا۔۔۔ نہیں۔۔۔بلکہ۔۔۔میجر دھاڑا۔۔۔کسی شیر کی طرح۔۔۔ میجر :دفعہ ہو جا یہاں سے۔۔۔صورت بھی نہیں دیکھنی مجھے تیری۔۔۔کتیا۔۔۔ صباء ایکدم میجر کےایسے دھارنے سے کانپ اٹھی۔۔۔اُس کے تو پیروں کے نیچےسے جیسے زمین ہی نکل گئی۔۔۔جیسے اُس کے سپنوں کا تاج محل ایک ہی آواز سے ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا ہو۔۔۔پریشان نظروں سے میجر کی طرف دیکھتی رہی۔۔۔پِھر آہستہ آہستہ اسی نیم برہنہ حالت میں ہی میجرکے بیڈ کی طرف بڑھی۔۔۔جو اس سے چند قدم کےفاصلے پر ہی تھا۔ صباء :کیا ہوا خیریت تو ہے۔۔۔؟؟؟ میجر نے اپنا ایک ہاتھ بڑھایااور لپک کر پاس کھڑی ہوئی صباء کی گردن دبوچ لی۔۔۔اور بولا۔ میجر :سنا نہیں تجھے کیا کہا ہےمیں نے۔۔۔ڈرامہ کر رہی ہے میرے ساتھ۔۔۔تو نے اور تیرے اس گانڈو شوہر نے ہی توسارا پلان بنایا ہے نہ۔۔مجھے یہاں سے نکالنے کااور تم دونوں نے ہی مجھےذلیل کیا ہے نہ سب کے سامنے اس مولوی کےساتھ مل کر۔۔۔ صباء کو ساری بات سمجھ آگئی۔۔۔کہ میجر کیوں غصے میں ہے۔۔۔فوراً ہی اپنے دونوں ہاتھ اپنی گردن پر رکھے ہوئے میجر کے ہاتھ پر رکھ کربولی۔۔۔ پلیز چھوڑ دو مجھے۔۔۔میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔ میجر نے ایک جھٹکے سےصباء کو پرے پھینکتے ہوئے صباء کو چھوڑا اور دوبارہ بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔اسی طرح اپنے بوٹ سمیت اپنے پیر بیڈ پر رکھ کر۔۔۔صباء نیچے فرش پر گری تھی لیکن اسی حالت میں۔۔۔اسی ننگی حالت میں۔۔۔سرکتے ہوئے۔۔۔میجر کے بیڈ کے قریب آ گئی۔۔۔ صباء پِھر سسکی۔۔۔میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔اب تو میں نے کبھی بھی نہیں کہا کسی کو بھی آپ کے بارے میں۔۔۔پِھر پتہ نہیں کیوں ہوگیا یہ سب۔۔۔ میجر ابھی بھی غصے میں تھا۔۔۔کمینہ۔۔۔کتا۔۔۔بہن چود۔۔۔دلا۔۔۔شریف بنتا ہے۔۔۔ حرامی کو یہ نہیں پتہ کے سالے کی بِیوِی ایک رنڈی کی طرح خود میرے پاس آتی ہے۔۔۔ اپنی چوت کی آگ ٹھنڈی کروانے کے لیے۔۔۔جا نکل جا ادھر سے۔۔۔ورنہ ابھی تجھے میں دروازے سے باہر نکالوں گا۔۔۔ایسے ہی ننگی حالت میں۔۔۔پِھر تیرے اس کھسم کی شرافت کا ڈرامہ بھی کھل جائے گا۔۔۔پِھر سنبھالتی پھرنا اپنی چوت اور اپنی عزت۔۔۔ہو جا دفعہ۔۔۔نہیں تو مار دوں گا۔۔۔ صباء تو بےچین ہی ہو اٹھی۔۔۔وہ کسی بھی حالت میں میجر کو ناراض کر کے نہیں جانا چاہتی تھی اچھے سے جانتی تھی کہ اگراِس وقت یہاں سے چلی گئی تو بس۔۔۔پِھر کبھی بھی واپسی نہیں ہوگی۔۔۔بلکہ پِھر تو صرف تباہی ہی تباہی ہوگی۔۔۔اسی لیے وہ اِس سچویشن کو کنٹرول کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔چاہے جیسے بھی ہو میجر کومنانا چاہتی تھی۔۔۔یہی سوچ کر صباء نے آگےبڑھ کر میجر کے پیروں کو پکڑ لیا۔۔۔ صباء :نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔پلیز نہیں۔۔۔ایسا نہیں کرو۔۔۔میری کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔ میں نے تو ہمیشہ ویسا ہی کیا ہے جیسا تم نے کہا ہے۔۔۔ان کے کئے کی سزا مجھے تونہیں دو۔۔۔ یہ کہتے ہوئے صباء نے اپنےہاتھوں میں پکڑے ہوئے میجر کے بٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور اُس کے گندے مٹی سےبھرے ہوئے بوٹوں کو چومنےلگی۔۔۔اپنی خوبصورت لپسٹک لگےہوئے ہونٹوں سے ان کوچومنے لگی۔۔۔کسی بھی طور۔۔۔میجر کو خوش کرنے کے لیے۔ میجر بس چُپ کر کے صباءکو دیکھے جا رہا تھا اب۔۔۔ میجر :تو تو۔۔۔دفعہ نہیں ہو گی یہاں سے۔۔۔ صباء :نہیں جاؤں گی۔۔۔ہرگز نہیں جاؤں گی اور جو بھی کہو گے مان لوں گی۔۔۔لیکن یہ بات نہیں مانوں گی میں۔۔۔ میجر :بکواس کرتی ہے۔۔۔کہ جو بھی کہوں گا مانے گی۔۔۔مانے گی۔۔۔مانے گی۔۔۔تو چاٹ میرے جوتے۔۔۔کتیا کی طرح۔۔۔بلکہ تو تو ہے ہی کتی۔۔۔جوتے چاٹنے والی۔۔۔ صباء نے میجر کی طرف دیکھا۔۔۔ہاں ہاں۔۔۔میں کتی ہی ہوں۔۔۔تیرے جوتے چاٹنے والی کتی۔۔۔ یہ کہتے ہوئے صباء نے میجرکے بٹوں کے اوپر کے حصےکو اپنی زبان سے چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ اپنی زندگی میں ایسی تضحیک اور بے عزتی نہیں ہوئی تھی اس کی لیکن اِس وقت وہ سب کچھ برداشت کر رہی تھی۔۔۔صرف اور صرف میجر کی محبت میں۔۔۔یا شاید میجر کی ہوس میں۔ میجر صباء کو اپنی خوبصورت زبان کے ساتھ اپنے جوتوں کو چاٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔اس کی زبان اُس کے کالے بٹوں کے اوپری حصے کو صاف کرتی جا رہی تھی۔۔۔پِھر صباء نے اپنے ہاتھوں سےمیجر کے بوٹ اتارے۔۔۔فوراً ہی میجرکی جرابوں کی گندی تیزاسمیل اُس کے ناک میں گُھس گئی۔۔۔ایک لمحے کے لیے اس نےپیچھے ہونے کا سوچا۔۔۔لیکن اگلے ہی لمحے۔۔۔اپنے ہونٹ میجرکی جرابوں والے پیروں پررکھ دیےاور اپنے ہونٹ ان پر پھیرنے لگی اور پِھر چومنے لگی۔۔۔جرابوں سے اٹھنے والی گندی بدبو صباء کی ناک میں گھستی جا رہی تھی۔۔۔لیکن صباء تو سب کچھ برداشت کرنے کے موڈ میں تھی۔۔۔آخر اتنے دن سے تو انتظار کررہی تھی میجر کی واپسی کاتو اب کیسے میجر کو اپنےہاتھوں سے اتنی آسانی سےنکلنے دیتی۔۔۔کیسے چھوڑ دیتی میجر کو۔۔۔جس نے اسے ایک نئی دنیاکی سیر کرائی تھی اور ایک نئے ہی مزے کا عادی بنا دیا تھا۔۔۔میجر اپنی غصے سے بھری ہوئی نظروں سے صباء کودیکھ رہا تھا۔۔۔صباء نے بڑے ہی پیار سےمیجر کو دیکھتے ہوئے اسکی سوکس اتارنے شروع کردیں۔۔ میجر کے پیر ننگے ہوگئے۔۔۔صباء نے اُس کے پیروں کواپنے گورے گورے ملائم صاف ستھرے ہاتھوں میں لےکر آہستہ آہستہ سہلاتے ہوئے۔۔۔ان کو اپنے ہونٹوں سے چومنا شروع کر دیا۔۔۔اپنے گورے گورے گالوں کواُس کے پیروں سے رگڑتے ہوئے بولی۔۔۔ صباء :میں تو تمہاری رنڈی ہوں نہ۔۔۔تو اپنی رنڈی کو کیسے چھوڑسکتے ہو۔۔۔ میجر کسمسایا۔۔۔ صباء :تمہاری رنڈی۔۔۔تمہاری رکھیل تمہاری خاطرسب کچھ کرنے کو تیار ہے۔۔۔ میجر۔۔۔خاموش۔۔۔ پِھر بولا۔۔۔سب کچھ ؟ ؟ ؟ صباء کو خوشی ہوئی۔۔۔ہاں سب کچھ۔۔۔جو کہو گے۔۔۔کہو تو اپنے شوہر کو چھوڑکر ہمیشہ کے لیے تمہاری رکھیل بن جاتی ہوں۔۔۔ایک بار کہہ کر تو دیکھو۔۔۔ میجر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔۔۔اور اگر میں تم کو سچ مچ کی رنڈی بنا دوں تو۔۔۔؟ صباء میجر کے پیرکے تلوؤں کو اپنی زبان سےایک بار چاٹ کر بولی۔۔۔چاہتے ہو تو بنا دو۔۔۔ بن جاؤں گی۔۔۔بیٹھا دو لے جا کر کسی بازارمیں۔۔۔تمہاری خاطر تو سب کچھ کروں گی۔۔۔ جو تم کہو گے۔۔۔ صباء بھی مسکرا کر اس کی باتوں کا جواب دے رہی تھی۔۔۔وہ یہی سوچ رہی تھی کہ میجر اس سے مزہ لینے کےلیے اور اسے نیچا دیکھانے کےلیے یہ سب باتیں کر رہا ہے۔۔۔اپنا غصہ اتارنے کے لیے۔۔۔اور جب لیٹنا ہی میجر کےنیچے تھا تو پِھر اُسکے سامنے نیچا ہونے میں کیاہرج تھا۔۔۔کیا برائی تھی۔۔۔ میجر :اور اگر میں کہوں کہ تو اس مولوی سے چُدوا جا کر تو۔۔۔؟ ؟ ؟ مولوی منصور صاحب کا ذکرآتے ہی۔۔۔ان کا چہرہ صباء کی آنكھوں کے آگے آ گیااور ان سے چودوانے کے خیال سے ہی صباء کانپ اٹھی۔۔۔کبھی بھی ایسا نہیں سوچاتھا اس نے۔۔۔ لیکن چند دنوں سے جو کچھ مولوی صاحب اور اُس کےدرمیان ہو رہا تھا بے اِرادی طور پر اس سے عجیب عجیب خیال بھی تو آ رہےتھے نہ اُس کے دماغ میں۔۔۔لیکن ابھی تو وہ اِس بات کو میجر کا غصہ ہی خیال کررہی تھی۔۔۔تو اس نے بھی اسے ایسے ہی کہااور میجر کے پیروں کوچومتے ہوئے بولی۔۔۔ صباء :تم کہو گے تو مولوی صاحب سے بھی چُدوا لوں گی۔۔۔لیکن تم کو ناراض نہیں کرسکتی میں۔۔۔ صباء کا ہاتھ سرکتا ہوامیجر کے لن پر پہنچ چکا تھااور وہ دھیرے دھیرے میجرکی رانوں کو سہلا رہی تھی۔۔۔اس کا ہاتھ میجر کے لن کوٹچ کرتا اور پیچھے سرک جاتا۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعد صباء نےمیجر کے پاجامے کے اوپر سےاس کا لن پکڑ لیا۔۔۔جوکہ بالکل سیدھا اکڑا ہواتھا۔۔۔ صباء نے میجر کے پاجامے کےاُوپر سے ہی میجر کے لن کواپنی مٹھی میں لیا اورآہستہ آہستہ اپنے ہاتھ کواُوپر نیچے کرنے لگی۔۔۔میجر اب صباء پر کوئی بھی غصہ نہیں کر رہا تھا۔۔۔اس کو کسی کام سے نہیں روک رہا تھا۔۔۔شاید وہ صباء سے مطمئن ہوچکا تھا کہ وہ اُس کے ساتھ ہی ہےاور اُس کے خلاف کچھ نہیں کر رہی ہےاور یا پِھر کچھ اور سوچ لیاتھا اس نے صباءکے بارے میں۔ یہ تو اب میجر ہی جانتا تھانہ کے اُس کےشاطر شیطانی دماغ میں کیاچل رہا ہے۔۔۔تھوڑا ریلکس ہو کر میجربولا۔۔۔ بہن چود بڑی مچلتی ہوتی تھی تیری چوت میرے جانےکے بعد۔۔۔ صباء میجر کی اِس بات پرشرما گئی اور دھیرے سے مسکرا دی۔۔۔ میجر بولا۔۔۔سالی۔۔۔اس وقت تو رنڈیوں کی طرح بولتی تھی۔۔۔اب پِھر سے شرما رہی ہے۔۔۔کتی کی بچی پوری ڈرامہ بازہے تو۔۔۔سالی۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔اور میجر کے لن کو اُسکے پاجامے کے اُوپر سے چوم کر بولی۔۔۔ہاں تب تو یہ میرے پاس نہیں ہوتا تھا نہ تو اسی لیےمچلتی تھی نہ میں اور اب تو یہ میرے پاس ہے۔۔۔ میرے ہاتھ میں۔۔۔ میجر :بہن کی لوڑی۔۔۔اِس کا کوئی نام بھی ہے۔۔۔وہ نام لے نہ۔۔۔کہ کس کی بات کر رہی ہے تو۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔تیرے لا۔۔۔لن کی بات کر رہی ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر صباء نے اپنا منہ کھولا اور میجر کے لن کواُس کے پاجامے کے اُوپرسے ہی اپنے منہ میں لے لیااور اسے پاجامے کے کپڑےسمیت ہی چوسنے لگی۔۔۔میجر نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی شراب کی بوتل آگے بڑھائی اور اس میں سے تھوڑی سی شراب اپنے پاجامے کے اُوپرسے ہی اپنے لن پر گرا دی۔۔۔اس کا پاجامہ اور اس کا لن شراب سے گیلا ہوگیا۔۔۔صباء نے مسکرا کر میجر کی طرف دیکھا اور پِھر دوبارہ سے اپنا منہ میجر کے لن پررکھ کر اسے چوسنے لگی۔۔۔اب میجر کے پاجامے سےشراب کا ذائقہ بھی اُس کےمنہ میں جا رہا تھا۔۔۔لیکن اب یہ اُس کے لیے کچھ نیا تو نہیں تھا نہ۔۔۔کچھ دیر ایسےہی چوسنے کے بعد صباء نےمیجر کا پاجامہ نیچےکھینچنا شروع کر دیا۔۔۔میجر نے اپنی گانڈاُوپر اٹھائی اور صباء نے اسکا پاجامہ اُتار دیا۔۔۔ میجر کا نچلا جِسَم بالکل ننگا ہوگیا۔۔۔اس کا کالا لن بالکل سیدھااکڑا ہوا تھا۔۔۔میجر کا لن۔۔۔ جس نے صباء کو ایک شریف لڑکی سے۔۔۔ایک ہائی کلاس رنڈی کےجیسے بنا دیا تھا۔۔۔ایک بار پِھر۔۔۔اتنے دنوں کے بعد۔۔۔صباء کی آنكھوں کے سامنے تھا۔۔۔اُس کے ہاتھوں کی پہنچ میں۔۔۔اُس کے ہونٹوں کی پہنچ میں اور پِھر صباء کچھ زیادہ دیرتک اپنے ہاتھوں اور اپنے ہونٹوں کو میجر کے لن سےدور نہ رکھ سکی۔۔۔اپنا نازک سا ہاتھ آگے بڑھایااور میجر کا موٹا لن اپنےہاتھ میں لے لیا۔۔۔اسے آہستہ آہستہ اُوپر نیچےکو سہلانے لگی۔۔۔اپنی مٹھی میں رگڑنے لگی۔۔۔صباء نے آگے ہو کر اُس کےلن کی پھولی ہوئی ٹوپی کوچُومااور اُس کے اُوپر اپنا تھوک گرا دیااور پِھر اپنے ہی تھوک کومیجر کے لن پر ملنے لگی۔۔۔صباء نے میجر کے لن کو بالکل نیچے سے پکڑا اور اس پر نیچے سے اُوپر تک اپنی زبان پھیرتے ہوئے اُس کے لن کو چاٹنے لگی۔۔۔صباء کی زبان سے میجر کالن گیلا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔نیچے میجر کے ٹٹے تھے۔۔۔جیسے کسی لیدر کی تھیلی میں دو اسنوکر بالز رکھےہوئے ہوں۔۔۔ہاں اتنے بڑے تو تھے ہی میجر کے ٹٹے۔۔۔صباء نے اپنے ہونٹ نیچے لےجا کر میجر کی موٹے موٹےٹٹوں کو چومنے لگی اور پِھر اپنی زبان سے ان کوچاٹنا شروع کر دیا۔۔۔اپنی زبان سے تھوک اچھےسے ان پر ملتے ہوئے۔ کبھی تھوڑے سے حصے کواپنے ہونٹوں کے درمیان لیتی اور ان کو چوسنے لگتی اور کبھی ان پر اپنا تھوک گراکر اسے دوبارہ چاٹ لیتی۔۔۔ میجر :بڑا مزہ آ رہا ہے کیا تجھےسالی۔۔۔؟ صباء :ہاں بہت اچھا لگتا ہے تیرا لن مجھے۔۔۔ میجر نے اپنی بوتل سے اب دوبارہ شراب اپنے لن پر گرادی۔۔۔ میجر :لے اور مزے لے میرے لن کےپِھر۔۔۔ میجر کا لن شراب سے بھیگ گیااور صباء نے اس پر سےشراب کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ صباء :آج کیا اسی شراب سےہی دھونے کا ارادہ ہے تیرا۔۔۔؟؟ میجر :ہاں اسی شراب سے ہی اس کو تیری چوت میں ڈالوں گا سالی۔۔۔ صباء نے ہاتھ بڑھا کر میجرسے شراب کی بوتل پکڑی اور اس پر سے اب خود ہی تھوڑی تھوڑی شراب میجرکے لن پر ڈال ڈال کر چاٹنےلگی۔۔۔تھوڑی سے شراب میجر کےلن کی ٹوپی پر ڈالتی اوراسے چاٹ لیتی۔۔۔نیچے جاتی ہوئی کواور پِھر اور ڈال لیتی۔۔۔پِھر صباء نے بوتل میں سےشراب میجر کے ٹٹوں پر گرائی اور ان کو بھی چوسنے لگی۔۔۔میل اور گندگی اور پتہ نہیں کیا کیا شراب کے ساتھ صباءکے منہ میں جا رہا تھا۔۔۔لیکن اسے کون سی کوئی فکر تھی۔۔۔ میجر کی بالز پر سے شراب بہہ کر نیچے اس کی گانڈ کی دراڑ میں چلی گئی۔۔۔تو صباء نے بنا کسی جھجک کے اپنی زبان نیچے لے جا کراس کی گانڈ کے کریک میں ڈال دی اور اسے چاٹنے لگی۔۔ میجر :سالی۔۔۔بڑی ہی کمینی ہوگئی ہے تو۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔ہاں تو چاٹنے دے نہ۔۔۔کیوں روک رہا ہے مجھے اب۔۔۔ میجر :بہن چود۔۔۔آج تو تو گھر سے ہی ننگی ہوکر آئی ہے۔۔۔پکا اِرادَہ کر کے آئی ہے چدنے کا صباء :ہاں تو تو نے بھی تو ننگی ہی کرنا تھا نہ تو خود ہی ہوگئی میں اور تجھ سے چودوانے ہی آئی ہوں۔۔۔کچھ اور کرنے نہیں آئی۔۔۔چود دے نہ اب تو اپنی اِس رنڈی کو۔۔۔ میجر صباء کے مموں کو اسکی ٹرانسپیرینٹ کالی برا کے اُوپر سے دبا کر بولا۔۔۔سالی پہلے لن منہ میں تو لےلے اچھے سے پِھر دوں گاتیری چوت میں۔۔۔ صباء مسکرائی اور دوبارہ سے میجر کا لن اپنے منہ میں لیا اور اسے چُوستے ہوئے اپنےحلق کے اندر لے جانے لگی۔۔۔لیکن تھوڑا سا چُوستی اورپِھر اسے باہر نکال لیتی۔۔۔کبھی اسے چاٹتی اور کبھی پِھر منہ میں لے لیتی۔۔۔اپنی زبان کو میجر کے لن کی ٹوپی پر پھیرنے لگی۔۔۔میجر کے لن کی ٹوپی کاسوراخ کافی اوپن نظر آ رہاتھا۔۔۔جیسے ابھی کچھ اِس میں سے نکل آئے گا۔ اُس کے لن کی سائیڈ پر اپنےدونوں ہونٹ رکھے اور اپنی زبان کے ساتھ ہونٹوں کوبھی اُوپر نیچے کرنے لگی۔۔۔کبھی اطراف سے چاٹتی اور کبھی لن کی ٹوپی کے نچلے حصے میں اپنی زبان کی نوک تیزی کےساتھ پھیرنے لگی۔۔۔دوبارہ سے تھوڑا سا لن اپنےمنہ کے اندر لیا اور ذرا سا اپنے حلق سے ٹچ کیا۔۔۔میجر نے اچانک ہی صباء کاسر پکڑا اور اُس کے سر کوایک زور کا جھٹکا دیا نیچےکو اور بولا۔۔۔ میجر :سالی۔۔۔کیا ڈرامہ کر رہی ہے رنڈی۔۔۔ایک ہی بار کیوں نہیں لےلیتی منہ میں پُورا۔ ایسے اچانک ہی جھٹکا دینے سے میجر کاموٹا لن سیدھا صباء کے حلق میں اُتَر گیااور میجر نے صباء کا سر چھوڑنے کی بجائے اسےاپنے لن پر دبا لیا۔۔۔میجر کے لن کی ٹوپی صباءکے حلق میں پھنسی ہوئی تھی۔۔۔کچھ دیر بعد میجر نے چھوڑاتو صباء نے اپنا منہ پیچھےہٹایااور میجر کا لن منہ سے نکال کر اسے مٹھی میں سہلانے لگی۔۔۔ صباء :بہت ہی ظالم ہو تم۔۔۔ذرا بھی رحم نہیں آتا تم کو۔۔۔اگر میں مر جاتی تو۔۔۔؟؟ میجر ہنسا۔۔۔سالی۔۔۔تیرے جیسی رنڈیاں لن لینےسے نہیں مرتیں۔۔۔تو تو ہے ہی لن لینے کے لیےبنی ہوئی۔۔۔ صباء مسکرائی اور دوبارہ سے میجر کے لن کو چاٹنےلگی۔۔۔اُس کے لن کے سوراخ سےتھوڑا تھوڑا پانی نکل رہا تھا۔۔۔بالکل ٹرانسپیرینٹ۔۔۔گاڑھا سا۔۔۔صباء نے اپنی زبان کی نوک باہر نکالی اور اسےمیجر کی آنكھوں میں دیکھتے ہو چاٹ لیا۔۔۔میجر کے مزے کے قطرے تھے جو اُس کے لن سے نکل رہےتھے۔۔۔نمکین سا۔۔۔عجیب سا ذائقہ تھا۔۔۔جسے صباء چاٹ گئی۔۔۔میجر ہنسنے لگا۔۔۔صباء اس کے ٹٹوں کو سہلا رہی تھی اور اُس کےلن کے نیچے کے حصے کواپنی زبان سے چاٹ رہی تھی۔۔۔میجر نے تھوڑا سا زور لگایااور پہلے کی طرح سے ہی ٹرانسپیرینٹ سا لیکویڈ اُسکے لن کی ٹوپی سے نکلا۔۔۔لیکن اِس بار لن کے سوراخ سے نیچے کو بھی بہہ گیاتھوڑا سا۔۔۔صباء نے فوراً ہی اسے بھی چاٹ لیااور اپنے ہونٹوں کو لن کےسوراخ پر رکھ کر سک کیااور وہ لیکویڈ چوس لیا۔۔۔لیکن اِس بار اِس لیکویڈ کاذائقہ پہلے سے ڈفرنٹ تھا۔ کچھ ترش سا۔۔۔تیز سا۔۔۔عجیب سا۔۔۔عجیب سا ذائقہ ہوگیا صباءکے منہ کا۔۔۔اُس کے چہرے کےایکسپریشنز بھی تبدیل ہوگئے۔۔۔تو میجر اسے دیکھ کر بولا۔۔۔ میجر :کیوں رنڈی۔۔۔کیا ہوا۔۔۔پسند نہیں آیا میرے لن کاپانی۔۔۔؟؟ صباء تھوڑا کنفیوز ہو کربولی۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہے۔۔۔لیکن۔۔۔ میجر ہنستے ہوئے۔۔۔لیکن کیا۔۔۔یہ کہ پہلے سے مختلف تھا نہ پانی۔۔۔؟؟ صباء نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔ہاں۔۔۔لیکن کیسے۔۔۔کیا تھا یہ۔۔۔ میجر ہنسا۔۔۔ابھی بتا دیتا ہوں اگر نہیں پتہ چلا تو۔۔۔چل ذرا دوبارہ سے لن کی ٹوپی کو منہ میں لے۔۔۔ صباء نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے۔۔۔کسی اپنے ہی خیال میں اپنےہونٹ دوبارہ سے میجر کےلن کی ٹوپی پر ٹکا دیےاور اُس کے لن کے سوراخ کواپنے ہونٹوں میں لے لیا۔۔۔میجر نے اپنے دونوں ہاتھ صباء کے سر کے اُوپر رکھےاور تھوڑا سا زور لگایا۔۔۔تھوڑا سا لیکویڈ۔۔۔تھوڑا سا پانی۔۔۔میجر کے لن سے نکلا اورصباء کے منہ میں چلا گیا۔۔۔صباء اسے ٹیسٹ کرنے کےلیے اسے پی گئی۔۔۔اپنے حلق سے نیچے اُتار گئی۔۔۔اسے اپنے حلق میں بھی جلن سی ہونے لگی۔ عجیب ہی ذائقہ تھا۔۔۔اس نے پہلے بھی میجر کی منی پی تھی اور دینو کی منی کا ذائقہ بھی چکھا تھا۔۔۔لیکن ایسا تو کبھی بھی محسوس نہیں ہوا تھا۔۔۔تو ایسا کیا نکل رہا ہے اسکے لن سےاور نکل بھی کیا سکتا ہے لن سے۔۔۔ابھی یہی سوچ رہی تھی کہ تھوڑا پانی اور میجر کے لن سے نکل کر صباء کے منہ میں چلا گیااور صباء نے اسے بھی اپنےحلق سے نیچے اتارتے ہوئے اپنا منہ ہٹایا منی کے علاوہ جو لن سےنکل سکتا تھا۔۔۔اس کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میجر ایسا کرسکتا ہے۔۔۔لیکن میجر تو اپنی ہی سوچ کا مالک تھا نہ۔۔۔اپنا منہ میجر کے لن سے ہٹاکر پِھر اسے سوالیا نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔ میجر ہنسا۔۔۔کیوں نہیں پتہ چلا کیا۔۔۔؟؟؟ صباء نے اپنا سر انکارمیں ہلا دیا۔۔۔ میجر ہنسا۔۔۔اور اِس بار اپنے ہاتھ میں اپنالن پکڑ کر اس کا رخ۔۔۔صباء کے چہرے کی طرف کیا۔۔۔صرف چند انچس کے فاصلےپر ہی تو تھا صباء کاخوبصورت چہرہ اور اب جو اس نے زور لگایاتو اُس کے لن سے پانی کی ایک دھار نکلی اور سیدھی صباء کے چہرےپر۔۔۔ہاں۔۔۔پانی کی نہیں۔۔۔میجر کے پیشاب کی دھار۔۔۔اگلے ہی لمحے میجر کے لن سے نکلنے والے پانی کو صباءسمجھ چکی تھی کہ کیا ہے۔۔۔وہ چونک کر پیچھے ہٹی۔۔۔لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔ میجر تو اپنا پیشاب صباء کےچہرے پر گرا چکا تھا۔۔۔ہنستے ہوئے۔۔۔قہقہ لگاتے ہوئے۔۔۔ صباء بیڈ سے پیچھے ہٹی اور نیچے فرش پر تھوکنے لگی۔۔۔برا سا منہ بناتے ہوئےاور میجر ہنستا جا رہا تھا۔۔۔صباء تھوڑا ناراض ہوتےہوئے۔۔۔تھوڑا غصے سے بولی۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔ایسا بھی کرتے ہیں کیا۔۔۔میرے منہ کے اندر ہی کر دیاپیشاب۔۔۔ کتنے گندے ہو تم۔۔۔ یہ کہتے ہوئے صباء میجر کےواش روم میں دوڑی اور جا کر پانی منہ میں لے کرقلی کرنے لگی۔۔ اپنا چہرہ دھونے لگی۔۔۔اچھے سے رگڑ رگڑ کر۔۔۔صابن سےاور دِل ہی دِل میں میجرکو گالیاں دیتے ہوئے۔۔۔آخر یہ کمینہ کس حد تک گندا ہو سکتا ہے کوئی نہیں سمجھ سکتا اس کو۔۔۔صباء واپس آئی تو میجر مسکراتے ہوئے شراب پی رہا تھا۔۔۔صباء دوبارہ سے بیڈپر بیٹھنے لگی تو میجر نےاپنے پیر سے اسے ٹھوکرماری۔۔۔ میجر :سالی۔۔۔کمینی۔۔۔مجھے گندا بول رہی تھی نہ۔۔۔جا چلی جا نہیں چودتاتجھے میں۔۔۔جا کسی اچھےصاف ستھرے سے چُدوا لےجا کر۔۔۔بلکہ چلی جا اس مولوی کےپاس عطر میں ڈبو ڈبو کراپنا لن تیری چوت میں ڈالےگا سالا۔۔۔پِھر خوش ہو جانا اس سےچُدوا کر۔۔۔ صباء حیران ہو کر میجرکو دیکھ رہی تھی۔۔۔کہ اسے پِھر سے کیا ہوگیا ہے۔۔۔ میجر :کتی کی بچی۔۔۔مجھ سے چودوانا ہے نہ تومیں تو ایسا ہی ہوں۔۔۔بول چودوانا ہے مجھ سے؟ ایک طرف سہمی کھڑی ہوئی صباء نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔ میجر :چودوانا ہے تو چل پِھر پہلےیہ جو نیچے تھوکا ہے نہ یہ فرش صاف کر۔۔۔ صباء نے نیچے دیکھا۔۔۔نیچے ماربل کے فرش پر تِین جگہ پر اس نے تھوکا ہوا تھا۔۔۔پِھر صباء ادھر اُدھر دیکھنےلگی کہ کوئی کپڑا مل جائےاسے۔۔۔اسے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ سالی کیا ڈھونڈ رہی ہے۔۔۔ صباء :کپڑا۔۔۔ میجر :بہن چود۔۔۔چوت میں لینا ہے کیا تو نےکپڑا۔۔۔ کپڑے سے نہیں اپنی زبان سے چاٹ کر صاف کر۔۔۔نہیں تو دفعہ ہو جا یہاں سے۔۔۔ صباء حیران ہو کر میجر کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔وہ کبھی بھی اِس بندے کونہیں سمجھ سکتی تھی۔۔ میجر :ایسے کیا دیکھ رہی ہے۔۔۔تیرا ہی تھوک ہے نہ۔۔۔تو چاٹ لے۔۔۔نہیں تو دفعہ ہو۔ صباء بے بسی سے میجر کودیکھتے ہوئے نیچے بیٹھ گئی فرش پراور پِھر گھٹنوں کےبل جھکنے لگی اور فرش پر گرے ہوئے اپنےتھوک کے بالکل قریب ہوگئی۔۔۔اپنی زبان نکالی اور۔۔۔اور پِھر اپنے ہی تھوک کوچاٹ لیا فرش پر سے۔۔۔تھوک تو چاٹ لیا فرش پرسے۔۔۔لیکن ایک عجیب سی حالت ہونے لگی اُس کے اندر کی۔۔۔یہ کمینہ بڑے اچھے سےجانتا تھا کہ وہ اس سے چودوائے بنا نہیں جائےگی اور اس سے چودوانے کے لیےکچھ بھی کر سکتی ہے۔۔۔یہی سوچ صباء کے اندرہلچل پیدا کر رہی تھی۔۔۔اس کی چوت کو گیلی کرنےلگی تھی۔۔۔کہ کمینہ جیسا بھی ہےعورت کو ایکسائٹ کرنا اچھے سےجانتا ہے۔۔۔اپنی گیلی ہوتی ہوئی چوت کے ساتھ صباء آگے دوسری جگہ کی طرف بڑھی اور دوسری جگہ سے بھی تھوک چاٹ لیا۔۔۔میجر بھی بیڈ پر سے کھڑا ہوگیا۔۔۔ میجر :دیکھا اب لگ رہی ہے نہ اصلی کتیا۔۔۔فرش کو چاٹتے ہوئے۔۔۔ صباء نے بنا کچھ کہے۔۔۔اپنا چہرہ نیچے کیے ہوئے۔۔۔مسکرا کر تیسری جگہ سےبھی اپنا تھوک چاٹ لیااور اب بنا اوپر اٹھے ہوئے اسی حالت میں ہی نیچےبیٹھے ہوئے۔۔۔اپنا سر اٹھا کر میجر کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔میجر نے فاتحانہ انداز میں صباء کی طرف دیکھااور اِس بار خود سے نیچے فرش پر تھوک گرا دیااور اپنی آنکھوں سے ہی اسکی طرف اشارہ کیا۔۔۔صباء اپنی مسکراہٹ کوکنٹرول نہ کر سکی اور میجر کو مسکرا کردیکھتے ہوئے۔۔۔دوبارہ سے نیچے جھک کر۔۔۔اب کی بار میجر کے تھوک کوچاٹ لیا۔۔۔میجر ہنستا ہوا صباء کےپیچھے آ گیا۔۔۔وہ اٹھنے لگی۔۔۔تو میجر نے پیچھے سے دھکادیا ہلکا سا۔۔۔تو صباء بیڈ کی سائیڈ پر ہاتھ رکھ کر جھک گئی۔۔۔میجر دھاڑا۔۔ رک جا یہیں۔۔۔ صباء اسی پوزیشن میں رک گئی۔۔۔میجر نے بیڈ پر جھکی ہوئی صباء کے پیچھے آ کر اپنا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اسےنیچے سے اس کی چوت کےسوراخ پر رگڑنے لگا۔۔۔جوکہ پینٹی سمیت گیلی ہورہی تھی۔۔۔ایک ہی جھٹکے سے اس نےصباء کی پینٹی نیچے اُتار دی اور اپنا لن اس کی چوت کےسوراخ پر رکھ کر ایک ہی دھکے میں پُورا صباء کی چوت میں اُتار دیا۔۔۔میجر کے پاور فل دھکے سےصباء آگے کو گرنے والی ہوئی مگر میجر نے صباء کی کمرکو پکڑ کر اسے سنبھال لیا۔۔۔ آگے گرنے سے روک لیااور اب اس کی کمر کو پکڑکر اُس کے پیچھے ہلتا ہوا اپنالن اس کی چوت میں اندرباہر کرنے لگا۔۔۔صباء کو چودنے لگا۔۔۔صباء بھی اب سنبھل چکی تھی اور میجرکے دھکوں کو برداشت کرتےہوئے اس سے اپنی چوت مروا رہی تھی۔۔۔میجر نیچے جھکا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر صباء کےمموں کو اس کی برا کےاُوپر سے پکڑ لیا۔۔۔اور اپنی مٹھی میں لے کردھانہ دھن دھکے لگانے لگا۔۔۔صباء کو بھی مزہ آنے لگا تھا۔۔۔آخر اس کی چوت کو وہی لن مل گیا تھا جس کا اتنےدن اس نے انتظار کیا تھااور جسے اپنی چوت میں لینے کے لیے اس نے آج اِس قدر ذلت سہی تھی۔۔۔لیکن اب جب میجر کا لن اس کی چوت میں اُتَر چکاتھا تو وہ سب کچھ بھول چکی ہوئی تھی۔۔۔بس اپنی آنکھیں بند کئےہوئے۔۔۔آگے پیچھے کو ہوتے ہوئے۔۔۔میجر کا لن اپنی چوت میں اندر باہر لے رہی تھی۔۔۔اس کی اپنی چوت بے حد گرم ہو رہی تھی۔۔۔بہت ہی گیلی ہو رہی تھی۔۔۔پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔صباء تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔جیسے جیسے اس کا آرگزم قریب آتا جا رہا تھا ویسے ویسے ہی صباء کی پیچھےکی طرف اپنی گانڈکو دھکے لگانے کی رفتار تیزہوتی جا رہی تھی اور آخری چند دھکوں کے بعدہی۔۔۔صباء نے پورا پیچھے کو جاکر اپنی گانڈ میجر کے پیٹ سے چپکا دی۔۔۔ اس کا لن پُورا اپنی چوت میں لیتے ہوئےاور ساتھ ہی اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔تیز جھٹکے لیتے ہوئے۔۔۔میجر کے لن کو دباتے ہوئے۔۔۔صباء کی آنکھیں بند تھیں۔۔۔گانڈ میجر کے پیٹ سےچپکی ہوئی تھی اور چوت میجر کے لن کو دبارہی تھی۔۔۔کتنے دن بعد تو اِس قدر پاورفل آرگزم ملا تھا اسے۔۔۔اتنی پاور فل چُودائی کے بعد۔۔۔ابھی صباء اپنے ہی مزے میں ہی تھی کہ میجر نے صباءکی گانڈ پر ایک زور کا تھپڑمارا۔۔۔ میجر :سالی۔۔۔آیا مزہ۔۔۔بجھ گئی تیری چوت کی پیاس۔۔۔ صباء نے پیچھے مڑ کر نڈھال حالت میں میجر کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔۔۔میجر نے اپنا لن صباء کی چوت میں ڈالے ڈالے ہی ہاتھ بڑھا کر شراب کی بوتل اٹھائی اور اسے صباء کی گانڈ کی دراڑ میں گرانے لگا۔۔۔شراب بہتی ہوئی نیچے کوجانے لگی اور جیسے ہی میجر کا لن صباء کی چوت سے باہر آتا تواسی شراب کو لے کر صباءکی چوت میں جاتا۔۔۔صباء کو بھی اِس چیز سےمزہ آرہا تھا۔۔۔وہ بھی سسکتی ہوئی۔۔۔اپنی چوت کو آگے پیچھےکرنے لگی تھی۔۔۔میجر نے اپنی ایک انگلی صباء کی گانڈ کے سوراخ پررکھی اور آہستہ آہستہ اس کی گانڈکے سوراخ کو سہلانے لگا۔۔ صباء سمجھ گئی کہ آج میجر اس کی گانڈبھی مارے گااور وہ میجر کو ناراض نہیں کرنے کا فیصلہ کر کہ آئی تھی۔۔۔اس کی ہر بات ماننے کا۔۔۔تو اِس لیے اس نے خود کومیجر کا لن اپنی گانڈمیں لینے کے لیے بھی تیار کرلیا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعد وہ لمحہ آ گیا۔۔۔جس کی صباء کو امید تھی اور شاید تھوڑا ڈر بھی تھا۔۔۔میجر نے اپنا لن صباء کی چوت سے نکالااور اسے صباء کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا۔۔۔ میجر :کیوں رنڈی۔۔۔ڈالوں تیری گانڈ میں لن۔۔۔ صباء نے مسکرا کر اسےدیکھا۔۔۔فون پر تو یہی کہتا تھا کہ گانڈ بھی مارے گا میری۔۔۔تو پِھر اب مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔ میجر نے اپنے لن کو ہلا کرصباء کی گانڈ پر مارا۔۔۔اور بولا۔۔۔سالی پوری رنڈی بن چکی ہےتو۔ صباء بھی ہنس پڑی۔۔۔تو چود دے نہ اِس رنڈی کی گانڈ بھی۔۔۔ صباء کی گانڈ کے چھوٹےسے چھید میں اپنی انگلی ڈال کر اندر باہرکرتے ہوئے میجر بولا۔۔۔ سالی تیری گانڈ تو پہلے سےکھلی ہوئی لگ رہی ہے۔۔۔سچ بتا کس سے مروائی ہےگانڈ تو نے میرے پیچھے۔۔۔؟؟؟ صباء تھوڑا گھبرا گئی۔۔۔لیکن پِھر کانفیڈینس سےبولی۔۔۔ارے تیرے بغیر کوئی مجھےہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔۔۔تو گانڈ کیا مارے گا۔۔۔ میجر نے ایک زور کا تھپڑصباء کی گوری گوری گانڈ پرمارا اور بولا۔۔۔کتیا کی بچی۔۔۔اگر مجھے پتہ چل گیا نہ کےتو نے میرے کہے بنا کسی اورکا لن اپنی چوت میں یا گانڈمیں لیا ہے تو پِھر دیکھنا۔۔ صباء ہنسی۔۔۔کیوں کیا کر لے گا پِھر میرا۔۔۔ میجر :بہن چود اسی دن تیری گانڈپھاڑ دوں گا۔۔۔اِس میں ہاتھی کا پیر ڈال کر۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
  8. قسط نمبر27 کچھ ہی دیر کے بعد بانو نےاشرف کا انڈرویئر نیچےکھینچ دیااور اشرف کا گورا چٹا لن بانو کی نظروں کے سامنے اوراُس کے منہ کے بالکل آگے آ کر لہرانے لگا۔۔۔بانو کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔بانو نے اشرف کا گورا گورا لن اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے سہلاتے ہوئےبولی۔۔۔ صاحب جی بہت پیارا لن ہےآپ کا۔۔۔میم صاحب تو بہت پیارکرتی ہوگی اسے۔۔۔ اشرف تھوڑا ساپیچھے ہٹنے لگا۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔کیا ٹھیک نہیں ہے صاحب۔۔۔مجھے تو سب ٹھیک لگ رہاہے۔۔۔آپ بھی مزے کرو نہ۔۔۔ یہ کہہ کر بانو نے اشرف کےلن کی ٹوپی کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔اشرف تو تڑپ ہی اٹھا۔۔۔ زندگی میں پہلی بار اُس کےلن کو کسی نے اپنے منہ میں لیا تھااور اسے جو مزہ آیا تھا وہ اُس کے لیے بیان کرنا مشکل تھا۔۔۔لیکن بس ایک خوف تھاصباء کا۔۔۔ اشرف :نہیں۔۔۔بانو۔۔۔ہٹ جاؤ۔۔۔صباء آجائے گی۔۔۔پلیز نہیں۔۔۔ لیکن خوشی کی بات بانو کےلیے یہ تھی کے یہ کہتے ہوئےاشرف نے اسے پیچھےکو ہٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔بانو نے بھی اب آہستہ آہستہ اُس کے لن کواپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔اسے اپنی مٹھی میں لیا اوراسے اوپر سے نیچے تک چاٹنےلگی۔۔۔اچھے سے لک کرنے لگی۔۔۔اشرف کے لیے کنٹرول کرنامشکل ہو رہا تھا۔۔۔بانو نے اشرف کا ایک ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ننگے ممےپر رکھ دیا۔۔۔اب اشرف تھوڑا سا جھک کر آہستہ آہستہ بانو کے ممےکو بھی سہلا رہا تھااور نہ چاہتے ہوئے آہستہ آہستہ دھکے لگاتے ہوئے اپنےلن کو بانو کے منہ میں اندر باہر بھی کر رہا تھا۔۔۔اسے بے حد مزہ آ رہا تھا۔۔۔اسے محسوس ہو رہا تھا کہ جلد ہی اُس کے لن سے پانی نکل جائے گا۔۔۔جیسے جیسے اس کا لن اپنی مستی کے عروج پر جا رہا تھا۔۔۔جیسے جیسے وہ خود اپنی منزل کے قریب ہو رہا تھاویسے ویسے ہی اس کا ساراخوف ختم ہوتا جا رہا تھا۔۔۔کوئی ڈر نہیں رہ رہا تھا۔۔۔نہ صباء کا اور نہ بِلڈنگ والوں کا۔۔۔اب تو وہ بس بانو کو پکڑ کرچود دینا چاہتا تھا۔۔۔جیسے بھی ہو بس جلدی سےاپنا لن اس کی چوت میں ڈال دینا چاہتا تھا۔۔۔اچانک ہی جیسے اشرف میں بدلاؤ آیا۔۔۔اس نے بانو کو اُسکے بازؤں سے پکڑ کر کھڑا کیااور اپنی بانہوں میں بھر لیا اور فوراً ہی اُس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔اپنے ہونٹ اُس کے نمکین ہونٹوں پر رکھ کر۔۔۔ دیوانہ وار۔۔۔پیار سے۔۔۔اپنے دونوں ہاتھوں کو اس کی کمر پر پھیرتے ہوئےاور دوسرے ہاتھ سے اُس کےممے کو دباتے ہوئے۔۔۔پِھر اس نے جھک کر بانو کےایک ممے کو اپنے منہ میں لیااور اسے چوسنے لگا۔۔۔اُس کے نپل کو اپنے منہ میں لے کے چوسنے لگا۔۔۔آہستہ آہستہ اشرف کے اندرکا مرد بھی جاگنے لگا تھا۔۔۔جسے ڈرا دھمکا کر صباء نےصلا دیا ہوا تھا۔۔۔بس اب اسے بانوکو چودنے کی خواہش تھی۔۔۔کہ بس پانی نکلنے سے پہلےپہلے اپنا لن بانو کی چوت کے اندر ڈال دے۔۔۔اس نے اپنا ہاتھ بانو کی چوت کے اُوپر رکھ دیااور آہستہ آہستہ اسے سہلانےلگا۔۔۔ بانو :نہیں صاحب ابھی نہیں۔۔۔میم صاحب آ سکتی ہیں۔۔۔پِھر کبھی۔۔۔ اشرف :نہیں۔۔۔اب تم نے اِس سانپ کو جگاہی دیا ہے تو اسے ٹھنڈا ہونےدو اپنے اندر جا کر۔ بانو نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُسکے لن کو پکڑا اور بولی۔۔۔صاحب جی اِس سانپ کاسارا زہر نکال کر میں پی جاؤں گی۔۔۔لیکن ابھی اندر نہیں ڈلواسکتی۔۔۔ اشرف نے تھوڑی سی اورکوشش کرنی چاہی تو اسےباہر کا دروازہ ان لاک ہونےکی آواز آئی۔۔۔صباء واپس آگئی تھی۔۔۔بانو جلدی سے اپنے کپڑےٹھیک کر کے کچن کی طرف بھاگی اور اشرف اپناانڈرویئر اُوپر کر کے بیڈروم میں آ گیا۔۔۔دِل ہی دِل میں صباءکو گالیاں دے رہا تھا۔۔۔لیکن اُس کے اندر کا خوف پِھر سے غالب آ رہا تھا کہ اگربانو نے صباء کو کچھ بتا دیایا اسے شک ہوگیا تو وہ بہت برا حال کرے گی۔۔۔صباء کچن میں بانو کے پاس گئی اور آہستہ آواز میں بولی۔۔۔ کیوں پِھر کر لیے مزے۔۔۔؟؟؟ بانو ہنس کر بولی۔۔۔میم صاحب مزے کہاں کرنےدے رہی ہو آپ۔۔۔ابھی تو وہ شروع ہی ہونےلگے تھے کہ آپ آگئی۔۔۔اتنی بھی کیا جلدی تھی واپس آنے کی۔۔۔ صباء نے ہنس کر بانو کےمموں کو دبایا اور بولی۔۔۔تو تجھے بھی اتنی کیا جلدی ہے سب کچھ کرنے کی۔۔۔تھوڑا صبر نہیں ہوتا کیا۔۔۔ بانو:ہائے میم صاحب جب سےصاحب جی کا گورا گورا لن دیکھا ہے نہ تو صبر ہو ہی نہیں رہا۔۔۔کیا کروں۔۔۔ صباء ہنس پڑی۔۔۔لے کر دیکھ لے توبھی گورے لن کا مزہ۔۔۔کل میں تجھے نہیں روکوں گی۔۔ کل اس وقت آناجب دینو اپنے کمرے میں ریسٹ کرنے گیا ہوگا۔۔۔پِھر میں دینو کے پاس چلی جاؤں گی اور تو اپنے صاحب جی سے پورے پورے مزے کرلینا۔۔۔چُدوا لینا اسکے گورے گورے لن سے۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔اورآپ چدوانا دینو کے کالے لن سے۔۔۔ہاے میم صاحب قسم سےبہت ہی سیکسی لگتا ہے جب آپ کی گوری گوری چوت میں دینو کا کالا کالا لن جاتاہے۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔چل چُپ کر اب کیا اشرف کوسب کچھ سنائے گی۔۔۔چل جا اب۔۔۔ بانو بولی۔۔۔ارے میم صاحب۔۔۔صاحب جی کے ہونٹوں کوچومنے کے بعد اب ایک باراپنے ہونٹ تو چومنے دو۔۔۔ یہ کہہ کر بانو نے صباء کےچہرے کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور اُس کے ہونٹوں کوچوم لیا۔۔۔صباء ہنس کر مصنوی غصےسے اسے دھکہ دیتےہوئے بولی۔۔۔ چل دفعہ ہو اب کمینی۔۔۔تیرے دماغ پر تو ہر وقت سیکس کا بھوت ہی سواررہتا ہے۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔تو میم صاحب آپ کے دماغ پر کیا سوار رہتا ہے۔۔۔دینو ؟ ؟ ؟ ؟ صباء ایک ادا سے بولی۔۔۔نہیں جی۔۔۔میں تو بس اپنے میجرصاحب کے بارے میں ہی سوچتی رہتی ہوں۔۔۔ بانو نے صباء کی چوت کواچانک ہی اپنی مٹھی میں لےکر دبایا اور بولی۔۔۔آ کر خوب چودیں گے وہ آپکی چوت کو۔۔۔ اِس سے پہلے کے صباء اسےکچھ کہتی بانو باہر کو بھاگ گئی ہنستے ہوئے۔۔۔ دوسری طرف اشرف سہما ہوا اپنے بیڈروم میں موجود تھا اور اپنےکپڑے بھی پہن چکا تھا۔۔۔ اسے مزہ تو بہت آیا تھا بانوکے ساتھ لیکن اب صباء کا ڈربھی لگ رہا تھا۔۔۔لیکن دِل ضرور چاہ رہا تھاکہ کچھ کرے بانو کے ساتھ۔۔۔لیکن کیسے۔۔۔اور کب۔۔۔یہ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اور یہ فیصلہ کرنا تو صباءاور بانو کا کام تھا نہ۔۔۔کہ کب اور کہاں اسے بانوکو چودنے کا موقع دیا جاتاہے۔۔۔ اگلے دن جب اشرف اپنی ڈیوٹی سے واپس آیا صبح کوقریب نو بجے تواسے دینو مین گیٹ پر ہی ملاوہ بِلڈنگ سے باہر جا رہا تھا۔۔۔دینو نے اسے سلام کیا اورباہر نکل گیا۔۔۔اشرف بِلڈنگ میں آیااور اوپرکی سیڑھیاں چڑھنے لگا کہ اچانک ہی اسے خیال آیا کہ بانو تو ابھی اپنے فلیٹ میں ہی ہوگی۔۔۔یہ سوچ کر اُس کے دِل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔۔۔اس کا دِل چاہنے لگا کہ ایک بار جا کر بانو کو دیکھ لے۔۔۔ابھی وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ اُس کے قدم خود سے ہی بانو کے فلیٹ کی طرف اٹھنے لگے۔۔۔اس نے ادھر اُدھر دیکھا اورپِھر دینو کے فلیٹ کی طرف مڑ گیا۔۔۔جا کر دروازہ نوک کیا دھڑکتے دِل کے ساتھ۔۔۔لیکن کسی نے دروازہ نہ کھولا۔۔۔اشرف مایوس ہوکر مڑنے لگا تو خیال آیا کہ ذرا کھول کر دیکھوں شایدکھلا ہی ہو دروازہ۔۔۔اس نے آہستہ سے دروازےکی نوب گھمائی تو دروازہ کھل گیا۔۔۔اشرف نے اندر جھانکا تو اسےبانو بستر پر سوئی ہوئی نظرآئی۔۔۔اُس کے سڈول ممے اس کی سانسوں کے ساتھ اُوپر نیچےہو رہے تھے۔۔۔ایک نظر قریب سے دیکھنےکے لیے اشرف نے اپنے پیچھےادھر اُدھر دیکھ کر اپنے قدم اندر بڑھا دیے۔۔ دروازہ بند کر کے بانو کے بیڈکے قریب کھڑا ہو گیااور سوئی ہوئی بانو کودیکھنے لگا۔۔۔بانو کے مموں کو دیکھتےہوئے اسے یاد آنے لگا کہ کیسے کل اس نے بانو کے یہ ممے ننگے دیکھے تھے اور ان کو چھوا تھا۔۔۔دبایا تھا اور اپنے منہ میں لےکر ان کو چوسا تھا۔۔۔دینو کے فلیٹ میں اِس طرح سے چوری چوری آنے پراشرف ڈر بھی رہا تھا لیکن سوئی ہوئی بانو بھی اسےایکسائٹ کر رہی تھی۔۔۔ آہستہ آہستہ ہمت کر کےاشرف نے اپنا ہاتھ بڑھایا اوربانو کے ممے پر رکھ دیا اورآہستہ آہستہ اسے سہلانے لگا۔۔۔اسے دبانے لگا۔۔۔فوراً ہی بانو کی آنکھ کھل گئی۔۔۔اس نے اشرف کو اپنے کمرےمیں دیکھا تو حیران ہوگئی اور فوراً ہی اَٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔اشرف بھی تھوڑا پریشان ہوکر پیچھے کو ہٹ گیا۔۔۔ بانو :صاحب آپ۔۔۔آپ اِس وقت میرے فلیٹ پر۔۔۔؟؟ اشرف :وہ۔۔۔وہ میں دیکھنے آیا تھا کہ تم کام پر گئی کہ نہیں۔۔۔ابھی تک۔۔۔ بانو بھی اب ریلکس ہو چکی تھی۔۔۔ویسے اسے ڈر تو کسی کا تھانہیں بس تھوڑا پردہ رکھناچاہتی تھی دینو سے۔۔۔ بانو :لیکن صاحب جی آپ دینو کے سامنے سے کیسےآئے ہو میری طرف۔۔۔؟؟ اشرف :وہ۔۔۔وہ باہر گیا ہوا ہے۔۔۔مجھے ملا تھا۔۔۔اِس لیے۔۔۔ بانو مسکرائی۔۔۔اشرف کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر اسے بیڈ پر بیٹھایا اوربولی۔۔۔اچھا جی۔۔۔دینو باہر گیا تو آپ اس کی بِیوِی کے پاس آگئےاور آ کر اُس کے مموں سے کھیلنے لگے۔۔۔ہیں نہ۔۔ہممممممم اشرف اب تھوڑا گھبرا رہا تھا۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔اچھا اب میں چلتا ہوں۔۔۔ بانو اشرف کا ہاتھ پکڑ کربولی۔۔۔نہیں صاحب جی۔۔۔اب کیسے جا سکتے ہو آپ ایسے ہی۔۔۔آج تو آپ کچھ سیوا ضرورکرنے دو نہ۔۔۔اچھا رکو میں ذرا دینو کاپتہ کر لوں۔۔۔ بانو اٹھی اور اپنا سیل فون اٹھا کر اپنا ڈوپٹہ لیا اورفلیٹ سے باہر نکل گئی۔۔۔وہ کچھ اور ہی سوچ رہی تھی۔۔۔باہر آ کر اس نے صباء کا نمبرملایا۔۔۔صباء نے فون اٹینڈ کیا۔۔۔ صباء :ارے بانو کیا ہو گیا ہے تجھےصبح صبح ہی۔۔۔ بانو :ارے میم صاحب۔۔۔تمہارے صاحب جی تو تھوڑابھی صبر نہیں کر سکے۔۔۔ صباء :کیوں۔۔۔کیا مطلب۔۔۔؟ ؟ بانو :ارے میم صاحب میرے فلیٹ میں آئے بیٹھے ہیں صاحب جی اور مجھے سوئی ہوئی کوجگا لیا ہے۔۔۔ صباء :ارے واہ۔۔۔بڑی ہمت کی ہے اس نے۔۔۔لیکن دینو کہاں تھا۔۔۔وہ اُس کے سامنے سے کیسےآیا۔۔۔ بانو :وہ دینو تھوڑی دیر کے لیےکہیں باہر نکلا ہوا ہے۔۔۔اسی لیے آگئے۔۔۔ صباء :لیکن اگر دینو آ گیا تو۔۔۔؟؟ بانو :ارے میم صاحب اسی لیے توفون کیا ہے آپ کو۔۔۔تمہارا شوہر میرے پاس ہےجب تک اتنی دیر تک آپ میرے شوہر کو سنبھالو۔۔۔نکلنے نہ دینا اسے اپنے پاس سے۔۔۔کم اَز کم دو گھنٹے کے لیے۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔اچھا جی۔۔۔صبح صبح ہی مستیاں شروع کر دیں۔۔۔ بانو:ہاں تو کیا ہوا۔۔۔دینو بھی تو آپ کا شوہر ہی ہے نہ۔۔۔تو آج ذرا اسے اصلی بِیوِی بن کر دکھاؤ نہ۔۔۔مزہ آئے گا آپ کو بھی۔۔۔ادھر میں اشرف صاحب کومزے کرواتی ہوں۔۔۔ صباء :ٹھیک ہے تو اپنے شوہر کےبستر پر کسی اور کے ساتھ مزے کر اور میں اپنے شوہر کے بسترپر دینو سے چودواتی ہوں۔۔۔اوکے پِھر۔۔۔فون کر کےپتہ کرتی ہوں اس کااور بلاتی ہوں اپنے پاس۔۔۔ صباء نے فون کاٹ دیا۔۔۔اور پِھر دینو کانمبر ملانے لگی۔۔۔بیل جاتی رہی لیکن دینو نےفون نہیں اٹھایا۔۔۔پِھر دوبارہ سے صباء نے کال کی۔۔۔لیکن پِھر فون بیل جانے کےبعد بند ہوگیا۔۔۔ آخر تیسری بار کال کرنےپر دینو نے فون اٹھایا۔۔۔نشے سے بھری ہوئی آواز میں بولا۔۔۔ دینو :ارے کون ہے۔۔۔سالا کیوں تنگ کر رہا ہے۔۔۔ صباء ہولے سے بولی۔۔۔دینو۔۔۔دینو۔۔۔میں ہوں۔۔۔صباء۔۔۔کہاں ہو تم اِس وقت۔۔۔ دینو صباء کا نام سن کرتھوڑا ہوش میں آیا جیسے۔۔۔اچھا اچھا۔۔۔تم۔۔۔کیا بات ہے میم جی۔۔۔ یہی ہوں۔۔۔فضلو چچا کی دکان تک آیاتھا۔۔۔کیا کوئی کام ہے۔۔۔ صباء :دینو ایسے کرو تم فوراً ہی میرے پاس آجاؤ۔۔۔میرے فلیٹ میں۔۔۔ دینو :لیکن۔۔۔وہ اشرف صاحب۔۔۔وہ بھی آ گئے ہیں۔۔۔ صباء :ہاں آئے تھے لیکن کسی کام سے چلے گئے ہیں۔۔۔دو گھنٹے بعد آئیں گے۔۔۔تو تم جلدی سے آجاؤ۔۔۔ دینو :اچھا ؟ ؟ ؟آجاؤں۔۔۔ صباء :ہاں آجاؤ۔۔۔آ رہے ہو نہ آپ ۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ دینو :کیا بولا۔۔۔کیا بولا۔۔۔آپ ؟ ؟ارے مجھے تو کبھی میری بِیوِی نے آپ نہیں بولا۔۔۔تو یہ آپ مجھے کیوں آپ آپ بول رہی ہو۔۔۔ صباء ایک ادا سے بولی۔۔۔کیوں۔۔۔کیا آپ مجھے اپنی بِیوِی نہیں سمجھتے کیا۔۔۔؟ ؟؟ دینو خوش ہو کر۔۔۔آپ۔۔۔آپ میری بِیوِی۔۔۔؟ ؟ ؟ صباء :ہاں۔۔۔کہا تو تھا میں نے آپ کو کہ میں آپ کی بِیوِی بن کررہوں گی اور آپ کو خوش رکھوں گی۔۔۔لیکن لگتا ہے کہ آپ مجھےاپنی بِیوِی سمجھتے نہیں ہو۔۔۔ صباء کو بھی عجیب سا مزہ آ رہا تھا اس موٹے کواپنے شوہر کی حیثیت دینے میں۔۔۔ایک عجیب کنکی مزہ تھا۔۔۔ دینو :ہاں ہاں۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔جیسے آپ کہو۔۔۔ صباء :تو آجائیں نہ۔۔۔اگر میں آپ کو اپنا شوہر بلاسکتی ہوں تو آپ بھی مجھےاپنی بِیوِی کی طرح ہی پکارسکتے ہو دینو جی۔۔۔ دینو تو پھولنے لگا تھا۔۔۔کیا کیا۔۔۔سچ۔۔۔کیا میں تم کو اپنی بِیوِی کی طرح بلاؤں گا۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔ہاں لیکن اکیلے میں۔۔۔اب جلدی سے آجاؤآپ دینو جی۔۔۔ یہ کہہ کر صباء نے فون بندکر دیا۔۔۔اور ہنسنے لگی۔۔۔پِھر اپنی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ کر اپنا میک اپ کرنے لگی۔۔۔اپنے نئے شوہر کے لیے تیارہونے لگی۔۔۔خود کو سجانے لگی۔۔۔اِس وقت اس نے اپنی ایک پتلی سی نائٹی پہن رکھی تھی۔۔۔نیچے سے اس نے ریڈ کلرکی برا اور پینٹی پہنی ہوئی تھی۔۔۔اس پتلی سی نائٹی میں سےصباء کا پُورا جسم ننگا ہی نظر آ رہا تھا۔۔۔صرف اس کی چوت اور ممےہی چھپے ہوئے تھے اس کی پینٹی اور برا کی وجہ سے۔۔۔صباء پوری طرح دینو جی پر قہر ڈھانے کا منصوبہ بنائےبیٹھی تھی۔۔۔اُدھر بانو صباء سے بات کرکےاندر گئی تو اشرف اُس کے بیڈ پر ہی بیٹھا تھا۔۔۔اندر داخل ہو کر بانو نےدروازے کی کنڈی لگا لی۔۔۔اشرف تھوڑا گھبرایا۔۔۔لیکن اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ اشرف :بانو۔۔۔وہ دینو۔۔۔؟ ؟ بانو اشرف کے پاس آتے ہوئےبولی۔۔۔صاحب جی اس کی فکر نہ کریں وہ کسی کام سے گیاہوا ہے۔۔۔دو گھنٹے تک آنے والا نہیں ہے وہ۔۔۔ یہ کہہ کر بانو نے اشرف کےقریب آ کر اُس کے سامنے کھڑی ہو کر اپنی دونوں بانہیں اُس کے گلےمیں ڈال دیں اور اُس کے چہرے کو اپنےمموں پر کھینچ کر بولی۔۔۔ تو صاحب جی۔۔۔آپ کو اِس بانو کی یاد آ ہی گئی نہ۔۔۔ اشرف بھی اب مسکرا دیا۔۔۔ہمت کر کے اپنے ہاتھ بڑھا کربانو کی کمر پر رکھ دیےاور اس کی کمر کو سہلانے لگا۔۔۔بانو کا گہرا کلیویج اس کی آنكھوں کے سامنے تھااور ہونٹوں کے بھی۔۔۔تو پِھر اپنی آنكھوں اورہونٹوں کو کیسے کنٹرول کرسکتا تھا۔۔۔آہستہ سے اپنے ہونٹ آگےبڑھا کر بانو کے کلیویج پررکھ دیےاور اسے چوم لیا۔۔۔بانو نے اشرف کو پیچھے کوبیڈ پر گرا دیا اور اُس کے اُوپر چڑھ کر بیٹھ گئی۔۔۔اُس کے سینے پراور پِھر اپنی قمیض کو پکڑکر اوپر اٹھانے لگی اور اپنی قمیض اُتَار کر ایک طرف پھینک دی۔۔۔بانو کے ممے ننگے ہوگئے۔۔۔بانو نے جھک کر اپنے ممےاشرف کے ہونٹوں کے سامنے لہرانے شروع کردیے۔۔۔ بانو :لو صاحب جی۔۔۔پیو میرے مموں کا رس۔۔۔ اشرف نے اپنے ہونٹ کھولےاور بانو نے اپنے رائٹ ممے کانپل اُس کے منہ میں ڈال دیااور اشرف نے آہستہ آہستہ اسے چوسنا شروع کر دیااور اپنا دوسرا ہاتھ بانو کےدوسرے ممے پر پھیرنے لگااور ایک ہاتھ سے اس کی ننگی کمر کو سہلانے لگا۔۔۔اشرف کو بھی بہت زیادہ مزہ آ رہا تھا۔۔۔بانو نے ایک ہاتھ پیچھے لےجا کر اشرف کا لن پکڑ لیااور اسے سہلانے لگی۔۔۔اس کی پینٹ کے اُوپر سے ہی۔۔۔جیسے ہی اشرف کا لن بانونے پکڑا تو اشرف نےایک جھٹکے سے بانو کو نیچے کھینچ لیااور اپنے ہونٹ اُس کے ہونٹوں پر رکھ دیےاور اسے چومنے لگا۔۔۔اشرف نے بانو کے ہونٹوں کواپنے ہونٹوں میں لیا اور ان کو چوسنے لگا۔۔۔بانو بھی اپنے ممے کو اشرف کے سینے پر رگڑتے ہوئے اپنےہونٹ اشرف سے چسوا رہی تھی اور کبھی خود اُس کےہونٹوں کو چوسنے لگتی۔۔۔بانو نے اپنی زبان اشرف کےہونٹوں کے اندر ڈال دی۔۔۔فوراً ہی اس نے اسے اپنے منہ کی گرفت میں لیااور چوسنے لگا۔۔۔بانو کی کمر کو سہلاتے ہوئے۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعد بانو اشرف کی بانہوں سے نکلی اور اُس کے جِسَم کے اُوپر سےسرکتے ہوئے نیچے کو جانےلگی اور نیچے اس کی ٹانگوں سےنیچے آ کر اس کی پینٹ کو کھولنے لگی۔۔۔اشرف نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔۔ بانو نے اشرف کی پینٹ اتاری اور پِھر اس کاانڈرویئر بھی اُتار دیا۔۔۔اشرف کا گورا گورا لن بالکل اکڑا ہوا تھا۔۔۔بانو نے اشرف کا لن اپنی مٹھی میں لیا اور اسے اپنی مٹھی میں اوپر نیچے کرتے ہوئے بولی۔۔۔ بانو :صاحب جی۔۔۔آج تو آپ بالکل بھی نہیں ڈررہے صباء میم صاحب سے۔۔۔ اشرف ہنس پڑا۔۔۔ بانو :ویسے صاحب جی۔۔۔میم صاحب سے ڈرتے صرف آپ ہی ہو۔۔۔آپ کا یہ لن نہیں ڈرتا ورتہ کسی سے۔۔۔کل بھی دیکھو کیسے اکڑا ہواتھا۔۔۔میرے لیے۔۔۔ بانو نے اشرف کے لن کو کس کرتے ہوئے کہا۔۔۔ اشرف :جب تم ایسی گرم حرکتیں کرو گی تو یہ اکڑے گا ہی نہ۔۔۔ بانو :صاحب جی۔۔۔کتنا پیارا لن ہے نہ آپ کا۔۔۔میم صاحب تو ہر وقت اسےاپنے منہ میں ہی رکھتی ہوں گی۔۔۔ اشرف تھوڑا اُداس ہوتے ہوئے۔۔۔نہیں۔۔۔بانو۔۔۔اس نے تو کبھی نہیں منہ میں لیا میرا۔۔ بانو :اچھا۔۔۔؟ ؟چلو کوئی بات نہیں آج میں خوب مزہ دوں گی آپ کو آپ کا لن چوس کر۔۔۔ اشرف اپنے لن کو اپنے ہاتھ میں لے کر بانو کے گالوں پر پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔کیا صرف چوسو گی ہی۔۔۔؟ ؟ ؟ بانو ہنس کر بولی۔۔۔نہیں آپ کو وہ بھی ملے گاجو آپ چاہتے ہو۔۔۔ یہ کہہ کر بانو نے اشرف کالن اپنے منہ میں لیا اوراسے چوسنے لگی۔۔۔کبھی باہر نکال کر چاٹنے لگتی۔۔۔ ٭٭٭٭٭ دینو جو کہ باہر فضلو کی دکان کے پاس ہی بیٹھا ہوااپنی چرس سے بھری ہوئی سگریٹ پی رہا تھا۔۔۔ صباء کا فون آنے کے بعد سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی بِلڈنگ کی طرف بھاگااور تیزی سے سیڑھیاں چرھتے ہوئےصباء کے فلیٹ پر پہنچ گیا۔۔۔ادھر اُدھر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔۔۔بہت آہستہ سے دروازے پردستک دی تو صباء نے آ کردروازہ کھولااور خود دروازے کے پیچھے ہوگئی۔ دینو جلدی سے فلیٹ کے اندرداخل ہوگیااور صباء نے پیچھے سےدروازہ بند کر دیااور کنڈی لگا دی۔۔۔دینو نے جب مڑ کر صباء کودیکھا تو اس کی تو آنکھیں ہی جیسے پھٹ گیں۔۔۔باریک نائٹی میں صباءکا گورا گورا جِسَم بالکل ننگاہی نظر آ رہا تھا۔۔۔نیچے ریڈ کلر کی پینٹی اور برا صاف دِکھ رہی تھی۔۔۔اِس قدر سیکسی انداز میں کسی بھی عورت کو دینو نےآج تک نہیں دیکھا تھا۔۔۔صباء شرما کر بولی۔۔۔ دینو جی آپ تو ایسے دیکھ رہے ہو جیسے کہ پہلی بارمجھے دیکھ رہے ہو۔۔۔ موٹا دینو چونک کر اپنےخیالات سے باہر آیااور اپنے پیلے پیلے دانت نکال کر ہنسنے لگا۔۔۔ آج تو میم صاحب تم پوری کی پوری آئٹم لگ رہی ہو۔۔۔ صباء دینو کے آگے چلتی ہوئی اندر آئی۔۔۔کیا مطلب کیسی آئٹم۔۔۔ دینو خود پر قابو نہ رکھ سکااور اپنا ہاتھ پیچھے سے آتےہوئے صباء کی گانڈ پر رکھ کر اسے زور سے دبا کر بولا۔۔۔جیسی فلموں میں ہوتی ہےنہ ویسی آئٹم۔۔۔سیکسی۔۔۔ صباء نے درد کے مارے ہلکی سی ایک چیخ ماری اور مڑ کر دینو کو دیکھتےہوئے بولی۔۔۔دینو جی۔۔۔ آپ کو شرم نہیں آتی کیااپنی بِیوِی کو آئٹم بولتے ہو۔۔۔ صباء کی باتوں سےتو دینو پاگل ہی ہونے لگا تھا۔۔۔جھٹکے سے اس نے صباء کواپنی بانہوں میں کھینچا اوربولا اور اپنے سینے۔۔۔بلکہ اپنے موٹے پیٹ پر کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔ ہائے جس کی بِیوِی اتنی سیکسی ہوگی۔۔۔ایسے ننگی پھیرے گی توکیسے نہ اسے آئٹم بولے گا سالا۔ دینو نے یہ کہہ کر اپنے ہونٹ صباء کے ہونٹوں پر رکھے اوراسے چومنے لگا۔۔۔صباء کو دینو کے منہ سے چرس کی تیز بدبو آئی۔۔۔اسے تو اچانک سےجیسے الٹی ہی آنے لگی تھی۔۔۔خود کو پیچھے کرتے ہوئےاور اس کے موٹے مضبوط باضوؤں سے چھڑواتے ہوئےبولی۔۔۔ صباء :ابھی بھی آپ نے چرس پی ہے نہ۔۔۔ دینو نے ایک جھٹکے سے اسےواپس کھینچا اور اپنے دانت نکال کر بولا۔۔۔ہاں پی ہے۔۔۔کوئی مسئلہ ہے کیا تیرے کو۔۔۔سالی۔۔۔میری بِیوِی بنی ہے تو بِیوِی ہی بن کر رہ۔۔۔ماں نہ بن میری صباء تھوڑا سہم گئی تھی دینو کےاِس انداز پر۔۔۔لیکن مجھے اچھی نہیں لگتی اس کی اسمیل۔۔۔ دینو۔۔۔اچھا۔۔۔سالی تیرے کو گندی لگتی ہےاس کی اسمیل۔۔۔ابھی بتاتا ہوں۔۔۔ دینو نے صباء کا خوبصورت چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور اپنا پورے کاپُورا منہ کھول کر اسے صباءکے ناک اور منہ پر لا کر تیزی سے اپنے اندر سے لمبی سی سانس باہر کو نکالی۔۔۔صباء کی ناک اور منہ کےاُوپر ہی۔۔۔اتنی کوئی گندی اسمیل آئی۔۔۔جو سیدھی صباء کی ناک سے ہوتے ہوئے اس کے سانس کے ساتھ ہی اُس کے لنگس میں جانے لگی۔۔۔صباء کا سانس رکنے لگا۔۔۔اس نے اپنا سانس روکا۔۔۔لیکن دینو نے دیکھ لیا۔۔۔بولا۔۔۔ دینو :سالی۔۔۔بہن چود۔۔۔ابھی بتاتا ہوں۔۔۔کیسا ہوتا ہے شوہر۔۔۔سالی تو اب میری بِیوِی بنی ہے نہ تو تجھے سکھاتا ہوں کیسے رہناہے میرے ساتھ۔۔۔ دینو نے اب کیا کیا کہ اپنامنہ پُورا کھول کر صباء کی ناک اور منہ کو ایک ساتھ اپنے منہ کے اندر لے لیا۔۔۔اف ف ف ف۔۔۔کسی طرف سے بھی سانس نہیں لے سکتی تھی اب صباء۔۔۔منہ اور ناک دونوں ہی دینو کے منہ کے اندر۔۔۔اب دینو نے اسی حالت میں اپنی سانسیں جیسے صباءکے اندر بھرنی شروع کر دیں۔۔۔جیسے کسی مرتے ہوئے بندےکو منہ کے ساتھ سانس دیتے ہیں۔ لیکن وہ بھی رومال رکھ لیتے ہیں درمیان میں۔۔۔لیکن یہاں تو دینو بنا کسی رکاوٹ کے سیدھا اپنا سانس۔۔۔چرس اور منہ کی بدبو سےبھرا ہوا سانس صباء کے منہ کے اندر بھرنے لگا ہوا تھا۔۔۔ جو سیدھا اُسکے پھپڑوں میں جا رہا تھا۔۔۔صباء کا دم گھوٹنے لگا۔۔۔اس کی آنكھوں سے پانی نکلنے لگا۔۔۔وہ بری طرح سے مزاحمت کررہی تھی۔۔۔لیکن دینو جیسے پہاڑ سےکیسے بچ سکتی تھی وہ بےچاری۔۔۔دینو نے اپنی گندی سی زبان کو صباء کے منہ کے اندر پُش کرنا چاہا۔۔۔لیکن صباء نے بری طرح سےاپنا منہ بند کیا ہوا تھا۔۔۔اس کمینے نے ایک اور داؤکھیلا۔۔۔اپنی زبان کو صباء کےہونٹوں کے اُوپر پھیرتے ہوئےاُس کے ہونٹوں کو چاٹتےہوئے۔۔۔اب اپنی زبان کو صباء کی ناک پر لے آیا۔۔۔اس کی ناک کو چاٹنے لگا۔۔۔پُورا منہ اور ناک ہی اُس کےمنہ کے اندر تھا تو دکت کیسی تھی یہاں سےوہاں جانے میں۔۔۔بنا اپنا منہ ہٹائے ہوئے ہی اور اچھے سے چاٹ کر پِھر دینو نے اپنی موٹی زبان بانو کی ناک کے نتھنوں کےاندر ڈالنا شروع کر دی۔۔۔اپنی زبان کو اندر پُش کرنےلگا۔۔۔موٹی زبان آخر کتنی اندر جاسکتی تھی۔۔۔لیکن جس برےطریقے سے دینو اپنی زبان کواندر ڈالنے کی کوشش کر رہاتھا اس سے تو صباء کاسانس بند ہونے لگا تھا۔۔۔نہ تو وہ اپنا منہ کھول سکتی تھی اور نہ ہی دینو اسے ناک سےسانس لینے دے رہا تھا۔۔۔صباء تو پریشان ہوچکی تھی۔۔۔بلکہ یوں کہو کہ پھنس چکی تھی۔۔۔دینو نے اچانک ہی اپنے منہ کو تھوڑا سا ہٹایا اور صباءکے چہرے کو تھوڑاسا پلٹ کر اس کی ناک کےبالکل اُوپر تھوک گرا دیا۔۔۔اف ف ف ف۔۔۔پتہ نہیں کتنی گندی حرکتیں کرنے جا رہا تھا آج وہ اور ساتھ ہی پِھر سے اس کی ناک کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔اس کا تھوک بہتا ہوا صباءکی ناک کے اندر جانے لگا۔۔۔ساتھ ہی دینو نے اپنی زبان سے اپنے ہی تھوک کو صباءکی ناک کے اندر پُش کرناشروع کر دیا۔۔۔دینو کے گندے گاڑھے تھوک سے صباء کی ناک بند ہونےلگی۔۔۔سانس گھٹنے لگا تو اس نےآخر وہی کیا جو دینو چاہتاتھا۔۔۔سانس لینے کے لیے اپنا منہ کھول دیا۔۔۔جیسے ہی صباء کا منہ کھلاتو دینو نے فوراً ہی اپنا منہ صباء کے منہ پر رکھا اورساتھ ہی اپنی زبان بھی صباء کے منہ کے اندر ڈال دی۔۔۔اس کی گندی ہو رہی زبان کاکڑوا ذائقہ صباء کے منہ میں گھلنے لگا۔۔۔ایسے ہی دینو نے اپنے منہ سے گاڑھا گاڑھا تھوک صباءکے منہ میں گرا دیا۔۔۔دانت تو پتہ نہیں شاید پوری عمر میں ہی دینو نے کبھی صاف نہیں کیے تھے۔۔۔اب اس گندے منہ کے اندرسے چرس کی اسمیل سےبھرا ہوا۔۔۔گندا تھوک سیدھا صباء کےمنہ میں گیا۔۔۔اُس کے منہ کا پورے کا پُوراذائقہ خراب ہونے لگا تھا۔۔۔لیکن اس تھوک کو حلق سےنیچے اتارنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا صباء کےپاس۔۔۔کچھ دیر کے بعد دینو نے اپنامنہ صباء کے منہ سے ہٹایااور صباء کے آنسوں سے بھرے ہوئے چہرے کو دیکھ کر اپنے پیلے دانت نکال کےہنستے ہوئے بولا۔۔۔ کیوں سالی۔۔۔اب کیسا لگا میرا تھوک۔۔۔بول ابھی بھی گندا لگتا ہےکیا۔۔۔ اِس سے پہلے کے صباء کوئی جواب دیتی۔۔۔دینو نے اپنے منہ کو بھر کےتھوک نکالا اور صباءکے گورے گورے چہرے پرگرا دیا۔۔۔میک اپ سے چمکتا ہواچہرہ دینو نے اپنے تھوک سےبھر دیا اور پِھر اپنے ایک ہاتھ سےاسے صباء کے پورے چہرےپر ملنے لگا۔۔۔صباء کا پُورا چہرہ ہی اپنے تھوک سے گیلا کر دیا۔۔۔ دینو :دیکھا۔۔۔اب سہی میں مست آئٹم لگ رہی ہے۔۔۔سالی۔۔۔بول ابھی بھی بولے گی میرے منہ کو گندا۔۔۔ صباء نے آنسوں سے بھری ہوئی آنكھوں کے ساتھ انکارمیں سر ہلا دیا۔۔۔ دینو ہنسا۔۔۔ہاں یہ ہوئی نہ بات۔۔۔چل پِھر چوس میری زبان۔۔۔ یہ کہہ کر دینو نے اپنی زبان باہر نکال کر صباء کی طرف بڑھائی اور صباء نے چُپ کر کے اسے اپنے ہونٹوں میں لیا اور آہستہ آہستہ اسے چوسنے لگی۔۔۔دینو سے کہاں صبر ہوتا تھا۔۔۔فوراً ہی اپنی زبان کو اوربھی آگے کو پُش کرنے لگا۔۔۔اُس کے منہ کے اور بھی اندر۔۔۔ایک ہاتھ ہٹا کر اس نے صباءکے ممے پر رکھ دیا اور اُس کے ممے کو دبانے لگا۔۔۔دینو کے موٹے موٹے ہاتھوں کی گرفت میں صباء کے ممےآئے تو صباء کو لگا جیسے وہ اُس کے مموں کو اُس کےسینے سے ہی اکھاڑ لے گا۔۔۔تڑپنے لگی صباء۔۔۔آج تو بالکل ہی پاگل ہو رہاتھا دینو۔۔۔اسے یاد آئی بانو کی بات کے چرس پی کر تو بالکل ہی وحشی ہی ہو جاتا ہے دینواور آج صباء کو دینو کےاسی وحشی پن کا سامنا کرنا تھا۔۔۔اسے جھلنا تھا۔۔۔اسے کنٹرول کرنا تھا۔۔۔یا پِھر خود کو اُس کےکنٹرول میں دیے دینا تھا۔۔۔مکمل کنٹرول میں۔۔۔جیسے اب تک وہ کر چکی ہوئی تھی۔۔۔ہتھیار ڈال چکی ہوئی تھی۔۔ دینو نے اپنے ہونٹوں کو صباءکے ہونٹوں پر سے ہٹایا اوراپنی زبان کی اُس کے پورےچہرے پر پھیرتے ہوئے اُسکے چہرے کو چاٹنے لگا۔۔۔اس کی ناک ،اس کے گالوں کو ،اور پِھر اس کی آنكھوں کوبھی۔۔۔جیسے ہی صباء کی آنكھوں پر دینو کی زبان گئی تو اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں لیکن دینو کمینے نے انگلی سے اس کی آنکھوں کو کھولااور جیسے اس کی آنكھوں کو بھی اندر سے چاٹنے لگا۔۔۔آئی بالز کو۔۔۔عجیب ہی حرکتیں کر رہاتھا دینو مستی میں آ کر۔۔۔پتہ نہیں چرس کی مستی تھی۔۔۔یا کہ صباء کے بدن کی مستی تھی جو اسے ہر لیول سے آگے جانے پر مجبور کررہی تھی۔۔۔اچانک ہی اسے پتہ نہیں کیاخیال آیا کہ اپنی قمیض کی جیب سے کوئی ایک کالے سے رنگ کی گولی کی طرح کی نرم سی چیز نکالی اور اسےزبردستی صباء کے منہ میں ڈال دیااور اُس کے منہ پر اپنا منہ رکھ دیا دوبارہ سے۔۔۔صباء نے تھوڑی سی مزاحمت کی۔۔۔اس گولی کو منہ سے نکالنے کی کوشش بھی کی۔۔۔لیکن دینو نے اپنی زبان کی مدد سے اسے صباء کے منہ کے اندر ادھراُدھر گھماتے ہوئےاسے گھولنا شروع کر دیا۔۔۔وہ چرس کی گولی۔۔۔جو دینو نے اپنے پاکٹ سےنکالی کے صباء کے منہ میں ڈالی تھی۔۔۔صباء کے منہ میں گھلتی ہوئی غائب ہونے لگی۔۔۔صباء کا تھوک بھی عجیب سا ہونے لگا۔۔۔وہ اسے اندر نہیں لے جا رہی تھی۔۔۔لیکن منہ کے اندر اکھٹا ہونےکے بعد وہی چرس سے بھراہوا تھوک ہولے ہولے اُس کےگلے میں سے نیچے جانے لگاتھا۔۔۔سرکتا ہوا۔۔۔بہتا ہوا۔۔۔اور جب صباء کو کوئی بھی راستہ نظر نہیں آیا سانس لینے کا تو اس نے ایک بڑا سا گھونٹ بھرتے ہوئےاپنے منہ کے اندر اکھٹا ہو رہاسارے کا سارا تھوک نگل لیااور ساتھ ہی چرس کی وہ گولی بھی۔۔۔صباء بھی گھبرا گئی تھی کہ اِس نے کیا ڈال دیا ہے اُس کےمنہ میں۔۔۔لیکن وہ کچھ بھی تو نہ کرسکی۔۔۔اس ہٹے کٹے۔۔۔سانڈ کے سامنے۔۔۔ ٭٭٭٭٭ لن کی چوسائی سے بانواشرف کو پاگل کر رہی تھی۔۔۔کبھی اپنے منہ سے لن کونکال کر اسے نیچے سے اُوپرتک چاٹنے لگتی اور کبھی پِھر سے اسے منہ میں لےلیتی۔۔۔اشرف بانو کے سر پرہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔۔۔ اف ف ف ف ف۔۔۔بڑی مست ہے تو بانو۔۔۔پتہ نہیں پہلے سے کیوں نہیں میری تجھ پر نظر پڑی۔۔۔ بانو اپنے منہ سے اشرف کالن نکال کر اس کی ٹوپی کوآئس کریم کی طرح چاٹتےہوئے بولی۔۔۔ پہلے تو آپ کو صرف اپنی ہی صباء پری نظر آتی تھی۔۔۔تو آپ مجھ جیسی کو کیسےدیکھتے۔۔۔ اشرف ہنسا۔۔۔بس غلطی ہوگئی یار۔۔۔آج پتہ چلا ہے کہ تو کتنے کام کی چیز ہے۔۔۔قسم سے۔۔ بانو ہنسی۔۔۔صاحب جی میں تو بس ایک ہی کام آتی ہوں اور اس کام کے لیے آپ جب کہو گے میں حاضر ہوں۔۔۔ بانو نے اشرف کا لن اُوپر کیااور اُس کے نیچے لٹک رہے ڈارک براؤن کلر کے بالزکو چاٹنے لگی۔۔ اپنی زبان پھیرنے لگی۔۔۔ان کو گیلا کرنے لگی۔۔۔بالکل صاف ستھرے بالز تھےاشرف کے بالوں سے پاک اور بالکل بھی کوئی اسمیل یا بدبو نہیں تھی۔۔۔اسے دیکھ کر بانوسوچنے لگی۔۔۔واہ رے۔۔۔میم صاحب اتنے پیارے لن کو چھوڑ کر آپ اس موٹے دینو کے گندے بدبودار ٹٹوں کو چوسو گی۔۔۔ٹھیک کہتے ہیں لوگ۔۔۔شریف عورت جب رنڈی بن جائے تو وہ بڑی بڑی رندیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔۔۔سچ میں تم ایک بڑی رنڈی ہو۔۔۔اشرف نے بانو کا ہاتھ پکڑ کراسے اُوپر کھینچا اور اپنی بانہوں میں لے کر بولا۔۔۔ کیا سوچنے لگ گئی ہو۔۔۔؟؟؟ بانو بولی۔۔۔بس صاحب جی۔۔۔میم صاحب کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔۔۔کتنی لکی ہیں نہ وہ۔۔۔کہ روز اِس پیارے سے لن سے چدوانے کا موقع ملتا ہے۔۔۔ہائے میرے پاس ہو نہ آپ توہر وقت بس آپ کے لن کواپنی چوت میں ہی لے کر پڑی رہوں۔۔۔ اشرف ہنسنے لگا۔۔۔کیوں ایسی کیا خاص بات ہےمجھ میں۔۔۔ بانو اشرف کے گالوں کو چوم کر بولی۔۔۔آپ اتنے پیارے ہو۔۔۔اتنے خوبصورت ہواور اتنے چکنے ہو۔۔۔ اشرف :چکنا۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟کیا مطلب ہے تیرا۔۔۔؟ ؟؟ بانو نے اشرف کو ایک آنکھ ماری۔۔۔ارے صاحب جی۔۔۔چکنے مطلب چکنے لونڈے ہو۔۔۔ جیسے کسی کالج کےاسٹوڈنٹ ہوتے ہیں نہ۔۔۔امیر گھروں کے۔۔۔خوبصورت اور نخرے والے بالکل ویسے۔۔۔بڑا دِل تھا کہ کبھی آپ بھی مجھے اپنی بانہوں میں لواور مجھے چودو۔۔۔ اشرف ہنس کر بانو کی گانڈکو دباتے ہوئے بولا۔۔۔اور تمہارا دینو۔۔۔وہ تجھے چکنا نہیں لگتا کیا۔۔ بانو :ارے صاحب جی۔۔۔اس موٹے کا آپ سے کیامقابلہ۔۔۔کہاں آپ۔۔۔اور کہاں وہ۔۔۔کالا بھینسا۔۔۔ اشرف ہنسا۔۔۔ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔وہ موٹا تو اتنا بدصورت ہےکہ کوئی بھی خوبصورت لڑکی اس کی طرف دیکھنابھی پسند نہیں کرے گی۔۔۔وہ بے چارہ تو بس حَسِین لڑکیوں کے خواب ہی دیکھ سکتا ہو گا بس۔۔۔ہے نہ اور اپنے سپنوں میں ہی خوبصورت لڑکیوں کو چودتاہوگا۔۔۔ اشرف نے قہقہ لگا کر کہا۔۔۔اشرف کی بات پر۔۔۔اس کی لا علمی پراور اس کی معصومیت پر۔۔ بانو مسکرا اٹھی اور دِل ہی دِل میں سوچنے لگی۔۔۔ارے میرے بدھو راجہ۔۔۔آپ کو کیا پتہ کہ اِس وقت وہ موٹا بدصورت کالا کلوٹاآدمی۔۔۔ایک خوبصورت اور سیکسی۔۔۔حسینہ کو ہی چود رہا ہےاور وہ حسینہ۔۔۔تمہاری ہی خوبصورت بِیوِی ہے۔۔۔جو اپنی مرضی سے اس سےچدوا رہی ہے۔۔۔ بانو :ٹھیک کہہ رہے ہو صاحب جی۔۔۔لیکن کیا پتہ ہے کہ وہ بھی اِس وقت کسی لڑکی کے چکرمیں ہی ہواور لگا ہوا ہو کسی عورت کےساتھ ہی۔۔۔ اشرف :ہاں ہو سکتا ہے۔۔۔لیکن کوئی بازارو عورت ہی ہو سکتی ہے۔۔۔کوئی رنڈی۔۔۔جو پیسوں کے بدلے اس سےچُدوا لے گی۔۔۔ورنہ اسے کون اپنی چوت دے گی یار۔۔۔چھوڑو اسے تم اپنا کام کرویار۔۔۔ یہ کہہ کر اشرف نے بانو کاپجامہ بھی کھینچ کر اُتار دیا۔۔۔اب کمرے میں دونوں ہی ننگے تھے۔۔۔ گورے چٹے جِسَم والا اشرف اور سانولے بدن والی بانو۔۔۔دونوں ہی ایک دوسرےکے پیاسے ہو رہے تھے۔۔۔ایک دوسرے کے اندر سماجانا چاہتے تھےاور پِھر وہ دونوں ننگے جِسَم ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔۔۔ایک دوسرے کو چومنے لگے۔۔۔نیچے سے گورا گورا لن سانولی سی چوت کےساتھ ٹکرانے لگا۔۔۔رگڑ کھانے لگااور اُوپر سے دونوں کے ہونٹ ملے ہوئے تھے۔۔ ٭٭٭٭٭ کچھ ہی دیر میں صباء دینو کی ان گندی حرکتوں کی عادی ہونے لگی۔۔۔اس کے منہ سے اٹھنے والی گندی بدبو بھی اس کوبھولنے لگی۔۔۔اسے اب وہ اسمیل گندی نہیں لگ رہی تھی۔۔۔پتہ نہیں شاید اُس کے منہ سے آنے والی چرس کی گندی سمیل اُس کے دماغ میں بھی چڑھنے لگی تھی۔۔۔ اسی سے شاید اور یاپِھر دینو کے چاٹنے سے صباءکی آنکھیں بھی لال ہونےلگیں اور یا پِھر وہ چرس کی گولی اب اپنا رنگ اوراثر دکھانے لگی تھی۔۔۔صباء پر بھی عجیب سی مستی چھانے لگی تھی۔۔۔ اس پر بھی نشہ چھانے لگاتھا۔۔۔آنکھیں لال ہونے لگی تھیں۔۔۔مقدار تو تھوڑی سی تھی اس گولی کی لیکن صباءجیسی نازک سی لڑکی کےلیے۔۔۔جس نے کبھی بھی کوئی نشہ نہ چکھا ہو۔۔۔ سوائے اس تھوڑی سی شراب کے جو میجر نے اسے پلائی تھی۔۔۔اس کے لیے تو چرس جیسی چیز بہت تیز اور بہت زیادہ تھی۔۔۔چاہے وہ تھوڑی مقدار میں ہی تھی۔۔۔دینو کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔ صباء :دینو حرامی۔۔۔یہ کیا کِھلا دیا ہے مجھے۔۔۔سارا منہ کا ذائقہ ہی خراب ہو گیا ہےاور سر بھی گھومتا ہوا لگ رہا ہے جیسے۔۔۔ دینو ہنسا۔۔۔سالی۔۔۔جس چرس کو گندا بول رہی تھی نہ وہی تجھے کِھلا دی ہے۔۔۔دیکھا اب کیسی مستی چڑھ رہی ہے تجھے۔۔۔اب پتہ چلا کیسا نشہ ہوتاہے چرس کا۔۔۔اب تیری چوت مارنے میں اوربھی مزہ آئے گا۔۔۔بہن چود۔۔۔ صباء نشیلی آنكھوں کےساتھ دینو کو دیکھتے ہوئےبولی۔۔۔بہت ہی کمینہ آدمی ہےتو دینو۔۔۔ذرا بھی ترس نہیں آتا کسی پر تم کو۔۔۔معصوم بچی کو کیسے برےطریقے سے نشہ کِھلا دیا ہے۔۔۔ دینو صباء کے گال اورہونٹوں پر ایک ساتھ ایک باراپنی زبان پھیر کر بولا۔۔۔ارے رنڈی۔۔۔ تو اور معصوم بچی۔۔۔بہن چود۔۔۔تجھے تو بندہ سارا دن اوررات اپنا لن ڈال کے پیلتا رہےتو بھی تیری چوت کی بھوک نہ مٹے سالی۔۔۔اور تو کہتی ہے کہ تو معصوم بچی ہے۔۔۔بہن کی لوڑی۔۔۔ اپنے کھسم کے پیچھے دو دوغیر مردوں سے چوداتی پھرتی ہے اورکہتی ہے کہ معصوم بچی ہے۔۔۔ اس کی بات پر صباء بھی ہنسنے لگی۔۔۔ہاں تو تجھے کیا تکلیف ہے۔۔۔جس سے میرا دِل آئےمیں چودواؤں۔۔۔میں کوئی تیری گھر والی ہوں جو تو ایسے حق جاتا رہاہے۔۔۔چودتا ہے تو چود۔۔۔ نہیں تو نکل یہاں سے۔۔۔میں کسی اور کو بلا لوں گی۔۔۔ صباء نے ایک ادا کےساتھ دینو کو ذلیل کیا۔۔۔دینو اپنے ہاتھ میں صباء کامنہ دبا کر بولا۔۔۔ سالی دِل تو کرتا ہے کہ تیرےسے نکاح کر کے ڈال لوں تجھے اپنے فلیٹ میں۔۔۔پِھر دیکھتا ہوں کیسے چوداتی ہے تو کسی اور سے جا کر۔۔۔ صباء ہنسی اور اسے اور بھی غصہ دلاتے ہوئے بولی۔۔۔ارے جا جا۔۔۔مجھے تو کیا اپنے گھر میں ڈالے گا۔۔۔جس سے پہلے شادی کی ہوئی ہے اسے تو سنبھال۔۔۔جو ادھر اُدھر منہ مارتی پھرتی ہے۔۔۔سالے تیرے لن میں جان ہوتی تو تو اسے نہ روک لیتا۔۔۔مجھے تو لگتا ہے کہ تو خودبانو کے لے جاجا کر چلاتا ہے۔۔۔میرے سے شادی کر کے پِھرمیری بھی تو دلہ گیری ہی کرے گا نہ تو۔۔۔ دینو :کتے کی بچی۔۔۔مجھے گالی دیتی ہے۔۔۔مجھے دلہ بولتی ہے۔۔۔بہن چود ابھی تجھے بتاتا ہوں۔۔۔دکھاتا ہوں تجھے آج اپنے لن کی طاقت۔۔۔پِھر تجھے پتہ چلے گا کہ کیسے چودتے ہیں۔۔ دینو نے ایک جھٹکے سےصباء کو دوبارہ اپنے سینےسے لگا لیا۔۔۔اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئےاور دوبارہ سے اپنے ہونٹ صباء کے گلابی ہونٹوں پررکھ دیے۔۔۔لیکن اِس بار صباء کی طرف سے کوئی بھی مزاحمت نہیں تھی۔۔۔بلکہ اگلے ہی لمحے دینو کےموٹے کالے ہونٹ صباء کے منہ کے اندر تھے۔۔۔صباء کے نازک سے گلابی ہونٹوں کے درمیان جن کو وہ چوس رہی تھی۔۔۔صباء دینو کے ہونٹوں کوچوس رہی تھی۔۔۔اپنی زبان کو دینو کے منہ کےاندر پُش کرتے ہوئے اس کی زبان سے اپنی زبان ملا رہی تھی۔۔۔دینو نے فوراً سے ہی صباءکی زبان کو چوسنا شروع کردیا۔۔ صباء نے پیچھے کو دھکیلتےہوئے دینو کو صوفہ پر بیٹھادیا۔۔۔بلکہ گرا ہی دیااور خود اس کی گود میں چڑھ گئی۔۔۔دوبارہ سے اُس کے گالوں کوچومنے لگی۔۔۔بڑھی ہوئی شیو والے چہرےکو چومنے لگی۔۔۔ صباء :چاٹ رہے تھے نہ۔۔۔ایسے ہی چاٹ رہے تھے نہ تم بھی۔۔۔ یہ کہتے ہوئے صباء نے اپنی گلابی زبان نکالی اور دینو کےگالوں کو چاٹنے لگی۔۔۔اس کی بڑھی ہوئی شیو کےبال اس کی زبان پر چُبھ رہےتھے۔۔۔لیکن وہ ہر چیز سے بے خبرہو کر بس اپنی زبان سے دینو کے چہرے کو چاٹ رہی تھی۔۔۔ صباء :تھووکا تھا نہ میرے چہرےپر۔۔۔یہ لو اب۔۔۔ صباء نے اپنے منہ سے تھوک۔۔۔اپنا سفید۔۔۔صاف ستھرا تھوک۔۔۔دینو کے گالوں پر گرایا اوراسے اپنی زبان سے اُس کے پورے چہرے پر ملنے لگی۔۔۔صباء کو ذرا بھی اِس بات کااحساس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کتنے گندے مرد کے ساتھ اِس طرح پیار کر رہی ہے۔۔۔اُس کے گندے جِسَم سےاسمیل آ رہی تھی۔۔۔لیکن صباء کو تو جیسےکوئی پرواہ ہی نہیں تھی۔۔۔جیسے اسے کوئی بھی گندی اسمیل محسوس ہی نہ ہورہی ہو۔۔۔دینو کی طرح جیسے وہ بھی وحشی ہوتی جا رہی تھی۔۔ دینو کے بالوں کو اپنی مٹھی میں پکڑا اور اُس کے چہرےکو پیچھے کی طرف کھینچ کر اپنا منہ نیچے اس کی گردن پر رکھ دیا۔۔۔کالی موٹی گردن پر۔۔۔جہاں پتہ نہیں کتنی میل جمی ہوئی تھی اور پتہ نہیں کتنے دنوں کی میل جمی ہوئی تھی۔۔۔لیکن صباء۔۔۔صباء اگلے ہی لمحے اس کی گردن کو چاٹنے لگی۔۔۔اپنے ہونٹ اس کی گردن پررکھے۔۔۔جیسے ڈراکولا خون پینے کےلیے گردن پر دانت گاڑتا ہے۔۔۔ویسے ہی۔۔۔لیکن خون پینے کی بجائےاس کی گردن کی اسکن کواپنے ہونٹوں میں لے کر صباءاسے چوسنے لگی اور اندر ہی اپنی زبان بھی اس کی گردن پر پھیرنے لگی۔۔۔دینو کو بھی حیرانگی ہورہی تھی کہ یہ اِس میم کوکیا ہوگیا ہے۔۔۔ صباء :تم۔۔۔تم۔۔۔تم کیا سمجھتے ہو کہ اگر تم مجھے چاٹ سکتے ہو تو کیامیں نہیں چاٹ سکتی تم کو۔۔۔ کیا مجھے ایسے پیار کرنانہیں آتا ۔۔۔بولو ذرا۔۔۔ صباء نے دینو کی آنكھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔دینو بھی اپنے پیلے دانت نکال کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔اُس کے ہاتھ صباء کی باریک نائٹی کے نیچے سے اُس کےننگے جِسَم پر پہنچ چکے ہوئے تھےاور وہ اپنے موٹے موٹےہاتھوں سے صباءکے گورے گورے جِسَم کو سہلا رہا تھا۔۔۔اُس کے ہاتھ صباء کے مموں کی طرف بڑھ رہے تھےاور اگلے ہی لمحے۔۔۔اس نے صباء کی ریڈ کلرکی برا کے اُوپر سے ہی اُسکے مموں کو تھام لیااور آہستہ سے دبا کر بولا۔۔۔ دینو :سالی تیرے ممے بڑےزبردست ہیں۔۔۔ صباء :سالے تیرا لن بھی تو بڑازبردست ہے نہ۔۔۔ دینو :تو لے لے نہ اپنی چوت میں۔۔۔ صباء :اپنی چوت میں لے کر ہی جانے دوں گی تجھے۔۔۔اب ایسے نہیں جانے دیتی تجھے۔۔۔ دلے۔۔۔ دینو نے صباء کی سلیویلیس بازؤ کو اُوپر اٹھایااور اپنا منہ صباء کی بغل میں رکھ دیا۔۔۔صباء کی بغل میں بالکل ہی ہلکے ہلکے بال تھے۔۔۔دینو نے اپنی ناک وہاں رکھ کر اسے سونگھا اور پِھر اس کی بغل کو چوم لیا۔۔۔ دینو :سالی۔۔۔بڑے مست بال رکھے ہوئےبغل میں اپنی۔۔۔ صباء :تو کیا ہوا اچھے نہیں لگ رہےتجھے کیا۔۔۔ دینو ;نہیں نہیں اچھے ہیں۔۔۔پر میں تو سمجھ رہا تھا کہ تو نے اپنی بغلیں چکنی رکھی ہوں گی اور چوت بھی۔۔۔ یہ کہہ کر دینو نے اپنی زبان نکالی اور صباء کی بغل کوچاٹنے لگا۔۔۔اُس کے ہلکے ہلکے بالوں کوگیلا کرنے لگا۔۔۔ صباء :بہن چود۔۔۔یہ تم سب مردوں کو چکنی چوت ہی پسند ہوتی ہے کیا۔۔۔اس میجر کو بھی میری چوت چکنی ہی چاہیے ہے اوراب تجھے بھی۔۔۔ دینو ہنسا اور پِھر سے صباءکی بغل میں اپنی زبان رکھ کر چاٹنے لگا۔۔۔صباء کو دینو کی زبان سے گدگدی ہونے لگی۔۔۔اپنی بغل میں۔۔۔وہ ہنسنے لگی۔۔۔لیکن دینو نے اُس کے بازؤ کواوپر اٹھا کررکھا اور نیچےسے اُوپر تک اس کی بغل کوچاٹتے ہوئے گیلا کرنے لگا۔۔۔صباء ہنستے ہوئے تڑپی۔ صباء :کیا کرتے ہو دینو جی۔۔۔بس کرو نہ۔۔۔دیکھ لو پِھر میں نے کیا نہ توپِھر نہ کہنا۔۔۔ دینو :کرو گی۔۔۔تو بھی کرے گی کیا۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔تو نہیں کر سکتی ایسے سالی۔۔۔تجھے تو گھن ہی آئے گی میری بغل سے۔۔۔ صباء نے کوئی جواب نہیں دیا اور دینو کی شرٹ کونیچے سے پکڑ کراُوپر اٹھانے لگی اور پِھر اسے اُتار دیا۔۔۔جیسے ہی دینو نے اپنے بازؤاوپر کیے تو۔۔۔صباء کو دینو کی بغل بھی نظر آئی۔۔۔جہاں پر بہت لمبے لمبے بال تھے۔۔۔میلے۔۔۔اور پسینے سے آپس میں جڑے ہوئے۔۔۔دینو کا اوپری کالا موٹا گنداجِسَم بالکل ننگا تھا۔۔۔اُس کے جِسَم پر ابھی بھی پسینہ نظر آ رہا تھا۔۔۔دینو اسے دیکھ کے ہنسنے لگا۔۔۔اپنی بغل میں اپنا ہاتھ ڈالااور اسے اچھے سے وہاں پھیرکے اپنا ہاتھ صباء کی ناک کی طرف بڑھایا۔۔۔ دینو :لے سونگھ کر دیکھ اسے۔۔۔سونگھ ذرا کیسی خوشبو ہےاور تو کہتی ہے کہ تو اسےچاٹ لے گی۔۔۔ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔ارے تیرے جیسی امیر کتی کسی غریب کو نہیں چاٹ سکتی۔۔۔جسے ہر وقت صفائی کاخیال ہو۔۔۔دیکھ ذرا ادھر۔۔۔دیکھا کتنا جنگل ہے یہاں میری بغل میں۔۔۔ یہ کہہ کر دینو نے اپنا بازؤاوپر اٹھایااور اپنی بغل میں ہو رہے بال اسے دکھانے لگا۔۔۔بہت ہی بڑا گچھا بنا ہوا تھا۔۔۔بہت ہی میلے ہو رہے تھے بغل کے بال۔۔۔لگتا تھا جیسے ان میں میل جمی ہوئی ہواور پسینے سے گیلے بھی ہورہے تھے۔۔۔ صباء اسے دیکھ کے ہنسنےلگی ۔۔۔اور اگر میں نے چاٹ لیا تو۔۔۔؟؟بہن چود تجھےاپنی چرس اور اپنی بِیوِی کی دالالی سے فرصت ملے توتو صاف کرے نہ اپنے بال۔۔۔ دینو :ارے پہلے اسے اسمیل تو کر۔۔۔ دینو نے دوبارہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔صباء نے دینو کا ہاتھ پکڑ کےاسکی انگلیوں کو سونگھا تو سچ میں ہی بہت ہی گندی سی اسمیل تھی۔۔۔جوکہ سیدھی اُس کے ناک سے ہوتے ہوئے اُس کے دماغ میں چڑھنے لگی۔۔۔ایک لمحے کے لیے تو صباء کےماتھے پر بل پڑ گے۔۔۔لیکن۔۔۔ اگلے ہی لمحے پتہ نہیں اسےکیا ہوا کہ اس نے دینو کی انگلیوں کو پکڑ کے چوسناشروع کر دیا اپنے منہ میں لےکر۔۔۔دینو ہنسنے لگا۔۔۔ دینو :کیوں۔۔۔تجھے بدبو نہیں آ رہی کیا۔۔۔ صباء ایک ادا سے اس کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔نہیں تو۔۔۔مجھے تو کچھ بھی نہیں بدبو آئی۔۔۔ دینو ہنسا۔۔۔اپنے ہاتھ آگے بڑھا کر صباءکی گردن کے پیچھے رکھا اوراسے ایکدم سے اپنی طرف کھینچا۔۔۔اس کا چہرہ اپنی بغل کےنیچے کھینچ لیا۔۔۔اس کی ناک اپنی بغل کےبالوں میں پریس کر دی۔۔۔ دینو :ہنستے ہوئے۔۔۔ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔اب سونگھ کتی۔۔۔سونگھ ذرا کتے کی طرح۔۔۔کہ تجھے بو آتی ہے کہ نہیں۔۔۔ صباء بھی ہنس رہی تھی۔۔۔دینو کی بغل کے بڑے بڑےبال صباء کی ناک کےاندر گھستے جا رہے تھےاور وہاں کی تیزگندی پسینے اور میل کی بدبو تو صباء کو جیسے پاگل ہی کر دینے والی تھی۔۔۔بہت ہی گندی اسمیل تھی اور صباء تو جیسے سچ میں ہی پاگل ہو رہی تھی۔۔۔اس کی بغل کو سونگھتے ہوئے صباء نےاپنے ہونٹ بھی وہیں رکھےاور اس کی بغل کو چومنےلگی۔۔۔اس کی بغل کے لمبے لمبے بالوں کو اپنے ہونٹوں میں لیااور ان کو چوسنے لگی۔۔۔دینو بھی حیران ہو رہا تھا۔۔۔اگلے ہی لمحے صباء نے اپنی زبان باہر نکالی اور اس کی بغل کے بالوں کو چاٹنے لگی۔۔۔اپنی زبان کو اُس کے بالوں میں گھمانے لگی۔۔۔دینو کی بغل کے بالوں کوگیلا کرنے لگی۔۔۔کبھی منہ میں لے کر چُوستی اور کبھی چاٹنے لگتی۔۔۔دینو بھی اپنا ہاتھ صباء کی نائٹی کے نیچے سے ڈال کےاس کی ننگی کمرکو سہلا رہا تھا۔۔۔اسے حیرت ہو رہی تھی کہ ایسی حَسِین پری جیسی لڑکی۔۔۔کیسے اُس کے جیسے گندے آدمی کی بغلوں کو چوس سکتی ہے۔۔۔لیکن صباء تو پتہ نہیں اس چرس کے اثر میں تھی۔۔۔بس مست ہو رہی تھی۔۔۔کبھی دینو کی بغل کو چاٹنےلگتی اور کبھی اُس کے بازؤ کو۔۔۔پِھر اس کی بغل کے بالکل قریب ہی اس کی نظر دینو کے نپل پر پڑی۔۔۔نپل کیا تھا۔۔۔چھوٹا سا لٹکا ہوا مما تھا۔۔۔جس کے آگے چھوٹا سا دانےکی طرح کا موٹا کالا نپل تھا۔۔۔بالوں میں چھپا ہوا۔۔۔صباء نے اپنا منہ اُدھر لے جاکر دینو کے نپل کو اپنی زبان سے سہلانا شروع کر دیا۔۔۔چاٹتے ہوئے۔۔ اسے اُوپر نیچے کرنے لگی اور پِھر اسے منہ میں لےکر چوسنے لگی۔۔۔جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کانپل چوس رہا ہو۔۔۔یا جیسے مرد عورت کا نپل چوستا ہےاور دوسرے ممے کو اپنی مٹھی میں سہلانے لگی۔۔۔اپنے منہ کو ہٹا کر سیدھی ہوئی۔۔۔اور بولی۔۔۔ دینو جی۔۔۔لگتا ہے کافی عرصے کے نہائےہوئے ہو۔۔۔اتنے گندے کیوں رہتے ہو۔۔۔ نہاتے نہیں ہوتے کیا۔۔۔ دینو نے آگے سےدانت نکالنے شروع کر دیے۔۔۔صباء اُس کے سر کےکھچڑی بناتے ہوئے بالوں کومٹھی میں لے کر بولی۔۔۔مجھے تو لگتا ہے کہ تم بانوکو چودنے کے بعد بھی نہیں نہاتے ہوگے۔۔۔ دینو اب بھی آگے سے ہنسنےلگا۔۔۔ ٭٭٭٭٭ اشرف نے جب بانو کی سانولی سی چوت دیکھی تو۔۔۔آج اس کا دِل چاہا کہ وہ صباء کی گوری گوری اورگلابی چوت کی طرح اِس سانولی چوت کا ذائقہ بھی چکھ لے۔۔۔یہی سوچ کر اشرف جھکااور اپنا منہ بانو کی چوت پررکھ دیا۔۔۔بانو کو اِس بات کی امیدنہیں تھی کہ اشرف اس کی چوت کو بھی چاٹے گا۔۔۔لیکن جب اشرف نے اپنی زبان بانو کی چوت پرپھیرنی شروع کی تو اسےبھی بہت مزہ آنے لگا۔۔۔بانو کو بھی دینو کے بعداب کسی اور سے اپنی چوت چٹوانے میں اچھا لگ رہا تھا۔۔ بانو:صاحب جی۔۔۔لگتا ہے کہ میم صاحب نےاچھا ٹرینڈ کیا ہوا ہے آپ کواپنی چوت چٹوا کر۔۔ بڑی اچھی چاٹتے ہو چوت کو۔۔۔ اشرف نے اپنا چہرہ اوپراٹھایا اور مسکرا کر بانو کودیکھا اور پِھر سے اپنے ہونٹ نیچے رکھ دے۔۔۔ بانو کی سانولی چوت کے کالے لپس پر۔۔۔ بانو تڑپی۔۔۔صاحب جی۔۔۔اپنی جیب اندر ڈالو نہ۔۔۔اندر سے چاٹو۔۔۔ اشرف نے بانو کی طرف دیکھا اور پِھر اپنی زبان کی نوک بانو کی چوت کےسوراخ کے اندر ڈال دی اور اسے اندر سے چاٹنے لگا۔۔۔اسے اس قدر مزہ تو نہیں آرہا تھا جتنا اسے صباء کی چوت کو چاٹنے میں آیا تھا۔۔۔لیکن پِھر بھی وہ چاٹ رہاتھا۔۔۔کیونکہ اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔۔کیونکہ بانو نے بھی تو اس کالن اتنے اچھے سے چوسا تھانہ۔۔۔ بانو سسکی۔۔۔آہ صاحب جی اور برداشت نہیں ہوتا اب۔۔۔ڈال دو بس ڈال دو نہ لن میری چوت میں۔۔۔ اشرف بھی تو اسی وقت کامنتظر تھا نہ۔۔۔فوراً ہی اٹھا اور بانو کی دونوں ٹانگیں کھول کراپنے گورے گورے لن کی گلابی ٹوپی۔۔۔بانو کی سانولی سی چوت پررکھ دی۔۔۔بانو کی چوت پانی چھوڑرہی تھی۔۔۔گیلی ہو رہی تھی۔۔۔تھوڑی دیر کے لیے اشرف نےاپنے لن کی ٹوپی کو بانو کی چوت کے سوراخ پر رگڑا اورپِھر آہستہ آہستہ اپنا لن اندرڈالنے لگا۔۔۔اشرف کا لن پھسلتا ہوا بانو کی چوت میں اُتَر گیا۔۔۔بانو نے ایک لمبی سکون کی سانس لی۔۔۔آہ۔۔۔جیسے اسے اپنے دِل کی مرادمل گئی ہو۔۔۔آخر اس کی خالی چوت جوبھر گئی تھی۔۔۔اشرف نے اپنے دونوں ہاتھ بانو کی رانوں پر رکھے اورآہستہ آہستہ دھکے لگانے لگا۔۔۔اشرف خود میں آج بہت زیادہ کانفیڈینس محسوس کر رہا تھا۔۔۔جتنا وہ صباء کے آگے ڈپریس ہوتا رہا تھا۔۔۔آج اُس کے لن میں اس سے کہیں زیادہ سختی آئی ہوئی تھی۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ آج وہ کافی دیر تک بانو کو چودپائے گا۔۔۔ اشرف اپنا پُورا لن بانو کی چوت میں اندر باہر کر رہا تھا۔۔۔تیزی سے اپنا لن اس کی چوت میں جڑ تک اُتار دیتااور پِھر باہر کھینچ لیتا۔۔۔دھانہ دھن بانو کی چوت کی چُودائی جاری تھی۔۔۔بہت لمبے عرصے کے بعداشرف کو اتنا مزہ آرہا تھااور وہ بھی دوسری عورت کے ساتھ۔۔۔وہ نیچے جھکا اور بانو کےہونٹوں کو چومتے ہوئےاسے چودنے لگا۔۔۔بانو کو بھی بہت اچھا لگ رہاتھا۔۔۔وہ سوچ رہی تھی کہ صباءتو کہتی تھی کہ کچھ خاص نہیں ہے اِس میں۔۔۔لیکن یہ تو بہت اچھے سےچود رہا ہے۔۔۔آخر پِھر وہی چیز ہے نہ کہ صرف اور صرف دوسرے لن کا مزہ لینے کے لیے صباءمیجر اور دینو سے چودواتی ہے۔۔۔پتہ نہیں وہ کمینی کیا کررہی ہوگی دینو کے ساتھ۔۔۔ ٭٭٭٭٭ دینو صباء کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے بولا۔۔۔میری بِیوِی ہے تو آج نخرا تونہیں کرے گی نہ میرا لن چوسنے میں۔۔۔؟؟؟ صباء ہنسی۔۔۔بِیوِی ہوں پِھر تو زیادہ نخرےکروں گی نہ۔۔۔ دینو صباء کی گردن کو اپنی مٹھی میں دباتے ہوئے بولا۔۔۔بِیوِی ہے تو پِھر مجھ سے ماربھی کھائے گی چود کے رکھ دوں گا۔۔۔تیری چوت بھی اور تیرا یہ منہ بھی۔۔۔ صباء ہنسنے لگی۔۔۔دینو جی۔۔۔اپنے لن کا پتہ بھی ہے کتناموٹا ہے ۔۔۔جسے آپ میرے اِس چھوٹےسے منہ میں ڈالتے ہو۔۔۔ دینو :سالی۔۔۔تیری گانڈ کا منہ تو اِس سےبھی چھوٹا ہے نہ۔۔۔وہاں تو بڑے مزے سے لے لیتی ہے میرا موٹا لن۔۔۔وہاں درد نہیں ہوتا کیا تجھے۔۔۔چل اُتار اپنے کپڑےاور ہو جا ننگی میرے آگے۔۔۔ صباء ہنستے ہوئے اٹھی۔۔۔اپنی پتلی سی نائٹی اُتار دی۔۔۔اب وہ ریڈ کلر کی برا اورپینٹی میں تھی۔۔۔صباء نے ایک ادا کے ساتھ اپنی کمر دینو کی طرف کی اور بولی۔۔۔ صباء :لو کھولو اپنی بِیوِی کی برا ۔۔۔ دینو نے فوراً ہی اس کی برا کی ہک کو پکڑااور کھولنے لگا۔۔۔کبھی کھینچتا۔۔۔کبھی اوپر نیچے کرتا۔۔۔ دینو :سالی۔۔۔کتی۔۔۔کیسے باندھا ہوا تو نے اپنےمموں کو۔۔۔ صباء کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔۔۔دینو جی۔۔۔رہنے دو۔۔۔آپ تو بس عورتوں کی چوت اور گانڈ ہی کھول سکتے ہواپنے لن سے۔۔۔مگر یہ عورتوں کی چیز آپ سے نہیں کھلنے والی۔۔۔ یہ کہہ کر صباء نے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر اپنی برا کی ہک کھولی اور اپنا برا اُتار کر پیچھے مڑ کے دینو کے گلے میں ڈال دیا۔۔۔دینو اسے گلے سے نکالتے ہوئےبولا۔۔۔ مجھے کیوں دے رہی ہے۔۔۔کمینی۔۔۔پرے پھینک اسے میں کیاکروں گا اس کا۔۔۔ صباء ہنسی اور اُس کے نپلزکی طرف اشارہ کر کے بولی۔۔۔پہن تو تم بھی سکتےہو۔۔۔چھوٹے تمہارے بھی نہیں ہیں۔۔۔ممے۔۔۔ دینو نے جھٹکے سے صباء کےسر کے بالوں کو اپنی مٹھی میں لیا اور ایک جھٹکا دےکر بولا۔۔۔ بہن کی لوڑی۔۔۔اپنی ماں کو پہنانا جا کر۔۔۔ صباء اس کی گرفت میں بھی ہنستے ہوئے بولی۔۔۔دینو جی۔۔۔میری ماں کی فکر نہ کرو۔۔۔اُس کے پاس اپنی بہت ہی ہے۔۔۔ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔ دینو کو تھوڑا اور غصہ آیا۔۔۔تو کتی جا کر اپنے باپ کودے دے۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔اور دینو کے نپلز کو چھو کربولی۔۔۔میرے باپ کے تمہارے جیسےنہیں ہیں نہ۔۔۔ ورنہ اپنی برا پہنا ہی دیتی۔۔۔ دینو کو غصہ آ رہا تھا۔۔۔سالی۔۔۔بکواس بند کراور اپنی اوقات میں آ جا۔۔۔ یہ کہہ کر دینو نے صباء کونیچے پُش کر دیا۔۔۔اپنے پیروں میں۔۔۔بیٹھا دیا۔۔۔اپنے لن کے بالکل سامنے۔۔۔صرف ایک ریڈ کلر کی پینٹی پہنی ہوئے۔۔۔اپنا گورا گورا۔۔۔چکنا۔۔۔نرم و ملائم۔۔۔بدن لیے ہوئے صباء۔۔۔اس کالے موٹے سانڈ کے آگےبیٹھی ہوئی تھی۔۔۔دینو نے ایک جھٹکے سےاپنے پاجامے کا ناڑا کھولا اوراسے نیچے گرا دیا۔۔۔دینو کا موٹا لن۔۔۔کالا اور بالوں سے بھرا ہوا۔۔۔صباء کی آنكھوں اور اُس کے ہونٹوں کے سامنےلہرانے لگا۔۔۔ دینو :چل سالی۔۔۔جلدی سے چوس لے اسے۔۔۔اپنے منہ میں لے کر۔۔۔ صباء نے اپنا نازک سا ہاتھ بڑھا کر دینو کا لن پکڑا اوراس کی پھولی ہوئی کالی ٹوپی کو چوم کر بولی۔۔۔ سالی کی بڑی گالی نکالتے ہو۔۔۔لگتا ہے کہ بانو کی بہن پربھی نظر ہے تیری۔۔۔یا کہیں اسے بھی چود تونہیں چکے ہو۔۔۔ دینو نے اپنا لن ایک جھٹکادے کر صباء کے گالوں پر مارااور بولا۔۔۔بڑی کتی چیز ہے تو تو۔۔۔شکل سے بڑی ہی بھولی بھالی لگتی تھی۔۔۔اندر سے تو پوری کی پوری رنڈی ہے تو۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔دینو کے لن کی ٹوپی کواپنی زبان سے چاٹ کر بولی۔۔۔اگر رنڈی کو چودنے کا من نہیں ہے تو چلا جا۔۔۔تجھے روکا ہے کسی نے۔۔۔ دینو نے کوئی جواب نہ دیابس اپنا لن صباء کے منہ میں ٹھونس دیا۔۔۔صباء نے ہنستے ہوئے اُس کے لن کو آہستہ آہستہ چوسناشروع کر دیا۔۔۔اپنا نازک سا منہ آگے پیچھےکرتے ہوئے۔۔۔دینو نے تھوڑا سے آگے کو زورلگایا۔۔۔آگے کو گھسا لگاتے ہوئے۔۔۔صباء نے لن منہ سے نکالا اوربولی۔ صباء :دیکھ آرام سے کرنا منہ میں۔۔۔کوئی زبردستی نہیں کرنا۔۔۔ دینو اپنا ایک ہاتھ صباء کےسر پر رکھ کر دوسرے سےاپنا لن پکڑ کے اسے صباء کےمنہ کے اندر پُش کرتے ہوئےبولا۔۔۔حرام زادی بتاتا ہوں تجھےمیں ابھی۔۔۔ یہ کہہ کر دینو نے جھٹکے سے اپنالن اور بھی آگے کو صباء کےمنہ میں ڈالنا شروع کر دیا۔۔۔موٹے لن کی موٹی ٹوپی صباء کے حلق سے ٹکرانے لگی۔۔۔صباء کا سانس بند ہونے لگا۔۔۔صباء نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیااور پِھر دینو کا لن اپنے منہ سے نکال کر بولی۔۔۔ صباء :کیا کرتے ہو۔۔۔آخر چاہتے کیا ہو تم۔۔۔ دینو اپنے لن پرہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔سالی اپنا پورے کا پُورا لن تیرے منہ میں ڈالنا ہے اور کیا۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔اچھا میں خود کرتی ہوں۔۔۔تو کوئی زور نہیں لگانا۔۔۔میں مر گئی نہ تو توبھی پھانسی لٹک جائے گا۔۔۔ دینو نیچے منہ کر کے صباءکے چہرے پر تھوک کر بولا۔۔۔سالی تیری جیسی رنڈی کوچود کر بندہ سو باربھی پھانسی چڑھ سکتا ہے۔۔۔ صباء اس کی بات پر ہنسی۔۔۔اور بنا اپنے چہرے پرسے دینو کا تھوک صاف کیےہی۔۔۔دوبارہ سے دینو کا لن اپنےمنہ میں لے لیا۔۔۔تھوڑی دیر تک اُس کے لن کے اگلے حصے کو چوسنے کے بعد۔۔۔صباء نے اپنا منہ پُورا کھولااور سیدھا دینو کا لن اپنےحلق تک لے گئی اور خود پر کنٹرول کرتےہوئے۔۔۔آہستہ آہستہ۔۔۔اُس کے لن کو اپنے حلق سےنیچے لے جانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔پچک کی آواز کے ساتھ ہی دینو کے لن کی موٹی ٹوپی صباء کے چھوٹے سےحلق کے سوراخ سے نیچے اُتَرگئی۔۔۔صباء کی آنكھوں سے آنسونکلنے لگے۔۔۔جیسے ہی دینو نے اپنے لن کی ٹوپی صباء کے حلق سےنیچے جاتی محسوس کی تووہ نشے میں جیسے پاگل ہوگیا۔۔۔صباء کی بات کو بھول کرایک جھٹکا دیا اور اپنے لن کو صباء کے گلے کے اندر پُش کر دیا۔۔۔اس کا موٹا لن اور بھی نیچے کو جانے لگا۔۔۔دینو کا لن موٹائی میں تومیجر کے لن سے زیادہ تھا۔۔۔لیکن اس کی لمبائی میجر کےلن سے کم ہی تھی۔۔۔جیسے ہی تھوڑا سے لن صباءکے حلق سے نیچے سرکا توآگے سے اُس کے لن کے اردگرد کے بال صباء کواپنی ناک میں گھستے ہوئےمحسوس ہوئے۔۔۔تب صباء کو محسوس ہوا کہ اس کمینے۔۔۔موٹے نے اپنا پورے کا پُورا لن اُس کے منہ میں ڈال دیا ہے۔۔۔ایک عجیب سی گدگدی سی ہو رہی تھی صباء کو اپنی ناک میں دینو کے لن کے بال جانے سے۔۔۔لیکن دوسری طرف اسے اپناسانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔وہ پیچھے ہٹنا چاہ رہی تھی۔۔۔لیکن اس موٹے نے صباء کےسر کو بری طرح سے جکڑاہوا تھا اور ہلنے بھی نہیں دے رہا تھا۔۔۔کچھ دیر تو صباء نےبرداشت کیااور پِھر نیچے سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔بے بس ہو چکی تھی اور نہیں سہہ پا رہی تھی۔۔۔بری طرح سے ہاتھ ہلانے لگی۔۔۔اپنے نازک اور کمزور ہاتھوں سے دینو کو دھکے دینے لگی۔۔۔اُس کے موٹے پیٹ پر مکے مارنے لگی۔۔۔وہ کمینہ دینو ہنستا جا رہاتھا۔۔۔آخر پتہ نہیں کیسےایک جھٹکے کے ساتھ وہ خود کو چھڑا کر پیچھے گرپڑی۔۔۔اب یہ نہیں پتہ کہ وہ خودکو چھڑانے میں کامیاب رہی یا دینو نے اسے چھوڑ دیا تھا۔۔۔بس وہ نیچے کارپیٹ پر پڑی ہوئی ہانپ رہی تھی اور دینو اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔۔۔اس کا لن صباء کے حلق کے گاڑھے تھوک سے لتھڑا ہواتھا۔۔۔گیلا ہو رہا تھااور وہی تھوک صباء کے اپنےچہرے پر بھی لگا ہوا تھا۔۔۔صباء کی آنكھوں سے آنسوں جاری تھے۔۔۔پانی نکل رہا تھا۔۔۔پڑی ہوئی لمبے لمبے سانس لےرہی تھی اچانک ہی دینو نے اُس کےننگے گورے جِسَم کو اپنی گود میں اٹھایا اور اندربیڈروم کی طرف بڑھا۔ سیدھا بیڈ پر گرا کر۔۔۔ایک جھٹکے سے اس کی نازک سی پینٹی اتاری اور اپنا گیلا لن۔۔۔صباء کی چوت پر رکھ دیا۔۔۔پہلے جو اس کی چوت گیلی ہوچکی ہوئی تھی۔۔۔اب اتنی تکلیف کے بعد جیسے کچھ سوکھنے لگی تھی۔۔۔لیکن دینو کو کیا۔۔۔اس نے اپنا گیلا لن صباء کی چوت کے سوراخ پر رکھا اوراس نازک سی گلابی چوت کےگلابی سوراخ کے اندر اپنا لن ایک دھکے سے داخل کر دیا۔۔۔ صباء تڑپی۔۔۔لیکن دینو کا موٹا چکنا ہو رہالن پھسل کر صباء کے اندرجا چکا ہوا تھا۔۔۔صباء چیخی۔۔ دینو نے اپنا ایک ہاتھ آگےبڑھایا اور اُس کے منہ پر جمادیااور اگلے ہی دھکے میں پورےکا پُورا لن صباء کی چوت کے اندر تھا۔۔۔صباء کسی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔۔۔ایسی مچھلی کی طرح جسے ڈور کا کانٹا پھنس چکا ہو۔۔۔بالکل ویسی ہی حالت ہو رہی تھی صباء کی۔۔۔دینو نے صباء کے منہ پر سےہاتھ ہٹایا اور اُس کی دونوں ٹانگوں کو کھول کر اپنے لن کو اُس کے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔ صباء چیخی۔۔۔اف آہ۔۔۔مار دیا کمینے کتے میں بھاگی جا رہی تھی۔۔۔ دینو ہنس رہا تھا اور اپنےہی نشے میں ڈوبا ہوا دھانہ دھن صباء کی چوت کو چودرہا تھا۔۔۔اس کا موٹا پیٹ بھی آگے آکرصباء کے پیٹ سے ٹکراتا تھا۔۔۔پُورا لن صباء کی چوت میں جاتا اور باہر آتا تھا اسے بےچاری صباء کی تکلیف کی کیا پرواہ تھی بھلا۔۔۔اسے تو ایک اتنی پیاری اورنازک سی لڑکی کی چوت ملی ہوئی تھی چودنے کے لیے۔۔۔وہ بھلا اس کی کیوں سنتا۔۔۔بس اپنے ہی انداز میں صباءکی چُودائی میں لگا رہا۔۔۔ ٭٭٭٭٭ اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی بانوتھوڑی دیر تک اشرف سے چودواتی رہی۔۔۔اشرف کے گورے گورے نازک سے جِسَم کو اپنی بانہوں میں محسوس کر کے اسےبہت ہی اچھا لگ رہا تھا۔۔۔پتہ نہیں کتنے لوگوں سے وہ اب تک چُدوا چکی تھی۔۔۔لیکن یہ تو پکا تھا کہ آج تک اسے اشرف جیسے کسی حَسِین لڑکے نے نہیں چوداتھا۔۔۔آخر جس حیثیت کی عورت وہ تھی تو اسی طرح کے مرد ہی تو ملنے تھے نہ اسے۔۔۔یہ تو صباء کی بے رخی تھی جس نے اشرف کو بانو کی طرف مائل کر دیا تھا اسی لیے اسے اِس قدر مزاآرہا تھا۔۔۔کبھی وہ اشرف کے گلابی ہونٹوں کو چومتی اور کبھی اُسکے گورے گورے گالوں کواور کبھی اُسکے گورے گورے بالوں سےبالکل پاک سینے کو چومنے لگتی۔ اشرف کا اکڑا لن اسے اپنی چوت میں بہت ہی اچھا لگ رہا تھا۔۔۔اسے بہت لطف دے رہا تھا۔۔ دِل چاہ رہا تھا کہ اشرف کا گورا گورا لن اس کی چوت میں ہی رہےاور اسی طرح سےاسے چودے اور پِھر۔۔۔اور پِھر اس کی گانڈبھی مارے۔۔۔اپنی گانڈ میں اشرف کالن لینے کے خیال سے ہی بانوکے جِسَم میں لذت کی ایک اور لہر سی دوڑ گئی۔۔۔اس کا دِل چاہنے لگا کہ وہ اشرف کا لن جلدی سے اب اپنی گانڈ میں بھی لے۔۔۔ابھی تک تو وہ اپنی دونوں ٹانگیں اشرف کی کمر کےگرد لپیٹے ہوئے اس سے لپٹی ہوئی تھی اور اُس کے لن کو اپنی چوت کے اندر تک کھینچتی جا رہی تھی۔۔۔ تڑپتی ہوئی۔۔۔اپنے ہونٹوں کو اشرف کےہونٹوں پر جمائے ہوئے۔۔۔اُس کے ہونٹوں کو چوسنے لگتی اور اپنی زبان کو اُس کے منہ کے اندار ڈال رہی تھی۔۔۔اِس قدر مست ہو رہی تھی کہ وہ اپنی منزل کے قریب آتی جا رہی تھی۔۔۔اس کی چوت پانی چھوڑنے والی ہو رہی تھی۔۔۔ دوسری طرف اشرف کو بھی خوب مزا آرہا تھا۔۔۔وہ بھی بانو کے مموں کو سہلاتے ہوئے۔۔۔ کبھی ان کو چوستے ہوئےاور کبھی اپنے دانتوں سےکاٹتے ہوئے۔۔۔بس دھانہ دھن اپنا لن اسکی چوت میں گھساتا جارہا تھا۔۔۔اسے خود بھی آج حیرانی ہورہی تھی کہ۔۔۔آخر کیسے وہ آج اتنی دیر تک لگا ہوا ہے۔۔۔چودنے کے لیے۔۔۔پہلے تو کافی دنوں سے وہ جلدی ہی پانی چھوڑ دیتا تھا صباء کو چودتے ہوئے۔۔۔لیکن اِسکے بارے میں سوچنے کی بجائے اسے اِس بات کی خوشی ہی ہو رہی تھی اور وہ بنا کچھ سوچے اِس وقت کو انجوئے کرنا چاہ رہاتھا۔۔۔جیسے بانو اُس کے جِسَم سے لپٹ رہی تھی۔۔۔جیسے اس کی چوت اُس کےلن کو بھینچ رہی تھی۔۔۔اس سے اشرف تو پاگل ہی ہوا جا رہا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر گزری کے بانوکی چوت نے پانی چھوڑناشروع کر دیا۔۔۔اشرف کے لن کو دبانے لگی اپنی چوت کے اندر ہی اور اشرف کو بھی اپنے سینےپر گرا کر اپنے سینے سے بھینچ لیا۔۔۔اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔۔۔کافی دیر تک جھٹکے کھانےکے بعد بانو کی چوت شانت ہوئی۔۔۔ٹھنڈی ہوئی اور پِھر جب اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو اشرف کو مسکرا کر اپنی طرف دیکھتے ہوئے پایا۔۔۔ بانو شرما گئی۔۔۔کیا دیکھ رہے ہو صاحب جی۔۔۔ اشرف ;تو تو فارغ بھی ہو گئی ہےبانو۔۔۔ بانو :ہاں صاحب جی۔۔۔ اشرف اپنے اکڑے ہوئے لن کوبانو کی چوت میں ایک بارپِھر دھکہ مار کر بولا۔۔۔لیکن میرا کام تو ابھی نہیں ہوا۔۔۔میں کیا کروں۔۔۔ بانو بولی۔۔۔تو صاحب آپ پیچھے ڈال دومیرے۔۔۔ اشرف چونکا۔۔۔کیا پیچھے۔۔۔گانڈ میں کیا۔۔۔ بانو ;ہاں صاحب۔۔۔اِس میں ایسی حیرت کی کیابات ہے۔۔۔کیا کبھی پہلے گانڈ نہیں ماری آپ نے۔۔۔؟؟؟ اشرف انکار میں سر ہلاتا ہوابولا۔۔۔نہیں۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔ بانو حیران ہو کر بولی۔۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے صاحب جی۔۔۔کہ صباء میم صاحب جیسی خوبصورت اور چکنی لڑکی کی آپ گانڈ ہی نہ مارو۔۔۔چلو آج میری مار کے مزا تولے کر دیکھو کیسا لگتا ہے۔۔۔ یہ کہہ کر بانو نے اشرف کوپیچھے ہٹایااور خود اٹھ کر بیڈ پرگھوڑی بن گئی اور اپنی گانڈ کو اشرف کی طرف نکال کر بولی۔۔۔ لو صاحب جی۔۔۔آج پہلی بار گانڈ کا مزا لے لومیری اور پِھر جا کر صباء میم صاحب کی بھی لینا گانڈ اشرف بانو کے پیچھے آیا۔۔۔اس کی سانولی سی گانڈ کےموٹے موٹے ہپس اُسکے سامنے تھے۔۔۔ صباء کے چوتڑوں سے موٹےچوتڑ تھے بانو کے۔۔۔اشرف نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بانو کے دونوں ہپس کوکھولا۔۔۔اور پِھر۔۔۔بانو کی گانڈ کا کالا ساسوراخ اس کی نظروں کے سامنے آ گیا۔ چند دن پہلے ہی تو اس نےصباء کی گانڈ کے سوراخ کودیکھا تھا۔۔۔بالکل گلابی تھا۔۔۔اور تنگ سا۔ لیکن بانو کا کالا تھا۔۔۔لیکن اِس وقت اسے کچھ اورخیال نہیں تھا۔۔۔سوائے اِس کے۔۔۔کہ اپنا لن اِس تنگ سےسوراخ میں آزماےاور اپنا پانی اس کی گانڈمیں گرا دے۔۔۔اشرف نےاپنے گورے گورے لن کی گلابی ٹوپی بانو کی گانڈکے کالے سے سوراخ پر رکھی اور آہستہ آہستہ اسے بانو کی گانڈ کے اندر پُش کرنے لگا۔۔۔بانو کی چوت کے پانی سے تولن پہلے ہی چکنا ہو رہا تھا۔۔۔ اب جو اس نے تھوڑا سا زورلگایا تو اس کا لن پھسل کربانو کی گانڈ میں اُتَر گیا۔۔۔ایک ہلکی سی کراہ نکلی اور اس نے اشرف کا لن اپنی گانڈ میں سہہ لیا۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
  9. قسط نمبر26 صباء کو لگ رہا تھا کہ میجراسے تنگ کرنے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے کہ کوئی اُس کےپاس ہے۔ اِس لیے وہ اسے اور بھی ایسے تنگ کرنے اور گرم کرنے کےلیے گندی سے گندی باتیں کررہی تھی۔۔۔میجر کو اِس طرح سے گندی باتیں کر کے غصہ دلانے میں صباء کو بھی مزہ آرہا تھا۔۔۔ اسے خود پر ہی حیرت بھی ہو رہی تھی کہ کیسے وہ اتنی کھل کر باتیں کرنے لگی ہےاور وہ بھی اتنی گندی گندی۔۔۔لیکن عجیب بات یہ تھی کہ ایسی گندی زبان بولنے میں بھی اسے برا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔بلکہ ایک الگ ہی احساس ہورہا تھا۔۔۔جیسے خود کو اپنے لیول سےگرا کر ایک بازارُو عورت کےلیول پر آ کر فیل کر رہی ہو۔۔۔میجر بھی مزے لیتے ہوئے اپنے کارندوں کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور بولا۔۔۔ میری رنڈی ہے تو پِھر مجھ سے آ کر چُدوا ابھی کے ابھی۔۔۔ صباء :بول کہاں پر ہے تو۔۔۔ابھی نہ آئی تو کہنا تجھ سے چدوانے کے لیے۔۔۔ میجر :تیرا وہ شوہر کہاں ہے۔۔۔؟؟؟ صباء :وہ گانڈو تو کام پر گیا ہوا ہے۔۔۔تو بول آؤں تیرے پاس۔۔۔ میجر :بہن چود اپنے شوہر کو ہی گانڈو بول رہی ہے۔۔۔شرم نہیں آتی کیا تجھے۔۔۔ صباء :تو کیا غلط بولا ہے۔۔۔جسے پتہ ہی نہ ہو کہ اسکی بِیوِی کو کوئی اور چودرہا ہے اور وہ بھی اس کی بِیوِی کی مرضی سے تو پِھروہ گانڈو ہی ہوا نہ۔۔۔تو بول آؤں تیرے پاس کہ نہیں۔۔۔؟؟؟ میجر :سالی بڑی گرم ہو گئی ہوئی ہے تو۔۔۔آنے سے پہلے سوچ لے میرےپاس میرے بندے بھی ہیں۔۔۔وہ بھی چودیں گے پِھرتیری چوت۔۔۔ صباء اس کی باتوں سے گرم ہوتے ہوئے اور مزید کھلتےہوئے بولی۔۔۔جس سے تو کہے گا چُدوا لوں گی۔۔۔تو ایک بار کہہ کر تو دیکھ اپنی رنڈی کو۔۔۔رنڈی ہوں نہ تیری تو جس سے دِل آئے چُدوا لے مجھےاور بن جا اپنی رنڈی کا دلال۔۔۔ میجر :کمینی رنڈی۔۔۔مجھے دلال بولتی ہے تو۔۔۔بہن چود۔۔۔گشتی۔۔۔کتی۔۔۔تیرا وہ گانڈو ہوگا تیرا دلال۔۔۔اور تیرا باپ ہو گا دلہ۔۔۔میں کوئی دلہ گیری نہیں کرتا سالی۔۔۔ صباء کھل کِھلا کر ہنسنےلگی۔۔۔ صباء :کیوں اب نہیں بلائے گا اپنےبندوں کے پاس مجھے تو۔۔۔ میجر :آئی تو دیکھنا لن بھی چسوائیں گے تجھے یہ لوگ۔۔۔ صباء :ہاں لن بھی چوسوں گی ان کا اپنے منہ میں لے کے اور وہ بھی تیرے سامنے بیٹھ کر۔۔۔ میجر :پِھر یہ تیری چوت میں بھی اپنا لن ڈالیں گے۔۔۔ صباء :تو ڈالنے دینا نہ۔۔۔لے لوں گی اپنی چوت میں بھی تیری خاطراور پِھر تو دیکھنا اور مزےلینا ان کو مجھے چودتا ہوادیکھ کر۔۔۔ میجر :سالی بڑی گرم ہو رہی ہے تو۔۔۔کیا کر رہی ہے اِس وقت۔۔۔؟؟ صباء :تیرے لن کو یاد کر کے اپنی چوت میں انگلی ڈالے بیٹھی ہوئی ہوں۔۔۔ میجر :کیوں لن نہیں ملتا کیا تجھےوہاں کوئی۔۔۔ صباء :میری پسند کا لن تو وہاں لیےبیٹھا ہوا ہے تو میں کس سےمزہ لوں۔۔۔ میجر :سالی لگتا ہے بہت زیادہ آگ لگی ہوئی ہے تیری چوت میں۔۔۔کل آ کر تیری چوت کی پیاس بجھاتا ہوں اچھے سےمیں۔۔۔ صباء :ہاں آجا نہ۔۔۔کل کا آتا آج آجا۔۔۔بس جلدی سے آجا۔۔۔تو آئے گا نہ تو دیکھنا کہ پہلے سے ہی تیرے لیے ٹانگیں کھول کے پڑی ہوں گی بسترپر ننگی ہو کر۔۔۔تو ڈال دینا آتے ہی اپنا لن میری گرم گرم چوت میں۔۔۔ میجر :بہن چود اتنی ہی گرم ہو رہی ہے تیری چوت تو چلی جاسامنے کے مولوی کے پاس۔۔۔چود دے گا سالا تیری چوت کو۔۔۔ صباء مولوی صاحب کا سن کر ان کو یاد کرتے ہوئے بولی۔۔۔بڑا شوق ہو رہا ہے تجھےمیری چوت مولوی صاحب سے چدوانے کا۔۔۔تیرے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔۔ میجر :ہاں تو کیا ہوا۔۔۔ڈر گئی کیا اس موٹے مولوی کے موٹے لن سے۔۔۔ابھی تو بڑی شیرنی بن رہی تھی کہ جس سے کہے گاچُدوا لوں گی۔۔۔اب کیا ہوا۔۔۔؟ صباء ہنسنے لگی۔۔۔تو آ پِھر چودنااور چودوانا جس سے دِل آئے۔۔۔ میجر :کمینی بڑی گندی زبان بولنے لگ گئی ہے تو۔۔۔ہو کیا گیا ہے تجھے آخر۔۔۔؟؟؟ صباء ہنستے ہوئے۔۔۔تیرے جیسے موالیوں کےساتھ رہوں گی تو زبان بھی ایسی ہی بولوں گی نہ۔ ایک آواز تبھی فون میں سےصباء کے کان میں پڑی۔۔۔استاد بڑی گرم رنڈی پھنسائی ہوئی ہے یہ تو۔۔۔ صباء یہ آواز سن کر چونک پڑی۔۔۔اوہ مائی گاڈ۔۔۔یہ کیا۔۔۔کیا سچ میں اُس کے پاس کوئی اور بھی ہے۔۔۔ میجر :ارے حرامی۔۔۔یہ رنڈی ایک نمبر کی میرےلیے ہے لیکن بِلڈنگ کی سب سے شریف عورت بنتی ہے یہ سب کے سامنے۔۔۔ ایک اور آواز آئی۔۔۔استاد اِس نے توہم چاروں کے بھی لن کھڑےکر دیے ہیں اپنی گرم باتوں سے۔۔۔ میجر :سن رہی ہے نہ ان کی باتیں۔۔۔کیسے ان کے لن کھڑے کردیے ہیں تو نے۔۔۔سب کے سب تیار ہیں تجھے چودنے کے لیے اب۔۔۔چل اب آ کر ان کو ٹھنڈا کردے۔۔۔بول آتی ہے کیا۔۔۔؟؟؟ صباء کانپ گئی۔۔۔اوہ نو۔۔۔یہ تو چار چار لوگ میری باتیں سن رہے تھے۔۔۔ صباء بولی۔۔۔اوہ نو۔۔۔یہ تو سچ میں تیرے پاس تیرے بندے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔بڑے ہی گندے ہو تم تو۔۔۔ان کے سامنے ہی مجھے ذلیل کروا دیا ہے۔۔۔ یہ کہہ کر اس نے فون کاٹ دیا۔۔۔میجر اور اُسکے کارندے ہنسنے لگے۔۔۔ادھر صباء اپنی چوت میں انگلی ڈالے۔۔۔اپنی سانسوں کو کنٹرول کررہی تھی۔۔۔دھڑکن کو سنبھال رہی تھی۔۔۔ اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اس نے اتنے لوگوں کے سامنے اتنی گندی باتیں کر دی ہیں بالکل رنڈیوں کی طرح سے۔۔۔لیکن یہ سب باتیں اسے اوربھی گرم کر رہی تھیں۔۔۔اُس کے جِسَم میں عجیب سی کیفیت پیدا ہو رہی تھی۔۔۔ایک گرمی سی پیدا ہوگئی تھی۔۔۔چوت سچ میں جلنے لگی تھی۔۔۔ایک لن کی طلب ہو رہی تھی۔۔۔جو اس کی چوت کی آگ کوابھی کے ابھی بجھا دے۔۔۔اس نے تیزی کے ساتھ اپنی انگلی کو اپنی چوت میں اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔ آنکھیں بند کر کے ان باتوں کو یاد کرنے لگی جو اس نےمیجر سے کی تھیں اور اس وقت وہ خود کو اسی کمرے میں محسوس کررہی تھی۔۔۔میجر کے سامنے۔۔۔جہاں اُس کے کارندے بھی اُس کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھےاور میجر اس کے ساتھ گندی باتیں کر رہا تھااور وہ خود بھی اسی کی زبان میں اس کو جواب دےرہی تھی۔۔۔کسی بازاری لڑکی کی طرح سے۔۔۔اس کی چوت میں انگلی کی رفتار تیز ہوتی جا رہی تھی اور اُس کے ساتھ ہی ایک لن کی طلب بھی بڑھتی جا رہی تھی۔۔ لن کی پیاس اور یاد میں ہی اُس کے دماغ میں دینو کاچہرہ ابھرااور پِھر اس کی آنكھوں کےآگے اس کا موٹا لن لہرانے لگا۔۔۔اِس وقت تو وہی ایک بندہ تھا جوکہ اس کی چوت کی پیاس بجھا سکتا تھا اسے بانو کی آفَرٹھیک لگنے لگی اور اس نے نیچے دینو کےپاس اُس کے فلیٹ میں جانےکا اِرادَہ کر لیا۔۔۔صباء نے کچھ ایک گھنٹے بعداپنے کپڑے چینج کیے۔۔۔ایک تھوڑے ڈیپ گلے کی ٹائیٹ قمیض پہنی اور اُس کے ساتھ حسب عادت اپنا ایک ٹائیٹ پاجامہ پہن لیا۔۔۔اس شرٹ کے گلے میں سےصباء کا گورا گورا خوبصورت سینہ صاف نظر آ رہا تھا اوربہت ہی پیارا لگ رہا تھا۔۔۔نیچے جاتے ہوئے اُس کےمموں کے کلیویج کا بس ہلکاسا اسٹارٹ ہی نظر آ رہا تھا۔۔۔لیکن اگر جھکتی تو لازمی دیکھنے والے کی نظر اُس کےگلے کے اندر جا سکتی تھی اور وہ بنا کسی دقت کے اُسکے مموں کا کچھ حصہ دیکھ سکتا تھا۔۔۔بنا کوئی ڈوپٹہ لیے ہوئے صباء ہلکا سا میک اپ کر رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔صباء چونک پڑی۔۔۔یہ اِس وقت کون آ گیا ہے۔۔۔پِھر خود سے ہی ہنس پڑی وہی کمینی ہوگی۔۔۔بانو۔۔۔آگئی ہوگی پِھر سے دیکھنےکہ میں نیچے گئی ہوں کہ نہیں ابھی۔۔۔ اسے بھی ذرا بھی صبر نہیں ہوتا۔۔۔صباء سب کچھ چھوڑ چھاڑکے باہر دروازہ کھولنے کولپکی۔۔۔ دروازہ کھولا تو سامنے فرح کھڑی تھی۔۔۔گھبرائی ہوئی۔۔۔بہت ہی پریشان حالت میں۔۔۔ فرح :آپی۔۔۔آپی۔۔۔جلدی سے آؤ۔۔۔امی کی طبیعت بس اچانک سے خراب ہوگئی ہے۔۔ آؤ جلدی۔۔۔ صباء بھی گھبرا گئی اورجلدی سے بس اپنے فلیٹ کادروازہ بند کیا اور فرح کےپیچھے ہی ڈوری۔۔۔ اس کے فلیٹ کی طرف۔۔۔جوکہ بالکل سامنے ہی تو تھابس درمیان میں 10 فٹ کی ہی تو جگہ تھی۔۔۔وہ اتنا گھبرا گئی فرح کی پریشانی کی وجہ سے کہ اسے اتنا بھی ٹائم نہیں ملاکے اپنا ڈوپٹہ ہی اٹھا لیتی اندر سے۔۔۔بس ایسے ہی فرح کے فلیٹ میں داخل ہوگئی۔۔۔فرح اور صباء دونوں ہی گھبرائی ہوئی فرح کی امی کی طرف بڑھیں جوکہ صوفہ پر لیٹی ہوئی تھی اوراپنے دِل پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔۔۔تھوڑی تھوڑی بےہوشی کی کیفیت میں تھی۔۔۔صباء جلدی سے آگے ہوئی اوراس کی امی کے ہاتھ اپنےہاتھوں میں لے کر ان کو سہلاتے ہوئے بولی۔۔۔ صباء :آنٹی۔۔۔آنٹی۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔بولو تو سہی آپ۔۔۔فرح۔۔۔انکل کہاں ہیں۔۔۔ ان کو بلاؤ نہ جلدی اور مجھے آنٹی کی دوائیاں دکھاؤ۔۔۔ فرح نے جلدی سے ایک بیگ صباء کی طرف بڑھایا اورخود اپنے موبائل کی طرف لپکی اور اپنے ابو مولوی منصور صاحب کوفون کرنے لگی۔۔۔صباء نے بیگ کھولا تو اندرمیڈیسن تھیں۔۔۔کچھ میڈیسن دیکھتی رہی۔۔۔اسی میں اسے ایک گولی نظرآئی۔۔۔جوکہ اسے پتہ تھا کہ اُس کےابو اگر بہت زیادہ کبھی دِل کی تکلیف ہوتی تھی تو زبان کے نیچے رکھتے تھے۔۔۔اس نے وہ گولی نکال لی۔۔۔ فرح :ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔۔ابو کہاں پر ہو آپ۔۔۔جلدی سے آؤ۔۔۔امی کو لگتا ہے کے پِھر سے دِل کا دورہ پڑا ہے۔۔۔جلدی آؤ آپ۔۔۔بس۔۔۔ مولوی صاحب:اوہ نو۔۔۔اچھا اچھا میں ابھی دس منٹ تک پہنچ رہا ہوں۔۔۔گھبرانا نہیں تم۔۔۔ ان کے پاس ہی رہو۔۔۔ فرح :جی۔۔۔جی۔۔۔ابو جلدی آئیں۔۔۔میں امی کے پاس ہی ہوں۔۔۔صباء آپی کو بھی بلایا ہےمیں نے۔۔۔وہ بھی یہیں ہیں۔۔۔آپ آجاؤ بس جلدی سے۔۔۔ فرح تو رونے ہی لگ گئی تھی۔۔۔فرح نے فون بند کر دیااور اپنی امی اور صباء کی طرف بڑھی۔۔۔ صباء نے وہ گولی نکالی اوراسے فرح کی امی کا منہ کھول کر اس کی زبان کےنیچے رکھ دی۔۔۔دونوں اب اُس کے پیر اورہاتھوں کو سہلانے لگیں۔۔۔دونوں خود بہت زیادہ گھبرائی ہوئی تھیں۔۔۔ انتہائی پریشان تھیں۔۔۔ان کے تو اپنے ہاتھ پیر پھول رہے تھے۔۔۔کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں وہ دونوں اکیلے۔۔۔ٹائم بہت ہی دھیرے دھیرےگزر رہا تھا۔۔۔لیکن آہستہ آہستہ فرح کی امی کی طبیعت بحال ہونےلگی۔۔۔جیسے اس کو ہوش آنے لگاہو دوبارہ سے۔۔۔ کوئی پندرہ منٹ کے بعددروازہ کھلا اور مولوی صاحب تیزی کے ساتھ گھرمیں داخل ہوئے۔۔۔ تب تک ان کی وائف آنکھیں کھول چکی ہوئی تھی اور بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ایک طرف صباء بیٹھی ہوئی تھی اور دوسری طرف فرح۔۔۔اپنے ابو کو دیکھ کر فرح جلدی سے اٹھی اور بھاگ کر روتی ہوئی اپنے ابو سے لپٹ گئی۔۔۔مولوی صاحب نے اُس کے سرپر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے چُپ کروایا اور پِھر اسے ایک طرف ہٹا کر اس کی امی کی طرف بڑھے اور بیڈ کی سائیڈپر بیٹھ گئے جہاں پہلے فرح بیٹھی ہوئی تھی اور اپنی بِیوِی کے سر پرآہستہ آہستہ ہاتھ پھیرنے لگے۔۔۔ مولوی صاحب :کیا ہو گیا ہے تم کو۔۔۔کتنی بار کہا ہےکہ دوائی ٹائم پر لیا کرو۔۔۔ فرح کی امی بولی۔۔۔ہلکے سے مسکرا کر۔۔۔کچھ نہیں ہوا بس تھوڑا سادرد ہو گیا تھا سینے میں میرے۔۔۔وہ تو شکر ہے کے صباء بیٹی بھی آگئی اور فرح بھی یہیں تھی۔۔۔ مولوی صاحب نے اب نظراٹھا کر صباء کی طرف دیکھاتشکر بھری نظروں سے۔۔۔تو ان کی نظر اُس کے چہرےسے پھسل کر سیدھے نیچےگئی۔۔۔صباء کی ٹائیٹ قمیض کےاندر کسے ہوئے اُس کے مموں پر۔۔۔جن کے کلیویج کا اوپری حصہ صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔اتنی ٹینس صورت حال میں بھی مولوی صاحب کی نظریں صباء کے ممے اورکھلے سینے پر ٹھہر گیں۔۔۔وہ خود کو نہ روک سکے۔۔۔آخر اتنی کم عمر اورخوبصورت لڑکی کے ممےآدھے چاند کی طرح جھلک دکھلا رہے ہوں تو کیسے کسی کی بھی نظر قابو رہ سکتی ہے۔۔۔چاہے وہ کتنا ہی بڑا پرہیز گاراور مذہبی آدمی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔پہلے تو صباء اپنے دھیان میں ایسے ہی بیٹھی رہی لیکن جب اسے مولوی صاحب کی نظروں کے مرکز کا احساس ہوا تو اسے یاد آیا کہ اس نےڈوپٹہ بھی نہیں لیا ہوا ہے۔۔۔ کیونکہ وہ تو پریشانی میں فرح کے ساتھ ایسے ہی بھاگ آئی تھی۔۔۔بنا ڈوپٹہ کے ہی اور اُس کے ممے مولوی صاحب کے سامنے بالکل ننگے ہو رہے ہیں جیسے۔۔۔صباء کو تھوڑا شرم کااحساس ہونے لگا۔۔۔اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا۔۔۔اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔لیکن ابھی وہ اِس طرح اٹھ کر اچانک سے نہیں جا سکتی تھی اور نہ ہی کچھ چادر وغیرہ ہی اپنے اُوپر کھینچ سکتی تھی۔۔۔ کیونکہ یہ ماحول کے خلاف لگتا تھا اسےاور اِس طرح گویا وہ مولوی صاحب کی بے عزتی کر رہی ہوتی ایسا کر کے۔۔۔یہ وہ سوچ رہی تھی۔۔۔اِس لیے وہ اپنی نظریں جھکاکر نیچے آنٹی کی طرف ہی دیکھتی رہی اور خود کو ہی کوستی ہوئی۔۔۔اپنے مموں کے نظاروں کومولوی صاحب کی آنكھوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چھوڑدیا۔۔۔لیکن ان کی نظروں کی تپش تو صباء کو محسوس ہو ہی رہی تھی اور ان نظروں کی گرمی سےصباء کی سانسیں بھی تیز ہورہی تھیں اور دِل کی دھڑکن بھی بڑھ رہی تھی۔۔۔سانسیں تیز ہونے کی وجہ سے صباء کے مموں کی حرکت بھی بڑھ گئی تھی اور وہ اور بھی زیادہ اُس کےگلے میں سے نکل کر باہر کو آرہے تھے۔۔۔جیسے خود کو اور بھی دیکھانا چاہتے ہوں مولوی صاحب کو۔۔۔ آنٹی :پانی۔۔۔پانی دینا تھوڑا مجھے۔۔۔ فرح فوراً سے ڈوری اور کچن سے پانی لے کر آئی اور صباء کو دے دیا۔۔۔صباء نے گلاس پکڑا اور تھوڑا جھک کر آنٹی کوپانی پلانے لگی۔۔۔تو جیسے مولوی صاحب کی تو لوٹری ہی نکل آئی۔۔۔ کیونکہ صباء کے ممے باہر کونکلنے لگے تھے۔۔۔اس کی قمیض کا گلا تھوڑانیچے کو جھکنے کی وجہ سے اندر تک دیکھا رہا تھا۔۔۔مولوی صاحب کی نظریں صباء کی قمیض کے اندر تک جا رہی تھیں۔۔۔جہاں اُس کے گورےگورے مموں کا اوپری حصہ بالکل اوپن نظر آ رہا تھا۔۔۔مولوی صاحب کو یہ سب عجیب بھی لگ رہا تھا لیکن وہ اپنی آنکھیں وہاں سے ہٹابھی نہیں پا رہے تھے۔۔۔وہ چاہتے ہوئے بھی خود کواور اپنی آنكھوں کو کنٹرول نہیں کر پا رہے تھےاور صباء اِس بات سے بے خبر بھی نہیں تھی۔۔۔لیکن پِھر بھی سچویشن کی وجہ سے جھک کر آنٹی کوپانی پلا رہی تھی۔۔۔چند لمحوں تک آنٹی کوآہستہ آہستہ پانی پلا کرگلاس مولوی صاحب کی طرف بڑھایا اور آنکھیں اوپر اٹھا کر دیکھا تو ان کی نظریں اسے اپنے گلے کے اندرتک جاتے ہوئے نظر آئیں۔۔۔صباء کے دِل کی دھڑکن تیزہو گئی۔۔۔مولوی صاحب بنا اس کی طرف دیکھے ہوئے بس اُسکے مموں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔صباء گھبرا گئی۔۔۔اسے عجیب لگنے لگا۔۔۔اف ف ف کیا کروں۔۔۔عجیب ہی سچویشن بن جاتی ہے جب بھی دیکھو تو۔۔۔دیکھو تو سہی کیسے دیکھ رہے ہیں میرے مموں کو۔۔۔ اب کیا کروں میں۔۔۔آخر بولی۔۔۔ صباء :انکل۔۔۔گلاس لے لیں۔۔۔ مولوی صاحب چونکے اورہاتھ بڑھا کر گلاس پکڑنے لگےصباء کے ہاتھوں میں سےاور ان کا ہاتھ سیدھا صباءکے چھوٹے سے نازک سے ہاتھ پر آیا۔۔۔صرف چند لمحوں کے لیے ہی صباء کا نازک سا ہاتھ مولوی صاحب کے بھاری بھرکم اورگرم ہاتھ کے نیچے دبا اورپِھر صباء نے آہستہ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔۔۔بنا کوئی ایکسپریشن ظاہرکیے ہوئے۔۔۔گلاس پاس کی سائیڈ ٹیبل پررکھ کر مولوی صاحب وہیں بیٹھے رہے صباء اور اپنی وائف کے ساتھ ہی بیڈ پر۔۔۔صباء بھی اپنے گھٹنوں کےبل بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔اس کی چھوٹی سی قمیض ادھر اُدھر ہو رہی تھی اُسکے گھٹنوں کے اُوپر سےاور نیچے سے اس کےٹائیٹ پاجامے میں پھنسی ہوئی اس کی رانیں صاف نظر آ رہی تھیں۔۔ مولوی صاحب کی نظریں صباء کی ٹانگوں اور رانوں پرہی پھسل رہی تھیں۔۔۔صباء کو بھی اب پوری طرح سے احساس ہو رہا تھا کہ وہ کیا کیا دیکھ رہے ہیں۔۔۔لیکن وہ اپنا کچھ بھی چُھپانہیں پا رہی تھی۔۔۔نہ ہی ابھی اٹھ کر جانے کی ہمت ہی کر پا رہی تھی۔۔۔وہ آنٹی کو سہارا دے کربیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ایک بازو ان کے سر کے نیچےتھا۔۔۔جس کی وجہ سے وہ اپنی قمیض کے سامنے کے حصےکو ٹھیک بھی نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔اس کا پورے کاپورا پاجامہ ٹانگیں اور رانوں سمیت مولوی صاحب کے سامنے تھا۔۔۔صباء کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی۔۔۔کمرے میں اب صرف وہ تینوں ہی موجود تھے۔۔۔فرح تو چائے بنانے جا چکی ہوئی تھی اور اپنی امی کے لیے یخنی۔۔۔ آنٹی نیم سوئی ہوئی حالت میں تھیں۔۔۔بس مولوی صاحب اور صباءہی پوری طرح سے ہوش میں تھےاور مولوی صاحب اپنی نظریں چرا کر صباء کے جِسَم کا نظارہ کیے جا رہے تھے۔۔۔ان کی نظر اوپر تک جاتی اس کی رانوں کےاور صباء میں ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ مولوی صاحب سے نظریں ملائے۔۔۔لیکن مولوی صاحب کا اُسکے جِسَم کو اِس طرح سےدیکھنا بہت ہی عجیب لگ رہا تھا۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد مولوی صاحب آگے کو بڑھے اور اپنی بِیوِی کے سر پرہاتھ پھیرنے لگےاور اسے حوصلہ دینے کے لیےبولے۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ٹھیک ہو تم۔۔۔تھوڑی طبیعت ٹھیک ہو جائےتو شام کو چیک اپ کے لیے چلتے ہیں دوبارہ سے۔۔۔ابھی یخنی پینا اور پوری ٹھیک ہو جاؤ گی تم۔۔۔ اچانک ہی صباء کو مولوی صاحب کا ہاتھ اپنے ممے پرٹچ ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔صباء کو عجیب سا لگا۔۔۔اسے یہ امید نہیں تھی۔۔۔مولوی صاحب اپنی بِیوِی کےسر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہاتھ نیچے لاتے تو ان کے ہاتھ کی بیک سائیڈ صباء کے مموں سےٹکراتی اور آہستہ آہستہ رگڑ کھاتا۔۔۔ صباء کی سانسیں اور بھی تیز ہونے لگیں۔۔۔وہ تو پہلے سے ہی اتنی گرم ہو رہی ہوئی تھی۔۔۔میجر اور بانو کی باتوں سےاور اب اسی گرمی کو نکالنے کے لیے ہی تو دینو کے پاس جا رہی تھی۔۔۔لیکن اسے ادھر آنا پڑ گیا تھااور یہاں کے حالات دیکھ کراس کی آگ تھوڑی دیر کےلیے جیسے ٹھنڈی ہوگئی تھی۔۔۔لیکن مولوی صاحب کی نظروں اور اب ان کے ہاتھ کےٹچ نے اس سلگتی ہوئی آگ کو دوبارہ سے بھڑکانا شروع کر دیا تھا۔۔۔صباء اپنی پوزیشن سےپیچھے کو نہیں ہٹ سکتی تھی اور نہ ہی ہٹنا چاہتی تھی۔۔۔کیونکہ ایسے یہی لگتا کہ اسے پتہ چل گیا ہے۔۔۔جبکہ ابھی تک وہ یہی شوکر رہی تھی کہ اسے مولوی صاحب کے چھونے اور دیکھنے کاکچھ بھی پتہ نہیں ہے۔۔۔تِین چار بار ہاتھ کو اُوپرنیچے کرتے ہوئے مولوی صاحب نے صباء کے مموں کو محسوس کر لیااور پِھر خود ہی سیدھے ہوکر بیٹھ گئے۔۔۔صباء حیران تھی کہ یہ انکل کیوں ایسا کر رہے ہیں۔۔۔کیونکہ آج سے پہلے تو کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کیا تھاانہوں نے تو اب کیوں ان کی دلچسپی اُس کے اندر پیداہونے لگی تھی۔۔۔کیا سچ میں ہی وہ اُس کےجِسَم میں دلچسپی لے رہےہیں۔۔۔حالانکہ وہ تو ان کی بیٹی کی عمر کی تھی۔۔۔لیکن پِھر خود ہی اپنے آپ کوہی دوش دینے لگی کہ یہ سب اس کی اپنی ہی حالت کی وجہ سے ہے نہ۔۔۔کیونکہ اس نے کپڑے بھی توایسے ہی پہنے ہوئے ہیں نہ۔۔۔اسی لیے۔۔۔ شاید ان سے خود پر قابونہیں ہو رہا ہے۔۔۔تو پِھر غلطی تو میری ہی ہوئی نہ۔۔۔ورنہ وہ تو ہمیشہ مجھےاپنی فرح کی طرح ہی سمجھتے ہیں۔۔۔مجھے خود ہی احتیات کرنی چاہیے ان کے سامنے ایسے کپڑوں میں آنے میں۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں فرح بھی آگئی۔۔۔چائے اور یخنی لے کر۔۔۔اس نے بولا۔۔۔ فرح :آپی آپ اب اُدھر بیٹھ کےچائے پیو میں امی کویخنی پیلاتی ہوں۔۔۔ صباء نے آہستہ سے اپنا بازؤنکالا آنٹی کی گردن کے نیچےسےاور پِھر بیڈ سے نیچے کھڑی ہو کر جھک کر فرح کے ساتھ مل کر آنٹی کی پوزیشن ٹھیک کرنے لگی۔۔۔ان کو بیڈ کی بیک سے تھوڑاٹیک لگا کر بیٹھانے لگی۔۔۔تب بھی مولوی صاحب کی موج لگ گئی۔۔۔وہ پِھر سے صباء کے مموں کانظارہ کرنے سے خود کو نہ روک سکےاور نہ ہی صباء یہ نظارہ روک سکتی تھی۔۔۔آخر کار آنٹی کو بیٹھا کر وہ پیچھے جا کر صوفہ پر بیٹھ گئی۔۔۔فرح اپنی امی کویخنی پلانے لگی۔۔۔مولوی صاحب نے چائے کا کپ لیا اور صباء کو دیا۔۔۔صباء نے فوراً ہی کپ پکڑ لیاشکریہ کے ساتھ۔۔۔دوسرا کپ اٹھا کر ۔۔ مولوی صاحب بھی صباء کے پاس ہی بیٹھ گئے صوفہ پر۔۔۔اور بولے۔۔۔ مولوی :صباء بیٹی شکریہ تمہارا۔۔۔تم نے اتنا ساتھ دیا فرح کا۔۔۔ صباء :ارے نہیں انکل یہ تو آپ شرمندہ کر رہے ہیں۔۔۔ فرح بولی۔۔۔ابو آپی کو جیسے ہی بتایامیں نے تو فوراً ہی دروازےسے ایسے ہی بھاگ آئیں میرے ساتھ۔۔۔ان کی وجہ سے ہی مجھےحوصلہ ہوا ورنہ میں اکیلی تو بہت ہی گھبرا گئی ہوئی تھی ابو۔۔۔ صباء شرمندہ ہوتے ہوئے۔۔۔ارے فرح یہ بھی کوئی بات ہے یار۔۔۔تمہاری امی ہیں تو میری بھی تو آنٹی ہیں نہ۔۔۔آپ لوگ بھی تو اتنا خیال رکھتے ہو نہ ہمارا۔۔۔تو پِھر ہمارا بھی تو فرض بنتا ہے نہ کہ کچھ تو کریں آپ کے لیے۔۔۔ مولوی صاحب اپنا ہاتھ صباءکے کاندھے پر رکھتے ہوئے اُس کے کاندھے کو سہلا کربولے۔۔۔ لیکن بیٹی تم کو آخر تکلیف تو ہوئی ہی نہ۔۔۔جو تم نے ہماری خاطر سہی۔۔۔ صباء کے جِسَم میں پِھر سےکرنٹ دوڑ گیا۔۔۔مولوی صاحب کا ہاتھ جیسےہی اُس کے بدن سے چھوا تو۔۔۔ان کے گرم گرم ہاتھ کا لمس اسے اپنے کاندھے پرمحسوس ہو رہا تھا۔۔۔صباء کی قمیض کا گلاکاندھے سے بھی تھوڑا کھلاہی تھااور شولڈرز کا کچھ حصہ بھی ننگا ہو رہا تھا گردن کےپاس سے۔ جیسے ہی مولوی صاحب نےاپنا بڑا سا ہاتھ صباء کےشولڈر پر رکھا تو ان کی انگلیاں صباء کی گردن کے پاس کے کاندھے کے ننگےحصے پر آگیں اور ان کی انگلیوں کے ٹچ سےصباء گرم ہونے لگی۔۔۔اسے خود سے شرم بھی آرہی تھی کہ وہ کیوں ایساسوچ رہی ہے انکل کے بارے میں۔۔ کیسی گندی سوچ ہو رہی ہےاس کی۔۔۔اسے مولوی صاحب کی حرکتیں تو نیچرل ہی لگ رہی تھیں اور غلطی پر وہ خود کو ہی محسوس کر رہی تھی کہ اس کی سوچ غلط ہے جو وہ ایسا مولوی صاحب کے بارے میں سوچ رہی ہے۔۔۔انکل تو سب کچھ اپنی شفقت اور محبت میں کر رہےہیں اور میں اپنے جِسَم کی گرمی اور گرم سوچوں کی وجہ سے ان کو غلط سمجھ رہی ہوں۔۔۔صباء صوفہ پر تھوڑی سی آگے کو ہو کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔مولوی صاحب کا بھاری ہاتھ اُس کے شولڈر سے نیچے اسکی کمر پر جا رہا تھا۔۔۔آہستہ آہستہ سرک رہا تھا۔۔۔اس کے برا کے اسٹرِپ کوبھی محسوس کر رہا تھااور صباء بنا دوپٹے کے ہی اپنے کسے ہوئے مموں اورکلیویج کی نمائش کرتے ہوئےمولوی صاحب کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔اس کی کمر پر پھسلتا ہوامولوی صاحب کا شفقت بھراہاتھ اُس کے جِسَم میں آگ لگا رہا تھا۔۔۔لیکن اس کمرے میں سوائےصباء کے کسی کو بھی یہ سب عجیب نہیں لگ رہا تھا۔۔۔سب کے لیے یہ نیچرل اورمحبت کا اظہار ہی تھا۔۔۔نہ فرح کچھ غلط سمجھ رہی تھی یہ سب دیکھ کراور نہ اس کی امی اور صباء تو خود کو ہی ملامت کر رہی تھی۔۔۔جبکہ مولوی صاحب۔۔۔وہ تو سب کچھ سمجھتےہوئے مزے لے رہے تھے نہ صباء کے جِسَم کو چھونے کے۔۔۔کبھی بھی انہوں نے صباء کوغلط نظر سے نہیں دیکھا تھا۔۔۔لیکن پچھلی ملاقات سےکچھ ایسا ہو رہا تھا کہ وہ خود سے ہی صباء کی طرف مائل ہو رہے تھےاور ایک وجہ ان کی اپنی پیاس بھی تھی۔۔۔کیونکہ ان کی بِیوِی اپنی دِل کی بیماری اور بڑھاپے کی وجہ سے ایک عرصے سےمولوی صاحب کے ساتھ اپنےجسمانی تعلقات ختم کرچکی ہوئی تھی۔۔۔جس کی وجہ سے بھی مولوی صاحب کی حالت عجیب ہی رہنے لگی تھی۔۔۔50 سے کراس کر چکی ہوئی تھی لیکن پِھر بھی ایک مردکی حیثیت سے ان کی پیاس تو برقرار تھی۔۔۔اچھی خوراک ،پیسے کی ریل پیل کی وجہ سے صحت بھی بہت اچھی اور زبردست تھی۔۔۔چاہے ان کی عمر اپنےاسٹیٹس ،اپنے مذہبی مقام اور۔۔۔علاقے اور بِلڈنگ میں بنی ہوئی اپنی عزت کی وجہ سےوہ کسی اور کی طرف نہیں جا سکتے تھے۔۔۔اسی لیے آج تک انہوں نےخود پر قابو کیا ہوا تھا۔۔۔اپنے جذبات پر بھی۔۔۔بس اپنے پاس تعویز اور دم کے لیے آنے والی عورتوں اور لڑکیوں کے جِسَم کو ایسےہی بہانے بہانے سے چھو کراپنی ہوس پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے بس۔۔۔لیکن اتنی سی چیز سے تو ان کی پیاس اور بھی بڑھ جاتی تھی۔۔۔لیکن اب صباء کو اپنے گھرمیں ہی اتنا قریب اور اُس کےجِسَم کے نظاروں نے ان کوبےچین کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔آج وہ خود پر قابو بھی نہیں رکھ سکے تھے۔۔ نہ اپنی نظروں پر اور نہ ہی اپنے ہاتھوں پر۔۔۔لیکن پِھر بھی ان کا خیال تھا کہ صباء کو کچھ احساس نہیں ہے۔۔۔اس کو ان کی نظروں کااور چھونے کا اور ان کےارادوں کا کچھ پتہ نہیں ہےاور وہ ہمیشہ کی طرح ہی اپنے تجربے کے ساتھ دوسری لڑکیوں کی طرح اِس سے بھی لطف اٹھا رہے ہیں ان کو پتہ تھا کہ صباء ان کی بیٹی کی عمر کی ہےاور ہمیشہ اسے انہوں نےاپنی بیٹی ہی سمجھا تھا لیکن۔۔۔وہ حقیقی بیٹی تو نہیں تھی نہ۔۔۔یہ ان کو بھی پتہ تھا۔۔۔بلکہ ایک بہت ہی حَسِین اور خوبصورت اور گوری چٹی کم عمر لڑکی تھی اور اِس کی خوبصورتی اورجِسَم کی نزاکت کے آگے وہ خود ہی پھسل گئے تھے۔۔۔اب بھی مولوی صاحب کاہاتھ صباء کی کمر پر اسکے برا کو سہلا رہا تھا۔۔۔ اس کے برا کے ہکس کومحسوس کر رہا تھا۔۔۔لیکن پِھر خود ہی سنبھل کر۔۔۔کہ صباء کو شک نہ ہو جائے۔۔۔اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیااور اپنی چائے پینے لگے۔۔۔چائے پی کر صباء اپنے گھر آگئی اور جاتے جاتے بھی سب لوگ اس کا شکریہ بول رہے تھے۔۔۔صباء فرح کو کہہ کر آئی تھی کہ اگر کوئی کام ہو تواسے بلا لےاور كھانا نہ بنائے وہ خودبھیج دے گی كھانا۔۔۔ان کے لیے۔۔۔ اگلے دن اب اشرف کی نائٹ ڈیوٹی تھی تو وہ صبح سےگھر پر ہی تھا۔۔۔وہ بھی مولوی صاحب کی بِیوِی کی طبیعت کا پوچھنے گیا۔۔۔ساتھ میں صباء بھی تھی۔۔۔آج صباء نے ٹھیک کپڑے پہنے ہوئے تھے۔۔۔دوسری طرف اشرف کی موجودگی کی وجہ سےمولوی صاحب بھی کچھ محتاط تھے۔۔۔اِس لیے انہوں نے کچھ زیادہ صباء کے جِسَم کی طرف توجہ نہیں دی۔۔۔اِس پر صباء کو پِھر سے یہی احساس ہوا کہ وہ خود ہی غلط تھی۔۔۔اس کی اپنی سوچ ہی غلط تھی اور پہلے جب بھی منصورانکل کی نظر پھسلی تھی تواس کا لباس ہی ایسا تھا کہ وہ بےچارے کیا کرتے۔۔۔حالانکہ وہ خود بہت شریف آدمی ہیں اور آج پِھر سے ثابت ہو رہاتھا۔۔۔کہ وہ انتہائی پاک صاف اوراچھے آدمی ہیں۔۔۔صباء نے خود کو ملامت کیاکہ وہ ایسے ہی ان کو غلط سمجھ رہی تھی۔۔۔اتنی بڑی عمر کے بزرگ ہو کرآخر وہ کیسے کوئی غلط کام سوچ بھی سکتے تھے۔۔۔لازماً وہ اُس کے ابو کی عمرکے تھے۔۔۔آخر فرح بھی تو صرف دوایک سال ہی تو چھوٹی تھی اس سے۔۔۔کچھ دیر بیٹھ کر اور وہیں چائے پی کر دونوں واپس اپنے فلیٹ میں آ گئے۔۔۔آتے ہوئے صباء فرح کو کہہ آئی تھی کے کھانا میں آ کربنا دوں گی۔۔۔جب بنانا ہو تو بتا دینا۔۔۔اس نے منع بھی کیا لیکن صباء بولی۔۔۔ یار کوئی بات نہیں تھوڑی گپ شپ بھی ہو جائے گی۔۔۔فرح کی امی اور مولوی صاحب دونوں کا آپس میں پیار دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔۔مولوی صاحب بولے۔۔۔ اشرف میاں ہماری صباء بٹیا نے بہت ساتھ دیاہے۔۔۔بہت خیال رکھا کل اپنی آنٹی کا ورنہ بےچاری فرح اکیلی تو بہت ہی گھبرا گئی ہوئی تھی۔۔۔ صباء :انکل اب آپ بار بار شرمندہ تو نہ کرو نہ۔۔۔ اشرف :جی منصور صاحب یہ توہمسائے کا حق ہوتا ہے نہ دوسرے ہمساے پر۔۔۔جب بھی کوئی کام ہو فرح بلا سکتی ہے صباء کو۔۔۔ فرح :اشرف بھائی بہت بہت شکریہ۔۔۔ اور پِھر دونوں اپنے گھرواپس آ گئے۔۔۔اشرف اور صباء اپنے گھر پرہی تھے جب ڈور بیل بجی۔۔ اشرف جوکہ لونج میں ٹی وی دیکھ رہا تھا اور صباءکچن میں تھی۔۔۔وہ اٹھ کر گیادروازہ کھولنے کے لیے۔۔۔دروازہ کھولا تو سامنے بانوکھڑی تھی۔۔۔اشرف کو دیکھتے ساتھ ہی اُس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔اشرف بھی چونک کر اسےدیکھنے لگا۔۔۔اس کی نظر بانو کی ڈریس پر ہی تھی۔۔۔اس نے آج ایک گھاگھرا اورچولی پہن رکھی ہوئی تھی۔۔۔چولی ظاہر سی بات ہے کہ چھوٹی ہی تھی۔۔۔جس میں سے اس کی بیلی ننگی تھی۔۔۔اس چولی کا گلا بھی کافی ڈیپ تھا۔۔۔ جس میں اس کا کلیویج صاف دِکھ رہا تھا۔۔۔کلیویج کیا اُس کے آدھے ممےنکلے ہوئے تھے اس کی چولی سے باہراور اس نے اپنا ڈوپٹہ جواپنے سینے پر لیا ہوا تھا۔۔۔اشرف کو خود کو دیکھتےہوئے پا کر اس نے بڑی ادا کےساتھ اپنا ڈوپٹہ ایک طرف سرکا دیااور اُس کے ممے اشرف کی نظروں کے سامنے آ گئے۔۔۔اشرف نے فوراً ہی اُس کےچہرے کے طرف دیکھا تووہ مسکرا رہی تھی۔۔۔ اشرف نے گھبرا کر پیچھے مڑکر صباء کو دیکھا لیکن وہ توکچن میں ہی تھی۔۔۔اشرف کچھ بھی نہیں بول پارہا تھا۔۔۔ بانو سرگوشی کرتے ہوئےبولی۔۔۔صاحب لگتا ہے کہ صباء میم صاحب گھر پر ہی ہے اسی لیے آپ اندر نہیں آنے دے رہے مجھے۔۔۔ اشرف اس کی بات کوسمجھ کر شرمندہ ہوا اورآہستہ سے بولا۔۔۔آؤ۔۔۔آ جاؤ۔۔۔ دراصل آج بانو یہ ڈریس صرف اور صرف اشرف اورصباء کے گھر پر آنے کے لیےپہن کر آئی تھی۔۔۔ورنہ اتنا اوپن ڈریس وہ دوسرے گھروں میں جاتے ہوئے نہیں پہنتی تھی۔۔۔یہ اس نے اسپیشلی اشرف کو اپنے جال میں پھنسانےکے لیے پہنا تھااور پہلی ہی نظر میں اسےاپنا کام ہوتا ہوا نظر آ رہا تھا۔۔۔بانو اندر داخل ہوئی تواشرف کے پاس سے گزرتےہوئے جان بوجھ کر اپنا جِسَم اُس کے جِسَم سے ٹکرا دیا۔۔۔ہولے سے رگڑ دیا۔۔۔اشرف تھوڑا سا ہل گیا۔۔۔وہ جو کبھی بھی کسی اورعورت کے پاس نہیں گیا تھا۔۔۔نہ کسی کو چھوا تھا۔۔۔آج بانو کے ایسا کرنے سے ایک عجیب سی حالت ہورہی تھی اس کی۔۔۔ایک تو یہ اُس کے لیے نئی بات تھی۔۔۔دوسرا اسے صباء سے بھی ڈرلگ رہا تھا جوکہ اس سےناراض ہی رہتی تھی آج کل اور اس سے اپنے غلاموں والاسلوک ہی کرتی تھی۔۔۔بانو آگے آگے چل رہی تھی اور اشرف پیچھے آ رہا تھا۔۔۔ بانو اپنی گانڈ کو اچھےسے مٹکا رہی تھی اور اشرف کی نظر اس کی گانڈ پر ہی تھی اور وہاں سے ہٹ ہی نہیں پارہی تھی۔۔۔اچانک ہی بانو نے مڑ کرپیچھے دیکھا اور اشرف کی جیسے چوری ہی پکڑی گئی ہو۔۔۔وہ ایک بار پِھر سے شرمندہ ہوگیا۔۔۔لیکن اسے حیرت ہوئی کہ بانو نے کچھ کہنے کی بجائےصرف مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔بانو نے صباء کو جا کر سلام کیا۔۔۔ بانو :سلام میم صاحب۔۔۔ صباء نے اُوپر سے نیچے تک بانو کو دیکھا اور اس کی ڈریسنگ کو دیکھ کر اسےایک آنکھ مار دی۔۔۔ مسکرا کر۔۔۔ صباء :آگئی ہو تم۔۔۔ٹھیک ہے کام شروع کرو۔۔۔ٹی وی لونج سے ہی شروع کر لو۔۔۔ بانو:لیکن میم صاحب وہاں توصاحب جی بیٹھے ہیں۔۔۔ اشرف کے سامنے ہی تھیں دونوں۔۔۔ صباء بولی۔۔۔تو کیا ہو گیا وہ وہاں ہے توتمہیں اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ تمہیں وہ کچھ نہیں کہے گا۔۔۔تم اپنا کام کرو جا کر۔۔۔ بانو مسکرا کر بولی: ٹھیک ہےمیم صاحب۔۔۔ بانو کچن سے باہر آئی اوراپنا ڈوپٹہ اپنے گلے سے نکال کر ایک طرف صوفہ کی بیک پر لٹکا دیا۔۔۔ جیسے ہی اشرف نے اسےایسے دیکھا تو اس نے اپنےحلق میں پھنستا ہواتھوک نگلااور پِھر سے خود کو ٹی وی پر متوجہ کرنے لگا۔۔۔بانو نے برش اٹھایا اور نیچےبیٹھ کر فرش پربرش لگانے لگی۔۔۔ نیچے بیٹھنے سے جو حالت بانو کی ہونی تھی وہ تو سب کو پتہ ہی ہے لیکن اشرف کی حالت بہت ہی خراب ہو رہی تھی۔۔۔چولی میں سے نکلتے ہوئے بانو کے آدھے مموں پر سے وہ اپنی نظریں ہٹا نہیں پا رہاتھا۔۔۔ایک نظر وہ صباء کی طرف دیکھتا اور پِھر سے بانو کودیکھنے لگتا۔۔۔جیسے ہی بانو صفائی کرتےہوئے اشرف کے قریب آئی۔۔۔تو اُس کے پاس فرش پر صوفہ کے بالکل قریب بیٹھ کر برش کرنے لگی توسیدھا سیدھا اشرف کو اپنےمموں کا نظارہ کروا رہی تھی۔۔۔اتنے میں صباء نے چائے بنالی اور بانو کو آواز دی۔۔۔ صباء :بانو یہ لو چائے پی لواور اپنے صاحب جی کو بھی دے دو۔۔۔ اشرف کو صباء کا خود کوایک خاص انداز میں صاحب جی کہنے کا انداز بہت اچھالگ رہا تھا۔۔۔بانو کچن میں گئی اور چائےکے دو کپ لے آئی۔۔۔ایک اس نے اشرف کے سامنے جھک کر اسے پیش کیااور اشرف نے اپنی نظریں بانو کے مموں پر ٹکاتے ہوئے ہی چائے پکڑی۔۔۔بانو بھی اپنی چائے لے کراشرف کے بالکل سامنے ہی نیچے بیٹھ گئی اور ٹی وی دیکھتی ہوئی چائے پینے لگی۔۔۔ اسے پتہ تھا کہ اشرف کی نظریں اسی پر ہیں۔۔۔وہ اب بھی اشرف کے اتنے قریب بیٹھی تھی کے اس سے دھیمی آواز میں بات کرسکے۔۔۔بانو چائے پیتے ہوئے اپنے ایک ہاتھ کی انگلی آہستہ آہستہ اپنے ننگے مموں پر پھیر رہی تھی۔۔۔کبھی اپنی انگلی کو اپنےمموں کے درمیان میں داخل کر دیتی۔۔۔بنا اشرف کی طرف دیکھےہوئے ہی۔۔۔اشرف کی حالت بہت ٹائیٹ ہو رہی تھی۔ اس کا لن اپنے شارٹ میں کھڑا ہو رہا تھااور ایک دو بار اس نے اپناہاتھ اپنے لن پر رکھ کر اسےدبا بھی دیا۔۔۔بانو نے دیکھا تو بولی۔۔۔ بانو :کیا ہو گیا صاحب۔۔۔لگتا ہے کچھ گڑبڑ ہو رہی ہےاندر۔۔۔ اشرف گھبرا گیا اور جھٹ سے صباء کی طرف دیکھا کہ کہیں اس نے تو نہیں سن لیااور بولا۔۔۔ نہیں نہیں کچھ نہیں۔۔۔ بانو :صاحب جی۔۔۔احتیات سے۔۔۔میم صاحب نہ پکڑ لیں کہیں آپ کی یہ چوری۔۔۔ سنبھال کر ذرا۔۔۔ اشرف گھبرا گیا۔۔۔کیا۔۔۔کیا۔۔۔مطلب۔۔۔؟؟؟ بانو پِھر سے پیچھے صباء کودیکھ کر آہستہ سے بولی۔۔۔مطلب تو آپ سمجھ ہی گئےہو صاحب جی۔۔ لیکن میم صاحب کا بھی دھیان رکھنا کہیں مجھےپہلے دن ہی کام سے نہ نکلوا دینا صاحب جی۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔اشرف شرمندہ ہوگیا۔۔۔ بانو:صاحب جی۔۔۔میں آپ کو نہیں روکوں گی۔۔۔آپ نے ہی تو مجھے یہ نوکری دلوائی ہے۔۔ آپ کا تو احسان ہے مجھ پر۔۔۔بس میم صاحب سے ڈر لگتاہے مجھے۔۔۔آپ بھی ڈرتے ہو کیا میم صاحب سے۔۔۔؟؟؟ اشرف بانو کی اِس بات پراور بھی گھبرا گیا۔۔۔اسے بانو سے ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔ڈرتا تو صباء سے تھا۔۔۔یہی ڈر تھا کہ اگر صباء کواس کی ان باتوں کا پتہ لگ گیا تو وہ تو قیامت ہی کھڑی کر دے گی۔۔۔اور پِھر سے اس کا سلوک براہو جائے گا اُس کے ساتھ۔۔۔اتنے میں صباء کچن سے باہر نکلی تو اسے دیکھ کر اشرف فوراً سے کھڑا ہوگیا۔۔۔ان کو چائے پیتے ہوئے دیکھ کر صباء بالکونی کی طرف چلی گئی۔۔۔بانو کو کہہ کر۔۔۔ بانو چائے پی کر بیڈروم کےصوفے بھی صاف کر دینا۔۔۔میں واشنگ مشین لگانے لگی ہوں ذرا جا کر پِھر کپڑےنکال دینا بس جلدی سے۔۔۔ چائے پی کر بانو نے صفائی شروع کر دی۔۔۔اتنے میں صباء نے اشرف کوآواز دی۔۔۔تو اشرف بالکونی میں چلاگیا۔۔۔ صباء :کیا بات ہے بڑا گھور رہے ہوبانو کو۔۔۔ اشرف گھبرا کر۔۔۔نہیں نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ صباء تھوڑا سا اپنے ماتھے پربل ڈال کر بولی۔۔۔یار۔۔۔؟ ؟ ؟صبح ہوتے ہی بھول بھی گئےکہ میں کون ہوں۔۔۔ اشرف مسکرایا۔۔۔صباء کا ہر وقت اسی گیم کاپروگرام رہتا ہے۔۔۔اشرف نے سوچا۔۔۔اور پِھر بولا۔۔۔سوری مالکن۔۔۔ صباء بھی ہنسی۔۔۔ہاں اب آئے نہ ٹھیک لائن پر۔۔۔بانو کو گھر کے کام کے لیےرکھا ہے۔۔۔ تمہارے کام کے لیے نہیں۔۔۔سمجھے۔۔۔ اشرف ڈر گیا تھا کہ شایدصباء کو کچھ شک ہو گیا ہے۔۔۔وہ بولا۔۔۔ نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔مالکن ایسی کوئی بات نہیں ہوگی۔۔۔ صباء اس کا مذاق اڑانے والےانداز میں بولی۔۔۔تم کسی سے کچھ کرنے کےقابل ہو بھی کہاں۔۔ یہ تو میں ہی ہوں جو تم کواِجازَت دے دیتی ہوں اپنی ہوس پوری کرنے کی۔۔۔ورنہ تمہارے اس میں توکوئی جان ہی نہیں ہے۔۔۔ اشرف اپنی بےعزتی پرشرمندہ ہو کر نیچے دیکھنےلگا۔۔۔ صباء :ٹھیک کہا ہے نہ میں نے۔۔۔ اشرف :جی۔۔۔جی مالکن۔۔۔ صباء :بول کر بتاؤنہ کیا کہا ہےمیں نے۔۔۔ اشرف نے نظریں جھکا لیں اور آہستہ سے بولا۔۔۔مالکن میرے اِس میں کوئی جان نہیں ہےاور یہ کسی کے قابل نہیں ہے۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔یہ کیا ؟ ؟ ؟اشرف نے اپنے شارٹ کے اوپرسے اپنا ہاتھ اپنے لن پر رکھااور بولا یہ مالکن۔۔۔ صباء ہنس پڑی۔۔۔ اشرف بولا۔۔۔مالکن آپ نے بلایا تھا۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔ہاں بھول ہی گئی۔۔۔اپنے یہ کپڑے بھی اُتار کر دو۔۔۔جلدی سے مشین میں ڈالنےہیں۔۔۔ اشرف :جی مالکن۔۔۔ یہ کہہ کر اشرف نے اپنی شرٹ اُتار دی۔۔۔نیچے اس کا جِسَم ننگا ہوگیابالکل ننگا گورا جِسَم۔۔۔گورا گورا۔۔۔بالوں سے پاک سینہ۔۔۔چھوٹے چھوٹے نپل۔۔۔خوبصورت نازک سا جِسَم۔۔۔کسی بھی لڑکی کو اپنی طرف اٹریکٹ کر سکتا تھا۔۔۔اشرف اپنی شرٹ دے کرجانے لگا تو صباء بولی۔۔ یہ شارٹ بھی تو دے جاؤ۔۔۔ اشرف حیران ہوا۔۔۔یہ۔۔۔ابھی ؟ ؟میں اندر سے اُتار کے چینج کرکے لا دیتا ہوں مالکن۔۔۔ صباء :اچھا جی۔۔۔وہاں بانو کے سامنے اُتار لوگے۔۔۔یہاں میرے سامنے اتارتے ہوئے شرم آتی ہے تم کو کیا۔۔۔؟ اشرف گھبرا کر بولا۔۔۔نہیں مالکن۔۔۔وہ اندر بانو ہے نہ۔۔۔تو پِھر اُتار کے اندر کیسےجاؤں گا صباء :تو کیا تم نے شارٹ کے نیچےکچھ نہیں پہنا ہوا۔۔۔؟؟؟ یہ کہہ کر صباء نے اس کاشارٹ نیچے کو کھینچا تونیچے اشرف نے انڈرویئر پہناہی ہوا تھا۔۔۔ صباء :ہاں یہ انڈرویئر تو نہیں کہانہ اتارنے کو۔۔۔اسی میں چلےجانا اندر۔۔۔ اشرف پریشانی سے۔۔۔مالکن لیکن۔۔۔اُس کے سامنے میں کیسے جاسکتا ہوں صرف انڈرویئر میں۔۔۔پلیز۔۔۔ صباء :کیوں۔۔۔اُس کے سامنے کیا ہے۔۔۔اُسکے سامنے ایسے جاتے ہوئے شرم آتی ہے تم کو کیا۔۔۔یا تمہارا خود کا کنٹرول نہیں رہے گا اُس کے سامنےاور اسے چودنے کو دِل کرےگا۔۔۔ یہ تمہارا یہ کھڑا ہو جائے گااُس کے سامنے ایسے جانےسے۔۔۔؟؟ اشرف صباء کی باتوں پر اوربھی ڈر گیا۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ صباء تھوڑا تیز آواز میں۔۔۔تو کیا تم میراحکم ماننے سےانکار کر رہے ہو پِھر۔۔۔؟ اشرف ہنس پڑا۔۔۔اسے ایسا کرنے میں ایکسائٹمنٹ بھی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔لیکن تھوڑی جھجک بھی تھی۔۔۔وہ اپنی ہی سوچ میں ڈوباہوا تھا۔۔۔کہ کیا کرے۔۔۔صباء کو ناراض کرے یا ایسے ہی بانو کے سامنے جائے۔۔۔ صباء پِھر بولی۔۔۔غلام۔۔۔ اشرف ہنسا۔۔۔اوکے مالکن۔۔۔جو حکم مالکن۔۔۔ پِھر اشرف نے اپنا شارٹ اُتارکر صباء کے حوالے کر دیا۔۔۔اور اب اشرف کے جِسَم پرصرف اور صرف ایک انڈروئیر تھا۔۔۔بہت ہی ٹائیٹ جوکہ اسکی ٹانگوں کے ساتھ چپکا ہواتھااور آگے سے کافی پھولا ہواتھا۔۔۔جہاں اس کا لن تھا۔۔۔لیکن ابھی تک صباء کی تلخ اور سخت باتوں اور تذلیل کی وجہ سے وہ ابھی بھی بیٹھا ہی ہوا تھا۔۔۔اس انڈرویئر میں اشرف کانازک سا گورا گورا جِسَم بہت ہی سیکسی لگ رہا تھا۔۔۔وہ گھبرا رہا تھا اور تھوڑاشرما بھی رہا تھا۔۔۔ صباء :ارے تم تو ایسے شرما رہے ہوکہ جیسے تم ایک لڑکی ہواور بانو ایک مرد ہے۔۔۔جو تم کو چود لے گی۔۔۔ صباء اشرف کے قریب آئی اور اشرف کے انڈرویئر کےاُوپر سے ہی اُس کے لن کواپنی مٹھی میں بھر کربھینچا اور بولی۔۔۔ بڑا اچھل رہا ہے یہ اندر ہی اندر۔۔۔اگر میں نے تمہارے لن کواس کمینی بانوکے سامنے اکڑا ہوا دیکھا نہ تو پِھر دیکھنا تمہارا کیاحشر کروں گی۔۔۔ اشرف ڈر گیا۔۔۔ صباء :جاؤ جا کر پہن لو جو پہنناہےاور ہاں اندر سے بیڈ شیٹس بھی لا دینا واشنگ کے لیے۔۔۔ اشرف شرماتے ہوئے اندر کوبڑھا۔۔۔اسی خیال سے ہی اس کا لن اکڑا جا رہا تھا کہ اندر بانوہوگی جس کے سامنے اسےاسی حالت میں جانا پڑے گا۔۔۔نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا لن اکڑتا جا رہا تھا وہ صباء سے ڈر بھی رہا تھالیکن خود کی ایکسائٹمنٹ پرقابو بھی نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔ظاہر ہے کے ایک لڑکی کے سامنے ایسے جانا ہی کسی بھی مرد کے لیےایکسائٹمنٹ کا ریزن ہو سکتاہے۔۔۔یہی حال اس بےچارے اشرف کا ہو رہا تھا۔۔۔دوسری طرف صباء اشرف کو تیار کر کے بلکہ ننگا کر کےبانو کو پیش کر رہی تھی۔۔۔آج تک صرف شوہر ہی اپنی بِیوِی کی اپنے دوستواور نوکروں کے سامنے اورپبلک میں ایگزبیشن کر کےمزے لیتا تھا۔۔۔لیکن آج ایک بِیوِی اپنے شوہر کا جِسَم اپنی نوکرانی کے سامنے ایکسپوزکر کے انجوئے کرنے جا رہی تھی۔۔۔سب کچھ ہی تواُلٹا پلٹا کرتی جا رہی تھی صباء اشرف کے ساتھ۔۔۔اشرف اندر گیا تو بانو ٹی وی لونج میں نہیں تھی۔۔۔یقینا وہ بیڈروم میں ہی ہوگی۔۔۔اشرف آہستہ آہستہ سہماسہما اپنے بیڈروم کی طرف بڑھا۔۔۔جیسے ہی اشرف اپنے بیڈروم میں داخل ہوا۔۔۔اتنی ننگی حالت میں کہ اُسکے جِسَم پر صرف ایک انڈرویئر ہی تھا۔۔۔اس نے دیکھا کے بانو الماری کی طرف منہ کر کے اسکی صفائی کر رہی تھی۔۔۔اشرف بھی آہستہ آہستہ اسی الماری کی طرف بڑھا۔۔۔اچانک سے بانو پیچھے مڑی تو اشرف کو ایسی حالت میں اچانک اپنے سامنے دیکھ کر ڈر ہی گئی۔۔۔فوراً ہی اپنے دونوں ہاتھ اپنےسینے پر رکھ کر پیچھے کو ہٹی۔۔۔ایک چیخ نکل گئی اُس کےمنہ سے اونچی اور سہم کر پیچھے کو ہوگئی اور چلائی۔۔۔ بانو :نہیں نہیں۔۔۔نہیں صاحب۔۔۔پلیز نہیں۔۔۔ایسا نہیں کرو۔۔۔ بانو کمینی ایسی ایکٹنگ کررہی تھی جیسے کہ اشرف اچانک سے اس کی عزت لوٹنے کے لیے ایسے ننگا ہوکر آیا ہو اندر۔۔۔بانو الماری سے اپنی کمر ٹکاکر دبکی ہوئی تھی۔۔۔چہرے پر خوف کے آثار بھی لے آئی تھی۔۔۔ اشرف گھبرا گیا۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔ارے سنو تو سہی۔۔۔بانو۔۔۔ اشرف نے ایک قدم جیسے ہی تھوڑا آگے بڑھایا۔۔۔ بانو چلائی۔۔۔میم صاحب۔۔۔میم صاحب۔۔۔بچاؤ۔۔۔بچاؤ۔۔۔ اشرف گھبرا گیا۔۔۔اتنے میں صباء بھی باہر سےاندر آگئی۔۔۔اسے دیکھ کر تو اشرف کی جیسے جان ہی نکل گئی۔۔۔ صباء :ارے کیا ہوگیا۔۔۔ اندر کی حالت دیکھی توبولی۔۔۔کیا ہوا بانو تم کو۔۔۔ بانو گھبرا کر۔۔۔وہی ایکٹنگ کرتے ہوئے۔۔۔اشرف کی طرف اشارہ کر کےبولی۔۔۔ میم صاحب۔۔۔میم صاحب۔۔۔وہ۔۔۔وہ۔۔۔صاحب جی۔۔۔ صباء نے اشرف کی طرف دیکھا۔۔۔کیا کہا ہے تم نے بانو کو۔۔۔جلدی بتاؤ بانو۔۔۔ اشرف گھبرا کر جلدی سےبولا۔۔۔جی میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا اسے۔۔۔قسم لے لو۔۔۔یہ تو مجھے دیکھتے ہی ایسے دَر گئی جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔۔۔ صباء مسکرائی اور اشرف کےانڈر وئیر کے اُوپر سے ایک تھپڑ اس کی گانڈ پر مارتےہوئے بولی۔۔ تم نے دکھایا ہوگا تو دیکھاہے نہ اس نے بھوت۔۔۔ پِھر بانو سے بولی۔۔۔ارے پگلی۔۔۔یہ تو اندر کپڑے پہننے ہی آیاتھا۔۔۔اور بیڈ شیٹ لینےاور تو ایسے ہی ڈر گئی اور چیخ تو ایسے رہی تھی کہ جیسے اِس نے تجھے بیڈپر گرا کہ تجھے بھی ننگی ہی کر دیا ہو۔ اب بانو نے تھوڑا شرمندہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔معافی دینا میم صاحب۔۔۔ میں۔۔۔میں۔۔۔میں سمجھی۔۔۔کہ۔۔۔ صباء نے اس کا فقرا مکمل کیا۔۔۔ہاں ہاں تو سمجھی کہ یہ ننگا ہو کر تجھے پکڑنے آیا ہے۔۔۔ صباء کی اتنی اوپن بات سن کر اشرف اور بانو دونوں ہی تھوڑا شرما گئے۔۔۔اشرف ابھی بھی صرف انڈرویئر میں کھڑا تھا دونوں عورتوں کے سامنے۔۔۔اسے عجیب تو لگ رہا تھا۔۔۔لیکن مزہ بھی آنے لگا تھااور اس کا لن جو بیٹھ چکاتھا اب اس میں دوبارہ سےحرکت ہونے لگی تھی۔۔۔ صباء :ارے بانو چل اب تو بھی اپناکام کر اور ہاں اس کے بھوت سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔کسی کام کا نہیں ہے اس کابھوت۔۔۔ یہ کہ کر صباء ہنسنے لگی اور اشرف سے بولی۔۔۔بانو تم نے میرے معصوم سے شوہر پر غلط الزام لگایا ہے تو اب تمہاری یہی سزا ہے کہ اشرف تیرے جانےتک ایسے ہی رہے گااور تجھ سے سارا کام بھی اشرف ہی کروائے گا اپنی نگرانی میں۔۔۔تاکہ تو اچھے سے واقف ہوجائے اس کے بھوت سےاور آئِنْدَہ نہ ڈرے۔۔۔سمجھی۔۔۔ اشرف نے منہ کھول کے صباءکی طرف دیکھا۔۔۔تو صباء تھوڑا تیز لہجے میں بولی۔۔۔ ہاں بولو۔۔۔تم کو کوئی اعتراض ہےمیرے کہنے پر۔۔۔تم کو شرم آتی ہے کیا ایسےرہنے میں۔۔ اشرف مینمینا کر رہ گیا۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ صباء اوکے کہہ کر بیڈروم میں ان دونوں کو چھوڑ کرواپس بالکونی میں چلی گئی واشنگ کرنے۔۔۔ اب اشرف اپنے ننگے جِسَم پرصرف انڈرویئر پہنے ہوئے بانو کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔اسے عجیب بھی لگ رہا تھا۔۔۔بانو شرمندگی والی نظروں سے اور اپنی آنکھوں میں تھوڑی مستی بھرتے ہوئےاشرف کو دیکھنے لگی۔۔۔ بانو:معاف کرنا صاحب جی۔۔۔میں ڈر ہی گئی تھی۔۔۔ صباء کے جانے کے بعد اشرف تھوڑا اور گھبرا گیا تھا۔۔۔ایک تو وہ پہلے ہی بانو سےڈر رہا تھا۔۔۔ اسے اُس کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔۔۔اوپر سے صباء نے اسے اُسکے سامنے ایسے ننگا کر دیاتھا۔۔۔کہ وہ اپنا سب کچھ اس کودکھا رہا تھا۔۔۔اُس کے لیے تو بہت ہی پریشانی کی بات تھی۔۔۔اشرف آہستہ سے بولا۔۔۔ ایسے ہی تم نے چیخ کر صباءکے دِل میں شک ڈال دیا ہےمیرے لیے۔۔۔میں نے تو کچھ کہا بھی نہیں تھا اور تم ایسے ہی چیخ پڑی۔۔۔ بانو :وہ۔۔۔وہ بھی ٹھیک تھا۔۔۔بس آپ اچانک سے آ گئے نہ میرے سامنے ایسے ننگے ہوکر تو۔ میں ڈر ہی گئی۔۔۔اگر آپ پہلے آواز دیتے اندرآنے سے پہلے تومیں سنبھل جاتی نہ۔۔۔ اشرف کو اپنی غلطی کااحساس ہوا کہ واقعہ ہی اس نے آواز دی ہوتی تو وہ ایسےنہ ڈرتی۔۔۔لیکن اب اشرف کے لیےپروبلم یہ تھی کہ وہ اس کمرے سے باہر بھی نہیں جاسکتا تھا کیونکہ صباء نے حکم دیا تھا وہیں رہنے کااور اندر کمرے میں ہونا ایسےہی تھا جیسے کسی بکری کاشیرنی کے پنجرے میں ہونا۔۔۔بانو آہستہ آہستہ اشرف کی طرف بڑھی۔۔۔ ویسے صاحب جی۔۔۔آپ کی باڈی ہے بہت مست۔۔۔بہت ہی لکی ہیں میم صاحب کہ آپ جیسا خوبصورت شوہر ان کو ملاہوا ہے۔۔۔اپنے بیڈ پر۔۔۔آپ دونوں کی جوڑی ہی بہت پیاری اور سیکسی ہے۔۔۔ اشرف بانو کی اِس بات پرشرما گیا۔۔۔اور گھبرایا بھی اور آہستہ سے بولا۔۔۔ کیوں ایسا کیا ہے میری باڈی میں۔۔۔ بانو تھوڑا اور آگے آئی اور اپنا ہاتھ اشرف کی چیسٹ پر رکھ کر آہستہ آہستہ سہلاتے ہوئے بولی۔ کتنا خوبصورت گورا چٹارنگ ہے آپ کا۔۔۔کیسا نازک سا جِسَم ہے نہ آپکا۔۔۔ بانو کے ایسے چھونے سےاشرف اچھل ہی پڑا۔۔۔جیسے ہی بانو کا گرم گرم ہاتھ اشرف کے نازک سےسینے پر پھسلا تو اشرف کی دِل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔۔۔اسے صباء کا بھی ڈر تھا اورجتنا اچھا سلوک بانو اُس کےساتھ کر رہی تھی وہ اسے پگھلا بھی رہا تھا۔۔۔لیکن صباء کا خوف ہر چیزپر حاوی تھا۔۔۔اشرف کی نظریں اپنے اتنےقریب کھڑی ہوئی بانو کےآدھ ننگے مموں پر ہی تھیں۔۔۔ بانو اشرف کے نپلز کو اپنی انگلی سے چھوتے ہوئی بولی۔۔۔لگتا ہے کہ آپ کو میرے یہ بہت پسند آئے ہیں۔۔۔ اشرف گھبرا کر باہر کو دیکھ کر بولا۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں تو۔۔۔تم کیسے یہ کہہ سکتی ہو۔۔۔؟؟؟ بانو :آپ کے انڈرویئر کی حالت سے لگ رہا ہے صاحب جی۔۔۔دیکھو تو سہی کیسے پھٹنےکو ہو رہا ہے آپ کا انڈرویئر۔۔۔ اشرف نے نیچے کو دیکھا اورجلدی سے اپنا ہاتھ اپنے انڈروئیر کے اُوپر سے اپنے لن پررکھ کر اپنے لن کو چھپا لیا۔۔۔ بانو :اور نہیں تو کیا۔۔۔صاحب جی کیوں اس بےچارے پر اتنا ظلم کر رہے ہو۔۔۔اتنی ٹائیٹ جگہ میں قید کرکے۔۔۔کر دو نہ اسے آزاد۔۔۔ اشرف بانو سے تھوڑا پیچھےہوتے ہوئے بولا۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔بانو۔۔۔صباء آجائے گی۔ ایسی باتیں نہیں کرو۔۔۔اسے پتہ چل گیا تو وہ بہت ناراض ہوگی۔۔۔ بانو :صاحب جی۔۔۔آپ صباء میم صاحب سےبہت ڈرتے ہو کیا۔۔۔؟؟ اشرف بولا۔۔۔نہیں نہیں تو۔۔۔وہ تو بس ایسے ہی۔۔۔ بانو دوبارہ اشرف کے قریب ہو کر بولی۔۔۔وہ تو میں نے دیکھ ہی لیا ہےصاحب جی پہلے ہی دن میں کہ کتنے ڈرتے ہو آپ صباءمیم صاحب سے۔۔۔ بانو پِھر سے اشرف کے سینےکو چھوتے ہوئے بولی۔۔۔اور مجھے لگتا ہے کہ آپ کومجھ سے بھی ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ اشرف گھبرا کر۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔میں کیوں ڈروں گا تم سے۔۔۔تم مجھے کھا تھوڑا ہی جاؤ گی۔۔۔ بانو نے اچانک سے ہی اپناہاتھ اشرف کے انڈرویئر کےاوپر سے اُس کے لن پر رکھااور اُس کے لن کو اپنی مٹھی میں بھینچ کر بولی۔۔۔ کھاؤں گی تو میں اس کوصاحب جی۔۔۔ اشرف اپنی جگہ سے اچھل پڑا۔۔۔اب اُس کے پاس پیچھے ہٹنے کی جگہ بھی نہیں رہی تھی۔۔۔وہ دیوار کے ساتھ لگا ہوا تھااُس کے ماتھے پر پسینہ آ رہاتھا۔۔۔ اشرف بولا۔۔۔بانو۔۔۔بانو پلیز نہیں کرو۔۔۔صباء باہر ہی ہے۔۔۔وہ آ جائے گی۔۔۔ بانو اپنے ہاتھ کا پریشراشرف کے لن پر بڑھاتے ہوئےبولی۔۔۔یعنی کہ اگر صباء میم صاحب نہیں ہو تو پِھر آپ مجھے نہیں روکو گے۔۔۔؟ ؟ اشرف بولا۔۔۔بانو یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ بانو نے آگے کو جھک کراشرف کے سینے کو ایک کس کیا اور اشرف کا ہاتھ اپنےایک ممے پر رکھ کر بولی۔۔۔ کیا ٹھیک نہیں ہے صاحب۔۔۔کیا میرے یہ ٹھیک نہیں ہیں۔۔۔؟؟ اشرف نے گھبرا کر اپنا ہاتھ ہٹانا چاہا لیکن بانو نے اپناہاتھ اُس کے ہاتھ پر دبایا ہواتھا۔۔۔اشرف پریشان ہو رہا تھا۔۔۔اس نے بانو کو پیچھے ہٹا کروہاں سے جانا چاہا تو اچانک ہی بانو نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔۔۔اپنے بازو اُس کے گلے میں ڈال کر اس سے لپٹ گئی۔۔۔اپنے ممے اُس کے سینے پر دبادیےاور اپنے ہونٹوں کو اُس کےہونٹوں پر رکھ دیا۔۔۔اشرف کو چومنے لگی اور اشرف خود کوایسے چھڑوا رہا تھا جیسےکہ بانو مرد ہو وہ خود ایک لڑکی۔۔۔نازک سی ایک لڑکی۔۔۔ اشرف کی تو حالت ہی بری ہو رہی تھی۔۔۔دِل کبھی چاہتا کہ وہ بھی بانو کو دبوچ لے اور کبھی صباء کا خوف آجاتا اور دِل کرتا کہ وہاں سے غائب ہی ہوجائے۔۔۔ایک طرف صباء تھی جواسے دن رات دھتکارتی رہتی تھی اور دوسری طرف یہ بانو تھی جو اس سے پیارکرنا چاہ رہی تھی۔۔۔اُس کے جِسَم کی پیاس بجھانا چاہ رہی تھی لیکن وہ صباء کے ڈر سے اسےحاصل نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔بانو اشرف کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ صاحب جی۔۔۔میم صاحب کا خوف نکال دواپنے دِل سے۔۔۔لے لو مجھے اپنی بانہوں میں۔۔۔ میں آپ کے اِس کو بالکل ٹھنڈا کر دوں گی۔۔۔ جیسے ہی دوبارہ سے بانو نےاشرف کا لن اپنی مٹھی میں پکڑا تو اشرف تڑپ اٹھا اوراپنے بازو بھی بانو کی کمر پرکس دیےاور اسے بھینچ لیا۔۔۔اسی وقت باہر سے آواز آئی۔۔۔صباء کی۔۔۔ صباء :اشرف۔۔۔لائی نہیں بیڈ شیٹ۔۔۔ اشرف چونکا اس کی تو جان ہی نکل گئی۔۔۔جلدی سے بانو سے پیچھے ہٹااور بیڈ شیٹ بیڈ پر سےکھینچ کر باہر کو بھاگا۔۔۔بانو کو اس کی حالت پرہنسی آگئی۔۔۔ وہ بولی :جلدی آنا صاحب۔۔۔ اشرف نے مڑ کر بانو کی طرف خوف بھری نظروں سےدیکھا اور پِھر باہر نکل گیا۔۔۔بالکونی کی طرف اور جا کر بیڈ شیٹ صباء کودی۔۔۔ صباء غصے سے۔۔۔اتنی دیر کیوں لگا دی۔۔۔کیا کرنے لگ گئے تھے۔۔۔بانو کے ساتھ۔۔۔ اشرف گھبرا کر۔۔۔وہ کچھ نہیں۔۔۔آپ نے ہی کہا تھا نہ کےکام کرواؤں بانو سے تو۔۔۔ صباء نے اشرف کے لن کی طرف دیکھا اورتیز لہجے میں بولی۔۔۔تو پِھر کون سا کام کروا رہےتھے بانو سے۔۔۔ اشرف نے اپنے بیٹھتے ہوئے لن پر فوراً سے ہاتھ رکھ دیا۔۔۔اسے چھپانے کے لیے اور بولا۔۔۔ صفائی کا۔۔۔ صباء بولی۔۔۔اشرف اگر تم کو میں نےکچھ غلط کرتے دیکھ لیا نہ اس چینال کے ساتھ تو میں تمہارا یہ کاٹ کر تمہاری۔۔۔کاٹ کر باہر پھینک دوں گی۔۔۔سمجھے۔۔۔ اشرف ڈر گیا۔۔۔عجیب ہی عورت ہے یہ صباءبھی پتہ نہیں کیوں مجھ پراتنی حاوی ہو گئی ہے۔۔۔ قصور بھی تو میرا ہی ہے نہ۔۔۔اس کے سامنے کھڑا ہی نہیں ہوتا اور اس بانو کے لیےکیسے کھڑا ہو رہا تھا۔۔۔ صباء جاؤ اور اب جاکر لونج میں بیٹھ جاؤ اب اندر بیڈروم میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اشرف سر جھکا کر واپس چلا گیا اور صوفہ پر بیٹھ کرٹی وی دیکھنے لگا۔۔۔اُس کے اندر عجیب سی حالت ہو رہی تھی۔۔۔ڈر بھی تھا۔۔۔غصہ بھی۔۔۔شرمندگی بھی۔۔۔اور ہوس بھی۔۔۔بانو کی آواز آئی آہستہ سے۔۔۔ صاحب۔۔۔جی۔۔۔ اشرف نے فوراً ہی بیڈروم کی طرف دیکھا تو بانو بیڈروم کے دروازے میں کھڑی ہوئی تھی اور اسے اندر آنے کااشارہ کر رہی تھی۔۔۔اشرف نے مڑ کر بالکونی کی طرف دیکھا اور اپنا سر انکار میں ہلا دیا۔۔۔بانو سمجھ گئی کہ اشرف صباء سے خوف زدہ ہے۔۔۔بانو نے وہیں دروازے میں کھڑے ہو کر ہی اپنی چولی کے اُوپر سے اپنےمموں کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔ان پر ہاتھ پھیرنے لگی۔۔۔اشرف کی نظریں تو جیسےوہیں پر جم گیں۔۔۔کبھی باہر دیکھتا اور کبھی بانو کو۔۔۔وہ اسے روک بھی نہیں پا رہاتھا۔۔۔یا شاید روکنا چاہتا بھی نہیں تھا۔۔۔اپنی چولی سے نیچے پیٹ پرہاتھ پھیرتے ہوئے بانو نےاپنی چولی کے نچلے حصےکو پکڑا اور ہاتھ نیچے سےاپنی چولی میں ڈال دیااور اپنے ننگے مموں کو سہلانے لگی۔۔۔اشرف کا لن ٹائیٹ ہونے لگا۔۔۔وہ گھبرا بھی رہا تھا اور بے قرار بھی ہو رہا تھا۔۔۔بانو نے آہستہ آہستہ اپنی چولی کو نیچے سے اوپرکو سرکانا شروع کیا۔۔۔جیسے اپنے ممے باہر نکال رہی ہواور بولی۔۔۔ دیکھو گے ان کو صاحب۔۔۔ اشرف نے فوراً ہی بالکونی کی طرف دیکھا اور انکارمیں سر ہلایااور پِھر آہستہ سے اوپر نیچےکو سر ہلا کر ہاں کر دی۔۔۔ بانو مسکرائی۔۔۔پہلے اپنے ہاتھ ہٹاؤ اپنےبھوت پر سے صاحب۔۔۔ اشرف نے آہستہ سے اپنے ہاتھ ہٹا دیے۔۔۔بانو نے بھی اپنا بلاؤز اوپراٹھا کر اپنے مموں کو باہر نکال دیا ایک لمحے کواور ساتھ ہی اشرف کی آنکھیں جیسے باہر کوابل پڑیں۔۔۔اتنے میں اشرف کو بالکونی میں سے صباء اندر آتی ہوئی نظر آئی۔۔۔اشرف نے فوراً ہی بانو کواشارہ کیا اور وہ بھی اندر کوواپس چلی گئی۔۔۔ صباء اندر آئی اور بولی۔۔۔کہ مجھے اب تھوڑی دیر کےلیے جانا ہے فرح کے پاس۔۔۔بانو کا کام ہو گیا کہ نہیں۔۔۔ اشرف :پتہ نہیں۔۔۔اندر ہی ہے وہ۔۔۔ صباء نے بانو کو آواز دی۔۔۔بانو کتنا کام رہ گیا ہے۔۔۔ بانو باہر آئی۔۔۔بس میم صاحب تھوڑا ہی رہ رہا ہے۔۔۔ صباء :اچھا تم اپنا کام کر لو۔۔۔میں سامنے فرح کے پاس جارہی ہوں تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔۔ بانو :جی۔۔۔میم صاحب۔۔۔میں بھی اپنا کام ختم کر کےاُدھر ہی آتی ہوں۔۔۔اب اُدھر کا کام ہی کرناہے اس کے بعد۔۔۔ صباء نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیااور باہر کی طرف نکل گئی اور جاتے ہوئے بانو کو آنکھ مار دی۔۔۔ اشرف بھی پیچھے ہی گیااور دروازہ بند کر آیااور واپس صوفہ پر بیٹھ گیا۔۔۔اشرف ایک مرد تھا۔۔ لیکن بانو جیسی بے باک عورت کی موجودگی میں اکیلا گھبرا رہا تھا۔۔۔اُس کے دِل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ جیسےکچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔۔۔جو کچھ ہونے والا تھا۔۔۔وہ اشرف بھی چاہتا تھا کہ ہو۔۔۔لیکن پِھر بھی ایک ڈر تھااُس کے اندر۔۔۔اپنی شرافت کا بھرم ٹوٹنے کاڈر۔۔۔اپنی بِیوِی کے سامنے پکڑےجانے کا ڈر۔۔۔اپنی عزت خراب ہونے کا ڈر۔۔۔ لیکن دوسری طرف بانو کوتو کسی کا بھی ڈر نہیں تھانہ۔۔۔اشرف آہستہ آہستہ واپس لونج میں آیا تو بانو بھی بیڈروم سے نکل آئی۔۔۔مسکرا کر اشرف کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ بانو :صاحب جی آپ تو میم صاحب سے بہت ہی زیادہ ڈرتے ہو۔۔۔ اشرف آہستہ آواز میں بولا۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ایسی بات تو نہیں ہے۔۔۔ بانو آہستہ آہستہ اشرف کےقریب آگئی اور اپنے مموں پرہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ صاحب جی کیسے لگے تھےآپ کو میرے یہ۔۔۔؟؟ اشرف نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنا سر جھکا لیا۔۔۔اس کا لن اکڑنا شروع ہو رہاتھا اُس کے چھوٹے سےانڈرویئر میں۔۔۔بانو نے ایک بار پِھر سے اپنی چولی کو اپنے مموں سے اُوپرکی طرف سرکا دیااور اُس کے ممے نکل کر باہرننگے ہوگئے۔۔۔اشرف کی آنكھوں کے سامنے۔۔۔بانو آہستہ آہستہ اشرف کےقریب آنے لگی۔۔۔اتنا قریب آ گئی کے اپنےدونوں مموں کو اشرف کےسینے سے ٹچ کر دیا۔۔۔اشرف نے فوراً سے پیچھےہٹنا چاہا لیکن بانو نے اُسکے بازؤں کو پکڑ لیااور آہستہ آہستہ اپنے مموں کو حرکت دیتے ہوئے اپنےمموں کو اشرف کے ننگےملائم سینے سے رگڑنے لگی۔۔۔پِھر اس نے ایک ہاتھ اشرف کا چھوڑ دیا اور اسے نیچےلے جا کر اشرف کے انڈرویئرکے اُوپر سے اُس کے لن پررکھ دیااور اپنا ہاتھ آہستہ آہستہ اُسکے لن پر پھیرنے لگی۔۔۔ اپنے مموں کو اشرف کےسینے پر رگڑتے ہوئے بولی۔۔۔ صاحب جی۔۔۔کیسا لگ رہا ہے۔۔۔ اشرف پِھر چُپ رہا۔۔۔بس ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔۔۔لیکن اس کی نظر بانو کےمموں سے ہٹ نہیں پا رہی تھی۔۔۔ بانو :صاحب جی آپ بولو یا نہ بولو لیکن آپ کے اس کو تویہ بہت اچھے لگ رہے ہیں۔۔۔دیکھو نہ کیسے اچھل رہا ہےآپ کے انڈرویئر کے اندر۔۔۔ پِھر بانو نیچے بیٹھ گئی۔۔۔اپنے پیروں کے بل۔۔۔اشرف کے لن کےبالکل سامنےاور پِھر سے اُس کے لن کواُس کے انڈرویئر کے اُوپرسے سہلانے لگی۔۔۔اپنے ہونٹ آہستہ سے آگے کیے اور اُس کے انڈرویئرکے پھولے ہوئے حصے کو چوملیا۔۔۔ایک بار۔۔۔دو بار۔۔۔اور پِھر ادھر اُدھر سے اُسکے پورے پھولے ہوئے حصےکو چومنے لگی۔۔۔اشرف کو بہت ہی عجیب لگ رہا تھا لیکن اسے مزہ بھی آرہا تھا۔۔۔آہستہ آہستہ بانو کی زبان بھی باہر آگئی اور اس نےاپنی زبان سے اشرف کے لن کو اُس کے انڈرویئر کے اوپرسے چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
  10. قسط نمبر25 صباء اِس سوال کے لیے تیارنہیں تھی۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔وہ تو اس نے میرے ساتھ ذیادتی کی تھی۔۔۔اپنی مرضی سے تو نہیں کیامیں نے کچھ۔۔۔مگر تم کو اِس سے کیا۔۔۔ دینو :ہاں ہاں میم صاحب۔۔۔مجھے کیا اِس سے۔۔۔آپ اور بانو جس سےمرضی چدواؤ۔۔۔ میرا تو کام چلتا ہے نہ تومجھے پِھر اِس سے کیا۔۔۔ دینو نے بےوقوفوں کی طرح سے اپنا سر ہلا کر کہا۔۔۔ دینو :میم صاحب ایک اور بات پوچھ لوں۔۔۔؟؟؟ صباء :اب کیا ہے۔۔۔؟؟؟ دینو :میم صاحب۔۔۔وہ اس رات ٹیرِس پر میجرصاحب کے ساتھ کہیں آپ ہی تو نہیں تھیں۔۔۔جو رات کو میجر سے چدوارہی تھی عورت۔۔۔؟؟؟ صباء اب اپنا اتنا تو پردہ رکھنا ہی چاہتی تھی نہ۔۔۔نہیں نہیں میں نہیں تھی۔۔۔مجھے کیا پتہ کون تھی وہ۔۔۔؟؟ دینو پِھر سے سر ہلاتا ہوا۔۔۔ہاں ہاں میم صاحب۔۔۔پتہ نہیں کون تھی۔۔۔پتہ نہیں اِس میجر نے بِلڈنگ کی کس کس لڑکی کوپھنسایا ہوا ہےاور کس کس گھر میں اپناگند ڈالا ہوا ہے۔۔۔؟؟ صباء :اچھا اب اپنی باتیں چھوڑواور جلدی سے نکلو یہاں سے۔۔۔کوئی آ ہی نہ جائے کہ اتنی دیر سے کیا کر رہے ہو یہاں پر۔۔۔ دینو بولا۔۔۔جی۔۔۔جی۔۔۔میڈم جی۔۔۔ اور پِھر اپنے کپڑے پہن کر دینو اور صباء بیڈروم سےنکلے اور صباء دینو کو فلیٹ کے دروازے پر چھوڑ آئی۔۔۔باہر کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔جیسے ہی دینو صباء کےفلیٹ میں سے نکلاتو سامنے مولوی صاحب کےگھر سے بانو بھی کام کر کےباہر آئی۔۔۔دینو کو نکلتا ہوا دیکھ کربولی۔۔۔ بانو :اب آئے ہو واپس۔۔۔اتنی دیر کیوں لگا دی تم نے۔۔۔؟؟ بانو تھوڑا تیز لہجے میں بول رہی تھی۔۔۔ دینو تھوڑا گھبرا کر بولا۔۔۔وہ پائپ لیک تھا اسے ٹھیک کرنا تھا کچن کا۔۔۔ بانو :کچن کا ہی پائپ لیک کر رہاتھا نہ۔۔۔کہیں نیچے سے تمہارا پائپ تو لیک نہیں ہونے لگا تھا نہ۔۔ دینو نے گھبرا کر بانو اور پِھرصباء کی طرف دیکھا۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔و یسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ بانو :ہاں ٹھیک ہےاور اب دوبارہ ویسا کرنا بھی نہیں۔۔۔سمجھے۔۔۔اب جاؤ نیچے اپنی ڈیوٹی پر۔۔ اور دینو خاموشی سے اپنےٹولز ہاتھ میں لیے سیڑھیاں نیچے اُتَر گیا۔۔۔دینو نیچے چلا گیا تو بانوصباء کے پاس آگئی۔۔۔دونوں کے چہرے پرمسکراہٹ تھی دینو کی ایسی حالت دیکھ کر۔۔۔ بانو آہستہ سے بولی۔۔۔کیوں میم صاحب بجھا لی اپنی آگ۔۔۔آیا مزہ پِھر چُدوا کر۔۔۔؟؟؟ صباء بانو کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔۔۔کمینی آہستہ بول۔۔۔کوئی سن لے گا۔۔۔ صباء کی بات پر بانو ہنسنےلگی اور صباء بھی۔۔۔ بانو :میم صاحب ایک خوشخبری ہے آپ کے لیے۔۔۔ صباء حیران ہو کر۔۔۔ وہ کیا۔۔۔ بانو:دو دن میں اپنے میجرصاحب بھی واپس آ رہے ہیں۔۔۔ صباء اچانک سے ملنے والی اِس خبر پر جیسے اچھل ہی پڑی۔۔۔ کیا کیا۔۔۔سچ۔۔۔صباء کے چہرے پر خوشی جیسے چھلک رہی تھی۔۔۔ بانو :جی ہاں میم صاحب۔۔۔ صباء :آنے دو اب اِس میجر کو۔۔۔اب ہم دونوں مل کر ٹھیک کریں گے اِس کو۔۔۔ بانو :ہاں ہم دونوں مل کر بتائیں گی اسے کےکیسے چودتے ہیں عورت کواور عورت کتنا مزہ دے سکتی ہے۔۔۔آپ میرا ساتھ دو گی نہ میم صاحب۔۔۔؟؟؟ صباء:ہاں ہاں۔۔۔جیسے کہو گی ویسے ہی کریں گی۔۔۔اب تو برداشت نہیں ہوتی قسم سے اس کمینے کی جدائی۔۔۔کمینہ ایسا عادی کر گیا ہے نہ اپنا کہ بس۔۔۔ بانو بھی ہنس پڑی۔۔۔ہاں کہہ تو آپ بالکل ٹھیک رہی ہو۔۔۔ پِھر بانو دوسرے گھروں کاکام کرنے کے لیے چلی گئی اور صباء اپنے فلیٹ میں واپس آگئی اور سیدھا کچن میں جا کركھانا بنانے لگی۔۔۔خوشی میں گن گناتی ہوئی۔۔۔اشرف رات کو ڈیوٹی سےواپس آیا اور اوپرکی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔راستے میں ہی اسے اوپر سےآتی ہوئی بانو نظر آئی۔۔۔ بانو نے مسکرا کر اشرف کی طرف دیکھا۔۔۔اشرف نے بھی ایک نظر اسےدیکھا اور پِھر آگے بڑھ گیا۔۔۔پیچھے سے بانو نے آواز دی۔۔۔ بانو :صاحب۔۔۔ اشرف رک گیا۔۔۔مڑ کر بانو کی طرف دیکھامگر بولا کچھ نہیں۔۔۔ بانو :صاحب آپ تو میری طرف دیکھتے بھی نہیں ہو۔۔۔کیا میں اتنی ہی بری ہوں۔۔۔؟؟؟ اشرف نے بانو کی طرف دیکھا۔۔۔اس کا دوپٹہ اُس کے سینےسے ہٹ چکا ہوا تھا۔۔۔تنگ کسی ہوئی قمیض میں اس کا سینہ بری طرح سے کسا ہوا تھا۔۔۔بلکہ سینے کے اُبھار توجیسے پھنسے ہوئے تھے۔۔۔وہ تو یہ ہوا کہ اس قمیض کاگلا کچھ تھوڑا زیادہ ڈیپ تھا جہاں سے مموں کے اُوپرکے حصوں کو باہر نکلنے کاموقع مل رہا تھااور وہ باہر نکل کر بہت ہی خوبصورت بلکہ بہت ہی سیکسی کلیویج بنا رہے تھےاور اسی کلیویج پر اشرف کی نظریں ٹک گئی تھیں۔۔۔وہ بانو کے بارے میں سب جانتا تھا کہ وہ کیسی عورت ہے۔۔۔مگر اتنے دن کی صباء سےدوری کی وجہ سے اسے اِس بانو میں بھی ایک عجیب سی کشش نظر آنے لگی تھی اور اس سانولے مموں کی جھلک نے ایک لمحے کے لیےتو اس جیسے شریف آدمی کے دِل کی دھڑکنوں کو تیزہی کر دیا تھا۔۔۔بانو نے اشرف کو اپنے مموں کی طرف دیکھتے ہوئے پایاتو مسکرا اٹھی کہ شکار توآسانی سے قابو میں آ رہا ہے۔۔۔بانو نے دوبارہ آواز دے کےاشرف کو اپنے خیالوں سےنکالا۔۔۔ صاحب۔۔۔ اشرف تھوڑا ہڑبڑا کر جیسےجاگا۔۔۔اور بولا۔۔۔ ہاں۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ بانو :تو صاحب پِھر کیا بات ہے کہ آپ کبھی بھی میرے سےکوئی بات نہیں کرتے۔۔۔ہمیشہ میں آپ کو سلام بھی کرتی ہوں۔۔۔لگتا ہے کہ آپ صباء میم صاحب سےڈرتے ہو۔۔۔بانو ہنسی۔۔ اشرف تھوڑا گھبرا کر۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہے۔۔۔ بانو تھوڑا سا اشرف کےقریب ہوئی۔۔۔اس سے بس چند انچ کےفاصلے پر تھی۔۔۔اس کا گہرا اوپن کلیویج بالکل اشرف کی نظروں کے سامنے تھا۔۔۔ بانو :تو۔۔۔تو صاحب آپ کے گھر کا کام مل سکتا ہے کیا مجھے۔۔۔؟؟؟ اشرف :کام۔۔۔وہ۔۔۔وہ تو صباء ہی دے سکتی ہےنہ۔۔۔تم تم اس سے مل لو۔۔۔ بانو تھوڑا آگے ہوئی اوراشرف کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا اچانک سے۔۔۔ صاحب آپ کہہ دو گے توضرور رکھ لیں گی صباء میم صاحب۔۔۔ بانو کے اتنا قریب آنے کی وجہ سے اشرف کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔۔۔وہ بری طرح سے گھبرا گیا۔۔۔اس جیسا شریف اور سیدھاسادھا آدمی اِس بات کی امید نہیں کر رہا تھا کہ کوئی دوسری عورت اس کا ہاتھ ایسے اچانک سے پکڑ لے گی۔۔۔وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔۔۔کہ کہیں کوئی آ تو نہیں رہا۔۔۔کوئی دیکھ تو نہیں رہااور اپنا ہاتھ چھڑانےکی کوشش کرتےہوئے گھبرائی ہوئی آواز میں بولا۔۔۔ اشرف :کوئی آجائے گا۔۔۔بانو۔۔۔ہاتھ چھوڑ دو۔۔۔ بانو مسکرائی۔۔۔اور آہستہ سے بولی۔۔۔کوئی نہیں آئے گا صاحب۔۔۔آپ بتاؤ کرو گے نہ بات میم صاحب سے۔۔۔میرے لیے۔۔۔؟؟؟ بانو نے اشرف کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔صاحب میں آپ کے سارےکام کر دیا کروں گی۔۔۔سارے کام صاحب اور ہر روز آپ کی نظروں کے سامنے بھی رہوں گی۔۔۔ ایسے ہی۔۔۔ بانو نے ایک ادا کےساتھ معنی خیز انداز میں کہا تو اشرف اس کی بات کوسمجھ کر جیسے اور بھی گھبرا گیا۔۔۔ اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولا۔۔۔اچھا اچھا۔۔۔میں کروں گا بات۔۔۔ اشرف نے اپنا ہاتھ بانو سےچھڑایا اور پِھر اُوپر کی طرف بڑھا۔۔۔ بانو :لگتا ہے صاحب میں آپ کواچھی نہیں لگتی۔۔۔اسی لیے آپ مجھے اپنے گھرپر کام نہیں دینا چاہتے۔۔۔ہیں نہ۔۔۔؟؟؟ اشرف :نہیں۔۔۔نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔۔میں بات کروں گا صباء سے۔۔۔ اشرف آگے بڑھاتو پیچھے سے بانو بولی۔۔۔صاحب کل اب آپ خود ہی مجھے بتانا۔۔۔بتاو گے نہ۔ اشرف نے ایک نظر بانو کےمموں اور اُس کے کلیویج پرڈالی اور ہاں میں سر ہلا کرتیزی سے اُوپر چڑھ آیا۔۔۔اس کی آنكھوں کے سامنے سے بانو کے مموں کا نظارہ نہیں جا رہا تھا۔۔۔جب اپنے فلیٹ کے گیٹ پرپہنچا تو بڑی مشکل سے اپنی حالت کو کنٹرول کیا۔۔۔اشرف واپس آیا تو خلاف معمول صباء کا موڈ بہت اچھا تھا۔۔۔صباء کافی خوش لگ رہی تھی۔۔۔آج اس نے اشرف سے کچھ بھی ناٹک نہیں کیا۔۔۔نہ ہی اسے کچھ غلط کہا۔۔۔کیونکہ وہ تو بس اپنے آپ میں ہی میجر کے آنے کی خبرسن کر خوش تھی۔۔۔بڑے اچھے موڈ میں صباء نےکھانا ٹیبل پر پیش کیا۔۔۔دونوں نے مل کر كھانا کھایا۔۔۔اشرف کو بھی صباء کا موڈاچھا لگ رہا تھا۔۔۔جس سے وہ بھی کافی خوش تھا کہ چلو آج صباء کاموڈ تبدیل تو ہوا اتنے دن کےبعد۔۔۔اُس کے لیے تو جیسے خوشی کے جھٹکے لگ رہے تھے نہ۔۔۔پہلے بانو نے اتنے سیکسی انداز میں اس کونوکری دینے کا کہااور ابھی اسی شوک سے باہرنہیں آ پایا تھا تو صباء کااچھا موڈ دیکھ کر پِھر سےشوک لگا تھا۔۔۔لیکن دونوں ہی شوکس اس کے لیے اچھے اور خوشگوارتھے۔۔۔لیکن اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ اس کی بِیوِی کے موڈ کی تبدیلی کیوں ہے۔۔۔اسی کے دشمن۔۔۔میجر کی واپسی کی وجہ سے ہے۔۔۔کھانے کے بعد دونوں بیڈروم میں آ گئے۔۔۔سونے کے لیےاور صباء چینج کر کے لیٹ گئی۔۔۔اشرف بھی پاس آ کر لیٹ گیا۔۔۔صرف اپنے شارٹ میں۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعد اشرف نے ڈرتے ڈرتے اپنا ہاتھ صباءکی چوت پر رکھا اور دھیرےسے بولا۔۔۔ اشرف :تم کہو تو اسے تھوڑا ساچاٹ لوں۔۔۔؟؟؟ صباء کو حیرت بھی ہوئی اور ہنسی بھی آئی۔۔۔کیونکہ وہ سمجھ گئی کہ اس کا شوہر اِس بات کوتسلیم کر چکا تھا کہ اگر اسےصباء کی چوت چودنی ہے توپہلے اس کی چوت کو چاٹناہوگااور آج جب اس کا موڈ صباءکی۔۔۔اپنی ہی بِیوِی کی چوت مارنے کا ہو رہا تھا تو اس نےڈائریکٹ یہ بات نہیں کہی بلکہ۔۔۔ چوت چاٹنے کا کہا۔۔۔تاکہ چوت کو چاٹ کر اسےچوت چودنے کو مل سکے۔۔۔صباء مسکرا دی۔ مسکرا کر اشرف کی طرف دیکھا۔۔۔بہت اچھے موڈ سے۔۔۔ صباء :کیا بہت دِل کر رہا ہے چاٹنےکو۔۔۔؟؟؟ اشرف بھی خوش ہو کر۔۔۔ہاں ہاں۔۔۔بہت دِل کر رہا ہے۔۔۔ صباء :کیوں۔۔۔میرے وہاں سے چاٹ کے کیاملے گا تم کو۔۔۔اچھا لگتا ہے کیا۔۔۔؟؟؟ اشرف :ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔بہت اچھا لگتا ہے تمہارے وہاں چاٹ کے۔۔۔چاٹنے دو نہ پلیز۔۔۔ اشرف صباء کی شلوار کےاُوپر سے ہی اس کی چوت کو سہلاتے ہوئے بولا۔۔۔اس کا لن بھی اکڑ کر صباءکی رانوں سے ٹکرا رہا تھا۔۔۔ صباء :لیکن پہلے تو تم نے کبھی بھی نہیں چاٹا تھا۔۔۔تب اچھا نہیں لگتا تھا کیا تم کو۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ اشرف :وہ۔۔۔تب مجھے پتہ نہیں تھا اِس لذت کا۔۔۔اِس لیے۔۔۔اب پتہ چل گیا ہے تو اِس لیےدِل کرتا ہے۔۔۔ صباء :چاٹنے کے بعد پِھر تمہارا دِل اپنا یہ میرے اندر ڈالنے کی فرمائش بھی کرے گا۔۔۔ہے نہ؟ اشرف ایکسائیٹڈ ہو کر۔۔۔ہاں ہاں اگر تم اِجازَت دو گی تو۔۔۔ صباء اشرف کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ایک ادا سےبولی اور اگر میں اِجازَت نہ دوں تو۔۔؟ اشرف اپنے اکڑے ہوئے لن پرصباء کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے اور اسےانجوئے کرتے ہوئے بولا۔۔۔تو۔۔۔تو جیسے تمہاری مرضی۔۔۔میں نہیں ڈالوں گا۔۔۔جب تک تم نہیں کہو گی۔۔۔جب تک اِجازَت نہیں دو گی۔۔۔ صباء :کیوں۔۔۔کیوں تم کیوں میری ہر بات مانو گے۔۔۔کیا تم میرے غلام ہو۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ اشرف :ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔میں غلام ہی ہوں تمہارا۔۔۔جو کہو گی وہی کروں گا نہ میں۔۔۔ صباء اشرف کے لن کو سہلاتے ہوئے۔۔۔اگر تم میرے غلام ہو تو۔۔۔تو۔۔۔میں تمہاری کیا ہوئی۔۔۔؟؟؟ اشرف اپنے لن کو صباء کےہاتھ میں آگے پیچھےکو جھٹکے دیتے ہوئے اور اُسکے مموں کو سہلاتے ہوئے ۔۔۔ تم۔۔۔تم میری مالکن ہوئی نہ پِھر۔۔۔ہاں ہاں مالکن ہوئی میری۔۔۔اور میں تمہارا غلام۔۔۔ صباء نے اشرف کے لن کواپنی مٹھی میں بھینچا۔۔۔اچھا تم میرے غلام اور میں تمہاری مالکن ہوئی۔۔۔تو پِھر تم مجھے یہ بار بار تم تم کیوں بولتے ہو۔۔۔مالکن کو تو تم نہیں بولا جاتانہ۔۔۔ اشرف اپنے ہاتھ کو صباء کی چوت پر رکھ کر اس کی چوت کو سہلانے لگا۔۔۔اسے بھی شاید اِس غلامی والے کھیل میں مزہ آنے لگاتھا۔۔۔ ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔مجھے تم نہیں کہنا چاہیے۔۔۔ صباء :ہاں تو پِھر مجھے کیا بولو گےتم آئِنْدَہ۔۔۔؟؟؟ اشرف :میں تم کو۔۔۔آپ کو۔۔۔آپ بولوں گا۔۔۔ صباء :آپ۔۔۔اور اور کیا ؟ ؟ ؟ ؟ اشرف :اور۔۔۔اور۔۔۔ہاں۔۔۔اور مالکن بولوں گا۔۔۔یہ ٹھیک ہے نہ۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔ہاں یہ ٹھیک ہے میرے غلام۔۔۔اب بولو کیا کہہ رہے تھے تم۔۔۔؟؟؟ اشرف :میں یہ کہہ رہا تھا مالکن کہ کیا میں آپ کی چوت کوچاٹ لوں مالکن۔۔۔؟؟؟ صباء مسکرا کر۔۔۔لیکن نوکروں اور غلاموں کاتو یہ حق نہیں ہوتا نہ کےوہ مالکن کی چوت کو چاٹیں۔۔۔یہ حق تو کسی اور کا ہوتا ہےنہ۔۔۔ اشرف بھی مزہ لیتے ہوئے ۔۔۔ہاں۔۔۔لیکن غلام آپ کو بہت مزہ دے گا مالکن۔۔۔ صباء کو یہ سن کر اچھا لگا۔۔۔وہ مسکرائی۔۔۔ہاں چاٹ لو۔۔۔لیکن اندر نہیں ڈالنے دوں گی۔۔۔ اُس کے لیے دوبارہ سےاجازت لینی ہوگی تم کوسمجھے۔۔۔ اشرف :جی۔۔۔جی۔۔۔جی مالکن۔۔۔ اشرف اٹھا اور صباءکے پاجامے کو اُسکے ایلاسٹک والی جگہ سےپکڑ کر بولا۔۔۔مالکن اُتار لوں آپ کے پاجامے کو۔۔۔ صباء :کیوں ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ اشرف :مالکن اُتار کر چاٹوں گا نہ ننگی کر کے آپ کی چوت۔۔۔ صباء :اچھا۔۔۔چلو اُتار لو۔۔۔ یہ کہہ کر صباء نے اپنی گانڈکو تھوڑا اُوپر اٹھایااور اشرف نے صباء کا پجامہ نیچے کھینچ کر اُتار دیا۔۔۔ صباء کا نچلا جِسَم بالکل ننگا ہو گیا۔۔۔صباء کی گوری گوری بالوں سے پاک چوت۔۔۔گلابی چوت۔۔۔جسے اشرف کئی بار چودچکا ہوا تھا۔۔۔اس کی آنكھوں کے سامنےننگی ہوگئی۔۔۔ گوری گوری رانیں۔۔۔گوری گوری چکنی ٹانگیں سب کچھ ہی تو ننگا تھاصباء کا۔۔۔اس کی بِیوِی کا۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔اس کی مالکن کا۔۔۔سب کچھ تو ننگا تھا۔۔۔اُس کے سامنے تھا۔۔۔جس کا وہ دیوانہ تھا۔۔۔عاشق تھا۔۔۔غلام تھا۔۔۔اشرف نے اپنے ہاتھ صباء کی گوری گوری چکنی رانوں پررکھے اور اس کی رانوں کو سہلانے لگا۔۔۔اپنا ہاتھ اوپرنیچے پھیرنے لگا۔۔۔اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔۔مزہ آرہا تھا۔۔۔اس نے صباء کی قمیض کوپکڑا اور اوپر کو کرتے ہوئے بولا۔۔۔ اشرف :مالکن اسے بھی اُتار دوں۔۔۔؟؟؟ صباء :ہاں۔۔۔ صباء اٹھی اور اشرف نےصباء کی قمیض بھی اُتار دی اور پِھر اس کی کمر کےپیچھے آ کر صباء کی برا کاہک بھی کھول کر اُسکے سٹریپس صباء کی بانہوں سے نکالے اور برا بھی اُتار دی۔۔۔صباء کا جِسَم۔۔۔ مجسمہ حسن۔۔۔سنگ مرمر سے تراشہ ہوا گورا جِسَم بالکل ننگا تھا۔۔۔اپنے غلام کے سامنے۔۔۔ ایک مالکن کا جِسَم اپنے غلام کے سامنے۔۔۔ننگا تھا۔۔۔اس کی پیاس اور ہوس کوبھڑکا رہا تھااور آج۔۔۔آج تو اشرف بھی محسوس کر رہا تھا کہ اس کا لن پوری طرح سے اکڑا ہوا ہے۔۔۔کافی دن کے بعد اتنا اکڑاؤمحسوس ہوا تھااور وہ سمجھ گیا کہ یہ سب اسی کھیل کا ہی نتیجہ ہے۔۔۔جس میں وہ خود صباء کاغلام بنا ہوا ہےاور صباء اس کی مالکن۔۔۔اسے بھی یہ سب اچھا لگ رہاتھا۔۔۔ خود اپنی بِیوِی کا غلام بننااچھا لگ رہا تھا۔۔۔مزہ آرہا تھا۔۔۔مزہ تو خود ہی آنا تھا جب صباء اُس کے ساتھ اتنا تعاون کر رہی تھی تو۔۔۔تو پِھر ایسے مزے کے لیے اگرغلام بھی بننا پڑے تو کیاہرج تھا اِس میں۔۔۔اشرف دوبارہ سے بیٹھ کر اب صباء کی رانوں کو سہلا رہاتھا۔۔۔ صباء :کیسا لگ رہا ہے تم کو۔۔۔؟؟؟ اشرف :بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ صباء :کس کو بتا رہے ہو۔۔۔؟ ؟؟ اشرف :اوہ۔۔۔بہت اچھا لگ رہا ہے مالکن۔۔۔ صباء :ہممممممممم۔۔۔اور بھی مزہ لینا چاہتے ہوکیا ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ اشرف :جی۔۔۔جی۔۔۔جی مالکن۔۔۔بالکل۔۔۔ صباء :چلو پِھر اپنے کپڑے اتارو۔۔۔ اشرف خوش ہوگیا۔۔۔جلدی سے اٹھا اور اپنے کپڑےاُتار کر ننگا ہوگیا۔۔۔صرف ایک شارٹ ہی تو پہناہوا تھا۔۔۔اگلے ہی لمحے دونوں۔۔۔اشرف اور صباء۔۔۔شوہر اور بیوی۔۔۔غلام اور مالکن۔۔۔دونوں ننگے تھے۔۔۔بالکل ننگے۔۔۔ہر کپڑے سے آزاد۔۔۔ایک ہی کمرے میں۔۔۔ایک ہی بسترپر۔۔۔ایک دوسرے کے سامنے۔۔۔ایک مالکن اور دوسرا غلام۔۔۔ جوکہ شوہر ہو کر بھی غلام بن بیٹھا تھا۔۔۔اشرف جلدی سے ننگا ہو کرصباء کی ٹانگوں کے پاس بیٹھ گیااور پِھر سے اپنا ہاتھ صباءکی رانوں پر رکھا۔۔۔لیکن۔۔۔لیکن صباء نے اپنی ٹانگ پیچھے کھینچی اور اپنا پیرسیدھا اشرف کے سینے پررکھا اور اسے پیچھے کودھکیل دیا۔۔۔اشرف تھوڑا سا گھبرا گیا۔۔۔لیکن تھوڑا پیچھے ہو کربیٹھ گیا۔۔۔ اشرف :کچھ غلط ہوگیا کیا مالکن۔۔۔کوئی گستاخی کر دی کیامیں نے۔۔۔؟؟؟ صباء نے اپنا گورا گورا پیراشرف کے سینے پر ہی رکھےرکھااور آہستہ آہستہ اپنا پیراشرف کے سینے پر پھیرنے لگی۔۔۔اُس کے سینے کو سہلانے لگی۔۔۔اشرف کو بھی مزہ آ رہا تھا۔۔۔صباء کے پیر کا انگوٹھا اشرف کے سینے کوآہستہ آہستہ کرید رہا تھا۔۔۔اسکریچ کر رہا تھا۔۔۔پِھر صباء نے اشرف کے چھوٹے سے نپل کواپنے انگوٹھے سے رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔آہستہ آہستہ انگوٹھے کےناخن سے جیسےاسے چھیلنے لگی۔۔۔اشرف کے منہ سے سسکیاں نکلیں۔۔۔لیکن اسے بہت زیادہ مزہ آ رہاتھا۔۔۔اِس سب کھیل میں۔۔۔ٹانگ پیچھے کو کھینچنے کی وجہ سے صباء کی چوت کامنہ تھوڑا کھل گیا ہوا تھا۔۔۔گلابی چوت کے اندر کا گلابی پن صاف نظر آرہا تھا۔۔۔اشرف کی آنكھوں کے سامنے تھا۔۔۔چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر اس کی چوت کو چھو سکتا تھا۔۔۔لیکن چھونے کی اِجازَت نہیں تھی اور نہ اس میں ہمت تھی۔۔۔اشرف اب صباءکے سامنے دونوں گھٹنوں کےبل بیٹھا ہوا تھااور صباء کے گورے گورےملائم چکنے پیروں کے لمس کا مزہ لے رہا تھا۔۔۔دھیرے دھیرے صباء کا پیرنیچے کو آنے لگا۔۔۔اشرف کے پیٹ سے ہو کرنیچے کو اُس کے لن پر۔۔۔جو اب اکڑا ہوا تھا۔۔۔بالکل سیدھا کھڑا تھا۔۔۔اشرف کو آج خود حیرت ہورہی تھی کہ کیسے یہ بالکل سیدھا کھڑا ہے۔۔۔اتنے دن کے بعد۔۔۔لیکن اشرف کو اچھا لگ رہاتھا۔۔۔صباء نے اپنے پیر کے ساتھ اشرف کے لن کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔آہستہ آہستہ اُس کےساتھ کھیلنے لگی۔۔۔اپنے پیر سے اسے اوپر نیچےکو کرنے لگی۔۔۔کبھی پیر لن کے نیچے لے جاکر اشرف کی بالز کو اپنے پیرسے سہلانے لگتی۔۔۔ان کو چھیڑ چھاڑ کرتی۔۔۔ان سے کھیلتی ۔۔۔ان کو ہلاتی۔۔۔صباء کے پیروں کے ٹچ سے اشرف کا لن اور بھی کھڑا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔صباء نے اپنا دوسرا پیر بھی ساتھ لگایا اور دونوں پیروں کے ساتھ اشرف کے لن کو سہلانے لگی۔۔۔اشرف کو اُس کے دونوں گھٹنوں پر کھڑا ہونے کااشارہ کیااور اشرف فوراً ہی سیدھاہوگیا۔۔۔اب صباء نے اپنے دونوں پیروں کے درمیان میں اشرف کا لن پکڑا اور پیروں کو آگےپیچھے حرکت دیتے ہوئےاشرف کے لن کو سہلانے لگی۔۔۔اشرف کو بہت مزہ آرہا تھا۔۔۔صباء مسکرا کر اشرف کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔ کیسا لگ رہا ہے میرے غلام کو۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ اشرف :اف ف ف ف۔۔۔بہت ہی زیادہ مزا آرہاہے مالکن۔۔۔اور کر دیں پلیز۔۔۔ صباء مسکرائی اور اشرف کےلن کو اپنے دونوں پیروں کےدرمیان رگڑتی رہی۔۔۔اپنے پیروں کو اشرف کے لن پر آگے پیچھے کر رہی تھی۔۔۔جتنی بھی تضحیک اور بےعزتی صباء نے اس کی کی تھی۔۔۔اُس کے بعد جو مزا اب صباءاسے دے رہی تھی۔۔۔اُس کے بدلے میں اشرف سب کچھ بھول چکا تھااور ایسے مزے کے لیے۔۔۔جو اسے آج تک نہیں ملا تھا۔۔۔وہ سب کچھ کرنے کو تیارتھا۔۔۔اسے بہت ہی اچھا لگ رہا تھاصباء کا اُس کے بدن کےساتھ اِس طرح سے کھیلنا۔۔۔ صباء :چلو اپنے اِس پر اپناتھوک گراؤ۔۔۔بہت سارا۔۔۔ یہ کہہ کر صباء نے اپنے پیرپیچھے کر لیے۔۔۔اشرف نے جلدی سے اپنے لن کی ٹوپی پر پیچھے اپنے منہ سے تھوک گرایا اورآہستہ آہستہ اسے اپنے لن پرمل دیا۔۔۔اس کا لن پوری طرح سےچکنا ہوگیا تھا اپنے ہی تھوک سے۔۔۔اب صباء نے اپنے دونوں پیروں کو برابر ملا کر درمیان میں لمبی سی جگہ بنائی۔۔۔چھوٹی سی۔۔۔تنگ سی۔۔۔بالکل چوت کے جیسی۔۔۔اور بولی۔۔۔ صباء :اب اپنا اِس کے اندر ڈال کےآگے پیچھے کرو۔۔۔ اشرف تھوڑا حیران ہوا صباءکے آئیڈیاز پر۔۔۔لیکن پِھر اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں صباء کےپیر پکڑے اور اپنا لن اُس کےپیروں کے درمیان میں داخل کر دیا۔۔۔تھوک سے چکنا ہو رہا ہوا لن آہستہ آہستہ صباء کے پیروں کے درمیان پھسلنے لگا۔۔۔آگے پیچھے۔۔۔اندر باہراور اشرف کو بھی مزا آنے لگا۔۔۔ صباء :آنکھیں بند کر لو اپنی۔۔۔جیسے ہی اشرف نے اپنی آنکھیں بند کر کے اپنے لن کوآگے پیچھے کرنا شروع کیا تواسے اور بھی مزا آنے لگا۔۔۔جیسے وہ سچ میں ہی چوت چود رہا ہو۔۔۔اسے یہ سب اچھا لگ رہا تھا۔۔۔اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اُسکے لن کا پانی ایسے ہی نکل جائے گا۔۔۔لیکن اچانک سے ہی صباء نےاپنے پیر ہٹا لیے۔۔۔اشرف آنکھیں کھول کر صباءکی طرف دیکھنے لگا۔۔۔ صباء :مزہ آیا۔۔۔؟؟؟ اشرف :جی مالکن۔۔۔ صباء :اور بھی مزا چاہیے ہے کیا۔۔۔؟؟؟ اشرف :ہاں۔۔۔ صباء :ہاں۔۔۔کیا ؟ ؟ ؟ ؟ اشرف :ہاں مالکن۔۔۔ صباء :گڈ۔۔۔تو پِھر کتے کی طرح بن جاؤتم۔۔۔ اشرف کے چہرے پر حیرت کے آثار پھیل گئے۔۔۔ صباء :ارے کہا نہیں میں نے کے کتابن جاؤ۔۔۔کتے کی طرح چاروں پیروں پر۔۔۔ اشرف کو بات اب سمجھ میں آئی تو اپنی بےوقوفی پرہنسا اور جلدی سے اپنےگھٹنوں اور ہاتھوں پر جھک گیا۔ سمجھ گیا کہ اب صباء اسےاپنی چوت چاٹنے کو کہے گی۔۔۔جو وہ چاٹنے کو تیار تھا۔۔۔اپنی مالکن کے لیے کتا بننےکو بھی تیار تھا۔۔۔ صباء :اب ذرا پیچھے کو گھوم جاؤ۔۔۔ اشرف نے ایک لمحے کے لیےصباء کی طرف دیکھا اورکچھ نہ سمجھتے ہوئے پیچھے کو گھوم گیا۔۔۔ اب اشرف صباء کے پیروں کےبالکل سامنے جھکا ہوا تھا اوراس کی گانڈ صباء کی طرف تھی اور منہ دوسری طرف۔۔۔اُس کے گورے گورے چوتڑننگے صباء کی طرف تھے۔۔۔نیچے دونوں رانوں کےدرمیان میں اس کی بالز لٹک رہی تھیں۔۔۔صباء اشرف کی گوری گانڈکو دیکھتی رہی۔۔۔پِھر صباء نے اپنا پیر اُوپراٹھایا اور اپنے پیرکے اوپری حصے سے اشرف کی بالز کو چھونے لگی۔۔۔آہستہ آہستہ رگڑنے لگی۔۔۔اِس پوزیشن میں اشرف کواور بھی مزا آ رہا تھا۔۔۔کبھی اپنا پیر تھوڑا اور آگےکو لے جا کر اُس کے لن کوبھی سہلاتی۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعد صباء نےاپنے دونوں پیر اشرف کی گانڈ پر رکھے۔۔۔اُس کے دونوں ہپس پر اورآہستہ آہستہ اُس کے دونوں ہپس کو سہلانے لگی۔۔۔اشرف کو عجیب لگ رہا تھا۔۔۔آہستہ آہستہ صباء نے اپنےایک پیر کے انگوٹھے کواشرف کی گانڈ کی دراڑ میں ڈالا اور اپنے انگوٹھے کواشرف کی گانڈ کی لکیر میں اُوپر سے نیچےکو پھیرنے لگی۔۔۔پُورا نیچے لے جاتی اور پِھراُوپر کو۔۔۔اشرف کو اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ صباء :مزا آیا۔۔۔؟؟؟ اشرف :جی مالکن۔۔۔ صباء :ہمممم۔۔۔ پِھر صباء نے اپنے پیرکے انگوٹھے سے اشرف کی گانڈ کے سوراخ کو چھوا۔۔۔اشرف تو جیسے اچھل ہی پڑا۔۔۔تھوڑا آگے کو ہوا۔۔۔لیکن پِھر واپس ہوگیا۔۔۔واپس اسی پوزیشن میں۔۔۔صباء نے بھی دوبارہ سے اپناپیر اسی جگہ سیٹ کیا اوراپنے پیر کے انگوٹھے کو پِھرسے اشرف کی گانڈ کے سوراخ پر رگڑنے لگی۔۔۔آہستہ آہستہ گول گول چکرمیں۔۔۔اشرف کو بہت ہی عجیب اورالگ ہی لگ رہا تھا۔۔۔لیکن برا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔بلکہ اچھا محسوس ہو رہاتھا۔۔۔زندگی میں پہلی بار کسی نےاس کی گانڈ کے سوراخ کو چھوا تھااور اِس میں جس قدر مزااسے آیا تھا وہ اُس کے خود یقین میں نہیں آ رہا تھا۔۔۔تو بیان کرنا تو دور کی بات ہے۔۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ایسے یہاں پر چھونے میں اتنا مزا آتا ہے۔۔۔ صباء :اب کیسا لگ رہا ہے۔۔۔؟؟؟ اشرف :بہت مزا آرہا ہے۔۔۔مالکن۔۔۔ صباء نے اپنے پیر کو اشرف کی دونوں رانوں کے نیچےسے آگے کو پھیلایا۔۔۔اشرف کے جِسَم کے نیچے سےاور اپنے پیر کو اشرف کے منہ کے قریب لے گئی۔۔۔ صباء :چلو میرے پیرکے انگوٹھے کو اپنے منہ میں لے کر چوسو۔۔۔اچھی طرح گیلا کرو اسے۔۔۔ اشرف نے بنا کوئی اور سوال کیے ہوئے ہی صباء کے پیرکے انگوٹھے کو اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگا۔۔۔اچھے سے اپنے منہ کے اندرہی اس پر تھوک لگاتا اورچوستا۔۔۔صباء نے کچھ دیر کے بعداُس کے منہ میں سے اپنے پیرکے انگوٹھے کو باہر نکالا اوربولی۔۔۔ صباء :اِس پر تھوک گراؤ اپنا۔۔۔ اشرف نے صباءکے انگوٹھے پر اپنا تھوک گرایااور صباء نے اپنا پیر پیچھےکھینچ لیااور دوبارہ سے اپنے پیرکے انگوٹھے کو اشرف کی گانڈ کے چھوٹے سے سوراخ پر پھیرنے لگی۔۔۔تھوک کی وجہ سے چکنا ہوکر صباء کے انگوٹھے کا اوربھی زیادہ مزا آ رہا تھا اشرف کو۔۔۔ایک عجیب سی مستی ہورہی تھی اسے۔۔۔اس کا لن بھی اکڑتا جا رہاتھا۔۔۔گانڈ کے سوراخ کو سہلانے سے مزا آ رہا تھا۔۔۔ نئی ہی لذت مل رہی تھی۔۔۔اپنے چکنے انگوٹھے کو صباءنے اشرف کی گانڈ کے سوراخ پر دبانا شروع کر دیا۔۔۔جیسے اسے اس کی گانڈ کےاندر داخل کرنا چاہ رہی ہو۔۔۔پتہ نہیں کیا ہوا کہ اشرف نےبھی پیچھے کو زور لگا دیا۔۔۔لیکن اس کی گانڈ کےاس چھوٹے سے سوراخ میں صباء کا انگوٹھا داخل نہیں ہو سکا۔۔۔اب صباء ایک پیر سے اشرف کی گانڈ کے سوراخ کو سہلارہی تھی اور دوسرے پیر سےاشرف کے لن اور اس کی بالزسے کھیل رہی تھی۔۔۔اشرف کے منہ سے بھی سسکاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔اشرف کو اپنی گانڈ پیچھےکو پُش کرتے ہوئے دیکھ کرصباء پیچھے نیچے لیٹی ہوئی مسکرائی اور دِل ہی میں بولی۔۔۔گانڈو کہیں کا۔۔۔صباء نے اشرف کی گانڈ پرایک لات ماری اور بولی۔۔۔ صباء :چلو اب دوبارہ پہلےوالی پوزیشن میں آجاؤ۔۔۔اشرف نہ چاہتے ہوئے بھی سیدھا ہو گیا۔۔۔ دوبارہ اپنے گھٹنوں پر آیا۔۔۔صباء کی طرف منہ کر کے۔۔۔اس کا لن پھٹنے والا ہو رہاتھا۔۔۔صباء نے دوبارہ سے اُس کےلن کو اپنے دونوں پیروں کےدرمیان لیا اور اسے پیروں کےبیچ میں رگڑنے لگی۔۔۔آگے پیچھے کو۔۔۔صباء کو اشرف کے لن کے اگلے سرے پر کچھ چمکتاہوا پانی محسوس ہو رہا تھا۔۔۔صباء سمجھ گئی کہ اشرف کے لن سے مزے کے قطرےنکل رہے ہیں۔۔۔ صباء نے اپنے پیرکے انگوٹھے کو اشرف کے لن کی ٹوپی پر رکھا اور آہستہ آہستہ پیر کے انگوٹھے سے لن کی ٹوپی پر لگا ہوا اشرف کا پریکوم صاف کرنے لگی۔۔۔پِھر مسکراتے ہوئے۔۔۔اپنا پیر اُوپر کو لے جانے لگی اور اپنے اسی انگوٹھے کواشرف کے ہونٹوں سے چھودیا۔۔۔اشرف تو ہوس اور مستی میں پاگل ہو رہا تھا۔۔۔وہ تو سب کچھ کرنے کو تیارتھا صرف اور صرف صباءکی توجہ اور اس کی خوشی اور اس کی خوشی کے بدلےمیں اپنا مزہ اورسیٹسفیکشن پانے کے لیے۔۔۔اِس لیے اشرف نے بنا دیکھےاور بنا سوچے صباء کے پیرکا انگوٹھا اپنے منہ میں ڈال لیا اور آہستہ آہستہ اسے چوسنے لگا۔۔۔اسے صباء کے پیرکا انگوٹھا چوسنے کے ساتھ ہی اپنا ہی پریکوم بھی اپنےمنہ میں محسوس ہو رہا تھا۔۔۔کبھی بھی تو ایسے نہیں چکھا تھا اس نے۔۔۔لیکن برا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ دونوں ہاتھوں سے اس نےصباء کے پیر کو پکڑا اور پِھراپنی زبان باہر نکال کر صباءکے پیر کے انگوٹھے کو چاٹنےلگا۔۔۔اچھے سے صاف کرنے لگا۔۔۔چاٹ چاٹ کر۔۔۔عجیب ہی مستی چھائی ہوئی تھی اشرف پر کہ وہ اپنے ہی لن سے نکلنے والےپانی کو چاٹ رہا تھا۔۔۔چوس رہا تھا۔۔۔ صرف اور صرف صباء کو۔۔۔اپنی مالکن کو خوش کرنےکے لیے۔۔۔صباء نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایااور اشرف کے لن کی ٹوپی پر سے نکلتا ہوا اوربھی پریکوم اپنی انگلی سےصاف کیااور بنا اوپر کو اٹھے ہوئے اپنی انگلی اشرف کی طرف بڑھائی۔۔۔اشرف جلدی سے جھکا اورپِھر صباء کی انگلی کو چاٹنےلگا۔۔۔اسے منہ میں لےکر چوسنے لگا۔۔۔اشرف کو اِس طرح سے اپناہُر حکم مانتے ہوئے اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے دیکھ کر صباء بھی بہت گرم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔اس کی چوت بھی گیلی ہورہی تھی۔۔۔پانی چھوڑنے لگی تھی۔۔۔اشرف کی طرف دیکھتےہوئے ۔۔۔اپنی چوت پر اپناہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ صباء :غلام کو کچھ اور بھی چاہیےہے کیا۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ اشرف :جی۔۔۔جی۔۔۔مالکن۔۔۔ صباء :کیا۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ اشرف :اسے چاٹنا چاہتا ہوں مالکن۔۔۔ صباء :کس کو۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ اشرف :اپنی مالکن کی چو۔۔۔چوت کو۔۔۔ صباء :ہمممممممم۔۔۔اور اُس کے بدلے میں کیا کروگے۔۔۔؟؟؟ اشرف ایکسائیٹڈ ہوتے ہوئے ۔۔۔جو۔۔۔جو بھی مالکن بولیں گی۔۔۔ صباء :ہممممممم۔۔۔سمجھ رہے ہو نہ۔۔۔جو بول رہے ہو۔۔۔کہ جو بھی میں کہوں گی۔۔۔ اشرف :جی مالکن۔۔۔اس کے بدلے میں جو آپ بولوگی۔۔۔ صباء :ہمممممممممم۔۔۔لیکن اندر نہیں ڈالنے دوں گی تم کو تمہارا یہ لن ۔۔۔ اشرف کو صباء کے منہ سےلن کا لفظ سن کر بہت عجیب لگا۔۔۔لیکن اچھا بھی لگا کے صباءایسی باتیں بول رہی ہے۔۔۔صباء کے ایسا بولنے سے اُسکے لن کو ایک جھٹکا سا لگاتھااور وہ اور بھی اکڑ گیا تھا۔۔۔ اشرف :جی۔۔۔جی۔۔۔مالکن جیسے آپ کہیں گی۔۔۔جتنا آپ کہیں گی۔۔۔اتنا ہی کروں گا۔ صباء :ہمممممم۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔لیکن تم مالکن کی چوت کیوں چاٹنا چاہتے ہو غلام۔۔۔؟؟؟ اشرف :مالکن۔۔۔غلام کو مالکن کی چوت چاٹنے میں مزہ آتا ہے۔۔۔ صباء :لیکن پہلے تو تم کبھی نہیں چاٹتے تھےاور نہ بتایا تھا کہ مزہ آتا ہےتم کو۔۔۔ اشرف بھی بے شرمی سےبولا۔۔۔پہلے آپ نے مجھے اپنا غلام بھی تو نہیں بنایا تھا نہ۔۔۔ اشرف کو بھی اِس گیم میں مزہ آرہا تھا۔۔۔لیکن وہ نہیں سمجھ پا رہاتھا کہ اِس گیم کے چکر میں وہ سچ میں ہی صباء کا غلام بن گیا ہوا ہےاور کہاں تک جا رہا ہے۔۔۔ صباء :لیکن میری چوت تو بہت گیلی ہو رہی ہے۔۔۔بہت پانی نکل رہا ہے۔۔۔اِس میں سے۔۔۔ اشرف :کوئی بات نہیں۔۔۔یہی پانی تو پینا ہے مجھ کو۔۔۔پینے دو نہ مالکن۔۔۔ صباء :ہمممممممم۔۔۔آجاؤ پِھر۔۔۔لے لو مزہ۔۔۔اپنی مالکن کی چوت کوچاٹنے کا۔۔۔ اشرف جلدی سے صباء کی دونوں ٹانگوں کے درمیان میں آیا۔۔۔صباء نے اپنی دونوں ٹانگیں پھیلا کر اور گھٹنے موڑ کراسے پوری جگہ دے دی ہوئی تھی۔۔۔اشرف جھکا اور صباء کی چوت کے اُوپر کے حصے کوچومنے لگا۔۔۔چوت کے اُوپر کی گدی کو۔۔۔اُس کے بالوں والے حصے کوجو کہ اس وقت بالوں سےبالکل فری تھا۔۔۔آہستہ آہستہ اس حصےکو چومتے ہوئے اپنی زبان باہر نکالی اور اسے چاٹنے لگا۔۔۔ادھر سے اُدھر کو۔۔۔اور اُدھر سے ادھر کو۔۔۔آہستہ آہستہ نیچے کو آیا۔۔۔اور پِھر صباء کی چوت کےاُوپر ایک کس کیااور بالکل اُوپر کے حصے کواپنی زبان کی نوک سے چھیڑنے لگا۔۔۔صباء کی چوت کے دانے کےحصے کو۔۔۔صباء کے جِسَم کو بھی ایک کرنٹ سا لگا۔۔۔صباء کی گلابی چوت کےہونٹ آپس میں ملے ہوئے تھے۔۔۔بالکل ایسے جیسے اِس چوت میں کبھی کوئی لن گیا ہی نہ ہو۔۔۔لیکن یہ تو صرف صباء کوہی پتہ تھا نہ کے اِس چوت میں اشرف کے علاوہ دو اورلن بھی جا چکے ہیں۔۔۔بہت ہی موٹے اور لمبے لن ۔۔۔اشرف کو صباء کی چوت کی لکیر کے نیچے کے حصے پرپانی سا نکلتا ہوا نظر آیا۔۔۔بہت ہی ہلکا ہلکا پانی بہہ رہاتھا۔۔۔بالکل کلین اینڈ کلیئر پانی۔۔۔جوکہ صباء کی چوت سےنکل رہا تھا۔۔۔اس کی چوت کے گرم ہونےکی نشانی اور اس کی چوت کے مزےمیں آنے کی علامت۔۔۔اشرف نے ایک لمحے کے لیےاس بہتے ہوئے پانی کو دیکھااور پِھر اپنی زبان سے اسےلک کر لیا۔۔۔چاٹ لیا۔۔۔ہلکا ترش اور ہلکا میٹھا ہلکانمکین سا ذائقہ اشرف کےمنہ میں گُھل گیا۔۔۔اب دوبارہ سے اسے چاٹنے لگا۔۔۔باہر کو نکلتے ہوئے پانی کو تواچھی طرح سے صاف کر لیااشرف نے۔۔۔اب اس سورس کو دیکھناچاہتا تھا۔۔۔اپنے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے سے صباء کی چوت کے باہر کے لبوں کوکھولا تو صباء کی چوت کامنہ کھل گیا۔۔۔چوت کے اندر کا گلابی گوشت جھانکنے لگا۔۔۔اس گلابی سوراخ میں سے ہلکا ہلکا پانی بہتا ہوا باہر آرہاتھااور کچھ اسی سوراخ کےاندر ہی اکھٹا ہو رہا تھا۔۔۔جیسے صرف اوور فلو والاپانی ہی باہر آرہا ہو چوت سے۔۔۔اشرف نے اِس خوبصورت چوت کو دیکھا تو اپنی ہوس اور لسٹ سے پاگل ہوتے ہوئے اپنے ہونٹ صباء کی چوت کےاوپر رکھ دیےاور آہستہ آہستہ سک کرتےہوئے صباء کی چوت کے پانی کو پینے لگا۔۔۔اُدھر صباء کا بھی مزے سےبرا حال ہو رہا تھا۔۔۔وہ بھی آہستہ آہستہ اپنی چوت کو اُوپر کو اچھالتےہوئے اپنی چوت کو اشرف کےمنہ پر دبا رہی تھی۔۔۔اس کی چوت گرم ہو کر اوربھی پانی چھوڑے جا رہی تھی۔۔۔صباء کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔۔۔لیکن اندر کی پیاس جاگتی جا رہی تھی۔۔۔بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ صباء :میرے غلام مزہ آ رہا ہے کیا۔۔۔؟؟؟ اشرف :اپنی زبان سے صباء کی چوت کو کتے کی طرح لپ لپاتے ہوئے بولا۔۔۔جی مالکن۔۔۔ صباء :تم نے بولا تھا کہ اِس مزےکے لیے کچھ اور بھی کرو گے۔۔۔؟؟ اشرف :آپ حکم دو مالکن۔۔۔ صباء نے اپنی دونوں ٹانگیں اُوپر کو کر کہ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑیں اور پوری اوپر کو کر لیں۔۔ صباء کی گانڈ اور گانڈ کاسوراخ اشرف کے سامنے تھا۔۔۔ صباء :لو اب اسے بھی چاٹو پِھر۔۔۔اشرف نے ایک لمحے کے لیےصباء کی گانڈ کے گلابی سوراخ کو دیکھا۔۔۔زندگی میں پہلی بار اپنی بِیوِی کی گانڈ کے سوراخ کودیکھ رہا تھااور پِھر آگے کو جھک کر اشرف نے اپنی زبان کی نوک صباء کی گانڈ کےسوراخ پر رکھ دی اورآہستہ آہستہ اسے سہلانے لگا۔۔۔صباء نے ایک تیز سسکی کےساتھ اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اشرف نے اب اپنی زبان کو گول گول اس چھوٹے سےسوراخ پر گھمانا شروع کردیااور صباء کا لذت اور مزےسے برا حال ہو رہا تھا۔۔۔اس کی چوت پانی نکال رہی تھی۔۔۔اشرف نے اپنی ایک انگلی صباء کی چوت کےاندر ڈال دی اور آہستہ آہستہ اسے صباءکی چوت میں اندر باہر کرتےہوئے صباء کی گانڈ کےسوراخ کو چاٹنے لگا۔۔۔صباء تیزی سے اپنے آرگزم کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔لیکن اب وہ اپنی چوت کےاندر ایک لن چاہتی تھی۔۔۔چاہے وہ اُس کے شوہراور غلام کا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔لیکن ہو ضرور۔۔۔ صباء :غلام بس۔۔۔ اشرف فوراً ہی پیچھے ہٹ گیا۔۔۔صباءاپنی چوت پر ہاتھ پھیرتےہوئے بولی۔۔۔ غلام۔۔۔اپنا لن اپنی مالکن کی چوت کے اندر ڈالنا چاہتے ہو کیا۔۔۔؟؟؟ اشرف :جی۔۔۔جی۔۔۔جی مالکن۔۔۔ صباء :اور اُس کے بدلے میں کیا کروگے۔۔۔؟؟؟ اشرف اپنے لن کو رگڑتے ہوئے ۔۔۔اپنی مٹھی میں مسلتے ہوئے ۔۔۔جو۔۔۔جو آپ کہو گی وہ کروں گا۔۔۔ صباء :ٹھیک ہے۔۔۔سوچ لو۔۔۔ اشرف :سوچ لیا مالکن۔۔۔ صباء :پِھر تم کو اپنا پانی میری چوت میں نہیں نکالنا بلکہ یہاں میرے سینے پر نکالو گے۔۔۔اپنی مالکن کے مموں پر۔۔۔ اشرف:جی۔۔۔جی مالکن منظور ہے۔۔۔ صباء نے اپنی ٹانگوں کےدرمیان میں اشرف کو لیا۔۔۔اشرف نے فوراً سے اپنا لن صباء کی چوت پر رکھ دیا۔۔۔لیکن صباء نے اُس کے لن کوپکڑ لیا۔۔۔اندر جانے سے پہلے ہی۔۔۔صرف لن کی ٹوپی صباء کی چوت کے سوراخ پر ٹکی ہوئی تھی۔۔۔تھوڑی سی اندر تھی صرف۔۔۔باقی پُورا لن باہر تھا۔۔۔اب تو اشرف کے لیے رکنامشکل ہو رہا تھا۔۔۔ناممکن ہو رہا تھا کہ صباءکی چوت کے سوراخ پر اپنالن رکھا ہوا ہو اور اسے وہ اندر ہی نہ کر پائے۔۔۔ صباء :اتنی جلدی بھی کیا ہے اندرڈالنے کی۔۔۔ابھی تو بات سنی ہی نہیں تم نے۔۔۔ اشرف اپنے لن کو تھوڑا اورآگے کو پُش کرتے ہوئے بولا :جی۔۔۔جی مالکن سن لیا ہے۔۔۔اپنا پانی آپ کے مموں پرنکالوں گا۔۔۔اندر نہیں۔۔۔ صباء ابھی بھی اُس کے لن کو روکے ہوئے تھی اور اندرنہیں جانے دیا تھااور سب سے بڑی بات یہ ہےکہ اپنا پانی نکال کر اسےصاف کرنا پڑے گا تم کواور وہ بھی اپنی زبان سے۔۔۔چاٹ کر۔۔۔ منظور ہے تو ڈال دو اپنا لن میری چوت کے اندر۔۔۔ صباء نے اپنا ہاتھ اپنی چوت پر سے ہٹاتے ہوئے اپنی بات مکمل کر دی۔۔۔اشرف سے رکنا تو مشکل ہورہا تھا۔۔۔وہ ہر بات ماننے کو تیار تھابس اس کا لن صباء کی چوت میں چلا جائے۔۔۔یہ خواہش تھی اس کی۔۔۔اُس کے بدلے میں وہ اپنی ہی منی بھی چاٹنے کے لیے تیارہوگیا تھا۔۔۔ اشرف نے ایک دھکا لگایا اوراپنا لن صباء کی چوت کےاندر اتارتے ہوئے ۔۔۔ٹھیک ہے مالکن۔۔۔جیسے آپ بولو گی۔۔۔ویسا ہی کروں گا۔۔۔صباء کی بھی سسکی نکل گئی۔۔۔آج اسے بھی بہت ہی مزا آرہاتھا۔۔۔اشرف کے ساتھ بھی۔۔۔اس کی چوت تو پوری طرح سے گرم ہوگئی ہوئی تھی۔۔۔اس نے بھی اپنی چوت کواُوپر کی طرف اچھالنا شروع کر دیا۔۔۔اشرف بھی دھانہ دھن دھکے لگاتے ہوئے صباءکو چودنے لگا۔۔۔نیچے جھک کر اس نے اپنےہونٹ صباء کے ہونٹوں پررکھے اور اسے چومتے ہوئے اپنا لن صباء کی چوت کےاندر باہر پھیرنے لگا۔۔۔صباء کو بھی بہت مزا آرہاتھا۔۔۔وہ تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔اپنے پاور فل آرگزم کی طرف۔۔۔اس کی آنکھیں بند ہوچکی تھیں۔۔۔اپنے دونوں پیر اشرف کی گانڈ پر دبائے ہوئے اسے اپنےاندر تک کھینچ رہی تھی۔۔۔اپنی بانہیں اس کی گردن میں ڈالے ہوئے اُس کے سر کواپنے سر پر دبا رہی تھی اور اپنی چوت کو اُوپر کی طرف اچھالتے ہوئے اس کےلن سے چودتی جا رہی تھی اور کچھ ہی دیر میں اس کی چوت نے اپنا پانی نکالناشروع کر دیا۔۔۔اس کا جِسَم ڈھیلا پڑنے لگا۔۔۔چوت کی پکڑ سخت ہوگئی اشرف کے لن پر۔۔۔ٹانگیں بھی اس کی کمر پر کس کر اپنے اُوپر دبا لیااشرف کو اس نےاور اپنی منزل کو پہنچ کر ہانپنے لگی۔۔۔لیکن آج اشرف ابھی تک نہیں جھِڑا تھا۔۔۔اسے خود بھی حیرت ہو رہی تھی۔۔۔لیکن اچھا بھی لگ رہا تھااور مزا بھی آرہا تھا۔۔۔تھوڑا تھوڑا صباء اپنے ہوش میں واپس آ رہی تھی۔۔۔اشرف کے چہرے کے بدلتےہوئے آثار دیکھے تو اسےیاد کروانے لگی۔۔۔ صباء :ہلکی سی سرگوشی میں۔۔۔غلام۔۔۔ اشرف آنکھیں بند کئے ہوئے ۔۔۔جی مالکن۔۔۔ صباء :یاد ہے نہ۔۔۔اندر نہیں باہر۔۔۔میرے مموں پر۔۔۔ اشرف کو جیسے یاد آیا۔۔۔وہ بھی تو فارغ ہونے کےقریب پہنچ رہا تھا۔۔۔جلدی سے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔اس کا لن صباء کی چوت کے گاڑھے پانی سے سفید ہورہا تھا۔۔۔صباء کی چوت کا چکنا پانی اُس کے پورے لن اور لن کےاُوپر کے بالوں پر لگا ہوا تھا۔۔۔اس کا لن اور بھی چکنا ہورہا تھا۔۔۔اشرف صباء کے اُوپر تھوڑاچڑھ آیااور اپنا لن رگڑنے لگا۔۔۔اپنی مٹھی میں لے کر۔۔۔ صباء کے مموں کے اُوپراور کچھ ہی لمحوں کے بعداُس کے لن سے منی۔۔۔سفید سفید گاڑھی گاڑھی منی نکل کر صباء کے سینےکے ابھاروں پر گرنے لگی۔۔۔صباء کے مموں کے اُوپر۔۔۔ قطرے ہی قطرے۔۔۔کہیں تھوڑی کہیں زیادہ۔۔۔سفید سفید۔۔۔اُس کے اپنے لن سے نکلی ہوئی منی۔۔۔پہلی بار اپنی بِیوِی کی چوت یا کنڈم کی بجائے۔۔۔اُس کے جِسَم۔۔۔اُس کے مموں پر گری تھی۔۔۔اشرف کا لن اُس کے ہاتھ میں جھٹکے کھا رہا تھا۔۔۔صباء نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اسےجیسے نچوڑنے لگی۔۔۔آخری قطرہ بھی نکالنے کےلیے۔۔ اشرف کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے۔۔۔اسے اپنے سحر میں پوری طرح سے جکڑتے ہوئے۔۔۔ اب تو بس جیسے قطرہ قطرہ ہی آگے سوراخ سے نکل رہاتھا۔۔۔دوسرے ہاتھ کی انگلی سے اشرف کے لن کے سوراخ سے اس کی منی کا قطرہ صاف کیااور پِھر اپنی اسی انگلی کواپنے منہ میں لے جانے لگی۔۔۔اشرف کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے۔۔۔اسے صاف صاف نظر آیا۔۔۔اشرف کی آنکھیں پھیل رہی تھیں۔۔۔حیرت سے۔۔۔شاید خوشی سےاور پِھر صباء نے اس کی آنكھوں کے سامنے ہی اُس کےلن سے نکلی ہوئی منی کواپنی زبان سے چاٹ لیااور اپنی انگلی کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔ایسا پہلی بار کیا تھا صباء نےاشرف کے ساتھ۔۔۔اشرف نے کبھی بھی یہ منظرنہیں دیکھا تھا۔۔۔اسے عجیب لگ رہا تھا۔۔۔لیکن بہت ہی اچھا بھی لگ رہا تھا۔۔۔پِھر اپنی انگلی باہر نکالی اوردوبارہ سے اشرف کے لن کےسوراخ پر سے اب کا آخری منی کا قطرہ لیا اور اپنی انگلی اشرف کے منہ کی طرف بڑھا دی۔۔۔اشرف تھوڑاجیسے گھبراتے ہوئے کبھی صباء کی طرف دیکھتا اورکبھی صباء کی انگلی پر چمکتے ہوئے اپنی منی کےسفید قطرے کو۔۔۔صباء کی ہلکی سی سرگوشی گونجی۔۔۔غلام۔۔۔اور اشرف اس آواز کے اندرموجود جادو کے اثر سےجیسے نیچے کو جھکنے لگا۔۔۔صباء کی انگلی کی طرف۔۔۔اس انگلی پر لگی ہوئی اپنی ہی منی کی طرف اور پِھر نیچے جھک کر اپنی زبان باہر نکالی اور اپنی آنکھیں صباء کی آنكھوں سےملا کر اس کی انگلی پر لگےہوئے اپنی ہی منی کے قطرے کو چاٹ لیااور پِھر اپنی آنکھیں بند کرکے اس انگلی کو اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔۔۔بہت ہی عجیب سا لگ رہا تھا۔۔۔یہ ذائقہ۔۔۔اپنی ہی منی کا ذائقہ۔۔۔لیکن۔۔۔ خود کو روک نہیں پا رہا تھا۔۔۔چند لمحوں کے بعد صباء نےاپنی انگلی اشرف کے منہ سے کھینچی اور اسی انگلی سے اپنے مموں اور سینے پرگری ہوئی اشرف کی منی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ صباء :غلام۔۔۔ اشرف نے صباء کی طرف دیکھا اور۔۔۔اور بالکل ہی خالی دماغ کےساتھ۔۔۔بالکل بھی کچھ نہ سوچتےہوئے ۔۔۔نیچے جھک گیا۔۔۔صباء کے سینے پر۔۔۔اپنی منی پر۔۔۔اور پہلے قطرے کو صباء کےسینے پر سے اپنی زبان سےچاٹ لیا۔۔۔بہت عجیب لگ رہا تھا۔۔۔لیکن جس قدر مزہ آج صباءنے اسے دیا تھا وہ اس مزےکو کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔آئِنْدَہ کے لیے اِس سلسلے کوختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔جاری رکھنا چاہتا تھا۔۔۔جیسے ہی منی کا پہلا قطرہ اس نے اپنی زبان سے چاٹا۔۔۔سب شرم اور ہچکچات ختم ہو گئی۔۔۔جو کچھ بھی برا لگ رہا تھاسب ختم ہوگیا۔۔۔بس دماغ کچھ سوچ رہا تھاتو صرف یہ کہ کیسے صباءکو خوش کرنا ہے۔۔۔کیسے اپنی مالکن کا حکم مان کر اسے خوش کرنا ہے۔۔۔بس اسی چکر میں دھیرےدھیرے سے اپنی ہی منی چاٹنے لگا۔۔۔صباء کے سینے پرسےاور اُس کے نپل کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔تھوڑی سی منی چاٹ کر صاف کی اور پِھر اب صرف اُس کے مموں کو چوس رہاتھا۔۔۔آہستہ آہستہ اپنی ہی منی کواُس کے سینے اور ان مموں پرمل رہا تھا۔۔۔اپنی منی سے اُس کے جِسَم کو چکنا کر رہا تھا۔۔۔اپنے چکنے سینے پر صباء نےاشرف کا چہرہ جھکا لیا۔۔۔اُس کے گال کو اپنے سینے پررکھ لیااور آہستہ آہستہ اُس کے سر کو ادھر اُدھر رگڑنے لگی۔۔۔اس کے چہرے پر ملی ہوئی اس کی اپنی ہی منی اب اُس کے گالوں پر لگ رہی تھی۔۔۔کچھ ہی دیر میں صباء نےاسے چھوڑا تو اس نے اپناچہرہ اوپر اٹھا کر صباء کودیکھا تو اُس کے گالوں پرصباء کے سینے پر لگی ہوئی اس کی اپنی منی لگ چکی ہوئی تھی۔۔۔چمک رہی تھی۔۔۔صباء کو بہت ہی اچھا لگا۔۔۔ایکدم سے ایک فاتحانہ چمک اور مسکان اُس کے چہرے پر پھیل گئی۔۔۔اُس کے سر کو نیچے کوجھکایا اور اپنے ہونٹ اُسکے گالوں پر رکھ کر اسےچوم لیااور پِھر اُس کے گال کو ہی چاٹنے لگی۔۔۔اشرف کے گال پر لگی ہوئی۔۔۔اشرف کی اپنی ہی منی کوچاٹ لیا۔۔۔کچھ ہی دیر کی مستیوں کےبعد دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں ہی سو گئے۔۔۔ نڈھال ہو کر۔۔۔سیٹسفائی ہو کر۔۔۔شانت ہو کر۔۔۔اشرف یہ سوچتے ہوئے کہ کتنا مزا دیا ہے اسے صباء نے۔۔۔جو آج تک پہلے کبھی نہیں ملا تھااور صباء یہ سوچتی ہوئی کہ کتنی گندی بنا دیا ہے اس کو میجر اور دینو نے مل کر۔۔۔لیکن اپنی اپنی جگہ دونوں ہی پوری طرح سےسیٹسفائی تھے۔۔۔اس سے جو کچھ انہوں نےکیا تھا۔۔۔یا جو کچھ ہوس نے ان سےکروایا تھا۔۔۔اگلی صبح اشرف اٹھا توبہت خوش تھا۔۔۔رات اُس کے من کی مراد جوپوری ہوگئی تھی۔۔۔جی بھر کر۔۔۔اتنے دن کے بعد اپنی ہی بِیوِی کو جو چود لیا تھا۔۔۔تھوڑی ذلت تو برداشت کرنی پڑی تھی لیکن جو مزا ملاتھا اُس کے بدلے میں یہ ذلت تو کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔یہی اشرف سوچ رہا تھا۔۔ اُس کے منہ میں ابھی بھی اپنی منی کا کچھ عجیب ساٹیسٹ آ رہا تھا۔۔۔جوکہ اسے رات کی ساری غلامی کو یاد کروا رہا تھا۔۔۔لیکن اسے کچھ بھی برا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔خود ہی اٹھا۔۔۔صباء کو دیکھا جوکہ ابھی بھی ننگی ہی سو رہی تھی بیڈ پر۔۔۔وہ بھی تو پوری طرح سےسیٹسفائی ہوگئی تھی نہ رات کو۔۔۔اشرف نے مسکرا کر صباء کودیکھا اور اُس کے منہ سےنکلا۔۔۔ اشرف :مالکن۔۔۔میری حَسِین و جمیل مالکن۔۔۔ اشرف باتھ روم کی طرف چلا گیا۔۔۔وہاں سے فارغ ہو کر وہ کچن میں گیا اور جلدی سے صباءکے لیے چائے بنائی اور چائے لا کر صباء کے پاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔پِھر بیڈ سے نیچے بیٹھ گیا۔۔ صباء کے پیروں کی طرف۔۔۔صباء کے ایک گورےگورے پاؤں کو اپنے سفیدہاتھوں میں پکڑا اور اس پرجھک کر اپنے ہونٹ رکھ کراسے چومنے لگا اور ساتھ ہی صباء کو آواز دینے لگا۔۔۔ اشرف :مالکن۔۔۔مالکن۔۔۔اٹھ جائیں اب۔۔۔چائے تیار ہے آپ کے لیے۔۔۔ صباء نے آنکھیں ملتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں اور ایک زور کی انگھرئی لی۔۔۔اپنے شوہر کو اپنے پیروں کو چومتے ہوئے دیکھا۔۔۔تو مسکرا دی اور بولی۔۔۔ صباء :یہ کیا کر رہے ہو ؟ ؟ ؟ اشرف :اپنی مالکن کے پیروں کو پیارکرتے ہوئے مالکن کو جگا رہاہوں۔۔۔ صباء نے اپنا پیر پیچھےنہیں کھینچا اور مسکرانے لگی۔۔۔پِھر تھوڑی سی سیدھی ہوکر بیڈ کی بیک سے ٹیک لگائی اور اپنی چائے کا کپ اٹھا کر سپ لینے لگی۔۔۔ صباء :کیسے لگا تھا کل رات کو ؟ ؟؟ ؟ اشرف :بہت اچھا۔۔۔بہت مزا آیا تھا۔۔۔ صباء :میں تو سمجھ رہی تھی کہ تم کو برا لگے گا۔۔۔کہ میں تمہارے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کر رہی ہوں۔۔۔ اشرف دوبارہ سے صباء کےپیر کے تلوے کو چوم کر بولا۔۔۔نہیں نہیں قسم سے بہت مزاآیا تھا مجھے آپ کا غلام بن کر۔۔۔اسی لیے تو ابھی بھی آپ کو مالکن بول رہا ہوں۔۔۔ صباء اسے بےعزت کرتے ہوئے ۔۔۔تم تو پِھر پکے پکے غلام بن گئے ہو میرے۔۔۔ اشرف مسکرایا۔۔۔ہاں بالکل۔۔۔ صباء نے اسے بھی چائے پینےکا اشارہ کیااور پِھر دونوں ہی چائے پینےلگے۔۔۔ صباء :پِھر تو تم کو گھر کے باقی کام بھی کرنے پڑیں گے میرے لیے۔۔۔مالکن تو گھر کے کام نہیں کرتی ہوتی نہ۔۔۔ صباء نے ایک ادا کے ساتھ کہا۔۔۔تبھی اشرف کو بانو کا خیال آیا۔۔۔اف ف ف ف۔۔۔ کتنا سیکسی انداز تھا اس کا۔۔۔کیسے اپنے مموں کوشو کر رہی تھی۔۔۔اگر وہ گھر پر روزانہ آنے لگی تو پِھر تو یہ نظارے روز روزمل سکتے ہیں اور صباء کا بھی تو نہیں پتہ نہ کے کب کیسا موڈ ہو جائےاس کا۔ رات پتہ نہیں کیا ہوا تھااسے جو اتنے دنوں کے بعداتنے اچھے موڈ میں تھی۔۔۔چلو بات تو کروں اِس سےبانو کے لیے۔۔۔ اشرف صباء کی ننگی رانوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔ویسے مالکن آپ کو کام کرناتو نہیں چاہیے گھر کا۔۔۔تھک جاتی ہوں گی سارا دن کام کر کے۔۔۔ صباء :ہاں۔۔۔تو پِھر ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ اشرف :تو پِھر کیوں نہ آپ کے لیےایک نوکرانی رکھ لی جائے۔۔۔جو آپ کا سارا گھر کا کام کردیا کرے۔۔۔ صباء کے دماغ میں فوراً سےآیا کہ لگتا ہے کے بانو نے اپناکھیل اسٹارٹ کر دیا ہے۔۔۔اُس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔ صباء :ہاں آئیڈیا تو برا نہیں ہے۔۔۔لیکن کس سے کروایں گے گھرکا کام۔۔۔؟؟؟ اشرف تھوڑا گھبراتے ہوئے اور ججھکتے ہوئے ۔۔۔وہ ہے نہ جو مولوی صاحب کے گھر بھی کام کرتی ہے۔۔۔بانو۔۔۔اس سے نہ کروا لیں۔۔۔ صباء نے اشرف کی طرف دیکھا۔۔۔بانو۔۔۔؟ ؟ ؟وہ۔۔۔وہ پتہ تو ہے تم کو کہ کیسی عورت ہے۔۔۔اس رات نہیں دیکھا تھا کہ کیسے میجر صاحب کے فلیٹ میں جا رہی تھی۔۔۔نہیں نہیں۔ وہ نہیں۔۔۔ اشرف فوراً سے۔۔۔ارے نہیں۔۔۔جو بھی کرتی پھیرے ہمیں کیا اِس بات سے۔۔۔ہم نے تو بس اپنے گھر کا کام کروانا ہے نہ بس۔۔۔کام کرے گی اور چلے جایاکرے گی بس۔۔۔پِھر جہاں بھی جاتی رہےہمیں کیا اِس سے۔۔۔ویسے مولوی صاحب کے گھربھی تو کام کرتی ہے نہ۔۔۔اگر کچھ ایسی ویسی بات ہوتی تو مولوی صاحب اسےرہنے دیتے کیا اپنے گھر میں۔۔۔؟؟؟ صباء دِل ہی دِل میں ہنسی۔۔۔بڑا پکا وار کیا ہے اس کمینی نے اِس پر۔۔۔اچھا دیکھ لو۔۔۔جیسے تم مناسب سمجھو۔۔۔ اشرف :چلو ٹھیک ہے بس۔۔۔میں دینو سے کہوں گا وہ اسے بھیج دے گا تمہارے پاس تو تم بات کر لینا اس سے۔۔۔ صباء :چلو ٹھیک ہے۔۔۔اب میں ناشتہ بناتی ہوں جاکر۔۔۔ چائے کے بعد صباء نے ناشتہ بنایا اور اشرف تیار ہو کرناشتہ کر کے ڈیوٹی کے لیےنکل گیا۔۔۔آج اس کی لاسٹ مارننگ تھی اور پِھر نائٹ ڈیوٹی اسٹارٹ ہونی تھی۔۔۔صباء کی رات کی چُودائی کے نشے میں جھومتا ہواجیسے ہی اشرف نیچے اترا۔۔۔نیچے اسے دینو کرسی پربیٹھا ہوا نظر آیا۔۔۔دینو نے اشرف کو دیکھا توعجیب سی مسکراہٹ اُس کےچہرے پر پھیل گئی۔۔۔سوچنے لگا۔۔۔کتنا بے وقوف ہے۔۔۔اسے پتہ بھی نہیں ہے کے اسکی بِیوِی مجھ سے چُدوا رہی ہے آج کل۔۔۔دینو نے اٹھ کر اشرف کوسلام کیا۔۔۔تبھی اشرف کو یاد آیا کہ اس نے بانو کا اسے کہنا تھا۔۔۔ اشرف :دینو۔۔۔یار تم بانو کو ذرا اپنی میم صاحب کے پاس اوپر بھیج دینا کوئی بات کرنی ہےانہوں نے کام کے لیے۔۔۔ دینو لا پروائی سے بولا۔۔۔صاحب جی۔۔۔پتہ نہیں مجھے یاد رہے یا نہ رہے۔۔۔وہ ابھی اپنے فلیٹ میں ہی ہے آپ اسے خود ہی کہتےجاؤ ذرا جا کر۔۔۔ اشرف نے دینو کی طرف دیکھا اور پِھر کچھ سوچ کراُس کے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا جوکہ ایک ٹرن لے کردوسری طرف کی گیلری میں تھا۔۔۔اشرف نے جا کر دینو کادروازہ نوک کیا۔۔۔ چند لمحوں کے بعد بانو نےدروازہ کھولا۔۔۔اشرف کا تو دِل ہی اچھل کرحلق میں آگیا۔۔۔دروازہ کھلا تو بانو سامنےکھڑی تھی۔۔۔لیکن بہت ہی سیکسی اندازمیں۔۔۔اس کے جِسَم پر کوئی ڈوپٹہ نہیں تھا۔۔۔اس نے جو قمیض پہنی ہوئی تھی وہ بہت ہی زیادہ کھلےگلے کی تھی۔۔۔باہر تو ایسے نہیں پہنتی تھی اِس سے کچھ کم ہی ہوتا تھاڈیپ گلا لیکن گھر پر ہونےکی وجہ سے شاید اس نے اتنا ڈیپ گلا پہنا ہوا تھا۔۔۔گلا اتنا ڈیپ تھا کہ اُس کےممے آدھے اس میں سے باہرنکلے ہوئے تھے۔۔۔قمیض تھی بھی سلییویلیس جس میں سے اسکی سانولی بانہیں ننگی ہورہی تھیں۔۔۔قمیض کے تِین تِین انچ چوڑے سٹریپس اُس کےشولڈرز پر تھےاور ان کے نیچے سے اسکی کالی رنگ کی برا کے سٹریپس بھی سلپ ہو کراُس کے شولڈر پر نظر آرہے تھے۔۔۔نیچے بانو نے ایک شارٹ پہناہوا تھا جو کہ اُس کے نیس تک تھا۔۔۔اشرف کی نظریں تو بس اُسکے مموں پر ہی جم گئی ہوئی تھیں۔۔۔وہ ان میں ہی کھو گیا تھااور کچھ بول ہی نہیں پا رہاتھا۔۔۔بانو نے کچھ بھی پوچھے بناہی اشرف کا ہاتھ پکڑا اوراپنی طرف کھینچ کر بولی۔۔۔ صاحب اندر آجاؤ آپ۔۔۔ اشرف جیسے خیالوں کی دنیا سے جاگا۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔میں اِس لیے آیا تھا کہ۔۔۔ بانو نے دوبارہ سے اشرف کاہاتھ کھینچا اور بولی۔۔۔پہلے آپ اندر آجاؤ پِھر بات کرنا نہ۔۔۔پہلی بار آپ میرے گھر پر آئےہو تو آپ کو کیسے باہر سےجانے دوں صاحب۔۔۔ اشرف نے ایک نظر مڑ کردیکھا اور پِھر اپنے قدم آگےبڑھا دیے۔۔۔بانو اسے اپنے فلیٹ کے اندرلے آئی۔۔۔اور اسے صوفہ پر بٹھایااور خود بھی اُس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔۔ بانو:جی صاحب اب بتائیں کیاکہہ رہے تھے آپ۔۔۔؟؟ اشرف :وہ میں یہ کہنے آیا تھا کہ۔۔۔میں نے صباء سے بات کی ہےوہ مان گئی ہے۔۔۔تم جا کر اس سے مل لینا وہ تم کو کام پر رکھ لے گی۔۔۔ بانو نے خوشی سے اشرف کابازو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا اور بولی۔۔۔بہت بہت شکریہ ۔۔۔ صاحب۔۔۔آپ نے میرے پر مہربانی کی ہے۔۔۔میں آپ کا احسان ضرور چکاؤں گی۔۔۔جیسے بھی آپ کہو گے۔۔۔ آخر کار بانو جیسی رنڈی سےاور امید بھی کیا کی جاسکتی تھی۔۔۔اشرف تھوڑا گھبرا گیا۔۔۔بانو نے جیسے اشرف کا بازوپکڑا ہوا تھا اس سے اس کاسینہ اُس کے بازو سے ٹچ ہورہا تھا۔۔۔اشرف کی نظریں اپنے قریب بیٹھی ہوئی بانو کے آدھ ننگےمموں پر ہی ٹِکّی ہوئی تھیں۔۔۔پینٹ میں اس کا لن تھوڑااکڑ رہا تھا۔۔۔اشرف سوچ رہا تھا۔۔۔بہت ہی ہوٹ اور سیکسی ہےیہ کمینی بانو۔۔۔اگر روز روز گھر پر نظر آئےگی تو میرا تولن جھٹکے کھاتا ہی رہے گا۔۔۔ بانو :تھوڑا پیچھے ہو کر اپنا سینہ تھوڑا باہر نکال کر بولی۔۔۔صاحب بتاؤ اب میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں۔۔۔؟؟ اشرف نے ایک نظر دوبارہ اُس کے مموں کو دیکھا اورپِھر کھڑا ہو گیا۔۔۔نہیں نہیں کچھ نہیں۔۔ بس میں جا رہا ہوں۔۔۔مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ بانو نیچے صوفہ پر ہی بیٹھی رہی۔۔۔ایسے اشرف کی نظر اور بھی اندر تک جا رہی تھی بانو کےگلے میں اور اُس کے مموں کے درمیان۔۔۔بیٹھے بیٹھے ہی بانو نے ایک بار پِھر اشرف کا ہاتھ پکڑ کراس کا شکریہ ادا کیا اور پِھراشرف باہر کو نکل گیااور بانو بھی دروزاے تک آئی۔۔۔گیلری سے مڑتے ہوئے اشرف نے پیچھے دوبارہ دیکھا توبانو ابھی بھی دروازے پرکھڑی ہوئی تھی اور اشرف کو دیکھتے ہوئے دیکھ کر اس نے مسکرا کراپنا ہاتھ ہلا دیا بائے کہتےہوئے ۔۔۔اشرف جلدی سے وہاں سےنکلا اور باہر کے گیٹ کی طرف بڑھا۔۔۔ دینو نے پکارا۔۔۔صاحب ہوگئی بات بانو سے۔۔۔ اشرف تھوڑا گھبرا گیا کہ وہ اس کی بِیوِی کے ساتھ ایسےبیٹھ کر آیا ہے۔۔۔ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔وہ اپنے فلیٹ کاکام کروانے کے لیے کہنا تھااسے اب جا کر صباء سے مل لے گی۔۔۔ یہ کہہ کر اشرف بِلڈنگ سےباہر نکل گیا۔۔۔سارے راستے ہی اشرف بانواور صباء کے بارے میں ہی سوچتا رہا۔۔۔آج تک تو اس نے بانو کوہمیشہ ہی نہ پسند ہی کیا تھا۔۔۔لیکن بات وہی ہے نہ کے جب کوئی عورت۔۔۔وہ جیسی بھی ہو۔۔۔کسی بھی مرد کو تھوڑی سی لفٹ کرواتی ہے تو اس مرد کے لیے پِھر خود کوکنٹرول کرنا مشکل ہو جاتاہے۔۔۔وہ لازمی اس کی طرف اٹریکٹ ہوتا ہے۔۔۔اُس کے اندر سیکس اپیل اسے نظر آنے لگتی ہے۔۔۔یہی حال بےچارے اشرف کاہو رہا تھا۔۔۔جب بانو نے اسے لفٹ کروائی اور اسےاپنے جلوے دکھائے تو اسےبھی اُس کے اندر دلچسپی پیدا ہونے لگی تھی۔۔۔اسے بھی اس کا جسم اورمموں کے نظارے اچھے لگنے لگےتھے۔۔ وہ اپنی نظروں کو کنٹرول نہیں کر سکا تھا۔۔۔نہ ہی اپنے دماغ کو جو باربار۔۔۔اور ابھی تک اسی کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔۔۔آنکھیں بند کرتا تو بانو کی قمیض میں سے جھانکتے ہوئے اُس کےممے نظروں کے سامنے آ جاتےاور ایک سمائل اُس کےچہرے پر پھیل گئی۔۔۔وہ خود سے ہی بولا۔۔۔اگر صباء نہیں تو۔۔۔بانو ہی سہی۔۔۔جب وہ خود اتنی لفٹ کروا رہی ہے تو میں کیوں پیچھے ہٹوں۔۔۔مجھے بھی تو اِس موقعے کافائدہ اٹھانا چاہیے نہ۔۔۔اشرف نے خود کو اپنےفیصلے پر مطمئن کر لیا۔۔۔لیکن ایک خوف تھا اس کےاندر صباء کا بھی جس کی وجہ سے وہ بانو سے بھی ڈررہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد بانو جب کام کے لیے نکلی تو وہ صباءکے فلیٹ پر گئی۔۔۔صباء نے اسے دیکھا تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگیں۔۔۔ صباء :ہو گیا نہ تیرا کام بھی۔۔۔ بانو :ابھی کہاں میم صاحب۔۔۔بہت ہی شرمیلے ہیں آپ کےاشرف صاحب بھی۔۔۔سب کچھ سامنے ہو بھی توبس دیکھتے ہی ہیں ہاتھ نہیں لگاتے کسی چیز کو بھی۔۔۔ صباء :ہاں تو اور کیا تیرے دینو کی طرح۔۔۔جو میری بوٹیاں نوچ نوچ کےکھاتا ہے۔۔۔بہت ہی ظالم انسان ہے وہ موٹا تو۔۔۔پتہ نہیں تو کیوں نہیں اس سے چدواتی۔۔۔ بانو مسکرائی۔۔۔بس ایسے ہی میم صاحب۔۔۔لیکن ایسا بھی نہیں کہ کبھی بھی نہیں کرواتی اس سےاب۔۔۔کبھی کبھی تو ابھی بھی کرنے دیتی ہوں۔۔۔لیکن ہے وہ ایسا ہی۔۔۔پاگل اور بے وقوف۔۔۔ہمیشہ ہی ایسے ہی چودتا ہےپاگلوں کی طرح سے۔۔۔اتنی بار سمجھایا ہے اسےمگر باز ہی نہیں آتا۔۔۔پتہ نہیں کیوں ہوس ختم ہی نہیں ہوتی اس کی۔۔۔جو چرس پیتا ہے تو پِھرایسی حرکتیں ہی کرے گا نہ۔۔۔نشہ چڑھ جاتا ہے دماغ پر توپِھر کچھ نہیں سمجھتا۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔لیکن اُس کے اسی وحشی پن میں ہی تو مزہ آتا ہے۔۔۔ بانو صباء کے ممے پر چٹکی کاٹتی ہوئی بولی۔۔۔لگتا ہے کے آپ کا دِل پِھر سےمچل رہا ہے دینو کے لن کےلیے۔۔۔ صباء ہنس پڑی۔۔۔ بانو :کہو تو بھیجوں اسے آپ کےپاس۔۔۔؟؟ صباء :نہیں نہیں یار۔۔۔اب روز روز کیسے اسے بلاسکتی ہوں اپنے فلیٹ پر۔۔۔ بانو مسکرائی اور صباءکو چھیڑتے ہوئے بولی۔۔۔تو پِھر اپنی اسی کوٹھڑی میں چلی جاؤاور چُدوا لو دینو سے۔۔۔جہاں پہلے ملتی ہوتی ہو اس سے۔۔۔ صباء نے بھی مذاق میں اُسکے بازو پر ایک ہلکا سا تھپڑمارا۔۔۔بڑی کمینی ہے تو۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔سچی بات ہے میم صاحب۔۔۔زندگی کا مزہ لینے کے لیےکمینی تو ہونا ہی پڑتا ہے۔۔۔ ورنہ سیدھی سیدھی زندگی گزارنے میں کیا مزہ ہے۔۔۔ویسے اگر آپ کا دِل کر رہا ہےتو آپ نیچے چلی جاؤ۔۔۔میرا فلیٹ خالی ہی ہے۔۔۔دینو کا اِس وقت تھوڑاریسٹ کا ہی ٹائم ہے سب صاحب لوگوں کے جانے کےبعد۔۔۔وہ بھی فلیٹ میں ہی ہوگا۔۔۔سویا ہوا۔۔۔آپ جانا چاہو تو چلی جاؤ۔۔۔میرے فلیٹ پر کوئی بھی نہیں آتااور ہاں دروازہ بھی کھلا ہی ہوگا۔۔۔وہ کنڈی لگا کر نہیں سوتا۔۔۔سیدھی اندر ہی چلی جانا۔۔۔لیکن اندر جا کر کنڈی ضرورلگا لینا۔۔۔بانو ہنسی۔۔ صباء :لیکن اِس وقت۔۔۔اگر کسی نے دیکھا تو۔۔۔ بانو:کیا میم صاحب اِس وقت کیاہے۔۔۔آخر کو اب وہ آپ کا شوہر ہے۔۔۔آپ نے وعدہ کیا تھا میرےسے کہ اس کی بِیوِی بن کے دکھاؤ گی تو پِھراپنے شوہر کے پاس جانے اوراس سے چدوانے میں کوئی ٹائم کا کیا مطلب میری جان۔۔۔ بانو کی باتیں سن کر صباءگرم ہونے لگی اور اُس کے اندر عجیب سی حالت ہونے لگی۔۔۔چہرہ بھی شرم سے لال ہونےلگا۔۔۔ صباء :یار تم نے تو سچ مچ ہی مجھے اس کی بِیوِی بنا دیاہے۔۔۔حالانکہ ایسا ہے تو نہیں نہ۔۔۔ بانو صباء کو چھیڑتے ہوئے۔۔۔تو آپ بولو تو آپکا اس سےنکاح ہی نہ پڑھا دوں۔۔۔پھر اصلی بِیوِی بن جانا اسکی۔۔۔اور میری سوتن۔۔۔مل کر مزے کیا کریں گی اس سے۔۔۔ صباء :بانو تو بھی نہ بس۔۔۔ بانو :کیوں میم صاحب دینو سے چدواتے ہوئے آپ کو کوئی شرم نہیں آتی لیکن اس جیسے غریب آدمی کو اپنا شوہر کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے کیا۔۔۔ صباء فوراً سے :نہیں یار ایسی بات نہیں ہے۔۔۔کوئی امیری غریبی کی بات بھی نہیں ہے یار۔۔۔ بانو تو شاید صباء کو پوری طرح سے باتوں باتوں میں ہی بڑے میٹھے انداز میں ذلیل کرنے پر اتری ہوئی تھی۔۔۔بولی۔۔۔ بانو :تو پِھر آپ یہ سوچتی ہو گی کہ آپ بہت زیادہ پڑھی لکھی ہو اور وہ غریب آدمی گھٹیاہے۔۔۔ ان پڑھ ہےاور ایک معمولی چوکیدار ہے۔۔۔ صباء پریشان ہو کر۔۔۔ارے نہیں یار کیا ہو گیا ہے۔۔۔تم کیسی باتیں کرنے لگی ہو۔۔۔ بانو :تو پِھر آپ کہیں یہ تو نہیں سوچ رہی کہ وہ اتنا موٹا اوربدصورت ہے اور آپ بہت خوبصورت اور نازک اورحَسِین ہو۔۔۔آپ کی یہ بات بھی ٹھیک ہےبالکل میم صاحب لیکن اگر کسی سے مزہ مل رہا ہو توپِھر شرم کیسی یار۔۔۔ صباء :یار تم بالکل غلط سوچ رہی ہو۔۔۔میں نے کبھی بھی دینو کے بارے میں ایساکچھ نہیں سوچا۔۔۔اگر ایسا کچھ سوچتی تواُس کے ساتھ کچھ کرتی کیا۔۔۔؟؟ بانو اب صباء کو چھیڑتےہوئے۔۔۔تو پِھر اس کا مطلب ہے کہ سچ میں دینو نے میری میم صاحب کو اپنے لن کا دیوانہ بنا لیا ہے۔۔۔ صباء شرما گئی۔۔۔بانو نے اپنا ایک ہاتھ صباءکی شلوار میں ڈالا اورسیدھا صباء کی چوت پررکھ کر اپنی انگلی صباء کی چوت میں ڈال دی۔۔۔صباء کی چوت گیلی ہو رہی تھی۔۔۔پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔ بانو کی باتوں سے گرم ہو کر۔۔۔اس نے جلدی سے بانو کا ہاتھ باہر کھینچنا چاہا۔۔۔ بانو :میم صاحب۔۔۔دینو کے لن کے نام پر چوت تو آپ کی گیلی ہو گئی ہوئی ہے۔۔۔آپکی چوت بھی دینو کےلن کی یاد میں آنسوں بہارہی ہے میری جان۔۔۔چلی جاؤاور جا کر چُدوا لو اس سے۔ کل سے تو پِھر ہمیں صرف میجر سے ہی چودوانا ہے نہ۔۔۔ صباء :اچھا کیا سچ میں میجرصاحب آ رہے ہیں۔۔۔؟؟ بانو صباء کے گال کو چوم کربولی۔۔۔ہاں بالکل آ رہے ہیں۔۔۔اچھا اب میں کام پر جا رہی ہوں مولوی صاحب کے گھر۔۔۔دیر ہو رہی ہے۔۔۔ بانو صباء کے پاس سے چلی گئی۔۔۔صباء اندر آئی۔۔۔جلدی سے فون اٹھایا اورمیجر صاحب کانمبر ملانے لگی۔۔۔دوسری طرف بیل جا رہی تھی۔۔۔چند لمحوں کے بعد آواز آئی۔۔۔وہی روب داراور موالیوں والی آواز۔۔۔ میجر :ہاں کیا ہوا۔۔۔پِھر سے چوت میں آگ لگ گئی ہے کیا۔۔۔؟؟ صباء ہنسنے لگی۔۔۔ہاں لگ رہی ہے۔۔۔اسی لیے تو کیا ہے فون۔۔۔کہاں ہو آپ۔۔۔؟ ؟ ؟ میجر :یہیں ہوں اسی شہر میں۔۔۔ صباء خوش ہو کر۔۔۔کیا سچ میں آپ واپس آ گئےہو۔۔۔لیکن ہو کہاں۔۔۔؟؟ میجر :ارے یہیں ہوں اپنے دفتر میں۔۔۔ صباء ہنسی اور اسے تنگ کرتے ہوئے بولی۔۔۔دفتر میں یا اپنے اڈے پر۔۔۔ میجر :بہن چود۔۔۔کتی۔۔۔حرام زادی۔۔۔تو نہیں سدھرے گی۔۔۔آنے دے مجھے دیکھ تیری میں گانڈ کیسے مارتا ہوں۔۔۔ صباء ہنستے ہوئے۔۔۔ہاے سچی۔۔۔کب آؤ گے۔۔۔؟؟؟آؤ تو سہی ایک بار۔۔۔پِھر مار لینا جو جو مارنا ہوگا۔۔۔ میجر :بہن کی لوڑی۔۔۔کچھ تو شرم کیا کر۔۔۔یہاں میرے پاس میرے آدمی بیٹھے ہوئے ہیں۔۔۔تیری ساری باتیں سن رہے ہیں۔۔۔ صباء بھی مستی سے بولی۔۔۔سن رہے ہیں تو سننے دے ان کو۔۔۔میرا کیا لیتے ہیں۔۔۔مجھے تو تیرے سے بات کرنی ہے نہ بس اور تو نے اب میرے اندرشرم رہنے ہی کب دی ہے۔۔۔اچھی بھلی اپنے شوہر کےساتھ رہ رہی تھی تو نےخراب کر دیا ہے مجھے۔۔۔ دوسری طرف سچ میں میجراپنے چند موالی کارندوں کےساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔اس نے بھی اب جان بوجھ کر اپنے موبائل کا اِسْپِیکَر آن کر دیا۔۔۔اور بولا۔۔۔ لو سنو کیا بولتی ہے میری یہ رنڈی۔۔۔ صباء :کس کو سنوا رہے ہو۔۔۔اپنے موالیوں کو ؟ ؟ ؟ ؟ میجر :ہاں سن رہے ہیں۔۔۔تیری گشتی کی باتیں۔۔۔ صباء :ارے میں کوئی گشتی نہیں ہوں۔۔۔ صباء بھی اب بری طرح سےگرم ہونے لگی تھی۔۔۔صوفہ پر آدھی لیٹی ہوئی اپنا ہاتھ اپنے پاجامے میں ڈال کے اپنی چوت کو سہلانے لگی تھی میجرسے بات کرتے ہوئے۔۔۔ میجر :پِھر کیا ہے تو بہن چود۔۔۔؟؟ صباء :خود ہی تو بولتا ہے نہ تو کہ میں تیری رکھیل ہوں۔۔۔تیری رنڈی ہوں۔۔۔ایک سیدھی سادھی گھروالی کو رکھیل بنا دیا ہے تونے۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
  11. آپ سب کو میری طرف سے بہت بہت عید مبارک۔
  12. قسط نمبر24 صباء بانو کی آنكھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ تو ٹھیک ہے۔۔۔لیکن۔۔۔اگر کسی کو پتہ چل گیا تو۔۔۔؟؟؟ بانو۔۔۔ارے کوئی لیکن ویکن نہیں۔۔۔اب آپ اتنی خوبصورت اورحَسِین ہو۔۔۔اتنا پیارا اور سیکسی جِسَم ہے آپ کا۔۔۔تو یہ سب جوانی کسی ایک مرد کے لیے تو نہیں ہو سکتی نہ۔۔۔آخر دوسروں کا بھی توتھوڑا حق ہے نہ۔۔۔ یہ کہہ کر بانو نے آگے بڑھ کرصباء کے ہونٹوں پر اپنےہونٹ رکھے اور ایک کس کرلیا۔۔۔صباء کو برا نہیں لگا بلکہ وہ تھوڑا شرما گئی۔۔۔بانوکی باتوں نے اُس کے اندرایک عجیب سی حالت کر دی۔ وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔نہ تو بانو کو پیچھے کر رہی تھی اور نہ اس کا ساتھ دے رہی تھی اور بانو اسے جو سمجھا رہی تھی کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہے۔۔۔وہ بھی اس کی سمجھ میں آ رہا تھا۔۔۔ایسے ہی بانو نے دوبارہ سےصباء کے ہونٹوں پر کس کیا۔۔۔صباء تھوڑا سا کسمسائی۔۔۔ نہیں بانو نہیں۔۔۔یہ تم۔۔۔ لیکن اس کی بات پوری ہونےہی نہیں دی بانو نے اور اُسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا اور دھیرے دھیرےان کو چومتی ہوئی ان کو چوسنے لگی۔۔۔اُس کا ایک ہاتھ اٹھا اورصباء کے ممے کو اپنی گرفت میں لے لیا۔۔۔اب تو صباء کے لیے یہ سب کچھ نیا نہیں تھا۔۔۔یہی سب کچھ تو بانو پہلےبھی کر چکی تھی اُس کےساتھ میجر صاحب کے سامنے ہی اور دوبارہ کل کی رات میں بھی۔۔۔ صباء نے تھوڑی سی مزاحمت کی۔۔۔خود کو چھڑوانے کی۔۔۔لیکن۔۔۔بانو تو جیسے فُلی موڈ میں تھی۔۔۔اُس نے اپنا ایک ہاتھ صباءکی گردن پر رکھا اور اُس کےہونٹوں کو چومنے لگی۔۔۔اپنے ہونٹوں کو کھول کھول کر صباء کے لبوں کو اپنےہونٹوں میں لینے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔صباء کے منہ سےبھی سسکاریاں نکلنے لگیں۔۔۔جلدی ہی اس نے بھی خودکے جِسَم کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ ایک تو وہ خود بھی پگھل رہی تھی۔۔۔دوسرا وہ بانو کو انکار کرنےکی پوزیشن میں بھی تونہیں تھی نہ۔۔۔بانو نے اپنی زبان کو نکالا اوردھیرے دھیرے صباء کےہونٹوں کو چاٹنے لگی۔۔۔جیسے ہی بانو نے صباء کےہونٹوں کو اپنی زبان سے چھوا تو۔۔۔صباء نے اس کی زبان کو اپنےہونٹوں کی گرفت میں لیا اورذرا سی دیر کے لیے اسےچوس لیا۔۔۔بانو نے اپنے ہونٹوں کو صباءکے ہونٹوں سے ہٹایا اور اُسکے چہرے کو تھوڑا سا سائیڈپر گھما کر اس کی گردن کوچومنے لگی۔۔۔اس کی گردن پر ہلکےہلکے سے کس کرتے ہوئے اُس کو اپنی زبان سے چاٹنے لگی۔۔۔صباء کے جِسَم میں بھی مستی اور گرمی پیدا ہونےلگی تھی۔۔۔ایک آگ سی لگنے لگی تھی۔۔۔جو تب ہی لگتی تھی اُس کےجِسَم میں جب اس کا جِسَم گرم ہونے لگتا تھا۔۔۔دھیرے دھیرے بانو صباء کی گردن اور پِھر گالوں کو چوم رہی تھی۔۔۔آہستہ سے بانو نے صباء کاایک ہاتھ اٹھایا اور اسے اپنےممے پر رکھ دیا۔۔۔صباء نے اپنا ہاتھ ہٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی اور آہستہ آہستہ بانو کے ممےسے کھیلنے لگی۔۔۔پہلی بار کسی دوسری عورت کے بریسٹ کو دبا رہی تھی۔۔۔محسوس کر رہی تھی۔۔۔کھیل رہی تھی اور اسے اچھا بھی لگ رہا تھا۔۔۔کیونکہ ایک تو وہ گرم ہورہی تھی اور دوسرا اس بانو کے لیےاس کی نفرت اب آخری حدتک ختم ہو رہی تھی۔۔۔بانو نے اپنے دونوں ہاتھوں میں صباء کا چہرہ پکڑا اور پِھر دوبارہ سے اُس کےہونٹوں کو چومنے لگی۔۔۔اپنے ہونٹوں کو کھول کراپنی زبان باہر نکالی اور اسےصباء کے ہونٹوں کے درمیان میں پش کرنے لگی۔۔۔صباء جو کے خوب گرم ہورہی تھی اپنی چوت کی آگ میں۔۔۔فوراً سے ہی اپنے ہونٹوں کوکھولا اور اس کی زبان کوایک بار پِھر سے اپنے منہ کےاندر لے لیا۔۔۔دونوں کی زبانیں ایک دوسری سے ٹکرا رہی تھیں۔۔۔کبھی صباء اس کی زبان کوچُوستی اور کبھی بانو صباءکی زبان کو اپنے منہ کے اندرلیتے ہوئے چوسنے لگتی۔۔۔دونوں کے ہاتھ ایک دوسری کے مموں پر تھے۔۔۔جن کو وہ دھیرےدھیرے دباتے ہوئے ۔۔۔ایک مرد کی کمی کو پُوراکرنا چاہ رہی تھیں۔۔۔لیکن مرد کی کمی ایسےکیسے پوری ہو سکتی تھی۔۔۔بلکہ جتنا وہ ایک دوسرے کےساتھ لپٹتی جا رہی تھیں۔۔۔اتنا ہی ان کی آگ بڑھتی جارہی تھی۔۔۔وہ اور بھی بےچین ہوتی جارہی تھیں اور اسی بے چینی میں اوربھی بڑھ کر ایک دوسری کوچومنے لگتیں۔۔۔چاٹنے لگتیں۔۔۔صباء یہ بھول چکی تھی کہ اس کا اسٹیٹس کیا ہے۔۔۔یہ بھی بھول چکی تھی کہ اس کے ساتھ۔۔۔اس کی بانہوں میں جو بانوہے اس کا اسٹیٹس کیا ہے۔۔۔یہ بھی بھول چکی تھی کہ کل تک تو وہ اس کی بہت بڑی دشمن تھی۔۔۔بلکہ اِس وقت تو اپنی آگ بجھانے کا واحد ذریعہ اسے یہ بانو ہی نظر آ رہی تھی۔۔۔بانو نے تھوڑا سیدھا کر کےصباء کو صوفہ پر لٹایا اورخود اُس کے اُوپر چڑھ گئی اور اُس کے ہونٹوں کوچومنے لگی۔۔۔کبھی اس کی گردن کو۔۔۔صباء بھی اس کو چوم رہی تھی۔۔۔بانو نے آہستہ آہستہ اس کی قمیض کو اُوپر اٹھایا اورصباء کے مموں کو ننگا کرنےلگی۔۔۔صباء نے کوئی بھی مزاحمت نہیں کی اور سیدھی ہو کر اسے اپنی قمیض اتارنے میں مدد کر دی۔۔۔اگلے ہی لمحے صباء کی قمیض اُس کے جِسَم سے الگ ہو کر نیچے کارپیٹ پر پڑی تھی۔۔۔نیچے اب صباء کے گورےگورے جِسَم پر بلیک کلرکا برا تھا۔۔۔جو کہ اُس کے گورے گورے سفید مموں پر بہت ہی خوبصورت اور سیکسی لگ رہا تھا۔۔۔دیکھتے ہی بانو تو جیسےپاگل ہو کر صباء پر ٹوٹ پڑی۔۔۔اُس کے کلیویج میں جھانکتے ہوئے مموں کوچومنے لگی۔۔۔اپنی زبان سے چاٹنے لگی۔۔۔پِھر اس نے صباء کی برا کواُوپر کو کھینچا اور اُس کےمموں کو ننگا کر لیا۔۔۔صباء کے گورے گورے ممے تووہ پہلے بھی دیکھ چکی تھی۔۔۔چوس چکی تھی۔۔۔اب دوبارہ بھی فوراً سے ہی ان پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اوراُس کے نپل کو چوسنے لگی۔۔۔نیچے اس کا دوسرا ہاتھ صباء کی شلوار کے اُوپر سےاس کی چوت کو سہلانے لگا۔۔۔صباء تو تڑپ ہی اٹھی۔۔۔چند لمحے اس کی چوت کو سہلانے کے ساتھ ہی بانوکو پتہ چل چکا تھا کہ صباء کی چوت کتنی گیلی ہورہی ہے۔۔۔اگلے ہی لمحے اس نے اپناہاتھ صباء کے پاجامہ کے اندرڈال دیااور اپنا ہاتھ سیدھا اس کی ننگی چوت پر رکھ دیا۔۔۔دھیرے دھیرے صباء کی گرم اور ملائم چوت کو سہلانے لگی۔۔۔صباء کی چوت سے اس کا پانی۔۔۔گاڑھا گاڑھا چکنا پانی بہتا ہوااس کی چوت سے باہر آرہاتھااور بانو اس کی چوت کےپانی کو اس کی پوری چوت پر ملتی جا رہی تھی۔۔۔اس کا پُورا ہاتھ صباء کی چوت کے پانی سے گیلا ہو کرچکنا ہو چکا تھا۔۔۔جیسے ہی بانو نے اپنی ایک انگلی صباء کی چوت کے اندرپُش کی تو۔۔۔صباء تو سسک اٹھی۔۔۔اپنے جِسَم کے نچلے حصےکو اُوپر اٹھا لیا۔۔۔بانو کی پوری انگلی کو اپنی چوت میں لینے کے لیے۔۔۔اُوپر سے صباء نے بانو کےچہرے کو اپنی طرف کھینچا اور اُس کےہونٹوں کو چومنے لگی۔۔۔اُس کے ہونٹوں کو چاٹنے لگی۔۔۔چوسنے لگی۔۔۔پاگلوں کی طرح سےاور ساتھ ہی ساتھ میں اپنی چوت کو اُوپر کو اچھال رہی تھی۔۔۔بانو کی انگلی کو اپنی چوت میں اندر باہر کرنے کے لیے۔۔۔بانو صوفہ سے نیچےکو اتری اور ساتھ میں ہی صباءکے پاجامے کو بھی نیچے اتار دیااور اگلے ہی لمحے صباء پُوری طرح سے ننگی ہو چکی ہوئی تھی۔۔۔سوائے اپنی بلیک کلر کی برا کے جو کہ اُس کے گلے میں جھول رہی تھی۔۔۔بانو صباء کی دونوں ٹانگوں کے درمیان میں نیچے بیٹھ گئی۔۔۔ اس کی دونوں ٹانگوں کو کھولتے ہوئے۔۔۔صباء کی پیاری سی گلابی چوت بانو کی آنكھوں کے سامنے تھی۔۔۔اُسی کے اپنے چکنے پانی سےہی چمک رہی تھی۔۔۔گیلی ہو رہی تھی۔۔۔آہستہ آہستہ بانو صباء کی چوت پر انگلی پھیرنے لگی۔۔۔اُوپر سے نیچے کو اور نیچےسے اُوپر کو۔۔۔اُوپر اس کی چوت کے دانے کو سہلاتے ہوئے ۔۔۔اور پِھر آہستہ سے اپنے ہونٹ صباء کی چوت پر رکھ کر اسے کس کیا تو صباء کا پُوراجِسَم کانپ اٹھا۔۔۔تڑپ اٹھا۔۔۔لذت کے مارے۔۔۔اس کی آنکھیں بند ہو گیں۔۔۔ایک تیز سسکی اُس کے منہ سے نکل گئی۔۔۔بانو نے اپنی زبان باہر نکالی اور آہستہ آہستہ صباء کی چوت کو چاٹنے لگی۔۔۔بالکل کلین۔۔۔بالوں سے پاک چوت پر بانوکی زبان پھسلتی جا رہی تھی۔۔۔اپنے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں سے بانو نےصباء کی چوت کے لبوں کوکھولا تو اندر سے اسے چوت کا گلابی حصہ نظر آنے لگا۔۔۔سیدھا اُسی جگہ پر بانو نےاپنی زبان کی نوک سے ٹَچ کیااور پِھر اپنی زبان کو صباءکی چوت کے اندر داخل کردیا۔۔۔صباء تو جیسے مرنے والی ہورہی تھی۔۔۔اِس قدر گرم ہو چکی تھی کہ برداشت سے باہر ہو رہا تھااس کے یہ سب کچھ اور جب بانو نے اپنی زبان صباء کی چوت کے اندر ہی رکھتے ہوئے اسے اندر سےچاٹنا شروع کیا تو جیسےصباء کی بس ہو گئی۔۔۔اُسی وقت ہی صباء کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔پورے جِسَم کو جھٹکے لگ رہے تھے صباء کےاور اس کی چوت فضا میں اچھل رہی تھی اور پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔لیکن بانو۔۔۔اپنا منہ صباء کی چوت سے ہٹانے کو تیار نہیں تھی۔۔۔اپنے دونوں ہونٹوں کو کھول کر صباء کی چوت کے سوراخ پر جمائے ہوئے اس کی چوت سے نکلنے والے پانی کو سک کر رہی تھی۔۔۔چوس رہی تھی اور اس کا اپنا چہرہ بھی گیلا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔صباء کی چوت کے پانی سےہی۔۔۔کچھ دیر تک پانی چھوڑنےکے بعد صباء تو نڈھال ہو کرگر پڑی صوفہ پر ہی اور ساتھ ہی اس نے بانو کواس کا ہاتھ پکڑ کر اوپرکھینچ لیا۔۔۔اپنے جِسَم کے اُوپر اور اپنےہونٹ اُس کے ہونٹوں پر جمادیے۔۔۔بے حد مزہ دیا تھا بانو نےصباء کو۔۔۔صباء یہ کیسے بھول سکتی تھی اور دونوں کے ہونٹ ایک بارپِھر سے مل چکے تھے۔۔۔دونوں ایک دوسرے کےہونٹوں کو چوم رہی تھیں اور صباء تو بانو کے ہونٹوں کو چاٹ بھی رہی تھی۔۔۔اُس کے ہونٹوں پر سے اپنی ہی چوت کا پانی چاٹ رہی تھی۔۔۔جو کہ اسے کچھ برا بھی نہیں لگ رہا تھا۔۔۔بانو نے صباء کا ہاتھ پکڑا اوراپنی چوت پر رکھ دیا۔۔۔صباء نے بھی بنا کچھ کہےہی بانو کی چوت کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔ اس پر اُس کے پاجامہ کےاُوپر سے ہاتھ پھیرنے لگی۔۔۔سہلانے لگی۔۔۔جب بانو کو بھی مزہ آنے لگاتو اس نے صباء کا ہاتھ اپنے پاجامے کے اندر گھسادیااور صباء نے بھی اپنے ہاتھ کو بانو کی ننگی چوت پررکھ دیا اور اسے سہلانے لگی۔۔۔بانو کی چوت بھی اس کی اپنی چوت کی طرح سے ہی گیلی ہو رہی تھی۔۔۔ بانو :میم صاحب۔۔۔رگڑو اس کو۔۔۔اپنی انگلی ڈال دو اس کےاندر۔۔۔میری بھی آگ بجھا دو۔۔۔ صباء نے بھی اپنی انگلی بانوکی چوت میں ڈال دی اور آہستہ آہستہ اسے اندرباہر کرنے لگی۔۔۔پِھر صباء نے اپنا ہاتھ باہرنکالا اور تھوڑی سیدھی ہوکر بانو کو صوفہ پر جگہ دی اور اب خود سے اس کی قمیض اٹھانے لگی۔۔۔بانو نے فوراً سے ہی اپنی قمیض اُتار دی۔۔۔نیچے اس نے اسکن کلر کی برا پہنی ہوئی تھی۔۔۔اپنے سانولے جِسَم پر۔۔۔دوسرے ہی لمحے بانو نےاپنی برا بھی اُتار دی۔۔۔ صباء نے بانو کے مموں کودیکھا۔۔۔سانولے سے۔۔۔ڈارک براؤن نپلز کے ساتھ اور اپنے جسم کی گرمی سےآگے بڑھ کر اپنا منہ آج پہلی بار کسی دوسری عورت کےمموں پر رکھ دیااور اُس کے نپل کو چوسنے لگی۔۔۔دوسرے بریسٹ کو سہلاتے ہوئے صباء بانو کےنپل کو چوس رہی تھی۔۔۔ چاٹ رہی تھی۔۔۔جیسے جیسے چُوستی جارہی تھی اور دبا رہی تھی۔۔۔تو بانو کی بریسٹ میں سے تھوڑا تھوڑا دودھ نکلنے لگا۔۔۔صباء کو عجیب تو لگا۔۔۔لیکن اسی پاگل پن میں وہ اسے بھی پینے لگی۔۔۔چاٹنے لگی۔۔۔عجیب سی حالت ہو رہی تھی اس کی۔۔۔بانو نے اپنی شلوار کو بھی نیچے اُتار دیا۔۔۔اور بولی۔۔۔ صباء میم صاحب ادھر۔۔۔ صباء نے بنا کچھ کہے نیچےکو جا کر اپنے دونوں ہاتھ بانو کی تھیگس پر رکھے اوراس کی رانوں کو سہلانے لگی۔۔۔تھوڑا سا جھک کر اس کی ران کو چوم لیا۔۔۔بانو کی چوت سانولے رنگ کی تھی۔۔۔بہت زیادہ گھوری یا گلابی نہیں تھی۔۔۔لیکن صباء تو بس نشے میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔اپنی ہی آگ میں جل رہی تھی۔۔۔کچھ بھی سوچے بنا بس اپنے ہونٹوں سے بانو کی رانوں کو چوم رہی تھی۔۔۔بانو نے اپنا ہاتھ صباء کے سرپر رکھا اور آہستہ سے اُس کےسر کو اپنی چوت کی طرف پُش کیا۔۔۔صباء صرف اور صرف ایک لمحے کے لیے رکی اور پِھراپنے ہونٹ اس نے بانو کی چوت پر رکھ دیے۔۔ آہستہ آہستہ اپنی زندگی میں پہلی بار کسی چوت کو چوم رہی تھی۔۔۔تھوڑا عجیب سا تو لگا۔۔۔لیکن پِھر اسے بھی اچھاہی لگنے لگا۔۔۔آہستہ آہستہ بانو کی چوت کو چومتے ہوئے صباء نےاپنی زبان نکالی اور اسکی نوک سے بانو کی چوت کو چھیڑنے لگی۔۔۔چوت کو زُبان لگنے سے بانوبھی تڑپنے لگی۔۔۔اس کی آگ بڑھنے لگی۔۔۔اپنی چوت کو ہلاتے ہوئےاسے صباء کے منہ پر رگڑنے لگی۔۔۔آہستہ آہستہ۔۔۔صباء بھی اپنی زبان سے اسکی چوت کے دانے کو رگڑرہی تھی جیسے بانو نے اسکی چوت کے ساتھ کیا تھا۔۔۔بانو کی چوت میں سے بھی اس کا گاڑھا گاڑھا پانی نکلنے لگا۔۔۔ جیسے ہی صباء نے اسے اپنی زبان سے چکھا تو۔۔۔ایک کپکپی سی اُس کےجِسَم میں دوڑ گئی۔۔۔عجیب سا احساس ہونے لگا۔۔۔لذت کا۔۔۔مزے کا۔۔۔اب صباء نے لپا لپ اپنی زبان سے بانو کی چوت سےنکلنے والے پانی کو چاٹناشروع کر دیا۔۔۔وہ کبھی بھی ایسا نہ کرتی اگر وہ اِس وقت بری طرح سے سیکس کی آگ اور لن کی طلب میں جل نہ رہی ہوتی۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعدبانو صوفہ سے اٹھی اورصباء کو نیچے کارپیٹ پرلٹایا اور خود اُس کے اوپرآگئی۔۔۔اپنی چوت کو صباء کی چوت پر رکھا اوراسے رگڑتے ہوئے صباء کےاوپر ہی لیٹ گئی۔۔۔دھیرے دھیرے دونوں اپنی چوتیں رگڑ کر اپنی اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کرنے لگیں۔۔۔دونوں کی آنکھیں بند تھیں اور ہونٹ آپس میں جڑے ہوئے تھےاور نیچے سے چوت کی رگڑدونوں کے جسموں میں آگ لگا رہی تھی۔۔۔دونوں کی چوتوں سے نکلنےوالا پانی۔۔۔گراما گرم۔۔۔گاڑھا پانی۔۔۔نکل نکل کر مکس ہو رہا تھااور دونوں کے نچلے حصےکو چکنا کر رہا تھا۔۔۔اندر کی آگ اور جلن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔۔پیاس تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔۔طلب بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔۔صباء نے بھی بانو کو اپنی بانہوں کے گھیرے میں جکڑاہوا تھا اور نیچے سے اپناجِسَم ہلا رہی تھی۔۔۔اپنی چوت کو رگڑتے ہوئے اپنی منزل کو پہنچنا چاہ رہی تھی۔۔۔تڑپ رہی تھی۔۔۔مچل رہی تھی۔۔۔اچانک ہی بانو نے خود کوصباء سے الگ کر لیا۔۔۔اُس کے جِسَم کو چھوڑ کراَٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔صباء تڑپ کر بانو کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔کچھ بول بھی نہیں پائی۔۔۔جذبات کی گرمی کی وجہ سے صرف ایک تیز سسکی ہی نکل پائی اُس کے منہ سےاور پیاسی نظروں سے بانوکو دیکھنے لگی۔۔۔لیکن بانو صباء کو ویسے ہی چھوڑ کر اُس کے کچن کی طرف بڑھی اور اس کی شیلف کو کھول کر دیکھنے لگی۔۔۔کچھ ڈھونڈنے لگی۔۔۔نیچے کارپٹ پر ننگی لیٹی ہوئی صباء یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔۔۔بول کچھ نہیں رہی تھی۔۔۔چند لمحوں بعد۔۔۔دو۔۔۔تِین جگہ چیک کرنے کے بعدبانو کو ایک جگہ سے اُس کے مطلب کی چیز مل گئی۔۔۔صباء کو نہیں پتہ تھا کیاڈھونڈ رہی تھی وہ اور کیا پا لیا تھا اس نے۔۔۔بس وہ واپس مڑی۔۔۔دوبارہ سے صباء کی طرف۔۔۔صباء نے اسے اپنی طرف آتےدیکھا تو اُس کے ہاتھ میں اسے ایک سفید رنگ کی کینڈل نظر آئی۔۔۔جوکہ انگوٹھے کے جتنی موٹی تھی۔۔۔ تقریباً ایک انچ موٹی۔۔۔لیکن لمبی تھی اور ابھی تک استعمال میں نہیں آئی تھی۔۔۔صباء کچھ سمجھ نہیں پائی کہ اِس وقت اسے اِس کی کیاضرورت پیش آ گئی تھی۔۔۔بانو سیدھی آ کر صباء کی دونوں تھیگس کے درمیان میں بیٹھ گئی اور اس کینڈل کے اگلےنوکیلے حصے کو صباء کی چوت پر رگڑنے لگی۔۔۔اس کی چوت کے دانے کواس سرے کے ساتھ رگڑا توصباء فوراً ہی بانو کا آئیڈیاسمجھ گئی۔۔۔کہ وہ کیا کرنے جا رہی ہے۔۔۔اِس بات کو سمجھ کر بھی صباء نے اسے روکنا مناسب نہیں سمجھااور اپنی دونوں رانوں کوپھیلا کر لیٹی رہی۔۔۔بانو کے سامنےاور اس کینڈل کی اپنی چوت کے دانے پر رگڑ کامزہ لینے لگی۔۔۔سسکاریاں لیتے ہوئے۔۔۔کچھ دیر تک صباء کی چوت پر بانو اس کینڈل کو رگڑتی رہی اور جب صباء سے مزیدبرداشت نہ ہو پایا۔۔۔تو وہ سسکی۔۔۔ صباء :اف ف ف ف۔۔۔بانو ڈال دو اسے اندر۔۔۔بجھا دو میری پیاس۔۔۔ بانو مسکرائی اور اس موٹی کینڈل کے سرے کو صباء کی چکنی اور پانی چھوڑ رہی چوت کے سوراخ پر رکھا اورآہستہ آہستہ اسے صباء کی چوت کے اندر داخل کرنےلگی۔۔۔جیسے ہی وہ کینڈل صباءکی چوت کے اندر داخل ہوئی تو لذت اور مزےکے مارے صباء اچھل ہی پڑی اور اوپر کو اپنی چوت کواچھال کر اس کینڈل کومزید اپنی چوت کےاندر لینے لگی۔۔۔آنکھیں بند کر کے اپنی چوت کو اوپر کو اچھالتے ہوئے ۔۔۔بانو نے بھی دھیرے دھیرےاس کینڈل کو صباء کی چوت کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔صباء کو ایسا ہی لگا جیسےاس کی گرم۔۔۔تڑپتی۔۔۔ترستی چوت میں لن داخل ہوگیا ہو۔۔۔اس کی چوت کا خالی پن بھر گیا تھا۔۔۔ایکدم سے جیسے اس کی خواہش پوری ہوگئی تھی۔۔۔کچھ نہ کچھ اپنی چوت کےاندر لینے کی۔۔۔صباء یہ بھول گئی کہ یہ لن نہیں بلکہ صرف اور صرف کینڈل ہے۔۔۔جو اس کی چوت میں بانواندر باہر کر رہی ہے۔۔۔وہ سب کچھ بھول کر صرف اور صرف مزے لینے لگی۔۔۔اس کینڈل کا نوکیلا سِرا اسکی چوت کے اندر تک جا کراس کی بچہ دانی کے منہ سے ٹکراتا تو صباء تڑپ اَٹھتی۔۔۔اس موٹی کینڈل کی رگڑ سےکچھ ہی دیر میں صباء کی چوت نے پانی چھوڑنا شروع کر دیااور تڑپتے ہوئے اور تیز آوازیں پیدا کرتے ہوئے صباء اپنی منزل کو پہنچ گئی۔۔۔نڈھال ہو کر نیچے لیٹ گئی اور بانو بھی صباء کے اُوپرلیٹ کر اُس کے ہونٹوں کوچومنے لگی۔۔۔اس کینڈل کو بانو نے چھوڑدیا تھا۔۔۔ویسے ہی جہاں وہ تھی۔۔۔صباء کی چوت کے اندر۔۔۔ایک دوسرے کی بانہوں میں پڑی ہوئی دونوں لمبےلمبے سانسیں لے رہی تھیں۔۔۔اپنی سانسیں بحال کرنے کےلیے۔۔۔آنکھیں ابھی بھی بند تھیں۔ بانو کا سر صباء کے سینے پرپڑا ہوا تھااور صباء کے بازو بانو کی کمر پر تھے۔۔۔جیسے ہی صباء کی چوت کے اندر سے پانی نکلا تھا ویسےہی اُس کے اندر سے بانو کےلیے ساری نفرت اور دشمنی اور جیلسی ختم ہوگئی تھی۔۔۔شاید اِس لیے بھی کہ اب اُسکے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں تھا نہ۔۔۔یا پِھر شاید بانو نے اپنے لیےاُس کے اندر موجود ساری نفرت کو اس کی چوت سےنکلنے والے پانی کے ساتھ ہی اُس کے جِسَم سے نکال دیاتھا۔۔۔اب صباء کے جِسَم اور دماغ میں صرف شانتی ہی شانتی تھی۔۔۔محبت ہی محبت تھی۔۔۔احساس تشکر تھا۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعد بانوصباء کی سائیڈ پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر تھوڑی اُوپرہوئی۔۔۔صباء نے بھی اپنی آنکھیں کھول دیں۔۔۔اور مسکرا کر بانو کی طرف دیکھا۔۔۔بانو نے جھک کر صباء کےلبوں پر ایک کس کیا۔۔۔ بانو : کیسا لگا۔۔۔؟ ؟ ؟ صباء ایک شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ۔۔۔اچھا۔۔۔لیکن۔۔۔ بانو :مجھے پتہ ہے۔۔۔جس چیز کی ہم کو طلب ہورہی تھی۔۔۔جو ہماری آگ کو بجھا سکتاہے وہ تو نہیں ہے ہمارے پاس اور اِس کینڈل کے ساتھ توصرف وقتی طور پر ہی آپکی پیاس بجھائی ہے۔۔۔ اصل جیسا مزہ تو صرف لن سے آ سکتا ہے نہ۔۔۔ صباء کو اچانک سے خیال آیا۔۔۔بانو یہ میجر صاحب کاکچھ پتہ ہے کہاں ہیں اورکب آئیں گے۔۔۔ اب تو رہا نہیں جاتا ان کے بنایار۔۔۔ دوستی ہونے کے بعد صباءاب کھل کر بانو سے بات کرپا رہی تھی اور جانتی تھی کہ میجرصاحب کے لیے اپنی پیاس کو چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اب۔۔۔ بانو بولی۔۔۔ابھی کچھ دن پہلے بات ہوئی تھی۔۔۔بس وہ بھی چند دن میں واپس آ رہے ہیں۔۔۔ بس پِھر تو آپ کی موج ہوجائے گی۔۔۔ صباء شرما کر۔۔۔کمینی تو چھوڑے گی تومیں کچھ موج کروں گی نہ۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے ۔۔۔ارے صباء میم صاحب اب توہم دونوں نے ہی مل بانٹ کےکھانا ہے میجر صاحب کو۔۔۔ صباء :ارے وہ تو سب اپنی مرضی کرتا ہے۔۔۔ہمارے مطابق کہاں چلتا ہےوہ۔۔۔ بانو :اس کی اسی من مرضی میں تو اصل مزہ ہے جو ملتا ہے۔۔۔ورنہ ہمارے شوہر کیا کم ہیں کسی کام کے لیے۔۔۔ صباء :لیکن پلیز بانو تم میجرصاحب کو میرا اور دینو کانہ بتانا وہ بہت ناراض ہوں گے۔۔۔ بانو :ہاں میم صاحب وہ تو اس سے چھپانا ہی پڑے گا۔۔۔میں نہیں بتاوں گی اور آپ بھی خیال رکھنا۔۔۔ صباء :تھینک یو بانو۔۔۔تم سچ میں بہت اچھی دوست ہو آئِنْدَہ سے میری۔۔۔ بانو :ارے ہاں صباء میم صاحب اب تھوڑی سی خود غرضی کی بات کر لوں میں آپ سے۔۔۔ صباء تھوڑا حیران اورپریشان ہوئی۔۔۔کیا مطلب کیا بات۔۔۔؟؟؟ بانو مسکرا کر۔۔۔میم صاحب دینو کی بِیوِی توآپ کو بننا پڑے گا اپناراز چھپانے کے لیے۔۔۔ صباء :ہاں تو پِھر اور کیا۔۔۔ بانو :لیکن وہ جو آپ میرےشوہر سے چدوا کے مزے لےرہی ہو اس کا بدلہ کیسے چوکاؤ گی۔۔۔؟؟ ؟ ؟ صباء تھوڑا سریس ہوتے ہوئےبولی۔۔۔کیا چاہتی ہو تم اب ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ بانو ہنسی۔۔۔کچھ بھی نہیں میم صاحب۔۔۔بس شوہر کے بدلے شوہر۔۔۔اور بس۔۔۔ بانو کی بات صباء کو بری نہیں لگی۔۔۔وہ ہنس پڑی۔۔۔بڑی کمینی ہے تو۔۔۔تیرا کیا مطلب ہے کے شوہروں کی عدلہ بدلی۔۔۔؟ ؟ ؟ بانو بھی ہنسی اور بولی۔۔۔میم صاحب یہ عدلہ بدلی تونہیں بلکہ۔۔۔بدلہ بدلی ہے۔۔۔ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔ صباء بھی ہنسنے لگی۔۔۔ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔تو بھی چُدوا کر دیکھ لےاشرف سے۔۔۔ویسے کوئی خاص مزہ نہیں آنے والا تجھے اس سے۔۔۔ٹرائی کر لے۔۔۔لیکن وہ مانے گا کیسے۔۔۔؟؟؟؟ بانو:ارے میم صاحب بس آپ اِجازَت دے دو۔۔۔باقی بانو کا کام ہے۔۔۔دیکھنا کیسے اسے اپنی مٹھی میں کرتی ہے۔۔۔ صباء :اور اس کا لن اپنی چوت میں کرتی ہے۔۔۔ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔ صباء نے بنا کسی اعتراض کےاسے اِجازَت دے دی۔۔۔اشرف کو ٹریپ کرنے اور اس سے مزے کرنے کی۔۔۔بانو خوش ہوگئی اور صباءکے گال کو چوم کر بولی۔۔۔ میم صاحب خوش کر دیا آپ نے۔۔۔آپ کا انعام ابھی کے ابھی ملے گا آپ کو۔۔۔ صباء :کیا مطلب۔۔۔کیسا انعام۔۔۔؟؟؟ بانو اٹھی اور اپنے کپڑےپہنتے ہوئے بولی۔۔۔میں نیچے جا رہی ہوں اور ابھی دینو کو بھیجتی ہوں آکر ایک بار آپ کی چوت چود کر آپ کی چوت کو ٹھنڈی کر دے گا۔۔۔ صباء تھوڑا گھبرا کر۔۔۔نہیں نہیں بانو ایسا پورے دن میں کیسے۔۔۔کیسے آئے گا وہ۔۔۔اگر کسی نے دیکھ لیا تو۔۔۔؟؟؟ بانو :یہ آپ فکر نہ کرو۔۔۔وہ بِلڈنگ کے چھوٹے موٹےکام بھی کر دیتا ہوتا ہے۔۔۔اپنے اوزار لے آئے گا ساتھ لوگوں کو دکھانے کے لیے۔۔۔جب کے اصل اوزار تو اس نےچھپا رکھا ہوگا نہ آپ کے لیے۔۔۔بانو ہنسی اور پِھر اس اوزار سے آپ اپنی چوت کی آگ بجھا لینا۔۔۔ صباء ہنس کر بولی۔۔۔یار کہیں مروا نہ دینا۔۔۔ بانو فلیٹ سے باہر نکلتی ہوئے بولی۔۔۔کچھ نہیں ہوگا۔۔۔بس آپ اس کا انتظار کرواور اس بدھو کو کچھ زیادہ بتانے کی ضرورت بھی نہیں ہے جو ہمارے درمیان ہوا اور جو باتیں ہوئیں ہیں۔۔۔ بس ایسا ہی وہ سمجھے کہ چُھپ چھپا کے کام چل رہا ہے۔۔۔کیونکہ میں نے تو اسے روک دیا ہے کہ دوبارہ آپ کے ساتھ نہ دیکھوں میں اسے۔۔۔ صباء :ہاں ٹھیک ہے۔۔۔میں اسے کہہ دوں گی کےمیں نے تم کو کچھ پیسےویسے دے کے چُپ کرا دیا ہے۔۔۔اِس سے یہ ہوگا کہ وہ زیادہ سر بھی نہیں چڑھے گا۔۔۔ بانو بولی۔۔۔ہاں ٹھیک ہے۔۔۔ یہ کہہ کر بانو صباء کے فلیٹ سے چلی گئی۔۔۔صباء بھی جلدی سے اٹھی اپنی چوت سے پھسل کر باہر آ رہی ہوئی کینڈل کو نکالااور اس کو دیکھا تو اس پراس کی چوت کا گاڑھا پانی لگا ہوا تھا۔۔۔اسے دیکھ کرصباء مسکرا دی۔۔۔پِھر اپنے ہی خیالوں میں گم۔۔۔پتہ نہیں کیا سوچ کر آہستہ سے اپنی زبان سے اس کینڈل کو چاٹ لیا۔۔۔اوپر لگا ہوا اپنی ہی چوت کاگاڑھا پانی چاٹ لیا۔۔۔ایک الگ ہی ذائقہ اسے فیل ہوا۔۔۔پِھر مسکرا کر اسے ٹیبل پررکھا اور اپنے کپڑے پہنے۔۔۔سیٹنگ روم کا حلیہ درست کیا۔۔۔اس کینڈل کو اپنے بیڈروم میں لے جا کر اپنے بیڈ کی سائیڈ ڈراز میں رکھا۔۔۔ پِھر اپنا منہ ہاتھ دھو کے ہلکاپھلکا سا میک اپ کیا۔۔۔اور دینو کے لیے تیار ہوگئی۔۔۔ابھی بھی اس نے جو قمیض پہنی تھی اس کا گلا کافی ڈیپ تھا۔۔۔اس کا کلیویج صاف نظر آرہاتھا۔۔۔ایک دوپٹہ اس نے اپنےکندھوں پر رکھ لیا تھا لیکن وہ دوپٹہ بھی کافی ٹرانسپیرینٹ تھا۔۔۔اگر وہ دوپٹہ اپنے سینے پر لےبھی لیتی تو بھی نیچے سےاُس کے ممے صاف نظر آتے۔۔۔نیچے اس کا پجامہ بھی بہت ہی ٹائیٹ تھا۔۔۔اب تیار ہو کر صباء دینو کاانتظار کرنے لگی۔۔۔صباء سوچ رہی تھی کہ بانوکے ساتھ دوستی کرنے کافائدہ ہی ہے اسے۔۔۔تھوڑی دیر میں بیل بجی توصباء نے دھڑکتے ہوئے دل کےساتھ بھاگ کر دروازہ کھولا۔۔۔سامنے دینو ہاتھ میں مختلف اوزار پکڑے کھڑا تھا۔۔۔صباء کی نظر سیدھی اُسکے پاجامے کےاندر چھپے ہوئے لن پر گئی۔۔۔سوچنے لگی۔۔۔اصل اوزار تو اندر چھپایا ہواہے اِس موٹے نے۔۔۔اور مسکرا دی۔۔۔ابھی وہ دینو کو اندر آنے کاکہنے ہی والی تھی کہ۔۔۔سامنے کے مولوی صاحب کےفلیٹ کا دروازہ کھلا اورمولوی منصور صاحب باہرنکل آئے۔۔۔وہی خوبصورت ،سفید سوٹ ،مہندی سے رنگی ہوئی داڑھی۔۔۔سر پر سفید ٹوپی۔۔۔ ہاتھ میں تسبیح۔۔۔وہی بھاری بھرکم جِسَم ،باہر کو نکلی ہوئی توند۔۔۔لمبا اونچا قد۔۔۔صباء نے منصور صاحب کودیکھا تو فوراً سے ہی اپنادوپٹہ اپنے سر پر لے لیا اورسینے پر بھی پھیلا لیااور دور سے ہی سلام کر دیا۔۔۔دینو کو صباء کے دروازے پرکھڑا دیکھا تو مولوی صاحب اپنا دروازہ بند کر کے سیدھااسی کی طرف آ گئے۔۔۔ مولوی منصور :کیا بات ہے۔۔۔خیریت ہے نہ بیٹی۔۔۔؟؟؟ صباء اِس نئی مصیبت سےگھبرا گئی تھی۔۔۔بات کو سنبھالنے کے لیے بولی۔۔۔جی۔۔۔جی انکل۔۔۔وہ تھوڑا سا واش بیسن کامسئلہ تھا وہ چیک کروانا تھاتو بانو سے کہہ کراسے بلوایا ہے۔۔۔ مولوی صاحب :چلو میں کروا دیتا ہوں یہیں رک کر۔۔۔چلو دینو اندر۔۔۔ مولوی صاحب اب دینو کےساتھ ہی اندر آ گئے۔۔۔صباء گھبرا گئی اور پریشان ہو گئی کہ اب کیا کرے۔۔۔اصل کام تو کچھ اور تھاجس کے لیے بلایا تھا اسے۔۔۔لیکن پِھر بھی اب اور کیاکہتی صباء۔۔۔ صباء :دینو وہ ذرا کچن کے سنکس کا پائپ دیکھنا نیچے سےلیک کر رہا ہے تھوڑا۔۔۔ دینو :جی میم صاحب ابھی دیکھ لیتا ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر دینو کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ مولوی صاحب :اور سناؤ بیٹا کیا حال ہے۔۔۔؟؟؟ صباء محسوس کر رہی تھی کہ مولوی صاحب کی نظر اُس کے سینے کی طرف جارہی ہے بار بار۔۔۔صباء نے تھوڑا سا نیچے کومنہ کر کے دیکھا تو اسےاپنے دوپٹے میں سے جھانکتاہوا اپنا گورا گورا سینہ اورقمیض میں سے چھلکتا ہواکلیویج نظر آیا۔۔۔صباء کو تھوڑی شرمندگی محسوس ہونے لگی۔۔۔اس نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیالیکن ٹھیک کرتی بھی تو کیا۔۔۔ٹھیک تو وہ پہلے ہی تھا۔۔۔سینے پر۔۔۔لیکن وہ اتنا باریک تھا کہ کچھ بھی تو نہیں چُھپا پارہا تھا۔۔۔آج سے پہلے وہ کبھی بھی مولوی صاحب کے سامنے ایسے کپڑوں میں نہیں آئی تھی اور اب بھی تو یہ کپڑے اس نے پہنے تو دینو کے لیے تھےلیکن بیچ میں آ مولوی صاحب گئےاور جو نظارہ وہ دینو کودکھانا چاہتی تھی وہی نظارہ اب مولوی منصور صاحب دیکھ رہے تھے۔۔۔ صباء بولی۔۔۔جی انکل میں ٹھیک ہوں بالکل۔۔۔ مولوی صاحب:اشرف کی نائٹ ڈیوٹیز ختم ہوئیں کہ نہیں ابھی۔۔۔؟؟؟ صباء :نہیں انکل جی چل رہی ہیں نائٹ ڈیوٹیز بھی۔۔۔کبھی دن کی ہوتی ہے توکبھی رات کی۔۔۔ مولوی صاحب :تو کوئی دقت تو نہیں ہوتی نہ رات کو اب۔۔۔؟؟؟ صباء ;نہیں انکل جی۔۔۔اب تو عادت ہو گئی ہے۔۔۔کوئی فکر نہیں ہوتی اب تو۔۔۔ صباء ابھی بھی مولوی صاحب کی نظروں کو اپنےجِسَم کا جائزہ لیتے ہوئےمحسوس کر رہی تھی۔۔۔ اُس کے دماغ میں میجر کی بات گوجنے لگی۔۔۔کبھی اس سالے کو موقع تودے کر دیکھو پِھر دیکھنا کیسے تمہاری چوت پھاڑتا ہےوہ اپنے لن سے۔۔۔صباء نے جیسے ہی اِس سوچ کے ساتھ مولوی صاحب کی طرف دیکھا تو وہ اندرسے کانپ گئی۔۔۔اُس کے جِسَم نے ایک جھرجھری سی لی۔۔۔ تھا بھی تو مولوی اتنا بھاری بھرکم۔۔۔کسی جن کی طرح بھاری۔۔۔موٹا۔۔۔اور اونچا لمبا۔۔۔ اُس کے سامنے تووہ دینو بھی اپنے چھوٹے قداور موٹے جِسَم کی وجہ سےچھوٹا ہی لگتا تھا۔۔۔اور اگر سچ میں مولوی صاحب اپنا لن اس کی چوت میں ڈالیں تو وہ تو ان کے نیچے دب ہی جائے گی۔۔ یہ بات سوچ کر صباء کوشرم تو آ رہی تھی لیکن ساتھ ہی خود اپنی ہی چوت گیلی بھی ہونے لگی تھی۔۔۔صباء خود کو بہت ان کمفرٹ ایبل محسوس کر رہی تھی اِس طرح اپنے مموں کومولوی صاحب کو دکھاتے ہوئے ۔۔۔لیکن اُس کے پاس اب کوئی اور راستہ بھی تو نہیں تھانہ خود کو وہاں سے ہٹانے یاکچھ اور اپنے اوپر لینے کا۔۔۔اتنے میں دینو کچن سے باہرآیا۔۔۔اپنے گندے ہاتھ اپنی شرٹ پر ملتے ہوئے صاف کرتےہوئے ۔۔۔اور بولا۔۔۔ دینو :میم صاحب وہ پائپ تو کہیں سے بھی لیک نہیں کر رہا ہے۔۔۔میں نے چیک کر لیا ہے اچھے سے۔۔۔ صباء کو اس موٹے جِسَم اورموٹی عقل والے دینو پر بہت غصہ آیا۔۔۔کمینہ ذرا بھی اپنی عقل سےکام نہیں لے سکتا کہ میں نےآخر کس لیے بلایا ہے اس کو۔۔۔حرامی۔۔۔مولوی صاحب کے سامنے توچُپ رہتا۔۔۔یا اندر بھیجا تھا تو وہیں بیٹھا رہتا۔۔۔لیکن اتنی عقل اِس بدھو کوکہاں سے آئے۔۔۔اُلٹا کام خراب ہی کرتا ہے۔۔۔ صباء پِھر بولی۔۔۔نہیں وہ پائپ چُھو کر ہو جاتا ہے تو پِھر اس میں سےپانی لیک کرنے لگتا ہے۔۔۔تم دوبارہ سے دیکھو اسے جاکر۔۔۔ مولوی صاحب :ہاں ہاں دینو بیٹے۔۔۔ذرا ٹھیک سے چیک کرو۔۔۔بیٹیا کو پریشانی ہوئی ہے توتم کو بلایا ہے نہ۔۔۔ دینو :اپنا موٹے دماغ والاسر ہلاتا ہوا۔۔۔جی مولوی صاحب پِھر سےدیکھ لیتا ہوں میں ٹھیک سے دینو دوبارہ بےوقوفوں کی طرح سر ہلاتا ہوا اندر چلاگیا کچن میں۔۔۔ صباء بولی۔۔۔انکل آپ بیٹھیں میں آپ کےلیے چائے بنا کر لاتی ہوں اوراسے بتا بھی آتی ہوں کام۔۔۔ مولوی منصورصاحب آگے بڑھے۔۔۔صباء کے سر پر ہاتھ رکھا اورسر پر پیار دیتے ہوئے ۔۔ اپنا ہاتھ نیچے اُس کے کاندھے پر لے گئےاور کاندھے سے آہستہ سےصباء کی کمر پرہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔۔۔ نہیں نہیں بیٹی۔۔۔چائے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔نماز کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔۔میں مسجد جا رہا ہوں۔۔۔تم اپنا کام کروا لو دینو سے۔۔۔چائے پِھر کبھی پی لوں گا۔۔۔ یہ بات کرتے ہوئے بھی مولوی صاحب کا ہاتھ صباء کی کمرکو سہلاتا رہا کسی بڑے کی شفقت کے انداز میں۔۔۔ان کا ہاتھ واضح طور پرصباء کی برا کے ہکس اوربیلٹ کو محسوس کر رہا تھا۔۔۔صباء کو بھی محسوس ہورہا تھا کہ مولوی صاحب کیاکر رہے ہیں۔۔۔لیکن وہ ان کو روک نہیں رہی تھی۔۔۔نہ ہی روک سکتی تھی۔۔۔لیکن اسے حیرت ہوئی تھی کہ آج پہلی بار مولوی صاحب نے اُس کے جِسَم کو چھوا تھااور صاف طور پر صباء کومحسوس ہو گیا تھا کہ مولوی صاحب کس سوچ اور کس انداز کے ساتھ اُس کےجِسَم کو چھو رہے ہیں۔۔۔صباء کو عجیب لگ رہا تھا۔۔۔لیکن اس سے زیادہ اُس کےجِسَم کو عجیب لگ رہا تھا۔۔۔جہاں مولوی صاحب کے چھونے سے اُس کے پورے بدن میں عجیب لذت کی لہردوڑ گئی تھی۔۔۔آخر ایک مرد کا ہاتھ تھا نہ۔۔۔بھاری اور موٹا ہاتھ۔۔۔صباء کے دِل کی دھڑکن تیزہوگئی تھی۔۔۔شاید یہ اِس وجہ سے ہوا تھاکہ بانو ابھی اُس کے جِسَم میں آگ لگا کر گئی تھی اور وہ آگ ایک مردکے چھونے سے دوبارہ سےسلگ اٹھی تھی۔۔۔لیکن جلد ہی صباء نے خودپر کنٹرول کر لیا۔۔۔جب مولوی صاحب اپنا ہاتھ اس کی کمر سے ہٹا کردروازے کی طرف بڑھےاور ساتھ میں صباء کےکندھوں پر اپنا ہاتھ رکھ کراسے اپنی بغل کے نیچے سےاپنے سینے کے ساتھ سے لگالیا۔۔۔بالکل صباء کا جِسَم اپنےساتھ چپکاتے ہوئے ۔ صباء جو اپنے جلتے ہوئے جِسَم کو مولوی صاحب کےجِسَم سے دور رکھنا چاہ رہی تھی اب اور بھی اُس کے لیےپروبلم ہو رہی تھی خود کوکنٹرول کرنے کی۔۔۔ایسے ایسے خیال اُس کےدماغ میں پیدا ہو رہے تھےجو کہ نہیں ہونے چاہیے تھے۔۔۔یا کم اَز کم منصور انکل کےلیے تو نہیں نہ۔۔۔ان کے بازو کے نیچے دبی ہوئی صباء کا جِسَم بہت ہی چھوٹا سا اور نازک سا لگ رہاتھا۔۔۔مولوی صاحب کے بھاری بھرکم جِسَم کے سامنے۔۔۔دروازے تک جاتےجاتے مولوی صاحب صباء کےبازو کو سہلاتے رہے اور جب دروازے پر پہنچ کر اپنا ہاتھ ہٹایا تو پِھر بھی ان کا ہاتھ صباء کی کمر کو اچھے سے محسوس کر کے پیچھے ہٹاتھااور پِھر مولوی صاحب نےصباء کے سر کے اوپر پیار دیااور اُس کے گھر سے نکل گئے۔۔۔ان کو جاتے دیکھ کر صباء نےبھی سکون کا سانس لیا۔۔۔دروازہ بند کرنے لگی۔۔۔تو مڑ کر مولوی صاحب نےایک نظر دوبارہ سے صباء کےکلیویج پر ڈالی اور پِھر چلے گئے۔۔۔صباء کو آج یقین ہو گیا تھاکہ میجر ٹھیک ہی کہہ رہاتھا۔۔۔اگر مولوی صاحب کو موقع ملے تو وہ کبھی بھی مجھےنہ چھوڑیں گے۔۔۔آخر ہے جو ایک مرد۔۔۔صباء نے سوچا اور پِھردروازہ لوک کر کے اندر کچن کی طرف بڑھی۔۔۔صباء کچن کی طرف بڑھی لیکن دینو پہلے ہی کچن سے باہر آ رہا تھا۔۔۔ دینو :میم صاحب وہ بھی دیکھ لیاہے۔۔۔کوئی بھی مسئلہ نہیں ہےسب ٹھیک ہے۔۔۔ صباء کو غصہ آیا۔۔۔اس نے آگے بڑھ کر دینو کا گریبان اپنی مٹھی میں پکڑا اور اسے کھینچ کر بولی۔ تم کتنے بدھو ہو۔۔۔کوئی عقل نہیں ہے تم کو کیا۔۔۔ دینو تھوڑا گھبرا کر۔۔۔کیا ہوا میم صاحب۔۔۔میں نے کیا کیا ہے۔۔۔؟؟ صباء :اُلو کے پٹھے۔۔۔جاؤ ساری بِلڈنگ کو بتاؤ کہ صباء نے مجھے اپنے فلیٹ میں بلایا تھا لیکن اُس کےکچن کا پائپ تو کوئی بھی بند نہیں تھا۔۔۔ دینو :میں سمجھا نہیں میم صاحب۔۔۔ صباء :ابے بدھو کے دماغ والے۔۔۔اتنی بھی عقل نہیں ہے کہ اگر پائپ بند نہیں ہے تو میں نے تم کو کسی اور کام سےبلایا ہوگا نہ۔۔۔اب کیا ساری بِلڈنگ کو بتاتی کہ میں نے کیوں بلایا ہے تم کو۔ دینو ابھی بھی کچھ نہ سمجھتے ہوئے ۔۔۔لیکن بانو نے تو کہا تھا کہ آپ کے کچن کا کوئی کام ہے جو کروانا ہے آپ نے۔۔۔ صباء کو اس پر اب شدیدغصہ آ رہا تھا۔۔۔کمینہ کوئی بات سمجھ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ صباء :وہ تو میں نے اس سے جھوٹ بولا تھا تم کواوپر بلوانے کے لیے۔۔۔ یہ کہہ کر صباء دینو سے لپٹ گئی اور اپنا چہرہ دینو کے سینےپر رگڑنے لگی۔۔۔اُس کے جِسَم سے گندےپسینے کی گندی اسمیل آ رہی تھی۔۔۔کمینی بانو نے مجھے اِس گندے کی بِیوِی بننے کو کہاہے۔ کبھی بھی نہ بنتی میں اسکی بِیوِی اگر اس کا لن موٹانہ ہوتا تو۔۔۔کمینہ۔۔۔اس کے علاوہ اور کسی کام کا نہیں ہے۔۔۔ دینو تھوڑا پیچھے ہٹتا ہوابولا۔۔۔وہ۔۔۔وہ میم صاحب بانو۔۔۔اس کو اب پتہ چل گیا ہے نہ۔۔۔تو اس نے مجھے کہا ہے کہ میں۔۔۔میں۔۔۔آپ کے ساتھ۔۔۔کچھ نہیں کروں۔۔۔ صباء دوبارہ سے اس سےلپٹتی ہوئی بولی۔۔۔بانو کی فکر نہ کرو تم اسےمیں نے تھوڑے پیسے دے کرچُپ کروا دیا ہے۔۔۔اب وہ کسی کو نہیں بتائےگی۔۔۔بس ہمیں چُھپ چُھپ کر ملناہوگا ذرا۔ دینو۔۔۔موٹی عقل والا دینو خوش ہوگیااور جھٹ سے صباء کو اپنی بانہوں میں بھر لیااور اپنے موٹے موٹے ہونٹوں سے صباء کو چومنے لگا۔۔۔صباء کو اُس کے منہ سےابھی بھی چرس کی بدبو آرہی تھی۔۔۔لیکن وہ اسے برداشت کررہی تھی۔۔۔جیسے ہی دینو نے صباء کواپنی بانہوں میں بھرا تو اسکا جِسَم ایک بار پِھرسے سلگنے لگا۔۔۔چوت گرم ہونے لگی۔۔۔صباء بھی اس سے لپٹ گئی دینو نے صباء کا چہرہ اپنےہاتھوں میں لیا۔۔۔اور اپنی گندی سی زبان نکال کر اُس کے پورے چہرے کوچاٹنے لگا۔۔۔اپنی زبان صباء کی آنكھوں۔۔۔اُس کے گالوں۔۔۔اس کی ناک اور اُس کےہونٹوں پر پھیرنے لگا۔۔۔دینو کے منہ سے اس کاتھوک نکل کر صباء کےچہرے کو گیلا کر رہا تھا۔۔۔صباء خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔لیکن دینو کی گرفت مضبوط تھی۔۔۔وہ اپنی زبان پھیرے جا رہاتھا۔۔۔پِھر دینو نے اپنی زبان صباءکے منہ کے اندر ڈال دی۔۔۔صباء کو بھی اپنا منہ تھوڑاکھولنا پڑا اور پِھروہ دینو کی زبان کو چوسنے لگی۔۔۔دینو کے ہاتھ صباء کی کمرپر ادھر اُدھر سرک رہے تھے۔۔۔وہ اس کی کمر کو فیل کر رہاتھا۔۔۔اس کا دوپٹہ نوچ کر پیچھےپھینک چکا تھا۔۔۔صباء کا سینہ اور کلیویج ننگا ہو چکا تھا۔۔۔دینو کی بھوکی نظروں کے سامنے۔۔۔دینو نے اپنی زبان کو صباءکے چہرے سے نیچے اس کی گردن پر پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔اس کی گردن کو چاٹنے لگا۔۔۔صباء کو عجیب سا مزہ آرہاتھا۔۔۔اچھا لگ رہا تھا یہ سب۔۔۔اب اس کی زبان نیچے کوآئی اور صباء کے گورےگورے سینے کو چومنے لگااور اپنی زبان سے چاٹنے لگا۔۔۔پورے سینے کو گیلا کر رہاتھا۔۔۔دینو نے اپنی زُبان صباء کےکلیویج پر پھیرنی شروع کردی۔۔۔اس کی قمیض کو تھوڑا سانیچے کو کھینچا اور اُس کےمموں کو تھوڑا اور ننگا کر کے۔۔۔چاٹنے لگا۔۔۔وہ تو جیسے پاگل ہو رہا تھا اُس کے جِسَم کو چومتا جارہا تھا۔۔۔چاٹتا جا رہا تھا۔۔۔صباء کی چوت بھی گرم ہورہی تھی۔۔۔گیلی ہو رہی تھی۔۔۔پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔ صباء :چھوڑو مجھے۔۔۔سانس تو لینے دو ذرا۔۔۔جانور نہ بنو دینو۔۔۔ صباء نے خودکو دینو سے چھڑوایا اورپیچھے کو جانے کے لیے مڑی تو دینو نے پیچھے سے ہی اسے دبوچ لیا۔۔۔اب صباء کی کمر دینو کےپیٹ اور سینے سے چپکی ہوئی تھی۔۔۔دینو نے دوبارہ سے اپنے ہونٹ صباء کی گردن پر پیچھےسے رکھتے ہوئے اُس کےدونوں مموں کو پکڑ لیااور ان کو دبانے لگا۔ صباء :دینو۔۔۔آہستہ۔۔۔رکو۔۔۔نہیں کرو۔۔۔ صباء چلا رہی تھی۔۔۔لیکن دینو کہاں چھوڑنے والاتھا۔۔۔اس نے ایک ہاتھ صباء کےمموں پر رکھا اور دوسرا ہاتھ نیچے لے جا کر صباءکے پاجامے میں گھسا دیااور سیدھا اس کی چوت پررکھ کر اس کی ننگی چوت کو سہلانے لگا۔۔۔اپنے ہاتھ سے رگڑنے لگا۔۔۔اپنی ایک موٹی انگلی صباءکی چوت میں ڈال دی اور جیسے ہی وہ موٹی انگلی اس کی چوت میں گئی توصباء ٹرپ اٹھی۔۔۔لذت کے مارے۔۔۔مزے کے مارے۔۔۔اور ساتھ ہی اپنی گانڈ کوپیچھے کی طرف دھکیل دیا۔۔۔جہاں دینو کا موٹا لن پہلےسے ہی اس کا انتظار کر رہاتھا۔۔۔دینو نے بھی اپنا لن آگے کوٹھوک دیا۔۔۔ صباء کی گانڈ کے بیچ میں ہی۔۔۔صباء دوبارہ سے پلٹ گئی۔۔۔دینو کی بانہوں میں اور اب کی بار خود سے چومنے لگی۔۔۔دینو کے چہرے کو۔۔۔اُس کے گالوں پرہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ صباء :شیو تو کر لیا کرو۔۔۔دیکھو کیسے کانٹے بنے ہوئے ہیں تمہاری داڑھی کے بال بڑے ہو کر۔۔ اُوپر سے ایسے جانوروں کی طرح اسے رگڑتے ہو میرےگالوں پر تو چھیل ہی دیتےہو۔۔۔ دینو آگے سے اپنے پیلے دانت نکال کر ہنسنے لگا۔۔۔صباء نے اپنے ہونٹ دینو کےہونٹوں پر رکھے اور اسےچومنے لگی۔۔۔اپنی زبان کو اُس کے منہ کےاندر ڈال دیااور دینو نے فوراً سے ہی اسکی زبان کو اپنے ہونٹوں میں دبا لیا۔۔۔چوسنے لگا اسے۔۔۔صباء کےممے دینو کے چوڑے سینےسے چپکے ہوئے تھے۔۔۔دبے ہوئے تھےاور دینو اپنی بانہیں اس کی کمر پر لپیٹے اسے اپنے سینےسے دباتے چلا جا رہا تھا۔۔۔ صباء :دینو اندر چلو۔۔۔بیڈروم میں۔۔۔ یہ سنتے ہی دینو نے کسی چھوٹی سی گڑیا کی طرح سے صباء کو اٹھا لیا۔۔۔اپنی گود میں اٹھایا اور اندر کوصباء کے بیڈروم کی طرف چل پڑاجہاں وہ پہلے بھی صباء کوچود چکا تھا۔۔۔صباء بھی اپنے دونوں بازو دینو کے گلے میں ڈال کراُس کے جِسَم سے لٹک سی گئی اور دینو اسے لیے ہوئے بیڈروم میں داخل ہوا اور صباء کےنازک سے جِسَم کو اُس کےبیڈ پر ڈال دیااور سامنے کھڑا ہو کر اپنےکپڑے اتارنے لگا۔۔۔صباء نیچے بیڈ پر لیٹی ہوئی خاموشی سے۔۔۔لیکن گیلی ہو رہی چوت کےساتھ دینو کو دیکھ رہی تھی۔۔۔آج پہلی بار دینو صباءکے سامنے پُورا ننگا ہو رہا تھا۔۔۔آج پہلی بار صباء دینو کا ننگاجِسَم دیکھنے والی تھی۔۔۔اس کی نظریں دینو پر ہی ٹِکّی ہوئی تھیں۔۔۔دینو نے اپنی قمیض اُتارکر صوفہ کی طرف پھینک دی۔۔۔نیچے سے دینو کا موٹا تھل تھل کرتا ہوا کالا کلوٹا جِسَم ننگا ہو گیا۔۔۔ اُس کے نپل بھی لٹک رہےتھے۔۔۔موٹے موٹے دودھ کی طرح سے۔۔۔نیچے اس کا موٹا پیٹ لٹکاہوا تھا۔۔۔اب دینو نے اپنی شلوار بھی کھول دی اور اس کی شلواربھی نیچے گر گئی اُس کے پیروں میں اور دینو کا پورے کا پُورا کالاجِسَم ننگا ہو گیا۔۔۔نیچے دینو کا کالا موٹا لن لٹک رہا تھا۔۔۔جو کہ آہستہ آہستہ اکڑتا جارہا تھا۔۔۔اپنے جوبن پر آتا جا رہا تھا۔۔۔ایک لمحے کے لیے صباء کوبھی تھوڑی گھن آنے لگی۔۔۔دینو کے جِسَم کو دیکھ کرکے کیا وہ اسکے ساتھ سیکس کرے گی۔۔۔کیا اپنا نازک سا۔۔۔کومل سا۔۔۔پھول سا جِسَم اِس گھٹیا بدھو کو دے گی۔۔۔ابھی صباء اپنا ارادہ بدلنے کا سوچ ہی رہی تھی کے دینو بیڈ پر چڑھ آیا۔۔۔سیدھا صباء کے اُوپر لیٹ گیا۔۔۔اپنے لن کو صباء کے کپڑوں کے اوپر سے ہی اس کی چوت پر رگڑتے ہوئے صباء کےہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔صباء کی سانسوں کو بندکرتے ہوئے اُس کے دماغ کے سوچنے کے سلسلے کوبھی روک دیا۔۔۔صباء کے ہونٹوں کو چومنےلگااور پِھر ان کو اپنے دونوں موٹے موٹے ہونٹوں میں لے کرچوسنا شروع کر دیااور ایک بار پِھر سے اُس کےہونٹوں کو چاٹنے لگا۔۔۔نیچے دینو کا لن اکڑتا جا رہاتھااور وہ اسے صباء کی چوت پر رگڑ رہا تھا۔۔۔کھڑے ہوئے موٹے لن کی گرمی سے صباء کی چوت اوربھی گرم ہونے لگی۔۔۔پانی چھوڑنے لگی۔۔۔صباء کی آنکھیں بھی بندہونے لگیں۔۔۔اُس کے دونوں ہاتھ دینو کی کمر کو سہلانے لگے۔۔۔دھیرے دھیرے۔۔۔اُس کے جِسَم کو محسوس کرنے لگی۔۔ اچانک ہی اسے اپنے اوپر سےوزن تھوڑا کم ہوتا ہوامحسوس ہوا۔۔۔صباء نے آنکھیں کھولیں تو دینو اُس کے اوپر کو چڑھ آیا تھا۔۔۔ایسے کے وہ اپنا لن صباء کےمنہ کے پاس لے آیا تھااور اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنالن صباء کے چہرےپر مارتے ہوئے بولا۔۔۔ دینو :میم صاحب اسے منہ میں لونہ تھوڑا۔۔۔کھولو نہ اپنا منہ۔۔۔ صباء اپنا سر ادھر اُدھر ہلاتےہوئے بولی۔۔۔نہیں دینو نہیں نہیں۔۔۔ صباء اپنے ہاتھوں سے دینو کو پرے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔وہ تو جیسے اپنے نازک ہاتھوں سے کوئی پہاڑ ہٹانے کی کوشش میں تھی۔۔۔جوکہ نہ ممکن سی بات تھی اس کے لیے۔۔۔ دینو :میم صاحب کیوں ضد کررہی ہو۔۔۔کل رات بھی تو چوسا تھااتنا مزہ آیا تھا۔۔۔تمہارے منہ کو چود کر۔۔۔اب دوبارہ سے چودنے دو نہ اپنا منہ۔۔۔ صباء کو اس کی باتوں سےگھن بھی آ رہی تھی اورہنسی بھی۔۔۔اِس موٹے کو تو تعریف بھی نہیں کرنی آتی تھی۔۔۔کیسے سیدھا ہی بول رہا ہےکہ منہ کو چودا تھا۔۔۔دینو نے صباء کے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ میں پکڑے اوردونوں ہاتھوں کو صباء کےسر کے اُوپر کی طرف لے جاکر۔۔۔بیڈ پر دبا دیااور اب دوسرے ہاتھ سے اپنےلن کو پکڑ کر صباء کےہونٹوں پر رگڑنے لگا۔۔۔صباء کو دینو کے لن سےعجیب سی گندی اسمیل بھی آ رہی تھی۔۔۔اسے دینو پر غصہ بھی آ رہاتھا۔۔۔ لیکن وہ بالکل ہی کسی بےبس چڑیا کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی دینو کے نیچے۔۔۔دینو نے اپنے موٹے موٹے ہپس کو صباء کے سینے پر رکھااور تھوڑا سا اپنا وزن صباءکے مموں پر ڈالا تو۔۔۔صباء کو اپنا سانس رکتا ہوامحسوس ہونے لگا۔۔۔لیکن دینو اپنی چالاکی میں کامیاب ہوگیا۔۔۔جیسے ہی صباء نےسانس لینے کے لیے اپنا منہ پُورا کھولا تو دینو نے اپنےلن کی ٹوپی کو صباء کے منہ میں ڈال دیا۔۔۔صباء نے بڑی مزاحمت کی لیکن دینو کے لن کی موٹی ٹوپی تو اُس کے منہ کے اندرجا ہی چکی تھی۔۔۔دینو نے بھی لن کو اب باہر نکالنے کی بجائے اسےوہیں اُس کے منہ پر ہی رکھا۔۔۔صباء نے بےبسی سے دینو کی طرف دیکھا اور اپنا منہ بندکر لیا۔۔۔ دینو :میم صاحب تھوڑا سا چوپالگا دو نہ۔۔۔جیسے وہ گوریاں لگاتی ہوتی ہیں ویسے لگاؤ۔۔۔میں بھی دیکھ لوں کہ کیسامزہ آتا ہے لن چسوانے میں پیار سے۔۔۔ صباء کو اپنا سانس رکتا ہوامحسوس ہو رہا تھا۔۔۔ایک طرف تو اُس کے مموں پر دینو کے موٹے موٹے چوتڑوں کا بوجھ اوردوسری طرف حلق تک جاتے ہوئے موٹے لن کی وجہ سے سانس رک رہی تھی۔۔۔صباء کے لیے اور کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔اس نے آہستہ آہستہ اپنا سرہاں میں ہلایا۔۔۔دینو کی آنكھوں میں دیکھتےہوئے ۔۔۔دینو شاید کچھ نہیں سمجھااس نے آہستہ آہستہ اپنا تھوڑا وزن اور صباء کے سینےپر ڈال دیااور صباء نے جلدی سے اپنےہونٹوں کو بند کرتےہوئے دینو کے لن کو چوسناشروع کر دیا۔۔۔اُس کے اوپر اپنی زبان پھیرنے لگی۔۔۔دینو کو جب تھوڑا مزہ آیااور اس نے دیکھا کہ اب صباء اُس کے لن کو چوس رہی ہے تو اس نےاپنے چوتڑوں کو تھوڑا اوپراٹھا لیا صباء کے مموں پر سے۔۔۔لیکن اِس طرح اُوپر اٹھنے کانقصان یہ ہوا کہ اس کا لن تھوڑا اور بھی صباء کے منہ کے اندر چلا گیا۔۔۔صباء نے اُس کے لن کو اپنےمنہ کے اوپر کے حصے تالو پر ٹکایا اور نیچے سے لن کے نچلے حصے پر اپنی زبان کی نوک سے مساج کرنے لگی۔۔۔دینو کی سسکاری نکل گئی۔۔۔صباء کو لگا کہ اُس کے ایساکرنے سے دینو کو مزہ آ رہا ہےتو اس نے اب اپنی زُبان کی حرکت اُس کے لن کے نچلے نازک حصے پر اوربھی تیز کر دی۔۔۔دینو کے لن کے اردگرد کاحصہ صباء کے ناک کے بالکل قریب تھااور اُس کے جِسَم کے اس گندے حصے سے گندی سی اسمیل صباء کی ناک میں جارہی تھی۔۔۔صباء کا تو اس بدبو میں بھی سانس لینا مشکل ہو رہاتھا۔۔ لیکن اپنے سانس کو بحال رکھنے کے لیے وہ دینو کے لن کو چوس رہی تھی۔۔۔دھیرے دھیرے اُس کے لن کے نچلے حصے پر زبان چلارہی تھی۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ ایسا کرنےسے دینو کو مزہ آئے گا اوروہ جلدی ہی پیچھے ہٹ جائے گا۔۔۔دینو نے بھی جب صباء کواپنا لن چوستے ہوئے اور اسےمزہ دیتے ہوئے پایا تو اس نےبھی اپنی گرفت صباء کےہاتھوں پر ڈھیلی کر دی۔۔۔صباء نے اپنا ایک ہاتھ دینو کی گرفت سےچھڑوایا اور دینو کی موٹی ران پر پھیرنے لگی اور پِھر اپنا ہاتھ دینو کےموٹے لن پر رکھا اور اسے پکڑکر چوسنے لگی۔۔۔لیکن دینو نے اسے اپنا لن منہ سے نکالنے نہیں دیا۔۔۔بلکہ دھیرے دھیرے اپنا لن صباء کے منہ میں اندر باہرکرنے لگا۔۔۔رگڑتے ہوئے ۔۔۔ہلکے ہلکے دھکے لگاتے ہوئے ۔۔۔اسے تو الگ ہی دنیا کا الگ ہی مزہ آرہا تھا۔۔۔ساری زندگی جو کام ہوتا ہواوہ صرف اور صرف انگریزی فلموں میں دیکھتا رہا تھا اورہمیشہ چاہتا رہا کہ اس کا لن بھی کوئی چوسے۔۔۔لیکن کوئی بھی نہیں ملی اور اگر آج ملی تو وہ بھی اتنی خوبصورت اور حَسِین لڑکی اور اب اگر اتنی خوبصورت اور حَسِین لڑکی اس کالن چوسنے لگ ہی گئی تھی تو وہ کیسے خود کو کنٹرول کر سکتا تھااور کرتا بھی کیوں۔۔۔وہ تو آج اِس مزے۔۔۔اِس لذت کے انت تک پہنچ جانا چاہتا تھا۔۔۔صباء کو بھی اب پہلے جتنابرا تو نہیں لگ رہا تھا دینو کالن چوسنا لیکن۔۔۔اتنے موٹے لن کو اپنے منہ میں گھوماناا اُس کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا۔۔۔لن چوستے ہوئے اس کا منہ تھکتا جا رہا تھا۔۔۔وہ اسے پیچھے ہٹانا چاہتی تھی۔۔۔لیکن اپنے جِسَم کی طاقت سے تو وہ اس موٹے کو ایک انچ بھی نہیں ہلا پا رہی تھی اور ویسے بھی جیسے ہی صباء تھوڑا زیادہ زور لگاتی دینو کو پیچھے ہٹانے کے لیےتو دینو کی گرفت اس کے سرپر اور اُس کے جِسَم کا پریشراُس کے سینے پر اتنا ہی بڑھ جاتا۔۔۔صباء خود کو بالکل ہی بےبس پا رہی تھی۔۔۔دینو کے سامنے۔۔۔شاید اسے بھی اب اسی بےبسی میں ہی مزہ ملتا تھا۔۔۔اسی تزلیل میں ہی لذت ملتی تھی۔۔۔ایسی ہی زبردستی کی چُودائی میں ہی شایدسیٹسفیکشن ملتی تھی۔۔۔اِس لیے بھی وہ زیادہ مزاحمت نہیں کر رہی تھی۔۔ دوسری طرف دینو بھی اپنی منزل پر پہنچنے کے قریب ہورہا تھا۔۔۔اس کا وحشی پن بڑھتا جارہا تھا۔۔۔اس کی سانسیں بھی تیز ہورہی تھیں۔۔۔اس کا لن پھولنے لگا تھا۔۔۔اسے لگ رہا تھا کے جیسےجلدی ہی اُس کے لن میں سےاس کا پانی ابھی نکل آئے گا۔۔۔ابھی کے ابھی۔۔۔صباء کے منہ میں ہی اور دِل سے وہ چاہ بھی یہی رہا تھا کہ اپنا پانی اُس کےمنہ کے اندر ہی نکال دے۔۔۔ جیسے ان گوریوں کے منہ میں وہ مرد نکالتے تھے۔۔۔لیکن بےچاری صباء کو اِس بات کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔کچھ ہی دیر میں دینو کے لن نے اچانک سے ایک جھٹکا لیااور اپنے پانی کی ایک پچکاری صباء کے منہ میں نکال دی۔۔۔دینو کے لن کی گاڑھی گاڑھی سفید نمکین سی منی کی پچکاری سیدھی صباءکے منہ کے اوپری حصےپر ٹکرائی۔۔۔صباء چونک پڑی۔۔۔پہلی بار جیسے ٹیسٹ کر رہی تھی نہ منی کو۔۔۔عجیب سا ذائقہ لگ رہا تھا۔۔۔فوراً سے ہی دینو کو پیچھےکرنا چاہا لیکن۔۔۔ دینو نے اپنا لن فوراً ہی اُسکے منہ میں دبا دیا۔۔۔حلق سے کافی پیچھے۔۔۔صرف اب اُس کے لن کی ٹوپی ہی صباء کے منہ کےاندار تھی اور باقی لن منہ سے باہرجس کی وجہ سے اب جومنی دینو کے لن سے نکل رہی تھی وہ سیدھی صباءکی زبان پر ہی گر رہی تھی۔۔۔یا پِھر پچکاری صباء کے حلق سے ٹکراتی۔۔۔صباء دینو کی منی کو اپنےمنہ میں ہی روک رہی تھی۔۔۔حلق سے نیچے نہیں لے جارہی تھی۔۔۔لیکن اپنے لن کا پانی نکالنےسے دینو بھی تھوڑا نڈھال ہوگیا تھا۔۔۔صباء کے نازک جِسَم کی پرواہ کیے بنا ہی تھوڑا نیچےبیٹھ گیا۔۔۔صباء کے مموں پر ہی۔۔۔تو صباء کا تو جیسے ایک بارپِھر سے سانس رک گیا۔۔۔فوراً ہی اس نے اپنے منہ میں موجود دینو کی منی کو اپنےحلق سے نیچے اُتار لیا۔۔۔دینو نے بھی اپنا لن اُس کےمنہ سے نکال لیا اور اپنے ہاتھ میں پکڑ کر لن کو صباء کےچہرے پر ملنے لگا۔۔۔اُس کے لن سے منی نکل رہی تھی ابھی بھی اور صباء کے چہرے پر لگتی جا رہی تھی۔۔۔سفید سفید۔۔۔گاڑھی گاڑھی منی۔۔۔صباء کے گورےگورے خوبصورت چہرے پرلگ رہی تھی۔۔۔ صباء :دینو۔۔۔کیا کر رہے ہو۔۔۔ہٹاؤ اسے پیچھےاور اٹھو میرے اُوپر سے۔۔۔ دینو کے لن کی منی تو اُسکے چہرے پر لگ ہی چکی تھی۔۔۔دینو اُس کے اُوپر سے اٹھ توگیا۔۔۔ لیکن دوبارہ تھوڑا نیچے ہوکر اُس کے اُوپر ہی لیٹ گیا۔۔۔صباء کے سینے سے سینہ ،پیٹ سے پیٹ اور چوت سےلن کو ملا کر۔۔۔دینو کا موٹا سکڑتا ہوا لن صباء کی چوت کے قریب ہی تھااور اس کا چہرہ صباء کےچہرے کے قریب۔۔۔دینو نے اپنے سکڑتے ہوئے لن کو صباء کی چوت پر ٹکایا اور اپنی موٹی گانڈکو ہلاتے ہوئے اپنا موٹا لن صباء کی چوت پر رگڑنے لگا۔۔۔ صباء :دینو۔۔۔تم تو بالکل ہی جانور ہو۔۔۔کوئی عقل نہیں ہے تم کو۔۔۔ دینو۔۔۔اپنے پیلے پیلے دانت نکال کرہنستے ہوئے بولا۔۔۔وہ میم صاحب معافی چاہتاہوں۔۔۔ بس اپنے پر قابو نہیں رہتاجب بھی آپ کے پاس آتا ہوں نہ تو۔۔۔ صباء :کمینے اپنا اتنا موٹا میرے منہ کے اندر ڈالا ہوا تھا۔۔۔حلق تک۔۔اگر میرا سانس رک جاتا تو دینو ہنستے ہوئے ۔۔۔نہیں میم صاحب مرنے تونہیں دیتا نہ آپ کو میں۔۔۔آپ تو اتنی پیاری ہواور پہلی بار ایسی لڑکی مجھے ملی ہے۔۔۔ صباء :لیکن تم نے اپنا پانی میرےمنہ میں کیوں نکال دیا تھا۔۔۔سارا چہرہ بھی گندا کر دیاہے۔۔۔ منہ پے مل کر۔۔۔ دینو :وہ میم صاحب۔۔۔وہ گوریاں بھی تو منہ میں لیتی ہیں نہ اور ایسے ہی اپنے چہرے پرملتی ہیں۔۔۔اِس لیے۔۔۔میں نے سوچا کہ۔۔۔ صباء :کمینے۔۔۔موٹے۔۔۔میں کوئی ان گوریوں کی طرح رنڈی ہوں۔۔۔جو ان کے جیسے گندے کام کروں گی۔۔۔ دینو :معاف کر دو میم صاحب۔۔۔آپ کہو تو صاف کر دوں۔۔۔ اتنی حَسِین لڑکی کی قربت میں آکر دینو بھی ہوس میں اپنے ہوش کھو چکا ہوا تھا۔۔۔اس نے اپنی زبان باہر نکالی اور صباء کے چہرے کو چاٹنےلگا۔۔۔صباء اپنا منہ ادھر اُدھر ہٹانےلگی۔۔۔لیکن دینو نے صباء کے چہرےکو اپنے ہاتھوں میں لیا اوراُس کے چہرے پر سے اپنی ہی منی کو چاٹنے لگا۔۔۔صاف کرنے لگا۔۔۔صباء کو عجیب سا لگ رہاتھا۔۔۔لیکن دینو پر شاید اس کااچھا اثر ہو رہا تھا کیونکہ نیچے صباء کی چوت سےجڑا ہوا اس کا لن اکڑنے لگاتھا۔۔۔اپنا ایک ہاتھ نیچے لے جاکر دینو نے اپنے لن کی ٹوپی صباء کی چوت پر ایڈجسٹ کی اور پِھر اپنے لن کو صباء کی چوت کے اندر داخل کر دیااور آہستہ آہستہ دھکےمارتے ہوئے ۔۔۔دوبارہ سے صباء کے چہرےپر سے اپنی ہی منی کوچاٹنے لگا۔۔۔صباء کو بھی اِس گندےکھیل میں لطف آ رہا تھا۔۔۔اس نے بھی نیچے سے اپنی چوت کو اوپر کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔۔۔دینو نے بھی اپنا لن پورے کاپُورا صباء کی چوت میں اُتاردیا تھااور دھکے لگا رہا تھا۔۔۔صباء کو چود رہا تھا۔۔۔صباء کے منہ سےبھی سسکاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔اس کی آنکھیں بند ہوتی جارہی تھیں۔۔۔دینو نے صباء کے دونوں بازواوپر کیےاور صباء کی ایک بغل کوچومنے لگا۔۔۔صباء کی بغل میں بالکل ہلکےہلکے بال تھے۔۔۔دینو نے اپنی موٹی زبان باہرنکالی اور صباء کی بغل کوچاٹنے لگا۔۔۔صباء کو آج حیرتکے جھٹکے لگ رہے تھے۔۔۔کیسے کیسے یہ گندا آدمی اُس کے جِسَم کو چاٹ رہا تھا۔۔۔اس کی بغلوں کے پسینے کوچاٹتا جا رہا تھا۔۔۔پہلے ایک طرف سے چاٹا اورپِھر اپنی زبان صباء کی دوسری بغل میں لے گیا اوروہاں بھی اپنی زبان پھیرنے لگا۔۔۔صباء کو یہ سب اچھا بھی لگ رہا تھااور اتنا مزہ آ رہا تھا کہ اسکی اپنی چوت گرم ہو کرپانی چھوڑنے والی ہو رہی تھی۔۔۔اپنی آنکھیں بند کر کے صباءاپنی چوت کو ہلاتی جا رہی تھی۔۔۔دینو کے موٹے لن کا لمس اسے پاگل کیے دے رہا تھااور پِھر صباء کی چوت نےپانی چھوڑ دیا۔۔۔سکڑنے اور پھیلنے لگی۔۔۔دینو کے لن کو دبانے لگی۔۔۔اسے اپنے اندر بھینچنے لگی۔۔۔صباء کی چوت کےپانی چھوڑنے کے تھوڑی دیرکے بعد ہی دینو کے لن نےبھی ایک بار دوبارہ سے اپناپانی چھوڑ دیا۔۔۔لیکن اِس بار صباء کے منہ کی بجائے۔۔۔صباء کی چوت میں اپنی منی ڈالی تھی دینو نے۔۔۔اپنے لن کو پُورا کا پُورا صباءکی چوت کے اندر خالی کرنےکے بعد دینو بھی نڈھال ہوکر صباء کی ایک سائیڈ پر بیڈپر ہی گر سا گیا۔۔۔لیٹ کر لمبے لمبےسانس لینے لگا۔ اس کا موٹا پیٹ بری طرح سے اوپر نیچے ہو رہا تھا اسکی سانسوں کے ساتھ۔۔۔کچھ دیر میں صباء اٹھی۔۔۔اپنا پجامہ پہنا اورپِھر دینو کی طرف دیکھا تووہ تو آنکھیں بند کر کےجیسے بےہوش ہی پڑا ہوا تھا۔۔۔اس کی یہ حالت دیکھ کرصباء کو جیسے ہنسی آگئی۔۔۔اس نے کچن میں جا کرگلاس میں پانی ڈالا اور لاکر دینو کو ہلایا۔۔۔دینو ہڑبڑا کر اٹھا۔۔۔صباء نے اسے پانی کا گلاس دیا۔۔۔ صباء :لو پی لو پانی۔۔۔تم تو دو بار میں ہی بے ہوش ہوگئے ہو دینو۔۔۔ صباء اس کا مذاق اڑاتے ہوئےبولی۔۔۔ دینو پانی کا گھونٹ لے کربولا۔۔۔میم صاحب آپ نے مزہ ہی اتنا دیا ہے کہ میں تو بے ہوش ہی ہونے والا تھا بس۔۔۔ صباء بھی ہنس پڑی۔۔۔اس کی نظر دینو کی موٹی موٹی رانوں کے بیچ میں اُسکے سکڑے ہوئے لن پر پڑی۔۔۔جس کی ٹوپی کے سوراخ میں سے ابھی بھی تھوڑی تھوڑی منی نکل رہی تھی۔۔۔صباء نے ہاتھ بڑھا کر دینو کےلن کو اپنے ہاتھ میں لیا اوربولی۔۔۔ صباء :بہت ظالم ہو تم بھی اورتمہارا یہ بھی۔۔۔ پِھر صباء نیچے جھکی اور۔۔۔دینو کے لن کے سوراخ سےنکلتے ہوئے منی کے قطرے کواپنی زبان سے چاٹ لیا۔۔۔دینو نے یہ دیکھا تو اس کاجِسَم کانپ اٹھا۔۔۔صباء نے اُس کے لن کی ٹوپی کو اپنے ہونٹوں کے درمیان لیااور اسے سک کرنے لگی۔۔۔دینو کے لن سے منی کےآخری قطرے بھی نکل کرصباء کے منہ میں آگئے۔۔۔صباء کو کچھ خیال آیا تواس نے اٹھ کر اپنےہونٹ دینو کے ہونٹوں پر رکھ دیےاور اسے چومنے لگی۔۔۔پِھر اپنی زبان دینو کے منہ کے اندر ڈال دی اور دینو کو اس کی اپنی ہی منی چسوا دی۔۔۔دینو نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔۔۔بلکہ فوراً سے ہی صباء کی زبان کو چوسنے لگااور صباء کو دوبارہ سے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔۔کچھ ہی دیر چومنے کے بعدصباء نے خود کو دینو سےالگ کیا۔۔۔اور بولی۔۔۔ چلو اب جاؤ نیچے۔۔۔ دینو پیچھے ہٹااور اپنے کپڑے اٹھا کر پہننےلگا۔۔۔ میم صاحب وہ۔۔۔اب بانو کا کیا کرنا ہے۔۔۔اسے تو اپنا بھی سب کچھ پتہ چل گیا ہے۔۔۔ صباء :کچھ نہیں کرنا اس کا۔۔۔اس کا منہ بند کر دیا ہے میں نے۔۔۔بس جب بھی ہمیں موقع ملے گا ہم کر لیں گے۔۔۔لیکن تم نے خود کوشش نہیں کرنی میرے پاس آنے کی۔۔۔ دینو اپنے دانت نکال کر بولا۔۔۔میم صاحب یہی تو مشکل ہے۔۔۔دور ہوتا ہوں تو یہ سالا لن آپ کی پُھدی کو یاد کر کر کےکھڑا ہوتا رہتا ہے۔۔۔میم صاحب ایک بات پوچھوآپ سے۔۔۔ صباء :ہاں بولو۔۔۔پر جلدی کرو۔۔۔ دینو :میم صاحب۔۔۔وہ کیا سچ میں آپ بھی میجر صاحب سے۔۔۔؟؟ جاری ہے۔۔۔
  13. Ap ny mujh se koch kaha?
  14. قسط نمبر22 دینو صباء کے پیرکے تلوے کو چاٹتے ہوئے بولا۔۔۔ میم صاحب بانو تو آپ کےپیروں جیسی بھی نہیں ہے۔۔۔پتہ نہیں کون سا اچھا کام کیا ہے میں نے جو آپ مجھےمل گئی ہو ایسے۔۔۔ صباء نے اب اپنا تیر چلانے کاسوچا۔۔۔تو کیا تم دوبارہ بھی میرےپاس آنا چاہتے ہو۔۔۔؟؟؟ دینو :میم صاحب۔۔۔میم صاحب میں ساری زندگی آپ کے قدموں میں گزرانا چاہتا ہوں۔۔۔ دینو صباء کے پیروں کواپنی آنكھوں سے لگاتے ہوئے بولا۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔تو پِھر بانو کا کیا۔۔۔اس کا کیا کرو گے۔۔۔وہ جو تمہارے ساتھ بےوفائی کر رہی ہے۔۔۔تم جیسے مرد کو چھوڑ کراس میجر کے پاس جاتی ہے۔۔۔ دینو :اس کا کیا۔۔۔بس اب میں اسے منہ نہیں لگاؤں گا۔۔۔جہاں منہ مارتی ہے مارتی رہے۔۔ میں بس اب آپ کےساتھ کروں گا۔۔۔ صباء بولی۔۔۔تو پِھر اسے اپنے پاس رکھنےکا کیا فائدہ۔۔۔نکال دو اسے اپنے گھر سے۔۔۔تمہارا بچہ تو پہلے ہی اپنی نانی کے گھر میں ہے تو بھیج دو اسے بھی اس کی ماں کےگھرصباء کی ننگی ملائم گوری ٹانگ کو سہلاتےہوئے دینو کچھ سوچ میں پڑگیا جیسے۔۔۔ صباء :ہاں تو کیا سوچنے لگے۔۔۔غلط کہا ہے میں نے کچھ کیا۔۔۔جو تمہاری ہے ہی نہیں اسےاپنے گھر سے بھی نکال دو۔۔۔سزا تو ملنی چاہیے نہ۔۔۔دینو نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو آپ میم صاحب۔۔۔ اور پِھر جلدی سے۔۔۔دینو نے اپنے یونیفارم کاپجامہ نیچے اتارا اور اس کااکڑا ہوا لن ننگا ہو گیا۔۔۔صباء کی نظر بھی سیدھی دینو کے لن پر پڑی۔۔۔بہت ہی موٹا تھا دینو کا لن ۔۔۔بالکل کالا۔۔۔اور لمبا بھی تھا۔۔۔اس کی ٹانگوں کے درمیان میں لہرا رہا تھا۔۔۔دینو صوفہ پر صباء کی ٹانگوں کے درمیان آیا اوراپنے موٹے لن کی پھولی ہوئی ٹوپی کو صباء کی نازک سی چوت کےبالکل چھوٹے سے سوراخ پررکھ دیا۔۔۔صباء کی چوت تو پہلے ہی پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔دینو کی آنكھوں میں دیکھتےہوئے صباء بولی۔۔۔ آج دھیرے دھیرے ڈالنا۔۔۔دیکھ لو کتنا چھوٹا ساسوراخ ہے میرا اور تمہارا یہ کتنا موٹا ہے۔۔۔ بہت نازک ہے میری۔۔۔ دینو مسکرایا اور اپنے لن کواپنے ہاتھ میں پکڑ کر اس کی موٹی ٹوپی کو صباء کی گیلی چوت پر رگڑنے لگا۔۔۔صباء کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں اور اس کی چوت بھی اُوپر کو حرکت کررہی تھی۔۔۔دینو کے لن کی موٹی ٹوپی صباء کی چوت سے نکلنےوالے چکنے پانی سے چکنی ہونے لگی۔۔۔ چمکنے لگی۔۔۔اور پِھر جب دینو نے سوراخ پر لن رکھ کر ہلکاسا دباؤ ڈالا تو اس کا لن پھسل کر صباء کی چوت میں اُتَر گیا۔۔۔صباء کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔۔۔اور ساتھ ہی اس کی آنکھیں بند ہو گیں۔۔۔ اپنے لن کی ٹوپی کو صباءکی چوت میں پھنسا کر اپنےدونوں ہاتھ صباء کے دونوں مموں پر رکھے اور دھیرےدھیرے اپنے لن کو صباء کی چوت کے اندر داخل کرنے لگا۔۔۔دینو کا موٹا کالا لن ایک بارپِھر سے آج صباء ک