Jump to content
URDU FUN CLUB

HardStonee

Active Members
  • Content Count

    24
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

38

About HardStonee

  • Rank
    Hard Stonee

Identity Verification

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. شکر ہے کہ گلوخلاصی ہوئی۔ ورنہ جس طرح کا کمنٹ آپ نے پہلے دیا تھا۔ وہ تو بلکل ہی جان لیوا تھی۔ ہم سے فرصت کے لمحات میں انجوائےمنٹ ہی چھن جاتی۔ خیر، میں ان جذباتی مراحل سے گزر چکا ہوں جہاں یہ سٹوری میرے لیے سیکس سٹوری کی بجائے ایک نارمل لو سٹوری بن گئی تھی۔ لیکن اب اس مرحلے سے آگے آ چکا ہوں۔ اس کو دوبارہ سیکس سٹوری ہی کی طرح دیکھنے لگا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کی محنت ، ہماری پڑھنے کی امید ، آپ کے پوسٹ کرنے کی طاقت ، سبھی جب زندہ اور توانا ہیں تو ایک خیال یہی ہے کہ ایسا ہی ہو کہ یہ سٹوری اب نہ رکے۔ کمزور دل کو دلاسہ دینے کا شکریہ ایڈمنسٹریٹر صاحب۔ آپ کا یہ میسج کئی پڑھنے والوں کے لیے خوشی کے جذبات لائے گا۔ آپ کا بھلا ہو۔
  2. Muhtaram Zafar sahab . Ye Munasib Faisla naheen . Ap kahani ko delete zarur Karen . Lekin delete karnay ke baad us men se Muqaddas Naam Hata den. Aur phir dobara start se upload kar den . Naye namon se . Mera khayal hai us per kisi ko aitaraz bhi naen ho ga . Aur log dilchasbi se parhen gay bhi ..
  3. ڈاکٹر صاحب ۔ سلام ۔ وہاں تین تین لائنوں والا آپشن ہوتا تو ہے کہ آپ نے دائیں سے شروع کرنا ہے، درمیان سے یا بائیں سے شروع کرنا ہے ۔ یہ آپشن میرے پاس جو لیپ ٹاپ ہے اس میں بھی ہے ۔ ڈبلیو پی ایس آفس میں ۔ آپ کو سکرین شاٹ سینڈ کر دوں گا ۔ شاید اس سے آپ کی ہیلپ ہو جائے اردو دائیں سے بائیں لکھنے میں ۔
  4. پچھلی کچھ باتوں کی وجہ سے اس فورم پر موجود کہانی کا مورال اور قارئین اور ایڈمنسٹریٹرز کا موڈ خراب ہوتے ہوتے بچا۔ مجھے ضوفی کے کردار کے چکر میں اس قدر دور نہیں جانا چاہیئے تھا کہ مذہبی حوالوں کی ضرورت پیش آتی۔ اگر ایڈمن صاحب چاہیں تو میرا وہ والا کمنٹ ڈیلیٹ کر سکتے ہیں یا کم سے کم ان میں سے وہ مخصوص مقدس الفاظ ہٹا سکتے ہیں جو کسی حوالے کی طرف جاتے ہیں، ۔ باقی مجھے ڈاکٹر صاحب کے زور قلم پہ کوئی شک نہیں ۔ وہ ہمیشہ سے ہی زوردار لکھنے والوں میں سے رہے ہیں۔ سو ، واقعی، کہانی کو ان کے حساب سے ہی چلنا چاہیئے ، اور جس ذوردار انداز میں کہانی وہ چلاتے ہیں ، یہ پچھلی اپڈیٹ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کمال ہے سب۔ لفظوں کا چناو ۔ کہانی کی روانی ۔ سب ہی بہت کمال ہے ۔ ضوفی سے جذباتی وابستگی کی وجہ سے ایک لمحے کو میں واقعی بھول گیا تھا کہ یہ ایک سیکس کہانی ہے ۔ جس پر کچھ حضرات نے مجھے حاجی کا لقب بھی دے ڈالا ۔ "ویسے لفظ حاجی بھی ایک ؛؛؛مخصوص؛؛؛؛ لفظ ہے " ۔ کافی سارے حضرات اس بات سے اچھی طرح ایگری کریں گے ۔ اور جنہیں حاجی لفظ کا سیاق و سباق نہیں پتہ، وہ مجھ پر کوئی اور فتوی لگانے سے پہلے زرا سی ریسرچ کر لیں تو بہتر رہے گا۔ خیر یہ تو ہوئی پر لطف بات ۔ (شاید کسی کو بہت گراں بھی گزر سکتی ہے )۔ کہانی کا ٹیمپوخاصا تیز ہے ۔ اور ڈاکٹر صاحب کی ڈرائونگ بھی خاصی تیز اور خطرناک مگر محفوظ ہے۔ اب دیکھتے ہیں ، اس کہانی کے کس کس کردار کو اس تیز ڈرائیونگ سے "دھکے" لگتے ہیں ۔ اگلے لفظوں کا منتظر رہوں گا۔
  5. بے شک بد کار مردوں کے لیے بد کار عورتیں ہیں۔ اور پاکیزہ مردوں کے لیئے پاکیزہ عورتیں ہیں۔ بات تو یہ بھی حق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو شروعات سے پاکیزہ چلی آ رہی ہے (ضوفی) ، اس کو بدکار کیوں کیا جا رہا ہے ؟ اس کو پاکیزہ رہنے کا پورا پورا حق دیا جائے ۔ آپ کی دوسری بات البتہ صحیح ہو سکتی ہے ۔ کہ اگر یاسر اپنے گناہوں کی وجہ سے بد کار ہے ، تو پھر کہانی میں کسی ایسے مرد کو لایا جائے جو ضوفی کی طرح پاکیزہ ہو۔ پھر بھلے وہ یاسر کو نہ ملے ۔ کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن اس کہانی میں ، ضوفی ، یاسر کے لیئے ، توبہ اور نجات کا واحد دروازہ ہے ۔ اگر وہ بھی بند ہو گیا ، تو پھر یاسر نے ضائع ہو جانا ہے۔ اور ضوفی نے بھی۔ میرا گھوم پھر کہ سوال وہی ہے ۔ ضوفی کو خراب کرنے کا موڈ کیوں ہے قارئین کا ؟؟؟ بس یہی بات دل کو چبھ رہی ہے۔ ضوفی یاسر کو مل جائے ۔ یاسر سدھر جائے گا۔ ضوفی یاسر کو نہ ملے اور کسی اچھے مرد کو مل جائے ۔ تب بھی صورتحال قابل قبول ہے ۔ لیکن اگر ضوفی بھی یاسر کو اسی حالت میں ملے ، جس حالت میں یاسر خود ہے ، تو ضوفی یاسر کو یا پھر یاسر ضوفی کو ، پیار نہیں دے سکتا ۔ ان دونوں کو احساس گناہ ہی مار ڈالے گا۔
  6. جی ڈاکٹر صاحب۔ شکریہ ۔ بس وقتی جذبات کی وجہ سے کچھ ذیادہ ہی جذبات کا پھیلاو ہو گیا ۔ لیکن یہاں سارے قارئین محترم ہی ہیں۔ ہم بھی بس سٹوری کے مختلف پہلو ہی ڈسکس کر رہے تھے ۔ اختلاف کی راہ اپنی جگہ پر۔
  7. اس لیے کہ جن باقی کرداروں کا نام آپ نے لیا ، انہوں نے راضی خوشی ساری اخلاقی حدود پار کر لیں۔ یاسر جس طرح کا لونڈا تھا ، اس لے لیے ضوفی کے ساتھ زبردستی کرنا کوئی خاص مشکل نہ تھا ، جس طرح اس نے ماہی کے ساتھ کر لی۔ لیکن وہ جب بھی ضوفی کے ساتھ رہا ، کبھی بھی ایک خاص حد سے آگے نہیں گیا ۔ اگر اس رات ماہی کی بجائے ضوفی ساتھ ہوتی ، تو سو فیصد ، یاسر نے ضوفی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کرنی تھی ، تب پتہ چل جاتا کہ ضوفی نے یاسر کو ایک مخصوص حد سے آگے نہیں بڑھنے دینا تھا جیسے ماہی آگے بڑھ گئی تھی۔ ضوفی اور باقی کے راضی خوشی سیکس کر لینے والے کرداروں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ آپ کو یہ فرق نہیں سمجھ آ رہا تو ہم صرف سمجھا سکتے ہیں ، یا آپ کے لیے دعا کر سکتے ہیں۔ اس سے ذیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ شمائلہ، مہرین، فرحت ، نسرین ، خالہ زاد بہنیں، سب ہی نے اپنی مرضی سے حدود کو کراس کیا۔ ضوفی نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ چانس ملنے کے باوجود۔ یہ جذبات ایسے ہی پیدا نہیں ہوئے ۔ اس کے پیچھے لوجک ہے ۔ یہ کہاں کی لوجک ہوئی کہ یاسر خراب ہے تو ضوفی کو بھی خراب ہونا چاہئیے ۔ یعنی، ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ واہ۔۔۔
  8. ٹھیک ہے ۔ سیکس کہانی میں اخلاقیات کا کیا کام ۔ ڈال دیں جس کو جس کے نیچے یا اوپر ڈالنا ہے ۔ جانوروں کی طرح۔ آخر حضرت انسان بھی ایک جانور ہی تو ہے ۔ اور جانوروں سے متاثر بھی ۔ تو اخلاقیات کہاں خاطر میں لاتا ہے ۔ وہ کیا کہتے ہیں ۔ اینٹروپی آف دا سسٹم آلویز انکریزز ۔ تو کہانی میں سب ڈال دیں ۔ ضوفی کیا ، ضوفی کی ماں کو بھی نہ چھوڑیں ۔ کسی کا کیا جاتا ہے ۔ انسانی جذبات تو ہوتے ہی فک کرنے کے لیے ہیں ۔ کر دیں ۔ کیا مسئلہ ہے ۔
  9. بڑے ہی بے رحم دل کے قارئین ہیں اس سٹوری کے ۔ ضوفی کو کوئی بھی پاک باز نہیں دیکھنا چاہتا ۔ ٹھیک ہے ۔ کر لیں سارے اپنی مرضی ۔ میرا کیا ہے ۔ میں چھوڑ ہی دوں گا ذیادہ سے ذیادہ ۔ کسی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اخلاقیات جنسیات میں بھی روا رکھی جاتی ہیں۔ لیکن یہاں واضح طور پر اس کا جنازہ قارئین کے کندھوں پر رکھا دکھائی دیتا ہے ۔ میں سوائے افسوس کرنے کے ، اور کیا کر سکتا ہوں ۔ یہ آج کل کل کے لونڈے لپاڑے ، سب ہی اخلاقیات کی حدود کو چود چکے ہیں ۔ سو ان سے گلہ ہی کیا۔ ۔
  10. اگر ضوفی کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا ہوا۔ تو اس کہانی کی روح وفات پا جائے گی ۔ باقی ڈاکٹر صاحب آپ خود دیکھ لیں۔ اس کہانی کو پڑھنے والے بہت سے حضرات ضوفی کو بخشنے پر تیار نہیں ۔ پتہ نہیں ضوفی جیسی معصوم لڑکی نے ان کا بگاڑہ کیا ہے۔ میرا اپنا انٹرسٹ اس کہانی میں بس اتنا رہ گیا ہے کہ ضوفی صحیح سلامت ہے یا نہیں ۔ اگر نہ نکلی تو میں شاید مزید اس کہانی کو پڑھنا چھوڑ دوں گا ۔ کچھ چیزیں انسان کی برداشت سے باہر ہو جاتی ہیں۔ ضوفی کے کردار کے ساتھ بھی ایسی ہی اٹیچمنٹ ہو گئ ہے ۔ اگر اسے کچھ ہوا تو کہانی کی روح ختم ہو جائے گی ۔ باقی ڈاکٹر صاحب آپ خود دیکھ لیں ۔
  11. گیٹ ویل سون ڈاکٹر صاحب ۔ ہماری دعا ہے کہ آپ جلد سے جلد شفا یاب ہوں ۔ اور پہلے کی طرح فورم دوبارہ جوائن کریں پراپرلی ۔ اپڈیٹ کا کیا ہے ؟؟؟ دی نہ دی ۔ پڑھی۔ نہ پڑھی ۔ لیکن ڈاکٹر صاحب ! صحت و تندرستی ہزار نعمت ہے ۔ بس آپ اس بات پر توجہ دیں کہ جان ہے تو جہان ہے ۔ سیب کھائیں ۔ اور تندرست ہو جایئں۔ باقی باتیں بحساب دنیا، بشرط زندگی ہوتی رہیں گی۔
  12. A very very Happy Eid Ul Fitr Mubarak to All of You Members .. Specially . Dr. Saab . Story maker. And other Administration team members whom I don't know. And Happiness Prayers for every one here .
  13. ڈاکٹر صاحب ۔ ایک طویل بحث چھڑی ہوئی ہے کہ یاسر کو ضوفی پاک باز اور معصوم حالت میں کیوں ملنی چاہیئے ۔ کوئی ضرورت تو نہیں اس امر کی ۔ لیکن اگر اس کے حق میں دلیل سننا ہی چاہتے ہیں اس کہانی کے قارئین ، تو سیدھی سی دلیل یہ ہے کہ یاسر کی کوئی ایک کمزوری ایسی ہونی چاہیئے جسے وہ کھو دینے کے خوف سے ڈرتا ہو۔ اور وہ صرف اور صرف ضوفی ہے ۔ یاسر نے آج تک جن پر بھی ہاتھ ڈالا ، وہ ساری پہلے سے ہی اس کام کے لیئے تیار تھیں۔ اب یاسر کو یہ احساس ہو گا کہ کوئی ہے جو صرف اس کے لیئے ہے ، اور وہ کسی اور کی جھولی میں چلی جائے تو یاسر نے خود کشی کر لینی ہے۔ اس سے یہ برداشت ہی نہیں ہو سکے گا کہ اس کی ضوفی کسی اور کے ساتھ۔ یاسر ایسا ہی ہے۔ یاسر اس گناہ کی دنیا سے صرف ایک ہی دروازے سے نکل سکتا ہے ۔ اگر اس دروازے کو بھی زنگ لگ جائے تو یاسر دم گھٹنے سے مر جائے گا کیونکہ گناہ کی زندگی کا ماحول بہت ہی گھٹن ذدہ ہے ۔ اگر آپ ضوفی کو بد کردار کر کے یاسر کو جان سے مارنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، تو آگے بڑھیں اور مار ڈالیں یاسر کو ۔ اگر آپ یاسر کو اس کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں، تو ضوفی کو بد کردار نہ کریں ۔ اگر دونوں میاں بیوی ایک جیسے ہو گئے ، تو دونوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ چاہے سٹوری میں ہی سہی۔ اور پھر اس سٹوری کا کوئی اچھا تاثر ان لوگوں کے دلوں پر بھی نہیں بیٹھے گا جو گناہ کی دنیا چھوڑنا چاہتے ہیں۔ وہ وہی کریں گے جو یاسر اور ضوفی کی جوڑی کے ساتھ ہو چکا ہو گا۔ یعنی استغفارکا راستہ بند کر کے اصل لائف کے میاں بیوی بھی ہر جگہ منہ،مارتے پھریں گے۔ یاسر کی ایک ہی لگام ہے ، ضوفی، ، اور یہی لگام ٹوٹ گئی تو یاسر پٹخنیاں کھاتا ہو سنگلاخ زمین پہ گرے گا اور ختم ہو جائے گا۔ خدارا یاسر کے گندےاعمال کی سزا یاسر کو ہی دیں ۔ ضوفی کو نہیں۔ یاسر کو سزا دینے کے ہزار راستے ہیں ۔اس کی ٹانگیں تڑوا دیں، پولیس سے چھترول تو پڑ ہی،چکی ہے ۔ کاروبار بڑی مشکل سے بچایا اس نے ۔ ایک دوست کھو دیا اس نے۔ اور ایسے ہی لاتعداد طریقے ہیں۔ ضوفی نہیں ڈاکٹر صاحب۔ خدارا ضوفی نہیں ۔
  14. سلام ڈاکٹر صاحب آخر کار یاسر کو اس کی جان تمنا ضوفی کا دیدار ہو ہی ھی گیا ۔ گو کہ اس کے ٹٹےشارٹ ہو گئے تھے ۔ ڈاکٹر صاحب ۔ اب کل ملا کر بات یہ ہے آپ سے پہلے بھی ایک ریکویسٹ کی ہے کہ ضوفی کو داغدار نہ کیجیئے گا۔ اب بھی یہی ریکویسٹ ہے ۔ پہلے میں نے اس اینگل پہ کافی سوچا تھا کہ یاسر کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیئے اور میں نے اس ایک لمحے میں سوچا تھا کہ یاسر کی سب سےبڑی سزا ضوفی کا داغدار ہونا ہی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ یاسر کی دوکان ختم ہوئی، پولیس سے مار بھی کھائی ، کسی اور جگہ دوکان شفٹ کرنےکا پیسہ بھی بڑی مشکل سے اکٹھا ہوا ۔ ماہی ولا سین بھی اس کے ساتھ ہو گیا ۔ ضوفی کا اپنا رنگ پیلا پڑ گیا۔ ( شاید اور امید کے طور پر ماہی کی رپورٹس کی وجہ سے ۔)۔ اب ہیرو کو ہیروئن سے ملا دیں اور ہیروئن ذہنی طور پر تندرست اور جسمانی طور پر سیل- پیکڈ ہو تو بات بن جائے گی۔ تو گزارش ہے کہ ضوفی کو جنسی لحاظ سے داغدار نہ ہونے دیں۔ ۔ بھلے ہی سارے کردار مر مرا جائیں۔ اور میرا ایک اور شک بھی ہے کہ ماہی کا چکر تو شاید کسی اور سے ہو لیکن اس کا افتتاح بھی مجھے اکری اینڈ کمپنی کے کھاتے میں جاتا دکھائی دے رہا ہے ۔ شاید اس دن اکری نے ماہی کا افتتاح کر یا تھا ۔ اور کنوارگی کا خون یاسر کے لنڈ پر لگ گیا۔ اب یاسر کو کیا پتا کہ عورت کچھ چھپانا چاہے تو بڑی بے شرمی سے چھپا لیتی ہے ۔ خیر ۔ سو باتوں کی ایک بات ۔ یاسر اور ضوفی کا ملن ہونا چاہیئے ۔ تاکہ ہم جیسے اجڑے دلوں کو بھی کوئی قرار آ سکے ۔
  15. سلام ڈاکٹر صاحب ۔ دل کے کسی گوشےمیں بہرحال یہ خواہش شدت کے ساتھ موجود ہے کہ یاسر کو ضوفی سے جدا نہ کیا جائے ۔ بھلے ہی یاسر ضوفی کو ساری باتیں بتا کر اس سے صاف دل سے معافی مانگ لے ۔ عورت کے لیے کسی بھی لیول کے حرامی مرد کو معاف کر دینا مشکل نہیں ہوتا۔ بس آپ کو اس عورت سے پیار ہونا چاہئیے جو یاسر کو ضوفی سے ہے۔ اور بڑی شدت سے ہے۔ میری ریکویسٹ ہے کہ یاسر کو ضوفی کو سب کچھ سچ سچ بتائیں دیں۔ اس کہانی کا سارا رومانس ہی اسی بات میں پوشیدہ ہے۔ یاسر جیسے جانور ضوفی جیسی عورت کے سامنے ہی انسان بن سکتے ہیں ۔ اور کسی کے بس کی بات نہیں ۔ ایک اور بات ۔ ضوفی کا کیریکٹر تباہ نہ کیجیئے گا۔ اسے وہی صاف دل والی ، معصوم عورت ہی رہنے دیں ۔ کیونکہ اگر ضوفی بھی یاسر جیسی نکلی تو پھر اس کہانی کا میسج بھی ساتھ ہی تباہ و برباد ہو جائے گا۔ پلیز ڈاکٹر صاحب ۔ ہماری اس ریکویسٹ پر غور ضرور کریں۔
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status