Jump to content
URDU FUN CLUB

Mani09

Basic Cloud
  • Content Count

    164
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    7

Mani09 last won the day on October 12 2020

Mani09 had the most liked content!

Community Reputation

368

1 Follower

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

1,724 profile views
  1. میری رائے کے مطابق یہ کہانی ڈاکٹر خان کو ہی چلانے دیں۔ اگر کہانی دو مختلف زاویوں سے آگے بڑھے گی تو قارئین کے لیے پیچیدگی پیدا ہو جائے گی اور کہانی کا مزہ بھی کرکرا ہو جائے گا۔ اگر ہمارے دوست لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی کہانی شروع کریں، ویسے بھی فورم کو نئے لکھاریوں اور نئی کہانیوں کی ضرورت ہے۔
  2. دیوانگی تمام دوستوں کو محبت بھرا آداب عرض ہے۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں گزشتہ سال کے آغاز سے اب تک پوری دنیا کورونا وائرس نامی ایک موذی اور وبائی مرض سے نبرد آزما ہے۔ کرہ ارض کے دیگر ممالک کی طرح ہمارا وطن اور اس کے باسی بھی اس وبا کا شکار ہوئے جس کے نتیجے میں جہاں جانی نقصان ہوا وہیں ایک اقتصادی اور معاشی بحران نے بھی جنم لیا۔ بہت سے لوگ بے روزگار ہوئے، کاروبار تباہ ہو گئے اور روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ ایسے میں اس فورم کی ایکٹیویٹی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ ہمارے فورم کے کلیدی اور ہر دلعزیز مصنف ڈاکٹر خان جو حال ہی میں روزگار کے سلسلے میں یورپ ہجرت کر گئے، فورم کو زیادہ وقت نہ دے سکے اور ابھی بھی وہاں سیٹل ہونے کی تگ و دو میں ہیں۔ ایسے میں قارئین کی طرف سے بار بار کہانیوں کی نئی اقساط کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ میری تمام قارئین سے گزارش ہے کہ فورم اور اس کے مصنفین کو دیگر دنیا کی طرح کورونا کے منفی اثرات سے باہر آنے کا وقت دیں۔ میں نے گزشتہ سال اس فورم کے لیے ایک کہانی لکھی تھی جو خاصی مقبول رہی۔ دوستوں کی حوصلہ افزائی کے پیش نظر میں جلد ہی اپنی دوسری کہانی لکھنے چاہتا تھا لیکن کورونا نے مجھے بھی بے روزگاری کا تحفہ دے دیا اور سنبھلنے کی سعی ابھی بھی جاری ہے۔ اب جبکہ کچھ وقت اور ذہنی سکون میسر آیا ہے تو میں نے اپنی دوسری کہانی لکھنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ کہانی کا عنوان ہے "دیوانگی" جسے پاگل پن، دماغی خلل یا خبط بھی کہا جاتا ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار دیوانگی کا شکار ہے اور اسی کیفیت میں اس کے نزدیک جو اقدامات بالکل درست ہیں وہ معاشرے کے نزدیک قابل تعزیر جرائم ہیں۔ یہ کہانی دراصل ایک انگریزی ناول سے ماخوذ ہے جسے میں نے یہاں کے کرداروں اور رہن سہن کے مطابق بدل دیا ہے۔ امید ہے قارئین کو یہ کہانی پسند آئے گی۔
  3. اول تو ان بھائی صاحب کا کمنٹ اپروو ہی نہیں ہونا چاہیے تھا اور اپروو کر ہی دیا تو اسے اتنی اہمیت نہیں دینی چاہیے کہ ایک گھٹیا کمنٹ کی بنیاد پہ کہانی ہی روک دی جائے۔ ڈاکٹر خان کی محنت اور لگن سے یہ کہانی اس فورم کی جان بنی ہوئی ہے اور اسے اس طرح ان کمپلیٹ سیکشن میں موو نہیں کرنا چاہیے۔ ہم تو بس گزارش ہی کر سکتے ہیں، ماننا نہ ماننا آپ کی مرضی ہے۔ اسی طرح کا ایک گھٹیا کمنٹ میرے کمنٹ کے جواب میں بھی ہوا تھا جسے میں نے رپورٹ بھی کیا لیکن اس پہ کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
  4. حوصلہ افزائی کا شکریہ۔ ایک ادنی سی کوشش کی تھی میں نے کہانی لکھنے کی۔ اسی فورم پہ آپ کو میری لکھی ہوئی کہانی "لرزہ خیز قتل کا معمہ" کے عنوان سے مل جائے گی۔ پڑھ کے اپنی رائے ضرور دیجیۓ گا۔
  5. سب سے پہلے تو ڈاکٹر صاحب کو مبارکباد کہ انہوں نے ایک عام سی روایتی اور غیر منطقی کہانی کو ایک غیر روایتی شاہکار میں تبدیل کر دیا۔ یہ کہانی اب بلاشبہ اتنی جاندار ہو چکی ہے کہ اسے اگر آج ہی پیڈ سیکشن میں موو کر دیا جائے تو بھی قارئین کی اچھی خاصی تعداد اسے پڑھنے پر مجبور رہے گی۔ تمام قارئین کو فورم انتظامیہ اور ڈاکٹر صاحب کا مشکور ہونا چاہیے کہ وہ اتنی شاندار کہانی بلامعاوضہ ہم تک پہنچا رہے ہیں۔ اگر کہانی اور اس کے ردعمل پہ تبصرہ کیا جائے تو کہانی ابھی بہت لمبی چل سکتی ہے اور وہ بھی دلچسپ انداز میں اور یکسانیت کے بغیر، کیونکہ یاسر کے سامنے بہت سے معاملات ہیں جن سے اسے نمٹنا ہے۔ فی الحال ضوفی والا معاملہ چل رہا ہے، دو خطرناک گینگز کا خاتمہ مقصود ہے، ماہی اور یاسر کے تعلق کا قصہ، جنید سے جھگڑا، نئی دوکان بنانے کا مرحلہ، چوہدری اور اکری کے معاملات، بازغہ، صدف، عبیحہ، انعم وغیرہ وغیرہ۔ غرض یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک ساتھ اتنی مہمات شروع کر رکھی ہیں جن کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے پہنچاتے بہت وقت لگ سکتا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب اکیلے لکھنے والے ہیں اور انہیں ابھی تک کوئی مناسب مدد نہیں مل پائی تو کہانی کی یہ طوالت مزید بڑھنے کا قوی امکان موجود ہے۔ ایسے میں قارئین کے صبر و حوصلے کا ایک کڑا امتحان ہو گا۔ قیاس آرائی کی بات کی جائے تو وہ کی تو جا سکتی ہے لیکن ڈاکٹر صاحب ہمیشہ کی طرح اسے چود کے رکھ دیں گے اس لیے یہ سوچنا بے کار ہے کہ کیا ہو چکا اور آگے کیا ہونے والا ہے۔ ضوفی کا ریپ ہوا یا نہیں؟ ماہی کے چنگل سے یاسر کیسے نکلے گا؟ دونوں گروہوں کا خاتمہ کیسے ہو گا؟ بازغہ گھر سے نکل پائے گی یا نہیں؟ یہ سب اور ان جیسے متعدد اور سوالات سب کے ذہن میں ہوں گے لیکن جوابات صرف ڈاکٹر صاحب ہی جانتے ہیں اور وہ اگر قارئین کی سوچ سے مطابقت رکھ جائیں تو پھر ڈاکٹر صاحب ایک منفرد لکھاری تو نہ ہوئے۔ ابھی ابھی ایک امریکی سیزن بلیک لسٹ کے آٹھویں سیزن کا اختتام ہوا ہے اور جو ناظرین نے سوچا تھا سب کچھ اس کے الٹ ہو گیا، یہاں تک کہ سیزن کی مرکزی فیمیل کردار کی موت ہو گئی۔ تو جناب تبصرہ کریں، قیاس آرائی بھی کریں لیکن اپنی سوچ کو لکھاری پر تھوپنے کی کوشش نہ کریں اور یہ نہ سمجھیں کہ اگر کہانی میری سوچ کے برعکس ہو گئی تو رائٹر بالکل ناسمجھ یا نابلد ہے اور کہانی کا بیڑہ ہی غرق ہو گیا ہے۔ ابھی تک کے تبصروں کو دیکھا جائے تو ضوفی کو لے کر دو طرح کے شدت پسند قارئین سامنے آئے، ایک وہ جو چاہتے تھے کہ باقی چاہے کہانی کی ہر عورت چد جائے، ضوفی محفوظ رہے اور دوسرے وہ جو شدت سے ضوفی کے ریپ کے منتظر ہیں۔ میں ان دونوں میں سے کسی گروہ کا حصہ نہیں۔ میں کہتا ہوں ریپ ہوا یا نہیں، روداد منطقی ہونی چاہیے اور جو ڈاکٹر صاحب کے پرانے قارئین ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ جو بھی ہو گا اسے عقل تسلیم کرے گی۔ میری ذاتی رائے (جس کے چدنے کا قوی امکان موجود ہے) یہ ہے کہ ضوفی چدنے سے ابھی تک بچی ہوئی ہو۔ آخر میں ایڈمن صاحب سے دست بستہ گزارش ہے کہ میرے پاس آج کل وقت کی فراوانی ہے اس لیے مجھے اس کہانی کے لیے ڈاکٹر صاحب کا معاون مقرر کر دیں تاکہ اپڈیٹس میں تاخیر کی وجہ سے کہانی غیر ضروری طوالت نہ اختیار کرے۔
  6. بھائی میرا مشورہ ہے آپ چھوڑ ہی دیں کہانی پڑھنا کیونکہ ضوفی تو چد چکی ہے، اب کچھ نہیں ہو سکتا
  7. میری ناقص رائے کے مطابق ضوفی کا ریپ نہیں ہوا البتہ مالی نقصان ہوا ہے۔ ماہی اور سالار کا تعلق ہے اور ماہی کے پیٹ میں بچہ بھی سالار کا ہی ہو گا۔ ماہی کا بھی شاید گینگ ریپ ہو چکا ہے جس کے تصویری اور ویڈیو ثبوت دکھا کے ضوفی سے پیسہ اور زیور ہتھیا گیا ہو گا۔
  8. Hello Admin, Pades ki pehli 15 free Episodes kahan gayeb hen? I am unable to find them
  9. نام تو نہیں یاد مگر یہ یاد ہے کہ یہ وہ لڑکی ہے جس کی بالی یاسر کو ماہی کو گینگ ریپ سے بچانے والی جگہ پہ ملی تھی۔ بعد میں اس کی یاسر سے ملاقات بھی ہوئی تھی جس میں اس نے فیضان اور اپنی تصویروں کے بارے میں یاسر کو بتایا تھا۔
  10. تمام پاکستانیوں کو “اچانک” عید مبارک
  11. ڈاکٹر صاحب یہ ہی تو المیہ ہے ہمارے معاشرے کا۔ یہاں عورت غیرت کا سمبل ہے اور مرد مادر پدر آزاد۔ عورت غلطی کرے تو غیرت کے نام پہ قتل اور مرد قابل معافی بلکہ بعض اوقات قابل ستائش۔ عورت قتل ہونے سے بچ بھی جائے تو اس کی زندگی قابل رحم ہو جاتی ہے۔ یہاں تو زیادتی کا شکار ہونے والی عورتیں بھی حقارت اور نفرت سے دیکھی جاتی ہیں اور کوئی انہیں اپنانے کو تیار نہیں ہوتا۔ ہم ایک میل ڈومیننٹ معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مرد کو سات خون بھی معاف ہیں اور عورت کی چھوٹی سی لغزش بھی اس کی زندگی کا روگ بن کے رہ جاتی ہے
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status