Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 07/04/2021 in all areas

  1. 15 likes
    تمام قارئین کو سلام کہانی حسب سابق میں نے آڈیو فائل میں شئیر کر دی تھی،15 جولائی کو۔ جناب ایڈمن صاحب نے اس کو خواہش مند افراد کو بھیج دیا۔ اکثریت آڈیو فائل ملنے کے بعد سے غائب۔ صرف ایک صاحب نے کچھ فائل لکھ کر دیں پھر اچانک کل @Bubbly36 صاحب نے کمال کردیا۔ جو فائل 15 دن میں تین افراد نہیں لکھ سکے تھے ایک رات میں لکھ کر لوٹا دیں۔ ان کے لیے تالیاں ہونی چاہئے۔ اگر وہ اسی طرح لکھتے رہے تو ہم ہر دو چار دن بعد اپڈیٹس دے سکتے ہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ایک دوست لکھنا چاہتے ہیں تو موسٹ ویلکم۔ مگر ہم جتنے تلخ تجربات سے گزرے ہیں اب دل بنا آزمائے مائل نہیں ہوتا۔ جناب ضرور لکھیے مگر اس سے پہلے ایک بار ڈیمو ہونا ضروری ہے۔ ایک الگ تھریڈ بنائیے اور شروع کیجیے۔ اگر متواتر آپ کی اپڈیٹس آتی رہیں تو کہانی آپ چلا لیں۔
  2. 13 likes
    کسی کو معافی مانگنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ میرا کہنا ہمیشہ سے بس اتنا ہے کہ میں کہانیوں کو اپنے فارغ اوقات میں لکھتا ہوں۔ جب بال بچے دار نہیں تھا تو سب قاری گواہ ہیں کہ میں دن میں ایک کہانی لکھا کرتا تھا۔ اب کام اور کام کے بعد امور خانہ داری بھی آ جاتے ہیں۔ اگر اپڈیٹ لیٹ ہے تو ایک ہی مطلب ہے کہ میں مصروف ہوں۔ اس دوران انتظار کیجیے،دیگر کہانیاں پڑھیں اور فورم میں نئے تھریڈز بنائیں۔ کوئی رونق لگائیں۔ خود کو مصروف رکھیں اور انجوائے کریں۔
  3. 13 likes
    سب سے پہلے سب کو بتا دوں کہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ یہ سمر کا وقت ایسا ہوتا ہے کہ ان دنوں لوگ احتیاط نہیں کرتے جس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مسلئہ پیدا ہو جاتا ہے۔اس کا خمیازہ ان کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں اور دیگر پیرا میڈیکل سٹاف کو بھی بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے اکثر اوقات کام کا زور پڑنے سے اتنا بھی وقت میسر نہیں ہو پاتا کہ انسان صرف آن لائن ہو سکے۔ میں پیشہ ور لکھاری نہیں ہوں کہ گزر بسر کہانیوں سے ہو۔ایسی صورت میں فورم کو وقت تبھی دے پاتا ہوں جب کام سے فرصت مل سکے۔ یو-کے میں بمع اہل وعیال رہنا ہے تو اٹھارہ گھنٹے کام تو شرط ہے۔ پردیس کی قسط قریباً دو ماہ سے صرف پروف ریڈنگ کی منتظر ہے اور اس کو دیکھنے کا کوئی چانس نہیں بن رہا۔ سٹوری میکر بھی مصروف ہیں اس لئے کہانیاں تعطل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اب اگلی بات ہے کہ وہ قاری جو انتظار نہیں کر سکتے یا پھر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے، میرا خیال ہے کہ ان کو دوبارہ تشریف لانے کی ضرورت نہیں۔ جناب آپ صاحبان مزید دکھ اور افسوس کا شکار نہ ہوں،سمجھ لیں کہانی یہاں ختم ہے۔مجھے دو چار گالیاں دے کر خود کو کوفت سے آزاد کیجیے۔ یہ کہانیاں پڑھنے والے اور لکھنے والے دونوں کا مشغلہ ہے کل وقتی کام نہیں۔ فورم پر جو میسر ہے پڑھیے نہیں تو ان کے لیے درجنوں گروپ اور فورم ہیں۔ کہانی ان کو وہاں بھی مل جائے گی جب یہاں سے کوئی چور وہاں پوسٹ کر دے گا۔ مفت کی کہانی ہے،مفت کا شغل ہے ایسے میں طنزیہ باتیں کرنا ایسا ہے کہ کوئی صدقے کی دیگ میں سے چاولوں کی بجائے بوٹیاں مانگے اور دھونس جمائے۔
  4. 12 likes
  5. 12 likes
  6. 11 likes
    جناب آپ کی پیشکش کا بہت شکریہ۔ یہ آپ کی ذرہ نوازی اور محبت ہے۔دراصل ہمیں کافی عرصے سے بہت سارے پیغامات مل رہے ہیں۔ہم نے کافی سارے ممبران کو آزمایا بھی ہے۔ اس کے مختلف نتائج نکلے ہیں۔کچھ بے انتہا منفی اور کچھ بہت ہی اچھے جیسا کہ میں نے کل ذکر کیا۔ جس جس نے ہم کو پیشکش کی ہے ہم نے اس کا نام الگ کرلیا ہے۔جیسے ہی اس کے متعلق ہمیں کوئی ضرورت محسوس ہوئی ۔ہم ان سے ڈیٹا شیئر کر لیں گے۔
  7. 10 likes
    اسلامُ وعلیکُم جناب ڈاکٹر خان صاحب آپ تجربہ چاہتے ہیں تو میں یہ جو سلسلہ شروع کرنے جا رہا ہوں۔۔۔ !!۔۔۔داستانِ زندگی۔۔۔آخر تمام ہوئی۔۔۔ اِسے نا ہی درمیان میں چھوڑوں گا اور نا ہی اِس فورم کے روایتی انداز میں لِکھوں گا۔ ۔۔ جس میں ہر قدم پر سیکس کی بھرمار ہو۔۔۔ میں اِسے جاسُوسی ۔۔اِیکشن۔۔سیکس۔تھِرل۔اور سَسپِنس سے بھرپور انداز میں لکھوں گا۔۔۔ اور آپ کے سوال کا جواب آپ ہی کے انداز میں دونگا۔۔۔ وَالسلام اَز قلم۔۔۔چوہدری
  8. 10 likes
    آگلی اپڈیٹس بس جلد ہی شائع ہوں گی۔
  9. 9 likes
    جناب ۔ بے فکر رہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں ۔ اور اس کہانی کو جاری رکھیں گے ۔ پریشان نہ ہوں۔
  10. 8 likes
    السلام و علیکم ! صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اس اپڈیٹ میں آپ سب کو اسے صبر کا مزہ چکھایا گیا اب اگر روز روز اپڈیٹ دینے لگ جائیں تو تو کہانی کو وہ مزہ نہیں رہتا اب یہ انڈین ڈرامہ تو ہے نہیں جس میں قسط کے اندر تن تانا نانانانانا نا نا کر کے پوری کردی جائے اس لئیے تھوڑا صبر رکھیں اور ڈاکٹر صاحب یا ایڈمنسٹریٹر کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے گریز کریں نئے نئے لوگ آتے ہیں اور اپڈیٹ کا ڈھول پیٹنا شروع کردیتے ہیں پرانے لوگ آتے ہیں اپڈیٹ پڑھتے ہیں انجوائے کرتے ہیں اور اپنی رائے دیتے ہیں جو مثبت اثر ڈالتی ہے
  11. 8 likes
    بس میرے دوست ہم کو یہی چیز چاہیے۔میں نے آپ کو کسی قسم کا کوئی چیلنج نہیں دیا۔بلکہ دعوت دی ہے کہ جناب آئیے اور لکھیے۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ اگر آپ ایک نئی کہانی لکھیں گے تو پہلی چیز تو یہ ہوگی کہ ایک سے بھلے دو۔ دوسری بات وہ کہانی آپ سے منسوب ہو گئی اور اس کی پسند ناپسند اور ہر چیز کے مستحق آپ ہوں گے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ شیخو ہیں تو ہمارے لئے وہ بھی ہمیشہ سے قابل احترام تھے۔اگر وہ ہمارے ساتھ آج نہیں ہیں تو اس میں ان کی اپنی پسند اور مرضی ہے۔ ہمارے فورم کے کچھ تقاضے ہیں جس کے ہم سب پابند ہیں۔ میری طرف سے آپ کو بہت مبارکباد اور اس کے ساتھ ساتھ بڑی خوش آئند بات ہے کہ ایک اچھی کہانی شروع ہوگی۔
  12. 8 likes
    میں کم وبیش دس مستقل لکھاریوں کو جانتا ہوں۔سبھی وقت کے ساتھ ساتھ چھوڑ گئے اور سب کی وجہ یکساں ہیں۔ پہلی کہ وقت دینا پڑتا ہے اور دوسرا یہ کہ لوگ اب سوشل میڈیا پر منتقل ہو گئے ہیں۔کہانی لکھنے والے اب بھی اب کہانیوں کی بجائے ڈراموں پہ زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ کچھ نوکر پیشہ ہوئے تو اس مشغلے کو سرے سے خیرباد کہہ دیا۔ کچھ اکتا گئے اور کچھ نے یکسانیت سے تنگ آ کر چھوڑ دیا کہ کوئی اچھوتا پن نہیں ذہن میں آرہا۔
  13. 8 likes
    ڈیول صاحب اور اس فورم کا ہر ممبر اہم ہے ۔ اسی لیئے ان کا کمنٹ اپروول بھی کیا اور ان کے کمنٹ پر میں نے رپلائی بھی دیا۔ سب ممبرز بے فکر رہیں۔ یہ کہانی بند نہیں ہو گی اور آپ سب ممبرز کے لیئے جاری رہے گی۔ اور اس کو پیڈ بھی نہیں کیا جائے گا۔ جب جب ہمیں فرصت مہیا ہو گی ہم اس کو اپڈیٹ کریں گے۔ پہلے بھی اس طرح کےکمنٹس آتے رہتے ہیں جو کہ ہم اپروول ہی نہیں کرتے ۔ آج اس بندے نے غصہ کر کے پورا زور لگا دیا ۔تو سوچا کہ اس کی محنت رائیگاں نہ جانے دوں اور سب ممبرز کو بھی اندازہ ہو جائے کہ کیسے کیسے ممبرز موجود ہیں۔ جن کو بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ کوئی فری میں ہی ہمارے لیئے کتنی محنت اور خواری برداشت کر رہا ہے۔ ہم نے اس تھریڈ پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہوئی ورنہ ہم ایسا سیٹ اپ بھی کر سکتے ہیں کہ کچھ مخصوص ممبرز جن پر پابندی لگائی جائے وہ اس تھریڈ تک رسائی نہ پا سکیں۔ مگر ہم کسی بھی ممبر پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگانا چاہتے۔الہذا۔۔۔۔ ڈیول صاحب اپنے رویے پر نظر ثانی کریں ۔ شکریہ
  14. 7 likes
    کہانی کی آخری اپڈیٹس فورم پالیسی کے مطابق ان پیج میں دوبارہ شائع کر دی گئی ہیں۔ ایک بار دوبارہ سے پڑھ لیجیے۔ ہلکی سی ردوبدل کی گئی ہے جو آپ کے لیے باعث دلچسپی ہو گی۔
  15. 7 likes
    ڈاکٹر صاحب آپ کی عین نوازش ہے کہ آپ نے مجھ پر یقین کیا اور اگلی اپڈیٹس لکھنے کے لئیے بھجوائی میں یقین دلاتا ہوں کہ جیسے جیسے مجھے فائلز ملتی رہیں گیں وقتن فوقتن لکھ کر بھیج دوں گا اس کہانی سے بہت گہری وابستگی ہے ہم پرانے قارئین ہے جب کوئی برا بھلا کہتا ہے تو ہمیں بھی برا لگتا ہے اب آپ کو لکھنے والی پریشانی سے آزاد کرتا ہوں آپ کو میرے ہوتے دوسرے لکھارئ کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی گی ویسے تو یہ کہانی اس پورے پلیٹ فارم کی جان بنے ہوئی ہے لیکن اس کی تاخیر بہت سے قارئین کا مزہ خراب بھی کرتی ہے میں تو بہت وقت سے جڑنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے بھی محسوس ہو رہا تھا کہ آپ کے لکھاری آب اس کہانی کو لکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اب اپ نے موقع دیا ہے لکھنا کا تو امید سے بڑھ کر کام ملے گا میں اس کہانی کے لکھنے کا ذکر نہیں کرنا چاہتا تھا مگر آپ نے میرا نام لیا تو جذبات کو روک نہیں پایا اور اس بات پر شکریہ ادا کرنے کے لئیے کمنٹ کیا آپ یقین نہیں کریں گے کہ مجھے جو دو فائل پہلے بھیجی گئی ایک میں نے دوطرح سے مکمل لکھ کر دی ایک تصاویر کی شکل میں وہ ایڈمنسٹریٹر کو پسند نہیں آئی پھر ٹیکسٹ لکھ کر بھیجا تو ایک ہفتے تک اگلی اپڈیٹ سنی نہیں مجھے لگا کہ یہ اسی کہانی کا حصہ ہے لیکن جب پتا چلا کہ یہ بھولی داستان کا ٹکڑا ہے تو اسے اسی وقت لکھ کر ایڈمنسٹریٹر کے حوالے کیا پھر بہت وقت کے بعد مجھے فائلز ملیں جن کو میں نے وقت ضائع کئیے بنا آج ہی پورا کر دیا یقین کرنے کا شکریہ ✌
  16. 7 likes
    آسیہ نے کہا تمہیں سب پتہ چل جائے گا تم اب جاؤ۔۔۔ میں وہاں سے نکلا اور خالا کے گھر جانے کے لیے ان کی گلی میں مڑا تو سامنے ہی آسیہ کے گھر کے پاس مجھے ککا نظر آیا۔۔۔۔ میں نے اس کی باڈی لینگویج پر غور کیا مجھے کچھ مشکوک لگا میں رک کر دیکھنے لگا میں چھپ کر دیوار کے ساتھ ساتھ آگے بڑھا تو مجھے وہاں کوئی اور بھی دروازے میں کھڑا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔ یکدم دروازے میں جو بھی تھا غائب ہو گیا ککا بھی وہاں سے میری طرف آنے لگا میں نارمل انداز میں چلتا ہوا اس کے پاس گیا ۔۔۔ مجھ سے پہلے ہی ککا بول پڑا سناو کیا بنا پھر جلدی آگئے ہو ۔۔۔ میں نے کہا بس یار کچھ بھی نہیں بنا وہ نکل گیی ہاتھ سے جب کہ مجھے پتہ تھا اس نے سارا سین دیکھا ہے ۔۔۔ اس نے بھی کوئی بات نہ کی میں نے بھی وہ مجھے لے کر گھر آگیا گھر آ کر نہائے اور بیثھک میں گھس کر باتیں کرنے لگے۔۔۔۔ میں ایسے ہی باتوں باتوں میں آسیہ کی چھوٹی بہن روحی کا ذکر چھیڑ دیا کیونکہ مجھے اس پر شک تھا کہ روحی کا اور اس کا چکر ہے ۔۔۔ پھر آسیہ کی ذو معنی باتیں بھی میرے دماغ میں تھیں میں نے تو ایسے ہی کہا یار ایک بات بتا وہ جو آسیہ کی چھوٹی بہن تھی روحی وہ کیسی ہے اب اس وقت تو آسیہ سے بھی خوبصورت ہوتی تھی۔۔۔۔ اس کی آواز ہی بدل گئی بولا کون روحی شاید تم آسیہ کی بہن کا ذکر کر رہے ہو ۔۔۔ میں ہاں تمہیں کیا لگا میں کسی اور کا ذکر کر رہا ہوں۔۔۔ اچھا تو تم روحہ کی بات کر رہے ہو یار وہ تو میری جان ہے اس پر بری نظر نہ ڈالنا۔۔۔ میں نے کہا واہ استاد تو کمال نکلا بڑے نے بڑی بہن اور چھوٹے نے چھوٹی کو سیٹ کیا ہوا ہے تمہاری تو موجیں لگی ہیں کیسے ہوا یہ سب مجھے نہیں بتاؤ گے۔۔۔ ککا بولا سب بتاؤں گا لیکن ابھی نہیں پھر بتاوں گا تو سنا کوئی بچی سیٹ ہوئی یا نہیں۔۔۔ میں کہاں یار ہماری ایسی قسمت کہاں ایک سے بڑھ کر ایک پوپٹ بچی تو تمہارے گاؤں میں ہے ہمارے ہاں تو یا تو بہت اونچے سٹیٹس کی ہیں جو مجھے گھاس نہیں ڈالتی یا وہ ہیں جو بالکل ہی نچلے درجے کی ہیں ۔۔۔۔ اب تو وہ بھی گھاس نہیں ڈالتیں جن کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔۔۔ ککا اب اتنی بھی نہ چھوڑ کہ تجھے کبھی کسی نے دی نہیں۔۔۔ میں قسم سے یار کوئی ہاتھ ہی پکڑاتی تو پھدی کہاں دے گی۔۔۔ ککے نے غور سے میری طرف دیکھا اور بولا مجھے نہیں لگتا ایسا ہے۔۔۔۔ میں اب کیسے یقین دلاوں کہ کوئی بھی سیٹ نہیں ہوتی ہم ٹھہرے پینڈو شہر آ پھنسے وہاں کی پوپٹ بچیوں کو ممی ڈیڈی بچے پسند ہیں ۔۔۔ ککا اوہ تو یہ بات ہے اچھا مٹی پا ہو سنا کوئی پسند بھی ہے یا نہیں۔۔۔ میں ۔۔۔ پسند تو ہر لڑکی آ جاتی ہے پر چس تو تب ہے جب نیچے بھی آجائے۔۔۔ میرا لن تو ہر وقت تیار رہتا ہے کیا پتہ کوئی مان ہی جائے لیکن کہاں لگتا ہے بس مٹھ مارنے پر ہی کام چلانا پڑے گا۔۔۔۔ ککے کیا تو ایک بار مجھے کسی کی لے دے گا میں تیرا احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔۔۔ ککا اچھا کرتے ہیں کچھ ابھی سو جاؤ صبح بات کرتے ہیں۔۔۔ وہ پہلو بدل کر سو گیا لیکن مجھے پتہ نہیں نیند نہیں آآئی پہلو بدل بدل کر تھک گیا رات کے پچھلے پہر میری آنکھ لگ گئی۔۔۔ صبح جب اٹھا تو ماموں کھیتوں میں چلے گئے تھے دونوں کزن اور مائرہ سکول چلے گئے تھے جبکہ مامی اور امی بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔۔۔ میں ضروری حاجات سے فارغ ہو کر آیا تو سمیرہ نے مجھے آواز دے کر کہا ادھر ہی آجاو ناشتہ کر لو۔۔۔ میں بارورچی خانے میں چلا گیا اس نے مجھے ناشتہ دیا میں ناشتہ کرنے لگ گیا تو مامی آئی اور کہا سمیرہ میں تے باجی ہمسایوں کے گھر جا رہی ہیں دروازہ بند کر لو اور مجھے تاکید کی کہ گھر میں ہی رہوں۔۔۔ امی کا پوار خاندان اسی گاؤں میں تھا اور سارے رشتہ دار ایک ہی محلے میں رہتے تھے اس لیے امی جب بھی جاتی تھیں سب سے مل کر آتی تھیں۔۔۔ وہ باہر نکل گئیں سمیرہ نے دروازہ بند کر لیا تب تک میں نے ناشتہ کر لیا تھا میں کچن سے اٹھ کر باہر آیا اور بیٹھک کی طرف جانے لگا تو سمیرہ نے آواز دی بلو۔۔۔ سمیرہ ۔۔۔۔ چائے نہیں پینی۔۔۔ میں۔۔۔ نہیں باجی میں چائے نہیں پیتا ہوتا۔۔۔ میری اچھی عادات میں سے یہ بھی ایک عادت تھی کہ چائے نہیں پیتا تھا شاید کچھ لوگوں کو یہ بات عجیب لگے لیکن ہم کزنوں میں سے صرف دو لوگ ایسے تھے جو اس وقت تک چائے نہیں پیتے تھے ایک میں اور دوسرا میری پھپھو کا بیٹا ججی تھا۔۔۔ سمیرہ ۔۔۔ اوہ واہ جی واہ چائے نہیں پیتا اچھا جی اس لیے نہیں پیتے کہ رنگ کالا نہ ہو جائے۔۔۔ میں۔۔۔ باجی ایسی بات نہیں ہے بس کبھی بھی نہیں پی ۔۔۔ سمیرہ۔۔۔ بڑے ذو معنی انداز میں گرم گرم دودھ پیتے ہو۔۔۔ میں۔۔۔ نا سمجھی میں کیا مطلب باجی دودھ تو سب ہی پیتے ہیں۔۔۔ سمیرہ ۔۔۔ کچھ نہیں مجھے پتہ ہے سب پیتے ہیں میں تو ایسے ہی کہہ رہی تھی۔۔۔ اچھا تم اب کہاں جا رہے ہو امی کہہ کر گئی ہیں میرے پاس رہنا ہے۔۔۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔ میں۔۔۔ کہیں بھی نہیں بس بیٹھک میں جا رہا ہوں کپیوٹر پر گیم کھیل لیتا ہوں فارغ وقت گزر جائے گا۔۔۔ سمیرہ۔۔۔گیم کھیل کر وقت کیسے گزرے گا اور بھی طریقے ہیں وقت گزارنے کے ۔۔۔ وہ مسلسل ذو معنی باتیں کر رہی تھی کہا جاتا ہے جتنے چھوٹے قد کے ہوتے ہیں وہ اتنے کی شیطان ہوتے ہیں۔۔۔ پنجابی میں چھوٹے قد والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔۔۔ اے جناں زمین دے اتے اناں ای تھلے اے(یہ جتنا زمین سے باہر ہے اتنا ہی زمین کے اندر ہے) یہ بات سمیرہ کے لیے بالکل ٹھیک بیٹھتی تھی۔۔۔ اس نے دوپٹہ اپنی کمر سے باندھا اس ممے جو بمشکل ٹینس بال جتنے تھے کھلے گلے اور ٹائیٹ قمیض کی وجہ سے اکڑے ہوئے لگ رہے تھے اس کا پیٹ بالکل نہ ہونے کے برابر تھا بڑی گانڈ جس کا نظارہ کل میرا لن چکھ چکا تھا۔۔۔ اس نے جھاڑو اٹھایا اور مجھے کہنے لگی اچھا اس طرح کرتے ہیں تم کپیوٹر پر گیم کھیل لو میں تب تک بیٹھک کی صفائی کر لیتی ہوں۔۔۔ میں۔۔۔ جی اچھا باجی کہہ کر بیٹھک میں چلا گیا اور کپیوٹر آن کر لیا وہ بھی آگئی اس نے ابتدا میں کمرے کے ایک کونے سے صفائی شروع کی میں کپیوٹر میں مگن ہو گیا۔۔۔ وہ رک رک کر مجھ سے باتیں بھی کر رہی تھی جان بوجھ کر کبھ جھک کر صفائی کرتی کبھی بیٹھ کر جب میں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہ دی تو کم از کم مجھے یہ ہی لگا ۔۔۔ وہ صفائی کرتی ہوئی بالکل میرے پاس آگئی اور بولی یہ گیم بھی کوئی گیم ہے بھلا تم گانے لگاؤ ۔۔۔ میں نے کہا گانے کہاں ہیں مجھے نہیں پتہ آپ بتا دو۔۔۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ماؤس پکڑا اور گانے ڈھونڈ کر سیلکٹ کر کے لگا دئیے وہ اس دوران اپنے ممے میری پیٹھ سے چپکا کر کھڑی ہو گئی تھی ۔۔۔۔ مموں کا لمس پا کر میرا لن اکڑ گیا تھا جس کو میں نے اپنی دونوں رانوں کے درمیان دبا لیا تھا۔۔۔ کسی انڈین فلم کا انتہائی بولڈ سین والا گانا تھا جس میں بہت ہی رومانوی مناظر تھے ۔۔۔۔ وہ دیکھ کر میری حالت غیر ہونے لگی اگر میں اس وقت اکیلا ہوتا تو پکی بات تھی میں اس وقت مٹھ مار رہا ہوتا۔۔۔۔ وہ بھی گانے کے ساتھ ساتھ جان بوجھ کر میرے سامنے گھومتے ہوئے اپنی کمر ہلا ہلا کر صفائی کر رہی تھی اور گنگنا بھی رہی تھی۔۔۔۔ ایسے ہی بار وہ اٹھی تو اس کی قمیض گانڈ میں پھنسی ہوئی تھی اس نے منہ دوسری طرف کر کے اپنی گانڈ میری طرف کی اور قمیض کو گانڈ سے نکالا ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر تو میرا لن پھٹنے والا ہو گیا اگر اس وقت سمیرہ کی جگہ کوئی اور ہوتی یا سمیرہ میرے ماموں کی بیٹی نہ ہوتی تو میں اس کی گانڈ میں لن گھسا چکا ہوتا۔۔۔ میں نے برداشت کیا اور اپنی توجہ کپیوٹر سکرین پر مرکوز کر دی۔۔۔ سمیرہ نے ساری بیٹھک کی صفائی کی اور میرے پاس ہی مجھ سے جڑ کر بیٹھ گئی اور گانے سننے لگی اب ایک اور گانا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔ یہ گانا بھی اس گانے کی طرح انتہائی رومان پرور تھا اوپر سے سمیرہ اپنا جسم مجھ سے چپکا کر بیٹھ گئی اس کا جسم بہت زیادہ گرم تھا۔۔۔ ، سمیرہ کے جسم کی گرمی دماغ پر چڑھنے لگی میں نے بھی اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ کر اس کے ساتھ لگا لیا بلکہ اس کی طرف ڈھلک گیا۔۔۔ لن پہلے ہی تن چکا تھا جب جسم کو ڈھیلا چھوڑا تو میری گود میں تنبو بن گیا سمیرہ نے لن کو ایک جھٹکے سے میری گود میں کھڑے ہوتے دیکھا ۔۔۔ اس تیزی سے میری طرف دیکھا لیکن میں یہ ظاہر کر رہا تھا کہ میری ساری توجہ سکرین پر ہے۔۔۔ سمیرہ نے کہا بلو مجھے گانا چینیج کرنا ہے ایک منٹ اس نے اٹھنے کے بہانے میری گود میں اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔ اس نے بہت ہی غیر محسوس انداز میں لن کو پکڑا تھا اور چھوڑ دیا تھا اٹھ کر میری دوسری طرف آئی جھک کر کپیوٹر کا ماوس پکڑا اور گانا بدلنے لگی ۔۔۔ میں کیونکہ کمپیوٹر سے دور ہو کر بیٹھ گیا تھا کمپیوٹر کے قریب جو کرسی رکھی تھی وہ اس جی بیک سائیڈ پر کھڑی ہو کر ماؤس استعمال کر رہی تھی۔۔۔ اس کے پورے جسم میں ایک گانڈ ہی تھی جو متاثر کر رہی تھی وہ بھی شاید یہ بات جانتی تھی اس لیے بار بار گانڈ کے درشن کروا رہی تھی۔۔۔ اب بھی وہ گانڈ کو باہر نکالے جھکی ہوئی تھی میں تو گانڈ کے نظارے میں مگن تھا اس نے گانا بدلا اور پیچھے ہٹتی ہوئی میری گود میں بیٹھ گئی ۔۔۔۔ پھر وہیں بیٹھے بیٹھے میری طرف گھوم کر منہ کر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی آااووو یہ کیا میں سمجھی تم ادھر بیٹھے ہو ۔۔۔۔ لیکن تب تک لن اس کی گانڈ اور چوت کو چھوتے ہوئے ٹانگوں کے بیچ سے آگے نکل چکا تھا ۔۔۔ اس کی گانڈ کی گرمی مجھے اپنی گود میں اور پھدی کی گرمی لن پر محسوس ہوئئ ۔۔۔ اس کے اس طرح بیٹھنے سے میرے ہاتھ خود بخود اس کی کمر کو دونوں طرف سے تھام چکے تھے۔۔۔ وہ اٹھنے لگی تو میں نے دباؤ بڑھا دیا اس نے مجھے گردن گھما کر دیکھتے ہوئے کہا بلو ہممم ابھی حساب برابر نہیں ہوا کیا۔۔۔ میں شرمندہ ہو گیا ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی کر دی لیکن وہ پھر بھی بیٹھی رہی۔۔۔ میرا لن مجھے مجبور کر رہا تھا کہ اس کو کسی موری میں گھساؤں اتنا سب ہونے کے باوجود بھی ہم دونوں میں ابھی جھجھک قائم تھی۔۔۔ میں نے ہمت کرکے نیچے سے تھوڑا سا ہلنے کی کوشش کی اس نے بھی خود جو ایڈجسٹ کیا لن نے شاید اس کی پھد کو ٹچ کیا تھا اس کے منہ سے سئیی کی آواز نکلی۔۔۔ میں اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے پیٹ پر ایسے رکھ دئیے جیسے کسی بچے کو گود میں بٹھا کر رکھتے ہیں۔۔۔ اس نے میرے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور گانڈ کو تھوڑا سا ہلا کر لن کو پھدی سے ٹچ کیا ۔۔۔ اب مجھ سے بالکل بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا میں نے اس کی گردن ہر ناک رکھ دی اور کان کی لو کے نیچے رگڑنے لگا۔۔۔۔ لمبی ناک کی نوک نے اس کے جسم میں جھرجھری پیدا کی اس کا جسم کانپ کر رہ گیا اس نے اپنی پیٹھ میرے سینے سے لگا دی اب لن اس کے چڈوں میں گھسا تھا۔۔۔۔ میں نے نیچے سے آہستہ آہستہ نامعلوم طریقے سے ہلنا شروع کر دیا کچھ دیر ایسا کرنے سے اس کے جسم میں گرمی بڑھ گئی اس کی سانس بھی تیز تیز چلنے لگی۔۔۔ وہ خود کو سنبھال نہ پائی اس نے خود ہی اٹھ کر مجھے کھینچ لیا قد میں وہ میرے سینے تک ہی آتی تھی۔۔۔ مجھے گلے لگا لیا میرا لن اس کے پیٹ میں چبھنے لگا اس کے چھوٹے چھوٹے ممے بھی مجھے اس وقت مزا دے رہے تھے جو سینے سے نیچے کر کے دب گئے تھے۔۔۔ میرے ہاتھ خود بخود اس کی کمر پر چلے گئے وہ اپنی ایڑیاں اٹھا کر پھدی کو لن تک پہنچانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ میں نے خود کو تھوڑا جھکا کر لن کو اس کی پھدی سے لگایا اس نے اپنے چڈوں کو بھینچ کر دبا لیا۔۔۔ لیکن مجھ سے اس ظرح زیادہ دیر کھڑا نہ ہوا گیا میں نے اس کو دھکیل کر دیوار کے ساتھ لگا لیا نیچے ہو کر لن اس کی پھدی پر کپڑوں سمیت ہی لگا کر رگڑنے لگا۔۔۔۔ وہ اپنی ساری طاقت لگا کر مجھے اپنے آپ سے دبا رہی تھی میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دیا اس کے ممے پکے ہوئے امرود کی طرح تھے نرم لیکن چھوٹے میں ان کو دبانے لگا۔۔۔ مموں کو جتنی زور سے دباتا وہ اتنے کی زور سے مجھے اپنے ساتھ دباتی میرا لن بھی اس کی پھدی سے ویسے ہی رگڑ کھاتا۔۔۔ اس نے خود اب پھدی کو لن پر رگڑنا شروع کر دیا مجھے بھی مزہ آنے لگا تھا لیکن کپڑے رکاوٹ بن رہے تھے۔۔۔ میں نے ہاتھ نیچے لیجا کر اپنا ناڑا کھولا لن پیچھے ہو کر لن کو شلوار سے نکال لیا پھر اس کی شلوار کو پکڑ کر نیچے کیا۔۔۔ اپنا ہاتھ اس کی پھدی پر لگایا جو پانی سے سے تر بتر ہو چکی تھی اپنے ہونٹ اس کی گردن کر رکھ دیئیے لن کو ہاتھ سے پکڑ کر اس کی پھدی کے لبوں پر رگڑنے لگا۔۔۔۔ اپنی زبان نکال کر گردن کو چاٹنے لگا ساتھ ساتھ لن کو بھی رگڑ رہا تھا اس کی سانسیں تیز سے تیز ہو رہی تھیں۔۔۔ جسم کپکپا رہا تھا یہ ڈر کی وجہ سے تھا یا وہ مزے سے کانپ رہا تھا لیکن میں فل موڈ بنا چکا تھا کہ لن اس کی پھدی میں گھسا کر ہی رکوں گا۔۔۔۔ مزے میں ڈوبے میں نے لن کی ٹوپی اس کی پھدی کے لبوں سے لگائی انگلی سے پھدی کی موری کو ٹٹولا لن کا ٹوپا موری پر رکھا ۔۔۔۔ تھوڑا اور جھکا گانڈ اپنی گانڈ کو سخت کیا لن ہر دباؤ بڑھایا لیکن لن پھسل کر اوپر نکل گیا ۔۔۔۔ مجھے سمجھ آگئی اس پوزیشن میں لن نہیں گھسے گا اس لیے اس کو لے کر چارپائی پر آیا ۔۔۔ چارپائی پر لٹایا اس نے اپنی قمیض سے پھدی کو ڈھانپ لیا میں لن کو ہاتھ میں پکڑے اس کے اوپر آیا اس کی ٹانگوں کو کھولا اور اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیں۔۔۔۔ لن کو ہاتھ سے پکڑ کر اس کی پھدی پر رکھا لبوں میں گھسایا اس کے اوپر لیٹنے سے پہلے میں نے سوچا کچھ اندر کر لوں ۔۔۔ زور ڈالا تو پھدی نے کھلنے سے انکار کر دیا اس کی پھدی اتنی ٹائیٹ تھی میں نے پھر دباؤ بڑھایا ٹوپی کو ہاتھ کی مدد سے اندر گھسانے لگا لیکن بے سود۔۔۔۔ لن کو پیچھے کیا اپنے ہاتھ کی انگلی کو پھدی میں ڈالا تو انگلی کے جانے سے اس نے سییی کی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔ کچھ دیر انگلی کو اندر گھماتا رہا پھدی کی گرمی کو انگلی پر محسوس کرتا رہا انگلی گرم ہو گئی۔۔۔ انگلی باہر نکالی اس کا پانی لن کی ٹوپی پر لگایا ٹوپی کو تر کیا پھر ٹوپی کو پھدی کے لبوں میں رگڑنے لگا ۔۔۔۔ لن کو نیچے سے اوپر کی طرف جب رگڑتا تو وہ اپنا سر دائیں بائیں مارتی میں ایسا کرنا جاری رکھا وہ نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن لینے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ لن کی ٹوپی اب پھدی کے پانی سے بھیگ چکی تھی میں نے لن کو پھدی کے لبوں میں گھسایا سوراخ کا نشانہ لیا ۔۔۔ اب میں یہ سمجھ چکا تھا ابھی سیل پیک ہے اس لیے اس کے اوپر آکر ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے اس نے صدیوں کے پیاسے کی طرح میرے ہونٹوں کو چومنا شروع دیا میں نے لن پر دباؤ بڑھایا ۔۔۔ ٹوپی اندر اتر گئی اس نے میرےہونٹوں زور سے کاٹ لیا اس کے چہرے کے ایکسپریشن بدل گئے وہاں درد کی لہریں نظر آنے لگیں۔۔۔ میں نے تھوڑا اور دباؤ ڈالا اس نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ لیا مجھے رکنا پڑا لیکن لن ٹوپی سے کچھ زیادہ اندر چلا گیا۔۔۔ میں نے لن کو وہیں روکا اور اس کے مموں کو دبانے کے ساتھ ساتھ ہونٹوں کو چوسنے لگا ۔۔۔ ہونٹ چوسنے سے مجھے نمکیں سا ذائقہ محسوس ہوا جو بعد میں پتہ چلا کہ میرا ہونٹ کٹ گیا تھا۔۔۔۔ کافی دیر ہونٹ چوسنے اور ممے دبانے کے بعد جب اس نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا تو میں نے کہا باجی اب آگے کروں ۔۔۔ اس نے مدہوشی میں ڈوبے ہاں میں سر ہلایا دیا۔۔۔ میں تب تک سمیرہ کو باجی ہی کہتا تھا اس لیے بچپن سے کہنے کی عادت تھی تو اسی عادت کی وجہ سے منہ سے نکل جاتا تھا۔۔۔ اس نے ہاں میں سر ہلایا میں لن پر زور لگایا لن ابھی ایک انچ بھی نہیں گیا تھا کہ سمیرہ نے پھر سے میرے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر مجھے روک دیا اور میری پیٹھ کر اپنے ہاتھوں سے شکنجہ کس لیا۔۔۔ میں نے ایک بار صبر کا مظاہرہ کیا اور ہونٹ چوسنے کے ساتھ ساتھ ممے دبانے لگا لیکن میں اب اس تھوڑے تھوڑے سے کن گھسانے کے عمل سے الجھن کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔ لیکن ایک بات تھی اب جب کبھی مجھے سمیرہ کی پھدی یاد آتی تو یہ کہتے ہوئے ذرہ بھی نہیں ہچکچاتا کہ سمیرہ کی پھدی ٹائٹ پھدی مجھے آج تک نہیں ملی۔۔۔۔ ایک تو اس کی عمر کافی ہو گئی تھی دوسرا اس کے قد کی وجہ سے عجیب بے ڈھنگے جسم کی وجہ سے کویی اس کو گھاس نہیں ڈالتا تھا ۔۔۔۔ زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے اس کی ہھدی بھی زیادہ ٹائٹ ہو چکی تھی لیکن گرم وہ عام لڑکیوں سے زیادہ تھی ۔۔۔۔ میں نے کوئی پانچ منٹ پھر اس کو چوما چاٹا اس نے جب فل موڈ میں گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو اندر لینے کی کوشش شروع کی تب بھی میں نے لن پر دباؤ نہ بڑھایا اب میں اس انتظار میں تھا کہ وہ اپنے آخری لمحات میں داخل ہو تو ایک ہی بار میں سارا لن ٹھوک دوں۔۔۔۔ اس دوران میں نے اس کی قمیض کو اوپر کیا جو اس نے بہت آسانی سے کر دی اس کے چھوٹے چھوٹے ممے جو کسی 14 سال کی لڑکی جتنے تھے ۔۔۔ میں نے اپنے منہ میں بھر کر چوسنے شروع کر دئیے وہ میرا سر پکڑ کر اپنے مموں کر دبانے لگی ۔۔۔ ممے جتنی چھوٹے تھے نپل اس حساب سے بڑے تھے لیکن تھے ایک دم دودھ جیسے سفید گول مٹول ۔۔۔ میں نے اپنی زبان نکال کر اس کے دائیں ممے کے نپل کے گرد پھیرنی شروع کی تو اس کے پھدی میرے لن ہر تڑپنے لگی ۔۔۔ اس کا پورا جسم کانپ اٹھا میں نے اس کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے ذبان کو مسلسل اس کے نپل کے گرد پھیرا شروع کر دیا۔۔۔ اس کا ہاتھ میرے سر کو اپنے مموں پر دبا رہا تھا نیچے سے وہ اپنی گانڈ کو اٹھا کر لن کو اور اندر لینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ میں ہر بار اس کی کوشش کو ناکام کر رہا تھا جب دونوں مموں کے ساتھ اچھا خاصہ انصاف کر لیا تو اپنے ایک ہاتھ کی دو انگلیوں میں ایک ممے کے نپل کو لے کر میں نے اس کے ہونٹ چوسنے شروع کر دئیے کیوں کہ اب مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ آنے والی ہے۔۔۔ میں نے لن کو تھوڑا سا باہر نکالا ٹوپی کو اندر رہنے دیا پھر جتنا پہلے تھا اتنا اندر کیا اسی طرح چار پانچ بار کرنے کے بعد میں نے اپنی کمر کس کی۔۔۔۔ میں نے اس کو ہونٹوں کو مکمل اپنے قبضے میں لے لیا اپنے دونوں بازو اس کی کمرکے نیچے سے گزار کر اس کو پکڑ لیا۔۔۔ جیسے ہی میں نے جھٹکا مارنے کا ارادہ کیا زور دار آواز کے ساتھ بیٹھک کا دروازہ ناک ہوا ۔۔۔۔ دروازے پر دستک سن کر میری بنڈ پھٹ گئی میں نے جلدی سے لن پھدی سے نکالا اور اپنا ناڑا باندھا ۔۔۔ جب ناڑا باندھ کر سیدھا ہوا تو دیکھا سمیرہ غائب تھی وہ شاید اندر بھاگ گئی تھی۔۔۔ اب میں نے اپنا چہرہ صاف کیا میں نے آںکھیں ملنا شروع کر دیں اور اسی طرح دروزے کے پاس گیا اس وقت تک ایک بار اور دروازہ زور سے بجا۔۔۔۔ میں آنکھیں ملتے ہوئے دروازہ کھولا تو سامنے مامی اور امی کھڑی تھیں ۔۔۔ میں نے کسملندی کا ڈرامہ کرتے ہوئے ایک انگڑائی لی اور واپس اندر ہو کر چارپائی کر گرنے کے انداز میں لیٹ گیا۔۔۔ مامی نے کہا میرا ستا پیا سی مجھے پتہ ہوتا میں یہ دروازہ نہ کھڑکاتی۔۔۔ پھر بولی سمیرہ کہاں ہے ۔۔۔ میں پتہ نہیں میں تو یہاں آ کر سو گیا تھا وہ یہاں صفائی کرکے چلی گئی تھی شاد نہا رہی ہو۔۔۔ یہ میں نے جان بوجھ کر اونچی آواز میں کہا کہ اگر سمیرہ یہاں اگر قریب ہی ہے تو سن لے اور واشروم میں گھس جائے۔۔۔۔ مامی نے اچھا کہا اور امی اور وہ اندر چلی گئیں میں بھی اٹھ کر ان کے پیچھے گیا تاکہ اندر کیا سین ہے وہ دیکھ سکوں۔۔۔ اندر جا کر پتہ چلا سمیرہ واشروم میں ہے تو تسلی ہو گئی میں منہ دھویا اور واپس بیٹھک میں آنے کی بجائے امی کو بتا کر کھیتوں میں چلا گیا۔۔۔ وہاں ماموں کے ساتھ ایسے ہی باتیں کرتا رہا ماموں لوگوں کے کھیت میں لوکاٹ ،آم اور امرود کے درخت لگے ہوئے تھے۔۔۔ میں نے لوکاٹ توڑ توڑ کر کھائے ماموں بھی کام سے فارغ ہو گئے پھر میں ان کے ساتھ بیل گاڑی (ریڑھا) پر بیٹھ کر گھر آگیا اصل میں ماموں کام کرتے اور ساتھ ہی بھینسوں کے لیے چارہ بھی کاٹ لیتے تھے اور چارہ گھر لانے کے لیے بیل گاڑی تھی۔۔۔ گھر آتے آتے دوپہر گزر گئی گھر آ کر نہایا کھانا کھانے کے لیے کچن میں گیا تو وہاں مائرہ بھی بیٹھی کھانا کھا رہی تھی ۔۔۔ اس کو دیکھا ایک نظر روٹیاں پکاتی سمیرہ باجی کو دیکھا پھر یہ سوچنے لگا یہ دو بہنوں میں اتنا فرق کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔ کہاں ماموں اور مامی کے قد کہاں مائرہ کی خوبصورتی اور یہ سمیرہ اب ایک بار مجھے خود پر حیرت ہو رہی تھی کہ میں سمیرہ کی پھدی میں لن گھسا رہا تھا۔۔۔۔ لیکن سمیرہ کے چہرے پر مجھے دیکھ کر مسکراہٹ پھیل گئی تھی جب کہ مائرہ مجھے منہ چڑا رہی تھی۔۔۔ کھانا کھا کر میں بیٹھک میں جانے لگا تو مامی نے کہا بلو مائرہ کو کچھ سوال وغیرہ کروا دو یہ کہہ رہی تھی اس کو نہیں آتے اس نے اپنی سہیلی کے پاس پڑھنے جانا ہے۔۔۔ میں کہا اب پتہ نہیں کونسے سمجھنے ہیں مجھے آتے بھی ہیں یا نہیں ۔۔ مامی نے کہا باجی تو کہہ رہی تھی کہ تم سے تمہارے ہمسائیوں کی لڑکی روز پڑھنے آتی ہے تمہیں آتے ہوں گے۔۔۔۔ مامی کے منہ سے ہمسائیوں کی لڑکی کا ذکر ان کر مجھے وہ پرشباب جسم مچلتے ہوئے جذبات وہ آہیں وہ سسکیاں وہ پیار و محبت کے دعوے وہ پر شہوت لمحات وہ خون سے بھری پھدی افففف سب ایک ہی جھٹکے میں یاد آگیا۔۔۔ شانزل یاد ائی تو اس کی کہی گئئ باتیں بھی یاد آگئیں اس کا پیار کا اظہار بھی یاد آیا ۔۔۔ مجھے خود پر گھن آنے لگی کہاں شانزل کا سچا پیار اور کہاں میرے لن کی پیاس ۔۔۔ میں کتنا بے حس ہو گیا تھا مجھے خود بھی نہیں پتہ تھا مجھے کل آنے سے پہلے صبح کے وقت اس سے ہونے والی ملاقات میں اس کی کہی گئی باتیں یاد آنے لگیں۔۔۔ میں چپ سا ہر کر شانزل کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ مامی کی آواز مجھ واپس حال میں لے آئی۔۔۔ مامی بولی بلو کی ہویا ۔۔۔ اسی دوران مائرہ بھی ٹپک پڑی اس نے بھی لقمہ دینا اپنا فرض سمجھا۔۔۔۔ وہ بولی امی آپ بھی کمال کرتی ہیں اس کو کہاں آتے ہوں گے ۔یہ تو شکل سے ہی نالائق لگتا ہے۔۔۔ میں نے کہا تمہاری ظرح نہیں ہوں اس بار بھی اچھے نمبرون سے پاس ہوا ہوں تم اتنے نمبر لے کر دکھانا آئی بڑی افلاطون۔۔۔ مائرہ کونسا کم تھی آ ہو مجھے پتہ ہے کیسے نمبر آئے ہوں گے کسی اور کے پیپر دیکھ کر کرتے رہے ہو گے ۔۔۔ اپنی عادتیں نہ بتاؤ نقلیں لگانا تمہارا کام یے مجھے آج پتہ چلا۔۔۔ اوہ اچھا میں نقلیں لگاتی ہوں تم تو بڑے ذہین ہو تو چلو مجھے پڑھاؤ مجھے ریاضی کے کچھ سوال نہیں آتے وہ سمجھاو۔۔۔ میں بھی ضد میں آگیا ویسے بھی ریاضی میرا پسندیدہ مضمون تھا میں کہا چل آجا تمہیں سمجھاتا ہوں تمہاری استانی بھی ویسے نہیں سمجھا پائے گی۔۔۔ وہ اندر کمرے میں جاتے ہوئے بولی آجا پھر ابھی دودوھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔۔ امی اور مامی ہماری نوک جھونک پر ہنس رہی تھیں۔۔۔ میرے لیے اب انا کا مسئلہ بن گیا تھا میں بھی مائرہ کے پیچھے پیچھے تیز تیز چلتا ہوا اندر داخل ہوا ۔۔۔ جیسے ہی میں اندر داخل ہوا مائرہ سے جا ٹکرایا وہ دروازے کی طرف پیٹھ کر کے جھکے ہوئی کوئی چیرز اٹھا رہی تھی۔۔۔ میں بے دھیانی میں اس کے پیچھے جا لگا مطلب میرا اگلا حصہ یعنی لن اس کی گانڈ سے جا ٹکرایا۔۔۔ اس کی گانڈ کی نرمی ایک لمحے میں مجھے وہ دن یاد آگیا جس دن اس کی گانڈ میں لن ڈالنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔۔۔ وہ ایک دم سیدھی ہوئی اور میری طرف غصے سے گھومی میں اس کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔ اس کےچہرے پر ناگواری کے تاثرات تھے اس نے مجھے کہا کچھ نہیں جا کر بیڈ پر بیٹھی اور کتابیں نکالنے لگی۔۔۔ بیگ سے ریاضی کی کتاب نکالی وہ اس وقت ہشتم کلاس کی طالب علم تھی لیکن لگتی وہ دسویں کی تھی۔۔۔ وقت سے پہلے ہی اس کے ممے بڑے ہو گئے تھے جسامت میں بھی وہ بھاری تھی چہرے کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ جوانی کے سنہری دور میں ہے۔۔۔۔ خیر اس نے الجبرا کا ایک مشکل سوال جو اس کے خیال میں تھا مجھے سمجھانے کو کہا۔۔۔۔ میں ریاضی میں اچھا تھا مجھے وہ سوال دیکھ کر ہنسی آگئی کیونکہ میں اس سے دو سال سینئر تھا میرے لیے وہ سوال مذاق ہی تھا۔۔۔ میں بہت آسانی سے وہ اس کو کروا دیا اس نے اپنے چہرے پر سنجیدگی سجا رکھی تھی۔۔۔ اسی سنجیدہ چہرے کے ساتھ اس نے ایک اور سوال سمجھانے کو کہا جو کہ مجھے ابھی یاد ہے سچ میں مشکل تھا ۔۔۔۔ الجبرا کا عبارتی سوال ہو اور آسان لگے تو اس کا مطلب ہے بندے کو ریاضی سچ میں آتی ہے۔۔۔۔ میں نے عبارت پڑھی اس کو بھی عبارت کا مفہوم سمجھایا سوال کروانا شروع کیا سوال حل کر لیا تو اس نے سوال کا جواب چیک کیا اور قہقے لگا کر ہنسنے لگی۔۔۔۔ ساتھ میری طرف اشارہ کرتی اور ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی میں شرمندہ ہونے لگا میں نے اس سے کتاب پکڑی اور جواب چیک کیا تو میں نے اس کو منہ چڑایا اور کہا آئی وڈی پروفیسر سوال دا جواب تاں ویکھنا نیں آندا تے ہاسے ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ سے کتاب چھین لی پھر سے سوال کا نمبر چیک کیا پھر جواب دیکھا تو شرمندہ ہو گئئ۔۔۔۔ میں نے کہا اور کوئی سوال ہے تو وہ بھی سمجھ لو اس نے کہا بس اور نہیں ہے اس کی ٹون یکدم بدل گئی ۔۔۔۔ وہ سجنیدہ ہو کر بیٹھ گئی اور سوال کرنے لگی میں اس کو سوال کرتے دیکھ کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھانے لگا۔۔۔ اس نے میری آنکھوں کی تپش محسوس کر کی نظریں اٹھا کر مجھے گھورتے ہوئے کہا کیا ہے ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے ناں میں سر ہلایا ۔۔۔ اس نے ایسے ہی غصے سے سر جھٹکا اور پھر کام کرنے لگی۔۔۔۔ میں اپنے کزن کے ساتھ گراؤنڈ کرکٹ کھیلنے چلا گیا وہاں خوب جم کر کرکٹ کھیلی ان کا گراؤنڈ تو بڑا تھا لیکن سامنے کی باونڈری کی لمبائی کم تھی ۔۔۔۔ اس کم لمبائی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مخالف ٹیم کے باؤلروں کی خوب درگت بنائی۔۔۔ میری وہاں واہ واہ ہو گئی جیسے بھی ہو مزہ مجھے بھی بہت آیا جب بندہ اچھا پرفارم کرتا ہے تو اندر کی فیلنگ ہی کمال ہوتی ہیں۔۔۔۔ شام کو گھر آئے کھانا کھایا تو مامی نے اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ لیا اور اپنے بھایی کے گھر دوسرے گاوں چلی گئیں وہاں کوئی شادی کا فنکشن تھا۔۔۔ پیچھے رہ گئے ماموں میں اور سمیرہ ماموں چھت پر سونے چلے گئے میں بیٹھک میں اور امی سمیرہ اور مائرہ ایک کمرے میں سو گئیں۔۔۔۔ رات کا پتہ نہیں کونسا پہر تھا کہ میری آنکھ کھل گئی مجھے پیاس لگی تھی میں اٹھ کر پانی پیسنے صحن میں گیا۔۔۔۔ وہاں مجھے مائرہ بھی پانی پیتی ملی میرے اندر بچپن والا شیطان گھس گیا اس کا منہ دوسری ظرف تھا میں دائیں بائیں دیکھا کسی کو نہ پا کر لن تو پہلے ہی سو کر اٹھنے کی وجہ سے کھڑا تھا۔۔۔۔ لن کی کس کو پرواہ تھی وہ تو ویسے بھی کھڑا ہونے کے لیے تیار رہتا تھا۔۔۔۔ میں نے مائرہ کے پیچھے جا کر اپنا لن اس کے گانڈ سے لگا دیا وہ کرنٹ کھا کر دور ہو گئی۔۔۔ اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے مڑ کر دیکھا اس کا ایک ہاتھ اپنے سینے پر تھا دوسرے ہاتھ میں جو گلاس تھا وہ نیچے گر گیا ۔۔۔۔ یہ تو فرش کچا تھا جس کہ وجہ سے آواز نہ آئی ورنہ اب تک سب لوگ جا چکے ہوتے۔۔۔ اس نے کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھا اور بدتمیز ذرہ بھی تمیز نہیں ہے تم میں گھٹیا انسان ہو یہ کہتی ہوئی وہ اندر چلی گئی۔۔۔۔ میں جو یہ سمجھ رہا تھا کہ اس سے تو بچپن سے ہی گٹی جڑ چکی ہے اس کو پٹانا آسان ہو گا اس سب سوچ کو اس نے ایک ہلے میں بہا کر رکھ دیا۔۔۔۔ میں نے پانی پیا اور واپس بیٹھک میں آ کر لیٹ گیا کافی دیر جاگنے کے بعد نیند آئی ۔۔۔ صبح دیر سے اٹھا وہ بھی سمیرہ نے آ کر جگایا کہا لاٹ صاحب اٹھ جاو اور ناشتہ کر کو میں نے اور کام بھی کرنے ہیں۔۔۔۔ میں اٹھ کر واش روم تازہ دم ہو کر واپس باہر آیا تو سمیرہ کچن میں بیٹھی تھی اس نے مجھے ناشتہ دیا میں ناشتہ کرنے لگا۔۔۔ ناشتہ کرتے کرتے مجھے احساس ہوا کہ گھر میں کچھ زیادہ کی خاموشی ہے میں نے سمیرہ سے پوچھ ہی لیا کہ امی کہاں ہیں۔۔۔ اس نے بتایا کہ وہ ابو یعنی میرے ماموں اور خالا کے ساتھ کسی کام سے گئی ہیں شام تک آئیں گی اور میں نے مائرہ کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ سکول گئی ہے اس کا آج ٹیسٹ تھا۔۔۔۔ میرے ذہن میں کوئی اور بات نہ آئی نہ ہی سمیرہ نے کوئی اور اشارہ دیا ناشتہ کیا اور واپس بیٹھک میں گھس کر کمپیوٹر پر ایک انڈین فلم لگا لی۔۔۔ فلم انڈین اداکار عمران ہاشمی کی تھی جس کے سین دیکھ کر لن تن گیا میرا اندر شہوت جاگ گئئ۔۔۔ میں نے ادھر کا سوچا نہ ادھر کا سوچا اٹھا اور اندر گھر والے حصے میں جا گھسا ادھر ادھر دیکھنے پر سمیرہ مجھے کمرے میں صفائی کرتی ملی۔۔۔۔ میں نے جا کر اس کو پکڑ لیا اپنے گلے لگایا تنا ہوا لن اس کے پیٹ میں جا لگا جھک کر اس کے لبوں پر لب رکھ کر رس کشید کرنے لگا۔۔۔۔ ساتھ ہی خود بخود میرے ہاتھ اس کے مموں پر چلے گئے وہ پسینے میں ڈوبی ہوئی تھی اس کے جسم سے پسینے کی بو آ رہی تھی ۔۔۔ مجھ تو شہوت سوار ہو چکی تھی مجھے وہ بو بھی اچھی لگ رہی تھی میں نے کسی بات کی پرواہ نہ کی مموں کو زور زور دبانے لگا ۔۔۔۔ ہونٹ چومتے چومتے میں اس کی گردن پر آتا گردن کو چومتا پھر ہونٹوں پر ہونٹ لے جاتا ۔۔۔۔ کبھی اس کی گال چومتا کبھی ٹھوڑی پر کس کرتا بے حد جنون میں مبتلا ہو گیا۔۔۔۔ اس کو بیڈ پر گرا لیا اور خود اوپر سوار ہو گیا اپنا ناڑا کھولا اس کی شلوار نیچے کی لن کو پھدی کے لبوں میں پھنسایا تو ٹوپی پر اس کی پھدی کا پانی لگنے سے ٹوپی گیلی ہو گئی۔۔۔۔ لن پر دباؤ بڑھایا ٹوپی اندر اتر گئئ میں نے کچھ توقف کیا پھر اور دباؤ بڑھایا لن کچھ مزید اندر گیا ۔۔۔۔ آج سمیرہ باجی کی پھدی کچھ زیادہ ہی گیلی تھی لن اندر اتر رہا تھا اور وہ روک بھی نہیں رہی تھی۔۔۔۔ میں نے مزید زور لگایا لن کچھ اور آگے چلا گیا یہاں سمیرہ باجی نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ کر مجھے مزید آگے کرنے سے روک دیا۔۔۔۔ میں نے لن کو جتنا اندر ہو چکا تھا اندر باہر کرنا شروع کیا کچھ دیر ایسے ہی کرنے کے بعد جب سمیرہ باجی نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ سے ہٹا کر کمر پر رکھا ۔۔۔۔ میں نے لن کو آرام سے پیچھے کیا پنی گانڈ کو کس کر ایک زوردار گھسا مارا لن آدھے سے زیادہ پھدی میں اتر گیا ۔۔۔۔ لن کیا اترا سمیرہ کی حالت ذبح ہوتی بکری جیسی ہو گئئ اس نے دائیں بائیں سر گھماتے ہوئے چیخ ماری اور رونا شروع کر دیا۔۔۔۔ اس کی حالت دیکھ کر میری حالت پتلی ہونی چاہیے تھی لیکن میں نے لن کو آرام سے پیچھے کھینچا اور پھر ایک زور دار گھسا مار دیا ۔۔۔۔ یہ انسان کی فطرت ہے جب سیکس کر رہا ہوتا ہے اس کو مخالف جنس کو تکلیف دے کر تسکین ملتی ہے مجھ پر بھی اس وقت وہ ہی تسکین کے حصول کی خوہش حاوی ہو چکی تھی۔۔۔ لن تو پتہ نہیں کتنا اندر گیا لیکن سمیرہ باجی کی آنکھیں بند ہونے لگیں وہ نیم بے ہوشی کی کیفیت میں آگئی۔۔۔
  17. 7 likes
    یہ کمنٹ ڈاکٹر صاحب کا ہے جو کہ افتتاحی نویت رکھتا ہے اس پر لکھی تاریخ اور وقت سے اندازہ کیجئیے کہ یہ کہانی کتنی پرانی ہے ہم لوگ اس کہانی کو 250 صفحات پر جوائن کیا تھا اب تک ان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور بھئ بہت سی بہترین کہانیاں موجود ہیں اور مکمل بھی لیکن اس کہانی کا الگ ہی معیار ہے اس کہانی کی لذت اس پڑھنے کا جنون ایک الگ ہی مزہ ہے جب پڑھ رہے ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے سب آنکھوں کے سامنے ہو رہا وہ ٹیوشن والے سین ٹالی کے نیچے والے سین مہری والا درد سین وہ باغ میں خالہ زاد کی چمیاں مطلب کہنے کا یہ ہے کہ اس کہانی سے دلی وابستگی ہے تو جس سے صبر نہیں ہوتا برائے کرم جا سکتا ہے بےوجہ میں ڈاکٹر صاحب ایڈمنسٹریٹر سٹوری میکر کے ساتھ ساتھ وہ سب قارئین جو اس کہانی کو انجوائے کرتے ہیں ان کی دل ازاری مت کریں ورنہ تلخ جواب کے ساتھ سنگین جوابی کاروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے ۔ کہانی کا مزہ لیجئیے صبر کے ساتھ۔ شکریہ
  18. 7 likes
    استاد جی ۔ اپ کی بات بلکل سچ ہے پر ایک بندے کی وجہ سے اپ کا غصہ کرنا نہیں بنتا اپنا دل بڑا کیجے ۔ اور ہم جیسے محبت کرنے والوں کا سوچیے یہ لوگ نہیں سمجھ سکتے کہ لکھنا کتنا مشکل ہے پر ان کو سمجھایا بھی نہیں جا سکتا تو ٹھنڈے ہو جائیں
  19. 6 likes
    دیوانگی تمام دوستوں کو محبت بھرا آداب عرض ہے۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں گزشتہ سال کے آغاز سے اب تک پوری دنیا کورونا وائرس نامی ایک موذی اور وبائی مرض سے نبرد آزما ہے۔ کرہ ارض کے دیگر ممالک کی طرح ہمارا وطن اور اس کے باسی بھی اس وبا کا شکار ہوئے جس کے نتیجے میں جہاں جانی نقصان ہوا وہیں ایک اقتصادی اور معاشی بحران نے بھی جنم لیا۔ بہت سے لوگ بے روزگار ہوئے، کاروبار تباہ ہو گئے اور روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ ایسے میں اس فورم کی ایکٹیویٹی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ ہمارے فورم کے کلیدی اور ہر دلعزیز مصنف ڈاکٹر خان جو حال ہی میں روزگار کے سلسلے میں یورپ ہجرت کر گئے، فورم کو زیادہ وقت نہ دے سکے اور ابھی بھی وہاں سیٹل ہونے کی تگ و دو میں ہیں۔ ایسے میں قارئین کی طرف سے بار بار کہانیوں کی نئی اقساط کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ میری تمام قارئین سے گزارش ہے کہ فورم اور اس کے مصنفین کو دیگر دنیا کی طرح کورونا کے منفی اثرات سے باہر آنے کا وقت دیں۔ میں نے گزشتہ سال اس فورم کے لیے ایک کہانی لکھی تھی جو خاصی مقبول رہی۔ دوستوں کی حوصلہ افزائی کے پیش نظر میں جلد ہی اپنی دوسری کہانی لکھنے چاہتا تھا لیکن کورونا نے مجھے بھی بے روزگاری کا تحفہ دے دیا اور سنبھلنے کی سعی ابھی بھی جاری ہے۔ اب جبکہ کچھ وقت اور ذہنی سکون میسر آیا ہے تو میں نے اپنی دوسری کہانی لکھنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ کہانی کا عنوان ہے "دیوانگی" جسے پاگل پن، دماغی خلل یا خبط بھی کہا جاتا ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار دیوانگی کا شکار ہے اور اسی کیفیت میں اس کے نزدیک جو اقدامات بالکل درست ہیں وہ معاشرے کے نزدیک قابل تعزیر جرائم ہیں۔ یہ کہانی دراصل ایک انگریزی ناول سے ماخوذ ہے جسے میں نے یہاں کے کرداروں اور رہن سہن کے مطابق بدل دیا ہے۔ امید ہے قارئین کو یہ کہانی پسند آئے گی۔
  20. 6 likes
  21. 6 likes
    بچپن سے اب تک، قسط نمبر 21، ناشتہ کر کے فارغ ہوا تو باہر کا دروازہ بجا، امی کی آواز بھی ساتھ ہی گونجی کے جا پتر دروازہ پے دیکھ کون ہے، میں بد دل ہو کر اٹھا باہر گیا تو میرے چہرے پر رونق آ گئی اپنے عزیز دوست مانی کو دیکھ کر ہم گلے ملے سلام دعا ہوئی پھر مانی بولا پیچھے بیٹھ گھوم کر آتے ہیں، پھر میں نے کہا اچھا واہ چل تو رک میں بس گھر بتا کر آتا ہوں،اور مانی کا جواب سنے بغیر گھر آیا امی کو بتایا سکول کا دوست ہے اس کے ساتھ نوٹس لینے جا رہا ہوں، باہر آیا اور مانی کے پیچھے بیٹھنے لگا تو مانی بولا سالے اپنے لن کو دور ہی رکھنا،ہاہاہاہا، میں بھی ہنس دیا کہا دور ہی ہے ٹینشن نہ لے اب سکون میں ہے پھدی لے کر، مانی نے گردن گھما کر حیران ہو کر پیچھے دیکھااور بولا ہیییییییں، میں نے بھی کہا ہاااااااں، مانی منہ سیدھا کرتے ہوئے بولا چل بتا پھر سٹوری، اور بائیک آگے بڑھا دی،میں پیچھے بیٹھا اور ساجدہ کے ہوئی چدائی کی ساری سٹوری مانی کو لفظ با لفظ سنا دی ، اتنے میں ہم ایک جوس کارنر پہنچ چکے تھے مانی نے جوس کارنر کے سامنے بائیک روکی میں نیچے اترا تو دیکھا میرا لن بھی اپنی اوقات میں تھا میں نے اپنے لن کو شلوار کے نیفے میں پھانسی دیتے ہوئے مانی کی طرف دیکھا تو میری دیکھا دیکھی مانی بھی اپنے کھڑے لن کو پھانسی دے کر بولا سالے لن بھی کھڑا کروا دیا ہے چل اب اپنے لن کی کمائی سے جوس پلا کمزوری ہو رہی ہے، ہم ہنستے ہوئے شاپ میں آئے اور انار کے جوس کے دو گلاس کا آرڈر دے کر اپنی گپ شپ کرنے لگے، اتنے میں جوس آگیا اور جوس پی کر مانی بولا چل مہر صاحب کی طرف چلتے ہیں، باہر آئے تو مانی نے بائیک کی چابی مجھے دی اور کہا تو چلا اب، میں بولا سالے مجھے ٹھیک سے نہیں چلانی آتی ایسے ہی گر جائیں گے کوئی فائدہ نہیں، ( ابو کی بائیک پر ٹرائی مار مار کر بائیک چلانا سیکھ تو گیا لیکن کبھی ایسا موقع نہیں ملا تھا لانگ روٹ کا تھوڑی سی جھجک باقی تھی) لیکن مانی کے اسرار پر بائیک چلانی پڑی، اور خیر خیریت سے مہر صاحب کی طرف پہنچ گئے، ہاسٹل سے مہر کو پک کیا، ایسے ہی گھوم پھر کر ٹی سٹال پر رکے وہاں چائے پی اور گپ شپ بھی لگائی مانی مہر کے سامنے مجھے چھیڑتا رہا کہ سالا دانی اب پھدیوں سے کھیل رہا ہے بھئی، اور میں نے بھی کالر سیدھا کر کے سینہ چوڑا کر کے دکھا دیا، مہر اور مانی دونوں ہنسنے لگے، ایسے ہی گپ شپ میں چائے پی پھر وہا سے نکلے مہر صاحب کو ہاسٹل چھوڑا اور پھر میں نے گھر کی طرف بائیک گھما دی ٹائم بھی کافی ہو گیا تھا اور ڈانٹ بھی پڑنی تھی، خیر گھر پہنچ کر گھر کے باہر ہی کھڑے ہو کر گپ شپ کر رہے تھے کہ دروازہ کھلا اور سائرہ نے منڈی باہر نکال کر آواز دی دانش بھائی،،،،،،،،،،،،، آپ کی امی بلا رہی ہیں، ہم دونوں نے سائرہ کی طرف دیکھا سائرہ کی نظریں بھی مانی سے ملی اور وہ ہس کر اندر چلی گئی، مانی مجھے دیکھ کر بولا سالے مست آئیٹم ہے یہ تو مزے ہو گئے تیرے تو، میں اسے وہیں رکنے کا بول کر اندر آیا تو امی نے کہا جلدی سے نوشی کو اس کے گھر چھوڑ کر آو اور ابھی تک تمہارا دوست گیا نہیں؟ میں بولا نہیں وہ چلا جائے جلدی ہی، امی بولی اس کو روانہ کرو جلدی پھر نوشی کو چھوڑ کر آو لیکن پتا نہیں نوشی کو کیا جلدی تھی وہ بولی باجی 2 منٹ بھی نہیں لگنے اس کے دوست روز تھوڑی نہ آتے ہیں بس یہ مجھے گلی میں دیکھتا رہے گا تو میں چلی جاوں گی، نوشی نے اپنی چادر سے نقاب کرتے ہوئے کہا، امی نے کہا پھر بھی اچھا نہیں لگتا ایسے، لیکن نوشی نے کہا باجی دانش کا دوست ہی تو گلی میں اور کون ہوتا ہے اور دانش کا دوست دانش کی عمر کا ہی ہوگا کونسا مرد ہوگا ابھی یہ بھی تو بچہ ہی ہے اور اس کا دوست بھی بچہ ہے آب آیا ہوا ہے تو گپ شپ کرنے دو ان کو بس یہ مجھے یہاں سے دہکھتا رہے گا تو میں چلی جاوں گی، نوشی نے جب مجھے بچہ کہا تو میری طرف دیکھ کر آنکھ بھی ماری تھی اور میں نے نوٹ کیا تھا اس وقت ساری خواتین اپنا چہرہ نیچے کئے ہنس بھی رہیں تھیں، خیر پھر امی نے بھی کہا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی، نوشی مجھے دیکھ کر بولی چلو دانش ہم دروازے سے باہر نکلے تو مانی ہماری طرف ہی دیکھ رہا تھا، نوشی نے اسے دیکھا تو سرگوشی میں مجھ سے بولی یہ ہے تمہارا دوست، میں بھی اہستہ سے ہی بولا ہاں جی، اتنے میں مانی نے اپنی چالاکی کھیلی اور نوشی کو سلام کر دیا، میں پہلے تو حیران ہوا اور غصہ بھی آیا لیکن میرا سارا غصہ ختم ہوا اور اس کی جگہ حیرانی نے اپنا قبضہ جمایا جب نوشی نے بھی اس کو سلام کا جواب دیا اور حال چال پوچھ لیا، مانی نے بھی حال چال بتا کر نوشی کا حال پوچھا، پھر بولی دانش اپنے دوست کو کبھی ہمارے گھر لے آو، میں بس حیرانی سے ہی بولا جی ضرور اور پھر آگے کی طرف چل پڑی میں وہیں مانی کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور پھر ہم دونوں نوشی کی ہلتی ہوئی موٹی گانڈ کا نظارا کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے اور اپنی اپنی زبان کو اپنے ہونٹوں پرپھیر رہے تھے کہ تھوڑا آگے جا کر نوشی اچانک پیچھے مڑی اور ہم دونوں کو اپنی طرف دیکھتے دیکھ کر پہلے تو ہمیں چونک کر دکھایا پھر مجھے اشارہ کیا کہ دانش بات سنو، میں پھر مانی کو رکنے کا کہہ کر نوشی کے پاس چلا گیا تو نوشی بولی پاگل مجھے چھوڑنے نہیں آو گے ساتھ 1 منٹ بھی نہیں لگنا اور مجے تم سے بات بھی کرنی ہے، یہ سن کر میں نوشی کے ساتھ ساتھ چلمے لگا اور پیچھے دیکھ کر مانی کو اشارہ کیا تو رک میں ابھی آیا، اشرارہ کر واپسی کی طرف گھوما تو نوشی آہستہ بولی دانش تمہارا دوست تو بہت پیارا ہے، میں بولا جی پیارا تو ہے، نوشی پھر بولی بھروسے والا دوست ہے؟ میں بولا جی بھروسے والا ہے، تو نوشی بولی اب مجھے پکا یقین ہے تم نے اسے سب بتا دیا ہو گا کہ تم نے کس کس کے ساتھ کیا کیا اور کیسے کیسے کیا ہوگا، میں اچھی طرح جانتی ہوں، میں انکار کرتا اس سے پہلے نوشی پھر بولی بس بس اب جھوٹ مت بولنا آئی سمجھ اور کان کھول کر میری بات سنو میں گھر جا رہی ہوں اور یہاں سے واپس اپنے گھر جاو امی کو کوئی بھی بہانہ لگاو مجھے نہیں پتا تم کیا کہو گے اچھا اور اپنے دوست کےساتھ میرے گھر آو، پھر شرارتی انداز میں بولی آج تم دونوں کو مزا چکھاتی ہوں جاو شاباش جلدی اور گیٹ کھلا ہوگا اپنے دوست کی بائیک اندر ہی لیتے آنا اور پھر سیدھا چھت پر آنا، میں وہیں رک کر نوشی کو حیرانی سے دیکھنے لگا لیکن نوشی آگے چلتی گئی اور پیچھے مڑ کر اشارا کیا اب جاو بھی، میں پہلے تو حیران اور پھر ذہن میں اچانک فلم چل گئی کی مانی اور میں نوشی کو چود رہے ہیں واہ یہ سوچتے ہی لن نے سر اٹھانا شروع کر دیا، اور میں دل ہی دل میں جیلسی بھی فیل کر رہا تھا سالا مانی بھی پھدی مارے گا نوشی کی، لیکن مزا زیادہ آ رہا تھا کہ دونوں مل کر نوشی کو چودیں گے واہ، میں چلتے ہوئے واپس مانی کی طرف جا رہا تھا اور مانی بھی مجھے ہی دیکھ کر ہنس رہا تھا، اور میں یہ بھی سوچ رہا تھا کے سالے کو کیسے کہوں ، اس سے پہلے میں بولتا کہ مانی بول پڑا سالے نیچے تو دیکھ تیرا ہر ٹائم ایسے ہی رہتا ہے کیا ؟؟؟؟ انڈرویئر پہنا کر، پھر ہنسنے لگا میں نے نیچے دکھا تو میرا لن قمیض کے آگے ابھار بنائے کھڑا تھا، شٹ کہتے ہوئے میں نے اپنے لن کو نیفے میں پھانسی دی اور آہستہ سے مانی کو بولا پھدی مارنی ہے، مانی میری طرف دیکھ کے بولا کیا کیا پھر بول، میں پھر آرام سے اس کو بولاسالے شور مت کر اور بتا پھدی مارنی ہے اس آنٹی کی جو ابھی گئی ہے، مانی بولا یار کیا بات کر رہا ہے یہ آنٹی مل جائے تو مزا ہی آجائے، میں پھر آرام سے بولا اچھا تو رک میں گھر کوئی گیم کر کے آتا ہوں پھر چلتے ہیں نوشی آنٹی کی طرف، تو مانی بولا چل جلدی کر پھرمیرا ڈنڈا تو ٹیٹ ہونے لگا ہے، میں نے ہنستے ہوئے کہا سالے کنٹرول رکھ بس ابھی آیا اور ہنستے ہوئے گھر آگیا،اپنے روم میں آیا اور اپنی فزکس کی کتاب اٹھائی اور امی کو بولا دوست کے ساتھ جا رہا ہوں کھانا کھا کر آوں گا پڑھائی کرنے جا رہا ہوں، امی کی تھوڑی بہت ڈانٹ سن کر اپنے اسی کان سے واپس نکال پھینکی جس کان سے سن رہا تھا اگر دوسرے کان سے نکالتا تو بھی کچھ نہ کچھ ذہن میں بیٹھ جاتا لیکن اسی کان سے واپسی نکالنا مطلب کچھ بھی نہ سنا، اور باہر آگیا اور مانی نے مجھے دیکھ کر تیزی سے بائیک سٹارٹ کی اور اسے راستہ بتاتے ہوئے بولا سیدھا چل اور 1 منٹ میں ہی نوشی کے گھر کے باہر بریک لگی میں نے گیٹ کو ہاتھ مارا تو گیٹ کھل گیا میں اندر ہوا مانی کو بائیک اندر لانے کا اشارا دیا وہ بھی بائیک اندر لے آیا، میں نے گیٹ بند کر کے لاک کیا اور اچھی طرح سے چیک بھی کر لیا، مانی اپنی بائیک کو بند کر کے اسٹینڈ پر لگا چکا تھا پھر میں نے مانی کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے سیڑھیاں چڑھنے لگا تھوڑا آج میں تھوڑا گھبرا بھی رہا تھا اور سوچ بھی رہا تھا کہ آنٹی ہم دونوں کو ساتھ مل کر کرے گی ؟ یا پھر الگ الگ سے ؟، کافی سوالات آرہے تھے ذہن میں، خیر نوشی نے ہمیں اوپر سے دیکھ لیا تھا ہم آ گئے ہیں، سیڑھیاں چڑھ کر ہم دونوں نوشی کے کمرے کی طرف چلتے گئے اتنے میں نوشی نے اپنے بیڈ روم کا دروازہ کھولا اور مسکراتے ہوئے سلام کیا اور کمرے میں آنے کا اشارہ کر دیا، واہ کیا نظارا تھا اور کیا ہی کمال کی لگ رہی تھی کسی ملائم سے کپڑے کی پنک کلر کی نائٹی پہنی ہوئی تھی اور ڈوپٹہ تو تھا ہی نہیں بریزر کی پٹیاں واضع نظر آ رہی تھی نائٹی کے اندر سے ( اففف کمال کا جسم پایا ہے نوشی نے مانی میرے پیچھے آتے ہوئے آہستہ سے سرگوشی میں بولا) ہم دونوں اندر آگئے مانی تو سالا بہت ہی ایکسائٹڈ ہو رہا تھا، ہمیں بیٹھنے کا کہہ کر نوشی واپس باہر چلی گئی، ہم دونوں بڑے والے صوفے پر دراز ہو گئے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر بس آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کر رہے تھے کہ کیا ہو گا اب آگے؟؟؟؟؟ آج مجھے تھوڑا ڈر بھی لگ رہا تھا ناجانے کیوں اور (بعد میں بقول مانی کے وہ بھی بہت ڈرا ہوا تھا اس دن) اتنے میں نوشی بھی آگئ ایک ٹرے ہاتھ میں پکڑے اور ٹرے پر دو گلاس سجے ہوئے تھے اور گلاسوں میں جوس تھا، ہم دونوں کو جوس دے کر نوشی ہمارے سامنے بیڈ پر بیٹھ گئی اور اس کے بیٹھنے کا انداز انتہائی شدید قسم کا سیکسی تھا دل کر رہا تھا کہ سالی کی ایسے ہی ٹانگیں اٹھا کر گانڈ میں لن پیل دوں سالی بیڈ پر بیٹھ کر تکیے سے ٹیک لگا نیم لیٹی حالت میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اپنی بڑی سی گانڈ نکال کر بڑا ہی سیکسی نظارا پیش کر رہی تھی، پھر نوشی مانی سے اس کے گھر اور فیملی کے بارے میں پوچھنے لگی اور بڑے ہی سیکسی انداز سے سوال کر رہی تھی مانی سے، ہم دونوں نے اپنے اپنے اوزاروں پر بہت ہی مشکل سے قابو پایا ہوا تھا اور نوشی ہمارے اس انداز کو دیکھ کر مزید چسکے لے رہی تھی اور اپنی گانڈ کو مزید تھوڑا سا کروٹ لے باہر نکال دیا اففف ہماری حالت غیر ہو رہی تھی اور نوشی چسکے لے رہی تھی، باتیں کرتے ہوئے نوشی اٹھی اور جھک کر ہم سے گلاس لئے نوشی کے جھکنے کا انداز ایسا تھا کھلے گریبان سے نوشی کے ممے جھانکتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے اور نوشی جان بوجھ کر ہمیں اپنے مموں کا نظارا کروا رہی تھی گلاس لے کر ٹرے میں رکھے اور پھر ٹرے اٹھا کر اپنی گانڈ مٹکا مٹکا کمرے سے باہر نکل گئی اور اس کے نکلتے ہی میرا اور مانی کا ہاتھ ڈائریکٹ اپنے اپنے اوزاروں پر گیا اور مسل مسل کر اپنی اپنی شلوار اور پینٹ میں پھانسی دینے لگے اور مانی بولا یار کیا مست آنٹی ہے سالی دل کر رہا تھا ابھی لٹا دوں اور گانڈ پھاڑ کر رکھ دوں، ہاہاہاہا اس کے انداز سے ہلکا سا ہنسا پھر ہنسی کو کنٹرول کیا، کیا پتا سالی سن رہی ہو، ابھی میں مزید بات کرنے ہی والا تھا نوشی کی باہر سے آواز آئی دانش بات سنو ذرا، مانی نے مجھے اپنا گھٹنا مارا اور کہا جا بھئی پوچھ کے آ پہلے کس کا لے گی، سالا کمینہ---- کہتے ہوئے میں اٹھا ،اور کمرے سے باہر نکل آیا تو نوشی ساتھ بنے دوسرے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی تھی، میں سیدھا نوشی کے پاس چلا گیا نوشی نے میرا ہاتھ پکڑا اور کمرے کے اندر لے گئ، اور بولی دانش ایک بات مانو گے، میں بولا جی بتائیں تو نوشی بولی دانش تم ابھی اسی روم میں ٹھہرو میں زرا مانی کو پھسا لوں جب ہمارا کام شروع ہو گا تم اس دروازے سے اندر آجانا،( سامنے ایک دروازہ تھا جو دو کمروں کا درمیانی دروازہ تھا) پلیز میری بات کو سمجھو دانش دونوں سے ایسے ہی ڈائیریکٹ اوپن ہونا میرے لئے مشکل ہے لیکن میں یہ بھی چاہتی ہوں کہ تم دونوں مجھے آگے پیچھے سے ایک ساتھ کرو، واہ دل میں سوچا سالی کتنی چدکڑ ہے پھر سوچا ٹھیک ہی کہہ رہی ہے، کیونکہ میرا بھی پہلا ہی ٹائم تھا کہ مانی کے ساتھ مل کر کسی عورت سے سیکس کرنا، جھجک تو میں بھی رہا تھا، خیر میں مان گیا اور کہا ٹھیک آپ جاو میں موقع دیکھ کر آ جاوں گا، نوشی ایک دم سے خوش ہوئی اور جلدی سے مجھے ہونٹوں ہر کس کیا اور مجھے وہیں ٹھہرنے کا کہہ کر دوسرے روم میں چلی گئی، جاری ہے،،،،، آج تین اقساط اپڈیٹ کر دی ہیں امید ہے آپ کے محبت بھرے کمنٹس میری حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے شکریہ
  22. 6 likes
    سب دوستوں کی محبتوں کا شکریہ دعا کریں میں یہ کہانی جلدی سے مکمل کر دوں کیوں کہ میری جاب سعودیہ میں ہو گئی ہے میں جانے سے پہلے پہلے یہ مکمل کرنا چاہتا ہوں اس لیے کئی چیزوں پر توجہ نہیں دے پا رہا۔۔۔ سعودیہ میں سنا ہے یہ فورم وی پی این پر نہیں کھلتا اس لیے میری کوشش ہے جلد از جلد مکمل کر دوں۔۔۔
  23. 6 likes
    میں۔۔۔ باجی اب آپ اگر ایسا سمجھ رہی ہیں تو پھر میں کیا کہوں۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ میرا دل کر رہا ہے تم کچھ دن اور یہاں رک جاؤ لیکن تم اس موضوع پر بات نہیں کر رہے تمہیں بس اب جو وقت ملا ہے اس سے فائدہ اٹھانے کی پڑی ہے۔۔۔ میں ۔۔۔ سمیرہ باجی کی بات کاٹتے ہوئے باجی ایسا نہیں ہے کیا آپ کو میرا پیار کرنا اچھا نہیں لگتا ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ لگتا ہے لیکن تم میری بات سمجھ نہیں رہے۔۔۔ میں۔۔۔ باجی آپ بھی نہیں سمجھ رہی میری بات۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ پہلے تو یہ باجی باجی کہنا بند کرو ابھی بھی باجی ہی کہتے رہو گے اب میں باجی نہیں رہی ۔۔۔ ان کا موڈ اچانک آف ہو گیا مجھے آج کی رات موقع ہاتھ سے نکلتا نظر آنے لگا۔۔۔ میں ۔۔۔ باجی اوہ سوری سمیرہ میری بات سنو اور سمجھو میں بھی سب سمجھ رہا ہوں کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔۔ ہاں سمجھاو۔۔۔ بڑے روکھے انداز میں جواب دیا۔۔۔ میں۔۔۔ دیکھیں آپ کیا چاہتی ہیں میں یہاں کچھ دن اور رہوں اور اپ سے پیار کروں۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ ہاں یہ ہی چاہتی ہوں۔۔۔ میں ۔۔۔ میں بھی تو یہ ہی کہہ رہا ہوں وہ بھی دیکھ لیں گے صبح تو ہونے دو ابھی جو پل ملے ہیں ان میں جتنا پیار کر سکتے ہیں وہ تو کریں۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن دن سے میرے جلن ہو رہی ہے اور تمہارے پیار کا مجھے پتہ چل گیا اتنا درد برداشت نہیں ہو گا ۔۔۔ میں۔۔۔ مسکراتے ہوئے بس اتنا ہی میرا پیار برداشت کر پائی ہو۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ نہیں جی ایسی بات نہیں ہے مجھے لگتا ہے کوئی زخم ہو گیا جو اتنی جلن کے ساتھ درد بھی ہو رہا ہے۔۔۔ میں ۔۔۔ لو جی اب کیا میں وہ ہی کروں گا جو آپ کہہ رہی ہیں صرف وہ ہی پیار نہیں ہوتا پیار میں اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔۔ مثلآ کیا کچھ ہوتا ہے پیار میں مجھے بتاؤ ذرہ اور تمہارا پیار میں دیکھ چکی ہوں وحشی ہو جاتے ہو۔۔۔ میں۔۔۔ اچھا جی میں بتاؤں پیار میں کیا کچھ ہوتا ہے ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ شرماتے ہویے نیچے دیکھ کر ہاں بتاؤ۔۔۔ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا بڑے رومانٹک انداز میں جھک کر ان کے ہاتھ کو چوما۔۔۔ پھر ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر پیار سے ہاتھ کو سہلانے لگا ۔۔۔ سمیرہ باجی کی نظریں زمین پر گڑ چکی تھیں ان کا شرمانا میرے لیے حیران کن بات تھی۔۔۔۔ میں نے اٹھ کر ان کو گلے لگا لیا اور زور سے دبانے لیا کچھ دیر ایسے ہی دبائے رکھا مجھے اندر والے دروازے کے پاس آہٹ محسوس ہوئی ۔۔۔ میں نے سمیرہ باجی کے کان میں کہا کوئی ہے دروازے کے پاس ادھر چلی جاو اور دیکھنے کی کوشش کرو۔۔۔ وہ میری بات سن کر فوراً دروزے کے پاس گئی اور درز میں سے باہر دیکھنے لگیں ۔۔۔۔ میں چارپائی پر لیٹ گیا اور سمیرہ باجی کو دیکھنے لگا۔۔۔ سمیرہ باجی نے کچھ دیر بعد آرام سے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی میں بھی کچھ دیر پاسے پھیرتا رہا اور سو گیا۔۔۔۔ صبح اپنے وقت کر آنکھ کھل گئی ضروری حاجات سے فارغ ہو کر جب میں ناشتہ کرنے آیا تو مجھے امی نے کہا بلو میں اور تیری مامی قبرستان جا رہے ہیں ۔۔۔ سمیرہ باجی بولی پھپھو میں بھی چلتی ہوں کافی دن ہو گئے ہیں کھیتون میں نہیں گئی امرود کھانے کو بڑا دل کرتا ہے۔۔۔ میرے ماموں لوگوں نے کھیتوں میں امرود کے پودے لگائے ہوئے تھے اور ان کے امرود بہت میٹھے ہوتے تھے ہم جب بھی جاتے تھے کھاتے تھے۔۔۔ امرود کے علاوہ وہاں لوکاٹ اور آم کے درخت بھی تھے ساتھ جامن کے کئی درخت تھے اچھا خاصہ ماحول بنا ہوا تھا۔۔۔۔ میں ناشتہ کیا سمیرہ باجی بھی جانے کے لیے تیار تھی ہم سب اکٹھے کھیت میں چلے گئے ۔۔۔ قبرستان اور کھیت میں کویی چار پانچ ایکڑ کا فاصلہ تھا بس فرق یہ تھا کہ قبرستان ایک طرف تھا جبکہ جو ماموں کے کھیت تھے وہ دوسری طرف ہم سب جب قبرستان سے دو ایکڑ پیچھے رہ گئے تو سمیرہ باجی نے مامی کو کہا امی آپ لوگ قبرستان ہو لو میں اور بلو امرود توڑ لاتے ہیں۔۔۔ مامی سبز سگنل دیا سمیرہ باجی آگے آگے اپنی موٹی گانڈ مٹکاتی امردوں کی طرف چل دی۔۔۔ میں بھی پیچھے ان کی گانڈ کی اتھل پتھل دیکھتے جا رہا تھا۔۔۔ سمیرہ باجی امرود والے درختوں کے پاس جانے سے پہلے ہی ٹیوب ویل کی ظرف مڑ گئی۔۔۔ میں بھی ان کی تقلید میں چلتا گیا ٹیوب ویل کے پاس جا کر وہ رک گئی اور دائیں بائیں دیکھنے کے بعد اس نے وہاں اپنا دوپٹہ رکھا اور نہانے لگ گئی۔۔۔ مجھے بھی اس نے کہا لیکن میں نے منع کر دیا اس نے بھی اصرار نہ کیا اچھی طرح نہانے کے بعد وہ باہر نکلی۔۔۔ اس کے کپڑے جسم سے چپکے ہوئے تھے اور گانڈ میں کپڑا پھنس رہا تھا ۔۔۔ چپکے کپڑوں میں اس کے ممے بڑے بڑے لگ رہے تھے۔۔۔ میرے لن نے انگڑائی لی میں غور سے اس کے جسم ما ایکسرے کر رہا تھا۔۔۔ وہ باہر نکل کر ایک طرف چل پڑی میں بھی اس کے پیچھے چلتا گیا ۔۔۔ وہ امرود کے درختوں کے پاس سے گزری پھر آموں کو کراس کیا جامن بھی پیچھے چھوڑ دئیے لوکاٹ کے نیچے سے گزر گئی۔۔۔ میں پیچھے ہی۔ چلتا گیا آگے جا کر ایک قدرے اونچی جگہ جو کہ ٹیلا نما تھی اس کر چڑھ گئی وہ جگہ خالا لوگوں کی تھی۔۔۔۔ جس کی دیکھ بھال خالا کا بیٹا کرتا تھا وہ آرمی کے انجنیرنگ ونگ میں تھا اس کو پھولدار پودوں کا شوق تھا ۔۔۔ اس نے وہاں جنگل میں منگل کا کام کر دیا تھا جہاں میں جب آخری بار آیا تھا صرف جھاڑیاں ہوتی تھیں وہاں پھول دار پودے لگے تھے ۔۔۔ ان پودوں پر پھول ہی پھول کھلے ہوئے تھے بڑا رومانٹک سا ماحول تھا ہری بھری گھاس بھی اگی ہوئی تھی۔۔۔ پھولوں والے وہ پودے کافی بڑے بڑے تھے کیاریوں کی صورت میں لگے تھے ان کے درمیان بندہ چھپ جاتا تھا۔۔۔ سمیرہ ان میں سے ایک کیاری میں گھس گئی جو قدرے درمیان میں تھی مجھے بھی وہاں آنے کا اشارہ کیا۔۔۔ میں بھی اس کی دیکھا دیکھی وہاں چلا گیا اس نے ایک پھول دار پودے سے چن کر بڑا سا پھول توڑا اور مجھے دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ بلو یہ لو میری طرف سے قبول فرماؤ۔۔۔ میں۔۔۔ مسکراتے ہوئے پھول پکڑا اور کہا سمیرہ ایک پھول کے ہاتھ سے پھول لیتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ شرماتے ہوئے چل جھوٹا ۔۔۔ میں۔۔۔ باجی دل سے کہہ رہا ہوں میرے امدر اتر کر دیکھو سب بڑا واضح نظر آجائے گا۔۔۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم رہنے دو ۔۔۔ میں۔۔۔ آگے ان کے قریب جاتے ہوئے ایک پھول توڑا اور ان کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔ سمیرہ باجی نے وہ پھول بغیر ہچکچاہٹ کے پکڑ لیا اور بولی شکریہ۔۔۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی میں بھی سمیرہ باجی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔ اس نے کیاری میں باہیں کھول کر گول گول ایک پاؤں پر گھومنا شروع کر دیا ۔۔۔ ایک دو ہی چکروں میں وہ اپنا توازن کھو بیٹھی اور گرنے لگی میں نے آگے بڑھ کر اس کو تھام لیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی کو جب میں نے پکڑا تو میرا ایک ہاتھ اس کے دائیں ممے پر جا لگا میں اس کو کس کر پکڑ لیا دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر ہاتھ۔۔۔ وہ گرنے بچ گئی لیکن میرے کس کر پکڑنے سے اس تھوڑی آہستہ آواز میں آہ کی آواز نکالی ۔۔۔ جیسے ہی وہ سیدھی ہوئی اس نے میرے اس ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا کو اس کےدائیں ممے پر تھا۔۔۔۔ میں تو کچھ جانتا ہی نہیں تھا نا میں جان بوجھ کر مما پکڑا تھا وہ تو بس اس کو گرنے بچانے کے لیے جو چیز ہاتھ آئی پکڑ لی۔۔۔۔ اس نے جب ہاتھ چھڑانے کے لیے ہاتھ مارا تو مجھے تب پتہ چلا میرا ہاتھ غلط جگہ پر ہے۔۔۔ مما چھوڑتے ہوئے میرے چہرے ہر مسکراہٹ آگئی سمیرہ باجی نے مجھے ہلکی سے چپت رسید کی اور شرما گئی۔۔۔ کچھ دیر شرمانے کا سین چلتا رہا میں آگے بڑھا ایک قدرے بڑے درخت کی طرف دیکھ کر سمیرہ باجی کا ہاتھ پکڑا اور اس کو درخت کے پاس لے گیا۔۔۔۔ وہاں کھڑے ہو کر میں ارد گرد دیکھا تو ہمیں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اس کا مطلب تھا ہمیں بھی کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔ اطراف کا اچھی طرح جائزہ لے کر میں نے سمیرہ باجی کو تنے کے ساتھ لگا لیا اور جھک کر ان کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔۔ ہمممم کرتے ہوئے سمیرہ باجی نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا ایک منٹ بعد کی اس نے اپنا منہ مجھ سے الگ کیا اور بولی بلو کوئی آجائے گا۔۔۔ میں نے اس کو اپنی جگہ کیا خود اس کی جگہ ہو کر کہا دائیں بائیں آگے پیچھے نظر دوڑاو ۔۔۔ سمیرہ باجی نے جب دیکھا تو اس کو کچھ بھی نظر نہ آیا ایک وجہ اس کا قد چھوٹا تھا دوسری وجہ وہ درخت کافی پھیلا ہوا تھا اس کی شاخیں تقریباً زمین کو چھو رہی تھیں۔۔۔۔ اپنی تسلی کرنے کے بعد سمیرہ باجی مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی اور کہا بڑے تیز ہو پہلے ہی سب دیکھ چکے ہو۔۔۔ میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اس کی کمر میں ڈال کر اس کو آگے کھینچ لیا اپنے سینے سے لگا کر اس کے کان کی لو کو اپنے ہونٹوں میں لے کر بولا آخر سمیرہ باجی جو میرے ساتھ ہے۔۔۔۔ اس نے اپنے نازک ہاتھوں سے میرے سینے دوہتھڑ مارا اور اپنا سر وہاں ٹکا کر دھیمی آواز میں بولی ۔۔۔ بلو جو ہم میں ہو گیا ہے یا ہو رہا ہے اس کا انجام کیا ہو گا یہ سب غلط ہے نا۔۔۔ میں میری جان انجام کی فکر کیوں کرتی ہو جو پیار کرتے ہیں وہ انجام سے ڈرا نہیں کرتے ۔۔۔ دوسری بات جو ہم میں ہو رہا ہے وہ غلط کیسے ہو سکتا ہے تمہاری خواہشات میری خواہشات ایک جیسی ہیں تمہارے جسم کی ضرورت میں نے پوری کی تم نے میرے جسم کی تو اس میں غلط کیا ہے۔۔۔ سمیرہ باجی نے اپنا سر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا اور بولی تم میری بات سمجھ نہیں رہے یہ سب غلط ہے اگر کسی کو پتہ چل گیا تو۔۔۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ میں ۔۔۔ سمیرہ جی آپ بلا وجہ ڈر رہی ہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا جس کو آپ غلط کہہ رہی ہیں یہ کائنات کی حقیقت ہے کر جسم کی کچھ ضروریات ہوتی ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے کسی کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ بات سادہ سی ہے آپ بلاوجہ پریشان ہو رہی ہو۔۔ سمیرہ غلط تو غلط ہے نا جو مرضی کہہ لو لوگ غلط کہتے ہیں تو ایسے تو نہیں کہتے۔۔۔ میں بجائے بحث میں وقت ضائع کرنے کے عملی طور پر سمجھانے کا فیصلہ کر لیا اس کے لیے میں اپنا ایک ہاتھ نیچے لیجا کر سمیرہ باجی کے پھدی کر قمیض کے نیچے سے گزار کر رکھ دیا۔۔۔۔ اس کی پھدی والی جگہ سے شلوار بھیگ چکی تھی میں نے جیسے ہی ہاتھ رکھا سمیرہ نے اپنی ٹانگیں جوڑ کر میرا ہاتھ دبا لیا اور میرے گرد اپنے ہاتھوں کسنے کے کے لیے ایڑھیوں کے بل ہو کر اپنے باوزو میری گردن کے گرد لپیٹ لیے۔۔۔۔۔ میں نے آہستہ سے کہا سمیرہ جی یہ سب کیسا ہے ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ مجھے نہیں پتہ۔۔۔ میں نے اپنے ہاتھ کی مٹھی میں پھدی کو پکڑ لیا اور پھر پوچھا۔۔۔ میں۔۔۔ اب کیسا لگ رہا ہے۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔۔وہ مستی ڈوبتی ہوئی آواز سے بولی آہ بلو نہ کرو مجھے کچھ ہو رہا ہے۔۔۔ میرا لن بھی تن چکا تھا میں نے دوسرا ہاتھ استعمال کرتے ہوئے ناڑا ڈھیلا کیا اور پھر لن کو نکال کر دوبارہ باندھنے کے لیے دوسرا ہاتھ اس کی پھدی سے ہٹا لیا۔۔۔ سمیرہ باجی کو یہ ناگوار گزرا اس نے میری گردن پر اپنے دانت گاڑھ دئیے ہلکا سا کاٹا۔۔۔ میں تب تک اپنا ناڑا سیٹ کر چکا تھا لن باہر نکال لیا تھا میں نے اپنی جگہ سمیرہ باجی کو کیا اور خود اس کی جگہ آگیا۔۔۔۔ ایک بار پھر دائیں بائیں دیکھ کر تسلی کی کوئی نہیں آ رہا تھا اس کے بعد سمیرہ باجی کے مموں کو ننگا کرنے کے لیے قمیض کو اوپر کیا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے ہممم نا کرو کرتے ہوئے اپنے ممے ننگے کر دئیے ۔۔۔ میں نے ننگے مموں کو ہاتھوں میں لیا اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔ سمیرہ باجی سے پیاسے کی طرح ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا وہ بے صبروں کی ظرح چوس رہی تھی۔۔۔ اس کی جوشیلی حرکات کو دیکھ کر میں نے اس کی شلوار تھوڑی نیچے کی اور جھک کر لن اس کی ٹانگوں کے درمیان گھسا دیا۔۔۔۔ لن سمیرہ باجی کی پھدی کے لبوں میں رگڑ کھاتا ہو آگے گزر گیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے اپنی ٹانگیں ایک ساتھ جوڑ لیں اور میرے اوپر سوار ہونے لگی۔۔۔ میں نے ایک منٹ میں اتنے گھسے مارے کے میرا لن رگڑ کھانے سے درد ہونے لگا۔۔۔ ایک تو سمیرہ باجی کی پھدی پر ہلکے ہلکے بالوں کی رگڑ اور سے خشک لن خشک ٹانگوں میں جا رہا تھا۔۔۔۔ سمیرہ باجی کہنے لگی بلو کچھ کرو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ۔۔۔۔ میں نے اس کو گھما کر اس کے ہاتھ درخت کے تنے پر رکھے اور جھکا لیا سمیرہ باجی کی گاند باہر کو نکلی اس کی پھدی بھی گانڈ کے نیچے سے نظر آنے لگی۔۔۔ میں نے جھک کر لن کو گانڈ کے کے نیچے اس کی پھدی پر رکھا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکی کمر کو کس کر پکڑ لیا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی اتنی اتاولی ہو رہی تھی کہ اس نے مڑ کر میری طرف دیکھ کر کہا بللللو اب کرو بھی۔۔۔ میں نے لن پر دباؤ بڑھا دیا اور لن اندر اترنے لگا جیسے جیسے لن اندر جا رہا تھا ویسے ویسے سمیرہ باجی کی سئییییی کی آواز آ رہی تھی۔۔۔۔ میں لن پر دباؤ بڑھانا جاری رکھ رک کر پیچھے نہ کیا مجھے بھی جلدی تھی اس لیے ایک ہی بار میں اندر کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ جب لن آگے جا کر پھنس گیا تو میں نے تھوڑا سا پیچھے کھینچاپھر تھوڑا سا زور لگا کر گھسا مارا لن مزید اندر ہو گیا ۔۔۔۔ اب آدھے سے زیادہ لن اتر چکا تھا میں اسی کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا کچھ کی دیر میں سارے کا سارا لن اندر اتر چکا تھا۔۔۔۔ میں نے اب اپنی سپیڈ تیز کر لی تھی سمیرہ باجی نے اپنے دوپٹے کا پلو اپنے منہ میں داب لیا تھا ۔۔۔۔ میرے گھسوں میں تیزی آنے لگی سمیرہ باجی کا جسم بھی اب بھرپور ساتھ دے رہا تھا ۔۔۔ میں تھوڑا آگے ہوا سمیرہ باجی کے مموں کو پیچھے سے پکڑ لیا اب میں زیادہ زور سے گھسے مار ے لگا۔۔۔۔ ممے کھینچتے ہوئے لن زیادہ زور سے پھدی کی گہرائی میں جاتا۔۔۔۔ میں گھوڑی کی لگامیں کھینچ کر لن کو گہرائی میں اتار رہا تھا لن کی تھپ تھپ سمیرہ باجی کے چوتڑوں پر ہو رہی تھی۔۔۔۔ افراتفری میں لن گھسانے کی وجہ سے مجھے جلدی ہی لگنے لگا کہ میں فارغ ہونے والا ہوں ۔۔۔۔ میں گھسوں کی مشین چلا دی سمیرہ باجی کا جسم کانپا اور وہ فارغ ہو گئی لن پھدی کے پانی سے بھیگ کر اور روانی سے اندر جانے لگا۔۔۔۔ ایک دم سمیرہ باجی نے جھٹکے سے ایک سائڈ پر ہوتے ہوئے کہا بلو شلوار پہن لو کوئی آ رہا ہے۔۔۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا لیکن مجھے کویی نظر نہ آیا ۔۔۔ میں سوالیہ نظروں سے دیکھا منہ میں قمیض تھی اس لیے بول نہیں سکا ۔۔۔ سمیرہ باجی نے آگے ہو کر خود ہی میرا لن پکڑ کر شلوار کے اندر کیا اور کہا غور سے سنو۔۔۔ میں نے غور کیا تو مجھے زنانہ آوازیں آنے لگیں جیسے عورتیں آپس میں باتیں کرتی ہیں۔۔۔۔ میں نے ناڑا کھول کر شلوار کو ٹھیک کیا لیکن تنا ہوا لن شلوار میں تمبو بنا رہا تھا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے جب شلوار کا تنبو دیکھا تو بولی اس کو تو سیدھا کرو یہ کیا ہے۔۔۔ میری ہنسی چھوٹ گئی میں ہنسے جا رہا تھا سمیرہ باجی نے غصے سے دیکھا لیکن میری ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔ وہ پاؤں ٹپکتی ہوئی وہاں سے باہر نکل گئی میں بھی اپنی ہنسی روک کر باہر نکلا تو دیکھا وہ امرود والے کھیت میں امرود کے ایک پودے کے نیچے کھڑی تھی۔۔۔۔ میں بھاگ کر وہاں گیا اور سیدھا درخت پر چڑھ گیا یہ درخت واحد ایسا تھا جس کے امرود اندر سے گلابی ہوتے تھے اور ہر امرود میٹھا ہوتا تھا۔۔۔۔۔ میں نے درخت پر چڑھ کر امرود توڑ توڑ کر نیچے پھینکے پھر چھلانگ لگانے سے پہلے اس طرف دیکھا جہاں سے ہم آئے تھے تو وہاں امی اور مامی پھول توڑ رہی تھیں۔۔۔۔ مجھے سمیرہ باجی کے کانوں پر رشک ہونے لگا کہ اتنی مستی میں بھی اس کو دور سے آتی آواز سنائی دے گئی تھی۔۔۔ اگر وہ آواز نہ سنتی تو ہم اب امی اور مامی سے جوتے کھا رہے ہوتے۔۔۔ نیچے اتر کر میں نے بھی امرود کھانے شروع کر دئیے پھر وہاں سے ٹیوب ویل پر گیا اور نہایا کھاڈے میں بیڈ کر شلوار میں ہاتھ ڈال کر لن کو اچھی طرح دھویا ۔۔۔ تب تک امی اور امی بھی آگئیں ہم گھر آئے امی نے جلدی سے تیاری پکڑی اور وہاں سے اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔۔۔ رستے میں بس میں بہت رش تھا وہاں ایک لڑکی میری سیٹ کے قریب کھڑی تھی اس کو ایک لڑکا بار بار تنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔ مجھے اچھا نہ لگا میں کھڑا ہو گیا اور اس لڑکی کو امی کے ساتھ ولی یعنی اپنی سیٹ دے دی۔۔۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس لڑکی نے مجھے غصے سے کہا ادھر کو کر کھڑے ہو مجھ پر سوار نہ ہو ۔۔۔ حالانکہ میں سیٹ سے بھی ہٹ کر کھڑا تھا مجھے بڑا غصہ آیا میں نے اس کا بازو پکڑا اور کھڑا کر کے اس کے دو زوردار تھپڑ لگا دئیے۔۔۔۔ خود سیٹ پر بیٹھ گیا معاملہ بگڑ گیا اب وہ لڑکا جو اس کو تنگ کر رہا تھا آگے بڑھ کر مجھ سے لڑنے لگا۔۔۔۔ بڑی مشکل سے معاملہ رفع دفع ہوا اور ہم باقی کے رستے کی پریشانی سے بچتے گھر پہنچ گئے۔۔۔۔ گھر پہنچے ہی تھے کہ ابا جی نے کہا سب لوگوں نے گاؤں جانا ہے تیار ہو جاؤ۔۔۔ میرا دل سونے کو کر رہا تھا ایک تو رات کی تھکاوٹ دوسرا دن میں یہ سفر کیا لیکن ابا جی کو کون انکار کر سکتا تھا۔۔۔۔ گاؤں میں کوئی شادی تھی جس میں جانا ضروری تھا شادی میرے ابا جی کے چاچا کے بیٹے کی تھی۔۔۔۔ کپڑے وغیرہ پہلے ہی باجی نکال چکی تھیں میں نہانے چلا گیا نہا کر تیار ہوئے ابا جی نے گاڑی منگوا لی اور ہم سب گاؤں چلے گئے۔۔۔۔ گاؤں میں ماحول ہی الگ تھا ہر طرف گہما گہمی شادی کے ہنگامے جاری تھے ۔۔۔ ہمیں پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی تھی ہم پہلے اپنے گھر گئے وہاں کچھ دیر آرام کیا پھر شادی والے گھر باقی لوگ چلے گئے ۔۔۔ میں لمبی تان کر سو گیا رات کے کسی پہر ڈھولک کی آواز اور شور شرابے سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔ جیسا کہ سب بھائیوں کو بتایا تھا کہ میرے دادا لوگ تین بھایی تھے اور تینوں کے گھروں میں کوئی دیوار نہیں تھی ۔۔۔۔ ایک ہی صحن تھا جس کی وجہ سے میرے کمرے تک آواز ایسے ہی آرہی تھی جیسے ہمارے صحن میں ڈھولک بج رہی ہو۔۔۔۔ میری آنکھ تو کھل ہی گئی تھی میں بھی اٹھ کر باہر نکل گیا کھیتوں میں پیشاب کرنے چلا گیا۔۔۔۔ گھر کے ساتھ ہی فصلیں تھیں میں پیشاب کر رہا تھا اپنی مستی میں لن سے لمبی لکیر بنانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔ مجھے کہیں سے کھسر پھسر کی آوازیں سنائی دیں میں نے آواز کی ٹوہ لگائی تو وہ قریب سے ہی آرہی تھی۔۔۔ میں دبے پاؤں چلتا ہوا آواز کی سمت بڑھا جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا آواز واضح ہو رہی تھی۔۔۔۔ میں جو سمجھ رہا تھا یہ آواز کھیت سے آرہی ہے ایسا نہیں تھا یہ آواز ہمارے گھر کے پچھلے طرف بنے بھینسوں کے احاطے سے آ رہی تھی۔۔۔ میں نے چھپ کر دیکھا وہاں دو سایے تھے جو دونوں ہی زنانہ تھیں۔۔۔ مجھے باتیں صاف سنائی نہیں دے رہی تھیں میں اور آگے بڑھا ایک کھرلی (بھینسوں کے چارے کے لیے بنائی جاتی ہے) کی اوٹ میں ہو گیا ۔۔۔ اب مجھے صاف سنائی دے رہا تھا دو لڑکیاں تھیں جن ایک تو پکا چھنو تھی دوسری کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی اس کی آواز سے پتہ نہیں چل رہا تھا۔۔۔۔ میرا لن چھنو کے بارے میں سوچ کر ہی تن گیا ایک تو آج صبح لن سے پانی نا نکال سکا کچھ اس لیے بھی لن دہائی دے رہا تھا۔۔۔۔ میں نے ان کی باتوں پر غور کیا تو چھنو کہہ رہی تھی تو اک واری جا ویکھ تے آ کویی ہو تا نیں اوتھے فیر میں آپے جاندی رواں گی۔۔۔ دوسری لڑکی نہ بابا نہ اگر وہ جاگ رہا ہوا تو اس مجھے واری لگا دینی اے جیسے تم کہہ رہی ہو اس کا اتنا بڑا ہے تو میری تاں پاٹ جانی اے میں نہیں جا رہی۔۔۔۔ چھنو تو بھی نری ڈرپوکل ہیں اب وہ ایسے کیسے تیری مار لے گا تونے پہلے کبھی اس سے واری لوائی اے۔۔۔ وہ لڑکی نا جی مینوں کوئی شوق نیں تو لوا اوہدے توں تے اک بات اور تو خود جا کر دیکھ بلو اکیلا ہے یا نہیں یا اس کو جگا کر جہاں بلانا ہے بلا لے مجھے نہ آکھیں اب میں جاندی پئی ہوں۔۔۔ مجھے اب اس لڑکی کی آواز کی سمجھ آئی یہ کومل تھی شازی کی کزن اور فجے کی دوست اب نمبر کا تو مجھے نہیں پتہ کیوں کہ فجے کو کوئی اور کام تو تھا نہیں بس پھدیاں ڈھونڈتا رہتا تھا۔۔۔۔ کومل یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی چھنو اس کو آوازیں ہی دیتی رہ گیی آخر میں ایک انتہائی ضخیم گالی دی۔۔۔ جیسے ہی کومل وہاں سے کھسکی میں بھی کہڑے جھاڑتا ہوا کھڑا ہوا اور آہستہ سے کہا چھنو۔۔۔ چھنو نے ایک دم گھوم کر دیکھا اندھیرا تھا پہچان تو لن آنی تھی بس اندزہ لگانے لگی کون ہے۔۔۔ میں نے پھر آواز دیتے ہوئے کہا چھنو میں بلو۔۔۔ چھنو نے ادھر ادھر دیکھا اور میرے پاس آکر میرا بازو پکڑ کر ایک طرف اس سے بھی اندھیری جگہ لے گئی۔۔۔ میں چھنو کے زور کھنچتا چلا گیا وہ اتنی سخت جان گاؤں کی الہڑ مٹیار سخت جسم مضبوط قد کاٹھ کی مالک تھی۔۔۔ اس کے ہاتھوں کی گرفت کسی طاقتور مرد کہ طرح تھی اس کے کھینچنے سے مجھے اپنی کلائی پر درد ہونے لگی۔۔۔ ایک طرف لیجا کر مجھے کس کر گلے لگا لیا اور میرے گال ہونٹ ٹھوڑی گردن جہاں تک ممکن تھا وہ چومنے لگی۔۔۔ مجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دے رہی تھی کہ میں بھی کچھ کر سکوں ۔۔۔ اس کی کسنگ کی بے ساختگی اس کا جوش اس کے اندر ابلتے جذبات کی ترجمانی کر رہا تھا۔۔۔ یکدم اس نے اس اندھیرے میں ٹٹول کر میرا لن پکڑ لیا اور اپنی زبان میری منہ میں ڈال دی ۔۔۔ میری زندگی میں اب تک ایسا موقع کم کی آیا تھا کہ کسی کی زبان میرے منہ میں گئی ہو یا میری زبان کسی نے چوسی ہو۔۔۔ اپنی زبان میرے منہ میں گھماتے ہوئے اس نے لن پر اپنا ہاتھ گھمانا جاری رکھا لن تو پہلے ہی اپنی اکڑ دکھا رہا تھا ایک تو پھدی کا ترسہ اوپر سےچھنو جیسی پھدی کا چانس ایک ایسی پھدی جس نے لن کو اس نئے مزے سے روشناس کرایا تھا۔۔۔ میں نے بھی اب اس کا ساتھ دینا شروع کر دیا اپنا ہاتھ اس کے مموں کر رکھ دیا اور دبانا شروع دئیے ۔۔۔ زبان چوستے چوستے چھنو نے لن کو چھوڑا اور اپنی ٹانگوں میں لے کر دبانے لگی وہ اپنی دانست میں لن کو پھدی پر رگڑ رہی تھی۔۔۔۔ جب مزہ نہ آیا تو اس نے میرا ناڑا کھولا اور لن نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔ لن پر مساج کرتے کرتے اس نے اپنی شلوار بھی نیچے کر لی اور دیوار کی طرف رخ کرکے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔ میں اب بچہ تو تھا نہیں سب سمجھ گیا اور کے پیچھے جا کر لن کو پھدی کے لبوں پر پھیرنے لگا۔۔۔ وہ تڑپ رہی تھی اس کو لن کی اتنی شدید طلب ہو رہی تھی کہ اس نے میرے ڈالنے کا انتظار نہ کیا خود ہی لن کو پکڑ کر پھدی میں سیٹ کرکے پیچھے گھسا مارا ۔۔۔۔ خشک لن پھنس کر رہ گیا اس نے ایک بار آگے ہو کر پھر گھسا مارا کچھ اور اندر ہو گیا۔۔۔۔ یہاں سے میں نے کمان سنبھال لی اس کی کمر پر دونوں طرف ہاتھ رکھے اور اس کو قابو کرکے گھسا مارا ۔۔۔ لن پہلے کی طرح ہی تھوڑا سا اور اندر گیا اب میں نے جتنا لن اندر گیا تھا اس کو باہر نکالا پھر سے پھدی کے لبوں میں اچھی طرح پھیرا ۔۔۔ پھر دوبارہ پھدی میں پھنسا کر گھسا مارا آدھا لن اندر ہو گیا اس کے بعد آہستہ آہستہ گھسے مارتے میں نے سارا لن اندر اتار دیا۔۔۔۔ جب لن سارا اندر چلا گیا تو چھنو کے منہ سے ایک واضح سسکی سنائی دی جس سے اس کے اندر اٹھتے طوفان کر کچھ مرہم لگنے کا احساس ہوا۔۔۔ کچھ دیر آرام آرام سے گھسے مارنے کے بعد میں نے گھسوں کی سپیڈ بڑھا دی اور لن کو ایک ردھم سے اس کی گانڈ کی پھاڑیوں پر ہاتھ رکھے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔ گھسے پے گھسا مارتا رہا اس میں اتنا مگن ہوا کہ ارد گرد سے بے نیاز ہو گیا ۔۔۔۔ یکدم چھنو نے پیچھے کی طرف گھسے مارنے شروع کردیے وہ زور زور سے پیچھے ہو کر لن کو ہھدی میں لینی لگی۔۔۔۔ میں گھسا مار کر لن کو اندر کرتا ادھر وہ گانڈ پیچھے لا کر لن کو اندر لیتی اس طرح سے لن زیادہ گہرائی میں جا رہا تھا۔۔۔۔ لن کی سپیڈ بڑھتی جا رہی تھی چھنو کا جوش بھی بڑھتا جا رہا تھا اس نے ایک زودار گھسا مار کر اپنی گانڈ میرے اگلے حصے سے چپکا لی ۔۔۔۔ پھدی نے لن کو جکڑا ایک دم اس کا جسم اکڑا اور میرے لن پر اس نے آب پھدی انڈیلنا شروع کر دیا۔۔۔۔ اس کی پھدی نے میرے لن کو اپنے لیسدار پانی سے سیراب کر دیا۔۔۔ جھٹکے رکے تو میں نے دائیں بائیں نظر گھمائی تو مجھے کچھ فاصلے پر ایک سایہ بے چین نظر آیا ۔۔۔۔ میں نے لن چھنو کی پھدی سے نکال کر اس کے اوپر جھکتے ہوئے اس کے کان میں کہا وہ کون ہے۔۔۔ اس نے فوراً گردن گھما کر ادھر دیکھا اور اسی طرح جھکے جھکے اپنی شلوار پہن لی میرا لن بھی ڈھیلا ہوگیا تھا ۔۔۔ پکڑے جانے کا ڈر لن کو سب سے پہلے چھوارا بناتا ہے یہ میں اب تک اچھے سے سمجھ چکا تھا۔۔۔ میں نے اسی سائے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا آزار بند باندھا اور دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ چھنو نے آہستہ آہستہ دیوار کے ساتھ چلتے ہوئے ایک طرف جانا مناسب سمجھا میں اس کی مخالف سمت چلنے لگا۔۔۔ ابھی آدھا کی سفر طے کیا ہو گا کہ ایک آواز نے میرے قدم روک دئیے۔۔۔۔ یہ آواز اسی سائے کی تھی جو چھنو کو بلا رہی تھی زنانہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ شازی کی تھی جو اس کو ڈھونڈتے ہوئے وہاں آئی تھی ہا شاید۔۔۔۔ خیر شازی نے اپنا رخ میری مخالف سمت میں کیا تو میں جھٹ سے باڑے سے نکل گیا۔۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ چھنو بھی اس کی طرف دیکھ رہی ہو گی اس لیے میں باڑے سے نکل کر ایک بڑا سا مٹی کا کنکر جس کو پنجابی میں روڈا کہتے ہیں اٹھایا اور باڑے میں پھینک دیا۔۔۔۔ خود چھپ کر دیکھنے لگا شازی مڑتی ہے یا نہیں شازی آواز سن کر مڑی ادھر میں نے چھنو کو وہاں سے نکل کر بھاگ کر اندر والی طرف جاتے دیکھا۔۔۔۔ ادھر چھنو اندر گئی ادھر میں گھوم کر دوسری طرف سے گھر میں داخل ہوگیا اور سیدھا شادی والے گھر جا پہنچا۔۔۔ وہاں ماحول ہی اور تھا دیدے اور لالٹین کی روشنی میں لڑکیاں ڈانس کر رہی تھیں جن میں تقریباً سب ہی رشتہ دار تھیں۔۔۔ ڈھولکی پر ہماری میراثن میرے بھایی کی معشوق عاصمہ تھی ایک ردھم کے ساتھ بجا رہی تھی جس ردھم سے ڈھولکی بجتی اسی ردھم سے لڑکیوں کے جسم تھرکتے۔۔۔ اس سیکسی ڈانس کو دیکھ کر مجھے اپنے ادھورے مزے ہر غصہ انے لگا۔۔۔ میں لن کو گالیاں دیتے وہاں سے نکل کر فجے کی تلاش میں نکل پڑا بڑی مشکل سے فجا ملا۔۔۔ فجے سے میں نے حال چال پوچھا اس نے کہا موجاں بابا جی موجاں اج کل پھدی تے پھدی ملدی پئی اے۔۔۔ ہن ای اک پھدی مار کے آیا واں تو سنا شام تو پہلے دا آیا ہویا ایں مینوں ملن دا ٹائم نہیں لبھیا سنا کویی ملی یا بس ۔۔۔۔ میں نے اس کو سب سمجھایا کہ کیسے آئے اور تھکاوٹ کی وجہ سے نیند آگئی اور سو گیا بھی سو کر اٹھا ہوں۔۔۔۔ ہم ایسے ہی باتیں کرتے ایک بار اس طرف آگئے جہاں عورتیں اپنی محفل جمائے لگی تھیں۔۔۔ وہاں آئے تو دیکھا کہ بالو کی بہن میرے چاچی کی بیٹی سانولی سلونی سب کزنوں میں یہ سب سے سیکسی جسم کی مالک تھی ۔۔۔ عمر میں مجھ سے پانچ سال بڑھی ہو گی لیکن اس کا سیکسی فگر کر ایک کو مات دیتا تھا۔۔۔ اوپر سے اس کی ڈریسنگ بھی انتہائی شہوت انگیز ہوتی تھی ۔۔۔ اس کا نام فرحی تھا بڑے بڑے غباروں جیسے ممے باہر کو نکلی ہوئی گانڈ پیٹ نہ ہونے کے برابر جس کی وجہ سے اس کا سینہ بہت بڑا محسوس ہوتا تھا۔۔۔۔ سب لڑکیاں تھک چکی تھیں شاید لیکن وہ اکیلی اپنی کمر مٹکاتی ممے ہلاتی اچھل اچھل کر ڈانس کر رہی تھی۔۔۔ اس کے ہلتے ممے پھر جب وہ نیچے جھکتی تو باہر کو ابلتے ہوئے مموں کا نظارہ لن کو سکڑانے کے لیے کافی دیکھا۔۔۔۔ میں فرح کے پرشباب جسم پر آنکھیں سینکنے میں مگن ہو گیا ۔۔۔ لن اس کی پھدی کے تصور میں ٹن ہو گیا اور اپنی ازلی ہٹ دھرمی پر اتر آیا اور شلوار میں تنبو بنا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ میں مگن ہو کر فرحی کا ڈانس دیکھ رہا تھا اس کا تھرکتا جسم میرے لن پر بجلیاں گرا رہا تھا ۔۔۔ اس کے اچھلتے ممے اس کی مٹکتی گانڈ لہراتی کمر اور اس کی بل کھاتی چال کے ساتھ کمر پر بکھرتے بال میرے اندر ابال پیدا کر رہے تھے۔۔۔ میں فرحی کے آتشیں فگر کو دیکھنے میں اس کے ڈانس سٹیپ دیکھنے اس کے باہر کو ابلتے مموں کو دیکھنے میں محو تھا کہ فجے نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا بس کر کہ ہن ایٹھے ای ٹلی ہویا رہنا اے۔۔۔ ایک تعارف اور کرواتا جاؤں فرحی میرے چاچے کی اور فجے کی خالا کی بیٹی تھی اس رشتے سے فجا فرحی کا زیادہ قریبی تھا۔۔۔ لیکن سالا ایک نمبر کا حرامی تھا اس کو پھدی سے غرض تھی چاہے کسی کی بھی مل جائے۔۔۔ میں نے فجے کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں فرح کے کیے ہوس واضح نظر آ رہی تھی۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہم کچھ دیر اور رکتے ایک ہماری بڑی اماں نے ہمیں ڈانٹ کر بھگا دیا اس نے چار پانچ پنجابی کی سٹھنیاں بھی سنا دیں۔۔۔ سٹھنیاں تو پنجابی ثقافت کا حصہ ہیں جو لوگ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں وہ تو سب جانتے ہیں جو بھائی پنجاب سے نہیں ہیں ان کی زبان میں سٹھنیوں کا نام کچھ اور ہوگا لیکن وہ کلچر میں شامل ہوں گی۔۔۔ ہم دم دبا کر بھاگے لیکن دوسری طرف سے ایک اور عورت نے جو رشتے میں ہماری پھپھو لگتی تھی اس نے ہمیں پکڑ لیا اور ہم نے کانوں میں انگلیاں دے کر وہاں سے نکلنے کی کی۔۔۔ اس دوران میری نظر فرحی پر پڑی جو مجھے دیکھ کر ہنس رہی تھی میں نے بھی نظر بھر کر اس کو دیکھا آج شاید اس نے بھی میری نظر کا مفہوم سمجھ لیا تھا اس لیے نظر چرا گئی۔۔۔۔ ہم وہاں سے نکل کر اپنے ایک خفیہ اڈے پر گیے جہاں سب کزن اکٹھے تھے اور وی سی آر لگائے بیٹھے تھے۔۔۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھی رات کے پچھلے پہر بالو نے ایک کزن کو کہا جا باہر ویکھ کر آ سب امن اے۔۔۔۔ میں اس کی بات کا مطلب نہ سمجھا میں نے اس سے پوچھا بھی کیا مطلب ہے لیکن اس نے مجھے چپ کر کہہ کر خاموش کروا دیا۔۔۔ وہ لڑکا باہر سے گھوم کر آیا اور کہا سب اوکے ہے بالو اٹھا اس نے جو فلم چل رہی تھی وہ نکال دی اور باہر والا دروازہ بند کر دیا۔۔۔ پھر فکم کو روائنڈ کیا اور چلا کر پیچھے آ کر بیٹھ گیا۔۔۔ جیسے کی فلم چلی میرا لن پہلے سین پر کی تن گیا اس فلم میں سیکس تھا مطلب وہ سیکسی فلم تھی ۔۔۔ ٹرپل ایکسس بولتے تھے ہم یا اس کو بلیو فلم کہتے تھے اب بھی کئی لوگ بلیو فلم بولتے اور جدت کے ساتھ اس کے کئی نام پڑھ گئے ہیں جیسے ٹوٹا مکھن ملائی یا من و رنجن کا سامان وغیرہ وغیرہ۔۔۔ مجھ سے اب برداشت کرنا مشکل ہو گیا تو فجے سے کہا یار کچھ کر اب تو لن پھٹنے والا ہو گیا ہے۔۔۔ فجا ہنسا اور بولا مٹھ مار لو بالو کی طرح اب اور کیا کر سکتے ہیں۔۔۔ لیکن میری ضد جاری رہی تو فجا بولا چل آ فیر اج تینوں اک ہور جگہ وکھاواں۔۔۔ وہ مجھے لے کر باہر نکلا اور گاوں کی دوسری طرف جہاں دوکان تھی وہاں آگیا میں نے حیرانی سے پوچھا ادھر کہاں۔۔۔ فجے نے کہا صبر کر ہن ٹھنڈ رکھ بس بولیں ناں تینوں پھدی بس ایتھوں ای لبھ سکدی اے۔۔۔ اس نے ایک دروازے پر رک کر کہا چپ کرکے اندر آ جائیں بولنا نیں۔۔۔ اس نے دروازے کو ہلکا سا کھڑکایا وہ گھر نجاں لوہاری کا تھا جس کا شوہر آرمی تھا اور اس کا چکر میرے بھایی کے ساتھ بھی تھا لیکن ایک میرے بھائی سے نہیں تھا کئیوں کے بھائیوں سے اور چاچوں سے بھی تھا۔۔۔ ایک منٹ بعد اندر سے کسی نے دروازہ کھولا فجا بغیر ہچکائے اندر داخل ہو گیا۔۔۔ میں بھی اس کی تقلید میں اندر چلا گیا نجاں تھی یا جو بھی تھا اندھیرے میں لن نظر آنا تھا اس نے دروزاہ بند کیا ۔۔۔ وہ ہمیں لے کر ایک کمرے میں آگئی کمرے میں دیا ہلکی ہلکی روشنی پھیلا رہا تھا وہاں دو چارپائیاں تھیں دونوں خالی تھیں ایک پر فجا بیٹھ گیا میں بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔۔ نجاں نے پوچھا ہاں فجے اہنوں کیویں نال لئی پھرنا ایں آ شہری بچہ اے ایویں مروا نہ دینا۔۔۔ فجا تو بے فکر رہ تے اس کو خوش کر وہ مسکرائی اور بولی میں خوش کروں یا ثوبیہ کو کہوں ۔۔۔۔ فجا تو میرے نال چل اس کے لیے ثوبیہ ٹھیک ہے میں نے فجے سے پوچھا کیا مطلب ۔۔۔ فجے نے نجاں کو اشارہ کیا وہ باہر نکل گئی تو فجے نے مجھے کہا پھدی دیا ہن وی پچھدا پیا ایں کی اے وہاں تو بڑی آگ لگی تھی ۔۔۔ لینی دیا ثوبیہ بڑی پولٹ بچی اے تو خوش ہو جائیں گا اس کی پھدی مار مزہ کر ۔۔۔ میں۔۔۔ سالیاں لن تے دندیاں نا وڈ تجھے پھدی مارنے کا کہا تھا تو نے ماں یوائی نہیں کہ یہاں پھدی مل جائے گی۔۔۔ فجا ہن دس دےا ہے اب وہ ثوبیہ کو بھیجے گی ٹائم ضائع نہ کرنا سیدھا کپڑے اتار کر پھدی مار لینا۔۔۔ فجا اسی وقت باہر نکل گیا اس کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ جہاں کافی بار آچکا ہے اس لیے وہ اس گھر اے اچھے سے واقف تھا۔۔۔ کچھ کی دیر میں ایک چھوٹی عمر کی لڑکی اندر۔ داخل ہوئی گورا رنگ بڑی بڑی آنکھیں ان آنکھوں میں چمک اور مجھے دیکھ کر حیرانی تھی۔۔۔ ایک نظر میں دیکھ کر وہ معصوم بچی کی نظر آئی لیکن جب وہ دروازہ بند کرکے گھومی تو اس کے سینے کا ابھار بتا رہا تھا کہ کلی نہیں ہے بلکہ اب پھول بن چکی ہے۔۔۔ میں اس خوش کی قسمت پر رشک کرنے لگا جس نے اتنی خوبصورت کلی کو پھول بنایا ہوگا۔۔۔ وہ چلتی ہوئی قریب آئی اپنا دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا پھر اپنی قمیض اتارنے لگی قمیض جیسے ہی اتاری اس کا گورا بدن دیوے کی روشنی میں دمکنے لگا۔۔۔ اتنا گورا رنگ اوپر سے بے داغ بدن جس کو دیکھ کر میں بچی سمجھ رہا تھا اس کے ممے ایک بڑے سائز کے کینوں سے بڑے تھے۔۔۔۔ مموں کو لال برا میں قید می سزا دی ہویی تھی اس نے جھک کر شلوار اتاری اور اپنی ٹانگوں سے نکال دیا۔۔۔ اس کے بعد وہ میرے قریب آئی۔۔۔۔۔ اس کا جسم سنگ مر مر کی طرح تراشا ہوا تھا مموں کو لال برا میں قید کیے اپنے خوبصورت ہاتھوں سے اس نے میری قمیض کے بٹن کھولے۔۔۔ بٹن کھول کر اس نے قمیض اتار دی پھر میرا ناڑا کھول کر شلوار اتارنے لگی تو میں نے اس کو کہا چارپائی پر آجاؤ۔۔۔ وہ چارپائی پر میرے ساتھ بیٹھی پھر لیٹ گئی۔۔۔
  24. 6 likes
    بچپن سے اب تک، قسط نمبر 15، گھر والوں کے اس رویے سے میں واقع ہی اب بہت پریشان ہو چکا تھا اور مزید میری برداشت اب ختم ہوتی جا رہی تھی، اور یہ سوچ کر بھی مزید ٹینشن ہوتی تھی کہ سالا یہ سب کب تک چلے گا، خیر جو بھی تھا یہی زندگی تھی اور نئی نویلی دلہن کی طرح میں نے بھی اپنی اس زندگی کو قبول کیا ہوا تھا، 5 دن تک گھر میں پڑا رہا ان دنوں میں بہت محسوس کیا تھا اور جس بندے نے میری ٹھکائی لگائی تھی اس کو تو ذرا سا بھی کسی نے کچھ نہیں کہا جو بھی کہا مجھے ہی کہا اور سلیم بھائی کے حصے کی ڈانٹ بھی میرے نصیب میں تھی ویسے غلطی بھی میری ہی تھی، نا باہر جاتا اور نا مار کھاتا، صبح کے 9 بجنے والے تھے، اس ٹائم تک بھائی اور ابو دکان پر جا چکے ہوتے ہیں اور خواتین بھی گھر میں آ کر اپنا کام شروع کر چکی ہوتی ہیں شاید سائرہ بھی اپنا کام کر چکی ہو گی صفائی کا، ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ دروازہ کھلا تو سائرہ ہی تھی، (لمبی عمر پائی ہے سالی نے) سائرہ نے مجھے دیکھا کہ میں جاگ رہا ہوں تو واپس برآمدے میں چلی گئی، میں سوچ میں پڑ گیا اس کو کیا ہوا میں توآج مستی کے موڈ میں تھا لیکن یہ تو سالی بھاگ ہی گئی، اتنے میں پھر دروازہ کھلا اور اس بندی کو دیکھ کر مجھے اپنے اندر غصے کی لہریں دوڑتے ہوئے صاف صاف محسوس ہو رہی تھی، میرے ماتھے پر بل پڑنے لگ گئے، وہ جلدی سے میرے قریب آئی اور دونوں ہاتھ باندھ کر مجھ سے معافی مانگنے لگی اور ہلکا ہلکا رونے بھی لگی، لیکن مجھے ابھی بھی غصہ تھا اور معافی تلافی اور رونے دھونے کو نظر انداز کر رہا تھا، خیر اس نے شارٹ کٹ میں مجھے ساری بات بتائی جو میری سمجھ میں بھی آگئی تھی لیکن میں نے ایسا ظاہر کیا کہ میں راضی نہیں ہوا اتنے میں سائرہ آئی اور نوشی کو آواز دے کر کہا کہ آجاو اب باجی(امی) نے پوچھ لیا تو مصیبت ہو جانی ہے، امی شاید کچن میں ہوں گی یا پھر کھرے پر کپڑے دھو رہی ہوں گی، لیکن جو بھی تھا نوشی جلدی سے اٹھی اور پھر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور چلی گئ، دوستوں، بقول نوشی کے اس دن کی ہوئی واردات میں اس کا کوئی ہاتھ بھی نہیں تھا بس ایسے سمجھو وسیلہ ہی بن گیا تھا، کیوںکہ جب نوشی اور آنٹی نصری میرے ساتھ بات کر رہی تھی تو پیچھے سے سلیم بھائی بھی آ رہے تھے اور انہوں نے ہمیں دیکھ لیا تھا باتیں کرتے ہوئے، میں تو گھر آگیا تھا لیکن سلیم بھائی نے نوشی سے پوچھ لیا کہ کیا بات تھی، نوشی نے بات تو پلٹ دی لیکن فائدہ اس کا بھی نہیں ہوا، نوشی نے بس اتنا ہی کہا تھا دانش باہر گھوم رہا تھا تو میں نے تو بس اتنا ہی کہا کہ گھر بیٹھا کرو ورنہ سلیم کو پتا چل گیا تو وہ بہت مارے گا، بس یہ بات سلیم صاحب نے سنی تو جیسے وہ ہیرو ہو گئے اور گھر آ کر میری اچھے سے اور سلیقے سے دھلائی کی، اور پھر اگلے دن جب سب کو پتا چلا تو نوشی کی ہوا ٹائٹ ہو گئی اس کو اپنی فکر بھی تھی کہ ٹھیک ہونے کے بعد میں نے اس کی پھدی اور گانڈ دونوں کو پھاڑ کے رکھ دینا ہے، نصری آنٹی نے نوشی کو بہت برا بھلا کہا کہ اس کی چھوٹی سی غلطی کا مجھے کتنا نقصان ہوا ہے، سائرہ بھی پریشان تھی لیکن اس نے اپنی پریشانی چھپائی ہوئی تھی وہ نوشی کو کچھ کہہ نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ عمر میں بڑی تھی، خیر جو بھی ہوا گزر گیا تھا، پھر ابھی تھوڑی دیر گزری تو سائرہ ناشتہ لے کر آئی، ناشتہ کیا تھا بس مریضوں والا، خیر چپ چاپ کھایا، پھر ساتھ رکھیں گولیا کھائیں اور پھر لیٹ گیا، آج سیکس کی مستی چھائی ہوئی تھی تو بیگ سے سیکسی کتاب نکال کر پڑھنے لگ گیا پھر دوپہر تک امی کمرے میں ائی اور کہا کہ نہا لو گرم پانی کر دیا ہے، اور مجھے بھی نہانے کی طلب تھی، سو آرام سے اٹھا الماری سے کپڑے نکالے اور باتھ روم میں آ کر کپڑے ہینگ کئے پھر واپس کچن میں آ کر گرم پانی اٹھایا اور باتھ روم میں گھس گیا ، آج خواتیں مجھے چلتا پھرتا دیکھ کر خوش ہو گئیں تھیں، اور نوشی بہت ہی زیادہ خوش تھی لیکن مجھے نصری آنٹی کی مسکراہت سرور بخش رہی تھی، باتھ روم میں آ کر کپڑے اتارے، تو اپنے جسم کا جائزہ لیا، پورے جسم پر کافی جگہ ہلکے ہلکے نیل بنے ہوئے تھے جو اب کافی حد تک ٹھیک تھے ہاتھ رکھتا تھا تو ہلکا ہلکا درد ابھی بھی باقی تھا، خیر گرم پانی سے نہا کر کپڑے پہن کر پھر سے کمرے میں آگیا اور کافی ہلکا محسوس کر رہا تھا اپنے آپ کو،نوشی ایک بار پھر کمرے میں ائی کسی طرح موقع دیکھ کر پھر معافی مانگی لیکن اس کی آنکھوں میں شہوت صاف دکھائی دے رہی تھی بظاہر تو وہ معافی مانگ رہی تھی لیکن وہ اپنی چدائی کا ٹائم سیٹ کرنا چاہ رہی تھی، خیر میں نے بس ہاں ہوں میں ٹال کر چلتا کیا، کیوں کہ میرا اب دل اس پر نہیں تھا، شام ہوئی تو ابو اور بھائی بھی دکان سے آ گئے تھے، اور ابے نے بس اتنا ہی کہا کہ انہوں نے سکول میں درخواست دے تھی، تمہاری بیماری کی، اسی لئے جب سکول جاو تو بیماری کا ہی بتانا، چار ہٹلر میرے سامنے بیٹھے تھے توانکو دیکھ کر بس ہاں میں سر ہلا کر ان کو مطمعن کیا اپنا کھانا کھا کر کمرے میں آگیا اور سو گیا، اگلے دن جمعہ تھا سکول سے ویسے ہی چھٹی تھی سائرہ کمرے میں جھاڑو لگانے آئی تو ہلکی پھلکی مستی ہوئی اس کے بعد نہا دھو کر ناشتہ کیا کمرے میں آ کر سیکسی کہانی پڑھنے بیٹھ کیا کہ سائرہ کمرے میں ائی اور بولی کہ آپ کے دوست آئے ہیں انکو آپ کے ابو والے کمرے میں بٹھا دیا ہے، میں حیرانی سے اٹھا کہ کون سے دوست آئے ہیں اور ابو والے کمرے میں گھس گیا تو دیکھا سامنے مانی اور مہر صاحب بیٹھے ہیں، انکو ملا پھر اندر آ کر امی کو چائے کا کہا لیکن امی کے صاف انکار سے دل چکنا چور ہو گیا، خیر نصری آنٹی نے اشارہ کیا کے تم جاو میں بنا دیتی ہوں، میں نے انکا شکریہ ادا کیا اور واپس ابو والے کمرے میں آ گیا، مانی اور مہر نے میری طبیعت کا پوچھا ، انکو طبیعت کا بتایا کہ اب ٹھیک ہوں کل سے سکول آوں گا، پھر دروازہ بجا تو میں آنٹی نے مجھے ایک ٹرے پکڑائی جس میں چائے کے تین کپ تھے ، میں نے چائے پکڑ کے دروازہ بند کیا اور مانی اور اجمل کو چائے دی پھر گپ شپ ہوتی رہی پھر وہ اجازت لے کر کل لازمی سکول آنے کا کہہ کر چلے گئے،ابو کے کمرے کا ایک دروازہ گلی میں بھی کھلتا تھا مطلب وہ روم ہمارا ڈرائنگ روم بھی تھا،خیر ان کے جانے کے بعد میں نے خالی کپ اور ٹرے اٹھائی اور باہر آگیا اور کھرے کی طرف گیا ، کپ اور ٹرے دھو کر واپس کچن میں رکھے، اور اپنے کمرے میں آگیا، اب گھر میں ذرا سا بھی دل نہیں لگ رہا تھا اپنا ہی گھر مجھے جیل کے جیسا لگ رہا تھا باہر بھی نہیں جا سکتا تھا، ورنہ پھر سے ٹھکائی لگتی، خیر بڑی مشکل سے دن گزرا رات کا کھانا کھا کر سو گیا اگلے دن ٹائم سے سکول پہنچ گیا اور گھر سے باہر نکل کر بہت خوش تھا، سارا دن سکول میں بہت خوشگوار گزرا مانی اور مہر کے ساتھ ہنسی مزاک بھی چلتا رہا، 2:30 پر چھٹی ہوئی تو سب اپنے اپنے گھر جانے لگے لیکن میں کلاس میں ہی لاسٹ والے بینچ پر جا کر لیٹ گیا پھر تھوڑی دیر باہر مٹر گشتی کی، اپنے آپ کو آزاد محسوس کر رہا تھا، میں اکیلا تھا، مانی اپنے گھر چلا گیا تھا اور مہر اپنے ہاسٹل میں، شام کو جب دوبارہ کلاس شروع ہوئی تو مانی اور مہر بھی آ گئے مجھے یونیفارم میں دیکھ کر وہ بولے تو گھر نہیں گیاتھا؟ میں بولا نہیں دل نہیں کیا تو مانی بولا سالے میرے ساتھ چل لیتا میرے گھر پھر ساتھ ہی آجاتے، مانی کی بات میں وزن تھا لیکن ڈر بھی تھا کہ اگر ابے نے فون کر کے پوچھ لیا تو پھر گانڈپھٹ جانی ہے، خیر دیکھیں گے میں نے مانی کو کہا اور پھر سر آگئے تو پڑھائی شروع ہو گئی، سردی کا موسم تھا گھر پہنچا تو مغرب ہو ہی چکی تھی اندھیرا ہلکا ہلکا ہو رہا تھا لیکن آج ڈر نہیں تھا کیونکہ آج سکول سے واپس آ رہا تھا آوارہ گردی کر کے نہیں، گھر پہنچھا سلام کیا امی ہی تھی گھر پر،جواب دیتے ہی بولی یہ کونسا ٹائم ہے سکول کا اتنی دیر تک، تو میں نے بس اتنا ہی کہا کہ وہ سکول ہی ایسا ہے، لیکن امی کو یقین نہیں تھا کیونکہ آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ میں مغرب کے بعد گھر لوٹا تھا،خیر میں نے امی کو کھانے کا بولا تو وہی سرد آواز تیرے ابو اور بھائی آجائیں پھر ساتھ بیٹھ کر کھانا، غصہ تو بہت آیا لیکن پینا پڑا ہاتھ منہ دھو کر کمرے میں آیا کپڑے چینج کئے اور بیٹھ گیا اور آج کچھ زیادہ ہی خوش تھا کیونکہ اب سے سارا دن باہر رہنا ہو گا بس رات کو ہی آیا کروں گا، بھوک بھی بہت لگ رہی تھی لیکن برداشت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، خیر بڑی مشکل سے ٹائم گزرا ابو اور بھائی لوگ آ گئے، پھر کھانا لگا تو میں ٹوٹ پڑا کھانے پر اور پیٹ بھر کر کھانا کھایا، ڈکار مارتے ہوئے کمرے میں دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گیا پھر پتا نہیں کب سو گیا، اگلے دن ٹائم سے اٹھا اور سکول کی طرف نکل کیا اور پھر سے بہت خوش تھا،اور یہی روٹین ڈیلی رہی ایک ہفتہ نکل گیا ایسے ہی، مانی بھی بہت بار کہہ چکا تھا کہ دن میں اس کے ساتھ اس کے گھر جانے کا لیکن مجھے ابھی تھوڑا ڈر تھا ابے پر یقین پکا کرنا چاہتا تھا کہ میں فری ٹائم میں سکول میں ہی ہوتا ہوں، اور ابو ایک دو بار فون کر کے کنفرم بھی کر چکے تھے، لیکن پھر بھی مجھے کھٹکا تھا کہ وہ ایک دن ضرور آئیں گے دیکھنے کے لئے بھی، خیر چھٹی والے دن لن میں بھی کجھلی ہونے لگی سائرہ سے ہلکی پھلکی مستی ہوئی اور اسے کہا بھی کے آج موقع بناو لیکن وہ نخرے دکھانے لگی، لڑکی یا عورت جب تک ان کا خود کا موڈ نہ ہو تو آپ کو گھاس تک نہیں ڈالے گی، اور جب خود کا موڈ ہو تو زمیں آسمان ایک کر کے موقع بنا لے گی، پھر انکا دماغ دوگنا کام کرتا ہے ایسی سچویشن میں، خیر میں اٹھا نہا دھو کر ناشتہ کیا، ناشتے دوران سوچا کہ کیوں نا مانی کے گھر چلا جاوں، ابھی یہی سوچ رہا تھا، امی کی آواز دانششش؟؟؟؟؟؟؟؟ کچھ پیسے دئے اور کپڑوں کے کچھ سیمپل دے دئے اور کہا یہ سب کلر کی نلکیاں لے کر آو، مجھے تو جیسے خوشی کا ٹھکانا نہ مل رہا ہو، جلدی سے سائیکل نکالی ابھی دروازے میں ہی تھا ایک زوردار آواز ، جلدی آنا اور آوارہ گردی سے پرھیز کرنا، بس یہ الفاظ سن کر میرا دل کیا کہ جاوں ہی نا، لیکن پھر ایک اور آواز اب جا بھی کیوں رک گیااااا، بے دلی سے گھر سے نکلا اور مارکیٹ کی طرف روانہ ہوا تھوڑا ادھر ادھر گھوما، پھر جنرل سٹور پر گیا اور نلکیاں لی، واپسی پر پھر مٹر گشتی کی، مطلب ایک گھنٹہ سکون سے ضائع کیا پھر گھر آگیا ، وہی ڈانٹ پھر سے سن کر آرام سے کمرے میں آگیا، پھر سوچا چھت پر جاتا ہوں، کمرے سے نکلا سیڑھیوں کی طرف بڑھا ابھی ایک سیڑھی چڑھنے لگا کہ دروازہ بجا وہیں سے واپس مڑا اور دروازہ کھولا تو دیکھا ایک نقاب پوش لڑکی سفید کپڑوں میں ملبوس اندر آئی، اور اندر آتے ہی مجھ سے پوچھا کیسے ہو دانش اب طبیعت کیسی ہے اور ساتھ ہی اپنی چادر کا نقاب بھی ہٹایا، نقاب ہٹا تو میں بھی اسے پہچان گیا یہ تو نوشی کی بھابی ہے، میں نے بس سرسری سا جواب دیا کہ اب ٹھیک ہوں واپس دروازہ بند کیا اور چھت پر جانے لگا آدھی سیڑھیاں چڑھ کر نیچے جھانکا تو دیکھا نوشی کی بھابی نوشی کو کچھ دے رہی تھی خیر میں اوپر آگیا اور دیوار کے ساتھ لگی ہو ئی چارپائی کو بچھا کر لیٹ گیا دھوپ کے مزے لینے لگا، تھوڑی ہی دیر گزری کے سائرہ اوپر آئی اور اٹھلاتی ہوئی مسکان چہرے پر سجائے بولی ، کیوں دانش صاحب کھجلی ہو رہی ہے اور مٹانا چاہتے ہو، اس کی یہ بات سن کر میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور بس ہلکا ہلکا اسے دیکھ کر مسکراتا رہا، وہ پھر بولی بتا نا کجھلی ہو رہی ہے اور میرے بالکل قریب آ کر میرے ہتھیار کے اوپر ہاتھ رکھ دیا جو سویا ہوا تھا لیکن سائرہ کے ہاتھ لگتے ہی اس نے سر اٹھانا شروع کر دیا، وہ میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی اور پھر کہا بول نا کیا ہے، میں نے بس اتنا ہی کہاں کہ تم تو دیتی نہیں ہو پھر کھجلی کا کیا فائدہ، سائرہ کھکلاتے ہوئے اٹھی اور اپنا ہاتھ بھی میرے لن پر سے ہٹایا اور بولی کہ ابھی نوشی باجی چلی جائے گی اور اس کے گھر میں کوئی بھی نہیں ہو گا تم بھی کوئی بہانا بنا کر اس کے گھر چلے جانا اور اپنی کھجلی ختم کر کے آنا، نوشی کا نام سنتے ہی پتا نہیں کیا ہوا اور میں جھٹ سے سائرہ کو بولا کہ تم نے پھدی دینی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ نوشی چڑھے میرے لن پے، مجھے اس سے نہیں کرنا، سائرہ میری بات سن کر بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا اور بولی پاگل نوشی باجی نے لن پر ہی تو چڑھنا ہے اور تم ابھی بھی غصہ ہو، سائرہ کے منہ سے لن سن کر مجھے حیرت بھی ہوئی مزے کا جھٹکا میرے لن کو بھی لگا، سائرہ : چلو غصہ چھوڑو اور کسی طرح چلے جانا، اب میں بھی جاتی ہوں ورنہ ہم دونوں کو مار پڑے گی، اتنا کہہ کر سائرہ نے جلدی سے میرے ہونٹوں پر ایک کس کیا اور سیڑھیوں کی طرف چلی گئی، سیڑھیوں پر پہنچ کر پیچھے مڑ کر ایک بار پھر مجھے منت والے لہجے میں کہا پلیز دانش چلے جانا اس کے گھر ہااااااں، اور پھر نیچے اتر گئی، میں وہیں بیٹھا رہا آرام سے اور سوچنے لگا کہ جاوں یا نا جاوں اسی کشمکش میں تھا کہ نیچے سے گرجدار آواز آئی امی کی، دانشششششش؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ بس پھر کیا تھا فوری طور آواز دی آآااااااایا، کہہ کر نیچے کی طرف چل دیا ابھی سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ امی نے کہا جلدی سے اپنی نوشی باجی کو گھر چھوڑ کر آو اور یہ پیسے بھی لو اور دکاندار چچا سے سامان بھی لے آنا، فرمانبردار بچوں کی طرح گھر سے نکلا ساتھ میں نوشی بھی اپنی چادر اوڑھے نقاب کئے چل پڑی، گھر سے تھوڑا آگے آئے تو نوشی بولی، دانش تم جلدی سے سامان لے کر گھر دے کر آجانا میرے گھر میں کوئی نہیں ہے، مجھے غصہ تو بہت تھا اور غصے میں ہی جواب دیا کہ کیوں، سلیم بھائی کو بلوا لو نا یا پھر نبیل بھائی کو، تو نوشی تھوڑی کھسیانی ہوئی اور بولی ابھی بھی ناراض ہو، اچھا آج تم آجاو پھر جو مرضی کرنا میرے ساتھ مجھے مار بھی لینا جیسے سلیم بھائی نے تمہیں مارا تھا اپنا سارا غصہ نکال لینا میں چوں بھی نہیں کروں گی، اس کی بات سن کر میں نے بھی شریف بچوں کی طرح جواب دیا، نہیں نہیں آپ اتنی بڑی ہو میں کیسے مار سکتا ہوں آپکو ، آپ تو سلیم بھائی سے بھی بڑی ہو میں تو سلیم بھائی کو بھی نہیں مار سکتا آپ کو کیسے ماروں گا، یہ بات سن کر نوشی تھوڑا سا ہنسی اور بولی پاگل میں اسی لئے کہہ رہی ہوں کہ جو تمہارے ساتھ ہوا وہ میری وجہ سے ہوا اور اس کے بعد سے تو میں نے سلیم سے بات کرنا ہی چھوڑ دیا ہے اب وہ میرا بھی دشمن ہے اب تو اس سے بات کرنا تو دور کی بات اب تو دیکھنا بھی نہیں ہے اس کی طرف کیوں کہ اب مجھے تم جو مل گئے اب سے تم ہی میرے دوست ہو وہ بھی پکے والے، نوشی کی یہ بات سن کر میرا سینا پتا نہیں کیوں چوڑا ہوا اور میرا غصہ بھی پھرررررر ہو گیا، اور ارادہ بھی بدل دیا کہ اتنی تو اچھی ہے یہ میں ایسے ہی خامخوا غصہ کر رہا تھا ایسے ہی باتیں کرتے اور چلتے ہوئے اس کا گھر بھی آگیا ڈبل سٹوری گھر تھا نوشی آنٹی کا خیر، وہ چھوٹے گیٹ کا لاک کھول کر دروازہ کھول کر اندر گئی اور پیچھے مڑ کر پھر بولی جلدی آنا دانش تمہارا انتظار ہے مجھے، جاری ہے،،،،،،،،،
  25. 6 likes
    ابھی تو سب ٹویسٹ کا سب سے دلچسپ حصہ شروع ہوا ۔ ضوفی کی ٹھکائی ۔ اور ابھی سے شور مچا دیا کہانی ختم کرو ۔ ابھی تو بہت سے موڑ باقی ہے بہت سی ٹھکائی ہونے والی اور تم کہتے کہانی ختم اوئے تجھے شرم نا آئی یہ کہتے ہوئے اوے میں انتظار میں ہوں بازغہ کی نوکرانی کی ٹھکائی کے لئیے جس کا اس کہانی سے کوئی لینا دینا نہیں اور تم کہتے کہ کہانی ختم کرو ۔ ہم لوگوں نے بھی ایسے کہانی پڑھی ہے ناجانے کہاں کہاں سے دھکے کھا کر اس مقام پر پہنچے جہاں ڈاکٹر صاحب کی چھتر چھایہ میں اس کہانی کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ۔ کہانی تو ابھی ہو گی اور لمبی ہماری ساتھ سفر کرنا ہے تو ۔ جی آیاں نوں ۔ اگر بات نہیں جمتی تو الٹے پیر واپس جایا توں
  26. 5 likes
    UpDate.....No__:04 میں ابھی فری آنٹی کے گھر کی طرف جا ہی رہا تھا کہ راستے میں مجھےلائبہ نے آواز دی کہاں جا رہے ہو ۔؟؟؟ میں نے بھی تمہارے ساتھ جانا ہے،، میں نے کہا تم بھی آ جاؤ میں خود آنٹی فرحین کی طرف ہی جا رہا تھا'' تم بھی ساتھ چلو۔ صبح پاپا نے کہا تھا کہ ،شام کو اُنکے گھر جا کے حال احوال لے کیا جائے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے اور مہمانوں کا معلوم کرنا ہے کہ مہمان آ گئے یا نہیں۔۔؟؟ پھر میں اورلائبہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ ےآنٹی فرحین کے گھر کی طرف چلنے لگے آنٹی کے دروازےپر پہنچتے ہی میں نے ان کی کنڈی بجائی تو اندر سے فائزہ کی آواز آئی کون۔؟؟ تو میں نے مذاق میں کہا چوئی دروازہ کھول،،،فائزہ نے دروازہ کھولا ،تو اندر سے اُس کی امی کی آواز آئی بیٹا کون ہے ،تو فائزہ نے کہا امی مراثیاں دا سردار آیا ۔ تو میں نے بھی جھٹ سے جواب دیا میں جے مراثیاں دا سردار ،آں تے توں مراثیاں دی سردارنی،، ہورآ تیری چیلی میں لائبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا لائبہ نے مجھے گھورتے ہوئے اپنے پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔۔ اور اپنے پاؤں سے جوتی نکال کے مجھے ماری ۔ میں بھاگ کر فائزہ کےپیچھے جا کر کھڑا ہو گیا،، چپل سیدھا فائزہ کےمنہ پر لگی ،،یہ دیکھ کے میں اندر بھاگ گیا ۔ آنٹی کےپاس جا کے کھڑا ہوگیا فائزہ مجھے گالیاں نکالتی ھوئی اندر کی طرف آنے لگی،، کُتا کمینہ چُوڑا مَراثی،، امی اے کنجر ، مراثی مینوں مار کے آیا وا ۔۔تو آنٹی نے مجھے کہا کیوں میری تی نوں تنگ کردا واں تیرے توںوڈی باجی آ تیری ، بچہ کیوں تنگ کر دا ''رہنا ہر ٹائم۔۔؟میں تو آنٹی تو مذاق کر رہا تھا ۔ پھر تھوڑی دیر یوں ہی نوک جھونک ہوتی رہی اُس کے بعد پھر میں نے آنٹی سےپوچھا اُن کی بیٹی کی شادی کب کی ہے۔۔ اور نورین آپی ،عدینہ کہاں ہیں۔؟ اورثنا کہاں گئی وہ کافی دن سے نظر نہیں آ رہی۔۔؟؟ آنٹی نے کہا نورین اور ثنا اپنی خالہ کے گھر گئے ہیں فیصل آباد، اور باقی عدینہ اندر سو رہی ہےفرحین اوپر کمرے میں ہو گی۔ تو میں نے کہا آنٹی آپ مجھے بتا دیں کہ کِس کِس چیز کی ضرورت ہے آپ لسٹ بنوا دیں فائزہ سے ۔کہیں بنا کر رکھے جو چیزیں شہرسےلانی ہیں وہ میں شہر سے لے آؤں گا اور جو چیزیں یہاں کی ہیں وہ یہاں سے اور جو، جس طریقے سے بھی سجاوٹ کرنی ہے آپ مجھے بتا دیجئے گا ۔ کروا دوں گا ٹھیک ہے اور لاہور سےآنے والے مہمان اطاق میں ہی رہیں گے ایک ہفتہ جب تک شادی نہیں ہوجاتی اور اور لیڈیز کا اِنتظام لائبہ کے گھر پہ ،۔ آنٹی نے کہا کہ بیٹا ہے ایک ہفتہ نہیں ہے شادی میں ابھی تقریبا کوئی 22 دن ہیں کیونکہ میری بہن والوں کے ابھی تھوڑا سا مسئلہ چل رہا تھا پیسوں کے لین دین کی وجہ سے بھی کوئی کورٹ کی تاریخیں قریب آرہی ہیں اُس وجہ سے ہم نے شادی کی تاریخ لیٹ کر دی ہے۔ میں نے کہا جی اچھا ٹھیک ہے تو پھر آپ مجھے جو ہے نہ سارے سامان کی لسٹ بتا دیں۔ اسی دوران فائزہ اندر گئی اور ایک لِسٹ نکال کر لائی اُس نے میرے ہاتھ میں دی اس نے کہا کہ اس میں ایسی چیزیں ہیں کہ مجھے خود تمہارے ساتھ جانا پڑے گا شہر تک، اسی لئے چاچو سے پوچھ لو کہ جو خود لے کر جائیں گے یا ڈرائیور لے کر جائے گا ۔۔؟ میں نے کہا ڈرائیور لے جائے گا چاچو کو کھیتوں پہ بھی کام ہو گا ہم دونوں اور لائبہ چلیں گے جو تمہیں سامان لینا ہوگا وہاں لے لینا۔ آنٹی کے گھر تھوڑی دیر رُکنے کے بعد میں اور لائبہ واپس اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے..گھر پہنچ کر ہم سب نے مل کر کھانا کھایا ۔پھر چاچو اور لائبہ برابر میں بنے اپنے گھر چلے گئے لائبہ اور ہمارا گھر ساتھ ساتھ ہی ہے اور گھر کے اندر سے ہی راستہ بھی ہے۔ لائبہ کی امی کا انتقا ل اُس کےبچپن میں ہی ہو گیا تھا، اُس کے بعد سب کے کہنے کے باوجود چاچو نے لائبہ کی وجہ سے دوسری شادی تک نہ کی۔ میں سونے کے لئے بستر پر لیٹا ہی تھا کہ اچانک مجھے یاد آیا، میں اُٹھا اور دراز کھول کر میں نے وہ شیشی نکالی اور ایک بار پھر اُُسے پڑھنے بیٹھ گیا۔ اُسے اچھی طرح پڑھنے کے بعد میں نےشیشی کے اندر سے جو دوسری ڈبی تھی وہ نکال کر سائیڈ پر رکھی اور اسی میں پاؤڈر تھا ، تھوڑا سا پاوڈر نکالا بھاگ کر کے کِچن میں گیا اور وہاں سے دودھ کا ایک گلاس میں ایک چمچ اٹھا لایا ۔ اُس چمچ سے میں نے اور وہ پاؤڈرلیااور دودھ کے گلاس کے ساتھ کھا لیا۔ پھر میں نے اٹھ کر اپنے کمرے کا دروازہ لاک کیا اور اپنے بستر پر آکر بیٹھ گیا کمرے میں جلتی لالٹین اُٹھا کر میں نے اپنے پاس ہی رکھ دیاا اور شیشی سے آئل کے چند قطرے نکالے اور پھر اپنی شلوار کا ناڑا کھولا تیل اپنی ہتھیلی پر لے کر میں اپنے لنڈ پرمسلنے لگا، جیسے ہی میرا ہاتھ میرےلنڈپر پڑا میرے جسم میں عجیب کا سرور محسوس ہُوا پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ میں اس تیل سے کافی دیر تک لنڈ کو اسی طرح مالش کرتا رہا ۔ تقریبا آدھا پونا گھنٹہ میں مالش کرتا رہا مجھے کافی زیادہ مزہ آ رہا تھا پر مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے جب میرا ہاتھ تھک گیا تو میں نے اپنی شلوار اوپر کی اور ناڑا باندھ کر سونے کی تیاری کرنے لگا ایسے ہی سوچتے سوچتے مجھے جانے کب نیند آ گئی معلوم ہی نہ پڑا۔ صبح میری آنکھ لائبہ کے چیخنے چلانے سے کھُلی لائبہ مجھےاٹھا رہی تھی کہ اٹھو کافی دیر ہوگئی ،جیسے ہی میں اٹھا تو دیکھا لائبہ کی نظریں میرے چہرے کی طرف تھیں میں اٹھ کر کھڑا ہوا مجھے اپنے آپ کا کوئی ہوش نہیں تھا اُس وقت۔۔ اُس وقت جو کہ میرا لنڈ فل کھڑا ہوا تھا ،،اتنا بڑا تو تھا نہیں پھر بھی کھڑا ہواقمیض کے اوپر سے محسوس ہو رہا تھا لائبہ نے مجھے سر سے پاؤں تک اچھی طرح دیکھا پھر میں نوٹ کیا کہ لائبہ ترچھی نظروں سے میرے لنڈ والی جگہ پر دیکھ رہی تھی۔ اُس کے اس طرح دیکھنے سے مجھے تھوڑی گھبراہٹ محسوس ہوئی میں دوسری طرف منہ کرکے واش روم کی طرف جانے لگا جب میں نہا کر واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ لائبہ مجھےمعنی خیز نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ مجھے بہت عجیب سا محسوس ہوا،، مجھے اُس وقت ان باتوں کی کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی نہ اُس کے اس طرح دیکھنے کا کچھ سمجھ آ رہا تھا کہ وہ مجھ سے ایسا کیوں کر رہی ہے۔ میں نے ان سب باتوں کو نظر انداز کرکے ناشتہ کرنا شروع کیا ،'''،ناشتہ کرنے کے بعد ہم لوگ گھر سے باہر آئے۔۔لائبہ نے کہا کہ چلو وہ آنٹی فرحین کے گھر چلتے ہیں میں نے کہا چلو ٹھیک ہے ہم چلنے لگے ۔ اتنے میں چاچو نے آواز دی عادل بیٹا یہاں آؤ ۔میں بھاگ کر چاچو کی طرف گیا ،،اور پوچھا جی چاچو ''چاچو نے کہا کہ بیٹا تم جاؤ وہاں ٹیوب ویل پر اور وہاں سے ڈرائیور کو کہنا کے شہر چلا جائے اور ڈیزل لے آئے ٹیوب ویل صرف آج کا دن ہی چل پائے گا ڈیزل جتنا ہمارے پاس پڑا ہے تو لائبہ نے کہا کہ بابا ہم تو آنٹی کے گھر جا رہے تھے۔ تو چاچو نے کہا کہ تم چلی جاؤ میں عادل کو کام سے بھیج رہا ہوں جب یہ فارغ ہو گا تمہاری طرف آ جائے گا۔ لائبہ ناراض نظروں سے مجھے دیکھتی ہوئی آنٹی فرحین کے گھر کی طرف جانے لگی میں نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا کہ تم چلو میں دس منٹ میں پہنچ جاؤں گا اس نے اثبات میں سر ہلایا اور چلی گئی ۔ میں ٹیوب ویل کے طرف جانے لگا ،وہاں پہنچا تو دیکھا کہ آنٹی ببلی ٹیوب ویل کے پانی میں کپڑے دھو رہی تھیں اور اُس پانی سے ان کا پورا جسم بھیگا ہوا تھا،، اُس دوران ہمارے گاؤں کی عورتیں بہت ہی کم برا وغیرہ استعمال کرتی تھیں براکی جگہ وہ کپڑا استعمال کرتی تھی جیسے ہندو لوگ بلاؤز کہتے ہیں ۔ تو آنٹی نے سفید کلر کا سوٹ پہنا ہوا تھا جس سے ان کا مکمل جسم صاف نظر آ رہا تھا یہاں تک کہ ان کی گانڈ کا کٹائو صاف نظر آ رہا تھا ۔آنٹی دوسری طرف منہ کیئے کپڑے دھونے میں مشغول تھیں اُنہیں اس بات کا کوئی ہوش نہیں تھا ۔ آنٹی کا جسم مکمل طور پر سنی لیون کے جسم جیسا ہے ۔آنٹی کے پاس پہنچتے ہیں مجھے شرارت سوجھی ۔میں نے بالکل پاس جاکر کُتے کی آواز نکالی اِس سے پہلے کی آنٹی مُڑ کے پیچھے دیکھتیں گھبرکر پانی میں گر پڑیں اور غصے میں گھومتی ہوئی جیسے ہی مُڑ کر مجھے دیکھا تُومُسکراتے ہوئے کہنے لگی عادی ڈرا دیا مجھے بیوقوف ،،دیکھو مجھے سارا پانی پانی کر دیا اب میں کس طرح واپس گھر تک جاؤں گی ۔۔؟؟ سارے کپڑے بھی میرے بھیگ گئے میں نے کہا آنٹی کپڑے تو آپ نے پہلے بھی بھیگے ہوئے تھے۔ میں آپ کو چادر لا دیتا ہوں آپ چادراوڑھ کے چلی جانا۔ آنٹی نے پوچھا کہ تم یہاں کیا کرنے آئے ہو تو میں نے کہا چاچو نے مجھے بھیجا ہے کہ ڈیزل کے گیلن اُٹھا کراطاق میں جا کے ڈرائیور کو دے آؤں تاکہ وہ اور ڈیزل شہر سے لے آئے۔ آنٹی نے کہا چلو ٹھیک ہے تھوڑی دیر یہاں بیٹھو اور کچھ باتیں کرتے ہیں پھر تُم چلے جانا ۔میں وہاں سامنےبنی ٹیوب ویل کی بنی ہودی کی چوکھٹ پر بیٹھ گیا ۔ اُس وقت پتانہیں مجھے کیا ہو رہا تھا اپنے جسم میں عجیب سی سنسناہٹ سی محسوس ہو رہی تھی جیسے میرے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہو اور بار بار میری نظریں آنٹی کی گانڈ کی طرف اٹھ رہی تھیں میری نظریں آنٹی کے پورے جسم کا جائزہ کرتی رہیں اور آنٹی کپڑے دھوتی رہیں۔ پھر آنٹی مجھ سےکہا عادی ۔۔ فرحین کی بیٹی کی شادی کب ہے۔۔؟؟ میں نے کہا آنٹی ابھی ،22 23 ' دن ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ ان کے گھر کے انتظامات سارے مکمل ہو گئے ہیں یا ابھی کچھ رہتا بھی ہے ۔؟؟ میں کہا آنٹی سب کچھ مکمل ہوچکا ہے باقی اب کچھ سامان باقی ہے بس جیسے وہ لوگ کہیں گے ویسی ڈیکوریشن کرنا باقی رہ گئی ہے باقی سب کچھ مکمل ہو چکا ہے ۔۔ باجی کا جہیز بھی بنا دیا ہے ہم نے، اور دو چار دن بعد ہم وہ پہچانے جائیں گے ۔میں پوچھا آنٹی عالیہ کیسی ہے وہ ٹھیک تو ہے۔؟،، آنٹی نے کہا ہاں بیٹا وہ ٹھیک ہے اور وہ اس وقت تمہارے گھر پر تمہاری امی کے پاس ہے میں آتے ہوئے تمہاری امی کے پاس چھوڑ آئی تھی اُسے میرا آنٹی کو اِس طرح دیکھنا میری بے چینی کو بڑھا رہا تھا ،،میں بار بار اپنےآپ نے پہلو بدل رہا تھا مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ میری شلوار میں تناؤ پیدا ہوتا جا رہا تھا میرے اس طرح بار بار پہلو بدلنے سے آنٹی کو کچھ شک ہُوا انھوں نے میری شلوار کی طرف نظریں اٹھا کے دیکھا اور مُسکراتے ہوئے واپس اپنے کپڑے دھونے لگی میں آنٹی کو اس طرح مسکراتا ہوا دیکھ کر حیران ہونے لگا کے پتہ نہیں آنٹی کو کس بات پر مُسکرانا آیاہے۔ تھوڑی دیر بعد او پرٹنگے کپڑوں کی طرف اشارہ کرکےآنٹی نے کہا کہا عادی بیٹا وہ کپڑے خشک ہو چکے ہیں وہ اُتار کے لا دو،،۔ میں کہاٹھیک ہے اور چل پڑا کپڑے اتارنے ،،کپڑے اتار کر واپس آیا تو آنٹی نے کہا،، میں اس طرح کے کپڑوں کی حالت میں گاؤں واپس نہیں جا سکتی اسی لیے میں نے کپڑے چینج کرنا ہے یہ کپڑے کافی حد تک سُو کھ چکے ہیں تم ایسا کرو میرے ساتھ کوٹھڑی تک آؤ۔ میں کہا آنٹی میں یہاں کھڑا ہوں آپ جاکر چینج کر آؤ آنٹی نے کہا نہیں مجھے وہاں ڈر لگتا ہے وہاں چوہے بچھو پھرتے رہتے ہیں ۔ اِس وقت کے اُس کوٹھری کی بات ہو رہی ہے اگر آپ لوگوں میں سے کوئی گاؤں میں رہتا ہے تو اسے معلوم ہوگا کہ ٹیوب ویل کی موٹر کو چھوٹی سی کوٹھری میں لگائی جاتی ہے اس میں کوٹھری سی بنائی ہوتی ہے ۔ میں آنٹی کے کپڑے پکڑے آنٹی کے پیچھے چلنے لگا آنٹی کی بڑی سی گانڈ اوپر نیچے ہونے لگی، میری نظرچلتے چلتے اس پر پڑنے لگی میں نہ چاہتے ہوئے بھی آنٹی کی گانڈ سے نظریں ہٹا نہیں پا رہا تھا ہالا نکہ کے اس وقت میرے ذہن میں ایسی کوئی غلط سوچ نہیں تھی نا ہی ایسی کسی حرکت کی کسی ایسی بات کی سمجھ تھی ۔ چلتے چلتے ہم اندرکوٹھری میں پہنچے تو آنٹی نے مجھے کہا کہ اندر آؤ تم بھی میں کہا آنٹی میں باہرہی ٹھیک ہوں آپ بدل لو۔ آنٹی نے کہا نہیں تو اندرآؤ مجھے ڈر لگتا ہے میں نے کہا آنٹی میرے سامنے بدلیں گیں۔۔؟ آنٹی نے کہا تو کیا ہوا تم دوسری طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاؤ۔ میں دوسری طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا اور آنٹی کپڑے بدلنے لگیں ، اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے میری کمر پر کوئی چیز چل رہی ہو میں اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر اپنی کمر پر مارا تو وہ چیز نیچے گر پڑی۔ اور میں نے مُڑ کر اس چیز کو دیکھنا چاہا میں نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا تو آنٹی بالکل ننگی کھڑی دوسری طرف منہ کرکے اپنے کپڑے سیدھے کر رہی تھیں۔ آنٹی اس وقت تھوڑی سی جُھکی ہوئی تھیں جس سے ان کی گانڈ کی دونوں پہاڑیاں ہلکی ہلکی سائیڈ او ں کو کھلی ہوئی نظر آ رہی تھیں آنٹی کی چمکدار اور خوبصورت گانڈ دیکھ کے میرا دماغ کی سَنسَنااُٹھا ۔ میں نے آج سے پہلے کوئی عورت یالڑکی ننگی کبھی نہیں دیکھی تھی ۔ میرے جسم میں سنسناہٹ ہونے لگی اور ایک بار پھر سے میرے لنڈ میں تناؤ پیدا ہونے لگا ۔۔تھوڑی دیر تک میں اسی طرح سکتے کی حالت میں آنٹی کی طرف دیکھتا رہا پھر اچانک مجھے ہوش آیا تو میں نے واپس اپنی گردن گُھما لی۔
  27. 5 likes
    UpDate.....No.::2 عادل اپنی امی کی طرح ضد کرنے کے بعد اُٹھ بیٹھا ۔ اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا باہر صحن کی طرف روانہ ہو ۔ اور وہاں ہمیشہ کی طرح لائبہ نے اس کا استقبال طنز و تنقید کے الفاظوں سے کیا ۔۔ عادل جیسے ہی باہر صحن میں پہنچا وہاں لائبہ سلیقے سے بال بنائے دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھے کھڑی تھی ۔۔ عادل کو دیکھتے ہیں لائبہ نے مصنوعی غصے کا اظہار کیا ،،،غصے سے عادل کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی ،آگئے نواب صاحب، کُھل گئی اَکھ ، ٹائم تو نظر آتا نہیں ۔ عادل" لائبہ کو دیکھ کر بولنے لگا چل وے چِھپکلی ۔۔تینو تے کوئی ہورکم ہنیں ۔۔مینوں ہور وی کام بہت ہندےنے۔ عادل اسی طرح لائبہ سے نوک جھونک کر کے واش روم کی طرف جانے لگا۔ عادل واش روم سے فارغ ہو کر نکلا تو باہر دروازے کے پاس ہی لائبہ کھڑی اُس کا انتظار کر رہی تھی۔ باہر نکلتے ہی دونوں کھیتوں کی طرف نکل گئے۔ یہ دونوں ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ سامنے سے انہیں "ببلی" آنٹی آتی نظر آئیں ۔ آنٹی نے عادل کو دیکھتے ہیں سلام کیا اورپوچھا کیسے ہوا عادل بیٹا۔۔؟؟ عادل اُن کے پاس رُک کر ،آنٹی میں ٹھیک ہوں آپ سناؤ کیسی ہیں اور "عالیہ "کیسی ہے ۔ آنٹی شکر اللـ۔۔۔۔کا ٹھیک ہے ۔اورمیں تو تمہارے سامنے ہی ہو ں ۔ توعادل نےایک بھرپور نظر سرسے پیر تک آنٹی پر ماری۔۔ ببلی آنٹی ان کی پڑوسی تھی اُن کے ہسبینڈ اس وقت پاکستان آرمی میں تھے ۔ کیونکہ اُس وقت بہت ہی زیادہ کشید گی چل رہی تھی بارڈر پر،،،،، 65 کی جنگ قریب ہی واقع ہے۔ ہمارے گاؤں یا آس پاس کے 300 گاؤں میں تقریبا کوئی 45 پرسنٹ کے قریب لوگ اس وقت آرمی میں تھے ۔۔ ببلی آنٹی متناسب جسم ایک ستائیس،اٹھائیس کی عُمر کی عورت تھیں ، سفید گورا چٹا رنگ بھرے ممے باہر کو نکلی ہوئی گانڈ،، لُک لائک ،سیکس بمب" طرح تھی ۔۔آنٹی کی چال ڈھال اُٹھنا بیٹھنا بالکل شریفانہ تھا۔ ایک بار پھر آنٹی عادل سے مخاطب ہوئیں۔۔ عادل بیٹا تم تو ہمارے لئے عید کا چاند بن گئے ہو، کبھی اپنی آنٹی کو بھی ٹائم دے لیا کرو کبھی ہمارے گھر چکر لگا لیا کرو۔۔ عالیہ بھی تمہیں بہت یاد کرتی ہے کہ ہروقت عادل بھائی ،عادل بھائی ''کرتی رہتی ہے،، عادل ""آنٹی میں بھی آپ لوگوں کو بہت یاد کرتا ہوں پر آپ بھی سمجھتی ہیں کہ میں صبح اسکول اس کے بعد پھر کراٹےکلب" اس کے بعد پھر میں شام کو اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد رات کو منہ اندھیرے شہر سے واپس آتا ہوں ۔۔ آنٹی وعدہ اب کی بار جیسے ہی مجھے ٹائم ملا میں آپ کی طرف چکر لگاؤں گا، ہوسکتا ہے کہ میں آج ھی آپ کی طرف آؤں۔ آنٹی نے کہا اچھا ٹھیک ہے بیٹا اب تم جاؤ کھیتوں پر اور اپنے چاچا کو کہنا کے جب شہر جائیں تو وہاں ڈاکخانے سے معلوم کرلیں کہ عالیہ کے بابا کی کوئی ِچھٹی تو نہیں آئی۔۔؟؟ ٹھیک ہے آنٹی میں سکول گیا تو میں خود ہی معلوم کر لوں گا چاچو کو کیا کہنے کی ضرورت ہے ۔ آنٹی نے کہاعادل بیٹا جیسی تمہاری مرضی بہت شکریہ تمہارا۔ آنٹی سے بات مکمل کرنے کے بعد فارغ ہوتے ہی جیسے ہی عادل نے اپنا چہرہ گھماکر لائبہ کی طرف دیکھا تو لائبہ کی آنکھوں میں غصے سے لال ڈورے تیرتے ہوئے نظر آئے ۔۔ لائبہ " غصےسے کہنے لگی تمہیں آج کا دن میرے ساتھ گزارنا ہے اور تم آنٹی کو ٹائم دے رہے ہو۔ لائبہ " عادل تم نے وعدہ کیا تھا کہ سنڈے کا دن ان ساتھ گزارا کریں گے، اب تم کسی اور کے لیے وقت کیسے نکال سکتے ہو ۔؟ عادل تم سمجھ نہیں رہے ہم اچھے دوست ہیں اگر ہم ایک دوسرے کو وقت ہی نہ دیں تو ہم کس بات کے اچھے دوست کس بات کے کزن ہیں ہم۔؟ یار لائبہ تم تو غصہ ہی کر گئی میرا خُود کا آج تمہارے ساتھ ہی وقت گزارنے کا دل ہے ،میں تو میں نے تو آنٹی کا دل رکھنے ۔کے لیے کہا تھا ،میں کون سا وہاں جانے لگا ہوں۔ ، لائبہ غصے سے، غصہ نہ کروں تو اور کیا کروں ، ہفتے میں ہمیں صرف ایک دن کی چھٹی ملتی ہے ، ساتھ رہنے کے لئے، ہم ساتھ جاتے ہیں ، اسکول میں ساتھ پڑھتے ہیں، وہاں بھی تم اپنے دوستوں میں مشغول رہتےہو۔ اور میں اکیلی دیکھتی رہتی ہوں کہ کبھی عادل مجھے بھی وقت دے ،میں نے تمہاری وجہ سے آج تک اسکول میں اپنا نہ کوئی دوست بنایا ہے نہ ہی میری کوئی سہیلی ہے ۔عادل ""لائبہ سے یار میں جانتا ہوں کہ تم میرے علاوہ کسی اور پر بھروسہ کرنا ہی نہیں چاہتی اور بے فکر رہو میں مرتے دم تک تمہارا بھروسہ کبھی نہیں توڑوں گا ،،۔پرومِس یہ کہتے ہیں فورا آگے بڑھ کر عادل نے "لائبہ کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما...اور اس کے ماتھے پر کس کیا ۔پھر عادل نے "لائبہ سے کہا کہ یار ہم صرف کزن ہی نہیں ہم اچھے دوست بھی ہیں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔ ہمیشہ ہر اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ہے۔ لائبہ اس سے گویا ہوئی اچھا اچھا سمجھ گئی میں ، تم تو بہت ہی بہانے باز ہو ؛ باتیں بنانا تو کوئی تم سے سیکھے۔ لائبہ میری جگہ اگر کوئی شہر کی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں نہ تو وہ بھی ضرور تمہاری اِن باتوں سے پِگھل جاتیں باتیں بنانے میں بہت ماہرہوتم، عا دل تم بہت شریر ہوتے جا رہے ہو۔ پھر دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے گاؤں کی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے اپنے کھیتوں کی طرف جانے لگے،، کھیتوں تک پہنچنے میں کافی وقت لگا پر اس دوران دونوں میں بالکل خاموشی چھائی رہی۔ کھیت میں پہنچتے ہی دونوں نے اپنے بابا اور چاچا کو سلام کیا۔ عادل کو دیکھتے ہیں "چوہدری جابر" نے کہا، اُٹھ گئے لارڈ صاحب آگئے ۔۔" عادل شرمندہ ہوتے ہوئے ، بابا '' آج ہی کا دن تو ملا تھا مجھے نیند پوری کرنے کا آپ تو مجھے وہ بھی پورا نہیں کرنے دیتے ۔ اچھا بیٹا نیند بعد میں پوری کر لینا تمہیں آج اپنے چاچا کے ساتھ شہر جانا ہے ، تمہاری ماں آنے والی ہے، کھانا لے کر ،۔ کھانا کھا کر تم دونوں نکل شہر کے لیے نکل جانا یہاں شہر کے لئے جو الفاظ استعمال ہو رہا ہے وہ ہمارے گاؤں سے 21 کلومیٹر دور شہر فیصل آباد کی بات ہے۔ عادل کے بابا جان بات کرتے وقت اپنے چھوٹےبھائی "چوہدری دلاور حسین "کی طرح چہرہ گھما کر، دلاور تم اپنا اسلحہ ساتھ لے کر جانا۔ اور عادل بیٹا تم بھی اپنی پسٹل اپنے ساتھ ہی رکھناتمہیں تو پتہ ہے اِس وقت آس پاس کے حالات کا ،، اور پھر ڈاکوئوں کا بھی خطرہ رہتا ہے ۔۔ تمہیں ساتھ ج شہر جا کر وہاں بینک سے پیسے نکلوا کر واپس چلے آنا ہے۔ یہاں میں نے ان کِسانوں کو جوہمارے کسان بھائی ہیں ان میں کچھ مسائل ہیں انہیں دینا ہیں۔ اور پھر امید حسین کی بیٹی کی شادی بھی آرہی ہے امید حسین کے گھر کوابھی ضرورت ہے ، ہمیں اس کی مدد کرنی ہے تم اور لائبہ کل سے اُس کے گھر جا کر کے گھر کی سجاوٹ اور اس کے گھر کے حالات کا خیال رکھنا ہے۔ پر بابا میرا تو اسکول ہے، اور لائبہ بھی فورن بولی کے بابا ہم نے بھی اسکول جانا ہے میرا بھی اسکول ہے ہمارے چند مہینوں بعد تو پیپرشروع ہو رہے ہیں۔ عادل کے بابا عادل سے گویا ہوئے ، بیٹا پیپر ابھی کافی دور ہیں۔۔ میں جانتا ہوں تمہاری پڑھائی میں ہر ج ہوگا ایک ہفتے کی چھٹی لے لو آپ اُن کااور اُن کےبچوں کا خیال رکھنا تمہارا کام ہے۔ ان کے بابا نے ہمارے ملک کے لیے ،ہماری فوج کے لیے اپنی جان دی ہے ۔۔ شہید ہیں وہ ان کے بچوں کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔ اور پھر امید حسین کی بہنیں اور اس کی سالیاں شہروں سے آنے والی ہیں ان کے بچے شہروں میں پلے بڑھے ہیں ۔ یہاں گاؤں میں ان کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہے تمھیں اور لائبہ کو مل کے ان لوگوں کا خیال رکھنا ہے۔ اور کھانے پینے کا اُن کےاُٹھنے،بیٹھنے کا ،،اور وہاں جو مرد حضرات آئیں گے ان کا اپنی اوطاق میں سارا انتظام کرنا ہے۔ ٹھیک ہے بابا جیسا آپک کہیں،، میں چاچا کو بھیج کر کل اسکول میں اپنی درخواست بھجوا دوں گا اور لائبہ کی بھی درخواست جمع کروا دیں گے عادل کو دیکھتے ہی اُس کے چاچا دلاور حسین "نے کہا ،،چلو بیٹا آؤ تمہاری امی آ گئیں ہیں کھانا کھا لیں اس کے بعد ہمیں شہر کی طرف نکلنا ہے۔ اُن کی باتیں سنتے ہی لائبہ بھی ضد کرنے لگی کہ بابامیں بھی جانا ہےآپ لوگوں کے ساتھ ہی جاؤں گی آج۔ عادل کے بابا نے کہا کہ بیٹا ٹھیک ہے تم بھی چلی جانا ویسے بھی آج تو شاید تُمہیں گھر پہ کوئی کام بھی نہیں ہے۔۔
  28. 5 likes
    بچپن سے اب تک، قسط نمبر 18، نوشی کو ننگی حالت میں ہی بیڈ پر چھوڑ کر میں نے جلدی سے اپنے کپڑے پہنے اور گھر کی طرف چل دیا، گھر پہنچا تو وہی امی کی گھسی پیٹی ڈانٹ کے بعد سو روپیہ نصری آنٹی کو دیا تو انہوں نے پیسے پکڑتے ہوئے میرا ہاتھ دبا کر اشارے سے سر ہلا کر پوچھا کہ ہو گیا؟؟؟ میں نے بھی آنکھوں کے اشارے سے ہاں میں جواب دیا پھر آنٹی نے راشدہ اور ساجدہ کی طرف اشارہ کیا کہ اگلی چھٹی والے دن ان میں سے،،،،،، میں نے راشدہ اور ساجدہ کی طرف دیکھا تو دونوں اپنے اندر شہوت لئے مسکرا رہی تھیں، اور ہماری اشارے بازی بہت جلدی میں ہوئی کیونکہ امی بھی پاس میں ہی بیٹھی تھی، میں فورن اپنے کمرے میں گیا کپڑے نکالے نہایا تو سکون میں آیا،پھر واپس اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گیا ابھی تھوڑی دیر لیٹا تھا کہ ابو آ گئے اورمجھے طلب کر لیا، ابو کے دربار پیش ہوا تو انہوں نے کچھ کام بتائے، اتفاق سے وہ جگہ بھی مانی کے گھر کے پاس ہی تھی، میں نے سائیکل لی اور نکل گیا پہلے تو سیدھا مانی کے گھر، بیل دی مانی ہی باہر نکلا اور مجھے دیکھ کر گرمجوشی سے گلے ملا پھر اپنے دڑائنگ روم میں لے گیا تھوڑی دیر کی گپ شپ میں نوشی سے ہوئی چدائی کی ساری واردات بتا دی، مانی تو سالا میرے سامنے ہی لن نکال کر مٹھ مارنے لگا، اور وہیں پانی نکال کر ٹشو سے صاف کرنے لگا، پھر میں نے اجازت مانگی تو مانی نے روکنے کی کافی کوشش کی لیکن میں ابے کے کام سے آیا تھا اسی لئے وہاں سے نکلنے میں ہی بہتری سمجھی،ڈراینگ روم سے نکل کر باہر گیراج میں آیا تو سفید سوٹ میں ملبوس ایک حسن کی دیوی سراپا حسن اپنی مدھر خوشبو لئے وہاں سے گزری اور جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی تو ایک مسکراہٹ کے ساتھ میرے پاس سے گزرتی ہوئی سیڑھی کی طرف بڑھتے ہوئے ہاتھ ہلاتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتی گئی، اور میں وہیں بت بنا عمی آپی کے خیالوں میں کھو گیا، لیکن مجھے مانی نے بڑے آرام سے جگایا اور بولا بس بھائی وہ چلی گئی ہے، میں شرمندہ بھی ہوا اور مانی کی بات سے تھوڑا حیران بھی لیکن یہ حیرانی اب زیادہ نہیں تھی، تو زیادہ حیران ہونا مناسب بھی نہیں سمجھا اپنی سائیکل نکالی اور مانی کے گھر سے باہر آیا اور مانی کو مل کر وہاں سے نکل گیا ابو نے جو کام بولا تھا وہ کیا پھر گھر کی طرف چل پڑا،گھر پہنچ کر ابو کو انکا متعلقہ سامان دیا، اور پھر سے خواتین کو دیکھتا ہوا اور اشارے بازی کرتا ہوا اپنے کمرے میں آگیا، اور مانی کی بہن عمی آپی کے بارے میں سوچنے لگا کیا ہی مست مال ہے اور کیا خوبصورتی ہے کوئی قسمت والا ہی ہوگا جو اس کو پیار کرے گا، کاش وہ میرے لئے ہوتی میں اس کے پورے جسم کو چوم چوم کر نہال کر دیتا، اس نازک سی کلی کو اپنی پلکو پر سجا کر رکھتا افففف عممممممی کیا حسن ہے تمہارا کیا جسم ہے تمہارا، کیا آنکھیں ہیں تمہاری، ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ سائرہ جلدی سے کمرے میں آئی اور آتے ہی بولی دانش دانش جلدی سے نظر بچا کر اوپر چھت پر چلے جاو جلدی سے پلیز، پھر میرے قریب آئی اور میرے ہونٹوں پر ایک چمی لے کر باہر برآمدے میں چلی گئی، سائرہ کی جلدی والی آفر سے دل تو نہیں تھا لیکن پھر بھی جانا ہی پڑا اور کسی طرح نظر بچا کر چھت پر پہنچ گیا اور چارپائی پر لیٹ گیا شام کا ٹائم ہو رہا تھا دھوپ بھی اب ٹھنڈی لگ رہی تھی ، اتنے میں سائرہ بھی چھت پر آ گئی اور مجھے لئے چھت پر بنے بغیر چھت والے کمرے میں آگئی، اور بس پھر کیا تھا جلدی سے سائرہ نے اپنی شلوار اتاری اور ڈوگی بن گئی اور کہا جلدی سے ڈال دو اندر پلیز دانش ٹائم بہت کم ہے، اس کی گانڈ دیکھنی تھی کہ میرا لن بھی کھڑا ہونے لگا اور میں نے بھی دیر نہ کرتے ہوئے اپنا لن شلوار سے باہر نکال نکالا اپنی قمیض کا پلو اپنی گردن میں پھسایا اپنے منہ سے تھوک نکال کر لن پر لگایا اور سائرہ کی پھدی کا نشانا لیا اور اندر ڈال دیا، سائرہ کی پتلی کمر سے اس کو قابو کیا اور دے دنا دن جھٹکے پے جھٹکا، میرے ہر جھٹکے پر آگے سے سائرہ بھی اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف دھکیلتی اور پورا لن اندر لینے کی کوشش کرتی 3 منٹ تک دھکے مارتا رہا تو سائرہ نے پانی چھوڑ دیا لیکن میرا پانی نکلنا ابھی مشکل تھا، سائرہ نے اپنی پھدی سے میرے لن کو نکالا اور جلدی سے شلوار پہن کر اپنے کپڑے سیٹ کرنے لگی، میں وہیں اپنا کھڑا لن لے کر اس کی طرف دیکھنے لگا کہ سالی اپنا پانی نکال کر بھاگنے کی کر رہی ہے، لیکن یہ میری سوچ تھی، سائرہ اپنے کپڑے سیٹ کرنے بعد نیچھے بیٹھی اور میرے لن کو گھپ کر کے اپنے منہ میں لے لیا اور کس کس کے چوپے لگانے لگی اپنے ہونٹوں کو سخت کر کے میرے لن پر فل ٹائیٹ کر کے چوپے لگا رہی تھی اس کے ایسا کرنے سے واقع ہی مجھے اپنے لن پر سخت گرفت محسوس ہو رہی تھی، سائرہ اپنے ایک ہاتھ سے میرے گوٹوں کو سہلانے لگی، اسکا چوپا لگانا اور گوٹوں سے کھیلنے انداز کچھ الگ ہی تھا اور مجھ سے برداشت نہ ہوا اور میری ٹانگیں کانپنے لگیں، سائرہ بھی سمجھ گئی کہ میں بھی فارغ ہونے والا ہوں سائرہ میرے لن کے سامنے سے ہٹی اور میرے برابر میں کھڑے ہو کر ایک ہاتھ سے میرے لن کو پکڑ کر تیز تیز مٹھ مارنے لگی اور پھر وہی ہوا میرے لن سے پانی کے چھوٹے چھوٹے قطرے فرش پر گرنے لگے اور فرش پر جمی مٹی میں مکس ہو کر گیلے گیلے نشان بننے لگے، سائرہ نے جلدی سے کوئی میلا کپڑا ڈھوندا اور اپنے ہاتھ کو صاف کیا پھر وہ کپڑا مجھے دے کر ایک زور دار میرے ہونٹوں پر چمی کی اور وہاں سے نکل گئی، اور چھت پر جو کپڑے سوکھنے کے لئے صبح ڈالے تھے، وہ اتارنے لگی ،میں نے اپنے لن کو صاف کیا اور ناڑا باندھ کر کمرے سے باہر آگیا، سائرہ نے کہا کہ پہلے وہ جائے گی پھر 10 منٹ تک میں بھی نیچے آجاوں نظر بچا کر، 10 منٹ تک رکے رہنے کے بعد آرام سے سیڑھیاں اتر کر نیچے کی طرف گیا آدھی سیڑھیاں اتر کر سائیڈ سے ہو کر برآمدے میں نظر ڈالی تو سامنے نصری آنٹی میری طرف ہی منہ کر کے بیٹھی تھی، ہم دونوں کی نظریں ملی تو نصری آنٹی نے اشارہ کیا کہ باتھ روم میں چلے جاو، واہ کیا دماغ پایا آنٹی نے، میں آرام سے اترا اور چپ چاپ باتھروم میں گھس گیا 5 منٹ باتھ روم میں رہا، اپنا لن کو بھی اچھی طرح دھویا اور پھر چپ چاپ کمرے میں آگیا اور لیٹ گیا، اب واقع ہی مجھے بہت تھکن ہو رہی تھی اور بھوک بھی لگ رہی تھی، مشکل سے ٹائم گزرا رات کا کھانا کھایا سب نے مل کر پھر جا کر مست نیند کی وادیوں میں کھو گیا اور سو گیا، جاری ہے،،،،،،،
  29. 5 likes
    اپڈیٹ میں جو سمجھ رہا تھا کہ سمیرہ باجی پر نیم بے ہوشی کا دورہ پڑ رہا ہے میری خام خیالی نکلی۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر آنکھیں کھولیں اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہا مجھ سے کون سا بدلا لے رہے ہو۔۔۔۔ میب کچھ نہ سمجھا لن کو آرام سے پیچھے کھینچا اس نے ایک بار پھر آنکھیں بند کر لیں چہرے پر کرب کے آثار تھے جو میری مردانگی کو تسکین دینے کے لیے کافی نہیں تھے۔۔۔۔ لن کو آدھا باہر نکال کر رکا تو اس نے اپنے ہاتھوں سے مجھے پیچھے دیکھیلنا چاہا اگر میں نے اس کی گردن کے نیچے بازو نہ رکھا ہوتا تو یقیناً میں پیچھے گر جاتا ۔۔۔۔ مجھے غصہ آگیا میں نے لن کو زور دار گھسے سے اندر گھسا دیا اس کی پھر آہ نکلی لیکن یہ پہلے والی چیخ کے مقابلے میں کم تھی۔۔۔۔ بس پھر کیا تھا سمیرہ باجی کی گردن کے نیچے ایک بازو رکھ کر اس کو قابو کیا اس کی ایک ٹانگ کو دوسرے بازو سے فل اوپر کیا ایک جتنی اوپر اٹھی تھی وہیں رہنے دی ۔۔۔۔ ایک نان ساپ پمپ ایکشن سٹارٹ کر دیا لن کو اتنی سپیڈ اور غصے کو اندر باہر کرنے لگا کہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں میرا سانس پھولنے لگا لیکن رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔ اب اس کی آہوں میں بھی کمی آگئی تھی شاید سمیرہ باجی نے بھی سمجھوتا کر لیا تھا کہ لن جا تو چکا ہے اب کیا فائدہ مزہ لینا چاہئیے۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور مجھے فل آزادی مل گئی اب لن اور پھدی کا اصل کھیل شروع ہوا ۔۔۔۔ میرے گھسے کا مقابلہ سمیرہ باجی کی پھدی نہ کر سکی اس نے جلد ہی پھڑکنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی کے وہ ہاتھ جو مجھے کچھ دیر پہلے دھیکیل رہے تھے اب میری کمر آ چکے تھے اس نے دوسری ٹانگ اٹھا کر میری گانڈ پر رکھ دی۔۔۔۔۔ مجھے اپنی طرف کھینچنے لگیں میں بھی جوش میں اور زور سے گھسے مارتا جا رہا تھا ۔۔۔ سمیرہ باجی کی آہ آہ آہ بببلللوووو مجھے کچھ ہو رہا ہے نہ کرو بلللوووو آہہہ امییی جیییی میری جان نکل رہی ہے کی آوازیں آنے لگیں تھیں۔۔۔۔ وہ مجھے اپنے اوپر کھینچ رہی تھی نیچے سے اپنی گانڈ بھی ایک ردھم سے اٹھا اٹھا کر لن کو لے رہی تھی۔۔۔۔ یکدم اس نے مجھے اتنے زور سے اپنی طرف کھینچا کہ اس کے ناخن مجھے اپنی کمر پر چبھتے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔۔ اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر میرا اور اپنا سانس ایک کر دیا۔۔۔۔ گانڈ کو زور سے لن پر مارا جسم کٹی ہو مچھلی کی تڑپا پھدی نے لن کو جکڑ لیا لن کو اتنی زور سے اپنے قابو میں کیا کہ لن پھٹنے والا ہو گیا ۔۔۔۔ اس کا پورا جسم اوپر کی طرف اٹھا اور پھدی کے مسام کھلے لن پر پانی کی برسات ہونے لگی۔۔۔۔ سمیرہ باجی کی پھدی نے اپنی زندگی کی پہلی چودائی کی خوشی میں میرے لن کو نہلانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔ قریب ایک منٹ تک اس کا جسم جھٹکے کھاتا رہا اور پھدی کھلتی بند ہوتی رہی جب اس کا جسم ڈھیلا ہوا تو میں نے ایک بار پھر سے لن سے اپنا ایکشن سٹارٹ کیا۔۔۔۔ پھدی کے اندر دھواں دار دھکے مارنے شروع کر دئیے گانڈ اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے لگا سمیرہ باجی بار بار مجھے کہہ رہی تھی بلو بس کرو مجھ سے اور نہیں ہو رہا میری بس ہو گیی ہے۔۔۔۔ لیکن مجھ تو پھدی کی گرمی سوار ہو چکی تھی اتنی ٹائٹ پھدی کبھی کبھی ہاتھ آتی ہے۔۔۔۔ میں کیسے جانے دیتا مسلسل ایک ہی سٹائل میں لگا ہونے کی وجہ سے اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں تھیں اور میں بھی تھک رہا تھا ۔۔۔۔ میں نے لن باہر نکالا اور سمیرہ باجی کو ایک دم پلٹ کر الٹا کر دیا اس کی گانڈ کو اٹھایا اس نے سییی کی اور کہا بلو آرام نال کر لے ہن میں نہیں روکدی۔۔۔۔ اس کی گانڈ اٹھائی ممے اس کے نیچے لگے تھے گانڈ باہر نکل آئی اس کی سفید گانڈ جو گوشت سے بھری ہوئی تھی اس میں سسے موری نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔ میں نے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر گانڈ کے نیچے سے پھدی کے سوراخ پر رکھا اور ایک دم گھسا مارا لیکن اس کی کمر کو پکڑنا نہیں بھولا۔۔۔۔ وہ گرتی گرتی بچی اس کے بعد ایک اور گھسا مارا تو لن سارا اندر چلا گیا پھر تو گانڈ کو پکڑا اور ہو گیا شروع ۔۔۔۔ مجھے چودائی کرتے ہوئے تقریباً بیس منٹ ہو چکے تھے اور اس دوران سمیرہ باجی کی پھدی کا پردہ بکارت بھی پھاڑا تھا ۔۔۔۔ میرا لن بھی اب اپنی گرمی نکالنے کے لیے بے چین ہو رہا تھا اس لیے فل جوش سے گھسے مارنے لگا اس نے بھی گانڈ کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ میرے ہر گھسے سے اس کے چوتڑ تھپ تھپ کی آواز دے رہے تھے جوش میں ایک دو بار میں نے چوتڑوں پر تھپڑ بھی جڑ دیا تھا۔۔۔ آخر وہ لمحہ بھی آگیا جو اس سب سین کا سب سے زیادہ مزیدار ہوتا ہے جب انسان کا دل کرتا ہے لن اس سے بھی آگے کہیں ٹھوک دوں ۔۔۔۔ ادھر میں زور سے گھسے مار رہا تھا دوسری طرف سمیرہ باجی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی اور زور سے بلو اور زور مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔ اس کی ہلا شیری مجھے مزید طیش دلا رہی تھی یکدم سمیرہ باجی کا جسم ایک بار پھر اکڑنے لگا اس نے زور سے اپنی گاند میرے لن پر ماری اور نیچے لیٹتی چلی گئی۔۔۔۔ میں بھی اس کے اوپر لمبا ہوتا گیا اور گھسے مارتا رہا جب مجھے لگا کہ اب لن نے اپنا فوارا چھوڑنا ہے میں لن کو باہر نکالا اور اور سمیرہ باجی کی گاند کی دراڈ میں رکھ کر اوپر لیٹ گیا۔۔۔۔ لن نے اپنی اکلوتی آنکھ کھولی اور گانڈ کی دراڈ میں آنسو بہانے لگا سمیرہ باجی کا بھی جسم کانپ کر ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔۔۔۔ میں کچھ دیر اس کے اوپر لیٹا فارغ ہوتا رہا جب لن نے آخری قطرہ بھی بہا دیا تو سمیرہ باجی کے اوپر سے اتر کر ایک طرف چھت کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا اور سانس بحال کرنے لگا۔۔۔۔ سمیرہ باجی بھی کچھ دیر الٹی لیٹی رہنے کے بعد سیدھی ہوئی ایک سئی کی آواز کے ساتھ انہوں نے اپنی پھدی پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔ پھر ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولیں آہ یہ کیا کر دیا تم نے میری پھاڑ دی ہے اتنا درد تو کبھی زندگی میں نہیں ہوا۔۔۔۔ میں باجی کچھ نہیں ہوتا یہ تو زندگی میں کر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے ایک بار تو کسی نے پھاڑنی کی ہوتی ہے کسی کی جلدی پھٹ جاتی ہے تو کسی کے تھوڑی دیر سے لیکن پھٹنی لازمی ہوتی ہے۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے مجھے گھورتے ہوئے کہا بڑا بے شرم ہے ابھی بھی مجھے باجی کہہ رہے ہو میری جان نکال کر رکھ دی اور کہہ رہا ہے کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ میں باجی آپ کو باجی نہ کہوں تو اور کیا کہوں آپ کو بچپن سے باجی کہتا آرہا ہوں اب عادت ہو گئی ہے۔۔۔۔ سمیرہ باجی ۔۔۔۔باجی کی پھاڑتے ہوتے ہیں اور خون بھی نکالتے ہیں ساتھ میں ںے شرمی والی باتیں بھی کرتے ہیں۔۔۔ میں۔۔۔۔ اس میں بے شرمی والی کونسی بات ہے کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ہر لڑکی کی پھدی میں لن جانا ہے جلد یا بدیر ہر لڑکی یہ مزہ چکھتی ہے۔۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ شرم کرو کتنے گندے ہو تم کتنی بے حیائی کی باتیں کرتے ہو۔۔۔ میں۔۔۔ لو جی اب پھر آپ لیکچر دینے لگ جاؤ ابھی کچھ دیر پہلے ہم کیا کر رہے تھے۔۔۔۔ سمیرہ باجی ۔۔۔۔ چپ اب اگر تم کوئی ایسی ویسی بات کی تو پھر دیکھنا۔۔۔ یہ کہہ کر اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو درد سے کلبلا اٹھی بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھی اور اپنی پھدی پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔۔ نیچے جھک کر سمیرہ باجی نے پھدی دیکھی تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں اس نے کہا بلو یہ کیا اتنا خون نکلا ہوا ہے یہاں سے تم سچ میں پھاڑ دی ہے ۔۔۔۔ میں۔۔۔ باجی کچھ نہیں ہوا یہ ہر لڑکی کے پہلی بار نکلتا ہے اس کے بعد کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے غصے سے کہا تمہیں بڑا پتہ ہے یہ سب تم پہلے بھی یہ سب کرتے ہو۔۔۔ میں ۔۔۔۔نہیں نہیں باجی یہ تو دوستو سے سنا ہے میں آپ کو ایسا ویسا نظر آتا ہوں۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔۔ ایسا ویسا سے کیا مطلب ہے مجھے تم ایسے تیسے جیسے بھی لگتے ہو تم جو نظر آتے ہو وہ ہو نہیں۔۔۔۔ میں نے ایک کپڑا ڈھونڈا اور سمیرہ باجی کی پھدی کو اس سے صاف کیا اور اپنے لن کو بھی صاف کرنے کی کوشش کی جس پر خون جم چکا تھا۔۔۔ کچھ دیر ایسے ہی ہم بیٹھے باتیں کرتے رہے سمیرہ باجی بار بار اپنی پھدی کو ہاتھ لگا کر چیک کر رہی تھی اس نے ابھی تک شلوار نہیں پہنی تھی۔۔۔۔ میں نے اٹھ کر نئے گانوں کا ایک پورا فولڈر ہی پلے کر دیا گانے کافی ہیجان خیز تھے کبھی بکنی میں لڑکی اور لڑکا رومانوی حرکات کرتے تو کبھی لڑکی صرف برا اور پینٹی میں نظر آتی ۔۔۔۔ ایک سین تو انتہا کر گیا جس میں لڑکا اور لڑکی دونوں ایک ہی کمبل میں تھے لڑکی نیچے لیٹی تھی لڑکا اوپر لیٹ کر آگے پیچھے ہل رہا تھا۔۔۔۔ میں نے یہ سین دیکھتے ہوئے سمیرہ باجی کی طرف دیکھا جو یہ سین دیکھنے میں محو تھیں اور ان کا ہاتھ خود بخود ہی پھدی کو سہلا رہا تھا۔۔۔۔ یہ سین بار بار آرہا تھا لڑکی لڑکا کسنگ بھی انتہا کی کر رہے تھے کوئی تین منٹ کے اس گانے میں ایسے کئی سین آئے ایک سین میں لڑکی کی ننگی کمر نظر آ رہی تھی وہ ایک سٹول پر بیٹھی تھی لڑکا اس کی کمر پر کسنگ کرتا ہے ۔۔۔۔ یہ سین دیکھ کر میرے لن کا سین بھی دیکھنے لائق ہو گیا تھا ایک بار پھر تن کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔ سمیرہ باجی پر بھی ایک بار پھر شہوت کا دورہ پڑ چکا تھا میں نےاس کی آنکھوں میں کال ڈورے دیکھ لیے ہم قریب قریب ہی بیٹھے تھے۔۔۔۔ میں ہاتھ بڑھا کر اس کی پھدی پر رکھ دیا اور مسلنے لگا سمیرہ باجی نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ کر رکھ کر دبانے لگی۔۔۔۔ میں نے کچھ دیر ایسے ہی کرنے دیا اس کے بعد بڑے پیار سے ان کا ہاتھ پکڑا اور اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر اپنے لن پر رکھ دیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے ایک دم آنکھیں کھول لیں اور میرے لن کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگیں۔۔۔ ہھر ہکلا کر بولیں بلو اینا وڈااا میری وچ گیا سی اس نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔۔۔۔ میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ایک بار پھر سمیرہ باجی بولی یہ کیسے چلا گیا تھا اپنی پھدی پر ہاتھ لگا کر کہا یہاں تو چھوٹا سا سوراخ ہے۔۔۔۔ اب میں اس کو کیسے سمجھاتا کہ اس سوراخ ہی تو آدھی دنیا پاگل کی ہوئی ہے اس سوراخ بڑے بڑے سورما غرق ہو گئے۔۔۔ میں نے پھر بھی کہا باجی یہ اتنا چھوٹا سا جو نظر آرہا ہے جب اس میں یہ جاتا ہے تو یہ خود بخود ہی کھل جاتا ہے۔۔۔ اس کو سمجھ تو نہ آئی لیکن وہ چپ ہو گیی اور لن کو اوپر نیچے سے دیکھنے لگی۔۔۔۔ میں نے ایک پھر اس کی پھدی کو مسلنا شروع کر دیا اس کی لن پر گرفت سخت ہو گئی وہ مٹھیاں بھرنے لگی۔۔۔۔ میں نے آگے ہو کر اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور پھدی میں انگلی ڈال دی اس کی سئیی کی آواز میرے منہ میں دب گئی اس نے میرے ہونٹوں کو جوش سے چوسنا اور لن کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔۔ پھدی پانی سے بھر چکی تھی میری انگلی گیلی ہو گیی تھی مجھے وہ چدنے کے لیے تیار لگی۔۔۔۔ بہت آرام سے اس کی قمیض اتاری اور اپنی بھی اتار دی مموں کو ننگا کیا سمیرہ باجی کو لٹا لیا اور اس کے اوپر آگیا۔۔۔۔ اوپر آکر لن کو پھدی پر لگا کر رگڑنے لگا اور مموں کو دبانے لگا اپنے ہونٹ اس کی گردن کر رکھے اور زبان گھاتے ہوئے نیچے آنے لگا۔۔۔۔ مموں کے دائیں بائیں زبان گھما کر میں نے نپل منہ میں لے لیا دوسرے ممے کے نپل کو مسلنے لگا۔۔۔۔ میرا لن جو پھدی پر رگڑ کھا رہا تھا سمیرہ باجی اس کو پھدی میں لینے کے لیے تڑپنے لگی۔۔۔ اس نے پھدی کو لن پر مارنا شروع کر دیا میں اس کی تڑپ سمجھ گیا میں نے لن کو پھدی کے لبوں میں گھسایا ہاتھ سے سیٹ کیا ۔۔۔۔ اس کے بعد لن پر دباؤ بڑھانے لگا کچھ کی دیر میں آدھا لن اندر ہو چکا تھا میں اب کبھی ایک مما چوستا تو کبھی دوسرا چوستا۔۔۔۔ لن جتنا اندر تھا اتنے کو ہی رہنے دیا اور اور ہاتھ اور منہ سے مموں سے کھیلنے لگا۔۔۔۔ لیکن سمیرہ باجی سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ بہت گرم ہو چکی تھیں انہوں نے۔ نیچے سے خود ہی ہلنا شروع کر دیا لن تھوڑا سا باہر نکلتا پھر وہ گانڈ اٹھا کر اپنی پھدی میں سما لیتیں۔۔۔۔ سمیرہ باجی کی تڑپ کو دیکھتے ہوئے میں نے لن کو ایک دو باہر کرکے اندر کیا اور ہر بار کچھ زیادہ کر دیتا جب تھوڑا سا رہ گیا تو میں ایک ہی بار میں زوردار گھسا مار کر اندر کر دیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے میرے سر پر ایک ہلکی سی چپت لگائی اور بولی تیرے کولوں آرام نال نہیں ہوندا۔۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا مزا نہیں آرہا تھا سوچا ایک ہی بار میں کر دوں۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ ایک ہی بار میں کر دوں اگلے کا چاہے اندر پاٹ جائے تیرا مزا ہو جائے گا۔۔۔۔ میں نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا اور اہستہ آہستہ گھسے مارنے شروع کر دئیے ۔۔۔ سمیرہ باجی نے اپنے ہاتھ میری کمر پر رکھ لیے اور ٹانگیں جتنی کھول سکتی تھی کھول لیں۔۔۔ کچھ دیر ایسے ہی گھسے مارنے کے بعد میں نے سمیرہ باجی کی ٹانگیں اپنے بازوؤں میں لے کر اس کے سینے سے لگا لیں۔۔۔ اس ظرح سے پھدی میں لن زیادہ گہرائی تک جاتا ہے اس لیے ٹانگیں اس کے سینے سے لگائیں۔۔۔ پھر تو وہ میرے شکنجے میں آگئیں میں نے گھسوں کی برسات شروع کر دی ۔۔۔ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے لگا سمیرہ باجی کی پھدی پہلے بھی دو بار پانی چھوڑ چکی تھی اس لیے کافی پانی تھا جس سے لن کو اندر جانے میں زیادہ دشواری نہیں کو رہی تھی۔۔۔۔ لن پھدی میں جاتا اور میرے ٹٹے شریف اس کی گانڈ اور پھدی کے درمیان والی جگہ پر جا لگتے۔۔۔۔ سمیرہ باجی کی آہ اہ اہ کی آوازیں ابھی سے آنا شروع ہو گئیں تھیں اس کی وجہ لن کا گہرائی میں سٹ مارنا تھا۔۔۔۔ لن جب پھدی میں جاتا تو ٹھپ کی آواز آتی اور ٹٹے جب اس کی موٹی گانڈ کے گوشت سے ٹکراتے تو اس وقت بھی ٹپ ٹلپ کی آواز آتی۔۔۔۔ یہ آوازیں میرے جوش کو بڑھاوا دے رہی تھیں میں اور جوش سے ٹھکائی کرتا ۔۔۔ سمیرہ باجی بھی اسی ظرح آہ آہ اہ ببللللوووو کہتی ۔۔۔ اس کی ٹون ایکدم بدلنے لگی کیونکہ پانچ منٹ ہو چکے تھے اسی ظرح پھدی میں کن گھسائے اور ٹھکائے کرتے۔۔۔۔ اس نے آہہہہہہہہہ آہہہہہہ آئییہییی امممییییی ایسے ہی مارو اور زور سے نارو میری پیاس بجھا دو بلووو تتتتووومممم بہہہیتتت اچچھھھےےے ہو۔۔۔ کہتی ایک دم اس کی پھدی میں لن پھنس گیا پھدی اتنی ٹایٹ ہو گئی کہ مجھ سے گھسا نہ لگا ۔۔۔۔ چند سیکنڈ بعد اس کی پھدی نے میرے لن کو اپنی منی سے نہلا دیا۔۔۔۔ جب وہ فارغ ہو گئی تو میں بیڈ سے نیچے اترا اس کو گھوڑی بنایا اپنا لن ہاتھ میں پکڑا اور اس کی گانڈ کے نیچے سے گزار کر پھدی میں اتار دیا۔۔۔۔ اب نے بغیر ہچکچاہٹ کے سمیرہ باجی کے پھدی میں لن اتار دیا تھا یک ہی جھٹکے میں۔۔۔۔ اس نے صرف سئیی کیا تھا اور پھر اس کی موٹی گانڈ کو دونوں طرف سے تھام کر لن کو ایسا گھسایا کہ سمیرہ باجی کا انجر پنجر ڈھیلا کر دیا۔۔۔۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے بڑھا کر اس کے دونوں ممے پکڑ لیے یعنی گھوڑی کی لگامیں تھام لیں ۔۔۔۔ ہیچھے سے پمپ ایکشن سٹارٹ کر دیا لن اس سٹائل سے ایک خاص رفتار سے اندر باہر ہو رہا تھا ۔۔۔ سمیرہ باجی کے مموں کو تھامے پیچھے سے لن دھسا دھوس گھسا رہا تھا سمیرہ باجی آہ او آہ اہ ہممم کی آوازیں نکال رہی تھی۔۔۔۔ مسلسل گھسے مارنے سے میرے ٹٹے کو اس کے نرم رانوں کے بیچ میں ٹکرا رہے درد ہونے لگ گئے۔۔۔۔ میں نے سمیرہ باجی کو کہا باجی بیڈ سے نیچے اتر آئیں لن پھدی سے نکال لیا۔۔۔۔ اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا میں اس کو پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچ کر بیڈ سے نیچے کیا ۔۔۔ جب وہ بیڈ سے نیچے ہو گییں تو ایک بار پھر ان کو کوڈا کر لیا اب میں میرا لن اوپر ہو رہا تھا اس پوزیشن میں مجھے جھک کر لن گھسانا پڑتا ۔۔۔۔ جب بات نہ بنی تو میں بیڈ پر بیٹھ گیا اور سمیرہ باجی کو اپنی گود میں میری طرف کمر کے بیٹھنے کا کہا وہ مان گئیں۔۔۔۔ گھوم کر میری طرف پیٹھ کی میں نے لن کو پکڑ ان کی پھدی پر ایڈجسٹ کرتے ہوئے نیچے انے کا کہا وہ بہت آرام سے ڈرتے ڈرتے لن کر بیٹھ رہی تھیں جب زیادہ دیر لگی تو میں نے نیچے سے ایک گھسا مار کر سارا کن اندر اتار دیا۔۔۔۔۔ سمیرہ باجی کے منہ سے آہ کی آواز آئی اس کے بعد میں نے ان کی کمر پر دونوں طرف ہاتھ رکھے اور ان کو اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔ سٹارٹ میں مجھے کافی زور لگانا پڑا لیکن جب ان کو سمجھ آگئی تو وہ خود ہی اوپر نیچے ہو کر لن کی سواری کرنے لگیں۔۔۔۔ ان کی سپیڈ بہت آہستہ تھی اس لیے مجھے مزہ نہیں آرہا تھا میں زوردار گھسائی چاہتا تھا جس یہاں گھسوں کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔۔ اس پوزیشن میں دو منٹ میں ہی سمیرہ باجی تھک گئیں وہ آرام سے لن پر بیٹھ گئیں ۔۔۔۔ میں نے ان کو اٹھایا اور بیڈ پر لے گیا ان کو لٹا کر ایک ٹانگ اٹھا کر سیدھی کر کی دوسری کو سیدھا بیڈ پر رہنے دیا ۔۔۔۔۔ پھدی پر لن رکھا اور ایک گھسا مارا آدھا لن اتر گیا دوسرا گھسا مارا تو سارا لن پھدی میں گھس گیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی اپنے چہرے کے تاثرات سے باور کرایا کہ لن نے ان کو بڑی چنگی سٹ ماری ہے۔۔۔۔ اس کے بعد ہوا میرے لوڑے کی سپیڈ کا اصل امتحان شروع میں نے لن کو انے واہ گھسانا شروع کر دیا۔۔۔۔ اس پوزیشن میں پھدی اور ٹائٹ ہو گئی تھی اس لیے لن کو بھی رگڑ زیادہ لگ رہی پھدی کو جو لگ رہی تھی اس کا اظہار سمیرہ باجی کی آہیں دے رہی تھیں۔۔۔۔ میں ایک ٹانگ تھامے لن کو پھدی میں ایسے گھسا رہا تھا جیسے کوئی نلکے کا بور کرتے ہوئے پلی سے پائپ کو اٹھا اٹھا کر مارتے ہیں۔۔۔۔ سمیرہ باجی اتنی زیادہ رگڑ برداشت نہ کر سکیں ان کی پھدی نے لن کو جکڑ کر اپنی بے بسی کا اظہار کر دیا۔۔۔۔ جب پھدی نے اچھے سے لن پر برسات کر دی تو سمیرہ باجی نے اپنی ٹانگ کر ہاتھ رکھ کر کہا بلو اب یہ درد کر رہی ہے ۔۔۔ میری ٹانگوں میں جان نہیں رہی بس کر دو لیکن میں کہاں بس کرنے والا تھا میرے لن کو ایسی پھدی کب نصیب ہو کیا پتہ اس لیے آج ساری کسر نکالنا چاہتا تھا۔۔۔۔ میں نے اس کو ٹانگ کو بھی نیچے رکھ دیا دونوں ٹانگیں بیڈ کر کے میں ٹانگوں کے درمیان آیا ٹانگوں کو اتنا کھولا کہ میں درمیان میں آگیا۔۔۔۔ لن کو پھدی کر رکھ کر اوپر لیٹتے ہوئے لن پھدی میں گھسا دیا۔۔۔۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے پہلی بار اس پھدی میں لن گھسا رہا ہوں ایسا تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا اس ہوزیشن میں بھی لن پھدی میں واڑا جا سکتا ہے۔۔۔۔ تھوڑی مشکل سے لن اندر گیا لیکن پھر بھی سارا نہ گیا جتنا اندر گیا اتنا کی کافی تھا ۔۔۔۔ میں اسی کو اندر باہر ٹھوکنا شروع کر دیا اس پوزیشن میں میں گانڈ کو اگے پیچھے کر گھسانے لگا۔۔۔ اب تو ڈبل مزے ہو گئے تھے سینہ سمیرہ باجی کے مموں پر تھا میرے ہونٹ اس کے منہ کے پاس تھے ۔۔۔ سمیرہ باجی نے کچھ دیر انتظار کیا پھر میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں کے کر چوسنے لگی۔۔۔۔ میں نے ایک ہاتھ ان کے ایک ممے پر رکھا اور دبانے لگا سمیرہ باجی نے جلد ہی سسکیاں بھرنی شروع کر دیں مجھے بھی اب اپنا وقت قریب لگ رہا تھا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے دونوں ٹانگیں اٹھا کر میری کمر کے گرد لپیٹ لیں مجھے کھلا رستہ مل گیا جس کا میں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور لن کو تیزی سے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔ سمیرہ باجی اب جوش سے مجھے چوم رہی تھیں کبھی گال کبھی ہونٹ کبھی گردن پر کس کرتی کبھی کبھی کاٹ بھی لیتی ۔۔۔۔ میں مزے میں ڈوب گیا تھا مجھے کوئی درد نہیں فیل رہا تھا ۔۔۔ ایسے کرتے کرتے میں نے آخری جاندار گھسے مارنے شروع کر دئیے اب اتنی زور سے گھسے ما رہا تھا کہ نیچے بیڈ کی چون چون ہونے لگی تھی۔۔۔۔ میں پسینے سے بھیگ چکا تھا میرے سینا اور سمیرہ باجی کے ممے اب پسینے کی وجہ پچ پچ کر رہے تھے لیکن ایک جنون سوار ہو چکا تھا سمیرہ باجی مجھے ہلا شیری دینے لگیں۔۔۔۔ بلو کر آہ اہ آہ ایسے ہی کر اور زور سے اور آگے کر ایسی سٹ مار کہ اندر پاٹ جائے آہ آہ بلو میں ہواؤں میں اڑ رہی ہوں ۔۔۔۔ میں بھی مزے کی بلندیوں پر تھا میرا لن بھی پھدی کی گہرائیوں میں سیر کر رہا تھا میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ لن اتنا اور ہوتا اور میں سمیرہ باجی کا اندر پاڑ دیتا ۔۔۔۔ اسی جوش سے گھسے مارتے مارتے میں آخری چند گھسے ایسے مارے کہ سمیرہ باجی کے منہ سے آئی امییی جیییی کی آوزیں نکل گییں ۔۔۔ میں ان کے اوپر گرتا چلا گیا لن کو پھدی کی گہرائی میں اتار کر بھی دل نہیں بھر رہا تھا میں ہھر بھی آگے کی طرف اور دھکیل کر لیٹا تھا مزید آگے کرنے کی کوشش میں تھا ۔۔۔۔ اسی زور آزمائی میں میرے لوں کنڈے کھڑے ہوئے اور لن نے پہلی پچکاری ماری میرے جسم ہلکورا کھایا میں مزے میں ڈوبتا چلا گیا۔۔۔۔ دوسری طرف میری گرم منی کی ایک ہی پچکاری نے سمیرہ باجی کی پھدی کو بے ہار ماننے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔ سمیرہ باجی کی پھدی نے بھی لن کو ایک بار پھر سے اپنے لیس دار پانی سے نہلانا شروع کر دیا۔۔۔۔ میرا لن بھی آج کچھ زیادہ بپھرا ہوا تھا اس نے بھی کافی ساری منی سمیرہ باجی کی پھدی میں ڈالی۔۔۔۔ لن پھدی کو اپنے پانی سے بھرتا رہا میرا جسم بار بار کانپتا میں مزے کے جھٹکے کھاتا رہا۔۔۔ جب پھدی نے لن منی کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا تو میں سمیرہ باجی کے اوپر ویسے لیٹ گیا ۔۔۔۔ میری آنکھیں ایسے بوجھل ہو گییں جیسے میلوں سفر ظے کر کے آیا ہوں۔۔۔۔ میں نیند کی آغوش میں اتر گیا پتہ نہیں کتنی دیر آنکھ لگی رہی۔۔۔ جب نیند سے جاگا تو دیکھا کہ میں نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سمیرہ باجی میرے سر میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کر رہی ہیں ان کے گیلے بالوں سے پانی کے قطرے میرے چہرے پر گر رہے تھے۔۔۔ دھلا ہوا چہرہ اور پھر پھر چودائی کے بعد نہانے سے کسی عورت کے چہرے پر جو چمک ہوتی ہے اس سے بھرپور وہ بھی اج مجھے خوبصورت ترین لگ رہی تھیں۔۔۔۔ میں کبھی اتنے غور سے ان کو دیکھا ہی نہیں قد چھوٹا تھا لیکن ان کے جسم میں مموں کو چھوڑ کر کوئی کمی نہیں تھی بس ممے ہی چھوٹے ٹھے باقی رنگت بھی شفاف تھی۔۔۔ لمبے بال وہ بھی ابھی جب کھلے دیکھے تو پتہ چلا تھا وہ بھی ان کہ شخصیت کا حصہ تھے۔۔۔ میں خود پر رشک کرنے لگا اور وہ آخری مزے کے لمحات یاد کر کے شرسار ہو گیا۔۔۔۔ سمیرہ باجی نے مجھے آنکھیں کھولتے دیکھ کر کہا اٹھ گیا میرا لاڑا ساتھ ہی میری پیشانی پر ایک پیار بھرا بوسہ دیا ۔۔۔۔ پھر مجھے کہا اٹھ کر نہا لو میں دودھ گرم کر لاتی ہوں پی لو جسم کی تھکاوٹ اتر جائے گی۔۔۔ میں ۔۔۔ باجی مجھے کونسی تھکاوٹ ہو گئی۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ میرا شونا کتنا بھولا ہے اتنی محنت کی ہے اور پسینے سے بھیگ کر ایسا سویا تھا کہ کچھ ہوش نہیں تھا ۔۔۔ میں نے اتنی مشکل سے کپڑے پہنائے تم کتنے بھارے ہو یہ تو مجھے آج پتہ چلا اور تمہارا وہ اتنا چھوٹا چوہا بنا ہوا تھا ۔۔۔ میں نے اس کو کافی چھیڑا اور اس کو تھپڑ بھی مارے لیکن جناب تو گھوڑے بیچ کر ایسے سوئے کہ کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔ سمیرہ باجی کی باتیں سن کر مجھے بڑی شرمندگی ہوئی کہ میں اتنا بیہوش ہو کر سو گیا تھا ۔۔۔ اس شرمندگی سے بچنے کے لیے میں اٹھ کر نہانے چلا گیا اور نہاتے ہوئے میرا لوڑا پھر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا میں نے واشروم کا دروازہ کھول کر اپنا سر باہر نکالا اور سمیرہ باجی کو آواز دی ۔۔۔ وہ آواز سن کر صحن میں آئیں اور پوچھا کیا ہوا ۔۔۔ میں۔۔۔ باجی یہ پتہ نہیں کیا ہوا ہے پانی نہیں آ رہا ٹوٹی بند ہو گیی ہے میں نے ابھی نہانا ہے۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔۔ گھماو اس کو کھل جائے گی۔۔۔ میں۔۔۔ باجی میں نے کافی کوشش کی نہیں ہو رہا آپ ایک بار چیک کر لو۔۔۔ سمیرہ باجی نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور ہنستی ہوئی آ گییں میں دروازے کے پیچھے ہوا اور ان کو اندر انے کے لیے رستہ دیا۔۔۔ وہ اندر آئیں اور ٹوٹی کو کھولا تو پانی آنے لگا میں تب تک دروزہ بند کر چکا تھا ۔۔۔ میں اپنا تنا ہوا لن ہاتھ میں پکڑ کر ان کو دکھاتے ہوئے کہا آپ کہہ رہی تھیں کہ یہ چوہا بنا ہوا ہے یہ دیکھو۔۔۔ انہیوں نے پہلے میری طرف دیکھا پھر لن کی طرف اور بولی۔۔۔ سمیرہ باجی ۔۔۔ اوہ تو تم نے مجھے یہ دکھانے کے لیے ٹوٹی خراب ہونے کا بہانہ بنایا ہے۔۔۔ میں ہنسنے لگ گیا اور ان کے قریب ہوا۔۔۔ وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولیں پچھاں رہ میرے کپڑے گیلے ہو جان گے۔۔۔ لیکن میں نے مسکین صورت بنا کر کہا باجی ایک بار ہاتھ میں پکڑ لیں۔۔۔ سمیرہ باجی ۔۔۔ نا کرو ناں اب میں نے نہا لیا کپڑے بھی بدل لیے ہیں۔۔۔ میں۔۔۔ میں کون سا کپڑے خراب کر رہا ہوں صرف اس کو ہاتھ میں پکڑنے کا کہہ رہا ہوں آپ میری خوشی کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتیں۔۔۔ سمیرہ باجی پر میرا اموشنل وار کری گر ثابت ہوا وہ آگے بڑھیں اور اپنا ہاتھ لن کر رکھ دیا۔۔۔ لن کو پکڑ کر بولیں اففف یہ کتنا گرم ہے پہلے تو اتنا گرم نہیں تھا۔۔۔ سمیرہ باجی نے لن کو دبانا شروع کر دیا کچھ دیر دبانے کے بعد لن کو ٹٹول کر کبھی اوپر سے کبھی نیچے چیک کرنے لگی۔۔۔ مجھے ان کے ہاتھ لن دے کر بہت اچھا لگ رہا تھا میرا ایک بار پھر دل کرنے لگا کہ ایک واری اور لگا دوں لیکن سمیرہ باجی نے لن کو چھوڑا اور کہا چلو شاباش اب اچھے بچون کی طرح نہا کر باہر آنا میں دودھ گرم کر رہی ہوں۔۔۔ میں منہ بنا کر کہا باجی کچھ دیر تو کریں ناں۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ نا کچھ دیر کرتے کرتے بہت دیر ہو جائے گی میں ابھی کام بھی کرنے ہیں ۔۔۔ اس نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئ میں بجھے دل کے ساتھ اور اکڑے لن کے ساتھ نہانے لگا۔۔۔۔ نہا کر باہر نکلا میرا ایک سوٹ استری کیا ہوا سمیرہ باجی نے مجھے دیا میں نے اس کے سامنے ہی شلوار اتار دی ۔۔۔ سمیرہ باجی نےاپنی آنکھوں ہر ہاتھ رکھ کر کہا گندہ کتنے بے شرم ہو وہ اپنی آنکھوں کے جھروکوں سے دیکھ بھی رہی تھیں۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں آج لن بار بار کھڑا ہو رہا تھا اب پھر کھڑا ہو چکا تھا میں نے لن کو پکڑ کر مٹھ مارنے کے انداز میں لن پر ہاتھ پھیرہ۔۔۔ سمیرہ باجی نے منہ دوسری طرف کر لیا میں نے کپڑے بدلے سمیرہ باجی نے دودھ دیا میں نے پیا اور بیٹھک میں چلا گیا۔۔۔۔ جا کر سو گیا جب اٹھا تو عصر کا وقت تھا سب لوگ گھر میں تھے میں باہر آیا تو امی برقہ پہن رہی تھیں ۔۔۔ مجھے دیکھ کر بولی تم کہاں تھے میں تمہیں دیکھنے جا رہی تھی چلو تیار ہو جاو ہم نے آج گھر جانا ہے۔۔۔ میں نے جی امی کہا لیکن مامی کی آواز میرے کانوں میں پڑی باجی کل چلے جائیو ہن کی ہو جاو بس رات نو ای گھر پہنچنا فیر کی فیدا ۔۔۔ امی نے کہا نیں بلو کے ابا جی ناراض ہوں گے دو دن ہو گئے ہیں۔۔۔ مامی نے کافی اصرار کیا اور امی کو منا لیا میں نے اس وقت وہاں موجود مائرہ کے چہرے کی طرف دیکھا جو ناگواری سے مامی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جبکہ سمیرہ باجی خوش تھیں اب کر ایک اپنی اپنی جگہ سوچ رہا ہوگا ۔۔۔ خیر میں واشروم سے فارغ ہوا مجھے سمیرہ باجی نے کھانا دیا کھانا کھا کر میں خالا کے گھر چلا گیا ایسے ہی وقت برباد کرتا رہا۔۔۔ وہاں سے گراؤنڈ گیا کرکٹ کھیلی شام کو واپس ماموں کے گھر آیا رات ہوئی میں بیٹھک میں سونے چلا گیا ۔۔۔۔ میرے دونوں کزن آج گھر نہیں تھے ماموں بھی کام کے سلسلے میں کھیتون میں تھے امی اور مامی مائرہ ایک کمرے میں سو گئیں۔۔۔ میں اپنے ٹھکانے یعنی بیٹھک میں سونے چلا گیا ۔۔۔۔ رات دیر تک فلم دیکھتا رہا نیند تو آ نہیں رہی تھی سارا دن سویا جو رہا تھا۔۔۔۔ پچھلی رات کا کوئی پہر تھا جب میں نے سونے کا ارادہ کیا کپیوٹر بند کیا اور کمرے لائٹ آف کی چارپائی پر لیٹنے ہی لگا تھا کہ مجھے اندر والے دروازے پر آہٹ سنائی دی۔۔۔۔ میں نے اپنا وہم سمجھا اور چارپائی پر لیٹ گیا ابھی اپنے آپ کو چارپائی پر ایڈجسٹ ہی کر رہا تھا کہ کوئی میرے ساتھ لیٹ گیا۔۔۔۔ میرا تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ایک تو مجھے میرے کزن نے ڈرایا ہوا تھا کہ یہاں ہوائی چیزیں رہتی ہیں اوپر سے اندھیرے میں کوئی میری ساتھ لیٹ گیا میری حالت پتلی ہو گئی۔۔۔ اس سے پہلے کہ میری حالت مزید خراب ہوتی ساتھ لیٹنے والے نے میرا مطلب لیٹنے والی نے سائیڈ بدلی اور میرے ساتھ اپنے ممے لگا کر اپنا ہاتھ میری دوسری طرف کر دیا۔۔۔ میں ابھی بھی یہ سوچ رہا تھا یہ پکی جننی ہے لے بھئی بلو ہن تاں تو ہیں بچدا۔۔۔ میں اسی سوچ میں بھی مموں کے لمس کو محسوس کر رہا تھا اور مموں کے سائز سے اندازا کر رہا تھا کہ اس کی عمر کتنی ہو گی۔۔۔ یکدم اس نے اپنے ہونٹ میری گال پر رکھ کر کس کیا اور بولی بلو۔۔۔ میرا سارا خوف سارا ڈر ایک سیکنڈ میں اڑن چھو ہو گیا یہ کوئی جننی نہیں تھی بلکہ سارا دن میرے لن کو کھڑا رکھنے والی سمیرہ باجی تھی۔۔۔۔ اس کی آواز سن کر میری سانس بحال ہوئی میں نے نارمل ہوتے ہوئے کہا جی باجی۔۔۔ کل تم چلے جاؤ گے تو میرا دل نہیں لگے گا نہ جاو نا یہاں ہی رہ جاؤ۔۔۔۔ میں نے ان کی طرف منہ کیا اور پوچھا دروزہ بند کیا ہے ۔۔۔ میرا سوال اس کے الفاظ سے میچ نہیں کر رہا تھا کیونکہ میرا لن اس کی آواز سن کر ہی تن گیا تھا۔۔۔ ایک منٹ میں ہی سارا سین دماغ میں گھوم گیا اس کی ٹائٹ پھدی نے لوڑے کو گرما دیا۔۔۔ میں اس کی پیار بھری باتیں نہیں سننا چایتا تھا بلکہ اس کی پیاری پھدی میں لن ٹھوکنا چاہتا تھا۔۔۔ سمیرہ باجی نے کہا ہاں لگا کر ہی آئی ہوں۔۔۔ میں نے اس کے گال کو چوم کر کہا جانا تو پڑے گا مجبوری ہے۔۔۔ سمیرہ باجی نے کہا ایک دن اور رک جاؤ کیا ہو جائے گا۔۔۔ میں ۔۔۔ باجی آپ نے امی کی بات سنی تھی ابا جی ناراض ہوں گے ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن ایک دن سے کیا ہو جائے گا۔۔۔ میں۔۔۔ باجی جانے دیں اس بات کو جو وقت ملا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔۔۔ سمیرہ باجی۔۔۔ بس تمہیں ایک ہی کام آتا ہے اپنا فائدہ ڈھونڈ رہے ہو۔۔۔
  30. 5 likes
    کسی نے خوب ہی کہا ہے کہ آپ 99 کام یا باتیں اچھی کر لو اگر ایک غلط ہو جائے تو 99 بھی زائل ہو جاتے ۔ 600 صفحات پر مشتمل یہ کہانی اور اس کے قائرین کا دل توڑا جا رہا یہ کہانی اس پوری سائٹ کی جان ہے میں نے اس کے 600 صفحات پڑھیں ہیں اس کی کہانی کی قدر مجھ سے پوچھیں ۔ میں اس کہانی کو نا جانے کہاں کہاں سے ڈھونڈ کے پہنچا ہوں ۔ جماعت میں شرارتی بچوں کے ہوتے ہوئے بھی استاد اپنا سالانہ پڑھائی ٹارگٹ پورا کرتا ہے اسے تنگ کیا جاتا وہ خود بھی تنگ ہوتا لیکن یوں بھاگ نہیں جاتا کیا آپ ان چند نا سمجھ ممبرز کے لئیے اپنے چاہنے والوں کو چھوڑ دیں گے ان کا دل توڑیں گے کیا یہ دل ازاری نہیں ہو گی ۔ اس کہانی کی قدرومنزلت ہم جانتے ہیں اس لئیے صبر سے انتظار کرتے ہیں جتنی بھی اپڈیٹ ہو اسے انجوائے کرتے ہیں اپنی رائے بھی دیتے ہیں گزارش بھی کرتے ہیں کہ کہانی کا پہلو کچھ اس طرح سے ہو جائے تو مزہ آ جائے اگر آپ اس پلیٹ فارم کو ان چند اشخاص کے لئیے ختم کریں گے تو چاہنے والے اس کہانی کا وہ مزہ نہیں لے پائے گا اور الٹا ان چند نا سمجھ ممبرز کو قصوروار اور لعنت و ملال کریں گے ۔ دل کو بڑا رکھئے سب اچھا ہو گا
  31. 5 likes
    اول تو ان بھائی صاحب کا کمنٹ اپروو ہی نہیں ہونا چاہیے تھا اور اپروو کر ہی دیا تو اسے اتنی اہمیت نہیں دینی چاہیے کہ ایک گھٹیا کمنٹ کی بنیاد پہ کہانی ہی روک دی جائے۔ ڈاکٹر خان کی محنت اور لگن سے یہ کہانی اس فورم کی جان بنی ہوئی ہے اور اسے اس طرح ان کمپلیٹ سیکشن میں موو نہیں کرنا چاہیے۔ ہم تو بس گزارش ہی کر سکتے ہیں، ماننا نہ ماننا آپ کی مرضی ہے۔ اسی طرح کا ایک گھٹیا کمنٹ میرے کمنٹ کے جواب میں بھی ہوا تھا جسے میں نے رپورٹ بھی کیا لیکن اس پہ کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
  32. 4 likes
    داستانِ زندگی۔۔۔۔آخر تمام ہوئی۔
  33. 4 likes
    بچپن سے اب تک 1قسط نمبر دوستوں میں اردو سیکس سٹوریز کا بہت پرانا اور خاموش ریڈر ہوں، اسی اثنا میں سوچا کہ کیوں نہ اپنی زندگی کے کچھ پہلو آپ لوگوں سے شئر کئے جائیں میرا نام دانش ہے 33 سال عمر ہے اور اب یورپ میں ہوں اور اچھی کمپنی میں نوکری کرتا ہوں، اب آتے ہیں کہانی کی طرف، یہ سب 2003 سے شروع ہوا جب میں نویں جماعت کا طالبعلم تھا، ایک پرائیویٹ سکول میں ابو نے میرا داخلہ کروایا، ویسے تو اس عمر میں سیکس سے نا واقف ہونا عام سی ہی بات ہوتی ہے اور حسب دور میں بھی سیکس سے نا واقف ہی تھا اور دوسرا سکول کا ماحول بھی کافی سخت تھا کیونکہ وہ سکول اس وقت ضلع کا سب سے ٹاپ سکولوں میں جانا جاتا تھا اور پورے ضلع میں اسی سکول میں کوئی نہ کوئی طالبعلم بورڈ میں اول پوزیشن پر رہا کرتا تھا ہمارے علاقے کے کافی بچے اسی سکول میں زیر تعلیم تھے اور مجھے بھی وہاں داخلہ پڑا کیونکہ پڑھائی میں میرا ذہن بھی بہت چلتا تھا، نئے سکول میں پہلا دن جیسا سب کا گزرتا ہے میرا بھی ویسا ہی گزرا، کوئی خاص بات نہیں ہوئی ، ایک ڈسک پر 3 طالبعلم بیٹھا کرتے تھے چونکہ میں نیا نیا تھا اسی لئے مجھے آگے بٹھایا جاتا تھا، میرے ساتھ دو اور لڑکے بیٹھتے تھے ان میں سے ایک (اجمل) دوسرے شہر کا تھا جو ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا اور دوسرا لڑکا(عمران) ہمارے ہی شہر ملتان کا تھا بس علاقے کا فرق تھا،ہماری آپس میں بات چیت کے علاوہ دوستی بھی گہری ہوتی گئی، اجمل گاؤں کا رہنے والا تھا اسی لئے تھوڑا شرمیلا قسم کا انسان تھا اور پڑھائی درمیانہ تھا جبکہ عمران بہت ہی حرامی ذہن کا مالک تھا اور پڑھائی میں بھی بالکل نالائق تھا، اور ان دونوں کے مقابلے میں میرا پڑھائی میں بہت دماغ چلتا تھا، کلاس میں ڈیسک پر درمیان میں عمران بیٹھتا تھا اور ایک سائیڈ میں اور دوسری سائیڈ اجمل، عمران درمیان مین بیٹھ کر ہم دونوں کو بہت تنگ کیا کرتا تھا اور وہ امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا تو اس کے گھر میں کمپیوٹر بھی تھا اور گیمز وغیرہ کی معلومات اور سیکس کی معلومات بھی بہت تھی اس کو اور کئی بار وہ کہہ چکا تھا اپنے گھر آنے کے لئے لیکن اجمل کو ہاسٹل سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی اور نہ ہی مجھے سکول کے بعد کسی اور جگہ جانے کی اجازت تھی کیونکہ ہمارے گھر کا ماحول بھی بہت ہی سخت اور مذہبی قسم کا تھا، پھر ایسا ہوا کہ سکول کی طرف سے سپورٹس کا دورانیہ شروع ہوا جو 3 دن کے لئے تھا اور میری سپورٹس میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی تو میں پیچھے ہی رہا میری دیکھا دیکھی اجمل اور عمران بھی پیچھے رہے وہ پہلا موقع تھا جب ہمیں عمران کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، سپورٹس کے دنوں میں سکول کے ساتھ ایک گراونڈ تھا تو پورے سکول طالبعلم وہیں چلے جاتے چونکہ ہمارا کیمپس صرف 2 ہی کلاسوں کے طالبعلموں پر مشتمل تھا لیکن سیکشن بندی بہت زیادہ تھی تو کل ملا کر نویں اور دسویں کے طالبعلموں کی تعداد 700 سے 800 ہو گی، اسمبلی کےبعد سب طالبعلم سکول کے پیچھے گراونڈ میں چلے جاتے تھے اور کرکٹ وغیرہ اور دوسرے بہت سے کھیل ہوتے تھے وہ سب مزے کرتے تھے اور ہم تین وہاں بس برائے نام ہی بیٹھ بیٹھ کر ٹائم پاس کرتے تھے، پہلا دن تو گزر گیا لیکن دوسرے دن ہم 2 سے 3 گھنٹے بیٹھ بیٹھ کر تھک گئے تو عمران نے کہا چلو اس کے گھر چلتے ہیں، اجمل اور میں ڈر بھی رہے تھے لیکن دل بھی کر رہا تھا جانے کو اور اوپر سے موسم بھی سردی کا تھا، چونکہ میں پڑھائی میں تھوڑا ذہین بھی تھا اور عمران کے ساتھ رہ رہ کر تھوڑا حرامی پنے میں بھی دماغ چلنے لگا تھا تو میں عمران کو کہا پی ٹی سر کو میں راضی کر کے آتا ہوں اور یہاں سے نکلتے ہیں، عمران اور اجمل پہلے تو اپنے اپنے مشورے دیتے رہے لیکن میں نے ان کی سن لی لیکن کرنی تو اپنی ہی تھی ، سو میں پی ٹی سر کے پاس گیا اور بولا سر مجھے تھوڑا پڑھائی کرنی اور سپورٹس میں ویسے ہی دلچسپی نہیں ہے تو ہمارا پروگرام بنا ہے کہ ہم لوگ( اجمل،عمران اور میں )واپس کلاس میں جا کر اپنا پرانا سلیبس دوہراتے ہیں، پی ٹی ماسٹر میری طرف دیکھ مسکرائے اور مجھے سر پر پیار دے کر شاباش دی اور کہا کہ بیٹا آپ سکول واپس تو نہیں جا سکتے بہتر ہو گا اگر پڑھنا ہی کرنی ہے تو گھر چلے جائیں، میں نے پی ٹی سر کا شکریہ ادا وہاں سے ہم تینوں پی ٹی سر کی اجازت لے کر نکل گئے اور خوش بھی تھے، لیکن ڈر بھی تھا کہ اگر گھر پتا چل گیا تو مار الگ پڑنی ہے لیکن پھر بھی ہم عمران کے گھر طرف نکل پڑے، عمران بائیک پر سکول آتا تھا اس نے اپنے ساتھ اجمل کو بٹھایا اور میں نے اپنی سائیکل نکالی اور عمران کے پیچھے پیچھے اس کے گھر کی طرف چلتے گئے، 20 منٹ تک ہم اس کے گھر کے باہر تھے، عمران نے اپنے گھر کے گیٹ کے ساتھ لگی بیل کو دبایا تو تھوڑی ہی دیر میں اندر سے نسوانی آواز آئی کون، عمران کے جواب پر گیٹ کے سائیڈ کا چھوٹا دروازہ کھلتا ہوا محسوس ہوا لیکن وہ تھوڑا ہی کھلا ہو گا پھر وہیں رک گیا، عمران بائیک سے اتر کر اندر چلا گیا پھر کچھ باتوں کی آواز آئی پھر خاموشی ہو گئی کچھ ہی پل کے بعد چھوٹا گیٹ بند ہوا اور ساتھ اٹیچ بڑا گیٹ کھل گیا اور عمران نمودار ہوا اور اپنی بائیک اندر لے کر چلا گیا اور ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ہم بھی اپنا اپنا بیک اٹھائے اور میں اپنی سائکل سمیت گیٹ کے اندر داخل ہوا میں نے اپنی سائیکل کو عمران کی بائک کے ساتھ سٹینڈ پر لگایا یہ ایک گیراج تھا اور وہاں گاڑی بھی کھڑی ہوئی تھی اور میں گیراج میں کھڑا ادھر ادھر گھر کو دیکھنے لگا یہی حال اجمل کا بھی تھا کیونکہ وہ گاؤں کا رہنے والا تھا، بظاہر تو میں بھی شہر کا رہنے والا تھا لیکن مڈل کلاس فیملی سے تھا ابو کی ایک چھوٹی سی دکان تھی مین روڈ پر اور دو بھائی مجھ سے بڑے تھے وہ ابو کے ساتھ دکان پر ابو بھی مدد بھی کرواتے تھے چھوٹا سا گھر تھا ہمارا دو کمروں پر مشتمل اور اپنی زندگی مست گزر رہی تھی، اتنے میں عمران کی اواز سے میں چونکہ جو ہمیں اپنے ڈرائنگ روم کا راستہ دکھا رہا تھا میں اور اجمل گیٹ کے ساتھ ہی ایک روم میں اندر چلے گئے جس کا دروازہ باہر سے بھی تھا لیکن عمران ہمیں اندرونی راستہ سے ڈرائنگ روم لے گیا، اندر بہت اعلی قسم کے صوفے اور افغانی کارپٹ بچھا ہوا تھا ایک سائیڈ پر کونے میں بہت ہی خوبصورت قسم کی ٹیبل تھی اور بہت ہی خوبصورت طریقے سے اس پر کمپیوٹر کو سجایا ہوا تھا اور ٹیبل کے نیچے میڈیم سائز کے سپیکر بھی رکھے ہوئے تھے جسے بوفر سسٹم کہا جاتا ہے یہ سب دیکھ کر عمران کی امیریت پر رشک ہونے لگا، خیر ہم نے اپنے جوتے اتارے کر سائیڈ میں رکھے اور صوفوں پر بیٹھ گئے،اتنے مین عمران بھی اندر آگیا اور پوچھنے لگا کیسا لگا اس کا گھر ہم دونوں نے یک زبان کہا، بہت ہی اچھا ہے،پھر اس نے بتایا کہ وہ اکلوتا بیٹا ہے اور اس کی دو بہنیں ہیں امی ابو دونوں ڈاکٹر ہیں اور ان کا اپنا کلینک ہے اور بڑی بہن ایک بنک میں منیجر کی پوسٹ پر ہے دوسری بہن ایم بی بی ایس کی پڑھائی کر رہی ہے میڈیکل کالج میں چونکہ اس کی ایوننگ کلاس تھی اسی لئے وہ 1 بجے تک گھر ہوتی ہے پھر کالج چلی جاتی ہے اور شام کو 7 بجے تک آتی ہے، امی ابو اپنے کلینک کو ٹائم دیتے ہیں اسی لئے وہ گھر بس رات میں ہی آتے ہیں اور بڑی بہن شام تک 5 بجے آ جاتی ہے بنک سے، اور سب کے پاس اپنی اپنی گاڑی ہے، خیر گفتگو ختم ہوئی تو روم کا دروازہ کھلا اور ایک ادھیڑ عمر خاتون ایک ٹرے ہاتھ میں لئے اندر داخل ہوئی جس میں چائے کے تین کپ اور کچھ لوازمات تھے وہ رکھ کر چلی گئی تو عمران نے بتایا کہ یہ ماسی ہے ہمارے گھر خانساماں کا کام کرتی ہے اور بہت ہی لذیذ کھانے بھی پکاتی ہے، چائے پیتے پیتے عمران نے کمپیوٹر بھی آن کر دیا اور سامنے ایک کرولنگ چیئر پر بیٹھ گیا اور شرارتی انداز میں پوچھنے لگا کیا دیکھو اور سنو گے، میں نے کہا یار کچھ بھی لگا دے تیرا کمپیوٹر ہے تو ہی جانتا ہے سب اجمل نے بھی میری ہاں میں ہاں ملائی، عمران نے پہلے کچھ گانے سنوائے پھر گیم کھیلنے لگا اور ہم بس دیکھ ہی سکتے تھے سو دیکھتے رہے، اتنے میں دروازہ بجا اور عمران اپنی سیٹ سے اٹھ کر دروازے کی طرف گیا تو باہر پھر وہی نسوانی آواز آئی کچھ باتیں ہوئی پھر عمران واپس آگیا اور بہت ہی خوش لگ رہا تھا، پوچھنے پر پتا چلا کہ اس کی بہن کالج کےلئے نکل گئی ہے اب اس کی بادشاہی ہے گھر میں کوئی بھی نہیں ہے سوائے کام والی ماسی کے اور وہ ہمیں تنگ نہیں کرے گی، اچانک سے عمران نے گیم کو بند کیا اور کمرے کا دروازہ اندر سے لاک کیا اور کھڑکیوں کے پردے وغیرہ سیٹ کر کے واپس سیٹ پر آ کر بیٹھا اور ہمیں بھی نزدیک والے صوفوں پر بیٹھنے کا اشارہ کیا، اس کی بات مان کر ہم بھی اس کے قریبی صوفے پر بیٹھ گئے، عمران نے ہماری طرف ایک شیطانی مسکراہٹ سے دیکھا پھر کمپیوٹر ٹیبل کی دراز سے کچھ سی ڈیز نکالی اور ایک ڈسک کو سی پی یو کی سی ڈی پلئیر میں ڈال دیا اجمل اور میں دونوں اس کی بس حرکتوں کو ہی دیکھ رہے تھے، اتنے میں ایک ویڈیو مانیٹر سکرین پر چلنا شروع ہوئی، فلمیں تو کافی دیکھ رکھی تھیں لیکن اس فلم کا شروع ہونے کا انداز ہی الگ تھا، ٹایٹل میں ہی ایک ننگی لڑکی دکھائی دی اور مجھے مانوں ایک جھٹکا سا لگا اور میرے منہ سے اچانک نکلا ابے یہ کیا، تو عمران بولا بیٹا ٹھنڈ رکھ ابھی بہت کچھ ہے، مووی پلے ہوئی تو سین سامنے تھا تین لڑکے روم میں بیٹھے پڑھائی کر رہے تھے اتنے میں ایک لڑکی اندر آئی جو شاید کسی ایک کی بہن ہوگی ہم تینوں ہی مانیٹر سکرین کی طرف محو تھے اتنے میں ایک لڑکا وہاں سے باتھروم کا پوچھ کر روم سے نکلتا ہے اور وہ لڑکی اس کو بولتی ہے کہ اس کے پیچھے آو وہ بتاتی ہے وہ اس کےپیچھے نکلتا ہے لڑکی اس باتھ روم کا راستہ دکھاتی ہے وہ لڑکا جیسے ہی باتھ روم جا کر دروازہ بند کرنے لگتا ہے تو لڑکی اچانک سے دروازے کے پاس آ کر کچھ کہتی ہے چونکہ وہ انگلش میں بات کر رہے تھے اور عمران نے والیم بھی سلو کیا ہوا تھا تو بس اتنا ہی سمجھا کہ وہ لڑکی اس کو پیشاپ کرتے ہوے دیکھنا چاہتی ہے اور وہ لڑکا کچھ شرماتے ہوئے اپنی پینٹ کی زپ کو کھولتا ہے اور ہولے ہولے اپنا اوزار باہر نکالتا اور لڑکی بے شرم ہو کر اس کا اوزار دیکھنے میں محو ہوتی ہے وہ لڑکا اپنا ہتھیار نکال کر کموڈ کی طرف کر کے پیشاپ کرنے لگتا ہے اتنے میں لڑکی اس کے پاس جا کر نیچے کی طرف بیٹھ جاتی ہے اور اس کے لنڈ کو غور سے دیکھنے لگتی ہے جیسے ہی لڑکا پیشاپ کا آخری قطرہ نکالتا ہے تو لڑکی جھٹ سے اس کا لن پکڑ کے منہ میں ڈال لیتی ہے اور کسی بچے کی طرح لولی پاپ کی طرح اس کے لن کو چوسنے لگتی ہے اور لڑکا بس اپنی آنکھیں بند کئے لن چسوائی کے مزے لے رہا تھا یہ سین دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے میرے پورے جسم میں جان ہی نہ ہو عجیب سی کیفیت اور خوف سا محسوس ہونے لگا دوسری طرف اجمل کا بھی یہی حال تھا لیکن عمران تو ان کاموں کا کھلاڑی تھا اس کی کیا فیلنگز ہیں نہیں معلوم لیکن اس وقت مجھ پر جو گزر رہی تھی کیا بتاوں میرے تو جسم پر چھوٹے چھوٹے دانے بننے لگے مانوں جیسے رونگھٹے کھڑے ہوں، ہوش تب آیا جب دیکھا کہ عمران نے ویڈیو کو روک کر ہماری طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور ہم بس مانیٹر سکرین کی طرف ہی دیکھے جا رہے تھے، تو عمران نے ہمیں ہمارے کندھے پکڑ کر جب زور سے ہلایا تو مکمل ہوش میں آئے، ورنہ ہم کونسی دنیا میں تھے خود کو نہیں معلوم تھا، جب ہوش میں آیا تو میرا گلا خشک تھا جیسے صدیوں سے پانی نہ پیا ہو اور یہی حالت اجمل کی تھی ہم دونوں کو جھٹکا تب لگا جب عمران نے ہمیں ہمارے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا، کیونکہ میرا ہاتھ میری پینٹ کے اندر تھا اور اپنے ہتھیار کو پکڑا ہوا تھا مجھے خیال ہی نہیں رہا کہ کب میں نے زپ کھولی اور کب ہاتھ اندر ڈال کر اپنے لن کو پکڑا، اور یہی سانحہ اجمل کے ساتھ بھی پیش ہوا، عمران ہم دونوں کی حالت دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگا اور ہم دونوں شرمندگی کے منہ نیچے کر کے بیٹھے تھے لیکن ہاتھ ابھی بھی پینٹ کے اندر اوزار کو تھامے تھا، پھر اچانک سے ہوش آیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا اور پینٹ کی زیپ بند کی اور عمران سے باتھروم کا پوچھا لیکن وہ ہنستے ہی جا رہا تھا اور ہم دونوں کی حالت دیکھ کر محفوظ ہو رہا تھا خیر میں جلدی سے اٹھا اور خود ہی باتھروم تلاش کرنے کی غرض سے نکلنے لگا، ابھی دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ اس کی آواز نے ایک اور جھٹکا دیا جس سے میں بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گیا، میں جیسے ہی دروازے تک پہنچا تو اس کی میرےکانوں میں پڑی (بہن کو بھیجوں باتھروم میں جاری ہے،،،
  34. 4 likes
    دیکھیں چیزیں ایک دوسرے منسلک ہیں۔ ایک دھاگا کھینچیں گے تو سارے آتے جائیں گے۔ اور بھی غم ہیں جہاں میں محبت کے سوا۔
  35. 4 likes
    UpDate......NO...::03 میرے پیارے دوستو: ایک بھائی نے مجھے ایک اچھی صلاح دی ہے میری رہنمائی کی ہے۔۔ اس نے مجھے ایک بات کہی ہے۔ میں نے بھی اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ جہاں میں نے "عادل" کے نام کا استعمال کیا ہے وہاں اب میں" لفظ کا استعمال ہوگا یعنی کہ جس طرح میں خود اپنی اسٹوری سنا رہا ہوں اس طریقے سےاب سٹوری کو" ۔۔چلایا جائے گا کھانا کھانے کے بعد میں چاچا اور لائبہ ہم تینوں اپنی جیب میں بیٹھے اور گاؤں سے شہر کی طرف نکل پڑے ۔۔ شہر فیصل آباد پہنچ گئے ،، پہلے چاچا نے کہا کہ ہم بینک چلتے ہیں باقی کام بعد میں کریں گے ۔ تو میں بھی ہاں میں سر ہلا دیا ہم بینک کی طرف چل پڑے بینک پہنچنے کے بعد میں اور لائبہ ادھر آس پاس گھومنے لگ گئے۔ چاچو نےآواز دی عادل بیٹا یہاں آؤ میں اور لائبہ بھاگتے ہوئے چاچو کی طرف گئے ۔ چاچو نے کہا آج اگر آ ہی گئے ہیں شہر تو تم نے جہاں گھومنا پھرنا ہے یا کچھ کھانا پینا ہے ۔ میں نے کہا چلو میں نے کچھ کھانا پینا نہیں ہے تو لائبہ فورن بولی بابا میں نے کچھ کپڑے لینے ہیں شادی کے لیے آپ چلے نہ، مارکیٹ کی طرف چلتے ہیں ،۔ تو ہم ایک مین مارکیٹ کی طرف نکل پڑے مارکیٹ میں چاچو نے اچھی ایمبرائیڈری کی دکان دیکھی اور ہم اس کے اندر چلے گئے وہاں سے لائبہ نے اپنے لئے کچھ سوٹ لئے۔ اس کے بعد چاچو مجھے لے کر گارمنٹس کی شاپ پر چلے گئے وہاں جا کر بھی لائبہ نےہی میرے لئے کچھ کُرتا پجامہ اور شلوار قمیض سلیکٹ کیں اور ان کی پیمنٹ کی چاچو نے ۔ ہم لوگ واپس جیب کی طرف آگئے میں صبح گھر سے نکلنے سے لے کر شہر آنے تک اور شہر سے ابھی واپسی گھر جانے تک ۔میرا سارا دن سارا دماغ اِس وقت شادی والے اُس گھر میں لگا رہا جہاں کی ذمہ داری مجھے بابا نے سنبھالنے کا کہا تھا۔ میں تھوڑا آپ لوگوں کو" اُمید حسین "کی فیملی کا تعارف کرا دوں امید حسین کی وائف عمر تقریبا اڑتالیس سال بھر ابھراجسم ،گورا رنگ،تقریبا تھوڑی موٹی ہو چکی ہیں اس وقت۔ کافی ملنسار خاتون ہیں۔ان کا نام فرحین ہے۔اور سب اُنہیں خالہ فَری بُلاتے ہیں۔ آنٹی کی پانچ بیٹیاں ہیں کوئی بیٹا نہیں ہے اُن کا ۔سب سے بڑی دو بیٹیاں ہیں دونوں ہی جڑواں ہیں. ایک کا نام مہرین بڑی جس کی شادی ہونے والی ہے۔چھوٹی کا نام نورین ہے۔ مہرین اور نورین آپی کی عمر 20 سال ہے اور جس طرح گاؤں کی لڑکیاں ہوتی ہیں۔ ٹھیک اُسی طرح نوجوان بھرا سینہ پتلی کمر باہر کو نکلے ہوئے کولھے۔ مکمل اپسرا کی طرح۔ مہرین آپی تھوڑی غصے کی تیز ہیں اور انہی کے ببرعکس نورین آپی کافی سمجھدار ہنس مکھ ہیں اور نورین آپی کی چھاتیاں بھی مہرین آ پی سے سے کافی بڑی ہیں اورنورین کی گانڈبھی کافی باہر کو نکلی ہوئی اوربہت نرم نرم ہے۔ نورین آپی سے دو سال چھوٹی کی فائزہ ہے۔ فائزہ کا جسم بھی کافی پیارا ہے اور بہت اچھی شیپ میں ہے۔ فائزہ میرے ساتھ بہت زیادہ فری ہے، جس کی وجہ سے لائبہ اکثر غصہ کر جاتی ہے۔ فائزہ سے چھوٹی ثنا ہے، اور ثنا بھی اچھے قد کاٹھ کی اچھی جسامت کی مالک ہے ۔ ثنا کسی بھی طرح لگتی نہیں کہ وہ پندرہ سال کی ہوگی، پر وہ ہم لوگوں کے درمیان کافی بولڈ بھی رہتی ہے اس کی میرے علاوہ بھی گاؤں میں چند اچھے دوست ہیں سب سے چھی دوستی ہے۔ اور آنٹی کی سب سے چھوٹی بیٹی کا نام عدینہ ہے جسے ہم سب پیار سے گڑیا بلاتے ہیں جس کی عمر تیرہ سال ہے ۔ اور وہ ہے بھی بلکل پیاری گڑیا کی طرح ہر وقت ہنستی کھیلتی رہنا کبھی کسی کے ساتھ کبھی کسی کے گھر پہ کبھی کسی کے گھر وہ ۔کبھی اپنے گھر پہ بیٹھتی ہی نہیں۔ بیک ٹو دی سٹوری اس کے بعد ہم جیپ میں بیٹھے واپس جارہے تھے کہ ،ہمیں راستے میں کسی نے پیچھے سے آواز دی۔ میں نے مُڑ کے دیکھا تو ایک لڑکا بھاگا چلا آرہا تھا تو میں نے چاچو کو جیپ روکنے کا کہا اس لڑکے نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا بھائی میں یوسف ہوں آپ کے گاؤں کا شیخ میرا دوست ہے، یہ پیکٹ آپ اسے دے دیجئے گا اس نے مجھے خاکی لفافے میں لپٹا ہوا ہے ایک پیکٹ پکڑایامیں نے ٹٹول کر دیکھا ایسا مجھے جیسے اس میں کوئی کتابیں ہیں۔ میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے بھائی میں اس تک پہنچا دوں گا ویسے بھی شام کو ہم نے ان کے پڑوس میں ایک شادی میں جانا ہے میں جاؤں گا تو میں دے دوں گا ۔ میں نے گھر آکر وہ پیکٹ لاپروائی سے ایک طرف پھینک دیا اور امی کو آوازمارنے لگا ،میں مجھے کھانا دو ۔ امی نے کچن سے آواز لگائی بیٹا تم ھاتھ منہ دھو لو میں لے کر آتی ہوں کھانا، اور لائبہ کو بھی بلا لو میں نے کہا امی لائبہ چاچو کے ساتھ کہیں گئی ہے ہو سکتا ہے وہ اپنے گھر گئے ہوں یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ بابا کے پاس کھیت گئے ہو ں۔ مجھے بھوک بہت لگی آپ مجھے کھانا دے دو۔ کھانا کھاتے ہی میں باہر جانے لگا تو اچانک میری نظر پڑے ہوئے پیکٹ پر پڑی اس میں سے کُچھ کِتابیں باہر نکل رہی تھیں، شاید میرے غصے سے پھینکنے کی وجہ سے ایسا ہوا تم میں بھی تجسس میں آکے اس کو کھولنے کا سوچا میں جیسا ہی آگے بڑھا، آگے بڑھ کر میں نے پیکٹ کھولا اور پیکٹ کھولتے ہیں میری حیرانگی کی انتہا نہ رہی اس میں کچھ رسالے تھے ۔ جو بالکل ہی ننگی تصویروں سے رنگین پرنٹس ننگی تصویریں، میں نے رسالوں کو کھول کر دیکھنا شروع کیا پہلا ہی پیج کھولا تھا، کہ اچانک مجھے یاد آیا کہ میرے روم کا دروازہ کھلا ہوا ہے میں نے بھاگ کر اپنے روم کا دروازہ بند کیا اور اندر سے کنڈی لگا دی۔ کنڈی لگانے کے بعد میں اپنے بیڈ پر واپس پہنچا اور میں نے اسے سالے کو اٹھایا تو پھر سے کھولا کھول کے پہلا پیج جیسے ہی دیکھا اس میں ایک ننگی لڑکی کی تصویر بنی ہوئی تھی جو بالکل بنا کپڑوں کے کھڑی تہی اُس کے ایک ہاتھ میں شراب کا گلاس تھا اور وہ اپنی چھاتیوں پر اسے الٹا رہی تھی،۔ پکچر کی اس انداز سے عکس بند کی ہوئی تھی کہ اس کی چھاتیوں پر چند شراب کے چند قطرے ٹپک رہے تھے اور کچھ نیچے بڑھتے ہوئے اُس کی پھدی اور اس کی رانوں سے ہوتے ہوئے پاؤں کی طرف جا رہے تھے ۔ میں نے دھڑکتے دھڑکتے دل اور کانپتے ہاتھوں سے اگلا پیج کھولا اور اس پیج پر اسی کی طرح ایک اور ننگی لڑکی کی تصویر بنی ہوئی تھی ، اُس کے ساتھ ہی ایک لڑکے کی تصویر بنی ہوئی تھی جس کا لنڈ بالکل سیدھا تیر کی طرح کھڑا ہوا تھا اور لڑکی کا ایک ہاتھ اس کے لنڈ کی طرف تھا اور اس لڑکے کا ایک ہاتھ اس لڑکی کی ایک چھاتی پر اور ہونٹ اس کے ہونٹوں سے لگے ہوئے تھے۔ اُس تصویر کو دیکھتے ہیں میری تو آنکھیں چار ہو گئی اور میں لمبے لمبے سانس لینے لگا پتا نہیں مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے میرا بھی سانس نکل جائے گا میرا پورا جسم تپنے لگا میرے رونگٹے کھڑے ھوگئے۔ میں پور غور سے لڑکے کے لنڈ کی طرف دیکھنے لگا دیکھتے دیکھتے اچانک میرے دل میں پتہ نہیں کیا بات آئی کہ میں نے اپنی شلوار کا ناڑا کھولا اور کھول کر اپنے لنڈ کی طرف دیکھا تو اس وقت اسے لنڈ کہنا تو لنڈ کی برائی کرنے کے مترادف تھا۔ وہ تو ایک چھوٹی سی للی تھی اور میں اس بات سے بہت ہی پریشان ہوا ہوا پتا نہیں میرے دل میں یہ بات کیوں آ رہی تھی کہ اس تصویر میں چھپے لڑکے کا اتنا بڑا ہے اور میرا اتنا چھوٹا کیوں ۔۔؟اچانک میرے ذہن میں کچھ دن پہلے کا خیال آیا اہی تھا کہ میں نے ان کتابوں کو لپیٹا،۔ انہیں اچھی طرح لپیٹ کر میں نے دوپٹے میں ان کو باندھ کر اپنے بیڈ کے نیچے سرکا دیا۔ میں دروازہ کھولا گھر سے باہر نکل آیا، باہر نکلتےگاؤں کے باہر بیرونی سڑک کی طرف چلنے لگا تھا سٹاپ پر پہنچتے ہی میں نے ہمارے گاؤں کے باہر کی طرف دکانوں کی طرف رخ کیا ، وہاں جب میں تھوڑی دیر بعد ان دکانوں کے پاس پہنچا تو میں وہاں جاکر حکیم بابا کی دکان تلاش کرنے لگا آج سے کچھ مہینے پہلے میں اورلائبہ ہم اسکول سے واپس آرہے تھے کے اچانک ہماری گاڑی خراب ہوگئی اور چاچو نے کہا کہ تم دونوں پیدل ابھی تھوڑا ہی راستہ ہے گاؤں چلے جاؤ، میں گاڑی ٹھیک کروا کر واپس آ جاؤں گا۔ تو ہم چلتے ہوئے حکیم بابا کی دکان کے سامنے سے گزرے تو مجھے وہاں تھوڑا سا اندر اونچی آواز میں بات کرتا ہو محسوس ہُوا کوئی تو میں نےلائبہ کو کہا کہ تم یہیں رک کو میں دیکھ کر آتا ہوں کہ سب اونچی آواز میں بات کر رہے ہیں ۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کی بابا کرسی پر بیٹھے اُن کے سامنے ایک لڑکا بیٹھا تھا جو کم از کم سترہ اٹھارہ سال کی عمر کا ہوگا۔ اس لڑکے نے اپنی شلوار کا ناڑا کھولا ہُواتھا اور گھٹنے تک کی ہوئی تھی اور حکیم صاحب سامنے بیٹھے ہوئے دیکھ رہے تھے میری نظر اس کے اندر والے حصے پر پڑی تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا میں کافی دیر کھڑا ہے ااور اُسے دیکھتا رہا پھر اچانک حکیم بابا کی آواز آئی وہ اس لڑکےکو کہہ رہے تھے ، کہ تم نے دوائی مانگی تھی کہ بابا میرا لنڈ بڑا ہو جائے یہ کافی چھوٹا ہے میری شادی ہونے والی ہے تو میں نے تمہیں دےدیبنا کر اب تمہیں کیا چاہئے، اب تو تمہاری ہر پریشانی دور ہوچکی ہے۔ اس لڑکے نے جواب دیا کہ بابا آپ نے میری پریشانی دور کر دی پر اس سے بڑی پریشانی کھڑی ہوگئی ہے۔ جب میں نے اپنےبیوی کو پہلی رات چودا ، اُس وقت اس کی بہت زیادہ طبیعت خراب ہوگئی اُس کے بعد اس نے کبھی مجھے اپنے قریب نہیں آنے دیا آج میری شادی کو چار مہینے ہونے والے ہیں۔ وہ مجھے اپنے قریب نہیں آنے دیتی اُس کا کہنا ہے کہ وہ اتنا موٹا اتنا بڑا لنڈکبھی نہیں لے سکتی وہ ایک عورت ہے وہ کوئی ۔جانور نہیں جو اتنا بڑا برداشت کر سکے حکیم صاحب آپ ہی مجھے کوئی راستہ بتا سکتے ہیں۔ ورنہ وہ تو مجھ سے بھی علیحدہ ہونا چاہتی ہے وہ کہتی ہے کہ اسے بہت تکلیف ہے وہ میرے ساتھ نہیں گزار سکتی۔ اور پھراُس لڑکے نے اپنی جیب سے ایک نیلے ڈھکن والی ڈبی نکالیں بڑی سی ،اور وہ بابا کو ہاتھ میں رکھ دیں۔ جو بابا نے پکڑ کر اپنے دراز میں رکھ دی اور اس سے کہا کہ بیٹا تم جاؤ میں کچھ نہ کچھ انتظام کرتا ہوں پھر میں تمہیں کسی کو بھیج بُلوالوں گا اس کے بعد تمہارا کوئی نہ کوئی حل ہو ہی جائے گا۔ میں اس تصویر کو دیکھ کر پہلے ہی کافی حد تک پریشان ہوا تھا ،حالانکہ مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ میری عُمر ابھی تیرا سال ہے تو ظاہر ہے اس میں اتنا ہی ہوتا ہے مجھے تو اس بات کا علم نہیں تھا کہاِس عُمر میں اتنا ہوتا ہے میں تو بس ایسا کرنا چاہتا تھا۔ میں حکیم صاحب کی دوکان میں داخل ہوا تو دیکھا کہ اندر حکیم صاحب نہیں تھے میں نے دکان میں تلاش کیا کہ ٹیبل کے اس پار بھی مجھے حکیم صاحب کہیں نظر نہیں آئے تو میں نے دکان سے باہر نکل کر دیکھا ۔ دور تک مجھے کوئی بندہ نظر نہیں آیا میں نے پھر ڈرتے ڈرتے ہیں حکیم صاحب کا دراز کھولا اور اس میں سے شیشی نکالی اور اس پر لگا ہوا لیبل پڑھنے لگا۔ اُس سے مجھے معلوم ہوگیا اس شیشی میں دو قسم کی چیزیں ہیں ایک پاؤڈر ہے اور دوسرا کوئی تیل ہے۔ تیل سے رات کو مالش کرکے سونا ہوتا تھا اور پاؤڈر کا ایک چمچہ ڈیلی رات کو کھانا ہے جو صرف اور صرف ایک ہفتے کی دوائیں تھیں اُس پر لکھا ہوا تھا کہ ایک ہفتے سے زیادہ کھانے والا اپنے نقصان کا ذمہ دار خود ہوگا ۔ مطلب یہ تھا کہ وہ انسانی اعضاء سے کافی آگے بڑھ سکتا تھا۔ اِس بات کا مجھے اُس وقت کوئی علم نہیں تھا کے اگرانسانی اعضاء سے آگے بڑھ کر اور بھی بڑا ہو جائے تو آگے چل کے کیا کیا مشکلات پیش آتی ہیں اور کسی لڑکی سے یا پھر خود کو وہ آپ کو آگے چل کر پتہ چل ہی جائے گا۔ میں نے شیشی اپنی جیب میں ڈالی اور باہر دیکھا کہ کوئی نہیںدیکھ رہا اور سیدھا اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا ۔ تیزی سے یا یوں کہہ لو بھاگتا ہوں اپنے گھر کی طرف آیا سیدھا اپنے کمرے میں جاکر آپ نے الماری کھولی ، اپنی الماری کھول کے اس کے اندر سب سے خفیہ دراز کھول کر اس کے اندر میں نے شیشی رکھ کر لاک لگا دیا اور باہر نکل آیا اپنے کمرے سے۔ پھر شام تک آوارہ گردی کرتا رہا اس کے بعد میں آنٹی سے ان کے گھر کے بارے میں معلومات لینےکے لیے آنٹی فرحین کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔
  36. 4 likes
    پہلی اپڈیٹ دینے کے لئے آپ کو بہت بہت مبارک ہو چوہدری صاحب۔ میں نے آپ کی اپڈیٹ اسی وقت اپروو کر دی تھی۔ اپڈیٹ کے بعد مجھے یا ایڈمن کو مطلع کرنے کی ضرورت نہیں۔ہم میں سے کوئی بھی جیسے ہی آن لائن ہوگا۔اپروو خود بخود ہو ہی جائے گی۔ کہانی شروع کرنے کا بہت شکریہ یہ امید کرتا ہوں کہ آپ کی یہ کہانی ایک بہترین اضافہ ہوگی۔
  37. 4 likes
    بہت خوب۔آل دی بیسٹ برادر۔ چک دے پھٹے
  38. 4 likes
    سب دوستوں کے لئے میگا اپڈیٹ کر دی ہے مزے کرو
  39. 4 likes
    اس کہانی کے پہلے پیج پر لکھا ہے کہ شیخو جی ذاتی وجوہات کی بنا پر کہانی مکمل نہ کر سکے لہٰذا ڈاکٹر فیصل خان آگے چلائیں گے آج بھی وہی صورت حال ہے کیا فرق پڑے گا اگر دوسرا ڈرائیور بس کو چلائے مسافر تو سفر جاری رکھ پائے گا ڈاکٹر خان کی مصروفیات جتنی آج ہیں اگلے سال اس سے زیادہ ہی ہونی ہیں ایک اپڈیٹ اگر پڑھنے کو ملے تو پھر معاملہ کسی حتمی حل کی طرف جا سکتا ہے
  40. 4 likes
    Janab ye sorty DR saab k pas rehne do. Ap is ka part 2 lekh lo. Ya koi or kahani lekhna shuro kr do. yahn pe to kisi ko ye b pata nai ha k ap k lekhne ka andaz kya ha.. Jb ap apni koi kahani lekho ge to logon ko ap k lekhne ka andaz b pata chal jaye ga or ye b pata chal jaye ga k ap kesa lekhty hu. DR Saab boht he umdha andaz se is kahani ko agye le kar ja rhy han. Or ek bat jo b keh rhy han k ap ye kahani lekho wo b is leye keh rhy han Q k un ko bs update se mtlab hota ha.un k leye ye kahani bs ek x movie ki trha ha . Q k wo aj tak kahani ko smjh he nai paye k DR Saab kya lekh rhy han . Un k leye jo b lekha hota ha wo bs alfaz hoty han wo smjhne ki koshish nai krte . Ap un logon k leye koi story shuro kr lo. Her roz ki bajaye din main 2 se 3 updates dena. Ap bs is story ko Dr Saab k pas rehne do.....
  41. 4 likes
  42. 4 likes
    انسیسٹ کہانیاں انسانیت کی توہین ہیں۔ رشتوں کے تقدس کی پامالی ہیں۔ کم عمر کچے ذہنوں کی گمراہی کا سبب ہیں۔ یہ واحد نظریاتی فورم ہے جو ذہنی تفریح کے لیے بنا ہے۔ نہ کہ نفسیاتی مریض بنانے کے لیے۔ صرف بیمار ذہنیت کے لوگ انسیسٹ کہانیاں تخلیق کرتے ہیں اور نیچ ذوق رکھنے والے انسیسٹ کو سراہتے ہیں۔ سب کی اصلاح کے لیے نشاندہی کی غرض سے گذارش ہے کہ جو معیار قائم ہے اس پر انتظامیہ تعریف کی مستحق ہے۔ اگر پیسہ مقصد ہوتا تو فورم پر اشتہارات بھی ہوتے اور انسیسٹ بھی۔ انسیسٹ مردہ باد
  43. 4 likes
  44. 4 likes
    بچپن سے اب تک، قسط نمبر 12 دوستوں کچی عمر کے ڈر اور خوف بھی عجیب ہوتے ہیں نا کسی کو بتاو تو اپنی ہی گانڈ پھڑواو، نا بتاو تو اندر ہی اندر خود سے لڑائی جاری رہتی ہے، پھر اندر کی لڑائی باہر کی لڑائی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے، اندر کی لڑائی سے بندہ اپنا آپ خیالی پلان بناتا رہتا ہے اور خود سے فیصلہ کرتا ہے اور خود سے نتیجے بھی نکالتا ہے اب ایسا ہی حال میرا تھا، کمرے میں تو آگیا تھا لیکن اب باہر برآمدے میں بیٹھی 5 خواتین کی ہنسی مجھے ایسے چبھ رہی تھی جیسے کسی نے مجھے اٹھایا ہو اور واپس زمین پے لا کر پٹک دیا ہو، اس وقت میری سوچ جتنا کام کر سکتی تھی اس کے مطابق تو میں ڈر ہی رہا تھا کہ اب کیا ہو گا، یہ لوگ اتنا زور سے کیوں ہنسے، کیا ان کو پتا تھا؟؟؟ کیا یہ سب ملے ہوئے ہیں، کیا انہوں نے مل کر مجھے پھسایاہے؟؟؟؟؟، یہی سوچ رہا تھا کہ باہر سے زور دار امی کی آواز ( کیا ہو گیا ہے کیوں اتنا زور زور سے ہنس رہے ہو پورے گھر کو سر پر اٹھایا ہوا ہے) امی کی اس آواز سے وہ سب چپ ہو گئی جیسے سکتا طاری ہو گیا ہو، امی شاید کچن میں تھی اسی لئے آواز مجھ تک بھی سنائی دی،اور میں نے بھی دل ہی دل میں امی کا شکر ادا کہ ان کو مجھ پر ہنستا ہوا چپ کروایا، امی برآمدے میں آ کر پھر پوچھنے لگیں، کیوں ہنس رہے ہو پاگلوں کی طرح، خیر نصری آنٹی نے کوئی لطیفے والی بات بتا کر امی کو ٹھنڈا کیا، اور پھر وہ خواتین اپنے کام میں مصروف ہو گئیں کیونکہ پھر سلائی مشینوں کی آوازیں آنے لگ گئی تھی، امی کمرے میں میرے پاس آئیں اور مجھے گھر کے پاس قریبی ایک پرچون کی دکان سے کچھ سامان لانے کے لئے پیسے دیئے اور کہا جلدی آنا تیرا ابا آنے والا ہے کھانا بنانا ہے میں نے، میں بھی گھر سے نکلنا چاہتا تھا تو فوری طور پر وہاں سے نکلا، باہر آیا تھوڑا ٹائم پاس کیا پھر دکان سے سامان لے رہا تھا کہ موٹا وہاں پر آگیا، موٹے کو دیکھ کر تو پہلے میں ڈر گیا تھا کیونکہ وہ واقع ہی موٹا تھا اورعمر میں بھی مجھ سے 3 یا 4 سال بڑا تھا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا موٹے نے آرام سے مجھے سلام کیا اور میری طرف دیکھنے لگا، پھر آرام سے پوچھا اس گشتی کے گھر کیا کرنے گیا تھا، موٹے کے اس اچانک سوال سے میرا تو رنگ فق ہو گیا اور پریشانی صاف جھلک رہی تھی میرے چہرے سے کہ یہ کیسا سوال کر دیا ہے اس نے، موٹے نے مجھے پیٹ پر چٹکی کاٹتے ہوئے پھر پوچھا ابے بول نا،،،،، میں نے بس ہکلاتے ہوئے کہا، ککککککککککچھ نہہہہہیں، موٹا میرے اس جواب ہر ہنسا اور پھر میرے کان کے قریب اپنا منہ لے کر آیا اور سرگوشی میں بولا، یار مجھے بھی اس پھدی دلوا دے تیری مہربانی، موٹے کی یہ بات سن کر مجھے تو غصے کی لہر نے پکڑ لیا، اور میرا خون کھولنے لگا، پتا نہیں کیوں، میں کچھ کہتا کہ اتنے میں دکاندار چچا نے کہا لو پتر تیرا سامان ہو گیا، میں نے جلدی سے پیسے پوچھے اور دکاندار چچا کو پیسے دے کر وہاں سے موٹے کو گھورتاہوا نکلا، لیکن موٹا مجھے بھی ویسے ہی گھور رہا تھا، پھر دکاندار چچا نے اس کو اپنی طرف متوجہ کیا تو اس نے مجھے گھورنا بند کیا اور چچا کی طرف منہ کر لیا میں بھی گھر کی طرف چل دیا، امی کو سامان دیا اور پھر باہر نکلنے لگا تو امی نے کہا کہاں جا رہا ہے، چل آرام سے گھر بیٹھ اور تھوڑی دیر بعد اپنی نصری آنٹی کو گھر چھوڑ کر آناہے تم نے وہ آج جلدی جائے گی،میں چپ چاپ کمرے میں آگیا لیکن وہ خواتین مجھے دیکھ کر مسلسل مسکراتی ہی رہیں، نوشی آنٹی نصری آنٹی کے کان میں کچھ کھسر پھسر کر رہی تھی مجھے سمجھ تو نا آیا لیکن نصری آنٹی کی بات سمجھ آئی جو کہہ رہی تھی،(دیکھیں گے)، بس یہی الفاظ سن سکا کمرے میں جاتے ہوئے، میں اپنی چارپائی پر بیٹھا سائرہ سے ہوئی چدائی کے بارے میں اور اس سے ہوئی باتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا ، میرا لن پھر سے سر اٹھانے لگا اور مجھے سائرہ کی بات یاد آگئی کہ (اب پھدیوں کی لائن لگنے والی ہے تو بس ہر وقت تیار رہنا)، مجھے اس بات سے پتا نہیں کیوں عجیب خیالات آنے لگے کہ وہ کونسی پھدیاں ہوں گی، کیونکہ اس وقت میرے ذہن میں یہی تھا کہ میں چدائی صرف میری ہی عمر کی لڑکیوں سے کر سکتا ہوں اور سائرہ ابھی اتنی زیادہ عمر کی نہیں تھی بس 3 سال کا ہی فرق تھا میرا ابھی باقی خواتین کے بارے میں میرے ذہن میں کو کوئی ایسا ویسا گندا خیال نہیں تھا اور نہ ہی آرہا تھا کہ نصری آنٹی یا نوشی آنٹی، یا ساجدہ باجی یا راشدہ باجی، ان کی طرف سے ابھی میں بے خبر تھا، لیکن پھر اچانک یاد آیا کہ سائرہ نے کہا تھا یہ ساری خواتین میرے دونوں بھائیوں کے لوڑوں کے جھولے کھا چکیں ہیں، بس یہ بات ذہن میں آتے ہی میرے لن نے پھر جھٹکا کھایا،اور پھر سب کے جسموں کے سراپائے حسن کو اپنی نظر میں دوڑانے لگا، ابھی میں نے راشدہ باجی کا سوچنا شروع ہی کیا کہ امی کی آواز، دانشششششش، میں راشدہ باجی کے سراپے سے نکلا اور دوڑتا ہوا باہر نکلا تو دیکھا صحن میں نصری آنٹی چادر اوڑھے ہاتھ میں ایک شاپر پکڑے جس میں کپڑوں کے ٹکڑے صاف دکھائی دے رہے تھے پکڑے ہوئے کھڑی تھی، میں قریب پہنچا تو وہ شاپڑ میری طرف بڑھا دیا نصری آنٹی نے ، اور کہا کہ چلو، خود آگے چل پڑی اور میں پیچھی پیچھے انکو فالو کرتا ہوا نکل پڑے ،نصری آنٹی کا گھر بھی ہمارے ہی علاقے میں تھا لیکن 5 منٹ پیدل کے راستے پر 8 گلیاں چھوڑ کر، نصری آنٹی 40 سال کی ایک خوبرو حسینہ تھا، اس کا شوہر دبئی میں کافی عرصے مقیم تھا اور ایک سال بعد ایک مہینے کی چھٹی پر آتا تھا اور نصری آنٹی بھی کئی بار دبئی کے چکر لگا آئی تھی، ان کی فیملی بولڈ قسم کی فیملی تھی اور امیر بھی تھے، لیکن امیریت کا غرور نہیں تھا سادہ طبیعت رکھنے والی اور بہت ہی نرم دل کی مالک تھی اور صاف گو تھی، پیار کرنے والی اور گھر داری کو سمجھنے والی،ان کو اپنے لئے کپڑے لینا اور نئے ڈیزائن کے کپڑے پہنے کا بہت شوق تھا تو اسی لئے امی کے پاس سلائی سیکھنے آتی تھی تاکہ اپنے لئے کپڑے لے اور خود ہی سلائی کر کے پہنے، آنٹی کے 2 بچے بھی تھے، ایک بیٹا تھا جو میری ہی عمر کاتھا اور شہر کے مہنگے سکول میں ہاسٹل میں پڑھتا تھا اور 15 دن بعد 2 دن کے لئے آتا تھا ایک بیٹی تھی 20 سال کی، جو لاہور میں میڈیکل کر رہی تھی اپنے ماموں کے گھر رہ کر، مطلب لے دے کر نصری آنٹی کی گھرایک انکی بوڑھی ساس رہتی تھی اور ایک نوکرانی تھی جو گھر کے کام کاج کرتی تھی گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی اچھا بڑا گھر تھا گاڑی تھی پیسا تھا اور خوبصورتی بھی تھی، علاقے کے سب لونڈے اس کو دیکھ کر آنکھیں سینکتے تھے اور بزرگ بھی، لیکن آنٹی کی سادہ طبیعت تھی اور گھریلو ٹائپ خاتون تھی اپنی عزت کی حفاظت کرنا بخوبی جاتنی تھی کون کیا کہتا ہے وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتی تھی، امیریت ہونے کے باوجود آنٹی ہمارے گھر میں چٹائی پر بیٹھ کر سلائی سیکتھی تھی، مطلب بہت ہی نرم دل کی مالک تھی، خیر 5 منٹ میں ہی آنٹی کے گھر پہنچ گئے تو آنٹی نے مجھے بھی اندر آنے کا کہا اور میں چپ چاپ اچھے بچوں کی طرح ان کے گھر میں داخل ہو گیا کافی بڑا اور شاندار گھر تھا لیکن اتنا بڑا بھی نہیں تھا کوٹھی نما تھا گیراج میں ہی ایک بڑی گاڑی گھڑی تھی اور ایک بائیک اور ایک سپورٹس سائیکل جو شاید آنٹی کے بیٹے کی ہونگیں، انٹی نے اپنی چادر اتاری اور تہہ لگا کر اپنی بازو پر رکھ لی اور مجھ سے شاپر لے کر اس میں سے اپنا دوپٹہ نکال کر وہ پہن لیا باقی کا شاپر خود ہی پکڑ لیا اور مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ دے کے کر وہ اندر کی طرف جانے لگی میں بھی پیچھے پیچھے فرمانبردار بچوں کی طرح جانے لگا، یہ ایک بہت بڑا ھال تھا جہاں انکی ساس بیٹھی تھی ایک صوفے پر اور سامنے لگے بڑے سے ٹی وہ کو گھور رہی تھیں، آنٹی نے اپنی ساس کو سلام کیا انکی دیکھا دیکھی میں نے بھی سلام کیا اور میرے بارے میں اپنی ساس کو بتایا تو انہوں نے مجھے اپنے پاس صوفے پر بٹھا لیا اور مجھے پیار کرنے لگی اور دعائیں دینے لگیں اور میری امی کو بھی دعائیں دینے لگیں اور ان کی تعریفیں بھی کرنا شروع ہو گئیں، آنٹی نے مجھ سے پوچھا دانش چائے پیو گے، میں انکار کرتا اس سے پہلے ساسو ماں نے کہا ہاں ہاں کیوں نہیں چائے پلاو ہمارے بیٹے کوپہلی بار آیا ہے اور کھانا کھلا کر بھیجنا، لیکن کھانا کھانے کی بات پر میں بول پڑا اور کہاں نہیں اماں بس چائے ہی پی لوں گا کھانا رہنے دیں، آنٹی نے اسی ٹائم کسی کو آواز دی تو ایک خاتون کمزور قسم کی ھال میں آئی تو انٹی نے اسے چائے بنانے کو کہا،اور پھر دوہرایا نازی سپیشل والی، اور نازی ماسی مسکراتے ہوئے باہر چلی گئی، اب آنٹی کی ساسو ماں میرا انٹرویو لینے لگی، کیا کرتے ہو، عمر کیا ہے یہ وہ، ان کی آواز سے ان کے بڑھاپے کا صاف پتا چل رہا تھا، اتنے میں نازی ماسی چائے لے آئی، اور چائے کی ٹرے ٹیبل پر رکھ کرایک کپ آنٹی کی ساس کو دیا ایک کپ مجھے دیا اور ایک کپ آنٹی کو دیا اور ساتھ ہی بولی، باجی میں اب جارہی ہوں جمعے کے بعد آجاواں گی ،کھانا بھی بنا دیا ہے میں نے اور باقی کے سارے کام ہو گئے ہیں، نصری آنٹی نے بس ہاں میں سر ہلایا اور نازو ماسی اٹلاتے ہوئے وہاں سے نکل گئی ساسو ماں چائے پینے لگی اور ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہو گئیں جیسے کوئی خاص چیز لگی ہو، آنٹی میری طرف دیکھ کر بس ہلکا ہلکا مسکرا رہی تھی اور جب میری نظر ان پر پڑتی تو مجھے خود کو اپنی نظر چرانی پڑتی تھی،پتا نہیں کیوں آج آنٹی کیوں اتنا بھاو دے رہی تھی سمجھ سے باہر تھا خیر چائے ابھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی کہ آنٹی کی ساسو ماں بولی پتر میں چلی آن مینوں نیندر آئی اے میرا پتر روٹی کھادے بغیر نا جاویں پہلی واری آیا ایں تو ساڈے ال، میں نے بس خالی سر ہلایا، تو ساسو ماں آرام سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اٹھی اور ہلے ہلکے قدم لیتے اپنے کمرے کی چل دی، نصری آنٹی نے اپنا چائے کا کپ قریبی ٹیبل پر رکھا اوراٹھ کر ان کے کمرے کا دروازہ کھولا اور انکا ہاتھ پکڑ کر ان کو کمرے میں چھوڑنے چلی گئی، میں ھال میں بیٹھا ٹی وی دیکھنے لگا کوئی ڈرامہ لگا ہوا تھا شاید اب ختم ہو گیا تھا اور ناز پان مصالحہ کی کمرشل آ رہی تھی، کمرشل ختم ہوئی تو آنٹی بھی اپنی ساس کے کمرےسے نکل آئی اور ٹیبل سے اپنا چائے کا کپ اٹھا کر میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی، آنٹی میرے اتنے قریب بیٹھی تھی کہ انکا سایڈ سے پورا جسم میرے ساتھ لگ رہا تھا اور ان کی ران میری ران کے ساتھ ٹچ ہو رہی تھی اور انکا کندھا میرے کندھے کے ساتھ لگا ہوا تھا، اور وہ بھی ٹی وی دیکھنے لگی، اور ٹی وی دیکھتے دیکھتے ان کی آواز نے مجھ پر بم گرا دیا،ہم دونوں کا منہ ٹی وی کی طرف تھا لیکن ان کی آواز میرے کانوں میں گونجی، دانش، سائرہ کے ساتھ مزا آیا تھا یا نہیں، آنٹی کے یہ الفاظ تو بم تھے میرے لئے، نیا بچہ ، پہلی چدائی ،اور پھر پکڑی بھی گئی، سالی سائرہ مجھے کسی کو نہ بتانے کا کہہ کر خود ڈھنڈورا پیٹ رہی تھی، آنٹی کا بم گرانا تھا کہ میں پھدک کر ان سے 2 فیٹ دور صوفے کے کونے میں جا بیٹھا اور اس طرح پھدکنے سے میرے ہاتھ سے چائے بھی گرتے گرتے بچی بس تھوڑے سے چھینٹے میری جرسی اور قمیض پر پڑے، اور میں آنٹی کی طرف دیکھنے لگا جو بلا خوف و خطر میری طرف دیکھ کر بس مسکرا رہی تھی اور میرے پھدکنے والے انداز سے مزے بھی لے رہی تھی، پھر آنٹی نے دیکھا کہ میں تو واقع ہی ڈر گیا ہوں تو ماحول کو کنٹرول کرتے ہوئے کھسک کے میرے پاس آ گئی اور بولی، پریشان مت ہو، میں کسی کو نہیں کو نہیں بتاوں گی اور یہ بات ہمارے درمیان میں رہے گی، قسم لے لو بے شک مجھ سے، میں: ہکلاتے ہوئے، آاااااااپ کوووووو کسسسسسس نے بتایا، آنٹی، بس مجھے پتا تھا، میں بس اپنا سر نیچے کیے اپنے پیروں کی طرف دیکھنے لگا، آنٹی اور میرے قریب ہوئی اور میرے ہاتھ سے چائے کا کپ لیا جو بس ختم ہی ہو چکا تھا، لے کر ٹیبل پر رکھا اپنا تو وہ پہلے ہی رکھ چکی تھی پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اٹھنے کا بولا اور خود بھی اٹھ گئی اور مجھے اپنے کمرے میں لے جانے لگی، میں بھی چپ چاپ ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر مجھے اندر جانے کا بولا اور کہا تم اندر بیٹھو میں آتی ہوں، میں اندر گیا تو دیکھا وہ آنٹی کا بیڈروم تھا، بہت ہی سلیقے سے بیڈ روم کو سجایا ہوا تھا خوبصورت قسم کا بیڈ تھا، ایک سایڈ ڈریسنگ ٹیبل تھی، اور اس پر میک اپ کا کافی سامان بھی سلیقے سے سجا ہوا تھا، اور کمرے میں بہت مدمست بھینی بھینی خوشبو آرہی تھی جو دماغ کو تازگی فراہم کر رہی تھی بہت ہی خوبصورت قسم کا رنگ برنگی پینٹ دیواروں پر کیا ہوا تھا،مہنگے اور شاندار پردے لگے ہوئے تھے، ایک طرف ایک بڑا سا صوفہ بچھا ہوا تھا ایسا صوفہ میں نے مانی کے گھر میں بھی دیکھا تھا، خیر ابھی میں بس کمرے کا جائزہ لے رہا تھا کہ دروازہ کھلا اور آنٹی اندر آ گئی، اور بولی کہ کھڑے کیوں ہو ابھی تک بیٹھے نہیں، اور کمرے میں لگے ہیٹر کو آن کر دیا، آنٹی کے نارمل انداز سے مجھے بھی تھوڑا حوصلہ ملا اور کہا بس وہ کمرہ دیکھ رہا تھا، کیسا لگا میرا کمرا، آنٹی نے کہا، بہت اچھا ہے آپکی طرح، میں نے جواب دیا، اچھااااااااا اب تمہیں مسکے لگانے بھی آتے ہیں اسی لئے سائرہ کے ساتھ ہااااااااان، اب میں سمجھی، آنٹی نے کہا آنٹی کی بات سن کر میں پھر سے تھوڑا سرمندہ سا ہوا اور نیچے کی طرف دیکھنے لگا اور سوچنے لگا کہ کیا بول رہا ہے دانش، خیر جو بول دیا تو بول دیا، اتنے میں آنٹی نے پھر کہا اچھا بات سنو دانش تم یہاں ہو اور کیوں آئے ہو یہ تو وہ سب جانتی ہیں جو تمہارے گھر بیٹھی ہیں لیکن تمہاری امی کو نہیں پتا اور تم نے گھر جا کر یہی بولنا ہے کہ آنٹی نصری نے کچھ گھر کا سامان منگوانا تھا تو وہی لے کر دے آیا ہوں اور پھر انہوں نے چائے پلائی اسی لئے دیر ہوئی، آنٹی کی یہ بات سن کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ ابھی اتنی دیر تو نہیں ہوئی، کیا مزید دیر ہونی ہے ابھی یا پھر سامان لا کر دینا ہو گا شاید ، ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ آنٹی نے مجھے بازو سے پکڑا اور اپنے سینے سے لگا لیا، آنٹی کے اچانک حملے سے میں پریشان ہو کہ اب کیا کروں لیکن آنٹی نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے منہ کو اپنے مموں پر دبا دیا ان کے ممے اتنے بڑے تھے کے دونوں مموں کی لائن کے درمیاں میرا منہ گھس گیا،آنٹی کے نرم نرم ممے میرے منہ پر تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں نے کسی نرم کپاس والے تکیے میں اپنا منہ چھایا ہو اورآنٹی کے جسم کی اور مموں کی خوشبو مجھے پاگل کر رہی تھی اور سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں اپنی عمر سے دوگنا بڑی کی عمر کی عورت کو ایسے اپنے ساتھ سوچ کر مجھے عجیب لگ رہا تھا اور ڈر بھی کہ کیا کروں کیا نا کروں خیر میں نے آرام سے اپنے دونوں ہاتھ انٹی کے پیٹ کے دونوں سائڈوں پر رکھ کر خود کو پیچھے کرنا چاہا لیکن آنٹی نے مجھے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور انکی پکڑ سے نکل نہ سکا، میں نے پھر کوشش کی لیکن ناکام، آنٹی نے میری مزمت دیکھی تو کہا کیا ہے دانش میں سائرہ جتنی اچھی نہیں ہو کیا، میں بری ہوں کیا جو تم مجھ سے دور ہونا چاہتے ہو، چلو جلدی سے مجھے بھی گلے لگاو اور پیار کرو جیسے سائرہ سے کیا تھا، آنٹی کی یہ بات سن کر مجھ پر پھر سے سکتہ تاری ہو گیا کہ اتنی بڑی عورت جو میری ماں کی عمر کی ہے کیسے اس سے سائرہ کی طرح پیار کر سکتا ہوں، پھر ذہن میں آیا کہ پاگل لڑکے جب تیرے دونوں بھائی اس کو اپنے لن پر جھولے کھلا سکتے ہیں تو تیری گانڈ میں کیا کیڑا ہے بس مزے کر چپ چاپ، پھر میں ڈرتے ڈرتے اپنے ہاتھ جو انٹی کے پیٹ پر رکھے ہوئے تھے انکو وہاں سے ہٹایا اور پیچھے کی طرف بڑھا کر آنٹی کو کمر سے تھام لیا آنٹی صحت میں ہیلتھی جسم کی مالک تھی میرے ہاتھ ان کی کمر پر ہی تھے اور انکو پورا قابو کر پانا مشکل تھا ان کے ہیلتھی جسم کی وجہ سے اور میرا قد بھی چھوٹا تھا ان کے مموں تک ہی آ رہا تھا،آنٹی میری اس حرکت پر خوش ہوئی اور کہا شاباش اب بہادر بنے ہو نا، ڈرو مت میں تمہیں سائرہ سے بھی اچھا مزا دوں گی، میں نے سر اٹھا کر آنٹی کو دیکھا تو آنٹی نے اپنا منہ نیچے جھکایا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے ان کے بڑے بڑے ہلکی گلابی لپسٹک سے سجے ہوئے ہونٹوں نے میرے ہونٹوں کو پورا قابو کر لیا، اور ہم ایسے ہی بانہوں میں بانہیں ڈالے کسنگ میں مصروف ہوگئے،اور میرے لن نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لن صاحب نے آنٹی کے موٹے موٹے پٹوں کو ٹھوکر لگانا شروع کر دی، آنٹی کا ایک ہاتھ میرے سر کے بالوں میں تھا اور اپنی انگلیوں سے میرے بالوں کو ٹٹول رہی تھی اور بڑے ہی جنونی انداز میں میرے ہونٹوں کو چوس رہی تھی جیسے کھا جانا چاہتی ہو، پھر آنٹی نے اپنی زبان سے میرے ہونٹوں پر دستک دی میں نے اپنا منہ کھولا تو گرم نرم زبان میرے میرے منہ کے اندر داخل ہوئی اور جاتے ہی میری زبان کے ساتھ لڑائی شروع کر دی، آنٹی کی زبان میری زبان سے ٹکرائی تو میرے پورے جسم میں مزے کی لہر دوڑی اور لن نے جھٹکا مارا آنٹی کی ران پر کیونکہ ان کے بڑے قد کی وجہ سے پھری جی تھوڑا اوپر تھی، آنٹی جنونی طریقے سے مجھے قابو کر کے میری زبان کو اپنی زبان سے لتاڑ رہی تھی اور میرا کنٹرول میرے آپے سے باہر ہو رہا تھا اور میرا لن مجھے پتھر کے جیسا محسوس ہو رہا تھا، کسنگ کے دوران ہی آنٹی نے میری جرسی کو پکڑا اور اوپر اٹھایا، میں نے اپنی بازووں کو اوپر اٹھا دیا تاکہ آنٹی کو آسانی ہو، آنٹی نے فوری طور پر میری جرسی اتاری اور ہھر میری قمیض کے بٹن کھولنے لگی، قمیض کے بٹن کھلے تو میں نے اپنی قمیض کو پلو سے پکڑ کر اوپر کیا اور اپنی گردن سے نکال دی، پھر آنٹی کا اگلا حملہ میرے ناڑے پر ہوا اور ناڑا کھلا تو میری شلوار میرے پیروں میں جا گری، اور میرا لن آسمان کی طرف سر اٹھا کر پتھر بنا کھڑا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے میرا لن بھی آنٹی کے منہ ہی طرف دیکھ رہا ہو،آنٹی نے جیسے ہی میرے لن کو دیکھا تو ان کی آنکھوں میں چمک آ گئی اور نشیلی مسکراہٹ دے کر نیچے بیٹھ گئی اور میرے لن کو پکڑ کر اس کی لمبائی اور موٹائی کو ناپنے لگی پھر میرے ٹٹوںکو پکڑا اور چیک کرنے لگی پتا نہیں کیا چیک کر رہی تھی دونوں گوٹوں کا سائز ماپا پھر لن کو پکڑ لیا اور مستی سے سر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا پھر اپنا منہ کھولا اور میری آنکھوں میں ہی دیکھتے ہوئے پورے لنڈ کو حلق تک اپنے بڑے سے منہ میں چھپا لیا اففففففففف اس کا ایسا کرنا تھا مجے تو ایسا لگا جیسے میرے پورے وجود می گرم ہوا پھونکی ہو کسی نے اور مجھے میرے کانوں تک گرماہٹ محسوس ہوئی، آنٹی مسلسل میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی اور میں اس کی آنکھوں میں دیکھ کر جیسے کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پتا نہیں کیوں مجھے یہ سب شہوت سے پھرپور لگ رہا تھا آنٹی میرے لن کو پورا منہ کے اندر لیتی پھر باہر نکالتی اور میرے آنکھوں میں بھی دیکھتی رہتی، پھر آنٹی کے دونوں ہاتھوں کی حرکت مجھے اپنی گانڈ پر محسوس ہوئی،آنٹی میرا لن پورا اپنے منہ میں حلق تک لے جاتی اور وہیں رک جاتی پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے میری گانڈ کو سہلاتی اور میری گانڈ کی لمبائی چوڑائی کو ناپتی اور پھر زور سے دونوں پھاڑیوں کو بھینچ دیتی، جیسے ہی گانڈ پر دباو کم ہوتا تو آنٹی میرے لن کو بھی اپنے منہ سے باہر نکالتی، آنٹی کا یہ عمل 15 سے 20 سیکینڈز تک چلتا،اور مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میرے لن کے راستے آنٹی میرے پورے جسم میں گرم آگ ڈال رہی ہو اس کا یہ عمل بہت ہی ظالم تھا میرا پورا جسم کانپ جاتا تھا آنٹی نے یہی عمل 3 سے 4 بار کیا اور ہر بار مجھے کرنٹ کے گرم گرم جھماکے لگتے تھے، میں اپنے ہاتھوں کو بس ہوا میں ہی ادھر ادھر گھما رہا تھا اور اففففف اسسسسسس کی سسکاریا لے رہا تھا، آنٹی نے ایک بار پھر وہی کیا لن پورا منہ میں لیا اور میری گانڈ کی دونوں پھاڑیوں دبوچ لیا اس بار ایک اور نئی حرکت ہوئی، آنٹی کا ایک ہاتھ میری گانڈ کی لکیر میں گھس گیا اور ہاتھ کی بڑی والی انگلی میری گانڈ کے سوراخ پر جا لگی، اور انگلی کی ناخن والی جگہ سے میری گانڈ کے سوراخ پر گول گول گھمایا اور پھر تھورا سا اندر کی طرف دبا دیا، انگلی کا اندر کی طرف دبانا تھا کہ میں نے اپنی گانڈکو بھینچ کر آگے کی طرف پش کیاتومیرا لن آنٹی کے حلق میں اتر گیا اور آنٹی کا اپنے ہونٹوں کو مکمل بند کر کے میرے لن کو اپنے منہ میں پورا قید کرلیا، اففففففف یہ کیا تھا یار الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے، لیکن بس اتنا ہی بتاوں گا کہ جو بھی تھا اخیر مزا تھا،اور 20 سیکنڈ تک آنٹی نے ایسے ہی مجھے قابو کئے رکھا اور خود بھی قابو رہی، پھر اچانک ہی آنٹی نے مجھے چھوڑا اور اپنے منہ سےمیرے لن کو آزاد کیا اور مجھے بیڈ پر دکھا دیا اور اوپر ہونے کا کہا میں ہو گیا میرا لن آنٹی کے تھوک سے گیلا ہو کر چمک رہا تھا اور بار بار جھٹکے لے رہا تھا اور میں ابھی پہلے والے مزے سے باہر نہیں نکلا تھا کہ آنٹی نے پھر سے میرے لن پر حملہ کر دیا، پہکے ہلکے ہلکے چوپے لگائے پھر ایک ہاتھ سے میرے لن کو میرے پیٹ سے لگا کر اپنی زبان نکال میرے ٹٹوں پر حملہ کر دیا پہلے چاروں طرف سے چاٹ چاٹ کر گوٹوں کو گیلا کیا پھر یک دم پورا منہ کھول کر میرے دونوں گوٹوں کو اپنے بڑے منہ میں چھپا لیا، مزے میں تو میں پہلے سے ہی تھا اس حرکت سے تو میں پاگل ہونے لگا اور اپنی گانڈاٹھا اٹھا کر بس افففففف سسسسسسسسس کرتا ہوا بیڈ کی چادر کو مروڑ تروڑ کر اکٹھا کرنے لگا، آنٹی نے ٹٹے اپنے منہ سے نکال میری دونوں ٹانگوں کو اٹھایا اور موڑ کر میرے سینے سے لگا دیا اور مکمل بیڈ پر آ کر اپنا ایک بازو میرے گٹھنوں کی اندرونی جگہ پر وزن دے کر میرے گٹھنوں کو میرے سینے کے ساتھ لگا دیا جس سے میری گانڈ اور اوپر کو اٹھ گئی،اور آنٹی نے مجھے مکمل قابو کیا ہوا تھا مجھے اب ڈر لگنے لگا اور حیرت بھی ہونے لگی کہ یہ کیا چکر ہے میں زور لگا کر اپنے آپ کو سیدھا کرنے لگا تو آنٹی نے مجھے دیکھا اور کہا صبر ،،،،،،،،، میں چپ ہو گیا کیونکہ آنٹی آواز تھوڑی کرخت تھی، پھر آنٹی نے اپنے دوسرے ہاتھ سے میرے لن کو پکڑا اور سہلانے لگی پھر میرے ٹٹوں پر ہلکی ہلکی انگلیاں چلائیں پھر میری اٹھی ہوئی گانڈ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور اپنا سر نیچے کر کے میری گانڈ کی پھاڑیوں پر چمیاں لینے لگی، اپنی زبان نکال کر چاٹنے لگی افففففف اسکا چاٹنا تھا کہ میرے لن نے جھٹکے لئے اور میرے ہاتھ بیڈ شیٹ کو سکیڑنے لگے،اور مزا تھا کہ شدت سے پھرپور دنیا سے بیگانہ، میں اسی مزے میں ڈوبا ہوا تھا کہ ایک اور جھٹکا لگا مجھے اپنی گانڈ کے سوراخ کے راستے اور اس نے تو مجھے پورا ہلا کر رکھ دیا، آنٹی کی نرم اور گرم زبان جب مجھے اپنی گانڈ کے سوراخ پر محسوس ہوئی تو چنگاریاں ہی چنگاریاں تھیں میرے جسم میں، میری گانڈ کے چھلے کو آنٹی نے اپنی زبان سے چاٹ رہی تھی اور اپنی زبان کی نوک بنا کر میری گانڈ میں گھسانے کی کوشش کر رہی تھی،میں مزے میں سرشار بیڈ شیٹ کو اکٹھا کر چکا تھا اور سسکاریوں کو کنٹرول کرنا میرے بس سے باہر ہو گیا تھا، اور آنٹی نے بھی محسوس کر لیا تھا اب بہت ہو گیا ہے، آنٹی مجھے چھوڑا تو میری لاتیں اپنے آپ سیدھی ہو کر بیڈ پر گرگئی، بنا وقت گوائے آنٹی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے لن کو پکڑا اوردونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں کو میرے لن کے ٹوپےپر عین سوراخ کے اوپر رکھے اور پھر دونوں انگوٹھوں کی مدد سے میرے لن کے ٹوپے پر بنے چھوٹے سے سوراخ کو کھولا اور جلدی سے اپنی زبان کی نوک بنا کر سوراخ میں گھسا دی، افففففففف ایک اور نئے مزے کے ساتھ شدید کرنٹ والا جھٹکا، اب برداشت کرنا مشکل تھا اور ایسا ہی ہوا میرے لن کے اندرونی جلد سے جب آنٹی کی زبان ٹکرائی تو میری بس ہو گئی اور یک دم شدید قسم کی خونی گردش ہوئی پورے جسم کے اندر اور ڈائیریکٹ لن کی طرف روانہ ہوئی، اور پھر فٹاک کر کے منی کی دھار نکلی جو سیدھا آنٹی کے منہ میں گئی اور اس کے حلق میں جا ٹکرائی، اسی طرح ایک کے بعد ایک پتا نہیں کتنی دھاریں نکلی اور میں ہانپتا ہوا نڈھال ہو کر اففففف افففف سسسسس سسسس کرتا ہوا سانسیں لے رہا تھا مجھے نہیں پتا آنٹی کے ساتھ کیا ہوا اور اب کہاں ہے میں بس اپنی آپ میں تھا آنکھیں بند کئے ہوئے اپنے اوسان جو خطا ہو گئے تھے واپس بحال کر رہا تھا، جاری ہے،،،،، دوستوں آپکی رائے اظہار ہی میرے لئے کافی ہے اپنی رائے کا اظہار لازمی کریں تاکے میں مزید شوق سے لکھوں ویسے بھی لاک ڈاوں ہے اور فری ہوں آپ کے کمنٹس کی وجہ سےزید جزبہ جنون جاگے گا تو ہمت نہیں ہاروں گا، اور میں ایڈمن صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جو میری کاوش کو اپنے فارم پر جگہ دے رہیے ہیں شکریہ ایڈمن صاحب اینڈ ٹیم،
  45. 4 likes
    بہت پیاری کہانی ہے اک دن پہلے نمبر پہ آ ۓ گئ
  46. 4 likes
    ایڈمن جانی ۔ یہ غلط ہے اپ نے اتار چڑھاو ڈیلیٹ کر دی ۔ جبکہ میں نے پرانی کہانی ڈیلیٹ کر دی تھی ۔ اور اگے عید ہر اپ ڈیٹ دینے کی مکمل تیاری تھی ۔ میری اپ سے درخواست ہے کہ اس کو واپس لایا جائے
  47. 4 likes
    آپ کی ان تمام طنزیہ باتوں کی وجہ سے آپ کا یہ کمنٹ اپروول ہونا ہی غلط ہے مگر میں پھر بھی یہ غلطی کر رہا ہوں ۔حالانکہ یہ کمنٹ میں بغیر اپروول کیئے ڈیلیٹ بھی کر سکتا تھا۔ کمنٹ اپروول اس لیئے کر دیا۔۔ تاکہ آپ کو یہ بتا سکوں کہ اب سے یہ کہانی مزید اپڈیٹ نہیں ہو گی ۔ اور اسے جلد ہی ان کمپلیٹ سیکشن میں موو کر دیا جائے گا۔ تاکہ آپ جیسے وہ ممبرز جو اپنے بزی شیڈول سے ٹائم نکال کر ہماری عزت افزائی کرتے ہیں ۔ وہ مزید اپنا ٹائم ضائع نہ کریں۔ اور ہم آپ جیسے لوگوں کا قیمتی وقت برباد کر کے مزید گناہگار نہ ہوں۔ شکریہ
  48. 4 likes
    اسلام و علیکم اج ایک دوست نے ایڈمن کو پوسٹ رپورٹ کی اور میری شکایت کر کے ایک بہت خطرناک چیز کی نشاندہی کی ۔ کہ نادانستگی میں میں نے بہت متحرم خواتین کے نام استمعال کر لیے ٭٭٭٭ مجھے معاف فرمائے اب دو تجاویز ہیں پہلی کہ اس کہانی کو یہیں پر ختم کر دیا جائے دوسری کہ جو اپ ڈئٹ میں نے دوبارہ کی ہیں کو ڈیلیٹ کر دیا جائے ۔ اور کہانی کو آگے بڑھایا جائے کیونکہ ان کرداروں کا کردار ویسے بھی ختم ہو چکا ہے اگر اپ لوگ کہتے ہیں کہ اس کو مکمل ختم کر دیا جائے تو میں ایڈمنسٹریٹر سے درخواست کروں گا کہ اس کہانی کو ڈیلیٹ کر دیا جائے جلد میں ایک نئی کہانی ویسے بھی شروع کرنے والا ہوں
  49. 4 likes
    ڈیر ۔ کہانی کو دوبارہ پڑھ رہا ہوں ۔ جلد اپ ڈیٹ دوں گا ۔
  50. 4 likes
    اپڈیٹ شانزل کی امی جیسے ہی باہر نکلی شانزل نے نفرت بھری نگاہ مجھ پر ڈالی اور دوسرے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔ میں اپنی نظروں میں گر گیا یہ سوچ کر کہ اس نے میری نظروں کے تعاقب میں دیکھ لیا ہے اسی لیے تو اتنی نفرت سے دیکھ کر گئی ہے۔۔۔۔ میں وہیں بت بن کر بیٹھ گیا اور دماغ میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے۔۔۔ ابھی چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ شانزل کوئی کمرے لا پھینکی یا مجھے لگا بہرحال ایک زوردار آواز آئی۔۔۔۔ میں ہڑابڑا کر اپنی سوچوں سے باہر آیا اور اس آواز کی سمت میں دیکھا۔۔۔۔ شانزل کمر پر دونوں ہاتھ رکھے مجھے غور رہی تھی میرے دیکھنے پر اس نے غصہ بھری نگاہ ڈالی اور پھر نکل گئی۔۔۔ میں پھر سے پریشان ہو گیا کہ یہ کر کیا رہی ہے مجھے گھورتی ہے اور چلی جاتی ہے میں ایک بار اس کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔۔ تذبذب کا شکار ہو گیا کہ آیا اس کو مجھ پر غصہ ہے یا صرف دکھاوا کر رہی ہے کیونکہ اگر اس کو غصہ ہوتا تو وہ پھٹ پڑتی لیکن وہ کویی بات نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔ یکدم وہ کمرے سے نکلی اور باہر صحن میں چلی گئی ایک یا دو سیکنڈ بعد دروازہ زور سے بند ہونے کی آواز آئی ۔۔۔۔ پتہ نہیں وہ کر کیا رہی تھی لیکن جو کر رہی تھی میں الجھن کے ساتھ ساتھ اس کے رویے پر حیران بھی ہو رہا تھا کیونکہ وہ جو کر رہی تھی میری سمجھ سا بالاتر تھا ۔۔۔۔ وہ آگ کے بھبھوکے کے طرح واپس آئی اور آتے ہی میرا گریبان پکڑ لیا میری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔۔ اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسوؤں جے قطرے گرنے لگے میرے لیے یہ ایک نئی بات تھی کیونکہ ابھی کچھ دیر پہلے جس طرح وہ دیکھ رہی تھی اس کے برعکس اس نے رونا شروع کر دیا ۔۔۔۔ گریبان سے پکڑ کر مجھے جھنجھوڑتے ہوئے سسکیوں سے رونے لگی ۔۔۔۔ میں بت بنا کھڑا رہا میرےپلے اس کے رویے کی الف ب بھی نہیں پڑ رہی تھی۔۔۔۔ روتے روتے بولی بلو تم کتنے ظالم ہو کتنے گھٹیا انسان ہو ذرہ بھی پرواہ نہیں ہے کہ کوئی تمہارے لیے کتنا تڑپ رہا ہے۔۔۔۔ ساتھ ہی ہلکے ہلکے تھپڑ مارنے لگی روتے ہوئے مزید بولی بلو مجھ سے اور برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔ مجھے کچھ ہو جائے گا میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی مجھے کوئی کچھ بھی کہے تم جیسے بھی ہو میرے لیے تم ہی ہو بس۔۔۔۔ مجھے کسی کی پرواہ نہیں کسی کی کویی بات نہیں سننی تم بس میرے ہو بلو تمہیں پتہ ہے مجھے کیا ہوا ہے۔۔۔۔ مجھے کویی بخار نہیں ہوا مجھے کچھ بھی نہیں ہے وہ جو شمع ہے ناں وہ کہتی ہے تم اس کی بھی لے چکے ہو تم کسی کی بھی لو کسی سے بات کرو مجھے ناں کویی فرق نہیں پڑتا بس مجھے نہ چھوڑنا بلو میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہوں گی۔۔۔۔ ایک بات پھر وہ زارو قطار رونے لگ گئی میں حیران و پریشاں اس کے اس رویے کر غور کر رہا تھا مجھے تو صرف لن اور پھدی کا چسکا تھا میں کیا جانوں یہ پیار کی بولی کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔ میرے اندر اس وقت بھی شیطان نکارے نار کر کہہ رہا تھا موقع اچھا ہے فائدہ اٹھا لو اس کے جسم کا لمس میرے لن میں کرنٹ دوڑا رہا تھا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی پیش قدمی کرتا وہ مجھ سے الگ ہوئی اپنے ہاتھوں سے رگڑ رگڑ کر آنکھیں صاف کیں اور منہ دوسری طرف کر کے بولی تم ابھی چلے جاؤ ۔۔۔۔ میں نے جب سے وہ آئی تھی یا جب سے میں اس کے گھر آیا تھا اس سے ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا ۔۔۔۔ میں نے مری ہوئی آواز میں کہا شانزل ۔۔۔۔ اتنا ہی بولا تھا کہ وہ ایک دم پلٹی اور میرے سینے سے آ لگی اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی ۔۔۔۔ اس نے مجھے اپنی باہوں میں کس لیا اور بولی بلو ایک بار پھر میرا نام لینا بالکل ویسے ہی پیار سے جیسے ابھی لیا۔۔۔ میں نے پھر سے کہا شانزل ساتھ ہی اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں بھر لیا ۔۔۔۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور کہا جی میری جان میری روح میرے جسم و جاں کے مالک بولو۔۔۔۔ میں۔۔۔ کیا ہوا تمہیں ایسا کیا ہو گیا ہے جو اپنا یہ حال کر لیا یے۔۔۔ شانزل ۔۔۔ وہ جو شمع ہے نہ وہ کہتی ہے تم مجھے دھوکا دے رہے ہو تم مجھے چھوڑ جاؤ گے۔۔۔۔ اس کی آواز اس کا انداز اس کے اندر کی کیفیت بیان کر رہا تھا مجھے وہ ہوش سے بیگانہ لگ رہی تھی ۔۔۔۔ اس کو کوئی ہوش نہیں تھی وہ کیا بول رہی بہت زیادہ ڈپریشن کا شکار لگ رہی تھی۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ وہ جھوٹ بول رہی ہے میں ایسا بھلا کیوں کروں گا ۔۔۔ میں نے یہ الفاظ اس کی کیفیت دیکھتے ہوئے کہے تھے کیوںکہ مجھے لگ رہا تھا کہ میرے اچھے الفاظ ہی اس کو ٹھیک کر سکتے ہیں۔۔۔ شانزل ۔۔۔۔ خوش ہوتے ہوئے اس کا مطلب ہے وہ وہ وہ جو شمع کہہ رہی تھی وہ سب جھوٹ ہے ایسا ہے ناں بولو ناں بلو کہو وہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔ وہ رونے لگ گئی ایک بار پھر سے اس نے میرا گریبان پکڑ لیا۔۔۔ میں اس کی حالت دیکھ کر ڈر گیا اگر اس کو اس حال میں اس کی امی نے دیکھ کیا تو میری خیر نہیں۔۔۔ میں۔۔۔ میں سچ کہہ رہا ہوں ایسا کبھی نہیں ہو گا تم بس اپنا خیال رکھو میں کبھی تمہیں دھوکا نہیں دوں گا۔۔۔۔ یہ الفاظ مجھے دود ہی کھوکھلے لگ رہے تھے کیونکہ اس کی حالت دیکھ کر مجھے اس پر ترس ضرور آ رہا تھا لیکن اس کے لیے دل میں کوئی جذبہ پیدا نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہو گئی میرا منہ چومنے لگی پھر پیچھے ہو کر اداس چہرہ بنا کر کھڑی ہو گئی اور بولی تم مجھے بیوقوف سمجھتے ہو ۔۔۔۔ سر کو ایک جھٹک کر وہ دوبارہ دوسرے کمرے میں چلی گئی واپس آئی اور بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں بولی بلو ایک بات یاد رکھنا کسی کی چاہت کا مذاق نہیں بناتے ۔۔۔۔ میں نے دل سے تمہیں چاہا ہے اور مرتے دم تک چاہتی رہوں گی تم کچھ بھی سوچو کچھ بھی کرو میری چاہت کم نہیں ہو گی آج میں نے تمہاری نظروں میں ہوس دیکھی تو مجھے شمع کی بات سچ لگی ۔۔۔۔ میں یہ نہیں پوچھوں گی کہ تم نے جان بوجھ کر وہ سب کیا یاد انجانے میں لیکن تم نے وہ کیا اس سے انکار نہیں کر سکتے۔۔۔۔ اس وقت اس کا انداز ہی الگ تھا کسی بھی زاویے سے ابنارمل نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔ وہ مزید بولی تم سمجھ رہے ہو گے ابھی یہ کیا کہہ رہی تھی اب بدل گئی اس کا انداز بدل گیا ۔۔۔۔ میں تمہاررے اندر چھپی سچائی نکلوانا چاہ رہی تھی تمہارے کھوکھلے الفاظ نے سب کچھ عیاں کر دیا ہے۔۔۔ وہ کچھ اور بھی کہتی باہر کی گھنٹی بجی اس نے جا کر دروازہ کھولا اس کی امی آئی میں اٹھ کر گھر آگیا۔۔۔۔ گھر آ کر بھی میرے دماغ سے اس کی باتیں نہیں نکلیں یہ سب نکالنے کے لیے مجھے آرام کی ضرورت تھی چنانچہ میں سو گیا۔۔۔۔ سو ہی رہا تھا کہ مجھے امی نے اٹھایا اور کہا بلو اٹھ جا تیرے ماموں لوگوں کے پاس جانا ہے۔۔۔۔ میں نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا کی اے امی سون دیو ۔۔۔ امی نے مجھے کان سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا جلدی اٹھ اور نہا لے کپڑے استری ہو گئے نیں تے چل ۔۔۔۔ میں اٹھا نہایا امی تب تک تیار ہوئی کھڑی تھیں میرے بال شال بنانے تک وہ مکمل طور پر تیار تھیں ۔۔۔ مجھے یہ بھی پوچھنے کا موقع نہ دیا کہ ہوا کیا ہے بس اپنے ساتھ لیا اور چل دیں۔۔۔ باہر سے ہم نے رکشہ لیا اور اڈے سے بس میں سوار ہو کر ہم ماموں لوگوں کے شہر پہنچ گئے وہاں سے پھر رکشہ لیا اور سیدھی ماموں کے گھر جا پہنچے۔۔۔۔ امی نے دھڑا دھڑ زور زور سے دروازہ ناک کیا ایک منٹ میں کوئی پانچ بار دروازے کی شامت آئی ہو گی ایک بار پھر وہ دروازی بجانے لگیں تھیں کہ دروازہ کھل گیا ان کا اٹھتا ہاتھ رک گیا۔۔۔ میں تو دروازہ کھولنے والے کو دیکھ کر مبہوت ہو گیا کیا حسن تھا ابھرتی جوانی بڑی بڑی آنکھیں ان میں چمکتی شناشائی کی لہریں ۔۔۔۔ کھلے لمبے بال موٹے لال لب گلابی رنگت اوپر سے سرخ سوٹ پہنے اپنے بھاری بھاری مموں کو دوپٹے سے چھپانے کی ناکام کوشش کرتے سامنے کھڑی حسن کی مورت ۔۔۔۔ میں تو اس کو پہچان کر بھی پہچان نہ پایا اس نے امی سے پیار لیا امی تیزی سے آگے بڑھ گئی میں بت بنا اس حسن کی دیوی کو دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔۔ اس نے گلا کھنکار کہا بلو کی گل آ اندر نہیں آونا تے میں بوہا بند کر دیواں ۔۔۔۔ اس کی آواز نے میرے کانوں میں رس گھول مجھے یاد آیا یہ تو وہ ہی موٹو سی مائرہ ہے ۔۔۔۔ ہاں جی میرے ماموں کی بیٹی مائرہ جس تھی وہ ہی مائرہ جس کی میں نے زندگی میں پہلی بار لینے کی ناکام کوشش کی تھی ۔۔۔۔ ایک ہی بار میں وہ ساری فلم میرے دماغ میں گھوم گئی۔۔۔۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ وہ بڑی ہو کر اتنی حسین ہو جائے گی تو میں اس کے لیے چکر لگاتا رہتا۔۔۔۔ امی تو سیدھی اندر گئیں پہلی بات میرے لیے حیرانی کی یہ تھی کہ ہم جب بھی وہاں جاتے پہلے خالا کے گھر جاتے تھے اس کے بعد ماموں لوگوں کی طرف چکر لگاتے تھے۔۔۔۔ آج امی سیدھی ماموں کے گھر گئیں اور وہ بھی اتنی جلدی میں میرے لیے حیرانی کی بات تھی ۔۔ امی کے اندر جانے کے بعد مائرہ کے پیچھے میں بھی اندر چل دیا مائرہ مجھے بڑے کمرے میں لے گئی جہاں مامی سے امی مل رہی تھیں۔۔۔ ماموں گھر نہیں تھے بلکہ کوئی بھی گھر نہیں تھا میں مائرہ کی مٹکتی گانڈ دیکھتا ہوا اندر داخل ہوا مامی سے پیار لیا ۔۔۔ مامی نے مائرہ کو پانی لانے کا کہا وہ باہر نکل گئی امی اور مامی ایک دوسرے سے حال چال پوچھنے لگ گئیں۔۔۔ کچھ ہی دیر میں مائرہ شربت بنا کر لے آئی امی نے ایک گلاس پی کر بس کر دی جب کہ میرا دل مائرہ کے ہاتھ سے بار بار پینے کو دل کر رہا تھا۔۔۔۔ میں نے تین گلاس پی لیے جب پھر آگے گلاس کیا تو اپنی ڈانٹ دیا مائرہ کی ہنسی نکل گئی اور مامی نے امی کو منع کیا باجی فیر کی ہویا پی لین دے پیاس لگی ہووو پی لے میرا پت ۔۔۔ لیکن مائرہ کے سامنے بے عزتی مجھے بہت کھلی میں نے کہا نہیں بس مامی مائرہ کو گلاس پکڑا دیا مائرہ نے بھی ایسے ہی ایک دو بار کہا مامی نے بھی لیکن میں نے نہ پیا۔۔۔۔ کچھ دیر امی اور مامی کی باتیں سنتا رہا ہھر بور ہونے لگا مائرہ شاید کھانا وغیرہ بنانے لگ گئی تھی عصر کے بعد کا وقت ہو گیا تھا۔۔۔ میں اٹھ کر باہر آیا لیکن کوئی نہ تھا اس لیے مائرہ کو دیکھنے کے لیے کچن میں جھانکا وہ لکڑیاں جلا رہی تھی۔۔۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا اور پوچھا کچھ چاہئیے اوہ ہاں مجھے یاد آیا اور شربت پینا ہے میں ابھی دیتی ہوں ساتھ ہی مسکرا دی۔۔۔ اٹھنے لگی تو میں شرمندہ ہو کر دائیں بائیں دیکھتے ہوئے وہاں سے کھسک گیا۔۔۔۔ ماموں لوگ جس گھر میں رہتے تھے وہ میرے نانا نے بنوایا تھا پرانی طرز کا گھر تھا سامنے صحن تھا ایک ظرف پہلے چولہا ہوتا تھا پھر اسی جگہ کچن بن گیا اس کے بعد دو کمرے تھے ایک بڑا کمرہ اس میں بھی ایک دروازہ تھا جو ایک چھوٹے کمرے میں کھلتا تھا۔۔۔۔ چھوٹے کمرے میں کا ایک دروازہ صحن میں تھا جبکہ ایک دروازہ پیچھے بنی بیٹھک اور اس کے ساتھ بنے ڈائیننگ روم میں کھلتا تھا اگلے دونوں دروازوں کے برابر پیچھے بیٹھک اور بیٹھک میں ڈائننگ روم طرز کا ایک چھوٹا کمرہ تھا لیکن ان کے درمیان صرف پردہ لگا تھا ۔۔۔۔ میں چھوٹے دروازے سے گزر کر پیچھے بیٹھک میں چلا گیا وہاں کمپیوٹر پڑا تھا میں نے اس کو آن کیا اور اس پر گیم کھیلنے لگ گیا۔۔۔ لیکن مزہ نہ آیا کیونکہ میں نے زیادہ کپیوٹر استعمال نہیں کیا تھا اسی وقت اندر والا دروازہ کھکا وہاں سے ماموں کی بڑی بیٹی جس کا نام سمیرہ تھا وہ عمر میں مجھ سے کافی بڑی تھی لیک قد میں وہ چھوٹی رہ گئی تھی۔۔۔ پتہ نہیں کس پر گئی تھی حالانکہ ماموں اور مامی دونوں کے قد لمبے تھے اور خوبصورت بھی تھی باقی بچے بھی خوبصورت تھے۔۔۔۔ اس نے مجھے بلایا اس کی ایک عادت تھی وہ ایسے ہی گال پر چٹکی کاٹ لیتی تھی بچپن سے کی مجھے اس سے الرجی تھی ۔۔۔ اس دن بھی وہ میرے پاس آئی اس نے میری گال کر چٹکی کاٹنے کی بجائے مجھے اپنے گلے لگایا اور پوچھا کیا حال ہیں۔۔۔ جب اس نے مجھے گلے لگایا تو مجھے احساس ہوا اس کے ممے بہت چھوٹے ہیں جسم بھاری ہے اور ایک اضافی بات جو مجھے پتہ چلی وہ یہ تھی کہ اس کے جسم سے شہوت کی خوشبو آ رہی تھی۔۔۔ مطلب وہ بہت گرم لڑکی تھی اس نے مجھے کس کر گلے لگایا تھا اور اسی طرح ہی میری گال پر چٹکی کاٹی میری جان نکال دی میں نے آج تک اس کو کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔۔ شاید اس لیے نہیں کہا تھا کہ اس وقت بچہ ہوتا تھا لیکن آج میں نے کہا باجی نہ کریں اب میں بچہ نہیں رہا ۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے میری نقل اتارتے ہوئے بولی باجی نہ کرو میں بچہ نہیں رہا اور ہسننے لگی ۔۔۔ پھر بولی اچھا تو اب تم بڑے ہو گئے ہو ذرہ مجھے بھی تو پتہ چلے کتنے بڑے ہو گئے ہو پہلے تو میری گود میں بیٹھ جاتے تھے اب پورے نہیں آو گے یا مجھے اپنی گود میں بٹھا لو گے۔۔۔۔ میں بھی ضد میں آگیا میں نے کہا اب آپ میری گود میں بیٹھ جاو حساب برابر آج کے بعد مجھے یہ بات نہ کہنا ۔۔۔۔ وہ جھٹ سے تیار ہو گئی چلو بٹھاو مجھے اپنی گود میں پتہ چلے گا کتنی دیر بٹھا سکتے ہو کیا اتنی دیر بٹھا لو جتنی دیر میں نے تمہیں بارات کے ساتھ جاتے ہوئے بٹھایا تھا۔۔۔۔ یہ بھی ایک واقعہ تھا ایک دفعہ ہم شادی پر گئے تھے یہ اسی شادی کی بات ہے جس میں مائرہ کے ساتھ میں لکن چھپن کھیلا تھا۔۔۔ سب بچوں کو بارات کے ساتھ جانے کے لیے تیار کرلیا اور سیٹیں کم ہو گئیں تھیں تو بچوں کو بڑوں کی گود میں بٹھا کر لے گئیے تھے۔۔۔ مجھے سمیرہ کی گود ملی تھی بارات کو پہنچنے میں دو گھنٹے لگے تھے اس دوران میں مسلسل سمیرہ کی گود میں بیٹھا رہا تھا اور جان بوجھ کر اس کے مموں سے اپنی کمر رگڑتا رہ تھا ۔۔۔۔ اور تو کچھ نہیں پتہ تھا لیکن مجھے اچھی فیلنگ آ رہی تھیں میں تو بچہ تھا مجھے کیا پتہ تھا لیکن وہ اس وقت بھی جوان تھی سترہ سال کی تو ہو گی اس نے میرے پیٹ پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر میری کمر کو اپنے مموں سے لگا لیا تھا۔۔۔۔ اج جب اس نے گود والی بات کی تو مجھے وہ سب یاد آگیا میں نے بھی کہا ٹھیک ہے بیٹھ جاو وہ تو تیار تھی ۔۔۔ میں چارپائی پر بیٹھ گیا اور اس کو کہا آجاؤ بیٹھ جاو وہ میرے پاس آئی گھوم کر میری گود میں اپنی گانڈ اس طرح سے رکھی کہ لن گانڈ کی دراڑ میں آ گیا۔۔۔۔ وہ بیٹھ کر گاند کو ہلکا ہلکا ہلانے لگی لن نے سر اٹھانا شروع کر دیا اب میں ڈبل مصیبت میں پھنس گیا ایک تو اس کا وزن کافی تھا دوسرا لن کھڑا ہونے لگا ۔۔۔۔ میں ڈر رہا تھا کہ اگر یہ کھڑا ہوگیا تو سمیرہ باجی میرے بارے میں کہا سوچیں گی ۔۔۔ میں نے سانس روکی بہت کوشش کی کہ لن کھڑا نہ ہو لیکن لن کو جب موقع ملے وہ اپنی اوقات دکھا کر رہتا ہے۔۔۔۔ میری لاکھ کوشش کے باوجود وہ کافی حد تک سخت ہوگیا اور گاند کی دونوں پھاڑیوں میں لمبا ہونے لگا ۔۔۔۔ دوسری طرف اب سمیرہ نے بھی ہلنا بند کر دیا تھا اس کے جسم سے اٹھنے والی مہک بہت تیز تھی ایسی مہک میں نے کسی کے بھی جسم سے نہیں سونگی تھی۔۔۔ اس نے کہا بلو اگر میں گر گئی تو ویسے بٹھاو جیسے میں نے بٹھایا تھا۔۔۔ میں۔۔۔ کیسے بٹھایا تھا مجھے یاد نہیں۔۔۔ اس نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور اپنے پیٹ پر رکھ لیے اور کہا ایسے پکڑو ۔۔۔ میرے ہاتھ اس کے پیٹ پر کم مموں کے قریب زیادہ تھے کیونکہ وہ قد میں کافی چھوٹی تھی اس لیے اس کا جسم بھی اسی حساب سے تھا پیٹ اور مموں کے درمیان فاصلہ کم تھا ۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ اس جگہ رکھے تھے جہاں سے پیٹ شروع ہوتا تھا ۔۔۔ اب میرے لیے لن کو روکنا نا ممکن ہو گیا تھا کیونکہ لن تقریبآ فل سخت ہو چکا تھا اور سمیرہ باجی نے اپنی کمر میرے سینے سے لگا دی تھی ۔۔۔ وہ بہت آہستہ آواز میں بولی بلو یہ نیچے کیا چب رہا ہے۔۔۔ میں کہاں کیا چب رہا ہے۔۔۔ سمیرہ ۔۔۔۔ میرے نیچے ۔۔۔ اس کی آواز میں کچھ تھا شاید وہ گرم ہو رہی تھی۔۔۔ میں۔۔۔ کہاں نیچے اور کیا مجھے تو کچھ نہیں پتہ۔۔۔ سمیرہ۔۔۔ بلو اب تم جھوٹ نہ بولو تمہیں سب پتہ ہے کہاں کیا چب رہا ہے۔۔۔ میں۔۔۔ سچ میں نہیں پتہ ۔۔۔ سمیرہ نے ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی اور میرے گال پر اپنا ہاتھ پھیر کر میری گود سے اٹھ گئی۔۔۔۔ جیسے ہی وہ اٹھی میرا گھوڑا بھی اسی کے ساتھ ہی شلوار میں تنبو بنا کر کھڑاہو گیا۔۔۔۔ سمیرہ نے اٹھنے کے بعد میری گود میں دیکھا تو اس کے آنکھوں میں حیرت بپا تھی۔۔۔۔ اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا اور مجھے گہری نظروں سے دیکھتی ہوئی چلی گئی۔۔۔ میں وہیں چارپائی پر لیٹ کر سمیرہ کے رویے کے بارے میں سوچنے لگا سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ۔۔۔۔ میری آنکھ کسی کے زور زور سے کندھا ہلانے سے کھلی ہلانے والا کوئی تھا نہیں بلکہ تھی ۔۔۔۔ مائرہ میرے سرہانے کھڑے میرا کندھا ہلاتے ہوئے کہہ رہی تھی نواب صاحب ایتھے سون آئے او اٹھ جا ہن منجیاں توڑن ڈیا ایں۔۔۔ میں نے نیم وا آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا دھندلا لیکن چمکتا چہرہ نظر آیا ایک لمحے کے لیے تو مجھے لگا میں کسی پرستان میں ہوں اور کوئی پری میرے سرہانے کھڑی ہے۔۔۔۔ لیکن سادی ایڈی قسمت کتھوں اسیں ٹھہرے کھاڈے دے ڈڈو( نالے کے مینڈک)۔۔۔ جب اس نے پھر اپنے لب ہلائے ہن کی آ اٹھ جا کہ پھپھو آپے ای آ کے تینوں روٹی دیاں برکیاں کھواوے۔۔۔۔ مجھے اس بار اس کی آواز سے کم از کم یہ اندازہ ہوا کہ میں اسی جہان میں ہوں۔۔۔۔ میں اپنی آ نکھیں ملیں اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور جان بوجھ کر انگڑائی لی کیونکہ مائرہ میرے بہت قریب تھی میرے انگڑائی لینے سے میرا ہاتھ اس کے سینے سے لگتا ۔۔۔۔۔ لیکن وہ بھی کچھ کم نہ تھی جیسے ہی میں نے انگڑائی لی اپنے اندازے کے مطابق اس کے مموں سے ہاتھ کو ٹچ کرنا چاہا وہ پیچھے ہو گئی۔۔۔۔ جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوئی واہ لاٹ صاحب اب انگڑائیاں لیتے رہیں میں کھانا لگا رہی ہوں اگر لاڈ صاحب کا موڈ ہو تو کھا لیں ۔۔۔۔ وہ چل دی پھر رک کر پلٹی اور بولی اور ہاں پھپھو کہہ رہی تھیں کہ تین چار دن یہاں رہنا ہے کوئی کام ہے ان کو یہاں اس لیے اگر تم جانا چاہو تو کل چلے جانا۔۔۔۔۔ میں صرف اس کی طرف دیکھ رہا تھا وہ پھر بولی ویسے اگر رہنا چاہو تو ۔۔۔۔۔ اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گئی میں نے پوچھا بھی تو ۔۔۔۔۔۔ وہ ہنس کر چل دی لیکن مجھے ایک سسپنس میں ڈال گئی۔۔۔۔ میں اٹھا باہر آیا منہ ہاتھ دھویا تھوڑا تازہ دم ہوا کھانا کھانے کے بعد امی تو ماموں کے ساتھ خالا کے گھر چلی گئیں پیچھے ماموں کے بیٹے بھی آ گئے ۔۔۔۔ ہم نے بیٹھ کر خوب گپ شپ لگائی پہلے ذکر ہو چکا ہے ماموں کے بیٹوں کا ان میں جو میرا ہم عمر کہہ لیں یا دوست کہہ لیں وہ میرے ساتھ بیٹھا رہا دوسرا اٹھ کر باہر نکل گیا ٹائم بھی کافی ہو گیا تھا۔۔۔۔ گاؤں میں پاس کہ گھر ہونے کی وجہ سے ماموں اور امی خالا کے گھر ہی تھے ابھی میرا کزن جس کا نام تو کچھ اور تھا ہم اس کو ککا (بھورا) کہتے تھے۔۔۔۔ وہ میرے ساتھ بیٹھا تھا ایک دم اس نے میرے کان میں کہا آج تمہیں ایک سین دکھاتا ہوں۔۔۔۔ میں نے ناسمجھی میں اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا آ جا باہر چلتے ہیں۔۔۔۔ ہم دونوں باہر نکل گئے ایک دو گلیاں گھوم کر جب ہم آگے جانے لگے تو میں کہا کہاں جا رہے ہیں کیونکہ یہ وہ ہی رستہ تھا جدھر خالا کا گھر تھا۔۔۔۔ ککے نے کہا تھوڑا صبر رکھ ابھی پتہ چل جائے گا ۔۔۔۔ میں پھر اس کے ساتھ چل پڑا کچھ آگے جا کر اس نے میرا بازو پکڑا اور کان میں بولا اب بولنا نہیں بس چپکے چپکے میرے پیچھے آ جا۔۔۔۔ وہ ایک خالی پلاٹ ٹائپ جگہ تھی جس میں لکڑیاں وغیرہ رکھی ہوئیں تھیں اس جگہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں جن ہیں لوگ دن میں بھی وہاں جانے سے ڈرتے تھے۔۔۔۔ جبکہ ککا مجھے رات کے اندھیرے میں وہاں لے کر جا رہا تھا میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں ۔۔۔۔ میں بزدل نہیں تھا لیکن جیسا لوگ کہتے تھے یا جو واقعات اس جگہ کے بارے میں میرےکانوں تک پہنچے تھے وہ بہت خوفناک تھے۔۔۔۔ میں نے بازو چھڑوانے کی بھی کوشش کی لیکن ناکام رہا تھوڑا آگے جا کر لکڑیوں کے ڈھیر کے پاس وہ تک گیا اور مجھے اشارے سے کہا اندر دیکھو۔۔۔۔ میں نے اس کی طرف دیکھ کر ہاتھ سے کہا کیا ہے وہاں ۔۔۔۔۔ اس نے مجھے جواب دینے کی بجائے کھینچ کر میرا منہ اس طرف کر دیا۔۔۔۔ میری نظر لکڑیوں کے درمیان ایک جگہ جا ٹکی وہاں کچھ اس طرح کا سین تھا کہ لڑکیوں کو جوڑ کر ایک قسم کی جھونپڑی بنائی گئی تھی جس کے اندر ہلکی ہلکی روشنی تھی مزے کی بات یہ تھی کہ دور سے وہاں صرف روشنی ہی نظر آتی تھی جس جگہ ہم کھڑے تھے وہاں سے اندر کا سارا ماحول نظر آرہا تھا۔۔۔۔ میں نے وہاں دیکھا کہ ککے کا بڑا بھائی یعنی کہ میرا ماموں زاد جس کو ہم نیلی کہتے تھے یہ اس کی چھیڑ بھی تھی وہ اپنا لن ہاتھ میں پکڑے کسی لڑکی کے منہ میں ڈال رہا تھا لڑکی کا منہ ایک طرف تھا مجھے صاف نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ میں نے پوری توجہ اس طرف کر لی اور آہستہ آہستہ جگہ ڈھونڈتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔۔۔ میں اس حد تک آگے چلا گیا تھا مجھے لن کے چوسنے کی آوازیں بھی آنے لگیں۔۔۔۔ کزن کی آواز بھی مزے بھری نکل رہی تھی لیکن سرگوشی کی صورت میں وہ لڑکی جو بھی تھی اس کے چہرے کی ایک سائیڈ نظر آ رہی تھی جو نظر آ رہی تھی اس سے اس کی خوبصورتی کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔۔۔۔ لن جن ہونٹوں میں جا رہا تھا اور جس مہارت سے چوپے لگا رہی تھی اس کے چدکڑ ہونے کی دلیل تھی ۔۔۔۔ پورا لن منہ کے کر چوس رہی تھی ابھی تک لن باہر نہیں نکالا تھا نیلی کی بھی یہ کوشش تھی کہ منہ کو ہی چودتا رہے وہ اپنی گانڈ کو اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے کے انداز میں لن گھسا رہا تھا۔۔۔۔ کچھ دیر لن چوسائی کا سین چلتا رہا میرا لن بھی تن کر کھڑا ہو گیا پھر اس لڑکی نے لن کو منہ سے نکالا اور ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔ اب میری چونکنے کی باری تھی ہاں جی نیلی کا لن عجیب طرح کا تھا میں نے غور سے دیکھا اس کے لن کی ٹوپی نہیں تھی اس وقت تک تو یہ پتہ تھا کہ لن کی ٹوپی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ یہ سمجھ نہ آئی کہ ٹوپی کی شیپ بنانے کی ذمہ داری نائی کی ہوتی ہے ۔۔۔۔ تو بات کر رہا تھا نیلی کے لن کی جس کی شیپ مختلف تھی یعنی کہ ابھی تک اس نے ختنے نہیں کروائے تھے یہ میرے لیے نئی بات تھی۔۔۔۔۔ اس کالن موٹا تو تھا لیکن لمبائی میں اتنا نہیں تھا میرے لن سےآدھا ہی ہوگا ۔۔۔۔ لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اس نے اس لڑکی کو کچھ کہا وہ لڑکی گھومی اس کا چہرہ میری ظرف ہوا میرے منہ سے نکلا اوہ تیری میں بہن نوں لن ٹھوکاں اوئے ککے آ کی اے سالی حرامزادی اے بھا نیلے نال ۔۔۔ میری آواز اونچی ہو گئی تھی شاید یہ آواز ان تک بھی پہنچ گئی تھی اس لیے تو بھا نیلا مجھے وہاں سے کھسکتا نظر آیا ۔۔۔۔ وہ دوسری طرف سے اپنا ناڑا باندھتے ہوئے نکل گیا میں تیزی سے اڈ لڑکی کے سر پر پہنچ گیا مطلب اس جھونپڑی میں گھس گیا جبکہ ککا میرے پیچھے آنے کی بجایے وہاں ہی کھڑا رہا۔۔۔۔ یہ وہ ہی لڑکی آسیہ تھی جس کے ساتھ بچپن میں ہم کھیلا کرتے تھے خالا لوگوں کے ہمسائے میں رہتی تھی اس وقت بچی تھی ہم بھی تو بچے تھے ۔۔۔۔ اس عمر میں بھی اس نے مجھ پر خط لکھنے کا الزام لگا دیا تھا وہ بات آج بھی مجھے کچوکے لگاتی ہے بس پھر مجھے آج موقع مل گیا تھا اپنی بے عزتی کا بدلا لینے کا۔۔۔۔ میں اس کے پاس جا بیٹھا وہ اپنی شلوار پہن رہی تھی میں نے اس کے ہاتھ سے شلوار پکڑ لی۔۔۔ اس کو کہا اتنی جلدی بھی کیا ہے یاد کرو۔۔۔ ہم بھی رسوا ہوئے تھے تیرے عشق میں جب تم نے مجھ کر الزام لگایا تھا خط لکھنے کا اور آج یہ سب کر رہی ہو وہ بھی ہم سب سے بڑے ہمارے ہی کزن سے۔۔۔۔ اب تو میں سارے گاؤں کو اس جگہ کیا ہوتا ہے بتاوں گا یہ آگ کا کیا سین ہے جو تم یہاں کارنامے کرتی ہو ایک ایک بات پورے مرچ مسالے کے ساتھ لائیو ٹیلیکاسٹ ہو گا۔۔۔۔ میں نے شلوار اپنے قبضے میں کر لی تھی۔۔۔ وہ مسکین صورت بنا کر بولی بلو نا کرو کسی کو بھی نہ بلاو کیا مل جائے گا تمہیں یہ سب کر کے مجھے بدنام کر کے تم خوش ہو جاؤ گے لیکن میری زندگی برباد ہو جائے گی۔۔۔۔ میں یہ سب پہلے سوچنا تھا جب یہاں آئی تھی میں سب کچھ دیکھ رہا تھا کافی دیر سے کس طرح لولی پاپ چوس رہی تھی۔۔۔۔ آسیہ بولی اب نہیں کروں گی ابھی مجھے جانے دو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔ لیکن میرا تو لن اس کے چوسنے کے انداز کو دیکھ کر فل ٹن ہو چکا تھا میں کیسے جانے دیتا اس کو وہ بھی اس کو جس کی پھدی مارنے کا خواہش مند میں تب سے تھا جب سے اس نے مجھ پر الزام لگایا تھا۔۔۔۔ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا یہ نہیں ہو سکتا کچھ تو دینا پڑے گا نہیں تو آبھی تمہاری شلوار لے کر چلا جاتا ہوں۔۔۔۔ اس نے میرے پاؤں پکڑ لیے اور بولی ایسا نہ کرنا پلیز میں تمہارے پاؤں پڑتی ہوں پتہ اس وقت مجھے کیا ہو گیا تھا میں اس کو چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ایسا نہیں کرتا تم مجھے کرنے دو جو نیلا بیچ میں چھوڑ گیا ۔۔۔۔ وہ بولی پلیز نہ کرو ایسا لیکن اس کی آواز میں دم نہیں وہ تقریباً رضا مند تھی۔۔۔ میں نے اٹھتے ہوئے کہا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی میں پھر وہی کرتا ہوں جو کہہ رہا ہوں۔۔۔ وہ جلدی سے بولی اچھا کر لو جو کرنا ہے وہ لیٹ گئی ۔۔۔ میں نے اپنا ناڑا کھولا اور لن کو تولا وہ ابھی کچھ ڈھیلا تھا اس کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلایا کر ٹائٹ کیا اس دوران اس کی پھدی سے قمیض ہٹائی جس کو اس نے ہلکی سے مزاحمت سے چھوڑا دیا تھا۔۔۔۔ لن ٹائٹ ہوا میں نے اس کی ٹانگیں اٹھائیں اور لن کو اس کی پھدی کے لبوں میں پھنسا دیا اور اس کے اوپر لیٹتے ہوئے ایک زور کا جھٹکا مارا لن پھسل کر باہر نکل گیا۔۔۔۔ لیکن اس کے منہ سے ہائے کی آواز نکلی میں نے پھر سے اسی طرح لیٹے لیٹے ہاتھ نیچے لیجا کر لن کو اس کی پھدی میں پھنسایا اس بار تھوڑا سا دباؤ ڈالا لن کی ٹوپی اندر اتر گئی اس کی پھدی گیلی تھی مطلب وہ چدنے کے لیے تیار تھی ایسے ہی ڈرامے کر رہی تھی۔۔۔۔ اب میں نے اس کے منہ کر ہاتھ جمایا اور اچھا خاصا زور لگا کر لن کو مادر گھسا دیا آدھے کے قریب لن اندر چلا گیا اس کی گھٹی گھٹی سی آواز نکلی اس نے اپنا سر دائیں بائیں بھی مارا ۔۔۔۔ لیکن لن جب پھدی میں اتر جائے تو رکتا نہیں اسی کے مصداق میں نے لن کو دو تین جھٹکوں میں جڑ تک اندر اتار دیا۔۔۔۔ آسیہ کٹے ہوئے بکرے کی طرح تڑپنے لگی اس کی وجہ میں سمجھ سکتا تھا شاید اس نے نیلے کے لن کے علاوہ کسی کا لن نہیں لیا تھا اس کا لن ان کٹ تھا یعنی بغیر ختنوں کے اور اتنا بڑا بھی نہیں تھا۔۔۔۔ کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے جھٹکے سٹارٹ کیے شروع میں آہستہ آہستہ کرتا رہا پھر اپنی سپیڈ بڑھانے لگا کیونکہ لن پھدی میں اپنی جگہ بنا چکا تھا ۔۔۔۔ ویسے بھی اب آسیہ نے مچلنا چھوڑ دیا تھا اس لیے بھی اب میں کھل کر گھسے مار سکتا تھا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں آسیہ نے نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا کر لن لینا شروع کر دیا ساتھ ہی اس نے اپنی ٹانگیں میری کمر پر کس لیں ۔۔۔۔ وہ مزے میں ہلنے لگی تھی اس کے ہاتھ جو نیم جان کو کر ایک طرف تھے اب میری کمر پر پھرنے لگے۔۔۔۔ میں نے اس کی ان حرکات کو ہلا شیری سمجھا اور جھٹکوں کی برسات کر دی ۔۔۔ جاندار گھسوں کی وجہ سے وہ جلدی کی اپنے پیک پوائنٹ پر پہنچ گئی اس کی پھدی نے اپنے پانی سے میرے لن کو نہلا دیا ۔۔۔ میں ابھی تک تھکا نہیں تھا اسی سپیڈ سے گھسے مار رہا تھا وہ فارغ ہو کر ایک بار پھر اسی طرح ہو گئی۔۔۔ جب کہ اب میں نے گھسوں کی انتہا کر دی ہر گھسے پر اس کی آہ نکلنے لگی اب اس نے سرگوشی میں کہنا شروع کر دیا بس کر دو پلیز اور کتنا کرو گے۔۔۔۔ لیکن میں ابھی بہت دور تھا اس لیے اس کی بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لگا رہا اس نے اپنی ٹانگیں نیچے کرتے ہوئے کہا اب میری ٹانگیں درد کرنے لگ گیی ہیں ۔۔۔۔ میں نے لن نکالا اس کو الٹا کیا ٹانگوں کو تھوڑا سا کھولا وہ کچھ نہ سمجھ سکی میں نے لن کو ہیچھے سے اس کی پھدی میں گھسا دیا۔۔۔۔ اففففف اس اینگل سے جب لن اندر گیا تو سچ میں پھنس گیا میں نے بھی بے دردی کی انتہا کرتے ہوئے لن کو گھسا دیا۔۔۔۔ ساتھ ہی اس کے اوپر لیٹ کر گھسے مارنے لگا اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو گانڈ کی موری کے پاس سے اس کی پھدی میں اتار رہا تھا میں ٹٹے اس کی نرم نرم رانوں میں لگ رہے تھے۔۔۔۔ اس کا جسم ایک بار پھر اکڑنے لگا لیکن اب مجھے بھی لگنے لگا کہ اب فارغ ہونے والا ہوں ۔۔۔۔ اس کا جسم اکڑا لن کو پھدی نے جکڑ لیا اس کی پھدی اتنی ٹائٹ ہو گئی کہ لن اندر باہر کرنا مشکل ہو گیا مجھے جھٹکے مارنے روکنا پڑے۔۔۔۔ میں اس کے اوپر لیٹ گیا میں مزے کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچ گیا اس کے جسم نے جھٹکا کھایا پھدی نے اپنے مسام کھولے لن پر پانی کا چھڑکاؤ شروع کیا ۔۔۔۔ اتنا گرم پانی تھا کہ مجھ سے برادشت نہ ہوا میرے لن نے بھی اپنا پانی ایک دم پریشر کے ساتھ جھوڑ دیا۔۔۔۔ وہ کچھ دیر ہلکے ہلکے جھٹکے کھاتی رہی میں بھی اس کی پھدی میں فارغ ہوتا رہا جب لن سے منی کا آخری قطرہ بھی اس کی پھدی نے نچوڑ لیا تو میں اس پر سے اترا اور اس کی شلوار سے لن کو صاف کیا اور آزار بند باندھنے لگا ۔۔۔۔ وہ بھی سیدھی ہوئی لیکن آیک آہ کے ساتھ سیدھی ہوئی اور بولی میری جان کڈ دتی تو انسان نہیں لگدا مینوں ۔۔۔۔ میں نے کوئی بھی جواب دینا مناسب نہ سمجھا اس کو اس کی شلوار پکڑا دی ۔۔۔ اس نے غصے سے شلوار پکڑی اور پہننے لگی میں وہاں سے اٹھ کر باہر نکلا تو ککا مجھے کہیں نظر نہ آیا۔۔۔۔ پھر مجھے خیال آیا کہ آسیہ اتنا بڑا رسک اکیلے نہیں لے سکتی کوئی تو اس کے ساتھ آیا ہوگا۔۔۔۔ میں واپس مڑا تو آسیہ اپنے کپڑے درست کرکے باہر نکل رہی تھی اور اس نے وہ آگ بھی بجھا دی تھی جس کی آڑ میں یہ سب ہو رہا تھا۔۔۔۔ میں نے اس کا بازو پکڑا اور اس راز کے بارے میں جاننے کی غرض سے بات شروع کی۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا آسیہ نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور مجھے کھنچتے ہوئے ایک طرف لے گئی۔۔۔۔ ہم ابھی کچھ ہی دور ہوئے تھے ایک آڑ میں گئے تھے کہ وہاں اسی جھونپڑی میں ہمیں دو سائے جاتے نظر آئے ۔۔۔۔ میں نے آسیہ کے کان میں کہا یہ سب کیا سین ہے کون ہے یہ مجھے کچھ سمجھاؤ گی۔۔۔ اس نے کہا ابھی وقت نہیں ہے پھر کسی دن بتاوں گی سب ویسے تو تمہیں بتانا کیا تم سے بات بھی نہیں کرنی چاہئیے ۔۔۔ پھر بھی تمہیں یہاں کا راز بھی بتا دوں گی بلکہ تم مجھ سے کیوں پوچھ رہے کو اپنے کزن سے پوچھ لینا۔۔۔ میں کس سے نیلے سے وہ مجھے بھلا کیوں بتائے گا اس نے ہی تو پہلے والی کہانی سنائی تھی اس جگہ پر جنوں والی بھوتوں والی کئی کہانیاں سنائیں اس نے جو آج میں اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔۔۔ اس نے کہا اس سے کون کہہ رہا ہے اس کے چھوٹے بھائی سے جو تمہارا دوست یے وہ تمہیں سب بتا دے کیونکہ وہ بھی یہ سب جانتا ہے۔۔۔ میں۔۔۔ وہ کیسے جانتا کیا میں جان سکتا ہوں۔۔۔
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status