Jump to content
URDU FUN CLUB

All Activity

This stream auto-updates     

  1. Today
  2. میری نظر سے یہ اب تک کی اچھی پوسٹ تھی امید ہے آگے بھی آپ یہ سسپنس اور تجسس برقرار رکھے گئے
  3. شکریہ جناب ۔۔۔۔۔اور تیار ہو جائیں کچھ ہی دیر بعد۔۔۔ یعنی کے ایک سے دیڑھ گھنٹے بعد نئی اپڈیٹ کے لئے۔۔
  4. Weldon dr sb کیا کمال کی سٹوری لکھ رہے ہیں آپ کی ذہانت کی داد دینی پڑے گی
  5. Kindly koi guide kr day k is k parts kuch show nae ho rahay 50 k baad I'm new koi membership leni hai kia Process kia hoga uska
  6. کمال کی سٹوری ہے فل حال گڈ جاری رکھیں
  7. قسط نمبر32 صباء شاور کے نیچے ننگی کھڑی تھی اور نہا رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کو آتے دیکھ کر صباء نے شاور بند کر دیا۔۔۔ مولوی صاحب:کیا ہوا۔۔۔مجھے بھی نہانے دو نہ اپنےساتھ۔۔۔ صباء آگے بڑھ کر مولوی صاحب کے سینے پرہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔نہیں نہیں مولوی صاحب۔۔۔آپ اپنے گھر پر جا کے نہالیں۔۔۔یہاں سے نہا کر نکلے تو ایسےہی لوگ غلط باتیں سوچیں گے آپ کے بارے میں اورمیں یہ نہیں چاہتی۔۔۔ مولوی صاحب صباء کے اتناکیئر کرنے پر خوش ہوئے اورصباء کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔۔ صباء مولوی صاحب کے پیٹ سے ہی لپٹی ہوئی تھی اور بالکل کسی چھوٹی سی بچی کی طرح ہی لگ رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب کے پیٹ پرسے پھسلتا ہوا صباء کا ہاتھ نیچے کو جانے لگااور پِھر صباء نے مولوی صاحب کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔جوکہ آدھا کھڑا ہوا تھا پہلےسے ہی اور صباء کےآہستہ آہستہ سہلانے سے اوربھی اکڑنے لگا۔۔۔ مولوی صاحب :کیا کر رہی ہو۔۔۔نہ کھڑا کرو اسے پِھر سے۔۔۔ صباء :کیوں جی۔۔۔کیوں نہ کھڑا کروں۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :کھڑا ہوگیا تو پِھر سے مجھے تمہارے اندر ڈالنا پڑے گا۔۔۔ صباء ایک ادا سے مولوی صاحب کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔کیوں ڈالے بنا کنٹرول نہیں ہوتا کیا آپ سے۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :نہیں۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔اور پِھر آگے کو جا کر۔۔۔واش بیسن پر اپنے ہاتھ رکھ کر جھک گئی۔۔۔ لیں ڈالیں پِھر۔۔۔ مولوی صاحب مسکرائے۔۔۔اور آگے بڑھ کر اپنا اکڑا ہوالن اپنے ہاتھ میں پکڑا اوراسے صباء کی گوری گوری گانڈ پر رگڑنے لگے۔۔۔تھوڑا سا نیچے کو بینڈ ہو کر۔۔۔اپنا لن صباء کی چوت میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگے۔۔۔صباء نے اپنی دونوں رانوں کو تھوڑا سا اور کھولا اور اپنا ہاتھ نیچے لے جا کرمولوی صاحب کا لن اپنےہاتھ میں پکڑا اور اس کی ٹوپی کو اپنی چوت کے سوراخ پر رگڑنے لگی۔۔۔ صباء :مولوی صاحب یہ راستہ ہےڈالنے کا۔۔۔لگتا ہے اتنے عرصے میں آپ تو ڈالنے کا رستہ ہی بھول گئے ہیں۔۔۔ صباء کی بات سن کر مولوی صاحب ہنسنے لگے۔۔۔کہتی تو تم ٹھیک ہو۔۔۔اب تو سچ میں ہی راستہ ہی بھول گیا ہوں۔۔۔ یہ کہتے ہوئے مولوی صاحب نے صباء کی کمرکو پکڑتے ہوئے دھکا مارا اوران کا لن پھسلتا ہوا صباء کی چوت میں اُتَر گیا۔۔۔آہ۔۔۔ صباء کے منہ سےسسکیاں نکلیں اور اس نے بھی پیچھے کو تھوڑا زور لگانا شروع کر دیا۔۔۔مولوی صاحب کا لن ایک بارپِھر سے صباء کی چوت میں اُتَر چکا تھااور اب مولوی صاحب آگےپیچھے کو ہوتے ہوئے اپنا لن صباء کی چوت میں اندر باہرکر رہے تھے۔۔۔ایک بار پِھر سے صباء مزےمیں کھو گئی تھی۔۔۔صباء کی پوری کوشش تھی کہ وہ جلد سے جلد مولوی صاحب کو فارغ کر دے۔۔۔دونوں کا دوسری بار کاسیکس سیشن بہت زیادہ لمبانہیں چل سکااور کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب کے لن نے اپنی منی دوسری بار صباء کی چوت میں گرا دی۔۔۔مولوی صاحب باتھ روم سےباہر آئے۔۔۔تو صباء بھی ننگی ہی ان کےپیچھے آگئی۔۔۔باہر آ کر ایک ٹاول اٹھا کراپنے جِسَم کے گرد لپیٹااور مولوی صاحب کو دروازے تک چھوڑنے کے لیےساتھ چل پڑی۔۔۔۔دروازے پر پہنچ کر مولوی صاحب نے صباء کو ایک بارپِھر سے اپنی بانہوں میں لیااور اسے چومنے لگے۔۔۔صباء کو پِھر سے مستی سی ہونے لگی۔۔۔مگر کچھ ہی پل میں صباءنے مولوی صاحب کو پیچھےہٹا دیااور بولی۔۔۔ بس بس اب جائیں آپ۔۔۔ مولوی صاحب صباء کا ہاتھ پکڑ کر بولے۔۔۔اچھا رات کو آؤ گی نہ ہسپتال ۔۔۔؟ ؟ صباء شرارت سے مسکرائی۔۔۔جی نہیں۔۔۔مجھے نہیں آنا۔۔۔آنٹی کی طبیعت ٹھیک ہے اب۔۔۔اِس لیے اب میں نہیں آؤ گی۔۔۔ مولوی صاحب نے اس کاہاتھ پکڑے پکڑےگڑگڑانے والے انداز میں کہا۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ضرور آنا۔۔۔ صباء :نہیں جی۔۔۔مجھے پتہ ہے آپ ساری رات مجھے سونے نہیں دیں گے۔۔۔تنگ کرتے رہیں گے مجھے۔۔۔ مولوی صاحب :صباء آجانا نہ۔۔۔دیکھو ایک آدھ دن میں ہوسکتا ہے کہ تمہاری آنٹی کوچھٹی ہو جائے تو پِھر توپروبلم ہو جائے گی نہ تم سےملنے میں۔۔۔ صباء شرارت سے مسکرا کربولی۔۔۔ہاں تو پِھر کیا ہوا۔۔۔مجھ سے ملنا ضروری ہے کیاآپ کا؟ مولوی صاحب صباء کو اپنی بانہوں میں گھسیٹ کر بولے۔۔۔ہاں بہت ضروری ہے۔۔۔ صباء نے مولوی صاحب کو دروازے کی طرف دھکا دیا اور بولی۔۔۔بس ابھی تو جائیں نہ آپ۔ رات کو دیکھوں گی میں۔۔۔ مولوی صاحب نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئےاور صباء دروازہ بند کرکے مسکراتی ہوئی اپنے کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب باہرنکلے تو نیچے سے میجرصاحب سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اُوپر آ رہے تھے۔۔۔میجر نے مولوی صاحب کوصباء کے فلیٹ سے نکلتےہوئے دیکھ لیا تھا۔۔۔مگر وہ مولوی صاحب کوکچھ کہہ نہیں سکتا تھاکیونکہ ان دونوں گھروں کاایک دوسرے کی طرف آناجانا تھا۔۔۔پِھر بھی میجر مولوی صاحب کے پاس جا کر روک گیا۔۔۔ میجر :مولوی صاحب کیا حال چال ہیں۔۔۔کیسی ہے بھابی جی کی طبیعت اب۔۔۔پتہ چلا تھا کہ وہ ہسپتال میں ہیں۔۔۔ مولوی صاحب جو کہ ایک گناہ کر کے آ رہے تھے۔۔۔تو اسی لیے میجر کواچانک سامنے دیکھ کر تھوڑاگھبرا گئے تھے۔۔۔ان کا لہجہ بھی تھوڑا کمزورلگ رہا تھا۔۔۔جو میجر نے بھی محسوس کر لیا تھا۔۔۔ مولوی صاحب :ہاں ٹھیک ہے اب۔۔۔کافی بہتر ہے۔۔۔آپ سناؤ۔۔۔ میجر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔معنی خیز مسکراہٹ۔۔۔جسے دیکھ کر مولوی صاحب کو تھوڑی گھبرا ٹ ہو رہی تھی۔۔۔ میجر صاحب :سنا ہے۔۔۔اشرف کی گھر والی بھی بڑی خدمت کر رہی ہے آپ کی وائف کی ہسپتال میں۔۔۔ مولوی صاحب گھبرا گئے۔۔۔سیدھے آدمی تھے۔۔۔فوراً ہی وضاحت کرنے لگے۔۔۔ ہاں ہاں۔۔۔وہ۔۔۔وہ فرح بیٹی کی دوست ہےنہ تو اِس لیے بہت خیال رکھ رہی ہے۔۔۔ بہت اچھی بیٹی ہے اشرف صاحب کی وائف بھی۔۔۔ میجر :چلیں جی۔۔۔اچھا ہے جلدی سے ان کی طبیعت ٹھیک ہو۔۔۔ یہ کہہ کر میجر صاحب اپنےفلیٹ کی طرف بڑھ گئے اورمولوی صاحب بھی خدا کاشکر ادا کرتے ہوئے اپنے فلیٹ میں آ گئےاور آتے ہی باتھ روم میں گُھس گئے۔۔۔کچھ دیر پہلے تک کہ صباءکے ساتھ گزرے ہوئے لمحوں کو یاد کرتے ہوئے نہانے لگے۔۔۔دِل تو کر رہا تھا کہ دوبارہ سے جا کر صباء کے ننگےجِسَم پر چڑھ جائیں۔۔۔مگر اب انہیں رات تک کاانتظار کرنا تھا۔ دوسری طرف صباء کچن میں اپنے لیے کھانا اور چائےبنا رہی تھی کہ بالکونی کےدروازے پر نوک ہوا۔۔۔صباء نے کچن سے نکل کربالکونی کے دروازے کی طرف دیکھا تو وہاں میجرکھڑا ہوا تھا اس کی بالکونی میں۔۔۔آج۔۔۔پتہ نہیں کیوں۔۔۔لیکن ہوا ضرور ایسا کہ۔۔۔آج پہلی بار صباء۔۔۔یا شاید کافی عرصے کے بعدآج صباء کو میجر کو دیکھ کر خوشی نہیں ہوئی۔۔۔ بلکہ تھوڑا برا ہی لگا تھا۔۔۔شاید وہ ابھی میجر کا سامنانہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔یا شاید ابھی وہ مولوی صاحب کے ساتھ گزرے ہوئےلمحات کو ہی یاد کرتے ہوئےانجوئے کرنا چاہتی تھی۔ مگر اُس کے بس میں تو کچھ نہیں تھا نہ۔۔۔نہ ہی اس کی اپنی مرضی چلنی تھی۔۔۔اسے ایک گھبرا ٹ یہ بھی تھی کہ وہ ابھی بھی صرف وہی ٹاول اپنے جِسَم پرلپیٹے ہوئے تھی اور ابھی تک کچھ بھی نہیں پہنا تھا۔۔۔وہ خاموشی سے بالکونی کےدروازے کی طرف بڑھی اور جا کر دروازہ کھول دیااور اپنے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ سجا کر میجر کوویلکم کہا۔۔۔میجر بھی فوراً ہی اندر آگیا۔۔۔صباء واپس مڑی اور میجرکے آگے آگے چل رہی تھی۔۔۔میجر نے پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر صباء کی گانڈ کوپکڑا اور زور سے دبا دیا۔۔۔ صباء :اوچ کیا کرتے ہو۔۔۔ میجر نے ایک ہی جھٹکے میں صباء کا ٹاول بھی کھینچ لیااور صباء کو بالکل ننگا کر دیا۔۔۔صباء جلدی سے پلٹی۔۔۔ صباء :دو نہ۔۔۔دو ٹاول مجھے۔۔۔کچھ بھی نہیں پہنا ہوا ہےمیں نے۔۔۔ٹاول لینے دو مجھے۔۔ میجر ہنسا اور آگے بڑھ کرصباء کے ننگے ممے کو اپنی مٹھی میں دباتے ہوئے بولا۔۔۔ کمینی۔۔۔اس مولوی کے سامنے ننگی پھرتی رہی ہے اور اب میرےسے تجھے پردہ کرنے کا یاد آگیا ہے۔۔۔سالی۔۔۔رنڈی۔۔۔بھول گئی کہ تو میری رنڈی ہے۔۔۔ صباء چونک بھی گئی اورتھوڑی گھبرا بھی گئی۔۔۔ن ن ن نہیں۔۔۔کب۔۔۔مولوی صاحب کے سامنے کب۔۔۔ صباء پتہ نہیں کیوں ابھی یہ سب کچھ میجرسے چھپانا چاہتی تھی۔۔۔حالانکہ اسی کے کہنے پر اس نے یہ سب کچھ مولوی صاحب کے ساتھ کیا تھا۔۔۔مگر پتہ نہیں ایسی کیا بات تھی مولوی صاحب میں کہ صباء اب اِس بات کو میجرسے شیئر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔شاید وہ مولوی صاحب کی بےعزتی برداشت نہیں کرپا رہی تھی۔۔۔میجر نے صباء کو اپنی بانہوں میں بھرا اور اپنےہونٹ اُس کے ہونٹوں پر رکھ دیےاور اسے چومنے لگا۔۔۔ایک بار پِھر صباء کی سانسوں میں سگریٹ اورشراب کی بدبو بھر گئی۔۔۔اسے تھوڑا عجیب سا لگاکیوں کہ اِس کے مقابلے میں مولوی صاحب کے منہ سےبہت ہی اچھی خوشبو آئی تھی جب وہ اسے چوم رہےتھے۔۔ مگر صباء کے بس میں نہیں تھا میجر کو پیچھے ہٹانا۔۔۔میجر نے اپنے ہونٹ سختی سے صباء کے ہونٹوں پرجمائے اور اُس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔۔۔اس کا ہاتھ نیچے جا کر صباءکی چوت کو سہلانے لگااور جیسے ہی میجر صاحب نے اپنی ایک انگلی صباء کی چوت میں داخل کی تو صباءسب کچھ بھول کر میجرصاحب سے چپک گئی۔۔۔اس سے لپٹ گئی اور اپنی زبان کو میجر کےمنہ کے اندر پُش کرتے ہوئےاپنی چوت کو میجر کے ہاتھ پر گھمانے لگی۔۔۔اس کی انگلی کو اپنی چوت کے اندر ہی رکھتے ہوئے۔۔۔میجر نے اپنے ہونٹ صباء کےہونٹوں پر سے ہٹائے اور اپنی انگلی صباء کی چوت میں اندر باہر کرتے ہوئے بولا۔۔۔ کیوں پِھر میری رنڈی ہوگیامیرا کام جو میں نے کہا تھا۔۔۔؟؟ صباء پِھر تھوڑی سی سنبھلی۔۔۔ک ک ک کون سا کام۔۔۔؟؟ میجر :سالی۔۔۔بھول گئی ہے کیا۔۔۔وہ جو میں نے تجھے مولوی کو پھنسانے کو کہا تھا اپنےشوہر کے بدلے میں۔۔۔ صباء : وہ۔۔۔ہاں وہ کر رہی ہوں ابھی۔۔۔ہوا نہیں ہے پُورا لیکن ابھی۔۔۔ میجر نے ہاتھ پیچھے لے جاکر صباء کے بالوں کو اپنی مٹھی میں لیا اورایک جھٹکے سے اُس کےبالوں کوپیچھے کھینچتے ہوئے اُسکے سر کو پیچھے کھینچا۔۔۔ جھوٹ بول رہی ہے سالی۔۔۔کتیا۔۔۔دھوکا کر رہی ہے میرے ساتھ۔۔۔ صباء گھبرا گئی۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔میں نے کب انکار کیا ہے۔ بتا تو رہی ہوں کہ بس کام پُورا ہونے والا ہے۔۔۔تھوڑی دیر اور ہے۔۔۔ میجر کے غصے سے صباء بری طرح سے ڈر گئی تھی۔۔۔ میجر پِھر غصے سے دھاڑا۔۔۔سالی۔۔۔تیری ماں چود دوں گا اگر تونے میرے ساتھ دو نمبری کرنے کی کوئی کوشش کی تواور تیرے اس گانڈو اشرف کو بھی ٹھوک دوں گا دیکھنا۔۔۔ صباء فوراً ہی میجرسے لپٹنے لگی۔۔۔کیوں پریشان ہو رہے ہو۔۔۔میں نے کہا تو ہے کہ کر دوں گی تمہارا کام۔۔۔وہ بےچارہ بوڑھا مولوی توبس اب پھنسنے کے قریب ہی ہے میرے جال میں۔۔۔ میجر بھی ایک شاطر آدمی تھا۔۔۔اس نے مولوی کو صباء کےدروازے کے باہر گھبرایا ہوا دیکھا تھا اور چند لمحوں کےبعد ہی جب وہ صباء کےپاس آیا تو وہ صرف ٹاول باندھے ہوئے تھی۔۔۔مگر ابھی اس نے خاموشی ہی اختیار کرنا بہتر سمجھااور صباء پر نظر رکھنے کافیصلہ کر لیا۔۔۔کیونکہ وہ تو کسی وقت بھی اس کی بےوفائی کی اسے سزا دے سکتا تھا۔۔۔ صباء بولی۔۔۔چھوڑو اس مولوی صاحب کو اب تم آ ہی گے ہو تو پہلےمیری آگ تو بجھاؤ۔۔۔تم تو نہ ترپاؤ نہ مجھے۔۔۔ صباء نے اپنا ہاتھ نیچے لے جاکر میجر کی پینٹ کی ذپ کھولتے ہوئے کہااور پِھر اپنا ہاتھ اندر ڈال کرمیجر کا لن پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ اسے سہلانے لگی۔۔۔میجر نے بھی خاموشی سےصباء کو نیچے پُش کر دیااور صباء نیچے بیٹھ کرمیجر کا لن اپنے منہ میں لےکر چوسنے لگی۔۔۔کچھ ہی دیر میں میجر صباءکو لیے ہوئے اُس کے بیڈروم میں تھااور پِھر کوئی دو گھنٹے کےبعد میجر جب وہاں سے گیاتو صباء پوری طرح سےسیٹسفائڈ ہو چکی تھی۔۔۔میجر کو بالکونی کے دروازےپر رخصت کرنے کے بعددروازہ بند کرتےہوئے مسکرائی۔۔۔ ویسے اِس کمینے کے جیساکوئی دوسرا ہے نہیں۔۔۔ صباء مسکراتے ہوئے اپنےواش روم میں چلی گئی۔۔۔نہا کر نکلی اور پِھر کچھ دیرکے لیے اپنے بیڈ پر لیٹ کرسو گئی۔۔۔اتنی لمبی اور دو دو مردوں کے ساتھ ہوئی چُودائی اورساری رات جاگنے کی وجہ سے اسے خوب نیند آئی اور آنکھ کھلی تو شام کےسات بج رہے تھے۔۔۔جب وہ اٹھ کر ٹی وی لونج میں آئی تو اشرف بھی بیٹھاہوا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔۔صباء کو آتے ہوئے دیکھ کرگھبرا گیا۔۔۔اسے دیکھتے ہی صباءکو صبح کا واقعہ یاد آ گیا۔۔۔صباء خاموشی کے ساتھ۔۔۔بنا اشرف سے بات کئے کچن میں چلی گئی۔۔۔اندر جاتے ہی اُس کے چہرےپر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔کہ کیسے اشرف اس سے ڈررہا تھا۔۔۔حالانکہ یہ سب اسی کی پلاننگ تھی۔۔۔کچھ ہی دیر میں صباء کھانالے کر واپس آئی اور لا کرٹیبل پر اشرف کے سامنے رکھ دیااور پِھر خاموشی سے دونوں کھانے لگے۔۔۔کافی دیر کی خاموشی کےبعد آخر اشرف ہی بولا۔۔۔ اشرف :آئی ایم سوری صباء۔۔۔ صباء خاموش رہی۔۔۔وہ اشرف کویہی جتانا چاہتی تھی کہ وہ بہت اپ سیٹ ہے اس کی اِس حرکت سے۔۔۔صباء کھانا کھا کر اٹھی اور کچن کی طرف جاتےہوئے بولی۔۔۔ تم جو بھی کرو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر بس آئِنْدَہ اب میرے پاس نہ آنا۔۔۔مجھ سے تم کو کچھ نہیں ملنے والا۔۔۔جو بھی چاہیے ہو تو اسی بانو کے پاس جانا۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں صباء تیارہو کر بیڈروم سے آگئی اور خاموشی سے اشرف کےساتھ ہسپتال کو نکل آئی۔۔۔راستے میں بھی اشرف نےاسے منانے کی پوری کوشش کی مگر اس نے اس کی کسی بھی بات کا ڈھنگ سے جواب نہیں دیااور دونوں ہسپتال پہنچ گئے۔۔۔صباء اور اشرف ہسپتال پہنچے تو مولوی صاحب توپہلے سے ہی اس کا انتظار کررہے تھے۔۔۔صباء کو دیکھتے ہی ان کےچہرے پر خوشی کی لہر دوڑگئی۔۔۔چہرہ تو جیسے کھل ہی اٹھا۔۔۔صباء بھی ان کی خوشی اور چہرے پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ کو دیکھ کر مسکرادی اور ساتھ ہی اُس کے چہرےپر شرم کی لالی دوڑ گئی اور آپ ہی آپ اس کی نظریں جھک گیں۔۔۔فرح نے بھی آگے بڑھ کرصباء کو گلے لگایا اور سلام کیا۔۔۔چہرے پر شرم کی لالی کےساتھ ساتھ صباء کے دِل میں تھوڑی اداسی اور فکر مندی بھی تھی۔۔۔ہاں وہ مولوی صاحب کے لیےفکر مند تھی۔۔۔اسے یہی فکر ہو رہی تھی کہ کیسے وہ یہ سب کچھ جوبھی اُس کے اور مولوی صاحب کے درمیان شروع ہواہے۔۔۔ کیسے وہ اسے میجر کوپتہ لگنے سے بچا سکے۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ میجرمولوی صاحب کو نقصان پہنچائے۔۔۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسےاپنے سہاگ۔۔۔اپنے اشرف کی بھی فکر تھی۔۔۔اسے اس کو بھی بچانا تھا۔۔۔وہ خود کو ایک عجیب سی پریشانی میں گرفتار محسوس کر رہی تھی۔۔۔اسے سمجھ میں نہیں آ رہاتھا کہ وہ کیسے خود کو اِس صورت حال سے نکالےاور اشرف اور اب مولوی صاحب کو بھی میجر کےچنگل سے بچائے۔۔۔ایک بات تو وہ جانتی تھی کہ میجر کو سمجھانا بیکارکا کام ہے۔۔۔کیونکہ وہ کسی طور بھی اس کی بات نہیں مانے گا۔۔۔اِس لیے۔۔۔ایک ہی راستہ تھا کہ وہ میجر کو اِس بات کا یقین دلاتی رہے کہ وہ کام کر رہی ہےاور جلد ہی مولوی صاحب اس کی گرفت میں ہوں گےاور پِھر میجر اپنا کام پُورا کرسکے گا۔۔۔ اشرف بھی مولوی صاحب سے آنٹی کی طبیعت کا پوچھنے لگا۔۔۔کچھ ہی دیر گزری تو اشرف کھڑے کھڑے ہی فیکٹری جانے کے لیے روانہ ہونے لگا۔۔۔مولوی صاحب بولے۔۔۔ اشرف بیٹا تھوڑی سی تکلیف اور دوں گا تم کو اگر ہو سکےتو۔۔۔ اشرف :جی جی مولوی صاحب۔۔۔بتائیں کیا کام ہے۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :بیٹا ایسا کرو کہ فرح بیٹی کو ذرا گھر ڈروپ کرتے جانا۔۔۔آج لیٹ ہو گئی ہے اب اکیلی نہیں جا سکے گی۔۔۔وہاں تو بانو ہوتی ہی ہے اسکے پاس سونے کے لیے۔۔۔اگر دیر نہ ہو رہی ہو تو ذرااسے ڈروپ کرتے جاؤ۔۔۔ اشرف :کیوں نہیں مولوی صاحب۔۔۔اِس میں تکلیف کی کونسی بات ہے۔۔۔میں ابھی چھوڑتا جاؤں گا۔۔۔ مولوی صاحب :بہت بہت شکریہ بیٹا۔۔۔آپ دونوں کے احسانوں کابدلہ تو خدا ہی دے گا آپ لوگوں کو۔۔۔ورنہ میں بوڑھا کیا کر سکتاہوں آپ لوگوں کے لیے۔۔۔ صباء مسکرائی۔۔۔ارے انکل آپ کیا اپنے آپ کوبوڑھا کہتے رہتے ہیں۔۔۔کوئی بڈھے نہیں ہو آپ ابھی۔۔۔ صباء کی بات کا اصل مطلب سمجھتے ہوئے مولوی صاحب مسکرانے لگےاور صباء نے بھی ایک خاص انداز میں مولوی صاحب کودیکھ کر اپنی نظریں دوسری طرف کر لیں۔۔۔ مولوی صاحب :فرح بیٹی جلدی کر لو تم بھی۔۔۔پِھر آپ کے اشرف بھائی کودیر ہو جائے گی ڈیوٹی سےورنہ۔۔۔ فرح :جی ابو۔۔۔ فرح نے جلدی سے اپنی چادر اٹھائی اور اپنے جِسَم پر اوڑھ لی۔۔۔اپنا چہرہ بھی چادر میں چُھپا لیا۔۔۔صرف اس کی آنکھیں نظر آرہی تھیں اور گورےگورے ہاتھ۔۔۔چادر نے فرح کا پُوراجِسَم ڈھانپ لیا ہوا تھا۔۔۔مگر پِھر بھی اس کی چادراُس کے خوبصورت ابھاروں کو چھپانے میں ناکام رہ رہی تھی۔۔۔جو کہ چادر اوڑھنے کےباوجود بھی بالکل صاف نظرآ رہے تھے۔۔ اشرف فرح کو لے کر ہسپتال کے کمرے سے نکل پڑا۔۔۔ان دونوں کے جانے کے بعد۔۔۔ صباء بیڈ کی طرف بڑھی اور آنٹی کا حال پوچھنے لگی۔۔۔وہ جاگ رہی تھیں اور بیڈسے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔صباء بھی انہی کے بیڈ پرایک سائیڈ پر بالکل ان کے کاندھے سے لگ کر بیٹھ گئی۔۔۔ایسے کے اس کا منہ اب آنٹی کی طرف ہی تھااور وہ ان سے باتیں کرنے لگی۔۔ صباء :آنٹی کیسی ہیں آپ۔۔۔؟ ؟ آنٹی :بیٹی اب میں ٹھیک ہوں۔۔۔ صباء :سچ میں آنٹی اب آپ کی طبیعت بھی کافی فریش لگ رہی ہے۔۔۔ آنٹی :ہاں۔۔۔ڈاکٹر صاحب بھی بول رہےتھے کہ ایک دو دن تک شایدچھٹی ہو ہی جائے۔۔ صباء :جی۔۔۔بالکل آنٹی۔۔۔پِھر ہم ایک ساتھ گھر جائیں گےاور آپ نے پُورا پُورا ریسٹ کرنا ہے بس۔۔۔گھر کے کام بھی میں ہی کردوں گی آپ کے۔۔۔ آنٹی ہنستے ہوئے۔۔۔ارے بیٹی پہلے ہی تم نے بہت تکلیف سہی ہے ہم سب کےلیے۔۔۔ میں تو تمہارا احسان ہی نہیں اُتار سکتی۔۔۔ صباء :ارے نہیں آنٹی۔۔۔ایسی باتیں کر کے آپ مجھےشرمندہ تو نہ کریں نہ۔۔۔آپ بھی تو اتنا خیال رکھتی ہو نہ ہمارااور انکل بھی تو بہت خیال رکھتے ہیں میرا نہ۔۔۔تو میں نے تھوڑا کام کر دیاتو کیا ہوا۔۔۔ یہ کہتے ہوئے صباء نےشرارت سے مولوی صاحب کی طرف دیکھا تو ان کےچہرے پر پِھر سے مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرتےہوئے مسکرانے لگے۔۔۔صباء اٹھی اور جا کر یخنی جو بنا کر لائی تھی وہ بویل میں ڈال کر لے آئی اور آنٹی کے پاس بیٹھ کر ان کو چمچ سے پلانے لگی۔۔۔مولوی صاحب بھی اٹھ کرصباء کے پیچھے آ گئےاور بولے۔۔۔ ہاں یہ بات تو بالکل سچ ہےکہ صباء بیٹی نے بہت زیادہ ساتھ دیا ہے ہمارا۔۔۔ورنہ فرح بےچاری اکیلی کیاکر سکتی تھی۔۔۔ مولوی صاحب بیڈ کے قریب اِس پوزیشن میں کھڑے تھےکہ وہ صباء کے پیچھے آ گئےہوئے تھےاور آنٹی ان کی حرکتوں کونہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔مولوی صاحب نے آہستہ سےاپنا ہاتھ صباء کی کمر پررکھ دیا۔۔۔صباء کو تو جیسے کرنٹ ساہی لگ گیا ہو۔۔۔وہ تھوڑا سا اچھل پڑی اور پِھر نارمل ہو گئی اور پِھر پیچھے مڑ کرمولوی صاحب کی طرف دیکھتےہوئے مصنوئی ناراضگی سے ان کو نہ کرنے کا اشارہ کیااپنی آنكھوں ہی آنكھوں سے۔۔۔ایک بار تو اس کا ہاتھ ہی کانپ گیا تھا جس سےتھوڑا سا سوپ نیچے بیڈشیٹ پر بھی گر گیا تھا۔۔۔مگر دوسری طرف مولوی صاحب کہاں باز آنے والے تھے۔۔۔یا یوں کہہ لو کہ وہ کیسےخود کو کنٹرول رکھ سکتے تھے۔۔ اپنی پَسَنْدِیدَہ جوانی کواپنے سامنے دیکھ کراور اپنے ہاتھوں کے دسترس میں پا کر۔۔۔بس انہوں نے چند لمحوں کےبعد ہی دوبارہ سے اپنا ہاتھ صباء کی کمر پر رکھ دیااور دوبارہ سے اس کی کمرکو سہلانے لگے۔۔۔مولوی صاحب کا ہاتھ دھیرے دھیرے صباء کی کمرپر سرک رہا تھا۔۔ اِس بات کا وہ پُورا پُوراخیال رکھ رہے تھے کہ اُسکے ہاتھ کی حرکت کو ان کی بِیوِی نہ دیکھ سکے۔ مولوی صاحب :ہاں وہ بھی تو بتاؤ نہ صباءکو جو ڈاکٹر نے کہا ہے۔۔۔ آنٹی :ارے وہ تو یہ ڈاکٹر لوگ ہرمریض کو ہی کہتے رہتے ہیں۔۔۔اب ان کی کہی باتیں سب کچھ ٹھیک تو نہیں ہونےوالی نہ۔۔۔ صباء :بتائیں نہ کیا کہا ہے۔۔۔ مولوی صاحب :ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ ایک تو دوا ٹائم پر لینی ہے۔۔۔کوئی چھٹی نہیں کرنی دوا لینے میں اور دوسرا کوئی بھی ٹینشن نہیں لینی اپنے دماغ پر اوراپنے دِل پر۔۔۔ صباء :جی آنٹی یہ تو بالکل ٹھیک کہا ہے ڈاکٹرز نے۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ گھر جا کربھی آپ کو دوا کھیلانے کی ڈیوٹی مجھے اپنے ذمےہی لینی پڑے گی۔۔۔ مولوی صاحب باتیں کرتےہوئے صباء کی کمر کوہی سہلا رہے تھے۔۔۔ایک آدھ بار صباء نے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر مولوی صاحب کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی مگر۔۔۔مولوی صاحب کہاں ماننےوالے تھے۔۔۔دوبارہ سے اپنا ہاتھ صباء کی کمر پر رکھ لیتے۔۔۔کچھ ہی دیر گزری کے مولوی صاحب نے صباء کی قمیض کو پیچھے سے اس کی گانڈپر سے ہٹایااور اپنا ہاتھ صباء کی قمیض کے نیچے اس کی ننگی کمرپر رکھ دیا۔۔۔صباء تو تڑپنے ہی لگی۔۔۔مولوی صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے آنكھوں ہی آنكھوں میں ان کی منتیں کرتی مگر مولوی صاحب توصرف اور صرف مسکراتے جارہے تھےاور اب تو مولوی صاحب آہستہ آہستہ اپنے لن کو بھی صباء کی کمر پر رگڑ رہے تھے۔۔۔مولوی صاحب تو فل شرارت کے موڈ میں تھے۔۔۔اچانک صباء کو بھی ایک آئیڈیا سوجھا۔۔۔اس نے ہاتھ پیچھے لے جا کرمولوی صاحب کے لن کو اپنےہاتھ میں پکڑا اور اچانک سےہی ان کا لن زور سے دبا دیا۔۔۔مولوی صاحب اِس اچانک کے حملے سے اچھل ہی پڑےاور اچھل کر پیچھے ہوگئےصباء سے۔۔۔صباء پیچھے موڑ کر ان کودیکھتے ہوئے ہنسنے لگی۔۔۔مولوی صاحب بھی ہنسے اوراپنے لن کو سہلاتے ہوئےپیچھے جا کر صوفہ پر بیٹھ گئے۔۔۔صباء اب بھی بار بار ان کوشرارت سے دیکھ رہی تھی اور ہنس رہی تھی۔۔۔آنٹی نے سوپ ختم کر لیا توصباء برتن سمیٹنے لگی اور اتنی دیر میں ہی نرس آگئی۔۔۔آنٹی کو میڈیسن دینے کے لیےاور صباء اُس کے پاس ہی کھڑی ہو گئی۔۔۔جیسے ہی نرس کمرے سےگئی تو صباء بولی۔۔ انکل کھانا ڈالوں آپ کے لیے۔۔۔؟؟ مولوی صاحب :نہیں رہنے دو ابھی بھوک نہیں ہے۔۔۔ آنٹی :ارے بیٹی دو ڈال کے ان کو۔۔۔سارا سارا دن کچھ نہیں کھاتے۔۔۔یہاں پڑے ہوئے ہیں بس اتنےدن سے میرے پاس۔۔۔دیکھو تو کیا حالت کر لی ہے۔۔۔نہ ٹائم پر کھانے کا ہوش ہےنہ اور کسی چیز کا۔۔۔ذرا بھی اپنا خیال نہیں کررہے۔۔۔ صباء مسکرائی اور مولوی صاحب کی طرف بریانی کی پلیٹ بڑھاتے ہوئےبولی۔۔۔آنٹی آپ فکر نہ کریں اب میں خود ان کا خیال رکھا کروں گی۔۔۔پِھر میں دیکھتی ہوں کیسےیہ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے۔۔۔اپنی صحت کا اور ڈائٹ کاخیال نہیں رکھیں گے تواتنا کام کیسے کریں گے۔۔۔ صباء نے اپنی آنکھیں مٹکا کرمولوی صاحب سے پوچھا۔۔۔ مولوی صاحب ہنسے۔۔۔ارے کام تو میں ابھی بھی بہت کر لیتا ہوں۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ صباء :جی ہاں پتہ ہے مجھے۔۔۔اپنے کام میں بہت ماہر ہیں آپ ابھی بھی۔۔۔ مولوی صاحب کا تو سینہ خوشی سے اور بھی پھول گیااور صباء بھی مسکراتے ہوئےاپنے لیے بھی کھانا ڈال کرایک طرف کرسی پر بیٹھ کرکھانے لگی۔۔۔مگر کھانا کھاتے ہوئے بھی صباء بار بار بڑے ہی پیار سےاپنی نظریں اٹھا کر مولوی صاحب کو دیکھ رہی تھی اور صباء کی ایسی نظروں سے مولوی صاحب کا دِل بےقابو ہوتا جا رہا تھا۔۔۔مگر برداشت کر کے بیٹھےہوئے تھے۔۔۔ ٭٭٭٭٭ اشرف نے فرح کو بائیک پراپنے پیچھے بٹھایا اور گھرکے لیے نکل پڑا۔۔۔راستے میں دونوں ہی آنٹی کی طبیعت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔۔۔اشرف تو تھوڑا اپنی پریشانی میں بھی تھا۔۔۔مگر فرح کافی خوش تھی کیونکہ اب اس کی امی کی طبیعت کافی اچھی ہو چکی ہوئی تھی۔۔۔فرح اشرف کے پیچھے بائیک پر کافی سنبھل کر اور سمٹ کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔وہ نہیں چاہ رہی تھی کہ اسکا جِسَم اشرف کے جِسَم کے ساتھ ٹچ کرے۔۔۔پِھر بھی اسے خود کو سیٹ پر قابو رکھنے کے لیےاپنا ایک ہاتھ اشرف کے کاندھے پر رکھنا پڑا تھا۔۔۔مگر باقی جِسَم اس کا اشرف کے جِسَم کے ہٹ کر تھا۔۔۔مگر پِھر بھی صرف اورصرف سمجھو کہ ایک ہاتھ کی مٹھی کا فاصلہ تھادونوں کے درمیان میں۔۔۔راستے میں ایک دوبار جھٹکے لگے تو فرح کاجِسَم اشرف کے جِسَم سےپریس ہو گیا۔۔۔بات تو ایک روٹین کی ہی ہے۔۔۔مگر ہوتا تو ایسا ہی ہے نہ کہ جب بھی لڑکی کسی کےپیچھے بائیک پر بیٹھے تواس کا جِسَم اگلے بیٹھے ہوئےمرد کے جِسَم سے ٹچ ہو جاناایک لازمی بات ہوتی ہے۔۔۔ایسے ہی تھی تو ایک معمولی بات ہی۔۔۔مگر فرح جیسی کنواری اور ان ٹچ۔۔۔جوان ہوتی ہوئی۔۔۔جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہوئی لڑکی کے لیےایک بڑی بات بھی تھی۔۔۔جس کے جِسَم کو کبھی بھی کسی مرد نے نہ چھوا ہو توایسے کسی دوسرے مرد کےجِسَم سے اس کے جِسَم کاچھو جانا اور اُس کے مموں کا اس کی کمر پریس ہو جانا اُس کے لیے تو بہت بڑی بات تھی نہ۔۔۔جس نے اس کا پُورا جِسَم ہی جنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔ ایک عجیب سی سنسنی سی پھیل گئی تھی اُس کے پورے جِسَم میں کچھ دیر کے لیے۔۔۔ایک عجیب سی مستی سی۔۔۔مگر جلدی ہی خود کو اس نے سنبھال لیا تھا۔۔۔خود کو لعنت کرتے ہوئے کہ۔۔۔تو تو اُس کو بھائی کہتی ہےتو پِھر بھائی کے لیے ایساکیوں سوچ رہی ہو۔۔۔ایسا سوچنا تو غلط ہے نہ۔۔۔مگر جِسَم کی تو اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی نہ۔۔۔وہ تو ابھی بھی کانپ ہی رہا تھا۔۔۔خدا خدا کر کے گھر کےقریب پہنچی تو بات کوبدلنے اور۔۔۔یہ شو کرنے کے لیے کچھ بھی خاص نہیں ہوا فرح بولی۔۔۔ فرح :اشرف بھائی۔۔۔کوئی آئس کریم ہی لے دو۔۔۔آج پہلی بار آپ کے ساتھ آئی ہوں ایسی کنجوسی تو نہیں کرو نہ۔۔۔ اشرف مسکرایااور بولا ہاں ہاں کیوں نہیں ابھی لے دیتا ہوں۔۔۔ اشرف نے فضلو کی دکان کے سامنے اپنی بائیک روک لی اور اُتَر کر فضلو چچا کی دکان میں چلا گیا۔۔۔فضلو چچا بھی مولوی صاحب کی بِیوِی کی طبیعت کا پوچھنے لگےاور دعائیں دینے لگے۔۔۔پِھر اشرف اندر سےدو کورنیٹو آئس کریم لےکر باہر آیااور دونوں فرح کے ہاتھ میں پکڑا دیں۔۔۔فرح نے اشرف کو تھینکس بولا اور سلام کر کے بِلڈنگ میں داخل ہو گئی۔ نیچے گیٹ پر دینو کے پاس ہی اسے بانو مل گئی۔۔۔فرح کو دیکھتے ساتھ ہی فوراً ہی اس کی طرف بڑھی اور بولی۔۔۔ بانو :آگئی آپ فرح بی بی۔۔۔ فرح :ہاں آگئی اور کتنی بار میں نے تم کوکہا ہے کہ مجھے یہ بی بی نہ کہا کرو۔۔۔میں کیا اتنی ہی بوڑھی لگتی ہوں تم کو کہ مجھے تم بی بی بولتی رہتی ہو۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔اچھا جی اچھا۔۔۔سوری فرح جی۔۔۔اب آپ یہ بتاؤ کے بڑی بی بی جی کی طبیعت کیسی ہے ۔۔۔؟؟ فرح خوش ہوتے ہوئے۔۔۔ہاں بانو اب تو بہت اچھی ہےان کی طبیعت۔۔۔بس ایک آدھ دن میں چھٹی بھی ہو جائے گی ان کواور وہ گھر آجائیں گی۔۔۔ بانو :ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔بہت جلد گھر آجائیں گی بی بی جی۔۔۔ دونوں باتیں کرتے ہوئےاوپر چڑھنے لگیں۔۔۔اپنے فلیٹ کی طرف جانےکے لیے۔۔۔ جیسے ہی دونوں فرح کےفلیٹ میں داخل ہونے کے لیےلوک کھولنے لگیں تو میجرکے فلیٹ کا دروازہ کھلااور میجر اپنے فلیٹ سے باہرآیا۔۔۔فرح تو اسے دیکھ کر تھوڑاگھبرا گئی اور خود کو بانو کےپیچھے کر لیا۔۔۔جیسے خود کو بانو کے جِسَم کے پیچھے چُھپا رہی ہو۔۔۔خود کو میجر کی نظروں سے بچانے کے لیے۔۔۔مگر میجر کی نظریں تو اسی پر تھیں۔۔۔بانو نے مسکرا کر میجرکو دیکھا۔۔۔تو میجر بھی ان کی طرف ہی بڑھ آیااور بولا۔۔۔ میجر :کیسی ہو بانواور ہاں فرح تمہاری امی کی طبیعت کیسی ہے اب۔۔۔ فرح جو کہ بِلڈنگ میں آنےکے بعد اُوپر کو چرھتے ہوئےاپنے چہرے پر سے چادر کانقاب ہٹا چکی ہوئی تھی۔۔۔میجر کو سامنے دیکھ کر پِھرسے چادر کا ایک پلو پکڑ کراپنے چہرے کو چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔نقاب کو اپنی ناک تک لاتے ہوئے صرف اپنی خوبصورت آنکھیں ہی میجرکے سامنے رہنے دیں اور تھوڑے گھبراے ہوئےلہجے میں بولی۔۔۔ فرح :جی۔۔۔جی ٹھیک ہے اب امی کی طبیعت۔۔۔ گھر میں میجر کے بارے میں ہوتی رہنے والی بات چیت کی وجہ سے اس کا ذہن بھی میجر کے لیے ویسا ہی سوچتا تھا جیسا کہ سب گھروالے سوچتے تھے۔۔۔وہ بھی میجر کو ایک بہت ہی برا آدمی سمجھتی تھی۔۔۔جس سے ہمیشہ دور رہنے اوربچ کر رہنے کا اُس کے باپ مولوی منصور اور امی نے سکھایا تھا۔۔۔وہ ابھی بھی خوف زدہ نظروں سے میجرکی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔ جس نے ہالف پینٹ اورایک ساندو بنیان پہنی ہوئی تھی۔۔۔جس میں سے اُسکے بازؤں کے بھرپور مسلزبالکل ننگے نظر آ رہے تھے۔۔۔مضبوط بازؤں کے کالے کالےمسلز۔۔۔ پھڑک رہے تھے جیسےاور اُس کے مضبوط اور طاقتور جِسَم کےایسے نظارے کو دیکھ کرفرح اور بھی ڈر رہی تھی۔۔۔اس نے اپنے دونوں ہاتھ بانوکے پیچھے سے اُسکے کاندھے پر رکھ دیے ہوئےتھے۔۔۔اس میں اتنی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ بانو کووہیں چھوڑ کر خود اندر چلی جائےاور جا بھی تو نہیں سکتی تھی نہ۔۔۔کیونکہ چابی پہلے ہی بانو کےہاتھ میں تھی دروازہ کھولنے کے لیےاور بانو۔۔۔بانو کو تو جیسے مزہ آ رہاتھا میجر سے باتیں کرنے میں۔۔۔میجر بات کوآگے بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔ تو کب تک چھٹی ہو جائےگی ان کو ہسپتال سے۔۔۔؟؟؟ فرح پِھر گھبرائی ہوئی آوازمیں :جی وہ ایک دو دن میں ہوجائے گی چھٹی۔۔۔ میجر :اچھا چلو ٹھیک ہے۔۔۔ویسے کوئی کام ہو یا کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھےبتا دینا۔۔۔کچھ چاہیے تو میں لادیتا ہوں نیچے سے۔۔۔فضلو کی دکان تک جا رہاہوں میں۔۔۔ بانو نے مڑ کر فرح کی طرف دیکھا جیسے اس سے پوچھ رہی ہو کہ کچھ چاہیے تو نہیں۔۔۔ فرح :نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔شکریہ۔۔۔کچھ نہیں چاہیے ہے ہمیں۔۔۔ بانو فرح کو دیکھ کر بولی :ارے فرح کیوں ڈر رہی ہومیجر صاحب سے۔۔۔میجر صاحب تو بہت ہی اچھے آدمی ہیں۔۔۔بس ایسےہی لوگوں نے ان کوبدنام کیا ہوا ہے۔۔۔میں تو کہتی ہوں کہ پوری بِلڈنگ میں ان کے جیسامرد کوئی نہیں ہے۔۔۔ بانو نے ایک خاص ادا سےمیجر کی طرف دیکھتےہوئے مسکرا کر کہا تو میجربھی مسکرا دیا۔۔۔ میجر اپنے پیلے دانت نکال کرمسکرایا۔۔۔ ویسے ہمسایہ ہی ہمسائے کےکام آتا ہے نہ۔۔۔چلو کوئی بات نہیں۔۔۔ویسے اگر کچھ بھی چاہیےہو تو ضرور بتانا۔۔۔ یہ کہہ کر میجر نیچےکی سیڑھیوں کی طرف چلاگیااور بانو نے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور دونوں اندر آگیں۔۔۔اندر آئیں تو فرح نے سکون کا سانس لیا۔۔۔ فرح :اف یار۔۔۔یہ میجر تو پیچھے ہی پڑگیاتھا۔۔۔جان ہی نہیں چھوڑ رہا تھا۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔کیوں کیا ہوا۔۔۔اس نے کیا کہہ دیا تھا تم کو۔۔۔؟؟ فرح :ارے یار مجھے تو بڑا ڈر لگتاہے اس غنڈے سے۔۔۔دیکھا نہیں کتنا خوفناک ہےوہ۔۔۔ بانو بولی۔۔۔ارے نہیں فرح۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔اچھا بھلا آدمی ہے۔۔۔ بس بِلڈنگ والوں نے ایسےہی اس کا نام بدنام کیا ہواہے۔۔۔ دونوں کچن میں کھڑی تھیں۔۔۔فرح فریج سے پانی نکالتےہوئے بولی۔۔۔اور تم بڑی تعریفیں کر رہی تھی اس کی۔۔۔کہ بڑا اچھا ہےاور اس جیسا کوئی مردنہیں ہے بِلڈنگ میں۔۔ بانو ہنسی۔۔۔ہی ہی ہی ہی۔۔۔سچ ہی تو کہہ رہی تھی میں۔۔۔بتاؤ تو اُس کے جیسامضبوط اور طاقتور جِسَم ہےکیا کسی کا۔۔۔کتنا تو ہینڈسم ہے۔۔۔ فرح بانو کے بازو پر ایک تھپڑمارتے ہوئے بولی۔۔۔اوئےا وئے۔۔۔بس کر۔۔۔ارادہ کیا ہے تیرا۔۔۔؟؟ بانو ہنسنے لگی۔۔۔ہا ہا ہا ہا۔۔۔میرا کوئی ارادہ نہیں ہے فرح جی۔۔۔ویسے تم کہو تو کرا دوں اس کا بندوبست۔۔۔ فرح :سچ میں تو بڑی ہی کمینی ہےبانو۔۔۔کتنی بار کہا ہے کہ ایسی باتیں نہ کیا کر میرے سے۔۔ پر تجھے تو کوئی شرم ہی نہیں آتی۔۔۔کسی دن ابو نے سن لیا نہ تودیکھنا دونوں کو ہی جان سے مار دیں گے۔۔۔ بانو ہنسی :کن دونوں کو۔۔۔تم کو اور میجر صاحب کوکیا ؟ ؟ ؟ فرح :کمینی ٹھہر جا ذرا۔۔۔تو ایسے باز نہیں آئے گی۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے کچن سےباہر کی طرف بھاگی۔۔۔فرح بھی بانو کی باتوں پرہنسنے لگی اور پِھر پانی پینے کے بعد وہ بھی کچن سے باہر آگئی۔۔۔بانو بیٹھی ہوئی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔۔فرح بھی پاس ہی بیٹھ گئی۔۔۔ بانو :ارے یہ تو یاد ہی نہیں رہاپوچھنا۔۔۔آپ اتنی رات کو آئی کس کےساتھ ہو گھر۔۔۔؟؟ فرح :وہ اشرف بھائی ہیں نہ وہ صباء آپی کو چھوڑنے گئےتھے ہسپتال تو ابو نے مجھےان کے ساتھ ہی بھیج دیا۔۔۔اشرف بھائی ہی چھوڑ کرگئے ہیں مجھے گیٹ پر۔۔۔ بانو :ارے یار یہ کیا تم ہر وقت اشرف بھائی اشرف بھائی لگائے رکھتی ہو۔۔۔اچھا بھلا ہینڈسم آدمی ہے۔۔۔اتنا خوبصورت اور کیوٹ سااور تم اسے بھائی بنائےرکھتی ہو۔۔۔ فرح :تو باز نہیں آئے گی۔۔۔بھائی نہ کہوں تو اور کیاکہوں ان کو۔۔۔؟؟ بانو:ارے پگلی۔۔۔بھائی تو صرف وہی ہوتا ہےجس سے شادی نہ ہو سکےاور ان اشرف صاحب کو توآج بولو تو ابھی تمہاراگھونگھٹ اٹھانے کو تیار ہوجائیں یہ آپ کےاشرف بھائی۔۔۔ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔ فرح بھی بانو کی باتوں کوانجوئے کر رہی تھی۔۔۔پتہ نہیں تو کیا کیا بکواس کرتی رہتی ہے۔۔۔ پاگل ہے تو تو بس۔۔۔تیرے دماغ میں تو بس ہروقت یہی باتیں سوار رہتی ہیں۔۔۔اچھا یاد آیا۔۔۔وہ میں نے ابھی فریج میں کورنیٹو رکھیں ہیں جلدی سے وہ تو اٹھا لا۔۔۔ بانو اٹھ کر گئی اور فریج سے کورنیٹو اٹھا لائی۔۔۔ایک فرح کو دے دی اور دوسری خود لے کر بیٹھ گئی۔۔۔ بانو :اچھا کیا آپ نےجو کورنیٹو لے آئیں۔۔۔بہت دِل کر رہا تھا آئس کریم کھانے کا۔۔۔ فرح کورنیٹو کا ریپیر کھول کر اسے اُوپر سے چاٹنے لگی اور بولی۔۔۔ہاں میرا بھی دِل کر رہا تھاتو میں نے اشرف بھائی کوبولا تو انہوں نے لے کر دی۔۔۔ بانو :پِھر وہی بھائی۔۔۔ویسے بڑے چالاک ہیں آپ کےیہ اشرف بھائی۔۔۔ فرح :کیوں اب کیا ہوا۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔دیکھ نہیں رہی کہ اس نے تم کو کورنیٹو لے کر دی ہےاور کپ والی آئس کریم نہیں۔۔۔ فرح بانو کو گھورتے ہوئےبولی۔۔۔کیوں اِس میں ایسی کونسی بات ہے یار اب۔۔۔ بانو اپنی زبان لمبی نکال کر کورنیٹو کو لک کرتے ہوئےبولی۔۔۔ارے وہ تم کو ٹریننگ دیناچاہتا ہے نہ تیرا اشرف بھائی۔۔۔ فرح حیران ہوتے ہوئے۔۔۔کیسی ٹریننگ۔۔۔؟؟ بانو نے اپنی آئس کریم کواُوپر کو اٹھا کر پکڑا اوراسے چاروں طرف سے اپنی زبان سے لک کرنے لگی اور پِھر اُس کے اُوپر کےحصے کو تھوڑا سا اپنے منہ میں لے کر اپنے سر کو اُوپرنیچے کرتے ہوئے اسےچوس کر بولی۔۔۔ اِس کام کی ٹریننگ تاکہ کل کو آپ کو دکت نہ ہو نہ یہ کرنے میں جب اصلی والی کون آپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔۔۔ فرح بانو کی بات کو سمجھ گئی۔۔۔اپنے پاس صوفہ پر پڑا ہواکشن اٹھا کر بانو کو مارتے ہوئے بولی۔ بڑی ہی کمینی ہے توقسم سے۔۔۔ہر وقت تیرا دماغ یہی باتیں سوچتا رہتا ہے گندی گندی۔۔۔ بانو :ارے ابھی تو تم یہی کہتی ہونہ کے گندی باتیں ہیں۔۔۔جب اصلی میں چوسہ لگاؤگی تب جو مزہ آئے گا نہ پِھریاد کرو گی میری باتیں۔۔۔ فرح :اچھا اچھا۔۔۔جب ہو گا دیکھا جائے گا۔۔۔پر تب بھی تیری طرح نہیں ہو جاؤں گی کہ ہر وقت دماغ ادھر ہی لگائے رکھوں۔۔۔کبھی وہ میجر اور کبھی اشرف بھائی کے بارے میں بولتی رہتی ہو۔۔۔لگتا ہے کہ تمہاری دونوں پرہی نیت خراب ہے۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔میجر کا تو پتہ نہیں۔۔۔پر تمہارے وہ اشرف بھائی پر ضرور خراب ہے میری نیت۔۔۔دیکھتی نہیں ہو کیسا چکنالڑکا ہے۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ فرح ہنستے ہوئے۔۔۔شرم کر بانو شرم۔۔۔ بانو ہنسی اور فرح کو آنکھ مار کر بولی۔۔۔ویسے اگر تمہارا کوئی ارادہ ہے اشرف کے بارے میں تو بتا دو میں پیچھے ہٹ جاتی ہوں۔۔۔ فرح :کمینی۔۔۔وہ شادی شدہ ہےاور آپی کو پتہ چل گیا نہ تیری باتوں کا تو تیراچہرہ نوچ دے گی۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔ارے فرح جی۔۔۔شادی شدہ ہے تو کیا ہوا۔۔۔شادی شدہ آدمی توزیادہ تجربہ کار ہوتا ہے اس کام میں۔۔۔ویسے ایک مشورہ دوں تم کو۔۔۔؟؟ فرح :کچھ بکواس ہی کرے گی۔۔۔پر بول۔۔۔ بانو :میں تو کہتی ہوں کہ لے لومزے اس چکنے سے۔۔۔موقع ملے تو چھوڑنا نہیں قسم سے۔۔ ویسے تو چاہے کچھ کرے نہ کرے پر۔۔۔تیرا وہ اشرف بھائی کبھی تجھے ہاتھ سے نہیں نکلنے دے گا اگر اسے موقع ملا تو۔۔۔ فرح کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔۔وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنےکمرے میں جاتے ہوئے بولی۔۔۔ تجھے تو نہ شرم آنی ہے اورنہ ہی تیری بکواس بند ہونی ہے۔۔۔ اور ہنستے ہوئے اپنے کمرےمیں چلی گئی۔۔۔فرح اپنے کمرے میں چلی گئی اور اپنے کپڑے لے کر باتْھ روم میں آگئی۔۔۔نہانے کے لیے۔۔۔نہاتے ہوئے اسے بانو کی باتیں یاد آنے لگیں۔۔۔وہ مسکرانے لگی۔۔۔پِھر اسے یاد آیا کہ جب اس کا جِسَم اور اُس کے ممےاشرف کے جِسَم سے ٹکراے تھے تو اسے کتنااچھا لگا تھا۔۔۔کیسے کرنٹ سا دوڑ گیا تھااُس کے جِسَم میں۔۔۔شاور کے نیچے کھڑے ہوئےہی اس نے اپنی آنکھیں بندکیں اور اپنے جِسَم کو سہلاتے ہوئے اسی منظرکو یاد کرنے لگی۔۔۔اسے اپنا جِسَم اشرف کی کمرسے ٹچ ہوتا ہوا محسوس ہوااور اسے یہ بھی یاد آیا کہ جب وہ بائیک سے نیچے اتری تھی تو اشرف نے سیدھا اُس کے مموں کی طرف دیکھا تھااور پِھر آئس کریم پکڑاتے ہوئے بھی اسکی نظریں اُس کے مموں پرہی تھیں۔۔۔وہ سوچنے لگی۔۔۔کیا سچ میں اشرف اُس کےمموں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔یہ سوچتے ہوئے اُس کے ہاتھ اپنے مموں پر تھے۔۔۔جن کو وہ آہستہ آہستہ سہلا رہی تھی۔۔۔ آنکھیں بند کئے ہوئے ہی۔۔۔تو کیا سچ میں اگر اشرف کوموقع ملے تو وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔۔۔کیا کرے گا وہ۔۔۔کرے گا کیا آخر۔۔۔جیسے ہی یہ سوچا تو اُسکے پورے جِسَم میں ایک مستی اور کرنٹ کی لہر سےدوڑ گئی اور اچانک ہی ایک جھٹکا سامحسوس ہوا اسے۔۔۔اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان۔۔۔اپنی چوت پر۔۔۔یا شاید چوت کے اندراور اسی جھٹکے کے اثر میں ہی اس کا ایک ہاتھ اُس کےاپنے چکنے جِسَم سے پھسلتاہوا۔۔۔نیچے آ گیا۔۔۔اپنی چوت پراور ایک لمحے کے لیے تو اپنی چوت کو اس نے اپنی مٹھی میں لے لیا۔۔۔جِسَم کانپنے لگا۔۔۔ماتھے پر شکنیں پڑنے لگیں۔۔۔آنکھیں اور بھی زور سے بندہونے لگیں۔۔۔ٹانگوں میں سے جان نکلنےلگی۔۔۔شاور کو چلتا ہوا ہی چھوڑکر نیچے فرش پر بیٹھنے لگی۔۔۔دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔۔۔ہاتھ ابھی بھی اپنی چوت پرہی تھی۔۔۔بالکل کنواری۔۔۔گلابی۔۔۔ان ٹچ چوت پر۔۔۔اب اُس کے اپنے ہاتھ کی ہی ایک انگلی آہستہ آہستہ اپنی چوت کے لبوں کو سہلانے لگی اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔۔آج اس کا یہ کرنے کا پہلاموقع تھا۔۔۔کچھ نہیں پتہ تھا کہ کرنا کیاہے اور کیسے کرنا ہےاور کچھ ایسا کرتے بھی ہیں یا نہیں۔۔۔مگر۔۔۔اس کو گائیڈ کرنے کے لیے۔۔۔نیچر جو تھی۔۔۔خود ہی اس کی انگلی آہستہ آہستہ اپنی چوت کےلبوں کو سہلا رہی تھی۔۔۔اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔۔بہت مزہ آ رہا تھا۔۔۔اپنی چوت کے لبوں پر ہی اُوپر نیچے انگلی پھیرتے ہوئےایک جگہ پر اس کی انگلی ٹکرائی تو اس کا جِسَم جیسے اچھل ہی پڑا۔۔۔کرنٹ سا لگا۔۔۔مگر اچھا بھی بہت لگا۔۔۔اگلے ہی لمحے دوبارہ سےاسی جگہ کو چھیڑنے لگی۔۔۔چوت کے لبوں کے اُوپر کےحصے پر۔۔۔انگلی پھیرنے لگی تو ایک چھوتا سا اُبھار سا محسوس ہونے لگا۔۔۔جیسے۔۔۔جیسے۔۔۔ایک چھوٹا سا دانا سا ہو۔۔۔اسے جیسے ہی ٹچ کرتی تو عجیب سا مزہ آتااور اتنا اچھا لگا کہ اس کی انگلی اب اسی جگہ کو رگڑنے لگی۔۔۔آنكھوں کے سامنے پِھر سے اشرف آ گیا۔۔۔خود کو اس کی بانہوں میں جاتے ہوئے محسوس کرنے لگی۔۔۔اس کا چہرہ اپنے چہرے پرجھکتا ہوا اوراُس کے ہونٹوں کو اپنےہونٹوں کے قریب آتا ہوامحسوس کرنے لگی۔۔۔اشرف کی بانہوں نے اُس کےنازک سے جِسَم کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔۔۔اسے ایک الگ ہی احساس ہورہا تھااور پِھر جیسے ہی اشرف کےہونٹ اُس کے ہونٹوں پر آئےتو اس کی چوت کے اندرجیسے ایک طوفان سا آ گیا۔۔۔پُورا جِسَم ہی کانپ گیااور ہلنے لگا۔۔۔ چوت کےاندر جھٹکے سے لگنے لگے۔۔۔پتہ نہیں کیا ہوا۔۔۔مگر ایسا ضرور لگ رہا تھا کہ جیسے اس کی چوت کے اندرسے کچھ نکل رہا ہو۔۔۔اس کی انگلی کی رگڑ خودسے ہی اور بھی تیز ہو گئی اس چھوٹے سے دانے پراور چند لمحوں کے بعد ہی اس کا جِسَم ڈھیلا ہو گیا۔۔۔اس کی سانسیں تیز تھیں اور وہ خود کو سنبھال رہی تھی۔۔۔یہی سوچتے ہوئے کہ آخر یہ سب کچھ ہوا کیا ہے۔۔۔اچھا ہوا ہے یا برا۔۔۔یہ تو پتہ نہیں۔۔۔مگر یہ ضرور ہے کہ اسےاچھا ضرور لگا ہے۔ جلدی سے فرح نے خودکو سنبھالا اور اٹھ کر نہانےلگی۔۔۔فرح۔۔۔مولوی منصور صاحب کی بیٹی۔۔۔جو صرف انیس بیس سال کی تھی۔۔۔پتلہ سا جِسَم۔۔۔نازک سا۔۔۔انتہائی گورا رنگ۔۔۔بالکل سفید۔۔۔مکھن کی طرح نرم اور چکنا۔۔۔آنکھیں جیسے شہد کا کلر ہو۔۔۔ لمبے لمبے کالے بال۔۔۔بہت ہی معصوم سا اورکیوٹ سا چہرہ تھا۔۔۔گروتھ اُس کے جِسَم کی اچھی ہو رہی تھی۔۔۔سینے پر خوبصورت سےاُبھار تھے۔۔۔جو قریب 34 سائز کے ہو گے۔۔ بنا برا کے بھی بالکل تنےرہتے تھے۔۔۔ذرا سا بھی ڈھیلا پن نہیں تھا دونوں میں۔۔۔پُورا جِسَم ہی سفیداور ملائم تھا۔۔۔مگر مموں کی بات ہی کچھ الگ تھی۔۔۔اپنے چہرے کی طرح خودبھی بہت معصوم تھی۔۔۔دنیا کی اونچ نیچ سے بے خبر۔۔۔کہ کوئی اُس کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔۔۔یا کیا محسوس کرتا ہے۔۔۔لیکن یہ ضرور اس کی ماں اور باپ نے سکھا دیا ہوا تھاکہ جب بھی باہر نکلو تو اپنےجِسَم کو اور چہرےکو ڈھانپ کر نکلنا ہے۔۔۔بانو ان کے گھرکا کام بھی کرتی تھی اور اس کی دوست بھی تھی۔۔۔ہمیشہ ہی اس سے کوئی نہ کوئی الٹی سیدھی بات کرتی رہتی تھی اُس کے امی ابو سے نظر بچا کراور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہوئی۔۔۔فرح کو بھی بانو کی ان باتوں سے مزہ آتا تھا۔۔۔اس کی یہ سیکسی سیکسی باتیں اچھی لگتی تھیں۔۔۔ایک عجیب سی لذت ملتی تھی اسے۔۔۔اسی لیے وہ اسے روکتی بھی رہتی تھی مگر مزے بھی لیتی رہتی تھی اور اِس بات کا بانو کو بھی انداذہ تھا اسی لیے وہ کبھی بھی اُس کے بار بار روکنے پربھی اپنی باتوں سے باز نہیں آتی تھی۔۔۔صباء کے شوہر اشرف کوہمیشہ اس نے بھائی ہی کہاتھا اور بھائی ہی سمجھا تھا۔۔۔مگر آج اس کے جِسَم کےساتھ اس کا جِسَم جب ٹکرایا تھا تو اسے جوعجیب سا مزہ آیا تھا اس نےاس کی سوچ کو بَدَل دیا تھااور پِھر اُوپر سے جلتی پرتیل کا کام بانو کی باتوں نےکیا تھااور اسی وجہ سے اسے پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا۔۔۔لیکن یہ اسے پتہ تھا کہ یہ سب کچھ ہوا اشرف کو یادکر کے ہی ہےاور اب خود سے ہی وہ سوچ رہی تھی کہ کہتی تو بانوبھی ٹھیک ہے کہ اشرف سچ میں بہت خوبصورت اوروہ کیا کہہ رہی تھی۔۔۔ہاں۔۔۔چکنا ہے۔۔۔لکی ہیں ویسے صباء آپی۔۔۔فرح خود سےہی مسکراتے ہوئے نہا رہی تھی اور پِھر وہ نہاکر فارغ ہوگئی اور ٹاول سے اپنا جِسَم صاف کرنے لگی۔۔۔پِھر اس نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر بانوکو آواز دی۔۔۔ فرح :بانو ذرا میرے کپڑے تو نکال کر دینا یار۔۔۔بانو فوراً ٹی وی لونج سےکمرے میں آگئی اور فرح کی کبرڈ کھول کرکھڑی ہو گئی۔۔۔اس میں سے اس نے کافی دیر تک ڈھونڈھنے کے بعد ایک شلوار اور ریڈ کلر کی قمیض نکال لی۔۔۔قمیض اس نے ایسی نکالی تھی جوکہ نیچے شمیض پہنے بنا بالکل بھی نہیں پہنی جا سکتی تھی۔۔۔یعنی اِس قمیض کا لازمی حصہ نیچے کی شمیض تھی ورنہ یہ خود تو ایک بہت ہی باریک کپڑے کی تھی جوکہ کچھ بھی جِسَم نہیں چُھپا سکتی تھی۔۔۔ بانو نے دونوں کپڑے فرح کے حوالے کیے۔۔۔فرح نے قمیض دیکھی توبانو کی شرارت سمجھ گئی۔۔۔ فرح :بانو۔۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔لا باقی کے کپڑے بھی دے نہ اس کے۔۔۔اس کی شمیض۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔ارے فرح یار آجاؤ یہی پہن کر۔۔۔یہاں کون سا کوئی ہے میرے سوا۔۔۔دیکھوں تو سہی کہ کیسےلگتی ہو تم اِس میں۔۔۔ فرح :نہیں پلیز۔۔۔پلیز مجھے شمیض دو اس کے ساتھ کی۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔نہ جی نہ۔۔۔آج تو آپ کو یہی پہن کے آناپڑے گا۔۔۔ فرح ہنستے ہوئے اور ہارمانتے ہوئے۔۔۔اچھا چل میری برا تو دے نہ۔۔۔وہ تو پہننے دو۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔اچھا چل کیا یاد کرو گی تم بھی۔۔۔لا دیتی ہوں۔۔۔ بانو نے فرح کی الماری کےایک حصے سے اُس کے لیےاس کی کلیکشن میں سے ایک سفید کلرکی برا نکال لی اور لا کر فرح کو دے دی۔۔۔فرح نے سفید برا پہنی اوراُوپر سے وہی ٹرانسپیرینٹ قمیض پہن لی۔۔۔نیچے سے شلوار پہن کر خودکو شیشے میں دیکھا تو۔۔۔اس کا پورے کا پُورا جِسَم اس قمیض میں سے جھانک رہا تھااور برا بھی بالکل اوپن ہی دِکھ رہی تھی۔۔۔فرح ہنستے ہوئے باہر آئی۔۔۔اُس کے چہرے پر شرم کی لالی بھی تھی۔۔۔ فرح :بانو تو بہت ہی بدتمیز ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔ارے کیا ہو گیا ہے۔۔۔اتنی تو اچھی لگ رہی ہو آپ اور پِھر یہاں کون سا کوئی تم کو دیکھ رہا ہے۔۔۔ فرح :اچھا چل اب زیادہ باتیں کرنابند کر اور کھانا کھا کر سوتےہیں پِھر صبح اٹھ کر ہسپتال بھی جانا ہے نہ۔۔۔ بانو اور فرح ٹی وی لونج میں ہی کھانا کھانے لگیں۔۔۔آہستہ آہستہ فرح کو اپنے برہنہ پن کا احساس ختم ہورہا تھا۔۔۔بانو بھی زیادہ اسے احساس نہیں دلا رہی تھی کے اس کاجِسَم کس حد تک ننگا ہے۔۔۔کھانا کھانے کے بعد بانو نےبرتن سمیٹے اور پِھر بولی۔۔۔ بانو :فرح آپ ٹی وی دیکھو میں دس منٹ میں نیچے اپنےکمرے سے ہو کر آتی ہوں پِھرسوتے ہیں۔۔۔ فرح :جلدی آنا۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے۔۔۔ بانو دروازے سے باہر جاتےہوئے۔۔۔بس ابھی آئی میں دس منٹ میں۔۔۔ آٹو لوک تھا دروازہ۔۔۔بانو جاتے ہوئے دروازہ لوک کر گئی۔۔۔کھولنا اب اندر سے ہی تھا اور یا پِھر باہر سے چابی سےہی کھل سکتا تھا۔۔۔مگر بانو کے پاس تو چابی نہیں تھی نہ۔۔۔اِس لیے فرح کو انتظار کرناتھا کہ بانو آئے تو وہ دروازہ کھولے اُس کے لیے۔۔۔اِس لیے وہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگی۔۔۔بانو فرح کے پاس سے نکلی اور سیدھی میجر کے فلیٹ پر پہنچی۔۔۔ہلکے سے نوک کرنے پر میجرنے دروازہ کھولا۔۔۔بانو کو دیکھتے ہی اس کاہاتھ پکڑ کے اندر گھسیٹ لیااور لگا اسے چومنےلگا۔۔۔ بانو:بس بس میجر صاحب۔۔۔کسی اور کی لگائی ہوئی آگ میرے ساتھ تو نہ بجھاؤ نہ۔۔۔ میجر ہنستے ہوئے۔۔۔کیا مطلب ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ بانو:میں سب دیکھ رہی تھی کہ کیسے آپ فرح کو دیکھ رہےتھے۔۔۔بھوکی نظروں سے۔۔۔ میجر بانو کے مموں کو دباتےہوئے بولا۔۔۔ارے یار۔۔۔کسی طرح سے آج کی رات اس کنواری کلی کی چوت دلوا دے نہ توجو مانگے گی دوں گا تجھے۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔نہیں ابھی مشکل ہے۔۔۔پر آپ کے لیے تھوڑی مستی کا بندوبست کیا ہے۔۔۔ ارادہ ہے تو بتاؤ۔۔۔ میجر :کیسی مستی۔۔۔جلدی بول نہ۔۔۔ بانو :اچھا تو جا کر ذرا فرح کادروازہ نوک کر۔۔۔پِھر دیکھنا کیا نظارہ ملتا ہےدیکھنے کو۔۔۔ میجر :ارے ٹھیک ٹھیک بتا نہ کیاہو گا۔۔۔ بانو ہنسی۔۔۔یہ نہیں بتاؤں گی میں۔۔۔خود ہی دیکھ لینا جا کر۔۔۔مگر کچھ بھی نہیں کرنا سمجھے۔۔۔ورنہ سارا کام خراب ہو جائےگا دیکھنا۔۔۔ میجر بولا۔۔۔اچھا چل ٹھیک ہے چل۔۔۔ بانو :نہیں۔۔۔میں نہیں جاؤں گی۔۔۔آپ اکیلے ہی جاؤ اور جلدی واپس آنا۔۔۔ بانو میجر کے فلیٹ پر ہی رک گئی اور میجر فرح کے فلیٹ کی طرف بڑھا۔۔۔جو بالکل سامنے ہی تو تھا۔۔۔میجر نے جا کر فرح کےدروازے کو ہلکا سا نوک کیااور انتظار کرنے لگا۔۔۔چند لمحوں میں ہی دروازہ کھلا اور ساتھ ہی میجر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گیں۔۔۔میجر کے سامنے خوبصورت اور جواں فرح۔۔۔ایک بہت ہی باریک قمیض پہنے ہوئے کھڑی تھی۔۔۔جس کے نیچے پہنا ہوا اس کاسفید رنگ کابرابھی بالکل صاف نظرآ رہا تھا۔۔۔برا کے کپس کا کٹاؤ بیچ میں سے سائیڈ کوجا رہا تھا۔۔۔برا کے درمیان میں سے اس کا گورا گورا کلیویج اورمموں کا تھوڑا سا حصہ بھی دِکھ رہا تھا۔۔۔گورا گورا پیٹ اور پُورا جِسَم تو صاف ہی نظر آ رہا تھا۔۔۔میجر تو جیسے آنکھیں جھپکنا ہی بھول گیا۔۔۔دروازہ تو فرح نے بانو کے لیےکھولا تھا۔۔۔مگر اچانک سے اپنے سامنےمیجر کو دیکھ کر وہ گھبراسی گئی۔۔۔سمجھ نہیں آئی کے کیا کرے۔۔۔میجر کی نظریں اپنے جِسَم پر جمی ہوئی محسوس ہوئیں تو فوراً ہی اسےخیال آیا کہ اس نے خود کیاپہنا ہوا ہے۔۔۔یہ خیال آتے ہی اس کی توجیسے جان ہی نکل گئی۔۔۔جھٹ سے دروازہ بند کیااور دروازے سے ٹیک لگا کرکھڑی ہو گئی۔۔۔لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔۔ فرح :اف ف ف۔۔۔ یہ کیا ہو گیا۔۔۔یہ کہاں سے ٹپک پڑااِس وقت اور کمینے نے سب کچھ دیکھ لیا۔۔۔ فرح تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اِس وقت میجر اُس کے فلیٹ پرنوک کر سکتا ہے۔۔۔ کچھ ہی دیر میں دوبارہ نوک ہوا اور ساتھ ہی بانو کی آواز آئی۔۔۔دروازہ کھولو فرح بی بی۔۔۔ فرح نے دروازہ کھولا لیکن اِس بار خود کو دروازے کےپیچھے ہی رکھا۔۔۔بانو اندر داخل ہو گئی۔۔۔جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہواور اسے کسی بات کا نہ پتہ ہو۔۔۔ فرح :کہاں چلی گئی تھی تم بانو۔۔۔ بانو :بتا کہ تو گئی تھی کے نیچےجا رہی ہوں۔۔۔خیر تو ہے نا کوئی مسئلہ ہواہے کیا۔۔۔ فرح خاموش ہوتے ہوئے۔۔۔نہیں کچھ نہیں ہوا۔۔۔چل آ سونے چلتے ہیں۔۔۔ یہ کہہ کر فرح اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھی تو بانوبھی مسکراتے ہوئے اُس کےپیچھے پیچھے چل پڑی۔۔۔اس کی نظر فرح کی بیک پرہی تھی۔۔۔اس کی باریک قمیض میں سے اس کا گورا گورا جِسَم بالکل ننگا نظر آ رہا تھااور کمر پر اس کے سفیدرنگ کی برا کےاسٹراپس اور ہکس بہت ہی سیکسی لگ رہے تھے۔۔۔تھوڑا آگے ہو کر اپنا ہاتھ فرح کی کمر پر رکھااور بولی۔۔۔ بانو :قسم سے بہت ہی سیکسی لگ رہی ہو تم اِس ڈریس میں تو۔۔۔ فرح نے پیچھے مڑ کر اسےگھورااور پِھر مسکرا کر بولی۔۔۔بکواس نہ کر۔۔۔ یہ کہتے ہوئے فرح اپنے بیڈ پرلیٹ گئی۔۔۔بانو بھی اُس کے پاس ہی لیٹ گئی اور اپنا ہاتھ فرح کی قمیض کے اُوپر سے اُس کے پیٹ پررکھتے ہوئے بولی۔۔۔ بانو :کوئی بکواس نہیں کر رہی میں۔۔۔سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔قسم سے اگر کوئی مرد تم کواِس حالت میں دیکھ لے نہ تووہیں اپنی جان دے دے۔۔۔ فرح ہنستے ہوئے :تو پِھر سے شروع ہو گئی ہےنہ۔۔۔ بانو اپنی جگہ سے اٹھتےہوئے بولی۔۔۔اگر یقین نہیں آ رہا تو بلاؤں میں سامنے سے میجر صاحب کو دیکھنا تم کو ایسے دیکھ کر کیسے اس کی جان نکلتی ہے۔۔۔ فرح نے گھبرا کر اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔۔۔چُپ کر کے لیٹ جا نہیں تولگاؤں گی تیرے دو ہاتھ۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے دوبارہ لیٹ گئی۔۔۔فرح نے بھی دوسری طرف اپنا منہ کر لیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔مگر اس کی آنكھوں میں نیند کے بجائے۔۔۔وہی منظر گھوم رہا تھا کہ جب وہ اسی سیکسی ڈریس میں میجر کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔خود کو لعنت کر رہی تھی۔۔۔پتہ نہیں وہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہو گا۔۔۔کتنا برا امپریشن پڑا ہے نہ میرا اس پر۔۔۔کیا سوچے گا کہ میں گھرمیں ایسے کپڑے پہنتی ہوں۔۔۔سب کچھ اِس کمینی بانوکی وجہ سے ہوا ہے جو اس نے میرے جِسَم کو ایسے ننگادیکھ لیا ہے۔۔۔بانو نے اس کی کمر پرپیچھے سے ہاتھ رکھا اور آہستہ آہستہ اسے سہلانے لگی۔۔۔ بانو :فرح جی آپ تھک گئی ہوگی کہو تو تمہارا جِسَم دبا دوں۔۔۔ فرح ہنس پڑی اور اس کی طرف منہ کر کے لیٹتے ہوئےبولی۔۔۔مجھے پتہ ہے کیوں تو میراجِسَم دبانا چاہتی ہے۔۔۔کتنی بار تجھے سمجھایا ہےکہ مجھے ایسی باتوں کاکوئی شوق نہیں ہے جو تو ہر وقت کرنے کا سوچتی رہتی ہے۔۔۔ بانو اپنا ہاتھ فرح کے بازو پررکھتے ہوئے بولی۔۔۔بس کیا کروں۔۔۔تم کو دیکھ کر خود پر کنٹرول ہی نہیں ہوتا۔۔۔پتہ نہیں تیرے وہ اشرف بھائی کیسے خود کوکنٹرول کرتے ہیں۔۔۔ فرح ہنسی۔۔۔تو تو بس اشرف بھائی کےپیچھے ہی پر گئی ہے۔۔۔ بانو :یقین نہیں آ رہا نہ تو کل کوذرا اسی ڈریس میں اُسکے سامنے آ کر تو دیکھو ذراپِھر دیکھتی ہوں کیسے کنوارہ پن بچاتی ہو تم اپنے اسے بھائی کے ہاتھوں۔۔۔ فرح ہنستے اور شرم سے لال ہوتے ہوئے۔۔۔شرم کر شرم۔۔۔ بانو :اچھا چل کل آزما تو سہی اپنے بھائی کو۔۔۔کل صبح کو اسے بلاتے ہیں گھر پر پِھر دیکھتے ہیں کیاکرتا ہے وہ۔۔۔ فرح :کل صبح کیسے۔۔۔وہ تو آپی کو لے کر آتے ہیں ہسپتال سے۔۔۔ بانو نے جب فرح کی تھوڑی سی رضامندی دیکھی توفوراً بولی۔۔۔ایک آئیڈیا ہے میرے دماغ میں کہ اسے کہتے ہیں کہ آکر ناشتہ بھی لے جائے اور تم کو بھی ہسپتال لے جائے گا۔۔۔ فرح :نہیں نہیں۔۔۔ان کو کیسے کہہ سکتے ہیں۔۔۔وہ تو ابھی کام پر ہیں۔۔۔ بانو نے فوراً اپنا موبائل نکالااور بولی میں ابھی کال کردیتی ہوں۔۔۔ فرح حیران ہو کر :تیرے پاس ان کا نمبر ہے کیا۔۔۔؟؟ بانو :ارے فرح یار میں ان کے گھرپر کام کرتی ہوں تو صباءباجی سے لے لیا تھا نہ۔۔۔ فرح :اچھا رک۔۔۔نہ ملانا نمبر۔۔۔ابھی رک۔۔۔ مگر بانو نے کال ملا لی اور چند لمحوں کے بعد ہی اشرف نے فون اٹینڈ کر لیااور بانو کا نمبر دیکھ کر بولا۔۔۔ اشرف :کیا بات ہے بانو اِس وقت کیوں کال کر رہی ہو۔۔۔میں نے روکا بھی تھا کہ اب کوئی رابطہ نہیں کرنا میرےسے پتہ تو ہے تم کو سب۔۔۔ بانو اس کی بات کو نظر اندازکر کے بولی۔۔۔یہ فرح میم صاحب نے آپ سے کچھ بات کرنی تھی لیں کریں ان سے بات۔۔۔ اشرف گھبرا گیا کہ فرح نےاِس وقت کیا کہنا ہے۔۔۔بانو نے موبائل فرح کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔۔۔فرح جو انکار میں سر ہلارہی تھی اب اسے بات کرنی پڑ گئی۔۔۔ فرح :ہیلو۔۔۔ اشرف :ہیلو۔۔۔ہاں بولو۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔؟؟ فرح :غصے سے بانو کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔وہ میں کہہ رہی تھی کہ آپ صبح یہاں گھر آ سکتے ہیں پلیز۔۔۔وہ ناشتہ لے کر جانا ہے ابو کاتو آپی کو لینے کے ساتھ ہی ناشتہ بھی چلا جائے گا اورمیں بھی ساتھ ہسپتال چلی جاؤں گی۔۔۔ اشرف نے چند لمحے کےلیے سوچا۔۔۔اچھا ٹھیک ہے میں آ جاؤں گا۔۔۔ فرح :نہیں اگر کوئی پرابلم ہے توکوئی بات نہیں۔۔۔ اشرف :نہیں نہیں میں آ جاؤں گاصبح ساڑھے آٹھ تک۔۔۔ فرح :او کے۔۔۔پِھر بائے۔۔۔ یہ کہہ کر فرح نے فون بند کردیااور فون بند کرتے ساتھ ہی تکیہ اٹھا کر بانو کو مارنےلگی اور وہ آگے سے ہنستے جارہی تھی۔۔۔ دیکھا نہ میں نے کہا تھا نہ کہ بھاگے چلیں آئیں گیں آپ کے اشرف بھائی۔۔۔ فرح بھی ہنسنے لگی اور پِھر اٹھ کر واش روم میں چلی گئی۔۔۔فرح کے جانے کے بعد بانو نےصباء کو کال ملائی۔۔۔جو کہ ہسپتال میں تھی مولوی صاحب اور آنٹی کےپاس۔۔۔ صباء :ہیلو۔۔۔ہاں بانو بولو کیا بات ہے۔۔۔ بانو ہنستے ہوئے۔۔۔لگتا ہے میں نے آپ کے مزےکو خراب کر دیاہے۔۔۔ صباء اَٹھ کر تھوڑا سائیڈ پرہوگئی مولوی صاحب سے۔۔۔ کمینی کوئی ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ بانو :تو کیا کام ہوا نہیں ابھی تک مولوی صاحب کا۔۔۔ صباء ہنسی۔۔۔ہاں وه تو ہو گیا ہے پر ابھی تو کچھ نہیں کر رہی تھی نہ۔۔۔ بانو :واہ۔۔۔کیسا رہا پِھر۔۔۔مزا آیا نہ۔۔۔ صباء ہنستے ہوئے۔۔۔بکواس بند کر پِھر بتاؤں گی تم کو جب ملو گی تواور چل اب فون بند کر۔۔۔ بانو :اوکے اوکے۔۔۔آپ اپنے مزے کرو۔۔۔میں سوتی ہوں۔۔۔ صباء نے فون بند کر دیا تومولوی صاحب بولے۔۔۔کس کا فون تھا۔۔۔ صباء :وه بانوکا فون تھا آنٹی کی طبیعت کا پوچھ رہی تھی۔۔۔ مولوی صاحب :اوہ اچھا۔۔۔فرح کے پاس ہی ہو گی نہ۔۔۔ صباء :جی مولوی صاحب۔۔۔ صباء دوبارہ سے آنٹی کےپاس گئی تو اب ان کو نیند آرہی تھی۔۔۔وه ان کے سرہانے بیٹھ کر ان کا سر سہلانے لگی۔۔۔کچھ ہی دیر میں آنٹی کی آنکھ لگ گئی۔۔۔تو صباء نے مولوی صاحب کی طرف دیکھا۔۔۔وه صباء کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔۔۔تو صباء نے شرما کر اپنا سرجھکا دیا۔۔۔ مولوی صاحب صوفہ پر ہی بیٹھے تھے۔۔۔ بولے۔۔۔صباء۔۔۔ صباء نے اپنی نظریں اٹھا کردوبارہ جھکائیں اور بولی :جی۔۔۔ مولوی صاحب نے اپنےبازو پھیلائے اور بولے۔۔۔ادھر تو آؤ۔۔۔ صباء کا چہرہ شرم سے لال ہونے لگا اور شرارت سےمولوی صاحب کو دیکھتےہوئے بولی۔۔۔ نہیں آنا مجھے آپ کے پاس۔۔۔ مولوی صاحب اپنی سیٹ سے اٹھتے ہوئے بولے۔۔۔اچھا تم نے نہیں آنا تو میں خود آ جاتا ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر وه اٹھے اور صباءکی طرف بڑھےاور آگے آ کر اس کا ہاتھ پکڑکر اسے اپنی طرف کھینچنے لگے۔۔۔صباء ہلکی سی مزاحمت کرتے ہوئے بولی۔۔۔ صباء :اچھا اچھا آتی ہوں۔۔۔پہلے لائٹ تو بند کریں۔۔۔ مولوی صاحب نے کمرے کی لائٹ بند کر دی۔۔۔اب صرف باتھ روم کےتھوڑے سے کھلے ہوئےدروازے میں سے ہی اندر کی لائٹ آ رہی تھی۔۔۔جس سے کمرے میں تھوڑی روشنی ہو رہی تھی۔۔۔مولوی صاحب دوبارہ سے صوفہ پر بیٹھ گئے توصباء اپنا سر جھکائے ہوئےآہستہ آہستہ مولوی صاحب کی طرف بڑھی۔۔۔شرماتی ہوئی۔۔۔لہراتی ہوئی۔۔۔ دھیمے قدموں سے۔۔۔مولوی صاحب پر بجلیاں گراتی ہوئی۔۔۔جیسے ہی مولوی صاحب کےقریب پہنچی تو مولوی صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑکر کھینچا اور اسے اپنی رانوں پر بِٹھا لیا اپنی گودمیں اور صباء بھی جیسے ان کی آغوش میں سما سی گئی۔۔۔اپنا سر مولوی صاحب کے کاندھے پر رکھ کر چُھپالیااور ان کی بانہوں میں سمٹ سی گئی۔۔۔مولوی صاحب جیسی بھرپوراور باروب شخصیت کی بانہوں میں اِس طرح سےسما کر صباء کو بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔۔۔ایک عجیب سا مگر بہت ہی اچھا احساس ہو رہا تھا۔۔۔بہت زیادہ خود کو پروٹیکٹڈمحسوس کر رہی تھی۔ بہت زیادہ محفوظ۔۔۔جیسے اس کو بہت زیادہ سپورٹ مل گئی ہو۔۔۔کسی کی حفاظت میں آگئی ہو۔۔۔شاید یہی ایک احساس تھانہ جو اُس کے دِل میں مولوی صاحب کے لیے محبت کوجگا رہا تھا۔۔۔اسے یہ احساس کبھی بھی اشرف یا میجر کی بانہوں میں محسوس نہیں ہوا تھا۔۔۔مولوی صاحب نے صباء کےچہرے کو اوپر اٹھایا اور اپنےہونٹ اُس کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔۔۔ ان کی بھرپور داڑھی میں چھپے ان کے موٹے موٹے ہونٹ صباءکے پتلے پتلے گلابی ہونٹوں پر آئے تو صباء نے اپنےہونٹوں کو مولوی صاحب کےموٹے ہونٹوں کے سپرد کر دیااور خود کو مولوی صاحب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔۔۔تاکہ جیسے چاہیں مولوی صاحب اُس کے جِسَم کو استعمال کریں۔۔۔اس سے لطف اٹھائیں اور لذت حاصل کریں۔۔۔جو کچھ بھی مولوی صاحب کرتے۔۔۔مزا تو صباء کو بھی آنا ہی تھا نہ۔۔۔ ٭٭٭٭٭ کمرے کی لائٹ بند ہو چکی ہوئی تھی۔۔ مکمل اندھیرا تھااور بیڈ پر فرح اور بانوہی لیٹے ہوئے تھے۔۔۔دونوں ہی خاموش تھیں۔۔۔فرح تو کب کا سونے کا کہہ چکی ہوئی تھی اور اب تو دونوں کو خاموشی سے لیٹے ہوئے بھی کافی دیرہو چکی ہوئی تھی۔۔۔دونوں کو ہی یقین تھا کہ دوسری سو چکی ہوئی ہے۔۔۔مگر فرح اچانک سے ہو جانےوالے تمام واقعات پر غور کررہی تھی۔۔۔اسے سب کچھ عجیب سافیل ہو رہا تھا۔۔۔ایک فلم سی چل رہی تھی اُس کے دماغ میں۔۔۔پہلے اُس کے جِسَم اور مموں کا اشرف کی کمرپر چھو جانااور اس مموں کے چھو جانے کے بعد اُس کے جِسَم کا ری ایکشن۔۔۔ایک عجیب سی کیفیت کاپیدا ہونا۔۔۔ایک عجیب سا احساس جِسَم میں ہونا۔۔۔پِھر بائیک روکنے کے بعداشرف کا اُس کے مموں کی طرف دیکھنا۔ جو کہ پہلی بار ہوا تھا۔۔۔پہلی بار ہی تو تھا۔۔۔آج سے پہلے کبھی بھی اشرف نے اِس طرح سے اُسکے مموں کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔لیکن آج وه اُس کے سینےکے ابھاروں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔اس کی چادر کے نیچے ہی تھے مگر پِھر بھی صاف تودِکھ رہے تھے۔۔۔پِھر بانو کی عجیب و غریب باتیں اور نہاتے ہوئے اُس کے ہاتھ کااپنی ہی چوت کو چھو جانااور اس کا مساج کرتے ہوئےکچھ عجیب سا ہونا۔۔۔کسی چیز کا اُس کے اندر سےنکلنا۔۔۔مگر اس نکلنے کے ساتھ ہی ایک نیا لطف زندگی کا ملنااور پِھر۔۔۔باریک قمیض میں میجرکے سامنے اچانک سے اپنےجِسَم کی نمائش کا ہو جانا۔۔۔سب کچھ تو عجیب ہو رہاتھا آج اور اب سوتے سوتے بانو نےجو اس کی بات اشرف سے کروا دی تھی اور اسےصبح ہی صبح بلوا لیا تھا۔۔۔یہ بھی تو کچھ عجیب ہی ہونے جا رہا تھا نہ۔۔۔پتہ نہیں کیا ہو گا۔۔۔یہ بانو تو مروائے گی مجھےمیرے باپ سے۔۔۔فرح دِل ہی دِل میں مسکرائی۔۔۔مسکراہٹ اُس کے لبوں پر ہی تھی کہ۔۔۔بانو کا ہاتھ اُس کے جِسَم پر آگیا۔۔۔سیدھا اُس کے پیٹ پر۔۔۔نیند میں اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ کہاں کا کہاں ہاتھ جارہا ہے۔۔۔فرح نے سوچااور اس کا ہاتھ ویسے ہی پڑارہنے دیااور خود بھی کوئی حرکت نہیں کی۔۔۔لیکن یہ کیا۔۔۔بانو کا ہاتھ تو آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگا تھا۔۔۔اُس کے پیٹ کو سہلا رہا تھا۔۔۔اِس سے پہلے کے اس کاہاتھ ہٹانے کا سوچتی۔۔۔اُس کے ہاتھ کی حرکت سے فرح کو عجیب سا مزا آیا۔۔۔ہلتا ہوا ہاتھ۔۔۔فرح کے پیٹ کے نچلے حصےکی طرف بڑھنے لگا۔۔۔جیسے ہی بانو کا ہاتھ فرح کی ناف سے نیچے گیا تو اُسکے جِسَم میں ایک بار پِھروہی کیفیت پیدا ہونے لگی۔۔۔جو باتھ روم میں نہاتے وقت پیدا ہوئی تھی۔۔۔ایکدم سے اس کی چوت نےایک جھٹکا سا لیا۔۔۔تھوڑی سی سکڑ کر پِھر سےریلکس ہوگئی۔۔۔لیکن اتنی سی حرکت سے ہی فرح کو ایسا مزا آیا کہ اس نے بانو کا ہاتھ اپنے جِسَم سے ہٹانے سے خود کو روک لیا۔۔۔ دیکھوں تو سہی یہ کیا کرتی ہےاور اس کے چھونے سے ایسامزا کیوں آیا ہے۔۔۔یہ پِھر سے نیچے کیا ہونے لگاہے میرے۔۔۔کیا پِھر سے میرے اندر سےکچھ نکلے گا۔۔۔شاید۔۔۔ دیکھتی ہوں اور دیکھوں تو سہی آخر یہ کرنا کیا چاہتی ہے۔۔۔جو ہر وقت میرے جِسَم کو چھیڑتی رہتی ہے۔۔۔بانو نے اپنا ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے کو سرکایا۔۔۔فرح کی چوت کی طرف اور پِھر بہت ہی ہلکے سے اپناہاتھ فرح کی شلوار کے اُوپرسے ہی اس کی چوت پر رکھ دیا۔۔۔ایک لمحے کے لیے تو فرح کاجِسَم کانپ ہی گیا۔۔۔مگر پِھر بھی اپنی حرکت کوکنٹرول کر گئی فرح۔۔۔بانو نے آہستہ آہستہ فرح کی چوت کو سہلانا شروع کردیا۔۔۔بانو کی انگلی فرح کی چوت کو چھیڑ رہی تھی۔۔۔اسے سہلانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔مگر درمیان میں کپڑا ہونےکی وجہ سے ٹھیک سے وه فرح کی چوت کو محسوس نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔دوسری طرف فرح کو بھی مزا آ رہا تھا۔۔۔اسے بانو کی انگلی۔۔۔پہلی بار کسی دوسری کی انگلی اپنی چوت پرمحسوس کر کے اچھا لگ رہاتھا۔۔۔وہ اِس مزے کو زیادہ دیر تک جاری رکھنا چاہ رہی تھی۔۔۔بانو نے آہستہ سے اپنا ہاتھ فرح کی قمیض کےنیچے سرکایااور اس کا ہاتھ فرح کے ننگےپیٹ پر آ گیا۔۔۔فرح کے تو پیٹ پر ہی گدگدی سی ہونے لگی۔۔۔مگر بانو نے زیادہ دیر کے لیےفرح کو مشکل میں نہیں ڈالااور اپنا ہاتھ فرح کی ایلاسٹک والی شلوار کےایلاسٹک کے اندار گھساناشروع کر دیا۔۔ بہت ہی آہستہ سے بانو کاہاتھ فرح کی شلوار میں سرک گیا۔۔۔ہاتھ اندر لے جاتے ہی بانو کو پہلا احساس یہی ہوا کہ فرح کی چوت پر بہت ہی ہلکےہلکے بال ہیں۔۔۔جیسے کچھ دن سے اس نےاپنے بال صاف نہ کئے ہوں۔۔۔بانو نے فرح کی چوت کےبالوں کو آہستہ آہستہ سہلاتے ہوئے اپنا ہاتھ نیچےکو سرکایا اور اس کی انگلی فرح کی چوت کے لبوں کےقریب پہنچ گئی۔۔۔ ٭٭٭٭٭ مولوی صاحب کی رانوں پربیٹھی ہوئی صباء نے آہستہ آہستہ مولوی صاحب کی کسنگ کا جواب دینا شروع کر دیا۔۔۔جیسے جیسے مولوی صاحب اُس کے ہونٹوں کو چومتے ویسے ویسے صباءبھی مولوی صاحب کےہونٹوں کو چومتی۔۔۔مولوی صاحب نے صباء کےہونٹوں کو باری باری اپنےہونٹوں میں لے کر چوسناشروع کر دیا۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
  8. Hyeee Dr. Sab ma basss 1 hi bat khuoo ga ap k sath love you ho gya ha
  9. بھائی جی بس اتنی مہربانی کرنا کہ اپڈیٹ ریگولر دیتے رھنا
  10. A-o-A Dr.sab Sir ap ki achi sehat ka jan kr acha lga Allah pak ap ko lambi sehat wali zindgi dyan Sir ma sheikh hun sir Mary paper's start ho gay thy 2nd year k is lyah zara offline rha Our Dr. Sab ap ko 1 bat yad krwani thi ap ny es bandy ki ap say call pay bat krny ki request man li thi buy sir syd ap bhol gay man oumid krta hun ap mari wish pori kryan gay ap k reply ka muntzir sheikh sab
  11. G bhai ye bat note ki ke kafi kuch missing he lekin wo sab story me jaan dal dene wali thin to Meri request he kuch bhi kami na choren Shukriya
  12. ایکشن تو جناب انتہائی خطرناک حد تک ہوگا ۔۔۔بس آپ بھائیوں کی دعائیں چاہیے ۔۔اور جُڑے رہیں کہانی کے ساتھ ۔۔۔۔
  13. Jani....Filhal To Pyar Ka Mamlaa Sirf Laiba K Sath He...or Phir Sana Hero Se 2 sal badi he....Ab dekhna yeh he k Hero kia krta he...Laiba ka Kia Banta he Sana ka Kia hota he in Sab sawalon k Jawabat to Agy chal k hi milen Gy..
  14. Yesterday
  15. @AdministratorBai roman urdu story mian @ashguy7intqam(char chola series) ki update ko approve kr do plz
  16. Yehi to masla hy doctor sahab... Jab tak kisi cheez men attachment ka ansar na ho wahan gham bhi nhi hua krty... Aur attachment build ho jaye to Muhabbat to apnay aap kisi na kisi soorat men janam ly hi leti hy
  1. Load more activity
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status